Ayah 16:11۔ معتبر سند سے تفسیر ابن مردویہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس وقت سورت نحل کی یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ بھی ڈر گئے اور صحابہ بھی ڈر گئے اور سب نے جانا کہ قیامت آگئی اتنے میں دوسرا یہ ٹکڑا آیت کا نازل ہوا کہ جلدی نہ کرو 1 ؎۔ پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر فرمایا کہ میں اور قیامت یوں ملے ہوئے ہیں جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں مطلب آپ کا یہ ہے کہ جب نبی آخر الزمان آچکے تو پھر قیامت کے آنے میں اب کیا دیر ہے۔ یہ حدیث مختصر طور پر صحیح بخاری و مسلم میں بھی سہل بن سعد انس بن مالک ؓ اور ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آئی ہے 2 ؎۔ جس میں نزول آیت کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ جس روز سے حضرت جبرئیل نے آنحضرت ﷺ کے پاس وحی لانی شروع کی آسمان پر فرشتوں میں اسی وقت سے قیامت کا ایک خوف اور چرچہ پھیل گیا ہے۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم طبرانی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ صور پھونکنے سے ذرا پہلے آسمان پر ایک کالا ابر اٹھے گا اور اس ابر میں سے پہلے اس آیت کے پڑھنے کی آواز لوگوں کے کانوں میں آوے گی لوگ اس آواز کا چرچہ کر رہے ہوں گے کہ اتنے میں صور پھونک دیا جاوے گا 3 ؎۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ دنیا کے کسی عذاب کا آنا اگر کسی مصلحت الٰہی سے ٹل گیا تو وقت مقررہ پر آئندہ قیامت کا آنا ایسا یقینی ہے جیسے زمانہ گزشتہ کی بہت سی باتیں ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے گزر چکی ہیں ان مشرکوں میں سرکش لوگ اب تو نادانی سے کبھی عذاب اور کبھی قیامت کی جلدی کرتے ہیں لیکن جب اپنے شرک کے وبال میں یہ لوگ پکڑے گئے تو ان کو اس جلدی کرنے کی قدر کھل جاوے گی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 4 ؎ کہ اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے ایسے سرکش لوگوں کو مہلت دیتا ہے اور پھر وقت مقررہ پر جب ان کو پکڑتا ہے تو بالکل برباد کردیتا ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی روایتیں بھی گزر چکی ہیں 5 ؎ جن میں مشرکین مکہ میں بڑے بڑے سرکشوں اور بدر کی لڑائی میں مارے جانے کا ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ مرتے ہی ان لوگوں پر عقبیٰ کا سخت عذاب شروع ہوگیا اور اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے عذاب الٰہی کو سچا پالیا۔ صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا نیک شخص کے مردہ کو اس کا جنت کا ٹھکانا اور بد شخص کے مردہ کو اس کا دوزخ کا ٹھکانا صبح شام دکھایا جا کر یہ کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن تجھ کو اس ٹھکانے میں جانا پڑے گا 6 ؎۔ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے مشرکوں میں سرکش لوگ وقت مقررہ سے پہلے عذاب اور قیامت کی جو جلدی کرتے تھے وقت مقررہ آنے پر ان کا انجام یہ ہوا کہ دنیا میں ذلت سے وہ مارے گئے مرتے ہی عذاب قبر میں گرفتار ہوئے قیامت کے دن دوزخ میں جو ٹھکانا ان کے لئے ٹھہرا وہ صبح شام قیامت تک ان کو دکھایا جاتا ہے۔ غرض ان لوگوں کو عذاب اور قیامت دونوں چیزوں کی جلدی کرنے کی قدر کھل گئی۔
1 ؎ 1 باب قول ص 133 و تفسیر الدارالمنثور ص 109 ج 4۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 963 ج 2 باب قول النبی ﷺ بعثت انا والساعۃ کھاتین الخ۔
3 ؎ الترغیب ص 293 ج 2 فصل النفح فی الصور۔
4 ؎ صحیح بخاری ص 678 ج 2 وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری۔
5 ؎ صحیح مسلم ص 102 ج 2 باب غزوۃ بدر۔
6 ؎ الترغیب ص 287 ج 2 الترھیب من المرد بقبور الظالمین الخ۔
Ayah 16:22۔ اس سے اوپر کی آیت میں یہ خبر دی گئی تھی کہ قیامت بہت قریب ہے اور لوگ جو جلدی کرتے تھے ان سے کہا گیا تھا کہ جلدی نہ کرو اس آیت میں قیامت کی سختیوں سے نجات پانے کا جو انتظام اللہ کی طرف سے فرمایا گیا ہے اس کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کے پاس فرشتے وحی لے کر بھیجتا ہے تاکہ اللہ کے رسول آسمانی کتاب کے موافق ایماندار لوگوں کو یہ جتلا دیویں کہ سوا اللہ کے اور کوئی دوسرا معبود لائق عبادت کے نہیں تم لوگ شرک سے ڈرتے رہو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق روح کے معنے یہاں وحی کے ہیں کیوں کہ جس طرح سارے بدن کو روح سے ترو تازگی ہے اور حیات قائم ہے اسی طرح ایماندار شخص کا دل بھی احکام وحی سے تازہ رہتا ہے اور اس کو دلی حیات اس طرح نصیب ہوتی ہے جس طرح جہالت اور کفر سے دل مردہ رہتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی 1 ؎ ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو انجانی کے عذر کا رفع کردینا بہت پسند ہے اسی واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسولوں کو بھیجا اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ انجانی کے عذر کا رفع کردینا اللہ تعالیٰ کو پسند تھا اس لئے شرک کی برائی سے لوگوں کا انجان رہنا اور قیامت کے دن اس کے وبال میں گرفتار ہوجانا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ناپسند ٹھہرا اور وہ انتظام فرمایا گیا جس کا ذکر آیت میں ہے۔
1 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 230۔
Ayahs 16:3–43۔ 4۔ اللہ پاک نے اوپر کی آیتوں میں قیامت کے برحق ہونے کو شرک کی ممانعت کو اور توحید کو بیان کیا تھا کہ سوائے اللہ کی ذات کے اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اس لئے یہ آیتیں توحید اور حشر کی ثبوت کے طور پر نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور یہ آسمان و زمین بالکل بےفائدہ نہیں بنائے گئے ہیں ان سے بڑے بڑے کام دنیا کے اندر نکلتے ہیں جو انسان کی زندگی میں ضروری ہیں پھر فرمایا کہ کفار جن معبودوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ان سے وہ اندر نکلتے ہیں جو انسان کی زندگی میں ضروری ہیں پھر فرمایا کہ کفار جن معبودوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ان سے وہ کہیں برتر و بزرگ ہے انہیں کیا خاک قدرت ہے اور جب ان میں کچھ قدرت نہیں تو ان کی پوجا سے کچھ حاصل بھی نہیں پھر انسان کی پیدائش کا حال بیان فرمایا کہ یہ اپنی حقیقت کو بھول گیا اور اللہ نے اس کو ایک قطرہ ناپاک سے پیدا کیا جوں توں وہ سیانا اور بڑا ہوتا گیا خدا سے جھگڑنے لگا اس کا شریک ٹھہراتا اس کے رسولوں کو اور حشر کو جھٹلایا اتنا نہیں سمجھا کہ بغیر حشر اور نیک و بد کی جزا و سزا کے آسمان و زمین اور تمام دنیا کا پیدا کرنا کیوں کر ٹھکانے سے لگتا ہے۔ مسند امام احمد اور ابن ماجہ میں بشیر بن حجاش ؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ میں تھوک کر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے بنی آدم تو مجھے کس طرح دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز سمجھتا ہے تیری حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے تجھے اس تھوک جتنی چیز سے پیدا کیا ہے پھر تجھے حد کمال تک پہنچا دیا اور پھر تیرے لئے موت بھیج دی اور تو اپنی دو چادروں میں لپٹ کر چلا آیا اور جو کچھ کما کما کر اکٹھا کیا تھا اسے کسی اچھے موقع پر خرچ نہیں کیا 1 ؎۔ یہ حدیث مستدرک حاکم میں بھی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے 2 ؎۔ معتبر سند سے البعث و النشور بیہقی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عاص بن وائل نے ایک بوسیدہ ہڈی کو آنحضرت ﷺ کے روبرو خوب ملا اور اس کی خاک کو ہوا میں اڑا کر آنحضرت ﷺ سے بڑی بحث کی کہ ایسی بوسیدہ ہڈیاں پھر دوبارہ کیوں کر جاندار ہوجاویں گی 3 ؎۔ انسان کے ایک بےحقیقت چیز سے پیدا ہونے اور پھر اپنی حقیقت کو بھول کر جھگڑا لو بن جانے کا جو ذکر آخری آیت سے یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جس صاحب قدرت نے ان منکرین حشر کے پتلوں کو پانی جیسی پتلی چیز سے بنا دیا اور ان پتلوں میں روح پھونک دی اس کی قدرت کے آگے ہر جگہ سے رواں دواح خاک کا جمع کرلینا اور اس کا پتلہ تیار کر کے اس میں روح کا پھونک دینا کیا دشوار ہے یہ اوپر گزر چکا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہو کر جہاں جہاں جاوے گی اس کا سب حال پہلے ہی لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 561 ج 2۔
2 ؎ تفسیر الدر النثور ص 110 ج 4۔
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 581 2 تفسیر سورت یٰسین و لباب التقول ص 187۔
Ayahs 16:5–75۔ 7۔ اللہ پاک نے انسان کی پیدائش کا حال پہلے بیان کر کے اب چوپائیوں کا ذکر کیا کہ اونٹ گائے بکریاں جس کی تفسیر سورت انعام میں گزر چکی ہے یہ سب تمہارے واسطے پیدا کئے گئے ہیں تم اس کا احسان نہیں مانتے خیال کرو تو ان جانوروں سے تمہیں کیا کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ بعض جانوروں کی کھال کا پوشین بنتا ہے بعض جانوروں کے روئیں بنے جاتے ہیں جس سے اونی کپڑے تیار ہوتے ہیں اور جاڑوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے سردی سے لوگ بچتے ہیں بعض جانوروں کے دودھ لوگ پیتے ہیں ان کے گوشت کھائے جاتے ہیں ان جانوروں کو جب چرا کر لاتے ہو وہ کھا کر شکم سیر کرتے ہیں ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے ہیں تو ان کو دیکھ کر تم خوش ہوتے ہو اور صبح کر چرانے لے جاتے ہو اور وہ الگ الگ ہو کر چرنے لگتے ہیں اور ایک کی آواز ایک سن کر بولنے لگتا ہے تو کیسا خوشنما سا سما نظر آتا ہے اور تجارت وغیرہ کے لئے جب کوئی بوجھ کہیں لے جانا چاہتے ہو تو جانوروں کی پیٹھ پر رکھ کرلے جاتے ہو اگر تم خود لے جاتے تو ممکن نہ تھا اگر ممکن بھی تھا تو بڑی مشقت کا کام تھا غرض ذرا سمجھو اللہ پاک بندوں پر کیسا مہربان اور رحیم ہے کہ ان کی ہر ایک ضرورت کے رفع کرنے کا اس نے سامان پیدا کیا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا شرک سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو انسان کی ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا کہ ان بت پرستوں کے بتوں کا اس میں کچھ دخل نہیں ہے تو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں دوسروں کو شریک کرنا بڑی خرابی کی بات ہے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 16 باب الکبائر و تفسیر ابن کثیر ص 494 ج 2۔
Ayah 16:88۔ بعضے حنفیہ نے اس آیت سے یہ بات نکالی ہے کہ گھوڑے کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ گھوڑے سواری اور زینت کے لئے ہیں ذبح کرنے اور گوشت کھانے کی ممانعت اس سے نکلتی ہے اور علماء نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس آیت میں حرام و حلال کا ذکر نہیں ہے یہاں تو اللہ تعالیٰ نے فقط اپنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے عزت اور زینت کی سواری کے لئے گھوڑا اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے اس لئے سواری کی نعمت جتلا کر گھوڑے کا ذکر فرمایا ہے دونوں مذہبوں کی تائیدیں حدیثیں بھی پیش کی گئی ہیں ان میں ان علماء کا قول جو گھوڑے کے گوشت کے جائز ہونے کے قائل ہیں زیادہ مضبوط ہے کیونکہ وہ حدیث جس میں گھوڑے کے گوشت کی اجازت ہے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ کی روایت سے صحیحین کی ہے 1 ؎۔ اور وہ حدیث جس سے ممانعت نکلتی ہے مسند امام احمد بن حنبل کی خالد بن ولید ؓ وغیرہ کی روایت سے ہے 2 ؎۔ اور اس میں کسی طرح کا شک نہیں ہے کہ صحیحین کی متفق علیہ روایت مسند کی روایت سے مقدم ہے علاوہ ان کے خالد بن ولید ؓ کی روایت میں کسی قدر ضعف 3 ؎ بھی ہے اسی واسطے امام محمد ؓ اور ابو یوسف ؓ گھوڑے کے گوشت کو جائز کہتے ہیں اور امام ابوحنیفہ ؓ سے کوئی روایت گھوڑے کے گوشت کے ناجائز ہونے میں صاف نہیں ہے کیوں کہ ہدایہ کی شرح عنایہ میں امام ابوحنیفہ (رح) کی روایت جو اس باب میں نقل کی ہے 4 ؎۔ اس کا حاصل یہی ہے کہ گھوڑے کے گوشت کھانے کو میں تعجب کی نظر سے نہیں دیکھتا اس روایت کا مطلب تو یہی ہے کہ جس طرح اور ناجائز چیزوں کے کھانے کو تعجب کی نظر سے میں دیکھتا ہوں گھوڑے کا گوشت میرے نزدیک ایسا نہیں ہے۔ سواری کے ذکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسی سواریوں کا ذکر جو فرمایا ہے جن کو اس وقت کے لوگ نہیں جانتے تھے اس میں ریل دخانی جہاز سب شامل ہیں کیونکہ آدمی نے اپنی ایجاد طبع سے جو چیز نکالی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی پیدائش کا ضرور دخل ہے کس لئے کہ اللہ نے آدمی کو پیدا کیا آدمی کی عقل پیدا کی جب جا کر آدمی کسی ایجاد کے قابل ہوا اگر اللہ آدمی کو عقل نہ دیتا تو وہ کس ایجاد کے قابل ہوسکتا تھا۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 563 ج 2۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 562 ج 2۔
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 562 ج 2۔
4 ؎ اس بحث کی تفصیل کے لئے تفسیر فتح البیان ص 679 ج 1 تفسیر ابن کثیر ص 562۔ 563 ج 2 وغیرہ دیکھئے۔
Ayah 16:99۔ جب اللہ پاک نے ان جانوروں کا ذکر کیا جس پر لوگ سوار ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں اور دنیا میں رستہ طے کرتے ہیں تو اب دین کے رستوں کا بیان کیا اور فرمایا کہ دو راہیں ہیں۔ ایک تو سیدھی دوسری کج جو سیدھی راہ ہے وہ خدا تک پہنچتی ہے اور جو کج ہے وہ شیطانی راہ ہے انسان کو دوزخ میں لے جاتی ہے۔ سہل سے مراد دین اسلام ہے اور جائر سے بت پرستی وغیرہ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ چاہتا ہے تو دین اسلام پر چلنے کی توفیق دیتا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ اللہ پر ہے حلال و حرام کا بیان کردینا اور اپنی مرضی اور نامرضی کے کاموں کا ذکر کردینا جس کو اس نے آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے بیان کردیا اب جس کا جی چاہے جس راہ کو پسند کرے اگر اللہ پاک چاہتا تو سارے جہاں کو ایک سیدھی راہ پر کردیتا اور وہ لوگ حق تک پہنچ جاتے مگر اس کی مشیت اس کی متقضی نہیں ہوئی اس نے راہیں بتلا دیں جس کی طبیعت نیک پیدا ہوئی ہے وہ آپ راہ حق کو قبول کرتا ہے اور جو بدبخت ازلی ہے وہ راہ راست سے بھٹکتا پھرتا ہے اور گمراہی کے رستوں میں پڑا ہوا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ آیت میں بیان کا لفظ محذوف ہے گویا اصل آیت وعلی اللہ بیان قصد السبیل ہے۔ جو راستہ آدمی کو مقصد تک پہنچا دیوے عرب کے محاورہ میں اس کو قصہ السبیل کہتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو انجانی کے عذر کا رفع کردینا بہت پسند ہے۔ اسی لئے اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے آسمانی کتابیں بھیج کر تفصیل سے احکام دین بیان فرما دئیے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا اوپر کا قول اس صحیح حدیث کے موافق ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے کہ کون شخص دنیا میں پیدا ہونے کے بعد جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جانے کے قابل اب دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ہر شخص اس لکھے کے موافق کام کرتا ہے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی میں جو لوگ جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ ہمیشہ کجی کی راہ پسند کرتے ہیں اور ان کو مجبور کر کے اللہ تعالیٰ راہ راست پر لانا نہیں چاہتا کیوں کہ انتظام الٰہی کے موافق دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے مجبوری کی حالت میں وہ امتحان کا موافق باقی نہیں رہتا۔
1 ؎ تفسیر ہذا جلد دو ص 231 و جلد ہذا 310
2 ؎ صحیح بخاری ص 738 ج 2 تفسیر سورة واللیل۔
Ayahs 16:10–1110۔ 11۔ اللہ پاک نے انسان اور جانوروں کے پیدا کرنے کا حال بیان کر کے اب ان نعمتوں کا ذکر کیا جو مینہ برسا کر اس نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں اس لئے فرمایا کہ یہ خدا ہی کا کام ہے کہ اس نے مینہ برسا کر تمہارے لئے پانی پینے کو ندی نالے اور تالابوں میں جمع کر رکھا ہے اگر وہ چاہتا تو آسمان سے کڑوا اور کھاری پانی اتارتا جس کے پینے پر انسان مجبور ہوتا یہ بہت ہی بڑا اس کا احسان ہے جو میٹھا پانی برساتا اور زمین کو تر رکھتا ہے جس میں کھیتی ہوتی ہے اور طرح طرح کے درخت اور گھاس اگتے ہیں اور لوگ اپنے اپنے جانوروں کو چراتے ہیں اور کھیتوں میں غلے پیدا ہوتے ہیں جس سے انسان غذا حاصل کرتا اور اپنی زندگی بسر کرتا ہے اور اسی پانی کے سبب سے زیتون کھجوریں انگور اور طرح طرح کے میوے پیدا ہوتے ہیں جس کو لوگ کھاتے ہیں زیتون کا تیل بھی بنتا ہے جس کو آدمی اور کام میں بھی لاتا ہے غرض اس سے بڑی قدرت اور عظمت خدا کی سمجھی جاتی ہے کہ مثلاً جب اناج کا ایک دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے تو تھوڑے عرصہ میں وہ دانہ پھٹ پڑتا ہے اور ایک باریک شاخ پیدا ہو کر اوپر کو چڑھنے لگتی ہے اور زمین میں اس کی جڑ پھیلنے لگتی ہے پھر رفتہ رفتہ پتے اور ڈالیاں پھیل کر ایک بہت بڑا درخت ہوجاتا ہے اور اناج پیدا ہونے لگتا ہے یہی حال ہر ایک میوے کی گٹھلی اور ہر ایک ترکاری اور پھلوں کے بیج کا ہے پھر ایک درخت کا پھل پھول دوسرے درخت کے پھل پھول سے جدا جدا اپنے اپنے رنگ و بو و ذائقہ میں مختلف ہوتے ہیں جو شخص ان باتوں میں غورو فکر کرتا ہے وہ فوراً سمجھ لیتا ہے کہ اس کا پیدا کرنے والا بہت بڑی قدرت والا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے کیونکہ ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کسی کا کچھ دخل نہیں صحیح بخاری کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ قریش کی سرکشی کے سبب سے آنحضرت ﷺ نے بددعا کی اور آپ کی بددعا سے مکہ میں سخت قحط پڑا 1 ؎۔ صحیح بخاری میں زید بن خالد جہنی ؓ اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایتیں ہیں جن میں یہ ہے کہ مشرکین مکہ تاروں کی گردش سے مینہ برسنے کے قائل تھے 2 ؎۔ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ مینہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے برستا ہے مستقل طور پر تاروں کی گردش کا اس میں کچھ دخل نہیں کیوں کہ تاروں کی گردش تو آخر مکہ کے قحط کے زمانہ میں بھی تھی پھر اس وقت اس گردش کی تاثیر کہاں گئی۔ اسی طرح قحط کے قصے سے یہ بھی نکلا کہ ان مشرکوں کے بتوں کو بھی خدا کی خدائی میں کچھ اختیار نہیں کس لئے کہ اس قحط کے زمانہ میں ان بت پرستوں نے اپنے بتوں سے رفع قحط کی التجا کی مگر کچھ نہ ہوا آخر اللہ کے رسول نے جب رفع قحط کی دعا کی تو مینہ برسا اور وہ قحط رفع ہوا۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 137 ج 1 باب دعاء النبی ﷺ اجعلہا سنین کسنی یوسف۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 141 جۃ باب قول اللہ عزوجل و تجعلون رزقکم انکم تکذبون۔
Ayahs 16:12–1312۔ 13۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے رات دن چاند سورج ستاروں کے پیدا کرنے میں جو نفع انسان کے لئے رکھا ہے اس کا بیان فرمایا کہ اللہ نے تمہارے ہی فائدہ کے لئے یہ رات اور دن بنائے ہیں جہاں ایک دن میں سے ختم ہوا دوسرا آن موجود ہوا دن کو لوگ اپنے اپنے کاروبار سے جا لگتے ہیں اور اپنی روزی حاصل کرتے ہیں راتوں کو تھکے ماندے آگر آرام کرتے ہیں چاند و سورج سے مہینوں اور برسوں کا حساب ہوا کرتا ہے۔ چاند اٹھائیس دن میں اپنا دورہ پورا کرتا ہے اور پھر دو یا ایک رات پوشیدہ رہ کر ہلاک کی صورت میں نکلتا ہے تو ایک مہینہ ہوتا ہے۔ سورج تین سو ساٹھ دن میں پورا دورہ آسمان کا طے کرتا ہے تو ایک سال ہوتا ہے اس عرصے میں گرمی جاڑے برسات کی فصلیں ہوتی ہیں۔ ان فصلوں کے سبب سے ایک بڑا تغیر ہوتا ہے پھول لگتے ہیں اور پھر پھل کچے سے پکے ہوجاتے ہیں اور ستارے جو آسمان پر پیدا کئے ہیں اس سے بھی بڑا نفع حاصل ہوتا ہے۔ اندھیری راتوں میں سفر کرنے والے اس سے پورب پچھم اتر دکھن پہچانتے ہیں یہ سب خدا کی قدرت کا ادنیٰ نمونہ ہے اور یہ سب کے سب اسی کے حکم کے تابع ہیں عقلمند ان نشانیوں سے خدا کی قدرت کا پتہ لگا لیتا ہے پھر اس کے بعد زمین کا حال بیان فرمایا کہ کیسے کیسے مختلف رنگ کے پھل پھول جن کا ذائقہ جدا جدا ہے بصورت علیحدہ علیحدہ جانور مختلف قسم کے ایک کی صورت ایک سے نہیں ملتی ہر ایک کی طبیعتیں الگ الگ ہیں یہ سب کچھ تمہارے ہی کام کے لئے بنایا ہے تاکہ تم ان سے طرح طرح کا فائدہ اٹھاؤ اور جو لوگ خدا کی نعمتوں کو سوچتے سمجھتے رہتے ہیں ان کے واسطے یہ بہت بڑی نشانی ہے کہ جو ان کا حقیقی پیدا کرنے والا ہے اس کی ذات ایسی بےمثال ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور اس میں ہر ایک بات کی قدرت ہے۔ فلسفی، نجومی اور مشرکین کہ سورج چاند تاروں میں جن تاثیرات مستقل کے قائل ہیں وہ اعتقاد مسخرات بامرہ سے غلط قرار پاتا ہے کیونکہ مسخرات بامرہ کا یہ مطلب ہے کہ سورج چاند تاروں کا طلوع غروب اور ان کی گردش سب اللہ کے حکم سے ہے ان میں کوئی مستقل تاثیر نہیں ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ اور زید بن خالد جہنی ؓ کی اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایتیں جو اوپر گزر چکی ہیں ان روایتوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سورج چاند تاروں میں بغیر حکم الٰہی کے کوئی مستقل تاثیر نہیں ہے جو لوگ اس مستقل تاثیر کے قائل ہیں وہ بڑی غلطی پر ہیں۔
Ayah 16:1414۔ اللہ پاک نے آسمان و زمین کی چیزوں کا ذکر کر کے ان فائدوں کا بیان کیا جو دریا سے لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں فرمایا کہ دریا کو تمہارا محکوم کردیا تم اس میں سے مچھلیاں پکڑ پکڑ کر کھاتے ہو نہیں تو تمہاری کیا ہستی تھی جو دریا کے کنارے پر پیر بھی رکھ سکتے ایک موج میں کہیں کے کہیں جا رہتے یہ اسی کا حکم ہے کہ دریا اپنی حد سے نہیں بڑھ سکتا جس سے تم ڈوبنے سے محفوظ رہتے ہو اور اس میں غوطے لگا لگا کر بیش بہا موتی نکال لیا کرتے ہو اور طرح طرح کے زیورات بنایا کرتے ہو کشتیاں بنا بنا کر دریا کے رستے سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جایا کرتے ہو اور تجارت میں سینکڑوں روپیہ کا نفع اٹھاتے ہو اس کی شکر گزاری کرنی چاہیے نہ یہ کہ ان احسانات کو بالکل فراموش کر کے دوسروں کو اللہ کی تعظیم میں شریک کیا جاوے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے شرک سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں فرمایا اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا ہے تو اس کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرنا بڑے وبال کی بات ہے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 16 باب الکبائر۔
Ayahs 16:15–1615۔ 16۔ تفسیر عبد الرزاق میں حسن بصری سے اور تفسیر ابن جریر میں قیس بن عباس سے روایت ہے کہ پہلے پہل اللہ نے پانی پر زمین بچھائی تو زمین ہلتی تھی فرشتوں نے آپس میں چرچا کیا کہ زمین پانی پر کیوں کر ٹھہرے گی جب اللہ نے زمین پر پہاڑ ٹھونک دئیے تو پھر زمین کا ہلنا بند ہوگا اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ اللہ نے کب اور کس چیز کے یہ پہاڑ بنا دئیے 1 ؎۔ ایک جگہ یہ بات اوپر گزر چکی ہے کہ عبد الرزاق بن ہمام نے نابینا ہونے سے پہلے جو کتابیں تالیف کی ہیں ان کو امام بخاری نے صحیح قرار دیا ہے۔ اس لئے تفسیر عبد الرزاق کی یہ حسن بصری کی روایت معتبر ہے یہ قیس بن عباد بھی جلیل القدر تابعیوں میں ہیں اور تفسیر ابن جریر کی سند بھی معتبر ہے ترمذی میں انس بن مالک ؓ کی اس مضمون کی جو ایک روایت ہے اگرچہ سلیمان بن ابی سلمان حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا پروردہ اس روایت کی سند میں نامعلوم الحال ہے لیکن اوپر کی روایتوں سے اس انس بن مالک ؓ کی روایت کو بھی کسی قدر تقویت ہوجاتی ہے ان روایتوں کے موافق ان تمید بکم کی اصل ان لا عید بکم ہے جس کے حاصل معنے وہی ہیں جو حسن بصری (رح) اور قیس بن عباد (رح) کے قول کے موافق اوپر بیان کئے گئے ہیں اگرچہ یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہ تھی کہ بغیر پہاڑوں کے میخیں ٹھونکنے کے وہ زمین کو پانی پر مضبوط جما دیتا لیکن پہاڑوں کے پیدا کرنے میں طرح طرح کی حکمتیں تھیں سونا چاندی اور قیمتی چیزیں اکثر قسم کی دوائیں پہاڑوں میں پیدا ہوتی ہیں ندیاں اور چشمے پہاڑوں میں سے نکلتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو پیدا کیا اور فرشتوں کے ایک خاص گروہ کو پہاڑوں کی چیزوں کے انتظام کے لئے مقرر کیا جس گروہ کے سردار کا لقب ملک الجبال ہے چناچہ صحیح بخاری کی حضرت عائشہ ؓ کی روایت 2 ؎ میں یہ ذکر تفصیل سے ہے سورت الانبیاء میں آوے گا کہ پہاڑوں کے بیچ میں اللہ تعالیٰ نے گھاٹیاں رکھیں ہیں۔ تاکہ پہاڑوں کے سب سے راستہ بند ہو سبلا لعلکم تھتدون کا یہاں بھی یہی مطلب ہے وعلمت وبالنجم ھم یھتدون حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قوال کے موافق آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر یہ ہے کہ دن کو پہاڑ اور رات کو تارے ایسی علامتیں ہیں جن کے سبب سے مسافروں کو سیدھا راستہ جنگل اور دریا میں معلوم ہوجاتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود کی حدیث گزر چکی ہے 3 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا شرک سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کی راحت کیلئے یہ سب چیزیں پیدا کیں ہیں تو یہ بڑے وبال کی بات ہے کہ اللہ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کیا جاوے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 565 ج 2 و تفسیر ابن جریر ص 90 ج 14۔
2 ؎ صیح بخاری ص 488 ج 1 باب بعد باب ذکر الملائکۃ۔
3 ؎ یعنی اوپر کی آیات کی تفسیر میں۔
Ayahs 16:17–1817۔ 18۔ اللہ پاک نے آسمان اور زمین اور دریا کے پیدا کرنے کا ذکر اور اس سے جو جو نفع انسان کو پہنچتا رہتا ہے اس کا ذکر کر کے اب مشرکوں کو یوں سمجھایا کہ اب جو تم بتوں کی عبادت کرتے ہو اور انہیں خدا کا شریک ٹھہراتے ہو تو تم ہی بتلاؤ کہ ان بتوں نے کونسا آسمان بنایا کون سی زمین پیدا کی کدھر انہوں نے دریا بہائے اگر کچھ نہیں کیا تو پھر یہ اس خدا کے برابر کیوں کر ہوسکتے ہیں جس نے ساری چیزیں پیدا کی ہیں۔ تھوڑا سا تو غور کر کے دیکھو تمہارے خدا نے تم پر کیا کیا احسان کئے اور کیس کیسی نعمتیں تم کو دیں کیا تم ان کا شمار کرسکتے ہو اور اس کا شکر ادا کرسکتے ہو۔ ہرگز نہیں گن سکتے اگر وہ اپنی ہر نعمت کے مقابل میں تم سے شکر چاہے تو بالکل بجا ہے اور تم سے کوتاہی ہونے پر تمہیں سزا کا مستحق ٹھہرا سکتا ہے مگر اس نے ان باتوں سے درگز کی اور تم پر مہربانی کی کہ ہر نعمت پر تم سے شکر کا طلب گار نہیں ہے البتہ بہت سی نعمتوں کے مقابل میں تم سے ایک تھوڑا سا یہ شکریہ ادا کرنے کو کہتا ہے کہ تم خالق اور مخلوق کو برابر ٹھہرا کر اللہ کی تعظیم میں فرق نہ ڈالو اپنے خالق کو یاد رکھو یہ نہیں کہ بالکل ہی اس کو بھول جاؤ اور اس کا شریک ٹھہرانے لگو۔ ابن جریر نے ان اللہ لغفور رحیم کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ وہ تمہارے قصور کو معاف کرنے والا ہے جو ان نعمتوں کے شکریہ میں تم سے ہوا ہے اور جب تم شرک سے توبہ کرلو اور اس کی اطاعت اور اس کی خوشی کے ہر کام کی طرف رجوع ہوجاؤ تو وہ تم پر ازحد مہربان ہے اور توبہ قبول کرلیتا ہے اور توبہ قبول ہونے پر عذاب نہیں کرتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیتوں میں انسان کی ضرورت اور راحت کی چیزوں کا ذکر فرما کر اوپر کے ذکر کا یہ نتیجہ اس آیت میں ذکر فرمایا ہے کہ یہ سب چیزیں تو اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اس لئے اب یہ بات ان مشرکوں کو سوچنی چاہئے کہ اللہ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کئے جانے کا کیا حق ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے معاذ بن جبل ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اگر بندے اس حق کو ادا کریں گے تو ان کا اللہ پر یہ حق ہوگا کہ اللہ ان کو عقبیٰ کے عذاب سے بچاوے 1 ؎۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص شرک سے بچا تو اس نے حق بندگی ادا کر کے اس معبود حقیقی کی تعظیم میں فرق نہیں ڈالا اس لئے سوا شرک کے کچھ اور گناہ ہوں گے۔ تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور جو شخص جیتے جی شرک میں گرفتار رہا اور اسی حالت میں بغیر توبہ کے مرگیا تو اس نے اللہ کی تعظیم میں فرق ڈال کر خالق اور مخلوق کا مرتبہ ایک کردیا۔ اس لئے ایسا شخص اس بات کا مستحق نہیں ہے کہ اللہ اس پر مہربان ہو اور اس کے گناہوں کو بخشے غرض حافظ ابو جعفر ابن جریر نے ان اللہ لغفور رحیم کا جو مطلب بیان کیا ہے وہ معاذ بن جبل ؓ کی حدیث کے موافق ہے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 13 کتاب الایمان۔
Ayahs 16:19–2119۔ 21۔ مشرکوں کے جھوٹے معبودوں کی یہ دوسری مذمت ہے کیونکہ پہلے اس سے یہ فرمایا تھا کہ زمین و آسمان اور دریا اور ان کے اندر جو جو چیزیں ہیں سب خدائے وحدہ لا شریک نے پیدا کیں ان مشرکوں کا اگر یہ اعتقاد ہے کہ جن بتوں کی یہ پوجا کرتے ہیں ان میں ان چیزوں کے پیدا کرنے کی قدرت ہے یا کوئی شئے انہوں نے پیدا کی ہے تو اس شئے کی نشان دہی کی جاوے ورنہ پھر ان کو اس خالق کے برابر کیوں سمجھتے ہیں اب دوسری بات یہ فرمائی کہ اللہ پاک ہر شخص کے ظاہر اور باطن کو یکساں جانتا ہے جو کام چھپ کر کیا جاتا ہے اس سے بھی وہ واقف ہے اور جو کھلم کھلا کیا جاتا ہے اسے بھی وہ دیکھتا ہے تو کیا ان بتوں کو بھی ایسا علم ہے کہ ہر ظاہر اور باطن کو جان لیں اگر یہ بات نہیں تو ان بتوں سے مراد کا مانگنا بےفائدہ ہے کیوں کہ جب یہ بت مراد مند کی مراد سے ہی بیخبر ہیں تو پھر کسی کی مراد کو یہ کیا پورا کرسکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ مشرک جو خدا کے سوا ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ان میں خاک کسی شئے کے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے یہ تو خود مخلوق ہیں اور بالکل بےجان ہیں ان میں حس و حرکت تک نہیں زندہ ہونا تو درکنار نرے پتھر ہی پتھر ہیں ان سے تو لاکھ درجہ یہ مشرکین خود بہتر ہیں کیوں کہ زندہ تو ہیں چلتے پھرتے ہیں آنکھوں سے دیکھتے کانوں سے سنتے ہیں ان کے بتوں کو کیا خبر ہے کہ ان کے پجاری اور یہ خود مرنے کے بعد کب زندہ ہوں گے اور زندہ ہونے کے بعد ایک دوسرے سے کیوں کر بیزاری ظاہر کریں گے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قوم نوح میں کچھ لوگ مرگئے تھے جن کے مرجانے کا رنج اور صدمہ ان کے رشتہ داروں اور معتقدوں کو بھی تھا شیطان نے موقع پا کر ان لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ اگر ان مرے ہوئے نیک لوگوں کی مورتیں بنا کر آنکھوں کے سامنے رکھ لی جاویں تو ان کے آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جانے کا رنج و صدمہ کم ہوجاوے گا ان لوگوں نے شیطان کے وسوسہ کے موافق وہ مورتیں بنالیں اور پھر رفتہ رفتہ ان کی پوجا ہونے لگی 1 ؎۔ سورت یونس میں گزر چکا ہے کہ قیامت کے دن جب ان مورت پرستوں کا اور ان نیک لوگوں کا اور پتھر کی مورتوں میں جان ڈالی جا کر ان کا غرض ان سب کا آمنا سامنا ہوگا تو وہ نیک لوگ اللہ تعالیٰ کو گواہ قرار دے کر اس پوجا سے اپنی بیخبر ی جتلا دیں گے اسی کو فرمایا کہ ابھی تو اصل نیک لوگوں اور ان کی مورتوں کے پتھروں کو قیامت کا حال کچھ معلوم نہیں لیکن قیامت کے دن جب ان سب کو جمع کیا جا کر بت پرستی کی دریافت کی جاوے گی تو ان بت پرستوں کو اپنی حال پر پچھتانا پڑے گا چناچہ اس پچھتاوے کا ذکر سورت بقرہ میں گزر چکا ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 32 ج 2 تفسیر سورت نوح۔
Ayahs 16:22–2322۔ 23۔ اللہ پاک نے اس سے پہلے کی آیتوں میں بتوں کے معبود ہونے میں طرح طرح کی خرابی بیان فرما کر اب یہ فرمایا کہ تم لوگوں کا معبود وہی اکیلا خدا ہے جس نے ساری چیزیں دنیا میں پیدا کی ہیں دنیا میں تو چاہے تو لوگ جس کو معبود ٹھہرا لو مگر آخرت میں کوئی جھوٹا معبود نظر نہیں آئے گا اکیلا خدا ہی خدا ہوگا اور سارے جہان کا حساب و کتاب اسی کے ہاتھ میں ہوگا پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی کہ کفار جو اپنے عقیدہ پر جمے ہوئے ہیں اور بتوں کی عبادت نہیں چھوڑتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کے دن کا یقین ان کے دلوں میں نہیں ہے آخرت کا یہ لوگ انکار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قیامت وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے جو کچھ ہے دنیا کی زندگی اور مالداری ہے پھر جب مرگئے تو مرنے کے بعد زندہ ہونا کیسا اسی خیال نے ان کو گمراہ کر رکھا ہے اور حق بات کے قبول کرنے سے یہ لوگ منہ موڑتے ہیں اگر آخرت کا خوف ان کے دل میں ہوتا اور یہ اس بات کو سمجھ لیتے کہ آخرت میں اکیلے اللہ سے کام پڑنے والا ہے دنیا کی مالداری اور یہ بت وہاں کچھ کام نہ آویں گے تو پھر آخرت کی درستی کی کسی بات کے ماننے میں ان کی مکڑائی باقی نہ رہتی لیکن ان کے آخرت کے انکار سے اللہ تعالیٰ کے انتظار میں کچھ فرق نہیں آتا ان کے دل کی چھپی ہوئی مکڑائیاں اور ان کے ہاتھ پیر کے ظاہری سب کام اس کو معلوم ہیں اور اس طرح کی مکڑائی کرنے والے اس کو بالکل ناپسند ہیں اس لئے عقبیٰ میں یہ لوگ اپنے کئے کی پوری سزا پاویں گے مشرکین مکہ اپنی مالداری کے غرور میں آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھ کے مسلمانوں کو حقیر جانتے تھے۔ چناچہ سورت الزخرف میں آوے گا کہ ولید بن مغیرہ اور عروۃ بن مسعود ان دو مالدار شخصوں کا حوالہ دے کر کہا کرتے تھے کہ اگر نبوت سچی ہوتی تو ان مالدار دونوں شخصوں میں سے کسی کو ہوتی اور تنگدست مسلمانوں کو دیکھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر دین اسلام سچا ہوتا تو ان تنگ دست لوگوں کے اسلام لانے سے پہلے ہم مالدار لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے کیوں کہ اللہ نے اپنی مہربانی سے جس طرح ہم کو دنیا میں خوشحال کیا ہے عقبیٰ میں بھی ہم اس کی مہربانی کے زیادہ مستحق ہیں چناچہ اس کا تفصیلی ذکر سورت الاحقاف میں آوے گا مشرکوں کی اس بات کا جواب تو اللہ تعالیٰ نے سورت الزخرف میں یہ دیا ہے کہ دنیا فانی کا مال و متاع اللہ کے نزدیک کچھ قابل قدر چیز نہیں ہے اس لئے اس کو اللہ کی مہربانی کا نتیجہ خیال کرنا بڑی غلطی ہے اور یہاں اتنا ہی فرمایا کہ ان لوگوں کی مالداری کے غرور نے ان کو عقبیٰ کی باتوں کے انکار پر آمادہ کیا ہے۔ پہلے صاحب شریعت بنی نوح (علیہ السلام) سے لے کر فرعون تک جو پہلی امتیں اسی طرح کے غرور کی باتوں کے سبب سے غارت ہوئیں جن کے قصے پہلے گزر چکے ہیں وہ سب قصے ان اللہ لا یحب المتکبرین کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مغرور لوگوں کو پسند نہیں کرتا اس لئے اس نے ایسی بہت سی پہلی امتوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے مالدار گنہگار لوگوں کو قیامت کے دن جب دوزخ میں ڈالا جاوے گا تو دوزخ میں ڈالتے ہی فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کی جس مالداری کے غرور نے تم کو عقبیٰ کے اس عذاب سے غافل رکھا آج اس عذاب کے آگے اس مالداری کی راحت تمہیں کچھ یاد ہے یہ لوگ قسم کھا کر جواب دیں گے کہ نہیں۔ اسی طرح نیک تنگدست لوگ جب جنت میں جاویں گے تو ان سے بھی فرشتے پوچھیں گے کہ جنت کی ان نعمتوں کے آگے دنیا کی تنگدستی تمہیں کچھ یاد ہے کہ نہیں تو وہ لوگ بھی قسم کھا کر جواب دیویں گے کہ نہیں 1 ؎۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان مشرکوں کو جس مالداری کے غرور نے عقبیٰ کی باتوں سے غافل رکھا عقبیٰ کے عذاب کے آگے وہ مالداری ان کو یاد بھی نہ رہے گی اور جن تنگدست مسلمانوں کو یہ مشرک حقیر جانتے تھے اور وہ مسلمان اپنی تنگدستی پر صبر کرتے تھے اللہ تعالیٰ عقبیٰ میں ان کو جنت کی وہ نعمتیں دیوے گا کہ ان کو بھی دنیا کی وہ تنگدستی بالکل خواب و خیال ہوجاوے گی۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صفۃ الجنتہ واھلھا۔
Ayah 16:2424۔ معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ کے قول کے موافق جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حج کے موسم میں دور دور کے لوگ مکہ میں آتے تھے جس سے قریش کو دکھ ہوا کہ باہر کے لوگ آنحضرت ﷺ کی باتیں اور قرآن شریف کی نصیحت کو سن کر بت پرستی چھوڑ دیں گے اس لئے قریش نے مکہ کے چاروں طرف لوگ بٹھلا دئیے تھے اور ان سے کہہ دیا تھا کہ جو کوئی قرآن شریف کا حال پوچھتے تو کہہ دینا کہ پہلے لوگوں کی ایک کہانی ہے 1 ؎۔ وہ یہی کہہ دیتے تھے اور جب وہ باہر کے لوگ مکہ کے اندر آتے تو جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے وہ قرآن شریف کی بہت تعریف کرتے تھے اسی ذکر میں اللہ تعالیٰ نے آیت کا یہ ٹکڑا اور اگلا ٹکڑا نازل فرمایا جس میں قرآن شریف کی تعریف کرنے والوں کا ذکر ہے۔ اس آیت کے دوسرے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ہے کہ جو لوگ اور دل کو بہکاتے ہیں ان پر قیامت میں دوگنا عذاب ہوگا ان کے گناہوں کا جدا ہوگا اور بہکانے کا جدا ہوگا اس کی صراحت اس حدیث میں بھی ہے جو حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آگے آتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص نے کوئی ہدایت کا کام لوگوں میں پھیلایا اس کو اس کی نیکی کا اجر بھی خدا دیوے گا اور اس کے ہدایت کے سبب سے جتنے لوگ نیک راہ لگیں گے اور اجر پاویں گے اسی قدر اجر اس کو بھی خدا اپنے پاس سے دیوے گا۔ نیک راہ پر آنے والوں کا ثواب کچھ نہیں گھٹنے کا یہی حال بدی کے پھیلانے والے شخص کی سزا کا ہے غرض اس حدیث میں صاحب وحی ﷺ نے جب آیت کے معنے کی صراحت فرما دی ہے تو اب یہ شبہ باقی نہ رہا کہ یہ آیت ولا تزر وازرۃ وزری اخری کے مطلب کے ساتھ کیوں کر موافق ہے کس لئے کہ بدی پھیلانے والے نے دو کام کئے تھے ایک خود بدی کی دوسرے اوروں کو بدی کی راہ سے لگایا اس لئے اس کو دونوں طرح کے عملوں کی سزا ملی کسی دوسرے کا بوجھ اس پر نہیں ڈالا گیا اس لئے یہ آیت سورت والنجم کی آیت لا تزر وازرۃ وزری اخری کے مخالف نہیں ہے کیوں کہ اوپر کی حدیث میں صاف یہ آچکا ہے کہ بہکنے والوں کے گناہ جوں کے توں رہویں گے۔
1 ؎ تفسیر الدرالمنثور ص 116 ج 4۔
Ayah 16:2525۔ اس سے پہلے کی آیت میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ مشرکین مکہ اجنبی لوگوں کے بہکانے کی غرض سے قرآن شریف کو کہتے تھے کہ یہ پہلے اہل کتاب کی کتابوں سے چن چن کر پہلے لوگوں کی کہانیاں بنالی ہیں اس لئے فرمایا جو لوگ ایسی باتیں کہہ رہے ہیں اس کا بدلہ ان کو آخرت میں ملے گا اپنے گناہ کا بوجھ بھی بھرپور اٹھائیں گے اور جن لوگوں کو بہکا رکھا ہے ان کے گناہ کا بوجھ بھی ان کے کاندھے پر ہوگا اور یہ بہت ہی برا بوجھ ہوگا کہ ان کو اپنے برے کاموں کی بھی سزا ہوگی اور ان کے پیروی کرنے والوں کے بد افعال کی بھی۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتا ہے اس کو اسی قدر اجر ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور پیروی کرنے والوں کے اجر میں سے کچھ بھی کمی نہ ہوگی اور جس نے گمراہی کی طرف لوگوں کو بلایا اس پر اتنا ہی گناہ ہے جتنا اس کے تابعداروں پر ہوگا اور اس کے تابعداروں سے بھی کوئی گناہ کم نہیں کیا جائے گا 1 ؎۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ اور ابو سعید خدری ؓ سے روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایماندار شخص کو کسی بیماری کی یا اور کسی طرح کی دنیا میں تکلیف پہنچے تو اس سے اس شخص کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں 2 ؎۔ آیت کے ٹکڑے لیحملوا اوزارھم کاملۃ یوم القیمۃ کو اور اس حدیث کو ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ مشرکوں کے نامہ اعمال میں قیامت کے دن وہ معافی کہیں نظر نہ آوے گی جس کا ذکر حدیث میں ہے بلکہ مشرکوں کو ہر قسم کے گناہوں کی پوری سزا ملے گی۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 29 باب الاعتصام بالکتاب والسنہ۔
2 ؎ الترغیب ص 265 ج 2 الترغیب نے الصبر الخ۔
Ayah 16:2626۔ تفسیر مقاتل بن حیان تفسیر عبد الرزاق اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور زید بن اسلم سے روایت ہے کہ یہ نمرود کی عمارت کا حال ہے 1 ؎۔ پانچ ہزار گز اونچی اونچی عمارت بابل میں نمرود نے اس ارادہ سے بنائی تھی کہ آسمان پر چڑھ کر خدا سے مقابلہ اور لڑائی کرے آخر سخت آندھی اور زلزلہ سے وہ عمارت گری اور ہزاروں آدمی نمرود کے لشکر کے دب کر مرگئے چار سو برس تک نمرود زمین میں بڑے بڑے ظلم اور ستم کرتا رہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا طرح طرح کے جبر کر کے لوگوں کو ملت ابراہیمی سے روکتا رہا آخر اس ذلت سے ہلاک ہوا کہ حکم الٰہی سے مچھر اس کی ناک کے نتھنے سے دماغ میں گھس گیا ہر وقت وہ مچھر اس کے دماغ میں کاٹتا تھا اور وہ لوگوں سے تسکین کے لئے اپنے سر پر جوتیاں اور دوہتڑ پٹواتا تھا جتنے عرصہ تک اس نے دنیا میں ظلم کیا تھا وہی چار سو برس کے عرصہ تک جوتیاں کھاتا اور ذلت سے جیتا رہا پھر ہلاک ہوگیا اس قصہ کے ذکر فرمانے میں قریش کو یہ تنبیہہ ہے کہ یہ لوگ اپنے دعوے میں جس ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلاتے ہیں جس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کو اس ملت ابراہیمی کا دنیا میں پھیلانا منظور تھا اتنے بڑے جابر صاحب حکومت بادشاہ نمرود نے ملت ابراہیمی کا پھیلنا روکا آخر کو ذلت پائی اور ملت ابراہیمی ایسی پھیلی کہ آج تک موجود ہے اب دین محمدی کا پھیلانا اللہ کو منظور ہے تم جو موسم حج میں مکہ کے ناکوں پر آدمی بٹھا کر باہر سے جو لوگ مکہ میں آتے ہیں ان کو بہکاتے ہو اور دین محمدی کے اختیار کرنے والوں کو روکتے ہو دیکھو نمرود کی طرح ذلت اٹھاؤ گے اور آخر ہوگا وہی جو اللہ کے ارادہ میں ہے اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے آخر وہی ہوا کہ مکہ میں دین محمدی کے روکنے والے جتنے شخص تھے ابو جہل ولید بن مغیرہ وغیرہ یہ سب ذلت کی موت سے مارے گئے اور آخرت کا عذاب اپنے سر لے گئے اور دین محمدی کو جو عروج ہوا وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور جن بتوں کی حمایت کے جوش میں یہ مشرک لوگ دین محمدی کا پھیلنا نہیں چاہتے تھے فتح مکہ کے دن ان کی جو ذلت ہوئی اس کا قصہ صحیح بخاری کی عبد اللہ بن مسعود ؓ کی اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایتوں سے گزر چکا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت اوپر گزر چکی ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے ظالم لوگوں کو ظلم سے باز آنے کے لئے مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑ لیتا ہے تو بالکل ہلاک کردیتا ہے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ چار سو برس تک اللہ تعالیٰ نے نمرود کو مہلت دی جب وہ اس مہلت میں اپنے ظلم و ستم سے باز نہ آیا تو اس کو اس ذلت سے ہلاک کردیا جس کا ذکر اوپر گزرا۔ واتاھم العذاب من حیث لا یشعرون۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو عمارت نمرود نے بڑی مضبوطی سے بنائی تھی اس کا ایسی جلدی گر جانا اور نمرود جیسے صاحب حکومت صاحب لشکر بادشاہ کا اس طرح کی ذلت و خواری سے ہلاک ہونا اس وقت کے لوگوں کی سمجھ سے باہر ایک بات تھی۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 566 ج 2 و الدر المنثور ص 117 ج 4۔
Ayah 16:2727۔ اللہ پاک نے فریب سے دین الٰہی کے روکنے کا نتیجہ جو کچھ دنیا میں ہوا اس کو بیان کر کے انہیں مکاروں کا آخرت کا حال یہ بیان کیا کہ یہ لوگ قیامت کے دن بہت ذلیل و رسوا ہوں گے اللہ پاک ان کی مکر کی باتوں کو اور ان بھیدوں کو جو ان کے دل میں پوشیدہ ہوں گے اپنی ساری مخلوق کے سامنے ظاہر کر دے گا۔ صحیحین میں ابن عمر ؓ کی ایک حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر ایک دغا باز کا جھنڈا اس کے ساتھ ہوگا اور اس کے فریب کے بموجب کہا جائے گا یہ فلاں شخص کا فریب ہے 1 ؎۔ پھر اللہ تعالیٰ ان دغا بازوں سے یہ کہے گا کہ وہ کہاں ہیں جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھہرایا تھا اور ان کی حمایت میں اللہ کے رسولوں کے ساتھ جھگڑا کرتے تھے اور جن کی وجہ سے تم مسلمانوں سے لڑا کرتے تھے اب انہیں بلاؤ وہ کہاں گئے تمہاری مصیبت کے وقت مدد کرنے نہیں آتے پھر جب ان پر حجت تمام ہوچکے گی تو نیک لوگ بطور طعن وتشنیع کے کہیں گے بیشک آج کی رسوائی اور ذلت کفاروں ہی کے واسطے ہے۔ مفسروں نے اختلاف کیا ہے کہ اس بات کے کہنے والے کون لوگ ہوں گے بعضوں نے یہ بیان کیا ہے کہ علما ہوں گے جو اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کر کے سمجھایا کرتے تھے اور قوم کے لوگ نہیں مانتے تھے اس روز ان کی رسوائی اور ذلت دیکھ کر وہ علماء کہیں گے کہ ہماری نصیحت نہ مانی کفر پر جمے رہے آج دیکھ لیا کہ کیسی ذلت ہو رہی ہے اور بعضے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ اس کلام کے کہنے والے انبیاء ہوں گے وہاں کہیں گے کہ ہماری باتیں تم نے نہیں مانیں خدا کے ساتھ بتوں کو شریک ٹھہرایا اور کفر کیا اب دیکھ لیا کیسی رسوائی ہو رہی ہے اور بعضوں نے یہ کہا ہے کہ کہنے والے اس وقت کے فرشتے ہوں گے انہیں طعنہ دے کر غصہ دلانے کو یہ بات کہیں گے۔ صحیح قول یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ انبیاء عام ایماندار سب کے منہ سے یہ بات نکلے گی۔ صحیح بخاری، مسلم، ترمذی اور ابوداؤد میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو جن لوگوں پر عذاب کرنا منظور ہوگا ان کا حساب بڑی جلدی سے لیا جاوے گا 2 ؎۔ اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ کفر و شرک ریا کاری اور بدعت کے حساب کی کرید میں اسی طرح کے سوالات کئے جاویں گے جس طرح مثلاً اس آیت میں مشرکوں سے سوال کیا گیا کہ وہ جھوٹے معبود کہاں ہیں تمہاری مصیبت کے وقت تم کو مدد کیوں نہیں دیتے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 452 ج 1 باب اثم الغ اور للبر والفاجر۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 484 باب الحساب والقصاص والمیزان۔
Ayah 16:2828۔ اس آیت کے ٹکڑے میں بد لوگوں کی اور اس سے آگے جو ٹکڑا ہے اس میں نیک لوگوں کی قبض کا حال ہے۔ دونوں طرح کی روحوں کے قبض ہونے کے حال میں معتبر سند سے ابوداؤد و نسائی ابن ماجہ اور مسند امام احمد بن حنبل میں براء بن عازب ؓ وغیرہ سے جو روایتیں آئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے لئے خوفناک صورت کے فرشتے آتے ہیں اور عذاب قبر اور عذاب قیامت کا حال اس قریب المرگ شخص کی روح کو سناتے ہیں۔ اس حال کو سن کر وہ روح ڈرتی ہے اور جگہ جگہ بدن میں چھپتی ہے وہ فرشتے روح کو بدن سے نکالنے کی غرض سے اس بد شخص کے منہ اور اس کی پیٹھ پر بری طرح سے مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خبیث اب بدن سے نکل اللہ کا غضب اور عذاب تیرے لئے تیار ہے آخری قبض روح کے وقت کی سختی کی مثال حدیث میں یہ ہے کہ جس طرح بھیگی ہوئی اون میں گرم سینچا چلا کر نکالا جاوے اور نمی کے سبب سے ان کے سب بال سینچہ کو لپٹ جاتے ہیں اور سومھی اون کے بالوں کی طرح اڑ کر کوئی بال جلنے سے نہیں بچ سکتا اسی طرح بدن کے رونگٹے رونگٹے کو تکلیف پہنچ کر بد آدمی کی روح نکلتی ہے روح کے نکلتے ہی زمین پر ایک طرح کی بدبو پھیلتی ہے آنحضرت ﷺ نے اس بدبو کا ذکر فرماتے وقت ناک کو کپڑا لگا لیا تھا کہ گویا بدبو آہی رہی ہے۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ ؓ جب اس حدیث میں بدبو کے ذکر کی روایت کرتے تھے تو ناک کو کپڑا لگا لیا کرتے تھے اسی طرح اس بدبو کے پھیلنے سے آسمان کے فرشتوں کو ایک طرح کی اذیت ہوتی ہے اور آسمان کے فرشتے اس روح کو بہت برا کہتے ہیں اور یہ قبض روح والے فرشتے اس روح کو ایک ٹاٹ کے ٹکڑے میں لپیٹ کر خدا تعالیٰ کے روبرو لے جانا چاہتے ہیں مگر آسمان کے دروازے کھلنے کا حکم نہیں ہوتا اور اس روح کو پھر جسم میں لایا جا کر منکر نکیر کا سوال ہوتا ہے اور جواب پورا نہ ہونے سے سجنا مقام میں جو ساتوں زمین کے نیچے ہے اس روح کا نام لکھ لیا جاتا اور طرح طرح کا عذاب قبر شروع ہوجاتا ہے جس سے اللہ ہر ایک مسلمان کو محفوظ رکھے ایک بد صورت شخص قبر میں آن کر مردے سے کہتا ہے کہ آج وعدے کا دن ہے مردہ کہتا ہے۔ تجھ کو خدا کی مار تو کون ہے وہ کہتا ہے میں تیرا بد عمل ہوں۔ غرض یہ مردہ ہمیشہ عذاب قبر میں مبتلا رہتا ہے اور دعا مانگتا رہتا کہ قیامت دیر میں قائم ہو تاکہ اس سے زیادہ عذاب میں نہ پھنسوں نیک لوگوں کی قبض روح کے وقت خوبصورت فرشتے آتے ہیں اور جنت کی خوشبو کا بسا ہوا ایک ریشمی کپڑے کا ٹکڑا لاتے ہیں اور روح کو اللہ کی رضا مندی اور جنت کی نعمتوں کی خوشخبری سناتے ہیں مثال کے طور پر حدیث میں فرمایا ہے کہ جس طرح پانی کی بھری ہوئی مشک میں سے پانی کے قطرے جلدی جلدی مشک کے دہانے سے ٹپک کر نکل جاتے ہیں اللہ کی رضامندی اور جنت کی نعمتوں کا حال سن کر اس طرح پھرتی اور آسانی سے تمام جسم کی نیک روح اکٹھی ہو کر جھٹ بدن سے نکل جاتی ہے اور اس کے نکلتے ہی ایک خوشبو آسمان کے فرشتے تک پہنچتی ہے جس کو سونگھ کر آسمان کے فرشتے آپس میں کہتے ہیں آج کوئی نیک روح بدن سے الگ ہوئی ہے اسی کی یہ خوشبو ہے اور آسمان کے ہر دروازے کے فرشتے یہ آروز کرتے ہیں کہ ہماری طرف سے یہ روح آوے تو اچھا ہے قبض روح کرنے والے فرشتے اس روح کو اس ریشمی خوشبو دار کپڑے میں لپیٹ کر جب آسمان پر لے جاتے ہیں تو ہر ایک آسمان کے فرشتے اپنے علاقے تک اس روح کے ساتھ جاتے ہیں بڑی عزت سے اس شخص کا نام لیتے ہیں جس کی یہ روح ہے یہاں تک کہ اللہ کے روبرو اس روح کو لے جاتے ہیں وہ روح اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس روح کو علیین میں لکھ لو علیین ساتویں آسمان پر ایک مقام ہے پھر وہ روح جسم میں لائی جاتی ہے اور منکر نکیر کے سوال و جواب کے وقت وہ ثابت قدمی اللہ کی طرح سے عنایت ہوتی ہے جس کا ذکر اوپر گزرا اور منکر نکیر کا جواب پورا ادا ہوجاتا ہے تو بڑا خوب صورت ایک شخص قبر میں اس نیک مردہ کے پاس آتا ہے یہ نیک مردہ اس شخص سے پوچھتا ہے تو کون ہے وہ کہتا ہے میں تیرا نیک عمل ہوں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ تمام اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ آدمی کے مرجانے کے بعد روح فنا نہیں ہوتی بلکہ اچھی روحیں طرح طرح کے جانوروں کی شکل میں جنت میں چرتی پھرتی ہیں اور بری روحیں عذاب میں گرفتار رہتی ہیں لیکن اچھی روحیں قیامت کے قائم ہونے کی دعا مانگتی رہتی ہیں کیونکہ آدمی کے بھیس میں آن کر خاص مکان اور ہر طرح کا عیش تو ان کو قیامت کے قائم ہونے کے بعد ملے گا بالفعل تو وہ جنت میں اس طرح ہیں جس طرح کوئی اوپری جانور کسی باغ میں ہوتا ہے اگرچہ بعضے علماء نے یہ کہا ہے کہ قیامت سے پہلے سوا شہیدوں کے اور کوئی روح جنت میں نہ جاوے گی لیکن حدیث شریف میں عام مسلمانوں کی روحوں کے جنت میں رہنے کا ذکر قیامت سے پہلے آچکا ہے۔ چناچہ معتبر سند سے نسائی، مؤطا اور بیہقی کی کتاب بعث و نشور میں کعب بن مالک ؓ کی روایت 1 ؎ میں اس کا ذکر صراحت سے ہے۔ شہیدوں کی روحوں اور عام ایمانداروں کی روحوں میں فرق اسی قدرے ہے کہ عام ایمانداروں کی روحیں پیدل شخص کی طرح جانوروں کی شکل سے جنت میں جاویں گی اور شہیدوں کی روحیں سوار شخص کی طرح سبز جانوروں کے پوٹے میں ہوں گی جس کا ذکر مسند امام احمد وغیرہ کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت میں ہے۔ فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوء اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت وقت پر عذاب کے فرشتوں کو دیکھ کر اپنے آپ کو فرمانبردار ٹھہرا کر نافرمانی کا انکار کریں گے مگر اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کے اس انکار کو جھٹلاوے گا۔
1 ؎ شرح الصدور (از سیوطی) ص 96۔ 97۔