Ayahs 16:84–8784۔ 87۔ اللہ پاک نے مشرکوں کے نتیجے جو قیامت کے دن ہوں گے ان کو ان آیتوں میں بیان فرمایا کہ ہر ایک امت کا گواہ اس روز اس امت کا پیغمبر کھڑا ہو کر اس بات کی گواہی دے گا کہ جو پیغام خدا کی طرف سے ان کے پاس پہنچایا گیا اس کا کیا جواب ان لوگوں نے دیا کس کس نے ان کی رسالت کی تصدیق کی اور کس کس نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اگرچہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔ لیکن اس نے مخلوق کے حساب و کتاب کا دارو مدار اپنے علم پر نہیں رکھا ہے جس طرح دنیا میں انسان کی عادت جاری ہے کہ ہر ایک مقدمہ میں گواہ پیش ہو کر فیصلے ہوا کرتا ہے اسی طرح آخرت میں بھی گواہوں کی شہادت سن کر فیصلہ کیا جائے گا غرض کہ جس وقت انبیاء و رسول ہر ہر امت کے خدا کے روبرو ان کی گواہی دیں گے اور مشرکین لوگ جب اس گواہی کو نہ مانیں گے تو مشرکوں کے اعضاء سے گواہی دلوائی جاوے گی پھر ان مشرکوں کا کوئی عذر نہیں سنا جائے گا اور نہ ان کو زبان کھولنے کی اجازت ملے گی۔ پھر مشرکین اور کفار جنہوں نے خدا کی نافرمانی کر کے دنیا میں اپنی جان پر ظلم کیا تھا جہنم کے عذاب کو دیکھیں گے اور ان پر عذاب ہونے لگے گا تو پھر اس میں کمی نہیں کی جائے گی دم لینے کی بھی مہلت نہیں ملے گی اور جس و قت مشرکین اپنے ان معبودوں کو دیکھیں گے جنہیں دنیا میں وہ پوجتے تھے اور خدا کا شریک ٹھہراتے تھے تو کہنے لگیں گے کہ اے رب یہی ہمارے وہ شریک ہیں جنہیں ہم تیرے سوا دنیا میں پوجتے تھے اور پکارتے تھے انہیں کی نسبت ہمارا یہ خیال تھا کہ ان کے سبب سے ہمیں تیری قربت حاصل ہوگی اور انہیں کی نسبت ہمارا یہ اعتقاد تھا کہ تیرے دربار میں ہماری شفاعت کریں گے مشرکوں کی یہ باتیں سن کر ان کے وہ معبود جلدی سے ان کے قول کو جھٹلا دیں گے کہ تم محض جھوٹے ہو تم نے ہرگز ہماری عبادت نہیں کی تم تو اپنی خواہش نفسانی کے پیرو تھے تمہارا نفس جو کچھ تمہیں سکھلاتا تھا وہی کرتے تھے۔ یہاں شہید کے معنے گواہ کے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں قتادہ کا قول ہے کہ ہر ایک امت کی حالت پر یہ رسولوں کی گواہی اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہوگی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام اپنی امتوں کو پہنچادیا۔ مسند امام احمد، صحیح بخاری، نسائی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے سورت الاعراف میں ابو سعید خدری ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 1 ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ جن امتوں نے دنیا میں اپنے رسولوں کی نافرمانی کی ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان امتوں کے رسولوں سے پوچھے گا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے احکام اپنی امتوں کو پہنچاوے تھے اللہ تعالیٰ کے رسول جواب دیویں گے یا اللہ تجھے خوب معلوم ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو تیرے سب احکام پہنچادئیے تھے۔ اس حدیث قتاد کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے اس لئے قتادہ کا قول اور یہ حدیث آیت کے ٹکڑے ویوم نبعث من کل امتۃ شھیدا کی تفسیر ہے۔ صحیح بخاری میں سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نافع بن ازرق نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے پوچھا تھا کہ قرآن شریف میں کہیں تو یہ ہے کہ مشرکوں کو قیامت کے دن بات کرنے اور کسی عذر کے پیش کرنے کا حکم نہ ہوگا اور کہیں یہ ہے کہ مشرک لوگ قسمیں کھا کھا کر اللہ تعالیٰ کے روبرو شرک کا انکار کریں گے اس اختلاف کا کیا سبب ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے اس کا جو جواب دیا اس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت پچاس ہزار برس کا دن ہے اس میں یہ مشرک لوگ پہلے پہل شرک سے انکار رسولوں کا جھٹلانا سب کچھ کریں گے پھر آخر کو ان کے منہ پر خاموشی کی مہر لگائی جا کر ان کے ہاتھ پیروں سے گواہی لی جاوے گی اس کے بعد ان کو جھوٹ بولنے اور کسی جھوٹے عذر کے پیش کرنے کا موقع باقی نہ رہے گا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد صحیح ابن حبان اور مسند ابی یعلی میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کا دن پچاس ہزار برس کا ہوگا 2 ؎۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 3 ؎ کہ جب مشرک لوگ اپنے اسلام کا جھوٹا دعویٰ کریں گے تو ان کے منہ پر خاموشی کی مہر لگائی جا کر ان کے اعضاء سے اصل حال کی گواہی ہی ادا کرائی جاوے گی تاکہ ان کا جھوٹ اچھی طرح کھل جاوے اور یہ لوگ پورے قائل ہوجاویں۔ ان حدیثوں سے عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول اور یہ حدیثیں آیت کے ٹکڑے ثم لا یؤذن للذین کفرو ولا ھم یستعتبون کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ آیت کے اس ٹکڑے میں مشرکوں کی ایک خاص حالت کا ذکر ہے دوزخیوں کی جلی ہوئی کھال کے گھڑی گھڑی بدلے جانے کا ذکر مشرکوں کے جھوٹے معبودوں کا اپنے پوجنے والوں سے بیزار ہونے کا ذکر۔ مشرکوں کے شرک سے پچھتانے کا ذکر یہ سب اوپر گزر چکا ہے وہی باقی آیتوں کی تفسیر ہے۔
1 ؎ تفسیر ہذا جلذ دوم ص 231۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 581 ج 4۔
3 ؎ جلد ہذا ص 339۔
Ayah 16:8888۔ علماء مفسرین نے اس میں بڑا اختلاف کیا ہے کہ وہ عذاب پر عذاب جو زیادہ دیا جاوے گا جس کا ذکر اس آیت میں ہے وہ کس قسم کا عذاب ہوگا لیکن اوپر حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث صحیح مسلم کی روایت سے بیان ہوچکی ہے کہ جو کوئی شخص کوئی راستہ نیک نکالے تو اس نیک راستہ پر جتنے لوگ دنیا میں عمل کریں گے جس قدر اجر ان عمل کرنے والوں کو ملے گا اتنا ہی اجر نیک راستہ نکالنے والوں کو ملے گا اسی طرح جو کوئی شخص دنیا میں کوئی برا طریقہ ایجاد کرے گا تو جس قدر لوگ اس برے طریقہ پر چلیں گے جتنا عذاب ان کو ہوگا اتنا ہی عذاب برا رستہ نکالنے والے پر ہوگا 1 ؎۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوگیا کہ ہر نیکی اور بدی کا ثواب و عذاب اللہ کی بارگاہ میں مقرر ہے اس صورت میں آیت کی تفسیر میں اختلاف کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے بلکہ اس صحیح مسلم کی حدیث کے معنے و تفسیر آیت کے یہ ہیں کہ جو کوئی خود برا کام کرے گا اس کو جو سزا اس برے کام کی مقرر ہے وہ ملے گی اور جو کوئی برا کام کر کے دوسرے شخص کو کسی نیک کام سے روکے گا اور باز رکھے گا اس باز رہنے والے شخص کو جو سزا ہوگی اس قدر اس باز رکھنے والے کو بھی ہوگی مثلاً زید نے فرض نماز ترک کردی تو تارک الصلوٰۃ کی سزا زید کو ہوگی اور خالد نے خود فرض نماز چھوڑ دی اور حامد کو بہکا کر اس کا روزہ چھڑوا دیا تو خالد کو تارک الصلوٰۃ اور تارک صوم دونوں شخصوں کی سزا ہوگی اور حامد کو فقط تارک صوم کی جو سزا ہے وہی ہوگی صحیح مسلم میں سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ کی آگ بعضے لوگوں کو ٹخنوں تک جلاوے گی اور بعضوں کو گھٹنوں تک اور بعضوں کو کمر تک اور بعضوں کو گردن تک 2 ؎ سوا اس کے اور صحیح حدیثوں میں ہے جن کا حاصل یہ ہے کہ اہل جنت اور اہل دوزخ کے درجے ہیں اور یہ درجہ ہر نیکی اور بدی کی جزا و سزا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ خود بہکنا اور دوسروں کو بہکانا یہ دو گناہ ہیں دونوں گناہ ہونگے گنہگاروں کو دوہری سزا دی جاوے گی اور اس دوہری سزا کے مناسب حال و دوزخ کے درجہ میں ایسے لوگوں کو رکھا جاوے گا۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 341 ج 2 باب من سن سنتہ سنتہ او سینتہ الخ۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صفتہ النار واہلہا۔
Ayah 16:8989۔ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس آیت میں خطاب کر کے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر امت کے رسول اس امت کی حالت کی گواہی دیں گے اور جب وہ امتیں اپنے رسولوں کو جھٹلاویں گی تو اے رسول اللہ کے تم ان رسولوں کے بیان کی صداقت کرائی جاوے گی کیوں کہ قرآن میں یہ سب صداقت موجود ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث جو اوپر گزری 1 ؎ اس میں یہ ہے کہ قیامت کے دن نوح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے رسالت کی تبلیغ کی تھی۔
نوح (علیہ السلام) کہیں گے کہ ہاں اے رب ہمارے ہم نے تبلیغ کی تھی پھر ان کی امت سے سوال کیا جائے گا کہ تمہارے پاس نوح (علیہ السلام) نے پیغام پہنچایا تھا وہ لوگ کہیں گے ہمارے پاس تو کوئی پیغمبر ڈرانے والا نہیں پہنچا پھر نوح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا کوئی گواہ ہے وہ فرماویں گے محمد ﷺ اور ان کی امت گواہ ہے غرض کہ امت محمد ﷺ بلائی جائے گی اور وہ ان کی صداقت کی گواہی دے گی کہ نوح (علیہ السلام) نے ان کے پاس پیغام پہنچایا تھا۔ جس کا قرآن میں ذکر ہے۔ غرض کہ اسی طرح ہر ایک رسول سے سوال کیا جائے گا اور وہ اپنی امت کے گواہ ہوں گے اور حضرت رسول مقبول ﷺ اور ان کی امت عام لوگوں کے گواہ ہوں کسی فرقہ اور کسی قوم اور کسی شہر والوں کے ساتھ یہ بات خاص نہ ہوگی۔ پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ اللہ نے وہ کتاب اتاری ہے جو ساری باتیں کھول کھول کر بیان کرتی ہے اسی واسطے اس میں پہلے رسول کے بیان کی صداقت موجود ہے اور جو لوگ فرمانبردار ہیں ان کو یہ کتاب نجات کا رستہ بتاتی ہے اور جو اس پر عمل کرتے ہیں ان کے لئے یہ کتاب اللہ کی رحمت اور جنت کی خوشخبری ہے۔
1 ؎ یعنی ص 360 پر۔
Ayah 16:9090۔ مفسروں کے قول عدل و احسان کے متعلق مختلف ہیں بعضوں نے کہا ہے کہ عدل کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے اور احسان فرائض کا ادا کرنا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے بھی ایک روایت میں یوں ہی ہے 1 ؎۔ اور دوسری روایت میں یوں ہے کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا یہ عدل ہے اور خدا کی عبادت کرنا کہ عبادت کرنے والا گویا خدا کو دیکھ رہا ہے۔ یہ حسن عبادت ہے اسی کو احسان فرمایا ہے عدل کے معنے انصاف کے ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اس لئے اللہ کی تعظیم میں کسی کو شریک نہ کرنا عین انصاف اور شریک کرنا بڑی ناانصافی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق یہاں عدل کے یہی معنے مناسب ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں شرک سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں اس حدیث سے عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے صحیح مسلم میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کی روایت سے ایک حدیث ہے جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا کی عبادت اس طرح کرو گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو یہ سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے 3 ؎۔ اس حدیث سے احسان کی صحیح تفسیر وہی ہے جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے ایک قول کے موافق اوپر گزری پھر اللہ پاک نے عدل و احسان کے بعد قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم فرمایا کہ ان کو دیتے لیتے رہو اگر خدا کا فضل تمہارے شامل حال ہو اور تمہیں مقدور ہو تو روپے پیسے سے ان کی مدد کرو تم آپ بھوکے محتاج ہو تو میل ملاپ محبت مروت کی ہمدردی ان کے ساتھ کرتے رہو پھر اللہ پاک نے نیک خصلتوں کے اختیار کرنے کا حکم فرما کر برے اختلاق سے منع فرمایا کہ فحش باتوں سے بچتے رہو۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فحشاء کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے کہ مراد اس سے زنا ہے کیونکہ انسان میں جو جو بری خصلتیں ہوتی ہیں ان سب میں زیادہ قبیح یہی زنا ہے اور بعضوں نے اس کی تفسیر عام رکھی ہے کہ ہر فعل و قول جو انسان کے نزدیک مذموم ہو خواہ زنا ہو خواہ کچھ ہی ہو یہی فحشا ہے معتبر روایتوں میں اللہ کے رسول ﷺ نے شرم کے مقابلہ میں فحشاء کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس سے پچھلے معنے کی پوری تائید ہوتی ہے۔ منکر کی تفسیر بعضوں نے یہ بیان کی ہے کہ جو بات شریعت خدا اور سنت رسول اللہ میں نہ پائی جاوے وہ منکر ہے اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ شرک و کفر کو منکر فرماتے ہیں تیسری چیز جس سے بچنے کو اللہ پاک نے فرما دیا وہ سرکشی ہے معتبر سند سے ترمذی اور ابن ماجہ نے ابی بکرہ ؓ سے روایت کی ہے 4 ؎۔ کہ سرکشی اور قطع رحم بڑا گناہ ہے جس کے گناہ گار کو دنیا میں جلد ہی عذاب کیا جاتا ہے عبد اللہ بن مسعود ؓ اس آیت کے متعلق یہ بیان فرماتے تھے۔ کہ قرآن مجید میں اس سے زیادہ جامع کوئی آیت نہیں ہے معتبر سند سے مسند بزار اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قرابتداروں کے ساتھ سلوک کرنے سے آدمی کے رزق و عمر میں ترقی ہوتی ہے 5 ؎۔ صلہ رحمی کی فضیلت کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے یعظکم لعلکم تذکرون اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو نصیحت فرمائی ہے وہ ہر ایمان دار شخص کو یاد رکھنی چاہیے بغی سے مطلب احکام الٰہی سے سرکشی کرنے کے ہیں جس طرح مشرکین مکہ اللہ کے رسول کی مخالفت اور احکام الٰہی کی تعمیل میں سرکشی کرتے تھے۔
1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 122 ج 14۔
2 ؎ جلد ہذا ص 204۔ 206 وغیرہ۔
3 ؎ مشکوٰۃ ص 11 کتاب الایمان۔
4 ؎ مشکوٰۃ ص 420 باب البرو الصلۃ۔
5 ؎ الترغیب ص 129 ج 2 الترغیب نے صلتہ الرحم الخ۔
Ayahs 16:91–9291۔ 92۔ اوپر کی آیت میں جن احکام کا ذکر تھا اس میں سے ایفائے عہد کو اللہ جل شانہ نے خاص طور پر علیحدہ بیان فرمایا اور یہ عہد علم ہے خواہ بیعت کا عہد ہو خواہ کوئی اور عہد ہو غرض انسان رات دن اپنے معاملات دینی یا دنیاوی جو قول وقرار کیا کرتا ہے اس کے خلاف کرنے کو منع فرمایا کہ جب تم کسی بات کا عہد کرو تو اس کو پورا کرو اور اگر کسی بات پر قسم کھاؤ تو اس کو توڑو نہیں اور خاص کر اس صورت میں جب کئی بار قسمیں کھائی ہوں کیونکہ تاکیدی قسم کے توڑنے کا گناہ معمولی قسم کے توڑنے سے بڑھ کر ہے۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی بات پر قسم کھائی اور پھر دوسری بات کو اس سے بہتر دیکھا تو وہ کام کرے جو پہلے کام سے بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے 1 ؎ کیونکہ اللہ جل شانہ دوسری جگہ بیان فرماتا ہے لا یؤاخذ کم اللہ باللغوفی ایمانکم جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تمہیں ناکارہ قسموں پر نہیں پکڑتا پھر اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا کہ عہد کر کے تم نے خدا کو اپنا ضامن بنایا ہے تو اسے تمہارے افعال کی پوری خبر ہے وہ تمہارے قول وقرار کے انجام کو خوب جانتا ہے کہ تم نے اپنے قول وقرار پورے کئے ہیں یا عہد شکنی کی ہے رات دن تم جو جو کام کیا کرتے ہو اسے سب معلوم ہیں اس کے موافق وہ تم کو جزا و سزا دے گا اس کے بعد اللہ پاک نے اس عورت کی مثال بیان فرمائی جو سوت کات کات کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا کرتی تھی فرمایا کہ ان لوگوں کی مثال جو عہد مضبوط کرلیتے ہیں اور پھر اس پر قائم نہیں رہتے۔ بعینہ اس عورت کی مثال ہے کہ سوت کات کات کر جمع کرتی اور جب اس سے نفع اٹھانے کا وقت آیا تو اس کو ٹکڑے کردیا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سعیدہ اسدیہ سوت بال اور چھال جمع کیا کرتی تھی اور اس کو کتواتی اور پھر ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیتی یہ آیت اس کی شان میں اتری ہے 2 ؎۔ امۃ سے مراد جماعت ہے اور اربی سے مراد اکثر ہے مطلب یہ ہے عرب آپس میں دوستی کا عہد کرتے ہیں اور پھر صاحب عہد قبیلہ نے علاوہ کسی اور قبیلہ کو زور آور دیکھتے ہیں تو پہلے قبیلہ کے عہد کو توڑ کر دوسرے زور آور قبیلہ کے طرف دار بن جاتے ہیں اسی کو اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اللہ کو سب چیزیں معلوم ہیں وہ عہد کے پورا کرنے کا حکم دے کر اس کی تعمیل کو آزماتا ہے اور قیامت کے دن بد عہدی کے گناہ تمہیں جتلائے جاویں گے اور حق و ناحق علیحدہ علیحدہ کردیا جاوے گا اور اسی کے موافق جزا وسزا کی جاوے گی۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر طرح کی بدعہدی کرنے والوں کے نام کا ایک جھنڈا قیامت کے دن کھڑا کیا جاوے گا اور بد عہد لوگوں کو اس جھنڈے کے نیچے جمع کیا جا کر تمام مخلوق کے روبرو رسوا کرنے کے لئے کہا جاوے گا کہ یہ لوگ طرح طرح کی بد عہدیاں کرنے والے ہیں 3 ؎۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے بد عہدی کو منافق کی نشانی فرمایا ہے 4 ؎۔ صحیح بخاری، ترمذی اور نسائی میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے ایک روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے جھوٹی قسم کو کبیرہ گناہ فرمایا ہے 5 ؎۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم صحیح ابن حبان اور طبرانی کبیر میں عبد اللہ بن مسعود ؓ اور حارث بن البر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جھوٹی قسم کا کفارہ نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹی قسم کا گناہ بغیر توبہ کے فقط کفارہ سے معاف نہیں ہوتا۔ بد عہدی اور جھوٹی قسم کا جو خمیازہ آدمی کو بھگتنا پڑے گا اس کا حال ان حدیثوں سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے اس واسطے یہ حدیثیں ان دونوں آیتوں کی گویا تفسیر ہیں۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 48 ج 2 باب مذب من حلف یمینا فرای غیر ہا غیر اً منہا الخ۔
2 ؎ تفسیر فتح البیان ص 724 ج 2۔
3 ؎ صحیح مسلم ص 83 ج 2 باب تحریم العذر۔
4 ؎ مشکوٰۃ ص 17 باب الکبائر و علامات اتفاق۔
5 ؎ صحیح بخاری ص 987 ج 2 باب الیمین الغموس الخ۔
Ayahs 16:93–9693۔ 96۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا کہ اگر اللہ جل شانہ چاہتا تو سارے جہان کے لوگوں کو ایک ہی فرقہ بنا دیتا کوئی کسی کا مخالف نہ ہوتا اور بد عہدی اور جھوٹی قسم کھانے کا موقع پیش نہ آتا مگر اس کی مشیت اس کو مقتضی نہ ہوئی اسی بات میں اس کی حکمت تھی کہ متعدد طریقے قائم ہوں اور وہ جس کو چاہے راہ راست پر آنے کی توفیق نہ دے اور جسے چاہے ہدایت دے دے اور پھر قیامت کے دن سارے لوگوں سے ان کے اعمال کی پرسش کرے کہ تم نے کیا بھلائی کی اور کیا برائی کی پھر اس کے بعد اللہ پاک نے اس بات کا ذکر کیا اور تاکید کی کہ تم قسم کھا کر اور قول وقرار کر کے پھرو نہیں اس میں بہت بڑی خرابی تمہارے لئے بھی ہے اور خدا کے دین میں بھی خلل آتا ہے تمہاری عہد شکنی اور وعدہ خلافی سے اور لوگ جو دین اسلام میں آنا چاہتے وہ بدظن ہوجائیں گے اور تمہارے قدم جمے ہوئے بھی اکھڑ جائیں گے اور جب تمہارے قدم اکھڑے اور دوسرے لوگ تمہارے دین میں نہ داخل ہوئے تو بےشبہ تمہاری قوت گھٹ جائے گی اور تمہیں ذلت نصیب ہوگی علاوہ اس کے آخرت میں تمہیں اس کردار کی سزا میں عذاب کا سامنا ہوگا یہاں قسم سے مطلب وہ بیعت اسلام ہے جو اسلام لانے کے وقت لوگوں سے لی جاتی تھی اس بیعت میں اسلام پر قائم رہنے کا مضبوط عہد لیا جاتا تھا اس لئے اس کو قسم کھانا فرمایا پھر اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا اور جتلایا کہ لالچ میں آنکر اور دنیا کے مال فانی کی حرص میں اگر خدا کے عہد کو توڑ ڈالو گے تو تمہارے حق میں بہتر نہ ہوگا دنیا کا مال اگرچہ کتنا ہی کثیر ہو اور کتنا ہی بیش بہا ہو مگر دنیا ہمیشہ کے لئے نہیں ہے اور نہ ہمیشہ اس کو بقا ہے اس لئے جو چیزیں اس کی ہیں وہ بھی پائدار نہیں اور اگر خدا کے عہد پر جمے رہو گے تو اس کا بدلہ آخرت میں جو کچھ تمہیں ملے گا وہ تمام دنیا کی دولت سے بدرجہا بہتر اور برتر ہے کیونکہ ہمیشہ کے لئے اس کو قیام ہے اور دائمی چیز اگر قلیل بھی ہو تو اس فانی چیز سے جو کثیر ہو کہیں بہتر سمجھی جاتی ہے تم اس بات کو جانتے نہیں ہو اگر تمہیں اتنا علم ہوجائے تو آخرت کے انعام پر دنیا کی فانی دولت کو ہرگز ترجیح نہ دو ۔ پھر یہ فرمایا کہ تم جس طرح ناپید ہونے والے ہو اسی طرح تمہارے پاس کی چیزیں بھی ناپید ہونے والی ہیں اور خداوند عالم جس طرح ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اسی طرح اس کے پاس کی چیزیں بھی دائم البقا ہیں پھر صبر کرنے والوں کو بشارت دی کہ صابرین کو ایسا اچھا بدلہ ملے گا جس طرح انہوں نے اپنے نفسوں پر جبر کر کے صبر کیا ہے اسی طرح اللہ پاک انہیں جزا بھی دے گا ایک عمل کا دس گنا سے لے کر سات سو تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بدلہ ملے گا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جانے کے قابل اب ہر شخص کو وہی کام اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں جو دنیا میں پیدا ہونے کے بعد علم الٰہی میں نیک قرار پاچکے ہیں وہ نیک کاموں کا ارادہ بھی کرتے ہیں اور نیک کام ان کو اچھے اور آسان بھی نظر آتے ہیں اور ان کے ارادوں کو پورے ہوجانے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوجاتی ہے۔ اور جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پاچکے ہیں وہ خود تو نیک کام کا ارادہ نہیں کرتے اور زبردستی ان کے دل میں نیک کام کے ارادہ کا پیدا کردینا انتظام الٰہی کے بر خلاف ہے کیونکہ دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے کسی کو زبردستی راہ راست پر لانے کے لئے نہیں پیدا کی گئی معتبر سند سے ابی برزہ اور معاذ بن جبل ؓ کی روایتیں ترمذی، مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکی ہیں 2 ؎۔ کہ قیامت کے دن چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا۔ (1) تمام عمر دنیا میں کیا کیا (2) جوانی کن کاموں میں گزاری (3) روپیہ پیسہ کیوں کر کمایا اور کہاں خرچ کیا (4) دین کی نصیحت پر کیا عمل کیا۔ یہ روایتیں ولتسئلن عما کنتم تعملون کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ عہد شکنی قسم کا توڑنا جھوٹی قسم کا کھانا غرض عمر بھر جو کچھ آدمی نے کیا ہے ان چار سوالوں کے جواب میں وہ سب کھل جاوے گا اور پھر اسی کے موافق سزا ہوگی۔ اچھی حالت سے کوئی شخص بری حالت میں آجاوے تو ایسے موقع پر عرب لوگ ذلت تدمہ بولتے ہیں۔ آیت میں اس محاورہ کا مطلب یہ ہے کہ اسلام پر قائم رہنے کا عہد کر کے جو شخص اس عہد سے پھر گیا تو گویا ایک اچھے موقع سے آپ کے پاؤں اکھڑ گئے۔ پاؤں ڈگ جانے اور پاؤں اکھڑے جانے کا ایک مطلب ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیثیں ایک جگہ گزر چکی ہے 3 ؎۔ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جو شخص کوئی ایسا برا طریقہ نکالے گا جس سے لوگ بہکیں گے تو ایسے لوگوں کو بہکنے کا جدا عذاب ہوگا اور انہوں نے برا طریقہ نکال کر اور لوگوں کو جو بہکایا اس کا عذاب ان پر جدا ہوگا یہ حدیث ولکم عذاب عظیم کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے اسلام پر قائم رہنے کے عہد کو جو توڑا اس کا عذاب ان پر جدا ہوگا اور ان کی بد عہدی کے دیکھا دیکھی جو لوگ اسلام کی طرف سے بدگمان ہوں گے اور اس بدگمانی کے سبب سے دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے رک جاویں گے اس کا عذاب ان لوگوں پر جدا ہوگا صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جتنی جگہ میں گھوڑے کا سوار اپنا کوڑا رکھتا ہے جنت میں اتنی سی جگہ تمام دنیا سے بہتر ہے 4 ؎۔ یہ حدیث انما عند اللہ ھو خیر لکم ان کنتم تعلمون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص نے دنیا کے کسی لالچ کے سبب سے اپنی عقبیٰ کو بگاڑا اگر وہ سمجھے تو ایسا شخص بڑے ٹوٹے میں رہا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ موت کو ذبح کیا جا کر جنتی اور دوزخیوں کو ہمیشہ کے لئے جنت اور دوزخ میں رہنے کا حکم سنایا جاوے گا 5 ؎۔ یہ حدیث ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے سب کی آنکھوں کے سامنے اس کو قیام نہیں اور عقبیٰ میں جو کچھ ہوگا اس کی پیشگی ہے۔ طبرانی کبیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جب شروع کی تکلیفوں اور تنگدستی پر صبر کرنے والوں کو بےحساب بدلہ دیا جائے گا اور لوگ یہ کہویں گے کہ دنیا میں ان کی بوٹیاں کوئی قینچی سے کاٹتا اور وہ صبر کرتے تو آج ان کو بھی بڑا بدلہ ملتا۔ آخر آیت میں صبر کے اجر کا جو ذکر مختصر طور پر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے اس حدیث کی سند میں ایک راوی مجاعتہ بن الزبیر ہے جس کو بعضے علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن امام احمد نے اس کو ناقابل اعتراض کہا ہے 6 ؎۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 738 ج 2 تفسیر سورة واللیل اذا یغشی۔
2 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 223 و جلد ہذا ص 238۔
3 ؎ جلد ہذا ص 360۔
4 ؎ صحیح بخاری ص 392 ج 1 باب الحور البین۔
5 ؎ صحیح بخاری ص 291 ج 2 باب قول وانذر ہم یوم الحسرۃ۔
6 ؎ الترغیب ص 265 ج 2 الترغیب فی الصبر الخ۔
Ayah 16:9797۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ جو شخص اسلام کے عہد پر قائم رہے گا اور نیک عمل کرے گا خواہ وہ عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت تو اس کو دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت میں بھی دنیا میں اس کی چین سے کٹے گی اور آخرت میں اس کے عمل کا بہتر سے بہتر بدلہ ملے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص مطابق شریعت کے عمل کرے گا اس کے لئے دنیا اور دین کا یہ اجر ہے۔ حیات طیبہ میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے اس کی تفسیر میں یوں کہا ہے کہ مراد حیات طیبہ سے رزق حلال ہے 1 ؎۔ جو دنیا میں نیک عمل کرنے والے مومن کو عطا ہوتا رہے گا اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے اس کی تفسیر قناعت کے ساتھ کی ہے 2 ؎۔ مسند امام احمد اور صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمر ؓ کی ایک حدیث ہے کہ وہ شخص با مراد ہے جو مسلمان ہوگیا اور جو حلال قوت لا یموت اسے ملے گا۔ اس پر اس نے قناعت کی۔ اس حدیث سے حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت علی ؓ کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے صہیب رومی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 3 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایماندار شخص کی زندگی ہر حالت میں اچھی ہے کیونکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اگر کچھ خوش حالی دی تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر کچھ تندگستی ہوئی تو صبر کرتا ہے صحیح مسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایماندار شخص کے نیک عملوں کا بدلہ اس کو دنیا میں بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کو اجر ملے گا ہاں نافرمان لوگوں کے نیک عملوں کا بدلہ دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ اجر کے قابل ان کی کوئی نیکی آخرت میں باقی نہیں رکھی جاتی 4 ؎۔ صحیح بخاری و مسلم میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایماندار شخص کے نیک عمل کا اجر آخرت میں دس گنا سے لے کر سات سو تک اور بعض نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ ملے گا 5 ؎۔ آیت میں ایماندار شخص کی دنیا کی اچھی زندگی اور عقبیٰ کے بہتر بدلہ کا جو ذکر ہے ان حدیثوں کو اس کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایماندار شخص کی زندگی ہر حال میں اچھی ہے کیوں کہ اس کی خوشحالی کی زندگی شکر گزاری کی ہے اور تنگدستی کی زندگی صبر و قناعت کی اور عقبیٰ میں اس کی شکر گزاری اور صبر و قناعت کا اور اسی طرح باقی کی نیکیوں کا اجر دس گونہ سے لے کر سات سو تک اور بعض نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ ملے گا آیت میں وھو مومن جو فرمایا اس کی یہ تفسیر انس بن مالک ؓ کی اوپر کی حدیث سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ عقبیٰ کے اجر کے لئے ایمانداری کی شرط ضروری ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 585 ج 2۔
2 ؎ تفسیرابن کثیر ص 585 ج 2۔
3 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 452
4 ؎ تفسیر ابن کثیر 505 ج 3۔
5 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 316۔ 317 ج 1۔
Ayahs 16:98–10098۔ 100۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ حکم فرمایا کہ جب قرآن پڑھنے لگو تو پہلے خدا کے نام کے ساتھ شیطان سے پناہ مانگ لو علماء کے نزدیک یہ حکم واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ خدا و رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور خدا ہی پر ہر ایک کام میں اپنا بھروسہ اور تکیہ لگائے ہوئے ہیں شیطان کا ان پر کوئی قابو نہیں چلتا اور جن لوگوں نے شیطان کو اپنا رفیق ٹھہرا لیا ہے اور ہر ایک کام میں اس کو شریک ٹھہراتے ہیں انہیں پر شیطان کا زور بھی چلتا ہے اور وہ انہیں کے دل میں وسوسہ ڈال ڈال کر گمراہ کرتا رہتا ہے۔ یہاں اس بات کا اختلاف ہے کہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ قرأت کے پہلے ہونا چاہیے یا بعد میں اکثر صحابہ وتابعین و تبع تابعین اور ائمہ و فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ قرأت سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم کہنا چاہیے اور یہی مذہب صحیح ہے۔ تلاوت قرآن سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم کا کہنا اسی بنا پر مستحب معلوم ہوتا ہے کہ شیطان تلاوت کے وقت دل میں وسوسہ نہ ڈالے۔ صحیح مسلم میں عثمان بن ابی العاص سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے شکایت کی کہ نماز اور تلاوت قرآن کے وقت شیطان ان کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈال کر پریشان کرتا ہے نہ دل لگا کر نماز پڑھنے دیتا ہے نہ قرآن کی تلاوت کرنے دیتا ہے آپ نے فرمایا نماز اور تلاوت قرآن سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ لیا کرو۔ عثمان بن ابی العاص ؓ فرماتے ہیں اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم کے کہہ لینے سے پھر نماز اور تلاوت قرآن کے وقت میری وہ شکایت جاتی رہی 1 ؎۔ اس حدیث کو پہلی دونوں آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ذکر الٰہی سے پہلے جو ایماندار لوگ اللہ پر بھروسہ رکھ کر شیطانی وسوسہ سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دے دیتے ہیں ان پر شیطان کا قابو نہیں چلتا۔ معتبر سند سے حارث اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان کے قابو سے بچنے کے لئے ذکر الٰہی بہت بڑی چیز ہے 2 ؎۔ اس حدیث کو آخری آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرک لوگ خالص دل کے ذکر الٰہی کے منکر ہوتے ہیں اس لئے وہ ہر وقت شیطان کے پھندے میں گرفتار رہتے ہیں اور شیطان ان کا ہر وقت کا رفیق بنا رہتا ہے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 19 باب نے الوسوسۃ۔
2 ؎ جا مع ترمذی ص 109 ج 2 باب ماجاء مثل الصلاۃ والصیام والصدقۃ۔
Ayahs 16:101–102101۔ 102۔ جب اللہ پاک کسی آیت کو منسوخ فرما دیتا اور اس کی جگہ دوسری آیت نازل فرماتا تو مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنے جی سے بنا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ لوگ قرآن کے نازل ہونے کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہیں قرآن مجید کی ایک ایک آیت معجزہ ہے اللہ پاک ہی کو اس کا علم ہے وہی جانتا ہے کہ کون سے حکم اس وقت کیلئے مناسب ہے اور پھر دوسرے وقت کی مصلحت کے لحاظ سے کونسا حکم ہونا چاہیے پھر فرمایا کہ ان کافروں سے کہہ دو کہ ساری آیتیں قرآن پاک کی جبریل (علیہ السلام) اللہ جل شانہ کے پاس سے لاتے ہیں اس میں کوئی ناسخ ہو خواہ کوئی منسوخ سب اسی پاک پروردگار عالم کی طرف سے ہیں جو لوگ صاحب ایمان ہیں خدا و رسول پر ان کا پکا عقیدہ ہے وہ ہر ایک آیت پر ثابت قدم ہیں اور جانتے ہیں کہ قرآن شریف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اور محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے سچے پغمبر ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جیسا پیغام آتا ہے یہ اس کو پہنچا دیتے ہیں اگر قرآن ان کا کلام ہوتا تو اپنے قول کا اعتبار بڑھانے کے لئے پہلے قول کو دوسرے قول سے خود یہ کبھی نہ بدلتے اس ثابت قدمی کے سبب سے یہ صاحب ایمان لوگ روز بروز ہدایت پاتے رہتے ہیں اور نئی آیتوں سے نئی نئی بشارت ان کو آخرت کے واسطے پہنچتی رہتی ہے۔ پہلا حکم دوسرے حکم سے بدل جاوے تو پہلے حکم کو منسوخ اور دوسرے کو ناسخ کہتے ہیں۔ تمام قرآن شریف میں پانچ آیتیں منسوخ ہیں جن کی تفصیل اس تفسیر کے مقدر میں بیان کردی گئی ہے 1 ؎۔ ناسخ منسوخ کی زیادہ تفصیل سورت البقرہ میں گزر چکی ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث بھی سورت البقرہ میں گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہاں مدینہ میں ہم صحابہ لوگ سورت براء کی برابر ایک سورت پڑھا کرتے تھے مگر اب وہ یاد نہیں رہی۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کے مکی حصہ میں ناسخ منسوخ کی فقط یہ ایک صورت تھی کہ پہلے حکم سے دوسرا حکم بدل گیا مثلاً سورت مزمل کی اول کی آیتوں میں تہجد کی نماز کی فرضیت کا حکم ہو کر اس سورت کی آخر کی آیتیں نازل ہوئیں جن سے پہلا حکم جاتا رہا اسی واسطے ان مکی آیتوں میں ناسخ منسوخ کی اسی ایک سورت کا ذکر فرمایا ہے ہاں قرآن شریف کے مدنی حصہ میں منسوخ آیتوں کی یہ صورت بھی پیش آئی ہے جس کا ذکر ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث میں ہے اس لئے سورت بقرہ مدنی سورت میں او ننسھا فرما کر اس کا ذکر بھی کردیا جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض آیتیں بغیر کسی بدلہ کے لوگوں کے دل سے اٹھ جاتی ہیں یہ بھی منسوخ کی ایک صورت ہے۔
1 ؎ تفسیر ہذا مقدمہ ص 21۔ 22۔
2 ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص 111۔
Ayah 16:103103۔ یہاں مشرکین مکہ کا دوسرا اعتراض قرآن کی نسبت اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کچھ اللہ کا کلام نہیں بلکہ ایک آدمی محمد کو یہ قرآن سکھا جاتا ہے۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس آدمی کا نام عبد بن حضرمی ہے 1 ؎۔ یہ شخص تورات اور انجیل جانتا تھا اور اس کی زبان رومی تھی۔ بعضے مفسروں نے یہاں سلمان فارسی کا نام ذکر کیا ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور سلمان فارسی مدینہ میں اسلام لائے ہیں۔ غرض کہ اللہ پاک نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا کہ ان کافروں کی غفلتیں کہاں گئیں جس شخص کی زبان عربی نہیں ہے اس شخص کو اللہ کے رسول کا استاد قرار دیتے ہیں یہ تو ظاہر بات ہے کہ قرآن مجید فصیح بلیغ زبان عربی میں نازل ہوا ہے پھر یہ کس طرح عجمی شخص کی تعلیم قرار دی جاسکتی ہے۔ یہ مشرکین مکہ خود عربی زبان کے بڑے ماہر اور نہایت فصیح وبلیغ ہیں پھر بھی ایک سورت اس قرآن کی سورت جیسی نہیں بنا سکتے اور غیر زبان اور غیر زبان والے کو بتلاتے ہیں کہ محمد ﷺ اس سے قرآن کی آیتیں سیکھتے ہیں اس سے ثابت ہوگیا کہ اللہ کے رسول جو کلام لائے ہیں نہ تو وہ خود ان کا بنایا ہوا ہے اور نہ کسی بشر عجمی یا عربی کی تعلیم ہے بلکہ حق سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی کے نازل ہوا ہے۔ معتبر سند سے صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے خود سلمان فارسی ؓ کے حوالہ سے جو روایت کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ سلمان فارسی فارس کے شہزادوں میں سے ہیں دین کی تلاش میں اپنے وطن سے نکلے اور نو عمری کے سبب سے غلامی کے پھندے میں پھنس گئے پھر اسی حالت میں مدینہ میں پہنچ کر اسلام سے مشرف ہوئے اس کے بعد آزادی کے حاصل کرنے کے لئے جو رقم آخری آقا کو ادا کرنے کی تھی وہ ادا کر کے آزاد ہوگئے۔ اس روایت کو آیت کے ساتھ ملانے سے جو مطلب قرار پایا اس کا حاصل یہ ہے کہ اس مکی آیت کی شان نزول میں سلمان فارسی کا نام جن مفسروں نے لکھا ہے وہ خود سلمان فارسی کے قول کے برخلاف ہے۔
1 ؎ فتح الباری ص 394 ج 2 شرح باب شرمی المملوک من الحربی الخ و ص 493 ج 3 شرح باب الاسلام سلمان فارسی۔
Ayahs 16:104–105104۔ 105۔ جو لوگ خدا کی نشانیوں پر ایمان نہیں لاتے اور خدا کے ذکر سے منہ پھیرتے ہیں اور اس کے کلام کی تصدیق نہیں کرتے وہ ہرگز ہدایت نہیں پاسکتے اور نہ زبردستی خدا انہیں راہ راست پر لائے گا کیونکہ ان کی بدبختی پہلے ہی خداوند عالم کے علم ازلی میں ظاہر ہوچکی ہے۔ اس لئے آخرت میں ان کے واسطے بہت ہی درد ناک عذاب مقرر کیا گیا ہے یہ لوگ یہ جو کہتے ہیں کہ قرآن محمد نے آپ جی سے گھڑ کر بنایا ہے یا کسی بشر نے انہیں سکھلایا ہے یہ ان لوگوں کا جھوٹ ہے کہ ایسے شخص کو نہایت راست گو مشہور ہیں انہیں جھٹلاتے ہیں جس وقت ابو سفیان سے روم کے بادشاہ ہرقل نے آنحضرت ﷺ کے چال چلن اور صفات کو دریافت کیا اور پوچھا کہ کیا تم انہیں جھوٹ کی تہمت لگا سکتے ہو تو ابو سفیان نے جواب دیا نہیں کیونکہ کبھی ان کو جھوٹ بولتے نہیں سنا اس پر ہرقل نے کہا کہ پھر بھلا یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ دنیا داری کے معاملہ میں جو شخص لوگوں کے سامنے جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور اللہ پاک پر جھوٹ بولے اپنے کلام کو اس کا کلام بتا وے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ جو ابو سفیان کے حوالہ سے ہے اس میں یہ ہرقل کا قصہ تفصیل سے ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ ازلی بدبختی کے سبب سے اللہ کے رسول ﷺ کو جھٹلاتے تھے ورنہ اللہ کے رسول ﷺ کا سچ ان لوگوں میں ایسا مشہور تھا کہ ان میں کوئی شخص اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ کی تہمت نہیں لگا سکتا تھا اسی واسطے فرمایا کہ اللہ کے رسول کی صداقت کی شہرت کے بعد پھر جو یہ لوگ ان کو جھٹلاتے ہیں تو یہی لوگ جھوٹے ہیں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جانے کے قابل اب دنیا میں ہر شخص کو وہی کام اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں جن کو علم الٰہی کے موافق وہ کرنے والا ہے اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ مشرکین مکہ اللہ کے رسول کی صداقت کے قائل تھے مگر بد بختی ازلی کے سبب سے پھر بھی اللہ کے رسول کا جھٹلانا ان کو اچھا نظر آتا تھا اور دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا ہوئی ہے اس لئے ان لوگوں کو مجبور کر کے راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہ تھا۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 4 ج 1 قبل کتاب الایمان۔
2 ؎ جلد ہذا ص 202۔
Ayahs 16:106–109106۔ 109۔ اللہ پاک نے اس آیت میں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو ایمان لانے کے بعد پھر اسلام سے پھرجاتے ہیں اور ان کے دل میں کفر کی باتیں سما جاتی ہیں ایسے لوگوں کے حق میں فرمایا کہ ان لوگوں پر خدا کا غضب ہے ان پر آخرت میں بہت بڑا عذاب ہوگا کیونکہ انہوں نے ایمان کو پہلے جان لیا تھا اور پھر کفر کیا ان لوگوں نے دنیا کی زندگی اور اس کے اسباب کو دوست رکھا اور آخرت کی کچھ پروا نہیں کہ وہاں کیا ہوگا ایسے لوگوں کو خدا کبھی ہدایت نہیں کرتا بلکہ ان کے دل اور کان اور آنکھ پر مہر لگا دیتا ہے کہ نہ تو کسی بات کو سمجھتے ہیں اور نہ حق بات کو سنتے ہیں اور نہ اچھے برے کے دیکھنے کی انہیں تمیز ہوتی ہے۔ یہ لوگ سراسر غفلت میں رہتے ہیں اور انجام کار ان کا آخرت میں یہی ہونے والا ہے کہ ہر طرح سے یہ نقصان میں رہیں گے مگر بعض لوگ ان میں وہ بھی ہیں جو بسبب اسلام لانے کے ایذا دئیے جاتے ہیں اور ان پر کفر کرنے کو بڑے رستم ہوتے ہیں۔ اگر یہ لوگ جان بچانے کی خاطر سے کفر کا کلمہ فقط منہ سے کہہ دیں اور دل سے ایماندار ہیں تو چنداں مضائقہ نہیں معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ عمار بن یاسر ؓ پر کفار طرح طرح کا ظلم کرتے تھے اور سخت عذاب ان پر ہوا کرتا تھا اور یہ سب کچھ اس بات کے واسطے تھا کہ وہ حضرت سرور کائنات ﷺ کی رسالت کا انکار کریں مجبور ہو کر انہوں نے کفار کی کلام کی تائید کی اور آنحضرت ﷺ کے پاس آکر عذر خواہی کی کہ یارسول اللہ ﷺ میں نے اس طرح آپ کی شان میں کہا اس پر اللہ پاک نے آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ معتبر سند سے دلائل النبوت بیہقی اور مستدرک حاکم میں محمد بن عمار بن یاسر ؓ کی ایک روایت ہے کہ مشرکوں نے ایک روز عمار بن یاسر ؓ کو پکڑ لیا اور ان پر بہت ہی سختی کی جب انہوں نے ان مشرکوں کے بعض ارادہ اور گفتگو میں شراکت کی پھر یہ شکایت آنحضرت ﷺ کو پہنچی آپ نے عمار بن یاسر ؓ سے دریافت فرمایا کہ تو اپنے دل کی کیا کیفیت پاتا ہے آیا کفر کے کلمے فقط زبان ہی سے کہے یا دل میں بھی اس کا خطرہ گزرا عمار بن یاسر ؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ میرا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہے دل میں ایک شبہہ بھی کفر کا نہیں ہے 2 ؎۔ آپ نے فرمایا اگر مشرک پھر تجھ سے اس بات کو چاہیں تو بھی ویسا ہی کر۔ نسائی میں معتبر سند سے روایت ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عمار ؓ نے اگرچہ زبان سے کلمہ کفر کہا لیکن اس کا دل ایمان سے بھرا ہوا ہے غرض جس کے دل میں ایمان ہو اور اس پر کفر کا کلمہ کہنے کے لئے ظلم کیا جائے اور اس کی جان اس وقت معرض خطرہ میں ہو تو اس کو جائز ہے کہ جان بچانے کے لئے زبان سے کلمہ کفر کا اگر چاہے تو کہہ دے اور نہیں کہنا تو بہر حال اولیٰ ہے کیوں کہ جو شخص اس حالت میں قتل کیا جاتا ہے وہ درجہ شہادت پاتا ہے چناچہ عمار کے باپ یاسر اور ان کی ماں سمیہ ؓ کو مشرکین مکہ نے طرح طرح کی تکلیفیں دے کر شہید کر ڈالا۔ عمار کی ماں سمیہ ؓ مشرکوں کی پروردہ تھیں عمار کے باپ یاسر ؓ نے سمیہ ؓ سے نکاح کرلیا تھا اسی واسطے مشرکین مکہ ان تینوں کو اسلام سے پھرجانے کے لئے غلاموں کی طرح تکلیفیں دیتے تھے معتبر سند سے ترمذی، ابوداؤد و نسائی اور ابن ماجہ میں سعید بن زید ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے دین کی حفاظت میں مارا جاوے وہ شہید ہے 3 ؎۔ اس حدیث سے یاسر اور سمیہ ؓ کی شہادت اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ یہ سعید بن زید ؓ عشرہ مبشرہ میں سے مشہور صحابی ہیں ان کی کنیت ابو الاعور ہے سوائے بدر کے اور سب لڑائیوں میں شریک تھے بدر کی لڑائی کے وقت یہ ابو سفیان کے قافلہ کی تلاش میں گئے ہوئے تھے اس واسطے بدر کی لوٹ کے مال میں سے انہوں نے بھی حصہ پایا ہے یہ سعید بن زید ؓ حضرت عمر ؓ کے بہنوئی ہیں حضرت عمر ؓ کی بہن فاطمہ سعید بن زید ؓ کی بیوی وہی ہیں جن کے سبب سے حضرت عمر ؓ اسلام لائے حدیث کی سب کتابوں میں ان سعید بن زید ؓ سے روایتیں ہیں معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جن کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کاتب وحی نے جب ناسخ منسوخ آیتیں لکھیں تو اس کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوگیا کہ قرآن اگر کلام الٰہی ہوتا تو ہمیشہ اس میں ایک ہی حکم قائم رہتا۔ دوسرے حکم سے پہلا حکم کبھی نہ بدلتا اسی شبہ کے سبب سے عبد اللہ بن سعد اسلام سے پھر گیا اور فتح مکہ تک اسی حال پر رہا 4 ؎۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جس طرح عمار بن یاسر ؓ کا قصہ من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان کی تفسیر ہے اسی طرح عبد اللہ بن سعد کا قصہ من شرح بالکفر صدرا کی تفسیر ہے معتبر سند سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ ترمذی اور نسائی کے حوالہ سے گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کثرت گناہوں سے آدمی کے دل پر مہر کی طرح زنگ چھا جاتا ہے 5 ؎۔ جس کے سبب سے ایسے لوگوں کے دل میں حق بات کے سمجھنے کی آنکھوں اور کانوں میں حق بات کے دیکھنے اور سننے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ آیتوں میں عبد اللہ بن سعد جیسے لوگوں کے دل آنکھوں کان پر مہر کردینے کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن بعض لوگوں کو حوض کوثر پر سے فرشتے گھسیٹ کرلے جانے لگیں گے تو آنحضرت ﷺ فرماویں گے۔ یہ تو میری جان پہچان کے مسلمان لوگ ہیں فرشتے جواب دیویں گے آپ کے بعد یہ لوگ اسلام سے پھرگئے 6 ؎۔ یہ حدیث بھی من شرح بالکفر صدرا کی گویا تفسیر ہے۔
1 ؎ تفسیر فتح البیان ص 742 ج 2 و تفسیر الدر المنثور ص 132 ج 4
2 ؎ تفسیر فتحا لبیان ص 743 ج 2 و تفسیر ابن کثیر ص 587 ج 2 و مستدرک حاکم ص 357 ج 2 تفسیر سورت النحل
3 ؎ جامع ترمذی ص 107 ج 1 باب ماجاء من قتل دون مالہ فہو شہید۔
4 ؎ مستدرک حاکم ص 356۔ 357 تفسیر سورت النحل۔
5 ؎ جامع ترمذی ص 168۔ 169 ج 2 تفسشیر سورت ویل للمطففین۔
6 ؎ صحیح بخاری ص 974 ج 2 کتاب المحوض۔
Ayahs 16:110–111110۔ 111۔ جو لوگ دل کھول کر اسلام سے پھرگئے اوپر ان کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو کمزور تھے اور اپنی قوم میں خوار و ذلیل ہو رہے تھے اور کفار مکہ کے فتنے میں پڑگئے تھے اور پھر قابو و موقع پاکر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور خدا کی رضا مندی کے لئے اپنے سارے کنبے اور رشتے کے لوگوں کو چھوڑ کر ہجرت کی اور پھر جب کفار اور مسلمانوں میں جنگ کا سامان ہوا تو خوب لڑے اللہ پاک نے ان کی شان میں فرمایا کہ جب اتنے کام ان سے دیکھ لئے تو ان پر خدا کی بخشش ہوئی کیوں کہ اللہ جل شانہ غفور و رحیم ہے ان پر اس روز رحم فرمائے گا جس روز نہ باپ بیٹے کو اور نہ بیٹا باپ کو پوچھے گا بھائی کو بھائی کی پروا نہ ہوگی۔ بی بی شوہر سے شوہر بیوی سے گھبرائیں گے غرض کوئی کسی سے فائدہ نہیں حاصل کرسکتا فرمایا کہ وہ روز ایسا ہے کہ اس دن ہر ایک نفس کے کردار کا بدلہ بھرپور دیا جائے گا جس نے جیسا کیا ہوگا اس کو ویسی جزا ملے گی ان پر کسی قسم کا ظلم نہ ہوگا بلکہ نیکی کرنے والوں کو نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو تک اور بعض نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ ملے گا اور گناہ کی سزا میں کچھ زیادتی نہ ہوگی۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں چند صحابہ کی روایتیں 1 ؎ اس باب میں آئی ہیں یہ روایتیں وھم لا یظلمون کی گویا تفسیر ہیں۔
1 ؎ دیکھئے تفسیر ابن کثیر 316۔ 317 جۃ۔
Ayahs 16:112–113112۔ 113۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اس بستی کی مثال بیان فرمائی جہاں کے رہنے والے لوگ ہر طرح کے راحت و آرام میں اپنی زندگی بسر کرتے تھے کھانے پینے کا انہیں آرام تھا طرح طرح کی روزی اور معاش بےخوف و خطر اور بےمشقت انہیں مل جاتی تھی اپنے ملک میں کسی دشمن کا ڈر نہیں رکھتے تھے مگر انہوں نے بیٹھے بٹھائے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت کو بدل ڈالا نہ تو وہ امن وامان قائم رہا اور نہ وہ کھانے پینے کا آرام رہا بھوکے مرنے لگے اور چاروں طرف سے خوف و خطر نے ان کو آگھیرا بڑی ناشکری ان لوگوں کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جب اپنا پیغمبر ان کی ہدایت کو بھیجا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا جس کے سبب سے اللہ پاک نے ان پر عذاب نازل کیا وہ ان کے ظلم کا نتیجہ تھا ورنہ خدا ناحق کسی پر جورو تعدی نہیں کرتا ظلم اس نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے۔ چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث اس بات میں ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ مفسرین کا اس جگہ میں اختلاف ہے لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق قریہ سے مطلب خاص مکہ معظمہ ہے یہاں کے باشندے ہر طرح امن وامان میں تھے کسی طرح کی ان کو تشویش نہیں تھی۔ ہر شہر اور ہر ملک سے ان کی روزی گھر بیٹھے آجاتی تھی کسی دشمن کا خوف انہیں نہیں تھا اللہ پاک نے ان پر ایک اور عنایت کی کہ انہیں کی قوم میں سے ان کی ہدایت کے لئے اپنا رسول مقرر فرمایا مگر کفار مکہ نے ان کو جھٹلایا اور خدا کی اس نعمت عظمیٰ کی کچھ قدر نہ کی اس لئے لاچار ہو کر اللہ کے رسول نے ان پر بددعا کی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سات برس تک مکہ میں قحط پڑا یہ لوگ قحط میں کھانے پینے کو محتاج ہوگئے ایک دانہ بھی میسر نہیں آتا تھا اور حضرت ﷺ معہ دیگر مومنین کے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تو ان مشرکین مکہ کے دل میں ہر وقت خوف لگا رہتا تھا کہ خبر نہیں مسلمان لوگ کس وقت آمادہ جنگ ہوجائیں اور ہمیں قتل و غارت کریں یہاں تک کہ مکہ کو جناب سرور کائنات ﷺ نے فتح کرلیا غرض کہ یہ حالت اور وقت مکہ والوں پر انہیں کے کرتوت سے پہنچا نہ خدا کی نعمتوں کا کفر کرتے اور نہ اس سزا کو پہنچتے جس طرح ان کفار مکہ کا حال خدا نے بدل دیا کہ غنی سے محتاج ہوگئے اسی طرح اللہ پاک نے اہل اسلام کی حالت کو بھی تبدیل کردیا ابتدائے اسلام میں یہ لوگ کفار کے ہاتھوں میں خوار تھے اور روز نئی نئی تکلیف اٹھاتے رہتے تھے اور بالکل محتاج و مفلس ہوگئے تھے پھر اللہ پاک نے ان پر جو اپنا فضل کیا تو چاروں سمت میں انہیں کا ڈنکا بجنے لگا اور ایسے مالا مال ہوئے کہ تاریخ خلفاء جس کی گواہ ہے پھر جوں جوں اسلام کی باتیں اہل اسلام چھوڑتے گئے ویسا ہی ضعف ان کی حالت میں آتا گیا۔ ان آیتوں میں مبہم طور پر ایک بستی کا ذکر فرما کر اس کے بعد یہ جو فرمایا کہ انہی بستی والوں میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیجا اور جب ان لوگوں نے اللہ کے رسول کو جھٹلایا تو ان لوگوں پر قحط اور بستی والوں میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیجا اور جب ان لوگوں نے اللہ کے رسول کو جھٹلایا تو ان لوگوں پر قحط اور بستی کی بربادی کے خوف کی آفت آئی اس لئے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کہ آیتوں میں بستی سے مطلب مکہ ہے کیونکہ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ کہ جب مشرکین مکہ نے حد سے زیادہ سرکشی شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے بددعا کی اور اس بددعا کے اثر سے مکہ میں ایسا سخت قحط پڑا کہ مکہ کے لوگ مردار جانوروں کی کھالیں تک کھا گئے۔ سورت بقرہ میں عبد اللہ بن جحش کا قصہ گزر چکا ہے کہ مدینہ سے مکہ اور طائف کے درمیان میں بطن نخلہ مقام پر جا کر عبد اللہ بن جحش اور ان کے ساتھ کے مسلمانوں نے مشرکوں کا قافلہ لوٹ لیا۔ یہ قصہ بدر کی لڑائی سے دو مہینے پہلے کا ہے اس قصہ کے دو مہینے کے بعد بدر کی لڑائی میں مشرکوں کے بڑے بڑے سرکش سردار مارے گئے اس کا ذکر صحیح بخاری کی انس بن مالک ؓ کی حدیث کے حوالہ سے اوپر ایک جگہ گزر چکا ہے 3 ؎۔ اسی کو فرمایا کہ ہر طرح کے امن وامان کے بعد مشرکین مکہ کی بد اعمالی کے سبب سے ان لوگوں کو بھوک اور بربادی کے ڈر نے تن بدن کے کپڑوں کی طرح چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اور آخر کو ان کا یہ ڈر ان کے سامنے آیا کہ مکہ فتح ہوگیا اور جن اللہ کے رسولوں کی صداقت ان لوگوں میں مشہور تھی زبردستی ان اللہ کے رسولوں کو ان لوگوں نے جھٹلایا اس واسطے اس کے وبال میں پکڑے گئے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے یہ حدیث وھم ظالمون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابراہیم خلیل اللہ کی دعا کی برکت سے مکہ میں امن وامان اور رزق کی بحالی کی جو حالت تھی اس کو ان لوگوں نے اپنی بد اعمالی سے خود کھویا اللہ تعالیٰ نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا کیونکہ اس نے اپنی رحمت سے ظلم کو اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرالیا ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 319 ج، باب تحریم الظلم۔
2 ؎ جلد ہذا ص 314۔ 134۔ 352۔
3 ؎ جلد ہذا ص 314۔ 334۔