17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف قتل نہ کرنا (کیوں کہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں، کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے

31۔ : اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کو ماں باپ کا حق ادا کرنے کی تاکید فرمائی تھی اب اس آیت میں ماں باپ کو اولاد کی شفقت کی تاکید ہے سورة الخل میں گذر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے سے پہلے عرب میں یہ رسم تھی کہ لڑکیوں کی آیت سے یہ بات نکالی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ماں باپ سے زیادہ شفیق ہے کیونکہ اہل عرب کے ان ماں باپ کی سختی کو جو لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے اللہ کی شفقت نے گوارا نہیں رکھا۔ اصل بات یہ ہے کہ علماء نے اس آیت سے وہ بات نکالی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شفقت ماں باپ کی شفقت سے بڑھی ہوئی ہے یہ مثال کے طور پر ایک کہنے کی بات ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو مخلوق کی شفقت کے ساتھ کوئی نسبت نہیں۔ چناچہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت اور شفقت کے سو درجے خود اللہ تعالیٰ کے برتاؤ میں ہیں 1 ؎۔ اسی واسطے صحیحین میں انہیں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہے کہ بڑے سے بڑا کافر بھی اگر اللہ کی رحمت کا حال جان لیوے تو جنت سے کبھی نامید نہ ہو 2 ؎ اور انہی ابوہریرہ ؓ کی روایت سے صحیحین میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو یہ ایک نوشتہ لکھ کر عرش معلے پر اپنے پاس رکھ لیا ہے کہ اللہ کے غصہ پر اس کی رحمت غالب ہے 3 ؎۔ ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ ؓ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک عورت تنور جھونکتے جھونکتے آنحضرت ﷺ کے پاس آئی اس کی گود میں ایک بچہ بھی تھا اور وہ عورت آن کر آنحضرت ﷺ سے کہنے لگی کہ کیا آپ ﷺ یہ نہیں کہتے کہ اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے اور جس قدر ماں اپنے بچہ سے الفت کرتی ہے اس سے زیادہ اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اس عورت نے کہا کہ میں تو اپنے بچہ کو تنور کی آگ کی لپٹ سے بھی بچا لیتی ہوں پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دوزخ کی آگ میں کیوں کر ڈال دیوے گا۔ حضرت عبداللہ ؓ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ اس عورت کی یہ بات سن کر آنحضرت ﷺ اس قدر روئے کہ پریشان ہوگئے اور پھر آپ نے فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ اللہ انہی سرکشوں کو آگ میں ڈالے گا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں اور اس کو وحدہ لاشریک نہیں جانتے 4 ؎۔ ابن ماجہ کی سند میں ایک راوی اسمعیل بن یحییٰ اگرچہ ضعیف ہے لیکن صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے معاذ بن جبل ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے 5 ؎۔ کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اس حق کے ادا کرنے کے بعد بندوں کا حق اللہ پر یہ ہوگا کہ وہ ان کو دوزخ کے عذاب سے بچائے۔ اس صحیح حدیث سے ابن ماجہ کی روایت کی پوری تقویب ہوجاتی ہے کیونکہ مضمون دونوں روایتوں کا ایک ہی ہے۔ خطا کا ایک لفظ تو سزا وجزا کے وزن پر بھول چوک کے معنوں میں ہے۔ عرب لوگ جیتی لڑکیوں کو بھول چوک سے نہیں دفن کیا کرتے تھے بلکہ لڑکیوں کے بیاہ شادی کے خرچ سے ڈر کر ان لڑکیوں کو جان بوجھ کر جیتا دفن کیا کرتے تھے اس لیے اکثر سلف نے اس آیت میں خطا کے لفظ کو صدق وکذب کے وزن پر پڑھا ہے جس کے معنے گناہ کے ہیں حاصل یہ ہے کہ ترجمہ میں چوک کا لفظ گناہ کے معنوں میں ہے بھول چوک کے معنوں میں نہیں ہے کیونکہ عرب کی جس رسم کی ممانعت میں یہ آیت نازل ہوئی ہے وہ رسم عرب میں بھول چوک کے طور پر جاری نہیں تھی اذا الشمس کورت میں آوے گا کہ قیامت کے دن جیتی لڑکیوں کو دفن کردینے کے جرم کی دریافت ہو کر قاتلوں کو خون ناحق کی سزادی جائے گی۔ 1 ؎ صحیح مسلم ص 356 ج 2 باب سعتہ رحمتہ اللہ تعالیٰ الخ۔ 2 ؎ صحیح مسلم ص 356 ج 2 باب سعتہ رحمتہ اللہ تعالیٰ الخ۔ 3 ؎ ایضا۔ 4 ؎ ابن ماجہ ص 328 باب مایرجی من رحمتہ اللہ تعالیٰ الخ۔ 5 ؎ تفسیر ہذاص 20 ج 3۔
Ayahs 17:32–40

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بہ فتوی شریعت) اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا (کہ ظالم قاتل سے بدلا لے) تو اس کو چاہیے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصور و فتحیاب ہے۔

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی۔

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب (کوئی چیز) ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کردو) تو ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی۔

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ جائے گا۔

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے۔

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے۔

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

(مشرکو ! ) کیا تمہار پروردگار نے تم کو تو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول) بات کہتے ہو۔

32۔ 40:۔ اوپر کی آیتوں سے حق العباد کا ذکر چلا آتا ہے مثلا ماں باپ کا حق اولاد کو سمجھنا اور اولاد کا حق ماں باپ کو سمجھنا رشتہ داروں کا حق رشتہ داروں کو جاننا ایک کی ماں بہن بی بی سے دوسرا بدکاری کرے یا ایک کو دوسرا جان سے مار ڈالے یا ایک شخص اپنی اولاد اور مال چھوڑ کر مرجائے اور جس رشتہ دار کی پرورش میں وہ یتیم اولاد آوے وہ اس یتیم کا مال کھا اڑا دیوے یہ سب باتیں خدا کا گناہ ہونے کے سوا حق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزیں ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حق العباد کے ذکر کے سلسلہ میں زنا قتل بےتصرف مال یتیم خلاف عہد کم تولنے اور کم ناپنے اور جھوٹی شہادت اور اترانے کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا دیا ہے تاکہ حق العباد میں جو باتیں کرنے کی ہیں وہ اور جو نہیں کرنے کی ہیں وہ ایک جگہ جمع ہوجاویں اسی واسطے ان آیتوں کے آخر میں فرمایا ہے کہ اس طرح کی وحی میں ایک حکمت الٰہی ہے اور شروع اس نصیحت کا اللہ تعالیٰ نے اپنے حق سے فرما کر بیچ میں حق العباد اور جو باتیں حق العباد کو مضر تھیں اس کا ذکر فرمایا اور پھر بحث کو اپنے حق پر ختم فرمایا تاکہ آدمی کی سمجھ میں آجاوے کہ سب سے بڑھ کر آدمی پر اللہ کا حق ہے جس نے اللہ کی عبادت میں شرک کے طور پر یا ریا کاری کے طور غیر کو شریک کیا وہ بڑا حق فراموش ہے اس نے اللہ کا حق کچھ بھی نہیں ادا کیا۔ صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ حوالہ سے معاذ بن جبل ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے میں ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اور پھر اس حق کے ادا ہوجانے کے بعد بندوں کا حق یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ کے عذاب سے بچائے گا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس حق کو تاکید کے طور پر اس نصیحت میں دو دفعہ اس واسطے فرمایا ہے کہ اس نصیحت میں جن نیک کاموں کا ذکر ہے ان میں کوئی نیک کام بغیر اللہ کے اس حق کو ادا کرنے کے بارہ گاہ الٰہی میں نہ مقبول ہوسکتا ہے نہ ایسا حق فراموش آدمی دوزخ کے عذاب سے بچ سکتا ہے کس لیے کہ اللہ کی عبادت کرنے کے لیے اللہ کو پہچاننا ضرور ہے جو شخص اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتا ہے وہ سرے سے اللہ کی شان کو نہیں پہچانتا پھر ایسے شخص کا نیک عمل بارگاہ الٰہی میں کیونکر مقبول ہوسکتا ہے معتبر روایتوں میں اللہ کے رسول ﷺ نے شرم وحیا کے مقابلہ میں فاحشہ کے لفظ کا استعمال فرمایا ہے اس استعمال کے موافق بدکاری کو بےحیائی کا کام فرمایا۔ بدکاری سے آدمی کی نسل بگڑتی ہے اس لیے بدکاری کو بری راہ فرمایا۔ آگے کی آیت میں قتل ناحق کے ساتھ الا بالحق کی جو قید لگائی گئی ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ قصاص میں بیا ہے ہوئے بدکار مرد یا عورت یا اسلام کے بعد مرتد ہونے والے ان لوگوں کا قتل شریعت میں جائز ہے 2 ؎۔ عرب میں دستور تھا کہ شریف آدمی کے قصاص میں بہت سے لوگوں کو قتل کیا کرتے تھے اسی کو خون پر ہاتھ چھوڑنا فرمایا کہ مقتول کے وارث کو حاکم لوگ قصاص میں مدد دیویں اور قصاص کی حد سے بڑھ کر مقتول کے وارث کچھ زیادتی نہ کریں۔ یتیم کی حفاظت کی عہد کے پورا کرنے کی ‘ پورا تولنے کی ‘ بہتان کی ‘ اور اترانے کی ممانعت کی بہت سی صحیح حدیثیں ہیں جو گویا ان آیتوں کی تفسیر ہیں۔ آخر کو مشرکین مکہ کی نادانی کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ خود تو لڑکیوں سے یہاں تک گھبراتے ہیں کہ ان کو جیتا گاڑ دیتے ہیں اور نادانی سے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں یہ نہیں سمجھتے کہ یہ بہت بری بات ہے جس کا بہت بڑا خمیازہ ان کو ایک دن بھگتنا پڑے گا۔ 1 ؎ یعنی صفحہ سابقہ پر۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 299 کتاب القصاص۔
Ayah 17:41

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں۔

41:۔ اللہ پاک نے اس آیت میں یہ بیان کیا کہ ہم نے اس قرآن پاک میں جابجا مثالیں اور حکم اور نصیحت اور قصے یہ سب کچھ بیان کیا ہے تاکہ یہ اسے پڑھ کر اور سن کر عبرت پکڑیں اور نصیحت اختیار کریں اور اپنے قول وفعل سے باز آئیں لیکن جن کی طینت میں کفر ونفاق ہے وہ ان باتوں کو سن کر اور بھی دین حق سے نفرت کرتے ہیں اور بھاگتے ہیں اور قرآن پاک کی نسبت یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ انسان کا کلام ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎، کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص جنت میں جانے کے قابل۔ اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث بھی گز رچ کی ہے 2 ؎، جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جو لوگ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پاچکے ہیں وہی لوگ قرآن کے سننے سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی ہی رائیگاں ہے جیسے بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ 1 ؎ تفسیر ہذاص 94 ج 3۔ 2 ؎ تفسیر مذاص 30 ج 3۔
Ayahs 17:42–43

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف ضرور (لڑنے بھڑنے کے لیے) راستہ نکالتے۔

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ پاک ہے اور جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس سے (اسکا رتبہ) بلند ہے۔

42۔ 43:۔ اس آیت میں مشرکوں کے جھٹلانے کے لیے فرمایا کہ اے رسول برحق ﷺ آپ ان مشرکوں سے کہہ دیں جیسا تم خیال کرتے ہو کہ خدا کے سوا کوئی اور معبود بھی ہیں جن کی اطاعت سے خدا کا تقرب حاصل ہوتا ہے اور جن کے پوجنے سے وہ معبود خدا کے روبرو اپنے پوجنے والوں کی شفاعت کریں گے۔ تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے کیونکہ خدا کے سوا اور کوئی معبود ہوتا تو وہ ضرور کوئی راستہ ذوالعرش کی طرف نکالتا یعنی وہ معبود اللہ کے ساتھ مقابلہ کے لیے آمادہ ہوتا جس طرح دنیا میں ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر چڑھائی کرتا ہے اور اس کے ملک اور مال پر قبضہ کرنے کو مستعد ہوتا ہے۔ یہ معنے اس آیت کے آیت لوکان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا الخ کے موافق ہیں جس کا مطلب یہ ہے اگر آسمان و زمین میں خداوند برتر کے سوا اور کوئی معبود بھی ہوتا تو یہ دونوں آسمان و زمین خراب ہوجاتے اس کے نظم ونسق میں ایک دم ابتری پھیل جاتی۔ مسند امام احمد صحیح بخاری بیہقی وغیرہ کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گز رچ کی ہے 1 ؎ کہ اللہ کے رسول ﷺ کی بددعا سے جب مکہ میں قحط پڑا تو مشرکین مکہ نے اپنے بتوں سے مینہ برسنے کی بہت کچھ التجا کی لیکن کچھ نہ ہوا آخر لاچار ہو کر جب ان لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے مینہ برسنے کی دعا کا اصرار کیا تو آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ آسمان و زمین کا سب انتظام اکیلے اللہ کے اختیار میں ہے ان مشرکوں کے بتوں کو اللہ تعالیٰ کے کسی کار خانہ میں کچھ دخل نہیں ہے اسی واسطے آخر آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کی شرک کی باتوں سے پاک اور بہت دور ہے۔ 1 ؎ تفسیر بذاص 70 ج 3۔
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اسکی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے بیشک وہ بردبار (اور) غفار ہے۔

44:۔ جس طرح بیت آدم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف زبانیں بنائی ہیں کوئی عربی بولتا ہے کوئی ترکی کوئی فارسی جب تک ایک فرقہ خاص طور پر دوسرے فرقے کی زبان نہ سیکھے اپنی زبان کے سوا دوسری زبان کا ایک لفظ نہیں جانتا اسی طرح اللہ نے زمین آسمان ‘ جھاڑ پھاڑ ‘ سب کو ایک ایک زبان دی ہے وہ اپنی زبان میں رات دن اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں ہر فرقہ انسانی کا دوسرے فرقے انسانی سے میل جول دنیا کی آبادی کی غرض سے اللہ کو منظور ہے اس لیے ایک ملک کا آدمی ضرورت سے دوسرے ملک کی زبان کو سیکھنا چاہے تو یہ بات اللہ تعالیٰ نے حد تعلیم انسانی پر انسان کے اندر رکھی ہے جھاڑ پھاڑ کی۔ زبان سے اس طرح کی کوئی غرض انسانی کا تعلق نہیں ہے اس لیے جھاڑ پھاڑ کی زبان کی سمجھ عام لوگوں کے فہم سے ایک غیر چیز ہے مگر جس طرح خاص خاص ایک فرقہ کے لوگ دوسرے فرقے انسانی کی زبان سیکھ لیتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ جس کو اپنے علم خاص سے بہرہ مند فرماتا ہے وہ جھاڑ پھاڑ کی زبانیں سمجھتے ہیں چناچہ اس باب میں قرآن شریف کی آیتیں اور بہت حدیثیں اور آثار ہیں 1 ؎۔ کسی قدر ان میں سے بیان کیے جاتے ہیں قرآن شریف میں تسبیح کی سورتیں بعض تسبح کے لفظ سے شروع ہوئی ہیں اور بعض یسبح کے لفظ سے جس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ آسمان و زمین کل چیزیں اپنی زبان میں ہر وقت اللہ کو یاد کرتی ہیں اور اس کے نام تسبیح پڑھتی ہیں ان تسبیح کی آیتوں کی تفسیر صحیح حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہیں چناچہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ کھانا کھاتے وقت کھانے کی تسبیح کی آواز ہم صحابہ لوگ سنا کرتے تھے 2 ؎۔ صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو پتھر نبوت سے پہلے مجھ سے سلام علیک کیا کرتا تھا اس کو خوب پہچانتا ہوں 3 ؎۔ بخاری میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عمر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے آنحضرت ایک کھجور کی لکڑی پر چڑھ کر خطبہ پڑھا کرتے تھے جب آپ کے خطبہ پڑھنے کے لیے ممبر بن گیا تو آپ ﷺ نے اس لکڑی پر خطبہ پڑھنا چھوڑ دیا۔ اس غم سے وہ لکڑی کا ٹکڑا ایسا رویا کہ آپ ﷺ نے اور اصحاب نے اس کے رونے کی آواز سنی اور آپ بےتاب ہو کر ممبر سے اترے اور اس لکڑی کے ٹکڑے کو اپنا منہ لگا کر کچھ بات چپکے سے اس سے کہی جب وہ لکڑی کا ٹکڑا چپ ہوا۔ مسند امام احمد وغرا میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ اپنے ہاتھوں میں کنکر اٹھاتے تھے تو شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ان کنکریوں کی تسبیح کی آواز ہم لوگ سنا کرتے تھے 4 ؎۔ نسائی میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا مینڈک کو مت مارو اس کا بولنا اللہ کی تسبیح ہے 5 ؎۔ اوپر صحیح بخاری اور مسلم کی روایتیں گزری ہیں ان سے مسند امام احمد اور نسائی کی روایتوں کو پوری تقویت ہوجاتی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ بعضے علماء نے یہ جو لکھا ہے کہ جن و انسان کے سوا اور چیزیں زبان حال سے اللہ کی تسبیح کرتی ہیں۔ یہ قول صحیح نہیں بلکہ اکثر حدیثوں اور آثار سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک چیز اللہ نے ایک خاص گویائی دی ہے اس گویائی سے وہ چیز اللہ کی تسبیح میں مشغول ہے اور اکثر سلف کا یہ مذہب ہے کہ چیز کی ایک زندگی کی سی حالت ہے مثلا پیڑ کا ہرا رہنا ‘ کپڑے کا میلا اور پرانا نہ ہونا ایسی حالت تک ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور اس مذہب کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کی روایت صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ہے اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا گذر ایک روز دو قبروں پر ہوا اور آپ نے فرمایا ان دونوں قبروں میں جو مردے دفن ہیں ان پر عذاب قبر ہو رہا ہے ایک شخص ان دونوں مردوں میں سے پیشیاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہیں کیا کرتا تھا اس کے عذاب میں پکڑا گیا اور دوسرا شخص چغلخوری کے عذاب میں گرفتار ہے۔ یہ فرما کر آپ ﷺ نے ایک ہری ٹہنی درخت کی لے کر اس کی دو شاخیں کیں اور دونوں شاخیں ان دونوں قبروں پر لگا دیں اور یہ فرمایا کہ جب تک یہ شاخیں خشک نہ ہوں گی شاید ان دونوں کے عذاب میں تخفیف رہے گی 6 ؎۔ اس حدیث سے علماء نے یہ مطلب نکالا ہے کہ ہری شاخ اللہ کی تسبیح کرتی تھی اسی تسبیح کے اثر سے عذاب میں تخفیف ہوئی تھی جب وہ شاخیں سوکھ گئیں اور تسبیح الٰہی بند ہوگئی تو وہ اثر بھی جاتا رہا جس اثر سے عذاب کی تخفیف ہوئی تھی پھر عذاب بد ستور قائم ہوگیا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی ایک حدیث گزر چکی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بردباری ہے کہ مشرک لوگ اس کی تعظمم میں غیروں کو شریک کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے رزق اور صحت کے انتظام میں کچھ خلل نہیں ڈالتا۔ یہ حدیث انہ کان حلیما غفورا کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سوا ان مشرکوں کے اور سب چیز خالص اللہ کی عبادت کرتی ہیں اور یہ مشرک لوگ اگرچہ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنی بردباری سے ان پر کسی عذاب کے نازل کرنے میں جلدی نہیں کرتا اور ان کے رزق اور صحت کے انتظام کو بحال رکھتا ہے۔ 1 ؎ تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر ابن کیثرص 420 ج 3۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیرص 42 ج 3۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 524 باب علامات النبوۃ۔ 4 ؎ اور تفصیلا البدایہ والنہایہ ص 132 ج 6 میں براوایت حضرت ابودر ؓ دلائل النبوۃ بیہقی کے حوالہ سے ہے قدرے الفاظ بھی مختلف ہیں (ع ح) ۔ 5 ؎ تفسیر ابن کثیرص 42 ج 3۔ 6 ؎ تفسیر ابن کیثرص 42 ج 3 و صحیح بخاری ص 182 ج اباب الجرید علی القبر 12 منہ۔
Ayahs 17:45–46

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کردیتے ہیں

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور انکے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔

45:۔ تفسیر ابراہیم بن منذر میں ابن شہاب زہری کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت اللہ کے رسول قرآن شریف کی آیتیں مشرکین مکہ کے روبرو پڑھتے تھے اور ان کو ہدایت کرتے تھے تو وہ لوگ ٹھٹھے سے کہتے تھے وفی اذاننا وقر ومن بیننا وبینک حجاب یعنی جن باتوں کے ماننے کے لیے اے محمد ﷺ تم ہم سے کہتے ہو ان باتوں کے سننے سے ہمارے کان بہرے ہیں اور ان باتوں کے ماننے کے حساب سے ہم میں اور تم میں ایک آڑ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی بات کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ سورة حم السجدہ میں آوے گا جن باتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے وہ باتیں مشرک لوگ مسخراپن سے کیا کرتے تھے۔ اس سے شان نزول کی روایت کی پوری تائید ہوتی ہے حاصل معنے آیت کے اس صورت میں یہ ہیں کہ یہ مشرک لوگ جو کچھ ٹھٹھے سے کہتے ہیں وہ سچی بات ہے بدبختی ازلی جو ان کے سر پر سوار ہے وہ ان کو قرآن شریف کی ہدایت کی باتیں سننے نہیں دیتی تو گویا یہ لوگ حقیقت میں بہرے ہیں اور آنکھوں کے سامنے کے آثار قدرت الٰہی ان کو نظر نہیں آتے اس لیے حق باتوں میں اور ان میں ایک طرح کی آڑ ہے وہ آڑ بھی وہی بدبختی ازلی ہے جو ان کو دیکھنے کی حق باتیں دیکھنے نہیں دیتی حاصل کلام یہ ہے کہ جس آڑ کا آیت میں ذکر ہے وہ آڑ اس صورت میں ایک باطنی اور معنوی چیز ہے سوا اس کے آنحضرت ﷺ اور کفار کے مابین میں اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ بھی حائل رہا کرتا تھا تاکہ قرآن شریف میں جو آیتیں کفار کی طبیعت کے مخالف ہیں ان کو سن کر کفار لوگ آنحضرت سے کچھ بےادبی سے پیش نہ آویں اس آڑ پر بھی آیت کا مطلک صادق آتا ہے اسی واسطے بعضے علماء نے اس مطلب کو شان نزول قرار دیا ہے لیکن وہ آیت کے مضمون کا مصداق ہے شان نزول نہیں ہے۔ چناچہ مستدرک حاکم، مسند ابویعلی، مسند بزار، تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے 2 ؎ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب سورة تبت نازل ہوئی اور ابولہب کی بیوی نے سنا کہ اس کی ہجو قرآن شریف میں اتری ہے تو وہ عورت ایک پتھر لے کر آنحضرت ﷺ کو مارنے آئی اور حضرت ابوبکر ؓ صدیق کے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ وہ عورت جھنجھلا کر کبھی یہ پتھر آپ کو نہ مار دے تو آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ صدیق کی تسکین کی اور یہ آیت پڑھی اور فرمایا ایک فرشتہ مجھ میں اور ایسے لوگوں میں آڑ ہے 3 ؎۔ غرض روایت میں اس وقت وحی کے نازل ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فرشتہ پہلے سے تعینات تھا اس وقت آپ ﷺ نے یہ آیت بطور تصدیق کے پڑھی تھی اس صورت میں ایک آڑ ظاہری بھی آیت کے مطلب میں سوا اس آڑ باطنی اور معنوی کے داخل ہے۔ بزار نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اس روایت کو معتبر قرار دیا ہے 4 ؎۔ آخر آیت میں فرمایا کہ جب قرآن کی آیتوں میں اللہ کی وحدا نیت کا ذکر آتا ہے تو یہ مشرک لوگ پیٹھ موڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ صحیح سند سے مسند امام احمد ترمذی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابو طالب کی بیماری کے وقت چند مشرکین مکہ اور اللہ کے رسول ﷺ ایک مجلس میں جمع ہوئے اور اس مجلس میں جب اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر کیا تو یہ مشرک لوگ غصہ ہو کر اس مجلس سے چلے گئے۔ آخر آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ جب اللہ کی توحید کا ذکر آتا تو یہ مشرک لوگ پیٹھ موڑ کر بھاگ جاتے ہیں یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ سورة ص کی تفسیر میں یہ ابو طالب کی بیماری کا قصہ تفصیل سے آوے گا 5 ؎۔ 1 ؎ تفسیر ہذاص 50 ج 3۔ 2 ؎ تفسیر المنثور ص 186 ج 4۔ 3 ؎ فتح البیان تفسیر سورة تبت۔ 4 ؎ ایضا۔ 5 ؎ ملا خطہ ہو تفسیر ابن کثیر ص 28 ج 4۔
Ayahs 17:47–52

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی) جب ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائی ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور راستہ نہیں پاسکتے۔

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور چور چور ہوجائیں گے تو کیا از سرِ نو پیدا ہو کر اٹھیں گے۔

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ (خواہ تم) پتھر ہوجاؤ یا لوہا۔

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جلائے گا ؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سر ہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا ؟ کہہ دو امید ہے کہ جلد ہوگا۔

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت) رہے۔

47۔ 52:۔ سیرۃ محمد بن اسحاق اور دلائل النبوہ بیہقی میں ناقابل اعتراض سند کی ابن شہاب زہری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ابو سفیان اور ابوجہل اور چند قریش جمع ہوئے اور جس وقت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف اپنے گھر میں پڑھ رہے تھے اس وقت چھپ کر قرآن شریف سنا اور پھر آپس میں صلاح کرکے آنحضرت ﷺ کو جادو کیا ہوا ایک شخص اور حشر کی آیتوں کو خلاف عقل ہونے کا ذکر کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎۔ حاصل معنے یہ ہیں کہ قرآن شریف سن کر یہ لوگ جو آپس میں باتیں کرتے ہیں وہ اور اللہ کے رسول کی شان میں یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں وقت مقررہ آنے پر مناسب مؤاخذہ ان سے کیا جائے گا چناچہ اس وعدہ کے موافق اس گروہ میں کے چند شخص جنگ بدر میں ہلاک ہوگئے اور ابوسفیان وغیرہ فتح مکہ پر مسلمان ہوگئے اور حشر کا انکار ان لوگوں نے جو کیا تھا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ انسان پیدا ہونے سے پہلے آخر مٹی ہی تھا جس اللہ نے مٹی کا پتلا پہلی دفعہ بنایا اور اس پتلا میں روح پھونکی پھر اس اللہ کو دوسری دفعہ وہ کام کرنا جو ایک دفعہ وہ کرچکا ہے کیا مشکل ہے بلکہ جو کوئی ایک دفعہ ایک کام کرچکے پھر اس کو وہ کام سہل ہوجاتا ہے اسی واسطے حشر کے خلاف عقل ہونے میں اوپر تفصیل سے بیان ہوچکا ہے کہ پہلی پیدائش سے حشر آسان ہے پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کی تنبیہ کے لیے فرمایا کہ مٹی کا پتلا تو کیا ہے اگر یہ مر کر لوہا یا پتھر یا کوئی سخت چیز بھی ہوجاویں تو اللہ کی قدرت تو وہ ہے کہ اللہ ضرور ان کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ آگے فرمایا دوبارہ زندہ ہونے کی تاکید سن کر یہ لوگ تعجب سے پوچھیں گے کہ آخر ہم کو دوبارہ کون زندہ کرے گا تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دیا جائے کہ جس نے پہلے تم کو نیست سے ہست کیا وہی تم کو دوبارہ پیدا کرے گا پھر فرمایا اس جواب کو سن کر یہ لوگ مسخراپن سے گردنیں مٹکا کر یہ کہیں گے کہ آخر اس وعدہ کا ظہور کب ہوگا ان سے کہہ دیا جائے کہ گھبراؤ نہیں شاید اس کا ظہور بھی جلدی ہونے والا ہے پھر فرمایا اب تو یہ لوگ ایسے مسخراپن کی باتیں کرتے ہیں لیکن دوسرے صور سے پہلے جب ایک مینہ برس کر ان کے جسم تیار ہوجاویں گے اور ان جسموں میں روحیں پھونک دی جاویں گی اور ان کو میدان محشر میں حاضر ہونے کا حکم ہوگا تو اللہ کی قدرت کو دیکھ کر بےساختہ اللہ کی تعریف ان کی زبان پر آجاوے گی اور حساب و کتاب کے بعد جس بیشمار مدت کے لیے ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائیگا تو اس بیشمار مدت کے مقابلہ میں دنیا میں رہنے کی مدت ان کو بالکل کم نظر آئے گی۔ دوسرے صور سے پہلے جو میں برسے گا صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت کے حوالہ سے اس کا ذکر کئی جگہ اس تفسیر میں کردیا گیا ہے۔ سورة القمر میں آئے گا کہ دوسرے صور کی آواز صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎ کہ نیک آدمی کے مردے کو قبر میں رکھتے ہی جنت کا ٹھکانہ اور بدشخص کے مردہ کو دوزخ کا ٹھکانہ فرشتے دکھلا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانے میں رہنے کے لیے قیامت کے دن تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اسی طرح ابوداؤد اور مسند امام احمد کے حوالہ سے براء بن عازب ؓ کی صحیح حدیث بھی گزر چکی ہے 3 ؎۔ کہ بدلوگ دوزخ کے ٹھکانے سے ڈر کر عذاب قبر کو غنیمت جانیں گے اور قیامت کے نہ قائم ہونے کی ہر وقت دعا کرتے رہیں گے۔ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ دوسرے صور کی آواز سے ان منکرین قیامت کا ٹڈیوں کی طرح حساب و کتاب کے لیے میدان محشر کی طرف دوڑنا اور حساب و کتاب کے بعد بیشمار مدت کا دوزخ میں جھونکے جانے کا حکم سن کر اس کے مقابلہ میں دنیا میں رہنے کی مدت کو بالکل چند روزہ مدت خیال کرنا یہ تو اپنے وقت پر ہوگا لیکن ان میں سے ہر ایک شخص کو اس کا ٹھکانا زیست کے تھوڑے سے دن گزر جانے کے بعد مرنے کے ساتھ ہی دکھلا دیا جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اب تو یہ لوگ مسخراپن سے قیامت کے آنے کی جلدی کرتے ہیں مگر دوزخ کے اپنے ٹھکانے کو دیکھ کر ہر وقت قیامت کے نہ قائم ہونے کی دعائیں مانگیں گے۔ 1 ؎ تفسیر الدر المنثورص 187 ج 4۔ 2 ؎ تفسیر ہذاج 3 ص 334۔ 3 ؎ تفسیر ہذاج 2 ص 334۔
Ayah 17:53

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

53:۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول مقبول ﷺ کی معرفت اپنے بندوں کو حکم فرمایا کہ تم اپنا برتاؤ اچھا رکھو ایسا نہ ہو کہ سخت کلامی سے شیطان تمہارے بیچ میں کود پڑے اور جھگڑا ڈال دے کیونکہ شیطان حضرت آدم اور بنی آدم کا صریح دشمن ہے احسن کی تفسیر میں مفسروں کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ نرمی اور آہستگی سے کلام کریں کوئی شخص کافر سے بھی سخت کلامی نہ کرے کیونکہ اس سے فساد پیدا ہوتا ہے اور ضعف اسلام کے زمانہ تک مشرکین اور اہل اسلام کے مابین کسی فساد کا پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے خباب ؓ کی حدیث ایک جگہ گز رچ کی ہے 1 ؎ کہ ہجرت سے پہلے مشرکین مکہ مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ شیطان بےوقت مشرکین اور اہل اسلام میں جھگڑا ڈلوانا چاہتا ہے اور ضعف اسلام کے زمانہ تک اللہ تعالیٰ کو درگزر منظور ہے اس واسطے مشرک لوگ نادانی سے اگر مسلمان لوگوں کے ساتھ سخت کلامی کریں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ نیک برتاؤ سے اس کو ٹال دیں۔ 1 ؎ تفسر مذاص 275 ج 3۔
Ayahs 17:54–55

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں تمہارا پروردگار ان سے خوب واقف ہے اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت بخشی اور داوٗد کو زبور عنایت کی۔

54۔ 55:۔ اوپر کی آیت میں مسلمانوں کو سخت کلامی سے منع فرما کر اس کے بعد اب مشرکوں کا حال بیان فرمایا کہ اے رسول اللہ کے مشرکین مکہ میں کے کچھ لوگ راہ راست پر نہ آویں تو اس کا کچھ بوجھ بار تمہارے ذمہ نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جس طرح بعضے نبیوں کی بزرگی اور فضیلت بعضوں پر ٹھہر چکی ہے اسی طرح یہ بات بھی ٹھہر چکی ہے کہ ان مشرکوں میں سے کچھ لوگ راہ راست پر آکر اللہ کی رحمت کے قابل ٹھہریں گے اور کچھ حالت کفر پر مر کر عذاب کے مستحق ہونگے۔ بدر کی لڑائی میں ابوجہل کا کفر کی حالت پر مرنا اور فتح مکہ پر ابوسفیان کا اسلام کی فضیلت کو حاصل کرنا مشرکین مکہ کی اس حالت کی تفسیر ہے جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ زبور میں امت محمدیہ کا جو حال ہے اس کا ذکر سورة الانبیاء میں آویگا اس واسطے امت محمدیہ کے لوگوں کے ذکر میں خاص طور پر زبور کا ذکر فرمایا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں معراج کی حدیثوں میں ہے کہ معراج کی رات آدم (علیہ السلام) اول آسمان پر تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) ساتویں آسمان پر صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے چھ باتوں کو ذکر فرما کر یہ فرمایا ہے کہ ان چھ باتوں کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو سب انبیاء پر فضیلت دی ہے 1 ؎۔ یہ چھ باتوں کی پوری حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے۔ آیتوں میں بعضے انبیاء کو بعضوں پر فضیلت دینے کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں جن کا حاصل یہ ہے ‘ کہ بعضے انبیاء کو بعضوں پر اور نبی آخر الزمان ﷺ کو سب انبیاء پر اللہ تعالیٰ نے فضیلت دی ہے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے امت کے لوگوں کو انبیا ( علیہ السلام) کی فضیلت میں بحث کرنے سے منع کیا ہے تاکہ اس بحث سے کسی نبی کی کسر شان نہ لازم آوے۔ صحیح بخاری ومسلم میں اس بحث سے ممانعت کی تفصیلی روایتیں ہیں 2 ؎۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 512 باب علامات النبوۃ۔ 2 ؎ مثلا دیکھئے مشکوٰۃ باب بدء الخلق (ذکر الانبیاء) فصل اول۔
Ayahs 17:56–57

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

کہو (کہ مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے انکو بلا دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کو بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب (ہوتا) ہے اور اسکی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اسکے عذاب سے خوف رکھتے ہیں بیشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔

56۔ 57:۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکوں میں سے کچھ لوگوں نے جنات کے ایک گروہ کو اپنا معبود بنا رکھا تھا اتفاق سے جنات کا گروہ مسلمان ہوگیا اور انسانوں کے اس فرقے کو جو ان جنات کی پرستش کیا کرتے تھے ان جنات کے مسلمان ہوجانے کی خبر نہیں ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کے گروہ کے شرمندہ کرنے کو یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ اے نبی اللہ کے ان بیخبر شرک کرنیوالوں سے یہ کہہ دو کہ اللہ کے سوا جن کو تم اپنا معبود ٹھہراتے ہو اگرچہ پہلے بھی ان تمہارے معبودوں کو کسی نیک وبد کا اللہ کے کار خانہ میں اختیار گنتے ہو اور وہ خدا کو خدا جانتے ہیں اور عمل نیک کو خدا کی رضامندی کا ذریعہ ٹھہراتے ہیں اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں تم کو ان کا حال معلوم نہیں تو ذرا تم لوگ ان کا حال دریافت تو کرو کہ وہ کس حال میں ہیں۔ تفسیر ابن جریر میں دوسرے طریقہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے بجائے جنات کے ملائکہ کے ایک گروہ کو مشرکین کا اپنا معبود ٹھہرانا اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور عزیر ( علیہ السلام) کو معبود ٹھہرانا جو ہے 2 ؎ اس کو حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ناثابت اور ضعیف ٹھہرایا ہے کیونکہ بخاری کی روایت سے صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ گروہ ایسا تھا کہ پہلے مشرکین کے معبود بننے پر راضی تھا اور پھر اسلام لاکر اپنے اس فعل سے وہ گروہ بزار ہوگیا یہ بات ملائکہ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور عزیز ( علیہ السلام) کے حق میں ہرگز صادق نہیں آتی کیونکہ ملائکہ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور عزیز ( علیہ السلام) کبھی مشرکین کے معبود بننے پر راضی نہیں ہوئے۔ آخر آیت میں فرمایا کہ اللہ کا عذاب بلاشک ڈرنے کی چیز ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک (رح) کی روایت ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا مجھ کو دوزخ کے عذاب کا کچھ حال معلوم ہے اگر لوگوں کو وہ حال معلوم ہوجائے تو وہ ہنسنا چھوڑ دیں اور سوا رونے کے ان کو کچھ کام نہ رہے۔ 3 ؎ یہ حدیث ان عذاب ربک کان محذورا کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا عذاب ایسی ڈرنے کی چیز ہے کہ اس میں گرفتار ہونا تو درکنار اس کا پورا حال سننا بھی انسان کی برداشت سے باہر ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 685 ج 2 کتاب التفسیر۔ 2 ؎ تفسیرابن جویر ص 104 ج 15۔ 3 ؎ ایضا ترغیب ص 261 ج 2 نیز دیکھئے مشکوٰۃ باب البکاء والخوف فصل اول بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ ۔
Ayah 17:58

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور کفر کرنے والوں کی کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے یہ کتاب (یعنی تقدیر) میں لکھا جا چکا ہے۔

58:۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکین مکہ کو دنیا کی زندگی پر ایسا بھروسہ تھا کہ وہ مسخراپن سے قیامت کے آنے کی جلدی کرتے تھے اس لیے فرمایا کہ دنیا کی زندگی کسی طرح بھروسہ کے قابل چیز نہیں ہے۔ قیامت سے پہلے بعضے شہروں کے لوگ اپنی موت سے اور بعضوں کے طرح کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہونے والا ہے اپنے علم غیب کے موافق وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد صحیح ابن حبان اور طبرانی میں ابوہریرہ ؓ اور عقبہ بن عامر ؓ سے جو روایتیں ہیں 1 ؎ ان کا حاصل یہ ہے کہ پہلے صور کے قریب جو شخص بیچنے کے لیے کپڑے کا تھان کھولے گا یا دودھ والے جانوروں کا دودھ دو ہے گا یہ سب کچھ یوں ہی پڑا رہے گا اور پہلے صور آواز سے تمام دنیا ہلاک ہوجائے گی ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ دنیا کے پیدا ہونے کے پچاس ہزار برس پہلے لوح محفوظ میں یہ لکھا جاچکا ہے کہ بعض بستیوں کے لوگ اپنی موت سے اور بعض کے طرح طرح کے عذابوں سے اور آخر کو پہلے صور کی آواز سے غرض اسی طرح تمام دنیا ہلاک ہوجائے گی پھر ایسی ہلاک ہونے والی چیز پر بھروسہ کرکے جو لوگ عقبیٰ کے منکر ہیں یا اس سے غافل ہیں وہ بڑے نادان ہیں کیونکہ جہاں لوح محفوظ میں دنیا کا ہلاک ہونا لکھا ہے وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ دنیا کے ہلاک ہوجانے کے بعد سزا وجزا کا دوسرا جہاں ضرور قائم ہوگا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا بلا نتیجہ نہ رہے کسی کے انکار سے لوح محفوظ کا یہ لکھا کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔ 1 ؎ الترغیب والترہیب ص 392 ج 2 کتاب البعث واہوال یوم القمیہٰ 12 منہ۔
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لیے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی تکذیب کی تھی اور ہم نے ثمود کو اونٹنی (نبوت صالح کی کھلی) نشانی دی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو۔

59:۔ معتبر سند سے نسائی مسند امام احمد بن حنبل مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے ایک روز اکٹھے ہو کر آنحضرت سے کہا کہ آپ اپنے آپ کو اللہ کا نبی کہتے ہو اور پہلے انبیاء کو تو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزے دیئے تھے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے تابع دریا کردیا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے تابع ہوا کردی حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے اگر آپ بھی سچے نبی ہیں تو سر زمین مکہ کے پہاڑ دور ہٹا کر ہماری کھیتی کے لیے زمین نکال دو اور اس زمین میں کچھ نہریں کھیتی کو پانی پہنچانے کے لیے جاری کرا دو تو پھر شاید ہم میں سے کچھ لوگ مسلمان ہوجاویں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ اور حضرت صالح کی اونٹنی کا ذکر یاد دلا کر فرمایا کہ جو نشانیاں یہ لوگ چاہتے ہیں وہ پتھر میں سے اونٹنی کے پیدا ہونے سے کچھ بڑھ کر نہیں ہیں لیکن ہمیشہ کے ملک شام کے سفر میں ان لوگوں نے قوم ثمود کی بستیوں کا حال دیکھا ہوگا کہ منہ مانگا معجزہ ظاہر ہونے کے بعد وہ لوگ ایمان نہ لائے تو ان کا انجام کیا ہوا اسی طرح منہ مانگے معجزہ کے بعد یہ لوگ بھی اگر ایمان نہ لائے تو قوم ثمود کی طرح غارت کردئیے جاویں گے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے یہی خواہش ظاہر کی کہ یا اللہ قریش کو فوری کوئی معجزہ نہ دیا جائے بلکہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تاکہ میں رفتہ رفتہ ان کو ہدایت کی باتیں سناؤں اور تیری طرف سے ان کو توفیق ہو۔ تھوڑی مدت میں مکہ فتح ہوا اور وہی آنحضرت ﷺ کی دعا کا از نمودار ہوگیا۔ صحیح حدیثوں اور صحابہ کے آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی بستی میں جب لوگوں کی گناہ گاری بڑھ جاتی ہے تو خلاف عادت اللہ کی طرف سے کچھ خوف دلانے کی نشانیاں مثل قحط کا پڑنا یا بجلی کا گرنا یا وبا یا اور کسی عام بیماری کا پھیلنا یا زلزلہ کا آنا یا سورج چاند کو گرہن لگنا۔ اسی طرح اور نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ صحابہ ؓ کے زمانہ میں دستور تھا کہ اس طرح کی کوئی نشانی ظاہر ہو تو لوگ ڈر جاتے تھے اور عام لوگ توبہ اور استغفار کرنی چاہئے 2 ؎۔ غرض آنحضرت ﷺ کے ارشاد اور صحابہ ؓ کے دستور کے موافق بھی کوئی اس طرح کی خوف الٰہی کی نشانی ظاہر ہو تو بستی کے علماء کو چاہئے کہ عام لوگوں کو توبہ اور استغفار کی نصیحت کریں اور عام لوگوں کو چاہئے کہ خالص دل سے توبہ و استغفار کریں اور جان لیویں کہ ان کے گناہوں کی شامت سے وہ خوف کی نشانیاں ظاہر ہوئی ہیں اگر اس نشانی پر گناہ گاری سے باز نہ آویں گے تو اس سے بڑھ کر کوئی بلا آوے گی چناچہ اس آخری زمانہ میں لوگ ایک سال کے قحط اور وبا پر اپنی گنہگار سے باز نہیں آتے اسی واسطے قحط اور وبا ایک ہمیشہ کی فصلی بیماری ہوگئی ہے۔ مسند امام احمد صحیح مسلم مستدرک حاکم اور شعب الایمان بیہقی میں ابی بن کعب سے جو روایتیں ہیں 3 ؎ ان کا حاصل یہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ کسی بستی میں گناہ گار بڑھ جاتی ہے تو اللہ کی طرف سے کچھ خوف دلانے کی نشانی ظاہر ہوتی ہے اگر ان نشانیوں پر لوگ گناہ گاری سے باز نہیں آئے تو ان نشانیوں سے بڑھ کر کوئی آفت آتی ہے۔ 1 ؎ الدر المنثور ص 190 ج 4۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 130 صلوٰۃ الخسوف 12 منہ۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 19 جلد ہذا پر ملاخطہ ہو۔
Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کیے ہوئے ہے اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لیے آزمائش کیا اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انھیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی سخت سرکشی پیدا ہوتی ہے۔

60:۔ مسند ابویعلی موصلی تفسیر ابراہیم بن مندر ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردویہ میں جو شان نزول اس آیت کی کئی صحابہ سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس رات آنحضرت ﷺ کو معراج ہوتی اس کی صبح کو آپ ﷺ نے لوگوں سے معراج کا حال بیان کیا تاکہ لوگ ان کو سچا نبی جان کر ایمان لاویں مشرکوں نے بیت المقدس کے پنے آپ ﷺ سے پوچھے اور کئی قافلے عرب کے ملک شام کو گئے ہوئے تھے ان قافلوں کا حال بھی آپ ﷺ سے پوچھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت بیت المقدس اور ان قافلوں کو آپ ﷺ کے آگے کردیا آپ ﷺ نے بیت المقدس کی سب نشانیاں اور ان قافلوں کا سب حال معراج اور دوزخ میں زقوم کا درخت لوگوں کے آزمانے کی نشانیاں ہیں بہت لوگ غیب کی باتوں پر ایمان لاکر نجات کے سب اچھے برے لوگ اللہ کے قبضہ وقدرت میں ہیں اس لیے کوئی مخالف تم کو اے نبی اللہ کے کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ زبان سے جھٹلاتے ہیں تو ان کو جھٹلانے دو ۔ تم اپنا کام بےخوف وخطر کرو اللہ کی حکمت میں وہم و قیاس لانا شیطانی عادت ہے۔ اسی مشابہت کی غرض سے اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے شیطان کی نافرمانی کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے۔ مشرکوں نے بیت المقدس کی چند باتیں جو اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھیں اور ان باتوں کے صحیح جواب دینے کے لیے اللہ کے حکم سے بیت المقدس اللہ کے رسول کے سامنے لایا گیا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے جابر بن عبداللہ کی حدیث اس بات میں اوپر گزر چکی ہے 1 ؎ جس سے اس شان نزول کی روایت کو تقویت ہوجاتی ہے۔ اس زقوم کے درخت کو سنیڈہ کہتے ہیں۔ سورة والصافات میں اس کا ذکر تفصیل سے آوے گا مشرکین مکہ اس درخت کو یوں جھٹلاتے تھے کہ دوزخ کی آگ میں یہ درخت کیوں کر پیدا ہوگا۔ یہ وہی درخت ہے جو دوزخ میں ہوگا اور اس کا پھل دوزخیوں کو کھلایا جائے گا۔ اس درخت کے باب میں ترمذی نسائی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے صحیح روایت ہے کہ اس درخت کے عرق کا ایک قطرہ اگر زمین پر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام دنیا کے لوگوں کی گندگی میں خلل پڑجاوے 2 ؎۔ 1 ؎ ملاحظہ ہو ص 19 جلد ہذا۔ 2 ؎ ترمذی ص 82 ج 2 باب صفتہ شراب اہل النار۔
Ayahs 17:61–62

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا بولا بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا۔

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک کی مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔

61۔ 62:۔ یہ قصہ قرآن میں سات جگہ آیا ہے اول سورة بقرہ میں پھر سورة اعراف میں اور پھر سورة حجر میں اور اس سورة بنی اسرائیل میں اور سورة کہف اور سورة طہ اور سورة ص میں۔ حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ اللہ پاک نے جس وقت حضرت آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کیا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ تم سب کے سب حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کرو اور ابلیس بھی قوم جنات میں سے ایک مقرب فرشتہ ہوگیا تھا اس نے اپنے کو بڑا جانا اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کو حقیر سمجھ کر سجدہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یا اللہ تو نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو خاک سے پیدا کیا ہے اور میری پیدائش آگ خاک سے لطیف ہے اس لیے جوہر کثیف کو جوہر لطیف پر کسی طرح فضیلت نہیں ہوسکتی مگر اللہ پاک نے ابلیس کے اس بیہودہ قیاس کا کچھ جواب نہ دیا کیونکہ اس نے اپنے پیدا کرنے والے پر اعتراض کیا تھا اس کو حقیر جان کر چھوڑ دیا اور اسی نافرمانی اور عدول حکمی کی وجہ سے فرشتوں کی صف سے اس کو نکال دیا اور مردود درگاہ بنا دیا پھر اس نے قسم کھائی کہ میں اولاد آدم کو قیامت تک گمراہ اور نافرمان کروں گا اللہ پاک سے مہلت چاہی اور فقط اپنے گمان ہی گمان پر بنی آدم کے ورغلانے کا بیڑا اس نے اٹھا لیا اللہ پاک نے بھی اس کو مہلت دی اور فرما دیا کہ جو میرے خاص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں چلے گا یہی معنی ہیں الا قلیلا کے جس گروہ پر شیطان کا کچھ تسلط نہیں ہوتا وہ گروہ انبیاء کا ہے اور امت کے اولیاء اور صالحین بھی اس کے دھوکے سے علیحدہ رہتے ہی ان کے علاوہ ہر شخص کے دل میں گھس کر شیطان طرح طرح کا وسوسہ ڈال ڈال کر صراط مستقیم سے ان کو بہکاتا ہے اور طرح طرح کے مکرو فریب سے انسان کو اپنے قبضہ میں لاتا ہے اور جو دعویٰ اس نے آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت میں کیا تھا اس کے پورا کرنے میں کچھ کمی نہیں کرتا اللہ اس کے شر سے بچائے۔ حسن بصری ابن سیرین اور اکثر سلف کا قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے کو یہ حکم تھا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی اور ابوداؤد میں ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے اسی واسطے ان کی اولاد میں کوئی گورا ہے کوئی کالا ہے۔ مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابوسعید ؓ بخاری کی صحیح حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ مہلت کے منظور ہوجانے کے بعد شیطان نے جب اللہ تعالیٰ کے روبرو اولاد آدم ( علیہ السلام) کے بہکانے کی قسم کھائی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر توبہ و استغفار کرنے والے گناہ گاروں کے گناہ معاف فرما دینے کا وعدہ فرمایا اس حدیت کو آیت کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ اس سے مہلت کے بعد کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث سورة الاعراف میں گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا فرشتے نور سے پیدا کیے گئے اور شیطان آگ کے شعلے اور فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں، ان حدیثوں سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا گیا ہے اور شیطان آگ کے شعلے اور فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اس لیے شیطان فرشتوں میں سے نہیں ہے کیونکہ نور میں اور آگ کے شعلہ میں بڑا فرق ہے اسی واسطے اللہ کے رسول ﷺ نے فرشتوں اور شیطان کی پیدائش کا جدا جدا ذکر فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق لاحتنکن کے معنے غلبہ حاصل کرنے کے ہیں 3 ؎ اسی قول کا ترجمہ ڈھانٹی دینے کا کیا گیا ہے جس کا مطلت غلبہ حاصل کرنے کا ہے۔ 1 ؎ مثلا تفسیر ہذاص 294 ج 3۔ 2 ؎ تفسیر ہذاص 234۔ 235 ج 2۔ 3 ؎ تفسیر بان کثیرص 49 ج 3۔
Ayahs 17:63–65

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزاء جہنم ہے (اور وہ) بری سزا ہے۔

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدہ کرتا رہ اور شیطان جو وعدہ ان سے کرتا ہے سب دھوکہ ہے۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر ﷺ تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے۔

63۔ 65:۔ جب شیطان نے اللہ پاک سے بنی آدم کے بہکانے کی درخواست کی تو اللہ پاک نے اس کی درخواست کو قبول کیا اور جس وقت اسرائیل پہلی دفعہ صور پھونکیں گے اس وقت تک شیطان کو مہلت دی گئی اس کی غرض یہ تھی کہ نفخہ ثانیہ تک مہلت مل جاتی ‘ کیونکہ نفخہ ثانیہ کے بعد پھر کسی کو موت نہیں ہے مگر اللہ پاک نے اس مدت کی مہلت نہیں دی اور شیطان اور شیطان کی پیروی کرنیوالوں کے لیے جہنم کی سزا مقرر کر کے فرما دیا کہ جہاں تک تیرا زور چلے اور جتنا تجھ سے ممکن ہو بنی آدم کو بہکا اور کجرو بنا اور خدا کی نافرمانی کی طرف ان کو بلا پھر فرمایا کہ بنی آدم کے بہکانے کے واسطے چاہے تو اپنے سوار اور پیادوں کو چڑھا لا مطلب یہ ہے کہ جتنی تجھ کو قدرت ہو اتنا مکر و فریب کر کے ان کو بہکا یہ امر دارصل دھمکانے کے واسطے ہے جس طرح یوں کہا کرتے ہیں کہ اچھا جا جو کچھ تجھ سے بن سکے کر اور فرمایا کہ جا ان کے مال واولاد میں شراکت کر شراکت مال کی تو یہ ہے کہ مال اس طرح پر حاصل کیا ہو جس میں شرع کی مخالفت پائی ہو اور خرچ بھی ایسے ہی موقع ومحل پر کیا جائے جس میں اجازت شرعی نہیں ہے اور اولاد میں شیطان کی شراکت یہ ہے کہ مثلا ان کے نام ایسے رکھنا جو شرع میں ناجائز ہیں جیسے عبد الحارث وغیرہ یا ان کو خلاف شرع باتوں سے نہ روکنا۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابویرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا شیطان آدمی کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ سب چیزیں تو اللہ نے پیدا کیں لیکن یہ نہیں معلوم ہوا کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا 1 ؎۔ قل اعوذ برب الناس میں آوے گا کہ وسوسہ کے معنے اس دبی ہوئی ہلکی آواز کے ہیں جس آواز سے شیطان آدمی کے دل کے پاس گنگنا کر آدمی کو بہکاتا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر بن عبداللہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ شیطان اپنا تخت سمندر کے پانی پر بچھا کر خود تو اس تخت پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے شیاطینوں کو اولاد آدم کے بہکانے کے لیے بھیج دیتا ہے۔ آیتوں میں شیطان کی آواز اور اس کے سوار اور پیادوں کا جو ذکر ہے اس کا مطلب ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان دبی آواز سے آدمی کے دل میں وسوسہ ڈالنے کے لیے اپنے شیاطینوں کو سوار پیدل جس طرح مناسب سمجھتا ہے بھیجتا رہتا ہے۔ سورة ابراہیم ( علیہ السلام) میں گذر چکا ہے کہ قیامت کے دن شیطان اس بات کا اقرار کرے گا کہ جن وعدوں سے وہ دنیا میں لوگوں کو بہکاتا تھا اس کے وہ سب وعدے جھوٹے ہیں۔ ترمذی نسائی صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم کی روایت سے حارث ؓ اشعری کی صحیح حدیث ایک جگہ گز چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس طرح کسی مضبوط قلعہ میں چلے جانے سے کوئی لشکر دشمن کے حملہ سے محفوظ ہوجاتا ہے اسی طرح یاد الٰہی میں مصروف رہنے والے نیک لوگ شیطان کے پھندے سے بچے رہتے ہیں 3 ؎۔ کیونکہ ذکر الٰہی سے شیطان دور بھاگتا ہے۔ یہ حدیث آخری آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یاد الٰہی میں مصروف رہنے والے بندے اللہ سے نزدیک اور شیطان کی حکومت سے دور رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ہر ایک نیک ارادہ پورا کر کے عقبیٰ کے اجر کا ان کا ہر ایک کام بنا دیتا ہے۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 18 باب فی الوسوستہ۔ 2 ؎ تفسیر ہذاص 294 ج 3۔ 3 ؎ تفسیر مذاص 368‘ 369 ج 3۔
Ayah 17:66

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اسکے فضل سے (روزی) تلاش کرو۔ بیشک وہ تم پر مہربان ہے

66:۔ اللہ پاک نے اوپر کی آیت میں بندوں کے کام بنانے کا ذکر فرما کر اب یہ باین کیا کہ تمہارا رب وہ ہے کہ تم مشرک ہو اور وہ تمہاری کشتیوں کو بڑے بڑے دریاؤں میں چلاتا ہے ہوا کہ موافق بنا دیتا ہے اور تم ان کشتیوں اور جہازوں میں بیٹھ کر اپنی روزی کی جستجو میں تجارت کے خیال سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہو وہ کیسا تم پر مہربان ہے کہ تمہاری آسائش کے لیے یہ سامان بنا رکھا ہے اگر کشتیاں نہ پیدا کرتا جہاز رانی کا علم تمہیں نہ سکھاتا اور ہوا کو تمہارے مقصود کے موافق نہ کرتا تو تمہارا ایک شہر سے دوسرے شہر میں کشتی پر جانا سخت مشکل تھا پھر تمہاری تجارت اور کاروبار میں سخت ابتری پھیلتی غرض کہ اللہ پاک نے اس آیت میں اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ ہر کام میں خدا ہی پر بھروسہ کریں اور اسی کو کل امور میں کام بنانے والا سمجھیں اور خاص اسی کی بندگی کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں کیونکہ انسان کے فائدے اور نقصان میں سوا خدا کے اور کسی کو ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرک لوگوں کے رزق کے انتظام میں کچھ خلل نہیں ڈالتا یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بردباری ہے 1 ؎۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے یہ مشرکین مکہ اگرچہ کشتی کے ڈوبنے کے خوف سے خال اللہ کو اپنا معبود قرار دے کر خشکی میں آجانے کے بعد پھر شرک میں گرفتار ہوجاتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے ان لوگوں کے اس تجارت کے سفر میں کچھ خلل نہیں ڈالا۔ 1 ؎ تفسیر ہذاص 50 ج 3۔