12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 12:89–92

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یو سف نے) کہا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا ؟

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے۔ خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بیشک ہم خطاکار تھے۔

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

(یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ آج کے دن (سے) تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔

89۔ 92۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سامنے اپنے سختی کا حال بیان کیا تو ان کا دل امنڈ آیا باپ کا خیال آیا کہ میرے فراق میں خدا جانے ان کی کیا حالت ہوگی اور پھر بنیامین ان سے جدا ہوگیا اس سے اور بھی ان کو صدمہ پہنچا ہوگا اور قحط سالی کی بلا جدا ہے غرض کہ ان باتوں کو یاد کر کے یوسف (علیہ السلام) رونے لگے اور بھائیوں سے فرمایا کہ تم نے جو کچھ سلوک یوسف (علیہ السلام) اور اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ کیا وہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ کس طرح مکرو فریب سے ان کو باپ سے جدا کیا اور حقیقت میں تمہاری نادانی نے تمہیں اس بات پر آمادہ کیا تھا جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ بات سنی تو تاڑ گئے کہ یہی یوسف (علیہ السلام) ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے سر سے تاج اتارا اور اپنی پیشانی انہیں دکھلائی، ان کی پیشانی پر ایک تل تھا اس کو دیکھ کر انہوں نے پہچان لیا 1 ؎ کہ یہ یوسف (علیہ السلام) ہیں اور کہنے لگے کہ کیا سچ مچ تم ہی یوسف (علیہ السلام) ہو فرمایا کہ بیشک میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا چھوٹا بھائی بنیامین ہے خدا نے بڑا فضل اور ہم پر بہت ہی احسان کیا کہ بعد مدت دراز کے ہمیں ایک جگہ کیا جو شخص خدا سے ڈرتا ہے اور مصیبت کے وقت صبر کرتا ہے۔ اس کا اجر اللہ پاک ضائع نہیں کرتا ہے میرے اوپر کیسی کیسی مصیبت پڑی کنوئیں میں ڈالا گیا قافلہ والوں نے بیچ ڈالا پھر قید کی مصیبت برسوں سہی مگر زبان سے کچھ شکوہ نہیں کیا ہر حالت میں صبر ہی کرتا رہا اللہ پاک نے رحم کھا کر اپنا فضل ہم پر کیا اور مصر کی سلطنت ہمارے قبضہ میں دے دی جب بھائیوں نے دیکھا کہ اللہ اکبر ہم جسے عزیز مصر سمجھے ہوئے تھے وہ تو ہمارا بھائی نکلا جس کو ہم نے حسد کی راہ سے باپ سے جدا کیا تھا مگر اس کی تقدیر کہ یہ اس مرتبہ اور عزت کو پہنچ گیا دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس وقت ہم اس کے قبضہ میں ہیں اگر چاہے تو اپنا بدلہ آسانی سے لے لے۔ اس لئے خدا کی قسم کھا کر ان لوگوں نے کہا کہ اللہ پاک نے تجھے ہر ایک بات میں ہم سے برتر رکھا اور تجھے ہم پر اختیار دیا ہے اور اس سے پہلے جو کچھ برائی ہم نے تیرے ساتھ کی ہے اس کا ہم اقرار کرتے ہیں کہ واقعی ہماری خطا تھی اور تو محض بےقصور تھا غرض کہ یوسف (علیہ السلام) نے ان کی معذرت سن کر ان سے کہا کہ بھائی جو کچھ ہوا جانے دو اس کا خیال کب تک کیا کرو گے آج کے بعد پھر کوئی الزام تم پر نہ لگایا جائے گا۔ اور جو کچھ ہم سے خطا بھی واقع ہوئی ہے اللہ پاک وہ معاف کرے گا کیوں کہ وہ ارحم الراحمین ہے۔ سوتیلے بھائیوں کی بدسلوکی کے ذکر میں یوسف (علیہ السلام) نے مافعلتم بیوسف واخیہ کہہ کر بنیامین کو بھی اس ذکر میں جو شریک کیا اس کا سبب اوپر گزرا کہ یوسف (علیہ السلام) کے بیچ ڈالنے کے بعد یہ سوتیلے بھائی بنیامین سے بھی توقیری سے پیش آتے تھے۔ تفسیر سدی میں اذ انتم جاھلون کا یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے اذ انتم جاھلون کہہ کر انہیں یہ جتلایا کہ یہ بد سلوکی کے وقت نہ تمہیں اس بد سلوکی کے وبال کا خیال تھا نہ یہ معلوم تھا کہ وہ بدسلوکی میرے حق میں آخر اللہ کی ایک رحمت ہوجاوے گی۔ سورت الحجرات میں آوے گا کہ پرہیز گاری اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی عزت کی چیز ہے اور اس مضمون کی صحیح بخاری نسائی اور مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ کی روایتیں بھی 2 ؎ ہیں اسی طرح صبر کے اجر کے باب میں بہت سی صحیح حدیثیں 3 ؎ ہیں حاصل یہ ہے کہ سورت الحجرات کی آیت { ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم } اور یہ سب حدیثیں { انہ من یتق و یصبر فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین } کی گویا تفسیر ہیں۔ احسان کے معنے خالص دل سے نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے کے ہیں۔ چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کی ایک حدیث 4 ؎ اس معنے کی تفصیل میں گزر چکی ہے۔ یغفر اللہ لکم کہہ کر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے سوتیلے بھائیوں کے حق میں مغفرت کی دعا کی ہے اور پھر ان کو یہ جتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے اس کی ذات سے مغفرت کی توقع رکھنی چاہیے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ سب شفاعتوں کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بہت سے گنہگاروں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں ڈالے گا اور یہ فرما دے گا کہ میں ارحم الراحمین ہوں 5 ؎ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے ارحم الراحمین ہونے کی گویا تفسیر ہے۔ 1 ؎ تفسیر معالم التنزیل ص 473 ج 4۔ 2 ؎ تفسری ابن کثیر ص 217۔ 218 ج 4 تفسیر سورة الحجرات۔ 3 ؎ التریب ص 263 ج 2 الترغیب فی الصبر۔ 4 ؎ مشکوٰۃ ص الاکتاب الایمان۔ 5 ؎ صحیح بخاری ص 12 ج 2 باب وجوہ یومئذ ناضرۃ الخ۔
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو ۔ وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ۔

93۔ بعضی تفسیروں میں یہ جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے روایت لکھی ہے کہ یہ کرتہ جو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بھیجا تھا جس کے اثر سے چھ برس کی گئی ہوئی آنکھیں منہ پر ڈالتے ہی اچھی ہوگئیں یہ وہ کرتہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے آگ میں ڈالے جانے کے وقت خدا تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) جنت سے لائے تھے یہ کرتہ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو دیا اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو دیا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس کرتے کا ایک تعویذ بنا کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گلے میں ڈال دیا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو اس کرتہ کے تعویذ کی خبر نہ تھی ورنہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کنوئیں میں ڈالنے کے وقت ضرور وہ تعویذ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے چیھن لیتے اس کرتے میں جنت کی خوشبو تھی وہی خوشبو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ناک میں دور سے آئی۔ کسی معتبر محدث یا مفسر نے اس روایت کی سند کی صحت نہیں بیان کی ہے اس واسطے یہ روایت بھروسے کے قابل نہیں ہے شاید اسی سبب سے شاہ صاحب نے اپنے اردو فائدہ میں اس کرتے کی کچھ تاثیر بیان نہیں کی بلکہ اس کرتے کے ڈالنے سے آنکھیں جو اچھی ہوگئیں اس کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کرامت بتلایا ہے لیکن جب کہ قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قید میں جانے سے پہلے نبی ہوچکے تھے تو اس کرامت کو معجزہ کہنا قرآن شریف کے مضمون کے زیادہ مطابق معلوم ہوتا ہے اکثر مفسرین نے پہلے نبی ہوچکے تھے تو اس کرامت کو معجزہ کہنا قرآن شریف کے مضمون کے زیادہ مطابق معلوم ہوتا ہے اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ جس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈال کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے حیلہ کے طور پہ بیان کیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑیا لے گیا اس وقت بناوٹی خون کے دھبوں کا کرتہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یہودا نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو دکھایا تھا اسی خیالے اب یہ خوشخبری کا کرتہ بھی مصر سے یہی یہودا لے گئے تاکہ اس پہلے کے کرتے سے باپ کو جو رنج ہوا تھا اس خوشخبری کے کرتے کے لے جانے میں اس کا کچھ معاوضہ ہوجاوے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ تعالیٰ نے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں ہر ایک کام لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق وقت مقررہ پر ہوتا ہے چناچہ یعقوب (علیہ السلام) کی آنکھوں کے اچھے ہوجانے کا اور انہیں یوسف (علیہ السلام) کے مصر میں ہونے کی خبر کے معلوم ہوجانے کا جب وقت مقرر آن پہنچا تو ان باتوں کا سامان خود بخود غیب سے پیدا ہوگیا۔
Ayahs 12:94–95

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آرہی ہے۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ بولے کہ واللہ آپ اسی قدیم غلطی میں مبتلا ہیں۔

94۔ 95۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو کرتہ دے کر مصر سے کنعان کی طرف روانہ کیا اور کہا کہ اس کرتہ کو لے جاؤ اور والد بزرگوار کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں اچھی ہوجاویں گی پھر تم اپنے سارے گھر کو لے کر میرے پاس چلے آؤ اور یہ قافلہ مصر سے جس وقت روانہ ہوا تو آٹھ دن کے فاصلہ کی راہ سے خداوند عالم کے حکم سے ہوا اس کرتے کی بو لے کر اڑی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک اس کو پہنچایا اوپر ذکر ہوچکا ہے کہ عبد اللہ بن عباس ؓ کے ایک قول کے موافق یہ کرتہ وہی کرتہ تھا جو حضرت جبرئیل نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جنت سے لا کردیا تھا اور جس کی برکت سے آگ ان پر گلزار بن گئی تھی اور یہ کرتہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے حصہ میں آکر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ملا تھا اور آپ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گلے میں باندھ دیا تھا اور جس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کنوئیں میں ڈالے گئے تھے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے آکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پہنایا تھا یہ کرتہ جنت کا تھا اس لئے اس کی بو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ناک میں اتنی دور و دراز مسافت سے پہنچی اور آپ نے پہچان لیا کہ یہ جنت کی بو ہے اس لئے آپ نے اپنے مقام پر بیٹھے بیٹھے اہل کنعان میں سے جو لوگ ان کے پاس حاضر تھے ان سے اور اپنے پوتوں سے کہا کہ اگر تم لوگ مجھے مجنوں اور دیوانہ نہ سمجھو اور ملامت نہ کرو تو میں کہہ سکتا ہوں کہ آج مجھے یوسف (علیہ السلام) کی بو آتی ہے ان لوگوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بات کا یہ جواب دیا کہ واللہ تم اسی خبط میں اب تک پڑے ہو کہاں یوسف (علیہ السلام) اور کہاں اس کی بو عرصہ ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) کا کہیں پتہ نہیں اصل یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ تمہیں از حد محبت تھی اور اسی محبت کا یہ تقاضا ہے کہ تم اب تک اس کے ملنے کی امید رکھتے ہو ہماری سمجھ میں تو یہ بات ہرگز نہیں آتی یہ لوگ دراصل اس بات سے ناواقف تھے کہ قافلہ بشارت دینے والا مصر سے چل چکا ہے اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ لے کر آرہے ہیں یہ لوگ اپنے خیال میں یوسف (علیہ السلام) کو مردہ سمجھے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے یہ بات کہی۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث جو گزر چکی ہے اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق اب وہ وقت آگیا تھا کہ یو سف (علیہ السلام) کے زندہ ہونے کی خبر یعقوب (علیہ السلام) کو پہنچ جاوے اس لئے مصر کا قافلہ تو ابھی راستہ میں ہی رہا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہوا کے ذریعہ سے یوسف (علیہ السلام) کی خبر یعقوب (علیہ السلام) کو پہنچادی۔
Ayahs 12:96–98

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

جب خوشخبری دینے والا آپہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہوگئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ؟

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا کہ ابّا ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی مغفرت مانگیے بیشک ہم خطاکار تھے۔

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

96۔ 98۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ بشیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی تھے جن کا نام یہودا تھا پہلے بھی یہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خون کا بھرا ہوا کرتہ لائے تھے اور اب بھی یہی کرتہ لے کر آئے تاکہ پہلی بدنامی کا دھبہ جاتا رہے الغرض جس وقت یہ بشیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ لایا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرہ مبارک پر ڈالا آپ کی آنکھوں میں روشنی آگئی اور صحیح و تندرست ہوگئے اور بشیر سے پوچھا تو نے یوسف (علیہ السلام) کو کس دین پر چھوڑا ہے کہا اسلام پر آپ نے بہت خوشی ظاہر کی اور خدا کی نعمت کا شکر ادا کیا اور فرمایا الان تمت النعمتہ اور پاس والوں اور بیٹیوں سے فرمایا کہ کہو میں نہ کہتا تھا کہ میں یوسف (علیہ السلام) کی بو پارہا ہوں اور تم مجھے دیوانہ سمجھ رہے تھے مجھے تو خدا کی طرف سے ان ان باتوں کا علم ہے جو تمہیں نہیں معلوم ہیں تمہاری عقل وہاں تک نہیں پہنچ سکتی میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کے خواب کا ظاہر ضرور ہوگا پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادوں نے باپ سے معذرت کی اور اپنی خطا کا اقرار کیا کہ بیشک ہم قصور وار ہیں ہم سے آپ کی جناب میں بہت ہی بڑا قصور ہوا آپ ہمیں معاف فرمائیں اور درگاہ الٰہی میں ہمارے واسطے مغفرت کی دعا کیجئے آپ نے فرمایا کہ عنقریب ہم تمہارے لئے دعائے مفغرت کریں گے۔ آپ صبح کے وقت اٹھ کر نماز پڑھا کرتے تھے اور دعائے صبح زیادہ تر مقبول ہوتی ہے کیونکہ یہ وقت زیادہ مقبولیت کا ہے چناچہ صحیح بخاری مسلم ترمذی وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں اس وقت کے مقبول ہونے کا ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ پچھلی رات کو ہر رات اللہ تعالیٰ اور آسمان پر نزول فرما کر ہر دعا کرنے والے شخص کی دعا کے قبول کرنے کا وعدہ فرماتا ہے 1 ؎ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا گنہگاروں کے گناہ معاف کرنے کی صفت اللہ تعالیٰ کو یہاں تک پیاری ہے کہ اگر حال کے موجودہ لوگ گناہ نہ کریں تو ان کی جگہ اللہ تعالیٰ گناہ کرنے والے اور لوگ پیدا کرے اور خالص دل سے توبہ کرنے پر ان کے گناہ معاف فرما وے 2 ؎ یہ حدیث انہ ھو الغفور الرحیم کی گویا تفسیر ہے۔ 1 ؎ الترغیب ص۔ 300 ج 1 الترغیب فی الدعاء فیے السجود الخ۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 203 باب الاستغفار۔
Ayahs 12:99–100

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

جب (یہ سب لوگ) یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہوجائیے۔ خدا نے چاہا تو خاطر جمع سے رہیئے گا۔

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف (علیہ السلام) کے آگے سجدے میں گرپڑے (اس وقت یوسف نے کہا ابّاجان ! یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے پروردگار نے اسے سچ کردیا۔ اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے۔

99۔ 100۔ اس آیت میں اللہ پاک نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کا حال بیان فرمایا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا کہ تم کنعان جا کر اپنے کنبہ اور گھر والوں کو یہاں لے آؤ یہ لوگ اپنے سارے رشتہ داروں کو جو مرد و عورت ملا کر 63 آدمیوں کے قریب تھے کنعان سے لے کر چلے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خبر ملی کہ ہمارے والدین آرہے ہیں اور اب ہم بہت نزدیک آگئے ہیں تو آپ تخت پر بیٹھ کر ان کے استقبال کو روانہ ہوئے بادشاہ مصر نے اپنے دربار کے اور دوسرے معزز آدمیوں کو بھی ان کے ہمراہ کردیا۔ بعضے سلف یہ بھی کہتے ہیں کہ خود بادشاہ مصر بھی ان کے استقبال کو روانہ ہوا الغرض شہر سے نکل کر جب باپ کے پاس پہنچے تو ماں باپ کو اپنے تخت پر جگہ دی اور تخت پر بٹھا کر کہا کہ انشاء اللہ اب امن سے شہر مصر میں آپ داخل ہوں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے فضل سے یہاں قط وغیرہ کی شکایت نہیں رہے گی کیوں کہ انہوں نے غلہ کا معقول بندوبست کر رکھا تھا کہ لوگ دور دراز سے غلہ لینے یہاں آتے تھے اکثر مفسروں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ آپ کی والدہ کی وفات ہوچکی تھی یہ جو آپ کے والد بزرگوار کے ساتھ تھیں ان کی خالہ تھیں پھر جب یوسف (علیہ السلام) نے عین شہر میں آکر باپ ماں کو تخت پر بٹھایا تو ان کے گیارہ بھائیوں نے براہ تعظیم ان کے آگے سجدہ کیا یہ سجدہ تعظیم کا کہلاتا تھا زمانہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک اپنے بزرگوار اور معزز آدمیوں کو سجدہ کرنا روا تھا حضرت آدم کو جو فرشتوں نے سجدہ کیا تھا وہ بھی یہی سجدہ تھا مگر شریعت محمدیہ میں یہ سجدہ ناجائز ہے اور سوائے خدا کے اوروں کو سجدہ کرنا قطعی حرام ٹھہرایا گیا ہے۔ معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ معاذ ؓ ملک شام میں گئے تو وہاں دیکھا کہ لوگ اپنے سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں جب معاذ وہاں سے واپس آئے تو آنحضرت ﷺ کو انہوں نے سجدہ کیا آپ نے فرمایا کہ اے معاذ یہ کیا بات ہے انہوں نے کہا کہ میں نے ملک شام میں دیکھا ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں میرے نزدیک آپ سے زیادہ کوئی شخص سجدہ کا مستحق نہیں ہے رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں سوا خدا کے اور کسی کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو کہتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے آگے سجدہ کرے کیوں کہ شوہر کا حق بیوی پر بہت زیادہ ہے یہ معاذ کا قصہ مسند بزار اور طبرانی میں تفصیل سے ہے اور اس کی سند معتبر ہے۔ 1 ؎ الغرض یہ سجدہ اس وقت جائز تھا اس لئے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے آگے سجدہ کیا اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد بزرگوار سے کہا کہ اے والد ماجد میں نے جو بچپن میں ایک خواب دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے آسمان سے زمین پر اترے اور ان کے ساتھ چاند سورج بھی تھے اور ان ستاروں نے میرے آگے سجدہ کیا یہ اسی خواب کی تعبیر ہے۔ اور یہی نتیجہ و انجام اس خواب کا تھا ہمارے پروردگار عالم نے اس خواب کو سچ کر دکھایا اور ہم اس کا لاکھ لاکھ شکر کرتے ہیں کہ ہمیں طرح طرح کی نعمت دی اور مجھے قید سے نکالا اور آپ کو گاؤں سے یہاں لایا پھر اس کے بعد شیطان کا ذکر کیا کہ اس نے ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈالا مگر ہزار ہزار اس کا شکر ہے کہ اس نے اس کا تصفیہ کردیا اور فرمایا کہ میرا رب لطیف ہے لطیف کے معنوں میں بعضے سلف کا قول ہے کہ لطیف وہ ہے کہ جو تجھ کو تیرے کام تک پہنچا دے ان ربی لطیف کے معنے ان ربی ذولطف وکرم۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے لطف و کرم سے میرے اوپر بڑے بڑے احسان کئے یوسف (علیہ السلام) نے اس تعبیر میں کنوئی کا ذکر نہیں کیا تاکہ کنوئیں کا نام سن کر ان کے سوتیلے بھائی شرمندہ نہ ہوں { ان ھو العلیم الحیکم } اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مصلحتوں اور ضرورتوں کو خوب جانتا ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ 1 ؎ مجمع الزوائد ص 31 ج 4 باب حق الزوج علی المرأۃ و تفسیر ابن کثیر ص 491 ج 2۔
Ayahs 12:101–102

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

(جب یہ سب باتیں ہو لیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجئیو۔

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ اخبار غیب میں سے ہیں۔ جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادارن یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے۔

101۔ 102۔ سترہ برس کی عمر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں نے کنوئیں میں ڈالا اور چالیس برس تک پھر باپ سے مصر میں بچھڑے رہے اور چوبیس برس تک پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر مصر میں رہے اور زلیخا سے نکاح ہوا اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے یہ انجام بخیر ہونے کی دعا کی تھوڑے دنوں بعد مصر میں انتقال فرمایا اہل مصر کو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ایسا اعتقاد ہوگیا تھا کہ ہر ایک محلہ کا سردار اپنے محلہ میں برکت کی نیت سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دفن کرنا چاہتا تھا یہاں تک نوبت پہنچی کہ قریب تھا کہ اس بات پر اہل مصر میں تلوار چل جاوے پھر آخر یہ صلاح ٹھہری کہ نیل کا پانی سب کے کھیتوں میں جاتا ہے نیل کے کنارہ کسی قدر پانی میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دفن کیا مگر دوسرے سال دوسرے کنارہ پر قحط کے سے آثار نظر آئے اس لئے ڈوری سے ناپ کر بیچ نیل میں پھر آپ کی لاش کو دفن کیا چار سو برس کے بعد جب حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے اس وقت اللہ کے حکم سے موسیٰ (علیہ السلام) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی لاش کا سنگ مرمر کا صندوق ملک شام میں لائے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی قبر کے پاس دفن کیا حضرت یوسف (علیہ السلام) کی لاش کو مصر سے ملک شام میں جو موسیٰ (علیہ السلام) لائے یہ قصہ تفسیر ابن ابی حاتم اور مستدرک حاکم میں ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت سے ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے 1 ؎ اسی طرح تفسیر سدی میں ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی وفات کے وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کو وصیت کی تھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے مدفن کے پاس ان کو دفن کیا جاوے چناچہ انتقال تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا مصر میں ہی ہوا لیکن پھر ان کی وصیت کے موافق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کی لاش کو ملک شام میں منتقل فرمایا اور بیت المقدس میں دفن کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی لاش کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) بھی ملک شام کو آئے تھے جس دن حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی لاش ملک شام میں پہنچی اتفاق سے اسی روز حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے جڑواں بھائی حضرت عیص کا انتقال ہوگیا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے حضرت یعقوب اور حضرت عیص کو ایک قبر میں دفن کیا پھر خود مصر کو چلے آئے 2 ؎ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی لاش کے منتقل ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں لاش کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا بلا خلاف جائز تھا شریعت محمدی میں اگرچہ بعضے علماء نے لاش کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کو منع کیا ہے لیکن کوئی صاف حدیث اس بات میں موجود نہیں ہے حضرت جابر ؓ کی وہ حدیث جس کو سوا صحیح بخاری کے اور کتابوں میں ائمہ صحاح نے روایت کیا ہے کہ احد کے شہیدوں کو بعضے صحابہ نے مدینہ میں دفن کرنے کے لئے لانا چاہا اور آپ نے فرمایا یہ لوگ جہاں شہید ہوئے ہیں وہیں ان کو دفن کرنا چاہیے۔ 3 ؎ بعضے علماء نے کہا ہے کہ یہ حکم شہیدوں کے لئے خاص ہے مؤطا میں سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید کا عقیق میں انتقال کرنا اور مدینہ میں لا کر ان کو دفن کرنے 4 ؎ کا اور بخاری میں حضرت جابر ؓ کا اپنے باپ عبد اللہ ؓ کو ایک قبر سے دوسری قبر میں دفن کرنے کا جو قصہ ہے 5 ؎ ان قصوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ لاش کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کو جائز جانتے تھے۔ حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں اس کا یہ فیصلہ کیا ہے کہ کسی متبرک جگہ کے دفن کے لئے لاش کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاوے تو جائز ہے۔ اور امام شافعی ؓ کا قول تو جائز ہے 6 ؎ اور امام شافعی علیہ الرحمۃ کا قول اس فیصلہ کی تائید میں بیان کیا ہے پھر کہا ہے کہ اگر غرض صحیح شرعی نہ ہو تو لاش کا منتقل کرنا مکروہ قریب حرام ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کی لاش کو ڈوری سے ناپ کر نیل کے بیچو بیچ میں دفن کرنے کا قصہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے پروردہ عکرمہ کے قول کے موافق لکھا گیا ہے۔ تفسیر کے باب میں عکرمہ کے قول کا بڑا اعتبار ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنی وفات اور انجام بخیر ہونے کی دعا جو کی ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ ان کی اس دعا اور صحیح بخاری کی انس بن مالک ؓ کی اس حدیث میں کچھ مخالفت نہیں ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے دنیا کی تکلیفوں سے گھبرا کر موت کی تمنا سے منع فرمایا ہے۔ 7 ؎ کیوں کہ یوسف (علیہ السلام) نے دنیا کی کسی تکلیف سے گھبرا کر یہ دعا نہیں کی بلکہ دنیا کی راحت سے عقبی کاموں میں فتور پڑجانے کے خوف سے انہوں نے یہ دعا کی اور پھر حکومت کے کاموں سے بھی علیحدگی اختیار کرلی حاصل یہ ہے کہ ایسی نیت سے موت کی تمنا کی اجازت خود انس بن مالک ؓ کی حدیث کے آخری ٹکڑے میں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی اور شرع محمدی کا یہ مسئلہ یکساں ہے۔ ملک سے مقصود مصر کی حکومت ہے اور تاویل الاحادیث سے مقصود خوابوں کی تعبیر ہے۔ صالحین سے مقصود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کا خاندان۔ اب آگے فرمایا کہ اے رسول اللہ کہ تم بھی ان پڑھ اور تمہاری قوم بھی ان پڑھ اور ابھی مکہ سے باہر جا کر کسی اہل کتاب میں عالم سے تمہارا واسطہ نہیں پڑا اس پر بھی تم نے تورات کے موافق جو یہ قصہ لوگوں کے روبر وبیان کردیا تو اس سے ہر ایک سمجھ دار شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ کام بغیر تائید غیبی کے ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ مثلاً یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یوسف کو کنوئیں میں ڈالتے وقت جو مکرو فریب کی باتیں کیں۔ جب تم اس وقت ان لوگوں کے ساتھ نہیں تھے تو کوئی سمجھ دار بتلا دے کہ پھر یہ باتیں بغیر تائید غیبی کے تم کو کیوں کر معلوم ہوگئیں لیکن علم الٰہی میں جو لوگ گمراہ ٹھہر چکے ہیں ان کی سمجھ ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہے اس لئے وہ جس حال پر ہیں آخر کو اس حال میں دنیا سے اٹھ جاویں گے اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے مثلاً بدر کی لڑائی میں جو لوگ شرک کی حالت میں دنیا سے اٹھ جانے والے تھے لڑائی سے پہلے ان کے نام اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اور اللہ کے رسول نے صحابہ کو بتلا دئیے۔ چناچہ صحیح مسلم کے حوا لہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث اس باب میں ایک جگہ گزر چکی ہے 8 ؎ جس میں قسم کھا کر انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ لڑائی سے پہلے جن لوگوں کا نام اور ان لاشوں کے پڑے رہنے کی جگہ جو کچھ اللہ کے رسول نے فرمایا تھا لڑائی کے بعد وہ سب ظہور میں آیا۔ 1 ؎ مستدرک حاکم ص 570 ج 2 نقل عظام یوسف من مصر فی عہد موسیٰ (علیہ السلام) ۔ 2 ؎ تفسیر ابن جریر ص 75 ج 13۔ 3 ؎ ابوداؤد ص 451 ج 2 باب فی المیت تحمیل من ارض الی ارض 4 ؎ مؤطا امام مالک ص 80 ماجاء فی دفن المیت طاری مجتبائی 5 ؎ صحیح بخاری ص۔ 18 ج 1 باب ھل یخرج 1 میت فی القبر واللحرلطۃ 6 ؎ فتح الباری ص 695 ج 1 لیکن امام شافعی کا قول اس جگہ نہیں مل سکا۔ 7 ؎ مشکوٰۃ ص 139 باب تمنی الموت و ذکر و تفسیر ابن کثیر 492 ج 2۔ 8 ؎ صحیح مسلم ص 2۔ 1 ج 2 باب غزوۃ بدر۔
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے ہیں۔

103۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کا رنج دفع کرنے کے لئے آپ کی تسلی فرمائی ہے آپ کے رنج کا سبب یہ تھا کہ یہود کے بہکانے سے قریش نے آپ سے یہ دریافت کیا تھا کہ حضرت یعقوب جن کی اولاد یہود کہلاتے ہیں ملک شام کے رہنے والے تھے اگر تم نبی ہو تو یہ بتلاؤ کہ یہود جن کا لقب بنی اسرائیل ہے مصر میں کیوں کر چلے گئے تھے اور ملک شام ان سے کیوں کر چھوٹ گیا تھا۔ چناچہ اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے غرض اس سوال کے جواب میں جب اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے انتہا تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مصر میں آنے کا قصہ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سبب سے پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب (علیہ السلام) کی مصر میں آن کر بسنے کا حال اس سورت میں بیان فرمایا اور یہ یہود کو بخوبی معلوم تھا کہ جس کسی کو توریت کا علم نہیں ہے اس کو یہ تاریخی قصہ ہرگز معلوم نہیں ہے اور یہ بھی معلوم تھا کہ آنحضرت ﷺ نے نہ تو ریت پڑی ہے نہ کسی اہل توریت سے آپ کی ایسی رسم ہے کہ جس سے آپ کو یہ قصہ سن کر معلوم ہوگیا ہو۔ رہا اہل توریت میں سے عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ کا اسلام لانا یہ آپ کے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد ہے اور قریش نے یہ سوال ہجرت سے پہلے مکہ میں کیا تھا غرض جب آپ نے توریت سے بھی زیادہ تفصیل سے اس قصہ کو قریش کے روبرو سورت یوسف (علیہ السلام) کے نازل ہوتے ہی بیان فرما دیا تو آپ کو توقع ہوئی کہ اس امر کو تائید غیبی سمجھ کر اکثر یہود آپ کے سچے نبی ہونے کی شہادت دیویں گے اور اس شہادت کی وجہ سے اکثر قریش ایمان لاویں گے لیکن یہود اور قریش اتنی بڑی تائید غیبی کے دیکھنے کے بعد بھی اپنی سخت دلی سے قائل نہ ہوئے اور اسلام نہ لائے اس سبب سے آنحضرت ﷺ کو کمال رنج ہوا اس رنج کو رفع کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ بغیر اللہ کی مرضی کے اور بغیر وقت مقررہ کے پہنچ جانے کے فقط تمہاری حرص سے یہ لوگ ایمان نہ لاویں گے اس کا تم کچھ رنج نہ کرو۔ چناچہ جب وقت مقرر آگیا تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمادیا تھا وہی ظہور میں آیا کہ فتح ہو کر مکہ میں کوئی قریش اور گردونواح مدینہ کے یہود کی بستیاں فتح ہو کر کوئی یہود منکر مخالف باقی نہ رہا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی ایک حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم الٰہی کے موافق نیک و بد کی چھانٹ کی کر ہر ایک کا دوزخ اور جنت کا ٹھکانا بھی قرار پا چکا ہے۔ 1 ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابتدا اسلام میں آنحضرت ﷺ کو یہ حرص تھی کہ سارے اہل مکہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجاویں لیکن جب قرآن کی اکثر آیتوں سے یہ معلوم ہوگیا کہ جو لوگ علم الٰہی میں دوزخی قرار پا چکے ہیں وہ کسی طرح راہ راست پر نہ آویں گے تو آپ نے بہت سی حدیثوں کے ذریعے سے یہ مطلب صحابہ کو سمجھایا جو مطلب حضرت علی ؓ کی اس حدیث کا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 738 ج 2 تفسیر سورت واللیل اذا لغیشی۔
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلہ بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ (قرآن) اور کچھ نہیں ' تمام عالم کے لئے نصیحت ہے۔

104۔ جب اللہ پاک نے یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ بیان فرما دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ یہ ساری باتیں غیب کی ہیں جو ہم نے تم کو بذریعہ وحی کے بتلائی ہیں جن سے تم اس سے پہلے بالکل ناواقف تھے تمہیں ذرا بھی یہ حال معلوم نہیں تھا اور جس وقت یہ قصہ گزرا اس وقت تم موجود نہ تھے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ تم کو یہ پہلی باتیں اس لئے بتلائی ہیں کہ لوگ اس سے عبرت پکڑیں جس سے دین و دنیا میں نجات پائیں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اگرچہ پیغمبر ان کے ایمان کے لئے حرص بھی کرتے ہیں اب فرمایا کہ محمد ﷺ جو لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں اور بہتر و بھلائی کی طرف ان کو بلاتے ہیں اس کی کوئی مزدوری خلق سے نہیں چاہتے ہیں بلکہ محض خدا کے لئے یہ کام کرتے ہیں کہ دنیا میں یہ باتیں یادگار رہ جائیں اور لوگ اس سے عبرت و نصیحت پکڑ کر راہ یاب ہوں اور ان کے دونوں جہان دنیا و آخرت سنور جائے اور نجات حاصل کریں۔ اس سے ہر سمجھ دار سمجھ سکتا ہے کہ بغیر کسی لالچ کے جو نصیحت کی جاتی ہے وہ سچی اور عام فائدہ کے لحاظ سے ہوتی ہے لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ علم الٰہی میں جو لوگ گمراہ ٹھہر چکے ہیں ان کی سمجھ ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہے اس لئے وہ جس حال پر ہیں اسی حال میں دنیا سے اٹھ جاویں گے حاصل کلام یہ ہے کہ اہل مکہ میں جو لوگ قرآن کی نصیحت سے بھاگتے ہیں وہ اس لئے نہیں بھاگتے کہ ان سے اس نصیحت کے معاوضہ میں کچھ اجرت مانگی جاتی ہے بلکہ وہ اس لئے بھاگتے ہیں کہ ان کے پیدا ہونے سے پہلے علم الٰہی میں یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ قرآن کی نصیحت ان لوگوں کے حق میں بیکار ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے 1 ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ مینہ کے پانی کی طرح قرآن کی نصیحت ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 18 ج 1 باب فضل من علم و علم۔
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں۔ اور ان سے اعراض کرتے ہیں۔

105۔ اس آیت میں اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ آسمان و زمین میں بیشمار نشانیاں ہیں جو اللہ جل جلالہ کی وحدانیت پر دلیل ہیں جس سے خداوند عالم کا خالق رزاق ہونا ثابت ہوتا ہے ضحاک کہتے ہیں کہ آسمان کی نشانیاں سورج، چاند، تارے، بادل ہیں اور زمین کی نشانیاں ساری مخلوق خداوند جل جلالہ کی ہے اور دریا، نہریں، ندیاں، پہاڑ، ملک، قصبے، گاؤں، جھیل، ٹاپور اور دوسری بہت سی نشانیاں ہیں جن پر انسان کا گزر ہوتا ہے اور دن میں بارہا انسان انہیں دیکھتا ہے مگر اس میں ذرا بھی غور نہیں کرتا بلکہ اسے غافل رہتا ہے۔ مصحف عبد اللہ بن مسعود میں یمرون علیھا کی جگہ یمشون علیھا ہے مراد اس سے یہ ہے کہ پہلی امتوں کے آثار اور ان کی ہلاکت کا حال دیکھتے سنتے ہیں اور پھر بھی اس سے نصیحت و عبرت نہیں حاصل کرتے۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث جو اوپر گزر چکی اس کو اس آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ علم الٰہی میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں وہ جس طرح قرآن کی نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اسی طرح اللہ کی قدرت کی اور نشانیوں سے بھی وہ لوگ غافل ہیں جس غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو ان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا ہے اور وہ لوگ اللہ کی عبادت میں اوروں کو شریک کرتے ہیں۔
Ayah 12:106

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں۔

106۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت سب سے بڑا گناہ دنیا میں کونسا ہے آپ نے فرمایا کہ اللہ نے آدمی کو پیدا کیا ہے پھر آدمی سوا اللہ کے مخلوقات میں سے کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرا دے تو اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں۔ 1 ؎ اب ایک تو اللہ کی ذات کے ساتھ جو باتیں خاص ہیں مثلاً عبادت حاجت روائی ان باتوں کا برتاؤ سوا اللہ کے کسی دوسرے سے کرنا جس طرح بت پرست بتوں کو سجدہ کرتے ہیں اور ان سے اپنی حاجتیں مانگتے ہیں اسی کو بڑا شرک کہتے ہیں سوا اس بڑے شرک کے بعضی صورتیں شرک کی بہتی چھپی ہوئی ہیں جن کے چھپے رہنے کی مثال مسند امام احمد کی ابو موسیٰ اشعری ؓ کی اور مسند ابی یعلی کی ابوبکر صدیق ؓ کی معتبر روایت میں آنحضرت ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ پہاڑ پر جس طرح ایک چیونٹی پھرتی ہوئی کسی کو نظر نہیں آتی اسی طرح وہ صورتیں شرک کی نظر نہیں آتیں جس آدمی میں یہ صورتیں ہیں وہ اپنے آپ کو پورا مسلمان گنتا ہے اور دیکھنے والے لوگ مسلمان بھی اس کو پورا کلمہ گو مسلمان گنتے ہیں وہ باتیں اس قسم کی ہیں مثلاً اسباب ظاہری دنیا میں خلاف حکم الٰہی کسی تاثیر کا گمان کرنا جس طرح کوئی گنڈہ یا تعویذ یا منتر اس عقیدے سے کرنا کہ ضرور اس میں مستقل اثر ہے یا دین کا کام دنیا کے دکھلانے کو کرنا اسی کو چیونٹی کی مثال دے کر جب چھپا ہوا شرک آپ نے فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو بڑا اندیشہ ہوا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ پھر حضرت ایسے چھپے ہوئے شرک سے نجات کیوں کر ہے آپ نے فرمایا اللہ سے اس طرح دعا مانگا کرو۔ { اللھم انی اعوذبک من ان اشرک بک شیئا وانا اعلم بہ واستغفرک بما لا اعلم } 2 ؎ حاصل معنے اس دعا کے یہ ہیں کہ یا اللہ کھلے چھپے سب طرح کے شرک سے پناہ دے اور کسی قسم کا شرک دانستہ یا نادانستہ ہوگیا ہو تو معاف فرما غرض یہ چھپی ہوئی قسم کا شرک چھوٹی چھوٹی سی باتوں میں اکثر لوگوں سے ہوجاتا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ کہنے کو بہت لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں مگر ان میں شرک کی بو باقی رہتی ہے اس عام مرض کی دوا طبیب ربانی ﷺ نے جو فرمائی ہے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس سے غافل نہ رہے اور اس شرک خفی کے متعلق انے آپ میں کوئی بات پادے تو آئندہ اس کے چھوڑنے کی کوشش کرے کیوں کہ جس گناہ سے آدمی توبہ کرے آئندہ اس گناہ کے چھوڑنے کا ارادہ کرنا بھی شرائط توبہ میں سے ہے۔ چناچہ اوپر اس کی صراحت آچکی ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ مکہ کے مشرک لوگ اللہ کو خالق و رازق جانتے تھے اور پھر اس کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے تھے یہی بڑا شرک ہے اور اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ بغیر خالص دل کی توبہ کے اس شرک کی معافی نہیں ہے۔ رہا چھوٹی چھوٹی باتوں کا شرک اس کی معافی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے لیکن یہ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا جو کام دنیا کے دکھاوے کے لئے کیا جاوے تو ایسے نیک عمل کا کچھ ثواب عقبیٰ میں نہ ملے گا چناچہ مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن سر بمہر اعمال نامے جب اللہ تعالیٰ کے روبرو کھولے جاویں گے تو اللہ تعالیٰ ریاکاری کے عملوں کو بغیر ثواب کے نامہ اعمال سے خارج کردینے کا حکم دیوے گا۔ 1 ؎ ( 1 ؎ الترغیب ص 11 ج 1 الترھیب من الریا۔ )
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انھیں خبر بھی نہ ہو ؟

107۔ اس سے پہلے اللہ پاک نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اکثر لوگ ایمان دار ہو کر شرک بھی کرتے ہیں انہیں کے حق میں اب یہ ارشاد ہوا کہ کیا یہ لوگ بالکل اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ خدا کا عذاب آکر اچانک ان کو ڈھانک لے یا قیامت آجائے اور ان کو مطلق خبر بھی نہ ہو اپنے اپنے کاروبار میں لگ رہے ہوں بازاروں اور گلیوں میں پھر رہے ہوں یا رات کو بستر پر آرام سے سو رہے ہوں اور خدا کا طرح طرح کا عذاب جس طرح پہلی امتوں پر آچکا ہے ان پر بھی آجائے اور ان کا کام تمام کر دے اک ذرا بھی دم لینے کی مہلت نہ دے تو پھر یہ لوگ کیا کریں گے پہلے صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) کی قوم سے لے کر فرعون اور اس کی قوم تک کے قصے جو سورت الاعراف میں گزرے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اجڑی ہوئی قوموں کو پہلے تو راہ راست پر آجانے کے لئے کافی مہلت دی گئی اور مہلت کے زما نے میں جب یہ لوگ راہ راست پر نہ آئے تو ان کی غفلت کی حالت میں ایک دفعہ ہی طرح طرح کے عذاب ان کر یہ لوگ ہلاک ہوگئے صحیح بخاری و مسلم کے حوالے سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بےراہ لوگوں کو پہلے اللہ تعالیٰ کافی مہلت دیتا ہے جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ راہ راست پر نہیں آتے تو پھر ان کو اس طرح پکڑ لیتا ہے کہ جس پکڑ سے ان کا چھٹکارہ نہیں ہوسکتا 1 ؎ معتبر سند سے طبرانی میں عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بازروں میں ہر طرح کا کپڑا بک رہا ہوگا۔ عمارتوں کی مرمتیں ہو رہی ہوں گی کہ یکایک صور کی آواز سے تمام دنیا اجڑ جاوے گی 2 ؎ حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت میں دنیوی عذاب اور قیامت کے اچانک آجانے کا جو ذکر ہے پہلی امتوں کی ہلاکت کے قصے اور یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 678 ج 2 وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری۔ 2 ؎ الترغیب ص 293 ج 2 فصل فی النفخ فے الصور الخ۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

کہہ دو میرا راستہ تو یہ ہے۔ میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (ازروئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر۔ میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

108۔ اس آیت میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں ہمارا طریقہ اور جس راہ پر ہم ہیں وہ یہ ہے کہ ہم مخلوق خدا کو اس بات کی نصیحت کردیں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے دونوں جہان میں اسی کی خدائی ہے سارے آسمان اور تمام روئے زمین دریا سمندر پر اسی کا قبضہ و دخل ہے کوئی اس کے کسی صنعت میں ذرہ برابر شریک نہیں ہے۔ عبادت بھی اسی کو زیبا ہے اور میں جو کسی کو اس راہ پر بلاتا ہوں تو یقین اور سند کی راہ سے میرا بلانا اس راہ کی طرف ہے۔ بےدلیل نہیں مجھے خدا نے اس کی سوجھ عطا کی ہے اور اس بات کی ہدایت دی ہے اور جو شخص ہمارا پیرو ہو وہ بھی جس کسی کو اس راہ کی طرف بلاتا ہے تو دلیل سے قائل کر کے بلاتا ہے تمام ملائکہ اور جن و انس اور سب بیجان چیزیں اس کی تسبیح کرتی ہیں اور میں بھی اس کی پاکی بیان کرتا ہوں پھر جناب سرور کائنات ﷺ کو اللہ پاک کا یہ حکم ہوا کہ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ جس طرح مشرکین خدا کے ساتھ اوروں کو شریک کرتے ہیں اور خالص اسی کی بندگی نہیں کرتے بتوں کو بھی اسی کے ساتھ معبود شمار کرتے ہیں میں ان باتوں سے بری ہوں میں اسی کو ہر ایک امر میں قادر تصور کرتا ہوں اور اکیلا اسی کی بندگی کرتا ہوں مشرکوں میں نہیں ہوں۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کرنا اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں 1 ؎ ( 1 ؎ جلد ہذا ص 204) آیت میں توحید کی رغبت کے سمجھ بوجھ کی رغبت ہونے کا اور شرک سے بیزاری کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ توحید کی دلیل مضبوط اور شرک بالکل بےسند ہے۔ سورة انعام کی آیت { وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ } [6: 153] ۔ کی تفسیر میں جو حدیثیں گزرچکی ہیں ان حدیثوں کو بھی آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا ؟ اور متقیوں کے لئے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔

109۔ اس آیت میں اللہ پاک نے ان لوگوں کو قائل کیا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمان سے کوئی فرشتہ رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا گیا۔ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ عادت الٰہی یوں ہی جاری رہی ہے کہ ہمیشہ انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اس میں جو کچھ حکمت ہے وہ اللہ خوب جانتا ہے۔ جمہور علما کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ جل جلالہ نے جتنے پیغمبر ہدایت عالم کے لئے بھیجے وہ سب کے سب اول سے آخر تک مرد ہی ہوتے آئے کوئی عورت کسی زمانہ میں نبی یارسول نہیں ہوئی بعض لوگوں کا اعتقاد یہ جو ہے کہ چار عورتیں پیغمبر ہوئیں ہیں حضرت آسیہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ اور حضرت مریم والدہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہ السلام) وہ لوگ اس کیوجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ان عورتوں کو بعض اوقات خدا نے بذریعہ فرشتوں کے بشارت بھیجی ہے مثلاً اللہ پاک نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی نسبت فرمایا کہ { واوحینا الی ام اموسی ان ارضیعہ } [28: 7] ۔ اور حضرت مریم کو فرشتے نے آکر یہ بشارت سنائی { واذ قالت الملائکۃ یا مریم ان اللہ اصطفاک۔ الخ } [3: 42] مگر اس سے یہ نہیں لازم آتا کہ یہ گروہ مستورات نبی تھا کیونکہ نبی مخلوق کی ہدایت کے لئے ہوتا ہے اور کوئی نہ کوئی شریعت لے کر آتا ہے اور یہ برگزیدہ عورتیں نہ تو علیحدہ کسی شریعت کی بانی تھیں اور نہ کسی شریعت سابقہ کی خلیفہ جس طرح حضرت ہارون (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ تھے اتنی بات البتہ ثابت ہوتی ہے کہ یہ عورتیں صدیقہ ہوئی ہیں جیسا کہ اللہ پاک نے حضرت مریم بنت عمران (علیہ السلام) کی نسبت خبر دی کہ یہ اشرف عورت تھیں گروہ مستورات میں۔ { ما المسیح بن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقہ کانا یا کلان الطعام } [55: 5] ۔ اس جگہ حضرت مریم کا ذکر اشرف مقام میں تھا اگر نبی ہوتیں تو ان کی نبوت کا ذکر یہاں ضرور کیا جاتا صرف صدیقیت کا وصف کافی نہ شمار کیا جاتا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جال کی رجال کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ اس سے مطلب یہ ہے کہ جو منکر نبوت لوگوں کا خیال ہے کہ آسمان کے رہنے والوں فرشتوں میں سے کوئی رسول ہو کر یہاں نہیں آیا اس کا جواب اللہ پاک نے یوں دیا ہے کہ کبھی کوئی فرشتہ رسول نہیں بنایا گیا جتنے رسول ہوئے ہیں وہ سب زمین کے چلنے والے رہنے والے اور اسی سرزمین کے بسنے والے ہوئے ہیں اور وہ سب کے سب آدمی جنس بنی آدم سے ہیں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے جس میں اللہ پاک نے فرمایا { وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انھم لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق } [25: 20] کیوں کہ فرشتوں کی شان کھانے پینے اور بازاروں میں پھرنے کی نہیں ہے۔ اور قوی سے مراد یہ ہے کہ وہ رسول شہر کے باشندے ہوئے ہیں جنگل اور گاؤں کے رہنے والے نہیں ہوئے کیوں کہ دیہات والوں کی نسبت شہر کے لوگ زیادہ سمجھ دار اور نرم دل ہوتے ہیں پھر اللہ پاک نے اسی آیت میں ذکر فرمایا کہ لوگ جھٹلانے والے جو ہمارے رسول کو جھٹلاتے ہیں کیا یہ لوگ روئے زمین کی سیر نہیں کرتے یا پہلے لوگوں کا حال انہوں نے سنا نہیں انہیں یہ بات نہیں معلوم ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم یا حضرت ہود (علیہ السلام) یا حضرت صالح (علیہ السلام) وغیرہ کی امتوں کا کیا حال ہوا کس طرح یہ لوگ ہلاک ہوئے اور اسی زمانہ میں جو لوگ مومن تھے اور خدا اور اس کے رسول کے تابع اور فرمانبردار تھے ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوا جو کچھ عذاب آیا انہیں کافروں پر آیا خداوندعالم کا طریقہ اسی طرح برابر جاری رہا ہے کہ وہ ہمیشہ دین کا انکار کرنے والوں کے بنیاد اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے اور اپنے خالص اور متقی بندوں کو سایہ رحمت میں لے لیتا ہے۔ اسی واسطے پھر یہ فرمایا کہ جس طرح یہ متقی بندے دنیا میں خدا کے حفظ وامان میں رہا کئے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ان کے واسطے عمدہ عمدہ مکانات تیار کئے گئے ہیں جو مرنے کے بعد انہیں عطا ہوں گے اور جو نعمتیں وہاں انہیں ملیں گی وہ دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بہتر ہوں گے { افلا تعقلون } اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک موٹی سی بات تھی جو ان لوگوں کے دل کے جواب میں انہیں سمجھا دی گئی ہے کہ فرشتوں کا اصلی صورت میں دیکھنا تو انسان کی طاقت سے باہر ہے اس لئے کوئی فرشتہ رسول بناکر بھیجا جاتا تو ضرور وہ انسان کی شکل میں بھیجا جاتا۔ وہی شبہ ان لوگوں کو باقی رہتا جو اس وقت ہے۔ اس موٹی سی بات پر ان لوگوں کو غورو فکر کرنا اور یہ جان لینا چاہیے کہ اس نادانی کے شبہ نے پہلی امتوں کو دین و دنیا کی خرابی میں ڈال دیا دنیا میں وہ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اور عقبیٰ میں جنت کی نعمتوں کو ہاتھ سے دے کر دوزخ کے عذاب میں پکڑ گئے ان اجڑی ہوئی امتوں کی طرح اس موٹی سی بات پر غور و فکر کرنے میں ان لوگوں نے کوتاہی کی اور اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اڑے رہے تو وہی انجام ان کا ہوگا جو ان سے پہلے لوگوں کا ہوا اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے اس نادانی کے شبہ پر اڑے رہنے والے بےبڑے قریش کے سرداروں کا دین و دنیا میں جو انجام ہوا وہ صحیح مسلم کی انس بن مالک ؓ کی حدیث کے حوالہ سے گزر چکا ہے 1 ؎ ( 1 ؎ جلد ہذا ص 32) جس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے شروع ہونے سے ایک رات پہلے اللہ کے رسول ﷺ نے قریش میں ان سرکشوں کے نام بتلا دئیے جو اس لڑائی میں مارے جانے والے تھے، بلکہ مارے جانے کے بعد جہاں جہاں ان لوگوں کی لاشیں پڑی تھیں وہ مقامات بھی بتلا دئیے تھے۔ انس بن مالک ؓ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی لاشوں کو لڑائی کے بعد انہی مقامات پر ہم لوگوں نے پایا یہ تو ان سرکشوں کی دنیا کی خرابی کا حال ہوا کہ عقبیٰ میں ان کا یہ حال ہوا کہ مرنے کے ساتھ ہی سخت عذاب نے ان کو آن گھیرا جو عذاب پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے عذاب الٰہی کے وعدہ کو سچا پا لیا چناچہ امام احمد صحیح بخاری شریف کی حدیث کے حوالے سے ذکر بھی گزرچکا ہے۔ 2 ؎ (2 ؎ صحیح بخاری ص 566۔ ج 2 باب قتل ابی جہل )
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ (اپنی نصرت) کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی اس میں وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگاروں سے پھرا نہیں کرتا۔

110۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے پچھلی امتوں کا یہ حال عبرت کے طور پر قریش کو یاد دلایا تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے فرعون کے زمانہ تک جن جن امتوں نے انبیاء سے مخالفت کی اور بت پرستی اور اپنی سرکشی سے باز نہ آئے وہ سب لوگ طرح طرح کے عذاب سے ایک دم میں غارت ہوگئے مکہ سے شام کے ملک کا سفر تجارت کے لئے اکثر قریش کو پیش آتا رہتا ہے اس راستہ میں بہت بستیاں اور مکافات ایسے لوگوں کے کھنڈر ہوئے پڑے ہیں ان کو دیکھ کر عبرت پکڑیں اور جان لیں کہ ان کی سرکشی کا بھی یہی انجام ہونے والا ہے۔ اس سے اس وقت کے مسلمانوں کے جی میں یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے رفع فرمایا ہے کہ عادت الٰہی پہلے سے یوں ہی ہے یکایک ان امتوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے غارت نہیں کیا ان کو بھی یہاں تک مہلت دی گئی کہ اس وقت کے نبی تنگ آگئے اور اپنی کامیابی میں ان کو مایوسی ہوگئی اور مخالف لوگوں نے پورا گمان کرلیا کہ عذاب کا وعدہ جو انبیاء نے کیا تھا وہ فقط ڈراوا تھا پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مخالفوں کو پکڑا اور ایک دم میں غارت کردیا گھبرانا نہیں چاہیے اب بھی ویسا ہی ہونے والا وقت مقررہ کی دیر ہے چناچہ پھر ویسا ہی اللہ کے وعدہ کے موافق ہوا جس کی تفصیل صحیح بخاری و مسلم کی انس بن مالک ؓ کی روایتوں کے حوالہ سے اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے 1 ؎ (1 ؎ صحیح بخاری ص 680 ج 2 باب قولہ حتی اذا استیس الرسل۔ ) کذبوا میں دو قرأتیں ہیں ایک ذال کی تشدید سے ہے اور دوسری بغیر تشدید کے صحیح بخاری میں عروہ سے جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا کہ حضرت عائشہ ؓ نے بغیر تشدید کی قرأت سے سخت انکار کیا ہے کیونکہ انہوں نے اس قرأت کے یہ معنے خیال کئے ہیں کہ خود رسولوں نے یہ گمان کیا کہ مخالفوں کے عذاب اور رسولوں کی کامیابی اور مدد کا وعدہ جو اللہ کی طرف سے ہوا ہے وہ دنیا میں پیش نہ آوے گا اور یہ گمان رسول کی شان سے بعید تھا اس واسطے حضرت عائشہ ؓ نے اس قرأت سے انکار کیا لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن مسعود ؓ اور جن صحابہ نے اس قرأت کو اختیار کیا ہے۔ 2 ؎ ( 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 497 ج 2۔ ) ان کا مطلب اس قرأت سے وہ نہیں ہے جو مطلب حضرت عائشہ ؓ نے خیال کیا ہے چناچہ نسائی میں سعید بن جبیر کی جو روایت حضرت عبد اللہ بھن عباس ؓ سے ہے اس میں حضرت عبد اللہ بن عباس نے اس قرأت کے معنے بتلا دئیے ہیں کہ مخالف لوگوں نے عذاب کے نزول میں دیر ہونے سے یہ گمان کیا کہ عذاب کے وعدہ میں ہم نے رسولوں کو جھٹلالیا 3 ؎ (3 ؎ فتح الباری ص 220 ج 4 کتاب التفسیر۔ ) اس واسطے وجود حضرت عائشہ ؓ کے انکار یہ قرأ ت مشہور ہے تمام کوفہ کے قاریوں نے اور حسن بصری اور اکثر تابعین نے اس قرأت کو اختیار کیا ہے اس صورت میں دونوں قراتوں کے معنے ایک ہی ہیں کچھ فرق نہیں ہے خلفائے اربعہ عبد اللہ بن مسعود، ابی بن کعب، زید بن ثابت اور ابی موسیٰ اشعری، عبد اللہ بن زبیر ؓ ، یہ دس صحابہ علم تفسیر میں مشہور ہیں اور ان مشہور مفسر صحابہ ؓ میں سے دو صحابیوں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کا بغیر تشدید کی قرأت پر اتفاق ہے۔ اس لئے یہ قرأت بڑی معتبر قرأت ہے۔ یہاں تو اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فنجی من نشاء فرمایا ہے۔ لیکن جہاں پہلی امتوں کے تفصیلی قصے ہیں وہاں اس مختصر ارشاد کا یہ تفصیل مطلب بیان فرمادیا کہ ہر ایک نبی اور ان کے پیرو لوگوں کو عذاب سے بچایا جا کر باقی کے نافرمانوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا گیا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بےراہ لوگوں کو جب تک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو مہلت دیتا ہے آخر انہیں پکڑتا ہے تو بالکل ہلاک کردیتا ہے۔ 4 ؎ (4 ؎ جلد ہذا ص 205۔ ) یہ حدیث آیت کے ٹکڑے { ولا یرد باسنا عن القوم الجرمین } کی گویا تفسیر ہے صحابہ میں اس آیت کے معنے میں اختلاف پڑجانے سے تابعین میں اختلاف پڑجانے سے تابعین اور تبع تابعین میں اس آیت کے صحیح معنے حل کرنے کا بڑا چرچا تھا اور اس آیت کے معنے کے حل کرنے کو وہ لوگ بڑا اہم مطلب خیال کرتے تھے چناچہ مسلم بن یسار ؓ نے سعید بن جبیر ؓ سے جب اس آیت کے معنے پوچھے اور انہوں نے وہی معنے بتلائے جو نسائی کی روایت سے اوپر بیان ہوئے تو مسلم بن یسار ؓ نے سعید بن جبیر ؓ سے کہا کہ جس طرح تم نے میری مشکل حل کی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہاری سب مشکلیں حل کرے اور خوشی میں آکر مسلم بن یسار ؓ نے سعید بن جبیر ؓ سے معانقہ بھی کیا یہ مسلم بن یسار، سعید بن جبیر کے شاگردوں میں تبع تابعی قدیم مفسروں میں ان کا شمار ہے اور ضحاک بن مزحم نے جو مشہور مفسر ہیں جب سعید بن جبیر ؓ سے آیت کے وہ معنے سنے جس کا ذکر اور گزرا تو ضحاک ؓ نے یہ کہا کہ بہ معنے یمن کا سفر بھگت کر بھی مجھ کو حاصل ہوتے تو میں جانتا بڑی آسانی سے مجھ کو ایک بیش قیمت چیز ملی ہے اور اوپر بخاری کی روایت کا ذکر ہوچکا ہے کہ عروہ بن زبیر تابعی ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے اس آیت کی قرأت اور معنے پوچھے اس آیت میں گمان کا جو ذکر ہے اس میں بھی علماء مفسرین نے اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں خود رسولوں نے مدد الٰہی کی دیر کے سبب سے یہ گمان کیا کہ مخالف لوگ اب ہم کو جھٹلانے کا اچھا موقع پاویں گے بعضے کہتے ہیں کہ انبیاء کے ساتھ جو کچھ لوگ تھے انہوں نے گمان کیا کہ مخالفوں کو اب رسولوں کے جھٹلانے کا موقع ہاتھ آیا بعضے کہتے ہیں کہ مخالف لوگوں نے گمان کیا کہ عذاب کے وعدہ کو اور اس وعدہ کے ظاہر کرنے والے رسولوں کو ہم جھٹلاچکے اسی اختلاف مفسرین کے سبب سے ترجموں میں اختلاف ہے مگر مفسر صحابہ میں سے دو جلیل القدر مفسر صحابہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ قول ہے کہ گمان کرنے والے مخالف لوگ تھے اسی قول کو شاہ ولی اللہ ؓ نے فارسی ترجمہ میں اختیار کیا ہے اور یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔