14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 14:1–3

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الر (یہ) ایک (پرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لئے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لیجاؤ۔ (یعنی) انکے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے راستے کی طرف۔

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

وہ خدا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں) خدا کے راستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں۔

1۔ 3۔ الٓر۔ انہیں حروف مقطعات میں سے ہے جن کا ذکر پہلے ہوچکا کہ اس کے معنے سوائے خدا کے اور کسی کو معلوم نہیں ہیں۔ قرآن کا یہ طرز بیان ہے کہ بعد حروف مقطعات کے قرآن پاک کی عظمت بیان کی جاتی ہے۔ اس لئے یہاں بھی فرمایا کہ یہ قرآن مجید اور آسمانی کتابوں سے اشرف ہے اور اشرف الانبیاء محمد ﷺ پر اس کو ہم نے اتارا ہے اور جس طرح پہلی کتابیں خاص خاص قوم اور علیحدہ علیحدہ امت کی ہدایت کو بھیجی گئیں اسی طرح یہ کتاب کل انسان کیا عرب کیا عجم ہر ایک بستی ہر ایک گاؤں ہر ملک کے رہنے والوں کی ہدایت کو اتاری گئی ہے تاکہ لوگوں کو کفر اور گمراہی سے نکال کر خدا کی توحید اور ایمان کے سیدھے رستہ کی طرف لاوے پھر اللہ نے اپنی یہ صفت بیان فرمائی کہ وہ عزیز ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر ایک شئے پر غالب ہے کسی سے مغلوب اور عاجز نہیں ہوتا اور حمید ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ہر کام قابل تعریف ہے۔ پھر فرمایا کہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے وہ سب کا مالک ہے وہ جو کچھ چاہتا ہے اس میں کرتا ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اسی لئے اس کے بعد پھر یہ فرمایا کہ جب یہ باتیں ثابت ہو چکیں تو کافروں کی حالت بہت افسوس ناک ہے کیونکہ ان پر سخت سخت عذاب ہوں گے جو کسی طرح رک نہیں سکتے اس واسطے کہ ان لوگوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت سے زیادہ دوست رکھا ہے اور خود تو گمراہی میں ہی تھے اوروں کو بھی خدا کے سچے دین پر ایمان لانے سے روکتے ہیں اور اپنی خواہش اور غرض کے واسطے اس سیدھے راہ ٹیڑھی کرنی چاہتے ہیں یہ لوگ ایسی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں جو خدا سے بہت دور ہے۔ اس لئے کسی طرح امید نہیں ہے کہ یہ لوگ راہ حق تک پہنچیں گے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد نسائی اور دارمی میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے ایک سیدھا خط کھینچ کر اس کو اللہ کا رستہ کہا اور سیدھے خط کے دائیں بائیں اور خط کھینچ کر یہ فرمایا کہ ان سب راستوں پر شیطان کا دخل 1 ؎ ہے۔ ان آیتوں میں ظلمت کے لفظ کو جمع اور نور کو مفرد جو فرمایا اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہدایت کا راستہ ایک ہے اور شیطان کے دخل کے راستے بہت ہیں۔ ترمذی میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں وہی ایک ہدایت کا راستہ 2 ؎ ہے۔ ان آیتوں میں نور کا جو لفظ ہے یہ حدیث اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہدایت کا طریقہ اللہ کے رسول اور آپ کے صحابہ کے طریقہ پر منحصر ہے۔ ترمذی کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد افریقی ہے جس کو دار قطنی نے ضعیف قرار دیا ہے۔ لیکن یحییٰ بن سعید القطان نے اس کو ثقہ کہا 3 ؎ ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت کے قابل کام کر کے جنت میں جاوے گا اور کون شخص دوزخ کے قابل کام کر کے دوزخ میں جاوے 4 ؎ گا۔ یہ حدیث باذن ربھم کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ علم الٰہی میں نیک ٹھہر چکے ہیں رسولوں کی نصیحت سے انہی کا دل نیک کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے اور انہی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیک کاموں کے پورا کرنے کی توفیق ہوتی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ کفر کے اندھیرے سے ایمان کے اجالے کی طرف لانے کو پہلے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا کام ٹھہرایا اور پھر باذن ربھم فرمایا اس لئے حافظ ابو جعفر ابن جریر نے یہاں اذن کے معنے توفیق کے لئے ہیں 5 ؎۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا جس کے سبب سے انسان پر اللہ تعالیٰ کی تعظیم و اجب ہے ایسی موٹی بات کو جو لوگ نہیں سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں ان لوگوں کے گناہ سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی گناہ نہیں۔ 6 ؎ اس حدیث کو آیت کے آخری ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی پر گرویدہ ہو کر آخرت کے منکر اور بڑے گناہ کو گناہ نہیں جانتے اور ایک موٹی بات جو ان کو سمجھائی جاتی ہے اس کو دنیا کی گرویدگی کے آگے کچھ نہیں سمجھتے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن ایسے لوگوں کے لئے سخت عذاب تجویز فرمایا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث گزرچکی ہے کہ نرم عذاب والے شخص کے پیروں میں آگ کی جوتیاں قیامت کے دن پہنادی جاویں گی جس سے اس شخص کا بھیجا پگل کر نکل پڑے 7 ؎ گا۔ اس نرم عذاب کا حال سن کر سخت عذاب کا اندازہ ہر شخص کرسکتا ہے۔ اللہ کی راہ سے روکنا مثلاً جیسے عمرو بن لحی نے کیا کہ ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر لوگوں کو اس ملت کے موافق عمل کرنے سے روکا اللہ کے راستہ میں کجی کا ڈھونڈنا مثلاً جیسے ان مشرکوں کا یہ کہنا کہ قرآن میں سے بتوں کی مذمت کی آیتیں نکال دی جاویں۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 30 باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ایضاً ۔ 3 ؎ تہذیب التہذیب ص 174 ج 6۔ 4 ؎ جلد ہذا ص 482۔ 432۔ 235۔ 240۔ 5 ؎ تفسیر ابن جریر ص 179 ج 3۔ 6 ؎ جلد ہذا ص 204۔ 206۔ 222۔ 7 ؎ جلد ہذا ص 237۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انھیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتادے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

4۔ مشرکین حضرت ﷺ پر اعتراض جو کرتے تھے کہ یہ قرآن خود ان کا بنایا ہوا ہے خدا کی طرف سے نہیں آیا اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو ہم یقین کرتے یہ تو انہیں کی زبان میں ہے خود انہوں نے بنا لیا ہے اسی کے جواب میں یہ آیت اتری کہ یہ بہت بڑا خدا کا احسان ہے کہ جتنی قوم میں رسول اس نے بھیجے سب انہیں میں سے اور جتنی کتابیں اتاریں انہیں کی زبان میں، نہیں تو پھر لوگوں کو جو دقتیں پیش آتیں اس کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ اپنی زبان ہونے پر تو یہ کفرو انکار ہے دوسری زبان ہوتی تو یہ عذر ہوتا کہ سمجھنے سے عاجز ہیں۔ اسی واسطے ہمیشہ یہی دستور رکھا گیا ہے کہ ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں کتاب بھیجی تاکہ آسانی سے وہ خدا کے احکام ان لوگوں تک پہنچا دیں باقی رہا ان کا ایمان لانا اور گمراہ رہنا تو وہ خدا کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنے علم ازلی کے موافق ان آسمانی احکام کے پابند ہونے کی توفیق دیتا ہے اور جس کا گمراہی کی حالت پر دنیا سے اٹھنا اس کے علم ازلی میں ٹھہر چکا ہے اس کو وہ اس کی حالت پر چھوڑتا ہے { وھو العزیز الحکیم } اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ وہ ایسا زبردست اور صاحب قدرت ہے کہ اگر وہ چاہے تو ان منکروں کو مجبور کر کے راہ راست پر لانا اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے چناچہ سورت الانعام میں گزر چکا ہے { ولو شاء اللہ ما اشرکوا } [6: 107) جس کا مطلب یہ ہے کہ علم الٰہی میں جن لوگوں کا گمراہی کی حالت میں اٹھ جانا ٹھہر چکا ہے ایسے لوگوں کو مجبور کر کے راہ راست پر لانا اللہ کو منظور نہیں ہے کیونکہ اس کے سب کام حکمت کے ہیں انسان کو نیکی بدی کے کرنے کا اختیار دے کر دنیا کے پیدا کرنے میں نیک و بد کے جانچنے کی حکمت جو اس نے رکھی ہے مجبوری کی حالت میں وہ باقی نہیں رہتی حاصل کلام یہ ہے کہ یہ دنیا عالم اسباب ہے جس کا ہر ایک کام کسی نہ کسی سبب پر منحصر ہے لیکن اس اسباب میں تاثیر کا پیدا ہونا یہ اللہ تعالیٰ کے علم ارادہ اور حکم پر موقوف ہے جیسے مثلاً ایک ہی دوا کو دو مریض استعمال کرتے ہیں پھر جس مریض کا اس دوا سے شفا کا پانا اللہ کے علم اور ارادہ میں ٹھہر چکا ہے اس کے حق میں دوا کی تاثیر کا حکم ہوجاتا ہے نہیں تو نہیں اسی طرح رسولوں کا آنا آسمانی کتابوں کا نازل ہونا یہ ہدایت کے اسباب ہیں لیکن ان اسباب میں ہدایت کی تاثیر کا پیدا ہوجانا یہ اللہ تعالیٰ کے علم اور ارادہ ازلی کے موافق اسی کے ہاتھ ہے غرض { فیضل اللہ من یشاء ویھدی من یشآء } کی تفسیر اہل سنت کے مذہب کے موافق یہی ہے جو بیان کی گئی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی 1 ؎ ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ علم الٰہی میں نیک ٹھہر چکے ہیں ان کے دل پر قرآن کی نصیحت کا ایسا ہی اثر پڑتا ہے جس طرح اچھی زمین پر مینہ کے پانی کا اثر پڑتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی رائیگاں جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی قوم کے لوگ عرب تھے اس واسطے اس آیت کے موافق قرآن شریف عربی زبان میں نازل ہوا لیکن سورت الاعراف کی آیت { قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا } [7: 58] سے اور صحیح بخاری و مسلم کی جابر بن عبد اللہ ؓ اور مسلم کی اور ابوہریرہ ؓ کی اس مضمون کی حدیثوں سے جب کہ یہ معلوم ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کل مخلوق کے لئے ہے 2 ؎ تو آیت کا یہ مطلب ہوا کہ اللہ کے رسول ﷺ عرب کے لوگ کو قرآن کا مطلب عربی زبان میں سمجھا دیں اور ہر قوم کے عام لوگ اپنی زبان میں قرآن کا ترجمہ اور قرآن کی تفسیر کر کے باقی کے لوگوں کو سمجھا دیں تاکہ عام نبوت کا اثر سب لوگوں میں پھیل جاوے۔ 1 ؎ جلد ہذا ص 228۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 522۔ 523 ج 2۔
Ayahs 14:5–6

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دیکر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ۔ اور انکو خدا کے دن یاد دلاؤ۔ اور اس میں ان لوگوں کے لئے جو صابر و شاکر ہیں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جبکہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی۔ وہ لوگ تمہیں بڑے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی۔

5۔ 6۔ خاص کر حضرت موسیٰ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اور انبیاء کے مبہم ذکر کے بعد اس لئے فرمایا کہ قریش اس بات کو سمجھیں کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت مان لی اور نبی وقت کے کہنے کے موافق چلے تو انجام ان کا یہ ہوا کہ ایک مدت تک ان میں حکومت اور بادشاہت اور دین کی سرداری قائم رہی اب اللہ تعالیٰ نے بنی اسمعیل میں ان نبی آخر الزمان کو بھیجا ہے اگر تم بھی نبی وقت کی اطاعت کرو گے تو تم کو بھی وہی حکومت اللہ دیوے گا اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے چناچہ جس طرح اللہ نے وعدہ فرمایا ہے وہی طہور میں آیا کہ قریش میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کو حکومت اور خلافت ملی اور ان کے خاندانوں میں ایک مدت دراز تک وہ حکومت قائم رہی خلفاء بنی امیہ اور عباسیہ کی تاریخی کتابیں جس نے دیکھی ہیں وہ جانتا ہے کہ کس قدر وسیع زمانہ اس حکومت کا دنیا میں گزرا ہے جب آخر کو جس اطاعت کے سبب سے اس حکومت کا پایہ بڑا تھا اس اطاعت کو ان لوگوں نے چھوڑ دیا تو وہ حکومت بھی جاتی رہی۔ ظلمات اور نور کی تفسیر میں مسند امام احمد، نسائی اور دارمی کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی معتبر روایت اوپر گزر چکی ہے۔ وہی حدیث یہاں بھی آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جس طرح اے رسول اللہ ﷺ کے ہم نے تم کو قرآن اور معجزات دے کر لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔ اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات اور معجزات دے کر بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے بھیجا تھا۔ مجاہد کے قول کے موافق ایام اللہ کی تفسیر اللہ تعالیٰ کا وہی احسان کا زمانہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے طرح طرح کے ظلم سے نجات دی۔ آگے کی آیت میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی اس احسان کا ذکر فرمایا ہے جس سے مجاہد کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے نسائی اور زوائد مسند امام احمد میں ابی بن کعب ؓ کی ایک حدیث بھی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ایام اللہ کی یہی تفسیر فرمائی ہے۔ بنی اسرائیل نے فرعون کے ظلم پر صبر کیا جس کے اجر میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمن کو ڈبو کر ہلاک کردیا پھر اللہ کی اس نعمت کے شکریہ میں انہوں نے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کی فرمانبرداری کی اس لئے اللہ تعالیٰ نے دشمن کی ہلاکت سے بڑھ کر بنی اسرائیل پر یہ احسان کیا کہ ان کو بادشاہت اور نبوت کا مرتبہ عنایت فرمایا حاصل کلام یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے اس قصہ میں صبر اور شکر دونوں کا نتیجہ ہے اس واسطے کہ اس قصے میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لئے اس بات کی نشانیاں ہیں کہ صبر اور شکر رائیگاں نہیں جاتا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ اگر قریش قرآن کی نعمت کے شکر یہ میں قرآن کی نصیحت پر چلیں گے اور قرآن کے احکام کی تعمیل میں جو کچھ تکلیف ہے اس پر صبر کریں گے تو ان کام انجام بھی اچھا ہوگا بلاء کے معنے عذاب اور نعمت دونوں کے ہیں۔ اس قصے میں فرعون کے ظلم اللہ کی نعمت دونوں کا ذکر ہے۔ اس لئے بلاء کا لفظ فرمایا۔ بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے بچانے میں اور اس کے بعد نبوت اور بادشاہت کا انہیں مل جانے میں اللہ کی مدد تھی اسی واسطے شاہ صاحب نے بلا کا مرادی ترجمہ مدد کے لفظ سے کیا ہے۔ مدد کرنے والی کی نام وری ہوتی ہے اس لئے ایام اللہ کے فائدہ میں سائے کا لفظ لکھا ہے جس کے معنے نام وری کے ہیں۔ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو جو فرعون قتل کراتا تھا اس کا سبب اور فرعون کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا قصہ سورت بقر میں گزر چکا ہے۔
Ayah 14:7

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دونگا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کے) میرا عذاب (بھی) سخت ہے۔

7۔ اس سے پہلے کی آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے زبانی ان کی قوم بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ خدا نے تم پر کیا کیا احسان کئے فرعون کے ظلم سے تمہیں اور تمہارے بال بچوں کو بچایا جس کا شکر تم کسی طرح ادا نہیں کرسکتے پھر کہا کہ خدا نے یہ حکم موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت دے رکھا ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ نعمت ملے گی اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھو کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ معتبر سند سے انس ؓ کی ایک حدیث بخاری نے اپنی تاریخ میں نقل کی ہے کہ منجملہ ان پانچ چیزوں کے جن کے سبب سے دوسری پانچ چیزیں انسان کو مل جاتی ہیں ایک شکر بھی ہے کہ شکر کی عادت سے نعمت کی زیادہ ہوجاتی 1 ؎ ہے۔ یہ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت کا ایک ٹکڑا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اے بنی اسرائیل جس اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن فرعون کو ہلاک کردینے کا احسان تم پر کیا ہے اس کا یہ حکم ہے کہ اس کی اس نعمت کی شکر گزاری اگر تم کرو گے تو وہ تم کو اور نعمتیں دیوے گا اور اگر تم اس کی نعمت کی ناشکری کرو گے تو تم نے دیکھ لیا کہ ناشکری کا وبال فرعون اور اس کی قوم پر کیسا پڑا۔ شکر کے مقابلہ میں کفر کے معنے ناشکری کے ہوتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں جب تک شکر گزاری کی عادت رہی اس وقت تک نبوت بادشاہت سب کچھ رہا اور جب ان میں ناشکری پھیلی تو کچھ بھی نہ رہا۔ شکر گزاری کے زمانے تک بنی اسرائیل میں اور اس امت میں جو اقبال مندی رہی اور بعد اس کے ناشکری کے سبب سے اس اقبال مندی میں جو زوال آیا وہ سب قصے گویا آیت کی تفسیر ہیں معتبر سند سے زوائد مسند میں نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا احسان مندی کے طور پر اللہ کی نعمت کا تذکرہ زبان پر لانا یہ اللہ کی نعمت کی شکر گزاری ہے اور اللہ کی نعمت کو چھپانا اور بھول جانا یہ ناشکری ہے اور تھوڑی نعمت کی ناشکری بڑی نعمت کی ناشکری سکھا دیتی 2 ؎ ہے۔ اور لوگوں کے احسان کی ناشکری آدمی کو اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ناشکری کی حد تک پہنچا دیتی ہے شکر گزاری اور ناشکری کی تفسیر میں اس حدیث کو بڑا دخل ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عمرو بن عوف انصاری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو اپنی امت کی تنگ حالی کا کچھ اندیشہ نہیں اندیشہ تو یہ ہے کہ پہلی امتوں کی طرح ان کو فارغ البالی ہوگی اور اس فارغ البالی کے زمانہ میں طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہو کر ایک دوسرے کی ریس اور حرص کرنے لگے گا۔ اور آخر کو پہلی امتوں کی طرح ان پر بھی تباہی آجاوے گی۔ یہ حدیث بنی اسرائیل اور اس امت کے شکر گزاری اور نا شکری کے زمانے کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان دونوں امتوں نے جب تھوڑی نعمت پر شکر گزاری کا برتاؤ کیا تو پوری فارغ البالی حاصل ہوئی اور پوری فارغ البالی کے زمانے میں جب ناشکری کے ڈھنگ برتے تو بربادی آگئی۔ 1 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 234 بحوالہ مسند امام احمد ص 278 ج 4۔ 2 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 368۔
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو خدا بھی بےنیاز (اور) قابل تعریف ہے۔

8۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اللہ کی نعمتیں یاد دلادیں اور اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری اور فرمانبرداری کی نصیحت کریں اس حکم الٰہی کے موافق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو وعظ کے طور پر طرح طرح کی نصیحتیں جو کی ہیں ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ان نصیحتوں کا ذکر ہے یہ ایک عادت الٰہی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس شکر گزاری کی جزا میں اور نعمت پر نعمت دیتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا آخر کو وبال میں گرفتار ہوجاتا ہے فرعون اور اس کا لشکر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری سے وبال الٰہی میں سب گرفتار ہوگئے بنی اسرائیل نے جب تک اللہ تعالیٰ کی نعمت کی قدر دانی کی حکومت بادشاہت نعمت پر نعمت پائی اسی عادت الٰہی کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں جتلایا ہے اور اللہ نے قریش کی عبرت کے لئے اس نصیحت کو ان آیتوں میں ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم کی حضرت ابوذر ؓ کی روایت کی حدیث قدسی اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمام دنیا کے جن و انس اگر اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اور شکر گزاری اختیار کریں تو اس سے خدا کی خدائی میں کچھ بڑھ نہیں جاتا اور اگر یہ سب کے سب نافرمانی اور ناشکر ہوجاویں تو خدا کی خدائی میں سے کچھ گھٹ نہیں جاتا اور یہ سب کے سب مل کر اپنی حاجتیں پوری ہونے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور اللہ تعالیٰ ان سب کی حاجت روائی کرے تو بھی اللہ تعالیٰ کے خزانہ میں سے کچھ کم نہیں ہوتا غرض شکر گزاری کے عوض میں اللہ تعالیٰ جو نعمتیں اپنی شکر گزار مخلوق کو دنیا میں دیتا ہے اور عقبیٰ میں ایک نیکی کا دس سے لے کر سات سو تک اس نے اجر ٹھہرا رکھا ہے یہ محض اس کا فضل ہے ورنہ اس کو کسی کی شکر گزاری اور کسی کے نیک عمل کی کچھ پروا نہیں ہے۔ اسی واسطے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں بنی اسرائیل کو سمجھا دیا کہ شکر گزاری اور فرمانبرداری کا بدلہ جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ملتا ہے وہ اللہ کا فضل اور اس کی قدر دانی ہے ورنہ تمام روئے زمین کی مخلوق اگر ناشکر اور نافرمان بن جاوے تو خدا تعالیٰ کو اس کی کچھ پروا نہیں کیونکہ کسی کی ناشکری اور نافرمانی سے اس بادشاہ حقیقی کی بادشاہی میں کچھ فرق نہیں آتا وہ بادشاہی دنیا کے بادشاہوں کی بادشاہی جیسی نہیں ہے کہ رعیت کی سرکشی یا فوج کی بغاوت سے اس بادشاہی میں کچھ فتور پڑجاوے پہلی امتیں جو اللہ کی نافرمانی کے سبب سے غارت ہوگئیں اس نصیحت میں ان کا ذکر کر کے آگے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی بنی اسرائیل کو سمجھا دیا کہ جس طرح شکر گزاری کی جزا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے عادت الٰہی قرار دے رکھی ہے۔ اسی طرح یہ بھی عادت الٰہی ہے کہ ناشکر اور نافرمانبردار لوگوں کو اللہ تعالیٰ دین و دنیا کے وبال میں گرفتار کردیتا ہے۔
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح (علیہ السلام) اور عاد وثمود کی قوم ؟ اور جو ان کے بعد تھے جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب) ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیے (کہ خاموش رہو) اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک ہیں۔

9۔ یہاں مفسروں نے دو معنے بیان کئے ہیں بعضے یہ کہتے ہیں کہ اوپر کی نصیحت کے سلسلہ میں یہ خطاب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل کی طرف کیا ہے کہ کیا تم لوگوں کو نہیں معلوم ہے کہ تم سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد اور قوم ثمود گزری ہیں جن کے پاس رسول معجزے اور نشانیاں لے کر آئے اور ان لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور کہنے لگے کہ تم جو کچھ خدا کی طرف سے لے کر آئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں ہمیں تو یقین نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو اور جو تم ہمیں نصیحت کرتے ہو وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور بعضے مفسروں نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت علیحدہ ہے اوپر کی آیتوں سے اس کو لگاؤ نہیں ہے بلکہ خدا نے حضرت ﷺ کی امت کو خطاب کیا اور قوم نوح (علیہ السلام) اور عاد وثمود کا ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ بیشمار قومیں گزری ہیں جن کی گنتی سوائے خدا کے اور کسی کو نہیں معلوم ہے ان کے رسول طرح طرح کے معجزے لے کر آئے مگر قوم نے ہاتھوں کو منہ پر رکھ کر انہیں اشارہ کیا کہ چپ رہو اور ان کو جھٹلایا۔ { فردوا ایدیھم فی افواھھم } کی تفسیر یوں بھی بیان کی گئی ہے کہ کفار نے غصہ میں ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹا اور یوں بھی تفسیر کی گئی ہے کہ تعجب اور مسخرا پن سے اس قدر ہنسے کہ ہاتھوں کو منہ پر رکھ لیا بہر حال صاف انکار کردیا کہ ہم تمہاری بات کی تصدیق نہیں کرتے اور ہمیں تو تمہاری رسالت میں بہت ہی شک ہے۔ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اسی قوم کو ترجیح دی ہے کہ یہ بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت کا ایک ٹکڑا ہے { فردوآ ایدیھم فی افواھھم } کے یہ معنے حافظ ابو جعفر نے قوی ٹھہرائے ہیں کہ مشرک لوگ رسولوں سے اپنے بتوں کی مذمت سن کر جوش میں آجاتے تھے اور اس جوش کی حالت میں اپنی انگلیاں دانتوں سے کاٹنے لگتے 1 ؎ تھے۔ معتبر سند سے طبرانی اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول بھی اسی کے موافق 2 ؎ ہے۔ جس سے یہی معنے صحیح معلوم ہوتے ہیں۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابو طالب کی بیماری کے وقت ابو جہل اور بہت سے مشرک ابو طالب کی بیمار پرسی اور خیر کو آئے تھے اس وقت آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کو شرک کے چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرنے کی نصیحت کی جس سے وہ لوگ بڑے جوش میں آن کر اس مجلس سے اٹھ کھڑے 3 ؎ ہوئے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی 4 ؎ ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ کے قابل اور جس حالت کے قابل جو کوئی پیدا ہوا ہے اس کو ویسے ہی کام آسان اور اچھے معلوم ہوتے ہیں ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) سے لے کر قریش کے شرک کی حالت پر مرجانے والے لوگوں تک جو لوگ طرح طرح کے عذابوں سے دنیا میں ہلاک ہوئے اور عقبیٰ میں دوزخ کے قابل ٹھہرے لوح محفوظ میں ان کی یہ حالت لکھی گئی تھی۔ اس لئے اس حالت کے بر خلاف نصیحت کو سن کر وہ لوگ جوش میں آجاتے تھے اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلاتے تھے۔ 1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 189 ج 13 و تفسیر ابن کثیر ص 524 ج 2۔ 2 ؎ تفسیر فتح البیان ص 609 ج 2 و نجمع الزوائد ص 43 ج 7 صاحب مجمع الزوائد نے اضے ضعیف لکھا ہے۔ 3 ؎ جامع ترمذی ص 155 ج 2 تفسیر سورت ص و تفسیر فتح البیان ص 6 ج 4۔ 4 ؎ جلد ہذا ص 202۔ 233۔ 235۔ 240۔ 246۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنیوالا ہے ؟ اور تمہیں اس لئے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور (فائدہ پہنچانے کیلئے) ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ وہ بولے تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوچتے ہیں ان (کے پوجنے) سے ہم کو بند کردو تو (اچھا) کوئی دلیل لاؤ (یعنی معجزہ دکھاؤ)

10۔ جب کفار نے رسولوں کو جھٹلا دیا اور یہ کہا کہ ہم کو تو شک ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو یا نہیں اس پر رسولوں نے یہ جواب دیا کہ تم خدا کی ذات میں کس بات کا شک کرتے ہو کیا اس کے موجود ہونے میں شک ہے یا اس کے ایک ہونے میں شک ہے بہر حال تمہارا شک محض غلط ہے کیا آنکھوں سے یہ بھی نہیں دیکھتے کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ایسے وقت میں کہ کوئی مثال اس کی نہ تھی بغیر نمونہ اور بےدیکھے بھالے کسی شئی کا پیدا کرنا کیا اس بات کی نشانی نہیں ہے کہ خدا موجود ہے اور ایسا ہے کہ مثل نہیں رکھتا اپنا نظیر آپ ہی ہے۔ کسی کو اس کی ذات یا صفات میں شراکت نہیں ہے۔ اور پھر تم لوگوں پر یہ اور احسان اس کا ہے کہ رسولوں کو بھیج کر تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ آؤ میری طرف اور جو لوگ اس کے رسول کو سچا جان کر حق بات کی پیروی کرنے لگتے ہیں اور سچے دل سے خدائے وحدہ لا شریک پر ایمان لے آتے ہیں ان کے گزشتہ گناہوں سے در گزر کر کے مغفرت کا خلعت دیتا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان پر بھی یہ مہربانی کرتا ہے کہ جلد عذاب بھیج کر ان کو ہلاک نہیں کرتا وقت مقرر تک ان کی زندگی قائم رکھتا ہے۔ ان باتوں کو سن کر اور لا جواب ہو کر کفار نے دوسرا اعتراض پیش کیا کہ اے رسول تم تو ہماری طرح انسان ہو کھاتے پیتے ہو چلتے پھرتے ہو تمہیں ہم پر فضیلت ہی کیا ہے جو ناحق ہم کو ایک نئے دین و آئین پر لانا چاہتے ہو تمہارا اصل منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم ہم کو ہمارے باپ دادا کے پرانے معبودوں کی عبادت سے روک دو بھلا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقہ کو چھوڑ کر تمہارا دین اختیار کرلیں اور تمہارے ان معجزوں کی جو تم دکھلاتے ہو سند نہیں ہم تو جب جانیں کہ ہماری فرمائش کے مطابق کوئی معجزہ اچھا ساکر دکھاؤ۔ صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ کے قابل اور جس حالت کے قابل جو کوئی پیدا ہوا ہے اس کو ویسے ہی کام آسان اور اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اس حدیث اور آیت کو ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ یہ لوگ علم الٰہی کے موافق دوزخی قرار پا چکے تھے اس لئے ان کی سمجھ میں اتنی موٹی بات نہیں آئی کہ جب آسمان و زمین انسان اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے ان کے بتوں میں سے کوئی اس میں اس کا شریک نہیں ہے تو پھر عبادت کے قابل بھی وہی ایک ذات وحدہ لا شریک ہے اس موٹی بات کے سمجھانے کے بعد بھی جوان لوگوں نے اللہ کے رسولوں سے { فاتونا بسلطان مبین } کا سوال کیا تو اس کا سبب یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ان کی قسمت میں دوزخ جانا لکھا تھا۔
Ayahs 14:11–12

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے۔ اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں۔ اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

ہم کیونکر خدا پر بھروسا نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) راستے بتائے ہیں جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

11۔ 12۔ یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے جو انہوں نے رسولوں سے اعتراض کے طور پر یہ کہا کہ تم تو ہماری طرح انسان ہو کوئی فضیلت ہم پر نہیں رکھتے ہو اس کا رسولوں نے یہ جواب دیا کہ بیشک ہم تمہاری طرح انسان ہیں اور انسانیت کا جو تقاضا ہے تمہاری طرح وہ ہم میں بھی ہے مگر اللہ پاک جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے اور اسے پیغمبر بناتا ہے اور جس رسول کو جیسا چاہتا معجزہ عطا کرتا ہے جیسے وہ کر دکھاتا ہے اگر تم چاہو کہ تمہاری خواہش کے موافق کوئی معجزہ دکھایا جائے تو یہ کسی رسول سے بھی اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک خدا کا حکم نہ ہو اور ایمان لا نے والے کا بھروسا تو خدا پر ہونا چاہیے ایسے لوگوں کو یہ بات واجب نہیں ہے کہ جب اپنی فرمائش کے مطابق معجزہ دیکھ لیں تو ایمان لائیں اور ہم تو اس پر بھروسہ کرتے ہیں کیوں کہ ہم کو تو اس نے اپنے راہ حق کی ہدایت کی ہے اور تمہاری ایذا رسانی اور تکلیف دہی پر ہم کیوں نہ صبر کریں کہ ہم کو تو اس صبر کے اجر کا اللہ پر بھروسہ ہے۔ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ ایک روز کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط نے اپنی چادر آپ کے گلے میں ڈال کر پھانسی دے دی۔ اس قسم کی اور صحیح روایتیں ہیں جن میں یہ ذکر ہے کہ ہجرت سے پہلے مشرکین مکہ آپ کو اور آپ کے صحابہ کو بہت تکلیفیں دیا کرتے تھے حاصل کلام یہ ہے کہ پہلے رسولوں کے قصہ میں امت کے لوگوں کی ایذا رسانی اور رسولوں کے صبر کا ذکر اس واسطے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی یہ تسلی ہوجاوے کہ مخالف لوگوں کا ہمیشہ سے اللہ کے رسولوں کے ساتھ یہی سلوک رہا ہے لیکن آخر کو اللہ کے رسولوں اور ان کے ساتھ کے نیک لوگوں کا انجام اچھا ہوا ہے اب بھی وہی انجام ہونے والا ہے۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ اور ابوہریرہ ؓ کی روایتیں گزر چکی ہیں۔ 2 ؎ کہ جن بتوں کی حمایت میں مشرکین مکہ کو اللہ کے رسول ﷺ سے مخالفت تھی فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول نے ان بتوں کو لکڑیاں مار مار گرادیا اور کسی مشرک کے کچھ حمایت نہ ہوسکی۔ سب کام اللہ کو سونپ دینے کو توکل کہتے ہیں اور آدمی کی جب تک یہ حالت نہ ہو تو اس سے تکلیف کے وقت صبر نہیں ہوسکتا اسی واسطے قرآن شریف میں اکثر جگہ صبر اور توکل کا ذکر ساتھ آیا ہے۔ 1 ؎ جلد ہذا ص 234۔
Ayahs 14:13–14

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا (ہمارے) مذہب میں داخل ہوجاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دینگے

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جو (قیامت کے روز) میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے۔ اور میرے عذاب سے خوف کرے

13۔ 14۔ یہ سلسلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس وعظ کا چلا آتا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا پہلے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود بنی اسرائیل کو طرح طرح کی نصیحت وعظ کے طور پر کی پھر اس وعظ میں سب سے اول صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت شعیب (علیہ السلام) تک کے انبیاء نے اپنی امتوں کو جو جو نصیحتیں کی تھیں ان سب کا ذکر کیا اور ان سب نصیحتوں کو سن کر ان پہلی امتوں کے لوگوں نے اپنے اپنے رسولوں کو جو جوابات دئیے ہیں ان جوابوں کا یہ ذکر ہے کہ یا انہوں نے یہ کہا کہ ہم اور تم ایک سے انسان ہیں پھر ہم تم کو اللہ کا رسول کیوں کر جان لیویں یا یہ کہا کہ تم نصیحت سے باز نہ آؤگے اور اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہے جاؤگے تو ہم تم کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم کو زبردستی ہمارا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ منکر امتوں کے جہاں تک قرآن شریف میں قصے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر قریش تک یہی دو تین باتیں اللہ کے رسولوں سے کہتے رہے اسی واسطے سورت والذاریات میں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک مرنے والا دوسرے کو اور دوسرا تیسرے کو وصیت کرجاتا ہے اور سب آپس کی وصیت پر چلتے اور عمل کرتے رہتے ہیں یہی حال ان پہلی امتوں کا ہے کہ ایک سی ہی باتیں یہ سب انبیاء سے کرتے چلے آتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان سب کا بہکانے والا شیطان ابتداء دنیا سے آخر تک ایک ہی ہے ایک سے ہی وسوسے اس نے سب کے دلوں میں ڈالے ہیں اس لئے ان سب نے ایک سی باتیں کی ہیں اس سارے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورت والذاریات کے ان مختصر لفظوں میں ادا فرمایا ہے۔ { اتواصوا بہ بل ھو قوم طاغون } [51: 3] حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جس نصیحت کا ذکر ہے یہ ایسی ایک فائدہ مند صاحب تاثیر اور مختصر نصیحت ہے کہ عمل کرنے والے شخص کو نجات عقبیٰ کے لئے یہ ہی ایک نصیحت لکھ کر بھیج دو کہ اس نصیحت کے بعد پھر مجھ کو کسی نصیحت کی ضرورت باقی نہ رہے حضرت عائشہ ؓ نے اس خط کے جواب میں جو خط لکھا اس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ کی رضا مندی کا خیال اپنے دل میں رکھا اور دنیا کے لوگوں کی رضا مندی کی کچھ پروا نہ کی خدا تعالیٰ ایسے شخص کے لئے ایسے سبب کھڑے کر دیوے گا کہ دنیا کے سب لوگ خود بخود اس شخص سے راضی اور خوشی رہویں گے۔ اور جس شخص نے دنیا کے لوگوں کی رضا مندی کو مقدم رکھا اور اللہ کی رضا مندی کا خیال اپنے دل میں نہ رکھا اس سے نہ دنیا کے لوگ خوش رہ سکتے ہیں اور نہ خدا تعالیٰ خوش رہتا ہے اس خط میں حضرت عائشہ ؓ نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے جو کچھ سنا تھا وہی لکھا ہے۔ اس قصے کو ترمذی نے مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے روایت کیا 1 ؎ ہے۔ جس سے ایک روایت کو دوسری سے تقویت ہوجاتی ہے۔ جو حدیث آنحضرت ﷺ تک پہنچ جاوے اس کو مرفوع کہتے ہیں اور جس حدیث کی روایت کسی صحابی پر ٹھہر جاوے اس کو موقوف کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ کے خط کا مضمون ایک غیب کی بات ہے عقل کا اس میں کچھ دخل نہیں ہے۔ اس لئے ایسے موقع پر صحابی کا قول حدیث نبوی کے حکم میں شمار کیا جاتا ہے۔ نبوت کے زمانہ سے پہلے اللہ کے رسول بتوں کی مذمت جو نہیں کرتے تھے اس سے امت کے بت پرستوں نے یہ سمجھا کہ اللہ کے نبی بھی پہلے ہمارے طریقہ پر تھے اس خیال سے ان لوگوں نے { او لتعودن فی ملتنا } کہا ورنہ حقیقت میں اللہ کے نبی شرک سے معصوم ہیں۔ اور ” بساویں گے تم کو اس زمین میں “۔ سورت اعراف میں اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کا ظہور گزر چکا ہے کہ نافرمانی لوگوں کو برباد کر کے رسولوں کے فرمانبردار لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں بسایا۔ آخر آیت میں فرمایا کہ ان فرمانبردار لوگوں کو اس زمین میں اس لئے بسایا کہ یہ لوگ اللہ سے ڈرتے تھے اور حساب و کتاب کے لئے ایک دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے کا ان لوگوں کے دل میں اندیشہ تھا۔ معتبر سند سے ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا اس کو عقبیٰ کے نجات کی منزل طے کرنے کا ایسا اندیشہ لگا رہے گا جس طرح بعضے چست مسافر کچھ رات سے راستہ طے کرنا شروع کردیتے ہیں اور سویرے سے مقام پر پہنچ جاتے 2 ؎ ہیں۔ معتبر سند سے طبرانی میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کے دل میں عقبیٰ کی درستی کا خیال ہوگا اس کی دنیا بھی اچھی گزرے 3 ؎ گی۔ ان حدیثوں کو آیت کے آخری ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلی امتوں میں سے جن لوگوں کے دل میں خدا کا خوف تھا ان کی عقبیٰ تو یوں درست ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسولوں کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور دنیا یوں درست ہوئی کہ نافرمانوں کو برباد کر کے ان کی جگہ ان فرمانبرداروں کو بسایا گیا۔ آگے بھی جو شخص ایسا ہوگا کہ اس کے دل میں خدا کا خوف ہوگا تو دین و دنیا میں اس کا یہی انجام ہوگا۔ 1 ؎ الترغیب ص 89 ج 2 باب ترغیب الحاکم وغیرہ من ارضاع الناس الخ 2 ؎ الترغیب ص 260 ج 2 باب الترغیب فی الخوف الخ۔ 3 ؎ مجمع الزوائد 249 ج 10 باب فیمن احب الدنیا۔
Ayahs 14:15–17

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو سرکش ضدی نامراد رہ گیا۔

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔

15۔ 17۔ رسولوں نے اپنے رب سے کفار پر فتح چاہی اور بعض مفسروں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کفار نے بھی چاہا کہ یہ رسول سچے ہوں تو ان لوگوں پر عذاب آجاوے غرض کہ دونوں معنے یہاں ممکن ہیں پھر فرمایا کہ تکبر کرنے والے اور خدا پر ایمان نہ لانے والے کلمہ توحید سے منہ موڑنے والے ہلاک ہوئے اور اللہ نے اپنے رسولوں اور ان کے ساتھ مومنوں کو فتح دی اور پھر ان کفار کے لئے یہ حکم فرمایا کہ فقط اس ہلاکت پر ہی بس نہیں ہے ان کے سامنے جہنم بھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو یہ لوگ ہلاک ہوئے اور ساری ملکیت پر ان ہی مومنوں کا قبضہ ہوا اور آخرت میں جہنم بھی ان کے واسطے تیار ہے وہاں پانی کی جگہ پینے کی پیپ کا ملا ہوا جوش کھاتا ہوا پانی غرض ایسی چیزیں پینے کو دی جاویں گی جس کو یہ لوگ پی نہ سکیں گے مارے بدبو کے حلق سے نیچے نہ اتریں گی۔ فرشتے عذاب کے ہتھوڑے مار مار کر زبردستی پلائیں گے بمشکل گھونٹ گھونٹ حلق سے نیچے اتاریں گے اور ہر طرف سے موت دکھائی دے گی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی تکلیف اور سختی ہوگی کہ گویا اب موت آئی اور اب آئی مگر وہاں موت کہاں وہاں تو موت ذبح کردی جائے گی پھر مرنا کیسا اس کے بعد فرمایا کہ اس پر بس نہ اور مستدرک حاکم میں ابو امامہ ؓ سے ایک روایت ہے کہ دوزخیوں کے منہ کے پاس جب پیپ لائی جاوے گی تو آنتیں کٹ کر پائخانہ کی راہ سے نکل پڑیں گی اگرچہ ترمذی نے ابو امامہ ؓ کی اس حدیث کو غریب کہا ہے لیکن حاکم نے اس کو مسلم کی شرط پر صحیح کہا 1 ؎ ہے۔ یہاں تو فقط دوزخیوں کو جو چیزیں پلائی جاویں گی ان کا ذکر ہے سورت الغاشیہ میں آوے گا کہ ان لوگوں کو ایک کانٹوں دار گھاس لگالی جاویے گی جو حلق میں پھنس جاوے گی تو اس وقت یہ کھولتا ہوا پیپ کا پانی ان لوگوں کو پلا دیا جاوے گا صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ کی آگ کی تیزی دنیا کی آگ سے ستر حصے زیادہ ہے۔ 2 ؎ سوا ان حدیثوں کے دوزخ کے عذابوں کی تفصیل اور بہت سی صحیح حدیثوں میں ہے۔ یہ سب حدیثیں عذاب غلیظ کی گویا تفسیر ہیں۔ 1 ؎ الترغیب ص 319۔ 320 ج 2 فصل نے شراب اہل النار۔ 2 ؎ الترغیب ص 315 ج 2 فصل نے شدۃ حرھا الخ۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا انکے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے (اور) اسے اڑا لے جائے (اسی طرح) جو کام وہ کرتے رہے ان پر ان کو کچھ دسترس نہ ہوگی یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے۔

18۔ اس آیت میں کفار کے اعمال کی مثال بیان کی گئی ہے کہ کفار جو نیکی کرتے تھے اس کا ثواب بھی ان کو کچھ نہ ملے گا برے عمل کی سزا جو کچھ ہوگی وہ تو ہوگی مگر ان کے نیک عمل جیسے صدقہ دینا صلہ رحمی کرنی محتاجوں کی حاجت برلانی باپ ماں کے ساتھ بھلائی کرنی ان کی بھی ایسی مثال قیامت کے دن ہوجاوے گی جیسے آندھی میں کوئی راکھ اڑنے سے بچا نہیں سکتا اسی طرح سے قیامت کے دن کافروں کو نیک عملوں سے کوئی فائدہ نہ ہوگا کیوں کہ یہ لوگ اکیلے خدا پر ایمان نہیں لائے تھے بتوں کو خدا کا شریک کرتے تھے اس لئے ان کی یہ سب نیکیاں بھی برباد جاوے گی اور ان کا اپنی نیکیوں کی بابت یہ خیال کہ ہم کو اس کا اجر ملے گا بہت بڑی گمراہی ٹھہرے گی کیونکہ جو شخص خدا کو پورا پہچانتا ہی نہیں عقبیٰ کے عذاب وثواب کا اس کو یقین نہیں اس کی نیکیاں خدا کے حکم کے موافق نہیں ہوسکتیں۔ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے دنیا کے دکھاوے کے نیک عمل کو چھوٹا شرک فرمایا ہے۔ 1 ؎ مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی معتبر روایت گزر چکی ہے کہ جس عمل میں دنیا کے دکھاوے کا لگاؤ ہوگا وہ اعمال نامہ میں سے نکال کر قیامت کے دن پھینک دیا جائے 2 ؎ گا۔ ان حدیثوں سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ جب چھوٹا شرک نیک عملوں کو پھینک دینے کے قابل کردیتا ہے تو بت پرستی کے بڑے شرک میں جو لوگ گرفتار ہیں ان کے نیک عمل قیامت کے دن سوا پھینک دینے اور ہوا میں اڑا دینے اور کس کام کے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ مشرکین مکہ عقبیٰ کے اجر کے تو قائل نہیں تھے اس واسطے ان کے نیک کام فقط دنیا کے نام نمود کے لئے ٹھہرے جو قیامت کے دن ہوا میں اڑ جاویں گے۔ 1 ؎ الترغیب ص 29 ج 1 الترغیب من الریا 2 ؎ الرتغیب ص 21 ج : الترھیب من الریائ۔
Ayahs 14:19–20

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے ؟ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کردے۔

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں۔

19۔ 20۔ اس آیت میں اللہ پاک نے مشرکوں کو قائل کرنے کے لئے اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا اور بظاہر اگرچہ حضرت ﷺ کو مخاطب کیا ہے مگر اس خطاب سے ساری امت مقصود ہے اس لئے فرمایا کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا آسمان و زمین کا پیدا کرنا ساری مخلوق کے پیدا کرنے سے مشکل ہے کیونکہ اس میں عجیب عجیب حکمتیں ہیں بہرحال وہ اگر چاہے تو ساری دنیا کو نیست و نابود کر دے اور اس کی جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کر دے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 1 ؎ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کی تعظیم اور عبادت میں جو لوگ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ان کے گناہ سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ مشرکین مکہ نے عذاب کی جلدی کر کے یہ دعا مانگی تھی 2 ؎ کہ اگر قرآن شریف اللہ کا کلام ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں تو اس کے نہ ماننے کے وبال میں ہم لوگوں پر پتھروں کا مینہ برسے۔ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب آسمان و زمین کو انسان کی ضرورت کی سب چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا کہ اس میں ان بت پرستوں کے بتوں کا کچھ دخل نہیں ہے تو پھر یہ بت پرست ان بتوں کی پوجا کس استحقاق سے کرتے ہیں۔ عذاب کی جلدی جو یہ لوگ کرتے ہیں یہ بھی ان لوگوں کی نادانی ہے کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلی بہت سی قوموں کو برباد کر کے ان لوگوں کو ان کی جگہ بسایا اسی طرح ان کو برباد کر کے نئی مخلوق کا پیدا کردینا اس کی قدرت کے آگے کچھ دشوار نہیں ہے۔ اب آگے فرمایا اگر کسی مصلحت سے یہ لوگ دنیا کے عذاب سے بچ بھی گئے تو قیامت کے دن اللہ کے روبرو کھڑے ہو کر اس شرک کی جواب دہی ان کے سر سے کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ 1 ؎ جلد ہذا ص 204۔ 222۔ 247۔ 2 ؎ صحیح بخاری ص 669 ج 2 باب قولہ واذ قالوا اللہم ان کان ہذا ہو الحق الخ۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف العقل متبع اپنے (رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لئے نہیں ہے۔

21۔ اس آیت میں فرمایا کہ ساری مخلوق قیامت کے دن ایک کشادہ میدان میں کھڑی کی جاوے گی اور ان کے اعمال وہاں ظاہر کئے جائیں گے۔ اگرچہ ہر شخص کے عمل کا علم خدا کو ہے مگر جزا و سزا کا دارو مدار اس نے اپنے علم پر نہیں رکھا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ وہاں سب کے عمل ظاہر کئے جائیں گے تاکہ ہر ایک کو دوسرے کے عمل کی خبر ہوجائے اور پھر عمل کے مطابق سزا کا ہونا عین انصاف پر خیال کیا جائے غرض کہ جب سب جمع ہولیں گے اور جزا سزا ہوجائے گی تو بچارے کمزور اور چھوٹی حیثیت کے آدمی بڑے لوگوں سے یہ کہیں گے کہ ہم تمہیں دیکھ کر اور تمہارے کہنے سے ہر ایک بات میں تمہارے ہی تابع رہے اور خدا و رسول پر ایمان نہیں لائے تمہیں بھی اب مناسب ہے کہ یہاں ہمارے کچھ کام آؤ اور خدا کے اس عذاب میں کسی قدر کمی کراؤ وہ جواب دیں گے کہ اگر ہم دنیا میں ہدایت پاتے تو تمہیں بھی ہدایت پر لاتے ہم کیا کریں ہم آپ ہی مجبور ہیں اس وقت خواہ روئیں چلائیں یا صبر کریں۔ کسی طرح رہائی نہیں ہوسکتی۔ صحیح بخاری، مسلم، ترمذی اور ابوداؤد میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے حساب میں امت کے دن کچھ کرید نکالی گئی۔ وہ عذاب میں پھنس جاوے 1 ؎ گا۔ معتبر سند سے ترمذی بزار اور طبرانی میں ابو برزہ ؓ اور معاذ بن جبل ؓ سے روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا۔ (1) تمام عمر کس کام میں گزاری (2) جوانی میں کیا کیا (3) روپیہ پیسہ کیوں کر کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا (4) دین کی کوئی بات سیکھی تو اس پر کیا عمل کیا 2 ؎۔ سورت نحل میں آوے گا کہ لوگوں کے بہکانے والوں کو بہوکنے اور بہکانے کا دوہرا عذاب قیامت کے دن ہوگا۔ صحیح مسلم میں اس مضمون کی ایک حدیث بھی ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہے 3 ؎ سورت نحل کی آیت { ومن اوزار الذین یضلونھم } [16: 21] کو اور ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن لوگوں نے اوروں کو بہکا کر برے راستہ سے لگایا اس حساب کی کرید اور جواب دہی کے وقت جب ایسے لوگوں کو دہرے عذاب کا حکم ہوگا تو وہ گھبرا کر بہکنے والوں سے کہویں گے کہ ہم تو خود دوہرے عذاب میں گرفتار ہیں ہم سے کسی کی کیا مدد ہوسکتی ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 967 ج 2 باب من نوتش الحساب عذب۔ 2 ؎ الترغیب ص 297 ج 2 فصل نے الحشر۔ 3 ؎ صحیح مسلم ص 341 ج 3 باب من سنۃ حسنۃ او سنتہ الخ۔
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

جب (حساب کتاب کا) کام فیصل ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہنا مان لیا۔ (آج) مجھے ملامت نہ کرو اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بیشک جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے۔

22۔ اوپر چھوٹے بہکانے والوں کا ذکر فرما کر اس آیت میں سب سے بڑے بہکانے والے کا ذکر فرمایا اس آیت میں شیطان کی جن باتوں کا ذکر ہے یہ اس وقت کی شیطان کی باتیں ہیں جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو چکیں گے۔ چناچہ خود اللہ تعالیٰ نے آیت میں صراحت فرما دی ہے کہ جب فیصلہ ہوچکے گا اس وقت شیطان یہ باتیں کرے گا۔ تفسیر شعبی میں جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ کے طور پر کھڑے ہو کر شیطان یہ باتیں کرے گا۔ تفسیر شعبی میں جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ کے طور پر کھڑے ہو کر شیطان یہ باتیں کرے گا چناچہ شعبی کی روایت کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن دو خطیب لوگوں کے سامنے کھڑے ہوں گے ایک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خطبہ پڑھ کر نصاریٰ کی ان باتوں کو جھٹلا دیں گے جو نصاریٰ نے ان کی اور حضرت مریم کی طرف شرک کے طور پر لگائی ہیں دوسرا خطبہ شیطان پڑھے گا جس خطبہ میں ان باتوں کا ذکر ہوگا جن باتوں کا اس آیت میں ذکر 1 ؎ ہے۔ تفسیر ابن ابی حاتم کی روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس خطبے سے پہلے میدان حشر میں بھی شیطان ایک خطبہ پڑھے گا اس خطبہ میں یہی باتیں ہوں گی جن باتوں کا اس آیت میں ذکر ہے یہ خطبہ اس وقت وہ پڑھے گا جب اس کے فرمانبردار لوگ اس سے کہویں گے کہ اچھے لوگوں کی جس طرح انبیاء نے شفاعت کی ہے تو ہماری شفاعت کر کیوں کہ دنیا میں اچھے لوگ جیسا انبیاء (علیہ السلام) کا کہنا مانتے تھے اسی طرح ہم تیرا کہنا مانتے تھے۔ اس وقت شیطان صاف الگ ہوجاوے گا اور کہوے گا کہ انبیاء نے تو اللہ کا سچا وعدہ پہنچایا تھا میں نے تو تم کو دم دیا تھا تم انبیاء کی مضبوط باتیں چھوڑ کر میرے دم میں کیوں آگئے اس کا وبال تم پر ہے مجھ پر کیا الزام ہے 2 ؎۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ نیک کاموں کی رغبت دلانے کے لئے اللہ کا ایک فرشتہ اور برے کاموں کی رغبت دلانے کے لئے ایک شیطان ہر آدمی کے ساتھ رہتا 3 ؎ ہے۔ معتبر سند سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث بھی مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے گزر چکی ہے کہ آسمان پر سے نکالے جانے کے وقت شیطان نے اللہ تعالیٰ کے روبرو جب بنی آدم کے بہکانے کی قسم کھائی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر فرمایا کہ تیرے بہکانے سے جو کوئی گناہ کرے گا اور پھر خالص دل سے توبہ استغفار کرے گا تو میں بھی اس کے گناہ کے معاف کردینے میں کبھی دریغ نہ کروں گا 4 ؎۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ تفسیر قرار پائی کہ ایک فرشتہ تعینات کرکے گناہ سے بچنے کا اور گناہ ہوجانے کے بعد توبہ استغفار سے گناہ کے معاف کردینے کا جب اللہ تعالیٰ نے پورا انتظام کردیا ہے تو پھر جو شخص اس انتظام کی پابندی نہ کرے گا اس کا الزام اس کے ذمہ ہے اسی واسطے قیامت کے دن گنہگار لوگوں سے شیطان صاف کہہ دے گا کہ تم لوگ مجھ کو کیا الزام دیتے ہو اپنے آپ کو الزام دو کہ تم نے اللہ کے انتظام کی پابندی نہیں کی یہ ایک جگہ گزر چکا ہے کہ عامر بن شراحیل شعبی ثقہ تابعیوں میں ہیں۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 29 ھ ج 2۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیر 29 ھ ج 2۔ 3 ؎ صحیح مسلم ص 376 ج 2 باب فخریش الشیطان الخ۔ 4 ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص 365 و جلدو دوم ص 337
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے وہ بہشتوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں انکی صاحب سلامت سلام ہوگا۔

23۔ اس سے اوپر کی آیت میں اللہ جل جلالہ نے کفار کا حال بیان فرما کر اس آیت میں مومنوں کے اجر اور ان پر اپنی خاص مہربانیوں کا ذکر کیا کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان کو جنت میں داخل کیا جاوے گا جہاں نہریں بہتی ہوں گی اور پھر اپنے فضل سے ان کو ہمیشہ ہمیشہ وہاں رکھنے کا ذکر فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ آپس میں وہ لوگ مبارکبادی کے طور پر ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور فرشتے بھی خدا کے حکم سے جاجا کر انہیں سلام کیا کریں گے یہاں تک کہ آیتوں کے موافق خود خدا بھی ان پر سلام بھیجے گا اور جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا کے غم اور رنج اور فکر و مصیبت سے وہ امن میں رہیں گے کیونکہ وہاں دنیا کی کوئی آفت پاس بھی نہیں آئے گی ہر طرح چین و آرام سے صحیح و سلامت رہیں گے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد اور ترمذی میں معاویہ بن عبیدہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر جنتی کے گھر میں پانی دودھ شہد اور شراب کی نہریں جاری ہوں گی 1 ؎۔ انس بن مالک ؓ قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ جنت کی نہروں کے کنارے نہیں ہیں ہموار زمین پر وہ نہریں ہیں تاکہ جنتی لوگوں کو نہر کے اندر کی چیز لینے میں کچھ دشواری نہ ہو 2 ؎۔ جنت کی نہروں کی زیادہ تفصیل سورت محمد میں آوے گی۔ صحیح بخاری ومسلم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہوجاویں گے تو اللہ کے فرشتے ان کو صحت و سلامتی سے ہمیشہ جنت میں رہنے کی خوشخبری سنا دیویں گے 3 ؎۔ حدیث کا یہ ٹکڑا گویا خالدین فیھا کی تفسیر ہے صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جنت میں جانے کا حکم نہ دے گا فقط عملوں کے سبب سے کوئی جنت کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ یہ حدیثیں باذن ربھم کی گویا تفسیر ہیں۔ دنیا میں سلام علیک کا کرنا ایک سلامتی کی دعا ہے۔ جنت میں ہمیشہ سلامتی سے رہنے کے باب میں عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے اس لئے جنت کا آپس کا سلام اس ہمیشہ کی سلامتی کی مبارکباد کا ہوگا۔ 1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 49 ج 6 تفسیر سورت محمد، جامع ترمذی شریف ص 80 ج 2 باب ماجاء فی صفتہ انہارالجنۃ مطبوعہ تفیر میں تھا۔ جامع ترمذی وغیرہ کی طرف مراجعت سے تصحیح کردی گئی۔ (ع۔ ر) ۔ 2 ؎ حادی الارواح الی بلاد الافراح ص۔ 13 طبع مصر مکتبہ الازہر 1938 ئ۔ 3 ؎ صحیح مسلم ص 376 ج 2 باب لن یدخل احد الجنۃ بعمل الخ۔