Ayah 17:6767:۔ اللہ پاک نے اس آیت میں انسان کی ناشکری کا حال بیان فرمایا کہ جب انسان کو کسی مصیبت سے پالا پڑتا ہے تو فقط خدا ہی یاد آتا ہے اور جب وہ مصیبت ٹل جاتی ہے وہی پہلی نافرمانیاں پھر کرنے لگتا ہے اور اسے یہ بھی تو یاد نہیں رہتا کہ اس پر کوئی وقت آیا تھا اور اس نے خدا کو پکار کر اس سے مدد چاہی تھی غرض کہ یہ لوگ پرلے درجے کے ناشکرے ہیں اور تم جان لیتے ہو کہ اب ہم سب کے سب ڈوبے اور اس مرنے کے خیال کے آتے ہی اپنے سارے جھوٹے معبودوں کو بالکل بھول جاتے ہو اور نرے اللہ وحدہ لاشریک سے مدد چاہتے ہو اللہ پاک تمہاری منت وعاجزی پر رحم کھا کر گرداب بلا سے کشتیاں پار لگا دیتا ہے پھر تم خدا کو ایسا بھول جاتے ہو گویا کبھی یاد ہی نہیں کیا تھا۔ عکرمہ بن ابی جہل کا واقعہ ہے کہ جب یہ فتح مکہ کے دن حضرت صلعم سے ڈر کر بھاگے تو کشتیوں پر سوار ہو کر دریا کی راہ سے ملک حبشہ جانے لگے پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک تیز ہوا آئی جس سے کشتی تہ وبالا ہونے لگی کشتی پر جو لوگ سوار تھے وہ کہنے لگے کہ اب سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ نرے اللہ کو پکار کر مدد چاہو عکرمہ ؓ نے اس بات کو سن کر دل میں خیال کیا کہ اگر سوا اللہ کے اور کوئی دریا میں کچھ نفع نہیں دیتا تو خشکی میں بھی اور کوئی کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور پھر یہ بات کہی کہ اے اللہ میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر تو مجھ کو دریا سے صحیح وسالم نکال لایا تو میں محمد ﷺ کے پاس جاکر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دونگا غرض کہ کشتی پار ہوگئی اور سب لوگ بچ گئے عکرمہ اپنے عہد کے موافق آنحضرت ﷺ کے پاس آکر مسلمان ہوگئے اور بہت اچھے پکے مسلمان ہوئے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے صہیب ؓ رومی کی ایک حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ایماندار لوگ تکلیف و راحت کسی حال میں اللہ تعالیٰ کو نہیں بھولتے تکلیف کے وقت اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق صبر کرتے ہیں اور راحت کے وقت شکر 1 ؎۔ اس لیے ایماندار لوگوں کے لیے ہر حال میں بہتری ہے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب ہوا کہ مصیبت اور تکلیف کے وقت تو مشرک لوگ بھی اللہ کو یاد کرتے ہیں مگر تکلیف و راحت ہر حال میں اللہ کو یاد رکھنا یہ ایمانداروں کا کام ہے ہر ایماندار آدمی کو راحت کے وقت شریعت کے اس قاعدہ کی پابندی ضروری ہے کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ کو اس کا بڑا خوف تھا کہ آپ ﷺ کی امت کے لوگوں سے راحت کے وقت اس قاعدہ کی پابندی نہ ہوسکے گی چناچہ صحیح بخاری ومسلم 2 ؎ میں عمرو بن عوف ؓ انصاری سے اور فقط صحیح مسلم 3 ؎ میں ابوہررہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے اس خوف کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔
1 ؎ تفسیر ہذاص 17 ج 3۔
2 ؎ تفسیر ہذاص 18 ج 3۔
3 ؎ مشکوٰۃ ص 440 کتاب الرقاق۔
Ayah 17:6868۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے بیان فرمایا تھا کہ انسان جب دریا میں کشتی پر سوار ہوتا ہے اور تیز ہوا میں کشتی تہ وبالا ہونے لگتی ہے تو صرف خدا ہی کو لوگ یاد کرنے لگتے ہیں اس وقت کسی اور اپنے جھوٹے معبود کو نہیں پکارتے پھر جب اللہ پاک ان کی فریاد سن کر ان پر رحم کرتا ہے اور صحیح و سلامت خشکی پر ان کو پہنچاتا ہے تو پھر یہ لوگ خدا کو بھول جاتے ہیں ذرا بھی خیال نہیں رہتا کہ خدا کو کبھی یاد کیا تھا بالکل بےخوف ہوجاتے ہیں خدا کے عذاب کا ذرا بھی ڈر ان کے دل میں نہیں ہوتا یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ جو دریا میں غرق کرنے پر قادر ہے وہ کیا خشکی میں ہلاک کرنے پر قدرت نہیں رکھتا۔ غرض کہ اللہ پاک نے اسی بات کو بیان فرمایا کہ لوگ کیا بےخوف ہوگئے ہیں انہیں اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ خدا چاہے تو زمین میں انسان کو دھنسا دے اور اگر چاہے آسمان سے سنگ ساری اور برف باری کرے کہ لوگ اپنی اپنی جگہ مر کر رہ جاویں اور اس مصیبت اور عذاب سے بچانے والا انہیں کوئی میسر نہ آوے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی وہ روایت سورة الانفال میں گزر چکی ہے جس میں ابوجہل نے یہ کہا تھا کہ اگر یہ دین اسلام سچا ہو اور ہم لوگ اس کو نہ مانتے ہوں تو یا اللہ ہم پر پتھروں کا مینہ برسا اور کوئی سخت عذاب نازل کر 1 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی وہ حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا نافرمان لوگوں کو اللہ تعالیٰ ایک عرصہ تک مہلت دیتا ہے اور مہلت کے زمانہ میں جب وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے 2 ؎۔ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کو وہ دھمکی دی جس کا ذکر آیت میں ہے اور مشرکوں نے عذاب کے نازل ہونے کی خواہش بھی کی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی عادت کے موافق ان لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور نافرمانی سے باز نہیں آئے تو بدر کی لڑائی میں ان کے بڑے بڑے سرکشوں کی ساری سرکشی خاک میں مل گئی جس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک ؓ کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکا ہے 3 ؎۔
1 ؎ نیز دیکھئے تفسیر ابن کثیرص 304 ج 2۔
2 ؎ مثلا تفسیر ہذاص 53 ج 3۔
3 ؎ مثلا تفسیر ہذاص 352 ج 3۔
Ayah 17:6969:۔ اوپر فرمایا تھا کہ تم دریا سے خشکی میں آکر خدا کی نعمت کو بھول جاتے ہو اور اس کی ناشکری کرتے ہو اور اس بات کا ذرا خوف نہیں کرتے کہ وہ جس طرح دریا میں تمہاری کشتیوں کو دبا کر تمہیں غرق کرسکتا تھا اسی طرح وہ خشکی میں بھی تمہیں دھنسا سکتا ہے اور تم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کرسکتا ہے اب اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اگر ان باتوں سے بھی تم نڈر ہو تو کیا اس کا بھی تمہیں خوف نہیں رہا کہ پھر کبھی جب تم دریا میں کشتیوں پر سوار ہو کر جاؤ تو تیز ہوا ایسی چلے کہ تمہاری کشتیوں کا تختہ تختہ الگ ہوجائے اور تمہاری ناشکری اور کفران نعمت کے پاداش میں تمہیں غرق دریا کردے اور جب تم دریا میں بےدست وپا ہو کر ڈوب جاؤ تو کوئی حمایت کرنے والا تمہاری طرف سے نہ کھڑا ہو کیونکہ خداوند پاک اکیلا دونوں جہان میں جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے اس سے کوئی شخص کسی بات کا سوال نہیں کرسکتا۔ یہ دوسری دھمکی قریش کو دی گئی ہے۔ جو حدیثیں اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزریں وہی حدیثیں اس آیت کی تفسیر ہیں اور اس تفسیر کا حاصل بھی وہی ہے جو اوپر کی آیت کی تفسیر میں بیان کیا گیا۔
Ayah 17:7070۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اس احسان کا ذکر فرمایا جو انسان کو اپنی اور دوسری مخلوق پر فضیلت دی ہے کہ خشکی میں طرح طرح کی سواریاں اسی انسان کے واسطے بنائی ہیں دوسری مخلوق اس سے بالکل بےبہرہ ہے اور جس طرح انسان خشکی میں سواریوں پر سوار ہو کر سیر کرتا ہے ادھر ادھر جاتا ہے اسی طرح دریا میں بھی اس کے واسطے سواری کا انتظام کیا گیا ہے کہ کشتی پر بیٹھ کر انسان دریا کا سفر کرتا ہے۔ دوسری کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو دریا کا سفر اس طرح کرتی ہو یہ انسان کی سواری کا حال تھا اب اس کی روزی کو دیکھئے دوسری مخلوق جانور وغیرہ کو اس کی ذرا بھی تمیز نہیں کہ اپنی روزی صاف ستھری بنا کر کھاویں انسان کو وہ عقل اور وہ صفائی اور نفاست دی کہ غذا کو بھوسی وغیرہ سے پاک صاف کر کے پیس کوٹ کر پکا کر کھاتا ہے میوہ کھاتا ہے تو گٹھلی پھینک دیتا ہے غرض کہ ان سب امور پر نظر کرکے دیکھئے تو خدا نے انسان کو اپنی بہت سی مخلوق پر ایک فضیلت دی ہے۔ فرمایا جنت میں جو نعمتیں فرمانبردار لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں دنیا میں وہ نعمتیں نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے 1 ؎۔ سورة والصافات میں آوے گا کہ دوزخیوں کو سینڈہ کا پھل کھلایا جاویگا ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اس سینڈہ کے عرق کا ایک قطرہ زمین میں آن پڑے تو تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی میں خلل پڑجاوے 2 ؎۔ سورة والصافات کی آیتوں اور ان حدیثوں کو اس آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انسان کی جس فضیلت کا ذکر آیت میں ہے اس فضیلت کی شکریہ میں جن لوگوں نے اپنی عمر اللہ تعالیٰ کی فرما نبر داری میں گزاری عقبیٰ میں ان کو وہ فضیلت دیجائے گی کہ اس کا حال دنیا میں نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھا نہ کانوں سے سنا نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزر سکتا ہے اور جن لوگوں نے اس دنیا کی فضیلت کی ناشکری کی اور اپنی تمام عمر نافرمانی میں گزاری وہ دنیا میں چند روزہ اس فضیلت کو برت لیویں مگر عقبیٰ میں طرح طرح کے اور عذابوں کے علاوہ کھانے کے لیے ان کو وہ چیز ملے گی جس کے عرق کا ایک قطرہ تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی میں خلل ڈال سکتا ہے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 495 باب صنقہ الجنہ واہلہا۔
2 ؎ ترمذی ص 82 ج 2 باب صنقہ شراب ابل النار۔
Ayah 17:7171:۔ اس آیت کی تفسیر میں علماء مفسرین نے لفظ امام کے مختلف معنے لیے ہیں لیکن نامہ اعمال کے لفظ کے ساتھ لفظ امام کی تفسیر کا کرنا زیادہ صحیح ہے کس واسطے کہ یہ تفسیر ترمذی اور مسند بزار وغیرہ میں خود آنحضرت ﷺ سے آچکی ہے چناچہ ابوہریرہ ؓ سے ترمذی مسند بزار اور صحیح ابن حبان میں معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بعضے لوگوں کو بلا کر ان کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا جس سے ایسے شخص کے منہ پر ایک طرح کا نور آجائے گا اس شخص کے سر پر ایک تاج رکھ دیا جائے گا جس جماعت سے یہ شخص بلایا گیا تھا اس جماعت میں واپس آن کر باقی کے لوگوں کو خوشخبری دیوے گا کہ ہماری ساری جماعت کے لوگوں کے ساتھ یہی معاملہ پیش آئے گا اور جماعت کے لوگ اس کو نجات کی مبارک بادی دیویں گے اور بعضے لوگوں کو ایک جماعت میں سے ہر ایک شخص کو بلا کر بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا جس سے اس شخص کا منہ کالا ہوجائے گا اور یہ شخص جس جماعت میں سے گیا تھا اس جماعت میں آنا چاہے گا تو باقی کے لوگ اس کو جھڑکیں گے کہ ہماری جماعت میں مت آؤ وہ جماعت والوں کو چھیڑے گا اور کہے گا جو میرا حال ہوا ہے وہی ساری جماعت کا حال ہونیوالا ہے 1 ؎۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے یہ حدیث ولا یظلمون فتیلا کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر حرام ٹھہرا لیا ہے اس واسطے قیامت کے دن اعمالناموں کے موافق جزا وسزا ہوگی کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔ شاہ صاحب نے ترجمہ میں امام کے معنے سردار کے جو قرار دیئے ہیں وہ مجاہد کے قول کے موافق ہیں باقی کے دونوں ترجموں میں بھی یہی مجاہد کا قول لیا گیا ہے اور حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اسی قول کو ترجیح دی ہے لیکن اوپر ابوہریرہ ؓ کی حدیث جو گذری حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے 3 ؎۔
1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 194 ج 4۔
2 ؎ تفسیر ہذاص 34 ج 3۔
3 ؎ فتح البیان ص 804 ج 2۔
Ayah 17:7272:۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے یہ بات بیان فرمائی تھی کہ آخرت میں جن لوگوں کے داہنے ہاتھ میں عمل کا کاغذ ہوگا وہ تو خوش ہو ہو کر پڑھیں گے اور دوسروں کو دکھلائیں گے۔ یہ لوگ وہ ہیں جن کے اعمال نیک ہیں اب بائیں ہاتھ میں جن کے نامہ اعمال دیئے جائیں گے ان کے حق میں یہ آیت ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں راہ حق سے دور رہے اور اچھے برے میں انہوں نے تمیز نہیں کی گویا اندھے تھے کہ خدا کی ظاہر قدرت کو بھی دیکھ کر ایمان نہیں لائے۔ آسمان و زمین دریا پہاڑ اور بہتیری مخلوق خدا نے بنائی ہے وہ کل خدا کی توحید ثابت کر رہی ہے ان میں کسی ایک کے دیکھنے سے بھی راہ یاب نہ ہوئے ایسا شخص آخرت میں اندھا ہوگا بلکہ اور بھی گمرا ہوگا کیونکہ اگر وہاں غور وفکر کرنے پر ایمان کا ارادہ کرے گا تو کچھ حاصل نہ ہوگا سورة الحاقہ میں آئے گا کہ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جاویں گے وہ کہیں گے ہمارا نامہ اعمال اگر ہم کو نہ دیا جاتا تو اچھا ہوتا۔ سورة الحاقہ کی آیتوں سے اس آیت کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ اندھوں کی طرح نامہ اعمال کے پڑھنے سے گھبرائیں گی اس واسطے ان کو اندھا فرمایا۔ سورة الحاقہ کی آیتوں میں یہ بھی ہے کہ نامہ اعمال کے بائیں ہاتھ میں دیتے ہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہوجائے گا کہ یہ لوگ دوزخی ہیں اس لیے ان لوگوں کو بہشت کی راہ سے دور فرمایا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی 1 ؎ کہ جو بائیں ہاتھ کے اعمالنامہ والے اپنے گناہوں کا انکار کریں گے ان کے منہ پر خاموشی کی مہر لگائی جاکر ان کے ہاتھ پیروں سے سارے گناہوں کی گواہی ادا کرائی جائے گی اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس سے گناہوں کے منکر بائیں ہاتھ کے اعمالنامے والے لوگوں کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 409 ج 2 فی بیان ان الا عضاء منطقتہ شاہدۃ الخ۔
Ayah 17:7373: تفسیر ابن ابی حاتم میں جو روایت ہے اس میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس آیت کی شان نزول میں یوں فرماتے ہیں کہ امیہ بن خلف اور ابوجہل بن ہشام اور چند اشخاص قریش آنحضرت کے پاس آئے اور کہا کہ آپ ہمارے بتوں کو چھو لیں تو ہم آپ کے دین میں داخل ہوجائیں گے 1 ؎۔ مشرکین مکہ کی یہ خواہش ایسی تھی جس طرح کی ان کی ایک خواہش کا ذکر سورة یونس میں گزارا کہ وہ قرآن کی آیتوں کو بدل دینا چاہتے تھے شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں مشرکوں کی اس خواہش کا ذکر کیا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے 2 ؎۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے مکہ کے سب بتوں کو لکڑیاں مار مار کر زمین میں گرا دیا اور کوئی مشرک اپنے بتوں کی حمایت نہ کرسکا 3 ؎۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اے رسول اللہ کے اگرچہ یہ مشرک لوگ قرآن کی آیتوں کے بر خلاف تم سے اپنے بتوں کی بیجا عزت اور توقیر کرنا چاہتے ہیں اور ان کے دل میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ان کا کہا مان لو تو بجائے دشمن کے یہ لوگ تمہارے دوست بن جائیں لیکن اللہ تعالیٰ کے کار خانہ میں ہر کام کا وقت لوح محفوظ میں لکھا جاچکا ہے وقت مقررہ کے آنے تک یہ مشرک اپنی بیجا خواہشیں زبان پر لاتے ہیں وقت مقررہ کے آجانے پر تمہارے ہی ہاتھ سے اللہ تعالیٰ ان بتوں کی سب عزت و توقیر خاک میں ملا دے گا اور ان مشرکوں سے ان بتوں کی کچھ حمایت نہ ہوگی۔
1 ؎ تفسیر الدر المثنور ص 194 ج 4۔
2 ؎ تفسیر بہذاص 30 ج 3۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 614 ج 6 باب ابن رکز النبی ﷺ الرایتہ یوم الفتح۔
Ayahs 17:74–7574۔ 75:۔ تفسیر ابن ابی حاتم، تفسیر ابن مردویہ اور تفسیر ابوالشیخ میں سعید ؓ بن جبیر سے جو شان نزول اس آیت کی اور اوپر کی آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ کو حجر اسود کو ہاتھ لگاتے اور چھوتے ہوئے دیکھ کر یہ کہا کہ جس طرح ایک پتھر حجر اسود ہے ویسا ہی ہمارے بت پتھر ہیں اگر ایک دفعہ آپ ہمارے بتوں کو حجر اسود کے چھونے کی طرح ہاتھ لگا لیویں تو ہم آپ کو حجر اسود کو آئندہ چھونے دیں گے ورنہ ہم حجر اسود کو بھی آپ کو ہاتھ نہ لگانے دیں گے 1 ؎۔ مشرکین کی یہ بات سن کر آپ کے دل میں ایک وسوسہ اور پس وپیش تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا پس وپیش رفع کرنے اور مشرکوں کے بہکاوے سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ آیتیں نازل فرمائیں اس شان نزول کی سند میں کسی طرح کا کلام نہیں ہے اور ابن ابی حاتم کا اس شان نزول کو اپنی تفسیر میں ذکر کرنا بھی ایک رفع وسوسہ کی بات ہے ‘ کیونکہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودّ ؓ کی دو روایتوں کے بعضے طریق جن میں کچھ تردد تھا ان کو ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر کی صحت کے خیال سے خود چھوڑ دیا ہے یہ وہ طریق ہیں جن کو حاکم نے اپنی مستدرک کی کتاب التفسیر میں لیا ہے اور ابن ابی حاتم نے چھوڑ دیا ہے اسی واسطے ابن ابی حاتم کی تفسیر کا درجہ مستدرک حاکم سے زیادہ شمار کیا جاتا ہے جلال الدین سیوطی نے اتقان میں اس بحث کو تفصیل سے لکھا ہے۔
اور اسباب نزول میں اس شان نزول کے راویوں کی ثقاہت بھی بیان کی ہے معالم التنزیل میں بغوی نے بھی اس شان نزول کو ذکر کیا ہے اور جامع البیان ‘ خازن وغیرہ میں بھی یہ شان نزول ہے صحیح مسلم میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں کے رسول ﷺ نے فرمایا ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات ہے۔ فرشتہ نیک کاموں کی ترغیب دلاتا رہتا ہے اور شیطان برے کا موں کی۔ اس پر صحابہ ؓ نے پوچھا کہ کیا حضرت آپ کے ساتھ بھی شیطان تعینات ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ہے تو سہی مگر اللہ کی مدد سے مجھ کو وہ نیک کام کا مشورہ دیتا رہتا ہے۔ کسی برے کام کی ترغیب نہیں دلا سکتا 2 ؎۔ یہ حدیث ولو لا ان ثبتناک کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے تمہارے ساتھ شیطان جو تعینات ہے اگر اللہ اس کو برے کام کی ترغیب سے روک کے اس سے فرشتہ کا کام نہ لیتا تو تم مشرکوں کا کہنا ماننے کی طرف کسی قدر مائل ہوجاتے لیکن اللہ کے انتظام نے تم کو اس چوک سے اس لیے بچایا کہ انبیاء کے مرتبہ کے موافق جس طرح ان کے نیک کاموں کا اجر اللہ کی بارگاہ میں زیادہ ہے اسی طرح ان کی چوک کی پکڑ بھی زیادہ ہے اور اس کی پکڑ سے کوئی کسی کو چھڑا نہیں سکتا۔
1 ؎ تفسیر الدر المتثور ص 194 ج 4۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 18 باب فی الوستہ۔
Ayahs 17:76–7876۔ 77:۔ بیہقی کی دلائل النبوت میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں جو شان نزول اس آیت کی سعید ؓ بن جبیر کی روایت سے بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت اور مدینہ منورہ میں آجانے کے بعد یہود نے آپ کو ملک شام میں رہنے کی ترغیب دی اور آپ نے اس ترغیب پر تبوک کے سفر کا ارادہ کیا اس پر مقام تبوک میں یہ آیت نازل ہوئی ہے 1 ؎۔ لیکن ابو عیسیٰ ترمذی نے آیت وقل رب ادخلنی کی جو شان نزول بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے 2 ؎، اور مشرکین مکہ نے ہجرت سے پہلے جو آپ کو تکلیفیں دی تھیں اس پر یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔ حافظ ابو جعفر ابن جریر اور حافظ ابن کثیر نے اسی بات کو قوی ٹھہرایا ہے کہ یہ آیت مکی ہے 3 ؎۔ اور مشرکین مکہ نے ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ کو طرح طرح کی تکلیفیں جو دی تھیں ان کے ہی ذکر میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اس واسطے یہی شان نزول صحیح ہے اس لیے کہ ترمذی کی روایت ابن ابی حاتم اور بیہقی کی روایت پر بلاشک مقدم ہے علاوہ اس کے تفسیر عبدالرزاق میں یہ دوسری شان نزول کی روایت قتادہ کی روایت سے ہے اور اس تفسیر میں یہ بات ایک جگہ گزر چکی ہے کہ عبدالزاق کی یہ تفسیر ان کے نابینا ہونے سے پہلے کی ہے اور ان کے نابینا ہونے سے پہلے ان کی تصنیفات کو امام بخاری نے معتبر ٹھہرایا ہے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے یہ مشرکین مکہ تم کو طرح طرح کی تکلیفیں دے کر مکہ کی سکونت سے گھبراہٹ میں جو ڈال رہے ہیں یہ ان کے ہی حق میں برا ہے کیونکہ اگر یہ لوگ تم کو مکہ سے نکال دیں گے تو پھر یہ لوگ بھی بہت دنوں تک مکہ میں نہ رہ سکیں گے کس لیے کہ اللہ کے انتظام میں یہ دستور پڑا ہوا ہے کہ قوم کے لوگوں میں سے جب اللہ کے رسول علیحدہ ہوجاتے ہیں تو پھر قوم کے لوگوں پر کچھ نہ کچھ آفت آجاتی ہے اور اللہ کے انتظام میں جو دستور پڑا ہوا ہے اس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ صحیح سند سے ترمذی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب مشرکین مکہ نے اللہ کے رسول ﷺ کو مکہ سے مدینہ کی ہجرت کا حکم ہوا 4 ؎، ہجرت کے ڈیڑھ برس کے بعد بدر کی لڑائی پیش آئی اور اس لڑائی میں اللہ کے رسول کے بڑے بڑے ستانے والوں پر جو آفت آئی صحیح بخاری ومسلم کی انس ؓ بن مالک کی روایت کے حوالہ سے یہ قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں بڑی ذلت سے یہ لوگ مرگئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوئے جس عذاب کے جتلانے کو اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پایا 5 ؎۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں اور حدیثوں کو ملا کر قرآن شریف کا یہ معجزہ ثابت ہوتا ہے کہ انتظام الٰہی کے موافق جس دستور کا ذکر آیتوں میں تھا۔ ہجرت کے ڈیڑھ برس کے بعد بالکل اس کے موافق ظہور ہوا کہ اللہ کے رسول کے بڑے بڑے ستانے والوں کو مکہ سے نکل کر مکہ میں پھر کر جانا نصیب نہ ہوا اس آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہے سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیر تک میں چار نمازیں ہیں اور صبح کی نماز کا الگ ذکر ہے کس واسطے کہ اگرچہ فرشتے جو لوگوں کے نامہ اعمال لکھنے اور آدمی کی حفاظت کرنے کے لیے مقرر ہیں ان کی چوکی عصر کے وقت اور صبح کے وقت بدلتی رہتی ہے اور عصر اور صبح دونوں نمازوں کے وقت دونوں چوکیوں کے فرشتے ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں لیکن صبح کی نماز کے وقت پکار کے قرآن شریف پڑھا جاتا ہی اور اس کو بڑے شوق سے دونوں چوکیوں کے فرشتے سنتے ہیں اس لیے یہ فرمایا کہ صبح کی نماز کی قرأت سننے کو فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں صرف صبح کی نماز کی قرأت سننے کو فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں صرف صبح کی نماز کے وقت اور دوسری روایت میں عصر اور صبح دونوں نمازوں کے وقت فرشتوں کے جمع ہونے کا جو ذکر ہے 6 ؎ اس کا سبب یہی ہے کہ جہاں قرأت سننے کا ذکر ہے وہاں حضرت ابوہریرہ ؓ نے صرف صبح کی نماز کا ذکر کیا ہے اور جہاں محض فرشتوں کے جمع ہونے کا ذکر ہے وہاں انہوں نے دونوں نمازوں کا نام لیا ہے جن علماء کی سمجھ میں یہ سبب اچھی طرح نہیں آیا تھا انہوں نے ان دونوں روایتوں کے اختلاف طرح طرح کے اعتراض کیے ہیں اور ان اعتراضوں کے جواب حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں تفصیل سے دیے ہیں ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں ایک بڑی عمدہ قابل قدر بات لکھی ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہر رات کو یچھلی رات سے صبح تک اللہ تعالیٰ کا آسمان اول پر نزول فرمانا اور قبول دعا اور مغفرت کا وعدہ فرمانا جو ثابت ہوا ہے اس سے حافظ ابن جریر نے یہ بات نکالی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بندہ کو قرأت قرآن صبح کے وقت جو ایک قرب خاص ہے وہ قرب اور وقت میسر نہیں ہوسکتا اس لیے صبح کی نماز کی قرأت قرآن کو ایک خاص شرف ہے اور بعد فرض نماز کے سب نفلوں میں افضل تہجد کی نماز ہے اس واسطے فرض نماز کے بعد اللہ تعالیٰ نے تہجد کی نماز کا ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا بعد نماز فرض کے کون سی نماز افضل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تہجد افضل ہے 7 ؎۔ فتھجد بہ اور قم اللیل کے خطاب سے جمہور سلف کا مذہب یہی ہے کہ تہجد کی نماز فقط اللہ کے رسول (e) پر فرض تھی امت کے لوگوں پر نہ پہلے فرض تھی نہ اب ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں زید ؓ بن ثابت سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک رمضان میں تین راتوں تک صحابہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھنے آئے پھر چوتھی رات کو اللہ کے رسول ﷺ حجرہ سے مسجد میں تشریف نہیں لائے اور صبح کو صحابہ ؓ سے فرمایا مجھ کو تم لوگوں کا آج کی رات کا آنا بھی معلوم تھا مگر میں اس خوف سے باہر نہیں آیا کہ کہیں تم پر تہجد کی نماز فرض نہ ہوجائے 8 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم میں طلحہ ؓ بن عبید اللہ کی دوسری حدیث ہے جس میں فرض نمازوں کا ذکر کرتے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے تہجد کا ذکر نہیں کیا 9 ؎۔ ان حدیثوں سے جمہور کے مذہب کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ امت پر تہجد کی نماز فرض ہوتی تو اللہ کے رسول یہ نہ فرماتے کہ مجھ کو اس کے فرض ہوجانے کا خوف تھا اور فرض نمازوں کے تذکرہ میں آپ ضرور اس نماز کا ذکر بھی فرماتے۔ زیادہ تفسیر اس مسئلہ کی سورة المزمل میں آوے گی۔ ان حدیثوں کے موافق نافلۃ لک کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہی کی ہے کہ تہجد کی نماز فقط اے اللہ کے رسول تم پر فرض ہے امت کے لوگوں پر نہیں۔
1 ؎ تفسیرابن کثیر ص 53 ج 3۔
2 ؎ جامع ترمذی ص 142 ج 2 کتاب التفسیر۔
3 ؎ تفسیرابن کتیرص 53 ج 3۔
4 ؎ جامع ترمذی ص 142 ج 2 کتاب التفسیر 12۔
5 ؎ تفسیر ہذاص 23 ج 3 ج 3۔
6 ؎ تفسیر ابن کثیرص 54 ج 3۔
7 ؎ تفسیر ابن کثیرص 54 ج 3۔
8 ؎ مشکوٰۃ ص 114 باب قیام شہر رمضان۔
9 ؎ مشکوٰۃ ص 13 کتاب الایمان۔
Ayah 17:7979:۔ معتبر سند سے مسند امام احمد اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت مقام محمود سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا کہ یہ وہ مقام ہے جو خدا کی طرف سے تمہارے نبی کو شفاعت کی دعا کرنے کے لیے ملا ہے 1 ؎۔ مسند امام احمد میں کعب بن مالک ؓ کی ایک روایت 2 ؎ بھی اسی مضمون کی ہے اس کی سند بھی معتبر ہے اور صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام عرش معلی کے نیچے ہے مسلم وغیرہ کی صحیح حدیثوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے 3 ؎، کہ قیامت کے دن آنحضرت ﷺ شفاعت پہلے میدان محشر میں عام خلق اللہ کے لیے اس وقت ہوگی جب ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آفتاب کے آجانے اور دوزخ کے میدان محشر میں لانے سے تمام اہل محشر گرمی اور پسینہ سے بہت تکلیف میں ہوں گے اور حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ تک سب انبیاء کے پاس وہ لوگ شفاعت کی غرض سے جاویں گے اور سب انبیاء خدا کے غصہ سے ڈر کر شفاعت سے انکار کریں گے اور کہیں گے آج وہ دن ہے کہ کسی دوسرے کی شفاعت تو درکنار ہمیں اپنی ہی جان کا اندیشہ ہے پھر جب وہ لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آویں گے تو آپ شفاعت کا ذمہ لیں گے اور مقام محمود میں جاکر سجدہ کریں گے اور شفاعت کی التجا کریں گے اللہ تعالیٰ آپ کی التجا کو قبول کرے گا یہ شفاعت اس بات کی ہوگی کہ لوگوں کا حساب و کتاب ہو کر اعمال کے موافق سزا وجزا ہوجائے اور میدان محشر سے لوگوں کا چھٹکارہ ہو اس شفاعت کو شفاعت عامہ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ شفاعت امت محمدی کے لیے خاص نہیں ہے بلکہ تمام اہل محشر کی شفاعت ہے اب اس کے بعد پل صراط پر گزرتے وقت امت محمدی میں کے بعضے گنہگار جو دوزخ میں گر پڑیں گے اور آپ اللہ سے شفاعت کر کے جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہوگا اس کو جنت میں داخل کرا دیں گے یہ دوسری شفاعت ہے جو امت محمد یہ کے لیے خاص طور پر آپ فرمائیں گے یہ دوسری قسم کی شفاعت ملائکہ اور انبیاء اور ہر امت کے نیک لوگ بھی کریں گے مگر پہلی شفاعت آنحضرت ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے اسی دوسری قسم کی شفاعت کا انکار عمرو بن عبید اور اس کے پیرو معتزلے فرقہ نے کیا ہے اور اہل سنت نے ان کا جواب طرح طرح سے دیا ہے فرقہ معتزلہ کے سر کردہ عمرو بن عبید نے جب شفاعت کا انکار کیا تو ثابت بنانی اور بزرگوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص قرآن کی ایک آیت کو چھری سے چھیل رہا ہے جب عمرو بن عبید سے اس خواب کا ذکر آیا تو اس نے جواب دیا کہ جس آیت کو میں چھیلتا ہوں اس سے اچھی آیت اس کی جگہ جماتا ہوں۔ غرض حسن بصری سے منحرف ہونے سے پہلے یہ عمرو بن عبید بڑے زاہد اور عالم مشہور تھے پھر عقیدہ مگر گیا اور واصل بن عطاء اور یہ عمرو بن عبید اپنے استاد حسن بصری منحرف ہوگئے خدا کو بگاڑتے دیر نہیں لگتی نہ بناتے یہ ثابت بن اسلم بنانی ثقہ تابعیوں میں ہیں اور حدیث کی سب کتابوں میں ان سے روایت ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ اور ابو سعید خدری ؓ سے جو روایتیں ہیں 4 ؎، ان میں عام شفاعت اور خاص شفاعت کا ذکر تفصیل سے ہے۔
1 ؎ تفسر بان کثیرص 57 ج 3۔
2 ؎ تفسیرابن کثیرص 57 ج 3۔
3 ؎ تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر بان کثیرص 55۔ 58 ج 3۔
4 ؎ مشکوٰۃ ص 489۔ 49 باب الحوض والشفاعۃ۔
Ayahs 17:80–8180۔ 81:۔ صحیح سند سے ترمذی اور مستدرک حاکم کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت اوپر گزر چکی ہے 1 ؎ جس میں انہوں نے مکہ میں آنحضرت صلعم کے تنگ کرنے کا مشورہ کیا اور چاہا کہ ان کو مکہ سے نکال دیں یا قید کریں تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ آپ یوں دعا کریں جس طرح دعا کا اس آیت میں ذکر ہے اور مکہ سے مدینہ کو چلے جائیں۔ قتاد کہتے ہیں کہ مدخل صدق سے مراد مدینہ ہے اور مخرج صدق مکہ ہے اور سلطانا نصیرا کی تفسیر حسن بصری یہ کہتے ہیں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ملک عرب اور فارس اور روم کافروں سے چھین کر تمہیں دیدویں گے یہ جو ارشاد کیا ہے کہ حق آیا اور باطل گیا اس میں کفار مکہ کے لیے یہ دھمکی ہے کہ ان کے پاس ایسا حق آیا ہے ‘ جس میں ذرا بھی شک وشبہ نہیں ہے۔ بخاری نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ جب فتح مکہ کے وقت مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے آپ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی آپ اس لکڑی سے ان بتوں کو مارتے جاتے تھے زبان سے یوں فرماتے جاتے تھے جاء الحق وزھن الباطل 2 ؎۔ مسلم اور بخاری میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ ہجرت کے ارادہ سے جب میں اور اللہ کے رسول ﷺ مکہ سے نکل کر غار ثور میں گئے تو مشرکین مکہ اللہ کے رسول ﷺ کی تلاش میں ثور پہاڑ پر چڑھے اور میں نے غار میں سے مشرکین کے قدم دیکھے تو مجھ کو بڑا اندیشہ ہوا اور جب میں نے اپنا یہ اندیشہ اللہ کے رسول ﷺ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے میری تسکین کی اور فرمایا کچھ اندیشہ کی بات نہیں اللہ ہماری مدد کو موجود ہے 3 ؎۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے جو دعا اپنے رسول کو بتلائی تھی اس دعا کا اثر اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ مکہ سے نکلتے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی آبرو کا یہ انتظام کیا کہ غار ثور تک پہنچ جانے پر بھی مشرکین کی آنکھوں پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈالا جس سے اللہ کے رسول ان دشمنوں کو نظر نہ آئے اور مدینہ پہنچ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی وہ آبرو بڑھائی کہ دس ہزار آدمیوں کے لشکر سے اللہ کے رسول نے مکہ پر چڑھائی کی اور مکہ فتح ہوگیا۔
حکومت اپنے رسول کو اللہ تعالیٰ نے وہ عطا کی کہ اللہ کے رسول نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار کر مشرکوں کے جھوٹے معبودوں کو زمین پر گرا دیا اور اللہ کے رسول کی حکومت کے آگے کوئی مشرک دم نہیں مار سکا۔ ان آیتوں میں حق کے معنے اسلام کے ہیں اور باطل کے معنے شرک کے کیونکہ جس تاریخ کو اللہ تعالیٰ کی رسول کی زبان پر یہ لفظ تھے اسی تاریخ سے مکہ میں اسلام پھیلا اور شرک مٹا۔
1 ؎ تفسیر جلد ہذاص 57۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 614 ج 2 باب این رکز النبی ﷺ الرایۃ یوم الفتح۔
3 ؎ مشکوٰۃ باب المعنجرات۔
Ayah 17:8282۔ کفر نقاق حسد بغض وغیرہ امراض باطنی کے لیے قرآن شریف کا شفا بخش ہونا تو ظاہر ہے کیونکہ ان امراض باطنی میں سے کوئی مرض ایسا نہ تھا جو قرآن شریف کے نازل ہونے سے پہلے اہل عرب میں نہ تھا قرآن شریف کے طفیل سے ان امراض کے حق میں پھر وہ شفا اہل عرب نے پائی کہ اس شفا کے اثر سے اور ملک کے لوگوں کو بھی ان امراض سے شفا نصیب ہوگئی غرض سوا اس شفا باطنی کے امراض ظاہری کی شفا کی اثر بھی قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ چناچہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ کی جو حدیث ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جب کبھی کوئی مرض ہوتا تھا تو آپ قل ھو اللہ، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر اپنے اوپر دم کیا کرتے تھے 1 ؎، اور الحمد پڑھ کر بچھو جہاں کاٹے وہاں منہ کا لعاب لگانے سے بچھو کا زہر اتر جاتا ہے یہ حدیث بھی بخاری میں ہے 2 ؎۔ اور اس قسم کی بہت سی روایتیں کتب صحاح میں ہیں اور بہت لوگوں کو تجربہ ہے کہ تعویذ کے طور پر لکھ کر باندھنے یا پڑھ کر دم کرنے سے بہت سی آیتوں سے طرح طرح کے امراض کو فائدہ ہوتا ہے۔ تعویذ منتر ان عملیات سے منع ہے جس میں کچھ خلاف شریعت الفاظ ہوں یا ایسے الفاظ ہوں جن کے معنے معلوم نہ ہونے سے ان کے خلاف شریعت ہونے کا دھوکا ہو رہا ہو آیات قرآنی سے تعویذ و منتر کا عمل کرنا جائز بلکہ مستحب ہے لیکن تعویذ منتر میں اتنا عقیدہ ضرور رکھنا چاہیے کہ تعویذ منتر میں خدا اثر دیوے گا تو اثر ہوگا نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ابوداؤد ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی جو حدیث ہے جس میں آپ ﷺ نے تعویذ گنڈے سے منع فرمایا ہے اور تعویذ وغیرہ کو شرک فرمایا ہے 3 ؎ وہ منع اسی تعویذ گنڈے کے حق میں ہے جو خلاف شریعت کسی شر کی الفاظ سے ہو۔ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت جابر کی حدیث اس ممانعت کے بعد کی جو ہے اس میں اس ممانعت کے سبب کی صراحت خود آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے تعویذ گنڈے منتر سے منع فرمانے کے بعد عمرو بن حزم کے کنبے کے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ حضرت ہم لوگوں کو زمانہ جاہلیت کا ایک منتر بچھو کا یاد ہے مگر آپ ﷺ نے اب ایسی باتوں سے منع فرما دیا ہے اس لیے آپ کی اجازت کے بغیر ہم اس منتر کا استعمال نہیں کرسکتے آپ ﷺ نے فرمایا وہ منتر مجھ کو پڑھ کر تو سناؤ جب انہوں نے وہ منتر آپ ﷺ کو سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں تو کچھ ممانعت نہیں ہے 4 ؎۔ اور صحیح مسلم میں دوسری حدیث حضرت عوف ابن مالک ؓ کی ہے اس میں آپ ﷺ نے صاف فرما دیا ہے کہ جس منتر میں کچھ شرک کا خوف نہیں ہے اس کے استعمال میں کچھ حرج نہیں ہے 5 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ ؓ اشعری کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے 6 ؎۔ آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ ایماندار لوگوں کے لیے یہ قرآن اللہ کی رحمت کا سبب ہے اور منکر قرآن لوگوں کے لیے نقصان کا سبب ہے۔ یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایماندار لوگ قرآن کی نصیحت کے موافق عمل کر کے قیامت کے دن اللہ کی رحمت سے اسی طرح فائدہ اٹھائیں گے جس طرح مینہ کے پانی سے اچھی زمین کو فائدہ پہنچتا ہے اور قرآن کے منکر لوگوں کے حق میں قرآن کی نصیحت اس طرح رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے اس لیے نئی نئی آیتوں کے انکار کے سبب سے قیامت کے دن کا عذاب ان کے حق میں روز بروز بڑھتا جاتا ہے جو وقت مقررہ پر ان کو بہت نقصان پہنچائے گا۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 83 کتاب فضائل القرآن۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 258 باب الاجارہ۔
3 ؎ مشکوٰۃ ص 389 بحوالہ سنن ابوداؤد ص 452 ج 2 باب فی تعلیق التمائم۔
4 ؎ مشکوؤۃ ص 388 کتاب الطب والرقی۔
5 ؎ ایضا۔
6 ؎ تفسیر ہذاص 30 ج 3۔
Ayahs 17:83–8483۔ 84:۔ اس آیت میں اللہ پاک نے انسان کی ناشکری کا بیان فرمایا کہ جب ہم انسان پر اپنی نعمت نازل کرتے ہیں اس کو صحت و تندرستی بخشتے ہیں اس کی روزی میں ترقی کرتے ہیں فارغ البالی دیتے ہیں اور وہ وہ انعام اس پر کرتے ہیں جس کا شکر ہر گھڑی اور ہر آن واجب ہوتا ہے تو وہ ہم سے روگردان ہوجاتا ہے اور جب کوئی بلا اس پر نازل ہوتی ہے یا کوئی رنج اسے پہنچتا ہے تو پھر اسے اس بات کی امید نہیں رہتی کہ کبھی یہ سختی کا وقت ٹل جائے گا۔ پھر آنحضرت ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ لوگوں سے کہہ دیں کہ تم ہر ایک آدمی اپنے اپنے طریقہ اور نیت کے موافق عمل کرتے رہو مطلب یہ ہے کہ جس کا نفس پاک وصاف ہے وہ اچھے عمل کرتا ہے اور جس کا نفس ناپاک وخبیث ہے وہ برے عمل کرتا ہے اس میں کفار کی مذمت ہے اور مؤمنین کی تعریف ہے پھر یہ فرمایا کہ اللہ پاک سب کو جانتا ہے کہ کون گمراہی میں ہے اور کون راہ یاب ہے کیونکہ وہ خالق ہر مخلوق کا ہے ہر ایک شخص کے بھید کو جانتا ہے۔ اگرچہ یہ بھی مشرکین مکہ کا حال ہے کہ مثلا کشتی کے ڈوبنے کے خوف کے وقت جب اللہ تعالیٰ سے اس خوف کے ٹل جانے کے التجا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کی وہ آفت ٹال دیتا تھا تو اس تکلیف کے رفع ہوجانے کے بعد راحت کے وقت یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو بالکل بھول جاتے تھے اور اللہ کی مدد پر ان لوگوں کو پورا بھروسہ نہیں تھا اس لیے تکلیف کے وقت بےصبری کے سبب سے ان لوگوں کے دل میں یہ امید باقی نہیں رہتی تھی کہ یہ سختی کا وقت ٹل جائے گا لیکن اس آیت میں یہ تنبیہ ہے کہ ہر ایماندار آدمی کو اس عادت سے بچنا چاہئے کیونکہ ایماندار آدمی کی شان یہی ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے صہیب رومی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ایماندار آدمی کی نشانی یہ ہے کہ وہ تکلیف کے وقت کے ٹل جانے کا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کر کے ایسے وقت پر صبر کرتا ہے اور راحت کے وقت ہر طرح کی شکر گزاری سے اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتا ہے 1 ؎ مشرکین مکہ کا حال بیان فرما کر ایماندار شخص کو جو تنبیہ آیت میں کی گئی ہے اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ مسند امام احمد نسائی اور دارمی میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ نے ایک خط کھینچ کر فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے اور پھر اس خط کے دائیں بائیں اور خط کھینچ کر فرمایا اس سب راستوں پر شیطان کا دخل ہے 2 ؎۔ ترمذی میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے اور مسند امام احمد ابو داؤد اور مستدرک حاکم میں معاویہ ؓ سے جو صحیح روایتیں ہیں ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس طریقہ پر میں اور میرے صحابہ ؓ ہیں وہی راستہ نجات کا ہے 3 ؎۔ یہ حدیثیں بمن ھو اھدی سبیلا کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں جو ہدایت کا راستہ تھا وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بتلایا اور اللہ کے رسول ﷺ نے وہ راستہ امت کے لوگوں کو بتلایا اب اس راستہ کے برخلاف جبریہ قدریہ لوگوں کے جتنے راستے ہیں ان سب میں شیطان کا دخل ہے۔ ترمذی کی عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث کی سند میں ایک لکھا اور یحییٰ بن سعید القطان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس واسط ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے علاوہ اس کے معاویہ ؓ کی صحیح حدیث سے بھی اس حدیث کو تقویت ہوجاتی ہے۔
1 ؎ تفسیر ہذاص 24 ج 3۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 30 باب کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔
3 ؎ ملا حظہ ہو مشکوٰۃ ص 30 باب الاعتصام مالکتاب والسنۃ فصل دوسری۔
Ayah 17:8585۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے آنحضرت ﷺ سے روح کا حال پوچھا تھا اور نجاری کی روایت میں یہ صراحت بھی آچکی ہے کہ یہود کا یہ سوال مدینہ میں تھا اس صورت میں اس آیت کا نازل ہونا مدینہ میں ہے اور یہ آیت مدنی ہے 1 ؎۔ لیکن ترمذی نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو روایت کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہود کے سکھلانے سے قریش نے مکہ میں آنحضرت سے روح کا سوال کیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ہے 2 ؎۔ اس صورت میں یہ آیت مکی ٹھہرتی ہے اس حدیث کی سند بھی معتبر ہے اس واسطے حافظ ابن کثیر اور معتبر علماء نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ آیت قریش کے سوال پر پہلے مکہ اور یہود کے سوال پر پھر مدینہ میں دو دفعہ نازل ہوئی ہے متقدمین مفسرین صوفیہ کرام سب کا یہ قول ہے کہ روح کا حال سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا کہ روح کیا چیز ہے لیکن متاخرین میں سے کچھ مفسروں اور صوفیوں نے اپنی سمجھ کے موافق روح کا حال بیان کیا ہے یہ متاخرین کے سب قول اس کے قریب ہیں مگر ایک قول دوسرے قول کے اس طرح ضد میں ہے کہ ایک قول بھی بھروسہ کے قابل باقی نہیں رہتا سچ بات یہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں روح کا حال نہیں بتلایا آنحضرت صلعم سے کوئی روایت ایسی نہیں جس میں روح کا کچھ حال ہو پھر یہ غیب کی بات نہ اٹکل سے حل ہوسکتی ہے نہ کسی صوفی کے کشف سے حل ہوسکتی ہے اٹکل تو شریعت میں گنتی کے قابل چیز نہیں کشف والہام شریعت میں مسلم ہے لیکن کشف والہام میں اس قدر قوت کہاں ہے کہ وحی کی طرح اس سے کوئی مسئلہ شرعی ثابت ہو سکے۔ شیطانی مداخلت سے وحی کی حفاظت خدا کی طرف سے ہمیشہ فرشتے کیا کرتے ہیں جس کا ذکر سورة جن میں آئے گا اس لیے وحی سے ہی خدا کی شریعت ثابت ہوتی ہے اولیاء اللہ کے کشف والہام میں وہ باب نہیں ہے اس واسطے کشف والہام سے کوئی شرعی مسئلہ ثابت نہیں ہوسکتا ان علماء نے جن کو شریعت اور علم طریقت دونوں علموں میں مہارت ہے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ مجتہد کے اجتہاد میں جس طرح خطا اور صحت کا گمان ہے اسی طرح علم طریقت میں صاحب کشف کے کشف کا حال ہے اور باوجود گمان خطا کے مجتہد کا اجتہاد دلیل شرعی اس وجہ سے ٹھہرا ہے کہ شارع ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کی حدیث میں اجتہاد کو دلیل شرعی قرار پانے کی اجازت دے دی ہے کشف کے لیے اس طرح کوئی شرعی اجازت نہیں ہے۔
اس لیے کشف تابع شریعت ہے اور تابع شریعت کے یہ معنے ہیں کہ جس کشف کی شہادت شریعت دیوے وہ مقبول ہے نہیں تو نہیں غرض کشف کا دلیل شرعی تو ہونا درکنار بلکہ دلیل شرعی سے کشف کی صحت ہوتی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جس طرح کسی کو یہ نہیں معلوم کہ قیامت کب آئے گی یا مینہ کب برسے گا ‘ یا ماں کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی یا کل کیا ہوگا یا کون کس سر زمین پر مرے گا اسی طرح روح کا علم بھی اللہ ہی کو ہے کہ روح کیا چیز ہے جس کسی نے عقل سے یا کشف سے روح کے حال میں کچھ بحث کی ہے وہ بحث ایسی ہے جس طرح ان پانچ باتوں میں کوئی بحث کرے کیونکہ نبی وقت نے جس طرح ان پانچ چیزوں کی صراحت سے سکوت اختیار کیا ہے اسی طرح روح کی صراحت سے سکوت اختیار کیا ہے پھر ان پانچ چیزوں کے بحث کو بطریق عقل اور کشف کے منع جاننا اور روح کی بحث کو منع نہ جاننا ایک بےدلیل بات ہے اسی واسطے سہروردی (رح) نے عوارف میں لکھا ہے کہ الا قلیلا فرما کر بہت سی باتوں کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جو نہیں دیا یہ روح کی حقیقت کا علم بھی انہی بہت سی باتوں میں سے ہے 3 ؎۔ اگرچہ بعضے علماء نے اس حدیث کا ذکر اوپر گزرا یہ حدیث ترمذی اور ابوداؤد میں ہے۔ اگرچہ بعضے علماء نے اس حدیث کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابوبکر خطیب نے اس سند کو قوی ٹھہرایا ہے جس میں عبدالرحمن بن غنم ؓ نے اس حدیث کو معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا ہے 4 ؎۔ یہ احمد بن علی ابوبکر خطیب بغدادی مشہور علماء میں ہیں چوتھی صدی ہجری کے علماء میں دار قطنی کے ہم پلہ علماء میں ان کا شمار ہے اور راویوں کے باب میں ان کے قول کا بڑا اعتبار ہے۔ اس تفسیر میں ان کا حال اس جگہ اور بھی بیان کردیا گیا ہے مسند امام احمد اور ابوداؤد میں براء ؓ بن عازب کی ایک صحیح حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ اچھے لوگوں کی روح کی جنت کے کپڑے میں اور برے لوگوں کی روح کو ٹاٹ کے ٹکڑے میں لپیٹ کر فرشتے آسمان پر لے جاتے ہیں 5 ؎۔ اس حدیث سے اتنی بات کہہ سکتے ہیں کہ جن علماء نے روح کو جسم لطیف کہا ہے ان کا قول اس حدیث کے قریب قریب ہے کیونکہ بغیر جسم کے کسی چیز کو کپڑے یا ٹاٹ میں لپیٹنا ممکن نہیں ہے باقی جس قدر قول روح کے باب میں ہیں وہ اس حدیث کے برخلاف معلوم ہوتے ہیں۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 282 ج 2 کتاب التفسیر۔
2 ؎ کتاب التفسیر۔
3 ؎ عوارف بر حاشی احیاء العلوم ص 202 ج 4۔
4 ؎ یہ پوری بحث تحفتہ الا حوذی شرح جامع ترمذی ص 286 ج 2 میں قابل مطالعہ ہے۔
5 ؎ مشکوٰۃ باب اثبات عذاب القبر۔
Ayahs 17:86–8786۔ 87:۔ اوپر ذکر تھا کہ یہ قرآن ایسے بڑے فائدہ کی چیز ہے کہ اس سے دلی اور جسمانی بیماریوں کو شفا ہوتی ہے اس آیت میں اس فائدہ کی قدر بڑھانے کے لیے فرمایا اگر ہم اس قرآن کو لوگوں کے دل اور ورقوں سے ایسا مٹا اور بھلا دیں کہ اس کا اثر تک باقی نہ رہے تو ہمارے اس کام پر کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو اعتراض کرے اور اس کو پھیر لاوے مستدرک حاکم اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں صحیح سند کی عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے قریب قرآن اٹھا لیا جائے گا، لوگوں نے پوچھا یہ کس طرح ہوگا قرآن تو حافظوں کے سینہ میں محفوظ ہے اور ورقوں میں لکھا ہوا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے جواب دیا کہ قیامت کے قریب ایک رات ایسی آئے گی کہ جس میں تمہارے دل اور تمہارے ورقوں میں قرآن نہ ہوگا اور صبح کے وقت تم اٹھوگے تو کوئی اثر اس کا نہ پاؤ گے پھر یہ آیت پڑھی 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت سے پہلے ایک ایسی ہوا چلے گی کہ قرآن مجید کا ایک ایک حرف لوگوں کے دلوں سے فراموش ہوجائے گا اور ورقوں میں سے حرف مٹا دیئے جائیں گے اس مضمون کی ایک صحیح روایت تفسیر ابن ابی حاتم اور مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ سے بھی ہے 2 ؎۔ پھر اللہ پاک نے اپنا فضل وانعام آنحضرت ﷺ پر بیان فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو ایسا کرسکتے ہیں کہ قرآن کو اٹھا لیں مگر یہ ہمارا فضل و کرم ہے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا اور علاوہ اس کے اور بہت سی مہربانیاں اللہ کی آپ ﷺ پر ہیں آپ ﷺ کو اولاد آدم ( علیہ السلام) کا سردار اور خاتم الانبیاء قرار دیا مقام محمود عطا کیا اس کے سوا اور بہت سے اور بڑے بڑے فضل خدا کے آپ ﷺ پر ہیں۔ صحیح مسلم میں ابو موسیٰ ؓ اشعری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم سب صحابہ سورة برائۃ کی برابر ایک سورة قرآن شریف کی سورتوں میں سے پڑھا کرتے تھے مگر اب اس کی ایک آیت بھی یاد نہیں رہی۔ اس حدیث سے آیت کا اور عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیت کے مضمون کے موافق جب اللہ چاہے اس بھولی ہوئی سورت کی طرح سارے قرآن کو لوگوں کے دل اور ورقوں سے بھلا اور مٹا دیوے چناچہ قیامت کے قریب جب وہ چاہے گا تو ایسا ہی کرے گا۔
1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 201 ج 4۔
2 ؎ تفسیر الدر المنثور 201 ج 4۔
Ayahs 17:88–8988۔ 89:۔ تفسیر ابن جریر اور ابن اسحاق میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ایک صحیح روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہود کے چند علماء نے یہ کہا تھا کہ قرآن شریف کی عبارت تو رات جیسی فصیح نہیں ہے اس لیے ہم چاہیں تو قرآن جیسی عبارت بنا سکتے ہیں اور یہود سے یہ بات سن کر قریش بھی کہا کرتے تھے لونشاء لقلنا مثل ھذا (31/8) جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ایسا قرآن بنا سکتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور قسم کھا کر فرمایا کہ ساری دنیا بھر کے انسان اور جنات ایک ہوجائیں جب بھی ان سے اس قرآن کے مانند کلام نہیں بن سکتا اس آیت سے قرآن شریف کا معجزہ ہونا اور ایسا معجزہ ہونا ثابت ہوتا ہے جس کے مقابلہ سے جن و انسان عاجز ہیں قرآن شریف کے معجزہ ہونے کی بحث ایک ایسی بڑی بحث ہے جس کی دو چار دس پانچ مثالیں نہیں ہیں بلکہ سینکڑوں ہزاروں ہیں۔ علماء نے اس خاص بحث میں بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ قاضی ابوبکر باقلانی کی کتاب اس باب میں بےمثل مشہور ہے حاصل کلام یہ ہے کہ گذشتہ سچے تاریخی حالات آئندہ کے غیب کے واقعات یہ معنوی معجزات تو قرآن شریف میں جدا ہیں یہ ایک خاص معجزہ قرآن شریف جدا ہے کہ الفاظ قرآن شریف کے وہی ہیں جو اہل عرب کی زبان ہے لیکن ایسی حسن ترتیب کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان لفظوں کو برتا ہے کہ وہ حسن ترتیب طاقت انسان سے باہر ایک چیز ہے نظم نثر کی جتنی خوبیاں اہل عرب میں مشہور ہیں وہ سب قرآن میں ہیں اور اس خوبی کے ساتھ ہیں کہ تیرہ برس تک مکہ کے فصیح لوگوں سے یہی مقابلہ ہوا کہ اگر یہ کلام الٰہی معجزہ نہیں ہے تو تم بھی اس طرح کا کلام بنا کر لاؤ مگر سب عاجز ہوگئے اور کچھ نہ ہوسکا مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس وقت کا ایک تاریخی حال یوں منقول ہے کہ ایک دفعہ ابوجہل نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ ہم سب لوگ چندہ کر کے تم کو بہت سا روپیہ دیتے ہیں تم وہ روپیہ دل جمعی سے بیٹھ کر کھاؤ اور محمد ﷺ جو کلام پڑھتے ہیں اس کے مقابل کا کچھ کلام بناؤ ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ فصیح انسانوں کے شعر کلام قصیدے تم کو معلوم ہیں کہ کسی کو قریش میں میرے برابر یاد نہیں ہیں لیکن یہ کلام جو محمد پڑھتے ہیں ان سب سے نرالا ہے میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس کلام میں ایسا جادو کا اثر ہے کہ اس کے سننے کے بعد دل قابو میں نہیں رہتا 1 ؎۔ اسی واسطے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے مجھ کو توقع ہے کہ قیامت کے دن میری امت کی تعداد سب انبیاء ( علیہ السلام) سے بڑھ کر ہوگی۔ 2 ؎ قرآن شریف کا یہ معجزہ اب بھی سب کے آنکھوں کے سامنے ہے کہ اس ضعف اسلام کے زمانہ میں ہر سال غیر قوموں کے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے رہتے ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 3 ؎۔ کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے 4 ؎۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے یہ حدیثیں آخری آیت کی گویا تفسیر ہیں جس کا حال یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے علم غیب کے موافق دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ٹھہر چکے ہیں، جس قدر قرآن کی آیتوں سے ان لوگوں کو سمجھایا جاتا ہے اسی قدر قرآن کو جھٹلانے پر یہ لوگ آمادہ ہوجاتے ہیں۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیرص 443 تفسیر سورة المدثر۔
2 ؎ تفسیر ہذاص 211 ج 3۔
3 ؎ تفسیر ہذاص 90 ج 3۔
4 ؎ تفسیر ہذاص 30 ج 3۔