12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الف لام را۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔

مسنگ
Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سجمھ سکو

مسنگ
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں۔ اور تم اس سے پہلے بیخبر تھے۔

مسنگ
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔

مسنگ
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

مسنگ
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (ممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بیشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

مسنگ
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

ہاں یوسف اور انکے بھائیوں کے (قصے) میں پوچھنے والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

مسنگ
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں۔

مسنگ
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالوں یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہو جائیگی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے۔

مسنگ
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہتے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو کہ کوئی راہ گیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو) ۔

مسنگ
Ayahs 12:11–12

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(یہ مشورہ کرکے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ ابا جان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اسکے خیر خواہ ہیں ؟

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اسکے نگہبان ہیں۔

11۔ 12۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا یہ قول روبیل کے اسی صلاح کی بنا پر تھا جس کا ذکر اوپر گزرا لیکن بات بنانے کے طور پر باپ سے یہ بات کہی کہ آپ ہم پر اعتبار کیوں نہی کرتے اور ہمیں یوسف کا خیر خواہ جان کر یوسف کو ہمارے ساتھ کیوں نہیں بھیجتے۔ یہ لوگ بکریاں چرانے جنگل میں جایا کرتے تھے اس لئے کہا کہ کل یوسف کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے۔ یہ وہاں جا کر کھیلے کودے گا اس کے ہاتھ پاؤں کھلیں گے اور ہم اس کے محافظ ہیں کسی قسم کا نقصان اسے نہیں پہنچے گا۔ صحیح بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی اور ابوداؤد میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا سچ آدمی کو جنت کا راستہ بتلاتا ہے اور جھوٹ دوزخ کا 1 ؎ اس کے علاوہ سچ کی تعریف اور جھوٹ کی مذمت میں اور بہت سی صحیح حدیثیں ہیں۔ روبیل کی صلاح کے موافق یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے دل میں تو یوسف کی بدخواہی تھی لیکن بات بنانے کے طور پر انہوں نے باپ کے روبرو اپنے آپ کو یوسف کا خیر خواہ جو ظاہر کیا یہ جھوٹ میں داخل ہے جو علماء یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی نبوت کے قائل ہیں وہ یہاں بھی وہی بات کہتے ہیں جو حسد کے بیان میں گزری۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 900 ج 2 باب قولہ اتقواللہ کو نوامع الصادقین و مشکوۃ ص 412 باب حفظ اللسان الخ۔
Ayahs 12:13–14

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جداہو جائے) اور مجھے یہ بھی خوف ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں اسے بھیڑ یا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑ گے۔

13۔ 14۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہ جواب دیا کہ اگر تم اس کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے تو میرا جی گھبرائے گا تمہارے واپس آنے تک میں اس کے بغیر کیوں کر رہ سکتا ہوں میرے دل کو جب تک کس طرح چین آئے گا۔ اصل میں یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ نہایت ہی محبت تھی گھڑی بھر کی جدائی ان کی ان پر شاق گزرتی تھی کیونکہ آپ پیغمبر تھے اور یوسف (علیہ السلام) میں بھی نبوت کی بو پاتے تھے اس کے علاوہ حسن بھی اللہ پاک نے یوسف (علیہ السلام) کو ایسا ہی دے رکھا تھا جو کسی مخلوق کو خدا نے نہیں دیا چناچہ صحیح مسلم میں انس بن مالک ؓ کی روایت سے جو معراج کی حدیث ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے یوسف (علیہ السلام) کے حسن کی تعریف فرمائی ہے 1 ؎ ناقابل اعتراض سند سے ابو سعید خدری ؓ کی بیہقی میں اور ابوہریرہ ؓ سے طبرانی میں جو 2 ؎ روایتیں ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور لوگوں کے حسن کو تارے خیال کرنا چاہیے اور یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم تو اپنی تیر اندازی اور دوا دوش میں رہو گے اور بچہ تنہا رہ جائے گا اور کوئی بھیڑیا اس کو اٹھا کرلے گیا اور کھا گیا اور تم بیخبر کے بیخبر ہی رہے تو پھر کیا ہوگا اس لئے میں تو اس کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجتا۔ باپ کی یہ بات سن کر بیٹوں نے جواب دیا کہ واہ یہ بھی آپ نے خوب فرمایا کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ ہم یوسف سے غافل رہیں علاوہ اس کے بھیڑئیے کی کیا ہستی ہے اگر ایسا ہی بھیڑیا لے جایا کرے تو ہم تو روز آئے دن خسارے اور گھاٹے میں رہیں ہماری بکریاں ہر روز ایک ایک کر کے بھیڑیا لے جائے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ باپ کے منہ سے جو کلمہ نکلا تھا اسی کو ان لوگوں نے آخر کار اپنا عذر ٹھہرایا اور یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈال کر آئے تو یہی حیلہ کیا کہ اس کو بھیڑیا کھا گیا اس واسطے حدیث شریف میں آیا ہے کہ کسی کو ایسی بات کی تلقین نہ کی جائے جس کو وہ بہانہ مقرر کر کے جھوٹ بولے جس طرح یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے یہ بات نہیں جانتے تھے کہ انسان کو بھیڑیا کھا جایا کرتا ہے جب باپ نے ان کے سامنے یہ بات کہی کہ مجھ کو ڈر ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو کبھی بھیڑیا نہ کھائے اور تم اس سے غافل رہو اسی کو ان لوگوں نے سیکھ کر باپ کے سامنے جھوٹ بنایا اور کہا کہ اس کو تو بھیڑیا کھا گیا۔ 3 ؎ یہ حدیث تفسیر ابو الشیخ اور تفسیر ابن مردویہ میں عبد اللہ بن عمر ؓ اور تفسیر ابن ابی حاتم میں ابو مجلز کی روایت سے ہے یہ ایک جگہ گزر چکا ہے کہ ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں صحت روایت کی زیادہ پابندی کی ہے۔ اس لئے اس روایت کو بےاصل نہیں کہا جاسکتا ان ابو نجلز کا نام لاحق بن حمید ہے یہ ثقہ تابعی ہیں ان کی ملاقات عبد اللہ بن عمر۔ ‘ عبد اللہ بن عباس ؓ اور انس ابن مالک ؓ سے ہوئی ہے صحاح کی سب کتابوں میں ان لاحق بن حمید ابو مجلز سے روایتیں ہیں اس لئے مرسل طور پر یہ صحیح روایت ہے۔ عبد اللہ بن عمر ؓ کی اوپر کی مرفوع حدیث کو اس مرسل روایت سے ملایا جاوے تو یہ حدیث معتبر ٹھہرتی ہے۔ تابعی اگر آنحضرت ﷺ سے روایت کرے تو اس کو مرسل کہتے ہیں اور صحابی کی روایت کو مرفوع۔ 1 ؎ صحیح مسلم ص 91 ج 1۔ باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الخ۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیر 12 و 19 ج 3۔ 3 ؎ تفسیر فتح البیان ص 492 ج 2۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اسکو گہرے کنوئیں میں ڈال دیں تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کو اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور انکو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی۔

15۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اس بات کی خبر دی کہ آخر کار یوسف کے دسوں سوتیلے بھائی ضد کر کے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو باپ کے پاس سے لے کر چلے اور جب کچھ دور پہنچ گئے تو اپنی عداوت ان پر ظاہر کرنے لگے اور طرح طرح کی تکلیف اور ایذا یوسف (علیہ السلام) کو پہنچانے لگے۔ جب ایک بھائی ان کو مارتا تھا تو یہ دوسرے بھائی سے فریاد کرتے تھے وہ بھی مارنے لگتا تھا۔ راستہ بھر یہی حالت رہی آخر یہودا سے نہ رہا گیا اس نے کہا کہ آپس میں تو یہ بات طے ہوئی ہے کہ اس کو کنوئیں میں ڈالیں گے اب یہ کیا حرکت ہے جب یہودا نے یہ بات کہی تو یوسف کے بھائی اس ایذا رسانی سے باز آئے اور اسی پر متفق ہوئے کہ چل کر اس کو کنوئیں کی تہہ میں ڈال دیں غیابت الجب باندھیں تاکہ کنوئیں کی منڈیر وغیرہ پکڑ کر بچ نہ رہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی سے ان سے کہا کہ میرے ہاتھ تو کھول دو کنوئیں کے اندر خدا جانے کون کون سے جانور ہوں گے اور مجھے ایذا پہنچائیں گے کاٹ کھائیں گے میرے ہاتھ قابو میں رہیں گے تو میں ان جانوروں کو دفع کرسکوں گا اور میرا کرتہ بھی دے دو تاکہ میرا ستر تو ڈہنکا رہے مگر افسوس کہ یوسف (علیہ السلام) کے ان سخت دل بھائیوں نے ایک نہ سنی اور ان کو کنوئیں میں لٹکا ہی دیا جب آدھی دور تک کنوئیں میں پہنچے تو رسی کاٹ دی اور کہا کہ اسی شمس و قمر اور ستاروں کو پکارو جنہیں خواب میں دیکھا تھا وہی تمہیں کپڑا بھی دیں گے اور تمہیں اس آفت سے بچائیں گے۔ یوسف (علیہ السلام) جب کنوئیں میں گرے تو بالکل تہہ میں نہیں پہنچے۔ کنوئیں کے بیچ میں ایک پتھر تھا اس پر کھڑے ہوگئے اللہ پاک نے ان کی تسکین کے لئے ایک فرشتہ بھیج دیا۔ بعضے مفسروں کا قول ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے گلے میں ایک تعویذ تھا فرشتے نے اسے کھولا یہ تعویز دراصل تعویذ نہ تھا بلکہ اس میں وہی کرتہ لپٹا ہوا تھا جو جبرائیل (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے واسطے لے کر آئے تھے اور جب نمرود نے آپ کو برہنہ کر کے آگ میں ڈلوایا تھا تو یہی کرتہ جبرئیل (علیہ السلام) ‘ ابراہیم (علیہ السلام) کو پہنا گئے تھے یہ کرتہ نسلاً بعد نسل پہلے اسحاق (علیہ السلام) کے ورثہ میں آیا پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ملا حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف میں نبوت کی بو پاتے تھے اس لئے اس کرتہ کا وارث انہیں کو جان کر تعویذ کی طرح لپیٹ کر ان کے گلے میں باندھ دیا تھا یہ کرتہ اس جگہ کام آیا فرشتے نے کھول کر انہیں پہنا دیا پھر اللہ پاک نے اس بات کا ذکر فرمایا کہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) پر اس وقت یہ وحی بھیجی کہ تم اپنا دل اس بات سے خوش رکھو تم انہیں ان کے کردار بد کسی وقت جتلاؤ گے اور انہیں اس بات کی مطلق خبر تک نہ ہوگی بلکہ تمہیں یہ پہچانیں گے بھی نہیں اور خدا تمہیں ان لوگوں پر فتحیاب کرے گا اور عالی رتبہ بنائے گا۔ تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر ہوگئے تھے تو قحط کے زمانے میں یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان کے پاس پہنچے اور یوسف (علیہ السلام) کو نہیں پہچانا لیکن یوسف (علیہ السلام) نے انہیں شناخت کرلیا تھا اور غلہ ناپنے کا پیمانہ جو یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ میں تھا اس کو یوسف (علیہ السلام) نے ٹھونکا اور کہا کہ یہ جام تو اس بات کی خبر دیتا ہے کہ تمہارا ایک بھائی سوتیلا اور بھی تھا اس کا یوسف نام تھا تمہارے باپ اس کو بہت پیار کرتے تھے اور اپنے سے جدا نہیں کرتے تھے تم اسے باپ کے پاس سے لے جا کر گمنام کنوئیں میں ڈال آئے پھر دوبارہ اس پیمانہ کو ٹھونکا اور کہا کہ یہ پیمانہ خبر دیتا ہے کہ تم نے باپ کے پاس جا کر کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑیا کھا گیا اور تم اس کے کرتے پر کسی جانور کا خون لگا کرلے گئے تھے تاکہ باپ تمہارے قول کی تصدیق کرلیں غرض کہ یوسف (علیہ السلام) سے اس بات کو سن کر یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ایک دوسرے سے آپس میں کہنے لگے کہ یہ جام تو ہمارے حالات کی خبر دیتا ہے صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں وہ قصہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود اور اس کی قوم کے بتوں کو توڑ ڈالا تھا اور جب نمرود کے روبرو اس کی دریافت شروع ہوئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ جواب دیا تھا کہ اگر تمہارے یہ بت بولتے ہیں تو اس بڑے بت سے پوچھو اسی نے ان سب چھوٹے بتوں کو توڑا ہے 1 ؎ اور خود ثابت ہے زیادہ تفصیل اس قصے کی سورت الانبیاء میں آوے گی مگر یہاں حاصل اسی قدر ہے کہ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں کے باب میں ان نمرودی لوگوں کو قائل کیا تھا اسی طرح یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو پیمانہ کے بولنے کی حالت سے قائل کیا حاصل کلام یہ ہے کہ بعضی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ظاہر حال میں وہ جھوٹی نظر آتی ہیں لیکن حقیقت میں ان باتوں کو ذریعہ ٹھہرا کر ایک سچی بات کو نئے ڈھنگ سے ظاہر کیا جاتا ہے جس طرح یہاں یوسف (علیہ السلام) نے پیمانہ کے بولنے کو ذریعہ ٹھہرا کر ایک سچی بات اپنے بھائیوں کو جتلائی اور پیمانے کے بولنے کا یہ مطلب ٹھہرایا کہ اگر پیمانہ بولتا تو یہی سچی بات بولتا۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 506 باب بدء الخلق الخ و تفسیر ابن کثیر ص 183 ج 3۔
Ayahs 12:16–18

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو دوڑ نے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔ تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے۔

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا حقیقت الحال یوں نہیں تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو اچھا صبر اور وہی خوب ہے اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے۔

16۔ 18۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈال کر گھر کو واپس آئے اور رات کے وقت اندھیرا ہوجانے پر باپ کے پاس روتے ہوئے آئے تاکہ اندھیرے میں ہماری صورتوں اور چہرے سے جھوٹ نہ ظاہر ہو اور گریہ وزاری سے زیادہ تصدیق ہمارے قول کی ہوگی باپ کے پاس پہنچ کر رو رو کر بیان کیا کہ ہم تو تیر اندازی اور دوا دوش میں رہے اور یوسف (علیہ السلام) کو اپنے سامان کے پاس بٹھا دیا تھا ہمارا دور ہونا تھا کہ بھیڑیا آکر یوسف کو کھا گیا اور اس کے ساتھ کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ آپ ہماری بات کو ہرگز یقین نہ کریں گے چاہے سچ ہی کہتے ہوں کیوں کہ باپ نے ان سے پہلے کہہ دیا تھا کہ مجھے خوف ہے کہ شاید یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑیا کھا جائے اور تم اس سے غافل رہو آخر وہی ہوا اس لئے انہوں نے تمہید اٹھائی کہ آپ یقین نہیں کریں گے اگرچہ ہم سچ ہی بولتے ہوں اس کے بعد وہ کرتہ جو یوسف (علیہ السلام) کا لے لیا تھا اس کو بکری ذبح کر کے اس کے خون میں رنگ کر لائے تھے وہ پیش کیا تاکہ باپ کو ہماری بات کا یقین کامل ہوجائے مگر اتنا نہ سمجھے کہ باپ ہمارے خدا کے رسول ہیں کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں کیا وہ اتنا نہ سمجھیں گے کہ بھیڑیا اگر کھا گیا تو کرتہ ثابت چھوڑ گیا کہیں سے پھٹا بھی نہیں بہر حال باپ نے کرتہ دیکھتے ہی معلوم کرلیا کہ بیٹوں نے فریب کیا اور حسد کے مارے یوسف (علیہ السلام) کو مجھ سے علیحدہ کیا اس لئے یہ فرمایا کہ یہ سب محض جھوٹ ہے تمہارے دل نے یہ افترا پردازی کی ہے اب سوائے صبر کے کرنا کیا ہے اور یہی مناسب ہے کہ کوئی شکوہ و شکایت نہ ہو اور اس مصیبت پر خدا ہی سے مدد طلب کی جائے فسبق کے معنے تیر اندازی میں دوڑنے کے بھی ہیں اور آگے نکلنے کے لئے دو آدمی جو دوڑتے ہیں وہ معنی بھی ہیں۔ شریعت محمدی میں ملت ابراہمی کی اکثر باتوں کی پیروی ہے اس لئے شریعت محمدی میں بھی یہ دونوں باتیں موجود ہیں۔ چناچہ مسند امام احمد اور صحیح بخاری میں سلمۃ بن الاکوع سے روایت ہے جس میں عرب کے بعضے لوگوں کو تیر اندازی کرتے ہوئے دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے اولاد اسماعیل تیر اندازی کی ضرور مثاقی کرو تمہارے باپ اسماعیل (علیہ السلام) بھی تیر انداز 1 ؎ تھے۔ صحیح مسلم میں عقبۃ بن عامر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے (ما استطعتم من قوۃ) کی تفسیر تیر اندازی فرمائی ہے۔ 2 ؎ آگے نکلنے کے لئے دوڑنے کی ابوداؤد و نسائی ‘ ابن ماجہ اور مسند امام احمد میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس میں حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ وہ اور آنحضرت ﷺ مل کر دو دفعہ دوڑے پہلی دفعہ حضرت عائشہ ؓ آگے نکل گئیں اور دوسری دفعہ آنحضرت ﷺ آگے نکل گئے۔ 3 ؎ نعمت میں ایمان کے معنے کسی بات کی صداقت کے ہیں اور شریعت میں احکام الٰہی کی صداقت کے ہیں (وما انت بمؤمن لنا) میں پہلے معنے لئے گئے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث جو اوپر گزری اس کی سند میں اگرچہ بعضے علماء نے کلام کیا ہے لیکن اس حدیث کے چند طریقے ہیں جس کے سب سے ایک سند کو دوسری سند سے تقویت ہوجاتی ہے اسی واسطے ابوداؤد اور منذری دونوں نے اس حدیث کی سند پر کچھ اعتراض نہیں کیا۔ صحیح بخاری و مسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مصیبت کے پیش آتے ہی شروع شروع میں آدمی صبر کرے تو اس صبر کا بڑا اجر ہے 4 ؎ ورنہ رفتہ رفتہ تو مصیبت کا صدمہ کم ہوجانے سے خود آدمی کو صبر آجاتا ہے۔ اس حدیث کی دوسری آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا حال سنتے ہی شروع صدمہ کے وقت صبر جمیل فرمایا اور اللہ تعالیٰ سے مدد چاہی۔ اس لئے وقت مقررہ آنے تک اگرچہ چالیس برس کی دیر لگی پھر اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) کے صبر کا اجر انہیں دنیا میں دکھا دیا کہ ان کے بیٹے کو عزیز مصر کر کے ان سے ملایا۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 336 باب اعداد التہ انجھاد۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 336 باب اعدادالتہ الجھاد۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 281 باب عشرۃ النسائ۔ 4 ؎ صحیح بخاری صد 174 باب الصبرعتہ الصدمۃ الاولی۔
Ayah 12:19

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

(اب خدا کی شان دیکھو) کہ اس (کنوئیں) کے قریب ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لئے) اپنا سقا بھیجا اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اسکو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپالیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا۔

19۔ جب یوسف (علیہ السلام) کو تین شبانہ روز کنوئیں میں گزرے تو ایک قافلہ جو مدین سے مصر کو جارہا تھا راہ بھول کر ادھر آنکلا اور اپنا ڈیرہ خیمہ وہاں نصب کیا اور پانی لانے کے واسطے پانی بھرنے والے کو بھیجا جب اس نے کنوئیں میں ڈول ڈالا تو یوسف (علیہ السلام) نے ڈول کو پکڑ لیا جب اوپر آئے تو پنھیارہ ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا کیوں کہ ان کا حسن بےمثال تھا کسی بشر کی مجال نہیں جو ان کے حسن کی صفت میں زبان کھول سکے وہ پانی والا خوشی میں آکر چیخ اٹھا کہ یہ نہایت ہی خوش نصیبی ہے اور بڑی ہی خوشی کی بات ہے کہ یہ لڑکا ہاتھ آیا۔ تفسیر سدی میں یا بشری ھذا غلام کی تفسیر میں یہ بات بیان کی ہے اس قافلہ میں بشریٰ ایک شخص کا نام تھا اسی کو پانی والے نے پکار کر کہا یا بشریٰ یہ لڑکا مجھے پانی بھرتے میں ملا پھر اہل قافلہ نے یوسف (علیہ السلام) کو چھپایا اور یہ بات نہیں ظاہر کی کہ یہ لڑکا ہمیں اس طرح کنوئیں میں سے ملا ہے بلکہ یہ کہا کہ اس کو ایک شخص ہمارے ہاتھ بہت ہی کم داموں پر بیچ گیا ہے تاکہ ہم اسے مصر میں لے جا کر فروخت کریں پھر اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا کہ اللہ کو ہر ایک بات کی خبر ہے یہ لوگ جو کچھ کھلم کھلا کرتے ہیں اس کو بھی وہ جانتا ہے اور جو بات ہی لوگ چھپا کر کرتے ہیں اس کی بھی اس کو خبر ہے اور دوسری تفسیر ( واسروہ بضاعۃ واللہ علیم بما یعملون) کی یہ بھی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا سوتیلا بھائی یہودا روز کنوئیں پر آتا تھا اور کچھ کھانے پینے کی چیز ان کے واسطے لے کر آتا تھا جس روز وہاں قافلہ آیا اور پانی والے نے یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں سے نکالا اس نے اور بھائیوں کو جا کر اس کی خبر کی اور دوستوں مل کر وہاں پہنچ کر کہنے لگے کہ یہ ہمارا غلام ہے بھاگ کر آیا ہے اور اس بات کو پوشیدہ رکھا کہ یہ ہمارا بھائی ہے اور ہم نے کنوئیں میں اس کو ڈالا ہے اور یوسف (علیہ السلام) بھی یہ مصلحت وقت سوچ کر خاموش رہے کہ اگر ظاہر کر دوں کہ میں ان کا بھائی ہوں تو یہ قافلہ کے لوگ مجھے بھائیوں کے حوالہ کردیں گے اور بھائی مجھے لے جا کر قتل کر ڈالیں گے اس لئے انہوں نے کچھ تھوڑے درہموں پر اپنا فروخت ہوجانا پسند کرلیا۔ اسی کو اللہ پاک نے بیان کیا کہ یوسف کے بھائی جو جو حرکات اور جو جو فعل کر رہے ہیں باپ سے اگرچہ پوشیدہ کر رہے ہیں مگر اللہ جو غیب کا جاننے والا ہے وہ خوب جانتا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہونے والا تھا اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ 1 ؎ یہ حدیث (واللہ علیم بما یعملون) کی گویا تفسیر ہے۔ 1 ؎ صحیح مسلم ص 335 ج 2 باب حجاج آدم و موسیٰ ۔
Ayah 12:20

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور اسکو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدو دے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انھیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ بھی نہ تھا۔

20۔ علمائے مفسرین نے پہلے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں سے جو کچھ خطائیں ہوئی ہیں ان کو گنا ہے کہ قطعی رحم نبی باپ کی نافرمانی معصوم کو غلام بنا کر بیچنا وغیرہ اور پھر اس میں بڑی بحث کی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی تو نبی تھے ان سے اس طرح کی خطائیں کیوں کر ہوئیں پھر بعضے مفسروں نے یہ جواب دیا ہے کہ جس وقت یہ خطائیں ان سے ہوئیں اس وقت وہ نبی نہیں تھے اس کے بعد ان کو نبوت ہوئی ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے حق میں اسباط کا لفظ جو آیا ہے اس سے مفسرین نے ان کی نبوت نکالی ہے لیکن جس طرح عرب کی قوم کی شاخوں کو عام طور پر قبائل کہتے ہیں اسی طرح سے حضرت یعقوب کی اولاد کی شاخوں کو عام طور پر اسباط کہتے ہیں کسی خاص شاخ کو اس لفظ سے مراد لینا دلیل خاص کا محتاج ہے۔ اگرچہ شرا کا لفظ خرید اور فروخت دونوں معنوں میں آتا ہے لیکن یہ لفظ یہاں فروخت کے معنے میں اس سبب سے ہے کہ آگے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا ذکر ہے کہ وہ اپنے بھائی یوسف سے بیزار تھے تو اب شرا کے معنے فروخت کے لئے جا کر یہی مطلب صحیح قرار پاتا ہے کہ اس بیزاری کے سبب سے یوسف کے بھائیوں نے اپنے بھائی یوسف کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا حاصل کلام یہ ہے کہ جب اوپر کی آیت میں یہ گزر چکا ہے کہ قافلہ کے لوگوں نے یوسف کو پونجی سمجھ کر اپنے ساتھیوں سے چھپا لیا تھا تو ان لوگوں کے حق میں کسی طرح یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کی خریداری سے بیزار تھے اسی لئے جن مفسروں نے یہاں شرا کے معنے خرید کے لئے ہیں حافظ ابو جعفر ابن جریر نے ان پر اپنی تفسیر میں طرح طرح سے اعتراض کیا ہے مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابوداؤد ‘ ابن ماجہ ‘ صحیح ابن حبان وغیرہ میں انس بن مالک ‘ ابوہریرہ ‘ ابوسعید خدری ؓ سے جو صحیح روایتیں ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر چیز کا نرخ اور قیمت قرار پایا کہ باوجود خوبصورتی کے یہاں ایک دفعہ یوسف (علیہ السلام) کی فروخت کا کم قیمت پر ہونا اور دوسری دفعہ مصر میں اچھی قیمت پر ہونا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اسی کی مصلحت کے موافق تھا اور ہر ایک وقت پر اس نے ظاہری اسباب کھڑے کر دئیے تھے۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے جس شخص کے ہاتھ یوسف (علیہ السلام) کو بیچا مفسروں نے اس کا نام مالک بن ذعر لکھا ہے۔ سیر چلنے پھرنے کو کہتے ہیں قافلہ کے لوگ مسافر ہوتے ہیں اس لئے قافلہ کو سیارہ کہتے ہیں۔
Ayah 12:21

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہ اس کو عزت و اکرام سے رکھو ' عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سر زمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

21۔ 22۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے اپنے الطاف اور مہربانیوں کا حال یوسف (علیہ السلام) پر بیان کیا کہ جب وہ قافلہ جس میں یوسف (علیہ السلام) تھے مصر میں پہنچا تو مالک بن زعر نے یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کیا۔ عزیز لقب تھا وہاں کے وزیر کا جس کے ہاتھ میں سلطنت کے کل امور ملکی اور مالی اور فوجی کے اختیارات تھے مصر کے بادشاہ کا نام ولید بن ریان تھا اور عزیز مصر کا نام قطفیر تھا۔ عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کے ہم وزن سونا اور چاندی اور مشک اور ریشمی کپڑے دے کر یوسف (علیہ السلام) کو خرید کیا تھا جس کا وزن چار سو رطل تھا ایک رطل نوے مثقال کا ہوتا ہے اور مثقال ساڑھے چار ماشے کا اس حساب سے کل چیزوں کا وزن چار من آٹھ سیر چھ ماشہ ہوتا ہے۔ عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کو گھر میں لا کر اپنی بیوی کے سپرد کیا جس کا مشہور نام زلیخا تھا۔ 1 ؎ اور بیوی سے کہا کہ دیکھو اس لڑکے کو نہایت آرام اور راحت سے رکھو اور اس کے رہنے سہنے کے واسطے جگہ درست کر دو اس لڑکے سے بہت بڑا فائدہ ہوگا اگر ہم اس کو فروخت بھی کردیں گے تو نفع کثرت ہاتھ آئے گا۔ یا ہم اس کو بیٹا بنائیں گے تاکہ میرے حیات میں اور میرے بعد امور مملکت میں میرا قائم مقام ہو۔ عزیز مصر لاولد تھا اس لئے اس نے یوسف (علیہ السلام) کو بیٹا بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ پھر اللہ پاک نے اس بات کا ذکر فرمایا کہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو فقط یہی منزلت نہیں دی کہ وہ عزیز مصر کے گھر میں رہنے سہنے لگے اور اس نے ان کو اپنا بیٹا بنانے کا ارادہ ظاہر کیا بلکہ تمام زمین مصر پر بعد کو پورا پورا اختیار ان کو دے دیا اور خواب کی تعبیر کا علم مرحمت کردیا۔ پھر یہ فرمایا کہ یوسف کے بھائیوں نے یہ چاہا تھا کہ یوسف اعلیٰ مرتبہ اور بلند درجے کو نہ پہنچے مگر اللہ جل شانہ اپنے ارادہ پر غالب ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا اس کے سامنے سب عاجز ہیں اس کے علم میں جو کچھ پہلے ٹھہر چکا ہے وہ اس کو پورا کر ہی کے رہتا ہے اکثر آدمی اس بات کو نہیں جانتے اور یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تقدیر الٰہی رک جائے اور جو منشاء خداوند جل جلالہ کا ہے وہ نہ ہونے پائے۔ بہر حال اسی وجہ سے کہ اللہ پاک کا ارادہ پورا ہو کر رہتا ہے اور کوئی امر اس کو روک نہیں سکتا۔ زلیخا جو ایک عورت تھی اور عورتوں کی صحبت میں یوسف (علیہ السلام) کو رہ کر انہیں کے سے نشست برخاست طور طریقے اختیار کرلینے تھے مگر اللہ کے ارادہ کے موافق یوسف (علیہ السلام) اسی عقل و دانش کے خلعت سے سرفراز رہے جو ایک شخص رات دن صالحین کی صحبت میں رہ کر حاصل کرسکتا ہے۔ پھر اللہ پاک نے اس بات کا ذکر فرمایا کہ جب یوسف (علیہ السلام) جوان ہوگئے تو اللہ نے انہیں احکام شرعیہ بتا دئیے اس جگہ مفسروں کا اختلاف ہے کہ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کیا عمر تھی۔ بعضوں نے کہا ہے کہ اٹھارہ برس کے تھے اور کسی نے یہ بیان کیا ہے کہ پچیس برس کے تھے اور کوئی کہتا ہے کہ تیس سال کے تھے کوئی یہ بھی کہتا ہے تینتیس برس کے تھے۔ بہر حال آیت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جب آپ اچھی طرح بالغ ہوگئے اور آپ کے ہاتھ پیروں میں پوری قوت آگئی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت عطا کی پھر اللہ پاک نے اس بات کا بیان فرمایا کہ اللہ کا یہ انعام فقط یوسف (علیہ السلام) ہی پر منحصر نہیں ہے بلکہ جو لوگ نیک بخت اور دیندار ہیں انہیں بھی اسی طرح کا بدلہ ملتا ہے۔ عزیز مصر نے جس رواج کے موافق یوسف (علیہ السلام) کو اپنا بیٹا بنانے کو کہا تھا یہ رواج عرب میں بھی تھا اور سورت احزاب کی آیتوں سے جب تک رواج منسوخ نہیں ہوا اس وقت تک یہ رواج اسلام میں بھی جاری رہا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے زید بن حارثہ کو اپنا متبنیٰ بیٹا بنایا تھا۔ صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ صحابہ زید بن حارثہ ؓ کو زید بن محمد ؓ کہہ کر پکار نے لگے۔ 2 ؎ مطلب اس حکم کا یہ ہے کہ بےپالک بچوں کو ان کے اصلی باپ کی ولدیت سے پکارا کرو مثلاً زید بن حارثہ ؓ کہا کرو زید بن محمد ؓ نہ کہا کرو یہی اللہ کے نزدیک انصاف کا حکم ہے جو اللہ نے تم کو دیا اس سے معلوم ہوا کہ شریعت کسی رواج کی پابند نہیں۔ اسی لئے سوا شریعت محمدی کے اور شریعتوں سے بھی رواج منسوخ ہوتا رہا ہے۔ مثلاً جس طرح شریعت محمدی نے بےپاک کے رواج کو منسوخ کردیا اسی طرح دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کے رواج کو شریعت موسوی نے منسوخ ٹھہرادیا جس کی تفصیل تورات کے حصہ تکوین باب 29 اور حصہ احباب باب 18 میں ہے حاصل کلام یہ ہے دو بہنوں کے نکاح میں رکھنے کے رواج کو جو تورات نے منسوخ کردیا اور اس کو عیسائیوں نے اپنا مذہب قرار دے لیا تو پھر لے پالک کے رواج کو اگر قرآن نے منسوخ کردیا تو یہ کیا نئی بات ہے آخر اس کو بیان تو کیا جاوے اور اس کے بیان تک ماننا پڑے گا کہ جب قرآن نے لے پالک کے رواج کو منسوخ کردیا تو نہ قرآن کو رواج کے تابع کیا جاسکتا ہے نہ منسوخ رواج کے بھروسہ پر زینب کے نکاح کی بابت کوئی اعتراض گھڑا جاسکتا ہے۔ اس سے زیادہ تفصیل زینب کے نکاح کی سورت احزاب میں آوے گی۔ 1 ؎ کسی مستند طریقے سے یہ تام ثابت نہیں ہوسکا واللہ اعلم۔ (ع۔ 1 ض) 2 ؎ صحیح بخاری ص 5۔ 7 ج 2 باب قولہ ادعوہم لا بائہم۔
Ayahs 12:22–23

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکو کاروں کو ہم اسی طرح بدلا دیا کرتے ہیں۔

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے انکو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یو سف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے وہ (یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔

23۔ اس آیت میں اللہ پاک نے عزیز مصر کی بیوی کے حال کی خبر دی کہ عزیز مصر کی بیوی زلیخا جس کے گھر میں یوسف (علیہ السلام) رہتے تھے اور اس کے شوہر نے تاکید کی تھی کہ یوسف (علیہ السلام) کو اچھی طرح رکھنا کسی طرح کی تکلیف اس کو نہ ہونے پائے وہ عورت حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن اور جمال پر فریفتہ ہوگئی اس کا جی چاہا کہ یوسف (علیہ السلام) سے بد فعلی کرے اس لئے اس نے خوب بناؤ کیا اور بن سنور کر اپنے مکان کے ساتوں دروازے بند کر دئیے جب دیکھا کہ یوسف اس تنہائی اور دروازے بند کرنے پر بھی اس کی طرح متوجہ نہیں ہوتے تو خود اپنی زبان سے اپنے مطب کا اظہار کیا اور اپنے پاس بلایا یوسف (علیہ السلام) اس کی اس بات سے بہت ہی پریشان ہوئے اور ایک نہایت معقول عذر اس کے سامنے پیش کیا جو عورتوں کی عقل کے آگے نہایت ہی قرین قیاس بھی تھا۔ فرمایا کہ یہ بات ظلم صریح ہے یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ عزیز مصر جو میرا آقا ہے اس کے گھر میں خیانت کروں اور آقا بھی وہ جو میرا ہر طرح سے کفیل ہے مجھے اچھی طرح رکھتا ہے کسی طرح کی تکلیف نہیں ہونے دیتا مجھے بجائے فرزند کے سمجھتا ہے میں تو خدا کے ساتھ پناہ پکڑتا ہوں عزیز مصر میرا پرورش کرنے والا ہے تو بدفعلی کی خواہش رکھتی ہے تو نہیں جانتی کہ بدکاری ایک ظلم ہے اور ظلم کرنے والے اللہ کی بارگاہ میں کبھی فلاح نہیں پاتے۔ زنا میں غیر شخص کی عورت پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے اس لئے زنا ظلم ٹھہرایا اوپر ایک جگہ گزرچکا ہے کہ مثلاً نماز نہ پڑھنا یا روزہ نہ رکھنا یہ حق اللہ کے گناہ کہلاتے ہیں اور کسی کی عورت سے بدکاری کا کرنا یا کسی کا مال چرا لینا یہ حق العباد کے گناہ کہلاتے ہیں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن حق العباد کے گنہگاروں کی نیکیاں صاحب حق کو مل جاویں گی۔ 1 ؎ حاصل کلام یہ ہے کہ حق العباد کے گناہ بغیر حق کی تلافی کے فقط توبہ سے معاف نہیں ہوتے بلکہ نیکیوں کی عین ضرورت کے وقت ایسے گنہگاروں کو نیکیوں کا نقصان پیش آوے گا اس لئے فرمایا کہ ایسے گنہگار قیامت کے دن کچھ بھلائی اور فلاں پاویں گے۔ 1 ؎ الترغی ص 299 ج 2 فضل فی ذکر الحساب وغیرہ۔
Ayah 12:24

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت نے انکا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا اور اگر وہ پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لئے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے۔

24۔ اس آیت کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں کہ قصد کی دو قسمیں ہیں ایک قصد مضبوط ہوتا ہے جس طرح زلیخا کا قصد تھا اور ایک قصد اوپرے دل سے ہوتا ہے۔ پہلے قصد پر مواخذہ ہے دوسرے قصد پر مواخذہ نہیں ہے چناچہ حضرت یوسف کا قصد دوسری قسم کا تھا بعضوں نے کہا ہے یہ معاملہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نبوت سے پہلے کا ہے لیکن صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ حضرت یوسف قصد کرتے اگر خدا کی طرف کی ہدایت کو نہ دیکھتے اس قول پر بعضے لوگوں نے یہ جو اعتراض کیا ہے کہ لفظ لولا کا جواب مقدم نہیں آتا اس کا جواب یہ ہے کہ بعضے نحویوں کے نزدیک تو مقدم آتا ہے اور یہ بات سب نحویوں کے نزدیک مسلم ہے کہ جواب لولا کا محذوف کہا جاوے تو لفظ لولا سے پہلے جو کچھ بات مذکور ہے وہی محذوف کے قائم مقام گنی جاوے اسی تسلیم کی بنا پر آیت (ان کا دت لتبدی بہ لولا ان ربطنا علی قلبھا) کے معنے عام مفسرین یہی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے صبر دینے کے سبب سے حضرت موسیٰ کیں قصہ کو ظاہر نہیں کیا پھر یہاں یہ معنے کیوں نہ کئے جاویں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے دیکھنے کے سبب سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے زلیخا کی طرف قصد نہیں کیا۔ اگر نحوی جھگڑے کے سبب سے اس قول کو صحیح نہ مانا جاوے تو پھر وہی قول صحیح قرار پاتا ہے کہ قصد کی دو قسمیں ہیں ایک مضبوط اور دوسرا اوپرے دل کا اس قول کی تائید میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ایک حدیث قدسی بھی صحیح بخاری و مسلم میں ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ انسان کے فقط بدی کے قصد پر کوئی بدی نہ لکھی جاوے 1 ؎ غرض ان دو قولوں کے علاو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور مجاہد کے جو قول ہیں ان کی سند معتبر نہیں ہے برھان ربہ کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی صورت اس طرح نظر آئی کہ گویا اس کام سے یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کو منع کر رہے ہیں۔ 2 ؎ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب زلیخا نے بدفعلی کا قصد کیا تو اوپرے دل سے کچھ وسوسہ یوسف (علیہ السلام) کے دل میں بھی گزرا تھا لیکن یوسف (علیہ السلام) اللہ چنے ہوئے بندوں میں سے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی قدرت کی نشانی دکھا کر اس برائی اور بےحیائی کے کام سے روک دیا۔ برائی سے مقصود عزیز مصر کی خیانت ہے اور بےحیائی سے مقصود بدکاری ہے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر 474 ج 2 حافظ ابن کثیر (رح) نے اسی توجیہ کو پسند کیا ہے اور یہی تحقیق شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رح) کی ہے فتاوی ابن تیمیہ (ص 285 ج 2) ۔ 2 ؎ لیکن اسرائیلیات سے ماخوذ معلوم ہوتی ہے (ع۔ ر)
Ayah 12:25

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا۔ تو عورت بو لی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اسکی اسکے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے ؟

25۔ زلیخا کی جب کچھ پیش نہ چلی اور ہزاروں آرزوں اور منتوں پر بھی یوسف (علیہ السلام) اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور اس کی ساری کوششیں بیکار گئیں اکیلے گھر میں جس کے ساتوں دروازے بند پڑے تھے یوسف (علیہ السلام) کو اور تو کچھ سوجھی نہیں دروازے کی طرف بھاگ چلے تاکہ مکان سے باہر نکل جائیں کہ وہاں اس عورت سے چھٹکارا ملے گا اور اس کے شر سے بچیں گے یوسف (علیہ السلام) کو بھاگتا ہوا دیکھ کر زلیخا بھی ان کے پیچھے بھاگی کہ ان کو پکڑ لیں باہر نہ جانے دیں اسی دوادوش میں یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ اس کے ہاتھ میں آگیا یوسف (علیہ السلام) کو اس کی پرواہ تو تھی نہیں کہ میرا کپڑا چھٹے گا وہ تو یہ چاہ رہے تھے کہ کسی طرح سے اس عورت سے رہائی ہو وہ بھاگے چلے گئے پیچھے کا دامن جو زلیخا کے ہاتھ میں آگیا تھا وہ پھٹ گیا اور پھٹا تو ایسا پھٹا کہ گردن کے پاس سے بالکل نیچے تک کا حصہ اس کے ہاتھ میں آگیا۔ جب یوسف (علیہ السلام) دروازے کے پاس آئے اور ان کے پیچھے زلیخا بھی آگئی تھی کہ اتنے میں اس کا شوہر بھی وہاں پہنچ گیا اس نے بہت ہی جلد ایک فریب بنا لیا اور شوہر سے کہنے لگی کہ ایسے آدمی کی یہی سزا ہے جو تیری بیوی کے ساتھ بدکاری کا ارادہ کرے کہ اس کو قید میں رکھنا چاہیے۔ یوسف (علیہ السلام) پر زلیخا دل و جان سے عاشق ہوگئی تھی۔ اس لئے سزا بھی تجویز کی تو ایسی جس میں ان کو زیادہ تکلیف نہ ہو اور پھر یہ آنکھوں سے اوجھل بھی نہ رہیں گے مگر فوراً اس کہنے کے بعد اس کے دل میں خیال آگیا کہ اس بات سے میری برأت پوری نہیں ہوگی عزیز مصر دل میں تاڑ جائے گا کہ یہ شرارت اسی عورت کی طرف سے ہے۔ یہی یوسف (علیہ السلام) پر فریقتہ ہے اس لئے جلدی سے یہ بھی کہہ دیا کہ یا اس کو سخت عذاب و تکلیف دینی چاہیے گو اس کا دل تو نہیں چاہتا تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کا ایک بال بھی بیکا ہو مگر پردہ داری کے خیال سے اس کو کہنا ہی پڑا کہ ان کو درے وغیرہ کی سخت سزا ملنی ضرور ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ عورت نے آپ اصرار کیا اور میں کسی طرح راضی نہ ہوا اور شہر کے سامنے الٹا مجھے بدنام کیا اور میرے لئے سزا کی بھی تجویز بتلائی تو آپ نے اپنی برأت کے لئے فقط ایک فقرہ جو بالکل صحیح تھا بیان کیا کہ میرا اس میں کوئی قصور نہیں ہے اس نے خود خواہش ظاہر کی اور اس بات کی طالب ہوئی اور میرے بھاگنے پر یہ بھی میرے پیچھے لگی ہوئی چلی آئی میرا کرتہ اس کے ہاتھ میں آگیا اس نے پھاڑ لیا۔ اپنی بےقصوری جتلانے اور زلیخا کے الزام سے بچنے کو زلیخا کی خواہش کا سچا حال یوسف (علیہ السلام) نے جو ظاہر کیا یہ غنیمت میں داخل نہیں ہے کیونکہ کسی شخص کے ضرر سے بچنے کے لئے اس کا اصل حال بیان کیا جاوے تو اس کو غیبت نہیں کہتے۔ چناچہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شریر شخص آنحضرت ﷺ کے پاس ملنے آیا تو آپ نے لوگوں کے سامنے اس کی شرارت کا حال اس لئے بیان فرمادیا کہ لوگ اس کو شریر جان کر اس کی شرارت سے بچیں۔ 1 ؎ اسی طرح فاسق کے فسق ظاہر کے ظلم اور بدعتی کی بدعت سے بچنے کے لئے ایسے لوگوں کا حال انجان شخص پر ظاہر کردینا داخل غیبت نہیں ہے۔ ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو فرشتے پکار کر یہ کہا کرتے ہیں کہ مرد عورتوں کے حق میں اور عورتیں مردوں کے حق میں ایک وبال ہیں۔ 2 ؎ یہ حدیث آیت کے ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ زلیخا یوسف (علیہ السلام) کے حق میں ایک وبال ہوگئی حاکم نے اس حدیث کو صحیح 3 ؎ کہا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 894 ج 2 باب مایجوز سن اغتیاب اہل القساد و الریب۔ 2 ؎ الترغیب ص 38 ج 2 کتاب النکاح۔ 3 ؎ ایضا۔
Ayahs 12:26–27

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنیوالے نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹاہو تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا ہے۔

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر کرتہ پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا

26۔ 27۔ اس گواہ میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں ایک حاکم تھا جس نے یہ فیلہ کیا کہ اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتا آگے سے پھٹا ہو تو زلیخا سچی ہے اور اگر پیچھے سے پھٹا ہو تو حضرت یوسف (علیہ السلام) سچے ہیں بعضے کہتے ہیں کہ حاکم نہیں تھا بلکہ ایک عقل مند شخص تھا بعضے کہتے ہیں بادشاہ کا مصاحب تھا لیکن صحیح قول یہ ہے کہ زلیخا کے رشتہ داروں میں ایک دودھ پیتا بچہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو گویا کیا اور اس نے گواہی دی کیوں کہ اگرچہ صحیحین میں دودھ پیتے بچوں کے بولنے کا جو قصہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے اس کو گویا کیا اور اس نے گواہی دی کیوں کہ اگرچہ صحیحین میں دودھ پیتے بچوں کے بولنے کا جو قصہ ہے اس میں تین بچوں کا ذکر ہے۔ 1 ؎ لیکن مسند امام احمد مستدرک حاکم وغیرہ میں معتبر سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی جو روایت ہے۔ اس میں چوتھے لڑکے کا بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گواہ کے پتہ سے ذکر ہے۔ 2 ؎ مجاہد کا قول ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے کرتہ نے یہ گواہی دی لیکن جب کہ قرآن میں یہ تفصیل ہے کہ وہ گواہ زلیخا کے رشتہ داروں میں سے تھا تو اس صورت میں یہ قول صحیح نہیں معلوم ہوتا کیوں کہ کرتے کہ کسی کا رشتہ دار نہیں کہہ سکتے۔ علاوہ اس کے مجاہد کا یہ قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی اس حدیث کے بھی مخالف ہے جس کا ذکر اوپر گزرا اس گواہی کا حاصل یہی ہے کہ اگر کرتہ آگے سے پھٹا ہوگا تو یوسف (علیہ السلام) کی حملہ کی حالت اور زلیخا کی حملہ روکنے کی حالت ثابت ہوگی اور اگر کرتہ پچھے سے پھٹا ہوگا تو یوسف (علیہ السلام) کے بھاگنے کی حالت اور زلیخا کی پیچھے سے کرتہ پکڑنے کی حالت ثابت ہوگی۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 894 ج 2 باب مایجوز سن اغتیاب اہل القساد والریب۔ 2 ؎ الترغیب ص 234 ج 2 الترغیب فی الزھد فی الدنیا الخ۔
Ayahs 12:28–29

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

جب اس کا کرتہ دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے (اور) کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں۔

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف اس بات کا خیال نہ کر اور (زلیخا) تو اپنے گناہ کی بخشش مانگ بیشک خطا تیری ہی ہے۔

28۔ 29۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے سچے ہونے پر گواہی گزری اور دیکھنے پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو عزیز مصر کو یقین ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے یہ سارا فریب اسی عورت کا ہے اس پر اس نے کہا کہ عورتیں اس باب میں نہایت مکار ہوتی ہے۔ صحیح مسلم میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر مرد کے لئے عورت احتیاط کرنے اور بچنے کی چیز ہے۔ نسائی نے اس روایت میں اتنا اور بڑھایا ہے کہ مرد کے حق میں عورت بڑے فتنہ اور فساد میں پڑجانے کی چیز ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عورتوں کی باتیں اور ان کے مکرو فریب ایسے ہیں کہ بڑے بڑے سمجھ دار مرد ان کے کہنے میں آجاتے ہیں۔ 2 ؎ یہ حدیثیں عورتوں کے فتنہ و فساد اور مکرو فریب کی گویا تفسیر ہیں اور ان حدیثوں سے عزیز مصر کے قول کی پوری تصدیق ہوتی ہے۔ پھر عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کو مخاطب ٹھہرا کر کہا کہ تم ان باتوں سے درگزر کرو اور اس قصہ کا چرچا نہ کرو اور زلیخا سے کہا کہ خطا تیری ہے تو توبہ اور استغفار کر۔ صحیح سند سے طبرانی مستدرک حاکم اور تفسیر ابن ابی حاتم میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ تین شخص بڑے سمجھدار تھے ایک تو عزیز مصر جس نے قیافہ سے یوسف (علیہ السلام) کی قدرو منزلت پہچان کر اپنی بیوی زلیخا سے کہا کہ ان کو اچھی طرح رکھنا۔ دوسرے شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی جس نے اپنے باپ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے باب میں کہا کہ یہ صاحب قوت اور امانت دار شخص ہیں ان کو نوکر رکھ لینا چاہیے تیسرے حضرت ابوبکر ؓ جنہوں نے عمر ؓ کو اپنا جانشین ٹھہرایا۔ 3 ؎ اس آیت سے بھی عزیز مصر کا سمجھ دار ہونا نکلتا ہے کیوں کہ اس نے خالئین کہا خاطئات نہیں کہا تاکہ یہ وہم نہ پڑے کہ مرد گنہگار ہوتے ہی نہیں فقط عورتیں ہی گنہگار ہوتی ہیں حالانکہ گنہگار ہونے میں مرد عورت دونوں برابر ہیں۔ چناچہ مسند امام احمد ترمذی اور مستدرک حاکم میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اولاد آدم میں گناہ سے تو کوئی خالی نہیں لیکن وہ گنہگار اچھے ہیں جو گناہ کے بعد خالص دل سے توبہ کرلیتے ہیں 4 ؎ اس حدیث کی سند میں ایک راوی علی بن مسعدہ بصری کی ثقاہت پر اگرچہ بعضے علماء نے اعتراض کیا ہے لیکن ابن معین اور ابو حاتم نے علی بن معدہ کو معتبر قرار دیا ہے۔ 5 ؎ اسی واسطے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ 6 ؎ اور ذہبی نے حاکم کی اس سند پر کچھ اعتراض نہیں کیا۔ 1 ؎ الرتغیب ص 234 ج 2 الترغیب فی الھذدنی الدنیا الخ۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 13 کتاب الایمان فصل اول۔ 3 ؎ مستدرک حاکم ص 345 ج 12 تفسیر سورة یوسف و تفسیر فتح البیان ص 451 ج 3 تفسیر سورة قصص۔ 4 ؎ الترغیب ص 220 ج 2 الترغیب فی التوبۃ الخ۔ 5 ؎ الترغیب ص 353 ج 2۔ 6 ؎ الترغیب ص 220 ج 2۔
Ayah 12:30

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے۔

30۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اس بات کی خبر دی کہ باوجود اس کے عزیز مصر نے کوشش کی کہ یوسف زلیخا کا قصہ شہر میں مشہور نہ ہو مگر بحکم قضا وقدر تمام گھروں میں اس کا چرچا ہونے لگا اور ہر رئیس و آمر کی عورتیں آپس میں اس بات کا چرچا کرنے لگیں کہ عزیز مصر کی عورت زلیخا ایک جوان پر دل و جان سے فریفتہ ہے اور وہ جوان وہی ہے جس کو اس کے شوہر نے خرید کیا ہے اس کی محبت میں دیوانی ہوگئی ہے غلام کی محبت زلیخا کے تمام رگ و ریشوں میں سرایت کرگئی ہے اسے اچھا برا کچھ نہیں سوجھتا وہ بالکل بہک گئی ہے۔ دل پر ایک جھلی جو لپٹی ہوئی ہے اس کو شفاف کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ زلیخا کے دل کو یوسف کی محبت اور الفت نے گھیر لیا ہے صحیح بخاری و مسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایمانداروں کے دلوں میں اللہ و رسول کی محبت دنیا کی ہر ایک چیز سے زیادہ ہونی چاہیے 1 ؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمانداروں کے دل دنیا کی چیزوں پر زیادہ مائل نہیں ہوتے اور اس کی نشانی علماء نے یہ بتلائی ہے کہ حکم الٰہی کی تعمیل اور دنیا کی کسی غرض کا مقابلہ ان کو پڑے تو پورے ایماندار لوگ حکم الٰہی کی تعمیل کو دنیا کی غرض پر مقدم رکھتے ہیں کیوں کہ اللہ و رسول کی محبت احکام شرع کی تعمیل پر منحصر ہے۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 12 کتاب الایمان۔
Ayah 12:31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لئے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور انکے لئے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لئے) ہر ایک کو ایک ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو انکا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بیساختہ بول اٹھیں کہ سبحان اللہ (یہ حسن) یہ آدمی نہیں بزرگ فرشتہ ہے۔

31۔ مصر کے امیر امرا کی جن عورتوں نے زلیخا کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عشق اور محبت کا طعنہ دیا تھا اس طعنہ کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں طعنہ نہیں فرمایا مکر فرمایا ہے سیرت ابن اسحاق وغیرہ میں اس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ حقیقت میں ان عورتوں کے طعنے میں یہ مکر تھا کہ وہ عورتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کا شہرہ سن کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صورت کو دیکھنا چاہتی تھیں اس غرض سے انہوں نے یہ حیلہ نکالا کہ زلیخا پر طعن وتشنیع شروع کی تاکہ زلیخا اس طعن وتشنیع سے گھبرا کر ان عورتوں کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صورت دکھلا دے کہ دیکھو یہ صورت عشق و محبت پیدا کرنے کے قابل ہے یا نہیں ہے اسی واسطے زلیخا نے بھی ان عورتوں کے مکر کا جواب مکر کی شکل میں دیا کہ ان عورتوں کی دعوت کی اور دعوت میں دستر خوان پر اس طرح کے میوہ جات رکھے جن کو چھری سے کاٹنے کی ضرورت پڑے اور ایسے وقت میں یوسف (علیہ السلام) کو ان عورتوں کے سامنے کیا کہ بجائے میوؤں کے چھلنے اور کاٹنے کے ان عورتوں نے اپنے ہاتھ زخمی کر ڈالے اس وقت زلیخا نے ان عورتوں سے کہا کہ بلاشک یہ شخص آدمی نہیں فرشتہ ہے معراج کی صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تیسرے آسمان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نظر آئے تمام دنیا کے حسن و جمال میں سے نصف حصہ حسن و جمال کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اکثر اپنے منہ پر نقاب ڈالے رہتے تھے تاکہ غیر عورتیں ان کا حسن و جمال دیکھ کر بدنیت نہ ہوجائیں اور ہر مرد کے لئے اپنی جوانی اور خوبصورتی پر للچا کر کوئی عزت دار مالدار اور خوب صورت عورت اس شخص کو بدکاری کے لئے بلاوے اور وہ شخص فقط خدا کے خوف سے اس بدکاری سے باز رہے باقی کے چھ شخصوں میں ایک وہ شخص ہے جو منصف حاکم ہو دوسرا وہ ہے جو صالح ہو جس کی جوانی اللہ کی عبادت میں بسر ہو تیسرا وہ ہے جس کو جماعت اور مسجد کا ہر دم خیال لگا رہے چوتھا وہ ہے جو دینی غرض سے محض اللہ کے واسطے کسی سے دوستی پیدا کرے، پانچواں وہ ہے جو ایک ہاتھ سے صدقہ دیوے اور دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو چھٹا وہ ہے جو تنہائی میں خدا کے خوف سے روتا ہے۔ 1 ؎ 1 ؎ صحیح بخاری ص 191 ج 1 باب الصدقۃ بالیمین والترغیب ص 79 ج 2 باب ترغیب من ولی شیئا من امور المسلمین الخ۔
Ayahs 12:32–34

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

تب (زلیخا نے) کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بیشک میں نے اسکو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کریگا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا۔

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

(یوسف نے) دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے انکے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں انکی طرف مائل ہوجاؤ نگا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا۔

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

تو خدا نے انکی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کردیا۔ بیشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے۔

32۔ 34۔ اوپر کی آیت میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ عورتوں کے تذکرہ کی خبر جب زلیخا کو پہنچی تو اس نے ایک محفل آراستہ کر کے ان عورتوں کو بلایا اور فراغت طعام کے بعد ترنج اور چھری دی کہ کاٹ کاٹ کر کھائیں اور اسی اثنا میں یوسف (علیہ السلام) کو ان کے سامنے بلایا۔ یوسف (علیہ السلام) کے جمال کو دیکھ کر ساری عورتیں حیرت میں آگئیں اور اپنی اپنی انگلیاں کاٹ لیں اور بےساختہ کہہ اٹھیں کہ یہ تو بشر نہیں معلوم ہوتا یہ کوئی بزرگ فرشتہ ہے اس پر یہ بات زلیخا نے کہی کہ جسے تم فرشتہ سمجھ رہی ہو اور جس کے حسن کو دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئیں اور کسی کے ہوش ٹھکانے نہ رہے یہ وہی شخص ہے جس پر میں بدل و جان فریفتہ ہوں اسی کی الفت میرے دل میں نقش کالحجر ہوگئی ہے جس کا چرچا تمام مصر میں پھیلا ہوا ہے اور تم نے مجھ کو ملامت کی کہ زلیخا ایک ادنی غلام پر عاشق ہے اب تمہیں انصاف سے کہو یہ شخص لائق اس کے ہے یا نہیں کہ اس کو پیار کیا جائے اور اس کی محبت کا بیج دل میں بویا جائے پھر اس بات کے جتلانے کے بعد کہ یوسف (علیہ السلام) سارے عالم میں حسین ہیں یہ بات بھی ظاہر کی کہ تم یہ نہ جاننا کہ یہ شخص فقط حسن صورت ہی رکھتا ہے نہیں جیسی اس کی صورت ہے ویسی ہی اس کی سیرت بھی ہے میں نے آپ اس سے محبت کی ابتدا کی تھی اور میں نے خود اس کو اپنی طرف بلایا تھا مگر یہ شخص راضی نہ ہوا معصوم رہا گناہ کا مرتکب نہ ہوا غرض کہ جس طرح حسن میں اپنا آپ یہ مثال ہے اسی طرح عفت و پاکبازی میں بھی بےنظیر ہے پھر زلیخا نے شرم کو بالائے طاق رکھ کر صاف صاف کہہ دیا کہ یوسف اگر میرے حکم کی تعمیل نہ کرے گا اور جو کچھ میں کہتی ہوں اسے بجا نہ لائے گا تو اس کے حق میں بہت ہی برا ہوگا یا تو ہمیشہ ہمیشہ قید میں رہے گا یا اور کسی دوسری قسم کی ذلت اس کے لئے تجویز کی جائے گی جس سے یہ نہایت ہی ذلیل ہوگا۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے زلیخا کی یہ باتیں سنیں تو ان کے دل میں بہت ہی خوف پیدا ہوا کہ دیکھئے اس عورت سے کس طرح اپنی عفت و عصمت قائم رہتی ہے یہ تو کچھ ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑی ہے۔ اس لئے انہوں نے خدا سے دعا کہ الٰہی عفت و عصمت کے روبرو قید کی کچھ ہستی نہیں ہیں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ قید میں رہوں اور یہ ہرگز منظور نہیں کہ میری آبرو ریزی ہو اور دامن عصمت میں گناہ کا دھبہ آئے۔ عورتیں جس کام کو مجھ سے کہتی ہیں اگرچہ اس میں کوئی ظاہری ذلت نصیب نہیں ہوتی اور قید ہوجانا ایک نہایت ہی ذلت کی بات ہے مگر میں تو اس قید کی ذلت کو پسند کرتا ہوں اور عورتوں کے کہنے پر عمل کرنا اور ایک گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوجانا ہرگز پسند نہیں کرتا پھر یوسف (علیہ السلام) نے اس اثنائے دعا میں یہ بات اپنے پروردگار سے کہی کہ اے معبود حقیقی اگر ان عورتوں کے فریب سے تو مجھے نہ بچائے گا تو ضرور میں ان کے دام میں آجاؤں گا اور جب یہ کام کروں گا تو دنیا بھر کے آدمیوں سے جاہل ٹھہروں گا۔ کیونکہ ایک شئی کی برائی کو جان کر پھر اس شئے کے کرنے پر جرأت کرنا سوائے جاہل مطلق کے اور کسی کا کام نہیں۔ بعض مفسروں نے یہاں یہ بات بھی بیان کی ہے کہ محفل میں جتنی عورتیں شریک تھیں ان سب کی سب نے باری باری سے خلوت کر کے یوسف (علیہ السلام) کو بلایا اسی واسطے یوسف (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں یہ کہا کہ خدایا ان عورتوں کے مکرو فریب سے بچا اور نہیں تو اگر فقط زلیخا کا خیال تھا تو بصیغہ جمع نہ فرماتے واحد کا صیغہ استعمال کرتے اور بعض مفسروں نے کہا صیغہ جمع زلیخا کی شان میں بطور تعظیم کے فرمایا تھا۔ بہرحال اللہ پاک نے یوسف (علیہ السلام) کی دعا کا حال بیان فرمایا کہ یہ بیان کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو بچا لیا کیوں کہ وہ ہر ایک ظاہر اور پوشیدہ باتوں کا یکساں سننے والا ہے اور ہر شخص کے دلی حالات کا جاننے والا ہے صحیح بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی اور نسائی میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ہجرت سے پہلے وہ کعبہ کے ستون کی آڑ میں تھے تین مشرک لوگ بھی وہاں آئے اور آڑ کے سبب سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کو انہوں نے نہیں دیکھا اور آپس میں کچھ باتیں کیں۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں میں نے وہ باتیں نہیں سنیں لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ باتیں سن کر ان مشرکوں کے حق میں سورة حم سجدہ کی آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ ان آیتوں کی تفسیر اسی سورت میں آوے گی۔ طبرانی اور مسند بزار کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ نامہ اعمال کے لکھنے والے فرشتوں کو بعضے عملوں کا حال معلوم نہ ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرماوے گا کہ یہ عمل خالص دل سے نہیں کئے گئے اس واسطے ان عملوں کو بغیر ثواب کے نامہ اعمال میں سے نکال دیا جاوے۔ 2 ؎ یہ حدیثیں ( انہ ھو السمیع العلیم) کی گویا تفسیر ہیں۔ 1 ؎ فتح الباری ص 323 ج 4 تفسیر سورة حم السجدہ و تفسیر ابن کثیر 97 ج 4۔ 2 ؎ الترغیب ص 21 ج الترہیب من الریائ۔