11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تو انکی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں۔ اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں اور وہ بھی رائے ظاہرے سے (نہ غور وتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

27۔ یہ جواب نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اس وقت دیا کہ جب نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ سوائے خدا کے اور کسی کی عبادت نہ کرو نہیں تو تم پر ایک بہت بڑا عذاب نازل ہونے کا خوف ہے اس پر ان کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ جیسے ہم انسان ہیں تم بھی انسان ہو پھر تم پر وحی آئی اور ہم پر نہ آئی یہ کیا بات ہے علاوہ اس کے جو لوگ تمہارے تابع ہوئے ہیں وہ سب کے سب ذلیل ہیں کوئی بھی ان میں شریف نہیں اور یہ ایمان بھی لائے تو کچھ سوچ سمجھ کر نہیں لائے کیوں کہ ان کو عقل ہی کب ہے اس لئے فقط ان لوگوں کے ایمان لانے سے کوئی فضیلت تم کو نہیں ہوسکتی تیسری بات یہ کہی کہ تم کو ہم اپنے سے بڑھ کر نہیں دیکھتے ہم سے زیادہ عزت دار نہیں ہو نہ مال و دولت میں نہ جاہ و مرتبہ میں اس لئے ہم تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں شیطان نے منکر قوموں کے دل میں یہ وسوسہ قدیم سے ڈال رکھا ہے کہ اللہ کا رسول فرشتہ ہونا چاہیے انسان تو سب ایک سے ہیں پھر یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ ایک انسان اللہ کا رسول ہو اور دوسرا نہ ہو یہی شبہ قوم عاد اور ثمود کو بھی تھا کہ اللہ کا رسول انسان کیوں کر ہوسکتا ہے چناچہ ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کے قصہ میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ مشرکین مکہ اس شبہ کے ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ محمد ﷺ کے نبی ہونے کی صداقت ایک فرشتہ ہمارے روبرو بیان کرے۔ سورة انعام میں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے وہ گزر چکا کہ فرشتہ کو اصلی صورت میں دیکھنا تو انسانی قوت سے باہر ہے پھر اگر انسان کی صورت میں فرشتہ آوے گا تو ان لوگوں کا یہی شبہ باقی رہے گا ان لوگوں کا ایک یہ شبہ بھی قدیمی ہے کہ اگر انسان نبی ہو تو کوئی مالدار شخص ہونا چاہیے تاکہ اس کی قدرو منزلت کے سبب سے لوگ اس کا کہنا مانیں سورة زخرف میں اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ جس طرح اللہ نے اپنی حکمت کے موافق کسی کو غریب کسی کو مالدار کیا ہے اسی طرح اپنی مصلحت کے موافق جس کو چاہا اپنا رسول بنایا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کا حال ان لوگوں سے زیادہ معلوم ہے ان لوگوں کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے معتبر سند سے تفسیر ابن ابی الدنیا وغیرہ میں عبد اللہ بن عمر ؓ کا حال ان لوگوں سے زیادہ معلوم ہے ان لوگوں کو اس میں کچھ دخل نہیں معتبر سند سے تفسیر ابن ابی الدنیا وغیرہ میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ مالدار آدمی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیسا بھی عزیز ہو لیکن دنیا کے عیش و آرام کے معاوضہ میں کچھ نہ کچھ اس کا درجہ عقبیٰ میں ضرور گھٹ جاوے گا۔ 1 ؎ اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی میں مالدار لوگوں کو اس لئے نبی نہیں ٹھہرایا کہ نبوت درجہ بڑہنے کی چیز ہے اور مالدار اس کے برعکس ہے صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ہرقل بادشاہ روم کا جو قصہ ہے اس میں یہ ہے کہ ہرقل نے ابو سفیان ؓ سے آنحضرت ﷺ کا حال پوچھتے پوچھتے یہ بھی پوچھا کہ ان نبی کے پیرو مالدار لوگ ہیں یا غریب ابو سفیان ؓ نے جواب دیا کہ غریب اس پر ہرقل نے کہا کہ انبیاء کے پیرو قدیم سے غریب ہوتے چلے آئے ہیں 2 ؎ ہرقل کے اس قول کا یہ مطلب ہے کہ مالدار لوگ اپنے مال و متاع کے غرور میں نبی کی نصیحت کم سنتے ہیں اس لئے انبیاء کے پیرو اکثر غریب ہوتے چلے آئے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) کے پیرو غریب لوگ جو تھے اس کا سبب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ 1 ؎ الترغیب ص 235 ج 2 باب الترغیب فی الزھد فی الدینا الخ۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 525۔ 526 باب علامات النبوۃ۔
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں ؟ اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو۔

28۔ یہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے جواب میں کہا کہ جو دین میں خدا کی طرف سے لایا ہوں اور جس بات کی تمہیں ہدایت کرتا ہوں تم پر اس کا قبول کرنا واجب ہے اور جو تم نے جواب دئیے ہیں کوئی بھی ٹھیک نہیں انسان ہونے میں بیشک ہم تم برابر ہیں مگر انسان ہونا نبوت کے مخالف نہیں اور نہ یہ ضرور ہے کہ سب کے سب جتنے انسان ہیں نبی ہوجائیں یہ تو خدا کا فضل ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجتا ہے اگر تم میں اس کی قابلیت اور صلاحیت ہوتی تو ممکن تھا کہ تم بھی رسول بنادئیے جاتے اور رذیلوں کے ایمان لانے سے بھی میری نبوت پر کچھ الزام نہیں آتا کیونکہ تمہاری طرح یہ بھی بشر ہیں ان کو بھی تمہاری طرح عقل و فہم ہے ان کا تابع ہونا میرے لئے حجت ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ دیکھو تم ہی لوگوں میں سے یہ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے ہیں تم کیوں کر ان کے ایمان لانے سے مجھ پر الزام لگا سکتے ہو تمہاری تو بعینہ وہ مثال ہے کہ کوئی گروہ صحرا میں بھٹکتا پھرتا ہو اور اپنے رہبر کا کہنا نہ مانتا ہو وہ گروہ راستہ پر نہیں آسکتا اسی طرح جب تم مجھے جھٹلاتے ہو اور دین حق کے قبول کرنے سے بیزار ہو تو میں زبردستی تم کو راستہ پر نہیں لاسکتا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جو گمراہ ٹھہر چکا اس کو زبردستی کون راہ راست پر لاسکتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی روایت ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا علم الٰہی کے موافق جو شخص جنت میں جانے کے قابل ٹھہرا ہے وہ ویسے ہی عمل کرتا ہے اور ویسے ہی کاموں کے کرنے میں اس کو آسانی نظر آتی ہے اور جو شخص دوزخ میں جانے کے قابل ٹھہرا ہے وہ ویسے ہی عمل کرتا ہے اور ویسے ہی کاموں کے کرنے میں اس کو آسانی نظر آتی ہے 1 ؎ نوح (علیہ السلام) کے جواب کا یہ مطلب اس حدیث سے خوب حل ہوجاتا ہے کہ علم الٰہی کے موافق نبوت معجزہ سب چیز کی صداقت جن لوگوں کی نظر سے اس طرح چھپی ہوئی ہے کہ وہ ان حق باتوں کے قبول کرنے سے بیزار رہیں اور یہی بیزاری ان کو آسان اور حق باتوں کی صداقت مشکل نظر آتی ہے تو ایسے لوگوں کو دوزخ کے راستہ سے پھیر کر جنت کے راستہ پر زبردستی کوئی نہیں لاسکتا آگے جا کر نوح (علیہ السلام) نے ان لفظوں میں جو جواب دیا ہے۔ { لا ینفعکم نصحی ان اردت ان انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویکم (11، 34)} یہ دوسرا جواب گویا پہلے خواب کی تفسیر ہے اور اس دوسرے جواب اور حضرت علی ؓ کی حدیث کو ملا کر پہلے جواب کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 738 تفسیر سورة واللیل اذا یشی۔
Ayah 11:29

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے قوم ! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں۔ میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انکو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو۔

29۔ پھر نوح (علیہ السلام) نے اس بات کی تفصیل بیان کی کہ میں جو لوگوں کو راہ حق بتلاتا ہوں اور خدا کا پیغام پہنچاتا ہوں اس سے میرا منشأ یہ نہیں ہے کہ کوئی مجھے اس کی اجرت میں مال و دولت دے یہ نبوت کا دعویٰ ہرگز طلب دنیا کے لئے نہیں ہے جو تم کوئی تہمت مجھ پر دھر سکو گے یہ تو خالص خدا کے واسطے ہے۔ اس کا اجر بھی خدا ہی دے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء پر یہ بات فرض ہے کہ وہ خالص دل کی نصیحت کے طور پر احکام الٰہی امت کے لوگوں کو پہنچا دیں۔ اب انبیاء اس نصیحت کے معاوضہ میں اگر امت کے لوگوں سے کچھ اجرت اور مزدوری لیویں تو وہ خالص دلی کی نصیحت کا موقع باقی نہیں رہتا اس واسطے وعظ و نصیحت کے معاوضہ میں انبیاء کو کسی اجرت یا مزدوری کا لینا جائز نہیں ہے رہی یہ بات کہ امت کے علماء انبیاء کے وارث بن کر لوگوں کو قرآن کے موافق کچھ وعظ و نصیحت کریں یا قرآن پڑھاویں تو ان کی اجرت کا کیا حکم ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک قرآن کی تعلیم کے معاوضہ میں کسی اجرت کا لینا جائز نہیں ہے۔ ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ابی بن کعب ؓ اور عبادہ بن الصامت ؓ کی جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبادہ بن الصامت ؓ اور ابی بن کعب ؓ نے کچھ لوگوں کو قرآن کی سورتیں سکھائیں ان لوگوں نے اپنے ان استادوں کو کچھ تحفہ دیا آنحضرت ﷺ کے روبرو جب اس تحفہ کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ تحفہ قیامت کے دن تحفہ لینے والے کے حق میں دوزخ کی آگ بن جاوے گا 1 ؎ اس حدیث سے امام ابوحنیفہ (رح) کے اور امام احمد (رح) کے مذہب کی پوری تائید ہوتی ہے جو علماء اس اجرت کے جائز ہونے کے قائل ہیں انہوں نے اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں کا طرح طرح سے جواب دیا ہے جس کی تفصیل حدیث کی شرح اور فقہ کی کتابوں میں ہے۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 58 باب الاجارہ و شقیح الرواۃ ص 196 ج 2۔
Ayah 11:30

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور برادران ملت اگر میں انکو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لئے) کون میری مدد کرسکتا ہے ؟ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

30۔ جس طرح نوح (علیہ السلام) کے قوم کے مالدار لوگوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے یہ جھگڑا کیا کہ اے نوح (علیہ السلام) اگر تم ان کم عزت اور مفلس لوگوں کو اپنی مجلس میں آنے سے روک دو گے تو ہم مالدار اور عزت دار لوگ کبھی کسی وقت تمہاری مجلس میں آکر کچھ تمہاری نصیحت سنیں گے اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو جواب دیا جس جواب کا ذکر اس آیت میں ہے سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ قریش میں عزت دار اور مالدار لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے بھی یہی خواہش کو پورا کرنے سے منع فرمایا حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر قیامت تک آخر شیطان تو ایک ہی ہے جو ہر زمانہ کے لوگوں کو بہکاتا ہے اس واسطے ہر ایک زمانہ کے لوگوں کے دلوں میں اس ظالم نے ایک ہی طرح کے وسوسے ڈالے ہیں اور ہر وقت کے منکر لوگوں نے ہر زمانہ کے رسول سے ایک ہی طرح کے ملتے جلتے جھگڑے کئے ہیں اور ایک مدت دراز سے ان جھگڑوں کا رواج ہر زمانہ کے منکر لوگوں میں چلا آیا ہے لیکن خواہ کسی قدر مدت دراز کا رواج ہو شریعت الٰہی میں بغیر حکم الٰہی اور سند شرعی کے کوئی رواج معتبر نہیں ہے اس لئے ہر زمانہ کی شریعت نے اس رواج کو نامعتبر ٹھہرایا اور توڑا یہ رواج تو اللہ کے رسولوں سے جھگڑا کرنے کا ایک بدعات کا رواج تھا۔ ظاہر میں اگر کوئی بات نیک معلوم ہوتی ہو اور سند شرعی سے اس بات کی تائید نہ ہوتی ہو تو اس طرح کی نیک بات کا رواج بھی شریعت میں جائز نہیں ہے۔ صحیحین کی حضرت انس ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے صحابیوں نے خلاف سنت ہمیشہ روزہ رکھنے اور بعضوں نے ہمیشہ مجرور رہنے کا عہد کیا تھا۔ آنحضرت ﷺ ان صحابہ پر خفا ہوئے اور فرمایا کہ جو شخص میری سنت کے خلاف کوئی کام کرے گا وہ میری پیروی کرنے والے گروہ سے خارج ہے۔ 1 ؎ { انھم ملاقوا ربھم ولکنی اراکم قوما تجھلون } اس کا مطلب یہ ہے کہ غریب دیندار لوگ ایک دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں اس لئے نیک عمل کرتے ہیں تم لوگ جاہل ہو جو ایسے لوگوں سے دوری ڈھونڈتے ہو آگے جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے مشرک لوگوں کو جواب دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ میں ان غریب دیندار لوگوں کو بلا قصور اپنی مجلس کے آنے سے روک دوں گا تو یہ بڑی نا انضافی ہے پھر تم ہی لوگ دھیان کرو کہ اگر اس ناانصافی کی پرسش اللہ کی طرف سے ہوگی تو میں کیا جواب دوں گا۔ سورة انعام میں اللہ تعالیٰ نے یہی ہدایت آنحضرت ﷺ کو فرمائی ہے۔ اگر تم ان مشرکوں کے کہنے سے غریب دیندار لوگوں کو اپنی مجلس کے آنے سے روک دو گے تو تم ناانصاف ٹھہرو گے اس سبب سے سورة انعام کی آیتیں نوح (علیہ السلام) کے اس جواب کی گویا تفسیر ہیں۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 27 باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دیگا جو انکے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں۔

31۔ اوپر کی آیت میں جو نوح (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا تھا کہ اپنے اوپر ہم تمہاری کوئی فضیلت نہیں دیکھتے اور تم ہم سے زیادہ عزت دار نہیں ہو یہ اسی کا جواب نوح (علیہ السلام) نے ان کو دیا کہ خدا کے خزانے میرے قبضہ میں نہیں اور نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں نہ کوئی فرشتہ ہوں جو تم میری فضیلت سمجھو میری فضیلت تو خدا کی طرف سے یہ ہے کہ اس نے مجھے معجزے عنایت کئے ہیں اور جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے تم ان کو ذلیل و خوار سمجھتے ہو اگر ان کا باطن ویسا ہی ہے جیسا ظاہر ہے تو چاہے کوئی کتنا ہی ان کو برا کہے حقیر سمجھے مگر خدا کے نزدیک ان کا بڑا مرتبہ ہے۔ خدا تو ان کے دل کی باتوں کو جانتا ہے آخرت میں اچھے سے اچھا ان کو بدلہ دے گا اور جو لوگ ان کو برا سمجھتے ہیں وہ بڑا ظلم کرتے ہیں بےسمجھے بوجھے ناحق ان کی برائی اور مذمت کرتے ہیں اور تمہارے کہنے سے اگر میں بھی ان کے ساتھ برا برتاؤ کروں اور اپنے پاس سے ان کو نکال دوں تو میں بھی ظالم ٹھہروں گا۔ { ولا اقول لکم عندی خزائن اللہ } کا تعلق { و یا قوم لآ اسئلکم علیہ مالا } سے ہے مطلب یہ ہے کہ احکام الٰہی پہنچا دینے پر نہ تو میں تم سے کچھ مزدوری مانگتا ہوں نہ میں تم کو یہ لالچ دیتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں تم میری پیروی کرو گے تو میں تم کو بہت کچھ دے کر نہال کر دوں گا۔ { ولا اعلم الغیب } اس کا مطلب یہ ہے کہ میں بھی نہیں کہتا کہ آئندہ کا تمہارا ہر طرح کا بھلا برا میرے ہاتھ میں ہے کیوں کہ آئندہ کی بھلائی برائی ایک غیب کی بات ہے جو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی دوسرے کو معلوم نہیں اس میں بتوں سے بھلائی برائی کی امید کی نوح (علیہ السلام) نے گویا جڑ کاٹی ہے۔{ ما نراک الا بشرا مثلنا (11: 27)} جو قوم نوح نے کہا تھا اس کا جواب نوح (علیہ السلام) نے یہ دیا کہ میں بھی اپنے آپ کو فرشتہ نہیں کہتا باقی آیت کا مطبلب انہی غریب دینداروں کے حق میں یہ ہے کہ ان کے دل کا حال تو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے لیکن ظاہر میں وہ دیندار ہیں اس لئے ان کے حق میں یہ غیب کی بات نہیں کہہ سکتا ہوں کہ ان لوگوں کی دینداری اوپر ہی ہے اس لئے بارگاہ الٰہی سے ان لوگوں کو کچھ بھلائی نہیں پہنچ سکتی کس لئے کہ اگر اٹکل سے میں ایسی بات کہوں گا تو یہ میری بےانصافی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا { ولکل امری مانوی } 1 ؎ مطلب یہ ہے کہ شرعی کاموں میں دل کا ارادہ اور نیت اصل ہے اوپر سے دل سے دنیا کے دکھاوے جو کام کیا جاوے گا وہ بیکار ہے اور جو خالص عقبیٰ کے ثواب کی نیت سے کیا جاوے گا وہ عقبی کے اجر کے قابل ہے مگر یہ دل کے ارادے اور نیت کا حال سوا اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو معلوم نہیں چناچہ طبرانی اور مسند بزار کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جب سر بمہر لوگوں کے اعمال نامے کھولے جاویں گے تو اللہ تعالیٰ ان میں سے بعضے عملوں کو نامقبول فرمائے گا اس پر فرشتے عرض کریں گے یا اللہ ظاہری طور پر تو ان عملوں میں کوئی خرابی معلوم نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ فرماوے گا انسان کے دل کا حال سوائے میرے اور کسی کو معلوم نہیں مجھ کو خوب معلوم ہے کہ یہ عمل خالص نیت سے نہیں کئے گئے۔ 2 ؎ نوح (علیہ السلام) کے جواب کے آخری ٹکڑے کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 2 ج 1 باب کیف کان بدء الوحی الخ۔ 2 ؎ تفسیر ہذا جلد سوم ص 75۔
Ayahs 11:32–34

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور جھگڑا بھی بہت کیا لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر نازل کرو۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ اس کو تو خدا ہی چاہے گا تو نازل کریگا۔ اور تم (اس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے۔

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیر خواہی کروں اور خدا یہ چاہے کہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیر خواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے۔ اور تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

32۔ 34۔ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے ہر ایک سوال کا پورا جواب پایا تو کہنے لگے کہ اے نوح ہم تم سے ہر طرح بحث کر کے تھک گئے کوئی حجت ہماری پیش نہ چلی اب لو جس عذاب کا تم ہم کو خوف دلاتے ہو اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب نازل کراؤ اس کا جواب نوح (علیہ السلام) نے دیا کہ یہ میرے بس کا کام نہیں ہے خدا کے ہاتھ ہے اگر وہ عذاب جلدی بھیجنا چاہے گا تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور اگر اس کی حکمت دیر کی مقتضی ہے تو دیر میں نازل ہوگا اگر تم چاہو کہ ہم بچ جائیں سو یہ بخیر ہے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ تم یا اور کوئی اس کو عاجز کر دے یا تم کہیں بھاگ کر چلے جاؤ اور بچ جاؤ اور میری نصیحت بھی تم کو کچھ فائدہ مند نہیں ہوسکتی میں ہزار چاہوں کہ تم کسی طرح ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں تمہاری گمراہی ٹھہر چکی ہو تو مجھ سے کچھ نہیں ہوسکتا وہ تمہارا رب ہے اسی نے تم کو پیدا کیا وہی تمہیں دنیا میں زندہ رکھتا ہے وہی تمہاری پرورش کرتا ہے اسی کے ہاتھ میں ہدایت اور گمراہی ہے اسی کی طرف تمہیں پھرجانا ہے وہاں تمہارے اعمال کا بہت اچھی طرح بدلہ ملے گا۔ سورت انفال میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ جب کسی حجت میں غالب نہ آسکے تو انہوں نے بھی عذاب کے آجانے کی خواہش کی نیت۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ ابو جہل نے یہ عذاب کی خواہش کی تھی۔ 1 ؎ اور سب مشرک اس کے ہم خیال تھے حاصل یہ ہے کہ قوم نوح اور قریش کی عذاب کی خواہش کے ملانے سے یہ نتیجہ نکلا کہ یہ آسمانی کتابوں اور اللہ کے رسولوں کے منکر لوگ عذاب الٰہی کے وعدہ کو سچا نہیں جانتے تھے اس لئے جب یہ لوگ زبانی حجتوں میں لاجواب ہوجاتے تھے تو بےدھڑک عذاب کی خواہش ان کی زبان پر آجاتی تھی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزرچکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا علم الٰہی میں جو شخص دوزخی ٹھہر چکا ہے۔ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد وہ ویسے ہی کام کرتا ہے۔ 2 ؎ اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ { ولا ینفعکم نصحی ان اردت ان انصح لکم ان کان اللّٰہ یرید ان یغویکم } کی حضرت علی ؓ کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 669۔ 670 باب تولہ تعالیٰ ان کان ہو ہذا ہو الحق الخ۔ 2 ؎ صحیح بخاری ص 738 ج تفسیر سورة والعیل اذا یغشی۔
Ayah 11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے نے قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ و کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں برئی الذمہ ہوں۔

35۔ اس آیت میں اس بات کا اختلاف ہے کہ یہ آیت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی شان میں ہے یا حضرت رسول خدا ﷺ سے کفار مکہ یہ کہتے تھے۔ بعضے مفسروں نے یہ کہا ہے کہ جو کچھ نوح (علیہ السلام) کی قوم حضرت نوح (علیہ السلام) پر اعتراض کیا کرتی تھی وہی اعتراض کفار بھی حضرت ﷺ پر کرتے تھے مگر یہ قول صحیح نہیں معلوم ہوتا کیونکہ نوح (علیہ السلام) کو کوئی کتاب نہیں ملی تھی حضرت ﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا تو کفار مکہ کہنے لگے کہ یہ قرآن انہوں نے اپنے جی سے گھڑ لیا ہے خدا نے نہیں اتارا ہے اس کا جواب اللہ جل شانہ نے حضرت ﷺ کو بتلایا کہ ان سے کہو کہ یہ قرآن اگر ہم خود بنا کر کہتے ہیں تو اس کا جرم ہم پر ہے اور تم جو جھٹلاتے ہو تو اس سے بھی میں بری ہوں اور بعضے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ اس آیت کو بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ سے تعلق ہے جب ان کی قوم ہر ایک بات میں ہار گئی اور کوئی حجت نہ چلی تو کہنے لگے تم پر وحی وغیرہ کچھ بھی نہیں آتی ہے تم جھوٹ کہتے ہو کیوں کہ تمہارے پاس سند تو ہے نہیں جس سے تم خدا کے رسول سمجھے جاؤ تو یہ جواب اللہ کی طرف سے نوح (علیہ السلام) کو بتلایا گیا کہ کہہ دو اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو اس کا گناہ مجھ پر ہے اور تم جو مجھ پر تہمت جھوٹ کی دھرتے ہو میں اس سے بالکل الگ ہوں حاصل کلام جب نوح (علیہ السلام) کی قوم ایمان نہیں لائی تو ان کو حکم ہوا کہ ان کے واسطے بددعا کرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بددعا کی کہ اے رب زمین پر کسی کافر کا گھر بسنے والا نہ چھوڑ تو یہ آگے کا حکم آیا۔ تفسیر مقاتل میں اسی کو ترجیح دی ہے کہ حضرت نوح کے قصہ میں یہ آیت قریش کی شان میں ہے معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ جو مشرکین مکہ میں بڑا لسان اور شاعر تھا قرآن کی آیتیں سن کر اس نے یہ کہا کہ یہ کلام آدمی اور جناب کے کلام سے انوکھا ایک کلام ہے مگر پھر ابو جہل کے بہکانے سے ولید یہ کہنے لگا کہ قرآن میں یہ انوکھی تاثیر جادو کے سبب سے ہے 1 ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تم میں ولید بن مغیرہ جیسا شخص قرآن کو آدمی کے کلام سے انوکھا بتلاتا ہے تو مجھ ان پڑھ آدمی پر قرآن کے بنانے کا جھوٹا الزام جو لگاتے ہو ایک دن اس جھوٹے الزام کے وبال میں پکڑے جاؤ گے اور اس وقت تم پر کھل جاوے گا کہ میں اس جھوٹے الزام سے بری تھا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ ان جھوٹا الزام لگانے والوں میں اکثر آدمی بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور اللہ کے رسول نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ 2 ؎ اوپر یہ جو ذکر تھا کہ ایک دن یہ لوگ جھوٹے الزام میں پکڑے جاویں گے اور اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوجاوے گا کہ یہ لوگ جھوٹے تھے اور اللہ کے رسول ان کے جھوٹے الزام سے بالکل بری تھے اس کی صداقت اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ 1 ؎ مستدرک حاکم ص 506 ج 2 تفسیر مورہ مدثر۔ 2 ؎ صحیح بخاری ص 566 باب قتل ابی جہل۔
Ayahs 11:36–37

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لاچکے ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ تو جو کام یہ کر رہے ہیں انکی وجہ سے غم نہ کھاؤ۔

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیے جائیں گے۔

36۔ 37۔ جب قوم نوح (علیہ السلام) نے عذاب کی جلدی کی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو بہت ستانا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نوح (علیہ السلام) اب تمہاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا جتنے ایمان لاچکے وہ لاچکے آئندہ اب کسی سے ایمان لانے کی امید نہیں تم ان کی کسی بات کا غم نہ کرو جو یہ کرتے ہیں کریں تم ایک کشتی تیار کرو ہم وحی کے ذریعہ سے کشتی کے بنانے کا ڈھنگ تمہیں بتاتے ہیں اور ان ظالموں کے باب میں سفارش کے طور پر بارگاہ الٰہی میں کچھ نہ کہو یہ سب ڈوبنے والے ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ حضرت نوح کی کشتی تین سو گز لمبی تھی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بارہ سو گز لمبی اور چھ سو گزر چوڑی تھی کسی نے یہ بھی کہا ہے کہ دو ہزار گز لمبی اور سو گز چوڑی تھی مگر سب کا اس بات میں اتفاق ہے کہ بلندی میں وہ کشتی تیس گز تھی اس کشتی میں تین درجے تھے ہر درجہ دس گز کا تھا نیچے کا درجہ چار پائے گائے بیل بھینس وغیرہ کی قسم میں سے جانوروں کے واسطے اور بیچ کا درجہ آدمیوں کے لئے اور اوپر کا درجہ پرندوں کے لئے بنایا تھا کشتی کی چوڑائی میں ایک دروازہ بھی تھا اور ایک سرپوش تھا 1 ؎ کشتی کے اوپر ڈہانپنے کو تاکہ کثرت سے مینہ جو برس رہا تھا اس کے صدمہ سے کشتی والے محفوظ رہیں۔ حافظ ابو جعفر ابن جریر عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوارین میں سے ایک شخص نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ کبھی ایسے شخص کو آپ زندہ کریں جس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہو وہ ہم سے اس کا حال بیان کرے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان لوگوں کو اپنے ساتھ لئے ہوئے ایک ٹیلہ پر پہنچے اور تھوڑی سی مٹی اٹھا کر اپنے ساتھیوں سے پوچھا تم لوگ جانتے ہو یہ کون شخص ہے لوگوں نے کہا خدا اور خدا کا رسول جانے ہمیں کیا خبر۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے حام کی پنڈلی کی مٹی ہے اور عصا سے ٹیلہ کو مار کر کہا خدا کے حکم سے کھڑا ہوجا جس وقت وہ اٹھا تو اس کے سر کے بال بالکل سفید تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تو اسی عمر میں ہلاک ہوا تھا اس نے کہا کہ نہیں جب میں مرا تھا تو جوان تھا اس وقت میں نے یہ گمان کیا کہ قیامت آگئی اس لئے اس خوف سے میں بوڑھا ہوگیا پھر اس سے کشتی کا حال پوچھا گیا تو بیان کیا وہ کشتی بارہ سو گز کی لمبی اور چھ سو گز کی چوڑی تھی اس میں تین طبقے تھے نیچے چار پائے بیچ میں آدمی اوپر پرندے جب چار پایوں کی لید کی کثرت ہوئی تو خدا نے وحی بھیجی کہ اے نوح ہاتھی کی دم دباؤ اس کی دم دبانے سے ایک جوڑا سور کا پیدا ہوگیا جس نے لید وغیرہ کا صفایا کیا جب چوہے بہت ہوگئے اور کشتی کی لکڑی اور رسیاں کترنے لگے تو اللہ کا حکم ہوا کہ شیر کی دونوں آنکھوں کے درمیان میں ہاتھ مارو اس سے ایک جوڑا بلی کا پیدا ہوا جس نے چوہوں کو کھانا شروع کردیا پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا نوح (علیہ السلام) کس طرح سمجھے کہ سارا شہر ڈوب گیا اس نے کہا کہ ایک کوے کو بھیجا تھا کہ خبر لائے مگر وہ ایک مردار پر جھک پڑا اس کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) نے بددعا کی تھی اسی لئے وہ گھر میں رہنا پسند نہیں کرتا خوف زدہ ہو کر آدمیوں سے بھاگتا ہے پھر کبوتر کو بھیجا وہ جا کر چونچ میں ایک پتہ زیتون کا اور تھوڑی سی مٹی پنجے میں دبا کر لایا اس سے سمجھا کہ سب ہلاک ہوگئے۔ آپ نے کبوتر کے واسطے دعا کی تھی وہ گھروں میں رہتا ہے اور آدمیوں سے نہیں بھاگتا پھر حوارین نے کہا یا حضرت اس شخص کو ہمارے گھر لے چلئے وہاں چل کے یہ سارا اور باقی کا حال بیان کرے گا۔ حضرت عیسیٰ نے کہا جس کا رزق اب دنیا میں نہیں ہے وہ کیوں کر تمہارے ساتھ چل سکتا ہے پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا خدا کے حکم سے پھر ویسا ہی ہوجا جیسا تھا وہ خاک کا ٹیلہ ہوگیا۔ حافظ ابن کثیر نے عبد اللہ بن عباس ؓ کی اس روایت کو غریب قرار دیا ہے۔ 2 ؎ کوئی اکیلا مقبول راوی کسی حدیث کی سند میں ہو تو اس حدیث کو غریب کہتے ہیں اور اگر اس اکیلے مقبول راوی کی روایت کسی ثقہ راوی کے مخالف بھی ہو تو اس کو شاذ کہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی اس حدیث کے راوی حافظ ابن کثیر کے نزدیک مقبول تو ہیں مگر اس روایت میں اکیلے ہیں اور ان کی روایت کسی ثقہ راوی کے مخالف نہیں ہے۔ اس لئے غریب ہے شاذ نہیں ہے۔ 3 ؎ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کچھ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ 4 ؎ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا علم الٰہی کے موافق جو لوگ دنیا میں پیدا ہوئے اور مرنے کے بعد دوزخی ٹھہرے ہیں وہ دنیا میں کام بھی ویسے ہی کرتے ہیں 5 ؎ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح میں سے جس قدر آدمیوں کا راہ راست پر آنا لوح محفوظ میں لکھا گیا تھا جب ان آدمیوں کی گنتی پوری ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو حکم بھیج دیا کہ اب اس قوم میں سے اور کوئی نیا شخص راہ راست پر نہ آوے گا اور نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی جتلا دیا کہ ان لوگوں کے بےڈھنگے کاموں سے کچھ غمگین نہ ہونا چاہیے یہ لوگ علم الٰہی میں دنیا اور عقبیٰ کے عذاب کے قابل ٹھہر چکے ہیں۔ اس لئے مرتے دم تک یہ ایسے بےڈھنگے کام کریں گے۔ 1 ؎ تمام اقوال کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 444 ج 2۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 444 ج 2۔ 3 ؎ حافظ ابن کثیر (رح) کی ایسے مواقع پر محدثین کی اصطلاح غریب مراد نہیں ہوتی بلکہ عجیب اور اچنبہ روایت مراد ہوتی ہے حاصل یہ ہے کہ ان کی غرض تنقید و تضعیف ہے (واللہ اعلم (ع، ر) ۔ 4 ؎ صحیح مسلم ص 235 ج 2 باب حجاج آدم و موسیٰ ۔ 5 ؎ صحیح بخاری ص 738 ج 2 تفسیر سورة واللیل اذا یغشی۔
Ayahs 11:38–39

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

تو (نوح نے) کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب انکی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے ' وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اسی طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے ؟

38۔ 39۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے تھے تو لوگ آتے جاتے کشتی بناتے دیکھ کر مسخرا پن کرتے تھے کبھی کہتے تھے نبی بن کر اب کیا بڑھئی بن گئے کبھی کہتے تھے کہ کہیں پانی کا تو پتہ بھی نہیں ہے یہ خشکی میں کس طرح کشتی چلاؤ گے اور اس بات کو بھی ہنسی سمجھتے تھے جو حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے تھے کہ عنقریب تم لوگ ڈوبنے والے ہو وہ کہتے تھے کہ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ کوئی خشکی میں ڈوبے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) بھی ان پر ہنستے تھے کہ یہ لوگ مجھ پر ہنس رہے ہیں مگر عنقریب ڈوب کر ہلاک ہونے والے ہیں۔ مفسروں نے یہاں یہ بیان کیا ہے کہ وہ کشتی سال کی لکڑی کی تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں دو سو برس میں بنی تھی۔ تو ریت میں مذکور ہے کہ صنوبر کی لکڑی کی تھی مگر اس بات میں کوئی صحیح روایت نہیں ہے پھر نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اب قریب میں تم لوگ جان لوگے کہ کون عذاب آنے سے رسوا ہوتا ہے اور کس پر ہمیشہ ہمشیہ کا عذاب ہوگا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ دنیا میں تو ڈوب کر ہلاک ہوگئے اور آخرت میں ہمیشہ کے لئے دوزخ کا عذاب بھگتو گے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں ہزار برس تک رہے اور ساڑھے نو سو برس وہ اپنی قوم کو خدا کی طرف بلاتے رہے ان کے آخر زمانہ میں ایک بہت بڑا درخت ہوا اور ہر طرف اس کی شاخیں پھیل گئیں تو نوح (علیہ السلام) نے اس کو کاٹ کر کشتی کا سامان شروع کیا ان کی قوم دیکھ کر ہنستی تھی کہ خشکی میں کیوں کر کشتی چلے گی وہ کہتے تھے اب معلوم ہوجائے گا جب کشتی تیار ہوچکی تو اک بار گی زمین ابل پڑی اور ہر کوچہ و بازار میں پانی ہی پانی نظر آنے لگا سب ڈوب نے لگے تو ایک عورت کو بہت خوف ہوا اس کا ایک ننھا سا بچہ تھا وہ اسے بہت چاہتی تھی وہ اسے لے کر پہاڑ پر چڑھ گئی جب وہاں بھی پانی آگیا تو بالکل اوپر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئی جب پانی اس کے گلے تک پہنچا تو اس نے اپنے دونوں ہاتھوں پر بچے کو اوپر اٹھا لیا مگر کچھ بس نہ چل سکا پانی اس کو بہا کرلے گیا اگر اللہ پاک کسی پر رحم کھاتا تو اس وقت اسی عورت پر رحم کھاتا یہ روایت مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے اور ذہبی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ 1 ؎ لیکن یہ روایت تفسیر ابن ابی حاتم میں بھی ہے 2 ؎ اور ابن ابی حاتم نے صحت روایت کی پابندی ابن جریر اور حاکم سے زیادہ کی ہے اس لئے اس روایت کو بالکل ضعیف نہیں کہا جاسکتا۔ صحیح سند سے ترمذی طبرانی اور مستدرک حاکم میں ابی بکرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اچھا وہ آدمی ہے جس کی عمر بڑی ہو اور اس کے عمل نیک ہوں اور برا وہ آدمی ہے جس کی عمر بڑی ہو اور اس کے عمل بد ہوں۔ 3 ؎ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جزا وسزا نیک و بدعملوں کے موافق ہوگی اس لئے جس نیک عمل والے آدمی نے بڑی عمر پاکر نیک عمل بڑھائے اس کی جزا بڑھ گئی اور وہ اچھا رہا اور جس بد عمل والے آدمی نے بڑی عمر پاکر بد اعمال بڑھائے ویسے اس کی سزا ہوگی اس لئے وہ برا رہا اس حدیث سے آیتوں کی یہ تفسیر ٹھہری کہ کشتی کی تیاری کے سبب سے طوفان کے آنے میں جس قدر دیر ہوئی یہ زمانہ بھی قوم نوح کے حق میں ایک عذاب کا زمانہ تھا کیونکہ اس قدر عمر کے حصہ میں انہوں نے اللہ کے نبی نوح (علیہ السلام) سے مسخراپن کر کے اپنی بد اعمالی اور اس کی سزا کو اور بڑھا لیا۔ { فسوف تعلمون } سے آخر آیت تک اس مطلب کو بیان فرمایا گیا ہے کہ تم لوگ ہنستے کیا خاک ہو تمہارے رونے کے دن تو آگے آرہے ہیں ابن ماجہ مستدرک حاکم اور مسند ابی یعلی کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ اور عبد اللہ بن قیس ؓ کی روایتیں گزر چکی ہیں کہ دوزخی لوگ دوزخ میں یہاں تک روئیں گے۔ 1 ؎ مستدرک مع تلخیص حافظ ذہبی ص 342 ج 2۔ 2 ؎ تفسیر الدرالمنثور ص 427 ج 3 و تفسیر فتح البیان ص 425 ج 2۔ 3 ؎ جامع ترمذی ص 56 ج 2 باب ماجاء فی طول العمر للمومن و تفسیر ہذا جلد دوم ص 261۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا۔ تو ہم نے نوح (کو) حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجا ئیگا) اسکو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو اور جو ایمان لایا ہو اسکو کشتی میں سوار کرلو اور انکے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے۔

40۔ جب نوح (علیہ السلام) کشتی بنانے سے فارغ ہوگئے اور تنور ابل پڑا تو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جو جو جانور انسان کی زندگی میں فائدہ دینے والے ہیں یا جن کا باقی رکھنا دنیا میں منظور تھا ان کا ایک ایک جوڑا اور بعضوں نے درختوں کو بھی لکھا ہے کہ ان کے لینے کا بھی حکم ہوا تھا اور بعضوں کا قول ہے کہ جب کشتی میں گدھا چڑھنے لگا تو شیطان نے اس کی دم پکڑ لی وہ چڑھ نہ سکا کئی دفعہ کوشش کی اٹھا بیٹھا آخر حضرت نوح (علیہ السلام) نے گدھا سے کہا کہ شیطان کشتی کے اندر آجا اس لئے گدھا معہ ابلیس کے کشتی میں داخل ہوگیا بعضوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ کشتی والوں نے یہ کہا کہ یہاں شیر بھی ہے چار پائے کیوں کر امن سے رہیں گے اس واسطے خدا نے شیر کو بخار میں مبتلا کردیا اور پہلے دنیا میں تپ اسی سے شروع ہوئی۔ اس سے پہلے بخار کا نام و نشان بھی نہ تھا پھر لوگوں نے کہا کہ یہ چوہے کھانے پینے کی چیزوں کا نقصان کردیں گے خدا کا حکم ہوا شیر کو چھینک آئی اور ایک بلی پیدا ہوئی جس کو دیکھ کر چوہے دبک گئے۔ تنور کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے۔ 1 ؎ لیکن حافظ ابو جعفر ابن جریر نے تنور کے مشہور معنے کو ترجیح دی ہے۔ 2 ؎ یہ تنور نوح (علیہ السلام) کے گھر میں تھا اور اس میں سے پانی کا ابلنا طوفان کی نشانی ٹھہرا تھا حاصل یہ ہے کہ زمین و آسمان ہر جگہ سے پانی نکلا۔ امام رازی کہتے ہیں کہ یہ جو روایت مشہور ہے کہ ابلیس بھی کشتی میں داخل ہوگیا تھا کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔ اس لئے کہ اس کا جسم ناری یا ہوائی ہے پانی سے اس کو بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے اور آیت سے بھی اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا اور نہ کسی صحیح حدیث میں اس کا ذکر ہے پھر فرمایا کہ اپنے رشتہ داروں زن و فرزند کو بھی ساتھ لے لو مگر ان میں سے اپنی بیوی کنعان کی ماں اور کنعان کو اور کنعان کی بیوی کو ساتھ نہ لینا کیوں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائے تھے اپنی قوم کے دین پر تھے اس واسطے ان کے حق میں ظلم تھا کہ یہ ڈوب جاویں گے پھر فرمایا کہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں تمہاری قوم میں سے ان کو بھی اپنے ساتھ لے لو اور یہ لوگ جو ایمان لائے تھے بہت ہی کم لوگ تھے قتادہ کہتے ہیں کہ یہ آٹھ آدمی تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اسی آدمی تھے اور یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کیوں کہ جب یہ لوگ کشتی سے اترے تھے تو ایک بستی بسائی جس کا نام قریتہ الثمانین رکھا گیا یہ بستی اب تک موصل کے اطراف میں موجود ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن مجھ کو امید ہے کہ اور انبیاء سے میرے پیرو زیادہ ہوں گے۔ 3 ؎ اس حدیث کو { وما امن معہ الا قلیل } کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تمام امتوں میں سے تھوڑے لوگوں کا ایمان لانا کچھ نوح (علیہ السلام) پر منحصر نہیں ہے بلکہ قیامت کے دن خاتم النبین محمد ﷺ کے سوا اور سب انبیاء کے پیرو تھوڑے ہوں گے لیکن امت محمدیہ ﷺ کو چاہیے کہ وہ ریاکاری اور بدعت میں گرفتار ہو کر اللہ کے رسول ﷺ کی اس امید میں خلل نہ ڈالیں کیوں کہ مسند امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے محمود بن لبید ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے دنیا کے دکھاوے کے عمل کو چھوٹا شرک فرمایا ہے۔ 4 ؎ جس کا مطلب یہ ہے کہ پورے مشرک لوگ ظاہر میں سوا اللہ کے بتوں کی پرستش کرتے ہیں اور ریا کار لوگ اگرچہ بظاہر اللہ کی عبادت کرتے ہیں لیکن ان کی نیت میں دنیا کے دکھاوے کا میل ہوتا ہے اور یہی چھوٹا شرک ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بغیر سند شرعی کے جو عمل دین میں نکالا جاوے گا وہ بدعت ہے اور ایسا بدعت کا عمل نامقبول ہے۔ 5 ؎ ان حدیثوں سے معلوم ہوگیا کہ دین کے جس کام میں دنیا کے دکھاوے یا بدعت کا دخل ہوگا اس عمل سے اللہ کے رسول ﷺ کی پیروی میں ضرور خلل پڑے گا۔ جس خلل سے اللہ کے رسول کی اس امید میں بھی ضرور خلل پڑجاوے گا جس امید کا ذکر اوپر گزرا۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 445 ج 2۔ 2 ؎ تفسیر ابن جمیر ص 40 ج 12۔ 3 ؎ صحیح مسلم ص 86 ج 1 باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ ومشکوٰۃ ص 511۔ 512 باب فضائل سید المرسلین۔ 4 ؎ مشکوٰۃ 41 باب الریا والسمعۃ۔ 5 ؎ مشکوٰۃ ص 27 باب الاعتصلا بالکتاب والسنتہ۔
Ayahs 11:41–43

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لیکر (کہ اسی کے ہاتھ میں) اس کا چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ انکو لیکر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ (کشتی سے) الگ تھا ' پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو۔

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر اس پر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آ حائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا۔

41۔ 43۔ پھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بسم اللہ کشتی میں سوار ہوجاؤ خدا کے نام کی برکت سے یہ کشتی پانی پر چلے گی اور اس کے نام سے ٹھہرے گی میرا رب بڑا غفور الرحیم ہے۔ ہم پر رحم کھا کر بخشش کی اور کافروں کو ہلاک کیا۔ تفسیر ضحاک میں ہے کہ نوح (علیہ السلام) جب چاہتے تھے کہ کشتی چلے تو بسم اللہ کہتے تھے۔ کشتی چلنے لگتی تھی اور جب چاہتے تھے کہ تھم جائے بسم اللہ کہہ دیتے تھے تھم جاتی تھی اسی واسطے ہر کام کے شروع میں بسم اللہ کا کہنا مستحب ہے ناقابل اعتراض سند سے مسند ابی یعلی اور طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت جب کشتی میں سوار ہونے کے واسطے { بسم اللّٰہ الملک وما قدرو اللّٰہ حق قدرہ والارض جمع یا قبضتہ یوم القیمۃ والسموات مطویات بیمینہ سبحانہ وتعالی عما یشرکون (39: 67)} اور { بسم اللّٰہ مجریھا و مرسھا ان ربی لغفور رحیم } کہیں گے تو ڈوبنے سے محفوظ رہیں گے 1 ؎ اب آگے پانی میں اس کشتی کے بہنے کی کیفیت بیان فرمائی کہ اس طرح بہتی پھرتی تھی جیسے پہاڑ بلکہ اونچے سے اونچے پہاڑ سے تیس چالیس گز بلندی پر تیرتی تھی۔ پھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے چھوٹے بیٹے حام کو جس کا دوسرا نام کنعان بھی تھا اور وہ کنارے پر کھڑا تھا آواز دی کہ بیٹا تو بھی ایمان لاکر کشتی میں میرے پاس چلا آ اور کافروں کا ساتھ نہ دے نہیں تو تو بھی ڈوب جائے گا اس نے نہ مانا اور جواب دیا کہ میں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاؤں گا وہاں پانی سے پناہ مل جاوے گی اور ڈوبنے سے بچ جاؤں گا وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ پانی کیا پہاڑ سے بھی اوپر تک آجاوے گا اور بعضوں نے کہا ہے اس نے ایک ناؤ کانچ کی بنارکھی تھی کہ جب سیلاب آئے گا تو میں اس پر سوار ہوں گا مگر یہ روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ قرآن مجید میں تو فقط یہی مذکور ہے کہ اس نے پہاڑ پر پناہ لینے کو کہا پھر نوح (علیہ السلام) نے اس کو جواب دیا کہ پہاڑ کی کیا ہستی ہے آج کوئی کسی کو خدا کے عذاب سے پناہ نہیں دے سکتا۔ ہاں جس پر خدا رحم کرے گا وہ بیشک نہیں ڈوبے گا جیسے اس کشتی والے بچ گئے پھر نوح (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے کے درمیان میں ایک ایسی موج آئی کہ ان کے بیٹے کو بہا کرلے گئی اور وہ ڈوب گیا۔ سورة زخرف میں اللہ تعالیٰ نے خشکی کی ہر طرح کی سواری اور کشتی کا ذکر فرما کر سواری کے وقت { سبحان الذی سخر لنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون (43: 13)} کے پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ معتبر سند سے ترمذی ابوداؤد نسائی میں حضرت علی ؓ سے جو روایت ہے اس میں خشکی کی سواری کے وقت کا یہ ذکر بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ اس وقت سورت زخرف کی یہ آیت پڑھا کرتے تھے۔ 2 ؎ سورت زخرف کی اس آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ ہی کی قدرت ہے کہ اس نے ان سواریوں کو ہمارے قبضہ میں کردیا ورنہ یہ بات ہماری طاقت سے باہر تھی اور جس طرح اب ہم ان سواریوں پر چڑھے پھرتے ہیں اسی طرح ایک دن چار آدمیوں کے کندھے پر ہمارا جنازہ جاوے گا۔ بعضے سلف کا قول ہے کہ خشکی کی سواری اور کشتی کی سواری دونوں سواریوں کے وقت سورت زخرف کی یہ آیت پڑھنی چاہیے اور سورت زخرف کی آیتوں سے اس قول کی تائید بھی ہوتی ہے کیوں کہ ان آیتوں میں دونوں سواریوں کا ذکر ہے فقط اتنی بات ہے کہ دریائی سفر کا موقع آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں زیادہ پیش نہیں آیا۔ اس لئے اس بات میں آنحضرت ﷺ کی کوئی عملی روایت نہیں ہے۔ بعضے سلف کا یہ قول ہے کہ کشتی کی سواری کے وقت سورت ہود کی آیت اور خشکی کی سواری کے وقت سورت زخرف کی آیت پڑہی جاوے لیکن بہتر یہ ہے کہ کشتی کی سواری کے وقت دونوں آیتوں کو پڑھا جاوے تاکہ سورت زخرف کی آیتوں اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث دونوں پر عمل ہوجاوے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ علم الٰہی کے موافق جو لوگ دوزخ کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ویسے ہی کام کرتے ہیں اور وہی کام ان کو اچھے نظر آتے ہیں۔ 3 ؎ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب طوفان کا پانی کثرت سے پھیل چکا تھا اور موجیں آرہی تھیں اسی خوف کے وقت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کنعان کو وہ نیک صلاح دی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے لیکن علم الٰہی کے موافق کنعان کے حق میں جو کچھ ٹھہر چکا تھا آخر کنعان کی نظر میں وہی کفر کی حالت کا مرنا اچھا معلوم ہوا اسی طرح کا قصہ ابو طالب کا صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے کہ ابو طالب کے آخری وقت پر آنحضرت ﷺ نے ابو طالب کو اسلام قبول کرلینے کی نیک صلاح دی مگر ابو طالب نے وہ صلاح نہیں مانی۔ 4 ؎ 1 ؎ تفسرع ابن کثیر ص ص 446 ج 2 و مجمع الزوائد ص 132 ج 10 لیکن یہ کہا ہے کہ اس کی سند میں نہثل راوی متریدک ہے۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 214 باب الدعوات فی الاوقات 3 ؎ صحیح بخاری ص 738 ج 2 تفسیر سورة واللیل اذا یغشی۔ 4 ؎ صحیح مسلم ص 40 ج 1 باب الدلیل علی صحۃ اسلام من حضر تالموت الخ۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا۔ اور کشتی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت۔

44۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ جب سب کفار ڈوب گئے بلکہ کوئی جاندار سوائے ان کشتی والوں کے نہ بچا تو اللہ نے آسمان کو یہ حکم دیا کہ اب پانی نہ برسا تھم جا اور زمین کو یہ حکم دیا کہ تو نے جتنا پانی اگلا ہے نگل جا خدا کا حکم پورا ہوچکا سب کفار ہلاک ہوگئے مینہ تھم گیا اور پانی سوکھ چلا تو کشتی اپنے سواریوں کو لئے ہوئے جودی پہاڑ پر آلگی اور فرمایا کہ ساری قوم ظالموں کی خدا کی رحمت سے دور ہوگئی جس کا مطلب یہ ہے کہ سب کے سب ہلاک ہوگئے۔ طوفان نوح (علیہ السلام) میں کوئی شخص ان کشتی والوں کے سوا زندہ نہ بچا ساری دنیا ہلاک ہوگئی بعض لوگوں کا گمان ہے کہ بعض بعض شہر طوفان سے بچ گئے تھے لیکن یہ غلط ہے کیوں کہ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں جو 1 ؎ اوپر گزر چکا ہے کہ اگر اللہ پاک کسی پر رحم کھاتا تو اس وقت اسی بچے کی ماں پر رحم کھاتا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا ہلاک ہوئی علاوہ اس کے سارے اہل کتاب کیا یہود اور کیا نصاریٰ سب کا اتفاق اس بات پر ہے کہ نوح (علیہ السلام) آدم ثانی ہیں اور طوفان کے بعد جتنے بنی آدمی ہیں سب نوح کی اولاد ہیں۔ قرآن مجید کا بھی یہی فیصلہ ہے۔ { وجعلنا ذریتہ ھم الباقین } جس کا مطلب یہ ہے کہ طوفان کے بعد اولاد نوح (علیہ السلام) ہی سے دنیا آباد ہوئی پھر یہ کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے کہ طوفان کی آفت سے کچھ ایسے شہر بچ گئے جن میں اولاد نوح (علیہ السلام) کے علاوہ اور لوگ آباد تھے جب نوح (علیہ السلام) کشتی سے اترے تو تھوڑے دنوں میں اور سب کشتی والوں کا انتقال ہوگیا۔ فقط نوح (علیہ السلام) کے تینوں بیٹے باقی رہے جن سے نوح (علیہ السلام) کی نسل بڑھی اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) کی ذریات کو دنیا میں ہم نے باقی رکھا جودی پہاڑ کے متعلق بھی مفسروں کا اختلاف ہے کوئی کہتا ہے کہ شہر موصل میں ایک پہاڑ ہے کوئی کہتا ہے ملک شام میں ہے کسی نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اسی طور کا نام جودی بھی ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت ملی ہے۔ مجاہد کہتے ہیں یہ پہاڑ ایک جزیرہ میں ہے سارے پہاڑ طور کا نام جودی بھی ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت ملی ہے مجاہد کہتے ہیں یہ پہاڑ ایک جزیرہ میں ہے سارے پہاڑ ڈوب گئے تھے مگر جودی بہ سبب اپنی خاکساری کے ڈوبنے سے محفوظ رہا اس پر کشتی آکر ٹھہری قتادہ نے یہ بھی بیان کہا ہے کہ ایک مہینہ تک اس کے اوپر رہی پھر نیچے اتار دی گئی اور بہت دنوں تک بطور نشانی کے وہ کشتی باقی رہی۔ حضرت ﷺ کی امت میں سے پہلے لوگوں نے دیکھی ہے تفسیر ضحاک میں اسی کو ترجیح دی ہے کہ جودی پہاڑ موصل کے پاس ہے سورت لقمان میں آوے گا کہ شرک سے بڑھ کر کوئی بےانصافی اور ظلم نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اس لئے انسان پر فقط اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے پھر جب ان لوگوں کو پکڑتا ہے تو بالکل انہیں برباد کردیتا ہے۔ یہ حدیث { وقیل بعدا للقوم الظالمین } کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وقت مقررہ آنے سے پہلے یہ لوگ عذاب کی جلدی کرتے رہے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل رہی جب وقت مقررہ پر گرفت ہوگئی تو سوا ان لوگوں کے جو شرک کے ظلم سے بچے ہوئے تھے اور ساری قوم غارت ہوگئی بلکہ قوم نوح (علیہ السلام) کے علاوہ قوم عاد سے لے کر فرعون تک جو قومیں طرح طرح کے عذابوں سے غارت ہوئی ان سب کی حالت کی بھی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ 1 ؎ جلد ہذا ص 97 بحوالہ مستدرک حاکم۔
Ayahs 11:45–47

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار ! میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اسکو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے۔

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے۔ وہ تو ناشائستہ افعال ہے۔ تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی مجھے حقیقت معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا۔

45۔ 47۔ جب نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے رب یہ کنعان میرا بیٹا ہے میرے اہل میں سے ہے اور تو نے وعدہ کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ کشتی میں اپنی اہل کو بھی ساتھ لے لو اور تیرا وعدہ سچا ہوا کرتا ہے پھر یہ کیوں کر ڈوب گیا تو بڑا انصاف والا ہے حکم ہوا کہ اللہ نے تو ان لوگوں کے لئے وعدہ کیا تھا جو ایمان لائیں یہ لڑکا تو انہیں لوگوں میں تھا جن کے حق میں کہا گیا تھا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے اور آخر کو ڈوب جاویں گے تمہیں مناسب نہیں ہے کہ جس بات کو نہ جانتے ہو اس کا سوال کرو مطلب یہ ہے کہ اللہ کی مرضی کے خلاف تمہیں سوال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ خلاف مرضی سوال کرنا جاہلوں کا کام ہے۔ پھر نوح (علیہ السلام) نے بہت جلد خدا سے پناہ چاہی کہ میں ایسی بات پوچھوں جس کا علم مجھے نہ ہو۔ اگر تو اس قصور کو جو لاعلمی میں مجھ سے ہوا نہ بخشے گا تو میں اپنے عمل میں بہت گھاٹے میں رہوں گا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے { انہ عمل غیر صالح } کے ایک اور معنے بھی بیان کئے ہیں کہ یہ نوح (علیہ السلام) کی طرف خدا کا اشارہ تھا کہ یہ سوال کرنا تمہارا ایسا عمل ہے جو قبول کرنے کے لائق نہیں ہے۔ خدا کے یہاں اہل سے مراد قرابت دین ہے قرابت نسب نہیں بیٹا تمہارا اگرچہ تمہارا نطفہ ہے مگر جب خدا کے دین پر نہیں ہے تو قرابت کا اس سے کیا لگاؤ باقی رہا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قریش کو عذاب الٰہی سے بچنے کی کوشش کرنے کی نصیحت فرمائی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ خلاف مرضی الٰہی میں تم لوگوں کی قیامت کے دن کچھ مدد نہیں کرسکتا 1 ؎ مشرک قرابت داروں کے حق میں مغفرت کی دعا کی ممانعت کی روایتیں سورت توبہ میں گزرچکی ہیں۔ صحدیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گزرچکی ہے کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ کی نجات کی کوشش کریں گے مگر کارگر نہ ہوں گی 2 ؎ ان روایتوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرک قرابت داروں کی نجات کی کوشش انتظام الٰہی کے برخلاف ہے۔ نوح (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کنعان کے شرک کا تفصیلی حال معلوم نہ تھا کیوں کہ وہ نوح (علیہ السلام) کے روبرو کچھ منافقوں کی سی باتیں کرتا تھا اس لئے نوح (علیہ السلام) نے اس کی نجات کی درخواست اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں کی اور اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے طور پر اس درخواست کا یہ جواب دیا کہ اے نوح تم کو کنعان کے عملوں کا حال معلوم نہیں ہے وہ در پردہ مشرک تھا اس واسطے نہ اس کی نجات ممکن ہے نہ تم کو نامعلوم معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے درخواست مناسب ہے اس پر نوح (علیہ السلام) نے اپنی حالت لاعلمی کی خطا کی معافی چاہی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ خطاف معاف کردی۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 702 ج 2 باب قولہ وانذر عشیر تک الاقربین۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 393 ج 2۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہونگی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر انکو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا۔

48۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ کشتی میں اسی آدمی تھے چالیس مرد اور چالیس عورتیں وہ کشتی میں ایک سو پچاس دن رہے کشتی کا منہ مکہ کی طرف تھا چالیس روز وہ کشتی مکہ کے گرد پھری پھر اس کا منہ اللہ تعالیٰ نے جودی کی طرف پھیر دیا وہاں آکر ٹھہری نوح (علیہ السلام) نے ایک کوے کو بھیجا کہ خبر لاؤ وہ ایک مردے پر آکر بیٹھ رہا جب دیر ہوئی تو ایک کبوتر کو بھیجا وہ آکر زیتون کا پتا لے گیا اس کے پنجے کیچڑ میں بھرے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے جان لیا کہ پانی خشک ہوگیا اور پہاڑ سے نیچے اترے اور ایک گاؤں بسایا جس کا نام ثمانین رکھا ایک روز صبح کو جب لوگ سوتے ہوئے اٹھے سبھوں کی باتیں بدل گئیں کوئی کسی کی بات نہیں سمجھتا تھا۔ عربی زبان ان میں بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ایک کی بات کا ترجمہ کر کے دوسرے کو بتلاتے تھے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ دسویں تاریخ محرم کو عاشورے کے دن یہ لوگ جودی سے نیچے اترتے تھے۔ اور اس دن انہوں نے روزہ رکھا تھا معتبر سند سے مسند امام احمد میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز حضرت ﷺ کا گزر یہود کی طرف ہوا وہ دن عاشورہ کا تھا وہ سب روزے سے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کیسا روزہ ہے ان لوگوں نے کہا کہ آج ہی کا دن ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوئے تھے اور فرعون ڈوبا تھا۔ اور آج ہی کے دن نوح (علیہ السلام) کشتی سے زمین پر اترے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے شکریہ میں روزہ رکھا تھا آپ نے فرمایا ہم زیادہ اس روزہ کے حقدار 1 ؎ ہیں اور آپ نے روزہ کی نیت کرلی کیوں کہ اب تک کچھ کھایا پیا نہ تھا اور اصحاب سے بھی یہ فرمایا کہ جس نے کچھ کھایا پیا نہ ہو وہ روزہ رکھ لے غرض کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) پہاڑ سے نیچے اترنے لگے تو یہ گمان کیا کہ ساری دنیا تو غرق ہوگئی کوئی چیز کھانے پینے کی کیوں کر ملے گی اس پر یہ حکم ہوا کہ اے نوح سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اترو مطلب یہ ہے کہ جن چیزوں پر انسان کی سلامتی موقوف ہے وہ سب تمہارے لئے موجود ہیں اور تمہاری نسل میں بھی برکت ہوگی۔ مگر علم الٰہی کے موافق تمہاری اولاد و اولاد میں دو فرقے ہوں گے ایک تو راہ راست پر آنے والا فرقہ ہوگا جو دنیا اور عقبیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے گا اور دوسرا نافرمان لوگوں کا فرقہ ہوگا جو دنیا کی چند روزہ راحت اٹھا کر پھر عقبیٰ اور دنیا کے طرح طرح کے عذابوں میں پکڑا جاوے گا۔ قوم عاد سے لے کر قریش تک نوح (علیہ السلام) کی اولاد کی جو حالت دنیا میں پیدا ہونے کے بعد گزری ان قوموں کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم ازلی کے موافق مبہم طور پر وہ سب حالت اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں نوح (علیہ السلام) کو جتلا دی۔ اسی قسم کی آئندہ کی سچی پیشین گوئیوں میں سے قرآن شریف کا کلام الٰہی ہونا اور حضرت محمد ﷺ کا برحق رسول ہونا ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ماں کے پیٹ میں جب بچہ کا پتلہ تیار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے علم ازلی کے موافق رحم پر تعیناتی والے فرشتہ کو حکم دیتا ہے کہ اس بچہ کا رزق اس کی عمر اس کے اعمال اس کی نیکی بدی کا حال لکھ لیا جاوے وہ فرشتہ ایک کاغذ پر یہ سب باتیں لکھ لیتا ہے پھر اس پتلے میں روح پھونکی جاتی ہے۔ 2 ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جودی پہاڑ سے اترتے وقت نوح (علیہ السلام) کے دل میں یہ خیال جو گزرا تھا کہ ساری دنیا کی چیزیں تو غرق ہوگئیں اب پہاڑ سے اترنے کے بعد کھانے پینے کی چیزیں ان باقی کے لوگوں کو کیوں کر ملیں گیں۔ نوح (علیہ السلام) کے اس خیال کا جو جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے آیت اور حدیث کو ملا کر اس کا حاصل یہ ہے کہ انسان کے جسم میں روح کے پھونکے جانے سے پہلے جن باتوں کا انتظام علم الٰہی میں اور باتیں جو لکھی گئی تھیں جواب کے پورے ہوجانے کے لئے ان کا تذکرہ بھی جواب میں اللہ تعالیٰ نے کردیا تھا اس لئے اس پورے جواب کو اس آیت میں دوہرایا۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص۔ 18 باب صیام التطوع۔ 2 ؎ صحیح بخاری ص 976 ج 2 کتاب القدر ومشکوٰۃ ص 20 باب الایمان بالقدر۔