Ayah 16:2929۔ جب کفار قیامت کے دن قسمیں کھا کر یہ بات کہیں گے کہ ہمیں تو کچھ بھی خبر نہیں کہ ہم برے عمل کرتے تھے اور اللہ پاک ان کے جواب میں کہے گا کہ ہاں تم برے عمل جو کرتے تھے ان کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے پھر اس جواب وسوال کے بعد انہیں حکم ہوگا کہ جہنم کے دروازوں میں تم داخل ہوجاؤ اور ہمیشہ ہمیشہ کو بس اسی میں رہو اور یہی برا ٹھکانا تکبر اور غرور کرنے والوں کا ہے جو خدا اور رسول کی باتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور اپنی مالداری کے گھمنڈ میں رہے اور بت پرستی سے باز نہ آئے کفار جس و قت مرتے ہیں اسی وقت سے ان کو عذاب قبر کی سختی صبح شام دوزخ میں ان کا ٹھکانا دکھائے جانے کی سختی ہے اور پھر قیامت کے دن دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے جس کے بعد کوئی تخفیف ان کے عذاب میں نہ ہوگی اور نہ کسی تکلیف سے ان کی جان نکلے گی سختی ایسی ان پر کی جائے گی کہ گویا اب مرے اور اب مرے مگر مرنے کے نہیں کیوں کہ اس روز موت ذبح کردی جاوے گی چناچہ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت سے موت کے ذبح کئے 1 ؎ جانے کا ذکر ایک جگہ گزر چکا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ کم سے کم عذاب والے شخص کے پیروں میں دوزخ کی آگ کی جوتیاں پہناوی جاویں گی جس سے اس شخص کا بھیجا پگھل کر نکل پڑے گا 2 ؎۔ زیادہ عذاب والے دوزخ کی تکلیف کا حال اس حدیث کی مثال سے سمجھ میں آسکتا ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 969 ج 2 باب صفتہ الجنۃ والنار الخ۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 2502 باب صفتہ النار واھلوا بحوالہ بخاری
Ayahs 16:30–3230۔ 32۔ نافرمان لوگ اللہ کے رسول اور قرآن کی شان میں جو کہتے تھے اس کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اللہ پاک نے متقی اور ایمان والوں کا حال بیان فرمایا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو جواب دیتے ہیں کہ نیک باتیں۔ پھر اللہ جل شانہ نے یہ فرمایا کہ جس نے بھلائی کی اس کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے ایک نیکی کا بدلہ دس دس سے سات سات سو یا اس سے بھی دوگنا جتنا خدا چاہے دے گا پھر فرمایا کہ اس سے بھی بہتر آخرت کا گھر ان کے واسطے تیار ہے پھر فرمایا کہ متقیوں کا انجام کیا ہی اچھا ہے کہ وہ لوگ دنیا میں آخرت کی پونجی جمع کرتے ہیں اور آخرت کا گھر جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اس میں ہر ہر جگہ موقع و محل سے نہریں جاری ہیں اور اس سے بڑھ کر کیا نعمت ہوسکتی ہے کہ جنت والے جس چیز کی خواہش کریں گے وہ اندر موجود پائیں گے بخلاف دنیا کے یہاں جس چیز کی خواہش انسان کرتا ہے اور جن جن باتوں کا ارادہ کرتا ہے وہ کل کی کل نہیں پوری ہوتیں اکثر اوقات انسان کی دلی تمنا کے خلاف ظہور میں آتا ہے یہ باتیں وہاں نہیں ہونے کی وہاں تو جس بات کا انسان ارادہ کرے گا وہ فوراً ظہور میں آجاوے گی ذرا بس دیر نہ لگے گی۔ پھر اللہ پاک نے موت کے وقت کو بیان فرمایا کہ جب فرشتے مومن کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو یہ لوگ کفر و شرک کے میل کچیل سے بالکل پاک صاف ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ موت کا کچھ بھی خوف دل میں نہیں لاتے بلکہ خوش ہوتے ہیں اور فرشتے آتے ہیں ان کو سلام کہتے ہیں اور خدا کی طرف سے بھی سلام پہنچاتے ہیں اور جنت کی بشارت دیتے ہیں کہ دنیا میں تم نے جو کچھ اچھے اچھے کام کئے ہیں اس کے عوض میں اب جنت میں تم داخل ہوگے براء بن العازب ؓ کی پوری حدیث کا مطلب جو اوپر 1 ؎ بیان ہوچکا ہے اس میں سے نیک لوگوں کے حال کا ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔
1 ؎ یعنی ص 323 پر۔
Ayahs 16:33–3433۔ 34۔ یہ جواب منکرین نبوت کے دوسرے اعتراض کا فرمایا کہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ سے یہ چاہتے ہیں کہ کوئی فرشتہ آسمان سے آکر ان کی نبوت کی تصدیق کرے تو یہ لوگ ایمان لائیں۔ حالانکہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اور ایک مطلب یہ ہے کہ جب کفار نے قرآن کی نسبت یہ کہا کہ یہ تو پہلوں کی نقل ہے کوئی نئی بات نہیں ہے تو اللہ پاک نے انہیں ڈرایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے آنے کی راہ دیکھتے ہیں کہ وہ آن کر ان کی ارواح قبض کریں یا اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا کا عذاب ان پر آجائے۔ پھر فرمایا کہ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور خدا نے انہیں ہلاک کیا اور ان کا ہلاک کردینا کوئی خدا کی طرف سے ظلم نہیں ہوا۔ بلکہ ان لوگوں نے آپ اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ انبیاء اور کلام الٰہی کو جھٹلایا۔ پھر فرمایا کہ ان پہلے لوگوں پر جس طرح عذاب آچکا ہے وہی انجام ان کا ہونے والا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پر حرام کرلیا ہے 1 ؎۔ یہ حدیث و ما ظلمھم اللہ کی گویا تفسیر ہے۔
صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ یہ حدیث وما ظلمھم کی گویا تفسیر ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کے ظالم نافرمان لوگوں کو جب تک چاہتا ہے مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑ لیتا ہے تو بالکل انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلی امتوں کی طرح اگر یہ مشرکین مکہ بھی مہلت کے زمانہ میں اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو پہلی امتوں کی طرح ان پر بھی کوئی آفت آجاوے گی اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ تھوڑے دنوں کے بعد بدر کی شکست کی آفت جو ان پر آئی صحیح روایتوں کے حوالہ سے اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 319 ج 2 باب تحریم الظلم۔
2 ؎ جلد ہذا ص 322 وغیرہ۔
Ayahs 16:35–3735۔ 37۔ یہ کلام مشرکین مکہ کا مسخراپن کے طور پر تھا آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ جو بیان کرتے ہیں کہ ہر ایک بات خدا کی جانب سے ہوا کرتی ہے تو پھر آپ کی رسالت کی کیا ضرورت ہے۔ آپ آتے یا نہ آتے اگر خدا کو منظور ہوتا تو ہم اس کے سوا کسی بت وغیرہ کی عبادت نہ کرتے اور جس چیز کو اللہ نے ہم پر حلال کیا ہے اپنے اوپر اس کو ہم حرام نہ ٹھہراتے حاصل اس کا یہ ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں بالکل ٹھیک کر رہے ہیں ہم گمراہ نہیں ہیں بتوں کی پرستش جو ہم کر رہے ہیں یہ سب خدا کی مشیت سے ہے اگر وہ نہ چاہتا تو ہرگز ہرگز یہ کام ہم نہیں کرسکتے۔ پھر اللہ پاک نے کفار مکہ کا یہ کلام نقل کر کے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی کہ آپ اپنے دل میں ان کی باتوں کا کچھ خیال نہ کریں ان سے جو لوگ پہلے گزرے ہیں وہ بھی ایسی ہی باتیں کہا کرتے تھے آپ پر فرض یہی ہے کہ آپ اپنے دل میں ان کی باتوں کا کچھ خیال نہ کریں ان سے جو لوگ پہلے گزرے ہیں وہ بھی ایسی ہی باتیں کہا کرتے تھے آپ پر فرض یہی ہے کہ اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیں کہ سوائے خدا کے اور کسی کی بندگی نہ کرو باقی رہی ہدایت وہ خدا کے ہاتھ ہے جسے اس کی مشیت مقتضی ہوتی ہے اس کو وہ راہ راست پر لاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ پھر اللہ جل شانہ نے ان کفار کو یہ بات جتلائی کہ اللہ نے ہر امت اور ہر گروہ میں اپنے رسول بھیجے تاکہ ان کی ہدایت کریں اور یہ بات کہہ دیں کہ تم خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پرستش سے باز رہو اس پر بہتیرے بندے خدا کے ایسے تھے جو ایمان لائے اور اللہ نے انہیں ہدایت کی اور اکثر لوگ گمراہی میں پڑے رہے۔ رسول کی ایک نہ سنی پھر کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم دنیا میں چل پھر کر رسولوں کے جھٹلانے والوں کی حقیقت دریافت کی کہ کیا نتیجہ ان کا ہوا کس طرح خدا نے انہیں ہلاک کیا اور کیسے کیسے عذاب ان پر نازل کئے۔ قوم نوح سے لے کر فرعون تک رسولوں کے جھٹلانے والوں کی ایک ہی گرفت ہوئی۔ شرک اللہ کو ناپسند تھا اس لئے ان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان پر طرح طرح کے عذاب کیوں آئے۔ پھر آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ اس بات کی حرص نہ کریں کہ سب کے سب راہ راست پر آجائیں بات یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق یہ لوگ پرلے سرے کے گمراہ ہیں جانتے ہیں کہ اللہ پاک خالق کل کائنات کا ہے اس میں ہر طرح کی قدرت ہے جسے چاہے ایک گھڑی میں ہلاک کر دے پھر جان بوجھ کر یہ لوگ اپنے باپ دادا کے قدم بقدم ہیں اس لئے پرانی رسم کے چھوڑنے کو گوارا نہیں کرتے سبب اس کا یہ ہے کہ علم الٰہی میں دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد بہت سے لوگ دوزخ میں جانے کے قابل کام کریں گے اور شیطان کے بہکانے سے وہی کام ان کو اچھے نظر آویں گے اس واسطے ایسے لوگوں کی راہ راست پر آجانے کی حرص بےفائدہ ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے موافق لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جانے کے قابل اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے رسول یہ چاہتے تھے کہ قوم کے سب لوگ راہ راست پر آجاویں لیکن بعد اس کے آپ نے فرمایا کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم ازلی کے موافق جنتی اور دوزخی کی تفصیل قرار پا چکی ہے اس لئے جو لوگ علم ازلی میں دوزخ کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ راہ راست پر نہیں آسکتے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا انجانی کے عذر کا رفع کردینا اللہ کو بہت پسند ہے اس لئے اس نے ہر زمانہ میں رسول بھیجے یہ حدیث ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا اور حضرت علی ؓ کی حدیث فنمنھم من ھدی اللہ ومنھم من حقت علیہ الضلالۃ کی گویا تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے سوا جس چیز کی پوجا کی جاوے اس کو طاغوت کہتے ہیں۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 738 ج 2 تفسیر سورة واللیل۔
2 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم 230 و جلد ہذا ص۔
Ayah 16:3838۔ تفسیر ابن جریر تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن جوزی میں ابی العالیہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسلمان کا ایک شخص مشرک پر کچھ قرضہ آتا تھا وہ مسلمان شخص اس مشرک سے جب اپنا قرضہ مانگنے گیا تو باتوں باتوں میں کچھ حشر اور قیامت کا ذکر آگیا اس مشرک نے کہا کہ اس نے بڑی گہری قسم کھائی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ جو لوگ حشر کے منکر ہیں وہ بیوقوف ہیں دنیا میں نیک و بد کی جزا و سزا کا انتظام یہ لوگ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پھر ان کے خیال میں یہ بات کیوں کر جم گئی ہے کہ خدا کی بادشاہت میں جزا اور سزا کا دن نہیں ٹھہرا ہے رہا یہ خیال کہ شاید دنیا میں ہی نیک و بد کی جزا اور سزا ہوجاتی ہو یہ خیال غلط ہے آنکھوں کے سامنے بہت سے بد عمر بھر خوشحالی سے گزارتے ہیں اور نیک طرح طرح کی تکلیف سے اسی سے خود معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جزا سزا ختم نہیں ہے اور یہ شبہ کہ مٹی ہو کر کیوں کر پھر پیدا ہوں گے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اللہ کے حکم میں سب کچھ ہے اس کے حکم سے جس طرح خلاف عقل پہلے یہ لوگ پیدا ہوگئے۔ دوسری دفعہ پیدا ہونا کیا مشکل ہے دوسری دفعہ کی پیدائش میں لوگ عقل لڑاتے ہیں اپنی پہلی پیدائش کو تو ذرا غور کریں کہ اس میں کون کون سی بات عقل کے موافق ہے۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث قدسی کی روایت ہے 2 ؎، جس کا ٹکڑا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے انسان مجھ کو جھٹلاتا ہے میں کہتا ہوں کہ جزا سزا کے لئے مر کر پھر جینا اور پہلے کی دفعہ کی طرح پھر ایک دفعہ نیست سے ہست سب کو کرتا اور انسان اس کا منکر ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل، ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں معتبر سند سے بشر بن حجاش ؓ سے حدیث قدسی کی روایت ہے 3 ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دن اپنی ہتھیلی پر تھوک کر لوگوں کو دکھایا اور فرمایا خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس طرح کی ذلیل چیز سے انسان کو میں نے پیدا کیا ہے اور اب انسان کو یہ غرور ہے کہ طرح طرح کی اترانے کی باتیں بناتا ہے اور عمر بھر مال جوڑ جوڑ کر رکھتا ہے مرتے وقت جب خیرات کا وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو خیرات کے حصے لگاتا ہے آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن اس طرح کی سب باتوں کی پرسش ہر انسان سے کی جاوے گی اور یہ بھی فرمایا ہے کہ زمین پر جیسے جیسے قول اور فعل لوگ کرتے ہیں اگر اس کا مواخذہ دنیا میں ہی کیا جاوے تو کوئی جاندار زمین پر پھرتا نظر نہ آوے پہلی امتوں کی طرح ایک دم سے سب ہلاک ہوجاویں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے لوگوں کو چھوڑ رکھا ہے چناچہ صحیحین کی ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی بردبار نہیں ہے لوگ اللہ کا بیٹا ٹھہراتے ہیں اور اللہ ان کو رزق اور تندرستی دیتا ہے 4 ؎۔ مگر سزا جزا کے لئے ایک دن مقرر ہے اس کی فکر ہر مسلمان کو لازم ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 5۔ 1 ج 14, والدرالمنثور ص 118 ج 4۔
2 ؎ جلد ہذا ص 303 پر آچکا ہے۔
3 ؎ دیکھئے جلد ہذا ص 310۔
4 ؎ مشکوٰۃ ص 13 کتاب الایمان۔
Ayahs 16:39–4039۔ 40۔ اوپر کی آیت میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ کفار اس بات پر قسمیں کھاتے تھے کہ مر کر پھر جینا کوئی چیز نہیں ہے جس کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ کیا وجہ ہے جو ایسا نہیں ہوسکتا ضرور ضرور قیامت ہوگی اللہ پاک نے وعدہ کرلیا ہے اور اس کا وعدہ بالکل حق اور سچا ہوتا ہے اس دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد پھر اللہ جل شانہ اپنی ساری مخلوق کو زندہ کرے گا یہ مشرک یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اسی واسطے مقرر کیا ہے کہ دنیا میں لوگ جن باتوں میں اختلاف کیا کرتے ہیں کوئی رسول کی تصدیق کرتا ہے اور کوئی جھٹلاتا ہے کوئی بتوں کو پوجتا ہے کوئی خالص اللہ جل شانہ کو یہ سب حال لوگوں پر اس روز کھل جائے گا اور کفار اچھی طرح اپنے کفر کو جان لیں گے کہ دنیا میں یہ لوگ جو اعتقاد رکھتے تھے وہ محض غلط تھا اور بالکل گمراہ ہو رہے تھے پھر یہ ارشاد فرمایا کہ کفار کا یہ اعتراض کہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کرنا ممکن نہیں ہے بالکل غلط ہے کیوں کہ جس نے پہلے بغیر نمونہ کے ہر شئی کی ایجاد کی اس میں کیا قدرت نہیں ہے کہ اس شئے کے فنا ہوجانے کے بعد پھر اس کو دوبارہ وجود میں لائے یہ بات تو بالکل آسان ہے کہ ایک شئی جس کا وجود ہوچکا ہے پھر اس کو فنا کے بعد ویسا ہی بنا دیا جائے۔ بہت مشکل تو وہ کام ہے کہ جب سرے سے کوئی شئی موجود نہ ہو اور اس کا ڈھانچہ تیار کیا جائے پھر فرمایا کہ اس کی قدرت اور اس کے اختیار کچھ ایسے ویسے نہیں ہیں اس کا تو ارادہ کرنا ہی کافی ہوتا ہے جب وہ کسی شئے کے بنانے کا ارادہ کرتا ہے تو صرف ایک کن کے حکم سے وہ شئی ظہور میں آجاتی ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی اوپر گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر انسان سوچے تو پانی جیسی پتلی چیز سے اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں پتلا بنا کر اس میں روح پھونک دی پھر دوسری دفعہ انسان کی رواں دواں خاک سے اس کے پتلے کے بنانے اور اس میں روح کے پھونکے جانے کی خبر جو میں نے اپنے کلام پاک میں دی تو انسان نے اس کو جھٹلایا یہ ہٹ دہرمی انسان کو زیبا نہیں تھی بعث و نشور بیہقی اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی معتبر روایت اوپر گزر چکی ہے 2 ؎۔ کہ ایک شخص عاص بن وائل نے ایک بوسیدہ ہڈی کو مل کر وہ خاک ہوا میں اڑا دی اور آنحضرت ﷺ سے بڑی بحث کی کہ یہ رواں دواں خاک کہاں سے آوے گی اور اس کا پتلہ پھر کیوں کر بنے گا۔ مسند امام احمد، ابن ماجہ اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے بشیر بن حجاش ؓ کی معتبر روایت گزر چکی ہے 3 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے اپنی ہتھیلی پر تھوک کر کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسان اس تھوک جیسی حقیر چیز سے پیدا ہوا لیکن وہ اپنی حقیقت کو بھول گیا اور حشر کو جھٹلانے لگا اتنا نہیں سمجھتا کہ بغیر حشر کے قائم ہونے اور نیک و بد کی جزا و سزا کے تمام دنیا کا پیدا کرنا بالکل بےٹھکانے رہتا ہے اور اس طرح کا بےٹھکانے پیدا کرنا خدا کی شان سے بہت بعید ہے یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہو کر جہاں جہاں جاوے گی اس کا سب پتہ اور نشان لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔ ان سب روایتوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حشر کا انکار انسان کے حوصلہ سے باہر اور بڑی ہٹ دہرمی اور تمام دنیا کو بلا نتیجہ پیدا کرنے کا الزام اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگانا ہے۔
1 ؎ جلد ہذا ص 203۔ 330۔
2 ؎ جلد ہذا ص 311۔
3 ؎ جلد ہذا ص 310۔ 330۔
Ayahs 16:41–4241۔ 42۔ اس آیت میں اللہ پاک نے ان لوگوں کی جزا کی خبر دی جنہوں نے محض خدا کے واسطے اپنے گھر بار خویش اقارب سب کو چھوڑ اس لئے فرمایا کہ ان ہجرت کرنے والوں کو ہم دنیا ہی میں بہت اچھا بدلہ دیں گے اور بہت ہی اطمینان کی جگہ ان کے رہنے کو عطا کریں گے۔ قتادہ کے موافق یہ آیت ان مہاجروں کی شان میں اتری ہے جو اول اول مکہ سے ہجرت کر کے ملک حبش میں جارہے تھے جن کی تعداد کل مرد و عورت ملا کر اسی کی تھی ان کے حق میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ انہیں اچھی جگہ بسنے کو دیں گے۔ لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مدینہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی ایذا رسانی سے گھبرا کر ابھی تو یہ لوگ حبش کو چلے گئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ہمیشہ کے لئے رہنے کا انتظام اس بستی میں فرما دے گا جس کا نام مدینہ ہے جہاں خوشحالی عزت حکومت سب چیزیں ان کو مل جاویں گے پھر اللہ پاک نے اس دنیا کی جزا کو عقبیٰ کی جزا کے مقابل میں ہیچ ٹھہرا کر فرمایا کہ آخرت میں ان لوگوں کے لئے جو بدلہ جنت میں ہے وہ اس دنیا کی جزا سے کہیں بڑھ کر ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنت میں نیک بندوں کے لئے جو کچھ سامان کیا گیا ہے وہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کانوں سے سنا نہ کسی کے دل میں اس کا تصور گزر سکتا ہے 1 ؎۔ یہ حدیث لو کانوا یعلمون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس ثواب آخرت کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا فرمایا ہے اگر ان ہجرت کرنے والوں کو اس کا تفصیلی حال معلوم ہوجاتا تو مخالفوں کی ایذا رسانی پر صبر کرنے کی ان کو زیادہ ہمت ہوجاتی لیکن حکمت الٰہی اسی کی مقتضی ہے کہ جنت کی نعمتیں قیامت کے دن ایک ہی دفعہ نیک بندوں کی نظروں سے گزریں تاکہ امید سے زیادہ نعمتیں پانے سے ان کا دل حد سے زیادہ خوش ہوجاوے ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ بلال، عمار، صہیب، مقداد ؓ غرض اس طرح کے غریب مسلمانوں کو مشرکین مکہ طرح طرح سے ایذا دیتے تھے تاکہ یہ لوگ اسلام سے پھر جاویں لیکن یہ لوگ اسلام پر قائم رہے۔ یہ حدیث الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون کی گویا تفسیر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی راہ میں مخالفوں کی ایذا رسانی اور گھر بار چھوڑنے کی تکلیف پر صبر کیا اور اس صبر کے اجر کا بھروسہ اللہ پر رکھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو دین و دنیا کی وہ خوبیاں عنایت فرمائیں جس کا ذکر شروع آیت میں ہے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 495 باب صفۃ الجنتہ واھلھا۔
Ayahs 16:43–4443۔ 44۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب اللہ پاک نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو اہل عرب نے آپ کی نبوت کا انکار کیا اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کا رسول آدمی ہو فرشتے کو کیوں نہیں ہمارے پاس رسول بنا کر بھیجا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی 1 ؎۔ اور فرمایا کہ یہ تو اللہ کی ہمیشہ سے عادت ہے کہ جتنے رسول اس نے بھیجے ہیں وہ سب آدمی تھے کوئی فرشتہ نہ تھا پھر اس کے بعد مشرکوں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ اہل کتاب سے دریافت کرلو کہ پہلے رسول بھی آدمی تھے یا فرشتے اگر وہ کہیں کہ فرشتے تھے تو محمد ﷺ کی نسبت تمہارا اعتراض بجا ہے اور اگر وہ کہہ دیں کہ نہیں وہ رسول بھی بشر تھے تو تمہارا انکار آنحضرت ﷺ کی رسالت کے متعلق بالکل بےجا ہے اللہ پاک نے کفار کو خطاب کر کے اہل کتاب سے سوال کرنے کا حکم اس لئے فرمایا کہ مشرکین مکہ اہل کتاب کو صاحب علم جانتے تھے۔ پھر اللہ پاک نے پہلے رسولوں کے متعلق فرمایا کہ ان کو ہم نے معجزے اور کتابیں دے کر بھیجا تھا اور آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم تمہاری طرف بھی کتاب اتارتے ہیں تم اسے کھول کر انہیں سمجھاؤ شاید یہ لوگ کچھ فکر کریں اور گمراہی سے نکل کر راہ حق کی طرف آنے کی کوشش کریں۔ صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں السبع المثانی والقرآن العظیم کی تفسیر سورت فاتحہ ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس میں یوم تبدل الارض (15: 48) کی تفسیر میں اللہ کے رسول نے فرمایا ہے کہ زمین جب بدلی جاوے گی تو اس وقت سب لوگ پل صراط پر ہوں گے 2 ؎۔ یہ حدیثیں اور اس قسم کی اور صحیح حدیثیں لتبین للناس ما نزل الیھم کی گویا تفسیر ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کے جو لفظ دوسرے لفظوں کے ذریعہ سے تفسیر کردینے کے قابل تھے حکم لتبین للناس ما نزل الیھم کی تعمیل میں اللہ کے رسول نے ان کی تفسیر بخوبی فرما دی اقیموا الصلوۃ واتو الزکوٰۃ (2: 43) اتموا الصیام (2: 187) وللہ علی الناس حج البیت (3: 97) اور ایسے اور موقع میں سوا تفسیر لفظی کے جہاں عمل کر کے سمجھانے کی ضرورت تھی لتبین للناس ما نزل الیھم کی ویسی ہی تعمیل کردی مشرکین مکہ جب تک قرآن شریف کی نصیحت کے سننے سے بےرغبتی کرتے رہے وہ تو الگ بات ہے۔ 6 ھ میں صلح حدییہ ہو کر جب مشرکین اور اہل اسلام کے مابین میں پہلے کا سا رکاؤ نہیں رہا تو لعلھم یتفکرون کی پیشین گوئی کا ظہور بھی خوب ہوا چناچہ صلح حدیبیہ پر اہل اسلام کی تعداد چودہ سو تھی اور پھر دو برس کے بعد مکہ کی فتح کے وقت دس ہزار تک پہنچ گئی۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 570 ج 2۔
2 ؎ جلد ہذا ص 276۔
Ayahs 16:45–4745۔ 47۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنی بردباری اور علم کا حال بیان کرتا ہے کہ یہ لوگ جو برے داؤں کر رہے ہیں کیا اپنے گمان میں بےخوف ہیں جو طرح طرح کے مکر آنحضرت ﷺ کے ساتھ کر رہے ہیں اور قرآن کے ساتھ مسخرا پن کرتے ہیں مسلمانوں کو اذیتیں پہنچا رہے ہیں ان کو کچھ بھی خدا کا خوف نہیں یہ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ خدا ان پر اس طرح عذاب نازل کرے کہ زمین میں ان کو دھنسا دے جس طرح قارون کو غرق زمین کردیا یا ایسا عذاب ان پر بھیج دے کہ ان کو خبر بھی نہ ہو جس طرح لوط (علیہ السلام) کی قوم پر اچانک عذاب بھیج کر ہلاک کردیا یا اس طرح عذاب ان پر اتارے کہ یہ چلتے پھرتے ہوں سفر میں ہوں یا بازاروں میں آتے جاتے ہوں اور یک بیک ان پر عذاب نازل کر دے وہ ہر طرح سے قادر ہے کوئی اس کو عاجز نہیں کرسکتا ہے نہ یہ کفار کہیں بھاگ کر جاسکتے ہیں او یاخذھم علی تخوف کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک یہ ہے کہ اللہ پاک پہلے ہی پہل ان پر عذاب نہ بھیجے بلکہ پہلے ان کو خوف دلا دے پھر ان پر عذاب بھیج دے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اللہ پاک ان کے جان و مال کو گھٹا گھٹا کر عذاب بھیجے ان کے پھل کم ہونے لگیں پیداوار میں کمی ہوجائے اور مال و دولت ان سے علیحدہ ہونے لگے اور وہ اس خوف سے ہلاک ہوجائیں عذاب دنیوی کے طور پر مکہ میں قحط جو پڑا جس کا ذکر صحیح بخاری وغیرہ میں عبد اللہ بن معسود ؓ کی حدیث 1 ؎ میں ہے اس سے آخر کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے پھر اللہ پاک نے اپنی بردباری اور رحمت کو بیان کیا کہ باوجود ان باتوں کے کفار کفر و شرک سے باز نہیں آتے اور رسول کو جھٹلاتے ہیں اور طرح طرح کی تکلیف دیتے ہیں مگر خدا ان پر عذاب نہیں بھیجتا اور نہ ان کی روزی میں کمی کرتا ہے وہ بڑا رؤف و رحیم ہے۔ صحیحین کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ کہ اللہ سے بڑھ کر کوئی بھی بردبار نہیں ہے لوگ خدا کا بیٹا ٹھہراتے ہیں اور وہ اس پر بھی ان کو روزی پہنچاتا ہے اور آرام سے رکھتا ہے دوسری حدیث صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری ؓ کی یوں ہے کہ اللہ پاک ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑ لیتا ہے تو نہیں چھوڑتا 3 ؎۔ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے ان مشرکین مکہ کو مہلت دے رکھی ہے جس مہلت کے زمانے میں یہ لوگ اپنی مال داری کے نشہ میں مغرور اور تنگدست مسلمانوں کو حقیر جانتے ہیں اور ان کو طرح طرح کے مکرو فریب اور ایذا رسانی سے تنگ کرتے ہیں لیکن مہلت کے زمانے میں اگر یہ مشرک اپنی شرارت سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ ان کو ایسا پکڑے گا جس سے ان کا چھٹکارہ مشکل ہوگا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے ان مشرکوں کی پہلی پکڑ تو ہجرت سے پیشتر مکہ کے قحط سے ہوئی جس کا ذکر صحیح بخاری کی عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکا ہے 4 ؎۔ پھر ہجرت کے بعد بدر کی لڑائی میں ان کے بڑے بڑے سرکش مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدے کو سچا پالیا چناچہ اس کا ذکر بھی صحیح بخاری و مسلم کی انس بن مالک ؓ کی روایت کے حوالہ سے گزرا ہے 5 ؎۔
1 ؎ دیکھئے جلد ہذا ص 214۔
2 ؎ جلد ہذا ص 320۔
3 ؎ جلد ہذا میں متعدد دفعہ آچکی مثلاً ص 205 وغیرہ۔
4 ؎ جلد ہذا ص 214۔
5 ؎ دیکھئے جلد ہذا کے صفحہ 202۔ 208 وغیرہ۔
Ayah 16:4848۔ اللہ پاک اس آیت میں اپنی عظمت و دبدبہ کی خبر دیتا ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ ایسا صاحب عظمت ہے کہ کل چیزیں اس کے حکم کی فرمانبردار ہیں کیا حیوان اور کیا بےجان اسی طرح خواہ فرشتے ہوں خواہ جن ہوں سب اس کے قہر و غلبہ کے سامنے مجبور و لاچار ہیں کل وہ چیزیں جن کا سایہ ہے جاندار ہوں یا بےجان صبح و شام داہنے بائیں خدا برتر کے سامنے سجدہ کرتی ہیں مجاہد کا قول ہے کہ جب سورج ڈھلتا ہے تو ہر چیز اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے۔ اور کل مخلوق خدا کے سامنے حقیر ہے۔ کسی کی حقیقت و ہستی اس کے آگے نہیں ہے وہ سب سے بڑا صاحب شوکت ہے ترمذی کے حوالہ سے حضرت عمر کی حدیث جو آگے آتی وہ بھی گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سب چیزوں کا سایہ زوال سے پہلے سیدھے ہاتھ کی طرف اور سورج کے ڈھلنے کے بعد الٹے ہاتھ کی طرف جو آتا ہے یہی سب چیزوں کے سایہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے سجدہ مقرر کیا ہے آیت وللہ یسجد من فی السموات والارض طوعا و کرھا وظلالھم بالغدو والاصال (13: 15) جو سورت الرعد میں گزر چکی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے مجاہد نے اس سورت الرعد کی آیت کو اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ زمین کے ایماندار جن و انس اور آسمان کے سارے فرشتے خوشی سے اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور ایمان دار جن و انس کی پرچھائیاں بھی سجدہ کرتی ہیں اور مشرک لوگ خود تو بتوں کو سجدہ کرتے ہیں مگر ان کی پرچھائیاں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمام دنیا کے جنات اور انسان اللہ کی عبادت میں مشغول اور پرہیز گار ہوجاویں تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جاوے گا۔ اسی طرح اگر یہ سب اللہ کی عبادت چھوڑ دیویں تو اس سے اس کی بادشاہت میں سے کچھ گھٹ نہ جاوے گا 1 ؎۔ اس حدیث کو بھی آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ مشرک لوگ خالص اللہ کو جو سجدہ نہیں کرتے اللہ تعالیٰ کو نہ اس کی کچھ پروا ہے نہ ان کے سجدہ نہ کرنے کے سبب سے اس کی بادشاہت میں سے کچھ گھٹ جاوے گا لیکن اللہ کی عظمت اور بڑائی کا اثر ان کی پرچھائیوں پر ایسا ہے کہ وہ بےاختیار اللہ کو سجدہ کرتے ہیں معتبر سند سے مسند امام احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں ابوذر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آسمان پر چار انگل بھی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں ایک فرشتہ سجدہ میں نہ پڑا ہو 2 ؎۔ فرشتوں کے سجدہ کرنے کا اس آیت میں مختصر طور پر اور آگے آیت میں صاف طور پر جو ذکر ہے یہ حدیث اس کی گویا تفسیر ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 319 ج 2 باب تحریم العلم۔
2 ؎ دیکھئے تفسیر ہذا جلد دوم ص 347۔
Ayahs 16:49–5049۔ 50۔ ترمذی میں حضرت عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ظہر کی چار سنتیں بڑے ثواب کی چیزیں ہیں ان چار رکعتوں کا ثواب گویا تہجد کا سا ثواب ہے اسی ذکر کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ زوال کے بعد سب چیزیں اللہ پاک کے نام کی تسبیح پڑھتی ہیں یہ فرما کر پھر آپ نے اوپر کی آیت پڑھی 1 ؎۔ غرض فرشتے انسان جن پہاڑ درخت دیوار سب کے اوپر اللہ کی عظمت اور بڑائی کا اثر ہے پہاڑ درخت اور سب چیزوں کا سایہ زوال سے پہلے سیدھے ہاتھ کی طرف اور سورج ڈھلنے کے بعد الٹے ہاتھ کی طرف جو آجاتا ہے یہ اللہ تعالیٰ نے سایہ کے لئے سجدہ مقرر کیا ہے اور یہی اس کی عبادت ہے اس حدیث کی روایت میں علی بن عاصم منفرد ہے لیکن تقریب میں اس کو صدوق کہا ہے اور امام احمد بن حنبل نے اس کو ناقابل اعتراض ٹھہرایا ہے 2 ؎۔ اس حدیث میں دوپہر کے وقت اصل چیزوں کی تسبیح کا بھی ذکر ہے اگرچہ معتبر سند سے مسند بزار اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی جو حدیث ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کی تسبیح سبحان اللہ وبحمدہ ہے لیکن عام لوگوں کی سمجھ میں وہ تسبیح نہیں آسکتی 3 ؎۔ چناچہ تفصیل سے یہ ذکر سورت بنی اسرائیل میں آوے گا۔ مسند امام احمد ترمذی ابن ماجہ اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی معتبر روایت اوپر گزر چکی ہے 4 ؎۔ اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ آیت میں فرشتوں کے سجدہ کا جو ذکر ہے وہ حدیث اس کی گویا تفسیر ہے اس آیت سے آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کا ذکر فرمایا ہے ان آیتوں کا اور آگے کی آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ بےجان چیزوں کو اپنے خالق کے پہچاننے کی سمجھ ہے جو انسان اپنے آپ کو جاندار سمجھدار سمجھتے ہیں اور پھر اپنے خالق کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کی پرستش کرتے ہیں وہ بےجان چیزوں سے بد تر ہیں۔
1 ؎ جامع ترمذی ص 4 تفسر سورت النحل۔
2 ؎ تہذیب التہذیب ص 347 ج 7۔
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 42 ج 3 تفسیر سورت بنی اسرائیل لیکن بروایت مسند امام احمد۔
4 ؎ یعنی صفحہ سابق پر۔
Ayahs 16:51–5551۔ 55۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں کی پرچھائیاں بےاختیار اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں اس ذکر کے بعد خود مشرکوں کو یہ ہدایت ہے کہ تم بھی اللہ کے ساتھ اور کسی کو شریک نہ کرو کیونکہ عبادت اور کسی کو لائق نہیں ہے اگر ہے تو اسی خدائے وحدہ لا شریک کو زیبا ہے اور پھر یہ فرمایا کہ سوائے اللہ کے اور کسی سے نہ ڈرو یہ بات اس قابل نہیں ہیں جو ان کا خوف مانا جائے انہیں کوئی قدرت نہیں ہے کہ کسی کو کچھ نقصان پہنچا سکیں البتہ اللہ کے قہر و غضب سے ڈرو کیوں کہ اس کی وہ پکڑ ہے جس کی کوئی پناہ نہیں ہے آسمان و زمین میں جس قدر مخلوق ہے وہ سب اللہ ہی کے تحت حکومت میں ہے ان میں کسی کی ذرہ برابر بھی شراکت نہیں ہے اسی لئے خالص اسی کی عبادت سزا وار ہے اور ہمیشہ اسی کی اطاعت و فرمانبرداری زیبا ہے کسی غیر سے کیوں ڈرتے ہو کسی کا خوف کیوں کرتے ہو کیوں کہ عظمت اور قدرت تو صرف خداوند جلالہ کو ہے اور کل اشیاء اس کی محتاج ہیں اور فنا ہونے والی ہیں کوئی ذات اگر ہمیشہ باقی رہے گی تو وہ خدا ہی کی ذات ہے پھر اس کے بعد اپنی نعمتوں پر شکر کرنے کا ارشاد کیا ہے۔ جتنی نعمتیں تمہیں دنیا میں حاصل ہیں وہ سب خدا کی عنایت ہے۔ مال و دولت آل و اولاد رزق کی فراہمی سب اس کی دی ہوئی چیزیں ہیں اس لئے بندوں پر واجب ہے کہ اس کا شکر ادا کریں۔ کیوں کہ جب کسی کو کسی سے کچھ فائدہ پہنچتا ہے تو اس کی شکر گزاری بھی ضرور کرنی ہوتی ہے پھر اس کے بعد انسان کی غفلت کو بیان فرمایا کہ جس وقت انسان کو خوشحالی اور فارغ البالی ہوتی ہے اس وقت اللہ کو بھولا رہتا ہے مگر جب کوئی مصیبت کا سامنا ہوتا ہے بیماری یا کوئی اور سختی درپیش ہوتی ہے تو خدا سے چلا چلا کر فریاد کرنے لگتا ہے پھر جب خدا اس کی فریاد کو سن لیتا ہے اور اس کی مصیبت دور کردیتا ہے تو جو لوگ گمراہ ہیں اس خدائے برتر کا غیروں کو شریک ٹھہرانے لگتے ہیں اور اللہ کو بالکل بھول جاتے ہیں گویا کوئی وقت سختی کا ان پر آیا ہی نہ تھا پھر یہ فرمایا کہ یہ شرک کرنا ان کا اس لئے ہوتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے ان کو دیا ہے اس کو بالکل بھول جائیں پھر فرمایا خیر تم دنیا میں جس طرح چاہو کفران نعمت کرو جیسے چاہو خدا کی نعمتوں کا انکار کرو آگے معلوم کرو گے کہ تمہارا کیا حال ہوگا اور کیا وقت تمہیں پیش آوے گا اور کیا انجام ہوگا دنیا میں تم پر کیا بلا آنے والی ہے اور آخرت میں کیا گت تمہاری ہوگی مشرکین مکہ اپنے مطلب کے وقت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہوجاتے تھے اور جب مطلب نکل جاتا تھا تو پھر شرک کرنے لگتے تھے چناچہ سورت العنکبوت میں آوے گا کہ جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے اور ناموافق ہوا سے ڈرتے تو اکیلے اللہ کو پکارتے اور جب خشکی میں آن کر وہ ڈر جاتا رہتا تو پھر مشرک ہوجاتے اسی واسطے فرمایا کہ اللہ کا دین ہمیشہ وحدانیت کا ہے ان لوگوں کو چاہیے کہ مطلب اور بےمطلب کے وقت اسی کو اپنا معبود جانیں اور دو معبود ٹھہرانے چھوڑ دیں۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎ کہ قوم نوح سے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا رنج ان کے رشتہ داروں اور معتقدوں کو بہت تھا شیطان نے موقع پا کر ان لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی شکل کی مورتیں بنا کر آنکھوں کے سامنے رکھ لی جاویں تو ان مورتوں کے ہر وقت دیکھ لینے سے ان کے آنکھوں کے سامنے اٹھ جانے کا رنج کسی قدر کم ہوجاوے گا۔ اس وسوسہ کے موافق ان لوگوں نے وہ مورتیں بنائیں اور کچھ عرصہ کے بعد ان مورتوں کی پوجا ہونے لگی جو آج تک چلی آتی ہے۔ اس لئے وہ نیک لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو اپنا گواہ قرار دے کر اس معاملہ سے اپنی بیخبر ی ظاہر کریں گے چناچہ اس کا ذکر سورت یونس میں گزر چکا ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ مورتیں تو بالکل پتھر ہیں اور مورتوں والے پوجا سے بیخبر اسی واسطے ان بتوں سے ڈرنے کو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی شکر گزاری میں ان بتوں کو شریک ٹھہرانے کو ان آیتوں میں لا حاصل قرار دیا گیا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎ کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں بڑے بڑے سرکش مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا اب تو تم لوگوں نے اللہ کا وعدہ سچا پایا ان آیتوں میں فتمتعوا فسوف تعلمون کا جو وعدہ تھا اس کے ظھور کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
1 ؎ جلد ہذا ص 315۔
2 ؎ مثلاً ص 402(208 وغیرہ)
Ayah 16:5656۔ اوپر ذکر تھا کہ جو بلائیں اور بیماریاں ان لوگوں کو پہنچتی ہیں اور یہ خدا سے گڑ گڑانے لگتے ہیں اور خداوند عالم محض اپنی شان رحیمی سے فضل کرتا ہے اور وہ ضرر ان سے دفعہ کردیتا ہے تو بجائے اس کے شکریہ کے طرح طرح کی ناشکریاں ان سے سرزد ہونے لگتی ہیں اس آیت میں فرمایا یہ بت جو بالکل بیخبر پتھر ہیں ان کے واسطے اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے یہ لوگ حصہ مقرر کرتے ہیں ان بتوں کو اس کی مطلق خبر بھی نہیں ہے نہ جاندار ہیں نہ انہیں آنکھیں ہیں نہ کان۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ یہ بت جن کو کسی شئی کے سمجھنے بوجھنے کی قوت نہیں کفار اپنے مال میں سے ان کا حصہ ٹھہراتے ہیں مجاہد کا یہ قول ہے کہ کفار جانتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے اور ہر طرح کا فائدہ و نقصان وہی انہیں پہنچاتا رہتا ہے۔ یہ بت جن کو فائدہ اور نقصان کا علم نہیں ہے۔ یہ مشرک اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے ان کا حصہ ٹھہراتے ہیں۔ سدی کا قول یہ ہے کہ یہ آیت اس آیت کی طرح ہے جو سورت انعام میں گزر چکی ھذا للہ بزعمھم وھذا لشرکائنا (6: 126) جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشرک اپنے مال و دولت و چارپایوں میں خدا کا حصہ مقرر کرتے تھے اور اپنے بتوں کے واسطے بھی حصہ مقرر کرتے تھے اگر وہ اچھی ہوتی تھی تو خدا کے واسطے اس کو بتوں کے حصہ میں بدل دیتے تھے اور جو چیز بتوں کے واسطے مقرر کرتے تھے اگر وہ اچھی ہوتی تھی تو خدا کے واسطے اس کو نہیں بدلتے تھے۔ غرضیکہ اس بات پر اللہ پاک نے اپنی ذات کی قسم کھائی کہ قیامت کے دن اللہ ضرور ان لوگوں سے پوچھے گا کہ یہ لوگ دنیا میں کیا جھوٹ اللہ پر باندھا کرتے تھے۔ ترمذی، مسند، بزار اور طبرانی کے حوالہ سے ابوذر ؓ اور معاذ بن جبل ؓ کی معتبر روایتیں گزر چکی 1 ؎ ہیں کہ قیامت کے دن ہر شخص کو چار باتوں کی جواب دہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا۔ (1) تمام عمر کن کاموں میں گزاری (2) جوانی میں کیا کیا (3) روپیہ پیسہ کیوں کر کمایا اور کہاں خرچ کیا (4) علم دین کی نصیحت پر کیا عمل کیا۔ ان روایتوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکوں نے جو کچھ عمر بھر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے ان چار باتوں کی جواب دہی میں وہ سب کھل جائے گا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ جو شخص ان باتوں کے جواب کے وقت جھوٹ بولے گا تو اس کے منہ پر خاموشی کی مہر لگائی جا کر اس کے ہاتھ پیروں کو اصل حال بیان کرنے کا حکم 2 ؎ ہوگا۔
1 ؎ دیکھئے تفسیر ہذا جلد دوم ص 223 وجلد ہذا ص 289، 306۔
2 ؎ صحیح مسلم ص 409 ج 2 فصل فی بیان ان الاحضار منطقۃ شاھدۃ یوم القیمۃ۔
Ayahs 16:57–5957۔ 59۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بےوقوفی اور ان کا بےجان چیزوں سے بھی بدتر ہونا فرما کر اس آیت میں ایک اور بیوقوفی ان کی بیان فرمائی ہے اس بیوقوفی کی دو شاخیں ہیں ایک تو یہ ہے کہ مشرک لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے دوسرے یہ کہ اپنی اولاد میں لڑکی پیدا ہونے سے بہت چڑتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے یہ ایک رسم ٹھہرا رکھی تھی کہ لڑکی پیدا ہو کر چھ برس کے اندر اپنی موت سے مرگئی تو خیر ورنہ جنگل میں ایک گڑھا کھود کر اچھے کپڑے پہنا کر اس لڑکی کو جنگل میں لے جاتے تھے اور اسے گڑھے میں جھانکنے کو کہتے جب وہ جھانکتی تو اس کو گڑھے میں دھکا دیتے تھے اور اوپر سے مٹی ڈال کر اس کو زندہ دبا دیتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دونوں باتیں ان کی بیوقوفی کی ہیں اللہ اولاد شریک سب سے پاک ہے اس کو اولاد سے کیا تعلق علاوہ اس کے جس اولاد کو خود یہ لوگ نہیں پسند کرتے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرنا یہ اور بیوقوفی ہے اسلام نے مشرکوں کی اس لڑکی کے پیدا ہونے سے چڑنے کی رسم کو مٹایا اور لڑکی پیدا ہو تو اس کو محبت سے پالنے پر اجر کا وعدہ اسلام میں آیا ہے۔ چناچہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جو شخص لڑکی کے پالنے اور اس کے شادی بیاہ کرنے کا بوجھ اٹھاوے گا تو عاقبت میں وہ لڑکی دوزخ کی آگ کی ڈھال بن جاوے گی 1 ؎۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو مشرک شخص دائرہ اسلام میں داخل ہو اس کے زمانہ شرک کے سب گناہ ہوجاتے ہیں 2 ؎۔ معتبر سند سے مسند بزار میں قیس بن عاصم ؓ سے روایت ہے جس میں قیس بن عاصم ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ حضرت میں نے اسلام سے پہلے چند زندہ لڑکیوں کو گاڑ دیا ہے اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہر لڑکی کے معاوضہ میں ایک غلام آزاد کرنا چاہیے یا ایک اونٹ کی قربانی کرنی چاہے 3 ؎۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ عمر و بن العاص ؓ کی حدیث میں سوا زندہ لڑکیوں کے زمین میں دبا دینے کے اسلام سے پہلے کے اور گناہوں کا ذکر ہے اور زندہ لڑکیوں کے زمین میں دبا دینے کا حکم وہ ہے جس کا ذکر قیس بن عاصم ؓ کی حدیث میں ہے کہ اسلام کے بعد بھی اس جرم کی سزا فدیہ سے بدل جاتی ہے۔ جو فدیہ ایک غلام کے آزاد کرنے یا ایک اونٹ کی قربانی سے پورا ہوسکتا ہے۔
1 ؎ الترغیب ص 46 ج 2 باب الترغیب فی التفقتہ علی الزوجۃ والعیال الخ۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 14 کتاب الایمان۔
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 478 ج 4 تفسیر سورت تکویر۔
Ayah 16:6060۔ اس سے اوپر کی آیتوں میں اللہ پاک نے یہ بیان کیا تھا کہ مشرکین مکہ لڑکیوں کے پیدا ہونے سے ناک چڑہاتے ہیں اور ان بیچاریوں کو اپنے لئے تنگ و عار سمجھتے ہیں اور ان غریب معصوموں کو زندہ زمین میں دفن کردیتے ہیں اور باوجود اس بات کے اپنی زبان سے یہ کہا کرتے ہیں کہ خدا کی لڑکیاں ہیں اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں جانتے ہیں اپنے واسطے تو لڑکیاں پسند نہیں کرتے اور اس خدائے پاک کو جس کے نہ بیوی ہے نہ بچہ بیٹیوں کا ہونا بتلاتے ہیں وہ ان باتوں سے بالکل پاک ہے وہ نہ اولاد کا محتاج اور نہ کسی رشتے کنبے والوں کا پھر اب یہ فرمایا اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ہیں انہیں اس حساب و کتاب کے دن کا بالکل خوف نہیں ہے انہیں لوگوں کے واسطے بری مثالیں ہیں جاہل ہیں تو یہی ہیں کافر ہیں تو یہ ہیں خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانا انہیں کا کام ہے خدا کو آل و اولاد کا محتاج بتلانا انہیں کا قول ہے خدا تو ان باتوں سے بالکل پاک و صاف ہے اس کے واسطے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی مثالیں وہ بری باتوں کو بندوں کے حق میں بھی نہیں پسند کرتا ہے اپنی ذات کے واسطے کیوں کر گوار کرے گا وہ تو بڑا ہی غالب ہے کوئی اس پر غالب نہیں ہوسکتا اس کی حکمت سب سے بلند ہے وہ بڑا ہی حکمت والا ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی بردبار نہیں ہے کہ لوگ اس کو صاحب اولاد قرار دیتے ہیں اور وہ ان لوگوں کے رزق اور ان کی صحت کے انتظام کو برقرار رکھتا ہے۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ حشر کے منکر لوگ اللہ کی قدرت میں بٹہ لگاتے ہیں حشر کو اس کی قدرت سے باہر گنتے ہیں اس کو اولاد کا محتاج بتلاتے ہیں مخلوق کو اس خالق کا شریک ٹھہراتے ہیں لیکن اس نے اپنی بردباری سے ایسے لوگوں کی راحت کا انتظام برقرار کھا ہے۔
1 ؎ جلد ہذا ص 330۔
Ayahs 16:61–6261۔ 62۔ اللہ پاک اس آیت میں اپنے درگزر کا حال بیان فرماتا ہے کہ یہ مشرک لوگ جیسے جیسے فتنہ و فساد برپا کرتے ہیں اگر خدا کو اس فتنہ و فساد کا مواخذہ منظور ہو تو ان کے ساتھ ان کی بدبختی کی وجہ سے ساری دنیا کو ہلاک کر دے اور کوئی جاندار روئے زمین پر باقی نہ چھوڑے 1 ؎۔ صحیح مسلم میں ابن عمر ؓ سے ایک روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی پر عذاب کا ارادہ کرتا ہے تو اس عذاب میں اس قوم کے سارے آدمیوں کو شریک کرتا ہے پھر یہ لوگ اپنی اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ جیسی جس کی نیت اور جیسے جس کے اعتقاد ہوں گے۔ ویسا ہی اس کا حشر ہوگا چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایسا ہوچکا ہے کہ سوائے اہل کشتی کے سارا جہان اس طوفان میں ہلاک ہوگیا کوئی ملک کوئی گاؤں کوئی قریہ باقی نہیں رہا۔ پھر اللہ پاک نے یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے اور ایک وعدہ مقررہ تک ان کا ہلاک کرنا منظور نہیں ہے۔ جب وہ وقت آجاوے گا تو پھر گھڑی بھر کی بھی مہلت نہیں ملے گی اور اس میں بھی خدا کی بہت بڑی مصلحت ہے کہ ان کو ایک زمانہ تک زندہ باقی رکھا ہے اور عذاب بھیج کر ہلاک نہیں کیا کیونکہ خداوند جل شانہ عالم الغیب ہے ان سے انہیں اس بات کا موقع دیا کہ شاید یہ عذر کریں اور اپنے کفر اور سرکشی سے شرمسار ہو کر دین اسلام میں داخل ہوجائیں اور ان کی نسل جو اولاد پیدا ہو وہ اہل ایمان ہو پھر اللہ پاک نے اس بات کا ذکر کیا کہ جن باتوں سے کفار کو عار ہے اور جو بات یہ لوگ اپنے واسطے پسند نہیں کرتے مثلاً لڑکیوں کا ہونا وہ خداوند جل جلالہ کے حق میں یوں کہتے ہیں کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں اور خدا کے ساتھ بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں حالانکہ خود ان کو یہ گوارا نہیں ہے کہ کوئی شخص ان کی ملکیت میں قبضہ کرے اور ان کے مال میں تصرف کرے پھر خدائے غالب وقہار کے ساتھ اس کے صفات میں کیوں کر کسی کو شریک سمجھتے ہیں۔ آسمان زمین کے انتظام میں کوئی اس کا شریک نہیں اور باوجود ان باتوں کے پھر وہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں آخرت میں فلاحیت ہوگی یہ کیوں کر ممکن ہے کہ دنیا میں تو تم ایسے ایسے ظلم و فساد کرو رسولوں کو جھٹلاؤ کفر کرو خدا کے شریک ٹھہراؤ خدا کی ذات میں عیب لگاؤ کہ اس کی بیٹیاں ہیں اور پھر آخرت میں بھلائی کی امید رکھو ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ہے وہاں تو ان لوگوں کے واسطے دوزخ ہے اور پہلے پہل یہی دوزخ میں ڈالے جائیں گے اور جس طرح دنیا میں یہ لوگ خدا کو بھولے ہوئے بیٹھے تھے اسی طرح یہ لوگ وہاں اللہ کی رحمت سے ایسے بھلائے جائیں گے پھر ان کی کوئی خبر بھی نہیں لے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک وقت مقررہ تک اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے اور جب یہ لوگ مہلت کے زمانہ میں اپنی سرکشی سے باز نہیں آتے تو پھر ان کو برباد کردیتا ہے 3 ؎۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ وقت مقررہ تک مہلت دی لیکن مہلت کے زمانہ میں جب یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو ان کی بربادی شروع ہوئی پہلے مکہ میں سخت قحط پڑا جس میں یہ لوگ مردار جانوروں کی کھالیں تک کھا گئے۔ پھر بدر کی لڑائی میں ان کے بڑے بڑے سرکش مارے گئے اور پھر فتح مکہ کے بعد ان میں کوئی سرکش دنیا پر باقی نہ رہا چناچہ فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول نے ان کے بتوں کو لکڑیاں مار مار کر زمین پر گرا دیا اور کوئی شخص ان کی حمایت کو کھڑا نہیں ہوا۔ سورت احقاف میں فرمایا وقال الذین کفروا للذین امنوا لو کان خیرا ما سبقونا الیہ (46: 11) مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں مالدار لوگ غریب مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنی مہربانی سے دنیا میں ہم کو خوشحال کر رکھا ہے جس کے سبب سے ہم ان غریب مسلمانوں سے ہر حال میں بہتر ہیں اگر حشر کا قائم ہونا سچ ہوتا اور اسلام حشر کی بہبودی کا سبب ہوتا تو دنیا کی بہبودی کے قیاس سے ہم ان غریب مسلمانوں سے پہلے دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے سورت احقاف کی یہ آیت و تصف السنتھم الکذب ان لھم الحسنی کی تفسیر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی قدرت میں بتوں کو شریک قرار دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شان میں صاحب اولاد ہونے کا بٹہ لگاتے ہیں اور بٹہ بھی ایسا کہ خود تو لڑکیوں سے گھبراتے ہیں اور انہیں لڑکیوں کو اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں لڑکوں کو اپنے لئے پسند کرتے ہیں اور پھر دنیا کی چند روزہ خوشحالی کے قیاس پر عقبیٰ کی خوشحالی کی توقع رکھتے ہیں ان لوگوں کا اللہ پر یہ جھوٹ باندھنا ہے۔ نمرود، فرعون اور قارون دنیا میں ان لوگوں سے زیادہ خوشحال تھے لیکن ان کی بد افعالی نے جو نتیجہ انہیں دکھایا وہ ان لوگوں نے سنا ہوگا اس لئے ان کو ہوشیار کردیا جاوے کہ ایسے حد سے بڑھ جانے والے سرکش لوگوں کو عقبیٰ کی بہبودی کا میسر آنا تو درکنار بلکہ ایسے لوگوں کا انجام دوزخ ہے کیوں کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے انصاف کے بالکل برخلاف ہے کہ وہ نیک و بد کا عقبے میں ایک انجام کر دیوے۔ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس ؓ کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے 4 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے بعد کا کچھ سامان کر لیوے اور نادان وہ شخص ہے جو عمر بھر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں لگا رہے اور عقبیٰ کی بہبود کی توقع رکھے اس حدیث کو بھی آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ طرح طرح کی نافرمانیوں میں گرفتار رہ کر دونوں جہان کی بہبود کی توقع جو اللہ تعالیٰ سے رکھتے تھے یہ ان لوگوں کی بڑی نادانی اور ایک شیطانی وسوسہ تھا مفرطون کو بعضے سلف نے افراط سے لیا ہے جس کے معنے حد سے بڑھ جانے کے ہیں شاہ صاحب نے ترجمہ میں یہی قول لیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وسوسہ شیطانی نے ان لوگوں کو نافرمانی میں حد سے بڑھا دیا ہے اس لئے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ قتادہ نے مفرطون کو فرط سے لیا ہے جس کے معنے پیشرو کے ہیں مطلب یہ ہے کہ ایسے سرکش لوگ پیشرو کی طرح عام دوزخیوں سے پہلے دوزخ میں جاویں گے لیکن حافظ ابن جریر نے اس معنے کو محاورہ عرب کے خلاف قرار دیا ہے۔
1 ؎ صفحہ 387 ج 2 باب الامر بحسن الظن باللہ و تفسیر فتح البیان ص 709 ج 2۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 678 ج 2 وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری۔
3 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 233۔
4 ؎ جلد ہذا ص 315، 337 صحیح مسلم ص 376 ج 2 باب فخریش الشیطان الخ۔