Ayahs 16:63–6563۔ 65۔ اللہ پاک نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھا کر آنحضرت ﷺ کی تسلی دینے کو یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ تم ان مشرکوں کی باتوں سے تنگ دل نہ ہو ہم نے تم سے پہلے پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے ہیں جنہیں ان لوگوں نے اسی طرح جھٹلایا ہے جس طرح کفار مکہ تم کو جھٹلاتے ہیں اور شیطان نے ان کے کاموں کو ایسی زیب وزینت دی کہ وہ لوگ شیطان کے وسوسہ سے گمراہی میں پڑے رہے اور اپنی عقل و سمجھ سے انہوں نے کچھ کام نہ لیا اس واسطے دنیا میں بھی ان کا ساتھی یہی شیطان ہے جس کے بہکانے میں وہ پڑے رہے اور آخرت میں بھی اسی کے ساتھ بہت سخت عذاب کے سزا وار ہوں گے اللہ پاک نے اپنے کلام پاک کی نسبت فرمایا کہ جو کچھ ہم اتارتے ہیں وہ اس واسطے ہے کہ تم ان لوگوں کے اختلاف کی حقیقت کھول کر بتلا دو کہ توحید اور قیامت کا قائم ہونا اور احکام دین جس کے یہ لوگ منکر ہیں اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں ان کا فیصلہ ظاہر ہوجاوے کہ کون ان میں حق پر ہے اور کون جہالت میں پڑا ہوا ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن پاک اس ایماندار بندے کے لئے ہدایت اور رحمت ہے جو اس کو پڑھتا ہے اور غور کرتا ہے پھر فرمایا کہ اگر یہ کفار اور مشرکین اس بات سے بےخوف ہوں کہ کیسی قیامت اور کیسی دوزخ اور بہشت اور پھر مرنے کے بعد زندہ ہونا کیسا تو ان لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خدا کو ہر طرح کی قدرت ہے ایک ذرا سی بات یہ ہے کہ زمین میں جب خشکی کی انتہا ہوجاتی ہے اور سارے درخت خشک ہو کر مردہ ہوجاتے ہیں تو وہ آسمان سے مینہ برسا کر زمین کو تروتازہ کردیتا ہے۔ اور پھر زمین گویا زندہ ہوجاتی ہے اور سارے درخت ہرے بھرے ہوجاتے ہیں اسی طرح اسے یہ بھی قدرت ہے کہ ہر جاندار کے فنا ہوجانے کے بعد اسے زندہ کر دے گا جو لوگ دل کے کان رکھتے ہیں اور اس کی مدد سے ہر ایک طرح کی باتوں کو سنتے ہیں اور غور کرتے ہیں ان کے واسطے یہ بہت بڑی دلیل ہے اور جو لوگ دل کے اندھے ہیں انہیں کسی دلیل سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ کہ قوم نوح میں کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرجانے کا رنج ان کے رشتے داروں اور معتقدوں کو بہت تھا شیطان نے موقع پا کر پہلے تو ان لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی شکل کی مورتیں بنا کر آنکھوں کے سامنے رکھ لی جاویں تو ان مورتوں کے ہر وقت دیکھ لینے سے وہ اصل نیک لوگ گویا آنکھوں کے سامنے آجاویں گے اور ان کی جدائی کا رنج کسی قدر کم ہوجاوے گا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد ان مورتوں کی پوجا دنیا میں پھیلا دی یہ حدیث فزین لھم الشیطان اعمالھم کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان برے کاموں کو زیب وزینت دے کر ایسا کردیتا ہے کہ ان برے کاموں کی برائی لوگوں کو نظر نہیں آتی صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث 2 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ہر ایک شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان رہتا ہے فرشتہ اس شخص کو نیک کاموں کی نصیحت کرتا ہے اور شیطان اس شخص کے دل میں برے کاموں کا وسوسہ ڈالتا رہتا ہے یہ حدیث فھو ولیھم الیوم کی گویا تفسیر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ ہر وقت شیطانی وسوسہ کے موافق برے کاموں میں لگے رہتے تھے۔ اس لئے شیطان کو ان کا رفیق فرمایا صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے۔ یہ حدیث و ھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مینہ کے پانی کی طرح اگرچہ قرآن کی نصیحت عام فائدہ کے لئے ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اچھی زمین کی طرح علم الٰہی میں فرمانبردار قرار پاچکے ہیں اور جو لوگ علم الٰہی میں نافرمان ٹھہر چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے ان آیتوں میں مختصر طور پر مینہ کے پانی سے کھیتی کی پیداوار کا ذکر فرمایا گیا ہے لیکن سورت الاعراف کھیتی کے ذکر کے بعد یہ بھی فرمایا ہے کذلک نخرج الموتی لعلکم تذکرون جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اب مینہ کے پانی کے اثر سے کھیتی کی پیداوار ہوتی ہے اسی طرح دوسری صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کے اثر سے سب جسم تیار ہوجاویں گے پھر ان میں روحیں پھونک دی جاویں گی اور منکرین حشر اپنی آنکھوں کے سامنے حشر کو دیکھ لیویں گے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں دوسرے صور سے پہلے اس مینہ کا اور اس سے جسموں کے تیار ہوجانے کا ذکر تفصیل سے ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 18 ج 1 باب فضل من علم و علم
2 ؎ مشکوٰۃ ص 481 باب النخ نے الصور۔
Ayah 16:6666۔ جانوروں اور دودھ والی عورتوں کے پیٹ میں غذا جا کر نجاست پیشاب خون دودھ سب کچھ اسی غذا سے بنتا ہے۔ قدرت الٰہی سے ایک چیز کا رنگ بو اثر دوسری چیز میں ہرگز کچھ باقی نہیں رہتا اگر آدمی غور کرے تو قدرت الٰہی کا یہ بڑا ایک نمونہ ہے اسی نمونہ قدرت کو یاد دلانے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے تاکہ غافل لوگ ہر روز کے کھانے پینے میں اپنی اولاد کے پلانے میں دودھ کا استعمال جو کرتے ہیں اس استعمال کے وقت دودھ کی پیدائش میں جو قدرت الٰہی ہے اسے وہ ذرا غور کریں اور قدرت کے ذریعہ سے اس قادر مطلق کو پہچان لیں دنیا میں نوکری تجارت، زراعت اللہ کے پیدا کئے ہوئے اسباب ہیں۔ ان اسباب سے روزی حاصل کرنے سے بچہ عاجز ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دنوں کا اس کا یہ رزق پیدا کیا ہے اور جانوروں کے بچوں کے ساتھ انسان کا ساجھا بھی لگا دیا ہے غرض بچوں کے اس طرح بےخلش رزق کے پیدا ہونے سے انسان کو یقین کرلینا چاہیے کہ رزق سب کا اللہ کی طرف سے ہے یہی غذا بغیر دودھ کے دنوں میں عورت گائے بھینس وغیرہ کھاتے ہیں لیکن دودھ کی ایک بوند پیدا نہیں ہوتی جن دنوں میں آدمی اور جانوروں کے بچوں کو رزق کا پہنچانا اس قادر مطلق کو منظور ہوتا ہے اسے ہمیشہ کی غذا سے دودھ پیدا ہونے لگتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنتی لوگوں کے لئے جنت میں وہ چیزیں پیدا کی گئی ہیں کہ نہ کسی نے وہ چیزیں آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل پر ان کا تصور گزر سکتا ہے 1 ؎۔ اس حدیث کی بنا پر عبد اللہ بن مسعود اور عبد اللہ بن عباس ؓ کا صحیح قول یہ ہے کہ دنیا کی جن چیزوں کے نام جنت کی چیزوں سے ملتے جلتے ہیں وہ فقط نام میں ہی ملتے جلتے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کی تاثیر اور مزہ دنیا کی چیزوں سے بالکل الگ ہے۔ اس حدیث اور اوپر کے دونوں قولوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کا دودھ جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور جنت کے دودھ کی نہر جس کا ذکر سورت محمد میں آوے گا وہ دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں دنیاکا دودھ کچھ دیر کے بعد کھٹا ہوجاتا ہے اور جنت کا دودھ سالہا سال اپنے اصلی مزہ پر رہے گا اب یہ ظاہر بات ہے کہ دنیا میں اس طرح کا دودھ نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھا نہ کانوں سے سنا نہ کسی کے دل پر ایسے دودھ کا تصور گزر سکتا ہے جو سالہا سال تک نہ بگڑے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سورج گرہن کی نمازیں جنت اور دوزخ کو دیکھا اور صحابہ سے فرمایا کہ اگر جنت کے انگور کی بیل میں سے ایک خوشہ میں توڑ لیتا تو قیامت تک اس کے انگور باقی رہتے 2 ؎۔ اس حدیث سے بھی وہی بات ثابت ہوتی ہے کہ جنت کے دودھ کی طرح جنت کے میوے بھی دنیا کے میوؤں سے بالکل الگ ہیں کیونکہ دنیا کا کوئی انگور کا خوشہ قیامت تک رہنے کے قابل نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھا نہ کانوں سے سنا نہ کسی کے دل میں ایسے خوشہ کا تصور گزر سکتا ہے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 495 باب صفۃ الجنتہ واھلہا۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 142۔ 124 ج 1 باب صلوٰۃ الکسوف جماعۃ۔
Ayah 16:6767۔ اوپر دودھ کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے یہ دوسرا احسان اپنے بندوں پر جتلایا کہ کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم اپنے واسطے نشہ کی چیز تیار کرتے ہو اور اس سے دوسری حلال روزی بناتے ہو جیسے سرکہ وغیرہ۔ اگرچہ مفسروں کا قول یہ ہے کہ آیت شراب کے حرام ہونے کے حکم انما الخمر والمیسر سے منسوخ ہے۔ لیکن اس تفسیر میں یہ بات ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ناسخ منسوخ امر و نہی کی آیتوں میں ہوتا ہے خبر کی آیتوں میں نہیں ہوتا کیونکہ ایک کام کے کرنے یا نہ کرنے کو کہا جا کر پھر اس کو ملتوی کیا جاسکتا ہے برخلاف خبر کے کہ اس میں ایک خبر کے بعد پھر دوسری خبر دی جاوے تو پہلی خبر جھوٹی ٹھہرتی ہے اسی واسطے حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا کی تفسیر انگوروں کو میوے کی طرح کھاتے اور انگوری سرکہ بنانے کی ہے 1 ؎ اور سکرا کے معنے شراب کے لے کر سورت مائدہ کی آیت انما الخمر سے اس آیت کو منسوخ نہیں قرار دیا شاہ صاحب نے ترجمہ میں انہی مفسروں کا قول لیا ہے جو سکرا کے معنے شراب کے لیتے ہیں لیکن اس قول پر وہی اعتراض باقی رہتا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ آخر آیت میں فرمایا کہ کھجور اور انگور سے طرح طرح سے نفع اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ کو وہی لوگ پہچانتے ہیں جن کو کچھ عقل ہے ورنہ نادان لوگ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کام میں لاتے ہیں اور اس کی تعظیم اور عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس ؓ کی روایت اوپر گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے بعد کا کچھ سامان کر لیوے اور نادان عقل سے عاجز وہ شخص ہے جو عمر بھر اس سامان سے غافل رہے۔ اور موت کے بعد اللہ تعالیٰ سے بہبودی کی توقع رکھے یہ حدیث ان فی ذلک لایۃ لقوم یعقلون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں پر دھیان کر کے عقبیٰ کی بہبودی کے خیال سے احکام الٰہی کے پابند وہی لوگ ہوتے ہیں جن کو کچھ عقل ہے اور نادان وہ لوگ ہیں جو اس کے برخلاف ہیں۔
1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 138 ج 14۔
2 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 223 و جلد ہذا ص 342۔
Ayahs 16:68–6968۔ 69۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اپنی ایک اور عجائب قدرت کا حال بیان فرمایا کہ یہ شہد کی مکھیاں جو کچھ بھی جان رکھتی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ پہاڑوں اور درختوں میں جہاں جہاں مناسب سمجھیں اپنے قیام کے لئے گھر بنا لیں یہ مکھی اپنے گھر بنانے میں نہایت ہی سمجھ رکھتی ہے اور اس مضبوطی اور حکمت کے ساتھ اپنا گھر بناتی ہے کہ کیا مجال کہ ذرا بھی سوراخ رہ جائے۔ پھر اللہ پاک نے اس کو طرح طرح کے میوے اور پھلوں سے جنگل اور باغوں میں چل پھر کر کھانے پینے کا حکم دیا اور اسے یہ بھی سمجھ دی کہ اپنے گھر کا رستہ نہ بھولے دور دراز مسافت طے کرنے پر بھی سیدھے اپنے گھر ہی کی طرف واپس آئے پھر یہ بیان فرمایا کہ اس کے پیٹ میں سے رنگ برنگ کا شہد نکلتا ہے جس کا رنگ لال بھی ہوتا ہے۔ زرد بھی ہوتا ہے سبحان اللہ کیا اس کی حکمت ہے کہ ایسی بےحقیقت مکھی سے اتنا بڑا کام لیا شہد کی مکھیاں جب پھلوں اور پھولوں میوؤں کو چوس چوس کر آتی ہیں تو اپنے گھر میں اس چوسے ہوئے رس کو خزانہ کی طرح جمع کرتی جاتی ہیں اور اسی کا نام شہد ہے اور اس کے پروں سے موم بنتا جاتا ہے۔ پھر اللہ پاک نے یہ بیان کیا کہ یہ شہد جو ان مکھیوں سے حاصل ہوتا ہے اس میں انسان کے ہر مرض کی شفا ہے سارے امراض اس کے استعمال سے دفع ہوتے ہیں۔ صحیحین میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے آکر کہا کہ یارسول اللہ ﷺ میرے بھائی کو دست آرہے ہیں آپ نے فرمایا اس کو شہد پلا اس نے جا کر شہد پلایا اور پھر آکر بیان کیا کہ یارسول اللہ ﷺ میں نے شہد پلایا مگر دست اور زیادہ آنے لگے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے جا جا کر شہد پلا وہ گیا اور جا کر شہد پلایا اس کا بھائی اچھا ہوگیا دست آنے بند ہوگئے 1 ؎۔ شہد کے متعلق ہر مرض میں مفید ہونے کی اکثر حدیثیں ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی ایک روایت یوں ہے کہ شفا تین چیزوں میں ہے پچھنے لگانا اور شہد کا پینا اور جس جگہ درد ہو اس کا داغ دینا 3 ؎، دوسری حدیث بخاری میں جریر ؓ سے بعینہ یوں ہی ہے مگر اس میں اتنا اور زیادہ ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں داغ دینے کو دوست نہیں رکھتا 3 ؎۔ ابن ماجہ میں بسند جید عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ تم دو شفاؤں کو لازم پکڑو وہ ہر مرض کے لئے کامل شفا ہیں شہد اور قرآن 4 ؎۔ حاصل کلام یہ ہے کہ طب کی تمام معجونوں میں شہد پڑتا ہے جسمانی مرض کو اسی طرح رفع کرتا ہے جس طرح قرآن کی نصیحت دل کے امراض شرک کفر اور نفاق کو رفع کرتی ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 848 ج 2 باب الدراء بالعمل و تفسیر ابن کثیر ص 5۔ 5 ج 2۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 848 ج 2 باب الشفاء فی ثلاث۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 848 ج 2 باب الدواء بالعسل لیکن بروایت جابر ؓ ۔
4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 576 ج 2 الدرالمنثور ص 123 ج 4۔
Ayah 16:7070۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ساٹھ برس کی عمر کا ہو کر جو شخص دنیا کی مکروہات میں پھنسا رہے اس طرح کا شخص اگر اللہ کے روبرو توبہ کرنے اور نیک کام کرنے کا موقع نہ پانے کا عذر کرے گا تو اس کا عذر مقبول نہ ہوگا 1 ؎۔ کیونکہ اتنی بڑی عمر پانے سے اس کو اللہ کی طرف جھک جانے کا اچھا موقع مل چکا ہے۔ اسی طرح کی روایتوں سے علماء نے انسان کی عمر کے چار درجے ٹھہرائے ہیں اول درجہ تو دن بدن بڑھنے کا ہے اس کی مدت تینتیس برس تک ہے پھر چالیس تک ایک ہی حالت پر آدمی رہتا ہے اسی کو سن وقوف کہتے ہیں پھر چالیس سے ساٹھ تک اندرونی گھٹاؤ انسان کی حالت میں شروع ہوجاتا ہے ایسی ہی عمر کو ادھیڑ کہتے ہیں اس کے بعد سے طرح طرح کے اندرونی مرض پیدا ہو کر وہ ادھیڑ پنے کی حالت بھی باقی نہیں رہتی اور بات کہہ کر بھول جانا اور خرابیاں اس ناکارہ عمر کی شروع ہوجاتی ہیں۔ جس ناکارہ عمر کا ذکر آیت میں ہے حضرت علی ؓ نے فرمایا ہے کہ اس امت کے لوگوں کے لئے پچھتر برس کی عمر وہی ناکارہ عمر ہے 2 ؎، جس کا ذکر آیت میں ہے۔ بخاری اور مسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے اس طرح کی عمر سے اللہ کی پناہ چاہی ہے 3 ؎۔ بعضے علماء نے یہاں یہ ایک شبہ کیا ہے کہ مسند امام احمد، ترمذی، دارمی، طبرانی اور مستدرک میں ابی بکرہ ؓ اور عبد اللہ بن بسر ؓ کی صحیح روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کی عمر بڑی ہو اور عمل نیک ہوں وہ اچھا شخص ہے 4 ؎۔ پھر آپ نے بڑی عمر سے اللہ کی پناہ جو چاہی ہے اس کا کیا مطلب ہے جواب اس شبہہ کا یہ ہے کہ جس عمر تک آدمی سے نیک کام ہو سکے نہ اس کا آیت میں ذکر ہے نہ آپ نے اس سے پناہ چاہی ہے بلکہ آپ نے ناکارہ عمر سے پناہ چاہی ہے اور اسی کا ذکر آیت میں ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آدمی کی عمر کا انقلاب یاد دلا کر یہ تنبیہہ فرمائی ہے کہ ان انقلابوں پر جو قادر ہے اس نے ایک اس انقلاب کا بھی مضبوط وعدہ کیا ہے کہ ہر ایک انسان کو مر کر پھر جینا ہے اس پر ایمان لانا اور عقبیٰ کی فکر کا کرنا ہر مسلمان کا جز ایمان ہے۔ ان اللہ علیم قدیر اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس اپنے علم اور قدرت کے موافق پہلی دفعہ انسان کو پیدا کیا ہے اسی کے موافق وہ انسان کو پھر دوبارہ پیدا کرے گا جو لوگ اس کے منکر ہیں وہ گویا اپنی پہلی پیدائش کے منکر ہیں۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 950 ج 2 باب من بلغ ستین سنۃ الخ۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 577 ج 2۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 942 ج 2 باب الاستعاوۃ من ارؤل العمر۔
4 ؎ جامع ترمذی ص 56 ج 2 باب ماجاء فی طول العمر للمؤمنین۔
Ayah 16:7171۔ اللہ پاک نے مشرکوں کے غلط عقیدہ کے متعلق ایک دوسری دلیل بیان فرمائی کہ حق سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے بندوں میں بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دے رکھی ہے کسی کو غنی و تونگر پیدا کیا ہے اور کسی کو فقیر و محتاج بنایا ہے اور جس طرح مال و دولت میں ایک کو ایک پر فضیلت دی ہے اسی طرح عقل و فہم ناتوانی کمزوری حسن بدصورتی صحت مرض میں بھی ایک کو ایک پر فضیلت دی ہے ایک کی عقل زیادہ ہے ایک کی کم ایک کا علم دوسرے سے بڑھ کر ہے ایک بیمار و کمزور ہے تو دوسرا صحیح اور صاحب قوت ہے۔ سورت الزخرف میں آوے گا ورفعنا بعضھم فوق بعض درجات لیتخذ بعضھم بعضا سخریا (43/22) ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں بعضوں کو خوشحال اور بعضوں کو تنگدست پیدا کرنے میں اتنی بڑی مصلحت ہے کہ اس پر تمام دنیا کا انتظام منحصر ہے کیونکہ خوشحال لوگوں کو تنگدست لوگوں سے طرح طرح کے کام لینے کی ضرورت اور تنگدست لوگوں کو خوشحال لوگوں کے طرح طرح کے کام کر کے ان سے اجرت کے پانے کی ضرورت اور یہ ایسی ضرورتیں ہیں کہ ان پر تمام دنیا کا انتظام منحصر ہے دنیا کے سب لوگ مالدار یا سب لوگ تنگدست ہوتے تو دنیا کا یہ انتظام کبھی نہ چل سکتا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد میں ابی بن کعب ؓ سے اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ توحید کا عہد لینے کے عالم ارواح میں جب اللہ تعالیٰ نے سب روحوں کو آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا تو آدم (علیہ السلام) کو یہ بھی جتلا دیا کہ دنیا میں مثلاً اتنے آدمی مالدار ہوں گے اور اتنے غریب اور اسی طرح اور حالتوں کو بھی جتلا دیا اس پر آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ یا اللہ ان سب کو ایک حالت پر کیوں نہیں پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس میں یہ مصلحت ہے کہ اچھی حالت کے لوگ اپنے سے کم درجے کی حالت والوں کو دیکھ کر شکر ادا کریں 1 ؎۔ صحیح مسلم ترمذی اور ابن ماجہ میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس تنگدست آدمی نے تنگدستی پر صبرو قناعت کو اختیار کیا اس نے بڑی مراد پائی 2 ؎۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ایسے شخص کو صبرو قناعت کا بڑا اجر ملے گا سورت الزخرف کی آیت اور ان حدیثوں کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت کے موافق ان مشرکین مکہ کو مالدار پیدا کر کے ان کے غلام لونڈی کو ان کا محتاج بنا دیا اور یہ ظاہر بات ہے کہ یہ لوگ اپنے لونڈی غلاموں کو اپنی عزت اپنی مالداری کی حالت میں شریک نہیں کرنا چاہتے تو پھر وہ اللہ جو آسمان و زمین کا بادشاہ ہے اس کی تعظیم اور بادشاہت میں یہ لوگ دوسروں کو کیوں اور کس سند سے شریک ٹھہراتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جو ان کو پیدا کیا ہے اور ان کو دنیا کی طرح طرح کی نعمتیں جو دی ہیں کیا اس کی شکر گزاری کے یہی ڈھنگ ہیں جو ان لوگوں نے اختیار کئے ہیں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اب اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم میں جو دوسروں کو شریک کرے تو اس سے بڑھ کر کوئی بات ناشکری اور وبال کی دنیا میں نہیں ہے 3 ؎۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل وہی ہے جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اوپر بیان کیا گیا۔
1 ؎ جامع ترمذی ص 133 ج 2 تفسیر سورت الاعراف و مشکوٰۃ ص 24 باب الایمان بالقدر۔
2 ؎ جامع ترمذی ص 58 ج 2 باب ماجاء فی الکفاف والصبر علیہ۔
3 ؎ مشکوٰۃ ص 16 باب الکبائر۔
Ayah 16:7272۔ اللہ پاک نے یہ اوپر ایک نعمت کا احسان جتلایا کہ تمہارے واسطے تمہاری جنس کی عورتیں پیدا کیں حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے حضرت حوا کو پیدا کیا چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں اور علیحدہ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی جو روایتیں ہیں 1 ؎، ان میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے اور اس میں مصلحت یہ ہے کہ اگر غیر جنس کی بیویاں انسان کے لئے پیدا کی جاتیں تو انسان کو ایسے وحشت ہوتی یہ محبت اور انسیت میاں بیوی میں ہرگز نہ ہوتی غرض کہ یہ کمال مہربانی اللہ جل شانہ کی ہے کہ اس نے انسان کے لئے انسان ہی کا جوڑا بنایا اور پھر اس سے آل و اولاد کا سلسلہ چلایا حضرت عبد اللہ بن عباس عقدۃ کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد پوتے پوتیاں ہیں اور نواسے نواسیاں پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ تمہاری زندگی کے لئے یہ سامان بھی مہیا کردیا کہ تمہارا رزق پاک صاف چیزوں میں مقرر کیا تاکہ ایک مقررہ وقت تک تم زندگی بسر کرو پھر ان نعمتوں کا بھی کچھ خیال نہیں کرتے بت پرستی کئے چلے جاتے ہو اور وہ بت جن میں کسی ایک بات کی بھی قدرت نہیں ان کو اپنا معبود ٹھہراتے ہو اور انہیں پر تمہارا ایمان ہے اور خدا کی ان سب نعمتوں کا شکر نہیں بجا لاتے کفر کرتے ہو اوپر کی آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 2 ؎۔ اسی حدیث کو اس آیت کی تفسیر میں بھی بڑا دخل ہے جس کا حاصل وہی ہے جو عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اوپر کی آیت کی تفسیر میں بیان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان کو ان کی جنس کی بیویوں کو پیدا کیا اور ان کو اور دنیا کی نعمتیں دیں اب ان نعمتوں کے پیدا کرنے والے کی تعظیم میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا بڑے وبال کی بات ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 779 ج 2 باب الامداراۃ مع النساء تفسیر ہذا جلددوم ص 239۔
2 ؎ یعنی زیر تفسیر آیات سابقہ۔
Ayahs 16:73–7473۔ 74۔ اوپر وحدانیت الٰہی کا ذکر فرما کر اب مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ تم لوگ جو سوا اللہ کے غیروں کی عبادت کرتے ہو جن میں اتنی بھی قدرت نہیں کہ تمہارے رزق کا کچھ انتظام کریں نہ آسمان میں ان کا اختیار کہ وہاں سے مینہ برسا سکیں نہ زمین میں ان کا کچھ تصرف ہے کہ اس میں غلہ پیدا کریں اور درخت اگائیں۔ عالم بالا اور عالم پستی میں کہیں بھی ان کا ذرہ برابر عمل دخل نہیں بلکہ خود انہی میں کوئی قدرت نہیں دوسرے کے محتاج ہیں خدا کی مخلوق ہیں اس لئے یہ عبادت کے ہرگز سزاوار نہیں۔ اطاعت اور بندگی تو خدائے وحدہ لا شریک کو زیبا ہے جو کل شئے کا خالق اور رازق ہے پھر فرمایا کہ اللہ کی مخلوق کو اس کا شبیہ نہ قرار دو کیونکہ وہ سب خدا کے بندے ہیں اور اس کی ملکیت اور اختیار میں ہیں صرف وہی اکیلا ہے جو کسی کے اختیار میں نہیں اس واسطے اس کا کوئی مثل نہیں مشرکین مکہ جاہلیت میں اعتقاد رکھتے تھے کہ اللہ جل جلالہ کا مرتبہ ایسا عالی ہے کہ ہم میں سے کسی کو اس کی عبادت کی مجال نہیں ہے اسی واسطے وہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جن لوگوں کی یہ بت مورتیں ہیں وہ اللہ کے خالص بندے ہیں ان کو خدا کے دربار میں تقرب حاصل ہے بارگاہ الٰہی میں یہ ہماری شفاعت کریں گے جس طرح چھوٹے آدمی دنیا میں بادشاہوں کے مصاحبوں کی خدمت کرتے ہیں اور وہ لوگ بادشاہوں کی خدمت بجا لاتے ہیں ہر شخص کا مقدر نہیں کہ بادشاہوں تک اس کی رسائی ہوجاوے تو انہی مصاحبوں کے وسیلے سے اللہ پاک نے اس عقیدے کو یوں غلط قرار دیا کہ تمہیں اس کا علم نہیں ہم جانتے ہیں خدا کے ہاں بھلا ان کو کیا تقرب حاصل ہوسکتا ہے اگر ایسا ہوتا تو اس بت پرستی کے جرم میں پہلی امتوں پر طرح طرح کی آفتیں کیوں آتیں مکہ کے قحط کے تمہیں ان بتوں سے کچھ مدد کیوں نہ ملی۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت گزر چکی ہے 1 ؎ کہ ان بت پرستوں نے مرے ہوئے نیک لوگوں کی مورتیں بنالی ہیں انہیں مورتوں کی پوجا کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ نیک لوگ ان بت پرستوں کی سفارش کریں گے۔ سورت یونس میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ قیامت کے دن جب ان بت پرستوں کا ان نیک لوگوں سے آمنا سامنا ہوگا تو وہ نیک لوگ ان بت پرستوں سے اپنی بیزاری طاہر کریں گے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سورت یونس کی آیت وقال شرکاؤھم ما کنتم ایانا تعبدون (10: 28) اور سورت الانبیاء کی آیت یاویلنا قد کنا فی غفلۃ من ھذا (21: 97) اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث اس آیت ان اللہ یعلم وانتم لا تعلمون کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اب تو ان لوگوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جن نیک لوگوں کی مورتوں کی یہ پوجا کرتے ہیں وہ نیک لوگ اللہ سے ان بت پرستوں کی سفارش کریں گے لیکن جس قیامت کے یہ لوگ منکر ہیں اس دن کا حال ان کو معلوم نہیں اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس دن وہ نیک لوگ بجائے سفارش کے ان بت پرستوں سے بیزار ہوجاویں گے جس بیزاری کے بعد یہ بت پرست اپنے اس غلط اعتقاد پر بہت پچھتاویں گے اور اس وقت کا پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آوے گا۔
1 ؎ جلدہذا ص 315۔ 337۔ 343۔
Ayah 16:7575۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو اللہ کا شریک اور مثل ٹھہرانے سے منع فرما کر دو مثالیں بیان فرمائیں جن میں سے ایک کو اس آیت میں یوں ذکر فرمایا کہ تم دنیا میں دیکھو کہ ایک وہ شخص ہے جو کسی کا غلام ہو اور اس میں کسی بات کی قدرت نہ ہو بالکل مفلس ہو اپنے آقا کا دست نگر ہو دوسرا وہ شخص جو آزاد ہو اور اللہ پاک نے اسے آسودہ حال کیا ہو ہر طرح کی جاہ و ثروت اسے دے رکھی ہو وہ اپنے مال میں سے اپنی خواہش کے موافق کھلے چھپے خرچ کر رہا ہو کسی بات کا محتاج نہ ہو تو فرمایا کہ کیا یہ دونوں شخص کبھی برابر ہوسکتے ہیں۔ ان میں آسمان و زمین کا فرق ہے باوجود اس بات کے پھر یہ دونوں خدا کی مخلوق ہیں اسی کے بندے ہیں صرف فرق ہے تو یہ ہے کہ ایک غلام و محتاج ہے دوسرا آزاد صاحب دولت ہے غرض کہ اللہ پاک کی بھی یہی مثال ہے کہ وہ سارے جہان میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرتا رہتا ہے کوئی اس کا ہاتھ نہیں روک سکتا اور ماسوا خدا کے جن کی عبادت یہ مشرکین کرتے ہیں جن میں کسی بات کی قدرت نہیں خود وہ اپنے نفع اور ضرر کے مالک نہیں ہیں پھر وہ دوسروں کی کیا دستگیری کریں گے بہر حال جب ان میں کسی قسم کی قدرت نہیں ہے تو ہرگز یہ لائق اس کے نہیں ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے اور ان کو معبود ٹھہرایا جائے عبادت کے قابل اسی کی ذات ہے جس کا کوئی مثل نہیں اور جس کو ہر شئے پر پوری پوری قدرت حاصل ہے سارے جہان میں وہ جس طرح چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ پھر اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا کہ ساری خوبیاں اور کل بڑائیاں اللہ جل جلالہ کو سزا وار ہیں اور کوئی اس کا استحقاق ذرہ برابر نہیں رکھتا پھر فرمایا کہ اکثر لوگ جو گمراہ ہیں اور خدا و رسول کے منکر ہیں اور اللہ جل شانہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اس بات کو نہیں جانتے کہ عبادت کے لائق کون ہے اور جن مورتوں کی یہ پوجا کرتے ہیں ان کو یا جن کی شکل کی یہ مورتیں ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے کارخانوں میں کہاں تک دخل ہے اور اگر کچھ دخل نہیں ہے تو پھر ان کو لائق عبادت اور اللہ کا شریک کیوں ٹھہرایا جاتا ہے اور دنیا کی بادشاہی مصاحبوں کی مثال ان کے حق میں کیوں کر صادق کی جاتی ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎، کہ جب قریش نے اپنی سرکشی نہیں چھوڑی تو اللہ کے رسول ﷺ نے مکہ میں قحط کی بددعا کی اور مکہ میں ایسا سخت قحط پڑا کہ مشرک لوگ مردار جانوروں کی کھالیں کھا کھا کر زندگی بسر کرتے تھے اور اس سختی کے زمانے میں مشرکوں نے اپنے بتوں سے مینہ کے برسنے کی بہت کچھ التجا کی مگر کچھ نہ ہوا آخر اللہ کے رسول ﷺ کی دعا سے مینہ برسا۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن مورتوں کی مشرک لوگ پوجا کرتے ہیں ان کو یا جن کی شکل کی یہ مورتیں ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے کارخانوں میں کچھ دخل نہیں ہے اس لئے یہ مورتیں اور مورتوں والے اللہ تعالیٰ کے شریک نہیں ٹھہرائے جاسکتے۔
1 ؎ جلد ہذا ص 314۔
Ayah 16:7676۔ یہ دوسری مثال اللہ پاک نے بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی اور اپنے جھوٹے معبودوں کی یہ مشرک یوں مثال سمجھیں کہ دنیا میں دو شخص ہوں ایک تو ناسمجھ اور گونگا ہو کہ کسی کی بات نہ سمجھے اور نہ کسی کی بات کا کچھ جواب دے سکے کسی کام کے کرنے کی اس کو قدرت نہ ہو اور وہ اس وجہ سے اپنے مالک کو گراں گزرتا ہو کہ اس کا آقا اسے کسی کام کے انجام دینے کو بھیجے تو وہ زبان اور سمجھ بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو بخوبی اور عمدگی سے انجام نہ دے سکے اور ایک وہ شخص ہو جو لوگوں کو اچھی اچھی باتوں اور نیک کاموں کی ہدایت کرے اور خود بھی راہ راست پر ہو تو فرمایا کہ کیا یہ دونوں شخص یکساں ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح ان بتوں اور آنحضرت ﷺ کی مثال ہے کہ بت اندھے بہرے لنگڑے بےدست و پا ہیں ایک پتھر کو تراش خراش کر کے اسے کسی جاندار کی شکل پر بنا رکھا ہے۔ نہ اسے کسی بات کے سمجھنے کی طاقت ہے اور نہ کہیں آنے کی اور نہ کہیں جانے کی نہ وہ کسی کی سن سکتا ہے اور نہ کسی کی بات کا جواب دے سکتا ہے اور حضرت رسول مقبول ﷺ جنہیں اللہ پاک نے اپنا رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا ہے وہ خود بھی راہ حق کے پیرو ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ہدایت کرتے ہیں تو اللہ کے رسول اور ان بتوں میں ظاہر فرق ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ خدا اور مشرکوں کے جھوٹے معبود ہرگز مساوی نہیں ہیں خدا میں ہر ایک بات کی قدرت ہے جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اور جس کی چاہتا ہے سنتا ہے اپنے رسول کی معرفت وہ جس کو چاہے نجات کا راستہ بتا سکتا ہے بر خلاف ان بتوں کے کہ ان میں کوئی بات ان باتوں میں کی نہیں پائی جاتی۔ بعضے مفسروں نے اس آیت کی شان نزول میں یہ بیان کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان ؓ کے ایک غلام کے حق میں جو گونگا تھا اتری ہے 1 ؎۔ اس غلام کا نام اسید بن ابی العیص تھا حضرت عثمان ؓ اس کے نان و نفقہ کے کفیل تھے۔ اور اگرچہ حضرت عثمان ؓ دین اسلام کے ایک زبردست رکن تھے مگر ان کا غلام دین اسلام کو مکروہ جانتا تھا مگر آیت عام ہے اَبْكَمُ سے ہر کافر مراد ہے اور یامر بالعدل سے اللہ کے رسول ﷺ اور ہر مومن دیندار مراد ہے صحیح بخاری کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث جو اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزری وہی حدیث اس آیت کی بھی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول راہ حق پر ہیں اس لئے ان کی بددعا سے پہلے مکہ میں قحط پڑا اور پھر ان کی ہی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اور مشرکوں کے جھوٹے معبود کسی قابل نہیں اس واسطے قحط کے زمانے میں اپنے پوجاریوں کی کچھ مدد نہ کرسکے اور جب ان جھوٹے معبودوں میں ایک قحط کے رفع کرنے کی قدرت نہیں تو اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور عبادت میں ان کو شریک کرنا بڑی نادانی ہے۔ سورت الشعراء میں مشرکوں کی اس نادانی کا ذکر تفصیل سے آوے گا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن جب ان مشرکوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ میں ڈالے جانے کا حکم ہوگا تو اس وقت یہ مشرک لوگ نادانی سے شرک میں گرفتار رہنے کا اقرر کر کے دنیا میں دوبارہ آنے اور شرک سے بچے رہنے کی تمنا کریں گے مگر یہ بےوقت کا اقرار بےوقت کی تمنا سب رائیگاں جاوے گا۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 579 ج 2۔
Ayah 16:7777۔ آیت کے اس ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال علم کو ذکر فرمایا کہ غیب کا علم سوائے خدا کے اور کسی کو نہیں ہے انبیاء اور رسول کوئی بھی غیب دان نہیں ہیں اللہ پاک نے جس کو جتنا وحی یا الہام کے ذریعہ سے خبردار کردیا وہ اتنا ہی جانتا ہے اور ماسوا اس کے آسمان و زمین میں جو جو باتیں غیب کی ہیں اس کا علم کسی کو نہیں خدا ہی جانتا ہے اور غیب کا علم اسی کے ساتھ خاص ہے چناچہ صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے روایت ہے 1 ؎، کہ جب حضرت جبریل (علیہ السلام) نے انسان کی شکل میں آکر آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ قیامت کب ہے تو آپ نے یوں اپنی لا علمی ظاہر کی کہ پوچھنے والے سے میں زیادہ نہیں جانتا ہوں جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح پوچھنے والے کو اس کا علم نہیں ہے کیونکہ اگر وہ جانتا ہوتا تو پھر پوچھتا کیوں اسی طرح مجھے بھی اس کا علم نہیں ہے۔ جو چیز مخلوقات کی نظر سے غائب ہے اس کو غیب کہتے ہیں مثلاً دنیا میں یہ کہ قیامت کب آوے گی یا کل کیا ہوگا یا مینہ کب برسے گا یا حاملہ عورت کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی یا عقبیٰ میں عذاب قبر جنت دوزخ کا حال یہ سب غیب کی باتیں ہیں سورت الجن میں آوے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے بذریعہ وحی کے ان کی باتوں میں سے کچھ باتیں بتلا دیتا ہے تاکہ اس غیب کی بات کا ظاہر کردینا نبوت کی نشانی ٹھہرے۔ مثلاً بدر کی لڑائی میں جو سرکش لوگ مارے جانے والے تھے ان کے مارے جانے سے ایک رات پہلے ان لوگوں کے نام اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بتلا دئیے۔ اور اللہ کے رسول ﷺ نے یہ حال صحابہ سے کہہ دیا۔ چناچہ صحیح مسلم کی انس بن مالک ؓ کی یہ روایت ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوذر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ سے فرمایا دوزخ کا حال جو کچھ مجھ کو معلوم ہے اگر وہ تفصیل سے تم لوگوں کو معلوم ہوجاوے تو تم ہنسنا بالکل کم کر دو ہر وقت روتے رہو بستی چھوڑ کر جنگل کو نکل جاؤ اور وہاں ہر دم اللہ سے لو لگائے رہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کا انتظام قائم رہنے کے لئے بعض غیب کی باتیں اللہ کے رسول نے بقدر ضرورت مختصر طور پر امت کو بتلائی ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان جھوٹے معبودوں کو جب بھلا برا حال ہی کسی کا معلوم نہیں کہ آئندہ ان کے پوجنے والوں کے حق میں کیا ہونے والا ہے تو پھر یہ اپنے پوجنے والوں کے آئندہ کے نہ کسی ضرر کو دفع کرسکتے ہیں نہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں چناچہ مکہ کے قحط میں ان مشرکوں کو اس کا تجربہ ہوچکا ہے کہ ان جھوٹے معبودوں سے کچھ مدد و رفع قحط میں ان مشرکوں کو نہ ملی آخر اللہ کے رسول کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ بارگاہ الٰہی میں اللہ کے رسولوں کا کیا مرتبہ ہے اور ان جھوٹے معبودوں کی رسائی اس بارگاہ میں کہاں تک ہے۔
حدیث شریف میں قیامت کا لفظ آنحضرت ﷺ نے دو معنے میں فرمایا ہے ایک تو کسی زمانے کے سارے موجودہ لوگوں کا رفتہ رفتہ اپنی عمر پا کر مرجانا اور دوسرے زمانہ کے لوگوں کا ان پہلے لوگوں کی جگہ پیدا ہوجانا مثلاً رفتہ رفتہ سارے صحابہ کا وفات پا کر تابعیوں کے زمانہ کا آجانا یہ گویا ایک زمانے کے لوگوں کے مرجانے کے حساب سے ایک درمیانی قیامت ہے اسی زمانہ کو قرن صحابہ اور قرن تابعین کہتے ہیں۔ دوسرے تمام دنیا کی عمر پوری ہو کر صور کا پھونکا جانا غرض یہ دونوں صورتیں اس طرح کی ناگہانی اور اچانک آنے والی ہیں کہ جب ان کا وقت آوے گا تو آنکھ جھپکانے میں آجاوے گا کیوں کہ ہر شخص کو اپنی عمر کا حال معلوم نہیں کہ آنکھ جھپکانے میں کب مرجاوے اسی طرح یہ بھی معلوم نہیں کہ جس قدر روحوں کا دنیا میں پیدا کرنا اللہ تعالیٰ نے ازل میں ٹھہرایا ہے ان کی گنتی کب پوری ہوجاوے اور اس آخری قرن کے ختم پر دنیا کی عمر ختم ہو کر پلک جھپکانے میں صور پھونک دیا جاوے اور تمام عالم تباہ ہوجاوے اس واسطے ہر انسان کی عمر بھروسہ نہ ایک پل کا ہے نہ دنیا کی عمر کا کچھ بھروسہ ہے۔ اس مطلب کے ذہن نشین کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے۔ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ غفلت سے لوگ اپنی عمر اور دنیا کی عمر کے بھروسہ پر بڑے بڑے دیر طلب کام کرتے ہیں اللہ کے نزدیک وعدہ آجانے کی دیر ہے پھر اس کی قدرت کے روبرو درمیانی اور آخری قیامت کا قائم ہوجانا پلک کے جھپکنے سے بھی نزدیک ہے کیونکہ اس کی درگاہ میں ہر کام کے لئے فقط حکم کی دیر ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ برے کام سے توبہ اچھے کام کا سرانجام جو کچھ انسان کو کرنا ہے وہ آج کرلے آج کے کام کو کل پر نہ رکھے کس لئے کہ جب انسان کی عمر کو قیام ہی نہیں تو نہیں معلوم کہ کل کیا ہو۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ لوگ جب آنحضرت ﷺ سے قیامت کے آنے کا حال پوچھا کرتے تھے تو آپ ایک نو عمر لڑکے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کرتے تھے کہ یہ لڑکا بوڑھا نہ ہونے پاوے گا کہ اتنے میں تم لوگوں کی قیامت قائم ہوجاوے گی۔ مطلب یہ ہے کہ اس لڑکے کے بوڑھا ہونے سے پہلے اس قرن کے سب عمر رسیدہ لوگ مرجاویں گے یہ حدیث قیامت کے پہلے معنے کی تفسیر ہے۔ صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) دجال کو ہلاک کر چکیں گے تو ملک شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا آوے گی جس سے اس طرح کے سب لوگ مرجاویں گے جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا اب دنیا میں پھر شرک پھیل جاوے گا۔ اسی حالت میں پہلا صور پھونکا جاوے گا اور تمام دنیا برباد ہوجاوے گی 3 ؎۔ یہ حدیث قیامت کے دوسرے معنے کی تفسیر ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ مر نے کے بعد جو شخص قیامت کے دن جنت میں جانے والا ہے اس کو اس کا جنت کا ٹھکانہ اور جو دوزخ میں جانے والا ہے اس کو اس کا دوزخ کا ٹھکانا صبح شام اللہ کے فرشتے دکھا کر یہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن اس ٹھکانے میں جانے کے لئے تجھ کو دوبارہ زندہ کیا جاوے گا 4 ؎۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں ہر قرن کی موت کو قیامت جو فرمایا ہے اس کی یہ تفصیل عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ مرنے کے ساتھ ہی ہر شخص کو قیامت کے دن کا اپنا انجام معلوم ہوجاتا ہے اس لئے ہر قرن کے لوگوں کے حق میں ان کی موت بھی گویا قیامت ہے ان اللہ علی کل شئی قدیر اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کام اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے اس لئے وقت مقررہ پر ایک قرن کے لوگوں کی موت اور تمام دنیا کی بربادی اور پھر جزا و سزا کے لئے حشر کا قائم ہونا ان سب چیزوں کی اس کو قدرت ہے جو لوگ اس کے منکر ہیں وہ نادان ہیں۔ کیونکہ دنیا کا کارخانہ دیکھ کر یہ ہر سمجھدار سمجھ سکتا ہے کہ یہ اتنا بڑا کارخانہ بغیر جزا و سزا کے بےٹھکانے رہ جاتا ہے۔
1 ؎ جلد ہذا ص 202۔ 208 وغیرہ۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 480 باب قرب الساعۃ الخ۔
3 ؎ صحیح مسلم ص 403 ج 2 باب ذکر الدجال۔
4 ؎ صحیح بخاری ص 184 ج 1 باب المیت یعرض علیہ مقعدہ الخ۔
Ayahs 16:78–7978۔ 79۔ اوپر ذکر تھا کہ جب وقت آئے گا تو پلک جھپکنے میں درمیانی یا آخری قیامت آجائے گی کیونکہ اسے ہر شے پر پوری قدرت ہے وہ کسی چیز سے عاجز نہیں ہے منکر حشر یہ نہ سمجھیں کہ قیامت نہ ہوگی اور پھر انسان دوبارہ زندہ نہ ہوں گے اب فرمایا کہ اللہ پاک نے تمہیں اس حالت میں پیدا کیا کہ تمہارا کچھ وجود نہ تھا باپ کی پیٹھ سے ماں کے شکم میں نطفہ کو ٹھہرا دیا اور رفتہ رفتہ اس نطفہ سے پتلا بنایا پھر روح پھونکی اور تمہیں ماں کے پیٹ سے جب روئے زمین پر ظاہر کیا اس وقت بھی تمہاری حالت یہ تھی کہ تم دنیا میں کسی چیز کو نہیں جانتے تھے نہ نفع کی چیزوں کا تمہیں علم تھا نہ ضرر دینے والی اشیا کو تم جانتے تھے نہ دوست کو پہچانتے تھے نہ دشمن کی شناخت تھی یہاں تک کہ اپنے ماں باپ کو بھی نہیں پہچانتے تھے مگر اللہ پاک نے تمہیں کان دئیے کہ تم لوگوں کی باتوں کو سنو کہ وہ کیا کہتے ہیں اور آنکھیں بھی دیں کہ اچھے برے کو دیکھ کر تمیز کرو اور اپنی زندگی میں ان آنکھوں کے ذریعہ سے مناسب کام لو نفع و ضرر کو دیکھو دوست و دشمن کو پہچانو غرض کہ آنکھیں عجب نعمت ہیں ان کی حقیقت اور قدر وہی جانتا ہے جو کسی زمانے میں آنکھیں رکھتا ہو اور پھر بحکم قضا و قدر اس نعمت عظمیٰ سے محروم ہوگیا پھر اسی پر اللہ پاک نے اکتفا نہیں کیا انسان کو دل بھی دیا تاکہ ہر شے کو سمجھے بوجھے اطباء کے قول کے موافق دل مرکز حیات ہے اگر دل میں کچھ فتور پڑجاوے تو انسان کی زندگی کے لالے پڑجاتے ہیں۔ بہر حال یہ نعمتیں ایسی نہیں ہیں جن کو انسان بھول جاوے اور ان پر منعم حقیقی کا شکر نہ بجا لائے انسان جس طرح اپنے کمال پر پہنچتا جاتا ہے اسی طرح اس کے کان اور دل کی قوت میں ترقی ہوتی جاتی ہے اور اس حقیقی مالک کی ہستی پر دلیل قائم کرتا ہے اور اس بات کو پائے ثبوت تک پہنچا دیتا ہے کہ انسان جیسے کل زرے کے پتلے کی پیدا کرنے والی ضرور کوئی نہ کوئی ذات ہے جس کا کوئی مثل نہیں پھر اللہ پاک اپنی ہستی پر دلیل قائم کرتا ہے اور اس بات کو پائے ثبوت تک پہنچا دیتا ہے کہ انسان جیسے کل پرزے کے پتلے کی پیدا کرنے والی ضرور کوئی نہ کوئی ذات ہے جس کا کوئی مثل نہیں پھر اللہ پاک نے اپنی ہستی پر دوسری دلیل قائم کی کہ آسمان و زمین کے درمیان میں تم سینکڑوں جانوروں کو اڑتے ہوئے دیکھتے ہو جن کو نہ آسمان سے کوئی تعلق نہ زمین سے کوئی علاقہ جس طرح انسان دریا میں تیرتا ہے اسی طرح یہ ہوا میں سیر کرتے پھرتے ہیں کیا ان کا تھامنے والا اور روکنے والا سوائے خدا کے اور کوئی ہے ہرگز نہیں یہ بھی اس کی ادنیٰ قدرت ہے ورنہ یہ خاکی جانور اپنے اجسام کے بوجھ کے سبب سے فوراً زمین پر آن پڑتے پھر فرمایا کہ یہ باتیں ایسی ہیں جن پر سلیم عقلیں ایمان لاتی ہیں اور ایمان دار بندے جو خدا کے دین کے تابعدار ہیں ان باتوں سے خدا کی وحدانیت اور اس کے عجائب قدرت پر دلیل پکڑتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے اور صحیح مسلم میں حذیفہ بن اسید ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حمل کے دوسرے چلے میں بچے کے آنکھ کان اور دل کی بناوٹ شروع ہوجاتی ہے اور چار مہینے میں بچہ کا پتلا بالکل تیار ہو کر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے 1 ؎۔ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ آنکھ کان اور دل کی بناوٹ تو ماں کے پیٹ میں ہوتی ہے اور ان اعضاء سے نفع اٹھانے کا موقع ماں کے پیٹ سے پیدا ہوجانے کے بعد حاصل ہوتا ہے اور آیتوں میں ان اعضاء سے نفع اٹھانے کا اور اس کی شکر گزاری کا ذکر ہے اس لئے آیتوں میں بچہ کی پیدائش کے بعد ان اعضاء کا ذکر فرمایا اور حدیثوں میں ان اعضاء کی ساخت اور بناوٹ کے وقت کا ذکر فرمایا گیا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ آیتوں اور حدیثوں میں کچھ مخالفت نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کی تفسیر ہے۔ اوپر اڑتے ہوئے جانور آنکھوں سے نظر آتے ہیں اور آنکھوں سے دیکھی ہوئی چیز پر آدمی کو پورا یقین ہوجاتا ہے اس لئے آنکھوں کے ذکر کے بعد اڑتے ہوئے جانوروں کا ذکر فرمایا تاکہ آنکھوں والا شخص اس قدرت الٰہی کو دیکھے اور اس صاحب قدرت کو پہچانے اور اس کی تعظیم میں کسی کو شریک نہ کرے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 580 ج 2۔
Ayahs 16:80–8380۔ 83۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک اور دلیل اپنی توحید کی بیان کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے آرام و آسائش کے لئے گھر بنا دئیے کہ جب چل پھر کر تھک جاؤ تو وہاں آکر آرام کرو راتوں کو اطمینان سے اس میں سو جاؤ تمہارے بال بچے ادھر ادھر مارے مارے نہ پھریں دھوپ کی گرمی سے امن پاؤ برسات میں مینہ کے بھیگنے سے بچو جاڑے کی سردی سے نجات پاؤ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا اس حکمت سے تم اگر سفر میں جاؤ گے تو کہاں قیام کرو گے تمہارے واسطے چارپاؤں کے کھال کے خیموں چھولداریاں وغیرہ بنائے جس کو تم اپنے ساتھ لے جایا کرو اور آسانی سے اس کو نصب کرلیا کرو اور سونے بیٹھنے میں اس سے بہت بڑا نفع حاصل کرو پھر فرمایا کہ جانوروں کی کھال ہی تک نفع محدود نہیں رکھتا بلکہ اس کی اون اور باقی تمہارے واسطے بنائے ہیں شال دو شالے پشمی کے وغیرہ کپڑے اسی جانور کے ان سے لوگ بناتے ہیں اور بھی طرح طرح کی اشیاء اس سے تیار ہوتی ہیں پھر فرمایا کہ جب تک یہ دنیا قائم ہے اور جب تک تمہاری زندگی دنیا میں ہوگی اس سے عجیب و غریب نفع اٹھاؤ گے بہرحال یہ نعمتیں جو اللہ پاک نے بیان فرمائیں کہ خیمے وغیرہ تمہاری آسائش کے لئے بنائے گئے یہ در حقیقت امرا کے لئے نعمت تھی مگر بیچارے غریب جو سفر میں آتے جاتے رہتے ہیں ان کی رفع تکلیف کے لئے یہ سامان راحت مہیا کردیا کہ جا بجا رستوں میں درخت پیدا کر دئیے ہیں تاکہ آنے جانے والے مسافر دھوپ میں اس کے سایہ میں آرام حاصل کریں اور مینہ میں بھی قدرے اس کے نیچے پناہ پکڑیں اور پہاڑ اور پہاڑ کی گھاٹیاں تمہارے سایہ میں ٹھہر نے کے واسطے ایک عمدہ جگہ تیار کی ہے۔ پھر اللہ پاک نے اپنی عام نعمت کا ذکر فرمایا جو امیروں اور غریبوں پر یکساں ہے۔ فرمایا کہ تمہارے لئے پہننے کے کپڑے اس لئے بنائے کہ گرمی میں اس کو پہنو تو لو وغیرہ سے بچو اور جاڑے میں اسے استعمال کر کے سردی سے نجات پاؤ اللہ پاک نے اس آیت میں صرف گرمی کا ذکر کیا ہے کیونکہ قرآن مجید زبان عرب میں نازل ہوا ہے اور عرب میں گرمی زیادہ پڑتی ہے سردی مطلق نہیں ہوتی اسی لئے صرف گرمی کے بجاؤ کا ذکر کیا مگر مراد اس سے یہی ہے کہ گرمی اور سردی دونوں موسموں میں انسان کے واسطے کپڑے آرام کی چیز ہیں۔ پھر اللہ پاک نے اس کرتے کا ذکر کیا جس کو زرہ کہتے ہیں اسے لڑائی میں پہنا کرتے ہیں فرمایا کہ تمہارے واسطے وہ کرتے بھی تیار کر ادئیے جسے پہن کر لڑائی کے وقت دشمنوں کی تلوار کی ضرب سے امن میں رہو غرض کہ اللہ پاک اپنی نعمتیں لوگوں پر اسی طرح پوری کرتا ہے تاکہ لوگ اس کو پہچانیں پھر آنحضرت ﷺ کو خطاب فرما کر کہا کہ اگر باوجود ان نعمتوں کے معلوم کرنے کے یہ لوگ اسلام سے بےبہرہ رہیں اور ایمان نہ لاویں تو اس کا تم پر کوئی الزام نہیں ہے تمہیں تو کھول کر اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے پھر تم بری الذمہ ہو ماننا نہ ماننا ان کا اختیار ہے یہ لوگ خدا کی نعمتوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور پھر بھی خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں تمہاری رسالت کا انکار کرتے ہیں کفر کرتے ہیں تو اس کا وبال ان پر پڑے گا مجاہد کا قول ہے کہ ایک گنوار آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا آپ نے یہ آیت پڑھی واللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے رہنے کے لئے گھر بناوے اس اعرابی نے کہا کہ ہاں پھر آپ نے کہا وجعل لکم من جلود الانعام بیوتا آخر تک اس گنوار نے کہا ہاں پھر آپ نے ساری آیت پڑھ کر سنائی وہ ہاں ہاں کرتا رہا جب آپ نے یہ آیت پڑھی کذلک یتم نعمۃ علیکم لعلکم تسلمون جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک تم پر اپنی نعمتیں پوری کرتا ہے تاکہ تم اسلام لاؤ اور وہ اعرابی اس آیت کو سن کر اٹھ کر چلا گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعرفون نعمۃ اللہ ثم ینکرونھا واکثرھم الکفرون کہ خدا کی نعمتوں کو یہ کفار پہچانتے ہیں اور پھر بھی انکار کرتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں اکثر ازلی کافر ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے آدمی دوزخ میں جانے کے قابل اب دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ہر شخص ویسے ہی کام کرتا ہے اور وہی کام اس کو اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان مشرکین مکہ میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچان کر پھر جو انجان بن جاتے ہیں اور اپنے کفر پر اڑے ہوئے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کا انجام علم الٰہی میں دوزخ قرار پا چکا ہے اس لئے اے رسول اللہ کے ان کی گمراہی کا کچھ الزام تم پر نہیں ہے فقط اللہ کا پیغام سب کو پہنچا دو جن کی قسمت میں راہ راست پر آنا لکھا گیا ہے وہ راہ راست پر آجاویں گے ہاں بد بخت ازلی اپنے ارادے سے تو راہ راست پر آنے والے نہیں اور ان کو مجبور کر کے راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے کیونکہ دنیا نیک و بد کے آزمانے کے لئے پیدا کی گئی ہے مجبوری میں وہ آزمائش باقی نہیں رہتی۔
1 ؎ جلد ہذا ص 202۔ 232 وغیرہ۔