16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 16:114–115

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس خدا نے جو تم کو حلال طیب رزق دیا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر کرو اگر اسی کی عبادت کرتے ہو۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اس نے تم پر مردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

114۔ 115۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے مومن بندوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ جو جو چیزیں اللہ پاک نے تمہارے لئے حلال اور تمہاری روزی اس میں مقرر کی ہے بخوشی ورغبت وہ چیزیں کھاؤ اور اپنے خالق کا شکر بجا لاؤ اور ایسا نہ کرو کہ خدا کی حلال کی ہوئی چیزیں حرام اور حرام کو حلال بنا لو جس طرح مشرکوں کا قاعدہ ہے۔ مشرکوں کے اس قاعدہ کی تفصیل سورت انعام میں گزر چکی ہے۔ پھر فرمایا کہ خدا نے تم پر چند چیزیں حرام کی ہیں اور باقی اشیاء تمہارے لئے حلال طیب ہیں اپنی قوت بازو سے حاصل کرو اور کھاؤ جو چیزیں خداوند جل شانہ نے حرام ٹھہرا دی ہیں وہ یہ ہیں : مردار، اور خون، سور کا گوشت، اور جو جانور خدا کے سوا اور کسی کے نام پر چھوڑا جائے یا ذبح کیا جائے وہ دونوں بھی حرام ہیں مگر وقت ضرورت کے اگر اس وقت جب جان پر آن بنے اور سوائے ان حرام اشیاء کے اور کوئی چیز کھانے کو میسر نہ آتی ہو تو باندازہ سید رمق کھا لینا جائز ہے۔ اور خداوند جل شانہ تمہیں اس پر نہیں پکڑے گا وہ بڑا غفور رحیم ہے کہ اس نے جان بچانے کے وقت حرام چیزوں کو تم پر حلال کردیا غیر باغ ولا عاد کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا حلال چیزوں کے ملتے ہوئے ایماندار آدمی حرام چیز کی طرف مائل نہ ہو اور بےبسی میں حرام چیز کو حلال چیز کی طرح پیٹ بھر کر نہ کھاوے۔ مطلب یہ ہے کہ بےبس آدمی کو حرام چیز کھانے کی اجازت ہے۔ حلال چیز کے ملنے یا حرام چیز کے بقدر جان بچانے کے کھانے کے بعد پھر آدمی بےبس نہیں رہتا۔ معتبر سند سے طبرانی میں ابی واقد لیثی سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کو دو وقت کا فاقہ ہو اور اس کے بعد بھی جنگل کے کسی ساگ وغیرہ کے ملنے کی امید بھی اس شخص کو نہ ہو تو ایسا شخص حرام چیز کھا کر اپنی جان بچا سکتا ہے 1 ؎۔ یہ حدیث بےبسی کی گویا تفسیر ہے۔ ابن ابی واقد کا نام حارث بن عوف مدنی صحابہ میں قدیم الاسلام صحابی ہیں حدیث کی سب کتابوں میں ان سے روایت ہے مالکی مذہب میں تین دن کے فاقہ کو بےبس قرار دیا ہے۔ زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی فقہ کی کتابوں میں ہے۔ معتبر سند سے مسند بزار اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابو درداء ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کسی چیز کے حلال یا حرام ٹھہرانے کا حق سوا اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں ہے۔ شریعت کے اس قاعدہ کے برخلاف مشرکین مکہ نے اپنی طرف سے حرام حلال کا قاعدہ ٹھہرا رکھا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں کئی جگہ مشرکین کے اس قاعدہ کو توڑا ہے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 14 ج 2 بروایت مسند امام احمد۔ 2 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 437۔
Ayah 16:116

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھال نہیں ہوگا۔

116۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور سلف نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ مشرکین مکہ نے سانڈ اور جانور اپنی طرف سے حرام جو ٹھہرا رکھے تھے جس کا ذکر سورت انعام میں گزر چکا ہے اصل آیت اس حکم میں نازل ہوئی ہے حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ شریعت اللہ کے حکم کا نام ہے اس لئے جب تک اللہ یا رسول وقت جو اللہ کی طرف سے پیغام ہدایت لے کر آتے ہیں کسی چیز کو حلال یا حرام یا جائز ناجائز بیان نہ کریں امت میں سے کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے یہ حق نہیں دیا کہ اپنی طرف سے کسی چیز کے حرام یا حلال ٹھہرادے۔ چناچہ مسند بزار اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابودرداء ؓ کی معتبر روایت اس باب میں اوپر گزر چکی ہے 1 ؎۔ اس صورت میں یہ اللہ پر بہتان ہے کہ ایک بات اللہ نے فرمائی ہی نہیں اور خواہ مخواہ آدمی اپنے منصوبہ سے اس کو اللہ کا حکم ٹھہرا دے۔ یہ منصب تو اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہی دیا ہے کہ بذریعہ وحی کے اللہ کی مرضی یا نامرضی پہچان کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک جائز ہے یا ناجائز نہیں ہے آیت کے اس حکم میں تمام بدعتیں قولی و فعلی واعتقادی داخل ہیں کیونکہ بدعت وہی چیز ہے جس کا پتہ شریعت کے حکم سے تو لگتا نہیں اور لوگ اس کو شریعت کا حکم جان کر کرتے ہیں چناچہ صحیحین کی حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بدعت کی تعریف جو فرمائی ہے 2 ؎۔ اس کا حاصل یہی ہے کہ دین میں ایسی بات کا نکالنا جس کا پتہ قرآن اور حدیث میں نہ ہو اور فقہ کے ان مفتیوں کے فتوے جن کی تائید کسی حکم شریعت سے نہیں ہوتی یا کوئی حکم شریعت کسی فتوے کے مخالف ہے سب کے سب اس حکم میں داخل ہیں کیونکہ جب حکم شریعت ٹھہرانے کا حق خاص اللہ اور رسول ہی کو حاصل ہے تو جس عالم کے فتوے کی تائید حکم شریعت سے نہ ہو اس طرح کے فتوے کو کس سند سے حکم شریعت کہا جاسکتا ہے اسی واسطے ترمذی، نسائی، ابوداؤد اور ابن ماجہ میں بریدہ ؓ سے جو روایت ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے شریعت میں فتویٰ دینے والے عالموں کی تین قسمیں ٹھہرا کر ایک قسم کے لوگوں کو جنتی اور دو قسم کے لوگوں کو جہنمی فرمایا ہے 3 ؎۔ یہ حدیث مستدرک حاکم میں بھی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے 4 ؎۔ حاصل مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ شریعت کے قاضی تین طرح کے شخص ہیں ایک وہ کہ جو شریعت میں کوئی حکم یا فتویٰ دیوے وہ انجانی سے نہ ہو بلکہ خوب تلاش کے بعد شریعت کے حکم کے موافق حق فتویٰ اور حکم دیوے دوسرا وہ کہ شریعت کا حکم اس کو معلوم تو ہو مگر کسی دنیا کے لالچ یا رعایت کے سبب سے خلاف حکم شریعت کے فتویٰ یا حکم دیوے تیسرا وہ کہ اصل حکم شریعت کا تو اس کو معلوم نہیں مگر اپنی رائے سے ایک بات کو شریعت کا حکم ٹھہرا کر فتویٰ یا حکم دیوے پہلی قسم کا قاضی اور مفتی جنتی ہے اور پچھلی دونوں قسموں کے قاضی اور مفتی جہنمی 5 ؎۔ ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس نے قرآن شریف کی تفسیر بغیر سند شرعی کے اپنی عقل سے کی یا حدیث کی روایت اٹکل سے بغیر خوب یاد کے کردی اس کا ٹھکانا دوزخ میں تیار ہے۔ 6 ؎۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی سہل بن عبد اللہ کو بعضے علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابن معین نے اس کو معتبر کہا ہے۔ ترمذی کی دوسری سند میں سہل بن عبد اللہ نہیں ہے۔ اس سند کو ترمذی نے حسن کہا ہے 7 ؎۔ ابوداؤد میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ایک عالم سے شرعی کوئی مسئلہ پوچھے اور وہ عالم اس شخص کو غلط مسئلہ بتا دیوے اور ان پڑھ شخص اس مسئلہ پر عمل کرلیوے تو اس غلط عمل کا وبال اس غلط مسئلہ بتلانے والے عالم پر رہے گا ابوداؤد نے اس حدیث کی سند پر کچھ اعتراض نہیں کیا 8 ؎۔ علاوہ اس کے یہ حدیث مسند امام احمد میں بھی ہے جس کی سند معتبر ہے۔ صحیح مسلم میں ابن سیرین سے روایت ہے کہ مسلمان شخص کو دین کا مسئلہ کسی عالم سے حاصل ہو تو اس کو ذرا جانچ لینا چاہیے کہ اس عالم نے مسئلہ کے بتلاتے میں کوئی غلطی تو نہیں کی ہے غرض حاصل بہت سی احادیث اور آثار کار یہ ہے کہ عالم کو شریعت کا مسئلہ بتلانے میں اس بات کی بڑی احتیاط چاہیے کہ حکم شریعت میں کوئی غلطی نہ ہوجائے اور ان پڑھ لوگوں کو ذرا اس بات کی احتیاط چاہیے کہ شریعت کے مسئلہ کو ایک دو جگہ کے چار عالموں سے پوچھ لیا کریں تاکہ حکم شریعت میں کچھ غلطی ہو تو نکل جاوے ان پڑھ سے ان پڑھ لوگوں کو معاملات دنیا میں دیکھا جاتا ہے کہ ایک سودا وہ لیتے ہیں تو دس دکانیں پھر کرلیتے ہیں پھر دین میں ایسی کاہلی کیوں کر جائز ہوسکتی ہے کہ اڑتے اڑاتے ٹھکانے اور بےٹھکانے جس سے جو بات سن لی اسی کو اپنا دین قرار دے لیا کیا دین دنیا سے بھی گھٹ کی چیز ہے۔ حدیث اور تفسیر کی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے عالم لوگوں پر تو اللہ کی تنگی اس سبب سے ہوئی کہ توریت میں جو جو تبدیلیاں انہوں نے کرلیں تھیں آنحضرت ﷺ کے تشریف لانے اور قرآن شریف کے نازل ہونے کے بعد بھی وہ ان تبدیلیوں پر جمے رہے اور عام ان پڑھ یہود پر اس سبب سے بلا آئی کہ باوجود حق بات کے معلوم ہوجانے کے وہ اپنے عالموں کے غلط قول پر اڑے رہے علماء نے اس بحث کی ذیل میں یہ بیان لکھا ہے کہ صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ نے یہ جو فرمایا کہ یہود نے جو کچھ کیا ہے وہ سب میری امت میں ہوگا بلکہ یہود کے بہتر فرقے تھے۔ میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے 9 ؎۔ اس حدیث کی رو سے یہ بھی خدا اور رسول کی خفگی کے قابل ایک فرقہ ہے جو یہود میں بھی تھا اور اس امت میں بھی ہے کہ شریعت کی ایک حق بات معلوم ہوجانے کے بعد کسی عالم یا استاد یا پیر کے غلط قول پر اڑے رہتے ہیں نجات عاقبت کے چاہنے والے مسلمان کو لازم ہے کہ اللہ رسول کی اطاعت پر کسی عالم استاد پیر کی اطاعت کو نہ مقدم گنے کیوں کہ عاقبت کی نجات اللہ کی مرضی کے موافق کام کرنے پر منحصر ہے اور اللہ کی مرضی کا بتلانا خاص صاحب وحی کا منصب ہے۔ 1 ؎ زیر آیات سابقہ۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 27 باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 324 باب العمل فی التعتاء الخ والترغیب ص 80 ج 2 باب ترغیب من ولی شیئا من امور المسلمین الخ۔ 4 ؎ المستدرک ص 90 ج 4۔ 5 ؎ ص 119 ج 2 باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برایہ۔ 6 ؎ سہل بن عبد اللہ حضرت جندب ؓ کی روایت کی سند میں ہے جو حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث مذکور کے بعد ہے (ح، ح) 7 ؎ یعنی وہی حدیث جن کا حوالہ ابھی اوپر گزرا۔ 8 ؎ ص 514 باب التوقف فی الفتیا از کتاب العلم۔ 9 ؎ جامع ترمذی 88۔ 89 ج 2 باب افتراق ھذہ الامۃ۔
Ayah 16:117

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اسکے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا۔

117۔ اوپر ذکر تھا کہ حرام حلال میں خاص اللہ تعالیٰ کا حکم درکار ہے بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم کے کسی چیز کو حرام یا حلال ٹھہرانا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والے لوگ کبھی فلاح اور بہبودی کو نہیں پہنچ سکتے۔ اب فرمایا ایسے لوگ اپنی حلال حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں کی چند روز تائید کرلیں مگر آخرت میں عذاب الیم سے انہیں رہائی نہیں ہوگی وہاں ان کے کردار کی سخت باز پرس ہو کر اس کی سزا پائیں گے اور سزا بھی ایسی جو نہایت ہی درد ناک ہوگی۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے مستورد بن شداد کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آخرت کی ہمیشہ کی زندگی مانند ایک دریا کے ہے اور اس کے مقابلہ میں دنیا کی چند روزہ زندگی ایسی ہے جیسے دریا میں کوئی شخص اپنی انگلی ڈبوئے اور اس کی انگلی پر پانی کی کچھ نمی آجاوے 1 ؎ یہ حدیث متاع قلیل کی گویا تفسیر ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن کم سے کم دوزخ کا عذاب یہ ہوگا کہ دوزخی شخص کے پاؤں میں آگ کی جوتیاں پہنادی جاویں گی جس سے اس کا بھیجا پگھل کر نکل پڑے گا 2 ؎۔ اس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ جب کم سے کم عذاب کا یہ حال ہے تو آیت میں سخت عذاب کا جو ذکر ہے اس عذاب کا کیا حال ہوگا : 1 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 370 و 439۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صفتہ النار واھلھا۔
Ayahs 16:118–119

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور جو چیزیں ہم تم کو پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا پھر اس کے بعد توبہ اور نیکو کار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور (ان پر) رحمت کرنے والا ہے۔

118۔ 119۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہود کے حال کا بیان فرمایا کہ ان پر جو جو چیزیں حرام اور جو جو چیزیں حلال کی گئیں تھیں ان کا ذکر پہلے سورت انعام کی آیت وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ومن البقر و الفنم حرمنا علیھم شحومہما الا ماحملت ظھورھما (6: 46) میں گزر چکا ہے پھر فرمایا کہ یہ بات اللہ کی طرف سے بطور ظلم کے نہیں تھی بلکہ ان ہی یہود کی بغاوت اور ظلم کا نتیجہ تھا کہ بطور عذاب کے بہت سی چیزیں ان پر حرام کردی گئیں تھیں کیونکہ خدا ظالم نہیں ہے جو ناحق کسی پر حلال شئے کو حرام کرتا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 1 ؎۔ کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے یہ حدیث وما ظلمناھم کی گویا تفسیر ہے پھر یہ فرمایا کہ جو لوگ بسبب جہالت اور نادانی کے برے کام کے مرتکب ہوجاتے ہیں اور پھر جب انہیں سمجھ بوجھ آگئی اور خدا کے خوف سے ڈر کر توبہ کی تو خدا ان سے درگزر بھی کردیتا ہے۔ کیوں کہ اللہ پاک غفور الرحیم ہے۔ مشرکین مکہ نے جس طرح اپنی طرف سے حرام حلال کا قاعدہ ٹھہرا رکھا تھا اسی طرح یہود نے بھی اپنی طرف سے حرام حلال ٹھہرا رکھا تھا۔ مثلاً سور کو یہود اور مشرکین مکہ دونوں حلال سمجھتے تھے حالانکہ ملت ابراہیمی اور شریعت موسوی میں سور کے حلال ہونے کا کہیں حکم نہیں ہے غرض سورت انعام میں بھی اس عقلی حرام و حلال کے تذکرے میں مشرکین مکہ اور یہود کا ذکر تھا یہاں بھی مختصر طور پر اسی سلسلہ سے ذکر فرمایا یہود کی شرارت کی سزا میں جو چیزیں ان پر حرام ہوئیں ان میں مردار جانوروں کی چربی بھی تھی۔ لیکن یہود لوگ اس سزا کے بعد بھی اپنی شرارت سے باز نہیں آئے چربی کو پگھلا کر بیچا کرتے تھے۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے جو روایت ہے اس شرارت کا ذکر اس میں تفصیل سے ہے 2 ؎۔ آخر نتیجہ یہود کی شرارتوں کا یہ ہوا کہ مدینے کے گردونوح میں یہود کے تین قبیلے رہتے تھے ان میں سے دو کو تو جلا وطنی نصیب ہوئی اور ایک قبیلہ کو قتل کردیا گیا اس تفسیر میں ان تینوں قبیلوں کا حال تفصیل سے ایک جگہ گزر چکا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ یہود کے ذکر سے مشرکین مکہ کی یہ تنبیہ منظور ہے کہ شرارت کی وجہ سے جو حال یہود کا ہوا وہی حال ان کا ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے مشرکین مکہ کی یہ تنبیہ منظور ہے کہ شرارت کی وجہ سے جو حال یہود کا ہوا وہی حال ان کا ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے مشرکین مکہ اس تنبیہ کے بعد بھی جب اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان شرارتوں کی سزا بدر کی لڑائی اور فتح مکہ کے وقت جو کچھ ہوئی اس کا ذکر کئی جگہ گزر چکا ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی شفاعت کی بڑی حدیث کا ذکر ایک جگہ گزر چکا ہے کہ سب شفاعتوں کے بعد خود اللہ تعالیٰ ایسے کلمہ گو دوزخیوں کو جنت میں داخل کرے گا جنہوں نے دنیا میں عمر بھر کوئی نیک کام نہیں کیا۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے غفور رحیم ہونے کی گویا تفسیر ہے۔ 1 ؎ صحیح مسلم ص 319 ج 2 باب تحریم الظلم۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 241 باب الکب ولھب الحلال۔
Ayahs 16:120–123

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (لوگوں کے) امام (اور) خدا کے فرمانبرادار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

اس کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا۔

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے۔

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

120۔ 123۔ عرب اپنے کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی نو صفتیں بیان فرمائیں تاکہ مشرکین مکہ قائل ہوں کہ ان میں ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی بھی صفت نہیں ہے پہلی صفت ابر اہیم (علیہ السلام) کی یہ ہے کہ ابراہیم اپنے اکیلے دم سے بجائے ایک امت کے تھے ان کے زمانہ میں سارے لوگ کافر تھے صرف ابراہیم (علیہ السلام) حق پرست تھے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے وقت میں اکیلے آپ ہی مومن تھے۔ اس لئے اللہ پاک نے ان کے حق میں یہ فرمایا کہ ابراہیم اپنے دم سے خود ایک امت تھے دوسری صفت ابر اہیم (علیہ السلام) کی اللہ پاک نے یہ بیان کی کہ قانت تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے پکے فرماں بردار تھے خدا کے ہر ایک امر کے مطیع اور ہر نبی سے باز رہنے والے تیسری صفت یہ بیان کی کہ ضعیف تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ذات میں کوٹ کوٹ کر توحید بھری ہوئی تھی۔ چوتھی صفت یہ بیان کی کہ وہ اپنی عمر کے کسی حصہ میں بھی شرک کرنے والوں میں نہیں تھے۔ بچپن اور کم سنی میں اپنی فطری عقل سے یہ قرار کیا کہ بت یا دوسرے معبودات جس کو مشرکین معبود مانتے ہیں وہ انہیں دوست نہیں رکھتے اور صاف کہہ دیا کہ لا احب الا فلین پھر اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بت خانہ میں گھس کر بتوں کو توڑ ڈالا جس کے سبب سے آگ میں ڈالے گئے پانچویں صفت یہ بیان کی کہ خدا کی نعمتوں کے نہایت شکر گزار بندے تھے آپ کا قاعدہ تھا کہ بغیر مہمان کے کسی روز کھانا نہیں کھاتے تھے ایک روز کا ذکر ہے کہ کوئی مہمان آپ کے یہاں نہیں آیا آپ نے کھانے کے وقت سے زیادہ دیر تک انتظار کیا کہ شاید کوئی مہمان آجائے اتنے میں چند فرشتے انسان کی صورت میں آپ کے یہاں وارد ہوئے آپ نے انہیں کھانے کو بلایا انہوں نے ایک بہانہ آپ کے سامنے پیش کیا کہ ہمیں جذام ہے یہ سن کر ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اب تو ہم پر واجب ہوگیا کہ ہم تمہارے ساتھ کھانا کھائیں کیونکہ خدا کا یہ نہایت شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس مرض سے محفوظ رکھا اور تم اس بلا میں گرفتار ہو چھٹی صفت یہ بیان کی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ پاک نے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لئے منتخب کیا ساتویں صفت یہ بیان فرمائی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ جل شانہ نے دین اسلام کے سیدھے رستے کی ہدایت کی آٹھویں صفت یہ بیان کی کہ اللہ پاک نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں بہتری بخشی کہ سارے مذاہب و ملت کے لوگ آپ کو اچھے نام سے یاد کرتے ہیں کیا یہود کیا نصاری اور عرب کو تو خاص کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وجہ سے فخر حاصل ہے نویں صفت یہ بیان فرمائی کہ جس طرح دنیا میں ابراہیم (علیہ السلام) پر خدا کا فضل رہا ویسے ہی آخرت میں بھی خدا ان پر مہربان اور جنت میں ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑا درجہ عطا کیا جاوے گا یہ صفات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیان فرما کر اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو خطاب کیا کہ اسی لئے اللہ نے تم پر وحی کے ذریعہ سے یہ حکم نازل کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت اور طریقے کو اختیار کرو وہ طریقہ شرک سے بالکل الگ ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جو شخص نیک راہ نکالے اس کو نیک راہ نکالنے کا اجر جدا دیا جاوے گا اور جتنے آدمی اس نیک راہ پر چلیں گے ان سب کے برابر اجر اس نیک راہ نکالنے والے کو جدا دیا جاوے گا حضرت ابرا ہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں سے نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کی جو دعا کی تھی اس کا ذکر سورت بقرہ میں اور انہوں نے اپنی اولاد کے حق میں بت پرستی سے بچنے کی جو دعا کی تھی اس کا ذکر سورت ابراہیم میں گزر چکا ہے۔ مسند امام احمد کے حوالہ سے عرباض بن ساریہ ؓ کی معتبر حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے اپنی پیدائش کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا اثر فرمایا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فتح مکہ کے بعد فرمایا کہ جزیرہ عرب کی بت پرستی سے شیطان اب مایوس ہوگیا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک دعا کے اثر سے نبی آخر الزمان ﷺ کا پیدا ہونا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہی دوسری دعا کے اثر سے بنی اسماعیل کی بت پرستی سے شیطان کا مایوس ہوجانا اس سب کا اجر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ملنے والا ہے جو بت پرستی سے بچنے والی ایک امت کے اجر کے برابر ہے اسی واسطے اجر کے حساب سے اکیلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک امت فرمایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد ابراہیمی گھرانہ سے کہیں نبوت کے باہر نہ جانے کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کیا اس کا ذکر سورت بقرہ میں گزر چکا اور اس وعدہ کا ظہور سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ ایک مدت تک اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت رہی اور پھر اسماعیل بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت کا خاتمہ ہوا۔ یہ حالت واتیناہ فی الدنیا حسنہ کی گویا تفسیر ہے معراج کی صحیح حدیثوں میں ہے کہ معراج کی رات حضرت محمد ﷺ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سب انبیاء سے اوپر ساتویں آسمان پر دیکھا یہ حالت وانہ فی الاخوۃ لمن الصالحین کی گویا تفسیر ہے آنحضرت ﷺ کو دین ابراہیمی پر چلنے کا جو حکم ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف سے دین ابراہیمی کے جو مسئلے منسوخ نہیں ہوئے ان پر چلنا چاہیے۔ 1 ؎ جلد ہذا ص 360۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 591 ج 2۔
Ayah 16:124

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

ہفتے کا دن تو انہی لوگوں لے لئے مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

124۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو ملت ابراہیمی (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم دیا تھا کہ ابراہیم کے طریقہ کی آپ پیروی کریں کیوں کہ ان کا طریقہ خالص توحید کا ہے اس میں شرک کا ذرا بھی لگاؤ نہیں۔ اب یہود کو ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے دیکھ کر مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہود بھی اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پابند بتلاتے ہیں اور شرع محمدی کو بھی ملت ابراہیمی کے موافق کہا جاتا ہے پھر شرع محمدی میں ہفتہ کی تعظیم کی جگہ جمعہ کی تعظیم کیوں ہے اسی کو فرمایا کہ ہفتہ کا دن یہود نے آپ اپنی رائے سے اور اپنے باہمی اختلاف سے مقرر کرلیا ہے دین ابراہیمی میں ہفتہ کے دن کی تعظیم کا ذکر نہیں ہے بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اللہ پاک کا ہفتہ میں ایک دن کو عبادت کے لئے خاص کرلینے کا حکم ہوا تھا اس پر یہود نے اپنی عقل سے ہفتہ کا دن مقرر کیا کہ اس دن خدا کی عبادت کیا کریں گے کیونکہ اس روز خدا بھی دنیا کی چیزوں کے پیدا کرنے سے فارغ تھا کسی مخلوق کو اس روز پیدا نہیں کیا اس واسطے اللہ پاک نے انہیں کے انتخاب کے موافق اسی دن کو ان کے واسطے مقرر کردیا اور مچھلی کا شکار اس روز بالکل ممنوع کردیا گیا۔ اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک یہود اسی دن پر قائم تھے۔ پھر جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نبی ہوئے تو نصاریٰ نے اتوار کا دن اختیار کیا اور یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی روز سے مخلوق کی پیدائش کی بنیاد ڈالی ہے اور اس روز عبادت کرنے لگے جب آنحضرت ﷺ نبی ہوئے تو اللہ پاک نے آپ کی امت کے لئے جمعہ کا دن منتخب کردیا اور آنحضرت ﷺ کی امت قیامت تک اسی پر قائم رہے گی۔ صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہم ساری امتوں کے بعد دنیا میں آئے ہیں اور قیامت میں سب سے پہلے ہوں گے مگر یہ بات ضرور ہے کہ پہلی امتوں کو خدا کی کتاب ہم سے پہلے ملی ہے اور یہ دن جمعہ کا وہ ہے کہ اللہ پاک نے ان امتوں کے اختیار پر چھوڑا تھا مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا اس لئے اللہ پاک نے ہمیں اس کی ہدایت دی ہے اور ہم نے اس جمعہ کے دن کو اختیار کیا اب جتنی امتیں ہیں وہ سب ہماری تابع ہیں یہود ہم سے ایک روز بعد اور نصاریٰ اس سے بھی ایک دن بعد 1 ؎۔ پھر اللہ پاک نے یہ بات بیان فرمائی کہ قیامت کے دن اس سارے اختلاف کا فیصلہ بخوبی ہوجائے گا اور ہر ایک کو وہ سزا ملے گی جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہود نے ہفتہ کا دن خالص عبادت کا ٹھہرا کر پھر ان میں ایک فرقہ نے قوم کے لوگوں سے جو اختلاف کیا اور ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار کھیلا ایسے لوگوں کی سزا کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم اور اسماء وصفات بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں یہود نے آنحضرت ﷺ سے دنیا کی پیدائش کا حال پوچھا تھا اس پر آپ نے فرمایا اتوار کے دن سے دنیا کی چیزوں کی پیدائش شروع ہو کر جمعہ کے روز ختم ہوگئی۔ یہود نے آپ کے اس کلام کی پوری تصدیق کی اوپر یہ جو گزرا کہ یہود نے ہفتہ کا دن عبادت کے لئے اس واسطے اختیار کیا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز پیدا نہیں کی اور نصاریٰ نے اتوار کا دن اس کہ اس دن سے دنیا کی پیدائش شروع ہوئی تھی اس کا مطلب ان روایتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ 1 ؎ جامع ترمذی ص 155 ج 2 تفسیر سوت ص۔
Ayah 16:125

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف بلاؤ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے راستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے۔ اور جو راستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔

125۔ اس آیت میں اللہ پاک نے حضرت موسیٰ کو حکم فرمایا کہ آپ لوگوں کو اسلام کی نصیحت کریں تو نہایت ہی نرمی سے گفتگو کریں۔ اس طرح اللہ پاک نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے پاس جانے کا ارشاد فرمایا تو یہ بھی حکم دے دیا تھا کہ فقولا لہ قولا لینا جس کا مطلب یہ ہے کہ سختی سے اس کے ساتھ کلام نہ کیا جائے۔ اس واسطے اہل اسلام کو بھی زیبا ہے کہ جب کسی مخالف فرقہ سے مناظرہ کریں تو یہی شیوہ اختیار کریں خواہ وہ راہ راست پر آویں یا نہ آویں چناچہ اسی بات کا آنحضرت ﷺ کو بھی حکم ہوا کہ آپ اس بات کی حرص نہ کریں کہ سب کے سب آپ کی نصیحت سے راہ راست ہی پر آجاویں کیونکہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے وہ جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے نہ دے وہ ہدایت پانے والے کو خوب جانتا ہے اور جو لوگ ہدایت نہیں پانے والے ہیں انہیں بھی وہ جان چکا ہے مگر جزا و سزا کا دارو مدار اس نے اپنے علم پر نہیں رکھا ہے اس لئے اتمام حجت کے طور پر اس نے اپنے رسول مخلوق میں بھیج دئیے تاکہ کسی کو اس بات کے کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہمیں کوئی راہ بتلانے والا نہیں ملا یا کوئی رسول و پیغمبر خدا کا ہمارے پاس پیغام لے کر نہیں آیا۔ معتبر سند سے ترمذی نسائی مصنف ابن ابی شیبہ اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابو طالب کی بیماری کے وقت ابو جہل اور چند مشرک ابو طالب کی خبر کو آئے اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کی شکایت کی کہ یہ ہمارے بتوں کو برا کہتے ہیں اتنے میں آنحضرت ﷺ بھی اس مجلس میں تشریف لائے اور اس شکایت کا حال سن کر آپ نے فرمایا میں تو ان لوگوں کو ایسا کلمہ کہنے کی نصیحت کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ وہ کلمہ کہہ لیویں گے کہ ان کو تمام عرب کی بادشاہت مل جاوے گی ان لوگوں نے پوچھا وہ کیا کلمہ ہے تو آپ نے بت پرستی کے چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے مان لینے کی نصیحت کی اس پر وہ مشرک لوگ خفا ہو کر اس مجلس سے اٹھ گئے۔ سورت آل عمران میں گزر چکا ہے کہ نجران کے پادری جب زبانی بحث سے قائل نہیں ہوئے تو آنحضرت ﷺ نے جھوٹے گروہ پر بددعا کرنے کا طریقہ اختیار کیا جس پر وہ پادری ڈر گئے اور انہوں نے سالانہ کچھ رقم ادا کرنے کے وعدہ پر صلح کرلی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم ازلی کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں۔ آیت میں حکمت اور تدبیر سے نصیحت کرنے کا اور مخالف لوگوں کو اچھے طریقے سے الزام دینے کا اور پھر نصیحت کے بعد راہ راست پر آنے والوں اور نہ آنے والوں کا حال اللہ تعالیٰ کو معلوم ہونے کا جو حکم ہے یہ روایتیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ مشرکین مکہ کو اللہ کے رسول نے کس حکمت اور تدبیر سے شرک سے باز آنے کی نصیحت کی اور نجران کے پادریوں کو کیسے اچھے طریقہ سے الزام دیا اور اس نصیحت اور الزام کے بعد علم الٰہی کے موافق آخر نتیجہ کیا ہوا۔ 1 ؎ جلد ہذا ص 202۔
Ayah 16:126

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ Open ayah 16:126 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی تکلیف دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہت اچھا ہے۔

126۔ معتبر سند سے ترمذی، نسائی، مستدرک حاکم اور دلائل النبوت میں بیہقی نے ابوہریرہ ؓ اور ابی بن کعب ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جنگ احد میں چونسٹھ آدمی انصار اور چھ آدمی مہاجر یہ سب ستر شخص جو شہید ہوئے تو سوا ایک حنظلہ بن عامر ؓ کے اور سب شہدا کی لاشوں کے ساتھ مشرکین نے بڑی بےرحمی کا برتاؤ کیا۔ شہیدوں کے ناک کان شرمگاہ کاٹ ڈالے پیٹ پھاڑ ڈالے حنظلہ بن ابو عامر ؓ سے مشرکین اس سبب سے برائی سے پیش نہیں آئے کہ حنظلہ کے باپ ابو عامر مشرکین کے لشکر میں ابو سفیان کے ساتھ تھے غرض جب مشرکوں نے مسلمانوں کے شہداء کی لاشوں کے ساتھ یہ بد سلوکی کی تو اس پر مسلمانوں نے یہ کہا تھا کہ ہم بھی جب کبھی موقع پاویں گے تو جو کچھ مشرکوں نے کیا ہے اس سے بڑھ کر ہم ان کے مقتولوں کا برا درجہ کریں گے اور آنحضرت ﷺ نے بھی حضرت امیر حمزہ کی لاش کو کان، ناک، کٹا اور پیٹ پھٹا جب دیکھا تھا تو قسم کھا کر یہ فرمایا تھا کہ امیر حمزہ کے عوض میں ستر مشرکوں کے کان، ناک میں کاٹوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے وقت یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ ایذا کے بعد اگر کوئی صبر کرے تو صبر بہت بہتر ہے اور اگر بدلا بھی لیا جاوے تو اس قدر بدلہ لیا جاوے جس قدر ایذا دشمنوں کی طرف سے پہنچی ہے۔ اس سے بڑھ کر بدلا لینا اللہ کے انصاف میں منع ہے۔ اس آیت کے اترنے کے بعد آنحضرت ﷺ نے اپنی قسم کا کفارہ دیا اور فرمایا کہ ہم کو صبر منظور ہے۔ سوا اس شان نزول کے بعضے مفسروں نے آیت کی اور شان نزول بیان کر کے آیت کو حکم جہاد سے منسوخ جو ٹھہرایا ہے اس شان نزول سے یہ شان نزول جو اوپر بیان ہوئی ہے زیادہ صحیح ہے اسی واسطے ابو جعفر ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں اس شان نزول کو پسندیدہ اور قوی ٹھہرایا ہے 2 ؎۔ ہرم بن حیان ایک تابعی بزرگان دین میں سے جب وفات کے قریب پہنچے تو ان کے رشتہ داروں اور دوستوں نے کہا کہ کچھ وصیت فرمائیے انہوں نے کہا کہ بڑی وصیت تو مال کی ہوتی ہے مال تو میرے پاس نہیں ہے لیکن سورت نحل کی آخر کی آیتوں کی میں تم کو وصیت کرتا ہوں ان بزرگ کی وصیت کا حاصل وہی ہے جو حاصل آیت کے معنے میں بیان ہوا اللہ کی بردباری کی عادت کی۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے اوپر ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون بردبار ہوسکتا ہے کہ لوگ شرک کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کے رزق اور ان کی صحت میں خلل نہیں ڈالتا 3 ؎، اور احادیث میں بھی غصہ کے وقت بردباری اور تحمل کی بڑی فضیلت آئی ہے جس طرح آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پرہیز گار اور نیک بندوں کے ساتھ ہونے کا ذکر فرمایا ہے اسی طرح قرآن شریف میں جہاں کہیں اللہ کا اپنے بندوں کے ساتھ ہونے کا ذکر ہے اہل سنت کے نزدیک اس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور مدد سے بندوں کے ساتھ ہے اللہ کی ذات پاک کا ہر جگہ ہونا اور ہر شے میں ہونا فرقہ جہمیہ کا اعتقاد ہے۔ اہل سنت اس کے قائل نہیں ہیں چناچہ امام احمد بن حنبل نے فرقہ جہمیہ کے عقیدوں کے غلط ٹھہرانے میں خاص ایک کتاب لکھی ہے جس میں بہت سی آیتیں اور عقلی دلیلوں سے جہمیہ فرقہ کو قائل کیا گیا ہے چناچہ مثلاً آیت قد احاط بکل شئی علما (66: 12) کے موافق اہل سنت کے مذہب کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے علم کو ہر جگہ تسلیم کر کے عقلی طور پر بعضے مقامات کی بحث کی ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے بالذات موجود ہونے کے اعتقاد کو بڑی گستاخی اور بےادبی کا اعتقاد ثابت کیا ہے جیسے مثلاً صحیح مسلم کی جابر ؓ کی حدیث میں ہے کہ شیطان سمندر میں اپنا تخت بچھا کر بیٹھا ہے 4 ؎۔ اب اوپر کی آیت کے موافق اللہ تعالیٰ اپنے علم کی رو سے تو وہاں موجود ہے لیکن نعوذ باللہ منہا اس تخت پر اللہ تعالیٰ کے بالذات موجود ہونے کا اعتقاد کسی مسلمان کو زیبا نہیں ہے۔ ایسی نقلی اور عقلی مثالیں اس کی کتاب میں بہت سی ہیں جن سے جہمی فرقہ کے مذہب کی غلطی اچھی طرح ثابت ہوتی ہے۔ 1 ؎ جامع ترمذی ص 41 ج 2 تفسیر سورت النحل۔ 2 ؎ تفسیر ابن جریر ص 197 ج 14۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 13 کتاب الایمان۔ 4 ؎ مشکوٰۃ ص 18 باب فے الوسوسۃ۔
Ayahs 16:127–128

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 16:127 in the Quran reader

اور صبر ہی کرو اور تمہارا صبر بھی خدا ہی کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ بد اندیشی کرتے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہونا

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ Open ayah 16:128 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکو کار ہیں خدا ان کا مددگار ہے۔

127۔ 128۔ اس سے اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے مومنوں کو خطاب کیا تھا کہ جب کوئی تم پر ظلم کرے اور تم کسی وقت اس پر قابو پا کر بدلہ لینا چاہو تو اسی قدر بدلہ لو جتنا اس نے ظلم کیا تھا ایسا نہ ہو کہ اس سے تجاوز کرو بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ صبر کرو اس آیت میں خاص کر سرور کائنات حضرت رسول مقبول ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ صبر اختیار کریں اور اس کی تاکید فرمائی اور اس بات کی خبر دی کہ خداوند جل جلالہ کی مدد کے بغیر صبر ہاتھ نہیں آتا آپ اگر صبر کریں گے تو خدا ہی کی مدد سے کرسکیں گے اور پھر آپ کو اس بات سے منع فرمایا کہ جو شخص آپ کے خلاف کرے تو اس سے رنجیدہ ہوجاویں کیونکہ یہ بھی خدا ہی کی طرف سے مقدر ہوچکا تھا جو کچھ احد کی لڑائی میں ہوا اور پھر کفار کے مکرو فریب کرنے سے غمگین ہونے کو منع فرمایا کہ اگر یہ مکرو فریب کرتے ہیں تو کرنے دو خدا تو تمہارے ساتھ ہے ان کے مکرو فریب سے تمہیں کیا نقصان ہوگا۔ اللہ پاک متقی اور خالص نیت سے نیک عمل کرنے والے لوگوں کے ساتھ ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تکلیف کے وقت جو شخص صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی غیب سے مدد کرتا ہے 1 ؎۔ جس سے تکلیف کی برداشت اس شخص پر آسان ہوجاتی ہے یہ حدیث اصبر وما صبرک الا باللہ کی گویا تفسیر ہے جس میں اللہ کے رسول نے آیت کے ٹکڑے کا مطلب اچھی طرح سمجھا دیا ہے۔ اسلام کی ترقی کو روکنے کے لئے مشرکین مکہ طرح طرح کے مکرو فریب کرتے تھے۔ چناچہ اسی سورت میں ان کے ایک فریب کا ذکر قتادہ کے صحیح قول کے حوالہ سے گزر چکا ہے کہ یہ لوگ حج کے موسم میں مکہ کے چاروں طرف آدمی بٹھلا دیتے تھے تاکہ وہ مکہ کے آنے والے مسافروں سے قرآن اور آنحضرت ﷺ کی مذمت بیان کر کے انہیں اسلام کی طرف مائل نہ ہونے دیویں اسی واسطے فرمایا کہ ان مشرکوں کی سرکشی پر نہ کچھ رنجیدہ ہونا چاہیے نہ ان کا مکرو فریب کچھ اندیشہ کے قابل ہے پرہیز گار اور نیک لوگوں کے ساتھ اللہ ہے وہ ان کی مدد کرے گا اور اس کی مدد کے آگے کسی کا مکرو فریب کچھ چل نہیں سکتا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے مکہ کے چاروں طرف آدمی بٹھلا کر جن مکہ کے مسافروں کو ان مشرکوں نے اسلام سے روکنا چاہا اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق ایسی مدد کی کہ انہی مکہ کے مسافروں کے ذریعہ سے اہل اسلام کی جماعت بڑھا دی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبادہ بن الصامت ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس میں منیٰ کی گھاٹی کی بیعت اسلام کا قصہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک سال موسم حج میں قبیلہ اوس و خزرج کے کچھ لوگ مدینہ سے مکہ آئے اور منیٰ کی گھاٹی میں انہوں نے اسلام قبول کیا اور آنحضرت ﷺ نے ان میں سے بارہ شخصوں کو نقیب مقرر کیا تھا کہ وہ مدینہ اور اطراف مدینہ میں اسلام کو پھیلا دیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہجرت سے پہلے مدینہ اور اطراف مدینہ میں چودہ پندرہ سو آدمیوں کی جماعت اہل اسلام کی قائم ہوگئی حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ جو فرمایا تھا کہ اللہ کے رسول اور ان کے ساتھ کے اہل اسلام کی غیب سے ایسی مدد ہوگی جس سے ان مشرکین کا مکرو فریب کچھ نہیں چل سکے گا عبادۃ بن الصامت ؓ کی یہ حدث اس وعدہ کے ظہور کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے چاروں طرف آدمی بٹھلا کر جن لوگوں کو مشرکین مکہ نے اسلام سے روکنا چاہا تھا مدد الٰہی سے وہی لوگ اسلام کے ایسے مددگار بن گئے کہ قیامت تک ان کا نام انصار اور دین کے مددگار قرار پا گیا۔ معتبر سند سے عطیہ سعدی ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ کوئی شخص متقیوں کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا جب تک بےڈر کی چیز کو ڈر کی چیز کی دہشت سے نہ چھوڑ دے یہ حدیث متقیوں کے حال کی گویا تفسیر ہے احسان کے معنے حسن سلوک کے بھی ہیں اور حسن عبادت کے بھی ہیں ان آیتوں میں محسنون کا لفظ خالص نیت سے عبادت کرنے والوں کے لئے ہے کہ حسن عبادت کا یہی مطلب ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے حسن عبادت کے معنوں میں جو احسان ہے اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ آدمی عبادت کرتے وقت یہ خیال کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اگر یہ مرتبہ آدمی کو میسر نہ ہو تو اتنا خیال ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے 3 ؎۔ اگرچہ سورت آل عمران میں احد کی لڑائی کا قصہ بیان کردیا گیا ہے لیکن اس آیت اور اس سے اوپر کی آیت میں مختصر طور پر احد کی لڑائی کا ذکر آیا ہے اس سبب سے مناسب معلوم ہوا کہ یہاں بھی اور لڑائی کے قصہ کا مختصر طور پر ذکر کردیا جاوے۔ احد کی لڑائی کا سبب یہ ہے کہ جب 2 ھ میں بدر کی لڑائی ہو کر مسلمانوں کی فتح ہوئی تو مشرکین مکہ کو مسلمانوں کو اس فتح اور اپنی شکست کا بڑا رنج تھا اس لئے بدر کی لڑائی کے تیرہ مہینے کے بعد مشرکین مکہ پھر لڑائی کے ارادہ سے آئے اور احد کے مقام پر لڑائی ہوئی۔ یہ لڑائی ایسے ڈھنگ سے تھی کہ احد پہاڑ مسلمانوں کی پشت پر تھا۔ لڑائی کے شروع ہونے سے پہلے اللہ کے رسول ﷺ نے لشکر اسلام کی پشت کی حفاظت کے عندیہ سے پچاس تیر اندازوں کو اس پہاڑ پر تعینات کردیا تھا تاکہ مشرک لوگ دھوکا دے کر لشکر اسلام کی پشت کی طرف سے حملہ کرنا چاہیں تو یہ تیر انداز ان کو روکیں۔ اول اول مشرکوں نے لشکر اسلام کی پشت کی طرف سے تین دفعہ حملہ کرنا چاہا لیکن ان تیر اندازوں نے بڑی جرأت سے مشرکوں کے تینوں دفعہ کے حملہ کو روکا مگر جب ان تیر اندازوں نے دیکھا کہ مسلمان غالب ہوا چاہتے ہیں تو ان تیر اندازوں نے اپنی تعیناتی کی جگہ چھوڑ دی اور لوٹ لوٹ کہتے ہوئے لشکر اسلام میں جاملے۔ مشرکوں نے موقع پاکر لشکر اسلام کی پشت پر سے بھی حملہ کردیا اور مسلمانوں کے پیر اکھاڑ دئیے آخر ستر آدمی مسلمانوں کے شہید ہوئے حضرت امیر حمزہ ؓ اور نامی گرامی صحابہ بھی انہیں ستر میں شریک ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کا دانت ٹوٹ گیا اور آپ کی ناک میں اور گھٹنے کو بھی صدمہ پہنچا اور آپ ایک گڑھے میں گر پڑے جس سے شیطان نے غل مچا دیا کہ رسول وقت شہید ہوگئے۔ اسی مسلمانوں کی شکست کے بعد مشرکوں نے مسلمانوں کی لاشوں کے ساتھ وہ بدسلوکی کا برتاؤ کیا جس کا ذکر اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزرا اور اسی بدسلوکی کے برتاؤں کو دیکھ کر اللہ کے رسول اور مسلمانوں کو وہ جوش آیا جس کا ذکر اوپر کی آیت کی تفسیر میں ہے اور اسی جوش کے مٹانے کے لئے اس آیت میں صبر کا حکم نازل ہوا۔ 1 ؎ الترغیب ص 263 ج 2 الترغیب فے الصبر الخ۔ 2 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 159۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 11 کتاب الایمان۔