12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر باوجود اسکے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے انکی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصے کے لئے ان کو قید ہی کردیں۔

35۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے یوسف (علیہ السلام) کی دعا اور اس کے مقبول ہونے کا حال بیان فرما کر اب یہ کیفیت قید کی بیان فرمائی کہ جب اس بات کا چرچا ہر ایک رئیس و امیر کے گھر میں ہونے لگا اور ہر شخص کی زبان پر یہی مذکور تھا کہ زلیخا عزیز مصر کی بیوی اپنے شوہر کے غلام پر دل و جان سے فریفتہ ہے اور اس کی محبت میں دیوانی ہو رہی ہے اور اس نے آپ اپنی خواہش ان پر ظاہر کی۔ اس پر عزیز مصر اپنے صلاح کاروں کی صلاح اور مشورے سے اس بات پر آمادہ ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) کو قید میں رکھنا چاہیے حالانکہ سارے لوگ جان چکے تھے اور کھلی کھلی شہادت اور نشانیاں موجود تھیں کہ اس مقدمہ میں یوسف (علیہ السلام) کا کوئی قصور نہیں ساری شرارت عورت کی ہے بےزبان بچے کی گواہی گزر چکی تھی کہ اگر کرتہ یوسف (علیہ السلام) کا پیچھے سے پھٹا ہو تو یوسف بےخطا ہیں اور خطا وار عورت ہے چناچہ کرتہ کے دیکھنے سے یوسف (علیہ السلام) کا بےقصور ہونا عزیز مصر کو اچھی طرح ثابت ہوگیا تھا اسی بنا پر یوسف (علیہ السلام) سے عزیز مصر نے یہ بات کہی تھی کہ یوسف ان باتوں سے درگزر کر اور اپنی عورتوں کو معذرت کے لئے کہا تھا کہ تو خطا وار ہے مگر پھر بھی سوائے اس بات کے اور کچھ بن نہ آیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو قید میں رکھا جائے تاکہ لوگ جانیں کہ عورت بےقصور ہے اگر کچھ خطا ہے تو اسی مرد کی ہے دوسری مصلحت یہ تھی اگر ان کو قید نہ کیا جاوے اور دونوں ایک جگہ ہوں گے تو عورت کبھی باز نہ آئے گی کسی نہ کسی حیلہ سے ضرور یوسف (علیہ السلام) پر قابض ہوجائے گی اور ان کو اپنے پھندے میں پھانسے گی اس لئے ضروری ہے کہ ان کو قید ہی کردیا جائے کہ عورت کا پھر کچھ بس یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے یہ بات شروع ہوئی ہے اور انہیں کی خطا ہے جس کی سزا میں جیل خانہ گئے ہیں اور مدت اس قید کی اتنی رکھی گئی تھی کہ اس عرصہ میں یہ قصہ رفع دفع ہوجائے اس قید میں اللہ پاک نے مدت نامعلوم رکھی ہے مگر بعض مفسروں نے اس کے متعلق یہ بیان کیا ہے کہ جب تک اس معاملہ کا چرچا موقوف نہ ہوجائے اس وقت تک کہ یہ قید تھی اور سعید بن جبیر (رح) نے سات سال کہا ہے اور کسی نے پانچ برس اور کسی نے چھ سال۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) تین مرتبہ مصیبت میں آئے اول مرتبہ تو اس مقدمہ میں قید میں گئے پھر جب قید خانہ میں اذکرنی عند ربک کہا تو اور کئی سال تک قید میں رہ گئے پھر تیسری دفعہ جب بھائیو سے یہ کہا کہ ایتھا العیر انکم لسارقون تو بھائیوں نے منہ در منہ یہ جواب دیا کہ ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل صحیح مسلم ‘ ابوداؤد اور صحیح ابن خزیمہ میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی کو چاہیے کہ اپنی اولاد اور اپنے مال کے حق میں بددعا نہ کرے کیونکہ مقبولیت کے وقت میں وہ بددعا قبول ہوجاتی ہے جس سے آدمی کو ضرر پہنچ جاتا ہے 1 ؎ اوپر کی آیتوں اور اس آیت اور حدیث کے ملانے کا یہ مطلب قرار پایا کہ جب زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) کو قید سے ڈرایا تو یوسف (علیہ السلام) کی زبان سے بھی بددعا کے طور پر قید کی خواہش نکل گئی اور اس بددعا کے قبول ہوجانے سے اس کے ظہور کا یہ سامان بہم پہنچ گیا کہ آخر عزیز مصر کی صلاح یوسف (علیہ السلام) کے قید کرنے پر جم گئی اور یوسف (علیہ السلام) جیل خانہ میں بھیج دئیے گئے اگر یوسف (علیہ السلام) فقط ان عورتوں کے مکر و فریب سے بچنے کی دعا کرتے اور وہ دعا قبول ہوجاتی تو اسی طرح کا کوئی انتظام غیب سے ہوجاتا مگر تقدیر الٰہی میں یوں ہی تھا کہ بت پرستوں کے ہاتھ سے ایک اللہ کے نبی جیل خانے جانے کی تکلیف اٹھا ویں گے۔ 1 ؎ الرتغیب ص 301 ج 1 باب الترھیب من دعاء الانسان علی نفسہ الخ۔
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زنداں ہوئے۔ ایک نے دن میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا کیا ہوں کہ شراب (کے لئے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے ہیں (تو) ہمیں انکی تعبیر بتا دیجئے کہ ہم تمہیں نیکو کار دیکھتے ہیں۔

36۔ یہاں اتنی بات محذوف ہے کہ جب عزیز مصر کی صلاح یوسف (علیہ السلام) کے قید کرنے پر جم گئی اور یوسف (علیہ السلام) قید خانہ میں داخل ہوئے تو دو شخص اور بھی بادشاہ مصر کے دربار کے ان کے ہمراہ قید ہوئے ایک تو بادشاہ کا ساقی تھا آب دار خانہ شاہی کا اہتمام اس کے ہاتھ میں تھا۔ بادشاہ کو شراب پلانے پر مقرر تھا اور دوسرا باورچی خانہ کا داروغہ تھا۔ شاہی کھانے کا انتظام اس کے سپرد تھا ان دونوں کو اہل مصر نے اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ بادشاہ کو شراب اور کھانے میں زہر دے دیں اور اس کی رشوت میں جس قدر روپیہ چاہیں ہم سے لے لیں ایک روز بادشاہ کو کھانے کے وقت کچھ شبہ پیدا ہوا دونوں سے دریافت کیا یہ کھانا اور شراب کس قسم کے ہیں۔ ساقی نے کہہ دیا کہ آپ یہ کھانا نہ کھائیں اس میں زہر ملا ہوا ہے بادشاہ نے ساقی سے کہا تو یہ شراب پی جا وہ پی گیا اسے کچھ نقصان نہ پہنچا اور باورچی سے کہا کہ تو یہ کھانا کھا جا اس نے کھانے سے انکار کیا تو وہ کھانا کسی جانور کو کھلایا گیا وہ فوراً مرگیا اس جرم میں ساقی اور نان بائی دونوں کے دونوں جیل خانہ میں بھیجے گئے۔ پانچ برس کے بعد ان دونوں نے خواب دیکھا ساقی نے یہ خواب میں دیکھا کہ میں انگور نچوڑ نچوڑ کر شراب بنا رہا ہوں اور باورچی نے یہ خواب دیکھا میں اپنے سر پر روٹیاں لئے جاتا ہوں اور جانور اسے نوچ نوچ کر کھاتے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) قید خانہ میں بھی ہر وقت یاد الٰہی میں مصروف اور ہر وقت خدا کی عبادت کرتے رہتے تھے اور قیدیوں کے حال پر بھی بہت مہربان تھے جب کوئی بیمار ہوتا تو اس کی خبر گیری کرتے اور نہایت محبت سے ان کے ساتھ پیش آتے تھے۔ اسی واسطے ان دونوں نے یوسف (علیہ السلام) سے اپنا خواب بیان کیا اور کہا کہ آپ کو نیکوکار جانتے ہیں آپ ہمارے اس خواب کی تعبیر بیان کیجئے۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ سچا خواب تو سچ بولنے والے دیندار شخص کا ہوتا ہے 1 ؎ مطلب یہ ہے کہ سچ بولنے والے دیندار شخص کا دل سچ پر جما ہوا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے دل میں جو خیال آتا ہے وہ اکثر سچا ہوتا ہے اور یوں تو کبھی کبھی بت پرستوں کا خواب بھی سچا ہوتا ہے جس طرح مثلاً یہ ساقی اور نان بائی کا خواب یا بادشاہ مصر کا خواب جس کا ذکر آگے آوے گا۔ 1 ؎ مشکوۃ ص 14 کتاب الایمان
Ayahs 12:37–38

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں۔ جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں میں انکا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں۔

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایان نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

37۔ 38۔ یوسف (علیہ السلام) نے ساقی اور باورچی سے جنہوں نے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تھی پہلے تو یہ فرمایا کہ تمہارا کھانا جس وقت آئے گا اس سے پہلے میں تمہارے خواب کی تعبیر کہہ دوں گا اور جو کچھ میں کہوں گا نہ تو وہ جادو کے زور سے کہوں گا اور نہ علم نجوم اور نہ تعلیم شیطان سے بلکہ اس علم کے ذریعہ سے بتلاؤں گا جس کی تعلیم مجھ کو میرے پروردگار عالم نے کی ہے اور جو علم خداوند جل شانہ نے عطا کیا ہے اس سے میں تعبیر بتلاؤں گا اس کے بعد پھر آپ نے دین اسلام کی تلقین کرنی شروع کی اور بت پرستی کی مذمت بیان کی کہ میں بچپن سے اس قوم کے میل جول میں تھا جو نہ تو خدا پر ایمان رکھتے تھے اور نہ آخرت پر ان کا دین و ایمان تھا مگر میں سرے سے اس عقیدہ کا پابند نہیں ہوا اور اپنے باپ دادا ابراہیم (علیہ السلام) و اسحاق (علیہ السلام) و یعقوب (علیہ السلام) کے طریقہ پر رہا کہ ہمیشہ خدا واحد کو اکیلا جانتا رہا اور اسی کو قادر مطلق تصور کرتا رہا اور سچ پوچھو تو ہمیں زیبا بھی نہیں ہے کہ جس خدا نے ہمیں خاک سے بنایا اور دنیا کی ساری چیزیں ہماری ضرورتوں کے لئے پیدا کیں اور پھر ہم اس کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرا کر پرستش کریں اس کے بعد پھر یہ فرمایا کہ باوجود اس بات کے کہ خدا کی وحدانیت کی نشانیاں بالکل ظاہر ہیں اور اس کی خدائی کا پتہ ذرہ ذرہ سے عیاں ہے انسان اگر تھوڑی عقل والا بھی ہو تو ذرا سے غور و فکر میں اللہ پاک کو واحد اور بےمثل جان لے مگر خدا نے جس کسی کو ایسی عقل اور ایسا دل دیا اور جس شخص کا ایسا عقیدہ بنایا وہ محض اس کا فضل ہے ہم اگر یہ کہیں کہ ہم اپنی سمجھ سے خدا کو اکیلا مانتے ہیں اسی کو ہر ایک امر میں قادر مطلق جانتے ہیں تو یہ بالکل نادانی ہے یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایسی سمجھ دی اور راہ حق پر لگایا مگر اکثر آدمی ان باتوں کو نہیں سمجھے اور خداوند جل جلالہ کی ناشکری کرتے ہیں۔ { من فضل اللہ علینا و علی الناس } انبیاء کے گروہ پر تو اللہ کا یہ فضل ہے کہ اللہ نے ان کو اپنا نائب بنا کر دنیا میں بھیجا اور عام لوگوں پر اللہ کا یہ فضل ہے کہ اس نے عام لوگوں کی ہدایت کے لئے انبیاء کو اپنا نائب بنایا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالے سے معاذ بن جبل ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں۔ اس حق کے ادا ہونے پر اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ وہ شرک سے بچنے والے اپنے بندوں کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔ 1 ؎ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا۔ اس لئے اس کی شکر گزاری میں انسان کو لازم ہے کہ وہ خالص اللہ کی عبادت کرے اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک نہ ٹھہراوے۔ لیکن دنیا میں بہت سے لوگ اس شکر گزاری کے راستہ کو بھولے ہوئے ہیں بعضوں نے تو سوا اللہ کے اوروں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ بعضے بدعت میں گرفتار ہیں جس سے ان کا عبادت کا طریقہ حکم الٰہی کے موافق نہیں ہے بعضے دنیا کے دکھاوے کے لئے عبادت کرتے ہیں جو بالکل رائیگاں ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ ان لوگوں کے دل میں آخرت کے عذاب وثواب کا یا تو یقین ہی نہیں ہے یا ہے تو پورا نہیں ہے اس واسطے جن کو آخرت کا یقین نہیں وہ تو آخرت کے بالکل منکر ہیں اور ادھورے یقین والے ریاکاری اور بدعت میں گرفتار ہیں۔ { ملۃ قوم لا یؤمنون باللہ وھم بالاخرۃ ھم کافرون } سے مقصود یہاں عزیز مصر اور اس کی قوم ہے کہ انہی لوگوں میں یوسف (علیہ السلام) چھوٹے سے بڑے ہوئے اور انہیں لوگوں کے شرک سے آپ بیزار تھے۔
Ayahs 12:39–40

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

میرے جیل خانے کے رفیقو ! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا و غالب ؟

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں خدا نے انکی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نہ ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جا نتے۔

39۔ 40۔ یوسف (علیہ السلام) نے کفر کی مذمت کی اور توحید کا حال اور خداوند جل جلالہ کے اوصاف بیان کر کے یہ نصیحت فرمائی کہ اے میرے قید کے مصاحبہ ذرا غور کرو کہ یہ بت پرستی بہتر ہے یا حق پرستی اور یہ تمہارے کئی جدا جدا معبود اچھے ہیں۔ یا وہ خدائے برتر کہ جو اپنی ذات اور صفات میں اکیلا اور ساری خدائی میں اسی کا بول بالا ہے اس کے قہر کے آگے کسی کی کچھ نہیں چل سکتی پھر فرمایا کہ تم جو ان بتوں کی پرستش کرتے ہو اس کی پوری سند نہیں ہے یہ بت تو تمہارے جعلی معبود ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادا نے پتھر کی مورتیں تراش کر ان کے جدا جدا نام رکھ چھوڑے ہیں اور اسی کو پوجنے لگے ہیں ورنہ ان میں کوئی طاقت اور کوئی قدرت نہیں ہے جو معبود بننے کے لائق ہو سکیں اگر سارے جہاں کو پیدا کیا ہے تو اسی اللہ نے اور اگر حکومت اور قضہ سارے جہان پر ہے تو وہ فقط اس اللہ جل شانہ کا ہے اس میں کسی غیر کی شرکت نہیں ہے۔ اس بنا پر اگر پرستش کی لائق ہے تو وہی ہے اور تم بھی اب سے خبر دار ہوجاؤ کہ اسی کو اکیلا جانو اور اسی کی خالص بندگی کرو کیوں کہ یہی دین مستقیم ہے اور اسی کا نام صراط مستقیم ہے جو شخص اس راہ سے ذرا بھی ورے پرے ہوا تو شیطان کا تسلط اس پر ہوجاوے گا اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں جانتے ہیں اور اسی سبب سے گمراہی اور شرک و کفر میں مبتلا رہتے ہیں۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پچھلے زمانے میں کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرجانے کا رنج و غم ان کے رشتہ داروں اور معتقدوں کے دلوں پر بہت تھا شیطان نے موقع پاکر ان لوگوں کو یہ بہکایا کہ ان نیک لوگوں کی شکل کے بت بنا کر رکھ لئے جاویں تاکہ ان بتوں کے دیکھ لینے سے ان نیک لوگوں کی صورت آنکھوں کے سامنے رہے اور اس تدبیر سے ان نیک لوگوں کی صورتوں کے آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جانے کا رنج و غم کچھ کم ہوجاوے۔ شیطان کے بہکانے سے ان لوگوں نے وہ بت بنائے اور رفتہ رفتہ ان بتوں کی پوجا ہونے 1 ؎ لگی جو آج تک چلی آتی ہے۔ ہشام بن محمد کلبی مفسر نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ یہ نیک لوگ قابیل بن آدم کی اولاد میں سے تھے اور اسی زمانے میں یہ مورتیں بنائی گئیں اور ادریس (علیہ السلام) کے نبی ہونے کے زمانے میں ان مورتوں کی پوجا ہونے لگی پہلے ادریس (علیہ السلام) اور پھر حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بعد نوح (علیہ السلام) اسی بت پرستی کے مٹانے کو نبی ہو کر آئے اور رفتہ رفتہ اسی مورت پرستی کی شاخیں ستارہ پرستی آتش پرستی وغیرہ نکل آئیں۔ 2 ؎ حاصل کلام یہ ہے۔ کہ یہ سب پوجائیں دین الٰہی سے الگ لوگوں کی گھڑی ہوئی باتیں اللہ تعالیٰ کو ایسی ناپسند ہیں کہ ان کے وبال میں نوح (علیہ السلام) سے لے کر فرعون تک بہت سی قوموں کو اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اسی واسطے ان پوجاؤں کو بےسند اور توحید کو سیدھی راہ فرمایا یہ ہشام بن محمد اگرچہ حدیث کی روایت میں معتبر نہیں ہیں لیکن تاریخ میں ان کا اعتبار ہے یہ 260 ؁ھ کے علماء میں ہیں حافظ عبدالرحمن ابن جوزی نے اپنی کتاب تلبیس ابلیس میں ان کے قول کا جگہ جگہ حوالہ دیا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 732 ج 2 تفسیر سورة نوح 2 ؎ فتح الباری ص 377 ج 4 تفسیر سورة نوح
Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

میرے جیل خانے کے رفیقو ! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصل ہوچکا ہے۔

41۔ ساقی اور نان بائی اور بادشاہ مصر ان تین کافر شخصوں کے خواب اور تعبیر کا ذکر ان آیتوں اور آگے کی آیتوں میں آچکا ہے اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ کافر مشرک یا فاسق فاجر شخصوں کے سب خواب جھوٹے ہوتے ہیں۔ اسی واسطے صحیح مذہب علمائے اہل سنت کا یہی قرار پایا ہے کہ اہل اسلام نیک لوگوں کا خواب اکثر صحیح ہوتا ہے اور کافر مشرک فاسق فاجر لوگوں کا خواب بھی کبھی کبھی صحیح ہوتا ہے اور صحاح کی کتابوں میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیثیں جو ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مرض وفات کے وقت خاص اہل اسلام کو خوشخبری دی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ میرے بعد نبوت اور وحی تو ختم ہوگئی لیکن اہل اسلام کا خواب غیب کی خبر معلوم ہونے کا ایک ذریعہ ہے جو میرے بعد بھی باقی رہے گا۔ 1 ؎ ان حدیثوں اور ان آیتوں کو ملا کر علماء نے یہی مطلب نکالا ہے کہ اہل اسلام نیک لوگوں کے خواب اکثر سچے ہوں گے اور کافر مشرک فاسق فاجر لوگوں کے خواب کبھی کبھی سچے ہوں گے کیوں کہ سوا انبیاء کے اور سب کے خوابوں میں شیطان کے بہکاوے اور غلطی کے ڈالنے کا دخل اگرچہ موجود ہے مگر کافر مشرک فاسق فاجر لوگ شیطان کی مرضی کے موافق کام کرتے رہتے ہیں اس لئے ان کے ہر کام اور ان کی ہر بات میں شیطان کا دخل بہ نسبت اہل اسلام کے زیادہ ہے اور ذکر الٰہی کے سبب سے نیک اہل اسلام پر شیطان کا غلبہ کم ہے بعضے لوگوں نے فقط خواب کے ذکر کی ان حدیثوں سے الہام کا انکار جو کیا ہے اس کا جواب حافظ ابن حجر اور علماء نے یہ دیا ہے کہ خواب تو عام اہل اسلام دیکھ سکتے ہیں اور الہام خاص خاص اللہ کے بندوں کو ہوتا ہے اس واسطے عام اہل اسلام کے ذکر کے وقت آنحضرت ﷺ نے فقط خواب کا تذکرہ فرمایا ہے اور الہام کا ذکر خاص طور پر جدا فرمایا ہے۔ 2 ؎ چناچہ صحیحین کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں فرمایا ہے کہ پہلی امتوں میں صاحب الہام لوگ گزرے ہیں اگر اس امت میں بھی صاحب الہام لوگ ہوئے تو حضرت عمر ؓ کو فرمایا کہ یہ ضرور صاحب الہام 3 ؎ ہیں۔ غرض خواب کی حدیث جدا ہے اور الہام کی حدیث جدا ہے ایک حدیث کے مطلب سے دوسری صحیح حدیث کا انکار ایک بڑی غلطی ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن جریر میں عبد اللہ بن مسعود کا قول ہے کہ یوسف (علیہ السلام) جب نان بائی کے سولی پر چڑھائے جانے کی تعبیر بیان کی تو ساقی اور نان بائی دونوں اپنے خوابوں کے منکر 4 ؎ ہوگئے۔ اسی کا جواب یوسف (علیہ السلام) نے یہ دیا { قضی الامر الذی فیہ تستفتیان } جس کا مطلب یہ ہے کہ جو خواب تم دونوں نے بیان کر کے ان کی تعبیر پوچھی تھی اب جب ان کی تعبیر بیان کی جا چکی تو اس کے موافق ظہور ضرور ہوگا۔ اب خواب کے انکار کرنے سے وہ تعبیر ٹل نہیں سکتی۔ جھوٹا خواب بنانا بڑے وبال کی بات ہے چناچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے اور ترمذی اور مستدرک حاکم میں حضرت علی ؓ سے موقوف اور مرفوع روایتیں ہیں۔ جن میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے۔ 4 ؎ 1 ؎ دیکھئے 47، 48 ہذا۔ 2 ؎ تفسیر فتح البیان ص 520 ج 2۔ 3 ؎ فتح البیان ص 520 ج 2۔ 4 ؎ ایضاً ص 519 ج 2۔
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائیگا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے ہی میں رہے۔

42۔ یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر بتلا کر ساقی سے یہ کہا کہ تو اپنے بادشاہ سے میرا ذکر کیجیو کہ قید خانہ میں ایک غلام مظلوم بھی قید ہے اور پانچ برس اس کو قید میں گزر چکے ہیں وہ خواب کی تعبیر بہت اچھی بیان کرتا ہے مگر جب ساقی قید سے باہر نکلا تو شیطان نے اسے بھلا دیا اور اس نے یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ اپنے بادشاہ کے سامنے نہ کیا اور یوسف (علیہ السلام) اور تھوڑے عرصہ تک قید میں رہے مجاہد و محمد بن اسحاق وغیرہ نے { فانسہ الشیطان } الآیہ کی یہی تفسیر بیان کی ہے جو اوپر بیان کی گئی مگر اکثر مفسرین نے یہ تفسیر بیان کی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو شیطان نے خدا کی یاد بھلا دی کہ خدا کا بھروسہ چھوڑ کر انہوں نے ساقی سے یہ بات کہی کہ تو اپنے بادشاہ سے کہنا اس طرح پر ایک شخص جیل خانہ میں قید ہے اس بات پر یوسف (علیہ السلام) چند عرصہ تک اور قید میں رہے { بضع سنین } کے معنے مجاہد و قتادہ نے یہ بیان کئے ہیں کہ تین سے نو تک { بضع سنین } ہے وہب بن منبہ کا قول ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بلا میں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) زندان میں اور بخت نصر عذاب میں سات سات برس رہے۔ ضحاک کہتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کل چودہ برس قید میں رہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بارہ برس رہے مصنف ابن ابی شیبہ زوائد مسند عبد اللہ بن احمد اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ تجھ کو قتل سے کس نے بچایا جب تیرے بھائیوں نے تیرے مار ڈالنے کا ارادہ کیا تھا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے رب تو نے پھر پوچھا کہ جب تیرے بھائیوں نے تجھ کو کنوئیں میں ڈال دیا تو کس نے تجھے نکالا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے رب تو نے پھر پوچھا کہ جب عزیز مصر کی عورت نے بدکاری کا ارادہ کیا تو کس نے اس کے ہاتھ سے تجھے نجات دی فرمایا کہ اے رب تو نے اس پر اللہ پاک نے فرمایا کہ پھر کس طرح تو مجھ کو بھول گیا اور آدمی پر بھروسہ کیا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ گھبراہٹ میں یہ بات زبان سے نکل گئی فرمایا کہ مجھے اپنی عزت کی قسم ہے کہ چند سال اور میں تجھ کو قید خانہ میں رکھوں گا 1 ؎ چناچہ سات برس وہ قید میں اور رہے۔ طبرانی تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) ساقی ہے۔ { اذکرنی عند ربک } نہ کہتے تو اور زیادہ قید میں نہ رہتے۔ 2 ؎ اگرچہ اس حدیث کی سند میں سفیان بن وکیع اور ابراہیم بن یزید راوی ضعیف ہیں 3 ؎ لیکن انس بن مالک ؓ کی حدیث جو اوپر گزر چکی ہے اس سے اس روایت کو تقویت ہوجاتی ہے کیوں کہ اس حدیث کی ابن ابی حاتم کو سند معتبر ہے علاوہ اس کے تفسیر ابن ابی حاتم میں اسی مضمون کی ایک حدیث ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی ہے یہ تو ایک جگہ گزر چکا ہے کہ تفسیر ابن ابی حاتم میں صحت روایت کی پابندی بہ نسبت ابن جریر اور مستدرک حاکم کے زیادہ ہے۔ 1 ؎ تفسیر فتح البیان ص 520 ج 2۔ 2 ؎ فتح البیان ص 520 ج 2۔ 3 ؎ اسی وجہ سے حافظ ابن کثیر نے اس کو مسترد کردیا ہے ابن ابی حاتم کو سند جب تک سامنے نہ ہو اس وقت تک اس سے تائید نہیں لی جاسکتی (ح۔ ح) ۔
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور اور (سات) خشک۔ اے سردارو ! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ۔

43۔ دنیا عالم اسباب ہے ہر مقصد کے پورا ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی سبب دنیا میں پیدا کیا ہے مگر یہ بات اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کس سبب سے کون سا مقصد پورا ہوگا۔ ساقی اور نان بائی کے خواب کی تعبیر جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بتلائی تھی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دل میں یہ خیال گزرا تھا کہ شاید ساقی کا قید سے چھوٹنا حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بھی رہائی کا سبب قرار پاوے گا اس لئے ساقی سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ جب تو قید خانہ سے چھوٹ کر بادشاہ کے پاس جاوے تو میرا ذکر بھی بادشاہ سے کی جو لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں ساقی کا قید سے چھوٹنا اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا پورا سبب قرار نہیں پایا تھا بلکہ سات برس کے بعد مصر کے بادشاہ کا خواب اور اس ساقی کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حال بادشاہ سے بیان کرنا یہ سب باتیں مل کر علم الٰہی میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا سبب قرار پائی تھیں جب علم الٰہی کے موافق جو سبب تھا اس کا وقت آگیا تو ریان بن ولید بادشاہ مصر نے یہ خواب دیکھا جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور اس خواب سے وہ ڈر گیا اور اپنے شہر کے جادوگروں اور کاہنوں اور عقلمندوں سب سے اس خواب کی تعبیر پوچھی اور وہ سب اس خواب کی تعبیر بتلانے سے عاجز آگئے اسی چرچے سے سات برس کی بھولی ہوئی بات ساقی کو یاد آئی اور اس نے بادشاہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور جیل خانہ میں آن کر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بادشاہ کا خواب بیان کیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس خواب کی تعبیر ایسی بتلائی کہ بادشاہ اور سب اہل مصر دنگ ہوگئے غرض اس مسبب الاسباب کو جب کوئی کام منظور ہوتا ہے تو اسی طرح غیب سے سبب کھڑے ہوجاتے ہیں نہیں تو بنتے ہوئے سبب بگڑ جاتے ہیں۔ بادشاہ کے خواب کی تاریخ سے سات برس کے بعد سات برس کا قحط پڑنے کو تھا اس لئے سات موٹی گائیں اور ہری بالیں خواب کے بعد کی اچھی پیداوار کے سات سال میں اور دبلی گائیں اور سوکھی بالیں قحط کے سات سال ہیں اور خواب کا حاصل یہ ہے کہ قحط کے سات برس میں کوئی چیز پیدا نہ ہوگی بلکہ اچھی پیداوار کے سات برس میں جو کچھ پیدا ہوا تھا وہ سب سات برس کے قحط میں صرف ہوجاوے گا۔ انی اری کا مطلب یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ خواب میں آنحضرت ﷺ کے دونوں ہاتھوں میں سونے کے کڑے ڈال دئیے گئے تھے جس کی تاویل آپ نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کذاب کی فرمائی۔ 1 ؎ مرد کو سونے کے کڑوں کا استعمال جس طرح بےمحل ہے اسی طرح جھوٹے شخص کی باتیں بھی بےمحل ہوتی ہیں اس مناسبت کے سبب سے دو جھوٹے شخصوں کی مثال خواب میں سونے کے دو کڑوں سے سمجھائی گئی اسی طرح کی مناسبت بادشاہ مصر کے اس خواب میں ہے کہ مو ٹی گائیں اور ہری بالیں اچھی پیداوار کے زمانہ کی مثال ہے اور دبلی گائیں اور سوکھی بالیں قحط کے زمانے کی مثال ہے۔ خواب کی تعبیر کے وقت اس مناسبت کو سمجھنا ضروری ہے اس لئے ناسمجھ آدمی کے روبرو خواب کا بیان کرنا منع ہے چناچہ ترمذی میں ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا خواب سمجھ دار اور خیر خواہ شخص سے بیان کیا جاوے سوائے ایسے شخص کے اور کسی سے نہ بیان کیا جاوے۔ 2 ؎ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 395 کتاب الرؤیا 2 ؎ جامع ترمذی ص 52 ج 2 باب ماجاء فی تفسیر الرؤیا۔
Ayahs 12:44–49

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی۔

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اب وہ شخص جو دونوں قید یوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں۔ مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دیجئے۔

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف ! اے بڑے سچے (یوسف ! ) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے کے سات موٹی گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا کر (تعبیر بتاؤں) عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں۔

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہو گے تو جو (غلہ) کا ٹو تو تھوڑے سے غلے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سا ل) آئیں گے کہ جو (غلہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ سب کھا جائیں گیں پھر وہی تھوڑا سا رہ جائے جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے۔

44۔ 49۔ اوپر کی آیت میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ بادشاہ مصر نے ایک خواب دیکھا تھا کہ سات گائیں موٹی موٹی ہیں جن کو سات گائیں دبلی دبلی کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہری ہیں جن کو سوکھی بالیں کھا گئیں جس کی تعبیر اپنے اہل دربار اور کاہنوں سے اس نے دریافت کی تھی ان لوگوں نے بادشاہ کے سوال کا یہ جواب دیا کہ یہ خواب آپ کا محض خیال ہے جس کی تعبیر ہمارے علم و قیاس سے باہر ہے ہم کچھ نہیں بتلا سکتے غرض انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اس خواب کی تعبیر ہی نہیں ہے بلکہ یہ کہا کہ { وما نحن بتاویل الاحلام بعلمین } جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس قدر علم نہیں ہے کہ اس کی تعبیر بیان کریں اور مطلب اس گفتگو سے ان کا یہ تھا کہ بادشاہ کا خیال پلٹ دیں کہ وہ اس خواب کی تعبیر کے درپے نہ ہو مگر اس وقت ساقی نے جو قید سے چھوٹ کر آیا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کی بات یاد کی اب تک وہ بھولا ہوا بیٹھا تھا شیطان نے اس کو بھلا دیا تھا اب اتنے عرصہ کے بعد جب بادشاہ کے خواب کی تعبیر کا تذکرہ آیا تو اس نے کہا کہ مجھے بھیج دو لوگوں نے اس سے کہا کہ جا کہاں جانا چاہتا ہے یہ جیل خانہ گیا اور وہاں آکر یوسف (علیہ السلام) کو صدیق کہہ کر پکارا کہ یوسف (علیہ السلام) کی راست بازی اس پر اچھی طرح ظاہر ہوچکی تھی قید میں بھی کبھی ان کو جھوٹ بولتے نہیں سنا تھا اور اس کے خواب کی تعبیر بھی جو کچھ بتلائی تھی وہ بالکل صحیح صحیح نکلی۔ اس میں کچھ فرق نہ ہوا اور یہ دوسرے شخص کے خواب کی تعبیر پوچھنے آیا تھا اس لئے اس نے کہا کہ مجھے اس باب میں فتویٰ دیں کہ سات گائیں موٹی موٹی کو سات گائیں دبلی دبلی کھاتی ہیں اور سات بالیں ہرے ہرے اور دوسرے خشک ان ہرے بالوں کو کھاتی ہیں اگر آپ اس کی تعبیر بتلا دیں گے تو میں واپس جا کر لوگوں میں اس کی تعبیر کو بیان کردوں گا جس سے آپ کا فضل و علم ظاہر ہوگا اور لوگوں پر آپ کی قدرو منزلت روشن ہوگی۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس ساقی سے اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا کہ تجھے اتنی مدت کے بعد میں یاد آیا اور اتنے عرصہ تک تو بالکل بیخبر رہا کیوں کہ ان کو قید خانہ سے نکلنے کی فکر تھی۔ اس خیال سے جلدی اس خواب کی تعبیر بتلا دی فرمایا کہ سات گائیں موٹی موٹی سے مطلب یہ ہے کہ سات برس میں جو کچھ کھیتی کرو اور غلہ پیدا ہو اس میں سے بقدر ضرورت اپنے اور جانوروں کے کھانے کے لئے لو اور باقی اناج کو بدستور بال میں رکھ چھوڑو اگر بال سے جدا کرو گے تو گھن لگ جانے کا اندیشہ ہے پھر تم اور تمہارے جانور بھوک کے مارے مرجائیں گے کیوں کہ پھر سات برس تک لگاتار قحط پڑے گا پھر اس وقت تمہارا کل اندوختہ تمہارے کام آئے گا اور جو کچھ تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ کھالو گے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ بیچ کے لئے جو غلہ رکھ چھوڑتے ہیں وہ تو رہے گا باقی سب کھا کر بیٹھ رہو گے۔ غرض کہ خواب کی تعبیر کے ساتھ ساتھ تدبیر بھی بتلاتے گئے پھر فرمایا کہ اس سات سال کی قحط سالی کے بعد ایک سال ایسا مینہ برسے گا کہ ساری زمین تر ہوجائے گی اور سارے شہر سیراب ہوجائیں گے اور اچھا اناج و میوہ پیدا ہوجائے گا اور لوگ اپنی عادت کے موافق انگور تل وغیرہ اچھی طرح نچوڑیں گے، اور بعض مفسروں نے یہ بھی کہا ہے کہ لوگوں کے جانور خوراک و چارہ پاکر ایسے توانا ہوں گے کہ دودھ زیادہ دیں گے یعصرون میں دودھ کا دوہنا بھی داخل ہے اس واسطے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یعصرون کے معنے یحلیون بیان کئے ہیں مطلب یہ ٹھہرا کہ اس سال لوگ گزشتہ کال کی سختیوں سے نجات پائیں گے اور ہر شخص مرفہ الحال ہوجائے گا۔ سات سال کے قحط کے بعد یہ آٹھویں سال کا حال بادشاہ کے خواب کی تعبیر سے الگ ہے مصر کے لوگوں کی تسکین کے طور پر یہ آٹھویں سال کا ذکر بھی یوسف (علیہ السلام) نے فرما دیا۔ صحیح مسلم میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص نے خو اب دیکھا کہ اس کا سر کسی نے کاٹ ڈالا جب اس خواب کا ذکر آنحضرت ﷺ کے روبرو آیا تو آپ نے فرمایا کہ سوتے میں شیطان آدمی کو ایسی باتوں سے ڈرایا کرتا ہے۔ ایسے خواب کا کسی سے ذکر نہیں کرنا چاہیے 1 ؎ یہ حدیث (اضغات احلام) کی گویا تفسیر ہے۔ لیکن اصلی خواب اور اس طرح کے اڑتے ہوئے خواب میں فرق پیدا کرنے کے لئے بڑی سمجھ درکار ہے۔ ورنہ ایسی غلطی پڑجاتی ہے جس طرح بادشاہ مصر کے اہل دربار نے بادشاہ کے اصلی خواب کو اڑتے ہوئے خوابوں میں ایک خواب بتلایا جس طرح آدمیوں کی جماعت کو امت کہتے ہیں اسی طرح دنوں کے مجموعہ کو بھی امت کہتے ہیں اس لئے بعد امت کا ترجمہ شاہ صاحب نے مدت کے بعد فرمایا ہے۔ داب کے معنے عادت کے ہیں مطلب یہ ہے کہ پہلے سات برس عادت کے موافق اچھی طرح کھیتی کرنی چاہیے۔ 1 ؎ صحیح مسلم ص 243 ج 2 کتاب الرؤیا
Ayahs 12:50–51

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میر پاس لے آؤ۔ جب قاصد انکے پاس گیا۔ تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ بیشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے۔

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے (عورتوں سے) پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا ؟ سب بول اٹھیں کہ حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے) کہ میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور وہ بیشک سچا ہے۔

50۔ 51۔ جب ساقی نے بادشاہ کی حضور میں یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر کا حال بیان کیا تو بادشاہ مصر کو وہ تعبیر بہت پسند آئی اور یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل کو اس نے بخوبی پہچان لیا اور جان لیا کہ یہ شخص نہایت ہی صاحب کرامات ہے اس لئے پھر بادشاہ نے اپنا قاصد یوسف (علیہ السلام) کو بلانے کے واسطے بھیجا کہ ان کو قید خانہ سے نکال کر میرے دربار میں لاؤ جب قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو آپ نے قید خانہ کے نکلنے سے انکار کیا اور کہا کہ جب تک بادشاہ اس بات کو تحقیق نہ کرلے کہ میں بےجرم قید خانہ میں داخل ہوا ہوں اور جو تہمت مجھ پر لوگوں نے دھری ہے اس سے جب تک میں بری نہ ثابت ہو لوں اور جب تک بادشاہ یہ بات بھی خوب اچھی طرح نہ جان لے کہ عزیز مصر کی بی بی نے مکرو فریب کر کے مجھ کو زبردستی قید کرایا اس وقت تک میں قید خانہ سے ہرگز نہ نکلوں گا اسی بنا پر یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات کہی کہ پہلے ان عورتوں ہی سے اس بات کو دریافت کرنا چاہیے جن عورتوں کو میرے معاملے میں دخل ہے جس کے سبب سے ان عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ چناچہ بادشاہ مصر نے ان عورتوں کو جمع کر کے یہ بات پوچھی کہ یہ کیا معاملہ ہے جب تم نے یوسف (علیہ السلام) پر اپنی خواہش ظاہر کی تھی کس طرح ہوا اور کیا ہوا اس وقت عورتوں نے ایک زبان ہو کر جواب دیا کہ حاش للہ یہ بات ہرگز نہیں ہے کہ یوسف کے دل میں کوئی برائی ہو وہ نہایت ہی پارسا آدمی ہیں اور عزیز مصر کی عورت زلیخا نے یہ بات کہی کہ اب حق بات ظاہر ہوگئی غرض اس دریافت سے بادشاہ کو کل حقیقت کی اطلاع ہوگئی کہ یوسف (علیہ السلام) کی اس میں کچھ خطا نہیں ہے اور وہ بالکل سچے ہیں قصور فقط زلیخا کا ہے کہ اس نے یوسف (علیہ السلام) سے بدفعلی چاہی اور یوسف (علیہ السلام) اس بات میں سچے ہیں کہ انہوں نے زلیخا کا کہنا نہ مانا اس لئے زلیخا کو آپ اپنے قصور کا اقرار ہے۔ { ان ربی بکیدھن علیم } اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اللہ کے علم سے کوئی بات باہر نہیں ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ اس معاملہ میں سرتاپا عورتوں کے مکرو فریب سے مجھ پر یہ الزام قائم ہوا ہے جس سے میں بالکل بری ہوں لیکن دنیوی دریافت سے بادشاہ ووزیر کو بھی میرے بےقصوری کا حال معلوم ہوجاوے تو اچھی بات ہے معتبر سند سے مسند امام احمد مستدرک حاکم تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن جریر میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے یوسف (علیہ السلام) کے اس صبر و تحمل کی تعریف فرما کر یہ فرمایا ہے کہ اس موقع پر میں ہوتا تو بادشاہ کے قاصد کے ساتھ شاید فوراً چلا جاتا اور عورتوں کے مکرو فریب کی دریافت تک قید خانہ میں نہ رہتا 1 ؎ ایسے سخت موقع پر یوسف (علیہ السلام) نے جو صبرو تحمل کیا اس کے قابل اجر عظیم ہونے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے مسند امام احمد کی سند ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ کو اگرچہ بعضے علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابن معین نے محمد بن عمرو کو ثقہ کہا ہے اور نسائی نے اس کو معتبر ٹھہرایا ہے اسی واسطے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2 ؎ کیوں کہ نسائی کا کسی راوی کو معتبر ٹھہرانا اکثر علماء کے نزدیک بہت قابل قدر ہے۔ کسی قدر اختصار کے ساتھ یہ حدیث ابوہریرہ ؓ کی روایت 3 ؎ سے صحیح بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 481 ج 2۔ 2 ؎ تہذیب التہذیب ص 376۔ 377 ج 9۔ 3 ؎ صحیح بخاری ص 477 ج 1 کتاب الانبیاء و تفسیر ابن کثیر 481 ج 2۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لئے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں) خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنیوالوں کے مکروں کو رو براہ نہیں کرتا۔

52۔ بعضے مفسروں نے اس مقولہ کو زلیخا کا مقولہ قرار 1 ؎ دیا ہے اور مطلب اس کا یہ بتلایا ہے کہ بادشاہ کے روبرو جب زلیخا نے حضرت یوسف کے بےگناہ ہونے کا اور اپنے تقصیر وار ہونے کا اقرار کرلیا تو اس وقت عورتوں سے زلیخا نے یہ بات کہی کہ یہ اقرار میں نے اس واسطے کرلیا کہ میرا خاوند جان جاوے کہ میں نے زیادہ کوئی بد فعلی نہیں کی ہاں نفس کی شامت سے بدفعلی چاہتی تھی مگر حضرت یوسف کے انکار کے سبب سے اس کا موقع نہیں آیا اور جن مفسروں نے اس مقولہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مقولہ ٹھہرایا ہے ان پر زلیخا کا مقولہ ٹھہرانے والے نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اول تو حضرت یوسف (علیہ السلام) ان باتوں کے وقت بادشاہ کے پاس موجود نہیں تھے بلکہ اس وقت تک قید میں تھے دوسرے قرآن شریف میں اوپر سے عورتوں کی باتوں کا ذکر آرہا ہے۔ بلا تعلق یہ مقولہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہاں کیوں کر آسکتا ہے لیکن اس مقولہ کو زلیخا کا مقولہ ٹھہرانا تکلف سے خالی نہیں کیوں کہ زلیخا اس وقت تک مسلمان نہ تھیں پھر بغیر اسلام کے بت پرستوں کے منہ اور خصوصاً بت پرست عورتوں کے منہ سے ایسی باتوں کا نکلنا عادت کے خلاف ہے کہ نفس امارہ برا ہے اللہ جس پر رحم کرے وہی نفس امارہ کی بدی سے بچ سکتا ہے۔ اور میرا اللہ غفور الرحیم ہے بلکہ ان کلموں سے تو خود نبوت کی بو آتی ہے رہی یہ بات کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس وقت بادشاہ کے پاس کہاں تھے جو انہوں نے بادشاہ سے یہ بات کہی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کون کہتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات بادشاہ سے کہی بلکہ جب وہ ساقی جو قید سے چھوٹا تھا دوسری دفعہ بادشاہ کے پاس سے قید خانہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ بادشاہ نے عورتوں سے دریافت و تحقیقات کرلی اور تمہاری براءت عورتوں اور خود زلیخا کے بیان سے ثابت ہوچکی اب بادشاہ نے تم کو پھر بلایا ہے اس وقت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی سے یہ بات کہی کہ میں نے تجھ کو دوبارہ بادشاہ کے پاس بھیج کر یہ تحقیقات اس واسطے کرائی کہ میری برأت ثابت ہوجائے اور مفت کا الزام جو مجھ پر لگا تھا وہ جاتا رہے اب نبوت کی شان نے جوش کیا اور خیال آیا کہ اپنی پارسائی کو میں نے اتنی شہرت کیوں دی اس پر آگے فرمایا کہ میں اپنی جان کو پارسا نہیں گنتا غرض اس صورت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس مقولہ کا آپ کے پہلے اس کلام سے کہ ساقی تو پھر دوبارہ بادشاہ کے پاس جا اور عورتوں سے میرا حال دریافت اور تحقیقات کرنے کو بادشاہ سے کہہ دے پورا تعلق موجود ہے اور شان کلام سے یہ بات بھی اچھی طرح نکلتی ہے کہ یہ کلام ایک بت پرست عورت کا نہیں ہے بلکہ ایک نبی وقت کا کلام ہے اور کوئی اعتراض بھی باقی نہیں رہتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان وجوہات کے سبب سے امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ان کے شاگرد مجاہد قتادہ اور اکثر سلف بھی کہتے ہیں کہ یہ قول یوسف (علیہ السلام) کا ہے زلیخا کا نہیں ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس کسی نے شرم و حیا کر کے اپنے آپ کو گناہ سے بچایا اس کا انجام ہر طرح بخیر ہے۔ 2 ؎ یوسف (علیہ السلام) کے حال کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے شرما کر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو برے کام سے جو روکا تو علاوہ عقبیٰ کے اجر کے دنیا میں بھی ہر طرح سے ان کا انجام بخیر ہوا عزیز مصر کے مرجانے کے بعد زلیخا سے ان کا نکاح ہوگیا بادشاہ مصر کی نظر میں ان کی توقیر سما گئی تمام مصر پر وہ حکومت کرنے لگے۔ 1 ؎ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؓ اور حافظ ابن کثیر ؓ نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ در حقیقت اس آیت کو مقولہ یوسف (علیہ السلام) بنانا نرا تکلف ہے (ع، ر) (تفسیر ابن کثیر ص 481 ج 2 و فتاوے ابن تیمیہ ص 285 ج 2۔ 2 ؎ صحیح بخاری ص 903 ج 2 باب الحیاء والترغیب ص 147 ج 2 کتاب الادب وغیرہ۔
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امّارہ (انسان کو) برائی ہی سکھاتا رہتا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

53۔ اس سے اوپر کی آیت میں یہ بات بیان کی جاچکی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے ساقی سے یہ بات کہی تھی کہ میں اپنی براءت کی تحقیق کے لئے اس واسطے کہتا ہوں کہ عزیز مصر پر یہ بات اچھی طرح ثابت ہوجائے کہ میں نے اس سے پوشیدہ اس کی بیوی کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کی ہے غرض جب یہ ثابت ہوچکا کہ اوپر کی بات یوسف (علیہ السلام) کی زبانی ہے تو یہ بات بھی انہوں نے ہی کہی کہ باوجود اس بات کے کہ عورتوں نے میری پاکبازی کی گواہی دی اور دراصل میں راست باز بھی ہوں مگر پھر بھی میں اپنے آپ کو بالکل پاک و صاف نہیں سمجھتا کیوں کہ نفس ہر وقت انسان کو برائی کا حکم کرتا رہتا ہے۔ اور ہر گھڑی برائی کا راستہ دکھلاتا رہتا ہے مگر ہاں جس نفس پر خدا کی مہربانی ہو اور جس پر خدا رحم کرے وہ ان باتوں سے بچا رہتا ہے کیوں کہ خداوند جل جلالہ غفور و رحیم ہے۔ مسند امام احمد صحیح مسلم اور ابوداؤد میں زینب بنت ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ میرا پہلا نام برہ تھا جس کے معنے نیک پارسا کے ہیں آنحضرت ﷺ نے میرا وہ نام بدل کر زینب نام رکھا اور فرمایا کہ انسان کی پارسائی کا حال اللہ ہی کو خوب معلوم ہے۔ 1 ؎ اس لئے کسی انسان کو اپنی پارسائی کا دعویٰ زیبا نہیں ہے یوسف (علیہ السلام) نے پہلی بات کے بعد یہ دوسری بات جو کہی اس حدیث سے اس کا سبب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے یوسف (علیہ السلام) کے اس قول کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جس کسی کو شیطان اور نفس کے پھندے سے بچادے وہی بچ سکتا ہے ورنہ انسان کو پارسائی کا دعویٰ نہیں پہنچتا۔ گناہوں کے للچانے والے نفس کو امارہ اور گناہوں پر ملامت کرنے والے کو لوامہ اور گناہوں سے بچنے والے کو مطمنہ کہتے ہیں۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 32۔ کتاب الامارۃ والقضائ۔
Ayahs 12:54–55

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤ نگا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہو۔

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(یوسف علیہ السلام) نے کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں۔

54۔ 55۔ ریان بن ولید بادشاہ مصر پر جب یہ بات اچھی طرح ظاہر ہوگئی کہ یوسف (علیہ السلام) اس تہمت سے بالکل پاک وصاف ہیں اور علاوہ اس کے خواب کی تعبیر سن کر یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل سے بھی وہ اچھی طرح آگاہ ہوچکا تھا۔ اس لئے اس نے دربار میں کہا کہ قاصد جا کر انہیں میرے پاس لے آئے ہیں۔ انہیں اپنا خاص مصاحب بناؤں گا حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بادشاہ کے قاصد نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ تم یہ کپڑے قید خانہ کے اتار دو اور یہ اچھے اچھے کپڑے جو اپنے ساتھ تمہارے واسطے لے کر آیا ہوں پہن لو اور شاہی دربار میں چلو وہاں تمہاری طلب ہو رہی ہے اس وقت قید خانہ والوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دعا دی آپ نے بھی انہیں دعا دی حضرت یوسف (علیہ السلام) اس وقت تیس برس کے تھے یوسف (علیہ السلام) جب بادشاہ کے پاس آئے اور بادشاہ نے آپ کو نوعمر دیکھا اور ان کا حسن بےنظیر پایا تو بادشاہ نے کہا کہ اس نے میرے خواب کی تعبیر جان لی اور ان ساحر اور کاہنوں نے جو بڑے تجربہ کار جہاں دیدہ اپنے اپنے علم میں ماہر ہیں میرے خواب کی تعبیر نہ بتلا سکے۔ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سب سے بالادست اور آگے بٹھلایا اور خلعت عطا کیا اور ایک سواری آراستہ زین و لگام سے آپ کو عنایت کی اور شہر میں ڈھنڈورا پٹوا دیا کہ یوسف (علیہ السلام) اب سے بادشاہ کا خلیفہ ہوگیا اور جب بادشاہ اور یوسف (علیہ السلام) کی گفتگو ہوئی تو بادشاہ نے کہا کہ آج سے تم میرے پاس ایک خاص مصاحب صاحب قدرو منزلت مقرر کئے گئے اور تمہاری امانت و دیانت مجھ پر اچھی طرح ظاہر ہوگئی۔ اس لئے تم امین بھی بنائے گئے۔ یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے حضور میں اپنی تقرری کا حال سن کر فرمایا کہ آپ مجھے تمام زمین مصر کی پیداوار کا خزانچی بنادیجئے اور اس سب کا اختیار میرے ہاتھ میں دیجئے میں اس کی پوری پوری حفاظت کروں گا۔ کیوں کہ مجھے ان سب امور کا علم حاصل ہے علم حساب بھی معلوم ہے یہ بھی خوب اچھی طرح جانتا ہوں کہ کس طرح مال و اسباب فراہم کرنا چاہیے اور کہاں کہاں اس کو اٹھانا چاہیے لوگوں کی بولیاں بھی سمجھتا ہوں ہر شہر کے لغت کا بھی علم مجھے حاصل ہے۔ آگے کی آیت { کذلک مکنا لیوسف فی الارض } سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ امارت کی خواہش اللہ تعالیٰ کے حکم سے خلق کے فائدے کے لئے کی تھی اس لئے صحیح بخاری و مسلم کی عبد الرحمن بن سمرہ ؓ کی روایت میں امارت کی خواہش کی جو ممانعت ہے۔ اس میں اور یوسف (علیہ السلام) کی اس خواہش میں کچھ مخالفت نہیں ہے حدیث میں اس امارت کی ممانعت ہے جو طلب دنیا کے لئے ہو یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی امارت طلب دنیا کے لئے نہیں تھی۔ 1 ؎ 1 ؎ تفسیر فتح البیان ص 520 ج 2 دیکھئے
Ayahs 12:56–57

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لئے آخرت کا اجرت بہت بہتر ہے۔

56۔ 57۔ بعض مفسروں نے یہاں یہ بات بیان کی ہے کہ شروع میں جو یہود نے آنحضرت ﷺ سے یہ بات پوچھی تھی کہ یعقوب (علیہ السلام) ملک شام میں رہتے تھے ان کی اولاد مصر میں کس طرح پہنچی اور وہاں کے ملکوں پر قابض ہوئے یہ اسی کے جواب میں اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ ہم نے اس طرح پر یوسف (علیہ السلام) کو پہلے کنوئیں سے نجات دی اور پھر عزیز مصر کے قبضہ میں آکر قید ہوئے وہاں سے اس طرح پر انہیں رہائی دلا کر سارے ملک مصر پر قابض کردیا تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن جریر میں جو سلف کے قول ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ریان بن ولید بادشاہ مصر سے یوسف (علیہ السلام) نے پیداوار کا خزانچی ہونے کی درخواست کی تو اس نے برغبت تمام پذیرا فرما کر انہیں عزیز مصر کی جگہ پر اپنا وزیر مقرر کیا اور تمام ملکی مالی انتظام ان کے اختیار میں دے دیا کہ جس طرح چاہیں اور جہاں چاہیں تصرف کریں اور عزیز مصر کو معزول کردیا۔ عزیز مصر اسی رات کو فوت ہوگیا اس کے بعد زلیخا اس کی بیوی کو جس نے یوسف (علیہ السلام) سے اپنی خواہش ظاہر کی تھی یوسف (علیہ السلام) کے نکاح میں دیا جب یوسف (علیہ السلام) اس عورت سے ملے تو وہ باکرہ تھی کیوں کہ عزیز مصر نامرد تھا۔ عورتوں کے پاس نہیں جاتا تھا۔ زلیخا سے یوسف (علیہ السلام) کے دو لڑکے پیدا ہوئے ایک فراثیم بن یوسف اور دوسرا مثیابن یوسف کے فرزند حضرت نون ہوئے جن کے بیٹے یوشع بن نون کہلاتے ہیں اور بیٹی رحمت نامی۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی تھیں۔ 1 ؎ مجاہد کا قول ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) ملک مصر کی وزارت پر مقرر ہوگئے۔ تو بادشاہ مصر کو اسلام کی دعوت کرتے رہے آخر وہ مسلمان ہوگیا اور اس کے ساتھ بہت لوگ مسلمان ہوئے اسی کو اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ ہم جس پر چاہتے ہیں انعام و احسان کرتے ہیں اور جو لوگ نیکو کار ہیں ان کا اجر اور ان کی نیکی برباد نہیں کرتے ہیں اور ایمان والے اور متقی پرہیز گاروں کے لئے آخرت کا اجر ہے کہ انہیں دوزخ کی آگ سے بچا کر ہمیشہ ہمیشہ کے واسطے جنت میں داخل کریں گے جہاں طرح طرح کی نعمتیں اور طرح طرح کی آسائش کا سامان ان لوگوں کے لئے مہیا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت کی تھوڑی سی جگہ میں بھی تمام دنیا سے بہتر ہے۔ 2 ؎ ان آیتوں میں بھی آخرت کے اجر کو دنیا کی بادشاہت سے جو بہتر فرمایا یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ 1 ؎ تفسیر جمل ص 432 ج 2 بحوالہ خازن۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 495 باب صفتہ الجنتہ واھلھا۔
Ayahs 12:58–62

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلہ خریدنے کیلئے) آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے پاس گئے تو یوسف (علیہ السلام) نے انکو پہچان لیا اور وہ انکو نہ پہچان سکے۔

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

جب یوسف (علیہ السلام) نے انکے لئے ان کا سامان تیار کردیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں۔ اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں ؟

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے۔

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے باپ سے تذکرہ کرینگے اور ہم (یہ کام) کر کے رہیں گے۔

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور (یوسف (علیہ السلام) نے) اپنے خدّام سے کہا کہ ان سرمایہ (یعنی غلہ کی قیمت) ان کے تھیلوں میں رکھدو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ یہ پھر یہاں آئیں۔

58۔ 62۔ جب یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کی جگہ بادشاہ کے وزیر ہوگئے اور سارا انتظام ملکی و مالی ان کے قبضہ و تصرف میں آگیا تو سات سال ارزانی میں انہوں نے بہت اہتمام کیا اور غلوں کو نہایت احتیاط سے جمع کیا یہاں تک کہ ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا اور جب ارزانی کا زمانہ گزر گیا اور قحط شروع ہونے لگا تو دور دور کے لوگ غلہ خریدنے کو مصر میں آنے جانے لگے۔ یوسف (علیہ السلام) کسی شخص کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ غلہ نہیں دیتے تھے اور آپ معہ بادشاہ اور لشکر کے دن میں ایک دفعہ کھانا کھاتے تاکہ یہ سات سال قحط کے بآسانی گزر جائیں جب یہ خبر رفتہ رفتہ ملک شام پہنچی کہ مصر میں غلہ فروخت ہوتا ہے تو یوسف کے دسوں سوتیلے بھائی باپ کے حکم سے مصر کی طرف چلے اور کچھ مال نقدی اپنے ساتھ لیتے آئے کہ قیمت میں غلہ کے دیں گے جب یہ لوگ مصر میں پہنچے تو لوگوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں سے نکلنے کے بعد مصر کے قافلہ کے لوگوں کے ہاتھ فروخت کیا تھا تو وہ بہت خورد سال تھے اور اب تیس سے زائد عمر تجاوز کرگئی تھی علاوہ اس کے ہیئت بدلی ہوئی تھی عزیز مصر کی جگہ زرق برق ہو کر تاج وزارت سر پر رکھے ہوئے تھے اور خود ان کے بھائیوں کو یہ گمان تھا کہ خبر نہیں یوسف (علیہ السلام) زندہ ہے یا مرگیا اور حکم قضا و قدر سے بالکل لا علم تھے یہ کیا جانتے تھے کہ ہمارا بھائی کچھ ایسا نصیبہ کا زبردست ہے کہ فرمانروا بن جائے گا۔ یہ وجوہات درمیان میں حائل تھیں جس کے سبب سے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو یوسف کے شناخت کرنے میں دشواری ہوئی یوسف نے ان لوگوں کو اچھی طرح اتروایا اور اچھی جگہ ان کو رہنے کو دی اور ان کی مہمانی کا اچھا سامان کیا جب ان سے باتیں ہوئیں تو یہ لوگ زبان عبرانی میں گفتگو کرنے لگے۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان سے دریافت کیا کہ تم کون ہو کہاں کے رہنے والے ہو تمہارا حسب ونسب کیا ہے یہ پوچھنا ان کا جان بوجھ کر تھا کیوں کہ یوسف (علیہ السلام) ان کو اول ہی نظر میں پہچان چکے تھے بہر حال انہوں نے جواب دیا کہ ہم ملک شام کے رہنے والے ہیں ہمارے ہاں بھی قحط پڑا ہے غلہ خریدنے کو یہاں آئے ہیں یوسف (علیہ السلام) نے کہا شاید تم جاسوس ہو خبر لگانے کو آئے ہو انہوں نے کہا کہ معاذ اللہ ہم رسول آدمی ایک باپ کے بیٹے ہیں ہمارا باپ ایک نہایت ہی بزرگ، ایک صاحب کرامات، خدا کا رسول ہے۔ ان کا نام یعقوب (علیہ السلام) ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا تم کتنے بھائی ہو کہا کہ ہم بارہ بھائی تھے۔ ایک بھائی تھا وہ جنگل میں ایک روز گیا وہاں خبر نہیں کس طرح ہلاک ہوگیا بھیڑیا کھا گیا کیا ہوا کچھ پتہ نہیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا یہاں اب کتنے آئے ہو کہا کہ دس بھائی فرمایا کہ گیارہواں کہاں ہے جواب دیا کہ وہ باپ کے پاس ہے وہ سب سے چھوٹا ہے جو ہمارا بھائی گم ہوگیا باپ اسے بہت چاہتے تھے اب اس کی جگہ سب سے چھوٹے بھائی کو دیکھ کر اپنے دل کو تسلی دیتے ہیں اور اپنی نظروں سے اسے علیحدہ نہیں کرتے۔ یوسف (علیہ السلام) نے انہیں غلہ بھروا دیا اور کہا اب جو آنا تو اپنے بھائی کو بھی اپنے ساتھ لیتے آنا تاکہ تمہارا سچ معلوم ہوجاوے۔ دیکھو میں نے تمہاری بہت خاطر کی ہے اور اچھی طرح مہمان رکھا ہے اور غلہ بھی بھرپور دیا ہے اگر اب اپنے اس بھائی کو نہ لاؤ گے تو تمہیں غلہ نہ دیں گے اور نہ اپنے پاس جگہ دیں گے ان لوگوں نے کہا کہ نہیں ہم ضرور اس کو اپنے ساتھ لائیں گے اور اگرچہ باپ اس کو اپنے پاس سے علیحدہ نہیں کرتے مگر ہم انہیں سمجھا بوجھا کر جس طرح ممکن ہوگا اسے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے جب یوسف (علیہ السلام) نے پختہ وعدہ ان سے لے لیا کہ وہ ضرور ان کے چھوٹے بھائی کو جس کا نام بنیامین ہے لائیں گے تو ان لوگوں کو رخصت کیا جب وہ جانے لگے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے خدمت گاروں سے کہہ دیا کہ انہوں نے غلہ کی جو قیمت دی ہے وہ چھپا کر ان کے بوجھوں میں ڈال دو اور ان کی گٹھڑیوں کو باندھ دو یہ ترکیب اس واسطے کہ شاید باپ کے پاس اور کوئی نقدی مال وغیرہ نہ ہو جس سے دوبارہ غلہ خریدنے کا انہیں موقع نہ ملے یا اس واسطے کہ بادشاہ بھائی سے کھانے پینے کی چیز کی قیمت کیا لیں یا اس واسطے کہ جب گھر جائیں گے اور وہاں اپنی گٹھڑیوں میں اپنا روپیہ جوں کا توں پائیں گے تو پھر دوبارہ ضرور آئیں گے تاکہ قیمت ادا کریں یا حرص پیدا ہوگی کہ مفت غلہ ملا ہے پھر چل کرلے آئیں اور بعض مفسروں نے یہاں یہ بھی بیان کیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے ان لوگوں میں سے ایک کو رکھ لیا تھا کہ تم جاسوس ہو جب تمہارا چھوٹا بھائی آکر گواہی دے گا کہ تم اپنے قول میں سچے ہو تو تمہارے بھائی کو چھوڑ دوں گا مگر یہ قول ضعیف ہے کیوں کہ یوسف (علیہ السلام) نے ان پر خوب احسان کیا تھا۔ مہمانی کی غلہ پورا پورا بھر دیا قیمت ان کی گٹھڑیوں میں بندھوادی تھی ان کے واپس آنے کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا تدبیر ہوسکتی ہے جو کسی گروی رکھتے سورت بقرہ کی آیت { یا ایھا الذین امنو لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاذی } [2: 64] میں اور معتبر سند کی مستدرک حاکم کی انس بن مالک اور عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیوں میں احسان کر کے جتلانے کی جو ممانعت ہے 1 ؎ اس میں اور یوسف (علیہ السلام) کے قول { وانا خیر المنزلین } میں کچھ مخالفت نہیں ہے کیوں کہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات فقط اپنے بھائی بنیامین کے بلانے کی تاکید کے طور پر کہی تھی کہ جس طرح میں نے تم لوگوں کی خاطر داری کی تمہارا وہ بھائی یہاں تمہارے ساتھ آوے گا تو میں اس کی بھی خاطر داری کروں گا اس بات سے احسان کا جتلانا حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نیت میں نہیں تھا۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 318 ج 1