Ayah 12:6363: جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی غلہ لے کر اپنے گھر واپس آئے تو سامان کھولنے سے پہلے اپنے والد بزرگوار سے یوسف (علیہ السلام) کے اخلاق کا ذکر کیا کہ عزیز مصر ایک لائق شخص اور شریف النفس ہے ہمیں اچھی طرح اتارا اور ہماری خوب مہمانی کی اور ہمیں بھرپور تول کر غلہ دیا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ اس مرتبہ جانا تو انہیں میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ہمارا باپ تمہارے حق میں دعا کرتا ہے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ بھی کہا کہ اس مرتبہ اگر ہم جائیں تو وہ ہمیں غلہ نہ دیں گے۔ بنیامین اگر ساتھ جائے گا تو البتہ غلہ ملے گا کیوں کہ انہوں نے کہہ دیا ہے کہ اگر اپنے بھائی کو ساتھ نہ لاؤ گے تو ہم غلہ نہ دیں گے اس واسطے جب تک بنیامین نہ جائے ہمارا جانا بےسود ہے علاوہ اس کے بنیامین کے جانے میں ایک اور فائدہ بھی ہے کہ اس مرتبہ ہم دس اونٹ بار کرا کر لائے ہیں اور اب گیارہ لائیں گے کیوں کہ عزیز مصر ہر شخص کو ایک اونٹ کے بوجھ کے لائق غلہ دیتا ہے اور آپ بنیامین کی طرف سے کچھ تردد نہ کریں ہم اسے کچھ تکلیف نہ ہونے دیں گے اور ہر طرح سے اس کی حفاظت کریں گے۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے { لا حول ولا قوۃ الا باللہ } کہا تو اللہ تعالیٰ اس کے سب کام آسان کر دے 1 ؎ گا۔ ({ لا حول ولاقوۃ الا باللہ } کا مطلب یہ ہے کہ برائی سے بچنے کا نہ مجھ کو کوئی حیلہ آتا ہے نہ نیک کام کرنے کی مجھ میں پوری قوت ہے اس لئے میں نے اپنے سب کام اللہ تعالیٰ کو سونپ دئیے حاصل مطلب حدیث کا یہ ہوا کہ جو شخص اپنے سب کاموں میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے سب کام آسان کر دے گا۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں جو دخل ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے { وانا لہ لحفظون } کہہ کر بنیامین کی حفاظت اپنے ذمہ لی اور اللہ تعالیٰ سے اس میں کچھ مدد نہیں چاہی اس لئے یہ مشکل پیش آئی کہ بیس دن کے لئے بنیامین کی جدائی ظہور میں آئی جس کا ذکر آگے آتا ہے اور آگے کی آیت میں یعقوب (علیہ السلام) نے اس حفاظت کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر سونپ دیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین دونوں کو اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے ملا دیا۔
1 ؎ مستدرک حاکم ص 542 ج 1 من قال لاحول ولا قوۃ الا باللہ الخ۔
Ayah 12:6464۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی جب دوسری دفعہ کنعان سے مصر غلہ خریدنے کو آتے وقت حضرت یعقوب سے بنیامین کو ساتھ لانے کا اصرار کرنے لگے اور کہنے لگے کہ دل جمعی رکھو ہم اس کی راستہ میں اچھی طرح نگہبانی کریں گے اس کا یہ جواب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے دیا جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) کی نگہبانی کا بھی اقرار کیا تھا لیکن خیر بڑا نگہبان تو سب کا اللہ ہے۔ یہ کہہ کر بنیامین کو ان کے ساتھ کردیا۔ بعضے مفسرین نے یہاں مصر کے قحط کے ذکر میں یہ جو لکھا ہے کہ آخر درجہ تمام مصر کے لوگوں نے غلہ کے عوض میں اپنے آپ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا غلام بنا لیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پھر ان سب کو آزاد کردیا۔ اس پر حافظ عماد الدین ابن کثیر نے اعتراض کیا ہے کہ یہ روایت بنی اسرائیل کی ہے یہ اعتراض اس سبب سے ہے کہ محمد بن اسحاق صاحب مغازی جنہوں نے اس روایت کو بیان کیا ہے اہل کتاب سے روایت لینے میں بدنام ہیں لیکن اس روایت کو محمد بن زید بن مہاجر سے محمد بن اسحاق نے روایت کیا ہے یہ محمد بن زید ثقہ ہیں اور اہل کتاب سے روایت لینے میں بدنام بھی نہیں ہیں پھر ظاہراً کوئی وجہ ایسی نہیں ہے کہ محمد بن اسحاق کی اس روایت پر حافظ عماد الدین ابن کثیر نے جو اعتراض کیا ہے اس کو تسلیم کیا جاوے۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر کی آیت کی تفسیر میں جو گزر چکی ہے وہ حدیث اس آیت کی بھی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل گزر چکا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اس حفاظت کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر سونپ دیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین دونوں کو اللہ تعالیٰ نے جلدی یعقوب (علیہ السلام) سے ملادیا۔
Ayahs 12:65–6665۔ 66۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرمایا کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے گھر جا کر اپنا سامان کھولا تو غلہ کی وہ قیمت جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کو انہوں نے مصر میں دی تھی اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے خدمت گار سے کہہ دیا تھا کہ روپیہ ان کی گٹھڑیوں میں باندھ دو وہ روپیہ انہوں نے یہاں آکر دیکھا پھر تو انہیں جرأت ہوئی اور باپ سے کہا اب آپ کو بنیامین کے بھیجنے میں کیا عذر ہے۔ دیکھئے عزیز مصر کیسا نیک آدمی ہے کہ ہماری قیمت بھی واپس کردی اگر اب کے آپ بنیامین کو ساتھ کردیں گے تو اس کا حصہ ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ اور زیادہ لائیں گے کیوں کہ عزیز مصر فی آدمی ایک شتر کا بار دیتا ہے اور ہم ہر طرح بنیامین کے محافظ رہیں گے آپ دل میں کوئی اندیشہ نہ کیجئے مگر حضرت یعقوب (علیہ السلام) ایک دفعہ کے ڈرے ہوئے تھے۔ یوسف (علیہ السلام) کو یہ لوگ اسی اقرار سے لے گئے تھے اور ان کو کھو کر آئے اس لئے فرمایا کہ تم لوگ جب تک حلف نہ اٹھاؤ گے اور پکا وعدہ و اقرار کر کے مجھے اطمینان نہ دلاؤ گے کہ ہم بخیر و خونی بنیامین کو پھر واپس لائیں گے اس وقت تک میں ہرگز اس کو تمہارے ساتھ نہ کروں گا۔ ہاں یہ بات مجبوری کی ہے کہ تم سب کے سب بلائے ناگہانی میں گھر جاؤ یا کوئی ایسی افتاد پڑے کہ تم پھر کر آنے سے مجبور ہوجاؤ تو اس وقت نا چاری ہے مگر تم جب تک اس بات کا عہد نہ کرو گے کہ تم اپنے مقدور بھر بنیامین کے واپس لانے میں کچھ کمی نہ کرو گے اور اس کے واپس لانے میں کوئی حیلہ حوالہ نہیں کرو گے تو اس کو میں نہیں بھیجوں گا غرض کہ انہوں نے حلف اٹھایا اور پکا وعدہ کیا کہ ہم ہرگز کچھ حیلہ نہیں کریں گے اور ضرور بالضرور بنیامین کو اپنے ساتھ واپس لائیں گے جب یہ لوگ وعدہ و اقرار پکے طور پر کرچکے تو یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ اس عہد پر خدا ہی گواہ ہے کہ اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے وہ عہد کے توڑنے والے شخص پر عذاب کرتا ہے غرض کہ اس مرتبہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے بھی عہد و پیمان کرا کر اپنا اطمینان کرلیا اور پھر اس قول و اقرار کے بعد خدا پر بھروسہ کیا۔ بخلاف اس دفعہ کے جب یہ لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو لے جانے لگے تھے تو انہوں نے یہ کہا تھا کہ تم اپنے لہو و لعب میں رہو گے اور اس کو بھیڑیا کھا جائے گا وہاں خدا پر بھروسہ کرنا بھول گئے تھے اس لئے حضرت یوسف (علیہ السلام) ان سے مدت تک جدا رہے اب جو انہوں نے خدا پر پورا بھروسہ کیا تو دونوں صاحبزادے آپ سے آملے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر ایماندار شخص کو صلہ رحمی کی پابندی ضرور ہے۔ رشتہ داروں سے سلوک کرنے کو صلہ رحمی کہتے ہیں جو علماء یہ کہتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے غلہ کی قیمت اس لئے صلہ رحمی کے طور پر واپس کردی کہ یہ روپیہ باپ بھائیوں کی اور ضرورتوں میں کام آوے اور غلہ مفت ان کے پاس پہنچ جاوے تو بہتر ہے اس حدیث میں ان علماء کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیوں کہ آنحضرت ﷺ کو ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم ہے اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ صلہ رحمی کا مسئلہ جس طرح شرع محمدی میں ہے اسی طرح ملت ابراہیمی میں بھی تھا اور اسی کے موافق یوسف (علیہ السلام) نے عمل کیا۔
Ayah 12:6767۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرمایا کہ برادران یوسف (علیہ السلام) نے جب سفر کی تیاری کی اور بنیامین کو لے کر مصر کی طرف چلے تو ان کے والد بزرگوار حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی کہ تم سب کے سب ایک دروازہ سے نہ داخل ہونا الگ الگ دروازہ سے شہر میں جانا کہ مصر کے چار دروازے تھے سدی کہتے ہیں ابواب متفرقہ سے یہی چاروں دروازہ مراد ہیں بہرحال یعقوب (علیہ السلام) نے اس لئے یہ ہدایت کی کہ پہلی مرتبہ جو یہ لوگ گئے تھے تو کوئی ان سے واقف نہ تھا اور اب وہاں کے لوگ انہیں جان گئے ہیں اور یہ سب کے سب ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں اور جوان جوان حسن میں بھی بےمثال ہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کی نظر بد انہیں لگ جائے کیوں کہ ابوہریرہ ؓ کی صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { العین حق } 1 ؎ جس کا مطلب یہ ہے کہ نظر بد حق ہے حضرت ﷺ کے وقت میں بعضے صحابہ کو نظربد لگ چکی ہے 2 ؎ کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو معلوم ہوچکا تھا کہ ان کی خواہش یہ تھی کہ بنیامین یوسف (علیہ السلام) سے تنہا ملیں اس لئے چلتے وقت ان کو یہ ہدایت کردی کہ تم الگ الگ دروازہ سے شہر میں جانا مگر قول اول صحیح حدیث کے موافق ہے۔
ابو علی جبائی اور معتزلی فرقہ کے اور بعضے لوگوں نے کہا کہ ٹوک کے لگ جانے کا وجود دنیا میں نہیں ہے لیکن یہ انکار ان لوگوں کا غلط ہے کیوں کہ مسند امام احمد، ترمذی، ابوداؤد و ابن ماجہ وغیرہ کی روایتوں میں 3 ؎ ٹوک کے لگ جانے کا تفصیل سے ذکر آیا ہے بلکہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی صحیح مسلم کی روایت میں آنحضرت ﷺ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ایسی چیز ہوتی کہ تضاد و قدر پر غالب آسکتی تو ٹوک ایسی تیز چیز ہے کہ یہ تضاد و قدر پر غالب آسکتی تھی۔ 4 ؎ صحیح مسلم اور موطا وغیرہ کی چند صحیح روایتوں میں ٹوک اور نظر کے اتارنے کی ترکیب بھی آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے کہ نظر لگانے والے کے منہ اور ہاتھ پاؤں کا دھو ون نظر لگ جانے والے شخص کے سر پر چھڑکنے سے نظر اتر جاتی ہے پوری تفصیل اس دھو ون کے لینے کی نووی شرح 5 ؎ مسلم میں ہے غرض جن لوگوں نے ٹوک لگ جانے کا انکار کیا ہے انہوں نے ان صحیح حدیثوں کا گویا انکار کیا ہے اگرچہ مفسروں نے اور بھی قول اپنی تفسیروں میں لکھے ہیں مگر صحیح قول یہی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ٹوک لگ جانے کے اندیشہ سے اپنے لڑکوں کو مصر کے ایک دروازہ سے جانے کو منع کیا تھا کہ سب ایک باپ کی اولاد اور ہم صورت ہیں کہیں ان کو ٹوک نہ لگ جاوے اور دنیا کی یہ تدبیر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بتلا کر پھر اصل بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی تعریف فرمائی اب بھی جو شخص دنیا کے اسباب کو برتے اور تقدیر پر شاکر رہ کر اصل بھروسہ اللہ پر رکھے تو ایسے شخص کا کام شریعت کے موافق شمار کیا جاوے گا ہاں جو شخص دنیا کے اسباب پر اللہ کو بالکل بھول جاوے وہ بلاشک برا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی صحیحین کی حدیث میں بلا حساب و کتاب ستر ہزار ایسے شخصوں کے جنت میں داخل ہونے کا جو ذکر ہے 6 ؎ کہ وہ لوگ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں بیماری میں علاج تک نہیں کرتے یہ خاص لوگوں کا کام ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 854 ج 2 باب العین حق۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص۔ 39 کتاب الطب والبرقی۔
3 ؎ جامع ترمذی ص 27 ج 2 باب ماجانء ان العین حق الخ۔
4 ؎ صحیح مسلم ص 38 ج 2 باب الطب والرقی۔
5 ؎ صحیح مسلم مع شرح نووی ص 220 ج 2
6 ؎ صحیح مسلم ص 117 ج 1 باب الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین الخیۃ الخ۔
Ayah 12:6868۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو جس طرح تعلیم کی تھی کہ علیحدہ علیحدہ تم ایک ایک دروازے سے شہر میں داخل ہونا وہ اسی طرح شہر میں گئے مگر یہ تدبیر ان کی کچھ بھی کار آمد نہیں ہوئی اور ذرا بھی حکم قضا و قدر کو روک نہیں سکے جس بات کا انہیں خوف تھا وہی ہو کر رہی فرمایا کہ یعقوب کچھ غیب داں نہیں تھے ہم نے انہیں یہ ساری باتیں سکھلائی تھیں ورنہ انہیں کب معلوم ہوسکتا تھا کہ ٹوک کو کیوں کر روکا جاوے لیکن اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں جانتے کہ کسی کا مقدور نہیں کہ وہ مقدر کو پھیر سکے یہ شان تو فقط خدائے جل جلالہ کی ہے کہ اگر وہ چاہے تو تقدیر مقررہ کو پھیر دے اور اسی کو غیب دانی بھی سزاوار ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی جدا جدا دروازوں سے شہر مصر میں داخل ہوئے تو جو تدبیر یعقوب (علیہ السلام) نے بتلائی تھی وہ سود مند نہ ہوئی بلکہ انہیں چوری کی تہمت لگائی گئی اور بنیامین کو اس جرم میں ایک سال تک روک رکھا گیا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر دوہری مصیبت آئی غرض تدبیر سے حکم قضا و قدر نہیں پھر سکتا۔ یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں جو شفقت و محبت بچوں کی تھی اس کے تقاضے سے انہوں نے یہ بات ظاہر کردی تھی مگر وہ اس کے کچھ معتقد نہ تھے کہ اس تدبیر سے تقدیر دفع ہوجائے گی۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کی تقدیر میں جو کچھ لکھا جانا تھا وہ لکھا بھی گیا اور قلم خشک بھی ہوگیا۔ یہ حدیث { ما کان یغنی عنھم من اللہ من شئی } مکی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ تدبیر سے تقدیر کا لکھا نہیں ٹل سکتا لیکن انسان کو تقدیر کا حال معلوم نہیں جس طرح مثلاً یعقوب (علیہ السلام) نے ٹوک نہ لگنے کی تدبیر کی اور تقدیر کا یہ حال معلوم نہ تھا کہ تقدیر میں چوری کا الزام لکھا ہے اس لئے انسان کو چاہیے کہ دنیا عالم اسباب میں تدبیر کو کام میں لاوے اور اصل بھروسہ تقدیر الٰہی پر رکھے چناچہ اسی کے موافق یعقوب (علیہ السلام) نے عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی تعریف فرمائی اور فرمایا کہ بہت سے آدمی اس عمل کو نہیں جانتے جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے آدمی ظاہر اسباب کے پابند ہو کر تقدیر الٰہی کو بھول جاتے ہیں۔
Ayah 12:6969۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اس بات کی خبر دی کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ملک مصر میں جہاں یوسف (علیہ السلام) کا قبضہ و تصرف تھا داخل ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس اتارا کہتے ہیں کہ دو ، دو آدمیوں کو ایک ایک گھر میں جگہ دی دس بھائیوں کو پانچ گھر عطا کئے۔ بنیامین اکیلے رہ گئے ان کو اپنے پاس رکھا اور تنہائی میں ملاقات کر کے کہہ دیا کہ تم دل میں کچھ خوف نہ کرو میں تمہارا بھائی ہوں ان سوتیلے بھائیوں نے جو کچھ میرے اور تمہارے ساتھ سلوک کیا ہے اس کا رنج و غم نہ کرو اور بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات بنیامین سے نہیں کہی کہ میں یوسف تیرا بھائی ہوں بلکہ یہ کہا کہ ہم تمہارے بھائی کی جگہ ہیں اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو خبر کردی کہ میں یہ تدبیر کرتا ہوں پیمانہ تمہارے نام کے غلہ کی گٹھڑی میں رکھ دیتا ہوں اور چوری کی علت لگا کر تمہیں اپنے پاس رکھ لوں گا انہوں نے کہا کہ اچھا یہی کرو غرض کہ پیمانہ ان کے اونٹ کے کجاوہ میں رکھ دیا یہی مراد سقایتہ سے جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ تفسیر سدی اور مغازی ابن اسحاق میں { اذی الیہ اخاہ } کی یہ تفسیر کی ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی بنیامین کو ساتھ لے کر یوسف (علیہ السلام) کے روبرو آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ دو دو آدمیوں کو ایک ایک مکان میں اتار دو اس صورت میں بنیامین اکیلے رہ گئے تو ان کو اپنے پاس اتارا اور پھر تنہائی میں بنیامین سے یہ کہہ دیا کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں سوتیلے بھائیوں نے میرے اور تمہارے ساتھ جو کچھ بدسلوکی کی ہے اس کو یاد کر کے اب تم کچھ غمگین نہ ہو سوتیلے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جو بد سلوکی کی اس کا ذکر تو اوپر گزر چکا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کا غم غلط کرنے کے لئے یعقوب (علیہ السلام) بنیامین سے محبت زیادہ کرنے لگے تھے جو سوتیلے بھائیوں کو شاق گزرتی تھی اس لئے وہ موقع پا کر بنیامین کو جھڑکتے اور دہمکاتے رہتے تھے۔ اس کا ذکر بنیامین سے سن کر یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کو یاد کر کے کچھ غمگین نہ ہونا چاہیے کیوں کہ اب اللہ تعالیٰ نے میری اور تمہاری سب سختیوں کو طرح طرح کی راحتوں سے بدل دیا اس کا ہزار ہزار شکر ہے اوسط طبرانی میں عبد اللہ بن معسود ؓ اور انس بن مالک ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر سختی کے بعد آسانی ہے اگرچہ عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کی سند میں ایک راوی ابو مالک بعد الملک نخعی اور انس بن مالک ؓ کی حدیث کی سند میں مائذبن شریح ضعیف ہیں 1 ؎ لیکن آیت { ان مع العسر یسرا } سے ان روایتوں کی پوری تقویت ہوجاتی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ آیت { ان مع العسر یسرا } میں اور طبرانی کی ان روایتوں میں سختی کے بعد راحت کا جو وعدہ ہے یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین کی حالت اس وعدہ کے ظہور کی ایک بڑی مثال ہے۔
1 ؎ تفصیل کے لئے دیکھئے مجمع الزوائد ص 139 ج 7 تفسیر سورة الم نشرح و تفسیر ابن کثیر ص 525 ج 4 تفسیر سورة الم نشرح۔
Ayahs 12:70–7270۔ 72۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کا سفر کا سب سامان پورا کردیا اور غلہ ناپ تول کر اونٹوں پر بار کرا دیا تو ایک برتن چاندی کا جس سے پانی پیتے تھے اور اسی سے غلہ بھی ناپ کر لوگوں کو دیتے تھے اور اس برتن کو سقایۃ کہتے تھے یہ برتن اپنے چھوٹے بھائی کے سامان میں پوشیدہ طور پر رکھ دیا جب یہ لوگ وہاں سے کچھ دور نکل گئے تو یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے وہاں سقایتہ کا پتہ نہ پایا دل میں متفکر ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو جو ابھی ابھی غلہ لے کر واپس چلے تھے پکارنے لگے کہ اے قافلہ والو ٹھہر جاؤ تم چور معلوم ہوتے ہو یہ آواز سن کر وہ لوگ پریشان ہوئے اور پھر کر دریافت کیا کہ کیا چیز چوری ہوگئی ہے انہوں نے جواب دیا کہ بادشاہ کا سقایۃ نہیں ملتا اسی کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ پھر منادی نے یہ بھی کہا کہ جو شخص اس کا پتہ لگا دے گا اسے غلہ کا ایک اونٹ کا بوجھ بادشاہ کی طرف سے ملے گا اور ہم اس کے ضامن ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ملک عراق سے شام کے ملک کے سفر میں ابراہیم (علیہ السلام) کا گزر ایک ظالم بادشاہ کے شہر پر سے ہوا۔ اس بادشاہ کی یہ عادت تھی کہ مسافروں کی خوبصورت عورتوں کو زبردستی بدکاری کی غرض سے پکڑوا لیا کرتا تھا اور اگر یہ سن لیتا تھا کہ عورت کے ساتھ اس کا شوہر بھی ہے تو اس مرد کو قتل کرا دیتا تھا اس سفر میں ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ آپ کی بی بی سارہ بھی تھیں جو حسن و جمال میں مشہور ہیں ان کے حسن و جمال کے سبب سے جب اس ظالم بادشاہ کے سپاہی حضرت سارہ کو پکڑنے آئے تو اس ظالم کے ہاتھ سے بچنے کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سپاہیوں سے یہ حیلہ کیا کہ سارہ کو اپنی بہن بتا دیا جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ میری دینی بہن ہیں ورنہ اصل بہن سے تو ملت ابراہیمی میں نکاح حرام ہے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح ایک ظالم کے ظلم سے بچنے کی غرض سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک جائز حیلہ کا ذکر حدیث میں ہے اسی طرح بنیامین کو سوتیلے بھائیوں کی جھڑکیوں اور دھمکیوں سے چھوڑانے کی غرض سے یوسف (علیہ السلام) کے ایک جائز حیلہ کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور جس طرح دینی بہن ہونے کی نیت سے ابراہیم (علیہ السلام) نے سارہ کو اپنی بہن بتایا تھا اسی طرح یوسف (علیہ السلام) نے اپنے سوتیلے بھائیوں کو اس نیت سے چور ٹھہرایا کہ ان سوتیلے بھائیوں نے یعقوب (علیہ السلام) کی چوری سے یوسف (علیہ السلام) کو مصر کے قافلہ کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ پوشیدہ طریقہ سے کوئی مطلب حاصل کیا جائے تو اس پوشیدہ طریقہ کو حیلہ کہتے ہیں اب اگر کسی جائز مطلب کے لئے حیلہ کیا جاوے تو اس طرح کا حیلہ شرع میں جائز ہے۔ مثلاً قسم کے بعد انشاء اللہ کہہ کر قسم کے وبال سے بچنا یا خریدوفروخت میں کوئی جائز شرط لگا کر نقصان سے بچنا یا لڑائی میں کوئی حیلہ نکال کر دشمن کو دھوکہ دینا یہ سب جائز حیلے اور جائز مطلب ہیں ہاں حیلہ کے ذریعہ سے کسی ناجائز مطلب کو جائز ٹھہرایا جاوے تو یہ ناجائز ہے مثلاً جس طرح یہود نے ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار ایک حیلہ سے حلال ٹھہرا لیا تھا جس کا ذکر سورت الاعراف میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 12:73–7573۔ 75۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے ان کے بھائیوں کو پکار کر کہا کہ اے قافلہ والو ٹھہر جاؤ تم چور معلوم ہوتے ہو تو ان لوگوں نے تعجب کی راہ سے اپنے پروردگار کی قسم کھائی اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ ہم یہاں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں کیونکہ تم اس سے پہلے ہمارے یہاں آنے کی وجہ سے ہماری حالت سے کسی قدر واقف ہوچکے ہو اور ہم جو دوبارہ آئے ہیں اس کی وجہ بھی تمہیں معلوم ہے کہ غلہ کی قیمت ہماری گٹھڑیوں میں چلی گئی تھی جس کے واپس کردینے کا ہمیں خیال تھا۔ یہ بات سن کر یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے کہا کہ اگر تم برخلاف اپنے قول کے چور ثابت ہوگئے تو تمہاری کیا سزا ہے انہوں نے کہا کہ ہم میں سے جس کے پاس وہ برتن نکلے وہی اس کی جزا ہے۔ تفسیر سدی تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو سلف کے قول ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت میں چوری کا یہ حکم تھا کہ چور کو ایک برس تک غلام بنا کر رکھ لیا کرتے تھے اس لئے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ بات کہی کہ جس کے پاس چوری کا مال نکلے وہ رکھ لیا جائے کیوں کہ ظالموں کے ظلم کا یہی بدلہ ہے غرض کہ یہ بات تو یوسف (علیہ السلام) کی مرضی کے موافق تھی بہت جلد اس پر راضی ہوگئے اور پہلے سوتیلے بھائیوں کے سامان کی گٹھڑیوں کو ٹٹولنے لگے اور تلاشی لی پھر آخر میں اپنے سگے بھائی بنیامین کی تلاشی لی وہ سقایہ ان کے سامان میں برآمد ہوا اس پر یوسف (علیہ السلام) کے بھائی نہایت شرمندہ ہوئے اور سر جھکا لیا اور بنیامین کو یوسف (علیہ السلام) کے حوالہ کیا۔ صحیح بخاری، مسلم وغیرہ میں چور کے ہاتھ کاٹنے کی روایتیں 1 ؎ جو چند صحابہ ؓ سے ہیں ان روایتوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو قرآن شریف میں ملت ابراہیمی کی پیروی کا جو حکم ہے وہ فقط انہیں مسئلوں میں ہے جو مسئلے شریعت محمدی میں ملت ابراہیمی کے موافق ہیں مثلاً جیسے حج اور قربانی کے مسئلے چور کی چوری ملت ابراہیمی کا مسئلہ ہے کہ چور ایک سال تک غلام بنا کر رکھا جاتا تھا اور شریعت محمدی میں چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے اس لئے آنحضرت ﷺ پر ایسے مسئلوں میں ملت ابراہیمی کی پیروی لازم نہیں ہے۔
Ayah 12:7676۔ جس تدبیر کا اوپر ذکر ہوا اس تدبیر سے بنیامین نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو چھوڑ کر جانے کا افسوس ظاہر کیا بلکہ یہ کہا کہ میں تم کو چھوڑ کر نہ جاؤں گا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دل میں یہ باتیں چھپا دینے کا حیلہ ڈالا اور اس حیلہ کے بعد بھی بنیامین کا مصر میں رہنا مشکل تھا کیوں کہ بادشاہ مصر کے رواج سے چور کی سزا یہ تھی کہ چور کو کچھ کوڑے مارے جاتے تھے اور چوری کی چیز کی دوگنی قیمت بطور جرمانہ کے چور سے وصول کی جاتی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دل میں ڈال دیا کہ وہ اپنے بھائیوں سے پوچھوادیں کہ اگر تم میں سے کوئی چور نکل آیا تو آخر اس کی کیا سزا ہے تاکہ ان کے منہ سے ملت ابراہیمی و یعقوبی کو سزا جو چور کو مالک مال کے پاس برس روز تک غلام بنا کر رکھنا ہے جھوٹ نکل جاوے اور پھر اس کے موافق عمل ہو کر بنیامین حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس رہ جاویں حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ یہ دونوں تدبیریں اللہ کی طرف سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس رہ جاویں حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ یہ دونوں تدبیریں اللہ کی طرف سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دل میں بروقت نہ ڈالی جاتیں تو بنیامین کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس مصر میں رہنا ہرگز ممکن نہ تھا۔ { الا ان یشاء اللہ }۔ اس کا مطلب مجاہد کے قول کے موافق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یوسف (علیہ السلام) کے دل میں ایسی کوئی بات ڈال دیتا جس سے وہ مصر کے بادشاہ کے رواج کے موافق بھی بنیامین کو اپنے پاس رکھ لیتے۔ { نرفع درجات من نشاء }۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں تدبیریں سکھا کر جس طرح اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کے علم کا درجہ ان کے بھائیوں سے بڑہا دیا اسی طرح جس کا درجہ بڑھانا وہ چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے مطلب یہ ہے کہ قریش کو محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر کچھ تعجب نہ کرنا چاہیے یہ اللہ کی مرضی ہے وہ اپنی مرضی … کے موافق ایک دادا کی اولاد میں سے جس کا مرتبہ چاہے بڑھا دیوے۔ { وفوق کل ذی علم علیم } اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ کا علم سب سے بڑھ کر ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابی بن کعب ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اپنے علم کی مثال ایک قطرہ اور اللہ تعالیٰ کے علم کی مثال دریا کی فرمائی۔ 1 ؎ یہ حدیث { وفوق کل ذی علم علیم } کی گویا تفسر ہے سلف کا قول ہے کہ کید کا لفظ مخلوق کے حق میں جب بولا جاتا ہے تو اس کے معنے حیلہ کے ہوتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کی شان میں بولا جاتا ہے تو اس کے معنے تدبیر کے ہوتے ہیں۔
1 ؎ صحیح بحاری ص 481۔ 482 ج 1 باب حدیث الخضر مع موسیٰ ۔
Ayah 12:7777۔ یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائیوں نے جب دیکھا کہ بادشاہ مصر کا پیمانہ بنیامین کے سامان میں سے نکلا تو کہنے لگے کہ اس پر کیا موقوف ہے اگر اس نے چوری کی ہے تو کوئی زیادہ تعجب کی بات نہیں ہے اس کا ایک بھائی اور تھا اس نے بھی ایک مرتبہ چوری کی تھی اس چوری کی بابت مجاہد کہتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کی پھوپھی اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں سب سے بڑی تھیں۔ ایک کمر بند اسحاق (علیہ السلام) کا تھا اس کے وارث پہلے سے بڑی اولاد ہوتی آئی تھی اس لئے اس مرتبہ ان کی پھوپی اس کی وارث ہوئیں جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے گھر میں یوسف (علیہ السلام) پیدا ہوئے ان کی پھوپی نے ان کی پرورش کی اور جان سے زیادہ انہیں چاہتی تھیں۔ یوسف (علیہ السلام) کا ایک گھڑی آنکھ سے اوجھل ہونا ان پر شاق گزرتا تھا جب یوسف (علیہ السلام) کئی برس کے ہوگئے تو ان کے باپ نے اپنی بہن سے انہیں طلب کیا کہ اب یوسف (علیہ السلام) کو مجھے دے دو اپنے پاس سے اس کا علیحدہ ہونا مجھے گوارا نہیں ہے ان کی پھوپی نے کہا یہ بات تو ہو نہیں سکتی میں اس کو ہرگز نہیں چھوڑوں گی تم اسے چند روز اور میرے پاس رہنے دو ۔ اس سے میرا غم غلط ہوتا ہے اور میرے دل کو اس سے تسکین ہوتی ہے جب یعقوب (علیہ السلام) گھر میں سے باہر آئے تو ان کی بہن نے وہ کمر بند یوسف (علیہ السلام) کی کمر سے باندھ دیا اور یہ بات اوڑا دی کہ کمر بند گم ہوگیا ہے دیکھو کس نے لیا ہے غرض کہ کمر بند کی تلاش ہونے لگی اور گھر میں ہر شخص کی جامہ تلاشی ہوئی جب یوسف (علیہ السلام) کی باری آئی تو ان کی کمر سے وہ پٹکا نکلا اس پر یعقوب (علیہ السلام) کی بہن نے یعقوب (علیہ السلام) سے کہا کہ اب یہ لڑکا موافق تمہارے دین و آئین کے میرا ہے جو چاہوں سو کروں حضرت یعقوب نے بھی کہہ دیا کہ ہاں تمہارا ہے جو تم چاہے کرو تمہیں اختیار ہے۔ غرض کہ یوسف (علیہ السلام) کی پھوپی نے ایک برس تک یوسف (علیہ السلام) کو اس حیلہ سے روک رکھا اسی بات کا طعنہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو دیا کہ بنیامین نے اگر چوری کی تو کونسا تعجب ہوگیا اس کے بھائی نے بھی تو چوری کی تھی مگر یوسف (علیہ السلام) نے ان کی باتوں کا کچھ ظاہر میں جواب نہ دیا اور دل میں کہا کہ تم بڑے شریر ہو تمہارے قول و فعل سے خدا ہی خوب واقف ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ تم کہہ رہے ہو آیا صحیح کہہ رہے ہو یا غلط۔ صحیح مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص درگزر کی عادت ڈالے تو آخر کو اس کی عزت بڑھتی ہے 1 ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے چوری کا الزام سن کر درگزر کے طور پر اس الزام کا کچھ جواب جو نہیں دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس درگزر کے بدلے میں یوسف (علیہ السلام) کی اس قدر عزت بڑھائی کہ یوسف (علیہ السلام) کے ان ہی سوتیلے بھائیوں کو آخر { تاللہ لقد اثرک اللہ علینا } کہنا پڑا جس کا مطلب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائیوں نے قسم کھا کر یوسف (علیہ السلام) کی عزت کو تسلیم کیا۔
1 ؎ الترغیب ص 184 ج 2 الترغیب فی التواقع
Ayahs 12:78–7978۔ 79۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے دیکھا کہ اب بنیامین کو عزیز مصر نہیں چھوڑے گا تو بہت گھبرائے کیونکہ باپ سے وعدہ کر کے آئے تھے کہ ہم ہرگز کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھیں گے جس طرح ہوگا بنیامین کو ضرور اپنے ساتھ واپس لائیں گے مگر یہاں معاملہ برعکس ہوا کہ بنیامین پر چوری ثابت ہوئی اور ان کے دین کے موافق بنیامین عزیز مصر کا ایک برس تک غلام ہوچکا اس لئے گڑ گڑانے لگے اور نہایت ہی عاجزی و منت سے کہا کہ اے عزیز مصر ہماری ایک بات سن لو ہمارے باپ بہت ہی بوڑھے ہیں اور کل لڑکوں میں اسی چھوٹے لڑکے کو زیادہ چاہتے ہیں اس کے بغیر انہیں آرام نہیں اس کی جدائی کی تاب وہ ہرگز نہیں لاسکتے اس واسطے اگر آپ اپنے کرم اور اخلاق سے ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ رکھ لیں اور اس کو چھوڑ دیں تو بہتر ہوگا اور بہت ہی بڑا احسان آپ کا ہمارے اوپر ہوگا اور ہم آپ کو نیکو کار مرد بزرگ دیکھتے ہیں ضرور ہمارے مدعا کو پورا کریں گے کیوں کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم میں سے کسی ایک کی جدائی باپ کو اتنا رنج نہیں پہنچائے گی جتنا چھوٹے بھائی کے فراق سے انہیں غم اور ملال ہوگا یہ بات یوسف (علیہ السلام) نے سن کر یہ جواب دیا کہ یہ بڑے بےانصافی کی بات ہے کہ جس کے سامان میں پیمانہ نکلا ہے اس کی جگہ کسی اور کو رکھا جائے یوسف (علیہ السلام) نے یہاں پر پہلو بچا کر گفتگو کی یوں نہیں کہا کہ جس نے چوری کی ہے اس کو روک رکھیں گے بلکہ یوں کہا کہ جس کے سامان میں چوری کا برتن نکلا ہے اسی کو روک رکھیں گے یوسف (علیہ السلام) نے یہ پہلو اس لئے بچایا کہ ان کے سوتیلے بھائیوں کو تو چور کہا جاسکتا تھا کہ ان سوتیلے بھائیوں نے باپ کی چوری سے ایک بھائی کو بیچ ڈالا بنیامین کو چور کہنے کا کوئی سبب نہیں تھا کیوں کہ بنیامین کے کجاوہ میں وہ پیمانہ حیلہ کے طور پر خود یوسف (علیہ السلام) نے رکھوادیا تھا۔ معتبر سند سے ترمذی اور ابن ماجہ میں سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں سب سے بڑھ کر مصیبت انبیاء پر پڑا کرتی ہے 1 ؎
تاکہ وہ اس مصیبت پر صبر کریں اور عقبی میں اس کا اجر پاویں اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) پر پہلے یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کی اور پھر بنیامین کی جدائی کی مصیبت اس لئے پڑی کہ وہ اس مصیبت پر صبر کریں اور اس کا اجر عقبیٰ میں ان کو ملے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ظلم اللہ تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے اس لئے اس نے ظلم کو اپنی ذات پاک پر بھی حرام ٹھہرا لیا ہے اور اپنے بندوں کو بھی ظلم کی مناہی فرمائی ہے۔ 2 ؎ یہ حدیث آخر آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنیامین کی جگہ کسی دوسرے بےقصور کو غلام بنا کر رکھ لینا ظلم تھا اور ظلم اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بری چیز ہے اس لئے یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کی جگہ دوسرے شخص بےقصور کر رکھ لینا پسند نہیں کیا بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کے قابل ایک کام قرار دیا ہے۔
1 ؎ الترغیب ص 264 ج 2 الترغیب فی الصبر الخ۔
2 ؎ صحیح مسلم ص 319 بات حریم الظلم
Ayahs 12:80–8280۔ 82۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی بنیامین کی رہائی سے ناامید ہوگئے تو صلاح و مشورہ کرنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہیے عزیز مصر تو کسی طرح ہماری التجا قبول نہیں کرتا۔ بڑا بھائی جس کا نام روبیل تھا اس نے یہ کہا کہ تم سب جانتے ہو کہ چلتے وقت تمہارے باپ نے بنیامین کے واپس لانے کے لئے خدا کو درمیان میں دے کر قول قرار لیا تھا اور اس سے پہلے تم سے ایک قصور اور سرزد ہوچکا ہے کہ تم یوسف (علیہ السلام) کو باپ سے جدا کرچکے ہو۔ ایسی حالت میں میری تو غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ اب باپ کو منہ دکھاؤں میں تو اب یہاں سے ہلنے کا نہیں جب تک باپ کی اجازت نہیں آئے گی میں یہیں رہوں گا یا لڑ بھڑ کر عزیز مصر سے اپنے بھائی کو واپس لیں گے قتل ہوں گے یا قتل کریں گے اور بغیر بنیامین کے باپ کے پاس نہیں جائیں گے خدا { احکم الحاکمین } ہے اسی کے ہاتھ میں ہمارا فیصلہ ہے جو تقدیر اس نے نافذ کی ہوگی وہ ہوگی تم اگر مصر جاتے ہو تو باپ کے پاس واپس چلے جاؤ اور یہ ساری حقیقت ان سے جا کر بیان کرو کہ ہم نے ہرچند اس بات کا قول قرار کیا تھا کہ بنیامین کی حفاظت کریں گے مگر ہمیں غیب کی خبر نہیں تھی کہ یہاں چوری کی علت میں تمہارا بیٹا پکڑا جاوے گا اور ہم نے موافق اپنے دین کے چور کی سزا بھی بتلا دی اب عزیز مصر بنیامین کو نہیں آنے دیتا اس نے اس جرم میں اسے روک رکھا ہے ہم مجبور ہیں کیا کریں اور آپ کو ہمارے کلام میں کچھ شک و شبہ ہو تو جس گاؤں میں آکر اترے ہیں یہاں کے لوگوں سے دریافت کیجئے اور جس قافلہ کے ساتھ ہم مصر میں داخل ہوئے ہیں ان سے ساری حقیقت معلوم کرلیجئے کہ ہم کہاں تک سچے ہیں { وما کنا للغیب حافظین } کی تفسیر بعض مفسروں نے یہ بھی بیان کی ہے کہ ہم رات کے وقت سوتے تھے اس وقت اس نے چوری کی ہم کو ذرا بھی اس کی خبر نہیں ہوئی اس کا فعل ہم پر پوشیدہ رہا اس واسطے ہم یہ بھی یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ واقعی اس نے چوری کی یا وہ پیمانہ اس کی خرجی میں کسی نے رکھ دیا تھا مگر وہ پیمانہ اسی کی خرجی میں سے نکلا اس لئے وہ پکڑا گیا قریہ سے مراد وہی ترید ہے جہاں یہ لوگ جا کر مصر میں مقیم ہوئے تھے اور جہاں غلہ کی بھرتی کی جاتی تھی اور اہل قافلہ کنعان کے باشندوں میں سے چند شخص تھے جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ہمسایہ میں رہتے تھے وہ بھی مصر غلہ لینے آئے تھے اور بنیامین کا سارا قصہ سن گئے تھے۔ اس لئے ان سے اپنی تصدیق کے لئے روبیل نے کہا غرض جب یوسف (علیہ السلام) کے نو سوتیلے بھائیوں نے کنعان میں واپس آکر اپنے پدر عالی قدر سے اس حال کا ذکر کیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے یہ بات کہی جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ معتبر سند سے بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر مدعی کو دعوے کے ثابت کرنے کے لئے گواہی پیش کرنی چاہیے 1 ؎ صحاح میں اور بہت سی حدیثیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے مدعیوں سے گواہی لے کر مقدمات کے فیصلے کئے ہیں ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں دخل ہے کس لئے کہ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ شرع محمدی میں مدعی سے گواہ لینے کا مسئلہ ملت ابراہیمی کے موافق ہے کیوں کہ ملت ابراہیمی میں اس مسئلہ کے ہونے کے سبب سے روبیل نے اپنے دعوی کے ثابت کرنے کی غرض سے مصر اور کنعانی لوگوں کی گواہی کا ذکر اپنے اس قول میں کیا جس کا تذکرہ ان آیتوں میں ہے۔
1 ؎ التلخیص الجیر ص 7۔ 4 کتاب الشہادات۔
Ayah 12:8383۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائیوں نے کنعان پہنچ کر باپ سے بنیامین کا قصہ بیان کیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی بات کو سچا نہیں جانا اور سمجھے کہ جس طرح انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو علیحدہ کیا اسی طرح بنیامین کو بھی انہوں نے مجھ سے جدا کیا۔ اسی بنا پر کہا کہ یہ بات کوئی بھی ٹھیک نہیں ہے یہ سب من گھڑت تمہارے دل نے یہ سب افترا پردازی کی ہے اور تم نے خود یہ بات ویسے گھڑ لی ہے کہاں بنیامین اور کہاں چوری اس سے اور چوری سے کیا علاقہ یا مطلب بل سولت لکم انفسکم امرا سے یہ مراد ہے کہ تم بنیامین کو ملک مصر میں بغرض منفعت کے لے گئے تھے اور اس کے عوض مضرت حاصل کر لائے یا یہ مراد ہے کہ تم نے فتویٰ دے دیا کہ چور کو چوری کے عوض میں پکڑ کر رکھ لینا چاہیے۔ غرض کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) پبغمبر تھے۔ پیغمبر کی بات کبھی جھوٹ نہیں ہوتی انہوں نے اپنے بیٹوں سے جو یہ کہا کہ تمہارے دل نے یہ بات بنائی ہے واقعی یہی بات تھی کہ یوسف (علیہ السلام) بھی تو آپ کے بیٹے تھے انہوں نے چوری کی ترکیب خود نکالی تھی اور بنیامین کو اس تدبری سے اپنے پاس رکھ لیا اس لئے نبی کے دل نے چوری کے قصہ کو قبول کیا۔ بہر حال یعقوب (علیہ السلام) نے کہا خیر کوئی بات بھی ہو اب تو بخیر صبر کوئی چارہ نہیں۔ صبر جمیل کے معنے پہلے بیان ہوچکے ہیں کہ صبر جمیل وہ صبر ہے جس میں شکوہ و شکایت نہ ہو اور ساری باتیں خدا کی طرف سونپی جائیں۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ 1 ؎ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مصیبت کے پیش آتے ہی شروع صدمہ کے وقت آدمی صبر کرے تو اس کا بڑا اجر ہے۔ ورنہ رفتہ رفتہ مصیبت کا صدمہ کم ہوجانے سے آدمی کو خود صبر آجاتا ہے۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کے شروع صدمہ کے وقت جس طرح فصبر جمیل فرمایا وہی بنیامین کی جدائی کے شروع صدمہ کے وقت فرمایا اس لئے اللہ تعالیٰ نے علاوہ عقبی کے اجر کے دنیا میں بھی ان کے اس صبر کا یہ بدلہ انہیں دکھا دیا کہ ان کے بیٹوں کو خیریت کے ساتھ ان سے ملادیا۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو پہلے تو فقط حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کا رنج تھا جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے چھوٹے بھائی بنیامین بھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے جدا ہوگئے اور ان کی جدائی سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا رنج اور بڑھ گیا اور رنج کی کوئی حد باقی نہ رہی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جان لیا کہ دنیا میں عادت الٰہی ہمیشہ سے یوں ہی جاری ہے کہ دنیا کے ہر رنج کے ساتھ خوشی لگی ہوئی ہے۔ اسی واسطے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے دل کو تسکین فرمائی جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب اور اس خواب کی تعبیر کے سبب سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے توقع تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ہرگز بھیڑئیے نے نہیں کھایا اور اس خواب کی تعبیر تک ضرور یوسف (علیہ السلام) زندہ رہیں گے۔ آزمائش الٰہی کے طور پر کچھ عرصہ تک آنکھوں سے اوجھل ہوگئے ہیں پھر ضرور ملیں گے۔ اس لئے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ فرمایا کہ اللہ کی حکمت سے کچھ دور نہیں جو اللہ تعالیٰ روبیل یوسف بنیامین سب بچھڑے ہوؤں کو اکٹھا ملا دیوے آخر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی توقع کو پورا کیا اور سب بچھڑوں کو حسب مراد ملا دیا یہ روبیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے وہ بڑے بیٹے تھے جو بنیامین کے مصر میں رہ جانے کے بعد شرما کر کنعان نہیں آئے تھے اور مصر میں رہ گئے تھے۔ آیت ان مع العسر یسرا (6: 94) ۔ میں ہر رنج کے ساتھ خوشی کے لگے رہنے کا ایک ازلی وعدہ الٰہی ہے جس کا اثر یعقوب (علیہ السلام) کے دل پر تھا اور ہر ایماندار شخص کے دل پر بھی اس کا اثر ہونا چاہیے۔ یہ آیت اور اس مضمون کی روایتیں جو اوپر گزر چکی ہیں 2 ؎ وہ گویا اس آیت کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے ازلی وعدہ کے بھروسہ پر یہ کہا کہ اللہ کے علم اور حکمت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے وہ اپنے علم و حکمت سے اس رنج کے بعد ضرور سامان خوشی کا کر دے گا اور شاید وہ سامان یہی ہو کہ وہ سب بچھڑوں کو ملادے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 1744 ج 1 باب الصبر عند الصدمۃ الادلی۔
2 ؎ جلد ہذا ص 183۔
Ayahs 12:84–8584۔ 85۔ بنیامین کا قصہ سننے کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے کہ افسوس یوسف (علیہ السلام) پر مطلب یہ کہ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یاد ان کو آگئی اس کے معنے شدت غم کے ہیں جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کا غم حد سے بڑھ گیا اور پھر بنیامین کا حال بیٹوں سے یہ سنا کہ بادشاہ مصر نے اس کو روک رکھا ہے اس سے اور بھی دو چند صدمہ ہوا تو جوش محبت میں یہ کلمہ آپ کی زبان مبارک سے نکل گیا اور آپ بیٹوں کے فراق میں اس قدر روئے کہ آپ کی آنکھیں جاتی رہیں۔ سیاہی سفیدی سے بدل گئی مقاتل کہتے ہیں کہ یہ حالت آپ کی چھ برس تک رہی اور آپ کا یہ رونا اس سبب سے بھی تھا کہ آپ جانتے تھے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں لیکن آپ کو ان کے دین کی طرف سے خیال پیدا ہوا کہ مصر میں سارے لوگ بت پرست ہیں کبھی ان کے عقائد میں بھی فرق نہ آئے۔ صحیح بخا ری (مسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ روئے اور یہ فرمایا کہ اے ابراہیم تیری جدائی کا مجھ کو رنج ہے۔ 1 ؎ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اولاد کی جدائی کا داغ بہت بڑا داغ ہے۔ اس رنج میں رونا یا اولاد کا نام لے کر رنج کو ظاہر کرنا ملت ابراہیمی اور شرع محمدی دونوں میں اس کی مناہی نہیں ہے۔ ہاں کپڑے پھاڑنے اور منہ پیٹنے اور خلاف شرع کلمے زبان سے نکالنے کی مناہی ہے جس کا ذکر صحیح بخاری و مسلم کی عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث 2 ؎ اور سوا اس کے اور صحیح حدیثوں میں تفصیل سے ہے کظیم کے معنے دل ہی دل میں رنج و غم کو رکھنا اور زبان پر اس کا ذکر نہ لانا حرض کے معنے جسم اور عقل میں فتور پڑجانے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائیوں نے فہمائش کے طور پر باپ سے یہ کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو یاد کر کے رنج و غم کرتے کرتے یا تو آپ اپاہچ اور دیوانے ہوجاویں گے یا اپنی جان کھودیں گے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 174 ج 1 باب قول النبی ﷺ اناک مک لمحرونون و صحیح مسلم ص 284 ج باب رحمۃ ﷺ الصبیان والعیال الخ۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 172۔ 173 ج 1 باب لیس منامن شق الجیوب۔
Ayah 12:8686۔ صحیحین میں حضرت انس ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک قبر کے پاس ایک عورت کو روتے ہوئے دیکھ کر منع کیا اس عورت نے آنحضرت ﷺ کو نہیں پہچانا اور یہ کہنے لگی کہ میری جیسی مصیبت تم پر پڑے تو تم کو میرے دل کا حال معلوم ہو جب لوگوں نے اس عورت کو جتلایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں تو اس عورت نے اپنی بیقراری کی عذر خواہی آنحضرت ﷺ سے کی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بیقراری کے روکنے میں اور صبر کرنے میں اسی وقت بڑا اجر ہے جب کہ آدمی ابتداء مصیبت کے وقت صبر کر 1 ؎ ورنہ رفتہ رفتہ تو مصیبت کے بعد خود ہی آدمی کو ایک طرح کا قرار حاصل ہوجاتا ہے اس صحیح حدیث کے مضمون اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے حال کو ملا کر دیکھا جاتا ہے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے حال میں کوئی بات ایسی نہیں پائی جاتی جس کو اعتراض کے طور پر ذکر کیا جائے پھر اس اعتراض کا جواب دیا جاوے کیوں کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھیڑئیے کے کھا جانے اور بنیامین کے مصر میں قید ہوجانے کی خبریں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو پہنچی تو ابتدائے مصیبت کے وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہی فرمایا کہ صبر بہتر اور کافی ہے پھر بعد میں جس قدر رنج حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ظاہر کیا ہے۔ صحیحین کی حضرت انس ؓ کی حدیث اور صحیح حدیثوں سے آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات کے وقت آنحضرت ﷺ کا اس قدر رنج کرنا ثابت ہے۔ غرض حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے جس قدر رنج اور قلق کا ذکر قرآن شریف میں ہے اس میں کوئی بات ملت ابراہیم یا شریعت محمدی کے مخالف نہیں معلوت ہوتی اس لئے بعضے مفسروں نے یہاں کچھ کچھ اعتراض کر کے طرح طرح جوابات جو دئیے ہیں ان کو قرآن شریف کی تفسیر سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائیوں نے یعقوب (علیہ السلام) کو ان سخت لفظوں میں فہمائش کی جس کا ذکر اوپر گزرا تو یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو یہ جواب دیا کہ میں بےصبری کر کے اللہ تعالیٰ کی آزمائش کی شکایت کسی دوسرے سے کروں تو تم مجھ کو صبر کی فہمائش کرو میں تو اپنے غم کا حال اسی پاک پروردگار سے عرض کرتا ہوں جس نے آزمائش کے طور کی یہ مصیبت سے میرے اوپر ڈالی ہے۔ { واعلم من اللہ ما لا تعلمون } حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اس کا مطلب یہ ہے کہ اے میرے بیٹو تم کو معلوم نہ ہو تو نہ ہو مگر مجھ کو تو اللہ کی کریمی کی وصیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو خواب یوسف (علیہ السلام) کو دکھایا ہے اس کا ظہور میری آنکھوں کے سامنے ہوگا اور میری زندگی میں یوسف (علیہ السلام) ایک دفعہ سے ضرور ملے گا۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا { انا عند ظن عبدی بی } 1 ؎ جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص مثلاً کوئی التجا بارگاہ الٰہی میں پیش کر کے اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ نیک گمان دل میں رکھے گا کہ وقت مقررہ پر اس شخص کی وہ التجاضرور قبول ہوگی تو اللہ تعالیٰ اس کے اس نیک گمان کو ضرور پورا کرے گا۔ صحیح مسلم میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے جس میں یہ ہے کہ آدمی کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہمیشہ نیک گمان رکھنا چاہیے 2 ؎ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انبیاء کا گمان اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہمیشہ نیک ہوتا ہے اس لئے یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ کی ذات سے توقع تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں یوسف (علیہ السلام) کے خواب کی تعبیر دکھاوے گا اس وا سطے وہ اللہ تعالیٰ سے ہر وقت یہ التجا کرتے تھے کہ یا اللہ تو اس جدائی کی مصیبت کو جلدی راحت سے بدل دے۔ بث کے معنے بڑی بھاری غم کا حال بیان کرنے کے ہیں۔
1 ؎ الترغیب ص 262 ج 2 الترغیب فی الرجاء و حسن الظن باللہ تعالی۔
2 ؎ الترغیب ایضاً ۔
Ayahs 12:87–8887۔ 88۔ اوپر کے قصہ کے بعد یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ ادھر ادھر چل پھر کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی بنیامین کا پتہ لگاؤ خدا کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ وہ دونوں تمہیں مل جائیں خدا پر بھروسہ کر کے کمر ہمت چست باندھ اور اس کی جستجو میں نکلو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کیوں کہ خداوند عالم کی رحمت سے نا مید ہونا ان لوگوں کا کام ہے جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور ہر ایک کام میں اسے قادر مطلق نہیں تصور کرتے اس لئے میں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہی نیک گمان رکھتا ہوں جو میں نے بیان کیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے باپ کا حکم پاکر گھر سے چل کھڑے ہوئے اور سیدھے پھر مصر میں داخل ہوئے اور عزیز مصر سے یہ آکر کہا کہ اے عزیز مصر ہم پر اور ہمارے اہل و عیال پر بہت ہی سختی ہے اس قحط کے زمانہ میں نہایت تکلیف سے اوقات بسر ہوتی ہے غرض ان کی اس کلام سے یہ تھی کہ جب ان باتوں سے عزیز مصر کا دل نرم ہوجائے تو پھر بھائی کے واپس کرنے کو ان سے کہیں گے پھر انہوں نے یوسف (علیہ السلام) سے یہ بات کہی کہ اس مرتبہ جو کچھ ہمارے گھر میں ناقص مال تھا وہ سب لے کر آئے ہیں آپ اس غلہ کی قیمت میں لے کر ہمیں غلہ بھر دیں اور پورا تول تول دیں ہماری قیمت دینے نہ دینے کا کچھ خیال نہ کریں ہمارا حال کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے آپ گویا صدقہ ہی تصور فرما کر ناقص درہموں کے بدلہ غلہ دے دیں اللہ پاک صدقہ کرنے والوں کو بہت بڑا اجر دیتا ہے جب بھائیوں نے اس طرح کی گفتگو کی تو یوسف (علیہ السلام) سے گھر کی تکلیف سن کر نہ رہا گیا اور انہوں نے اپنے آپ کو اس طرح سے ظاہر کردیا جس کا ذکر آگے آتا ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے نیک گمان رکھنے کی حدیثیں جو اوپر گزریں وہی حدیثیں ان آیتوں کی بھی تفسیر ہیں جن تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اسی نیک گمان کی بنا پر یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین کے ڈھونڈنے کی تاکید کی اب آگے کی آیتوں سے معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے اس نیک گمان کو سچا کیا۔