15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الرا یہ (خدا کی) کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں۔

1۔ الٓر حروف مقطعات میں سے ہے جن کا ذکر سورة بقرہ میں ہوچکا ہے کہ اس کے معنے سوائے خدا کے کسی کو نہیں معلوم اور جس طرح تمام سورتوں میں جو حروف مقطعات سے شروع ہوئی ہیں قرآن کی عظمت بیان فرمائی ہے اسی طرح اس سورت میں بھی حروف مقطعات کے بعد فرمایا کہ یہ سورت قرآن مجید کی آیتوں میں سے تھوڑی سی آیتیں ہیں اور پھر قرآن کی صفت بیان فرمائی کہ اس سے حق بات ناحق بات سے صاف طور پر واضح ہوجاتی ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور معجزوں کے علاوہ مجھ کو قرآن شریف ہی کا ایک ایسا معجزہ دیا گیا ہے جس کے سبب سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری امت کے نیک لوگوں کی تعداد اور امتوں کے نیک لوگوں کی تعداد سے زیادہ ہو 1 ؎ گی۔ یہ حدیث { وقران مبین } کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کی آیتوں میں ایسی صاف صاف نصیحتیں ہیں جن سے قیامت تک بہت لوگوں کو ہدایت ہوگی اگرچہ بعضے سلف نے کتاب کی تفسیر تورات اور انجیل کو ٹھہرایا ہے مگر تورات اور انجیل کا اوپر کہیں ذکر نہیں ہے اس لئے صحیح قول یہی ہے کہ کتاب اور قرآن شریف کی آیتوں میں ایسی صاف صاف نصیحتیں ہیں جن سے قیامت تک لوگوں کو ہدایت ہوگی اگرچہ بعضے سلف نے کتاب کی تفسیر تورات اور انجیل کو ٹھہرایا ہے مگر تورات اور انجیل کا اوپر کہیں ذکر نہیں ہے۔ اس لئے صحیح قول یہی ہے کہ کتاب اور قرآن دونوں لفظوں سے قرآن ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ آیتیں ایسی صاحب عظمت کتاب کی ہیں جس کا نام قرآن ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 744 ج 2 باب کیف نزول الوحی
Ayah 15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے۔

2۔ طبرانی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بعضے کلمہ گو مسلمان گناہ گار جس وقت دوزخ میں جاویں گے تو کافر ان پر طعن کریں گے کہ تمہاری مسلمانی تمہارے کچھ کام نہ آئی آخر تم بھی ہمارے ساتھ عذاب میں پھنسے اللہ تعالیٰ ان کافروں کے یہ طعن سن کر جھٹ ان مسلمان کلمہ گو لوگوں کو دوزخ سے نکالنے کا حکم دیوے گا اس وقت کافر لوگ یہ تمنا کریں گے کاش کہ ہم بھی کلمہ گو ہوتے۔ یہ ذکر فرما کر آپ نے یہ آیت 1 ؎ پڑھی جس سے معلوم ہوا کہ اصل شان نزول اس آیت کی یہ ہے سوائے اس کے علمائے متقدمین و متاخرین نے اور شان نزول جو اس آیت کی بیان کی ہے مثلاً کافروں کا موت کے وقت عذاب کے فرشتوں کو دیکھ کر اسلام کی تمنا کا ظاہر کرنا اس سے ان علماء کا مقصد یہ ہے کہ اس حالت پر بھی آیت کا مطلب صادق آتا ہے ورنہ اصل شان نزول وہی ہے جس کی صراحت اس حدیث میں آچکی ہے یہ بات اوپر بیان ہوچکی ہے کہ صحابہ اور تابعین میں یہ ایک طریقہ جاری تھا کہ جس معاملہ پر آیت کا مطلب صادق آتا تھا خواہ وہ معاملہ آیت کے پہلے کا ہو یا بعد کا وہ لوگ اس معاملہ کو بھی آیت کی شان نزول قرار دیا کرتے تھے اگرچہ طبرانی کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع کو بعضے علماء نے ضعیف ٹھہرایا ہے لیکن ذہبی 2 ؎ نے اس کو ناقابل اعتراض قرار دیا ہے علاوہ اس کے یہ حدیث طبرانی میں انس بن مالک ؓ کی روایت 3 ؎ سے بھی ہے جس کی سند میں خالد بن نافع نہیں ہے۔ اس لئے ایک روایت کو دوسری روایت سے تقویت ہوجاتی ہے۔ اسی واسطے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا 4 ؎ ہے۔ اور طبرانی میں صحیح سند سے ایک روایت جابر بن عبد اللہ 5 ؎ کی بھی اس مضمون کی ہے یہ ہے کہ خالد بن نافع کے ضعیف ہونے کے سبب سے اس شان نزول کی روایت کو ضعیف نہیں کہا جاسکتا بعث و نشور بیہقی میں ایک قصہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز حضرت عبد اللہ بن عباس اور انس بن مالک ؓ میں اس آیت کی شان نزول کی بابت پر بڑی بحث ہو کر آیت کی یہی شان نزول صحیح قرار پائی 6 ؎ جن کا ذکر ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت سے اوپر گزرا۔ 1 ؎ تفسیر الدر المنثور 92 ج 4 مجمع الزوائد ص 45 ج 7 تفسیر سورت الحجر۔ 2 ؎ میزان الاعتدال ص 302 ج 1۔ 3 ؎ تفسیر الدرا لمنثور 93 ج 4 تفسیر ابن کثیر ص 546 ج 2۔ 4 ؎ تفسیر الدرا لمنثور ص 92 ج 4۔ 5 ؎ تفسیر الدرالمنثور ص 92 ج 4 تفسیر فتح البیان ص 639 ج۔ 6 ؎ ایضاً ۔
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ان کو ان کے حال پر رہنے دو کہ کھا لیں اور فائدے اٹھا لیں اور (طول عمل) ان کو (دنیا میں) مشغول کئے رہے۔ عنقریب ان کو اسکا (انجام) معلوم ہوجائے گا۔

3۔ اس سے اوپر کی آیت میں یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن کفار بعضے مسلمان گنہگاروں کو دوزخ سے نکلتے ہوئے دیکھ کر یہ کہیں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے تو اس وقت یہاں سے نکال لئے جاتے اور ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں نہ رہتے اب اس آیت اللہ تعالیٰ نے حضرت ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ ان کافروں کو ان کے حال پر چھوڑو اور ان کے پیچھے نہ پڑو کہ خواہی نخواہی یہ ایمان ہی لائیں اور اچھے عمل کریں بت پرستی چھوڑ دیں دین حق کو قبول کریں یہ کبھی راہ راست پر نہیں آئیں گے ان سے کہہ دو کہ دنیا میں جتنا جی چاہے کھا پی لو اور عیش و آرام کرلو اور ہمیشہ جینے کی امید پر بیٹھے رہو آگے جو ہوگا سب تمہیں معلوم ہوجائے گا ابھی تو یہی گمان کرتے رہو کہ ہماری عمر بہت بڑی ہے ہم ابھی کیا مرنے والے ہیں اس آیت میں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ دنیا کی لذتوں میں پڑے رہنا اور طول طویل امید پر بیٹھے رہنا ایماندار شخص کے لئے زیبا نہیں ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں کہ میں تم لوگوں پر دو باتوں کا خوف کرتا ہوں طول امل اور خواہش نفس۔ طول امل آخرت کو بھلا دیتی ہے کیوں جو شخص کسی طویل امید پر بیٹھا ہوگا اس کے دل میں کبھی یہ بات نہ گزرے گی کہ ہم جلد مریں گے اور جب مرنے کا خیال نہ آئے گا تو وہ آخرت کی یاد کو بھول جائے گا۔ اور خواہش نفس حق سے روک دیتی ہے بھلے برے کی تمیز جاتی رہتی ہے۔ صحیح بخاری، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں عبد اللہ بن مسعود اور انس بن مالک ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دن ایک چھوٹی اور دوسری بڑی لکیر کھینچ کر یہ فرمایا کہ چھوٹی لکیر آدمی کی عمر کی ہے اور بڑی لکیر اس کی بڑی بڑی دنیا کی امیدیں ہیں ایک دن اس کی عمر ختم ہوجاوے گی اور یہ بڑی بڑی امیدیں یوں ہی نا تمام رہ جائیں گی۔ 1 ؎۔ اس صحیح حدیث سے حضرت علی ؓ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے اور حدیث کو حضرت علی ؓ کے قول کے ساتھ ملا کر { ویلھھم الامل } کی تفسیر کی جاسکتی ہے۔ صحیح کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ بڑے بڑے مالدار دوزخیوں سے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے پوچھیں گے کہ دنیا کے جس عیش و آرام نے تم کو عقبیٰ سے غافل رکھا اس عذاب کے آگے وہ عیش و آرام تم کو کچھ یاد ہے وہ لوگ قسم کھا کر کہویں گے کہ نہیں۔ 2 ؎ یہ حدیث کا ٹکڑا { فسوف یعلمون } کی گویا تفسیر ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 949 ج 2 باب فی الامل وطولہ ومشکوٰۃ باب الامل واحرص۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صفتہ النار واطہار۔
Ayahs 15:4–5

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کا وقت (مرقوم و) معین تھا۔

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

4۔ 5۔ اس آیت میں اس بات کی خبر دی گئی کہ کوئی گاؤں بغیر حجت تمام کئے ہوئے ہلاک نہیں کیا گیا اور جب تک اس کا مقرر وقت نہ آچکا عذاب نہیں نازل کیا گیا جب کسی قوم کا وقت مقرر آجاتا ہے تو پھر نہ اس سے گھٹتا ہے نہ بڑھتا ہے اجل کے معنے وقت مقررہ کے ہیں اس سے زیادہ اس کی تفصیل سورت انعام میں گزر چکی ہے۔ اس آیت میں اہل مکہ کو جو کافر اور مشرک تھے خوف دلایا گیا ہے کہ تم جس کفر اور شرک پر جمے بیٹھے ہو ایک روز یہ کفر اور شرک جڑ سے اکھڑ جاوے گا وقت مقررہ آنے کی دیر ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے وہ سب لوح محفوظ میں لکھا 1 ؎ ہے۔ یہ حدیث کتاب معلوم کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انتظام میں دنیا کے ہر کام کا وقت دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے لکھا جا چکا ہے اس واسطے ہر کام اپنے وقت مقررہ پر ہوتا ہے۔ مشرکین مکہ عذاب کی جلدی جو کرتے ہیں پہلی امتوں کی طرح ان کے حق میں بھی عذاب کا وقت مقررہ جب آجاوے گا تو ان کو اس جلدی پر پچھتانا پڑے گا۔ صحیح سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت جس کا حاصل یہ ہے کہ عذاب کی جلدی کرنے والے مشرکین مکہ میں سرکش ابو جہل وغیرہ جب بدر کی لڑائی میں مارے گئے تو مرنے کے بعد اپنی حالت پر ان کو پچھتانا پڑا مگر یہ بےوقت کا پچھتانا کچھ ان کے کام نہ آیا وقت مقررہ پر ان سرکشوں کے مارے جانے کے قصہ کو اور فتح مکہ کے قصہ کو بھی آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ بدر کی لڑائی کا قصہ پہلے گزر چکا ہے۔ فتح مکہ کے وقت ان مشرکوں کی کمزوری جس حد تک پہنچی اس کا ذکر بھی ایک جگہ گزر چکا 2 ؎ ہے کہ اللہ کے رسول نے ان کے جھوٹے معبودوں کو لکڑیاں مار مار کر زمین پر گرادیا۔ 1 ؎ صحیح مسلم ص 335 باب حجاج آدم و موسیٰ ۔ 2 ؎ جلد ہذا ص 235۔ 255۔ 271۔
Ayah 15:6

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور (کفار) کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تو تو دیوانہ ہے۔

6۔ جب آنحضرت ﷺ نے قریش کو قرآن شریف کی آیتیں پڑھ کر سنائیں اور قریش سے یہ کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تو قریش نے یہ دو باتیں کہیں جن کا ان آیتوں میں ذکر ہے ایک تو یہ کہ اللہ کے رسول کو انہوں نے دیوانہ بتلایا دوسری بات یہ کہی جس کا ذکر آگے ہے کہ اگر تم اللہ کے رسول ہو تو تمہارے کلام کی تصدیق کو آسمان سے فرشتے ہماری آنکھ کے سامنے کیوں نہیں آتے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اپنے رسول کو تسلی دی اور قریش کی پہلی بات کا جواب یہ دیا کہ اے رسول اللہ کے ان لوگوں کے دیوانہ کہنے سے تم کو کچھ رنج و الم میں نہ پڑنا چاہیے یہ کچھ نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو اللہ کے رسول تھے ان سے بھی مخالف لوگ اسی طرح ٹھٹھا کرتے رہے ہیں۔ دوسری بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہاں اور سورت انعام میں جو دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ فرشتوں کی اصلی صورت تو ان منکروں کو موت کے وقت یا عذاب الٰہی کے وقت نظر آوے گی اب بیچ میں اگر فرشتوں کو انسان کی صورت میں ان کے پاس بھیج دیا جاوے تو ان منکروں کو یہی شک ہوگا کہ یہ انسان اللہ کا رسول کیوں کر ہوا پھر فرمایا یہ لوگ تو ایسے ڈھیٹ ہوگئے کہ دن دہاڑے آسمان پر چڑھ کر سب فرشتوں کو بھی اگر یہ دیکھ لیویں تو اس کو بھی جادو بتلا دیں گے۔ ترمذی اور مسند امام احمد میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب ازل میں اللہ تعالیٰ نے سب مخلوق کو پیدا کیا تو ایک نور ہدایت بھی پیدا کیا تھا اور جو شخص علم الٰہی میں بد ٹھہر چکا تھا وہ اس نور کے حصہ سے محروم رہا اس ہدایت اور گمراہی کا اثر دنیا کے لوگوں میں پایا جاتا 1 ؎ ہے۔ ان آیتوں میں آگے یہ جو فرمایا کہ جن گنہگاروں کے دل میں اللہ کی طرف سے اللہ کے رسولوں کا انکار بس گیا ہے اس طرح کے لوگ اللہ کے کلام اور اللہ کے رسول پر ہرگز ایمان نہ لاویں گے اوپر کی حدیث کے مضمون کے موافق اور فطرت اسلامی کی صحیح بخاری و مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث کے مضمون کے موافق اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو فطرت اسلام پر پیدا کرتا ہے لیکن مرتے دم تک اس فطرت اسلامی پر قائم وہی رہے گا جو علم ازلی میں نیک قرار پا چکا ہے اور نور ہدایت ازلی کا حصہ اس کو ملا ہے قریش میں کہ جو لوگ اس گروہ میں کہ نہیں ہیں ان کے دل میں حق بات کا انکار جم گیا ہے وہ مرتے دم تک اس طرح کبھی اللہ کے رسول کو دیوانہ بتلا دیں گے کبھی اللہ کے رسول کی صداقت کے لئے آسمان سے فرشتوں کے اتر نے کی خواہش کریں گے۔ سورت الاعراف میں گزر چکا ہے کہ قوم نوح نے نوح (علیہ السلام) کو { انا لنراک فی ضلال مبین } (8/59) اور قوم عاد نے ہود (علیہ السلام) کو { ان لنراک فی سفاھۃ } (7/66) اس سے معلوم ہوا کہ ہر قوم کے مشرک لوگ اللہ کے رسولوں کو اسی طرح کم عقل دیوانہ بتلاتے رہے ہیں۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 22 باب الایمان بالقدر۔
Ayahs 15:7–9

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا ؟

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

(کہہ دو ) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کیساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی۔

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بیشک یہ (کتاب) نصیحت ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔

7۔ 9۔ اس سے پہلے ذکر تھا کہ مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ تم پر قرآن وغیرہ کچھ نہیں اترا ہے سب جھوٹ ہے اور تم دیوانے ہوگئے ہو جو یہ دعویٰ رسالت کا کرتے ہو اور اپنے ساتھ ہم لوگوں کو بھی باپ دادا کے پرانے مذہب بت پرستی سے چھڑا کر ایک خدا کی عبادت کو کہتے ہو اگر سچ مچ تم سچے ہو اور خدا نے تمہیں رسول بنا کر لوگوں کی ہدایت کو بھیجا ہے تو خدا تو تمہاری ہر ایک بات کو فوراً مان لے گا جو کہو گے وہ سنے گا تم اس سے کہو کہ آسمان سے فرشتہ کو بھیج دے وہ یہاں آکر ہم لوگوں سے تمہارا سب جھوٹ سچ کہہ دے فرشتے کے کہنے سے ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ ہاں تم خدا کے رسول ہو اور ہدایت کو بھیجے گئے ہو اور جس کتاب کو تم قرآن کہتے ہو اس کی بھی تحقیق ہوجائے گی کہ یہ خدا کا کلام ہے جو تم پر اترا کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں مشرکوں کی ان باتوں کا جواب اس طرح دیا کہ فرشتے اس کام کے لئے نہیں ہیں فرشتے کام ٹھہرا کر آسمان سے بھیجے جاتے ہیں مجاہد نے بالحق کی یہ تفسیر کی ہے کہ خدا فرشتوں کو اس وقت بھیجتا ہے جب اپنے رسول پر وحی نازل کرتا ہے اور اس وقت فرشتے کو بھیجتا ہے جب کسی قوم پر عذاب بھیجنا چاہتا ہے یا انسان کی موت لے کر فرشتے کو بھیجتا ہے پھر جب ان پر عذاب آئے گا تو ایک ذرا بھی مہلت نہیں ملے گی پھر فرمایا کہ اپنا کلام یہ قرآن مجید اپنے رسول پر ہم اتارتے ہیں ہم ہی اس کی حفاظت کرتے ہیں یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ پاک نے قرآن مجید کی حفاظت اپنے ہاتھ میں لے لی ہے کبھی اس میں ردو بدل نہ ہوگا جس طرح پہلی کتابوں توریت و انجیل میں ردو بدل ہوگیا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 1 ؎۔ کہ اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے اور پھر جب پکڑ لیتا ہے تو ان کو بالکل غارت کردیتا ہے یہ حدیث { وما کانوا اذا منظرین } کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے تک مہلت کا زمانہ تھا اس لئے اس آیت میں اتنا ہی فرمادیا تھا کہ اللہ کے فرشتے آسمان سے اتریں گے تو ان سرکشوں پر ایسا عذاب آجاوے گا جس سے ان کو بچنا دشوار ہے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی میں مہلت کا وقت ختم ہوگیا تھا اس وا سطے فرشتے آسمان سے اترے اور بڑے بڑے سرکشوں کو ہلاک کر ڈالا چناچہ صحیح مسلم میں 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بدر کی لڑائی میں بعضے مشرک خود بخود مر کر زمین پر گر پڑے اور ایسی آواز آئی جیسے کسی نے ان کو کوڑا مار کر مار ڈالا جب آنحضرت ﷺ سے اس کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا تیسرے آسمان کے فرشتے جو مدد کے لئے آئے تھے انہوں نے ان مشرکوں کو مار ڈالا بیہقی وغیرہ میں جو روایتیں ہیں 3 ؎۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں فرشتوں نے جن مشرکوں کو ہلاک کیا ان مشرکوں کی لاشوں پر آگ سے جل جانے کے نشان تھے کیونکہ فرشتوں نے ان کو دوزخ کی آگ کے کوڑوں سے مارا تھا بدر کی لڑائی کا باقی قصہ ایک جگہ گزر چکا ہے اس تفسیر کے مقدمہ میں صحیح بخاری مسلم ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ قرآن شریف کے نزول کے زمانہ میں آسمان تک جناب کا جانا بند ہوگیا تھا تاکہ جنات چوری سے قرآن شریف کے لفظ سن کر کاہنوں سے نہ بیان کرسکیں اور قرآن شریف کے لفظوں کی حفاظت جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہے اس میں کچھ خلل نہ ڈال سکیں 4 ؎۔ یہ باتیں بھی صحیح حوالوں سے گزر چکی ہیں کہ بیس برس کے عرصہ میں قرآن شریف نازل ہوا ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک جس قدر حصہ قرآن شریف کا نازل ہونا تھا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ سے اس کا دور کیا کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے وفات کے سال میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے دو دفعہ دور کیا۔ 5 ؎ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں متفرق طور پر جو قرآن لکھا ہوا تھا آپ کی وفات کے بعد صحابہ نے بڑی احتیاط سے اس کو یکجا کیا 6 ؎۔ اس کے بعد امت میں ہر سال سینکڑوں ہزاروں حافظ قرآن ہوتے چلے آتے ہیں کوئی کاتب زیر زبر کی غلطی بھی قرآن شریف کے لکھنے میں کردیتا ہے تو حافظ لوگوں کی پڑہائی سے وہ غلطی صحیح ہوجاتی ہے یہ سب قصے { وانا لہ لحافظون } کی گویا تفسیر ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدہ کے موافق قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ سے قیامت تک قرآن شریف کی حفاظت کا ایسا انتظام کردیا ہے جس سے قرآن شریف میں کسی طرح کا ردو بدل ممکن نہیں اور یہ انتظام اس بات کو پورے طور پر جتلاتا ہے کہ قرآن شریف اللہ کا کلام ہے اور جن پر یہ اللہ کا کلام اترا وہ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ 1 ؎ جلد ہذا ص 205۔ 215۔ 224۔ 235۔ 276۔ 2 ؎ ص 93 ج 2 باب الاماد بالمئکۃ نے غزوۃ بدر الخ۔ 3 ؎ تفسیر فتح البیان ص 157 ج 2۔ 4 ؎ تفسری ابن کثیر ص 163 ج 4 تفسیر سورت الاحقاف۔ 5 ؎ صحیح بخاری ص 748 ج 2 باب کان جبرئیل یعرض القرآن علی النبی ﷺ ۔ 6 ؎ مشکوٰۃ ص 193 کتاب فضائل القرآن۔
Ayahs 15:10–13

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اس کے ساتھ استہزا کرتے تھے۔

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں۔

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے۔

10۔ 13۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے اپنے رسول کو یہ تسلی دی کہ کفار اور مشرکین جو تمہارے ساتھ ٹھٹے کرتے ہیں اور تمہیں چھیڑتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے تم ان کی دل لگی سے بددل نہ ہو اور جس طرح ان رسولوں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو ان کے مسخراپن کرنے سے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم وحی کا بھیجنا اور قرآن کا اتارنا بند کردیں گے یہ لوگ جس بات پر جمے ہوئے ہیں جمنے دو ہم ان کے بہکے ہوئے خیال کو اور بھی پختہ کردیتے ہیں کہ تم پر اور قرآن پاک پر یہ لوگ ایمان نہ لائیں اور اس ایمان نہ لانے کا جو نتیجہ پہلی قوموں کا ہوا وہ ان لوگوں کو معلوم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ بھی انہیں لوگوں کی طرح قہر الٰہی میں آجائیں اور ہلاک کر دئیے جائیں اور دنیا سے بالکل ان کی بنیاد ہی اکھیڑ دی جائے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں اپنے علم ازلی کے موافق یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے آدمی دوزخ میں جانے کے قابل۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لے کر اس آخر زمانہ تک جو گنہگار لوگ اللہ کے رسولوں سے مسخرا پن کرتے چلے آئے ہیں اس کا سبب یہی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم الٰہی کے موافق ان لوگوں کی یہی حالت لوح محفوظ میں لکھی گئی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اگرچہ عام طور پر سب لوگوں کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے کتابیں نازل کیں لیکن راہ راست پر وہی لوگ آویں گے جن کی قسمت میں راہ راست پر آنا لکھا گیا ہے یہ ازلی بد قسمت لوگ کسی طرح راہ راست پر نہ آویں گے ازلی بد قسمتی کے سبب سے دوزخ میں جانے کے قابل کاموں کے خیال ان کے دل میں آویں اور جمیں گے اور مرتے دم تک یہ لوگ کام بھی ویسے ہی کریں گے اور آخر کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان سے پہلے کے نافرمان لوگوں کا ہوا کہ دنیا میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ لوگ ہلاک کر دئیے گئے اور عقبیٰ کے عذاب میں بھی گرفتار ہوئے اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث گزر چکی 2 ؎ ہے۔ کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ کے سرکش لوگوں کو اللہ کے فرشتوں نے دوزخ کی آگ کے کوڑے مار کر مار ڈالا اور صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی یہ روایتیں بھی گزر چکی 3 ؎ ہیں کہ مرتے ہی یہ لوگ عقبیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوگئے اور اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ 1 ؎ جلد ہذا ص 202۔ 142۔ 235۔ 240۔ 246۔ 2 ؎ یعنی صفحہ سابقہ پر۔ 3 ؎ جلد ہذا 202۔ 208۔ 224۔
Ayahs 15:14–15

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ ان پر کھول دیں اور اس میں چڑھنے بھی لگیں

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔

14۔ 15۔ اس آیت میں اللہ پاک ان کفار اور مشرکین کے انتہا درجے کی گمراہی کو بیان فرماتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے معجزہ تو کیا چیز ہے اگر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیا جائے اور اپنی آنکھ سے یہ لوگ وہاں کے عجائبات کو آسمان پر چڑھ کر دیکھ لیں جب بھی تو کفر سے باز نہیں آئیں گے بلکہ ان عجائبات کو دیکھ کر یہ کہنے لگیں گے کہ ہماری نظر بندی کی گئی ہے آنکھیں اپنی اصلی حالت پر نہیں ہیں ہم پر جادو کردیا گیا ہے جو ایسے ایسے تماشے ہم کو نظر آرہے ہیں جب ان کے کفرو سرکشی کی یہ حالت ہے تو کوئی قدرتی نشان ان کے ایمان لا نے کو کار آمد نہیں ہوسکتی فرشتے آسمان سے آئیں یا یہ خود آسمان پر چڑھ جاویں یا پہاڑ کو سونا بنا دیا جائے چٹیل میدان کو گلزار کردیا جائے کچھ بھی مفید مطلب نہ ہوگا یہی جواب اور اسی قسم کی بیہودہ باتیں یہ کرتے رہیں گے صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی 1 ؎ ہے۔ ( 1 ؎ جلد ہذا ص 262۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان رہتا ہے فرشتہ نیک کاموں کی رغبت دلاتا رہتا ہے اور شیطان برے کاموں کی سورت الزخرف میں آوے گا کہ جو لوگ یاد الٰہی سے آنکھ چراتے ہیں ان پر شیاطین کا تسلط زیادہ ہوجاتا ہے۔ اس لئے وہ شیاطین ایسے لوگوں کے دل میں برے کاموں کے ہمیشہ وسوسے ڈالتے رہتے ہیں اور اللہ کے فرشتے کی نصیحت کو آدمی کے دل میں جمنے نہیں دیتے اس حدیث اور سورت الزخرف میں جو آیتیں آویں گی ان کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ یہ مشرک کہتے ہیں کہ آسمان سے کوئی فرشتہ آن کر اللہ کے رسول کے سچا ہونے کی گواہی دے دے گا تو یہ لوگ اللہ کے رسول کو سچا مان لیویں گے لیکن اللہ تعالیٰ کو ان کا خوب حال معلوم ہے کہ اللہ کے رسول کے سچا ہونے کی گواہی دینے کو فرشتے آسمان سے آویں یا خود یہ لوگ آسمان پر چڑھ کر فرشتوں کی گواہی کا حال آسمان پر سے سن آویں اس سب کو یہ لوگ نظر بندی اور جادو بتلاویں گے کیونکہ یاد الٰہی سے غافل اور بتوں کی یاد میں لگے رہنے سے ان کے دلوں پر شیاطین کا ایسا تسلط ہوگیا ہے کہ کسی نیک کام کا خیال ان کے دل میں جم نہیں سکتا فرشتے کا اصلی صورت میں دیکھنا تو انسان کی طاقت سے باہر ہے اس لئے کوئی فرشتہ آسمان سے آوے گا تو وہ بھی اس طرح اللہ کے رسول کے سچا ہونے کا خیال ان کے دل میں پیدا کرے گا۔ جس طرح اب بھی اس خیال کے پیدا کرنے کے لئے ان میں سے ہر ایک شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تعینات ہے پھر شیاطینوں کے وسوسے کے آگے یہ لوگ اس فرشتے کی بات کو کیا سنتے ہیں جو نئے فرشتے کی بات کو سن لیویں گے۔
Ayahs 15:16–18

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کیلئے اس کو سجا دیا۔

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطان راندہ درگار سے اسے محفوظ کردیا۔

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اسکے پیچھے لپکتا ہے۔

16۔ 18۔ ان آیتوں میں اللہ پاک اپنی قدرت کا حال بیان فرماتا ہے کہ اس آسمان کو ہم نے کیسی حکمت اور ترکیب سے بنایا اس میں بڑے بڑے تاروں کے محل برجوں کی طرح بنائے ہیں اور چاند سورج ستاروں سے آسمان کو زینت دی ہے۔ آسمان میں بارہ برج ہیں ہر برج میں تیس تیس درجے جس میں آفتاب ہر روز سیر کرتا ہے ہر درجہ کو ایک ایک روز میں تمام کرتا ہے اور اس حساب سے تین سو ساٹھ دن میں یعنی ایک سال میں آسمان کا پورا دور ختم کرلیتا ہے جس کی وجہ سے جاڑا گرمی برسات کی فصلیں ہوتی ہیں اور ان فصلوں سے دنیا میں عجیب عجیب تغیر ہوتے رہتے ہیں اور طرح طرح کے نفع حاصل ہوتے ہیں جس دور کو سورج بیس دن میں پورا کرتا ہے چاند اس کو اٹھائیس دن میں پورا کرتا ہے اور جس طرح سورج کا دورہ فصلوں کے لئے ہے اسی طرح چاند کا دورہ مہینوں اور برس کے حساب کے لئے ہے چناچہ اس کا ذکر سورت یونس میں گزر چکا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ چاند سورج ستارے بروج ایسی کھلی کھلی دلیلیں ہیں جن سے ہر ذی ہوش خدا کی وحدانیت اور اس کے قادر ہونے پر دلیل پکڑ سکتا ہے۔ اس کے بعد یہ فرمایا کہ آسمان کو اس بات سے محفوظ رکھا کہ شیاطین یہاں آکر فرشتوں کی باتیں سن جاویں اور دنیا میں جا کر نئے نئے شعبدے اٹھاویں کیونکہ جب وہ یہاں کا قصد کرتے ہیں فرشتے آگ کے انگارے لئے کھڑے رہتے ہیں اور پھینک مارتے ہیں یہ جل بھن کر راکھ ہوجا تے ہیں ابوہریرہ ؓ کی صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کوئی حکم فرماتا ہے تو فرشتے تعظیم کے طور پر اپنے پر مارتے ہیں جس سے ایسی آواز نکلتی ہے جیسے لوہے کی زنجیر پتھر پر رگڑی اور گھسیٹی جائے جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے تو آپس میں پوچھتے ہیں کہ ہمارے رب نے کیا ارشاد کیا پاس والے فرشتے جواب دیتے ہیں کہ جو کچھ اس پاک اور برتر نے فرمایا بالکل ٹھیک اور برحق فرمایا وہ بڑا بزرگ ہے اور شیاطین بھی وہاں لگے رہتے ہیں ایک کے کاندھے پر ایک ایک پر ایک چڑھ کر آسمان تک پہنچتے ہیں اور وہاں کان لگائے فرشتوں کی یہ باتیں سنا کرتے ہیں اور سب سے اوپر کا شیطان اگر کوئی بات فرشتوں کی باتوں میں سے سن لیتا ہے تو اپنے نیچے کے شیطان سے کہہ دیتا ہے پھر وہ اس سے نیچے والے کو یہاں تک کہ وہ اس بات کو کاہنوں سے آن کر بیان کرتے ہیں اور کاہن ایک سچ میں سو جھوٹ ملا کر ظاہر کرتا ہے اسی واسطے کاہنوں کی بعض بعض باتیں سچ ہوجایا کرتی ہیں بہرحال جس وقت یہ شیطان کان لگاتا ہے فرشتے اوپر سے انگارے پھینک مارتے ہیں جس سے یہ شیطان جھلس جاتا ہے اور جلدی سے اس بات کو اپنے ساتھی سے کہنا چاہتا ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جلنے سے پہلے ہی کہہ چکتا ہے اور کبھی کہنے سے پہلے مرچکتا ہے۔ اس مضمون کی حدیث صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بھی ہے۔ شیاطین آسمان پر کی سنی ہوئی باتیں جن لوگوں سے آن کر کہتے تھے یہ لوگ کاہن کہلاتے تھے۔ یہ کاہن لوگ شیاطینوں کی نذر نیاز کرتے رہتے تھے اس لئے شیاطین اپنا مرتبہ ان کاہنوں کی نظر میں بڑھانے کے لئے آسمان کی خبریں سن کر ان کاہنوں سے آن کر کہا کرتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث میں اسی واسطے کاہنوں کو شیاطینوں کے دوست فرمایا ہے 1 ؎۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے صحابہ نے کاہنوں کا ذکر آنحضرت ﷺ سے کیا آپ نے فرمایا یہ لوگ جو باتیں کہتے ہیں وہ اعتبار کے قابل نہیں ہوتیں اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ حضرت کوئی کوئی بات تو ان کاہنوں کی سچی ہوتی ہے آپ نے فرمایا انگارے برسنے سے پہلے کبھی جو بات حقیقت میں شیاطین آسمان پر سے سن آتے ہیں فقط وہ سچی نکل آتی ہے ورنہ کاہنوں اور انکے شیاطینوں کی سب باتیں جھوٹی اور گھڑی ہوئی ہوتی ہیں 2 ؎۔ صحیح مسلم میں معاویہ بن الحکم سے روایت ہے 3 ؎۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے کاہنوں کے پاس جا کر آیندہ کی باتیں ان سے پوچھنے کو منع فرمایا ہے۔ 1 ؎ صحیح مسلم ص 233 ج 2 باب تحریم الکہانتہ دانیان الکہانتہ۔ 2 ؎ صحیح مسلم ص 233 ج 2 باب تحریم الکہانتہ الخ۔ 3 ؎ ص 232 ج 1 باب تحریم الکہانتہ الخ۔
Ayahs 15:19–20

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اگائی۔

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور ہم ہی نے تمہارے لئے اور ان لوگوں کے لئے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے۔

19۔ 20۔ آسمان چاند سورج تاروں کے پیدا کرنے کا حال بیان کر کے زمین کے پیدا کرنے کا ذکر کیا کہ ہم نے زمین کو مشرق سے مغرب تک اور جنوب سے شمال تک پانی پر بچھا دیا ہے اور اس پر جا بجا پہاڑوں کے بوجھ رکھ دئیے ہیں اور خوب اچھی طرح مضبوط کردیا ہے جس طرح کیلیں ٹھونک کر تخت وغیرہ مضبوط بنائے جاتے ہیں اور زمین میں سے طرح طرح کی اشیاء پھل میوے ترکاریاں غلے روٹی ان اسی طرح پہاڑوں میں سے چاندی سونے لوہے وغیرہ کی کانیں غرض ہر چیز نہایت موزو نیت سے پیدا کی اور اس میں تمہاری روزی رکھی ہے تم بھی کھاتے پیتے ہو اور اپنے بال بچوں کو بھی کھلاتے پلاتے ہو اپنے جانوروں کو بھی چراتے ہو اور جس مخلوق کو تم جانتے بھی نہیں کہ کہاں ہیں اور کیا ہیں ان کی بھی روزی خدا نے اسی زمین میں رکھی ہے یہ اسی خدا کا کام ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال لونڈی غلاموں اور سواری کے جانوروں کو بھی ہم دیتے ہیں تو کھاتے ہیں اگر ہم نہیں دیں گے تو بھوکے مریں گے یہ گمان تمہارا محض غلط ہے سب کی روزی خدا کے ہاتھ میں ہے وہی تم سے دلواتا ہے تو تم کیا دے سکتے ہو۔ سورت النمل میں آوے گا کہ جب زمین پانی پر بچھائی گئی تو ملتی تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے زمین کے خوب جم جانے کے لئے اس میں پہاڑ ٹھونکے۔ صحیح بخاری 1 ؎ کے حوالہ سے سعید بن زید ؓ کے قصہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص بالشت بھر زمین بھی کسی کی ناحق طور پر دبا لیوے گا تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کے اسی قدر ٹکڑے کا ایک طوق بنایا جا کر اس شخص کے گلے میں ڈالا جاوے گا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک زمین سے دوسری زمین تک پانسو برس کے راستے کا فاصلہ 2 ؎ ہے۔ سورت نحل کی آیت { والقی فی الارض رواسی ان تمید بکم } اور اوپر کی حدیثوں کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اوپر تلے سات زمینیں پانی پر لمبائی میں بچھائی گئی ہیں ایک زمین سے دوسری زمین پانسو برس کے راستے پر ہے اس سے اہل ہیئت کے اس قوت کا ضعیف ہونا نکلتا ہے کہ ایک زمین سے دوسری زمین تک کچھ فاصلہ نہیں ہے اور بعضے متکلمین نے یہ جو لکھا ہے کہ زمین ایک ہے سات نہیں ہیں یہ قول بھی سعید بن زید ؓ کی حدیث کے مخالف پڑتا ہے۔ معایش معیشت کی جمع ہے کھانے پینے پہننے کی وہ سب چیزیں معیشت کہلاتی ہیں جن پر آدمی کی زندگی کا مدار ہے مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت علی ؓ کی روایت ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنے سے آدمی کا رزق 3 ؎ بڑھتا ہے۔ صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں ثوبان ؓ کی معتبر حدیث ہے کہ کثرت گناہوں کے سبب سے آدمی کے رزق گھٹ جاتا 4 ؎ ہے۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جس طرح آدمی کی معیشت کی چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اسی طرح ان کے گھٹتے اور بڑھتے کے اسباب بھی دنیا میں پیدا کئے ہیں۔ 1 ؎ ص 332 ج 1 باب اثم من ظلم شیأمن الارض۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص۔ 51 باب بدء الخلق الخ۔ 3 ؎ الترغیب ص 129 ج 2 الترغی فی الرحم۔ 4 ؎ الترغیب ص 123 ج 2 باب التزھیب من ارتکاب النفائر و المحضرات من الذنوب الخ۔
Ayahs 15:21–23

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اتارتے رہتے ہیں

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی (ہوتی ہیں) اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کا اسکا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خزانہ نہیں رکھتے۔

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور ہم ہی حیات بخشتے اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ اور ہم ہی سب کے وارث (مالک) ہیں۔

21۔ 23۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ جتنی چیزیں دنیا میں ہیں خواہ کسی قسم کی ہوں ان سب کا خزانہ اللہ کے پاس ہے۔ جب جتنی ضرورت ہوتی ہے اس میں سے ضرورت کے موافق دنیا میں اتاری جاتی ہیں۔ اکثر مفسرین خزائن کے معنے مینہ کا خزانہ بیان کرتے ہیں اور بقدر معلوم کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ ایک جگہ کم بارش ہوتی ہے اور دوسری جگہ زیادہ ایک جگہ بالکل بارش نہیں ہوتی اور دوسری جگہ خوب ہوتی ہے اور بارش کے ایک ایک قطرے کے ساتھ فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو اس قطرے کو وہیں گرنے دیتے ہیں جہاں حکم ہوتا ہے اور یہ بات یاد رکھتے ہیں کہ اس قطرے سے کیا کیا پیداوار ہوئی۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو حکم دیتا ہے وہ چلنے لگتی ہے اور بادلوں کو ادھر سے ادھر لی جاتی ہے اور جس طرح دودھ والے جانوروں کا دودھ دوہا جاتا ہے اسی طرح بادلوں میں سے مینہ برسنے لگتا ہے۔ جس سے ندی نالے تالاب بھر جایا کرتے ہیں اور لوگ پھر اس کو کام میں لاتے ہیں آپ بھی پیتے ہیں اپنے جانوروں کو بھی پلاتے ہیں اور کھیتوں اور باغوں کو سیراب کرتے ہیں کسی میں یہ قدرت نہیں ہے جو پانی کو جمع کر کے رکھ چھوڑے یہ اسی کی ادنیٰ قدرت اور بندوں پر مہربانی ہے کہ ہر جگہ خزانے پانی کے مہیا رکھتا ہے اگر وہ چاہے تو فوراً پانی خشک ہوجائے۔ سورت حم السجدہ میں آوے گا۔ { وبارک فیھا وقدر فیھا اقواتھا } (41: 10) جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کے کھانے پینے کی چیزیں اس طرح برکت دے کر زمین میں رکھی ہیں کہ ایک اناج کے دانہ سے سینکڑوں دانے اور ایک گٹھلی سے ہر طرح کے بہت سے پھل ہمیشہ پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ معتبر سند سے تفسیر ابن جریر میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ مینہ برسنے سے پہلے ہوا کو حکم دیتا ہے وہ آسمان کے دریا میں سے پانی لے کر بادلوں میں پہنچاتی ہے اور پھر بادلوں میں سے پانی برستا 1 ؎ ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ آسمان و زمین میں اللہ کی قدرت سے ہر چیز کا ہمیشہ کے لئے جو یہ ذخیرہ ہے اسی کو فرمایا کہ جتنی چیزیں دنیا میں ہیں ان سب کا خزانہ اللہ کے پاس ہے اکثر سلف نے مینہ کو جو اللہ تعالیٰ کا خزانہ بتلایا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ زمین میں اللہ کی قدرت سے ہر چیز کی پیداوار کے جو خزانے ہیں ان کا ظہور مینہ کے سبب سے ہوتا ہے ایک سال مینہ نہ ہو تو اناج میوہ اور ترکاریوں کی پیداوار میں کمی پڑجاتی ہے اس لئے اصل سب چیزوں کا خزانہ گویا مینہ ہے ورنہ آسمان و زمین دونوں میں اللہ کے خزانے موجود ہیں چناچہ سورت انعام میں گزر چکا ہے کہ سب غیب کے خزانوں کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں سوا اس کے اور کسی کو ان کنجیوں کا حال معلوم نہیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اس کے خزانوں میں سے بہتے ہوئے پانی کی طرح ہر چیز خرچ ہو رہی ہے مگر اس کے خزانوں میں کچھ کمی نہیں 2 ؎ ہوئی۔ صحیح مسلم میں ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمام دنیا کے جنات اور انسان ایک جگہ اکٹھے ہو کر اپنا اپنا مطلب چاہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کے مطلب کو پورا کرے تو اللہ تعالیٰ کے خزانوں کے آگے یہ اتنا خرچ ہے جیسے دریا میں سے کوئی ایک سوئی ڈبو کر نکال لے 3 ؎۔ ان حدیثوں سے اللہ تعالیٰ کے خزانوں کی کثرت اور ان کے بےانتہا ہونے کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر فرمایا یہ سب انتظام دنیا کے قیام تک ہے آخر جس نے دنیا کو پیدا کیا ہے اسی کے حکم سے ساری دنیا فنا ہوجاوے گی اور دنیا کی چیزوں پر سے لوگوں کا عارضی قبضہ اٹھ کر سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے قبضے میں چلی جاویں گی۔ یہاں مختصر طور پر { وانا لنحن نحی و نمیت ونحن الوارثون } فرمایا سورت مریم میں آوے گا۔ { انا نحن نرث الارض ومن علیھا والینا یرجعون } [19: 4] ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کے فنا ہوجانے اور دنیا کی چیزوں پر سے لوگوں کا عارضی قبضہ اٹھ جانے کے بعد ان چیزوں کے برتنے والوں کو اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہو کر یہ حساب دینا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو ان لوگوں نے کیوں کر برتا۔ ترمذی مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے ابو برزہ اور معاویہ بن جبل ؓ کی صحح روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں 4 ؎ کہ قیامت کے دن چار چیزوں کے حساب کے لئے ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑا ہونا پڑے گا (1) تمام عمر کن کاموں میں صرف کی (2) جوانی میں کیا کیا (3) دنیا میں مال کیوں کر کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا (4) دین کا کوئی مسئلہ سیکھا تو اس پر کیا عمل کیا۔ سورت مریم کی آیت اور اس حدیث سے { ونحن الوارثون } کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی اختیار کی چیزوں پر جس طرح کسی کا عارضی قبضہ نہ تھا دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد وہی حال پھر ہو آوے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اس عارضی برتاؤ کا حساب ہر شخص سے لیوے گا۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر 549 ج 2۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 21 باب الایمان بالقدر۔ 3 ؎ ص 319 ج 2 باب تحریم الظلم (الترغیب ص 297 ج 1۔ 4 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 100۔
Ayah 15:24

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں۔ اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں۔

24۔ ترمذی، نسائی، حاکم، ابن ماجہ وغیرہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے وقت میں عورتیں اور مرد جماعت میں آن کر بعضی بد رویہ عورتیں اگلی صف میں اور بد رویہ مرد اس صف کی پچھلی صف میں کھڑے ہو کر وہ مرد عورتوں کو گھورتے رہتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ہے لیکن اس شان نزول میں تردد ہے کہ اس شان نزول کی روایت صحیح طور پر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ تک نہیں پہنچے کس لئے کہ ترمذی میں عمرو بن مالک سے نوح بن قیس اور جعفر بن سلیمان ان دونوں شخصوں نے اس شان نزول کو مختلف طور پر روایت کیا ہے جس میں نوح بن قیس نے تو روایت کو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ تک پہنچایا ہے اور جعفر بن سلیمان نے نہیں پہنچایا بلکہ ابو جوزا اوس بن عبد اللہ تابعی پر ہی روایت کو موقوف رکھا ہے اور ترمذی نے جعفری بن سلیمان کی روایت کو بہ نسبت نوح بن قیس کی روایت کے زیادہ معتبر کہا ہے 1 ؎۔ اس سبب سے صحیح شان نزول وہی ہے جو معتبر سند سے تفسیر ابن جریر وغیرہ کی دوسری روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے آئی ہے کہ اولاد آدم میں سے جو لوگ آج تک مرچکے ہیں اور جو آیت کے نزول کے وقت موجود ہیں اور جو آئندہ پیدا ہوں گے 2 ؎۔ ان سب اگلے پچھلوں کا ایک ایک کا حال اللہ کو معلوم ہے۔ اوپر کی آیت میں لوگوں کے مرنے اور اللہ کے ان کے وارث ہونے کا ذکر ہے اس لئے اس شان نزول کو سیاق کلام سے بھی ایک ربط اور لگاؤ اوپر کے کلام سے ہے۔ غرض یہ ہے کہ جب اس شان نزول کو مجاہد بن جبیر نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے جنہوں نے تیس دفعہ سارا قرآن حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے تفسیر کے آجانے اور روایتوں کے یاد رہنے کی غرض سے پڑھا ہے اسی واسطے سفیان ثوری ؓ نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ تفسیر کے باب میں مجاہد کی روایت آجاوے تو پھر دوسرے کسی کی روایت کی ضرورت نہیں اور اسی واسطے امام بخاری نے صحیح بخاری کی کتاب التفسیر میں مجاہد کی روایت پر زیادہ بھروسہ کیا ہے تو یہی شان نزول زیادہ مقبول ہے۔ مشرکین مکہ کا حشر پہ یہ اعتراض تھا کہ انسان کے مرجانے کے بعد اس کی خاک رواں دواں ہوگئی تو پھر یہ خاک کیوں کر جمع ہوجاوے گی اور اس کا پتلہ کیوں کر بن جاوے گا اس آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے اس اعتراض کا جواب مختصر طور پر دیا ہے سورت ق میں آوے گا کہ ہوا میں اڑ جانے یا پانی کے ریلے میں بہ جانے سے انسان کی خاک جہاں جہاں رواں دواں ہوگی اس کا سب حال لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اس لئے آسانی سے وہ سب خاک جمع ہوسکتی ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 3 ؎۔ کہ ایک شخص نے اپنے مر نے کے بعد اپنی لاش کو جلانے کی اور آدھی خاک کو ہوا میں اڑا دینے اور آدھی کو دریا میں بہا دینے کی وصیت کی اور وصیت کے موافق عمل بھی ہوا۔ جنگل اور دریا میں سے اللہ تعالیٰ نے اس خاک کے جمع ہوجانے کا حکم دیا جب وہ خاک جمع ہوگئی تو اس کا پتلا بنایا گیا اور اس پتلے میں روح پھونکی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس شخص سے پوچھا کہ تو نے یہ وصیت کیوں کی اس نے جواب دیا کہ یا اللہ مجھ کو تیرے روبرو کھڑے ہونے کی دہشت بہت تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے سب گناہوں کو معاف کردیا۔ رواں دواں خاک کے جمع ہوجانے کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 549۔ 550۔ ج 2 اور اس روایت کو بوجہ شدید ضعف مسترد کردیا ہے۔ 2 ؎ ص 319 ج 2 باب تحریم الظلم۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 22 باب الایمان بالقدر و جامع ترمذی ص 120 ج 2 تفسیر سورت البقر۔
Ayah 15:25

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے۔

25۔ اس سے اوپر کی آیت میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ پاک نے ہر ایک شئی کو پیدا کیا ہے اور پھر وہی ہر شی کو ناپید بھی کرے گا اور جو لوگ مرچکے ہیں ان کو بھی وہ جانتا ہے اور جو لوگ موجود ہیں یا پیدا ہونے والے ہیں ان کی بھی اس کو خبر ہے۔ اس کے جتلانے کے بعد اب یہ فرمایا کہ اس نے اپنی حکمت اور علم کے موافق حشر کا دن قرار دیا ہے وہ لوگوں کو اس روز اکٹھا کرے گا اور نیک عمل کرنے والوں کو نیک جزا دے گا اور برے عمل کرنے والوں کو برائی کی سزا دے گا وہ بڑا حکمت والا ہے سب کام اس کی حکمت سے ہوا کرتے ہیں اس کا علم ایسا ہے کہ کوئی شئی اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ سورت القلم میں آوے گا۔ { افنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون } [68: 35] جس کا مطلب یہ ہے کہ سب کی آنکھوں کے سامنے دنیا کے حاکموں نے قصور دار لوگوں کو سزا دینے اور بےقصور لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا قانون ٹھہرا رکھا ہے پھر یہ منکرین حشر اللہ تعالیٰ کی شان میں یہ ظلم اور ناانصافی کیوں کر جائز رکھتے ہیں کہ وہ اپنے نافرمان لوگوں کو اور فرمانبرداروں کو یکساں کر دیوے گا یہ ان منکرین حشر کی نادانی ہے جو یہ لوگ حشر کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کے انصاف کو دنیا کے حاکموں کے انصاف سے بھی گھٹانا چاہتے ہیں ورنہ حشر کے دن جو کچھ ہونے والا ہے ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے دنیا کے حاکم وہی ہر روز کر رہے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سورت القلم کی آیت اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی وہ حدیث قدسی جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ظلم میں نے اپنی ذات پر حرام ٹھہرا لیا ہے گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور اپنے علم کے موافق حشر کا دن جو قرار دیا ہے وہ عین انصاف اور دنیا کے انصاف پسند حاکموں کا بھی یہی شوہ ہے اور جو لوگ حشر کے منکر ہیں وہ بڑے ناداں ہیں کہ اللہ کی شان میں ظلم اور ناانصافی کو جائز رکھتے ہیں۔
Ayahs 15:26–27

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا۔

26۔ 27۔ فرمایا کہ انسان کھنکھناتی ہوئی مٹی سے بنایا اور جن کو آگ کی لو سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ و مجاہد و قتادہ کا قول ہے کہ صلصال خشک مٹی کو کہتے ہیں اور حما مسنون گوندھی ہوئی کیچڑ کو کہتے ہیں اللہ پاک نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو پاک و صاف سوکھی مٹی کو پانی میں گوندھ کر خمیر بنایا اور اس سے آدم (علیہ السلام) کا پتلا بنا کر اس میں روح کو پھونک دیا ترمذی اور ابوداؤد وغیرہ کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) کا پتلہ بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے اولاد آدم کی حالت مختلف ہے کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی خوش مزاج ہے اور کوئی بد مزاج۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 1 ؎۔ یہ حدیث اس بات کی تفسیر ہے کہ آیت میں انسان سے مقصود آدم (علیہ السلام) ہیں کیونکہ اس حدیث کے موافق ان ہی کے پتلہ کے لئے تمام زمین کی مٹی لی گئی ہے پھر اس کے بعد اولاد آدم کی پیدائش کا سلسلہ منی سے جو قرار پایا ہے اس کا ذکر قرآن شریف اور صحیح حدیثوں میں جدا آیا ہے سورت بقرہ میں سلف کے قول گزر چکے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے دو ہزار برس پہلے زمین پر جنات رہتے تھے وہی قول اس بات کی تفسیر ہے کہ جنات کی پیدائش انسان سے پہلے ہے سورت الرحمن میں آوے گا۔ { وخلق الجان من مارج من نار } [66۔ 151] اس کی تفسیر میں صحیح قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کو خالص آگ کی لو سے پیدا کیا ہے کہ اس میں دھویں کا کچھ ملاؤ نہیں 2 ؎ تھا۔ اگرچہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہی قول نارا لسموم کی تفسیر ہے لیکن بعض روایتوں میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے السموم کی تفسیر گرم ہوا کی بھی آئی ہے اوپر کی تفسیر سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کا پتلہ مٹی اور پانی سے اور جنات کا پتلہ آگ کی لو سے بنا ہے لیکن حکماء کہتے ہیں کہ انسان میں مٹی کا جز اور جنات میں آگ کا غالب ہے ورنہ پوری سرشت دونوں پتلوں کی آگ پانی ہوا خاک ان چار چیزوں سے ہے 3 ؎۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کا پتلہ بنا کر بغیر روح پھونکنے کے یونہی چھوڑ دیا تھا شیطان اس پتلے کو اندر سے خالی دیکھ کر یہ کہا کرتا تھا کہ جاندار ہونے کے بعد پتلہ کسی بات کی سہارا لور برداشت نہ کرسکے گا۔ اس حدیث سے حکما کے قول کے پابند لوگ یہ بات نکال سکتے ہیں کہ روح کے پھونکے جانے سے پہلے اس کھوکھلے پتلے میں ٹھنڈی گرم ہوا گھسی اور حکماء کے قول کے موافق آگ پانی ہوا خاک ان چار چیزوں سے پتلے کی سرشت قرار پائی مگر حکماء کے قول کی تائید میں کوئی صاف دلیل شرعی نہیں ہے۔ 1 ؎ تنقیح الرواۃ۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 550 ج 2۔ 3 ؎ ص 227 ج 2 باب خلق الانسان خلقا لا یتمالک عن انس ؓ ومشکوٰۃ ص 506 باب بدر الخلق الخ۔
Ayahs 15:28–33

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

جب اسکو (صورت انسانیہ میں) درست کرلوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گرپڑنا۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گرپڑے

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کردیا۔

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ؟

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

(اس نے) کہا میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں

28۔ 33۔ اللہ پاک نے انسان کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد جو جو باتیں اس کے پیدا کرنے کے وقت پیش آئی تھیں ان کا ذکر فرمایا کہ بھلے فرشتوں کو جمع کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہی کہ میرا ارادہ ہے کہ مٹی سے انسان کو پیدا کروں اور جب آدم کا پتلہ بنالوں اور اس کے بدن میں روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اسے سجدہ کرنا اس حکم کو سن کر فرشتوں نے جو جواب دیا اس کا قصہ سورت بقرہ میں مفصل گزر چکا ہے غرض کہ کل فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا مگر ابلیس جو جنات کی قوم میں سے تھا اور خدا کی عبادت کثرت کے ساتھ کرنے سے فرشتوں کے زمرہ میں داخل کرلیا گیا تھا اس نے آدم کے پتلے کو تعظیمی سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اپنی عقل لڑائی کہ میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے ہیں اور آگ ایک لطیف شئے ہے اور مٹی ایک کثیف جسم ہے اس لئے میں ان سے بہتر ہوں انہیں کیوں کر سجدہ کروں اس پر جب اس سے اللہ جل شانہ نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ تو آدم کو سجدہ نہیں کرتا تو شیطان نے جواب دیا کہ میں ایسے شخص کو ہرگز سجدہ نہ کروں گا جس کو تو نے مٹی کا خمیر بنا کر پیدا کیا اور شیطان یہ نہیں سمجھا کہ عزت و شرف اسی کو ہے جس کو خدا دے صرف اپنے گمان سے کوئی کسی سے بہتر نہیں ہوسکتا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث سورت بقرہ میں گزر چکی 1 ؎ ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں اور ابلیس آگ کے شعلہ سے۔ اس حدیث سے ان علمائے سلف کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔ جو کہتے ہیں کہ ابلیس ملائکہ کی طرح نوری جسم کا نہیں ہے بلکہ جنات کی طرح ناری جسم کا ہے سورت بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ اسی طرح کا تعظیمی سجدہ اور شریعتوں میں جائز تھا شرع محمدی میں جائز نہیں ہے۔ 1 ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص 80۔
Ayahs 15:34–38

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے۔

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

(اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے۔۔

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک۔

34۔ 38۔ جب شیطان نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور تکبر کی راہ سے اپنے کو آدم سے افضل سمجھا تو اللہ پاک کا یہ حکم اس کے حق میں صادر ہوا کہ تو فرشتوں کے زمرہ سے نکل جا اور اگر کبھی ادھر کا قصد کرے تو تجھ پر انگارے برسیں گے اور قیامت تک تجھ پر پھٹکار ہوتی رہے گی یہاں مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ قیامت تک پھٹکار ہونے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ قیامت کے بعد پھر اس پر لعنت نہ ہوگی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک صرف لعنت ہی لعنت ہے اور بعد قیامت کے لعنت سے بڑھ کر اس پر عذاب بھی ہوگا۔ اس عذاب کے سامنے وہ اس پھٹکار کو بھول جائے گا بہر حال جب اس کو یہ معلوم ہوگیا کہ خدا نے قیامت تک عذاب کو اس کے حق میں موقوف رکھا ہے تو اس نے خدا سے یہ سوال کیا کہ مجھے اس وقت معلوم تک ڈھیل دی جائے اور میں اس روز تک زندہ رہوں۔ اس سے پہلے نہ مروں اللہ جل شانہ نے اس کی بات منظور کی اور فرمایا کہ اس وقت معلوم تک تجھ کو ڈھیل دی گئی اور اس سے پہلے تجھے موت بھی نہیں آئے گی۔ اس نے اس خیال سے قیامت تک زندہ رہنے کا سوال کیا کہ آدم کی اولاد جب تک زندہ رہے گی میں اس کو بہکا بہکا کر راہ راست سے علیحدہ رکھوں گا اور جس طرح آخرت میں مجھ پر عذاب ہوگا اسی طرح آدم (علیہ السلام) کی اولاد پر بھی عذاب ہوتے دیکھوں گا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ قول ہے کہ اسرافیل (علیہ السلام) جو پہلی مرتبہ صور پھونکیں گے جس سے کل مخلوق بیہوش ہوجائے گی اس وقت تک ابلیس کی موت ٹل گئی ہے پہلے صور پر سب لوگوں کے ساتھ یہ بھی بیہوش ہوجائے گا پھر دوسرا صور چالیس برس کے بعد پھونکا جائے گا جس سے کل لوگ ہوشیار ہوں گے یہاں تک کہ قبروں سے مردے بھی جی اٹھیں گے اس وقت ابلیس بھی اٹھے گا اور یہی چالیس برس تک اس کا بیہوش پڑا رہنا گویا اس کی موت ہے۔ اگرچہ حکم الٰہی کی مخالفت اور گنہگاروں سے بھی ہوجاتی ہے کیونکہ گناہ کا ہر ایک کام حکم الٰہی کے مخالف ہے لیکن شیطان نے یہ نافرمانی تکبر کی راہ سے کی اور سرکشی سے اس کا اقرار اللہ تعالیٰ کے روبرو کر کے پھر اس پر اصرار بھی کیا اس لئے اللہ تعالیٰ کی اس پر یہ خفگی ہوئی کہ بغیر توبہ کی توفیق کے اس کو ہمیشہ کے لئے ملعون ٹھہرا دیا برخلاف آدم (علیہ السلام) کے کہ وہ گیہوں کھا کر نادم اور پشیمان ہوئے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی۔ معتبر سند سے طبرانی اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے تکبر کو اللہ تعالیٰ کے غصہ کا سبب فرمایا 1 ؎ ہے یہ حدیث شیطان کے آسمان پر سے اتارے جانے اور ہمیشہ کے لئے ملعون ٹھہرنے کی گویا تفسیر ہے۔ 1 ؎ الترغیب ص 187 ج 2 مطلب فی مادرد فی الکبر
Ayahs 15:39–40

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

(اس نے) کہا پروردگار جیسا تو نے مجھے راستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لئے (گناہوں کو) آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا۔

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے)

39۔ 40۔ مسند امام احمد بن حنبل اور مستدرک حاکم میں حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت 1 ؎ میں شیطان کے اس قول کی اور اس قول کے جواب کی جو اللہ تعالیٰ نے شیطان کو دیا ہے پوری تفسیر ہے جس کو اس آیت کی تفسیر کہنا چاہیے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا 2 ؎ ہے۔ حاصل مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے اللہ کی عزت کی قسم کھا کر یہ کہا کہ جب تک ہر انسان میں جان باقی ہے جس طرح اور جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا ہر ایک آدمی کو بہکانے میں اور بہکا کر ہر طرح کے برے کام ان سے کرانے میں کوتاہی نہ کروں گا اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے عزت و جلال کی قسم کھا کر شیطان کو جواب دیا کہ میں بھی جب تک مجھ سے وہ تیرے بہکائے ہوئے گنہگار توبہ و استغفار کریں گے ان کو بخشے ہی جاؤں گا اس سے معلوم ہوا کہ شیطان بہکانے سے نہیں تھکتا اور اللہ بخشنے اور مغفرت اور توبہ کے قبول کرنے سے نہیں تھکتا گنہگار بندہ ہی اپنی بےنصیبی سے توبہ و استغفار کرنے سے تھک جاوے تو تھک جاوے صحیحین میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح خون آدمی کے سارے جسم میں چکر مارتا ہے اسی طرح شیطان آدمی کے سارے جسم کو ہر وقت گھیرے رہتا ہے 3 ؎ اور مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان بادشاہوں کی طرح سمندر کے پانی پر اپنا تخت بچھا کر بیٹھتا ہے اور اپنے شیاطینوں کو لوگوں کے بہکانے کے لئے بھیجتا ہے کوئی شیاطین میاں بی بی میں لڑائی کروا دیتا ہے تو اس سے بہت ہی خوش ہوتا ہے اور اس کو گلے سے لگاتا ہے اور کہتا ہے تو نے بڑا کام کیا 4 ؎۔ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شیاطین اور ایک فرشتہ ہر انسان پر تعینات ہے فرشتہ ہر وقت نیک کام کی صلاح دیتا رہتا ہے اور شیطان بد کام کی رغبت ہر وقت دلاتا 5 ؎ رہتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ نیک کام کی توفیق کے وقت اللہ کا شکر کرے اور برے کام کے خیال کے وقت لا حول پڑھے حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے خدا نے پیدا کی ہے۔ مال اولاد جہاں اور امتحان کی چیزیں ہیں وہاں شیطان اور اس کے شیاطین بھی ایک امتحان کی چیز ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کا اول اور اعلیٰ درجہ توبہ ہے کہ آدمی شیطان کے بہکاوے میں نہ آوے لیکن یہ درجہ ہر انسان کے لئے مشکل ہے ہاں اس درجہ کے حاصل کرنے کی ہر انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ شیطان کے بہکانے سے جب کوئی گناہ کرے تو فوراً صدق دل سے توبہ و استغفار کرلے کیونکہ ترمذی اور ابوداؤد اور صحیح ابن حبان میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی روایت میں یہ آچکا ہے کہ دن میں ستر دفعہ بھی کوئی شخص گناہ کر کے توبہ کرے تو وہ شخص گناہوں پر اصرار کرنے والا نہ لکھا جاوے گا۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 6 ؎۔ مسند امام احمد ترمذی ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر گناہ سے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے اگر آدمی فوراً توبہ کرتا رہے تو وہ دھبہ بڑھنے نہیں پاتا ورنہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرنے سے سارے دل پر زنگ آجاتا ہے ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا کہا ہے 7 ؎۔ 1 ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص 368 وجلد دوم ص 237 و جلد ہذا ص 221۔ 2 ؎ الترغیب ص 295 ج 1 باب الاستغفار۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 18 باب فے الوسوسۃ۔ 4 ؎ مشکوٰۃ ص 18 باب فے الوسوستہ۔ 5 ؎ جلد ہذا کے ص 261، 285 پر حوالہ دیکھئے۔ 6 ؎ تنقیح الرواۃ ص 82 ج 2 باب الاستغفار والتوبۃ۔ اور صحیح ابن حبان کی سند بھی صحیح ہے ترمذی ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر انسان گنہگار ہے مگر وہ گنہگار خوب ہیں جن کو توبہ نصیب ہو حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2 ؎ (2 ؎ الترغیب ص 220 ج 2 الترغیب فی التوبۃ۔ 7 ؎ مشکوٰۃ ص 4۔ 2 باب الاستغفار والتوبۃ۔