Ayahs 13:22–2422۔ 24۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جو لوگ برے کاموں سے صرف خدا کی خوشنودی کے واسطے الگ رہے اور جن لوگوں نے پنجگانہ نماز قائم کی اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا اس میں سے حق دار کو بال بچوں رشتہ داروں کو فقرا اور مساکین کو دیا غرض کہ جو جو موقع خرچ کا خدا نے بتلایا ہے اس کے مطابق کھلم کھلا یا چھپ کر خرچ کیا اور برائی کے عوض بھلائی کرتے رہے اگر کسی نے ان کو تکلیف دی یا ستایا تو صبر کر کے چپ ہو رہے اس کے بدلے کے پیچھے نہ پڑے تو آخرت کا گھر انہیں نیک بختوں کے واسطے بنایا گیا ہے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے عدن ایک محلہ ہے جنت کا اور بعضوں نے کہا ہے ایک شہر ہے جنت میں غرض کہ یہ خود بھی وہاں جائیں گے اور ان کے بال بچے باپ ماں بھی اگر نیک بخت ہیں تو انہیں کے ساتھ رہیں گے اور فرشتے ہر ہر دروازہ سے آکر ان کو سلام کریں گے اور کہیں گے کیا اچھا آخرت کا گھر تمہارے صبر کے بدلہ میں ملا ہے۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی ایک حدیث ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم لوگ جانتے ہو کہ سب سے پہلے کون جنت میں داخل ہوگا لوگوں نے کہا خدا اور خدا کا رسول جانتا ہے آپ نے فرمایا فقرا مہاجرین کہ ان میں سے کسی کی کوئی حاجت بھی ہوتی ہے تو مرتے وقت وہ اپنے دل میں لے جاتا ہے اللہ پاک اپنے فرشتوں سے کہے گا تم جا کر اس بندے سے سلام کہو وہ کہیں گے ہم تیری بہتر مخلوق ہیں آسمان کے رہنے والے ہیں تو ہم کو ان کے پاس جا کر سلام کہنے کا حکم فرماتا ہے اللہ پاک فرمائے گا یہ مرے وہ بندے ہیں جنہوں نے خاص میری عبادت کی ہے اور کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ان کی کوئی حاجت بھی ہوئی تو وہ پوری نہیں ہوتی تھی مرتے وقت اس کو اپنے دل میں لے کر آئے ہیں۔ اس کے بعد فرشتے ان کے پاس جنت میں ہر دروازہ سے جائیں گے اور کہیں گے۔ { سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار } 1 ؎ معتبر سند سے تفسیر ابن منذر اور تفسیر ابن مردویہ میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ﷺ ہر سال کے شروع میں شہیدوں کی قبروں پر جاتے تھے اور یہ کہتے تھے۔ ( سلم علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار) 2 ؎ ایک صبر تو احکام شرع کی تکلیفوں پر آدمی کو کرنا پڑتا ہے جیسے مثلاً روزہ میں بھوک پیاس کی تکلیف پر صبر کرنا جاڑے میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنے کی تکلیف پر صبر کرنا۔ ایک صبر جانی یا مالی مصیبت پر کرنا پڑتا ہے غرض ہر طرح کا صبر اللہ تعالیٰ کی خوشی اور عقبیٰ کے ثواب کی نیت سے ہونا چاہیے۔ دنیا کی کسی غرض کا لگاؤ اس میں نہ ہوں { صبروا ابتغآء وجہ ربھم } کا یہی مطلب ہے { وانفقوا مما رزقناھم } کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق زکوٰۃ کی ہے۔ اس سے ان علماء کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ زکوٰۃ مکہ میں فرض ہوئی ہے اور اس کے وصل کا انتظام مدینہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ معتبر سند سے ترمذی اور مسند امام احمد میں ابوذر ؓ اور معاذ بن جبل ؓ کی روایتیں ہیں جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی سے کوئی گناہ ہوجاوے تو اس کو اس گناہ کے کفارہ کے لئے کچھ نیک کام کرنا چاہیے۔ 3 ؎ مسند امام احمد میں عقبہ بن عامر ؓ کی معتبر حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص پر کوئی زیادتی کرے اور وہ در گزر کرے تو اس کا بڑا اجر ہے 4 ؎ { ویدرءون بالحسنۃ السیئۃ } کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں سے خود کوئی برائی ہوجاوے تو اس کے کفارہ کے لئے یہ لوگ نیک کام کرتے ہیں اور اگر کوئی دوسرا شخص ان کے ساتھ برائی سے پیش آوے تو یہ لوگ در گزر سے کام لیتے ہں۔
1 ؎ تفسیر فتح البیان ص 587 ج 2 و تفسیر ابن کثیر ص۔ 51 ج 2۔
2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 58 ج 4۔
3 ؎ الترغب ص 131 ج 2 باب الترغیب فی صلۃ الرحم و مجمع الزوائد ص 188 ج 8 باب حکارم الاخلاق والعفو عن ظلم۔
4 ؎ الترغیب ص۔ 15 ج 2 باب الترغیب فی الخلق الحسن الخ نیز دیکھئے شرح خمسین (از حافظ ابن رجب) ص 111 طبع امر تسر۔
Ayah 13:2525۔ نیک بختوں کا حال بیان کر کے اب بد بختوں کا انجام بیان کیا کہ جس طرح دنیا میں بدبختوں کی خصلتیں نیک بختوں کے بر خلاف ہیں نیک بخت وعدہ وفا کرتے ہیں بد بخت نہیں وفا کرتے قوت کرنے کو کرلیتے ہیں مگر پورا کرنا نہیں جانتے رشتہ داروں کے ساتھ بد سلوکی سے پیش آتے ہیں زمین میں کفرو شرک کا اور طرح طرح کا فتنہ و فساد اٹھاتے رہتے ہیں امانت میں خیانت کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا نیک بختوں سے الگ ہوگا۔ جس طرح دنیا میں لوگ ان پر لعنت کرتے ہیں وہاں بھی ان پر لعنت ہوگی اور دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے اور اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ 1 ؎ عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں یہ بات اور زیادہ ہے کہ جب عہد کرے تو بد عہد ہوجاوے اور جب جھگڑے تو گالی گلوچ کرے۔ 2 ؎ اسی واسطے خدا نے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے دور ہیں اور ان کے لئے بہت ہی برا گھر ہے۔ اصل فتنہ و فساد تو شرک ہے جس کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہے لیکن یہ حدیثیں شرک کے سوا اور فتنہ و فساد کی باتوں کی گویا تفسیر ہیں۔
1 ؎ مشکوٰۃ 17 باب الکبائر و علامات النفاق۔
2 ؎ مشکوٰۃ الیعقا۔
Ayah 13:2626۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نیک خصلت اور بد خصلت لوگوں کا ذکر فرمایا اور نیک خصلت لوگوں سے اپنی رضا مندی ظاہر فرمائی اور ان سے جنت کا وعدہ فرمایا اور بد خصلت لوگوں سے نا خوشنودی ظاہر فرمائی اور دوزخ ان کا ٹھکانا فرمایا۔ اس پر یہ خیال دل میں گزر سکتا تھا کہ دنیا میں اکثر ایسے بد خصلت لوگ جن کا ذکر آیت میں ہے بڑی آسائش اور خوشحالی سے بسر کرتے ہیں اور نیک خصلت لوگ تنگ حال ہیں پھر جن لوگوں سے اللہ راضی نہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے آسائش کس مصلحت اور حکمت سے دے رکھی ہے اس خیال کو اللہ تعالیٰ نے رفع فرما دیا کہ دنیا کی فارغ البال نیک عملی اور بد عملی پر موقوف نہیں ہے نیک عملی اور بد عملی کے موافق جزا اور سزا تو خاص آخرت میں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے دنیا میں بعین مصلحت اور بعضی حکمت کے موافق اللہ تعالیٰ نے نیکوں کو تنگ حال اور بعضے بدوں کو خوشحال رکھا ہے اور اس مصلحت اور حکمت کا بھید اللہ کو ہی معلوم ہے لیکن اتنا خلاصہ تم کو بتلا دیا جاتا ہے کہ نہ خود دنیا کو قیام ہے نہ دنیا کی خوشحالی اور تنگ حالی کو قیام ہے اس لئے جس نیک خصلت لوگوں کے لئے عقبیٰ میں ہمیشہ کی راحت رکھی گئی ہے ان کو اگر دنیا میں چند روزہ کوئی تکلیف ہو تو وہ خیال کرنے کے قابل نہیں ہے اسی طرح کسی بد خصلت کی چند روز زندگی اگر آسائش سے گزری تو وہ بھی اس سبب سے کہ ایسے لوگوں کے لئے دائمی تنگ حالی اور ذلت عقبیٰ میں رکھی گئی ہے خیال کرنے کے لائق نہیں ہے اور دنیا کی خوشحالی پر اترانا اور خوش ہونا انہی لوگوں کا کام ہے جو عقبیٰ کے منکر ہیں صحیح سند سے ترمذی مسند امام احمد بن حنبل اور ابن ماجہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک دفعہ بورئیے پر سوئے اور اس بورئیے کے نشان آپ کے جسم مبارک پر پڑگئے ہم لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ فرماتے تو ہم لوگوں میں سے کوئی شخص بچھونا بچھا دیتا آپ نے فرمایا مجھے دنیا سے کیا لینا ہے میں دنیا کو اتنی ضرورت کی چیز سمجھتا ہوں جیسے ایک مسافر ایک پیڑ کی چھاؤں میں تھوڑی دیر ٹھہرا اور اپنے راستہ سے 1 ؎ لگا۔ صحیح سند سے صحیح ابن حبان مستدرک حاکم اور ترمذی میں کعب بن عیاض ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر امت دنیا کی ایک چیز سے خرابی میں پھنسی ہے میری امت کی خرابی میں ڈالنے والی چیز دنیا کا مال ومتاع 2 ؎ ہے۔ اب آگے فرمایا دنیا کے مال و متاع والے لوگ دنیا کی زندگی پر فریفتہ ہیں اور عقبیٰ سے غافل ہیں لیکن عقبیٰ کی ہمیشہ کی زندگی کے آگے دنیا کی چند روزہ زندگی کوئی چیز نہیں ہے۔ مولف کے ذبح کئے جانے اور جنتیوں و دوزخیوں کی ہمیشہ کی زندگی سے آگاہ کر دئیے جانے کی ابو سعید خدری ؓ کی حدیث 3 ؎ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکی ہے جو عقبیٰ کی ہمیشہ کی زندگی کی بابت آیت کے آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔
1 ؎ تفسیر فتح البیان ص 589 ج 2 والترغیب ص 242 ج 2 باب الترغیب فی الزہد فی الدنیا الخ۔
2 ؎ جامع ترمذی ص 57 ج 2 باب ماجاء ان فتنہ سمزہ الامۃ فے المال والترغیب ص 239 ج 2 باب ایضاً
3 ؎ صحیح بخاری ص 691 ج 2 باب قولہ وانذرھم یوم الحسرۃ۔
Ayahs 13:27–2927۔ 29۔ یہ وہی پرانا سوال ہے جو کفار مکہ حضرت سے کیا کرتے تھے کہ تم پر کوئی نشانی ایسی کیوں نہیں اتری جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید بیضا ملا تھا اور صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی ملی تھی تم بھی صفا پہاڑ کو سونا بنا دو ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے سوال کا یہ جواب ملا کہ اے رسول تم کہہ دو خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع ہوتا ہے اسے وہ ہدایت کرتا ہے اگر کل نشانیاں تمہاری فرمائش کے موافق بھی آجائیں تو بھی تم ایمان نہیں لاؤ گے ہدایت تو وہی شخص پاتا ہے جو خدا کی طرف مائل ہوتا ہے اور جس کا دل اس کی یاد سے ٹھنڈا ہوتا ہے علم الٰہی میں جو لوگ ایسے نہیں قرار پائے وہ کسی معجزہ کو دیکھ کر ایمان نہ لادیں گے۔ مفسروں نے ذکر اللہ سے قرآن مجید مراد لیا ہے کیونکہ اکثر جگہ خدا نے اپنے کلام میں ذکر کا لفظ ارشاد کیا ہے اور وہاں قرآن مجید سمجھا جاتا ہے جیسے { ھذا ذکر مبارک انزلناہ } (21: 5) ۔ تو مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ ایماندار قرآن کو پڑھتے ہیں یا دوسروں کو پڑھتے ہوئے سنتے ہیں تو ان کے دل کو نہایت اطمینان ہوتا ہے کیوں کہ جن باتوں پر آدمی کو پورا یقین ہوجاتا ہے تو ان باتوں سے اس کا اطمینان ہوجاتا ہے اس لئے جن لوگوں کو قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا یقین نہیں قرآن کی باتوں سے ان کا اطمینان نہیں ہوسکتا یہاں ایک یہ شبہ ہوتا ہے کہ سورت انفال کی آیت 1 ؎ { انما المؤمنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم } میں ہے کہ خدا کے ذکر کے وقت مومنوں کے دل بھر آتے ہیں اور ڈر جاتے ہیں یہ اس آیت کے خلاف ہے کیوں کہ اس آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے وقت ایمانداروں کے دل میں اطمینان پیدا ہوجاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان دونوں آیتوں میں فرق معلوم کرلیا جائے سورت انفال کی آیت میں خدا کے عذاب کی یاد اور ذکر مراد ہے اور یہاں اس کی رحمت اور جنت و انعام کے وعدے مراد ہیں اس لئے اس آیت میں خوف کا ذکر کیا گیا اور اس آیت میں خوشی اور اطمینان کا بیان کیا گیا۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان کے لئے خوشی ہے اور اچھی جگہ ہے طوبیٰ کی تفسیر میں مفسروں کا اختلاف ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رحمت اور آنکھوں میں ٹھنڈک قتادہ کے نزدیک یہ معنے ہیں کہ آخرت میں ان کو بہتری ہوگی مگر راجح قول طوبیٰ کی تفسیر میں یہ ہے کہ طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن ابی حاتم بیہقی وغیرہ میں عتبہ بن عبد سے ایک حدیث ہے کہ ایک اعرابی نے حضرت ﷺ سے آکر پوچا کہ کیا جنت میں میوے ہوں گے آپ نے فرمایا ہاں جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام طوبیٰ ہے اس کے انگور کے خوشے بڑے بڑے ہیں 2 ؎ صحیحین میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو برس تک بھی چلا جائے تو سایہ ختم نہ ہو 3 ؎ ابوہریرہ ؓ سے بھی ایسی ہی ایک حدیث صحیح بخاری و مسلم میں ہے۔ مکہ کے نواح میں جو میدان ہیں ان میں درخت نہیں ہیں اس واسطے اہل مکہ کو سایہ دار درختوں کی بڑی قدر ہے اس بنا پر میوہ کے ذکر کے ساتھ آپ نے طوبیٰ کے سایہ کا ذکر فرمایا صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جانے کے قابل اس حدیث کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ راہ راست پر آنا اور نہ آنا کچھ معجزوں کے دیکھنے اور نہ دیکھنے پر منحصر نہیں ہے بلکہ علم الٰہی میں جو لوگ جنت میں جانے کے قابل ٹھہر چکے ہیں نیک کاموں کی طرف وہ خود مائل ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو نیک کاموں کی توفیق بھی دیتا ہے اور جو لوگ علم الٰہی میں دوزخی ٹھہر چکے ہیں نہ ان کو کسی معجزہ سے ہدایت ہوسکتی ہے نہ قرآن کی نصیحت سے اور کسی کو مجبور کر کے راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے بر خلاف ہے اس لئے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ { ان اللہ یضل من یشاء ویھدی الیہ من اناب } کا یہی مطلب ہے۔
1 ؎ جامع ترمذی ص 57 ج 2 باب ماجاء ان فتنہ سمذہ الامتہ فیح المال والترغیب ص 239 ج 2 باب ایضاً ۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 512 ج 2۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 724 ج 2 باب قولہ و ظل محدود۔
Ayah 13:3030۔ اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ جس طرح ہم نے پہلی امتوں میں رسول بھیجے اسی طرح اس امت کے لئے ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ جو باتیں ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہیں وہ سب تم ان لوگوں کو سنادو اور ان سے کہہ دو کہ تم لوگ انکار کرتے ہو کہ خدا کا نام رحمن نہیں لیکن اس کا نام رحمن ہے اور وہ میرا اور سب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے میرا تو اسی پر بھروسہ ہے اور سب کا وہی ٹھکانا ہے، ایک روز سب کے سب اسی کی طرف پھر کر جانے والے ہو۔ آنحضرت ﷺ خدا کا نام رحمن کہتے تھے تو کفار مکہ آپس میں کہنے لگتے تھے کہ انہوں نے خدا کے سوا ایک معبود اور مقرر کرلیا جس کا نام رحمن رکھ چھوڑا ہے چناچہ قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ جب تک حدیبیہ میں سہل بن عمرو حضرت کے ضامن صلح کا پیغام لے کر آئے اور صلح نامہ لکھا جانے لگا تو حضرت نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پہلے لکھنے کو کہا سہل بن عمرو نے کہا ہم نہیں جانتے رحمن کیا شے ہے۔ رحمن تو مسیلمہ کذاب کا نام ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے اسی وقت یہ آیت اتری اس لئے قتادہ ؓ اس آیت کو مدنی کہتے ہیں کیونکہ صلح حدیبیہ ہجرت کے بعد ہوئی ہے قتادہ ؓ کے قول کے موافق صلح حدیبیہ کے وقت یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے نہ لکھنے کا قصہ صحیح بخاری میں بھی مسور بن مخرمہ اور مروان بن الحکم ؓ کی حدیث 1 ؎ میں ہے۔ لیکن اس میں آیت کے نازل ہونے کا ذکر نہیں ہے بعضے مفسروں کا قول ہے کہ ابو جہل نے حضرت ﷺ کو یا اللہ یا رحمن کہتے سنا تو اور مشرکوں کے پاس جا کر یہ بیان کیا کہ یہ محمد ﷺ جو خدا کا نام لے کر پکارتا ہے اور ایک اور نام بھی لیتا ہے رحمن اور ہم نہیں جانتے کہ رحمن کیا چیز ہے ہم تو مسیلمہ کذاب کو رحمن سمجھتے ہیں اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور یہ آیت بھی اتری۔ { قل ادعو اللہ او ادعوا الرحمن } اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ضحاک یہ نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت کفار قریش کی شان میں اتری ہے جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو کہا { اسجدوا للرحمن } تم خدا کو سجدہ کرو جس کا نام رحمن ہے تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ رحمن کیا شے ہے تو اللہ جل شانہ نے حکم کیا کہ کہہ دو رحمن وہ ہے جو رب ہے میرا اور کل جہان کا اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جب مسور بن مخرمہ ؓ اور مروان بن الحکم ؓ کی صحیح بخاری کی روایت میں حدیبیہ کے قصہ کے وقت آیت کے نازل ہونے کا ذکر نہیں ہے تو آیت کی شان نزول کا اختلاف یوں رفع ہوسکتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق آیت کو مکی قرار دیا جا کر یہ کہا جاوے کہ قریش کو ہجرت سے پہلے رحمن کے اسم الٰہی ہونے کا جس طرح انکار تھا وہی انکار ان لوگوں نے حدیبیہ کی صلح کے وقت بھی پیش کیا لیکن اس وقت کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا انجانی کا عذر اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول ہے اسی واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے تاکہ کسی کو انجانی کا عذر باقی نہ رہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 600۔ 601 ج 2 باب غزوۃ الحدیبیہ
Ayah 13:3131۔ تفسیر سفیان ثوری اور شعبی اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو جہل اور عبد اللہ بن امیہ اور چند مشرکین قریش ایک روز حرم شریف میں بیٹھے تھے اتفاقاً آنحضرت ﷺ بھی وہاں تشریف لائے اور اپنے ان لوگوں کو اسلام لانے کی رغبت دلائی اس کے جواب میں ابن امیہ نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ اگر آپ کو ہمارا اسلام منظور ہے تو ہم چند باتیں چاہتے ہیں ایک تو یہ کہ مکہ کے چاروں طرف پہاڑ جو گھرے ہوئے جس سے کھیتی کرنے کو بالکل زمین نہیں ہے اگر تم سچے نبی ہو تو جس طرح حضرت داؤد کے زبور پڑھنے سے پہاڑ چلنے لگتے تھے اسی طرح تم قرآن پڑھ کر ان پہاڑوں کو مکہ سے ہٹا دو تاکہ ہمیں کھیتی کرنے کو زمین نکل آوے دوسرے مکہ میں پانی کی بہت کمی ہے کچھ نہریں اور چشمے ایسے بہا دو جس سے پانی کی تکلیف جاتی رہے تیسرے جس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کہنے میں ہوا تھی اسی طرح ہوا کو ہمارا تابعدار کر ادو تاکہ شام کے ملک سے ہم ضرورت کی چیزیں جلدی سے لے کر آیا کریں چوتھے جس طرح حضرت عیسیٰ مردوں کو جلا دیتے تھے اسی طرح اہل عرب میں کسی بڑے بوڑھے کو جلا دو کہ وہ آن کر تمہارے نبی ہونے کی تصدیق کر دیوے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ علم الٰہی میں یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ بعضے ان اہل مکہ میں سے کفر کی حالت میں مریں گے اور بعضے اسلام لاویں گے۔ مگر ابھی نہیں جب اللہ کی طرف کا وقت مقررہ آوے گا پھر ٹھٹھے کے طور پر جو باتیں یہ لوگ چاہتے ہیں ہر ایماندار کو یہ اعتقاد دل میں رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان سب باتوں کے کردینے پر قادر ہے لیکن ان باتوں کے ہوجانے کے بعد یہ توقع رکھنا کہ یہ سب اسی وقت مسلمان ہوجاویں گے یہ بغیر مرضی اللہ کے ممکن نہیں کیونکہ اللہ کی مرضی تو یہ ہے کہ علم الٰہی میں ان میں کہ جو سرکش قرار پاچکے ہیں ان سرکشوں کے بعضے سر گروہوں پر آفت آوے جس سے باقی کے لوگوں کو عبرت ہو اتنے میں اللہ کا وقت مقررہ آجاوے اور فتح مکہ ہو کر یہ سب مسلمان ہوجاویں اللہ کا وعدہ سچا ہے جس طرح اللہ نے کئی برس پہلے اس آیت میں فرمایا تھا کئی برس کے بعد وہی نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آگیا کہ بدر کی لڑائی میں ان کے بڑے بڑے سرکش مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے اور اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ کہا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پایا چناچہ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی روایتیں اس بات میں اوپر گزر چکی 2 ؎ چکی ہیں۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جن بتوں کی حمایت میں یہ مکہ کے سرکش اللہ تعالیٰ کی شان میں بےادبی کے لفظ زبان پر لانے کے مستعد ہوجاتے تھے فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول نے لکڑی مار مار کر ان بتوں کو گرادیا اور مکہ بھر میں ان بتوں کا کوئی حمایتی کھڑا نہ ہوا چناچہ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ اور ابوہریرہ ؓ کی روایتیں 3 ؎ اس باب میں گزر چکی ہیں حاصل یہ ہے کہ آیت کے آخری ٹکڑے کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 515 ج 2۔
2 ؎ جلد ہذا ص 202، 208، 224 دے 26۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 686 ج 2 باب قولہ و قل جاء الحق وزھق الباطل الخ۔
Ayah 13:3232۔ اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نے حضرت سے کہا تھا کہ یہاں کے پہاڑ اکھڑ کر علیحدہ ہوجائیں اور یہاں ایک باغ دلکشا بن جائے اور آپ ہمارے کسی مردے کو جلا دیں تاکہ ہم اس سے پوچھیں کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ سچ ہے یا جھوٹ ہے اور ہوا کو ہمارے قبضے میں کردیں جس طرح سلیمان (علیہ السلام) کے قبضے میں تھی ہم جہاں چاہیں گے چلے جایا کریں گے تو اس وقت اس سے اوپر کی آیت اتری تھی اور اصل میں یہ سوال ان کا دل لگی کے طور پر تھا جس سے حضرت ﷺ کو ایک قسم کا ملال ہوا تھا اس لئے اللہ جل شانہ نے آپ کی تسلی کے لئے یہ آیت اتاری کہ تم سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان سے بھی پہلے لوگوں نے مسخرا پن کیا تھا اور ہم نے ڈھیل دی آخر اس طرح پکڑا کہ وہ جانبر نہ ہوسکے تم نے سنا ہوگا کہ آخر کیا نتیجہ ہوا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ پاک ظالموں کو مہلت دیتا ہے کہ وہ خوب عیش و آرام کرتے ہیں پھر جب پکڑ لیتا ہے تو نہیں چھوڑتا اس کی پکڑ بہت سخت ہے اور نہایت درد ناک 1 ؎ ہے۔ یہ حدیث اور پہلی امتوں کی طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کے قصے یہ سب گویا اس آیت کی تفسیر ہیں۔
1 ؎ جلد ہذا ص 205/224، جلد ہذا ص 202، 232۔
Ayah 13:3333۔ اس آیت میں اللہ پاک نے مشرکوں کو جتلایا کہ اللہ پاک ہر شخص اور ہر چیز کا نگہبان اور مالک ہے اور ہر شخص کے کام کو دیکھتا ہے اور جانتا ہے اور مشرکین جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ اس صفت کے نہیں اس لئے فرمایا کہ انہوں نے جو خدا کے سوا اوروں کی عبادت اختیار کی ہے اور ان کو اپنا شفیع سمجھ رکھا ہے تو ان کے نام بتلائیں کہ وہ کون ہیں اور کیا صفت رکھتے ہیں پتھر ہیں مٹی ہیں آخر کیا ہیں کیوں کہ یہ سب چیزیں اور کل مخلوق خدا کے قبضے میں ہیں اور اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اور اگر فی الحقیقت ان کے معبود کوئی شئی نہیں ہیں فقط ان کے خیال ہی خیال ہیں تو یہ ایسی بات ہے کہ جس چیز کا زمین و آسمان میں کہیں پتہ نہیں پھر فرمایا کہ ان کافروں نے اپنے مکر اور کفر کی زینت کر رکھی ہے یا ان کو شیطان نے گمراہ بنا رکھا ہے یہ راہ راست سے روک دئیے گئے ہیں کسی طرح ہدایت نہیں پاسکتے کیونکہ خدا جس کو گمراہ کرتا ہے اس کا کوئی راہ نما نہیں ہوسکتا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 1 ؎ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھایا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جانے کے قابل۔ مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی یہ معتبر حدیث بھی گزر چکی ہے 2 ؎ کہ جب شیطان آسمان سے نکالا جانے لگا تو اس نے بنی آدم کے ہر طرح سے بہکانے کی قسم اللہ تعالیٰ کے روبرو کھائی ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ روایت بھی گزر چکی ہے کہ قوم نوح (علیہ السلام) میں کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا رنج ان کے رشتہ داروں اور معتقدوں کو بہت تھا شیطان نے موقع پا کر اپنی قسم کے موافق ان لوگوں کو یوں بہکایا کہ ان مرے ہوئے آدمیوں کی مورتیں بنالی جاویں تاکہ ان مورتوں کے دیکھنے سے ان مرے ہوئے آدمیوں کی صورتیں تمہاری آنکھوں کے سامنے رہیں۔ شیطان کے بہکانے سے ان لوگوں نے وہ مورتیں بنائیں اور رفتہ رفتہ ان مورتوں کی پوجا ہو کر دنیا میں بت پرستی پھیل گئی۔ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے قحط کے وقت اگرچہ مشرکین مکہ کو یہ خوب معلوم ہوگیا کہ ان کے بت بالکل بےاختیار ہیں لیکن شیطان کے بہکاوے سے ہر طرح کے برے کام ان لوگوں کو اچھے نظر آتے ہیں اس لئے یہ لوگ بت پرستی پر اڑے ہوئے ہیں اور علم الٰہی میں یہ لوگ گمراہ ٹھہر چکے ہیں اس واسطے مجبور کر کے ان کو راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے کیونکہ دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے مجبوری کی صورت میں وہ امتحان کی حالت باقی نہیں رہتی۔
1 ؎ تفسیر ہذا جلد اول 368 و جلد دوم ص 141۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 732 ج 2 تفسیر سورت نوح۔
Ayahs 13:34–3534۔ 35۔ اللہ جل شانہ اس سے اوپر کی آیت میں مشرکین کا حال جب بیان فرما چکا تو اب یہ بات بیان فرمائی کہ ان لوگوں کے لئے دنیا میں اور آخرت میں دونوں جگہ عذاب ہے دنیا کا عذاب تو مثلاً مکہ کا سخت قحط جس کا ذکر صحیح 1 ؎ بخاری میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں تفصیل سے ہے اور آخرت کا عذاب وقت مقررہ پر اس سے بھی مشقت کا ہے اور پھر کوئی اس سے بچانے والا بھی نہیں۔ اس کے بعد اللہ جل شانہ نے جنت کی مثال بیان کی کہ وہ جنت جس کا وعدہ خدا پر ایمان لانے والوں اور اس کے خوف سے ڈرنے والوں سے کیا گیا ہے اس میں یہ خوبیاں ہیں کہ جا بجا اس میں نہریں جاری ہیں اور اس کی نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہیں کبھی کم نہیں ہوں گی اور سایہ بھی وہاں ہمیشہ رہے گا دنیا میں جس طرح سایہ صبح و شام ہوتا ہے دوپہر کو جلتی دھوپ ہوتی ہے وہاں یہ بات نہیں وہاں تو ہمیشہ ہمیشہ ہر وقت چھاؤں ہی چھاؤں ہے کیونکہ وہاں سورج نہیں ہے۔ صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ایک حدیث ہے کہ حضرت ﷺ نے سورج گرہن کی نماز میں ایک روز آگے کی طرف ہاتھ بڑھایا بعد نماز کے صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ حضرت ﷺ نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے ہاتھ بڑھا کر کسی شی کو لینا چاہا پھر رک گئے آپ نے فرمایا مجھے بہشت دکھائی گئی تھی میں نے اس میں سے ایک خوشہ انگور کا لینا چاہا تھا اگر وہ خوشہ لے لیتا تو جب تک دنیا باقی رہتی وہ انگور تم کھایا کرتے 2 ؎ تو وہ خوشہ کبھی گھٹتا نہیں مسلم میں جابر ؓ سے بھی اسی قسم کی ایک حدیث 3 ؎ ہے۔ یہ حدیث اکلھا دائم کی گویا تفسیر ہیں اور جنت کے سایہ کی تفسیر ہیں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ اور انس بن مالک ؓ کی حدیثیں 4 ؎ گزر چکی ہیں کہ جنت کے ایک درخت کا سایہ گھوڑے کا سوار بھی سو برس میں طے نہ کرسکے گا جنت کی نہروں کی تفسیر سورت محمد میں تفصیل سے آوے گی۔ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن کم سے کم دوزخ کا عذاب ابو طالب پر ہوگا کہ ابو طالب کے پیروں میں آگ کی جوتیاں پہنادی جاویں گی جس سے ابو طالب کا بھیجا پگل کر نکل پڑے گا۔ 5 ؎ اس حدیث سے دوزخ کے عذاب کی سختی کا حال اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ شروع آیت میں دوزخ کے عذاب اور جنت کی نعمتوں کا ذکر فرما کر پھر آخر آیت میں بطور نتیجہ کے فرمایا ہے کہ ان میں ایک ٹھکانہ خدا سے ڈرنے والوں کا ہے اور ایک عقبی کے منکر لوگوں کا۔
1 ؎ ص 714۔ 718 ج 2 تفسیر سورت الدخان۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 767 ج 2۔
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 517 ج 2۔
4 ؎ جلد ہذا ص 232۔
5 ؎ صحیح مسلم ص 115 ج 1 باب شفاعۃ النبی ﷺ لا بی طالب الخ۔
Ayahs 13:36–3736۔ 37۔ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو کتاب دی گئی۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ کتاب قرآن ہے اور وہ لوگ حضرت ﷺ کے اصحاب ہیں یہ لوگ ان باتوں سے بہت خوش ہوتے ہیں جو حضرت پر اتاری گئی ہیں کہ خالص خدا کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے اور احزاب سے یہود ونصاریٰ مراد ہیں جو قرآن کا پورا انکار نہیں کرتے ہیں کیونکہ قرآن میں بعضی بعضی باتیں ایسی بھی ہیں جس کے یہود و نصاریٰ بھی قائل ہیں جیسے خدا کی ہستی اور اس کی قدرت اور انبیاء کے قصے جس کو یہ لوگ مانتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ بعض فرقے قرآن کی بعض باتوں کو نہیں مانتے انکار کرتے ہیں۔ قتادہ ؓ اسی قول کے قائل ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی وہ یہود و نصاریٰ میں وہ لوگ ہیں جو حضرت پر ایمان لا چکے ہیں وہ قرآن کے اترنے سے بہت خوش ہوئے کیوں کہ وہ تورات وانجیل میں قرآن کی پیشن گوئی پڑھ چکے تھے اور احزاب سے باقی اہل کتاب مراد ہیں جو حضرت پر ایمان نہیں لائے اس دوسرے قول میں کتاب کا مطلب تورات اور انجیل ہے بعض مفسروں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ شروع شروع قرآن پاک میں رحمن کا لفظ بہت کم اترتا تھا پھر جب عبد اللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی جو ایمان لائے تھے وہ اپنے دل میں اس بات سے کسی قدر فکر مند ہوئے کہ قرآن میں رحمن کا ذکر کیوں کم ہے توریت میں تو اکثر جگہ ہے اس پر اللہ پاک نے قرآن مجید میں بھی اکثر جگہ رحمن کا لفظ بیان فرمایا تو یہ لوگ بہت خوش ہوئے اور یہ آیت خدا نے اتاری کہ جو لوگ اہل کتاب ہیں تم پر قرآن کے نازل ہونے سے بہت خوش ہوتے ہیں اور بعضے فرقے قرآن کی بعض باتوں کا بالکل انکار کرتے ہیں جیسے مشرکین مکہ کے حدیبیہ کا صلح نامہ لکھنے کے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم تو رحمن کو نہیں جانتے کیا شئے ہے رحمن تو مسیلمہ کذاب کا نام ہے پھر ان باتوں کے بیان کرنے کے بعد جس میں خدا کی پہچان بیان کی گئی ہے فرمایا کہ اے رسول تم لوگوں سے کہہ دو ہمیں تو یہ حکم ہوا ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اس میں کسی کو شریک نہ کریں۔ کیونکہ جو نبی ہم سے پہلے آئے ان سب کا یہی دین و ایمان رہا ہے۔ اس واسطے ہم بھی لوگوں کو اسی خدائے واحد کی طرف بلاتے ہیں آخرت میں اسی کی طرف پھر کر ہمیں جانا ہے۔ پھر فرمایا کہ جس طرح پہلے رسولوں پر ہم نے کتابیں انہیں کی زبان میں اتاری ہیں اسی طرح یہ قرآن بھی اے رسول ہم تم پر عربی زبان میں اتارتے ہیں جو تمہاری اور تمہاری قوم کی زبان ہے تاکہ اس کے سمجھنے اور سمجھانے میں دقت نہ ہو اور یہ قرآن ایسی کتاب ہے جس میں شرع کے کل احکام بیان کر دئیے گئے ہیں اور اس شرع میں بعضے احکام پہلی کتابوں کے موافق نہیں ہیں اگر تم اس کی خواہش کرو گے کہ ہم ان کی شرع کی تابعداری کریں تو اچھا نہ ہوگا اللہ نے ساری باتیں تمہیں بتا دی ہیں اس کے بعد ان کی پیروی کرنے سے اللہ تعالیٰ کی خفگی ہوگی جس سے کوئی بچانے والا اور مددگار نہیں ہے۔ بعض مفسروں نے { وللئن اتبعت اھوآءھم } کی تفسیر یہ بھی بیان کی ہے کہ مشرکین مکہ حضرت ﷺ کو ترغیب دیتے تھے کہ تم اپنے بزرگوں کی قدیم ملت پر آجاؤ اس پر اللہ پاک نے فرمایا کہ اگر تم ان کی خواہش کی پیروی کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی خفگی ہوگی۔ ان آیتوں میں { بما انزل الیک } فرما کر قرآن شریف کا ذکر جدا فرما دیا گیا ہے کہ کتاب کا لفظ جو { بمآ انزل الیک } سے پہلے ہے اس کے معنے تورات اور انجیل کے لئے جاویں اس صورت میں حاصل مطلب پہلی آیت کا یہ ٹھہرے گا کہ یہود میں سے عبد اللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی اور نصاری میں سے مثلاً چالیس آدمی بخران کے جو قرآن کو وہی قرآن جانتے ہیں جس کی پیشن گوئی تورات اور انجیل میں انہوں نے پڑھی ہے وہ قرآن کی تمام آیتوں کے نازل ہونے سے اسی طرح خوش ہوتے ہیں جس طرح مکہ والوں سے اہل اسلام قرآن کی نئی آیتوں کے نازل ہونے سے خوش ہیں اور باقی کے اہل کتاب نبی آخر الزمان کی اوصاف کی قرآن کی آیتوں کے اور خلاف مرضی آیتوں کے منکر ہیں۔ اس تفسیر کی بنا پر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق ان آیتوں کو مدنی کہنا پڑے گا کیونکہ عبد اللہ بن سلام اور بخرانی نصرانیوں کا اسلام ہجرت کے بعد ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد اور صحیح ابن حبان میں جابر بن عبد اللہ اور عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عمر ؓ نے تورات کی بعض باتیں سن کر ان باتوں کے لکھنے کی اجازت آنحضرت ﷺ سے چاہی تھی آپ حضرت عمر ؓ کی یہ بات سن کر خفا ہوئے اور یہ فرمایا کہ آج حضرت موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو وہ بھی اس آخری شریعت کی پیروی کرتے 1 ؎ اس حدیث کو آخری آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ کی مصلحت کے موافق ایک شریعت قرار دی ہے اور اس مصلحت کی پابندی یہاں تک ضروری ہے کہ اس آخری زمانہ میں پہلا کوئی نبی زندہ ہوتا تو اس آخری شریعت کی پیروی اس پر لازم ہوتی ہے اسی لئے آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر امت کے لوگوں کو سنایا ہے کہ جو کوئی اس آخری شریعت کو چھوڑ کر کسی اور طریقہ پر چلے گا تو اللہ تعالیٰ کی اس پر ایسی خفگی ہوگی جس سے اس کو کوئی بچا نہ سکے گا۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 467 ج 2 ومجمع الزوائد ص 173۔ 174 ج اول لیکن بجائے ابن عباس کے ابن ثابت واللہ اعلم۔
Ayah 13:3838۔ مشرکین مکہ حضرت ﷺ کی بابت یہ کہا کرتے تھے کہ یہ کیسے رسول ہیں جن کی بیویاں بھی ہیں اور بچے بھی ہیں اور یہ بھی کہتے تھے کہ اگر یہ خدا کی طرف سے رسول ہوتے تو جو معجزہ ہم ان سے طلب کرتے ہیں وہ فوراً کردکھاتے انہیں دونوں باتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا کہ جتنے رسول ہوئے ہیں وہ سب کے سب بشر تھے کوئی فرشتہ نہ تھا انہیں کی طرح یہ رسول بھی بشر ہیں کھاتے بھی ہیں پیتے بھی ہیں چلتے پھرتے بھی ہیں بیویاں بچے بھی ان کے ہیں جیسے پہلے رسولوں کے تھے چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں اور سات سو کنیزیں تھیں اسی طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں پھر ان کے بھی اگر بیویاں اور بچے ہیں تو کیا نقصان ہے کچھ یہ رسالت کے خلاف نہیں ہے۔ معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں سعد بن ہشام ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ کے پاس جا کر کہا کہ میرا ارادہ یہ ہے کہ میں نکاح نہ کروں فرمایا تو ایسا نہ کر کیا تو نے خدا کا یہ کلام نہیں سنا ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے یہی آیت پڑھی 1 ؎ معتبر سند سے دوسری حدیث ترمذی ابن ماجہ اور طبرانی وغیرہ نے سمرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت ﷺ سے مجرد رہنے سے 2 ؎ منع فرمایا ہے اور اکثر حدیثوں میں نکاح کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور مجرد رہنے سے منع کیا گیا ہے مسند امام احمد اور ترمذی میں معتبر سند سے ابو ایوب ؓ سے ایک حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ نکاح سب پیغمبروں کی سنت 3 ؎ ہے۔ صحیحین میں حضرت انس ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں سوتا بھی ہوں اور اٹھ کر نماز بھی پڑھتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں جس نے میری سنت سے منہ پھیرا وہ میری سنت کا پابند نہیں 4 ؎ ہے۔ پھر اللہ جل شانہ نے مشرکین مکہ کی دوسری بات کا یہ جواب دیا کہ رسول
کے بس کا یہ کام نہیں ہے کہ تمہاری ہر فرمائش کے مطابق معجزہ دکھاوے یہ تو خدا ہی کا کام ہے۔ جب وہ چاہتا ہے کوئی معجزہ ظاہر کرتا ہے جب نہیں چاہتا نہیں ظاہر کرتا رسول کچھ خود مختار نہیں ہیں کہ جو چاہیں کر گزریں جتنے رسول ہوئے ہیں سب خدا کے حکم کے تابع رہے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے جب جیسا مناسب سمجھا معجزہ ظاہرہ کرایا تمہارے ایمان لانے کو تو ایک شق القمر کا معجزہ بھی کافی تھا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی فرمانبرداری اور جنت میں جانے کے کام کریں گے اور کتنے آدمی نافرمانی اور دوزخ میں جانے کے کام کریں گے۔ اور اس کے موافق ہر ایک شخص کا جنت اور دوزخ میں ٹھکانا ٹھہر چکا ہے۔ 5 ؎ اس حدیث کو آیت کے آخری ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جہاں ان نافرمان لوگوں کے اور نافرمانی کے کام لکھے گئے ہیں وہاں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ان نافرمان لوگوں کی معجزہ کی خواہش کچھ راہ راست پر آنے کی نیت سے نہ ہوگی بلکہ مسخرا پن کے طور پر ہوگی اس لئے معجزہ کا ظہور اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت پر منحصر کر رکھا ہے ایسے نافرمان لوگوں کی خواہش پر نہیں رکھا کیونکہ یہ بات علم الٰہی میں ٹھہر چکی ہے کہ ایسے لوگوں کے حق میں کوئی معجزہ کچھ مفید نہ ہوگا۔
1 ؎ تفسیر فتح البیان ص 598 ج 2۔
2 ؎ جامع ترمذی ص 128 ج 1 باب ماجاء فی النہی عن القبتل۔
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 519 ج 2 والترغیب ص 39 ج 2۔
4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 518 ج 2۔
5 ؎ جلد ہذا ص 23502320202۔
Ayah 13:3939۔ جب قریش نے آنحضرت ﷺ سے وہ معجزات چاہے جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا اوپر کا ٹکڑا نازل فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی معجزہ کا ظاہر کردینا رسولوں کا کام نہیں ہے مصلحت وقت کے موافق اللہ کی درگاہ میں ہر کام کے لئے وقت مقرر ہو کر لکھا جا چکا ہے جب تک وہ وقت مقرر پہنچ نہ جاوے اور اللہ کا حکم نہ ہو کوئی کام نہیں ہوسکتا یہ سن کر قریش نے آپس میں چرچا کیا کہ محمد ہر وقت عذاب الٰہی سے جو ڈراتے تھے اب معلوم ہوگیا کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہر کام کا لکھا ہوا وقت جب تک نہ آوے کچھ نہیں ہوسکتا اسی طرح جب ایک آیت اتر کر پھر وہ منسوخ ہوجاتی اور اسی کی جگہ دوسرا حکم آجاتا تو قریش یہ بھی چرچا کرتے تھے کہ قرآن اللہ کی طرف سے ہوتا تو یہ گھڑی گھڑی کا ردو بدل اس میں نہ ہوتا معلوم ہوتا ہے کہ محمد اپنی طرف سے ایک بات کہہ دیتے ہیں پھر جب جی چاہتا ہے تو اس کی جگہ دوسری بات کہہ دیتے ہیں ان کے ان چرچوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ ٹکڑا آیت کا نازل فرمایا حاصل معنے اس کے یہ ہیں کہ رمضان میں ہر شب قدر کو سال بھر تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کا حساب و کتاب لوح محفوظ سے نقل کرا کے اللہ تعالیٰ ملائکہ کو دیتا ہے اسی کے موافق سال بھر تک ملائکہ عمل کرتے ہیں یہ ایک سال کا دنیا بھر کا حساب ہے اور جس مدت تک دنیا چلے گی وہ دنیا کی عمر تک کا حساب ہے وہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور چار مہینے کا حمل ہوجانے کے بعد ماں کے پیٹ کے بچے کا حساب جو رزق عمر نیک و بد ہونے کا لکھا جاتا ہے اور پھر بچہ میں روح پھونکی جاتی ہے جس کی روایت صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے ہے۔ یہ ہر ایک انسان کا عمر بھر کا حساب ہے سال بھر کے حساب کا پر چہ ملنے سے پہلے ملائکہ کو ہر ایک انسان کا عمر بھر کا حساب تفصیل سے نہیں معلوم ہوتا مثلاً خلفاً اربعہ کی والدہ کی حمل کی مدت چار مہینے کے ہوجانے کے بعد پتلے میں روح پھونکنے سے پہلے ملائکہ کو یہ تو معلوم ہوگیا تھا کہ یہ چاروں شخص اپنی عمر کا کچھ حصہ شرک میں بسر کر کے پھر مسلمان ہوں گے اور ایسی حالت میں وفات پائیں گے کہ نبی کے بعد ان کا ہی درجہ ہے لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ عمر بھر کے کون سے سال میں یہ ایمان لاویں گے سالانہ حساب کا پر چہ ملنے کے بعد ہر ایک بات کی سالانہ تفصیل دنیا میں ظاہر ہونے سے پہلے ملائکہ کو معلوم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح سالانہ پر چہ ملنے سے پہلے جو کچھ لوح محفوظ میں لکھا وہ سوا خدا کے کوئی نہیں جانتا اب رہی یہ بات کہ ردو بدل لوح محفوظ کے حساب اور عمر بھر کے حساب اور سالانہ حساب سب میں ہوسکتا ہے یا نہیں حضرت عمر ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ اور متقدمین کا یہ مذہب ہے کہ ہاں اللہ کی قدرت میں سب کچھ ہے وہ ان تینوں حسابوں میں سے جس حساب کی جس بات کو چاہے بدل بدل سکتا ہے۔ ترمذی صحیح ابن حبان مستدرک حاکم وغیرہ میں چند صحابہ سے معتبر روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ سوا دعا کے تقدیر کسی چیز سے نہیں بد ل سکتی اور سوا نیکی کے عمر کسی چیز سے نہیں بڑھ سکتی اور گناہ کے سبب سے گنہگار شخص وہ رزق گھٹ جاتا ہے جو اس کے مقسوم میں ہے، ان حدیثوں سے حضرت عمر اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کے مذہب کی پوری تائید ہوتی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے قریش کو دھمکایا اگرچہ اللہ کی بارگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے مگر جس نے وہ وقت ٹھہرایا ہے وہی اس وقت کے بدل ڈالنے اور وقت سے پہلے تم کو ہلاک کردینے پر قادر ہے اس لئے مصلحت وقت کے موافق جس طرح وہ احکام شریعت کو بدلت رہتا ہے اگر اسی طرح کسی مصلحت سے وقت مقررہ عذاب کو منسوخ فرما کر دوسرا وقت وہ باری تعالیٰ ٹھہراوے تو تمہارا کیا بس چل سکتا ہے اس واسطے سرکشی چھوڑو اور اس کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے رہو۔
Ayahs 13:40–4140۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ کفار کے لئے ہم نے جو وعدہ کیا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں بھی عذاب ہے اور آخرت میں بھی ہم چاہیں تو کچھ عذاب تمہاری حیات میں ان پر نازل کردیں یا تمہیں اپنے پاس بلا لیں یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر تمہارا کام صرف پیغام الٰہی کا پہنچانا ہے۔ کوئی ایمان لائے یا نہ لائے تم سے اس بارے میں کچھ سوال نہ ہوگا تم اپنا کام کئے جاؤ باقی رہی جزا سزا وہ اللہ کے اختیار میں ہے ہم اچھی طرح ان کا حساب کتاب کر کے فیصلہ کردیں گے پھر اس کے بعد آنحضرت ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے فرمایا کہ اس وعدہ کی یہ علامت ظاہر بھی ہو رہی ہے کہ ملک ان کے ہاتھوں سے رفتہ رفتہ نکلے جارہے ہیں اور مسلمان اس پر قابض ہوتے جاتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ وغیرہ کا یہی قول ہے اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ خدا کے حکم کا کوئی پھیر نے والا نہیں ہے وہ جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے اس کے حکم سے اسلام کا قبول عروج پر ہوگا اور کفر کو ادبار نصیب ہوگا یہ حکم ہو کے رہے گا کسی طرح بدل نہیں سکتا۔ سورت القمر میں جب یہ مکی آیت { سیھزم الجمع ویولون الدبر } [54: 45] نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین مکہ کی جماعت اور گروہ کو قریب ہے کہ شکست ہوجاوے اور یہ لوگ بھاگ جاویں تو حضرت عمر ؓ کو شبہ تھا کہ یہ کن لوگوں کی شکست کا ذکر ہے لیکن جب بدر کی لڑائی کے حملہ کے وقت آنحضرت ﷺ نے یہ آیت پڑھی اس وقت حضرت عمر ؓ کہتے ہیں مجھ کو یہ معلوم ہوا کہ اس مکی آیت میں مشرکین مکہ کی شکست کا وعدہ تھا جس کو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ صحیح بخاری نسائی، طبرانی اور بیہقی کی الاسماء والصفات میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور طبرانی تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں 1 ؎ ہیں ان میں یہ قصہ تفصیل سے ہے معتبر سند سے مسند امام احمد اور نسائی میں براء بن عازب ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ احزاب کی لڑائی کے وقت مدینہ کے گرد جب خندق کھودی جاتی تھی تو اس میں ایک گھنگرو سخت نکل آیا جس کو پھاوڑے کی تین ضربوں سے آنحضرت ﷺ نے خود توڑا اور پھاوڑے کی پہلی ضرب پر ملک شام اور دوسری ضرب پر ملک فارس اور تیسری ضرب پر ملک یمن فتح ہوجانے کی خوشخبری دی جس کا ظہور آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کے زمانہ میں 2 ؎ ہوا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں دو طرح پر اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا پیشین گوئی کے طور پر جو ذکر تھا ان روایتوں سے ان کے ظہور کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے اور اس سچی پیشن گوئی سے قرآن شریف کا کلام الٰہی اور محمد رسول اللہ ﷺ کا سچا رسول ہونا اچھی طرح ثابت ہوسکتا ہے۔
اس آیت کے اوپر کے ٹکڑے میں زمین کے گھٹانے کا جو ذکر ہے اگرچہ بعضے مفسرین نے اس کا مطلب اور بھی بیان کیا ہے مگر صحیح مطلب یہی ہے جو شاہ صاحب نے اپنے اردو فائدہ میں بیان کیا ہے کہ کفر دن بدن زمین پر گھٹتا جاتا ہے اور اسلام ظہور پکڑتا جاتا ہے اس مطلب پر بعضے مفسروں نے یہ جو اعتراض کیا ہے کہ جب اکثر مفسرین کے نزدیک یہ سورت مکی ہے تو ہجرت سے پہلے جب تک آنحضرت ﷺ میں تھے اس وقت تک کفر کون سی بستیوں میں گھٹتا تھا کہ جن بستیوں کے حال پر اس آیت کے مطلب کو صادق کیا جائے اگرچہ بعضے مفسروں نے اس اعتراض سے بچنے کے لئے اس آیت کو مدنی کہا ہے لیکن صحیح جواب اس اعتراض کا وہی ہے جو شاہ ولی اللہ علیہ الرحمتہ نے اپنے فارسی فائدہ میں دیا ہے کہ ابوذر غفاری ؓ کا قبیلہ اور چار قبیلے ہجرت سے پہلے اطراف مکہ میں اسلام قبول کرچکے تھے جن کا تفصیلی ذکر صحیح بخاری 3 ؎ اور حدیث کی کتابوں میں ہے ان قبائل کے حال سے ہی اللہ تعالیٰ نے قریش کو اس آیت میں قائل کیا ہے کہ قریش دیکھتے نہیں کہ اطراف مکہ کے لوگ اسلام قبول کرتے جاتے ہیں اور ان کی بستیوں میں کفر گھٹتا جاتا ہے لیکن اہل مکہ نے اللہ کے گھر میں وہی قدیمی کفر پھیلا رکھا ہے اللہ سے ڈرنا چاہیے اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن سب نیک و بد کا اللہ تعالیٰ کے روبرو حساب ہونے والا ہے۔ صحیح مسلم میں ابوذر ؓ کی بڑی حدیث ہے جس میں ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میرے اسلام لانے کے وقت آنحضرت ﷺ نے مجھ کو یہ نصیحت کی تھی کہ اپنی قوم کو بھی اسلام لانے کی رغبت دلانا اس لئے مکہ سے اسلام لا نے کے بعد جب میں اپنی قوم میں آیا اور میں نے ان کو اسلام کی رغبت دلائی تو آدھی قوم ہجرت سے پہلے مسلمان ہوگئی اور آدھی ہجرت کے بعد 4 ؎۔ اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ ابوذر غفاری ؓ کے قبیلہ بنی غفار میں اور اس قبیلہ کے پڑوسی قبائل مزینہ جہینہ اور اشجع میں عرب کے اور قبائل سے پہلے اسلام کیوں کر پھیلا، بنی غفار مزینہ جہنیہ اور اشجع قبیلہ مضر کی شاخیں ہیں لیکن قبیلہ مضر کی اور شاخوں ہوازن وغیرہ سے ان لوگوں کا اسلام پہلے ہے اسی طرح کے لوگوں کو آنحضرت ﷺ نے صحیح بخاری 5 ؎ کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت میں ( غیر خزایا ولا ندانی) فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر لڑائی کے اپنی خوشی سے یہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 564 ج 2 باب قصۃ بدر و فتح الباری ص 6 ج 4 و تفسیر مظہری ص 142 ج 9۔
2 ؎ مجمع الزوائد ص ؎ 13 ج 6 باب غزوۃ الخندق وانفرلیظتہ۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 498 ج 1 باب ذکر اسلم و غفار دمزینہ الخ۔
4 ؎ صحیح مسلم ص 295۔ 296 ج 2 باب من فضائل ابی ذر۔
5 ؎ ص 13 ج اول باب اواء الخمس من الایمان
Ayah 13:4242۔ مگر کہتے ہیں اس طرح سے انسان کو تکلیف پہنچانے کو جس سے وہ بالکل بیخبر ہو اللہ پاک نے اس آیت میں حضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جس طرح کفار مکہ تمہاری ایذا رسانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اسی طرح ان سے پہلے بھی لوگ خدا کے رسولوں کو ایذا پہنچا چکے ہیں۔ جیسے نمرود نے ابراہیم (علیہ السلام) کو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تکلیف دی مگر ان کے یہ مکر کچھ پیش نہیں چل سکتے کیونکہ جتنے مکر ہیں سب خدا کی مخلوق ہیں اور اسی کے ارادہ سے ظاہر ہوتے ہیں اسی لئے کسی مکر سے کوئی نفع اور ضرر بغیر حکم خدا کے نہیں ہوسکتا اور وہ ہر شخص کے عمل کو جانتا ہے کہ کون برائی کرتا ہے اور کون بھلائی کرتا ہے پھر جو جیسا کرے گا اس کو ویسا بدلہ ملے گا اور کفار یہ بات بھی عنقریب جان لیں گے کہ آخرت کا گھر کس کو ملنا ہے مومنین کو یا ان کفار کو۔ معتبر سند سے مسند امام احمد طبرانی اور دلائل النبوۃ بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جب آنحضرت ﷺ کو شہید کر ڈالنے کا مشورہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس مشورہ کا حال اپنے رسول کو جتلا دیا اس لئے آپ نے اپنی جگہ پر سونے کے لئے حضرت علی ؓ کا حکم دیا اور آپ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ساتھ لے کر پہلے غار ثور کو اور پھر مدینہ کو چلے 1 ؎ آئے ان حدیثوں سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے آگے اللہ کے رسول کے مخالفوں کا کوئی مکرو فریب چل نہیں سکتا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث گزر چکی 2 ؎ ہے کہ بدر کی لڑائی میں جو مشرک مارے گئے تھے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر اللہ کے رسول نے فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کا وعدہ سچا پالیا اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس حاصل یہ ہے کہ اب یہ مشرک لو عقبی کے عذاب کو جھٹلاتے ہیں مگر مرنے کے ساتھ ہی ان کو اپنا عقبی کا انجام معلوم ہوجاوے گا۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 303 ج 2 تفسیر آیت واذا یمکریک الذین کفروالآیہ۔
2 ؎ جلد ہذا 202۔ 208۔ 227۔ 234۔