Ayah 13:11۔ المر۔ حروف مقطعات میں سے ہے جو متشابہات میں داخل ہیں۔ متشابہات کی تفسیر کے باب میں سلف کا طریقہ سورت بقر اور سورت آل عمران میں گزر چکا ہے جو سورت حروف مقطعات سے شروع کی جاتی ہے اس میں قرآن مجید کی عظمت کا بیان ہوتا ہے۔ اس لئے المر کے بعد اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اس سورت کی آیتیں المر اس کے سوا جو تمام قرآن کی آیتیں تم پر اتاری گئی ہیں وہ حق ہیں لیکن بہت لوگ اس کو نہیں مانتے اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اور معجزوں کے علاوہ مجھ کو قرآن شریف ہی کا ایک ایسا معجزہ دیا گیا ہے جس کے سبب سے قیامت کے دن میری امت کے نیک لوگوں کی تعداد اور امتوں کے نیک لوگوں سے زیادہ ہوگی۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو کچھ دنیا میں قیامت تک ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ 1 ؎ ( 1 ؎ صحیح بخاری ص 744 ج 2 باب کیف نزل الوحی و مشکوٰۃ ص 511 باب فضائل سید المرسلین ﷺ ۔ ) صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو لوگ علم الٰہی میں دوزخی قرار پاچکے ہیں وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کام بھی ویسے ہی کرتے ہیں۔ 2 ؎ (2 ؎ جلد ہذا ص 202۔ ) صحیح بخاری اور مسلم کے حوالے سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے۔ 3 ؎ (3 ؎ جلد ہذا ص 203) ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کی نصیحت کی تاثیر تو ایسی ہے جس کے سبب سے قیامت کے دن امت محمدیہ کے نیک لوگوں کی تعداد اور امتوں کے نیک لوگوں سے زیادہ ہوگی۔ لیکن علم الٰہی میں جو لوگ دوزخی قرار پاکر لوح محفوظ میں دوزخی لکھے جا چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت اسی طرح رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے اس لئے ایسے لوگ اپنی تمام عمر دوزخیوں کے سے کاموں میں گزارتے ہیں۔
Ayah 13:22۔ اگرچہ مجاہد اور عکرمہ اور ایک روایت میں عبد اللہ بن عباس ؓ سے بعض تفسیروں میں اس آیت کے معنے یہ بیان کئے گئے ہیں کہ قاف پہاڑ پر ایک ستون ہے اس پر اس طرح آسمان قائم ہے جس طرح ایک چوبہ ڈیرہ چوب پر قائم ہوتا ہے اور وہ ستون اہل دنیا کو نظر نہیں آتا اس لئے یہ فرمایا ہے کہ آسمان بغیر ایسے ستون کے بلند کیا جس کو تم دیکھ نہیں سکتے لیکن صحیح معنے آیت کے یہی ہیں کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ آسمان بلا ستون کے اللہ تعالیٰ نے بلند کیا ہے کیونکہ ستون ہوتا تو آخر تم کو نظر آتا غرض سورة الحج کی آیت { السمآء ان تقع علی الارض } (ص 22: 65) میں اور سورة الفاطر کی آیت { ان اللہ یمسک السموات والارض ان تزولا } (35: 41) میں اللہ تعالیٰ نے آسمان کا تھامنا اپنی ذات پاک کی طرف منسوب فرمایا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بلا کسی روک تھام کے محض اللہ کی قدرت کے آسمان تھما ہوا ہے۔ سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ آیت { ثم استوی علی العرش } صفات الٰہی کی متشابہ آیتوں میں سے ہے اور صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے متشابہ آیتوں کی تاویل سے منع فرمایا ہے 3 ؎ (3 ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص 222) اس واسطے { ثم استوی علی العرش } کی تفسیر یہی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا اللہ تعالیٰ کی شان کے مناسب ہے اسی طرح سے بلا مشابہت دنیا کے بادشاہوں کی تخت نشینی کے اللہ تعالیٰ عرش پر ہے جس کی تفصیلی کیفیت اللہ کو ہی معلوم ہے محکم اور متشابہ آیتوں کی صحیح تعریف یہ ہے کہ جس آیت کا مطلب از خود یا کسی دوسری آیت یا حدیث کے ذریعہ سے معلوم ہو سکے وہ آیت محکم ہے نہیں تو متشابہ جو علماء یہ کہتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے متشابہ آیت کا مطلب محکم آیت یا حدیث کے ذریعے سے معلوم کیا جاوے ان کا مقصود متشابہ کے لفظ سے وہ مبہم آیت ہے جس کے مطلب کا معلوم کرنا کسی دوسری محکم آیت یا حدیث پر منحصر ہے اور حقیقت میں اس طرح کی آیتیں محکم آیتوں کی ایک قسم ہے کیوں کہ اوپر کی صحیح تعریف کے موافق اصل متشابہ آیت کا مطلب کسی دوسری آیت یا حدیث سے نہیں معلوم ہوسکتا دوسری آیت یا حدیث سے مبہم آیتوں کا مطلب ہوجانے کی مثالیں سورت آل عمران میں گزر چکی ہیں { و سخر الشمس والقمر } اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج چاند کے طلوع اور غروب کے جو وقت مقرر ہیں وہ ان کے تابع ہیں { کل یجری } سے سورج کی ذاتی گردش ثابت ہوتی ہے جس سے ان اہل ہیت کے قول کا ضعف نکلتا ہے جو سورج کی ذاتی گردش کے قائل نہیں ہیں بلکہ سورج کی گردش کو آسمان کی گردش کا تابع بتلاتے ہیں صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ نے سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے 1 ؎ معتبر سند سے شعب الایمان بیہقی تفسیر ابن ابی حاتم اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ لوح محفوظ میں تمام دنیا کا حال جو لکھا ہوا ہے اس میں سے ہر شب قدر کو ایک سال کے انتظامات کی نقل فرشتوں کو دنیا کا سال بھر کا کام چلانے کے لئے مل جاتی ہے 2 ؎ یہ حدیثیں یدبرالا امر کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ازلی تدبیر اور اس کے انتظامات کے موافق ہوتا ہے۔ اس تفسیر سے طبیعات والوں کے اس قول کا ضعف نکلتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ طبیعتوں کے اثر سے ہوتا ہے اللہ کی قدرت کا اس میں کچھ دخل نہیں ہے علاوہ اس کے طبیعات والوں کا یہ قول عقلی طور پر بھی یوں ضعیف معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں بہت سے کام خلاف طبیعت نظر آتے ہیں کیونکہ مثلاً سورج کی طبیعت ہر چیز کا سکھا دینا اب اناج میں تو سورج کا کام طبیعت کے موافق ہے اور اکثر میوہ جات میں طبیعت کے بر خلاف سورج سے کام لیا جاتا ہے کہ دھوپ سے مثلاً آم میں رس اور انگور میں گودا پیدا ہوتا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ طبیعتیں ایک صاحب قدرت کے حکم کی تابع ہیں ورنہ طبیعتوں میں یہ شعور کہاں ہے کہ وہ مختلف کام انجام دے سکیں آخر کو فرمایا کہ یہ قدرت کی نشانیاں انسان کو تفصیل وار اس لئے سمجھائی جاتی ہیں کہ وہ ان نشانیوں سے قدرت والے کو پہچانے اور اس کے احکام کو مانے اور یہ جان لیوے کہ ایک دن ہر انسان کو نیک اور بد کے حساب کے لئے اللہ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے معاذ بن جبل ؓ کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر شخص کو چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ضرور اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا (1) تمام عمر کس کام میں لگا رہا (2) جوانی میں کیا کیا (3) کیوں کر کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا (4) جو کچھ دین سیکھا تو اس پر کیا عمل کیا۔ (3) یہ حدیث اللہ تعالیٰ سے ملنے اور اس کے سامنے کھڑے ہونے کی گویا تفسیر ہے۔
1 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 223
2 ؎ جلد ہذا ص 211۔
3 ؎ تفسیر الدرا المنثور ص 24 ج 6 تفسیر سورة الدخان۔
Ayahs 13:3–43۔ 4۔ اس سے اوپر کی آیت میں اللہ جل شانہ نے آسمان کا حال بیان فرمایا تھا اس آیت میں زمین میں اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا کہ اللہ نے زمین کو پھیلا دیا۔ لمبائی اور چوڑائی میں پہاڑوں کے بوجھ رکھ دئیے اور اس میں جا بجا نہریں اور ندیاں دریا سمندر جاری کئے تاکہ زمین کی پیداوار کو مناسب موقع پر پانی پہنچتا رہے۔ اور ہر طرح کے پھل میوے الگ الگ رنگ کے علیحدہ ذائقہ کے پیدا ہوں جس میں کوئی سرخ ہے تو کوئی زرد کوئی سیاہ کسی کا مزہ پھیکا ہے کسی کا میٹھا کسی کا کڑوا کسی کا کسیلا پھر رات تمام ہوئی اور دن آن موجود ہوا یہ سب خدا کی ایسی قدرت ہے کہ جو اس میں غور اور فکر کرتا ہے اسے خدا کی ہستی کا یقین ہوجاتا ہے پھر فرمایا کہ زمین کو دیکھو ایک ٹکڑا ایک سے ملا ہوا ہے اس پر بھی کوئی ٹکڑا زمین کا شور ہوتا ہے اور کوئی پاکیزہ ہوتا ہے کہیں طرح طرح کے باغ ہوتے ہیں جس میں انگور کھجوروں کے مختلف قسم کے درخت ہوتے ہیں بعض درخت ایسے ہوتے ہیں جس کی جڑ آپس میں ملی ہوتی ہے۔ اور بعض درخت علیحدہ علیحدہ ہیں کسی زمین میں کھیتی کی جاتی ہے جہاں طرح طرح کے اناج پیدا ہوتے ہیں۔ جس پر انسان کی زندگی کا دارو مدار ہے ان درختوں اور کھیتوں کو ایک پانی سے سر سبز و شاداب کیا جاتا ہے اور یہ ایک ہی زمین میں ہوتے ہیں پھر بھی قسم قسم کے طرح طرح کے پھل پھول میوے ترکاریاں اور اناج ہی کھانے میں ایک کا مزہ ایک سے بڑھ کر ہوتا ہے سب کا ذائقہ جدا جدا ہے کوئی کسی کے مزہ کو نہیں پہنچتا یہ سب اس کی ادنیٰ قدرت ہے اس لئے فرمایا کہ عقل مند آدمی کے واسطے خدا کے پہچاننے کے لئے یہ بہت بڑی نشانیاں ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس طرح اب مینہ برسنے سے ہر طرح کی پیداوار تیار ہوجاتی ہے۔ اسی طرح دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب مرے ہوئے آدمیوں کے جسم تیار ہوجاویں گے پھر ان جسموں میں روحیں پھونک دی جا ویں گی۔ 1 ؎ قرآن شریف میں جگہ جگہ کھیتی کے ذکر کے بعد حشر کا تذکرہ جو آیا ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ منکرین حشر کے نزدیک حشر ایک دشوار چیز ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو حشر اور ہر سال کی کھیتی کی پیداوار دونوں یکساں ہیں۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 481 باب النفخ فی الصور۔
Ayah 13:55۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر کا یہ قول کہ مٹی ہو کر پھر کیوں کر جئیں گے ضعیف ٹھہرایا اس واسطے فرمایا کہ دنیا بھر میں کسی کو تعجب کی بات سننی ہو تو ان کا یہ قول سنے کیوں کہ ہر عقلمند جانتا ہے کہ پہلے پہل ہر کام مشکل ہوتا ہے ایک دفعہ جو کام ہوچکا اور اس کا راستہ پڑگیا پھر دوبارہ اس کا ہوجانا کیا دشوار ہے دنیا کو جب ناپید حالت سے اللہ تعالیٰ نے موجود کردیا تو اب دوبارہ ناپید کر کے پھر موجود کردینا اس کو کیا مشکل ہے اور دنیا بھر میں وہ کون سی عقل ہے جس عقل سے اس بات کو دشوار کہا جاسکتا ہے اور دنیا بھر کے عقلوں سے نرالی یہ ایک بات منکرین حشر کہتے ہیں اس لئے دنیا بھر کی باتوں سے بڑھ کر ان کی بات تعجب کے قابل ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا سب کی آنکھوں کے سامنے جب کہ اللہ نے انسان کو پیدا کردیا تو منکرین حشر کی یہ نادانی ہے کہ وہ اللہ کے کلام کو جھٹلاتے اور حشر کا انکار کرتے ہیں۔ یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلی پیدائش کو آنکھوں سے دیکھ کر جو یہ لوگ دوسری دفعہ کی پیدائش کو اللہ کی قدرت سے باہر گنتے ہیں تو یہ ان کا اللہ کی شان میں ایک کفر ہے جس کی سزا یہ ہے کہ قیامت کے دن سخت جرم کے مجرموں کی طرح ان کے گردنوں میں آگ کے طوق ڈالے جاویں گے تاکہ یہ سر نہ اٹھا سکیں اور دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ان کو رہنا پڑے گا یہاں مختصر طور پر فقط طوق کا ذکر ہے سورت غافر میں طوقوں کے ساتھ زنجیروں کا بھی ذکر ہے جن زنجیروں سے ایسے لوگوں کو جکڑا جاوے گا۔
Ayah 13:66۔ بت پرستی کی مذمت اور توحید اور احوال قیامت اس قسم کی آیتیں جب نازل ہوتیں اور آنحضرت ﷺ قریش وہ آیتیں سناتے تو قریش لوگ سرکشی سے صاف کہہ دیتے تھے کہ ہم تو تمہاری ایک نہیں سنتے اگر تم سچے نبی ہو تو اللہ کی طرف سے ہم پر عذاب لے آؤ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ رسول سے مخالفت کرنے والوں پر عذاب الٰہی کا نازل ہوجانا کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے بہت سی امتیں رسولوں کی مخالفت کے سبب سے غارت ہوچکی ہیں بجائے فرمانبرداری کے یہ لوگ جو سرکشی کر کے عذاب کی جلدی کرتے ہیں ان کو یہ معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ میں رحم اور قہر دونوں صفتیں ہیں اور اب تک اللہ تعالیٰ نے اپنی رحم کی صفت کے تقاضے سے ان کو چھوڑ رکھا ہے جس دن قہر کی صفت کا تقاضا ہوگیا تو پھر پہلے کی اجڑی ہوئی امتوں کی طرح سے ان کا کہیں ٹھکانا بھی نہ لگے گا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ ؓ اشعری کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے سرکش لوگوں کو مہلت دیتا ہے پھر جب ان کی سرکشی کی سزا میں انہیں پکڑ لیتا ہے تو کسی کا ان میں سے چھٹکارہ نہیں ہو 1 ؎ سکتا۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت سے پہلے بارہ تیرہ برس تک اہل مکہ کو مہلت دی جب اس مہلت کے زمانہ میں ان میں کے سرکش لوگ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئے اور مسخراپن کے طور پر عذاب کی جلدی کرتے رہے تو بدر کی لڑائی میں یہ بڑے سرکش نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرنے کے ساتھ ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور ان کے عذاب کا حال لوگوں کو جتلانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑا ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے عذاب الٰہی کے وعدہ کو سچاپایا چناچہ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی روایتیں اس باب میں ایک جگہ گزر چکی ہیں 2 ؎ مثلات معنے وہ عذاب جس کا تذکرہ مثال اور کہاوت کے طور پر باقی رہے اسی واسطے شاہ صاحب نے مثلات کا مرادی ترجمہ ” کہاوتیں “ کیا ہے۔
1 ؎ جلد ہذا ص 205
2 ؎ جلد ہذا 202، 208۔
Ayah 13:77۔ یہ مشرکوں کا وہی پرانا سوال ہے جس کو بار بار وہ کہہ چکے تھے کہ اگلے رسولوں کو تو بڑی بڑی نشانیاں ملی تھیں حضرت موسیٰ کو عصا اور ید بیضا ملا تھا حضرت صالح کے وقت میں اونٹنی پیدا ہوئی تھی عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے آپ بھی کوئی نشانی دکھلائیے اس صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دیجئے یا یہ پہاڑ یہاں سے اکھڑ کر کہیں دور چلا جاوے اور یہاں ایک خوشنما باغ لگ جائے اگر آپ ایسا کریں گے تو ہم آپ کو سچا سمجھیں گے اور ایمان لائیں گے اللہ جل شانہ نے حضرت ﷺ سے فرمایا کہ تم ان کے سوال کے پورا ہونے کی زیادہ خواہش نہ کرو تمہارے متعلق تو صرف اتنی بات ہے کہ تم ان لوگوں کو نصیحت کر دو کیونکہ رسول تو فقط خدا کے خوف سے لوگوں کو ڈرانے والے ہیں اور حق کا رستہ دکھانا اللہ کے اختیار میں ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق ہر شخص کا دوزخ یا جنت میں ٹھکانا مقرر ہوچکا ہے اس لئے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ہر کوئی اپنے مقررہ ٹھکانے میں جانے کے قابل کام کرتا ہے۔ یہ حدیث ( انما انت منذر ولکل قوم ھاد) کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیت کے اس ٹکڑے کے مطلب کو اللہ کے رسول نے اس حدیث کے ذریعہ سے امت کے لوگوں کو یوں سمجھا دیا کہ رسولوں کا کام فقط نصیحت کا کردینا ہے اور اس نصیحت کا اثر اللہ کے علم ازلی کے نتیجہ پر منحصر ہے جو اللہ کے اختیار میں ہے۔ زوائد مسند امام احمد میں آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو جو ہادی فرمایا ہے اس حدیث کی سند معتبر ہے۔
Ayah 13:88۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے جو روایت ہے اس میں اس آیت کی تفسیر آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے کہ عورت کے رحم میں جب نطفہ ٹھہرتا ہے تو ایک چلہ تک اپنی اصلی حالت پر رہتا ہے پھر جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر گوشت کا لوتھڑا ہوجاتا ہے پھر پتلا بن جاتا ہے اور اس میں روح پھونکی جاتی ہے اور اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ آتا ہے اور عمر رزق جس طرح کے عمل یہ پتلا پیدا ہونے کے بعد کرے گا یہ سب کچھ وہ فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ مدت حمل سے کم میں بچہ کا پیدا ہوجانا یہ رحم کے گھٹاؤ کی حالت ہے اور مدت حمل میں زیادتی کا ہوجانا یہ رحم کے بڑھاؤ کی حالت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ یہ فرماتے ہیں کہ حمل کے زمانہ میں اگر عورت کو حیض آجاوے تو جتنے دن حیض آوے گا اتنے ہی دن نو مہینے کے اوپر ہوجاویں گے جب بچہ پیدا ہوگا یہ مدت حمل کی زیادتی کی صورت ہے اور نو مہینے کے اندر بچہ کا پیدا ہوجانا یا اسقاط حمل کی کمی بیشی اس کی عمر اس کا رزق اس کی نیکی بدی علم الٰہی کے اندرازہ اور گنتی کے موافق ہے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ کی صحیح حدیث جو اوپر گزری اس سے قتادہ کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ اس حدیث میں بھی علم الٰہی کے موافق ان باتوں کے لکھے جانے کا ذکر ہے منکرین حشر کا ذکر اوپر فرما کہ اس آیت میں انہیں انسان کی پہلی پیدائش کا حال یاد دلایا گیا ہے اور یہ تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ انسان کی پہلی پیدائش سے جو کوئی قدرت الٰہی کو جان لیوے گا اس کو پھر حشر کے انکار کا موقع باقی نہیں رہ سکتا۔
Ayah 13:99۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے علم کا حال بیان فرمایا ہے کہ لوگ جس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اس کو بھی خدا جانتا ہے اور جو چیزیں ان سے غائب ہیں ان کی نظروں کے سامنے نہیں ہیں ان کو بھی خدا جانتا ہے اس پر ظاہر اور پوشیدہ سب یکساں ہے اس کا عمل ہر شے کو چھوٹی ہو یا بڑی نظر سے غائب ہو یا سامنے سب کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کی ذات ہر ایک شئی سے بڑی اور ہر چیز پر غالب ہے اوپر ذکر تھا کہ بچہ کے پیدا ہونے سے پہلے اس کی عمر اس کا رزق اس کی نیکی بدی یہ سب ناموجود باتیں اللہ کا فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے لکھ لیتا ہے اس آیت میں اس کی یہ تفصیل فرمائی کہ ناموجود اور موجود سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم میں موجود ہیں کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اس واسطے بچہ کے پیدا ہونے کے پہلے فرشتہ سے ان ناموجود چیزوں کا لکھوا دینا اللہ تعالیٰ کے علم و غیت کے آگے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ منکرین حشر یہ جو کہتے تھے کہ مر نے کے بعد ان کی خاک رواں دواں ہوجاوے گی پھر وہ خاک کیوں کر جمع ہوگی اور اس کا پتلا کیوں کر بنے گا آیت کے اس ٹکڑے میں ان لوگوں کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ وہ خاک رواں دواں ہو کر انسان کے علم سے باہر ہوجاتی ہے مگر اللہ کے علم سے باہر نہیں ہوسکتی اس لئے وقت مقرر پر وہ خاک جمع کی جاوے گی اور اس کا پتلا بنے گا۔ سورة ق میں اس کی تفصیل زیادہ آوے گی۔ صحیح بخاری، مسلم، نسائی اور موطا میں ابوہریرہ ؓ اور ابو سعید خدری ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک گنہگار شخص نے اللہ تعالیٰ کے خوف سے اپنی اولاد کو یہ وصیت کی تھی کہ مرنے کے بعد اس کی وصیت کے موافق عمل کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جنگل اور دریا کو اس خاک کے حاضر کرنے کا حکم دیا اور فوراً وہ خاک حاضر ہوگئی اور اللہ کے حکم سے اس کا پتلا بنا اور اس پتلے میں روح پھونکی جا کر اس سے پوچھا گیا کہ وہ وصیت تو نے کس نیت سے کی تھی۔ اس نے جواب دیا یا اللہ کوئی چیز تیرے علم سے باہر نہیں ہے میں نے جو کچھ کیا تھا وہ فقط تیرے خوف سے کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب سن کر اس کے قصور کو معاف کردیا 1 ؎ حشر کے دن رواں دواں خاک کے جمع ہوجانے کے یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 959 ج 2 باب الخوف من اللہ۔
Ayah 13:1010۔ آیت کے اس ٹکڑے میں فرمایا کہ لوگوں کے آہستہ آہستہ باتیں کرنے کو بھی سنتا ہے خواہ کوئی چلا کے باتیں کرے یا چپکے سے اور جو شخص اندھیری رات میں اپنے گھر کے تہ خانہ میں بیٹھ کر بولے یا دن کے وقت روشنی میں سر راہ کھلم کھلا باتیں کرے سب اس کے نزدیک برابر ہے غرض کہ اللہ کا علم بہت ہی وسیع ہے کوئی بات کسی قسم کی اس سے پوشیدہ نہیں۔ مسند امام احمد صحیح بخاری مسلم وغیرہ کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں مشرکین مکہ میں تین شخصوں نے ایسے چپکے سے کچھ باتیں کعبہ میں کریں کہ میں نے وہ باتیں نہیں سنیں مگر اللہ تعالیٰ نے وہ باتیں سن کر حم سجدہ کی چند آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ معتبر سند کی انس بن مالک ؓ کی حدیث مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے گزر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ بعضے عملوں کی خرابی کا حال نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کو بھی معلوم نہ ہوگا لیکن اللہ قیامت کے دن ان عملوں کو نامہ اعمال سے خارج کرنے کا حکم دے کر فرماوے گا کہ یہ عمل خالص نیت کے نہیں ہیں۔ 2 ؎ اللہ تعالیٰ کے لوگوں کی آہستہ باتیں سننے اور ان کا پوشیدہ حال جاننے کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 712 ج 2 تفسیر سورت حم السجدہ
2 ؎ الترغیب ص 21 ج 1 الترہیب من الریأ الخ۔
Ayah 13:1111۔ صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر شخص کی حفاظت کے لئے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں صبح کی نماز کے وقت دن کے فرشتے اور رات کے فرشتے آن کر چوکی بدلوا 1 ؎ دیتے ہیں۔ معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حفاظت کے فرشتے ان سب صدموں اور آفتوں سے آدمی کی حفاظت کرتے ہیں جن صدموں اور آفتوں سے اس کی قسمت میں بچنا لکھا ہے اور جب تقدیری کوئی آفت آنے والی ہوتی ہے جس سے حفاظت کرنے کا کوئی حکم اللہ کا نہیں ہوتا تو ایسے حالت میں فرشتے حفاظت چھوڑ دیتے ہیں تفسیر ابن جریر میں کنانہ عدوی کی روایت سے حضرت عثمان ؓ کا سوال اور آنحضرت ﷺ کا جواب جو مذکورہ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دس فرشتے دن کو اور دس رات کو ہر انسان پر تعینات ہیں دو نیکی بدی کے لکھنے والے اور دو تمام جسم کی حفاظت کرنے والے اور دو خاص درود شریف کا ثواب لکھنے والے دونوں ہونٹوں پر مقرر ہیں اور دو خاص آنکھوں کی نگرانی رکھتے ہیں اور ایک منہ پر تعینات ہے تاکہ سانپ بچھو یا اور کوئی موذی جانور منہ میں گھسنے نہ پاوے اور ایک فرشتہ ہر آدمی کی پیشانی پکڑے رہتا ہے جب تک آدمی انسانیت کے جامہ میں رہتا ہے اس وقت تک وہ فرشتہ کچھ نہیں کرتا اور جب آدمی انسانیت کے جامہ سے باہر ہو کر کوئی تکبر کرتا ہے تو وہی فرشتہ اس تکبر کرنے والے آدمی کی پیشانی پکڑ کر ایک پٹخنی دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مغرور آدمی کو ایک نہ ایک ذلت پہنچتی ہے اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ نیکی لکھنے والا فرشتہ بدی لکھنے والے پر سردار ہے جب کوئی آدمی برا نہ ایک ذلت پہنچتی ہے اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ نیکی لکھنے والا فرشتہ بدی لکھنے والے پر سردار ہے۔ جب کوئی آدمی برا کام کرتا ہے تو بدی لکھنے والا فرشتہ تین دفعہ نیکی کے فرشتہ سے اس بدی کے لکھنے کی اجازت چاہتا ہے وہ ہر دفعہ یہی کہتا ہے۔ ذرا اور ٹھہر جاؤ شاید یہ شخص توبہ و استغفار کرے جب یہ شخص گنا کرتے ہی توبہ و استغفار کرلیتا ہے تو وہ بدی نہیں لکھی جاتی 2 ؎ حافظ عماد الدین ابن کثیر نے اس حدیث کو غریب کہا ہے 3 ؎ لیکن ابن جریر نے جو سند اس حدیث کی بیان کی ہے اس سند میں کوئی راوی بالکل متروک نہیں ہے۔ اس لئے صحیحین کی حدیث میں جو مجمل طور پر فرشتوں کا ذکر ہے اس مجمل طور پر فرشتوں کا ذکر ہے اس مجمل ذکر کی صراحت اس حدیث کی جاوے تو کچھ حرج نہیں ہے۔ اسی واسطے حافظ ابن حجر ؓ نے فتح الباری میں ابن جریر کی اس روایت کو نقل کر کے اس کی سند پر کچھ اعتراض نہیں کیا۔ صحیح بخاری اور ابوداؤد میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے اور معتبر سند سے مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمر اور انس بن مالک ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبادت الٰہی میں مصروف رہنے والا کوئی شخص جب بیمار ہوجاتا ہے اور بیماری کے سبب سے اس کی عبادت میں کمی ہوجاتی ہے تو نیکی لکھنے والے فرشتہ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ بیماری کے زمانے تک اس بیمار آدمی کی عبادت اتنی لکھی جاوے جتنی عبادت یہ شخص تندرسستی کے زمانے میں کرتا تھا 4 ؎ فرشتوں کی تعیناتی کے باب میں ابوہریرہ ؓ کی مجمل حدیث جو اوپر گزری ان روایتوں سے بھی اس کی یہ صراحت ہوسکتی ہے کہ ان فرشتوں میں نیکی بدی کے لکھنے والے فرشتے بھی ہیں۔ زیادہ تفصیل ان نیکی بدی کے فرشتوں کی { اذا السمآء انفطرت } میں آوے گی۔ اب آگے فرمایا کہ فرشتوں سے انسان کی حفاظت کا انتظام انسان کے رزق و صحت کا انتظام سوا اس کے انسان کے حق میں اللہ کی اور جو جو نعمتیں ہیں جب تک انسان کوئی ناشکری نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو نہیں بدلتا اور کسی ناشکری کے سبب سے اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو بدلنا چاہے تو سوا اللہ کے کسی دوسرے کی مدد سے وہ نعمتیں قائم اور بحال نہیں رہ سکتیں۔ اس آیت میں بھی منکرین حشر کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ لوگ تو اپنی نادانی سے عقبیٰ کی سزا وجزا کے منکر ہیں لیکن انتظام الٰہی میں عقبیٰ کی سزا و جزا کے لئے ہر شخص کے ساتھ اللہ کے دو روز نامچہ نویس لگے رہتے ہیں جو انسان کا ہر قول و فعل رات دن لکھتے ہیں۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 1105۔
2 ؎ تفسیر ابن جریر ص 115 ج 13
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 504 ج 2۔
4 ؎ الترغیب ص 267 ج 2 الترغیب فی الصبر الخ۔
Ayah 13:1212۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ ذکر کیا کہ بجلی بھی خدا کے حکم کے تابع ہے وہی جب چاہتا ہے بڑے بڑے ابر کے ٹکڑوں کے ساتھ بجلی کو بھیج دیتا ہے جس کو تم لوگ دیکھتے ہو اور بعضے خوف کرنے لگتے ہیں اور بعضے طمطع کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ مسافر جو راستہ چلتا ہوا ہوتا ہے رعد کی کڑک اور بجلی کی چمک دیکھ کر ڈر جاتا ہے کہ اب رستہ کیوں کر طے ہوگا کس طرح منزل پر پہنچیں گے اور جو لوگ اپنے گھروں میں ہوتے ہیں ان کو ایک گو نہ خوشی ہوتی ہے کہ بادل اگر برس گیا تو بڑا فائدہ ہے غلہ خوب پیدا ہوگا رزق میں زیادتی ہوجائے گی۔ غرض اللہ تعالیٰ ہوا کے ذریعہ سے پانی کے بھرے ہوئے بادل پیدا کردیتا ہے اور جہاں حکم ہوتا ہے وہاں مینہ برستا ہے۔ سورت الروم میں آوے گا کہ پہلے اللہ کے حکم سے ہوا چلتی ہے جو بادلوں کو ابھارتی اور پھیلاتی ہے اور ان کو تہ برتہ کردیتی ہیں۔ پھر ان بادلوں میں سے مینہ برستا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے زیاد بن خالد جہنی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دفعہ رات کو مینہ برسا اس پر آنحضرت ﷺ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو لوگ صبح اٹھ کر یہ کہویں گے کہ اللہ نے اپنے فضل سے یہ مینہ برسایا وہ اللہ کی نعمت کی شکر گزاری ادا کریں گے اور جو لوگ یہ کہویں گے کہ تاروں کی گردش کے اثر سے یہ مینہ برسا وہ اللہ کی نعمت کے ناشکر گزار ہیں 1 ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جسکا حاصل یہ ہے کہ یہ منکرین حشر کچھ فقط حشر کے باب میں ہی اللہ کی قدرت کے منکر نہیں ہیں بلکہ اللہ کی قدرت کی اور باتوں میں بھی ان کو شیطان نے بہکا رکھا ہے۔ مثلاً مینہ تو اللہ کی قدرت سے برستا ہے اور یہ لوگ اس کو تاروں کی گردش کا اثر بتلاتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ تاروں کو اور ان کی گردش کو آخر کس نے پیدا کیا ہے بغیر اس کے حکم کے تاروں میں اثر کہاں سے آسکتا ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 141 ج 1 باب قول اللہ عزوجل و تجعلون رزقکم انکم تکذبون۔
Ayah 13:1313۔ معتبر سند سے سورت رعد کی تفسیر میں ترمذی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے یہ روایت بیان کی ہے کہ ایک روز یہود نے آن کر آنحضرت ﷺ سے چند باتیں پوچھیں ان میں رعد اور چمک اور کڑک کو بھی پوچھا آنحضرت ﷺ نے فرمایا رعد اس فرشتہ کا نام ہے جو بادلوں کے چلانے پر مقرر ہے اور کڑک اس فرشتہ کی آواز ہے جو آواز بادلوں کے ہانکنے کے وقت اس فرشتہ کے منہ سے نکلتی ہے اس فرشتہ کے پاس آگ کا ایک کوڑا ہے جس سے وہ بادلوں کو ہانکتا ہے یہ چمک اسی کی 1 ؎ ہے یہ جواب آپ کا توریت کے موافق تھا اس واسطے یہود نے آپ کے جواب کی تصدیق کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ روایت مسند امام احمد اور نسائی میں بھی ہے۔ 2 ؎ معتبر سند سے طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ کڑک کے وقت جو شخص اللہ کا ذکر کرے وہ بجلی کے صدمہ سے امن میں رہتا ہے۔ 3 ؎ تفسیر ابن جریر میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ کڑک کے وقت آنحضرت ﷺ سبحان من یسبح الرعد بحمدہ پڑھا کرتے تھے۔ 4 ؎ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بجلی عذاب الٰہی ہے جس مکان یا انسان یا جانور کو اللہ تعالیٰ عذاب کے قابل جانتا ہے اس پر اسی دوزخ کی آگ کے کوڑے میں سے جس سے رعد فرشتہ بادلوں کو ہانکتا ہے ایک شعلہ عذاب کے طور پر ڈال دیتا ہے حال کے زمانے میں جو آخری زمانہ ہے گنہگاری کی کثرت کے سبب سے بجلی کا صدمہ زیادہ ہے چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آخری زمانہ میں بجلی کا صدمہ بہت ہوگا یہاں تک کہ لوگوں میں چرچہ ہوا کرے گا کہ بجلی کے صدمہ سے اس قدر آدمی ہلاک ہوئے۔ 5 ؎ معتبر سند سے اسی مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث قدسی کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وبال کے طور پر دن بھر ابر کا گہرا رہنا اور کڑک چمک کا ہونا لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ہے اگر لوگ فرمانبرداری کریں تو رات کو بغیر کڑک چمک کے چپ چاپ ایسا مینہ برسے کہ لوگوں کو کچھ خبر بھی نہ ہو 6 ؎ الادب المفرد بخاری ترمذی نسائی اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ کڑک کی آواز سن کر آنحضرت ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ یا اللہ اپنے غصہ اور عذاب سے ہمیں بچا۔ 7 ؎ اوسط اور کبیر طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے شان نزول اس آیت کی جو بیان کی گئی اس کا حاصل یہ ہے کہ دو شخص کافر جن میں ایک کا نام عامر بن طفلہ اور دوسرے کا نام اربد بن ربیعہ تھا آنحضرت ﷺ کو شہید کرنے کے ارادہ سے آئے اربد بن ربیعہ نے عامر سے راستہ میں یہ صلاح کی کہ میں تو محمد کو باتوں میں لگاؤں گا اور تو پیچھے سے تلوار کھینچ کر محمد ﷺ کا کام تمام کر دیجیو جب یہ دونوں آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تو راستہ کے مشورہ کے موافق اربد بن ربیعہ نے آنحضرت ﷺ کو باتوں میں لگایا اور کہنے لگا کہ اپنی آدھی نبوت مجھ کو دے دو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نبوت اللہ کی ہے وہ جس کو چاہے دیوے اربد نے یہ جواب دیا کہ معلوم نہیں تمہارا اللہ سونے چاندی کا ہے یا پیتل تانبے کا ہے غرض اربد بن ربیعہ اور آنحضرت ﷺ کی تو یہ باتیں ہوتی رہیں عامر نے موقع پاکر تلوار کے قبضہ پر ہاتھ ڈالا اس کا ہاتھ خشک ہوگیا اربد نے جانا عامر نے سستی کر کے اب تک تلوار نہیں کھینچی اس لئے اربد نے اشارہ کے طور پر عامر کی طرف دیکھا کہ آنحضرت ﷺ نے بھی عامر کی طرف پھر کر دیکھا جب ان دونوں نے جانا کہ آنحضرت ﷺ اب ہوشیار ہوگئے تو یہ دونوں آنحضرت کے پاس سے چل دئیے۔ اپنے مقام پر نہیں پہنچنے پائے کہ بجلی گر کر اربد بن ربیعہ کی کھوپڑی اڑ گئی اور عامر کے ایک پھوڑا نکلا جس سے وہ تڑپ تڑپ کر مرگیا اربد بن ربیعہ کے بجلی گرنے پر مر نے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ 8 ؎ طبرانی کی سند میں ایک راوی عبد العزیز بن عمران ضعیف 9 ؎ ہے۔ لیکن یہ شان نزول تفسیر ابن جریر میں بھی ہے جس کی سند میں عبد العزیز بن عمران نہیں 10 ؎ ہے۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ مثرک لوگ اللہ تعالیٰ کی شان میں شرک کی باتیں جو کرتے ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ تو اپنے فضل سے مینہ برساتا ہے اور یہ لوگ اس کو تاروں کی گردش کا اثر بتلاتے ہیں ایسی باتوں پر اللہ سے ڈر کر رعد اور فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اللہ بڑا صاحب قدرت ہے وہ جس کو چاہتا ہے اربد بن ربیعہ کی طرح بجلی سے ہلاک کردیتا ہے اس لئے اللہ کی شان میں اربد بن ربیعہ کی سی باتوں سے ہر شخص کو ڈرنا چاہیے مجاہد کے قول کے موافق محال کے معنے قوت کے ہیں اسی واسطے شاہ صاحب نے محال کا ترجمہ ان کیا ہے۔ کیونکہ اردو میں قوت اور شوکت کی جگہ آن بان کا لفظ بولتے ہیں۔
1 ؎ جامع ترمذی ص 14 ج 2 تفسیر سورت رعد۔
2 ؎ تفسیر فتح البیان ص 577 ج 2۔
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 5۔ 5 ج 2
4 ؎ تفسیر ابن جریر ص 114 ج 13
5 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 505 ج 2۔
6 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 5۔ 5 ج 2۔
7 ؎ تفسیر فتح البیان ص 576 ج 2۔
8 ؎ مجمع الزوائد ص 41۔ 42 ج 7 تفسیر سورت رعد
9 ؎ ایضاً
10 ؎ تفسیر ابن جریر ص 126 ج 13
Ayah 13:1414۔ اللہ پاک اس آیت میں ان لوگوں کی مثال بیان فرماتا ہے جو خدا کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہیں فرمایا کہ خدا ہی کو ہر ایک کام میں پکارنا اور اسی سے ہر ایک مشکل میں مدد کا چاہنا حق ہے اور جو لوگ خدا کو چھوڑ کر اور کسی کو پکارتے ہیں اور مدد چاہتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ہاتھ کو پانی کی طرف بڑھا کر کہے کہ اے پانی تو میرے منہ میں آجا حالانکہ ایسی حالت میں نہ آسکے منہ تک پانی آسکتا ہے نہ اس کا مطلب حاصل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح مشرکین جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہیں ان کو کوئی فائدہ دنیا یا آخرت میں نہ ہوگا اسی واسطے فرمایا کہ کافروں کی جو یہ خدا کے سوا اوروں سے کرتے ہیں بالکل ضائع جاتی ہے اور بالکل گمراہی ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے دعوۃ الحق کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اس سے مراد لا الہ الا اللہ کہنا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے شرک کو سب گناہوں سے بڑا گناہ فرمایا ہے۔ 1 ؎ جس کا مطلب یہ ہے کہ بہ نسبت اور گناہوں کے شرک میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور شیطان کی پیروی زیادہ ہے۔ کیوں کہ اور گناہوں میں شیطان اپنی پوجا نہیں کراتا شرک میں بتوں کے نام سے وہ اپنی پوجا کراتا ہے اور پوجا کرنے والوں کو اس نے یہ دھوکہ دے رکھا ہے کہ اس پوجا سے وہ نیک لوگ ان بت پرستوں کی دین و دنیا میں مدد کریں گے جن نیک لوگوں کی مورتوں کی یہ بت پرست پوجا کرتے ہیں حدیث اور آیت کے ملانے سے آیت کی یہ تفسیر قرار پائی کہ جس طرح کوئی پیاسا آدمی پانی سے دور کھڑا ہو کر اس دھوکے میں رہے کہ خود بخود پانی اس کے منہ میں آجاوے گا انجام اس دھوکے کا یہی ہوگا کہ پانی خود بخود اس کے منہ تک نہ آوے گا اور وہ پیاسا کا پیاسا ہی رہے گا یہی حال ان بت پرستوں کے دھوکے کا ہے کس لئے کہ انسان کو انسان کی سب ضرورت کی چزیوں کو تو اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں پھر ان مورتوں یا مورتوں کی اصل صورتوں کو یہ اختیار کہاں سے مل گیا کہ وہ بغیر مرضی الٰہی ان چیزوں میں اپنا کچھ اختیار چلا ویں گے اور ان چیزوں کے دینے میں کسی کی کچھ مدد کریں گے مکہ کے قحط کے وقت کیا یہ بت پرست اس بات کی آزمائش نہیں کرچکے کہ ان کے بتوں سے کچھ نہیں ہوسکا آخر اللہ کے رسول کی دعا سے مینہ برسا۔
1 ؎ جلد ہذا ص 204، 206
Ayah 13:1515۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی خبر دیتا ہے کہ زمین و آسمان کے سارے جن انسان فرشتے سب خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہوتے ہی جب آفتاب پورب سے پچھم کو جانے لگتا ہے اور شام کو جب سورج غروب ہونے لگتا ہے تو سب چیزوں کے سائے خدا کے سجدہ میں گرتے ہیں طوعا و کرہا کا مطلب مفسروں نے یہ بیان کیا کہ ہر ایمان دار شخص صحت کی حالت میں خوشی خوشی اس کی عبادت کرتا ہے اور بیماری اور تکلیف کے وقت کسی قدر تکلیف برداشت کر کے عبادت کو کھڑا ہوتا ہے بعضے مفسروں نے سجدہ کے معنے فرمانبرداری کے لئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک امر میں ہر شحص کافر ہو یا مومن خدا ہی کے حکم کا تابع ہے جیسے صحت مرض موت حیات فقیر ہونا تونگر ہونا تو جو لوگ مومن ہیں وہ خدا کے حکم کے ہر حال میں بخوشی مطیع ہیں اور کفار بھی ان سب باتوں میں خدا ہی کے تابع ہیں مگر ان کا تابع ہونا نا خوشی کے ساتھ ہے کیوں کہ ان کو چارہ کب ہے کہ خدا کے حکم کی نافرمانی کریں وہ جب چاہتا ہے ان کو بیمار ڈال دیتا ہے جب چاہتا ہے تندرست کردیتا ہے وہی جس کو چاہتا ہے مال و دولت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے فقیر بنا دیتا ہے۔ بعضے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ مومن اور ان کے سائے ہر حال میں خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور کفار خود تو بتوں کو سجدہ نہیں کرتے ہیں مگر ان کے سائے خدا کو سجدہ کرتے ہیں بعضے مفسروں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس آیت کو کفار سے کوئی علاقہ نہیں مسلمانوں اور منافقوں کی شان میں یہ آیت اتری ہے مومن تو اپنی خوشی سے سجدہ کرتے ہیں اور جو منافق ہیں وہ تلوار کے خوف سے سجدہ کرتے ہیں اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے دونوں کو سجدہ کرنا چاہیے یہاں سجدہ مسنون ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمام دنیا کے جنات اور انسان پرہیزگار بن جاویں تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جاوے گا اسی طرح یہ سب اگر اللہ کی عبادت چھوڑ دیویں تو اس سے اس کی بادشاہت میں کچھ گھٹ نہ جاوے 1 ؎ گا۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں جو دخل ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ان مشرکوں کو خاص عبادت الٰہی کی جو ہدایت کی جاتی ہے وہ ان ہی کی بہتری اور ان ہی کو شیطان کے دھوکے سے بچانے کے لئے ہے ورنہ اللہ کی شان تو وہ ہے کہ تمام دنیا کے جنات اور انسان ان جیسے ہوجاویں جب بھی اس کو کچھ پروا نہیں۔
1 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 200۔
Ayahs 13:16–1716۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ مشرک بھی اس بات کے قائل ہیں کہ خدا کے سوا کوئی خالق و رازق نہیں پھر ان سے کہو کہ تم خدا کے سوا ایسے معبود کیوں ٹھہراتے ہو جن کو خود اپنی جان کے نفع نقصان کا ذرہ برابر اختیار نہیں ہے پھر فرمایا کہ جو لوگ خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں وہ گویا دل کے اندھے ہیں کہ ان کے دلوں میں تاریکی ہے اور جو لوگ خالص خدا کے مانتے والے ہیں ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی ہے اس لئے فرمایا کہ بینا اور نابینا یکساں نہیں ہوتا اور نہ روشنی اور تاریکی یکساں ہوتی ہے ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے پھر فرمایا کہ مشرکوں نے جن کو اپنا معبود ٹھہرا لیا کس سند اور کس دلیل سے کیا ان معبودوں نے بھی خدا کی طرح مخلوق پیدا کی آسمان زمین بنائے سورج چاند ستارے پیدا کئے کہ ان بت پرستوں کو بتوں کے خالق و رازق ہونے کا شبہ پڑا گیا پھر فرمایا ان بت پرستوں سے کہہ دیا جاوے کہ ہر شے کا خالق وہی خدا ہے جو تنہا اور اکیلا ہے اور بڑے قہر والا ہے اس کے سامنے کسی کی کچھ نہیں چلتی صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بےبرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے اپنی رحمت سے مہلت دیتا ہے اور جب پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ ایسی زبردست ہے کہ پھر اس کی پکڑ سے چھٹکارا دشوار 1 ؎ ہے۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ مشرک لوگ اللہ کو خالق رازق جان کر جو جو شیطان کے بہکانے سے شرک میں گرفتار ہیں تو یہ ان کو معلوم رہے کہ اللہ کی صفت قہاری کی بھی ہے جب وہ اپنی صفت کے موافق پکڑے گا تو بالکل ہلاک کر دے گا اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ بدر کی لڑائی کے وقت اس صفت قہاری کا ظہور جو کچھ ہوا صحیح بخاری و مسلم کے انس بن مالک ؓ کی روایتوں کے حوالہ سے اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ 2 ؎ اللہ پاک نے اس آیت میں دو مثالیں بیان کیں جس سے حق و ناحق کو سمجھایا فرمایا کہ جب ہم آسمان سے مینہ برساتے ہیں تو وہ زمین پر بہ نکلتا ہے اور تالاب ندی نالے اپنی حیثیت کے موافق پانی لے لیتے ہیں کوئی زیادہ کوئی کم اسی طرح انسان کے دل میں یہی فرق ہے کسی کا دل زیادہ علم دین حاصل کرنے کی گنجائش رکھتا ہے اور کوئی دل کم پھر فرمایا کہ اس ندی نالے کے پانی میں جھاگ اٹھتا ہے یہ ایک مثل ہے اور سونا چاندی وغیرہ گلانے کے وقت بھی جھاگ اٹھتا ہے اسی طرح حق و ناحق ہے کہ پانی سے جس طرح زمین کو فائدہ پہنچتا ہے اور سونا چاندی کام میں آتے ہیں اور ان دونوں کا جھاگ سوکھ سوکھا کرجاتا رہتا ہے اس کو قیام نہیں رہتا اسی طرح حق بات ہمیشہ قائم رہتی ہے اور ناحق بات کو کوئی قیام نہیں جاگ کی طرح کبھی وہ ٹھہر نہیں سکتی اور حق بات سے ہمیشہ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ناحق سے کوئی فائدہ نہیں حاصل ہوسکتا۔ صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے ایک حدیث ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو علم و ہدایت خدا نے دے کر مجھے بھیجا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے مینہ کسی پر بسا اور زمین نے اس کو قبول کرلیا اور اس سے سبزہ گھاس وغیرہ اگے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے مینہ کسی پر برسا اور زمین نے اس کو قبول کرلیا اور اس سے سبزہ گھاس وغیرہ اگے اور بعض زمین ناہموار تھی اس نے پانی کو روک رکھا اس پانی سے انسان نے فائدہ اٹھایا اور بعض زمین ایسی تھی نہ پانی کو روکا نہ جانوروں نے پیا نہ گھاس اگا نہ سبزہ یہی مثال اس علم اور ہدایت کی ہے بعضوں نے اپنی طاقت اور ذہن کے موافق اس کو سمجھ کر عمل کیا اور بعضوں نے دوسروں کو بھی تعلیم دی اور بعضے ایسے ہیں جنہوں نے اس کی طرف مطلق توجہ نہیں کی اور جو علم ہدایت میں لے کر آیا ہوں اس کو قبول نہیں کیا 3 ؎ گویا یہ چکنے پتھر کی طرح ہیں کہ اس پر پانی ٹھہرتا ہی نہیں آیت اور حدیث کی مثالوں کے ملانے سے آیت کا یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ قرآن کی برحق نصیحت کے اثر سے سب ناحق باتیں پانی اور سونے چاندی کے جھاگ کی طرح جزیرہ عرب سے اٹھ کر دین حق قائم ہوگیا اور ناہموارزمین کی طرح کے ناہموار لوگ بڑے ٹوٹے ہیں رہے۔
1 ؎ جلد ہذا ص 205۔
2 ؎ جلد ہذا ص 202، 208۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 18 باب فضل من علم و علم۔
Ayah 13:1818۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا کے فرمانبردار اور رسول کے تابعدار ہیں ان کے واسطے اچھے اچھے انعام ہیں حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں الحسنیٰ سے مراد جنت ہے یعنی ان لوگوں کے لئے جنت ہے اور جن لوگوں نے خدا کو نہیں مانا رسول کی پیروی نہیں کی اگر یہ لوگ ساری دنیا کے برابر دولت تاوان میں دیں یا اس سے بھی دو گنا دیں جب بھی قبول نہ ہوگا اور عذاب سے نہ چھوٹیں گے بلکہ ہر ہر گناہ پر ان سے سوال ہوگا اور کوئی مشرک بخشا نہیں جائے گا۔ اوپر کی آیت میں دو مثالیں جو بیان فرمائی تھیں یہ آیت ان مثالوں کا نتیجہ ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بڑے بڑے مالدار نافرمانوں کو جب دوزخ میں ڈالا جاوے گا تو دوزخ کے پہلے ہی چھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کے جس مال و متاع نے تم کو عقبیٰ سے غافل رکھا آج وہ تم کو مالداری کا عیش و آرام کچھ یاد ہے اس پر یہ لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ اس عذاب کے آگے ہم کو وہ عیش و آرام کچھ یاد نہیں۔ 1 ؎ اس حدیث اور آیت کے ملانے سے اوپر کی مثالوں کا اور اس آیت کا یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اصل پانی اور سونے چاندی کی سی پائدار قرآن کی نصیحت کے پابند تنگ دست لوگوں کا انجام کیا ہوا اور جن مالدار نافرمان لوگوں کا مدار زندگی دنیا کا عیش و آرام اور جھاگ کی سی ناپائدار اور بڑوں کی رسموں کے مقابلہ میں قرآن کی نصیحت کو جھٹلانا رات دن ان کا کام تھا ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوا۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صفتہ النار واھلہا۔
Ayah 13:1919۔ اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ اللہ پاک نے جو کچھ اپنے نبی برحق پر اتارا ہے اس پر جو شخص ایمان لاتا ہے اور اس کی تصدیق کرتا ہے اور خدا کے سارے امر و نہی کو پورے عدل و انصاف پر سمجھتا ہے اس کے برابر کبھی وہ شخص نہیں ہوسکتا جو اس کو جھٹلاتا ہے اور اس کی پیروی نہیں کرتا۔ مفسروں نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت حمزہ بن عبد المطلب و ابو جہل کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ حمزہ آپ پر ایمان لائے تھے وہ مومن تھے اور ابو جہل مرتے وقت تک کافر رہا۔ اللہ پاک نے انہی دونوں کے درمیان میں فرق بیان کیا کہ حمزہ ؓ راہ حق پر ہیں اور ابو جہل گمراہی میں ہے یہ دونوں کبھی برابر نہیں ہوسکتے مگر یہ آیت عام ہے اس لئے اس کا حکم بھی عام ہے ہر ایک مومن اور کافر کے واسطے اس کا فیصلہ قائم ہے۔ صحیح بخاری میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن شہیدوں کو جب جنت کے اعلیٰ درجے ملیں گے تو وہ خواہش کریں گے کہ ان کو دوبارہ دنیا میں بھیجا جاوے تاکہ وہ پھر شہید ہوں اور اعلیٰ درجہ پاویں 1 ؎ معتبر سند سے طبرانی میں حضرت علی ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے حضرت حمزہ بن المطلب ؓ کو شہیدوں کا سردار فرمایا ہے۔ 2 ؎ اب یہ تو ظاہر ہے کہ جب اور شہیدوں کو وہ درجے ملیں گے جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی حدیث میں ہے تو شہیدوں کے سردار حضرت حمزہ ؓ کا مرتبہ قیامت کے دن کیا کچھ ہوگا ابو جہل کے انجام میں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی روایتیں گزر چکی ہیں کہ ابو جہل اور اس کے ساتھیوں پر مرتے ہی عذاب شروع ہوگیا اور اللہ کے رسول نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچ پایا 3 ؎ حاصل کلام یہ ہے کہ آیت کا حکم اگرچہ عام ہے لیکن حمزہ بن عبد المطلب ؓ اور ابو جہل کی حالت کے دو شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک برابر نہیں ہوسکتے ابو جہل کی حالت کے لوگوں کو عقبیٰ کی بھلائی برائی نظر نہیں آتی اس لئے ایسے لوگوں کو اندھا فرمایا۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 395 ج 1 باب تمنی المجاہد ان یرجع الی الدنیا۔
2 ؎ مجمع الزوائد ص 268 ج 9 باب ماجاء فی فضل حمزۃ الخ۔
3 ؎ جلد ہذا ص 202، 2240208۔
Ayahs 13:20–2120۔ 21۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے ذکر میں دو مثالیں بیان فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ اگرچہ ہر طرح کی نصیحت قرآن شریف میں ہے لیکن وہ نصیحت ان ہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے عہد کا خیال ہے کہ شریعت میں جس چیز کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اس کو بجا لانے کا عہد اور جس سے باز رہنے کا ارشاد فرمایا ہے اس سے باز رہنے کے عہد کو وہ لوگ پورا کرتے ہیں اور جس طرح یوم المیثاق میں اللہ تعالیٰ نے توحید پر قائم رہنے کا اور رسولوں کی فرمانبرداری کرنے کا اور کتب آسمانی کے پابندی کرنے کا عہد لیا ہے شریعت کو اس عہد کے یاد دلانے والی ایک چیز جان کر نہ منافقوں کی طرح ان لوگوں کی یہ عادت ہے کہ زبان سے تو شریعت کی پابندی کا اقرار ہے اور دل میں اس اقرار کا کچھ بھی اثر نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب و کتاب ہونے سے ڈر کر جو کچھ کرتے ہیں اس کا اثر دل و زبان دونوں پر یکساں ہے اور نہ ان لوگوں کی عادت ریا کاروں کی سی ہے کہ شریعت کا کام دنیا کے دکھاوے کو کریں بلکہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ کی خوشنودی اور ثواب آخرت کی نیت سے کرتے ہیں اور کوئی برا کام شامت نفس سے چھوٹا یا بڑا ہوجاوے تو بڑے گناہ کو توبہ و استغفار سے اور چھوٹے گناہ کو آئندہ کی نیکی سے غرض ہر طرح اس برائی کے دھبہ کو مٹا دیتے ہیں کوئی مصیبت آزمائش کے طور پر خدا کی طرف سے آوے تو اس کے جھیلنے میں اور گناہ کی طرف جی للچاوے تو جی کے روکنے میں اور امر الٰہی کے بجا لانے میں کسی طرح کی تکلیف پیش آوے تو اس تکلیف کی برداشت کرنے میں صابر رہتے ہیں اسی طرح آٹھ نو وصف ایسے لوگوں کے ذکر فرما کر پھر فرمایا کہ اہل جنت یہی لوگ ہیں اور پھر جنت کی نعمتیں ذکر فرمائیں اور ان اہل جنت کی عادتوں کے برخلاف عادت کے جو لوگ دنیا میں ہیں اخیر رکوع تک پھر ان کا ذکر فرمایا غرض ان آیتوں میں اچھی اور بری دونوں عادتوں کا ذکر ہے قرآن شریف کی تلاوت اور قرآن شریف کا ترجمہ پڑھتے وقت ہر شخص کو چاہیے کہ اچھی حالت پر ذرا خیال جمادے کہ اس میں ان عادتوں میں سے کون سی عادتیں ہیں اور کوئی عادت بری ہو تو اس کے چھوڑنے کی کوشش کرے اور اچھی عادت پر قائم رہنے میں مضبوط رہے۔ معتبر سند سے ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 1 ؎ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے ما بعد کے لئے کچھ سامان کر لیوے صحیح بخاری مسلم کے حوالہ سے معاذ بن جبل ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق ہر ایک بندہ پر توحید کے عہد کو پورا کرنا اور بندوں کا حق اللہ پر ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کرنا ہے۔ 2 ؎ صحیح بخاری میں ابو ایوب انصاری ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے صلہ رحمی کرنے والوں کو جنتی فرمایا ہے 3 ؎ اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے خوف سے جس شخص نے اپنی لاش کے جلانے اور آدھی خاک کو ہوا میں اڑانے اور آدھی کو دریا میں بہا دینے کی وصیت کی تھی اس کی مغفرت کے باب میں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے 4 ؎ آیتوں میں ترتیب وار جن لوگوں کا ذکر ہے یہ حدیثیں ان لوگوں کے حال کی گویا تفسیر ہیں رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کو صلہ رحمی کہتے ہیں اسی صلہ رحمی کا ترجمہ شاہ صاحب نے ” جوڑنا کیا “ ہے جس سے مطلب رشتہ داروں کے ساتھ میل جول اور حسن سلوک کا ہے۔
1 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 222۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 882 ج 2 آخر کتاب اللباس۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 885 ج 2 باب فضل صلۃ الرحم
4 ؎ جلد ہذا ص 218۔