Ayah 17:1صحیحین اور کتب حدیث میں معراج کی جو کیفیت اور حال ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں حطیم میں جو بیت اللہ کی مغرب کی طرف ایک چار دیواری ہے لیٹا ہوا تھا کہ اللہ کی طرف سے ایک شخص نے آن کر میرا سینہ چاک کیا اور آب زمزم سے میرا دل دھو کر اور حکمت اور ایمان سے بھر کر پھر سینہ میں رکھ دیا اور پھر ایک جانور سفید رنگ پر جس کا نام براق ہے میں سوار ہوا جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا اور حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) میرے ساتھ ہوئے اور ہم بیت المقدس پہنچے وہاں نماز کا وقت آگیا۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے میرا ہاتھ پکڑ کے امام بنایا۔ میں نے نماز پڑھائی اور سب انبیاء بھی موجود تھے انہوں نے مقتدی بن کر میرے پیچھے نماز پڑھی پھر میں اور حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) اول آسمان پر پہنچے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے دربانوں سے آسمان کا دروازہ کھولنے کو کہا دربانوں نے پوچھا کہ تم کون ہو حضرت جبرئیل نے جواب دیا۔ محمد ہیں۔ دربانوں نے کہا کیا یہ بلائے ہوئے آئے ہیں حضرت جبرئیل نے کہا کہ ہاں پھر اول آسمان پر حضرت آدم ( علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی اسی طرح ہر ایک آسمان کے دروازے حضرت جبرئیل نے کھلوائے اور ہر ایک آسمان پر حضرت عیسیٰ وموسیٰ و ابراہیم وغیرہم سے ملاقات ہوئی پھر عرش معلی کے دائیں طرف ایک بیری کا پیڑ ہے جس کے پتے ہاتھی کے کان کے برابر تھے جس کا نام سدرۃ المنتہیٰ ہے وہاں پہنچے اس بیری پر سنہری پروانے نہایت خوبصورت طرح طرح کے تھے اور اللہ کے نور کی تجلی کی وہ کیفیت تھی جس کو میں بیان نہیں کرسکتا۔ پھر پہلے پچاس نمازیں دن رات میں فرض ہوئیں اور حضرت موسیٰ کے مشورہ دینے سے کئی دفعہ کی میری تخفیف کی التجا میں آخر کو پانچ رہیں 1 ؎۔
اکثر صحابہ ؓ کا یہ مذہب ہے کہ معراج کی رات آنکھوں کی ظاہری بصارت سے تو آنحضرت ﷺ نے اللہ کے نور کی تجلی فقط دیکھی ہے ہاں دل کی بصیرت سے اپنی عمر میں خود اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو یہ روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ کو دیکھا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس باب میں دو طرح کی روایتیں آئی ہیں ایک تو وہ روایتیں ہیں جن میں فقط یہ مطلق ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ کو دیکھا ہے۔ ان مطلق روایتوں کو نسائی حاکم ابن خزیمہ اور ابن اسحاق نے روایت کیا ہے۔ 2 ؎
دوسری روایتیں وہ ہیں جن میں دل سے دیکھنے کی قید ہے ان روایتوں کو مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے 3 ؎۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان مطلق روایتوں کے یہی معنی ہیں کہ دل کی آنکھوں سے آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے 4 ؎، کیونکہ صحیح مسلم اور تفسیر ابن مردویہ میں سند صحیح سے جو حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت ہے اس میں خود حضرت عبداللہ ؓ بن عباس کی روایت ہے اس میں خود حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس بات کو اچھی طرح ظاہر اور خوب کھول کر صاف لفظوں میں بیان کردیا ہے کہ جسم کی آنکھوں سے آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا بلکہ دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے غرض جسم کی آنکھوں سے آنحضرت ﷺ کا اللہ تعالیٰ کو دیکھنا کسی حدیث یا کسی صحابی کے قول سے صاف طور پر ثابت نہیں ہوتا ہے اسی واسطے حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں اس مسئلہ کو سب صحابہ کا اجماعی مسئلہ ٹھہرایا ہے اور صاف کہہ دیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا جسم کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھنا کسی صحابی کا بھی مقولہ نہیں ہے 5 ؎ یہ بھی ایک بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آنحضرت ﷺ کا اللہ تعالیٰ کو دل کی آنکھوں سے دیکھنا اس طرح کا نہیں تھا کہ جس طرح دل میں ایک چیز کا تصور آجاتا ہے کیونکہ اس طرح کا اللہ کا تصور تو ہر مسلمان کے دل میں ہے بلکہ جس طرح کی بینائی کی قوت اللہ نے آنکھوں میں پیدا کی ہے نے پوچھا کہ محمد ﷺ تم کو کچھ معلوم ہے کہ یہ اس وقت آسمان پر فرشتے کس چیز کے ثواب کے لکھنے میں جھگڑ رہے ہیں تو آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ یاللہ مجھ کو خبر نہیں پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ آنحضرت ﷺ کے شانوں کے بیچ میں رکھا تو آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اس ہاتھ کے رکھتے ہی مجھ کو آسمان اور زمین کا سب حال کھل گیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو جھٹ جواب دے دیا کہ اس وقت فرشتے جاڑے کے موسم میں وضو اور مسجد میں جانے کے ثواب کے لکھنے پر جھگڑ رہے ہیں اس حدیث کو امام احمد بن حنبل (رح) نے اپنی مسند میں صحیح روایت سے خوب تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے 6 ؎۔ حاصل کلام یہ ہے کہ آنکھوں سے کسی چیز کو دیکھنے سے مقصد یہی ہے کہ وہ چیز دل میں تہ نشین ہوجائے اور دنیا کی بینائی میں اللہ کے دیکھنے کی قوت نہیں۔ چناچہ صحیح مسلم اور صحیح ابن خزیمہ کی روایت میں آپ نے صاف فرما دیا ہے کہ جب تک آدمی مر کر پھر نہ جیوے خدا کو ہرگز نہیں دیکھ سکتا 7۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے دل میں ایک خاص قوت بینائی کی پیدا کی تاکہ آنحضرت ﷺ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی صورت خوب تہ نشین ہوجاوے اور اس تہ نشینی میں ایک فضول واسطہ آنکھوں کا بھی باقی نہ رہے آنکھوں کے دیکھنے سے یہ دیکھنا ہزار درجہ بڑھ کر تھا جس کو خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت سے پسند فرمایا ہے ورنہ عام جنتی لوگوں کی نگاہ میں جو قوت اللہ تعالیٰ اپنے دیدار کی آخرت میں دیوے گا وہ قوت دنیا میں اللہ تعالیٰ کو اپنے نبی کی نگاہ میں پیدا کر دینی کچھ دشوار نہ تھی خاص دل سے آنکھوں کا کام لینے میں بہت بڑا بھی ہے یہ معراج کی حدیث صحیح بخاری میں انس بن مالک ؓ کی روایت کی کئی سندوں سے ہے ان میں شریک بن عبد اللہ کی سند سے جو روایت ہے اس میں یہ ذکر ہے کہ معراج کی رات اللہ تعالیٰ کو اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے دیکھا 8 ؎۔ اس کا بھی وہی مطلب ہے کہ دل کی بینائی سے اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا کیونکہ بغیر اس مطلب کے صحیح حدیثوں میں مطابقت نہیں ہوسکتی۔ حافظ ابن قیم (رح) نے زادالمعاد میں اس مسئلہ کا یہ فیصلہ جو کیا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کو اصلی صورت میں جو اللہ کے رسول ﷺ نے معراج کی رات میں دیکھا ہے سورة والنجم میں تو اسی کا ذکر ہے لیکن معراج کی حدیثوں میں یہ ذکر ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اس فیصلہ کا بھی وہی مطلب ہے جو معراج کی صحیح حدیثوں کی مطابقت کے لحاظ سے حافظ ابن حجر (رح) نے بیان کیا۔ صحیح بخاری ومسلم میں جابر ؓ سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ نے اس آیت کے موافق ایک رات کی تھوڑی سی دیر میں بیت المقدس تک کے آنے جانے کے سفر کا ذکر قریش سے کیا تو ان لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو جھٹلانا چاہا اور یہ کہا کہ تجارت کی ضرورت سے ہم لوگ اکثر ملک شام کا سفر کرتے رہتے ہیں اگر آپ اپنے بیان میں سچے ہیں تو ہم بیت المقدس کی چند نشانیاں پوچھتے ہیں وہ نشانیاں بیان کی جاویں اس پر اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو اپنے رسول کی نظر کے سامنے کھڑا کردیا اور آپ ﷺ نے قریش کو بیت المقدس کی سب نشانیاں بتلادیں۔ 9 ؎۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ معراج کے آسمانوں کے سفر کو چھوڑ کر فقط بیت المقدس تک کا سفر اس لیے آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ قریش اس کی تصدیق کر لیویں اور قرآن کا کلام الٰہی ہونا ان کی سمجھ میں اچھی طرح آجاوے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسرٰی بعبدہ جو فرمایا اس سے ان علماء کے قول کو پوری تائید ہوتی ہے جو جسمانی معراج کے قائل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے جسم اور روح دونوں کو ملا کہ بعبدہ فرمایا ہے۔ بیت المقدس کے گردو نواح میں پانی کی نہروں کی کھیتی اور باغات کی کثرت ہے اس لیے اس کو بارکنا حولہ ‘ فرمایا تھوڑی دیر میں مسجد حرام سے بیت المقدس کو پہنچ جانا اور وہاں سب انبیاء سے ملاقات کا ہونا اسی کو قدرت کے نمونے فرمایا السمیع البصیر۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معراج کی کیفیت کو سن کر قریش جو باتیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو سنتا اور دیکھتا ہے۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ جس پاک ذات میں یہ قدرت ہے کہ اس نے اپنے بندہ اور رسول کا اتنا بڑا معراج کا سفر تھوڑی دیر میں طے کرا دیا جو لوگ اس کی قدرت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 50 ج 1
2 ؎ تفسیر درمنثور ص 191 ج 4
3 ؎ صحیح مسلم ص 98 ج 1 ھل رای النبی ﷺ ربہ لیلۃ الاسراء
4 ؎ ص 347 ج 4 تفسیر سورة النجم
5 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 250 تفسیر سورة والخجم ج 4
6 ؎ مشکوٰۃ باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ فصل ثالث
7 ؎ صحیح الباری ص 347 ج 4 تفسیر سورة والنجم
8 ؎ صحیح بخاری۔ 1120 ج 2 باب قول اللہ تعالیٰ وکلمہ اللہ موسیٰ تکلیما
9 ؎ صحیح بخاری ص 684 ج 2 باب قولہ تعالیٰ اسرٰی بعبدہ لیلا الخ
Ayahs 17:2–32۔ 3:۔ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کے معراج کا ذکر فرما کر اپنے خاص بندے حضرت موسیٰ کلیم اللہ کا ذکر کیا اور اکثر جگہ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ اور اپنے کلام قرآن مجید کے ذکر کے ساتھ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور اپنی کتاب پاک توریت کا ذکر کیا ہے اس لیے یہاں فرمایا پاک ذات ہے وہ جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جو کتاب توریت نازل کی تھی اسے بنی اسرائیل کے لیے راہبر ٹھہرایا تھا کہ وہ لوگ اس کے احکام کی پیروی کرکے ہدایت پائیں اور گمراہی سے نکل کر راہ حق کے پورے پورے تابع ہوجاویں اور سوائے خداوند جل شانہ کے کسی اور کو اپنے کسی معاملہ میں وکیل نہ بنائیں مدد بھی چاہیں تو اسی وحدہ لاشکریک سے اور عبادت کریں تو اسی ذات خاص کی اور اللہ پاک نے اور جتنے رسول بھیجے سب کو یہی تعلیم تھی کہ لوگوں کو وہ اسی راستے پر لائیں اور یہی پیغام لوگوں کو پہنچائیں کہ خدا کو اکیلا معبود تصور کرو اور قول اور فعل میں اس ذات وحدہ ‘ لاشریک کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ۔ پھر اللہ پاک نے آیت میں یہ ذکر فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کس کی اولاد تم ہو تم سب حضرت نوح ( علیہ السلام) کی اولاد ہو۔ جب حضرت نوح ( علیہ السلام) طوفان کے وقت کشتی میں سوار ہوئے تھے اور چالیس نفر کے ہمراہ جودی پہاڑ کے نیچے اترے تھوڑے عرصہ میں سب کے سب فوت ہوگئے صرف آپ کے صاحبزادے حام سام یافث دنیا میں صحیح و سلامت رہے جن کی نسل سے یہ دنیا آباد ہوئی فرمایا کہ تمہارے باپ حضرت نوح ( علیہ السلام) خدا کے نہایت ہی شکر گذار بندے تھے اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے کھاتے پیتے ہر ایک کام اور ہر ایک وقت میں خدا کا شکر بجا لایا کرتے تھے اس واسطے تم پر بھی لازم ہے کہ تم ان کی پیروی کرو اور ان کا طریقہ اختیار کرو جس طرح وہ ہر گھڑی خدا کا شکر کیا کرتے تھے اور کوئی گھڑی خدا کے حمد اور شکر سے غافل نہیں رہتے تھے تم بھی خدا کے شکر سے غافل نہ رہو اور ہر وقت خدا کی نعمت یاد کرتے رہو یہ کتنا بڑا خدا کا انعام تم پر ہوا ہے کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لیے رسول برحق حضرت محمد صلعم کو بھیجا اس نعمت کی شکر گذاری یہی ہے کہ تم ان رسول کی فرما نبرداری کر کے عقبے کی بہبودی حاصل کرو۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جس میں اہل محشر کا سب انبیاء کے پاس شفاعت کے لیے قیامت کے دن جانے کا ذکر ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ اہل محشر نوح (علیہ السلام) سے یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام شکر گذار بندہ رکھا ہے اس لیے آپ ہماری شفاعت کیجئے۔ 1 ؎ شکر گذار بندہ کے نام سے جو شہرت نوح (علیہ السلام) کی ہے اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 470 ج ا باب قول اللہ عزوجل ولقد ارسلنا نوحا الخ۔
Ayahs 17:4–84۔ 8:۔ اللہ پاک نے بنی اسرائیل کے حال سے آنحضرت ﷺ کو خبردی کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں اس بات کی خبر بنی اسرائیل کو دیدی تھی کہ وہ دو بار دنیا میں فساد برپا کریں گے اور دونوں دفعہ ذلیل و خوار ہوں گے اور ویسا ہی ہوا۔ ایک دفعہ انہوں نے توریت کی مخالفت کی اور ذکریا (علیہ السلام) کو ان لوگوں نے قتل کیا اللہ پاک نے اپنے قوی اور زور آور بندوں کو ان پر مقرر اور مسلط کردیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ جالوت اور اس کا لشکر تھا اس نے یہود کے علماء کو چن چن کر قتل کر ڈالا اور توریت کو آگ میں جلا دیا اور مسجد اور گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کو قتل و غارت کرنا شروع کیا اور ستر ہزار آدمی انہوں نے قید کرلیے جاسو خلل الدیار کے معنے یہ ہیں کہ شہروں میں گھس گھس کر اور ہر گلی کوچہ میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر بنی اسرائیل کو تباہ وبرباد کیا اور یہ وعدہ اللہ پاک کا ضرور ہونے والا تھا اس میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں کہ رک جاتا پھر اللہ پاک نے یہ بات فرمائی کہ جب بنی اسرائیل اپنے کردار بد سے تائب ہوئے اور فساد کرنے سے باز آئے تو ہم نے ان کی باری پھیری اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اٹھایا انہوں نے جالوت کو قتل کیا بنی اسرائیل صاحب مال دولت ہوئے اور ان کی اولاد دوبارہ بڑھی ان کے لشکر پھر فراہم ہونے لگے پھر وہی قوت ان کو حاصل ہوگئی پہلی مرتبہ ان کے بہت سے لوگ قتل ہوئے تھے اور کثیر التعداد آدمی گرفتار ہوئے تھے جس کی وجہ سے ان کی حمیت میں کمی ہوگئی تھی اور بہت سے مال ضائع وبرباد ہوگئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا فضل کیا اور دوبارہ از سرنو وہی سازو سامان ان کے لیے مہیا کردیا لیکن ان کو یہ بات جتلا دی تھی کہ دیکھو یاد رکھو اب بھی اگر ٹھیک راہ پر رہے اور نیکو کار بنے رہے تو تمہاری ہی جان کو اس سے فائدہ پہنچے گا تم کبھی ذلیل و خوار نہ ہوگے اور نہ کبھی تباہ وبرباد ہوگے اور اگر پھر اگلی سی حرکت کی اور وہی فساد برپا کیا تو پھر تمہاری جان کے لالے پڑجائیں گے یہ خطاب اگرچہ بنی اسرائیل کو تھا مگر کفار قریش بھی اس میں شامل ہیں کہ اگر تم بھی ویسا ہی فساد کرو گے اور کتاب اللہ کی مخالفت پر آمادہ ہو کر نبی برحق حضرت محمد ﷺ کو جھٹلاؤ گے تو اس کا وبال تمہاری گردن پر پڑے گا بہرحال بنی اسرئیل پھر بھی راہ راست پر نہیں آئے اور پھر وہی فساد اٹھانے لگے اور حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کو ایک عورت کی فرمائش سے ایک بادشاہ نے جو بنی اسرائیل کی قوم میں سے تھا قتل کروا ڈالا۔ حضرت یحییٰ کا نام انجیل میں یوحنا ہے اور یہ قصہ انجیل میں مذکور ہے پھر تو اللہ پاک نے فارس کے لوگوں میں سے ایک شخص بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا اس نے وہ قتل و غارت کیا کہ پناہ بخدا اس نے بیت المقدس کو ویران کردیا اور جب تک اس کا غلبہ رہا یہی برتاؤ بنی اسرائیل کے ساتھ کرتا رہا پھر اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو فرمایا کہ تمہارا رب برسر رحم آگیا ہے اگر راہ راست پر آگئے تو پھر وہی شان و شوکت تمہیں دے گا اور پھر وہی دولت تمہیں مل جائے گی۔ ضحاک نے کہا ہے کہ یہ رحمت جس کا اللہ پاک نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا جناب سرور کائنات فخر موجودات صلعم ہیں اور یہ بھی اللہ پاک نے انہیں جتلا دیا تھا کہ اگر پھر تیسری دفعہ وہی کام کرو گے اور وہی فساد اٹھاؤ گے تو یاد رکھو ہم وہی عذاب تم پر نازل کریں گے ہمارے ہاتھ سے تمہیں رہائی نہیں مل سکتی اہل تاریخ کہتے ہیں کہ تیسری بار پھر انہوں نے وہی حرکت کی جو انہیں لائق نہیں تھی کہ ان کی کتاب میں جو کچھ آنحضرت ﷺ کی ثناو صفت تھی اسے بدل ڈالا اور آنحضرت ﷺ کو جھٹلایا اس واسطے اللہ پاک نے بھی وہی برتاؤ ان کے ساتھ کیا اور وہی بربادی ان پر نازل کی کہ آنحضرت ﷺ اور اصحاب رسول صلعم کے ہاتھوں سے یہ بہت ہی ذلیل و خوار ہوئے۔ خود قتل ہوئے اور ان کی عورتیں اور بچے لونڈیاں اور غلام بنائے گئے ان کے مال و دولت غنیمت میں مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔ جزیہ ان کی بربادی بیان فرما کر آخرت کی سزا کا ذکر فرمایا کہ ان کفار کا حال دنیا میں جو کچھ ہوا وہ ہوا آخرت میں بہت ہی برا گھر ان کے واسطے تیار ہے وہاں جہنم کے قید خانہ میں یہ قید رہیں گے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری کی روایت ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو پھر ان کو کسی ایسے عذاب میں پکڑ لیتا ہے جس سے وہ بالکل ہلاک ہوجاتے ہیں 1 ؎۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہود کی مہلت اور مہلت کے بعد خرابی کا حال بیان کر کے قریش کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ اگر تم لوگ بھی مہلت کے زمانہ میں اپنی نافرمانی سے باز نہ آئے تو وہی انجام تمہارا بھی ہوگا جو یہود کا ہوا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے اس وعدہ کا ظہور فتح بدر اور فتح مکہ کے وقت ہوا۔ جس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایتوں کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکا ہے۔
1 ؎ تفسرا ہذا جلد دوم ص 205 بحوالہ صحیح بخاری ص 678 ج 6 وکذلک اخذربک الخ۔
Ayahs 17:9–109۔ 10:۔ بنی اسرائیل کے فساد اور پھر ان کی سزا کا ذکر کرکے اللہ پاک نے قرآن کی ثنا وصفت بیان فرمائی کہ یہ قرآن جو آنحضرت ﷺ پر نازل کیا گیا ہے یہ سراپا ہدایت ہے اور ایسی حالت اور طریقہ کی طرف اس سے ہدایت ہوتی ہے جو دین اسلام اور توحید خالص اور رسولوں پر ایمان لانا اور خدا کی کل کتابیں جو نازل ہوئی ہیں اول سے آخر تک سب پر یقین کرنا اس قرآن مجید کی تعلیم ہے پھر اللہ پاک نے اپنے ایماندار لوگوں کو بشارت سنائی کہ اس کتاب سے خدا اور رسول پر ایمان لانے والے لوگ مردہ پاتے ہیں جو اچھے اچھے کام دنیا میں کرتے ہیں اور خدا اور رسول کے امر کی تعمیل کرکے مناہی کی باتوں سے بچتے رہتے ہیں انہیں دین ودنیا میں بہت ہی بڑا فائدہ اور ملے گا جنت خاص انہیں لوگوں کے واسطے خدا نے بنا رکھی ہے پھر اللہ پاک نے ان لوگوں کا انجام بیان کیا کہ جو لوگ خدا و رسول اور قیامت کے دن پر ایمان ویقین نہیں رکھتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیک لوگوں کے لیے جنت میں جو نعمتیں پیدا کی گئی ہیں وہ نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے 1 ؎۔ اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دوزخ کے عذاب کی جو تفصیل مجھ کو معلوم ہے اگر اس کو میں لوگوں کے سامنے بیان کردوں تو لوگ ہنسی بھول جاویں اور ہر وقت روتے رہیں جنت کو اجر کبیر اور دوزخ کو عذاب الیم جو فرمایا یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 460 ج ا باب ماجاء فی صفتہ الجنتہ الخ۔
Ayah 17:1111:۔ اس آیت میں اللہ پاک نے انسان کی جلدی وشتابی کرنے کا بیان فرمایا کہ اکثر لوگ تنگ ہو کر جس طرح اپنے لیے اچھی دعائیں خدا سے مانگا کرتے ہیں اسی طرح اپنی جان ومال اور اولاد کے لیے بددعا بھی کرنے لگتے ہیں اور خداوند جل وعلا سے اس بات کے خواستگار ہوتے ہیں کہ وہ اس بددعا کو جلدی قبول کرلے مگر اللہ پاک کے فضل کو دیکھئے کہ وہ بددعا انسان کے حق میں قبول نہیں کرتا شاذونادر کبھی ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ انسان جیسی فال بد اپنے لیے منہ سے نکالتا ہے ویسا طہور میں آجاتا ہے مگر ہر وقت انسان کی بددعا قبول کی جائے تو کہیں ان کا پتہ بھی نہ لگے اور لطف یہ ہے کہ اس بددعا کرنے کے بعد پھر یہ بھی کہنے لگتے ہیں کہ خدا نے ہماری بددعا قبول کرنے میں دیر لگائی اسی کو اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ انسان بہت ہی جلد باز ہے۔ صحیح مسلم میں جابر ؓ بن عبداللہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اے لوگو غصہ کی حالت میں تم اپنی جان اور ملک پر بددعا نہ کرو شاید ایسا ہو کہ جس وقت تم بددعا کر رہے ہو وہ وقت قبولیت دعا کا ہو اور وہ تمہاری بددعا قبول ہوجاوے 1 ؎۔ اس حدیث کو آیت کو تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان شخص کو غصہ کی حالت میں ہر طرح کی بددعا سے بچنا چاہیے۔
1 ؎ الترغیب ص /30 ج الترہیب من دعاء الانسان علیٰ نفسہ الخ۔
Ayah 17:1212:۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنی دونوں نشانیوں رات و دن کا ذکر کیا کہ یہ دونوں دو نشانیاں جدا جدا ہیں ایک ان میں سے تاریک ہے دوسری روشن ہے اور ہر ایک دوسری کے پیچھے اس طرح لگاتار آتی جاتی رہتی ہے کہ کبھی کسی کا دورہ ختم نہیں ہوتا ان میں وہ عجائبات قدرت رکھے ہیں جن کے جاننے اور سمجھنے کی قدرت انسان کو نہیں ہے اور بےشبہ دونوں اللہ کی ہستی کی دلیلیں ہیں پھر یہ ذکر فرمایا کہ ہم نے رات کی نشانی کو اندھیرا کردیا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا پھر اس کے بعد اللہ پاک نے اپنے بندوں پر اس بات کا احسان جتلایا کہ یہ دن و رات اور چاند وسورج کا پیدا کرنا تمہارے نفع کے واسطے ہے اور رات نہ ہوتی تو تم آرام کب کرتے دن کے تھکے ماندے گھروں میں آکر ٹانگیں پھیلا کر کس طرح سوتے اور پھر اگر ہمیشہ رات ہی رہتی تو تم اپنی قوت لایموت کس وقت حاصل کرتے چلتے پھرتے کب دوست احباب سے ملاقات کب ہوتی غرض کہ ان فوائد اور نفع کے لیے دن اور رات کو خداوند جل شانہ ‘ نے پیدا کیا جس کی تفصیل انسان کی قدرت سے باہر ہے سینکڑوں فائدے اس رات کی تاریکی میں اللہ جل شانہ ‘ نے مخفی رکھے ہیں رات کی اوس درختوں پر پڑ کر اس کی نشوو نما میں ایک عجیب اثر پیدا کردیتی ہے بہت سے درخت ایسے ہیں جن میں دن کی دھوپ نہایت ہی مفید ہے دن اگر نہ ہوتا تو انسان رات کے اندھیرے میں رہتے رہتے گھبرا جاتا اسی طرح چاند کو بھی دنیا کی مخلوق میں ایک بڑا دخل ہے اور سورج بھی انسانی فائدہ کا ایک بہت بڑا مرکز قرار دیا جاتا ہے انہیں دونوں کے دورے سے رات ودن کا ظہور ہوتا ہے اور پھر ایام کے حساب کرنے سے ہفتہ اور ہفتوں سے مہینے اور مہینوں سے سال کا حساب انسان لگاتا رہتا ہے اگر تاریخ ‘ روز اور مہینوں کی گنتی حساب میں کچھ فرق پڑجائے تو تمہارے بہت سے کام ابتر ہوجاویں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ساری باتیں تفصیل کر کے بیان کردی ہیں سورة توبہ میں گزر چکا ہے کہ دنوں مہینوں اور برسوں کا حساب لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق ہے۔ مشرکین مکہ نے اس حساب میں فرق جو ڈال رکھا تھا اس کو سورة توبہ میں اللہ تعالیٰ نے کفر کی رسم فرمایا ہے فتح مکہ کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے اس کفر کی رسم کی جو اصلاح کی ہے صحیح بخاری ومسلم کی ابی بکرہ ؓ کی حدیث کے حوالہ سے اس کا ذکر بھی سورة توبہ میں گزر چکا ہے 1 ؎۔ حاصل یہ ہے کہ سورة توبہ کی آیتیں اور ابی بکرہ ؓ کی حدیث اس آیت کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ مہینوں اور برسوں کا جو حساب اللہ تعالیٰ نے ٹھہرا دیا ہے اس میں فرق ڈالنا کفر ہے۔
1 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 436
Ayahs 17:13–1413۔ 14:۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نامہ اعمال کو اڑنے والے جانوروں سے مشابہت دے کر طائر اس لیے فرمایا کہ قیامت کے دن کئی پیشیاں بندوں کی اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوں گی پہلی دو پیشیوں میں اللہ تعالیٰ ان کو ان کے گناہ یاد دلاتا رہے گا اور لوگ طرح طرح کے عذر کرتے رہیں گے تیسری دفعہ نامہ اعمال کے کاغذوں کو پر دار جانوروں کی طرح اڑا دینے کا حکم ہوجائے گا وہ نامہ اعمال اڑکر دائیں اور بائیں ہاتھوں میں جیسے جس کے عمل ہونگے آجاویں گے ترمذی اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ نامہ اعمال کے اڑا دیئے جانے کا ذکر صراحت سے آیا ہے 1 ؎۔ اور ماں کے پیٹ میں جب آدمی کا پتلا بنتا ہے روح کے پھونکے جانے سے پہلے ان عملوں کو جو پیدا ہونے کے بعد ہر شخص کرتا ہے فرشتے لکھ لیتے ہیں اور آدمی جب تک جیتا رہتا ہے اسی تقدیر کے لکھے کے موافق عمل کرتا رہتا ہے اور آدمی کے مرجانے کے بعد نیک عمل نیک صورت بن کر اور بدعمل بد صورت بن کر قبر میں اس کے ساتھ رہتے ہیں اور قیامت میں ان ہی عملوں کے موافق جزاو سزا اس کو بھگتنی پڑے گی۔ غرض کوئی وقت ایسا نہیں کہ یہ عمل انسان سے جدا ہوں اس لیے یہ فرمایا کہ اعمال نامہ انسان کی گردن میں لگا ہوا ہے یہ عرب کا ایک محاورہ ہے جو چیز کسی کے سر پڑجاوے اس کو گردن میں لگی ہوئی چیز کہتے ہیں یہ ایسا ہی محاورہ ہے جس طرح اردو میں کسی شخص کو کہتے ہیں کہ یہ چیز تو اس کے گلے پڑگئی۔ نامہ اعمال کے اڑائے جانے کے باب میں اوپر ابوہریرہ ؓ کی حدیث جو گزری ہے یہ حدیث حسن بصری کی روایت سے ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کی روایت کے بعد لکھا ہے کہ حسن (رح) بصری کو حضرت ابوہریرہ ؓ سے کسی حدیث کے سننے کا موقع نہیں ملا۔ اس لیے یہ حدیث مرسل ہے 2 ؎۔ لیکن ابوداؤد اور مستدرک حاکم میں یہ حدیث حسن بصری (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے بھی روایت کی ہے 3 ؎۔ اور صاحب جامع الاصول نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ حسن بصری (رح) اور حضرت عائشہ ؓ کی ملاقات ہوئی ہے اس لیے امام مسلم کی شرط پر یہ حدیث صحیح ہے اور ایک روایت کو دوسری روایت سے تقویت ہوجاتی ہے۔ یہ بات ایک جگہ بیان کردی گئی ہے کہ جہاں تابعی کسی حدیث کو اللہ کے رسول ﷺ سے روایت کرے تو اس کو مرسل کہتے ہیں۔ اب آگے فرمایا قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے عمر بھر کے عملوں کی کتاب پڑھنے کو دی جائے گی اور کہا جائے گا کہ دوسرے کسی گواہ کی ضرورت نہیں اعمال نامہ کو دیکھ کر خود تو ہی اپنے عمر بھر کے عملوں کو جاننے کے لیے کافی ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو لوگ نامہ اعمال کو پڑھ کر اپنے گناہوں کا انکار کریں گے ان کے ہاتھ پیروں سے گواہی دلوائی جائے گی 4 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے کو جو لوگ نامہ اعمال کو پڑھ کر اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے اللہ تعالیٰ ان کے سچ سے خوش ہو کر ان کے گناہوں کو معاف کر دیوے گا 5 ؎۔ قیامت کے دن ان اعمال ناموں کے پڑھنے کے بعد جو کچھ نتیجہ ہوگا اس کا حال ان حدیثوں سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے۔
1 ؎ جامع ترمذی ص 65 ج 6 باب ماجاء فی العرض۔
2 ؎ ایضا۔
3 ؎ ابوداؤد ص 654 ج 2 باب فی ذکر المیزان۔
4 ؎ صحیح مسلم ص 409 ج 2 فی بیان ان الاعضاء منطقتہ الخ 12۔
5 ؎ مشکوٰۃ ص 485 باب الحساب الخ۔
Ayah 17:1515:۔ اس سے پہلے اللہ پاک نے یہ ذکر فرمایا تھا کہ ہر شخص کا عمل جو اللہ کے فرشتے لکھ رہے ہیں اس کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اسی کے موافق جزاو سزا ہوگی اپنا اپنا حساب و کتاب ہر شخص وہاں دیکھ لے گا اس کے بعد یہ بیان فرمایا کہ ہر شخص جو راہ یاب ہوتا ہے اور ہر شخص جو گمراہ ہوتا ہے وہ سب اپنے اپنے لیے فائدہ یا نقصان اٹھاتے ہیں جو شخص دنیا میں اچھے عمل کرتا ہے اور رسول کی تابعداری میں چست رہا ہے آخرت میں اس کو اچھا بدلہ وہاں ملے گا اور جس نے یہاں برے عمل کیے اور رسول کو جھٹلا کر خدا کے ساتھ شریک ٹھہرایا اور گمراہی میں پڑا رہا ہے وہ آخرت میں خسارہ میں رہے گا۔ وہاں اس کو اس کے عمل کا بدلہ بڑے عدل و انصاف کے ساتھ ملے گا اس پر کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جائے گی۔ ہر شخص اپنا اپنا بوجھ اٹھائے گا کوئی گنہگار دوسرے خطا کار کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر اللہ پاک نے اپنے انصاف وعدل کا حال بیان فرمایا کہ یوں تو اللہ کو سب معلوم ہے کہ کون گمراہ ہونے والا اور خطا کار ہے اور کون نیک بخت ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے سزاو جزا کا فیصلہ اپنے علم غیب پر نہیں رکھا بلکہ دنیا کے نیک وبد کے ظہور پر رکھا ہے اور انجانی کا عذر رفع کردینے کے لیے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے تاکہ سزا وجزا کے کام لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہوجاویں۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے مغیرہ ؓ بن شعبہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کے انجانے کے عذر کو رفع کردینا بہت پسند ہے 1 ؎۔ اسی واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسولوں کو بھیجا۔ آیت کے آخری ٹکڑے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
1 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 231 بخوالہ صحیح بخاری ص 1103 ج 2 باب قول النبی ﷺ لا شخص اغیر من اللہ و صحیح مسلم ص 491 ج 2 باب اللعان 12
Ayah 17:1616:۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے عذاب بھیجنے کی کیفیت بیان فرمائی کہ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو یوں کسی کو نہیں ہلاک کرتے بلکہ اپنے رسول کے ذریعہ سے پہلے اپنا حکم وہاں کے لوگوں کو بھیج دیتے ہیں اور جو لوگ اس بستی میں خوشحال وآسودہ ہوتے ہیں ان کو ہر طرح کی آسائش و آرام عطا کرتے ہیں اور اپنی طاعت کا امر کرتے ہیں پھر جب وہ فسق وفجور کرنے لگتے ہیں اور راہ حق پر نہیں آتے رسول کو جھٹلاتے ہیں تو پھر اللہ کا حکم نافذ ہوجاتا ہے اور جس طرح کے عذاب کی بات ان کے حق میں مقرر کی ہوئی ہوتی ہے وہ پیش آجاتی ہے اور اسی طرح اس بستی کو تہ وبالا کرتے ہیں کہ کہیں ڈھونڈے بھی اس کا پتہ نہیں چلتا جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتے ہیں۔ ابوداؤد اور ترمذی میں حضرت ابوبکر ؓ صدیق سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس بستی میں نافرمانی اس طرح پھیل جائے گی کہ کوئی کسی کو بستی والوں میں نافرمانی سے نہ روکے گا تو ایسی تمام بستی پر کوئی عذاب الٰہی نازل ہوجائے گا۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 1 ؎۔ صحیح ابن حبان میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس بستی میں عام طور پر نافرمانی پھیل جائے گی تو دنیا میں ساری بستی پر کوئی عذاب آن کر لوگ ہلاک ہوجاویں گے پھر عقبیٰ میں ہر ایک کے عملوں کے موافق سزا وجزا کا فیصلہ ہوگا 2 ؎۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ کسی بستی میں نافرمانی پھیل کر جی تک بستی کے کچھ لوگ نافرمان لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے رہیں گے تو تمام بستی کا عذاب رکا رہے گا پھر جب بستی کے لوگوں میں سے یہ بات بھی اٹھ جائے گی تو بستی کے نیک وبد سب لوگ کسی عذاب سے دنیا میں ہلاک ہو کر عقبیٰ میں ہر ایک کے عملوں کے موافق سزا وجز کا فیصلہ ہوگا۔
1 ؎ مشکوٰۃ باب الامر بالمعروف۔
2 ؎ الترغیب والترہیب باب الترغیب فی الامر بالمعروف الخ ص 97 ج 2۔
Ayah 17:1717:۔ اوپر کی آیت میں جب اللہ پاک نے اپنا عذاب نازل کرنے کی کیفیت بیان کردی تو اب اس آیت میں کفار قریش کو دھمکی دی اور ڈرایا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ تم ہمارے رسول برحق کو جھٹلاؤ گے اور پھر بچ جاؤگے نوح (علیہ السلام) کے بعد سے ہم نے ہزاروں بستیاں ہلاک کردی ہیں حضرت آدم ( علیہ السلام) سے حضرت نوح (علیہ السلام) تک دس قرن گزرے تھے اس زمانہ میں سب کے سب مسلمان تھے پھر جب گمراہ ہونے لگے اور طرح طرح کی برائیاں اور خدا کی نافرمانی کرنے لگے اور دنیا شرک معمور ہوگی۔ تو ضرورت ہوئی کہ کوئی رسول ان کے پاس آئے اس پر اللہ پاک نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو رسول مقرر فرمایا جب نوح (علیہ السلام) رسول ہوئے اور لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچایا تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور کہا کہ ہم میں اور تم میں کیا فرق ہے جس طرح تم انسان ہو ہم بھی انسان ہیں سارے کام ہمارے جیسے تمہارے بھی ہیں پھر تم رسول ہو اور ہم نہ ہوں اگر خدا اپنا رسول بھیجتا بہرحال حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے رسول ہیں جن کو ان کی امت نے جھٹلایا ہے اسی واسطے اللہ پاک نے فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سی بستیاں ہم نے خاک سیاہ کردی ہیں قوم عاد، قوم ثمود، قوم صالح، غرض کہ بہت سے گروہ ہلاک ہوئے اور ان کی ہلاکت کی وجہ یہی تھی کہ جس طرح تم محمد ﷺ کو جھٹلاتے ہو وہ بھی اپنے رسولوں کو جھٹلاتے تھے تو اے کفار مکہ تم بےخوف نہ ہوجاؤ جس وقت خدا بدلہ لینے پر آمادہ ہوگا طرفیہ العین میں تمہیں ہلاک کر ڈالے گا اسے ہلاک کرتے کچھ دیر نہیں لگتی وہ ہر شخص کے انجام سے واقف ہے نیکو کار کو بھی وہ خوب جانتا ہے اور گنہگار کا بھی اسے علم ہے وہ نہایت ہی دانا بینا ہے اس کا علم ہر شے کو محیط ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ پہلے نافرمان لوگوں کو مہلت دی جاتی ہے اور مہلت کے زمانہ میں جب وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو کسی سخت عذاب میں پکڑ لیا جاتا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ ؓ اشعری کی اس مضمون کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں اس عادت الٰہی کا بیان ہے وہی حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پچھلی سب قوموں کو پہلے مہلت دی گئی ہے اور مہلت کے زمانہ میں جب وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آئے تو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیئے گئے۔ یہی حال قریش کا ہوا کہ بارہ تیرہ برس تک ان کو مہلت دی گئی جب مہلت کے زمانہ میں وہ باز نہ آئے تو ان میں کے بڑے بڑے سرکش لوگوں کو بدر کی لڑائی میں ہلاک کردیا اور فتح مکہ سے ساری قوم کی سرکشی اور نافرمانی کو مٹادیا چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی انس ؓ بن مالک کی اور عبداللہ ؓ بن مسعود اور ابوہریرہ ؓ کی روایتوں کے حوالہ سے فتح بدر اور فتح مکہ کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 678 ج 2 باب قولہ وکذلک اخذربک اذا اخذ القرٰی۔
Ayah 17:1818:۔ حاصل اس آیت اور اس کے آگے کی آیت کا یہی ہے کہ جو شخص فقط دنیا میں پھنس کر دین سے بالکل غافل ہوجاتا ہے اس کو دنیا کچھ زیادہ نہیں ملتی بلکہ اسی قدر ملتی ہے جو اس کے نصیب میں خدا نے لکھی ہے اور جو لوگ دین کے خواہشمند ہیں ان کے اعمال کے قبول ہونے کے لیے آیت میں تین شرطیں ہیں ایک تو آدمی پورا ایماندار ہو کا جس مطلب یہ ہے کہ جو باتیں شریعت میں ایمان لانے کی ہیں ان میں بدعقیدہ نہ ہو دوسرے اس کا عمل آخرت کے ثواب کی غرض سے ہو اس عمل میں دنیا کا دکھاوا اور ریاکاری نہ ہو تیسرے دل کی کوشش سے وہ عمل کیا جاوے اوپرے دل سے رسم کے طور پر نہ کیا جاؤ کے یہ منافقوں کے عمل کی نشانی ہے معتبر سند سے ترمذی میں انس ؓ سے اور ابن ماجہ مسند امام احمد بن حنبل ‘ دارمی میں ناقابل اعتراض سند سے زید بن ؓ ثابت سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص دین سے غافل اور دنیا کا خواہش مند ہے وہ ہمیشہ پریشان حال رہتا ہے اور دنیا مقدر سے بڑھ کر اس کو نہیں ملتی اور جو شخص دین کا طلب گار رہتا ہے اس کا دل ہمیشہ غنی رہتا ہے اور بقدر ضرورت دنیا بھی بلا طلب اس کو ملا کرتی ہے 1 ؎۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے 2 ؎۔ معتبر سند سے مسند امام احمد بن حنبل (رح) میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کا ٹھکانا دنیا ہے اور دنیا کے لیے جو لوگ روپیہ جمع کرتے ہیں وہ بالکل بےعقل ہیں۔
صحیح مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو لوگ دنیا کی خوشحالی کے نشہ میں عقبیٰ کے منکر ہیں۔ قیامت کے دن جب ایسے لوگوں کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا تو اللہ کے فرشتے ایسے لوگوں کو قتل اور ذلیل کرنے کے لیے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کی جس خوشحالی کے نشہ میں تم لوگ اس دن کے منکر تھے۔ اس عذاب کے آگے ہمیں دنیا کہ خوشحالی بالکل کچھ یاد نہیں 3 ؎۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ عقبے کے منکر یا عقبے سے غافل لوگوں کو دنیا کی خوشحالی تو اسی قدر ملے گی جو ان کے نصیب میں ہے پھر اس خوشحالی کے نشہ میں جو لوگ عقبیٰ کے منکر ہیں یا عقبیٰ کے اجر کا جن کو پورا یقین نہیں اس لیے وہ جو نیک کام کرتے ہیں وہ خالص دل سے نہیں کرتے ایسے لوگ دنیا میں جو چھوڑ جاویں گے وہ تو رائیگاں ہے اور خوشحالی سے جو کچھ کھاویں پیویں گے عقبے کے عذاب کے آگے وہ حالت ان کو بالکل یاد بھی نہ رہے گی۔ انس بن مالک ؓ کی حدیث میں ایسے لوگوں کے دوزخ میں دھکیل دیئے جانے کا اور دنیا کی چند روزہ خوشحالی کو یاد دلا کر ان کے ذلیل کیے جانے کا جو ذکر ہے اس سے مذموما مدحورا کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔
1 ؎ ابن ماجہ ص 12 باب الہم بالدنیا
2 ؎ مشکوٰۃ باب الریاء والسمعہ ص 454
3 ؎ تفسیر ہذا جلد سوم ص 320
Ayah 17:1919۔ اوپر کی آیت میں یہ مذکور تھا کہ دنیا میں یہ کفار جو نیکیاں کرتے ہیں اور اس سے طلب خیر کا ارادہ کرتے ہیں ہم اپنی مرضی کے موافق جتنا چاہتے ہیں دنیا میں اس کا بدلہ ان کو دیتے ہیں اور اس آیت میں فرمایا جو شخص اپنے نیک عمل بخیال آخرت کے کرتا ہے اس کے لیے کامل کوشش جی توڑ کر کرتا ہے اور پھر وہ شخص بذات خود خدا اور رسول پر ایمان بھی رکھتا ہے تو اس کی سعی عند اللہ مشکور ہوگی یہ تو اوپر بیان کردیا گیا ہے کہ سعی کے مشکور ہونے کے لیے تین شرطیں ہیں ایک تو ارادہ دار آخرت کے ثواب کا ‘ دوسری کوشش کامل ‘ تیسری خود اس شخص کا مومن ہونا کیونکہ عمل صالح اس شخص کا مقبول ہوتا ہے جو صاحب ایمان اور متقی ہو حضرت عائشہ ؓ کی حدیث اوپر گز چکی ہے کہ دنیا اس کا گھر ہے جس کا اور کہیں ٹھکانا نہیں اور دنیا میں مال وہی شخص جمع کرتا ہے جو بےعقل ہے 1 ؎۔ وہی حدیث اس آیت کی بھی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے اور اس آیت میں جن لوگوں کا حال ہے اس اوپر کی آیت کے لوگوں کے وہ حال کے بالکل برخلاف ہے کیونکہ یہ لوگ ان تینوں شرطوں کی پابندی سے نیک عمل کرتے ہیں۔ جن شرطوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیک لوگوں کے لیے جنت میں جو نعمتیں پیدا کی گئی ہیں وہ کسی نے جنت میں جانے سے پہلے نہ آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی دل میں اس کا خیال گزر سکتا ہے۔ یہ حدیث کان سعیھم مشکورا کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن نیک لوگوں کا ذکر آیت میں ہے قیامت کے دن ان کی کوشش اور دوڑ دھوپ کا جو بدلہ ان کو دیا جائے گا اس کی خوبی نہ کسی نے ابھی آنکھوں سے دیکھی نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزر سکتا ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 33 ج 3
2 ؎ تفسیر مذاص 12 ج 3
Ayahs 17:20–2120۔ 21:۔ اوپر کی آیتوں میں اس بات کا بیان تھا کہ جو شخص اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا مل جاتی ہے اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے تو اسے آخرت ملتی ہے اب یہ فرمایا کہ ان دونوں گروہ میں سے کوئی بھی سب پر اللہ پاک اپنی بخشش کیے جاتا ہے جو شخص جس بات کا مستحق ہے وہ اسے عطا کرتا ہے اس کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں ہے کوئی چاہے کہ خداوند جل شانہ کی بخشش کو روک دے تو وہ کسی کے روکے نہیں رک سکتی کافر و مومن سب کا وہ رازق ہے پھر آنحضرت ﷺ کو خطاب فرمایا کہ دیکھو اللہ نے کس طرح دنیا میں لوگوں کو پیدا کیا ہے ایک پر ایک کو بزرگی دی ہے کسی کو تونگر کسی کو محتاج بنایا کوئی بادشاہ ہے تو کوئی فقیر کوئی بیمار ہے تو کوئی تندرست۔ کسی کو عقل مند پیدا کیا تو کسی کو نادان کوئی دیوانہ ہے تو کوئی ہوشیار غرض کہ اس میں بھی خدا کی وہ حکمت پوشیدہ ہے جس کے سیکھنے کی طاقت قوت بشر سے بالکل باہر ہے بڑے بڑے صاحب عقل اس بھید کے سمجھنے سے قاصر ہیں پھر یہ فرمایا کہ جس طرح دنیا میں تم دیکھتے ہو کہ اللہ پاک نے ایک کو ایک سے افضل بنایا ہے اور ایک پر ایک کو بزرگی دی ہے اسی طرح سمجھ لو کے آخرت کے درجے بھی الگ الگ ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابو سعید ؓ خدری سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جنت کے نیچے کے درجے کے لوگوں کو اوپر کے درجوں کے جنتی اس طرح نظر آویں گے جس طرح زمین پر سے تارے نظر آتے ہیں 1 ؎۔ ان ہی ابوسعید خدری ؓ سے مسند امام احمد اور مسند بزار میں صحیح روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دوزخ کی آگ کسی کے ٹخنوں تک ہوگی اور کسی کے گھٹنوں تک اور کسی کے سر سے بھی اونچی 2 ؎۔ دنیا کے درجوں کی طرح آخرت کے درجوں کے الگ الگ ہونے کا ذکر جو آیتوں میں ہے اس کی تفسیر ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 378 ج 2 کتاب الجنۃ
2 ؎ الترغیب فصل فی تفاو تہم فی العذاب ص 342 ج 2۔
Ayah 17:2222:۔ اس آیت میں اگرچہ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا مگر اللہ کے احکام امت کے لوگوں کو اللہ کے رسول کی معرفت پہنچتے ہیں اس لیے حقیقت میں ہر ایک نسان اس خطاب میں داخل ہے اور ہر انسان کو یہ حکم سنایا گیا کہ خدا کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہراؤ اگر کسی نے اس وحدہ ‘ لاشریک کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ اس جرم کے باعث سے ملامت میں پڑے گا اور کوئی اس کا حامی و مددگار نہ ہوگا اور اللہ پاک کبھی اس کی مدد نہ کرے گا بلکہ اسی معبود باطل کے سپرد اس شخص کو کرے گا جو کسی قسم کے نفع وضرر کا مالک نہیں ہے کیونکہ ہر طرح کا فائدہ ونقصان خدا کے ہاتھ میں ہے اور سارے جہاں میں اسی وحدہ ‘ لاشریک کا بول بالا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے 1 ؎۔ کہ اللہ کے فرشتے دنیا کی چند روز خوشحالی کا دوزخیوں کو قائل اور ذلیل کریں گے۔ یہ حدیث فتقعد مذموما مخذولا کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل وہی ہے جو آیت من کان یرید العاجلۃ کی تفسیر میں بیان کیا گیا ہے۔
1 ؎ تفسیر ہذاج 3 ص 320
Ayahs 17:23–2723۔ 27:۔ سب سے بڑھ کر تو آدمی پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پیدا کیا ہے پھر جب ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو اس کی ہر طرح کی پرورش اور تربیت دنیا میں ماں باپ کے سبب سے ہوتی ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کے حق کے ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور ماں باپ کا دنیوی حق یہ ذکر فرمایا ہے کہ ان کے ساتھ ان بڑھاپے میں حسن سلوک سے پیش آوے اور دینی حق یہ فرمایا ان کے لیے دعا خیر کرتا رہے اگر ماں باپ کفر کی حالت میں مرجاویں اور اولاد مسلمان ہو تو ایسے ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت بموجب آیت (ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی) منع ہے حدیث شریف میں بھی ماں باپ کی تابعداری کرنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔ صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت سے پوچھا کہ دنیا میں کس کا حق مجھ پر زیادہ ہے آپ نے فرمایا کہ پہلے تیری ماں پھر تیرے باپ کا 1 ؎۔ صحیح مسلم اور الادب المفرد بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز فرمایا بڑا بدنصیب ہے بڑا بدنصیب ہے صحابہ ؓ نے پوچھا حضرت کون بڑا بد نصیب ہے ‘ آپ نے فرمایا وہ جس نے اپنے ماں باپ کو یا ان دونوں میں سب ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور پھر ان کی خدمت گزاری کے سبب سے جنت میں نہ گیا 2 ؎۔ صحیحین میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت سے لڑائی پر چلنے کی اجازت چاہی آپ نے پوچھا کہ تیرے ماں باپ زندہ ہیں اس نے جواب دیا کہ جی ہاں زندہ ہیں آپ نے فرمایا تیرا بڑا جہاد ان کی خدمت گزاری میں ہے 3 ؎۔ الادب المفرد بخاری اور معتبر سند سے مستدرک حاکم اور بیہقی میں عبداللہ ؓ بن عمر کی حدیث میں ہے کہ اللہ کی رضا مندی ماں باپ کی رضا مندی کے ساتھ ہے 4 ؎۔ اب ماں باپ کے حق کے بعد اللہ تعالیٰ نے آیت میں اور رشتہ داروں کا حق اور محتاج اور مسافروں کا حق ذکر فرمایا ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ کے بعد بہن کا حق ہے پھر بھائی کا پھر درجہ بدرجہ اور رشتہ داروں کا حق ہے۔ صحیحین میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ اس کے رزق میں کشائش ہو اور اس کی عمر بڑھے تو اس کو چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک سے پیش آوے 5 ؎۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلعم نے فرمایا جس خدا تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو قرابت داری نے خدا تعالیٰ سے فرمایا کہ دنیا میں اگر لوگ میرا واسطہ قطع کریں گے تو کیا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو تجھ کو قطع کرے گا میں اس کو قطع کروں گا 6 ؎۔ اب قرابت داروں محتاج مسافروں کی خبر گیری میں مال خرچ کرنے کی ہدایت فرما کر اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ہر خرچ میں میانہ روی چاہیے اسراف اور فضول خرچی نہیں چاہیے کہ مال کی ناقدری اور فضول خرچی ناشکری کا موجب ہے اور ناشکری شیطان کا کام ہے کہ اس نے خدا کی اس نعمت کا کہ خدا نے اس کو فرشتہ بنا کر رکھا تھا شکر نہیں کیا اور نافرمانی کر کے اپنے آپ کو مردود ٹھہرا لیا۔ اگرچہ وقضی ربک کی تفسیر میں چند قول ہیں لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول میں قضی ربک کی تفسیر امر ربک آئی ہے ترجمہ میں یہی قول لیا گیا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی ظاہری حالت کو نہیں دیکھتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کے دلی ارادہ پر ہے 7 ؎۔ اس حدیث کو آیت ربکم اعلم بما فی نفوسکم کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اولاد کے دل میں تو ماں باپ کا ادب ہوگا لیکن بغیر دلی ارادہ کے ماں باپ کی شان کے برخلاف کوئی بات اولاد کی زبان سے نکل جاویگی اور پھر اس کا پچھتاوا ہوگا تو اللہ ایسی بھول کو بخش دیویگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نظر ہمیشہ انسان کے دلی ارادہ پر ہے اوابین کے معنیٰ اکثر سلف نے توابین کے لکھے ہیں۔ عرب کے محاورہ میں ایک طرح کی عادت کے دو شخصوں کو بھائی کہتے ہیں اس کے موافق بےجا مال اڑانے والوں کو ناشکری کی عادت میں شیطان کا بھائی فرمایا ہے۔
1 ؎ کتاب البروالصلۃ۔
2 ؎ و صحیح مسلم ص 314 ج 2 باب تقدیم برالوالدین 12۔
3 ؎ صحیح مسلم ص 313 کتاب البروالصلہ۔
4 ؎ الترغیب ص 126 ج 2 کتاب البر والصلۃ 12۔
5 ؎ صحیح مسلم ص 315 ج 2 باب صلۃ الرحم۔
6 ؎ صحیح مسلم ص 315 ج 2 باب صلۃ الرحم۔
7 ؎ دیکھئے ص 28 جلد ہذا 12۔
Ayahs 17:28–3028۔ 30:۔ اوپر جن لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا ذکر تھا اسی کو پورا کرنے کے لیے فرمایا کہ کسی موقع پر تنگدستی کے سبب سے اگر ان لوگوں کو دینے کے قابل کچھ نہ ہو تو اللہ کے فضل کی توقع پر ان سے آئندہ سلوک کرنے کا وعدہ نرم لفظوں میں کیا جائے اب آگے بخیلی اور فراخ دستی کی ایک مثال بیان فرمائی کہ اس حسن سلوک میں نہ انسان بخیل بن جائے جیسے کسی نے اس کا ہاتھ گردن میں رسی سے اس طرح باندھ دیا ہے کہ وہ دینے کے نام سے ہاتھ نہیں بڑھا سکتا نہ ایسا سخی بن جائے کہ دینے کے بعد پچھتانا پڑے۔ معتبر سند سے طبرانی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا جو شخص اپنے غریب رشتہ داروں کو چھوڑ کر غیروں کو صدقہ خیرات دیوے گا تو ایسے شخص کا دینا بارگاہ الٰہی میں اجر کے قابل نہ ٹھہرے گا 1 ؎۔ آیتوں میں بےجا بخیلی اور بےجا سخاوت کا مثال کے طور پر جو ذکر ہے اس حدیث سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ باوجود قدرت کے قریب کے رشتہ داروں کو کچھ نہ دینا بےجا بخیلی میں داخل ہے اور غریب رشتہ داروں کو چھوڑ کر غیروں کو کچھ دینا بیجا سخاوت میں داخل ہے کیونکہ اس حدیث کے موافق قیامت کے دن جب اس سخاوت کا اجر زائل ہوجائے گا تو ایسی بیجا سخاوت پر ضرور انسان کو پچھتانا پڑے گا۔ اوپر ذکر تھا کہ تنگدستی کے وقت غریب رشتہ داروں سے آئندہ سلوک کرنے کا وعدہ کیا جائے اب آگے تنگ دست لوگوں کی تسلی کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کسی کو خوشحال اور کسی کو تنگدست جو بنایا ہے یہ اس لیے نہیں ہے کہ اس کے خزانے میں کچھ کمی ہے بلکہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو وہی خوب جانتا ہے اور دیکھتا ہے۔ اس واسطے اس نے ہر ایک کو مصلحت کی موافق خوشحال اور تنگدست بنایا ہے سورة زخرف میں آوے گا کہ بعضوں کو خوشحال اور بعضوں کو تنگدست بنانے میں اتنی بڑی مصلحت ہے جس پر دنیا کا انتظام چل رہا ہے حاصل یہ ہے کہ سورة زخرف کی جس آیت میں دنیا کے اس انتظام کا ذکر صحیح حدیثوں میں آیا ہے مثلا صحیح سند سے ترمذی صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں کعب ؓ بن عیاض سے روایت ہے اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے دنیا کے مال ومتاع کو امت محمدیہ کے حق میں بڑی فتنہ و فساد کی چیز فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ بعضے نیک لوگوں کو فتنہ و فساد سے بچانے کی مصلحت کے لیے تنگدست رکھا گیا ہے 2 ؎۔ صحیح سند سے ترمذی اور ابن ماجہ میں سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دنیا کی راحت اور خوشحالی کی قدر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو دنیا میں نافرمان لوگوں کو پانی کا ایک گھونٹ بھی پینے کو نہ ملتا 3 ؎۔ اس حدیث کو آخر آیت کے ساتھ ملانے سے آخری آیت کا مطلب اچھی سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں کے خوشحال لوگ غریب مسلمانوں کو جو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ جس پر اللہ کی مہربانی ہوتی ہے دنیا میں وہی شخص خوش حالی سے رہتا ہے ان لوگوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے۔ دنیا کی خوشحالی اور تنگ دستی تو اور مصلحتوں کے سبب ہے جن مصلحتوں کا سمجھنا ان لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔
1 ؎ الترغیب الترہیب ص 164 ج ا الترہیب من ان یسئال الانسان الخ۔
2 ؎ الترغیب ص 233 ج 2 باب الترغیب فی الزہدفی الد نیا الخ بروایت کعب بن عیاض 12 منہ۔
3 ؎ تفسیر ہذاص 250 ج 2۔