Ayahs 11:1–41۔ 4 الر بھی حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنے سوائے خدا کے اور کسی کو نہیں معلوم جیسے الم وغیرہ چناچہ اس کی تفصیل سورة بقر اور سورة آل عمران میں گزر چکی ہے ان آیتوں میں اللہ پاک نے قرآن مجید کی تعریف بیان فرمائی ہے کہ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کی کل آیتیں شروع سے آخر تک بالکل مضبوط ہیں جیسے ایک دیوار کی بنیاد کہ کبھی اس میں ردو بدل ہونے والا نہیں ہے جیسے پہلی کتابیں توریت و انجیل وغیرہ کہ ایک کے بعد ایک منسوخ ہوتی گئیں پہلے یہ کتاب لوح محفوظ میں تھی پھر اللہ پاک نے اپنے سچے رسول پر تفصیل کے ساتھ اس کو نازل فرمایا اور حرام حلال کی تفصیل بتلادی جو قیامت تک قائم رہے گی فرمایا کہ تم لوگ سوائے خدا کے اور کسی کی بندگی نہ کرو۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز حضرت رسول خدا ﷺ کوہ صفا پر جو مکہ میں ہے چڑھ گئے اور اپنے قبیلے قریش کے ہر رشتہ داروں میں سے پہلے نزدیک کے رشتہ داروں پھر دور کے رشتہ داروں کو پکارا جب سب جمع ہوگئے تو فرمایا اے قریش کے گروہ اگر میں تم کو اس بات کی خبر دوں کہ صبح کو ایک بہت بڑا لشکر جس میں بیشمار سوار اور پیادہ ہوں گے تم پر چڑھائی کرے گا تو تم مجھے سچا جانو گے ان سب نے ایک زبان ہو کر کہا ہم نے تمہاری کوئی بات جھوٹی نہیں دیکھی آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں خدا کے عذاب سے ڈراتا ہوں 1 ؎ اور اس کے جنت کی خوشی سناتا ہوں کہ جو باتیں گزر چکیں اور جو کچھ تم پہلے کرچکے اسے استغفار کرو اور آئندہ کے لئے توبہ کرلو خدا اس کا نفع تمہیں دنیا میں بہت ہی اچھا دے گا تمہارے رزق بڑھائے گا عیش و آرام میں رکھے گا اور آخرت میں ہر شخص کے عمل کے موافق دس گنا فضل کرے گا۔ یہ حدیث (نذیر و بشیر) کی گویا تفسیر ہے ابن مسعود ؓ نے (یؤت کل ذی فضل فضلہ) کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ جو شخص ایک برائی کرتا ہے اس کی ایک برائی لکھی جاتی ہے اور جو ایک نیکی کرتا ہے اس کی دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اگر اس نے کوئی برائی کی اور دنیا میں کوئی سزا اس پر کی گئی تو اس کی دس کی دس نیکیاں آخرت میں ملیں گی اور اگر دنیا میں کوئی سزا نہیں ہوئی تو ایک نیکی ان دس میں سے اس ایک بڑائی کا کفارہ بن جائے گی اور نو نیکیاں باقی رہیں گی۔ 2 ؎ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دو کہ اگر تم شرک سے توبہ اور استغفار نہ کرو گے تو مجھے خوف ہے کہ قیامت کے دن تم پر عذاب ہو کیوں کہ جب تم لوگ مرجاؤ گے تو پھر ایک دن خدا تمہیں زندہ کرے گا اور تمہارے اعمال کا پورا بدلہ دے گا وہ ہر شئے پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے۔ چناچہ اپنی اسی قدرت کاملہ کے سبب سے اس نے تم کو نیست سے ہست کیا اب مرجانے کے بعد اگر تم ویسے ہی نیست ہوجاؤ گے تو پھر دوبارہ تمہیں نیست سے ہست کرنا اور نیک و بد کی جزا و سزا کا کرنا اس کی قدرت سے کسی طرح باہر نہیں ہے بغیر کسی سند کے تم جو اس کے منکر ہو یہ تمہاری نادانی ہے کیوں کہ جو کام ایک دفعہ ہوچکا پھر دوبارہ اس کے ہوجانے کا انکار کرنا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا پہلی دفعہ پیدائش کو آنکھوں سے دیکھ کر انسان نے دوسری دفعہ کی پیدائش کا جو انکار کیا اور اس انکار سے میرے کلام کو اس نے جھٹلایا یہ بات انسان کو مناسب نہ تھی 3 ؎ یہ حدیث آخری آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اپنی پہلی پیدائش کو آنکھوں سے دیکھ کر یہ منکریں حشر بغیر کسی سند کے حشر کا جو انکار کرتے ہیں یہ ان کی شان سے بعید ہے۔
3 ؎ مشکوۃ 462 باب الائذا روالتحزیر۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 436 ج 2۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 453 ج 1 کتاب بدء الخلق۔
Ayah 11:55۔ اس آیت کی شان نزول کئی طرح سے بیان کی گئی ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ آسمان کی طرف منہ کرنا اس حالت میں کہ ان کے شرمگاہ کھلے ہوں مگر وہ جانتے تھے اس پر یہ آیت اتری 1 ؎ بخاری نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے یوں روایت کی ہے کہ مرد اپنی عورت سے صحبت کرتا تھا تو آسمانوں کو نہیں دیکھتا تھا۔ اپنا منہ ڈہانک لیتا تھا اس کے حق میں یہ آیت آئی۔ 2 ؎ مجاہد کہتے ہیں کہ جب مشرک لوگ کوئی بری بات کرتے یا کوئی بد عمل کرتے تو کبڑے ہو کر کرتے اور یہ گمان کرتے تھے کہ ہم اس کو خدا سے پوشیدہ رکھتے ہیں اس پر اللہ نے فرمایا کہ جب یہ رات کو اندھیرے میں سو جاتے ہیں اور کپڑوں میں لپٹے ہوئے ہوتے ہیں اس وقت بھی خدا ان کی ہر ایک چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے۔ 3 ؎ بعضوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ کافر جب مخالفت کی کوئی بات گھر میں بیٹھ کر کہتے تھے اور اس کا جواب قرآن میں اترتا تھا تو یہ گمان کرتے تھے کہ دیوار کے پیچھے کوئی آکر سن جاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ سے جا کر کہہ دیتا ہے۔ اس خیال سے وہ کپڑے اوڑھ کر اور جھک کر کلام کیا کرتے تھے اس پر یہ آیت اتری اور فرمایا کہ خدا سے کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی وہ تو دل کے اندر کی باتوں کو جانتا ہے۔ اوپر آنحضرت ﷺ کا آیت میں ذکر نہیں ہے اس لئے پچھلے قول کو تو حافظ ابو جعفر ابن جریم نے اپنی تفسیر میں ضعیف ٹھہرایا ہے۔ 4 ؎ صحیح بخاری مسلم اور ترمذی میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ کعبہ میں تین مشرکوں نے آپس میں چپکے چپکے کچھ باتیں کیں پھر ایک نے دوسرے سے کہا کیا اللہ نے ہماری یہ باتیں سن لی ہوں گی اس نے کہا جو بات ہم پکار کر کریں وہ اللہ سنتا ہے اور جو چپکے سے کریں وہ نہیں سنتا تیسرے نے کہا اگر اللہ سنتا ہے تو سب باتیں سنتا ہے۔ 5 ؎ اوپر کے ان سب قولوں میں مجاہد کا قول اس صحیح حدیث کے موافق ہے کہ مشرکین مکہ انسان کے دیکھنے سننے کو دیکھ کر یہ اعتقاد رکھتے کہ اللہ تعالیٰ کا سننا دیکھنا ایسا ہی ہے کہ آڑ میں کی ہوئی چیز کو نہ دیکھتا ہے نہ چپکے چپکے سے باتیں کرنے کو وہ سنتا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیت میں ان لوگوں کے حشر کے انکار کی نادانی کا مبہم طور پر ذکر فرما کر اس آیت میں ان کی ایک کھلی کھلی نادانی کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ کسی کام کو آڑ میں کرنے سے پہلے ان کے دل میں اس کے کرنے کا ارادہ جو ہوتا ہے اللہ تو اس تک کو جانتا ہے کیوں کہ دل اور اس کا ارادہ یہ سب اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ غائب کا قیاس حاضر پر بالکل غلط ہے جس طرح مثلاً مکہ میں مینہ برستا ہوا دیکھ کر یہ قیاس کرلینا کہ اس وقت مدینہ میں بھی مینہ برس رہا ہوگا سراپا ایک غلط قیاس ہے اسی طرح دنیا کی بعض بعض باتوں پر قیاس کر کے بغیر دیکھے بھالے ان لوگوں کا حشر کا انکار یا اللہ کے دیکھنے سننے کا اپنے دیکھنے سننے پر قیاس ان لوگوں کی نادانی کی باتیں ہیں۔ مسند بزار طبرانی وغیرہ کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی ایک صحیح روایت گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جب لوگوں کے ہر اعمال نامے کھولے جاویں گے تو اللہ تعالیٰ بعضے عملوں کو قبول قرار دیوے گا اور بعضوں کو نامقبول یہ حالت دیکھ کر فرشتے عرض کریں گے یا اللہ ان نامقبول عملوں میں ظاہر تو کوئی خرابی نہیں معلوم ہوتی اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماوے گا تم کو معلوم نہیں یہ عمل خالص نیت سے نہیں کئے گئے۔ 6 ؎ یہ حدیث (انہ علیم بذات الصدور) کی گویا تفسیر ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 436 ج 2۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 277 ج 2 کتاب التفسیر۔
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 436 ج 2۔
4 ؎ تفسیر ابن جریر ص 185 ج 11۔
5 ؎ صحیح بخاری ص 712 ج 2 باب قولہ وما کنتم تستترون الخ۔
6 ؎ الترغیب ص 21 ج 1 الترھیب من الرباء الخ۔
Ayah 11:66۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ کی جتنی مخلوق ہے خواہ خشکی کی رہنے والی خواہ دریا کی سب کو خدا روزی پہنچاتا ہے اور خدا ہر ایک مخلوق کے قرار کی جگہ جانتا ہے کہ کہاں اس کی بودو باش ہے اور کس چیز سے اس کی پیدائش اور کہاں اور کس سرزمین میں اس کی موت ہے اور یہ سب باتیں لوح محفوظ میں دنیا کی پیدائش کے پہلے سے موجود ہیں حاصل یہ ہے کہ جب اللہ پاک کا علم اتنا بڑا وسیع ہے کہ ہر ایک شخص اور ہر ایک جاندار کے رہنے کی جگہ کو جانتا ہے وہ جہاں ہوتا ہے اس کا رزق وہیں پہنچا دیتا ہے اور اس نے تمہارے دل کا حال پہلے ہی لوح محفوظ میں اپنے علم کے موافق لکھ لیا ہے تو تمہارے دلوں کی بات کو جانتا اس کے نزدیک کونسی بڑی بات ہے یہ تمہارا ہر بات کو چھپانا کچھ فائدہ مند نہیں ہے اس پر ظاہر اور پوشیدہ سب یکساں ہے جس طرح وہ کھلی ہوئی باتوں کو جانتا ہے اسی طرح چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ انس بن مالک ؓ کی حدیث جو اوپر گزری 1 ؎ وہی حدیث اس آیت کی بھی تفسیر ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے۔ 2 ؎ کہ دنیا میں جو کچھ ہونے والا تھا دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے یہ حدیث (کل فی کتاب مبین) کی گویا تفسیر ہے۔ مستقرھا ومستودعھا کی تفسر میں اگرچہ سلف کے کئی قول ہیں مگر علی بن طلحہ کی سند سے صحیح قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہی ہے کہ مستقرھا کی تفسر بود و باش کی جگہ ہے اور مستودعھا کی تفسیر موت کی سرزمین۔ 3 ؎
1 ؎ صحیح مسلم ص 390 ج 2 کتاب الفتن۔
5 ؎ صحیح مسلم ص 335 ج 2 باب حجاج آدم و موسیٰ ۔
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 435 ج 2۔
Ayah 11:77۔ اس آیت سے یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ پانی یا عرش یا اور کوئی شئی سوائے ذات الٰہی کے قدیم ہے۔ چناچہ عمران بن حصین ؓ کی حدیث بخاری میں ہے اس کا اور ترمذی، مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ پہلے پہل سوائے ذات باری کے پانی عرش کچھ نہیں تھا پہلے سب سے اللہ تعالیٰ نے پانی کو پیدا کیا پھر عرش معلی کو پیدا کیا 1 ؎ جیسا کہ مسند امام احمد اور ترمذی میں ابو رزین عقیلی ؓ کی صحیح روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا پانی عرش سے پہلے پیدا کیا گیا ہے اور پھر عرش اس کے بعد قلم کو پیدا کیا اور لوح محفوظ کو پیدا کیا اور زمین و آسمان کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ زمین و آسمان میں قیامت تک ہونے والا ہے اس کو لکھا اور پھر سب کچھ پیدا کیا۔ 2 ؎ صحیح مسلم اور مسند امام احمد بن حنبل میں ابو زید انصاری ؓ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے بڑے اہتمام سے منبر پر چڑھ کر تمام دن صحابہ کو پیدائش عالم کا حال شروع سے لے کر قیامت کے قائم ہونے تک بڑی تفصیل سے اس طرح سمجھایا کہ صبح کی نماز پڑھ کر بطور خطبہ کے عالم کی پیدائش کے حال کو ذکر فرمانا شروع کیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت آگیا اور آپ نے منبر سے اتر کر ظہر کی نماز پڑہی اور ظہر کی نماز کے بعد پھر منبر پر چڑھ کر بقیہ وہی حال فرمانا شروع کیا اور عصر کا وقت جب آیا تو منبر سے اتر کر عصر کی نماز پڑھی اور پھر وہی حال فرمانا شروع کیا یہاں تک کہ شام ہوگئی۔ ابو زید ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے تو اس روز قیامت تک کا حال فرمایا تھا مگر ہم لوگوں نے کچھ یاد رکھا اور کچھ بھول گئے۔ 3 ؎ اس سے معلوم ہوا کہ پیدائش عالم کے باب میں جو صحابہ کے آثار ہیں وہ اسرائیلیاں سے نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ سے سنی ہوئی باتیں ہیں لیکن سب سے پہلے عقل کے پیدا ہونے کے جس قدر آثار ہیں وہ سب ضعیف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے { الی اللّٰہ مرجعکم } فرما کر پہلے حشر کا ذکر فرمایا اور پھر بیچ میں اپنے علم کا اور پھر پیدائش عالم کا تاکہ منکریں حشر جان لیویں کہ جس نے اپنے علم سے بغیر نمونہ کے پہلے سب کچھ پیدا کیا ہے وہ اسی نمونہ کے موافق پھر دوبارہ سب کچھ پیدا کرے گا اور سزا وجزا کا فیصلہ ہوگا تاکہ پہلی دفعہ کا پیدا کرنا بےفائدہ نہ رہے ایسی ظاہر بات کا انکار کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے چناچہ اسی تنبیہ کے لئے قرآن شریف میں جگہ جگہ پیدائش عالم پر غور کرنے کی ہدایت منکرین حشر کو فرمائی گئی ہے۔
آیت کے اوپر کے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے عالم کی پیدائش کا ذکر فرما کر اس ٹکڑے میں اس پیدائش عالم کا اصلی سبب ظاہر فرمایا ہے کہ نیک و بد عمل کی اس آزمائش کے لئے تم کو پیدا کیا گیا ہے کہ کون دنیا میں جا کر نیک عمل کرتا ہے اور آخرت میں جزا کے قابل ٹھہرتا ہے اور کون بد عمل کرکے سزا کے قابل قرار پاتا ہے اگرچہ اللہ کا علم ازلی ہے اور جو کھ قیامت تک ہوگا اس کو پہلے سے معلوم ہے چناچہ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے ہی جو کچھ دنیا میں ہونے والا ہے وہ اس نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے مگر نیک وبد کام جب تک کسی سے دنیا میں ظاہر نہ ہوجاوے فقط لوح محفوظ کے لکھے پر سزا و جزا کا مدار اللہ تعالیٰ نے نہیں رکھا ہے اور جانچ اچھے عمل کی ہے زیادتی عمل کی نہیں ہے اس واسطے کہ اچھا عمل وہ ہے جو شریعت کے قاعدے سے صحیح ہو اور خالص ثواب کی نیت سے کیا جاوے جس عمل میں بدعت کا لگاؤ یا ریا کا لگاؤ ہے وہ عمل جزا کے قابل نہیں ہے اس لئے زیادتی عمل کا ذکر اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کیوں کہ کسی شخص نے بغیر پابندی قاعدہ شریعت کے ایجاد طبع اور بدعت کے طور پر یا کسی شخص نے بغیر خالص ہونے نیت ثواب کے دکھاوے اور ریا کے طور پر تودے کے تودے عمل کے کئے تو وہ سب جزا کے حساب سے اکارت ہیں چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بدعت کے طور کے عمل کے اکارت ہونے میں مشہور ہے 4 ؎ کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دین میں جو شخص کوئی ایجاد نکالے وہ ایجاد مردود ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ایجاد اعتقادی ہو یا فعلی قابل جزا کے نہیں ہے بلکہ ایک مردود چیز قابل سزا ہے چناچہ ترمذی اور ابن ماجہ میں جو روایت ہے اس کا حاصل یہی ہے کہ بدعتیوں کے اعمال کا عذاب بدعت کے ایجاد کرنے والے پر بھی ہوگا۔ 5 ؎ اور دکھاوے کے عمل کے اکارت ہونے کے بابت صحیح مسلم، مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ریا کاری کو شرک کے مشابہ فرمایا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ ریا کاروں سے صاف فرمادے گا کہ میں اس شر کی عمل کے قبول کرنے سے بیزار ہوں 6 ؎ جن لوگوں کے دکھانے کو تم نے یہ عمل کئے ہیں جاؤ ان سے ہی ان شر کی عملوں کی جزا چاہو اب یہ تو ظاہر ہے کہ قیامت کے نفسا نفسی کے میدان میں کون کسی کو جزا دیتا ہے اور جزا تو درکنار بیہقی ترمذی ابن ماجہ طبرانی وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ریا کاری اور بدعت کے میل سے پاک و صاف رکھوتا کہ تھوڑا سا عمل بھی نجات کے لئے کافی ہوجاوے 7 ؎ یہ حدیث احسن عملا کی گویا تفسیر ہے۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی عبد اللہ بن زجر ؓ کو اگرچہ بعضے علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن ابو زرعہ اور نسائی نے اس کو معتبر راوی قرار دیا ہے اور ضعفاء میں نہیں لکھا اسی واسطے حاکم نے اس کی اس روایت کو صحیح اور ترمذی نے اس کی چند روایتوں کہ معتبر کہا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ یہ حدیث آیت کی تفسیر قرار پاسکتی ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 437 ج 2۔
2 ؎ جامع ترمذی ص 138 ج 2 کتاب التفسیر و تفسیر ابن کثیر ص 37 ج 2۔
3 ؎ صحیح مسلم ص 390 ج 2 کتاب الفتن۔
4 ؎ مشکوۃ ص 27 باب الاعتصام بالکتباب والسنۃ۔
5 ؎ مشکوٰۃ ص 3 باب الاعتصام بحوالہ ترمذی (ابن ماجہ) ۔
6 ؎ مشکوۃ ص 454۔ 456 باب الریاء والسمعتہ۔
7 ؎ مشکوٰۃ ص 456 باب الریاء والسمعتہ۔
Ayah 11:88۔ اوپر حشر کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کہ اگر تم ان مشرکوں سے یہ بات کہہ گے کہ مرنے کے بعد خدا پھر تمہیں زندہ کرے گا تو یہ لوگ اس کو جادو ٹھہرائیں گے باوجود اس بات کہ انہیں خوب معلوم ہے کہ آسمان اور زمین چاند سورج سب کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے۔ لیکن یہ لوگ قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں حالانکہ بغیر نمونہ کے پہلے پہل ہر چیز کا بنانا مشکل ہے دوبارہ اس کا بنانا کوئی مشکل نہیں ہے ان کا یہ کہنا کہ یہ تو جادو کی باتیں ہیں محض کفر کی راہ سے ہے۔ پھر فرمایا کہ باوجود کلام اللہ کے جھٹلانے کے ہم جو ان لوگوں پر عذاب نہیں بھیجتے ڈھیل دے رکھی ہے اس کو تعجب اور مسخرا پن سے وہ یوں کہتے ہیں کہ عذاب میں دیر کیوں لگا رکھی ہے کیوں نہیں نازل ہو چکتا اس پر فرمایا کہ جس روز عذاب آجائے گا تو کسی کے ٹالے بھی نہیں ٹلنے کا ہے اور ان کی یہ ہنسی اور مسخرا پن سب دھرے رہ جائیں گے۔ عذاب کی جلدی جو مسخرا پن سے کرتے تھے اور حشر کو جھٹلاتے تھے یہ مشرکین مکہ میں وہ بڑے بڑے سردار تھے جن کا دین و دنیا کا جو کچھ انجام ہو اور صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی روایت سے گزر چکا کہ بدر کی لڑائی میں یہ لوگ مارے گئے اور تین دن تک بےگور و کفن ان کی لاشیں پڑی رہیں اور پھر ان لاشوں کو کھینچ کر ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا 1 ؎ یہ تو ان لوگوں کی سرکشی کی سزا دنیا میں ہوئی ان کا عذاب آخرت کا حال جتلانے کے لئے اللہ کے رسول نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے عذاب الٰہی کے وعدہ کو سچا پایا حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں جو ارشاد تھا کہ اب تو یہ لوگ مسخراپن سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں لیکن جب اپنے وقت پر عذاب آجاوے گا تو پھر ٹالے نہیں ٹلے گا۔ انس بن مالک ؓ کی اس روایت سے اس کی تغیر اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے حشر کی آیتوں کو مشرکین مکہ جادو جو کہتے تھے اس سے ان کا یہ مطلب تھا کہ جس طرح جادو کی باتیں خلاف عقل ہوتی ہیں اسی طرح کی یہ حشر کی باتیں بھی ہیں۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 566 ج 2 باب قتل ابی جہل۔
Ayahs 11:9–119۔ 11 مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ناشکری کچھ قرآن کی نعمت کی ناقدری پر منحصر نہیں ہے بلکہ ان کی ناشکری تو دنیا کی نعمتوں میں بھی ہے چناچہ ان میں سے کسی کو اللہ اپنی رحمت کا اگر نمونہ دکھاتا ہے اور اس کے رزق میں ترقی کردیتا ہے تو یہ لوگ عیش و آرام میں پڑے رہتے ہیں اور جب ان کے سر سے ذرا بھی اس رحمت کا سایہ الگ کرلیا تو پھر ان کو آئندہ کی فلاحیت کی امید نہیں رہتی اور پہلے عیش و آرام ان کے خیال سے بالکل جاتے رہتے ہیں اور اگر اللہ تکلیف کے بعد کسی کو خوش حال کردیتا ہے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور اپنے مال پر اس قدر اترانے لگتا ہے کہ جس کا کچھ ٹھکانا نہیں مگر جو لوگ سختی اور مصیبت کے وقت صبر کرتے ہیں اور نیک عمل کئے جاتے ہیں تو ان کے لئے اس صبر کے بدلے میں مغفرت ہے اور نیک عمل کے عوض میں جنت۔ معتبر سند سے ترمذی میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مومن کو جو مصیبت پہنچی ہے مثلاً کوئی تکلیف یا رنج فکر غم تو وہ اس کے گناہ کا کفارہ ہوتا ہے۔ 1 ؎ صحیح مسلم کے حوالہ سے صہیب رومی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا راحت کے وقت شکر اور تکلیف کے وقت صبر یہ ایماندار آدمی کا کام ہے۔ 2 ؎ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ راحت کے وقت شکر اور تکلیف کے وقت صبر فرمانبرداروں کی نشانی ہے اور راحت کے وقت ناشکری اور تکلیف کے وقت بےصبری نافرمانوں کی نشانی ہے اور تکلیف کے وقت صبر کرنے سے آدمی کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
1 ؎ الترغیب ص 296 الترغیب نے الصبر الخ۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 452 باب الصبروالتوکل۔
Ayah 11:1212۔ اس آیت کی شان نزول اور اس آیت کے معنے بیان کرنے سے پہلے ایک تمثیل بیان کی جاتی ہے اس تمثیل کے سمجھ لینے کے بعد اس آیت کا مطلب اور اس آیت کی شان نزول دونوں خوب سمجھ میں آجاویں گے وہ تمثیل یہ ہے کہ فرض کیا جاوے کہ ایک شخص زید اہل حرفت ہے اور اس نے بڑی محنت سے بہت دنوں میں ایک کام سیکھا اور اب اس کی عمر بھی اس قابل نہیں کہ وہ دوسرا کوئی کام سیکھ سکے اور خاندان اور برادری کے وتیرہ اور عادت سے یہ ممکن بھی نہیں کہ زید دوسرا کام کرسکے۔ ایسی حالت میں زید اپنا کام کرتے کرتے اپنے کام میں کچھ دقتیں پا کر اپنے کسی دوست سے ان دقتوں کو بیان کرے اور زید کا دوست فہمائش کے طور پر زید سے یہ کہے کہ کیا تم ان دقتوں کے سبب سے اپنے کام کو چھوڑ دو گے۔ اس فہمائش سے زید کے دوست کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زید کا اپنے کام کو چھوڑ دینے کا ارادہ ہے کیوں کہ یہ تو زید کے دوست کو خوب معلوم ہے کہ زید سے یہ کام چھوٹ نہیں سکتا بلکہ زید کے دوست کی فہمائش کا مطلب یہ ہے کہ یہ کام تو تم سے چھوٹنا ممکن نہیں ہے پھر جو دقتیں اس کام میں پیش آتی ہیں ان کو جھیلو اور کام کرو اسی طرح تسکین کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ جب کفار مکہ آنحضرت ﷺ اور قرآن شریف کے حق میں طرح طرح کی باتیں بناتے تھے کہ اس قرآن میں سے ہمارے بتوں کی مذمت کا ذکر نکال ڈالو کبھی اور کچھ اسی قسم کی باتیں کرتے تھے کہ قرآن خود محمد ﷺ نے بنالیا ہے اللہ کا کلام ہوتا تو ہمارے روبرو آسمان سے فرشتہ اس کی تصدیق کو آتا کبھی کہتے تھے کہ محمد ﷺ نبی ہوتے تو ایسے حال کیوں رہتے ان کے حکم میں ضرور دنیا بھر کا خزانہ ہوتا اب مطلب آیت کا یہ ہے کہ نبی اللہ کے یہ تو ممکن نہیں کہ ان کفار مکہ کی ایسی باتیں بنانے پر تم ان کی مخالف طبیعت آیتوں کو ان کو سنانا چھوڑ دو کیونکہ کل نبی اس بات سے معصوم پیدا کئے گئے ہیں کہ وہ اللہ کا ہر طرح کا حکم صاف صاف بغیر اپنی کسی ذاتی تصرف کے امت کو پہنچا دیویں اس لئے جب تک اللہ تعالیٰ تم کو قوت دیوے اور ان کافروں کو زیر کرے ان کی باتوں کا کچھ خیال نہ کرو اور اپنا کام کئے جاؤ پھر آنحضرت ﷺ کی اس تسکین کے بعد اللہ تعالیٰ نے آگے کی آیتوں میں کافروں کی اس بات کا جواب دیا ہے کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن خود بنا لیا ہے حاصل اس جواب کا یہ ہے کہ اگر ایسا کلام انسان سے بنایا جانا ممکن ہے تو تم کو اجازت ہے کہ تم اکیلے یا اپنے جھوٹے معبودوں سے مدد لے کر اس طرح کا کچھ کلام بنا کر پیش کرو اور اگر تمہارے جھوٹے معبود تم کو اس کام میں کچھ مدد نہ دیں تو جان لو کہ یہ کلام اسی سچے معبود کا ہے جو اپنی ذات اپنی صفات اپنے کلام میں سب سے نرالا ہے سو اس کے بعضے مفسروں نے اس آیت کے معنے جو بیان کئے ہیں وہ نبی معصوم کی شان کے بالکل مخالف ہیں۔ اس لئے صحیح معنے یہی ہیں جو بیان کئے گئے ہیں کیونکہ یہ وہ معنے ہیں جو خود اللہ تعالیٰ نے سورة الحجر کی آیت { ولقد نعکم انک یضیق صدرک بما یقولون (15: 97)} میں فرمائے ہیں۔ جب قرآن کی تفسیر قرآن میں ہے تو اس سے بڑھ کر اور کون سی تفسیر ہوسکتی ہے اس سورة الحجر کی آیت میں فقط اتنا ذکر ہے کہ مشرکین مکہ کی بیہودہ باتوں کے سبب سے اللہ کے رسول رنجیدہ خاطر رہتے تھے بعضے مفسروں کے قول کے موافق اس رنجیدہ خاطری کے ساتھ اگر اللہ کے رسول کا یہ ارادہ بھی ہوتا کہ بتوں کی مذمت کی آیتوں کو مشرکین مکہ سے چند روز پوشیدہ رکھا جاوے تو خفگی کے طور پر اس مکی سورت میں اس کا ذکر بھی ضرور ہوتا ترمذی ابوداؤد وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی روایتیں گزر چکی ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص دین کی کسی بات کو جان بوجھ کر پوشیدہ رکھے گا۔ قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جاوے گی۔ 1 ؎ اس معتبر حدیث سے بھی اس تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے جو اوپر تمثیل دے کر بیان کی گئی کیوں کہ اللہ کے رسول نے جس بات سے امت کے علماء کو ڈرایا ہے یہ ممکن نہیں کہ اللہ کے رسول خود اپنے لئے اس بات کو روا رکھیں کس لئے کہ انبیاء کے دل میں اللہ کا خوف بہ نسبت امت کے بہت زیادہ ہوتا ہے چناچہ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ بہ نسبت تم لوگوں کے میں اللہ سے زیادہ ڈرتا ہوں 2 ؎ { واللّٰہ علی کل شئی وکیل } کا یہ مطلب ہے کہ اے رسول اللہ کے تمہارے ذمہ فقط اللہ کے حکم کا پہنچا دینا ہے پھر اس حکم کے ماننے والوں کی جزا اور نہ ماننے والوں کی سزا یہ سب اللہ کے ذمہ ہے۔
1 ؎ مشکوۃ ص 34 کتاب العلم۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 27 باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔
Ayahs 11:13–1413۔ 14۔ اوپر گزرا کہ آنحضرت ﷺ کو کفار جھٹلاتے تھے اور طعن کرتے تھے کہ اگر تم سچے ہو کہ تمہیں خدا نے بھیجا ہے تو اس سے کہو وہ آسمان سے تم کو خزانہ بھیج دے اور یہ بھی کہتے تھے کہ تمہارے ساتھ کوئی فرشتہ آسمان سے آنا چاہیے تھا جو تمہارے رسول ہونے کی تصدیق کرتا اس پر اللہ پاک نے اپنے رسول کی تسلی کی کہ تم ان مشرکوں کی باتوں پر نہ جاؤ تم سے پہلے بھی رسولوں کو لوگوں نے جھٹلایا ہے تم تو ڈرانے کے واسطے آئے ہو اس لئے تم اپنا کام کئے جاؤ خدا ہر شئی کا نگہبان ہے جو کچھ یہ لوگ بکتے ہیں سب وہ سنتا ہے وقت مقررہ پر ان لوگوں کو اس جھٹلانے کی حقیقت معلوم ہوجاوے گی اب ان آیتوں میں فرمایا یہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ محمد ﷺ خود یہ قرآن بنا کر لائے ہیں تو تم ان سے کہو اس کی سی دس سورتیں تم بھی بنا کر لاؤ تمہاری شاعری اور سب زبان دانی اور فصاحت و بلاغت دیکھی جائے اور اکیلے نہ بنا سکو تو جس سے جی چاہے مدد لو پھر اگر بنا کر نہ لائیں تو تم جان لو کہ یہ عاجز ہوگئے اور ان لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ قرآن خدا نے اپنے علم خاص سے اتارا ہے اور وہ ایسا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور جب قرآن کلام الٰہی ٹھہر جاوے تو ان لوگوں کو اس کی پابندی میں پھر کیا عذر ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی مثال مینہ کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے۔ 1 ؎ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے جن لوگوں کی قسمت میں ہدایت لکھی تھی ان کے دل پر قرآن نے ایسا ہی اثر کیا جیسا اثر اچھی زمین میں مینہ کے پانی کا ہوتا ہے اور جو لوگ علم الٰہی میں ہدایت سے محروم قرار پاچکے تھے قرآن کی نصیحت ان کے حق میں ایسی ہی رائیگاں گئی جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے اور اس طرح کے لوگ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کے مرتے دم تک ایسے ہی منکر رہے جس طرح کے انکار کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 18۔ باب فضل من علم و علم
Ayah 11:1515۔ انس بن مالک ؓ اور حسن بصری کی روایت سے اگرچہ یہ آیت کافروں کی شان میں نازل ہوئی ہے لیکن مجاہد بن جبیر نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے یہ کہا ہے کہ آیت کا حکم ریا کاروں کو بھی شامل ہے اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہیں کہ کافر اور منافق یا مسلمان ریا کار جو کچھ عمل نیک دنیا میں کرتے ہیں اس کا بدلہ ان کو یہیں دنیا میں مل جاوے گا اور آخر میں ان کو بلا عمل جانا اور عذاب بھگتنا پڑے گا۔ مجاہد نے تیس دفعہ سارا قرآن حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے تفسیر سیکھنے کی غرض سے پڑہا اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا جو مرتبہ تفسیر کے باب میں ہے وہ کئی جگہ اوپر بیان ہوچکا ہے اس واسطے مجاہد کا قول جو اس آیت کی تفسیر اور شان نزول ہے وہ زیادہ معتبر ہے بلکہ سفیان ثوری نے تو یہاں تک کہا ہے کہ تفسیر کے باب میں جب مجاہد کا قول آجاوے تو دوسرے کسی کی روایت کی پھر ضرورت نہیں اس واسطے امام بخاری نے بخاری کی کتاب التفسیر میں جس قدر مجاہد کے قول پر بھروسہ کیا ہے مجاہد کے ہم عصر اور لوگوں کی روایت پر نہیں کیا غرض بعضے مفسروں نے مجاہد کے قول کو اپنی تفسیروں میں ضعیف قول کی طرح جو نقل کیا ہے یا مجاہد کے قول کو نقل کر کے اس پر اعتراض جو کیا ہے وہ خود ایک ضعیف بات ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمان ریا کاروں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرماوے گا کہ جن لوگوں کے دکھانے کے لئے تم نے دنیا میں نیک کام کئے تھے وہی تم کو ان کاموں کا بدلہ دیویں گے 1 ؎ مطلب یہ ہے کہ بارگاہ الٰہی میں ایسے عمل بالکل بیکار ہیں اس حدیث سے مجاہد کی روایت کی پوری تائید ہوتی ہے اس لئے کہ جن لوگوں کا ذکر آیت میں ہے ان لوگوں کی شان میں آگے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کے نیک عمل بیکار ہیں حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ان لوگوں میں ریا کار مسلمان بھی داخل ہیں اور یہی مطلب مجاہد کی روایت کا ہے۔ اب دونوں آیتوں اور حدیث کو ملا کر حاصل مطلب یہ ہوا کہ کافر اور منافق تو عقبے کی سزا و جزا کے منکر ہیں اور مسلمان ریا کار اگرچہ عقبیٰ کی سزا و جزا کے قائل ہیں لیکن ان کے بعضے نیک عمل عقبیٰ کی جزا کے خیال سے نہیں بلکہ دنیا کے دکھاوے کے خیال سے ہوتے ہیں اس لئے کافر اور منافقوں کے سب نیک عمل اور ریا کار مسلمانوں کے فقط دنیا کے دکھاوے کے عمل عقبیٰ کی جزا کے حساب سے یہ سب بیکار ہیں منافقوں سے مقصود یہاں اعتقادی منافق ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظاہری مسلمان اور باطنی کافر تھے۔ عملی منافق مثلاً نماز میں سستی کرنے والے یا لڑائی جھگڑے کے وقت گالی منہ سے نکالنے والے آیتوں کے حکم میں داخل نہیں ہیں۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 456 باب الریاء والسمعۃ۔
Ayah 11:1616۔ اس سے اوپر کی آیت میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ جو لوگ فقط دنیا کی عزت اور زینت کے لئے عمل کرتے ہیں ان کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں مل جاتا ہے انہیں کی شان میں یہ آیت اتری ہے جس میں فرمایا ہے کہ ان کے عمل کا بدلہ دنیا میں ہی مل جاوے گا باقی رہی آخرت تو وہاں ان کا کچھ حصہ نہیں ہے اگر ہے تو دوزخ ہے اور جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا ہے وہ سب مٹ جائے گا اور جتنے عمل ان کے ہیں وہ سب بیکار ہیں کیوں کہ ان کا ارادہ اس عمل سے طلب دنیا کا تھا آخرت کے واسطے انہوں نے کچھ نہیں کیا تھا جو وہاں بھی جزا کے سزا وار ہوں۔ اعتقادی منافقوں کے حال میں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابن عمر ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا منافقوں کا حال دو ریوڑوں میں بہکی ہوئی بکری کا سا ہے کہ کبھی ادھر اور کبھی ادھر 1 ؎ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ لوگ ظاہری مسلمان ہیں اور کافروں میں پورے کافر یہ حدیث اور محمود بن لبید ؓ کی اوپر کی حدیث اس آیت کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ کافر اور منافقوں کے عقبیٰ کے انکار اور ریا کار مسلمانوں کے دنیا کے دکھاوے کے عمل عقبیٰ کی جزا کے حساب سے یہ سب بیکار ہیں۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 17 باب الکبائر و علامات النفاق۔
Ayah 11:1717۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور منافقوں اور ریاکاروں کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں خالص مسلمانوں کا ذکر فرمایا ہے۔ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ جن لوگوں نے کفر و نفاق اور ریا کاری کے سبب سے دنیا کی بہبود پر اپنا بھروسہ رکھ کر کفر و نفاق کے سبب سے آخرت کا انکار کیا ہے یا ریاکاری کے سبب سے آخرت کے اجر کو کھو دیا ہے جن لوگوں کا ذکر اس آیت میں ہے وہ لوگ ویسے نہیں جو فطرت سلیمہ پر پیدا ہو کر اس فطرت سلیمہ کے پیچھے پیچھے انبیاء اور آسمانی کتابیں اس فطرت سلیمہ کی صداقت کے طور پر جو کچھ آیا اس کو وہ پورا پورا مانتے ہیں یہ لوگ نہ کافروں اور منافقوں کی طرح آخرت کے منکر ہیں نہ ریا کاروں کی طرح ان کے نیک عمل دنیا کے دکھاوے کے لئے ہیں بلکہ جو کچھ کرتے ہیں ثواب آخرت کی نیت سے خالص اللہ کے لئے کرتے ہیں اس لئے ان کے نیک عملوں کا پورا اجر عقبیٰ میں ملے گا۔ بعضے مفسروں کا قول ہے کہ اس آیت میں شاہد کا جو ذکر ہے اس سے مراد حضرت علی ؓ ہیں مگر یہ قول درجہ صحت کو نہیں پہنچتا۔ حافظ ابن کثیر نے اس قول کو ضعیف قرار دیا ہے۔ 1 ؎ فطرت سلیمہ سے مراد وہی پیدائش کے پہلے کی توحید ہے جس پر ہر ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جس کا اقرار میثاق کے روز سب روحوں سے لیا گیا ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں صحیح مسلم اور سنن میں اور صحابہ کی روایتوں میں 2 ؎ اسی فطرت سلیمہ کا ذکر ہے حاصل ان سب روایتوں کا یہ ہے کہ جب تک بچہ بولنا سیکھتا ہے اس وقت تک اسی میثاق والی توحید پر پیدا ہو کر قائم رہتا ہے پھر ہوشیار ہونے کے بعد جس طرح کے ماں باپ ہوتے ہیں ان میں مل جاتا ہے غرض بعضے لوگ ایسے ہیں کہ دنیا میں شریعت کی نصیحت نیک صحبت سے ان کی وہ میثاق توحید اور مضبوط ہوجاتی ہے اور بعضے دنیا میں آنے کے بعد کفرو نفاق و ریاکاری کے سبب سے اس میثاق توحید کو برباد کردیتے ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے گروہ کی تعریف اور دوسرے گروہ کی مذمت فرمائی ہے پہلے گروہ کا ذکر اس آیت میں ہے اور دوسرے گروہ کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ وہ لوگ قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانتے اور عقبیٰ کی سزا و جزا کا ان کے دل میں یقین نہیں ہے فقط دنیا کی زندگی پر ان کا دارو مدار ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ بینۃ کے معنے یہاں میثاق اور پیدائش توحید اور پیدائشی نور ایمان کے ہیں اور ویتلوہ شاھد منہ کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں میثاقی اور پیدائشی توحید اور پیدائشی نور ایمان ہے اس نے اللہ کے رسولوں اور آسمانی کتابوں کی پوری تصدیق کی اور جس شخص کے دل میں میثاق اور پیدائشی توحید اور پیدائشی نور ایمان نہیں ہے وہ ان باتوں کا منکر ہے۔ پیدائشی توحید کی روایتوں کا ذکر تو اوپر گزر چکا ہے رہی میثاق توحید اس میثاق توحید کے باب میں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ایک حدیث تو انس بن مالک ؓ کی گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کم سے کم عذاب والے دوزخی سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ اے شخص اگر تیرے پاس اس وقت تمام دنیا کی دولت ہو تو اس کو بدلہ میں دے کر اس عذاب سے نجات حاصل کرنے کی آرزو کرے گا وہ کہوے گا کہ ہاں اس پر اللہ تعالیٰ فرمادے گا کہ جس وقت تو آدم کی پیٹھ میں نطفہ تھا اسی وقت میں نے تجھ سے توحید کا عہد لیا تھا لیکن دنیا میں پیدا ہونے کے بعد اس عہد پر تو قائم نہیں رہا پھر آج اس بدلہ دینے کی آرزو اور تمنا سے کیا ہوسکتا ہے 3 ؎ دوسری حدیث ابی بن کعب ؓ کی معتبر روایت سے مسند امام احمد میں ہے کہ عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بندوں سے توحید کا عہد لیا تھا اور پھر فرمایا کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد رسول اور آسمانی کتابیں بھیج کر میں تمہیں یہ عہد یاد دلاؤں گا پیدائشی نور ایمان سے مقصود وہی عالم ارواح کا نور ہے جس کا ذکر عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی روایت سے ترمذی مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب عالم ارواح میں سب مخلوق کو پیدا کیا تو ساری مخلوق جہالت اور خواہشات نفسانی کے اندھیرے میں تھی پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک نور چھڑکا اس نور کے چھڑکنے سے جو لوگ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد راہ راست پر آنے والے تھے ان کے دل میں وہ نور سما گیا اور جو لوگ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد گمراہ رہنے والے تھے وہ اس نور سے محروم رہ گئے۔ 4 ؎ ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ 5 ؎ مسند امام احمد کے راوی بھی معتبر ہیں اوپر یہ جو بیان کیا گیا کہ بینۃ کے معنے پیدائش توحید کے اور پیدائشی نور ایمان کے ہیں اور رسولوں کا آسمانی کتابوں کا لیکر آنا اس توحید اور نور ایمان کی تائید ہے ان حدیثوں سے اس کی پوری تائید ہوتی ہے کیوں کہ جو مطلب اوپر کی تفسیر کا ہے وہی مطلب ان حدیثوں کا ہے کہ عالم ارواح میں مخلوقات کو پیدا کر کے پہلے وہ نور چھڑکاؤ اور پھر توحید کا عہد لیا اور یہ فرمایا کہ اسی کی یاد دہی کے لئے اللہ کے رسول آسمانی کتابیں لے کر دنیا میں آویں گے اور پھر دنیا میں اس عہد کے موافق ہر ایک کو فطرت اسلامی پر پیدا کیا اور کتابیں دے کر رسول بھیجے تورات اور قرآن میں شرعی احکام بہت تفصیل سے ہیں اس واسطے ان آیتوں میں ان ہی دونوں کتابوں کا نام فرمایا اب آگے فرمایا کہ فرقہ اہل کتاب یا مشرکین میں سے جو شخص اس قرآن یا کسی اور کتاب آسمانی یا اللہ کے کسی رسول کا منکر ہوگا اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور اپنے رسولوں کو مخاطب کر کے یہ بھی فرمایا کہ اوپر کی وجوہات کے موافق اگرچہ اس قرآن کے کتاب آسمانی ہونے میں کسی کو شک و شبہ کرنے کا موقع نہیں ہے لیکن ازلی گمراہی کے سبب سے بہت لوگ اس کے منکر ہیں اب آگے ان بےانصاف لوگوں کا ذکر فرمایا جو اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور اتنا انصاف نہیں کرتے کہ جب اللہ نے ان کو ان کی ضرورت کی سب چیزوں کو پیدا کیا تو پھر دوسروں کو اللہ کی معیت میں شریک ٹھہرانے کا کیا حق ہے ان لوگوں کے حق میں یہ بھی فرمایا کہ انہیں قیامت کے دن اللہ کے روبرو اپنے جرم کی جواب دہی کے لئے کھڑا ہونا پڑے گا اور اللہ کے فرشتے ان کے اعمال کی گواہی ادا کر کے اللہ کی لعنت کے قابل ان کو ٹھہرا دیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے دور رہنے کے لائق ہیں جس طرح لفظ صاحب کی جمع اصحاب ہے ویسے ہی شاہد کی جمع اشہاد گواہوں کے معنے میں ہے۔ مجاہد اور اکثر سلف کے قول کے موافق یہ فرشتوں کی گواہی کا ذکر ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کافر اور منافقوں کو رسوا کرنے کے لئے اللہ کے فرشتوں کی زبان پر تقسیم اعمال نامہ کے وقت آخری آیت کا یہ ٹکڑا ہوگا۔ { ھؤلاء الذین کذبوا علی ربھم الا لعنۃ اللّٰہ علی الظالمین } اس حدیث سے مجاہد اور سلف کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔
1 ؎ اور کہا ہے کہ اس کا کوئی قائل نہیں… ص 440 ج 2۔
2 ؎ ان تمام روایتوں کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 440 ج۔
3 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صفۃ النار واہلہا۔
4 ؎ مشکوٰۃ ص 22 باب الایمان بالقدر۔
5 ؎ شقیح الرداۃ ص 26 ج 1۔
Ayah 11:1818۔ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث ہے اس میں اس آیت کی تفسیر اور شان نزول آنحضرت ﷺ نے اس طرح فرمائی ہے کہ میدان محشر میں نامہ اعمال بٹنے سے پہلے اللہ تعالیٰ بعضے مسلمان گنہگاروں کو اپنے بہت ہی پاس بلا کر ایسے ہر ایک شخص کے گناہ اس کو یاد دلاوے گا جب وہ مسلمان گنہگار اپنے ہر ایک گناہ کا اقرار کرے گا اور دل میں جان لیوے گا کہ اب میں دوزخ کو بھیجا جاؤں گا اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے فرماوے گا کہ دنیا میں میں نے تیرے یہ گناہ چھپائے اور لوگوں سے تیری عیب پوشی کی آج بھی تیرے گناہ چھپاتا ہوں یہ کہہ کر اس شخص کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دینے کا حکم فرمادے گا اور یہ لوگ بعد حساب و کتاب کے جنت میں چلے جاویں گے اور کافروں اور منافقوں کو حساب سے پہلے ہی فرشتے اور نیک اہل محشر پکار پکار کر کہویں گے ان پر خدا کی لعنت ہے یہی لوگ ہیں جو خدا اور رسول اور خدا کے حکموں اور آج کے دن کو جھٹلاتے تھے 1 ؎ اسی میدان محشر کے فرشتوں کی شہادت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے چناچہ اس کا ذکر اوپر بھی گزر چکا ہے غرض ان لوگوں کا نامہ اعمال الٹے ہاتھ میں دیا جاوے گا اور حساب و کتاب کے بعد یہ لوگ دوزخ چلے جاویں گے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 441 ج 2۔
Ayahs 11:19–2219۔ 22۔ یہ آیتیں انہیں لوگوں کی شان میں ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوچکا ہے کہ وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں قیامت کے دن سارے جن و انس اور ملائکہ کے روبرو رسوا ہوں گے اور ہر طرف سے یہی پکار ہوگی کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا یہ بڑے ظالم ہیں لعنت ہو ان پر اب فرمایا کہ آپ تو یہ لوگ گمراہ ہیں لیکن اوروں کو بھی دین حق میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح دوسرے بھی گمراہ ہوجائیں یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد پھر کیسا جینا پھر فرمایا یہ لوگ دنیا میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر خدا ان پر عذاب کا ارادہ کرے تو یہ لوگ کہیں بھاگ کر نہیں جاسکتے اور نہ اس کی پکڑے سے بچ سکتے ہیں کیونکہ خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جو ان کا حمایتی بن کر ان کو عذاب سے بچالے خدا ان سے ہر حال میں بدلہ لے سکتا ہے مگر اس نے یہ بدلہ آخرت کے دن پر اٹھا رکھا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جل شانہ ظالموں کو جب تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے اور جب پکڑ لیتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ 1 ؎ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کے واسطے دگنا عذاب ہے کیونکہ کان آنکھ ان کو اسی واسطے دئیے تھے کہ دیکھ کر اور سن کر سمجھیں بوجھیں اور قدرت کی نشانیوں کو مانیں مگر یہ تو اندھے اور بہرے بن گئے حق بات کی پیروی نہیں کرتے اس پر طرہ یہ کہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ گمراہ کرتے ہیں راہ حق سے بھٹکاتے ہیں ان لوگوں نے اپنا بڑا نقصان کیا فرمایا اس نقصان کے وقت ان کے وہ جھوٹے معبود کچھ کام نہ آئیں گے سب لا پتہ ہوں گے۔
1 ؎ مستدرک حاکم ص 546 ج 2 ذکر نوح النبی ﷺ ۔
Ayahs 11:23–2423 ۔ 24 ۔ اوپر کی آیتوں میں بدبختوں کا حال بیان فرما کر اب ان آیتوں میں نیک بخت اور سعادت مندوں کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں نے اچھے اچھے عمل کئے اور ہر ایک حکم کو خدا کے بجا لائے اور جن چیزوں سے ان کو منع کیا تھا ان سے باز رہے ان کے واسطے خدا نے جنت مقرر کی ہے جس میں طرح طرح کی نعمتیں اور انواع و اقسام کے کھانے اور ہر ایک طرح کے آرام و راحت کا سامان ہے وہ اس میں رہیں گے۔ وہاں پھر نہ موت آئے گی نہ نیند پسینے تک سے مشک کی خوشبو آئے گی۔ وہاں نہ بوڑھے ہوں گے نہ بیمار پھر اللہ نے ان کفار اور ان مومن بندوں کے درمیان میں فرق بیان کیا کہ وہ کفار ایسے ہیں جیسے اندھے اور بہرے کہ ان کو بھلائی کا رستہ نہیں سوجھتا اور نہ سچی سچی باتیں سنتے ہیں اور یہ مومن بندے ایسے ہیں جیسے سننے دیکھنے والا کہ ہر ایک بات کو سنتے اور دیکھتے ہیں اور حق و ناحق میں فرق کرتے ہیں اس لئے ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے کہ یہ فرق سمجھنے اور عبرت پکڑنے کے قابل ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس ؓ کی ایک معتبر روایت گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقل مند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے بعد کا کچھ سامان کرلیوے اور عقل سے بےبہرہ وہ شخص ہے جو عمر بھر اس سے غافل رہے اور پھر عقبیٰ کی بہبودی کی توقع اللہ سے رکھے۔ 1 ؎ ان آیتوں میں فرمانبردار نافرمان بردار گروہ کی یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ فرمانبردار گروہ ایک ہوشیار آنکھ کان سے کام لینے والے شخص کی مانند ہے اور نافرمان گروہ ایک بیوقوف آنکھ کان سے بخبر شخص کی مانند ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 732 ج 2 تفسیر سورة نوح۔
Ayahs 11:25–2625۔ 26۔ مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت ہوئی اور طوفان سے پہلے ساڑھے نو سو برس اپنی قوم کو وہ نصیحت کرتے رہے اور ساٹھ برس طوفان کے بعد پھر زندہ رہے اس حساب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس برس کے قریب ہوئی حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے 1 ؎ صاحب شریعت انبیاء کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے پہلے تک کے لوگوں میں بت پرستی نہیں تھی۔ شیطان کے بہکانے سے پہلے اس قوم نے بت پرستی دنیا میں شروع کی جس کی تفصیل صحیح بخاری کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ سے سورة نوح میں آوے گی غرض حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک کے انبیاء اور ان کی قوم کا قصہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرما کر آخر کو { وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القریٰ (1: 102)} فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عادت الٰہی یہ ہے کہ پہلے لوگوں کے راہ پر لانے اور سمجھانے کو انبیاء بھیجے جاتے ہیں آسمان سے ہر طرح کی فہمائش کے احکام اتارے جاتے ہیں قوم کے جاہل لوگ نبی وقت کو جھٹلائیں یا کچھ تکلیف دیں تو نبی کو صبر کرنے اور تکلیف سہنے کا حکم ہوتا ہے قحط بیماری جانی ومالی نقصان پہلے دنیا کے ان چھوٹے چھوٹے خاص عذابوں سے قوم کی تنبیہ کی جاتی اور سرکشی دور کی جاتی ہے اس پر اگر لوگ نہ مانیں تو عام عذاب پھیل کر سب ہلاک ہوجاتے ہیں۔ الغرض تاریخی پچھلے کسی حال سے آئندہ کا کوئی معاملہ ثابت کرنا یہ ایک بہت عمدہ طریقہ ہے مثلاً شاہجہان بادشاہ کے عہد میں کسی شخص کا یہ کہنا کہ جس طرح اب وزیروں میں پھوٹ پڑگئی ہے اسی طرح کی پھوٹ اکبر بادشاہ کے عہد میں تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کی پھوٹ سے اکبر کی بادشاہت میں بڑی خرابی پھیلی تھی اس مقولے سے اس کہنے والے کا یہ مطلب ہے کہ تاریخی تجربہ کے قرینہ سے اس زمانہ حال کی پھوٹ کا نتیجہ بھی آئندہ ملک کی خرابی کا وہی ہوگا جو اکبر کے زمانہ میں ہوا اس تاریخی ثبوت کے ڈھنگ پر جگہ جگہ قرآن شریف میں پچھلے انبیاء اور گزشتہ امتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ظاہر میں ان قصوں کا ذکر کیا جانا خیال میں آتا ہے لیکن حقیقت میں اس سے ایک معاملہ گزشتہ کو معاملہ حال سے مطابقت کی جا کر آئندہ کا نتیجہ لوگوں کی سمجھ میں آنا مقصود ہوتا ہے یہاں آئندہ کا نتیجہ یہی مقصود ہے کہ نبی ﷺ کو یہ تشفی اور تسلی دی گئی ہے کہ اے نبی برحق تم دل جمعی رکھو اگر یہ قریش باوجود فہمائش کے تمہاری نصیحت نہ مانیں گے تو جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر فرعون کی قوم تک انجام ہوا چند روز میں وہی انجام ان کا ہوگا چناچہ { وکلا نقص علیک من انباء الرسل ما نثبت بہ فوادک (11: 120)} سے اس دلجمعی کی طرف اشارہ ہے اور قریش کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر باوجود فہمائش کے تم اپنی سرکشی سے باز نہ آؤ گے تو پچھلی قوموں کی طرح ہلاک کر دئیے جاؤ گے { وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وھی ظالمۃ (11: 102)} سے اسی کی طرف اشارہ ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ نصیحت کی کہ اگر تم لوگ بت پرستی سے باز نہ آؤ گے تو تم پر عذاب کے آجانے کا خوف ہے۔ اس لئے تم لوگوں کو چاہیے کہ بت پرستی کو چھوڑو اور جس اللہ نے تم کو پیدا کیا ہے خالص دل سے اسی کی عبادت کرو۔ { نذیر مبین } کا یہ مطلب ہے کہ بت پرستی اللہ کو بہت ناپسند ہے اس لئے صاف لفظوں میں اس کے وبال سے تم لوگوں کو ڈرا دینا میرا کام ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو انجانی کے عذر کا رفع کردینا بہت پسند ہے۔ اسی واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے تاکہ لوگوں کو اللہ کی مرضی اور نامرضی کی باتیں معلوم ہوجاویں اور کسی کو ان باتوں کی انجانی کا عذر باقی نہ رہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت بھی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا نماز روزہ حلال و حرام کے احکام ضرورت کے موافق ہر ایک صاحب شریعت نبی کے زمانہ میں بدلتے رہتے ہیں 2 ؎ اور اسی کو ہر ایک نبی کی شریعت کہتے ہیں مگر توحید جو اصل دین ہے اس سے کوئی شریعت خالی نہیں رہی ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ احکام دین کی انجانی کے سبب سے دنیا میں جب سے شرک پھیلا اس کے رفع کرنے کے لئے اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لے کر خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ تک اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے اور ہر ایک شریعت میں توحید کی تاکید قائم رکھی اور ہر ایک نبی نے عمر بھر اس تاکید کو ہر طرح پورا کیا لیکن عمل الٰہی میں جن لوگوں کا شرک کی حالت میں مرنا ٹھہر چکا تھا ان کے دل پر انبیاء کی نصیحت کا پورا اثر نہ ہوا کیونکہ بعضے نبی ایسے بھی گزرے ہیں جن کی تمام عمر کی کوشش میں فقط ایک ہی شخص راہ راست پر آیا۔ چناچہ صحیح مسلم کی انس بن مالک ؓ کی روایت میں اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے دن بعضے نبیوں کے ساتھ فقط ایک شخص فرمانبردار ہوگا اور باقی امت نافرمان 3 ؎ ہوگی صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزرچکی ہے کہ بہ نسبت اور امتوں کے امت محمدیہ کی تعداد قیامت کے دن زیادہ ہوگی اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ قرآن کا ایک ایسا معجزہ ہے کہ قیامت کے دن اس کے پیرو اور آسمانی کتابوں کے پیروی کرنے والوں سے زیادہ ہوں گے۔ 4 ؎
1 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 261۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 509 باب بدء الخلق و ذکر الانبیاء الخ۔
3 ؎ صحیح مسلم ص 112 ج 1 باب اثبات الشفاعۃ واخراج الموحدین من النار و صحیح مسلم ص 86 ج 1 باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا ﷺ الخ۔
4 ؎ صحیح بخاری ص 744 ج 2 باب کیف نزول الوحی۔