14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 14:24–26

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (اور ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں۔

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو اور خدا لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے اسکو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں۔

24۔ 26۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے مومنوں اور کافروں کی ایک ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ جیسے کوئی پاکیزہ درخت ہے کہ اس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں اوپر کو پھیلی ہوئی ہوں اور ہمیشہ اس میں پھل لگتے ہوں اسی طرح خدا کا کلمہ پاک لا الہ الا اللہ ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل میں مضبوطی سے جگہ پکڑے ہوئے ہوتی ہے اور اس کے عمل شاخوں کی طرح آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ اس کو قیامت کے دن معلوم ہوگا۔ اور کفر و گمراہی کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بےفیض درخت جس کی جڑ بالکل ہی مضبوط نہ ہو زمین کے اوپر ہی اوپر پھیلی ہوئی ہو اس کو کسی طرح قیام نہیں ذرا سی ٹھیس میں اپنی جگہ سے اکھڑ جاتا ہے۔ اسی طرح کفار کے غلط عقیدہ کی حالت ہے کہ اس کو وہ کسی مضبوط دلیل سے دنیا میں ثابت نہیں کرسکتے اس لئے عقبیٰ میں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا کیوں کہ اس کی جڑ بالکل بےثبات ہے۔ شجر طیبہ سے مفسرین نے کھجور کا درخت مراد لیا ہے بخاری میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز حضرت ﷺ ہم لوگوں سے پوچھنے لگے کہ وہ کونسا درخت ہے جو مرد مسلمان کی طرح ہے جس کے پتے نہ جاڑے میں جھڑتے ہیں نہ گرمی میں اور اس میں ہمیشہ پھل آتا رہتا ہے۔ ابن عمر ؓ نے چاہا کہ میں کہہ دوں کہ کھجور کا درخت ہے مگر وہاں حضرت ابوبکر ؓ و حضرت عمر ؓ وغیرہ بھی بیٹھے تھے اور بالکل خاموش تھے اس لئے مناسب نہ سمجھا کہ میں بچہ ہو کر ان بزرگوں کے سامنے بولوں اور دخل دوں جب کسی نے کچھ جواب نہ دیا تو حضرت نے خود فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے جب سب لوگ وہاں سے اٹھ کر چلے تو ابن عمر ؓ نے اپنے والد حضرت عمر ؓ سے رستے میں کہا کہ واللہ میرے جی میں آئی تھی کہ کہہ دوں کھجور کا درخت ہے حضرت عمر ؓ نے کہا پھر تو نے کیوں نہیں کہا ابن عمر ؓ نے جواب دیا کہ آپ لوگوں کو چپ دیکھ کر میں نے زبان کھولنی مناسب نہ جانی حضرت عمر ؓ کہنے لگے اگر تو کہہ دیتا تو میں نہایت خوش 1 ؎ ہوتا۔ اور شجر خبیثہ کی تفسیر مفسروں نے یہ بیان کی ہے کہ یہ ایک درخت ہے جس کو اندرائن کہتے ہیں اس کا پھل نہایت کڑوا زہر ہوتا ہے اور جڑ بھی زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہے آسانی سے اکھڑ آتی ہے۔ ترمذی میں انس بن مالک ؓ کی مرفوع اور موقوف روایتیں ہیں ان میں بھی شجر خبیثہ کی تفسیر اندرائن کے درخت کو ٹھہرایا گیا 2 ؎ ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیتوں میں نیک و بد لوگوں کا عقبیٰ کا حال بیان فرما کر ان آیتوں میں نیکوں کی مشابہت کھجور کے درخت سے اور بد لوگوں کی مشابہت اندرائن کے درخت سے دی گئی ہے جس مشابہت کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کھجور کا پھل خشک و تر ہمیشہ کام میں آتا ہے اسی طرح نیک لوگ عقبیٰ میں ہمیشہ اپنے عقیدہ اور عمل کا پھل پاویں گے اور جس طرح اندرائن کا درخت کڑوا اور بےفیض ہے یہی حال نافرمان لوگوں کے عقیدہ اور عمل کا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 181 ج 2 باب قولہ کشجرۃ طیبۃ اصلہا ثابت الخ۔ 2 ؎ جامع ترمذی ص 40 2 ج 2 تفسیر سورت ابراہیم۔
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے۔ اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

27۔ بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد و نسائی وغیرہ میں چند روایتوں سے جو تفسیر اور شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی آدمی مرجاتا ہے اور اس کو اس کے عزیز و اقارب دفن کر کے الٹے پھرنے لگتے ہیں تو ابھی یہ لوگ اس مردہ کی قبر کے ایسے پاس ہوتے ہیں کہ ان کے چلنے میں ان کے پیروں کی کھس کھساہٹ کی آواز ہوتی ہے وہ مردہ کے کان میں جاتی ہے کہ اتنے میں منکر نیکر دو فرشتے آن کر مردہ کو اٹھا کر بٹھلا دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ رب تیرا کون ہے اور دین تیرا کیا ہے اگر یہ مردہ سچا مسلمان ہے تو ان فرشتوں کی خوفناک صورت کا اثر اس مردہ کے دل پر کچھ بھی نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ثابت قدمی اور برأت اس مردہ کے دل پر آجاتی ہے اور یہ شخص فوراً ان فرشتوں کو جواب دیتا ہے کہ اللہ میرا رب ہے اور اسلام میرا دین ہے اور محمد ﷺ میرے نبی ہیں وہ فرشتے کہتے ہیں ان کا نبی ہونا تو نے کیوں کر پہچانا وہ مردہ جواب دیتا ہے کہ وہ اللہ کا کلام لائے اس کو میں نے پڑھا اور اس پر ایمان لایا اس سے مجھ کو معلوم ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں پھر وہ فرشتے اس مردہ کو دوزخ دکھا کر کہتے ہیں کہ ایک ٹھکانا تیرا یہاں بھی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے تیرا یہاں کا ٹھکانہ بدل دیا پھر اس کو اس کا وہ ٹھکانہ دکھاتے ہیں جو جنت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر کیا ہے یہ ٹھکانہ دیکھ کر وہ مردہ بہت خوش ہوتا ہے اور ان فرشتوں سے کہتا ہے ذرا مجھ کو دنیا میں جانا ملے تو میں اپنے عزیز و اقارب سے اس خوشحالی کا حال کہہ آؤں وہ فرشتے کہتے ہیں اب تو یہیں آرام سے سوجا یہاں تک کہ قیامت آوے اور اگر یہ مردہ کافر یا منافق کا ہوتا ہے تو ان فرشتوں کی خوفناک صورت دیکھ کر ڈر جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ ثابت قدمی اور جرأت اس کو عطا نہیں ہوتی اس سبب سے ایسا شخص ہائے ہائے کر کے رہ جاتا ہے اور ان فرشتوں کے سوال کا جواب کچھ نہیں دے سکتا ہے اس لئے ایسے شخص کو طرح طرح کا عذاب قبر میں ہوتا رہے گا سوائے جنات اور انسان کے اور سب چرند پرند کو اس عذاب کا حال معلوم ہے ان کو یہ عذاب نظر آتا ہے غرض ایماندار لوگوں کو منکر نکیر کے جواب دینے کے وقت قبر میں ایک ثابت قدمی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہوتی ہے جس ثابت قدمی کے سبب سے منکر نکیر کا جواب آسان ہوجاتا ہے وہ ثابت قدمی اس آیت کی شان نزول 1 ؎ ہے اور اسی ثابت قدمی کا اس آیت میں ذکر ہے تفسیر عبد الرزاق میں عبید بن عمیر کا ایک موقوف اثر ہے کہ کافروں سے منکر نکیر کا سوال قبر میں نہیں ہوتا کیونکہ وہ صریح صریح نبی اور دین اسلام کے منکر ہیں ان سے اس سوال و جواب کی کیا ضرورت ہے اگرچہ یہ عبید بن عمیر اعلی درجہ کے تابعین میں ہیں اس وجہ سے بعضے مفسروں نے اپنی تفسیر میں انہی عبید بن عمیر کے قول کے بھروسہ پر یہ لکھ دیا ہے کہ کافروں سے منکر نکیر کا سوال نہ 2 ؎ ہوگا لیکن اوپر جن صحیح حدیثوں کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں کافر سے منکر نکیر کے سوال و جواب کا صاف ذکر آچکا ہے اس لئے صحیح مذہب یہی ہے کہ کافروں سے بھی منکر نکیر کا سوال ہوگا بعضے علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ سوال منکر نکیر کا فقط روح سے ہوگا مردہ کے جسم کو اس سے کچھ تعلق نہیں ہے لیکن صحیح حدیثوں میں جو آیا ہے کہ فرشتے مردہ کو بٹھلاتے ہیں اور اگر مردہ منکر نکیر کے سوال کا جواب پورا نہ دیوے تو فرشتے اس کی گردن پر گرز مارتے ہیں جس سے مردہ اس طرح چلاتا ہے کہ سوائے جن اور انسان کے سب چرند پرند اس کے غل و شور کی آواز کو سنتے ہیں اور قبر کے بھیچنے سے پسلیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور اچھے لوگوں کی روح کو سوال و جواب کے بعد جنت میں پھرنے کی اجازت ہوتی ہے اور بدن خاک ہوجاتا ہے اور برے لوگوں کی روح عذاب۔ قبر کے صدمہ سے نکل جاتی ہے اور بدن پاش پاش ہوجاتا ہے پھر بدن کا ڈھانچہ تیار کیا جاتا ہے اور اس میں روح پھونکی جاتی ہے اور عذاب جاری ہوتا ہے ان سب باتوں سے صحیح مذہب 3 ؎ یہی ہے جس کو جمہور علمائے اہل سنت و مفسرین نے اختیار کیا ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب اور عذاب قبر میں روح و جسم دونوں کا تعلق ہے رہا یہ عقلی اعتراض کہ قبروں میں سوائے ہڈیوں کے یا خاک کے کہیں کچھ نظر نہیں آتا اس کا جواب یہ ہے کہ عالم ملکوت کی چیزوں کو تو انسان کا دیکھنا اور کنار خاص جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح کی آنکھیں دی ہیں وہی دیکھتے ہیں عام انسان تو دنیا کی بہت سی چیزوں کو بھی نہیں دیکھ سکتے خود اپنی روح اپنی اندرونی امراض کو نہیں دیکھ سکتے کہ کہاں ہیں اور کیا ہیں غرض نگاہ کے سامنے کی چیزوں کی طرح نگاہ سے غائب چیزوں پر قیاس لڑانا کوئی عقل کی بات نہیں ہے بلکہ عقل کے خلاف بات ہے آخرت کے احوال سے عقل بےبہرہ ہے وہاں کے حالات اللہ ہی جانتا ہے یا اللہ کی تعلیم سے رسول وقت نے جو کچھ بتلایا ہے وہ حق ہے۔ ایماندار نیک عمل لوگوں کو منکر نکیر کے سوال جواب کے وقت ایک ثابت قدمی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی۔ جس کا ذکر اوپر گزرا علاوہ اس ثابت قدمی کے ایک مدد ایسے لوگوں کو ان کے اعمال صالحہ بھی دیویں گے چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد بن حنبل میں اسماء ؓ حضرت عائشہ ؓ کی بہن سے اور طبرانی و صحیح ابن حبان میں ابوہریرہ ؓ سے روایتیں 4 ؎ ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ منکر نکیر ڈراؤنی صورت لے کر کافر اور منافق کے تو بالکل سر پر ہی چڑ آویں گے اور نیک عمل لوگوں کے عمل نماز روزہ حج زکوٰۃ قبر کے چاروں طرف چوکسی کریں گے اور ہر طرف سے ان ڈراؤنی صورت کے فرشتے مردہ کے پاس نہ آسکیں گے ہر مسلمان کو چاہیے کہ خالص دل سے جہاں تک ہو سکے نیک عمل بڑھانے کی پوری کوشش کرے تاکہ ایسی تنہائی اور بیکسی کے وقت ایک ایسی مضبوط اور دل اور چوکیداروں کی فوج جو فرشتوں سے بھی نہ ڈریں اس کے ساتھ ہوجاوے۔ معتبر سند سے ترمذی میں عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آخرت کے مقاموں میں سے قبر اول مقام ہے جو شخص اس مقام میں ثابت قدم رہا وہ باقی کے مقاموں میں بھی پورا اترے گا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے منکر نکیر کا جواب ثابت قدمی سے دے دیا وہ حساب و کتاب میں پل صراط سے گزرنے میں غرض عقبیٰ کے سب مقاموں میں ثابت قدم رہے 5 ؎ گا۔ یہ حدیث { وفی الاخرۃ } کی گویا تفسیر ہے۔ اب آگے ایمان دار لوگوں کے مقابلہ میں کافر اور منافقوں کا ذکر فرمایا کہ جس طرح یہ لوگ علم الٰہی کے موافق زندگی میں گمراہ رہے اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو عقبیٰ کے سب مقاموں میں ثابت قدمی سے دور رکھے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے علم ازلی کے موافق جو چاہتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 183 ج 1 باب ماجاء فی عذاب القبر و ص 682 ج 2 تفسیر سورت ابراہیم و جامع ترمذی ص 140 ج 2 تفسیر سورت ابراہیم و تفسیر الدرالمنثور ص 80 ج 4۔ 2 ؎ فتح الباری ص 706 الباری ص 706 ج 1 باب ماجاء نے عذاب القبر۔ 3 ؎ تمام تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 531۔ 538 ج 2۔ 4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 534 ج 2۔ 5 ؎ جامع ترمذی ص 55 ج 2 باب ماجاء فی ذکر الموت۔
Ayahs 14:28–31

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا ؟

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہونگے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اسکے راستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھالو آخر تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہوگا اور نہ دوستی (کام آئے گی) ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں۔

28۔ 30۔ صحیح بخاری، نسائی مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق، ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کی روایتوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش پر اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان کیا کہ اس قوم میں سے آنحضرت ﷺ کو نبی بنایا تاکہ قریش کی دین و دنیا درست ہوجاوے دنیا میں رسول کی برکت سے غیر قوموں پر فتح پاویں دین میں رسول سے راہ نجات سیکھ کر جس کے دائمی عیش میں رہیں لیکن فتح مکہ سے پہلے قریش لوگ اللہ کی اس نعمت سے خبر دار نہ ہوئے اور رسول وقت سے طرح طرح کی مخالفت کرتے رہے اور بت پرستی سے باز نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس لئے وقت مقررہ تک ان کو مہلت دی گئی پھر آخر نتیجہ یہ ہوا کہ بدر کی لڑائی میں اللہ تعالیٰ نے قریش کے اکثر ان بڑے بڑے سرداروں کو جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کی ناشکری کی تھی مسلمانوں کے ہاتھ سے غارت کرا دیا اسی باب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ ہے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ بنی امیہ میں سے بعضے لوگ تو وہ تھے کہ بدر اور احد میں مخالفت رسول کے سبب سے دنیا میں کتے کی موت مارے گئے اور آخرت میں فی النار ہوئے اور بعضے وہ جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کی قدر کی اسلام لائے رسول کی اطاعت کی انہوں نے دنیا میں بھی عیش کئے حکومت پائی خلافت پائی دین میں بھی عیش دائمی کا وعدہ اللہ نے ان سے اور ہر سچے مسلمان سے کیا ہے۔ اسی واسطے آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے جو دو فرض نماز اور زکوٰۃ تھے ان کے ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں اللہ کے وعدہ کا ظہور ہوا ہے مرتے دم تک جو اللہ کے رسول کی اطاعت میں رہے گا اور اللہ تعالیٰ نے اس وقت تک جو چیز فرض ٹھہرائی ہے اس کی ادائیگی میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کرے گا اس سے آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ ایسا ہی پورا کرے گا جس طرح اس نے دنیا میں اپنا وعدہ سب کی آنکھوں کے سامنے پورا کیا ہے۔ صحیح روایتوں کے حوالہ سے اوپر گزر چکا 2 ؎ ہے کہ پہلے پہل ایک شخص عمرو بن لحی نے ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی پھر اس کے بعد قریش کے سرداروں میں ابو جہل وغیرہ ایسے لوگ تھے جو خود بھی عمرو بن لحی کی رسموں کے پابند تھے اور دوسروں کو بھی اسی کی رغبت دلاتے تھے۔ مثلاً مستدرک حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ولید بن مغیرہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر کچھ نرم دل ہوگیا تھا مگر ابو جہل نے پھر اس کو 3 ؎ بہکادیا حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں ایسے ہی لوگوں کو قوم کے بہکانے والے اور قوم کے تباہ کرنے والے فرمایا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن ایسے لوگوں پر دوہرا عذاب ہوگا خود بہکنے کا جدا اور دوسروں کے بہکانے کا 4 ؎ جدا اس واسطے ایسے لوگوں کو برے ٹھکانے کے لوگ فرمایا۔ بعضے مفسروں نے اس آیت اور آیت { الا خلاء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین } (43: 67) کو ملا کر یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ ایک آیت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن مطلق دوستی نہ ہوگی اور دوسری آیت سے معلوم ہوتا کہ کچھ متقی لوگوں میں دوستی ہوگی جواب اس شبہ کا یہ ہے کہ قیامت کے حالات کئی طرح کے ہوں گے چناچہ نامہ اعمال تقسیم ہونے اور حساب و کتاب کے ہوجانے سے پہلے تو لوگ اس طرح کے بد حواس ہوں گے کہ آپس میں میل جول اور دوستی تو درکنار ایک کو دوسرے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا موقع بھی نہ رہے گا چناچہ بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ میں حضرت عائشہ ؓ کی اور طبرانی میں حضرت ام سلمہ ؓ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے لوگوں کے ننگے قبروں سے اٹھنے کا ذکر کیا تو حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا کہ بڑا افسوس ہے سب مرد ننگی عورتوں کو دیکھیں گے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس وقت مردوں کو عورتوں کے اور عورتوں کے مردوں کے دیکھنے کا ہوش نامہ اعمال اور حساب کے خوف سے کہاں 5 ؎ ہوگا پھر حضرت ابوسعید خدری ؓ کی صحیح بخاری ومسلم کی روایت میں آپ نے فرمایا ہے کہ متقی لوگ جب جنت میں داخل ہونے کی اجازت حساب و کتاب سے فارغ ہوجانے کے بعد پاویں گے تو اپنے بھائی گنہگار مسلمانوں کی نجات کے لئے اللہ تعالیٰ سے ایسے جھگڑیں گے کہ وہ جھگڑا دیکھنے کے قابل ہوگا اس لئے دونوں آیتوں میں مختلف وقتوں کا حال ہے۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے اہل مکہ میں سے جو لوگ راہ راست پر نہیں آتے ان کو تم ان کی حالت پر چھوڑ دو اللہ کے علم ازلی میں جو انجام ان کا ٹھہرا ہے وقت مقررہ پر وہ خود ظہور میں آجاوے گا لیکن جو لوگ تم کو سچا رسول اور قرآن کو اللہ کا کلام مان چکے ہیں ان کو نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کر دو اور ان کو یہ سمجھا دو کہ یہاں دنیا میں تو فرض اور نفل صدقہ خیرات میں تھوڑا سا مال خرچ کرنے سے ایک کے بدلہ میں سات سو تک کمانے کی تجارت کا موقع حاصل ہے جس سے نیکی کا پلڑا بھاری ہو کر آدمی کی نجات قیامت کے دن ہوسکتی ہے لیکن خاص اس دن عذاب الٰہی سے چھٹکارہ ہوجانے کے بدلہ میں کوئی شخص تمام دنیا کا مال و متاع بھی دینا چاہے گا تو چھٹکارہ نہ ہو سکے گا اور اس دن کوئی دوست بھی ایسا نظر نہیں آنے کا جو اللہ کی مرضی کے برخلاف سفارش کر کے کسی کو چھٹکارہ کرا دیوے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی کے موافق جو باتیں انسان پر فرض ٹھہرا دی ہیں خالص دل سے ان کو پورے طور پر ادا کرنے کی کوشش ہر ایمان دار شخص پر لازم ہے کہ قیامت کے دن یہی نجات کی صورت ہے صحیح قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہی ہے کہ انہوں نے { ینفقوا مما رزقنھم } کی تفسیر زکوٰۃ کے لفظ سے کی ہے۔ اس لئے اس قول سے ان مفسروں کے مذہب کی بڑی تائید ہوتی ہے جو زکوٰۃ کے مکہ میں فرض ہونے کے قائل ہیں۔ 1 ؎ تفسیر ابن جریرص 219۔ 220 ج 12 و تیر ل ابن کثیر ص 538 ج 2 و تفسیر الدرالمنثور ص 84 ج 4۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 443 ج 4 تفسیر سورت المدثر 3 ؎ جلد ہذا ص 26۔ 4 ؎ صحیح بخاری ص 107 ج 2 باب قول اللہ وجوہ یو مئذ ناضرۃ الی ربہا فاظرۃ۔ 5 ؎ تفسیر ابن جریر ص 224 ج 13۔
Ayahs 14:32–34

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے تمہارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں ( اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اسکے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیرفرمان کیا۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا۔

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے۔

32۔ 34۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے اپنے بندوں پر جو احسان کئے ہیں ان کا حال بیان فرمایا کہ ہم نے آسمان و زمین کو تمہارے فائدہ کے لئے بنایا اور آسمان سے مینہ برسایا جس کی وجہ سے طرح طرح کے پھل درختوں میں لگتے ہیں اور ہزاروں قسم کے غلے پیدا ہوتے ہیں جس پر انسان کی زندگی کا دارو مدار ہے اور کشتیاں انسان کے قبضہ میں کردیں دریا کو بس میں کردیا تاکہ لوگ کشتیوں پر سوار ہو کر دریا کی راہ سے جہاں جی چاہے جائیں یہاں کی چیزیں وہاں اور وہاں کی یہاں لے جایا لے آیا کریں تجارت سے نفع اٹھائیں اور اس کے علاوہ دریا سے کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کریں اس کا پانی خود بھی پیویں اور اپنے جانوروں کو بھی پلائیں سورج چاند کو تمہارا محکوم بنا دیا رات دن گردش میں رہتے ہیں ان کی روشنی سے رات دن برابر فائدہ اٹھایا جاتا ہے سورج کی چال سے موسمی فصلیں گرمی جاڑہ برسات ہوا کرتی ہیں چاند کے دورہ سے مہینوں اور سال کا شمار ہوتا ہے رات اور دن بھی تمہارے ہی تابع ہیں دن کو اپنے کام دھندے کے لئے ادھر ادھر جایا کرتے ہو رات کے وقت تھکے ماندے آکر آرام کرتے ہو پھر ان نعمتوں کو بیان کر کے یہ فرمایا کہ بس اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تمہاری ہر ایک خواہش کو بھی پورا کیا اس لئے اگر خدا کی نعمتیں شمار کی جائیں تو گنتی میں نہیں آسکتیں اس قدر بےحدو بےحساب ہیں کہ انسان کو خود بھی نہیں معلوم کہ رات دن میں کیا کیا نعمت ملتی رہتی ہے اک ذرا سی بات ہے کہ انسان کے سانس کا آنا جانا ہی غور کیا جائے تو بہت بڑی نعمت ہے اگر سانس اندر نہ جائے تو دم گھٹنے لگتا ہے اور اندر جا کر پھر اوپر کو نہ آئے تو آدمی ہلاک ہوجائے یہ خدا ہی کا کام ہے روز خبر نہیں کتنی دفعہ سانس اندر باہر آیا جایا کرتا ہے۔ انسان کے سونے کے وقت بھی اس کی آمدو رفت کا سلسلہ بند نہیں ہوتا اور اس سے مردے اور زندہ میں تمیز کی جاتی ہے غرض کہ ہر سانس میں خدا کی دو نعمتیں حاصل ہوتی ہیں سانس کے اندر جانے سے زندگی کی امید بندھتی ہے اور پھر اسی سانس کے باہر آنے جانے سے طبیعت بشاش ہوجاتی ہے اگر شکر بھی کوئی کرے تو کتنا کرے گا ایک سانس میں ایک شکر کرسکتا ہے اور اتنی دیر میں نعمتیں دو حاصل ہوتی ہیں اس لئے اس کی نعمتیں شمار سے باہر ہیں اور اس کا شکر کسی طرح بھی نہیں ادا ہوسکتا اسی واسطے اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ انسان ناشکرا ہے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر کہاں تک ادا کرے گا وہ تو الٹی ناشکری کرنے لگتا ہے ان آیتوں میں مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا گیا ہے کہ جس اللہ نے ان کو ان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پر پیدا کیا کہ جس میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی تعظیم اور عبادت میں یہ مشرک لوگ دوسروں کو جو شریک کرتے ہیں تو ان کی ناشکری سے بڑھ کر دنیا میں کوئی ناشکری نہیں ہے۔ صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گزر چکی ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا شرک سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں۔ یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا تو اس کی تعظیم اور عبادت میں دوسروں کو شریک کرنا ایسا بڑا گناہ ہے کہ اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں { لظلوم کفار } اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا اپنی ہی جان پر یہ ظلم کیا کہ ایسی بڑی ناشکری کے بڑے گناہ میں قیامت کے دن پکڑے جاویں گے۔
Ayahs 14:35–36

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار اس شہر کو (لوگوں کے لئے) امن کی جگہ بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ۔

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔

35۔ 36۔ یہ دعا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جو انہوں نے حرم شریف کے امن اور اپنی اولاد کے لئے بتوں کی پرستش سے بچنے کو کی تھی اللہ پاک نے بطور حجت کے اس کو ذکر کیا کہ جب مکہ معظمہ کا شہر بسایا گیا اور خانہ کعبہ بنا اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) نے جن کے سبب سے یہ شہر آباد ہوا یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ تو شہر کو امن میں اور ویران ہونے سے محفوظ رکھیو سورت بقرہ میں بھی یہ دعا گزر چکی 1 ؎ ہے۔ مگر اس میں اور اس دعا میں یہ فرق ہے کہ وہاں کی دعا کعبہ کے تیار ہونے سے پہلے کی تھی۔ اس لئے وہاں یہ دعا کی تھی کہ اس کو آباد کرنا اور امن میں رکھنا اور یہاں تیاری کے بعد کی دعا ہے یہاں صرف امن مقصود ہے اکثر مفسر کہتے ہیں کہ یہ دعا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قبول ہوئی حرم کے اندر کسی کا خون نہیں ہوتا شکار تک نہیں کیا جاتا اور نہ کسی پر ظلم ہوتا ہے پرندے بھی حرم کے اندر آکر بےخوف ہوجاتے ہیں کعبہ کی امن کی دعا کے ساتھ ہی اس بات کی بھی دعا کی تھی کہ اے خدا میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچانا ان بتوں کی وجہ سے بہترے آدمی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں اور جو میری پیروی کرے گا وہ تو میرے گروہ میں ہے اور جو میرے طریقہ پر نہیں ہے اس کا تو مختار ہے تو غفور الرحیم ہے تو جیسا مناسب سمجھے اس کے حق میں ویسا کر چاہے بخش دے چاہے نہ بخش۔ جس زمانہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) کو مکہ کے میدان میں چھوڑا تھا اس وقت اس میدان کے گردونواح میں بت پرستی کا بڑا زور تھا اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ اندیشہ ہوا کہ اولاد اسمعیل میں کہیں بت پرستی کی آفت نہ پھیل جاوے اس اندیشہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا مانگی۔ اگرچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ معلوم تھا کہ انبیاء شرک سے معصوم ہیں لیکن بت پرستی سے نفرت اور بیزاری کے جوش میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو بھی اس دعا میں شریک کرلیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کے اثر سے اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد چند پشتوں تک بت پرستی کی آفت سے محفوظ رہی پھر آخر ابراہیم (علیہ السلام) کے مٹ جانے کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کے اثر کا ظہور ہوا جو انہوں نے اولاد اسماعیل (علیہ السلام) میں سے نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کے لئے کی تھی جس کا ذکر سورت بقر میں گزر چکا۔ اس دعا کا اثر ایسا پائدار ہوا کہ مکہ تو مکہ جزیرۃ العرب سے بت پرستی ایسی مٹ گئی کہ اب قیامت تک وہاں اس کے دوبارہ آنے کا خوف باقی نہ رہا۔ چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر بن عبد اللہ ؓ کی روایت سورت بقرہ میں گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جزیرہ عرب کی بت پرستی سے شیطان اب ناامید ہوگیا معتبر سند سے مسند امام احمد میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ایک اور روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد شیطان نے اپنے شیاطینوں کو جمع کیا اور ان سے رو رو کر یہ کہا کہ بت پرستی سے تو اب نا امیدی ہوگئی اس لئے امت محمدیہ کو اور ہر طرح بہکانے کی کوشش کی 3 ؎ جاوے۔ 1 ؎ تفسیر ہذا جلد اول 120۔ 2 ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص 120 3 ؎ تیقح الرواۃ ص 21 ج 1 باب فی الوسوستہ
Ayah 14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے پروردگار ! میں نے اپنی اولاد میدان (مکّہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لا بسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ تو لوگوں کے دلوں کے ایسا کردیں کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میووں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں۔

37۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول معتبر سند سے تفسیر ابن جریر میں یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں یہ کہا کہ یا اللہ دنیا کی مخلوقات میں سے کچھ لوگوں کے دل مکہ کی طرف مائل فرما دے اگر بجائے اس کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے منہ سے یہ نکل جاتا کہ یا اللہ دنیا کے لوگوں کے دل مکہ کی طرف مائل فرما دے تو کسی قوم کا کوئی آدمی ایسا دنیا میں باقی نہ رہتا جس کے دل میں مکہ کا شوق پیدا نہ ہوجاتا 1 ؎۔ اس دعا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے حق میں بت پرستی کے بچنے کی جو دعا کی تھی یہ دعا چند پشت کے حق میں قبول ہوئی پھر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کے سلسلہ میں قریش پیدا ہوئے اور ان میں بت پرستی پھیلی جس بت پرستی کی اصلاح نبی آخر الزمان ﷺ کے زمانہ میں ہوئی۔ علمائے مفسرین نے لکھا ہے کہ جس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو مکہ کے جنگل میں چھوڑا اس وقت تک اگرچہ بیت اللہ نہیں بنا تھا اور بیت المعمور حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے وقت آسمان پر اٹھ چکا تھا لیکن الہام کے ذریعہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ اس میدان میں اللہ کا گھر بنے گا اس واسطے انہوں نے اپنی اس دعا میں یہ کہا کہ یا اللہ تیرے ادب والے گھر کے پاس کے جنگل میں اپنے اہل و عیال کو چھوڑتا ہوں اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) اگرچہ اس دعا کے بہت روز کے بعد پیدا ہوئے ہیں لیکن حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کے شکریہ کی دعا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کی تھی اس کا ذکر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرما دیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سب دعا کا ذکر ایک جگہ ہوجاوے اور مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کی ممانعت جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہوئی اس سے پہلے مشرک ماں باپ کے حق میں یہ مفغرت کی دعا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کی تھی۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو نبی اسماعیل کہتے ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں بنی اسماعیل کے لئے یہ تمنا ظاہر کی تھی کہ مکہ کے جنگل میں شہر آباد ہوجاوے گا تو یہ لوگ یہاں اللہ کی عبادت کریں گے ملت ابراہیمی کے موافق نماز پڑھیں گے لیکن یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی تمنا کے برخلاف کام کر رہے ہیں اللہ کے گھر میں انہوں نے بت رکھ چھوڑے ہیں اور تمام مکہ میں انہوں نے بت پرستی پھیلا رکھی ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایتیں گزر چکی 2 ؎ ہیں کہ فتح مکہ کے وقت تین سو ساٹھ بت بیت اللہ کے اندر تھے جن کو آنحضرت ﷺ نے لکڑیاں مار مار کر گرایا۔ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عباس ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ ان مورتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی مورتیں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں مشرکوں نے فال دیکھنے کے تیر دے رکھے تھے۔ اس کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ ان مشرکوں کو غارت کرے کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) نے کبھی تیروں سے فال نہیں دیکھی 3 ؎ حاصل کلام یہ ہے کہ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ بنی اسماعیل کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں تمنا کیا تھی اور بنی اسماعیل کہلا کر مشرکین مکہ نے اس تمنا کو کیا خاک میں ملایا۔ تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں قتادہ کا قول یہی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے میں بیت المعمور زمین پر کعبہ کی جگہ رکھا گیا اور حضرت نوح کے طوفان کے زمانے میں پھر آسمان پر اٹھ گیا 4 ؎ زیادہ تفصیل اس کی سورت حج میں آوے گی بیت المعمور ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے جس کا ذکر تفصیل سے سورت والطور میں آوے گا۔ 1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 234 ج 13۔ 2 ؎ جلد ہذا ص 235۔ 2254۔ 3 ؎ صحیح بخاری ص 614 ج 2 باب ابن رکز النبی ﷺ الرایۃ یوم الفتح۔ 4 ؎ تفسیر ابن جریر ص 541 ج 1۔
Ayahs 14:38–40

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے۔ اور خدا سے کوئی چیز مخفی نہیں (نہ) زمین میں نہ آسمان میں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بیشک میرا پروردگار دعا سننے والا ہے۔

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے پروردگار مجھ کو ایسی (توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں۔ اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما۔

38۔ 41۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کرنے کے بعد یہ بات کہی کہ اے رب تو خوب جانتا ہے کہ میری غرض اس دعا سے کیا ہے میرا مقصد یہی ہے کہ تیری خوشنودی اور رضا مندی ہو تجھ پر کوئی بات ظاہر اور پوشیدہ چھپی نہیں رہتی تجھے سب باتوں کا علم ہے تجھ پر زمین و آسمان کہیں کی کوئی شی پوشیدہ نہیں ہے اس کے بعد خدا کا شکر کیا کہ بڑہاپے میں جب کہ اولاد ہونے کی کوئی امید نہیں ہوتی تو نے اسماعیل و اسحاق دو صاحبزادے مجھ کو عطا کئے اور میری دعا کو قبول کرلیا پھر اپنے واسطے اور اولاد کے واسطے دعا کی کہ مجھ کو اور میری اولاد کو نماز پر قائم رکھنا اور اپنے لئے اور ماں باپ کے لئے اور سارے مومنوں کے لئے قیامت کے روز مغفرت ہونے کی دعا کی بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ دعا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت کی تھی جب تک یہ اپنے ماں باپ کے کفر کے حال پر مر نے سے واقف نہ تھے۔ مکہ کے بسنے اور بیت اللہ کے بنانے سے پہلے کی اس دعاء کو ابراہیم نے { ربنا انک تعلم ما نخفی و ما نعلن } کہہ کر مختصر کردیا لیکن بیت اللہ کے بنانے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے دل کی اس چھپی ہوئی بات کو ظاہر کیا اور بنی اسماعیل میں نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کی وہ دعا کی جس کا ذکر سورت بقرہ میں گزر چکا ہے اور مسند امام احمد ابن ماجہ اور بیہقی کے حوالہ سے عرباض بن ساریہ ؓ کی معتبر حدیث بھی گزر چکی 1 ؎ ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے اگرچہ میرا نام لوح محفوظ میں خاتم النبین لکھا ہوا تھا لیکن انبیاء کے گروہ میں سے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں پہلے پہل ابراہیم (علیہ السلام) کو آخری زمانہ میں میرے پیدا ہونے کا حال معلوم ہوا حاصل کلام یہ ہے کہ سورت بقرہ کی آیت { ربنا وابعث فیہم رسولا } [2: 129] اور عرباض بن ساریہ ؓ کی یہ حدیث { ربنا انک تعلم ما نخفی } کی گویا تفسیر ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے بسنے سے پہلے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اسماعیل (علیہ السلام) کو جنگل میں چھوڑا تو ان کے دل پر اس کا صدمہ تھا اور اس رنج اور صدمہ کی ادھیڑ پن میں ان کے دل میں یہ بات تھی کہ جس جنگل میں حضرت ہاجرہ اور دودھ پیتے بچے اسماعیل (علیہ السلام) کو چھوڑ رہے ہیں یہاں ایک شہر آباد ہوجاوے اور اسماعیل (علیہ السلام) کی جدائی کا جو رنج ہے اس کا بدلہ ہوجاوے۔ { یوم یقوم الحساب } سے قیامت کا دن مقصود ہے کہ اس دن ساری خلقت حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑی ہوگی۔ ترمذی مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے ابی برزہ ؓ اور معاذ بن جبل ؓ کی معتبر روایتیں ایک جگہ گزر چکی 2 ؎ ہیں۔ کہ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا (1) تمام عمر کن کاموں میں گزاری (2) جوانی میں کیا کیا (3) روپیہ پیسہ کیوں کر کمایا اور کہاں خرچ کیا (4) دین کی کوئی بات سیکھی تو اس پر کیا عمل کیا یہ حدیثیں { یوم یقوم الحساب } کی گویا تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوجاتا ہے کہ قیامت کے دن حساب کیوں کر ہوگا۔ 1 ؎ جلد ہذا ص 259
Ayah 14:41

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجئیو۔

41۔ شریعت میں ظلم کا لفظ شرک اور کبیرہ گناہ دونوں معنوں میں بولا جاتا ہے چناچہ صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسند امام احمد ترمذی اور نسائی میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب سورت انعام کی آیت { الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم } [6: 82] نازل ہوئی تو صحابہ کرام کو بڑا اندیشہ ہوا اور صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ حضرت ہم میں ایسا کون شخص ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہیں کرتا اور طرح طرح کے گناہ نہیں کرتا آپ نے فرمایا اس آیت میں ظلم کے معنے شرک کے ہیں لیکن صحابہ نے ظلم کے معنے گناہ کے جو سمجھے تھے اس کی ایک طرح سے آپ نے تائید فرمائی کہ سورت لقمان کی آیت { ان الشرک لظلم عظیم } [31: 13] پڑھ کر صحابہ کو 1 ؎ سنائی جس سے معلوم ہوا کہ شرک بڑا ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے کھانے پینے اور سب ضروریات کی چیزوں کو پیدا کیا اور انسان ظالم یہ ظلم کرتا ہے کہ بغیر کسی استحقاق کے غیروں کو اللہ کی عبادت میں شریک کرتا ہے۔ عبادت نام ہے نہایت درجہ کی تعظیم کرنا اس سے بڑھ کر کونسا ظلم دنیا میں ہوسکتا ہے اس طرح اپنے پیدا کرنے والے کے خلاف مرضی کوئی کام کرنا یہ بھی ظلم تو ہے مگر پہلے ظلم سے چھوٹا ہے اس واسطے شریعت میں یہ حکم رکھا گیا ہے کہ شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتا اور اگر بغیر توبہ کے ایسا کوئی شخص مرجاوے جو مشرک تو نہ ہو لیکن کبیرہ گناہوں کا گنہگار ہو تو ایسے شخص کے گناہوں کے معانی کی امید شریعت میں اللہ کی ذات سے رکھی گئی ہے غرض اوپر کی صحیح حدیثوں کو ان آیتوں کی تفسیر قرار دینے سے حاصل معنے ان آیتوں کے یہ ہیں کہ مشرک کے شرک اور گنہگاروں کے گناہ کی سزا فوراً دنیا میں جو اللہ تعالیٰ نہیں دیتا اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے کاموں سے بیخبر ہے بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ سزا کا ایک دن اللہ نے ٹھہرا رکھا ہے اس دن جو ہونا ہے وہ ہوجاوے گا اس لئے اس دن کے آنے سے پہلے اے رسول اللہ ﷺ کے ذرا لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ کہ اس دن غافل لوگ دنیا کی فرصت اور فراغت کے وقت کو بہت یاد کریں گے اور وہ یاد کرنا ان کے کچھ کام نہ آوے گا جو شرک یا گنہگاری کے سبب سے حق اللہ میں فتور ڈال کر اپنے نفس پر ظلم کرتے اور اس ظلم کے سبب سے اپنے آپ کو عذاب الٰہی کا سزاوار ٹھہراتے ہیں یہ تو ان کا حال ہوا اب بعضے وہ لوگ ہیں جو شرک سے بچنے اور نماز روزہ کے ادا کرنے میں حق اللہ کے تو پابند ہیں مگر مخلوق الٰہی کو طرح طرح کی ایذا دیتے ہیں یہ حق العباد کا ظلم کہلاتا ہے اس طرح کے ظلم کی سزا کا ذکر جو صحیح حدیثوں میں ہے اس کے پڑھنے سے بڑا افسوس ہوتا ہے کہ اس طرح کے ظالم لوگ تمام عمر عقبیٰ کے لئے نیکیاں کمائیں گے اور پھر عقبیٰ میں خالی ہاتھ رہ جاویں گے۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز صحابہ ؓ سے پوچھا کہ مفلس کس شخص کو کہتے ہیں صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت ہم لوگ تو مفلس اس شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس روپیہ پیسہ نہ ہو آپ نے فرمایا اصل مفلس وہ شخص ہے کہ جس کے نامہ اعمال میں قیامت کے دن نماز روزہ سب کچھ ہوگا لیکن اس شخص نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی کسی پر بہتان لگایا ہوگا کسی کو جان سے مارا ہوگا کسی کا مال دبا لیا ہوگا اس لئے اس کی نیکیوں کا ثواب مظلوموں کو مل جاوے گا اور نیکیوں کا ثواب کم رہے گا تو مظلوم لوگوں کی بدیاں اس کے ذمہ پڑجاویں گی اور یہ شخص خالی ہاتھ دوزخ میں جا پڑے گا۔ 2 ؎ 1 ؎ صحیح بخاری ص 666، 704 ج کتاب التفسیر و تفسیر ابن کثیر ص 152 ج 2۔ 2 ؎ الترغیب ص 30 ج 2 فصل نے ذکر الحساب۔
Ayahs 14:42–43

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور (مومنو ! ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے۔ ان کی نگاہیں انکی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور انکے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہونگے۔

42۔ 43۔ اللہ پاک نے اس آیت میں حضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ تم یہ گمان نہ کرو خدا ظالموں کے عمل سے غافل ہے بلکہ اللہ نے ان کو اس دن کے واسطے مہلت دے رکھی ہے جب قیامت کے دن آسمان کے دروازے کھول کر فرشتے اترنے لگیں گے اور لوگوں پر عذاب کریں گے اس وقت ان کی آنکھیں ادھر ہی کو لگ جاویں گی اور جب اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونکیں گے تو قبروں سے نکل نکل کر جلدی جلدی میدان محشر کی طرف بھاگنے لگیں گے اور نظر نیچی نہ کریں گے اور نہ پلک جھپکائیں گے ان کی دل کی حالت خوف و دہشت کی وجہ سے اس وقت ایسی ہوگی جیسے کوئی چیز اڑی جاتی ہے مطلب یہ ہے کہ دہشت کے سبب سے دل بےٹھکانے ہوجاوے گا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد اور اوسط طبرانی میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگرچہ موت انسان کے لئے ایک سخت چیز ہے لیکن موت کے بعد جو باتیں پیش آنے والی ہیں وہ موت سے زیادہ سخت ہیں۔ 1 ؎ صحیح ابن حبان مسند ابی یعلی اور طبرانی کبیر میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کی صحیح روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ کی گرمی سورج کی گرمی اور پسینہ کی تکلیف محشر کے میدان میں ایسی ہوگی کہ اس کے سبب سے لوگ گھبرا کر یہ کہویں گے کہ اس سے تو ہم دوزخ میں بھیج دئیے جاویں 2 ؎ تو اچھا ہے۔ یہ حدیثیں اور اس قسم کی اور صحیح حدیثیں آیت کے ساتھ ملائی جاویں تو حشر کے دن لوگوں کی آنکھ کا حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جانا اور ان کے دلوں کا بےٹھکانے ہوجانا اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ 1 ؎ صححا الزاوائد ص 334 ج۔ 1 باب فی الموت وفی مایکون بعد الموت۔ 2 ؎ الترغیب ص 295 ج 2 فصل نے الحشر وغیرہ مجمع الزوائد ص 336 ج۔ 1 باب ماجاء فی ہول المطلع و شدۃ یوم القیامۃ۔
Ayahs 14:44–45

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا۔ تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر تاکہ ہم تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور تیرے پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے ؟ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا۔

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کیلئے مثالیں بھی بیان کردی تھیں۔

44۔ 46۔ اس آیت میں حضرت ﷺ کو حکم ہوا ہے کہ تم لوگوں کو یہ ڈر سنا دو کہ قیامت میں جب عذاب ہوگا اس وقت یہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ہے اور راہ حق پر نہیں آئے یہ کہیں گے کہ اے خدا اک ذرا ہمیں مہلت دے دے تو ہم تیرے حکم کو قبول کرلیں اور رسول پر ایمان لے آئیں۔ اس کے جواب میں اللہ پاک ان سے کہے گا کہ کیا تم نے دنیا میں قسم کھا کر یہ بات نہیں کہی تھی کہ آخرت کوئی چیز نہیں ہے مرنے کے بعد پھر زندہ ہونا کیسا ہمیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کوئی جزا و سزا نہیں ہے اور کیا تم ایسی سرزمین میں نہیں رہتے تھے جہاں تم سے پہلے منکرین حشر گزر چکے تھے اور انہیں باتوں پر ان کا انجام کیا ہوا کس طرح ان پر عذاب بھیجے اور کیسی بےبسی کی حالت میں ان کو ہلاک کیا اور تم لوگوں کو مثالیں دے دے کر سمجھایا گیا مگر تم لوگوں نے کچھ غور وفکر نہ کیا اور نہ عبرت حاصل کی اور ان لوگوں نے بہتیرے مکر کئے کہ کسی طرح حق بات ضعیف ہوجائے اور وہ مکر ان کے اگرچہ ایسے تھے کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے اکھڑ جاتا مگر خدا اپنے دین کا حامی رہا اور کچھ ان کی پیش نہ چلی۔ معتبر سند سے صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں انس بن مالک ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا گناہ کے بعد جس شخص کے دل میں شرمندگی ہو اس شخص کی وہی توبہ ہے ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے دنیا اور عقبیٰ کی حالت میں جو فرق ہے وہ اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ دنیا میں فقط دل کی ندامت توبہ ہے اور عقبیٰ میں نافرمان لوگ دل کی ندامت کا زبان سے بھی اقرار کر کے دنیا میں دوبارہ آنے اور فرمانبردار بن کر عمر گزارنے کی خواہش کریں گے تو وہ خواہش منظور نہ ہوگی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ قیامت کے دن سے ان لوگوں کو دنیا ہی میں جو کچھ ڈرانا ہے ڈرادیا جاوے ورنہ قیامت کے دن کوئی ڈر کوئی ندامت کار آمد نہیں ہے۔ سورت النحل میں آوے گا کہ مشرکین مکہ قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ نہ ہوں گے اسی کو فرمایا تم لوگ تو اس بات پر قسمیں کھاتے تھے کہ دنیا کی زندگی کی حالت ٹل کر اور کوئی دوسری حالت بدلنے والی نہیں پھر اب دوبارہ زندہ ہونے کو تم سے ٹالا جاوے تو ٹال دو ۔ ملک شام کے سفر میں مشرکین مکہ کا گزر پہلی امتوں کی اجڑی ہوئی بستیوں پر ہوا کرتا تھا اسی کو فرمایا کہ ان بستیوں کا حال دیکھ کر تم لوگوں نے عبرت کیوں نہیں حاصل کی اور مثال کے طور پر ان پہلی امتوں کا حال قرآن میں سمجھایا گیا تو اس کو تم نے اس کان سے سن کر اس کان سے کیوں اڑا دیا نافرمان لوگوں کے مکرو فریب یہی تھے۔ مثلاً جیسے فرعون نے جادو گروں کا مقابلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کرایا جس کا ذکر قرآن شریف میں کئی جگہ ہے یا مثلاً یہی تھے مثلاً جیسے فرعون نے جادوگروں کا مقابلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کرایا جس کا ذکر قرآن شریف میں کئی جگہ ہے یا مثلاً جیسے مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ کے شہید کر ڈالنے کا قصد کیا جس کا ذکر سورت انفال میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 14:46–47

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور انکی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں۔ گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے۔ اسکے خلاف کریگا۔ بیشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے۔

47۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اپنے رسول برحق کو خطاب کر کے مسلمانوں کو یہ سمجھایا ہے کہ یہ گمان نہ کرو کہ اللہ نے جو تم سے وعدہ کیا ہے کہ تمہاری مدد کروں گا اور کفار پر تمہیں غلبہ دوں گا دین حق کو پھیلا دوں گا تو وہ اس کو پورا نہیں کرے گا کیونکہ خدا کسی سے جھوٹا وعدہ نہیں کرتا ہے پھر وہ اپنے رسول سے کیوں کر جھوٹا وعدہ کرے گا غرض کہ اللہ نے مسلمانوں کی یہ تسکین و تسلی کی ہے کہ تم اطمینان رکھو جو تم سے وعدہ کیا ہے وہ پورا کروں گا اور ان کافروں کے ساتھ بھی نہایت انصاف سے فیصلہ کردوں گا کیوں کہ خدا سب پر غالب ہے اس سے بڑھ کر کوئی بدلہ لینے والا نہیں ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں دو جگہ { ولا تحسبن اللہ } جو فرمایا ہے اس سے ان مسلمانوں کی تسکین مقصود ہے جو مشرکوں کے ستائے سے گھبرا کر آنحضرت ﷺ سے اس کی شکایت اور مشرکوں کے حق میں بددعا کرنے کی آپ سے خواہش کرتے تھے چناچہ صحیح بخاری میں خباب ابن الارت کی حدیث ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے مشرکوں کے ستانے کی شکایت اور مشرکوں کے حق میں بددعا کرنے کی خواہش کی تو آپ نے فرمایا گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ اسلام کی مدد کے وعدہ کو ضرور پورا کرے گا۔ مشرک لوگ جس قدر تم کمزور مسلمانوں کو ستاتے ہیں یہ تو کچھ بھی نہیں ہے تم سے پہلے نیک لوگوں کو مخالفوں کے ہاتھ سے اس سے بھی زیادہ تکلیفیں پہنچی ہیں۔ یہاں تک کہ بعضے نیک لوگ پہلے زمانے میں آروں سے چیرے 1 ؎ گئے ہیں غرض { ولا تحسین اللہ } کی صحیح حدیث گویا تفسیر ہے جس سے رسول مقبول کو اس خطاب سے یاد فرمانے اور مخاطب ٹھہرانے کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک 2 ؎ جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو بالکل ہلاک کردیتا ہے یہ حدیث { ان اللہ عزیز ذوانتقام } کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا اس نے مکہ کے نافرمان سر کشوں کو مہلت دی اور پھر بدر کی لڑائی کے وقت جب پکڑا تو ان سرکشوں کی ساری سرکشی خاک میں مل گئی چناچہ اس کی تفصیل انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں کے حوالہ سے اوپر گزر چکی 3 ؎ ہے۔ اس کے بعد اپنی مدد سے مکہ کو فتح کرادیا جس سے باقی کے اہل مکہ اسلام کے مددگار بن گئے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 1027 ج 2 کتاب الاکراہ۔ 2 ؎ تفسر ہذا 205۔ 224۔ 235۔ 3 ؎ جلد ہذا 202۔ 208۔ 224۔
Ayah 14:48

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دئیے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ و زبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔

48۔ بعضے مفسروں نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ قیامت کے دن زمین و آسمان کی کچھ حالت بدل جاوے گی مثلاً زمین کے پہاڑ ٹیلے سب برابر کئے جا کر ایک چورس میدان کردیا جاوے گا اور آسمان کے چاند سورج تارے نکال دئیے جاویں گے یا اصل میں زمین و آسمان بدل جاویں گے۔ رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ خود صاحب وحی ﷺ نے اس اختلاف کو رفع فرمایا ہے۔ چناچہ مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ کی جو حدیث ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس آیت کو پڑھ کر پوچھا کہ جب زمین بدل جاوے گی تو اس وقت سب آدمی کہاں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس آیت کو پڑھ کر پوچھا کہ جب زمین بدل جاوے گی تو اس وقت سب آدمی کہاں جاویں گے آپ نے فرمایا سب آدمی اس وقت پل صراط پر ہوں 1 ؎ گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے آیت کا یہی مطلب قرار دیا ہے کہ اصل زمین بدل جاوے گی ورنہ اب حضرت عائشہ ؓ کو یہ جواب دیتے کہ زمین کے پہاڑ ٹیلے بدل جاویں گے اور آدمی جس طرح دنیا کے بسنے کے زمانہ میں کے چورس ٹکڑے پر بستے رہے تھے ویسے ہی قیامت کے دن رہویں گے غرض آیت کے مطلب کو خود صاحب وحی نے حل کردیا ہے۔ جو علماء اس بات کے قائل ہیں کہ زمین کی فقط حالت بدلی جاوے گی۔ خود زمین نہیں بدلی جاوے گی وہ علماء اپنے قول کی تائید میں مستدرک حاکم کی عبد اللہ بن عمرو بن العاص اور جابر بن عبد اللہ ؓ کی وہ روایتیں پیش کرتے ہیں جن میں یہ ہے کہ قیامت کے دن زمین کے ٹیلے اور پہاڑوں کو چورس کردیا جاوے گا 2 ؎۔ اول تو یہ روایتیں صحیح مسلم کی روایت کے رتبہ کو نہیں پہنچ سکتیں دوسری ان روایتوں کے صحابہ کے نام میں نیچے کے راویوں کا اختلاف ہے کوئی کسی صحابی کا نام لیتا ہے اور کوئی دوسرے کا (وبرزوا للہ الواحد القہار) اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آسمان و زمین بدلے جاویں گے اس دن یہ مشرک لوگ شرک کی جواب دہی کے لئے اس کے روبرو کھڑے ہوں گے جو اکیلا وحدہ لا شریک ہے اور اس جو ابدی میں جب یہ لوگ لا جواب ہوجاویں گے تو قہاری کی صفت کے موافق ان لوگوں کے حق میں وہ سزا تجویز کی جاوے گی جس کا ذکر آگے کی آیت میں ہے صحیح مسلم کے حوالے سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قہاری کی صفت کی تفصیل لوگوں کو معلوم ہوجاوے تو کسی شخص کے دل میں جنت کی خواہش باقی نہ رہے اور اگر اس کی رحمت کی تفصیل لوگوں کو معلوم ہوجاوے تو اس کی رحمت سے کوئی شخص ناامید نہ ہو۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی قہاری اور رحیمی دونوں صفتوں کی گویا تفسیر ہے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 543 ج 2۔ 2 ؎ الترغیب ص 260 ج 2 باب الترغیب فی الخوف۔
Ayahs 14:49–51

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور انکے من ہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی۔

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا ہر شخص کو اسکے اعمال کا بدلہ دے۔ بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔

49۔ 51۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ جب قیامت کے دن یہ آسمان و زمین نہ ہوں گے اور کل مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے کی جاوے گی تو جن لوگوں نے دنیا میں فساد مچا رکھا تھا خود بھی راہ حق سے علیحدہ رہے اور اوروں کو بھی علیحدہ رکھا تھا یہ مجرم طوق اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے آویں گے ان کا کرتہ گندھک کے تیل کا ہوگا جس میں ذرا سی آگ لگنے سے بھڑک اٹھے گی اور بجھائے نہ بجھے گی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے قطران کی یہ تفسیر کی ہے کہ ان کے کرتے پگھلے ہوئے تانبے کے ہوں گے خدا ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا جس کا عمل اچھا ہوگا تو اپنی رحمت میں شامل کرے گا اگر عمل برے ہوں گے تو ویسا بدلہ دے گا اور خدا حساب کتاب لینے میں کچھ بھی دیر نہ لگائے گا جھٹ پٹ فارغ ہوجاوے گا۔ مسند امام احمد اور صحیح مسلم میں ابو مالک اشعری ؓ کی ایک حدیث ہے کہ حضرت نے فرمایا میری امت میں چار باتیں جاہلیت کی باقی ہیں لوگ اس کو چھوڑتے نہیں ہیں حسب و نسب کا فخر کرتے ہیں، تاروں کی گردش سے مینہ طلب کرتے ہیں، مردے پر نوحہ کرتے ہیں فرمایا نوحہ کرنے والی کو ایک کرتہ گندھک کے تیل کا یا پگھلے ہوئے تانبے کا پہنایا جاوے گا 1 ؎۔ اصل میں قطران ایک تیل ہے جو کھجلی والے اونٹوں کی کھال پر لگایا جاتا ہے جس سے کھجلی جل جاتی ہے اور اونٹ کی کھال میں زخم پڑجاتا ہے اس تیل میں یہ خاصیت بھی ہے کہ آگ میں ڈالنے سے اس کی آنچ بہت تیز ہوتی ہے۔ گندھک کے تیل میں بھی یہ باتیں پائی جاتی ہیں اس لئے بعضے مفسروں نے قطران کے معنے ” گندھک “ کے تیل کے لکھے ہیں شاہ صاحب نے ترجمے میں یہی قول لیا ہے سلف میں سے جن علماء نے قطران کے معنے پگھلے ہوئے تانبے کے کئے ہیں۔ انہوں نے قطر کو الگ لفظ قرار دیا ہے اور ران کو الگ کیونکہ پگھلے ہوئے تانبے کو کہتے ہیں اور ران نہایت گرم کھولتی ہوئی چیز کو حاصل کلام یہ ہے کہ دوزخ کی آگ کا اثر اور تیزی بڑھانے کے لئے یہ چیزیں لباس کی طرح دوزخیوں کے جسم پر ملی جاویں گے۔ شرک کے کلمے زبان سے نکلتے ہیں اور دل میں شرک کا اعتقاد ہوتا ہے اس واسطے یہاں منہ کے جلنے کا اور ویل لکل میں دل کے جلنے کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔ { اذا السماء انشقت } میں آوے گا کہ جن لوگوں کے اعمال نامے سیدھے ہاتھ میں دیئے جاویں گے ان کا حساب تو سرسری طور پر آسانی سے یوں ہوجاوے گا کہ بعضوں کے گناہ معاف ہوجاویں گے اور بعضوں کے گناہ نیکیوں سے بدل دئیے جاویں گے چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عمر 2 ؎ سے اور صحیح مسلم میں ابو ذر 3 ؎ سے جو روایتیں ہیں 4 ؎ ان میں اسکا ذکر تفصیل سے ہے اس صورت میں کرید اور جانچ سے انہیں لوگوں کا حساب ہوگا جو علم الٰہی کے موافق عذاب کے قابل ٹھہریں گے اور اسی واسطے ان کے نامہ اعمال الٹے ہاتھ میں دئیے جاویں گے لیکن ان لوگوں کے سب کام اللہ کی نظر میں ہیں سب غیب کا حال اسی کو معلوم ہے اس لئے یہ کرید اور جانچ بھی جلدی طے ہوجاوے گی۔ اس جانچ کے وقت جو لوگ نامہ اعمال کو جھٹلادیں گے ان کے ہاتھ پیروں سے گناہوں کی گواہی دلوائی جا کر ان کا حساب طے ہوجاوے گا۔ چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت اس باب میں گزر چکی ہے حاصل یہ ہے کہ یہ حدیثیں اور اس قسم کی اور صحیح حدیثیں { ان اللہ سریع الحساب } کی گویا تفسیر ہیں۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 485 باب الحساب والقصاص والمیزان۔ 2 ؎ ایضاً ص 492 باب احوض والشفاعۃ۔ 3 ؎ دیکھئے فتح الباری ص 179 ج 7 شرح باب من نوقتی الحساب عنب۔ 4 ؎ صحیح مسلم ص 409 ج 2 کتاب الزھد۔
Ayah 14:52

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں۔

52۔ اس آیت میں اللہ پاک نے حضرت ﷺ کو خبر دی کہ یہ قرآن جو تم پر نازل کیا گیا ہے یہ ایک نصیحت ہے تاکہ لوگ خدا سے ڈریں اور جو نصیحت اس میں ہے اس سے معلوم کرلیں کہ سوائے اس ایک خدا کے دوسرا کوئی معبود نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی شریک ہے اس لئے کہ جو لوگ صاحب فہم ہیں عقل رکھتے ہیں ان کو اس میں غوروفکر کرنا چاہیے اور نصیحت حاصل کرنی چاہیے ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ شداد بن اوس ؓ کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ شخص ہے جو مرنے سے پہلے مرنے کے بعد کا کچھ عقبیٰ کا سامان کر لیوے اور عقل سے عاجز وہ شخص ہے جو عقبیٰ سے غافل رہ کر عقبیٰ کی بہبودی کی تمنا دل میں رکھے 1 ؎ یہ حدیث { ولیذکر اولوا الالباب } کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق جن لوگوں کو قرآن کے نصیحت کے سمجھنے کی عقل دی گئی ہے وہی قرآن کی نصیحت پر عمل کر کے اپنی عقبیٰ کو درست اور مرنے سے پہلے مرنے کے بعد کا کچھ سامان کرتے ہیں اور جو لوگ عقبیٰ کے منکر یا عقبیٰ سے غافل ہیں وہ یا تو قرآن کی نصیحت کو سنتے ہی نہیں یا اس کان سے سن کر اس کان سے اڑا دیتے ہیں۔ 1 ؎ تفسیر ہذا جلد دو ص 202۔