Ayahs 17:90–9390۔ 93:۔ تفسیر ابن جریر میں کئی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے اور سنن سعید بن منصور میں سعید بن جبیر سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ابوجہل اور چند قریش نے جمع ہو کر آنحضرت سے کہا سردار تم کو بنانے کو موجود ہیں اور اگر خلل دماغ کے سبب سے ایسی باتیں کرتے ہو تو اس کا علاج بھی ہوسکتا ہے آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ ان باتوں میں سے ایک بات بھی نہیں ہے بات فقط اتنی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم لوگوں کو اللہ کا حکم سناتا ہوں اگر تم مانو گے تو تمہارے لیے اچھا ہے ورنہ تم جانو یہ سن کر انہوں نے ضد سے کہا اچھا اگر تم سچے رسول ہو تو اس مکہ کی سرزمین پر باغ لگا دو نہریں جاری کرا دو یا اپنا گھر سونے کا بنالو ہمارے سامنے آسمان پر چڑھ جاؤ یا اللہ اور فرشتے ہمارے روبرو آن کر تمہارے رسول ہونے کی گواہی دیویں یا اللہ کی طرف سے کوئی ٹکڑا عذاب کے طور پر گرا دو ۔ ان باتوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎۔ یہ سعید بن منصور 200 ء اور شروع 300 کے علماء میں مشہور ثقہ عالم ہیں یہ امام مالک (رح) کے شاگرد اور امام احمد بن حنبل (رح) کے استاد ہیں جب ان کا ذکر آتا تھا تو امام احمد (رح) ان کی بہت تعریف کیا کرتے تھے۔ امام مسلم اور ابوداؤد نے بھی ان سے حدیث کی روایتیں لی ہیں غرض ان کے زمانہ کے علماء نے ان کو ثقہ اور ان کی تصنیف کی کتابوں کو معتبر ٹھہرایا ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ معجزہ کا ظاہر کرنا اللہ کے اختیار میں ہے رسول کا اس میں کچھ اختیار نہیں ہے اور اللہ کی درگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے۔ چناچہ ویسا ہی ہوا اللہ کی طرف سے جب وقت مقررہ آگیا تو سب ضد جاتی فرشتوں کے رسول بن کر آنے کی ضرورت پڑی نہ کسی اور معجزہ کی ضرورت پڑی غرض یہ اللہ کے بھید اللہ ہی جانتا ہے۔ جس وقت قریش نے آنحضرت سے یہ ضد کی باتیں کیں اس وقت اللہ کے علم غیب میں یہ بھید تھا کہ اس جماعت میں سے تھوڑے آدمی تو کچھ دنوں کے بعد بغیر کسی معجزہ کے خود بخود مسلمان ہونے والے ہیں ان کو معجزہ کی ضرورت نہیں اسی بھید سے اللہ تعالیٰ نے اس وقت کی ان لوگوں کی ضد پر کوئی معجزہ ظاہر نہیں فرمایا بلکہ اتنے جواب پر ان لوگوں کی ضد کو ٹال دیا کہ معجزہ رسول ﷺ کے اختیار میں نہیں ہے کیونکہ اگر اس وقت ان لوگوں کی ضد پر کوئی معجزہ ظاہر ہوجاتا تو وقت مقرہ سے پہلے ان میں کسی کا اسلام لانا تو ممکن نہیں تھا اسی طرح ان میں سے جن لوگوں کا حالت کفر پر مرنا اللہ کے علم غیب میں ٹھہر چکا تھا وہ ہزاروں معجزے دیکھ کر بھی اسی کفر پر مرنے تھے پھر جب ان میں سے کوئی شخص بھی معجزہ کو دیکھ کر ایمان نہ لاتا تو اسی روز عذاب آن کر سارا مکہ غارت ہوجاتا کیونکہ یہ عادت الٰہی ہے کہ ثمود کی اونٹنی کی طرح اس طرح کی ضد کے بعد کوئی معجزہ ظاہر ہو اور پھر وہ قوم ایمان نہ لائے تو فورا وہ سب قوم غارت ہوجاتی ہے او تاتی باللہ والملائکۃ قبیلا کی تفسیر ابن جریج نے یہ بیان کی ہے کہ اللہ اور فرشتے تمہارے رسول ہونے کی ضمانت دیویں۔ ترجمہ میں شاہ صاحب نے یہی قول لیا ہے لیکن اس آیت کی تفسیر میں مجاہد کا قول وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ اللہ اور فرشتے ہمارے روبرو آن کر تمہارے رسول ہونے کی گواہی دیویں۔ اس تفسیر میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں مجاہد کے قول کا بڑا اعتبار ہے اس لیے حافظ ابو جعفر ابن جریر (رح) نے اپنی تفسیر میں مجاہد کے قول کو ابن جریج کے قول پر ترجیح دی ہے اور باقی کے دونوں ترجموں میں اس لیے یہی قول لیا گیا ہے۔
اس واسطے اس تفسیر میں وہی قول لیا گیا کیونکہ یہ عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج اگرچہ مجاہد کے شاگردوں میں ہیں ‘ لیکن ان کو مجاہد سے تفسیر کی روایتوں کے لینے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو راہ راست پر آنے کے لیے مہلت دیتا ہے اور مہلت کے زمانہ میں جب وہ لوگ راہ راست پر نہیں آتے تو کسی سخت عذاب میں پکڑ کر ان کو ہلاک کردیتا ہے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل مکہ نے ایسی سرکشی اور نافرمانی کی بہت سی باتیں کیں جیسی باتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی عادت کے موافق تیرہ چودہ برس ان لوگوں کو مہلت دی اور اس مہلت کے زمانہ میں تیرہ برس تک ان کو طرح طرح سے سمجھایا گیا۔ جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور نافرمانی سے باز نہ آئے تو بدر کی لڑائی کے وقت ان پر یہ آفت آئی کہ ان کے بڑے بڑے سرکش دنیا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدے کو سچا پایا۔ چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے یہ قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے 3 ؎۔ بعد اس کے مکہ کی گلی گلی میں اسلام پھیل گیا اور ان سرکشی کی باتوں کا کہیں نشان تک مکہ میں باقی نہ رہا۔
1 ؎ مثلا تفسیر ہذاص 53 ج 3۔
2 ؎ مثلا تفسیر ہذاص 53 ج 3۔
3 ؎ مثلا تفسیر ہذاص 23 ج 3۔
Ayahs 17:94–9794۔ 97:۔ اوپر کی آیتوں میں مشرکین مکہ کی سرکشی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آتیوں میں فرمایا بڑا سبب قرآن کی نصیحت کے نہ ماننے کا ان لوگوں کے نزدیک یہ ہے کہ یہ لوگ اس بات کو خلاف عقل جانتے ہیں کہ اللہ کا رسول کوئی انسان ہوسکتا ہے ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اللہ کا رسول فرشتہ ہونا چاہئے حالانکہ یہود کی باتوں کو یہ لوگ بہت مانتے ہیں اور یہود سے اکثر یہ لوگ سن چکے ہیں بنی اسرائیل کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) تھے پھر بھی شیطان کے بہکانے سے یہ لوگ ایک ظاہر بات کو خلاف عقل جانتے ہیں اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو جس طرح بنی آدم زمین پر رہتے ہیں اسی طرح فرشتے بھی اگر زمین پر بستے ہوتے اور فرشتوں کا اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر نہ ہوتا تو ان کے پاس کوئی فرشتہ رسول بنا کر بھیج دیا جاتا اب اگر کوئی فرشتہ رسول بنا کر بھیجا بھی جائے تو وہ ضرور انسان کی صو رت میں ہوگا اور پھر ان لوگوں کا وہی شبہ باقی رہے گا جو اس وقت ہے سورة الانعام کی آیتوں میں یہ مضمون تفصیل سے گزر چکا ہے وہ آیتیں گویا ان آیتوں کی تفسیر ہیں جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا آگے فرمایا اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دو کہ فرشتہ کی گواہی کچھ اللہ کی گواہی سے بڑھ کر نہیں میں اپنے رسول ہونے پر اللہ کی گواہی پیش کرتا ہوں اور اللہ کی گواہی کا ثبوت یہ ہے کہ اسلام کی جن باتوں کی میں نصیحت کرتا ہوں اللہ کی مدد سے ان باتوں کی روز بروز ترقی ہوتی جاتی ہے اور اسلام کے بر خلاف باتیں روز بروز دنیا سے اٹھ رہی ہیں اور یہ بھی کہہ دو کہ اللہ اپنے بندوں کے ذرا ذرا حال سے خبردار اور ان کے سب کاموں کو دیکھتا ہے میں جو تم کو نصیحت کرتا ہوں وہ بھی اس کو معلوم ہے اور تم بغیر کسی سند کے زبردستی جو مجھ کو جھٹلاتے ہو وہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے وقت مقررہ پر ان سب باتوں کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا آگے فرمایا اللہ کے علم غیب میں جو لوگ راہ راست پر آنے والے ٹھہر چکے ہیں وہی نیک کاموں کا ارادہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں نیک کاموں کی توفیق دیتا ہے اور جو لوگ اللہ کے علم غیب میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں ان کو کوئی نصیحت کرنے والا راہ راست پر نہیں لاسکتا اس لیے وہ لوگ اسی گمراہی کی حالت میں مرجائیں گے اور قیامت کے دن وہ میدان محشر تک تو بجائے پیروں کے منہ کے بل چلیں گے اور پھر اوندھے منہ گھسیٹے جاکر دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے جہاں سوا ہر وقت کے عذاب کے آنکھوں سے کسی نجات کی صورت کے دیکھنے سے وہ اندھے اور کانوں سے سننے سے بہرے اور زبان پر لانے سے گونگے ہوں گے۔ قبروں سے میدان محشر تک ایسے لوگوں کے منہ کے بل چلنے کا حال تو ان آیتوں میں ہے اور اوندھے منہ گھسیٹے جا کر دوزخ میں ڈالے جانے کا حال سورة قمر میں آئے گا۔ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے صحابہ ؓ نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا کہ قیامت کے دن دوزخی لوگ منہ کے بل کس طرح چلیں گے آپ نے فرمایا جو پیروں کے بل چلانے پر قادر ہے اس دن وہی منہ کے بل چلانے پر قدرت رکھتا ہے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ حاضر پر غائب کا قیاس کر کے غیب کی باتوں میں عقل نہیں دوڑانی چاہئے عذاب قبر حشر پل صراط عذاب دوزخ یہ سب غیب کی باتیں ہیں شریعت میں جس طرح یہ باتیں آئی ہیں بغیر عقلی دخل کے ان کا یقین کرنا ایماندار آدمی کا کام ہے۔ سورة الزخرف میں آئے گا کہ دوزخ کی آگ کی تیزی کبھی کم نہ ہوگی۔ ترمذی ابن ماجہ مؤطا وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ کی آگ کی تیزی قائم رہنے کے لیے اس کو تین ہزار برس تک دہکایا گیا ہے 2 ؎۔ حاصل یہ ہے کہ دوزخ کی آگ کی ذاتی تیزی تو کبھی نہ کم ہوگی نہ وہ آگ کبھی بجھے گی لیکن دوزخیوں کے ایک کھال کے جل جانے کے سبب سے جس جلی ہوئی کھال پر آگ کی تیزی کم معلوم ہوگی تو فورا دوسری کھال بدلی جاکر آگ کو تیز کردیا جائے گا۔ اس تفسیر سے ان آیتوں اور صحیح بخاری ومسلم کی ابو سعید خدری ؓ کی روایت کے حوالہ سے یہ بھی گزر چکا ہے کہ کھالیں ان لوگوں کی بدلی جائیں گی جو حشر کے منکر ہونے کے سبب سے ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور جو لوگ دوزخ سے نکل کر جنت میں داخل ہونے والے ہیں ان کی کھال نہیں بدلی جائے گی بلکہ وہ ایک دفعہ کے جلنے میں مر کر کوئلے ہوجائیں گے پھر ان کوئلوں کو دوبارہ زندہ کیا جا کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔ 3 ؎
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 65 ج 3۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صنقہ النار واہلہا۔
3 ؎ تفسیر ہذاص 332 ج 1۔
Ayahs 17:98–9998۔ 99:۔ اوپر نافرمان لوگوں کے عذاب کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ عذاب ان لوگوں پر کچھ ظلم کے طور پر نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پر حرام ٹھہرایا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت کی حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں یہ ذکر ہے کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے اس لیے فرمایا کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کی عقل سے باہر اس پاک ذات نے بغیر ستون کے آسمان کس طرح بنائے اور پانی پر زمین کیونکر بچھائی پھر آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی طرح مٹی سے ان کے دوبارہ پتلے بنانا اور ان میں روح کا پھونکنا اس کی قدرت کے آگے کیا مشکل ہے۔ وہی یہ بات کہ آخر یہ کب ہوگا اس کے واسطے اللہ کے کارخانہ میں ایک وقت مقرر ہے اس وقت کو بغیر کسی سند کے جو یہ لوگ جھٹلاتے ہیں اس کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑے گا۔ مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی صحیح حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 2 ؎ کہ منکر نکیر کے سوال اور مردہ کے جواب کے بعد نیک شخص کو جنت کا اور بدشخص کو دوزخ کا ٹھکانہ دکھا کر فرشتے یہ جتلا دیتے ہیں کہ اس ٹکھانے میں رہنے کے لیے تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا 3 ؎۔ ابوداؤد اور مسند امام احمد کے حوالہ سے براء بن عازب کی صحیح حدیث بھی گزر چکی ہے 4 ؎۔ کہ نیک لوگ اپنا جنت کا ٹھکانا دیکھ کر قیامت کے جلدی سے قائم ہونے کی اور بد لوگ اپنے دوزخ کے ٹھکانا سے ڈر کر قیامت کے قائم نہ ہونے کی آرزو کریں گے ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اب تو یہ لوگ مسخرا پن سے قیامت کے آنے کی جلدی کرتے ہیں مگر مرنے کے ساتھ ہی جب ان کا قیامت کا انجام ان کو دکھا دیا جائے گا تو پھر اس سے ڈر کر بجائے قیامت کی جلدی کے انہیں قیامت کے قائم نہ ہونے کی آرزو کرنی پڑے گی۔
1 ؎ مثلا تفسیر ہذاص 34 ج 3۔
2 ؎ تفسیرہذاص 171 ج 2۔
3 ؎ تفسیر ہذاص 171 ج 2۔
4 ؎ ایضا۔
Ayah 17:100100۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کی ان باتوں کا ذکر فرمایا تھا جن باتوں کا ضد سے معجزہ کے طور پر وہ ظاہر ہونا چاہتے تھے ان باتوں میں قریش نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے گا تو ہم مسلمان ہو کر اس سونے کو ہر طرح سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے یہ اس کا جواب اللہ نے دیا ہے کہ ایک صفا پہاڑ تو کیا دنیا میں جتنی سونے چاندی کی کانیں اللہ تعالیٰ کے خزانہ کی موجود ہیں ان سب کے یہ مالک بن جائیں جب بھی خرچ کرنے میں دل تنگی کریں گے کیونکہ ہر انسان کی جبلی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ مال کے خرچ کرنے میں تنگدلی کرتا ہے۔ یہاں بعضے مفسروں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ بعضے آدمی ذاتی سخی ہوتے ہیں پھر سب آدمیوں کو جو آیت میں دل تنگ فرمایا گیا ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟ جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ دنیا دار دنیا کی نمود کے لیے اور دین دار دین کے اجراء کے لیے سخاوت کرتے ہیں یہ اوپری سبب ہیں جن کے تصور سے آدمی میں سخاوت آجاتی ہے ورنہ ہر دل میں مال کی محبت ہے جس نے دل کو پیدا کیا ہے اس سے بڑھ کر دل کا حال کون جان سکتا ہے اسی واسطے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی جو روایت ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ آدمی کا پیٹ مال سے اس وقت تک نہیں بھرتا جب تک قبر کی مٹی اس کے پیٹ میں نہ بھرے جائے۔ 1 ؎
1 ؎ مشکوٰۃ ص 450 باب العمل والحرص۔
Ayah 17:101101۔ مسند امام احمد بن حنبل، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور تفسیر ابن جریر میں اس آیت کی شان نزول صفوان بن عسال ؓ کی روایت سے یوں بیان کی گئی ہے کہ دو یہودیوں نے آنحضرت ﷺ سے ان نو معجزوں کی تفصیل پوچھی جن کا ذکر اس آیت میں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا شرک نہ کرنا چوری نہ کرنا بدکاری نہ کرنا قتل بےجا نہ کرنا جادو نہ کرنا سود نہ کھانا بادشاہ وقت سے چغلی نہ کھانا پارسا عورتوں پر بدکاری کا بہتان نہ لگانا دین کی لڑائی سے نہ بھاگنا یہ جواب سن کر ان یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دیا اور کہا ہم اپنی قوم کے لوگوں سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم کو مار ڈالیں گے 1 ؎۔ اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 2 ؎۔ لیکن عمادالدین حافظ ابن کثیر نے اس تفسیر پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ شان نزول عبارت قرآن کے مخالف ہے کیونکہ قرآن کی آیت سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ نو معجزے جن کا ذکر آیت میں ہے فرعون کے غرق ہونے سے پہلے فرعون کے جیتے جی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ملے اور وہ معجزے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون پر ظاہر کیے اور فرعون نے وہ معجزے دیکھ کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو جادو میں آلودہ بتلایا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ نہ میں جادو میں آلودہ ہوں جن باتوں کا ذکر ہے وہ باتیں آیت کی تفسیر نہیں ٹھہرائی جاسکتی ہے کس واسطے کہ جن باتوں کا ذکر حدیث میں ہے نو باتیں وہ اور ایک ہفتہ کے دن کی تعظیم کا حکم یہ دس حکم تو وہ ہیں جو تورات کے شروع میں لکھے جاتے تھے اور یہ ظاہر بات ہے کہ توریت تو فرعون کی ہلاکت کے ایک عرصہ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ غرض اصل بات یہ ہے کہ اس حدیث کی سند میں ایک شخص عبداللہ بن سلمہ کے حافظہ میں فتور ہے اس سبب سے بجائے دس احکام کے نو معجزوں کا ذکر حدیث میں عبداللہ بن سلمہ کی غلطی سے ہوگیا ہے آیت میں جن نو معجزوں کا ذکر ہے وہ وہی نو باتیں ہیں جن کا ذکر خود اللہ تعالیٰ نے سورة الاعراف اور سورة طہ میں کیا ہے کہ وہ نو باتیں عصا، ید بیضاء، خون، اور ٹڈیوں، اور مینڈکوں، اور پانی کا خون یہ سب باتیں ہیں۔ چناچہ تفسیر عبدالرزاق تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ عباس ؓ سے چند روایتیں 3 ؎ آیت کی تفسیر کی جو ہیں ان میں نو نشانیاں انہی باتوں کو ٹھہرایا گیا ہے جن کا ذکر سورة اعراف اور سورة طہ میں ہے۔ اذجاء ہم اس کا مطلب یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے رسول بن کر آئے اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ نو نشانیاں معجزے کے طور پر دی گئی تھیں۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیرص 76 ج 3۔
2 ؎ تفسیر ابن کیراص 67 ج 3 جامع ترمذی 142 ج 2 کتاب التفسیر۔
3 ؎ تفسیر الدر المنثورص 204 ج 4۔
Ayahs 17:102–104102۔ 104:۔ اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیت میں یہ ذکر فرمایا تھا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں دے کر فرعون کے پاس رسول بنا کر بھیجا تھا، فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو جادوگر تصور کیا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون کیا تو نہیں جانتا کہ یہ نشانیاں اس نے اتاری ہیں جو آسمان اور زمین سارے جہان کا پیدا کرنے والا ہے اور یہ نشانیاں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں اور ان نشانیوں سے اللہ کی ہستی اور اس کی قدرت کا پورا پورا پتہ چلتا ہے تو جو اس کا انکار کرتا ہے اور اسے نہیں مانتا مجھے جادوگر خیال کرتا ہے ان باتوں سے ضرور ہلاک ہوجائے گا۔ فرعون نے اس بات کو سن کر یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کو جلا وطن کر کے ملک مصر سے کہیں دور نکال دیوے مگر اللہ عالم الغیب ہے اس نے فرعون کو مع اس کے لشکر کے قلزم میں غرق کرکے ہلاک کردیا پھر یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ حکم دے دیا کہ فرعون تمہیں ملک مصر سے نکالنا چاہتا تھا تو اب تو وہ ہلاک ہوگیا تم اس کی جگہ سلطنت کرو اور مشرق سے مغرب تک جہاں چاہو بسر کرو کوئی تمہارا روک ٹوک کرنے والا نہیں ہے ہاں جس وقت قرب قیامت ہوگا اور وعدہ کا دن آجائے گا اس وقت تمہیں اور تمہارے دشمنوں سب کو جزا اور سزا کے لیے دوبارہ زندہ کیا جاکر ایک جگہ اکٹھا کیا جائے گا۔ یہ قصہ بیان فرما کر آیت میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی بشارت دی ہے کہ جس طرح فرعون چاہتا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور تمام بنی اسرائیل کو ملک مصر سے نکال دے مگر اس کا کچھ بس نہ چلا خدا کے سامنے مجبور ہوگیا اور اس کے ہلاک ہونے کے بعد بنی اسرائیل اس کے ملک اور مال پر قابض ہوگئے اصحاب کا قبضہ ہوگا اور یہ مکہ کے مشرک لوگ مغلوب ہوجائیں گے فرعون اور اس کے لشکر کے غرق ہوجانے کا قصہ قرن یوسف (علیہ السلام) کی مصر کی سکونت کے سبب سے بنی اسرائیل ملک شام سے مصر میں آئے اور یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد بنی اسرائیل مصر میں ذلیل حالت سے رہتے تھے اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ مصر سے بنی اسرائیل کو ساتھ لے جا کر ان کے قدیمی وطن ملک شام میں انہیں آباد کر دو اسی واسطے موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے کہتے تھے کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دے اگرچہ فرعون بنی اسرائیل کو مصر سے نکال دینا چاہتا تھا لیکن ضد کے مارے جب فرعون نے بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کردینے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ ایک رات بنی اسرائیل کو ساتھ لیکر مصر سے چلے جائیں موسیٰ (علیہ السلام) تو بنی اسرائیل کو لیکر اس راستے سے دریا پار ہوگئے مگر فوعون نے جب اس راستے سے دریا پار ہونے کا قصد کیا تو وہ اپنے لیے شکر کے ساتھ ڈوب کر ہلاک ہوگیا اس قصہ کو مختصر طور پر فاغرقناہ ومن معہ جمیعا کے لفظوں سے بیان فرمایا ہے۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ کعبہ کے گرد جو بت رکھے تھے فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو اپنے ہاتھ کی لکڑی سے مار مار کر زمین پر گرا دیا 1 ؎۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے قصہ میں اللہ تعالیٰ نے جو بشارت اپنے رسول کو دی تھی اس کا ظہور ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق مشرکین مکہ کو ایسا مغلوب کردیا کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں کو ذلت سے نہ بچاسکے۔
1 ؎ تفسیر الدر المنشور ص 205 ج 4۔
Ayahs 17:105–106105۔ 106:۔ یہاں حق کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن بالکل محفوظ ہے خدا کے پاس سے آنے میں کوئی کمی بیشی اس میں نہیں ہوئی جبرئیل امین خداوند جل جلالہ کے پاس سے جوں کا توں لائے پھر فرمایا کہ جو لوگ ایمان دار ہیں اور تمہارے تابع اور مطیع ہیں تم ان کو خوشخبری سنانے والے ہو کہ انہیں ان کے نیک اعمال کا بدلہ آخرت میں اچھا ملے گا اور جنت ان ہی کے واسطے تیار ہوئی ہے اور جو لوگ تمہاری نافرمانی کرتے ہیں اور تمہیں جھٹلاتے ہیں آپ ان کے واسطے مقرر ہے پھر اللہ پاک نے یہ بات بیان فرمائی کہ ہم نے قرآن کو ایک بارگی نہیں اتارا بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے جب جس بات کی ضرورت ہوئی ویسی ہی آیتیں نازل کیں تاکہ تمہیں لوگوں کو سنانا آسان ہو اور پہلے اس قرآن کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتارا گیا پھر جب مشرک کوئی نئی بات کرتے تھے تو اللہ پاک ان کا جواب دیتا رہا غرض کہ 23 برس کی مدت میں تھوڑا تھوڑا ہو کر سارا نازل ہوا 1 ؎۔ مکث کا یہی مطلب ہے کہ مدت دراز میں قرآن نازل ہوا چالیس برس کی عمر میں آنحضرت ﷺ کو نبوت ہوئی قیام مکہ کے تیرہ برس میں سے پہلے تین برس میں بہت کم آیتیں قرآن کی نازل ہوئیں اور کچھ دنوں وحی بند بھی رہی پھر دس برس تک متواتر وحی نازل ہوتی رہی حاصل کلام یہ ہے کہ جن روایتوں میں یہ ذکر ہے کہ دس برس تک قرآن مکہ میں نازل ہوا اور دس برس تک مدینہ میں ان روایتوں میں متواتر وحی کا زمانہ لیا گیا ہے اور جن روایتوں میں 23 برس تک قرآن کے نازل ہونے کا ذکر ہے ان میں قیام مکہ کے وہ تین برس بھی لیے گئے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا 2 ؎۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے جو روایت ہے اس میں یہ بات تو صاف ہے کہ 63 برس کی عمر میں اللہ کے رسول ﷺ نے وفات پائی اس لیے یہی بات صحیح ہے کہ چالیس برس کی عمر میں آپ ﷺ نبی ہوئے اور 23 برس تک آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوا کیونکہ بیس برس تک قرآن کے نازل ہونے کی مدت لی جائے تو آپ ﷺ کی عمر ساٹھ برس کی قرار پاتی ہے جو حضرت عائشہ ؓ کی صحیح روایت کے بر خلاف ہے۔ سورة الجن میں آوے گا کہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانے میں آسمان و زمین پر وحی کی حفاظت کا بڑا انتظام تھا آسمان پر جگہ جگہ فرشتے تعینات تھے جو چوری سے وحی کی خبر سننے والے جنات پر چاروں طرف سے انگارے برساتے تھے اور آسمان سے زمین پر جب وحی آتی تھی تو اس کے اردگرد فرشتے اس بات کی چوکسی کرتے تھے کہ اس میں کوئی شیطان داخل ہونے نہ پائے سورة الجن کی آیتوں سے ونزلناہ تنزیلا کا یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن خود نہیں بنایا بلکہ ایک خاص انتظام کے ساتھ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے جو ہر طرح کی کمی بیشی سے بالکل دور ہے۔
1 ؎ تفسیر الدرامنشور ص 205 ج 4۔
2 ؎ جلد اول باب وفاۃ النبی ﷺ ۔
Ayahs 17:107–109107۔ 108:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ سے فرمایا کہ تم ان کافروں سے جو تم سے طرح طرح کی فرمائش اور معجزے مانگتے ہیں کہہ دو کہ تم قرآن شریف پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ پہلی کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے اس لیے اس کو وہ لوگ مانتے ہیں جو توریت وانجیل سے واقف ہیں جیسے ورقہ بن نوفل اور عبداللہ بن سلام وغیرہ لوگ اللہ کے رسول صلعم کو سچا جانتے ہیں اور جب ان لوگوں کے روبرو قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں پاک پروردگار ہمارا بیشک اس کا وعدہ سچا ہے وہ سجدہ میں روتے ہیں اور عاجزی ان کی زیادہ ہوتی ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ پیغمبر ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ اگر یہ مشرکین مکہ قرآن کو سنتے ہیں تو روتے ہیں اور عاجزی کرتے ہیں۔ یہ بھی اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن کی تلاوت کے وقت رونا مستحب ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے روؤے گا حشر کے میدان میں اللہ تعالیٰ اس کو سورج کی گرمی سے بچانے کے لیے سایہ میں جگہ دیوے گا 1 ؎۔ صحیح سند سے ترمذی نسائی مستدرک حاکم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جو اللہ کے ڈر سے رویا ‘ وہ دوزخ میں نہ جائے گا 2 ؎۔ یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں پھر کر نہ جائے۔ معتبر سند سے ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ دو آنکھوں کو دوزخ کی آگ نہ چھو وے گی ایک وہ آنکھ جو خدا کے خوف سے آنسو بھر لائے دوسری وہ جس نے خدا کے راستے میں تمام رات پہرہ دیا 3 ؎۔ سورة المائدہ میں تورات کے حصے اسثناء کے باب 33 اور انجیل یوحنا کے باب 14 کے حوالے سے نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے اور نبی ہونے کی ان بشارتوں کا ذکر گزر چکا ہے جو توریت انجیل میں ہیں ان آیتوں میں ان ہی اہل کتاب کا ذکر ہے جو ان بشارتوں کے پورے پابند تھے اور قرآن شریف کے نازل ہونے سے پہلے اپنی کتابوں میں نبی آخر الزمان کا اور قرآن کا حال پڑھ کر ان کا دل نرم ہوتا اور ان کو رونا آتا تھا مثلا جیسے نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے رونے کا ذکر سورة المائدہ میں گزرا یا مثلا جیسے ورقہ بن نوفل جس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ شخص بت پرستی چھوڑ کر نصرانی ہوگیا تھا جب ابتدا وحی کے زمانہ میں حضرت خدیجہ ؓ نے آنحضرت ﷺ کی ملاقات اس شخص سے کرائی تو اس نے آنحضرت ﷺ کا حال سنتے ہی آپ ﷺ کی نبوت اور وحی کو مان لیا اور متواتر قرآن کے نازل ہونے اور قریش کی مخالفت اور ہجرت کا زمانہ آنے تک اپنی زندگی کی تمنا کی لیکن اس قصے کے تھوڑے دنوں بعد اس شخص کا انتقال ہوگیا 4 ؎ یا وہ جنہوں نے اپنی کتابوں میں تو قرآن کا حال پڑھا تھا مگر پھر قرآن کے نازل ہونے کا پورا زمانہ بھی پایا مثلا جیسے عبداللہ بن سلام کہ انہوں نے قرآن کو خود بھی کلام الٰہی جان کر اسلام قبول کیا اور اپنے قبیلہ کے یہود بنی قینقاع کو بھی قرآن کے کلام الٰہی ہونے کے اقرار کی نصیحت کی۔ چناچہ صحیح بخاری 5 ؎ کی انس بن مالک ؓ کی روایت میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے۔ ایسے لوگوں کو دو شریعتوں پر عمل کرنے کے سبب سے قیامت کے دن دوہرا اجر ملے گا چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث 6 ؎ میں اس کا ذکر تفصیل سے آیا ہے ان کان وعد ربنا لمفعولا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان اہل کتاب میں سے جن نیک لوگوں نے قرآن کے نازل ہونے کا زمانہ پایا وہ یہ کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ قرآن کی شان میں جو باتیں منہ سے نکالتے ہیں اللہ اور اس کا کلام ان سے دور ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن اس وعدہ کے موافق نازل فرمایا جس وعدہ کا ذکر توریت وانجیل میں ہے۔ پہلا سجدہ اس وعدہ کے پورا ہونے کے شکریہ کا ہے اور دوسرا سجدہ جنت اور دوزخ کے حال کی آیتیں سن کر جنت کی امید پر اور دوزخ کے خوف سے ہے اسی واسطے دوسرے سجدے میں عاجزی زیادہ اور دوزخ کے خوف سے رونا بھی ہے وہ لوگ اس طرح غش آنے والے شخص کی طرح یہ قرآن شریف میں تلاوت کا چوتھا سجدہ ہے اور اس سجدہ کی بابت سلف میں کچھ اس طرح کا اختلاف نہیں ہے جس طرح کا اختلاف سورة الحج کے دو سجدوں میں آئے گا۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ یا اللہ یارحمن کہہ کر دعا مانگا کرتے تھے یہ سن کر مشرکین مکہ کہنے لگے کہ ہم کو تو محمد ﷺ اکیلے اللہ کی عبادت کرنے اور اسی سے دعا مانگنے کو کہتے ہیں اور خود دو معبودوں کا نام لے کر دعا مانگتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 7 ؎، اور فرمایا کہ شریعت الٰہی میں اللہ تعالیٰ کے جو نام آچکے ہیں دعا کے وقت لیے جاسکتے ہیں ہاں ان مشرکوں نے لفظ اللہ سے لات اور لفظ منات سے منات تراش کر بتوں کے نام جو رکھیں ہیں جن بتوں کو یہ اللہ کا شریک جانتے ہیں اس سے اللہ کے رسول اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ان مشرکوں کو منع کرتے ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ کے ایک کم سو نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرلیگا وہ جنت میں جائے گا 8 ؎۔ یہ وہی مشہور نام ہیں جو اکثر لوگوں کو یاد ہیں اللہ کے ناموں کی زیادہ تفسیر سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 959 ج 2 باب البکاء من خشیۃ اللہ۔
2 ؎۔ 3 ؎ جامع ترمذی ص 55 ج 2 باب ماجاء فی فضل البکاء من خشیۃ اللہ۔
4 ؎ صحیح بخاری باب کیف کان بدء الوحی الیٰ رسول اللہ ﷺ ۔
5 ؎ دیکھئے ص 561 ج 1 باب بعد باب کیف اخی النبی ﷺ بین اصحابہ۔
6 ؎ صحیح مسلم ص 86 ج 1 باب وجوب الایمان برسالہ نبینا ﷺ الخ۔
7 ؎ تفسیر ابن کثیرص 68 ج 3۔
8 ؎ مشکوٰۃ ص 199 کتاب اسماء اللہ تعالیٰ ۔
Ayahs 17:110–111110۔ 111:۔ صحیحین میں اس آیت کی شان نزول کے باب میں دو قول ہیں ایک قول امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ غلبہ اسلام سے پہلے جب آنحضرت ﷺ مکہ میں بلند آواز سے نماز میں قرآن شیریف پڑھا کرتے تھے تو مشرکین قرآن کو برا بھلا کہا کرتے تھے یہ بات اللہ تعالیٰ کو ناگوار ہوئی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ بات نازل فرمائی 1 ؎ اور فرما دیا کہ اوسط درجے کی آواز سے قرآن مجید پڑھا کرو نہ ایسی بلند آواز سے ہو کہ مشرکین سن کر برا بھلا کہیں نہ ایسا ہو کہ قرآن کے سننے کے مشتاق صحابہ بھی قرآن کے سننے سے محروم رہ جائیں دوسرا قول حضرت عائشہ ؓ کا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دعا اوسط درجہ کی آواز سے مانگنے کے حکم میں یہ آیت نازل ہوئی ہے 2 ؎۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ان دونوں قولوں کا اختلاف یوں رفع کردیا ہے کہ دعا سے مراد عبادت ہے جو قرأت قرآن کو بھی شامل ہے اور دعا کو بھی شامل ہے 3 ؎۔ بعضے مفسروں نے آیت ادعوا ربکم سے اس آیت ولا تجھر بصلاتک کو منسوخ جو ٹھہرایا ہے وہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ صحیح بخاری ومسلم میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے بہت چیخ کر دعا مانگنے سے منع فرمایا ہے 4 ؎۔ اس صورت میں آیت ولا تجھر قرائۃ اور دعا دونوں کے حکم کو شامل ہوگئی تو اس صحیح حدیث کے موافق بہت چیخ کر دعا مانگنے کی ممانعت آیت سے نکلے گی یہی مطلب ادعوا ربکم کا ہے پھر جب دونوں آیتوں میں مخالفت ہی نہیں تو ایک آیت سے دوسری آیت کیونکر منسوخ ہوسکتی ہے اسی واسطے سب مفسرین نے بالاتفاق جو پانچ آیتیں منسوخ ٹھہرائی ہیں ان میں یہ آیت نہیں ہے ان پانچ آیتوں کا ذکر تفصیل سے ایک جگہ اس تفسیر میں کردیا گیا ہے یہود عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاری عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور مشرکین مکہ اپنے بتوں کی ہر وقت بڑائی کرتے رہتے تھے اسی واسطے آگے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ جس اللہ نے عزیر عیسیٰ ( علیہ السلام) اور ان مشرکوں کے بتوں کو سب کو پیدا کیا ہے بڑائی اسی ذات کو سزاوار ہے کہ جس کے نہ کوئی اولاد ہے نہ اس کی بادشاہت میں کوئی اس کا شریک ہے اور وہ ایسا زبردست ہے کہ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں صحیح مسلم میں سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا الحمد للہ اور اللہ اکبر یہ کلمے اللہ کو بہت پیارے ہیں کیونکہ الحمد للہ کا لفظ تو خود آیت میں موجود ہے اور اللہ اکبر کے کہنے سے کبرہ تکبیرا کی تعمیل بھی ہوجاتی ہے اور صحیح حدیث کے موافق وہ کلمہ بھی آدمی کے منہ سے نکلتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے۔ سورة بنی اسرائیل ختم ہوئی۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 686 ج 2 کتاب التفسیر۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 687 ج 2 کتاب التفسیر۔
3 ؎ فتح الباری ص 239 ج 4 کتاب التفسیر۔
4 ؎ صحیح مسلم ص 346 ج 2 باب استحباب خفص الصوت بالذ کرالخ۔