11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ (حالات) من جملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں (اور) اس سے پہلے نہ تم ہی ان جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے۔

49۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا قصہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تفصیل سے ذکر فرما کر اس آیت میں مشرکین مکہ اور اس زمانہ کے ہند اور چین اور فارس اور مصر کے مشرکوں کے قائل کرنے کو یہ فرمایا ہے کہ یہ قصہ اور اس طرح کے زمانہ گزشتہ کے اور قصے غیب کی خبریں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے جتلایا ہے جس کو اللہ تعالیٰ جتلاتا ہے اسی کو صحیح طور پر یہ قصے معلوم ہوتے ہیں دوسرے کو ان قصوں کا حال کیا معلوم ہوسکتا ہے مشرکین مکہ تو ان پڑھ لوگ ہیں اس طرح کی غیب کی خبروں کا ان لوگوں کا انکار کرنا تو محض سرکشی کے سبب سے ہے کچھ دنوں ان کی سرکشی پر اے اللہ کے رسول تم کو صبر کرنا چاہیے انجام کار یہی ہوگا کہ اللہ کے رسول تم کو اور تمہارے ساتھ جو اللہ سے ڈرنے والے پرہیز گار لوگ ہیں ان کو غلبہ ہوگا اور اللہ کی وحی اور غیب کی خبروں کے جھٹلانے والے یہ سرکش لوگ اخیر کو ذلیل ہوں گے رہے ہند اور فارس اور چین اور مصر کے اس زمانہ کے وہ مشرک لوگ جنہوں نے یا تو اپنی کتابوں میں طوفان نوح کا انکار لکھا ہے یا یہ لکھا ہے کہ شہر بابل اور اس کے اطراف میں یہ طوفان آیا تھا تمام دنیا میں نہیں آیا یہ لوگ بھی عرب کے اس زمانہ کے ان پڑھ لوگوں کی طرح اس قصہ کے حال سے بیخبر اور جاہل ہیں کیوں کہ نہ ان کی اتنی عمر ہے کہ انہوں نے اس قصہ کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہو نہ اس کے پاس اس زمانہ کی کوئی تاریخ کی صحیح کتاب ہے پھر ان لوگوں نے اپنی اٹکل کو ایک غیب کی بات میں جو لگایا ہے اس کو کیا اعتبار جس غیب دان کے حکم سے وہ طوفان دنیا میں آیا تھا صحیح قصہ اس طوفان کا وہی ہے جو اس غیب دان نے وحی کے ذریعہ سے اپنے رسول کو بتلایا ہے۔ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ہجرت سے پہلے مسلمانوں میں سے اگر کوئی شخص مشرکین مکہ کی بتوں کی کچھ مذمت کرتا تھا۔ تو یہ مشرک لوگ اپنے بتوں کی حمایت میں اللہ تعالیٰ کی مذمت کرنے کو مستعد ہوجاتے تھے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی یہ حدیث بھی ایک جگہ گزرچکی ہے کہ اسلام کا غلبہ اور بت پرستوں کی ذلت جتانے کے لئے فتح مکہ کے وقت انہی بتوں کو آنحضرت ﷺ نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار کر گرادیا 1 ؎ اور کوئی مشرک ان بتوں کی کچھ حمایت نہ کرسکا۔ سوہ انعام کی آیت { ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللّٰہ (6: 108)} اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس سے مشرکوں کی حد سے زیادہ سرکشی پر صبر کا موقع اور اس صبر کے اجر میں آخر اسلام کا جو کچھ غلبہ ہو اور حالت دونوں باتیں اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہیں اور اس طرح کی سچی پیشن گوئی سے قرآن کا کلام الٰہی ہونا اور محمد رسول اللہ ﷺ کا سچا رسول ہونا اچھی طرح آدمی کے ذہن نشین ہوسکتا۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 686 ج 2 باب قولہ قل جاء المحق وزہق الباط الخ۔
Ayahs 11:50–52

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عدا کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

میری قوم ! میں اس (وعظ ونصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں ؟

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم ! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار مینہ برسائے اور تمہاری طاقت بڑھائے گا۔ اور (دیکھو) گنہگار بن کر روگردانی نہ کرو۔

50۔ 52۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا حضرت ہود کو قوم عاد کا بھائی فرمایا صرف بسبب قومیت اور قرابت کے عاد دو ہوئے ہیں۔ ایک حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں جن کی طرف یہی حضرت ہود (علیہ السلام) پیغمبر بنا کر بھیجے گئے دوسرے عاد شداد اور لقمان اور ان کی قوم جن کا ذکر { ارم ذات العماد } ہے عاد ایک شخص کا نام تھا اسی کے نام پر ایک قبیلہ مشہور ہوگیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) سے آٹھ سو برس کے بعد دنیا میں آئے ان کی عمر چار سو چونسٹھ برس کی ہوئی قوم عاد ملک شام اور ملک یمن کے بیچ میں ایک ریگستان میں رہتی تھی اور تبول کی پرستش کرتی تھی اس قوم کی سرکشی کے سبب سے تین برس تک مینہ نہیں برسا تھا جس کے سبب سے ان کے کھیتوں کو سخت نقصان پہنچا اور کال پڑگیا اور تیس برس تک ان کی عورتیں بانجھ رہیں کسی کے یہاں بچہ نہ ہوا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کو خدا کی طرف بلایا کہ اے قوم میری تم اس خدا کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے تم جن بتوں کو پوجتے ہو اور ان کو اپنا شفیع سمجھتے ہو تم اس خیال میں جھوٹے ہو کوئی سند تمہارے پاس اس کی نہیں ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے اور کوئی معبود ہے یا کسی اور کے اختیار میں تمہارا نفع نقصان ہے کیا تمہیں اتنی سمجھ نہیں کہ یہ بت نہ تمہارا قحط دفع کرسکتے ہیں نہ تمہاری عورتوں کو اچھا کرسکتے ہیں میں جو نصیحت کرتا ہوں اور حق کی طرف بلاتا ہوں اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا ہوں یہ محض اللہ کے لئے ہے وہی اجر دے گا جس نے مجھے پیدا کیا ہے تمہیں غور کرنا چاہیے کہ ایک شخص بلا اجرت اور مفت میں تمہاری دنیا اور آخرت کو درست کر رہا ہے اور تم اس کا کہنا نہیں مانتے اپنے سرکش سرداروں کے کہنے پر چلتے ہو اے قوم تم کو بھی ضروری ہے کہ جو کچھ تم سے گناہ ہوچکے ہیں اس کے لئے خدا سے استغفار کرو اور آئندہ کے لئے توبہ کرلو کہ اب گناہ کے پاس بھی نہ جائیں گے اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے موسلا دہار مینہ برسائے گا تمہاری ساری کھیتیاں سرسبز ہوجائیں گی تمہارے رزق میں ترقی ہوجائے گی اور تمہاری قوتیں بھی بڑھ جائیں گیں اور نسل بھی بڑھے گی اور اگر میری نصیحت سے منہ موڑو گے تو مجرم ٹھہرو گے۔ ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ہمیشہ استغفار پڑھا کیا کرتا ہے ہر ایک غم سے آزاد ہوجاتا ہے اور ہر سختی سے اس کو نجات ملتی ہے اور جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا وہاں سے اس کو روزی 1 ؎ ملتی ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2 ؎ یہ لوگ بت پرست تھے اس لئے یہاں استغفار سے مقصود شرک سے باز آنا ہے۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 204 باب الاستغفار بحوالہ سنن ابن ماجہ ابو داؤد وغیرہ۔ 2 ؎ الترغیب ص 295 ج 1 الترغیب نے الاستغفار۔
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں۔

53۔ یہ ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کا جواب ہے جب ہود (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی کہ تم بتوں کا پوجنا چھوڑ دو اور خدا سے استغفار کرو اور آئندہ کے واسطے توبہ کرلو خدا تمہارے رزق میں اور اولاد میں ترقی کرے گا۔ تو ان لوگوں نے یہ جواب دیا کہ تم کوئی سند لے کر خدا کی طرف سے نہیں آئے ہو جو خواہ مخواہ ہم تم پر ایمان لے آئیں اور صرف تمہارے کہنے سے اپنے ان معبودوں کو چھوڑ دیں اور صاف انکار کردیا کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔ ہود (علیہ السلام) کو بھی خدا کی طرف سے عجیب و غریب معجزے ملے تھے قوم عاد نے یہاں پر فقط مخالفت کی راہ سے یہ بات کہی تھی کہ تم کوئی سند لے کر نہیں آئے ہو۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ علم الٰہی میں جو شخص دوزخی ٹھہر چکا ہے وہ دنیا میں آن کر ویسے ہی کام کرتا ہے۔ 1 ؎ قوم ہود کے اس سرکشی کے جواب کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ علم الٰہی میں دوزخی ٹھہر چکے تھے اس لئے ان کو یہ سرکشی کا جواب اچھا معلوم ہوا۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 738 ج 2 تفسیر سورة واللیل اذا یغشی۔
Ayahs 11:54–60

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا (کر دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

(یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے نہ دو ۔

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بیشک میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

اگر تم رودگرانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لابسائے گا۔ اور تم خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے انکو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور انھیں عذاب شدید نجات دی۔

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ (وہی) عاد ہیں جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔

54۔ 60۔ حضرت ہود کی بددعا سے قوم عاد میں تیس برس متواتر قحط رہا جب قحط سے قوم عاد کے لوگ بہت بری حالت میں ہوگئے تو حضرت ہود کو ان پر ترس آیا اس لئے حضرت ہود نے ان کو وہ نصیحت کی جس کا اس رکوع کے شروع میں ذکر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اے قوم عاد اللہ سے اپنے شرک اور بت پرستی کی توبہ استغفار کرو تاکہ اللہ تم پر رحم کرے اور مینہ برسادے اور تمہاری یہ قحط کی حالت رفع ہو مگر شیطان کسی کے دل پر قابو پالیتا ہے تو وہ حق بات کے ماننے کی جگہ حق بات کا الٹا جواب دیتا ہے اس لئے انہوں نے یہ الٹا جواب دیا کہ اے ہود تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور تم جو ایسی باتیں کرتے ہو اس کا سبب یہ ہے کہ تم اکثر ہمارے معبودوں کو برا کہتے رہتے ہو اس کے برے اثر سے تم مجنون اور دیوانے ہوگئے ہو آخر لاچار ہو کر حضرت ہود نے یہ جواب دیا کہ میں تو تم کو جو نصیحت کرتا تھا وہ کرچکا تم نہیں مانتے تو اللہ تعالیٰ تم کو ہلا کر کے تمہاری جگہ دوسری قوم زمین پر آباد کرے گا آخر وہی ہوا کہ سخت آندھی سے یہ لوگ غارت ہوئے اور قوم ثمود ان کی جگہ آباد ہوئی دوسرا جواب ہود (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ دیا کہ اے قوم میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم لوگ بھی اس کے گواہ رہو کہ میں تمہاری ان شرک کی باتوں سے بیزار ہوں کہ تمہارے بتوں کو یہ قدرت ہے جو انہوں نے مجھ کو دیوانہ بنادیا۔ تمہارے بتوں کو کچھ اختیار ہوتا تو وہ تمہارا قحط دفع کردیتے یا تمہاری عورتوں کو اچھا کرتے۔ اگر تمہارا یہی غلط خیال ہے کہ ان بتوں کو کچھ اختیار ہے تو تم اور تمہارے بت مل کر جھٹ پٹ مجھ کو کچھ صدمہ پہنچا دو میرا بھروسہ تو اس ذات پاک پر ہے جس کا اختیار ہر ایک پر چلتا ہے اور میں یہ خوب جانتا ہوں کہ میں سیدھے راستہ پر ہوں اور اللہ تعالیٰ کا انتظام بھی سیدھا ہے وہ کسی بےگناہ کو کسی آفت میں نہیں پھنسنے دیتا اور مجھے جو نصیحت کرنی تھی وہ میں تمہیں کرچکا تم نہیں مانتے تو اللہ تعالیٰ تمہیں غارت کر کے تمہاری جگہ دوسری قوم زمین پر آباد کرے گا اور جب اللہ تم کو ہلاک کرنا چاہے گا تو تم اس کا کچھ بگاڑ نہ سکو گے اور اللہ ایسا صاحب قدرت ہے کہ سب چیزیں اس کی نگہبانی میں ہیں تم مجھ کو کچھ نقصان پہنچانا چاہو گے تو مجھ کو اللہ کی نگہبانی کافی ہے نبی کی بددعا سے قوم عاد پر جو دنیا میں سخت آندھی کا عذاب آیا اور عقبی میں وہ لوگ سخت عذاب میں گرفتار ہوئے اب آگے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا کہ اس عذاب سے ہود اور ان کے ساتھ کے ایماندار لوگ تو بچ گئے اور ساری قوم ہلاک ہوگئی عاد کی ہلاکت کے قصہ کا حاصل یہی ہے کہ سات راتیں اور آٹھ دن سخت آندھی ان لوگوں پر مسلط رہی پہلے پہل آندھی کو دیکھ کر یہ لوگ اپنے گھروں میں گھس گئے اور گھروں کے دروازے بند کر لئے آندھی نے ان کے گھروں کے دروازے توڑ ڈالے اور ان لوگوں کو پٹخ پٹخ کر ہلا کردیا یہ تو دینا کے عذاب کا حال ہوا۔ عقبیٰ کا ان لوگوں کا یہ حال فرمایا کہ اللہ کی رحمت سے دور رہیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ عذاب میں گرفتار رہیں گے۔ اب آگے مشرکین مکہ کو تنبیہ فرمائی کہ ملک شام کے سفر میں قوم ہود کی اجڑی ہوئی بستی دیکھ کر عبرت پکڑ و اور سمجھو کہ قوم کے سرکش سرداروں کا کہنا مان کر اللہ کے احکام اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا یہ انجام ہوتا ہے کہ دنیا اور عقبیٰ میں ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے دور جا پڑتے ہیں۔ { اخذ بنا صیتھا } عرب کا ایک محاورہ ہے جو فرمانبرداری کے معنے میں بولا جاتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزرچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ قوم ہود جیسے ظالم بےانصاف لوگوں کو جب تک چاہتا ہے مہلت دیتا ہے اور پھر پکڑتا ہے تو بالکل ہلاک کردیتا ہے۔ 1 ؎ یہ حدیث قوم ہود کی مہلت اور ہلاکت کی گویا تفسیر ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 678 ج 2 باب قولہ وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری الخ۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پید کیا اور اس میں آباد کیا۔ تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بیشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے۔

61۔ ملک شام اور مدینہ کے مابین میں حجر نام کا جو ایک شہر ہے وہاں قوم صالح کے یہ لوگ رہتے تھے حضرت ہود کے اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے درمیان میں سو برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی عمر دو سو اسی برس کی ہوئی ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کو عاد اولیٰ اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت کو عاد ثانی کہتے ہیں تین سو سے ہزار برس تک کی عمر کے لوگ اس قوم میں گزرے ہیں سورة اعراف میں ان کی قوم کا قصہ گزرچکا ہے۔ صحیح بخاری مسند امام احمد اور مستدرک حاکم وغیرہ کی روایتیں اوپر گزرچکی ہیں کہ تبوک کے جاتے وقت آنحضرت ﷺ اور صحابہ کا گزرجب اس ثمود کی اجڑی ہوئی بستی پر سے ہوا تو آپ نے صحابہ کو حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ چاہا اور پھر اس معجزہ کی اونٹنی کی قدر نہ کی۔ آخر ساری قوم ہلاک ہوگئی اور جس کنویں سے وہ اونٹنی پانی پیا کرتی تھی اس کنویں کے سوا اور کنویں کے پانی کے استعمال کو آپ نے منع کیا اور فرمایا کہ جب تک اس بستی سے گزر نہ ہوجاوے خدا سے ڈرنا اور رونا چاہئے خدا کا عذاب آتے ہوئے کچھ دیر نہیں لگتی۔ اونٹنی کے کنویں کے سوا اور کنویں کے پانی سے جس قدر صحابہ نے آٹا گوندھ لیا تھا وہ گوندھا ہوا آٹا آپ نے پھینکوا دیا۔ ابن ابی عاصم ؓ ایک صحابی نے پوچھا کہ حضرت میں اپنا یہ گوندھا ہوا آٹا اپنے اونٹ کو کھلا دوں تو آپ نے اجازت دی مگر کسی آدمی کو وہ آٹا استعمال نہیں کرنے دیا۔ 1 ؎ تاکہ ایسے اللہ کے غصہ کی جگہ صحابہ کا نڈر پنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند نہ معلوم ہو۔ { ھو انشاء کم من الارض } اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا ان ہی آدم کی اولاد میں تم ہو۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ اللہ تعالیٰ کی ایک قدرت جتلائی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مٹی کے پتلے میں وہ تاثیر رکھی ہے کہ اس سے سلسلہ بہ سلسلہ سب بنی آدم پیدا ہوتے ہیں۔ پھر ایسے صاحب قدرت کی تعظیم کو چھوڑ کر تم پتھر کی مورتوں کو کیوں پوجتے ہو جس میں کسی طرح کی کوئی قدرت نہیں۔{ واستعمرکم فیھا } اس کا مطلب یہ ہے کہ جس زمین سے سلسلہ بہ سلسلہ اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا اسی زمین میں پھر تم کو آباد کیا کہ اس میں مکان بناتے ہو باغ لگاتے ہو کھیتی کرتے ہو غرض یہ سب انتظام اسی لئے ہے کہ تم بت پرستی چھوڑ کر خالص دل سے اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت اور پچھلے شرک سے توبہ استغفار کرو اور یہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ شرک سے بچنے والے بندوں کی ہر طرح کی خبر گیری سے کچھ دور نہیں ہے بلکہ ان کی ہر طرح کی التجا قبول کرنے کو موجود ہے سورت بقرہ کی آیت { واذا سألک عبادی عنی فانی قریب (2: 186)} کو اور استغفار کے باب میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث جو اوپر گزری کہ استغفار سے رزق بڑھ جاتا ہے اور ہر طرح کی سختی آسان ہوجاتی ہے۔ اس حدیث کو اس آیت کے آخری ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خالص دل سے عبادت کرے گا اللہ اس سے قریب اور اس کی ہر طرح کی خواہش کا جواب دینے اور اس کی توبہ استغفار کے سبب سے اس کے رنج و غم اور تنگدستی کے رفع کرنے کو موجود ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 478 ج 1۔ باب قولہ تعالیٰ والے ثمود اخاہم صالخا الخ و تفسیر ابن کثیر 227 ج 2۔
Ayahs 11:62–63

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوچنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں۔ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں قومی شبہہ ہے۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا قوم ! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اسکے سامنے میری کون مدد کریگا ؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو۔

62۔ 63 یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا جواب ہے جب حضرت صالح نے ان کو خدا کا پیغام پہنچایا کہ تم خالص خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پوج سے باز آؤ تو یہ جواب ان لوگوں نے دیا کہ ہم لوگوں کو تجھ سے بڑی بڑی امیدیں تھیں ہم سمجھتے تھے تو بڑا ہونہار لڑکا ہے باپ دادا کے دین کو ترقی دے گا اور تجھ سے ہر ایک بات میں ہم کو مدد ملے گی۔ افسوس ہماری ساری امیدیں خاک میں مل گئیں تو ہم لوگوں کو باپ دادا کے قدیم راہ و رسم سے روکنے لگا۔ ہمارے باپ دادا جن معبودوں کی عبادت کرتے تھے ان کو کیوں کر ہم چھوڑ سکتے ہیں ہمیں تو تیری طرف سے شک ہوگیا ہے اور جس بات کی تو ہمیں نصیحت کرتا ہے اور جس کی طرف تو بلاتا ہے اس پر ہم لوگوں کا اطمینان نہیں ہے۔ پھر صالح (علیہ السلام) نے ان کو جواب دیا کہ اچھا تم بتلا دو کہ خدا نے تو مجھے طرح طرح کے معجزے اور نشانیاں دے کر اور رسول بنا کر تمہارے پاس بھیجا اگر میں تم لوگوں کا لحاظ اور پاس کر کے خدا کا پیغام پہنچانے سے کسی طرح دریغ کروں اور تمہیں اس کی طرف بلانے میں سستی کروں تو پھر کون میری مدد کرے گا اور کون خدا قہار کے عذاب سے نجات دے گا اس لئے میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا کیوں تم سے گھاٹے اور نقصان کے سوا اور کچھ بھی نہیں حاصل ہوگا۔ قوم ہود کے جواب کی تفسیر میں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث جو گزری وہی حدیث اس جواب کی بھی گویا تفسیر ہے۔
Ayahs 11:64–68

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور (یہ بھی کہا کہ) اے قوم ! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اسکو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تو (صالح نے) کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن (اور) فائدے اٹھالوں۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) بیشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے۔

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے

64۔ 68۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی اللہ نے قبول کی اور پتھر کے اندر سے ایک اونٹنی پیدا کردی۔ اونٹنی نے اسی وقت ایک بچہ دیا وہ بچہ بھی اسی وقت ماں کے برابر ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ یہ خدا کی اونٹنی ہے اسے چھوڑ دو جہاں اس کا جی چاہے گا چرے گی تم اسے نہ ستانا اور نہ بری طرح چھیڑنا اگر ستاؤ گے تو یاد رکھو بہت جلد عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ مگر یہ قوم کب ماننے والی تھی ایک شخص قدار نامی نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم نے میری بات نہ مانی آخر اونٹنی کو ستایا اب تم لوگ دنیا میں اور تین روز کھا پی لو اور اپنے اپنے گھروں میں عیش و آرام کرلو آج کے چوتھے دن تم پر عذاب آئے گا اور اس کو ذرا بھی جھوٹ نہ سمجھو خدا کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوا کرتا جس روز ان لوگوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹیں وہ بدھ کا دن تھا اتوار کی رات کو وہ سب سوتے تھے کہ یک بیک آسمان سے اس زور کی آواز آئی کہ ان بدبختوں کے کلیجے پارہ پارہ ہوگئے اور جس طرح پڑے سوتے تھے ویسے کے ویسے مر کر رہ گئے اور بالکل پیوند زمین ہوگئے۔ گویا یہ شہر ان سے بسا ہی نہ تھا اور اللہ پاک نے صالح (علیہ السلام) اور مومنین کو اپنی رحمت سے اس عذاب سے بچا لیا اور ان لوگوں کی طرح رسوائی سے الگ رکھا پھر خدا نے فرمایا کہ دیکھو قوم ثمود نے توحید کا انکار کیا اور کافر کے کافر ہی رہے اسی واسطے خدا کی رحمت سے دور پڑگئے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث جو گزر چکی ہے کہ ایسے نافرمان لوگوں کو اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے مہلت دیتا ہے۔ اور پھر جب پکڑ لیتا ہے تو بالکل ہلاک کردیتا ہے ثمود کی مہلت اور ہلاک کی بھی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
Ayahs 11:69–73

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔ ابھی کچھ وقفہ نہیں ہوا تھا کہ (ابرہیم) بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

جب دیکھا کہ ان کہ ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجئے ہم قوم لوط کی طرف (انکے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا ؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہی۔ وہ سزا وار تعریف اور بزرگوار ہے۔

69۔ 73۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تمہید کے طور پر لوط (علیہ السلام) کے قصے سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بھائی تھے جن کا نام ہاران تھا انہیں کے بیٹے حضرت لوط (علیہ السلام) تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہی سب سے پہلے ایمان لائے تھے۔ نوح (علیہ السلام) سے دو ہزار چھ سو بیالیس برس کے بعد یہ بھیجے گئے تھے ان کی عمر ایک سو پچھتر برس کی ہوئی ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کی عمر ایک سو اسی برس کی ہوئی اور ابراہیم کے پوتے یعقوب بن اسحاق (علیہ السلام) کی عمر ایک سو پنتالیس سال کی ہوئی۔ ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین ایک ملک ہے وہاں رہتے تھے اور لوط (علیہ السلام) ملک شام کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ فرشتوں کو خدا نے حکم دیا کہ لوط کی قوم پر عذاب لے کر جاؤ صحیح قول کے مطابق تین فرشتے تھے۔ جبرئیل، میکائیل، اسرافیل۔ یہ تنیوں خوبصورت لڑکوں کی صورت بن کر پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشی سنانے کو آئے اور آتے ہی سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی سلام کا جواب دیا مگر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو پہچانا نہیں۔ مہمان سمجھا اور اپنی عادت کے موافق کہ جب کوئی مہمان آجاتا تو خاطر تواضع کرتے تھے ان کے کھانے پینے کا بھی انتظار کرنے لگے اور ایک جوان گائے ذبح کر کے اس کے کباب لگائے۔ حنیذ کے معنے مفسروں نے یہ لکھے ہیں کہ گرم پتھر پر گوشت کے کباب لگانا جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے مہمانوں کے آگے کھانا رکھا تو ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھے کیونکہ فرشتوں کی غذا خدا کی تسبیح ہے دنیا کی کھانے پینے سے ان کو کچھ رغبت نہیں اور نہ دنیا کا کھانا پینا ان کے لئے مقرر کیا گیا ہے جب ان مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) دل میں بہت ڈرے کہ یہ کیسے مہمان ہیں جو کھانا نہیں کھاتے اور ان کی قوم میں یہ دستور بھی تھا کہ جب کوئی مہمان آئے اور کھانا نہ کھائے تو ڈرتے تھے کہ خدا خیر کرے یہ کسی برے ارادے سے آیا ہے کیوں کہ اس زمانہ کے لوگ جس کا نمک کھالیتے تھے اس کے ساتھ پھر کچھ دغا نہیں کرتے تھے اور جس کے ساتھ دغا کا ارادہ ہوتا تھا اس کا نمک نہیں کھاتے تھے اس لئے اس کے گھر کے کھانے سے بچتے تھے۔ غرض جب ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں خوف ہوا تو قیاس یا خدا کے حکم سے ان فرشتوں نے سمجھ لیا اور کہا کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) تم ڈرو نہیں ہم خدا کے بھیجے ہوئے ہیں۔ لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب لے کر بھیجے گئے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک کنیز تھیں ہاجرہ نام جن سے اسمعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے اور ان کی بیوی جن کا نام سارہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا ہارون کی بیٹی تھیں ان کے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی یہ پردے کی آڑ میں کھڑی تھی کہ مہمانوں کی تواضع جو مجھ سے متعلق ہوگی وہ میں بھی کروں گی جب انہوں نے یہ سنا کہ یہ فرشتے ہیں اور لوط کی قوم پر عذاب لے کر چلے ہیں تو ہنسیں۔ اب مفسروں نے کئی سبب ان کی ہنسی کے بیان کئے ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ اس بات پر ہنسی تھیں کہ جس قوم پر یہ عذاب لے کر جارہے ہیں انہیں اب تک اس کی خبر بھی نہیں ہے کسی نے کہا ہے کہ ان کے اور ابراہیم (علیہ السلام) کی گفتگو پر ہنس پڑیں کسی نے کہا ہے کہ اپنے شوہر کے خوف پر ہنسی تھیں کہ یہ مہمان تو صرف تین ہی شخص ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تو بہت سے آدمی ہیں کوئی کہتا ہے کہ بڑھاپے میں اولاد کی بشارت سن کر تعجب سے ہنس دیں۔ غرض کہ ان کو بشارت دی گئی کہ تمہارے بطن سے حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوں گے اور ان کے بعد یعقوب (علیہ السلام) تمہارے پوتے پیدا ہوں گے یہ سن کر ان کو بہت تعجب ہوا اور کہا یہ تو بڑی خرابی کی بات ہے۔ میں بوڑھی ہوگئی میری عمر قریب نوے بانوے برس کی ہوگئی اور میرے شوہر بالکل بو ڑھے سو برس کی عمر کے ہیں اس عمر میں لڑکا ہونا بہت ہی اچنبے کی بات ہے ان فرشتوں نے جواب دیا کیا تم خدا کی باتوں سے تعجب کرتی ہو خدا کے کارخانہ میں سب کچھ ہے اس کی قدرت تو اس سے بھی زیادہ ہے۔ یہ تو کوئی تعجب کی بات نہیں 1 ؎ اے گھر والو خدا کی رحمت تم پر ہے اور برکت بھی ہے کہ اسحاق کے بعد تم اپنے پوتے اسحاق کے بیٹے کو بھی دیکھو گے وہ خدا بڑا تعریف اور بزرگی کے قابل ہے تفسیر ابن منذر وغیرہ میں عمرو بن دینار ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب فرشتوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کیا بات ہے انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھانا بلا قیمت نہیں کھاتے ہیں جس کا جواب ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دیا کہ اس کھانے کی یہی قیمت ہے اور ان کے پوچھنے پر بتلایا کہ اس کی قیمت یہ ہے کہ کھانے سے پہلے بسم اللہ کی جائے اور کھانے کے بعد خدا کا شکر اس جواب کو سن کر جبرئیل نے میکائیل (علیہ السلام) کی طرف دیکھ کر کہا کیوں نہ ہو ایسے شخص کو خدا کا خلیل بنایا جائے۔ بالکل برحق 2 ؎ ہے۔ یہ روایت تفسیر ابن ابی حاتم میں بھی تفسیر سدی کے حوالہ سے ہے۔ ان اسمعیل بن عبد الرحمن سدی کو امام احمد نے ثقہ کہا ہے۔ ان اسمعیل سدی کی تفسیر اسباط بن نصر ہمدانی نے جمع کی ہے اور ان کو ابن معین نے ثقہ کہا ہے غرض یہ روایت معتبر ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابی شریح خزاعی سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر ایماندار شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے اور یہ بھی فرمایا کہ دعوت کی حد تین دن تک ہے جن میں ایک رات دن کے کھانے میں زیادہ خاطر داری کی جاوے ان ابی شریح کا مشہور نام خویلد بن عمرو ہے۔ مدنی صحابی ہیں۔ 68 میں انہوں نے وفات پائی اوپر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مہمان نوازی کا جو تذکرہ تھا یہ حدیث انس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ نے شرع محمدی میں اس مسئلہ کو ایمان کی نشانی قرار دیا۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 452 ج 2۔ 2 ؎ تفسیر الدرالمنثور ص۔ 34 ج 3۔
Ayahs 11:74–76

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوش خبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے۔

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے ' نرم دل اور رجوع کرنیوالے تھے۔

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم ! اس بات کو جانے دو ۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے گا۔

74۔ 76۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب خوشی سنائی گئی اور ان کا خوف بھی جاتا رہا تو یہ سن کر یہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کو جارہے ہیں ان کا دل بہت کڑہنے لگا اور فرشتوں سے جھگڑنے لگے کہ جس گاؤں میں تین سو مسلمان ہونگے اس کو ہلاک کرو گے۔ فرشتوں نے کہا نہیں، تب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا چالیس تو ہوں گے چالیس نہیں تیس سہی تیس بھی نہ ہوں دس تو ہوں گے۔ دس بھی نہیں سہی ایک تو ہوگا فرشتوں نے کہا ایک بھی نہیں تب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اس گاؤں میں لوط (علیہ السلام) بھی تو ہیں فرشتوں نے جواب دیا ہمیں سب کچھ معلوم ہے جو جو وہاں ہیں۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے گھر والے سوائے ان کی بیوی کے سب بچ جائیں گے اور ان کی بیوی اور سارا گاؤں ہلاک ہوجائے گا۔ مفسروں نے یہی معنے یجادلنا کے بیان کئے ہیں کہ اللہ نے فرمایا میرے رسولوں سے جھگڑا جو کیا اس کا سبب یہ تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) بہت نرم دل تھے چاہتے تھے کہ کچھ دنوں اور عذاب تھم جائے شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں مگر خدا نے فرمایا کہ تو بردبار اور نرم دل ہو اور خدا کی مرضی پر قائم رہنے والے ہو یہ باتیں صرف تمہارے نرم دل ہونے کی وجہ سے ہیں تم اس خیال سے باز آؤ خدا کا حکم جاری ہوچکا ان پر ضرور عذاب آئے گا جو کسی طرح رک نہیں سکتا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ قوم لوط جیسے سرکش لوگوں کو اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے مہلت دیتا ہے اور پھر مہلت کے بعد جب عذاب آجاتا ہے تو کسی کے ٹالے سے نہیں ٹلتا۔ 1 ؎ آخری آیت میں ابراہیم (علیہ السلام) نے سفارش کے نامنظور ہونے کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 678 ج 2 باب قولہ وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری۔
Ayahs 11:77–79

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔ اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم ! (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں یہ تمہارے لئے (جائز اور) پاک ہیں تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں ؟

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں حاجت نہیں اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو۔

77۔ 79۔ خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے بعضے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی صاحبزادی شہر کے دروازے پر پانی بھر رہی تھیں فرشتوں نے آکر ان سے پوچھا اے لڑکی اس بستی میں کوئی جگہ ٹھہرنے کی بھی ہے۔ انہوں نے کہا تم یہی ٹھہرو میں ابھی آتی ہوں وہ دوڑ کر اپنے باپ کے پاس آئیں اور کہا کہ شہر کے دروازہ پر دو تین لڑکے خوبصورت خوبصورت کھڑے ہیں تمہاری قوم کو اگر معلوم ہوجائے گا تو وہ انہیں پکڑ لیں گے کیوں کہ ان کی قوم نے ان سے کہہ رکھا تھا تم کسی کو اپنا مہمان نہ بنایا کرو جو آدمی شہر میں آئے گا اس کو ہم اپنے گھر لے جا کر مہمان بنائیں گے۔ پھر حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی لڑکی کے ساتھ گئے اور ان کو اپنے گھر میں لے آئے اس بات کی خبر سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر کے لوگوں کے اور کسی کو نہ ہوئی مگر لوط (علیہ السلام) ان کے آنے سے دل ہی دل میں بہت کڑھے اور بہت پریشان ہوئے کیوں کہ وہ اپنی قوم کی عادت سے واقف تھے۔ سمجھے کہ آج کا روز بہت سخت ہوگا قوم سے ان کی خاطر لڑنا جھگڑنا پڑے گا۔ جب گھر میں وہ فرشتے آچکے تو ان کی بیوی نے اپنی قوم کو خبر دی کہ ہماری گھر میں جوان جوان اور حسین حسین تین لڑکے مہمان آئے ہیں ان کی قوم یہ خبر سنتے ہی دوڑ پڑی کیونکہ ان کو برے کاموں کی چاٹ لگی ہوئی تھی۔ لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا بھائیو یہ میری لڑکیاں حاضر ہیں اور بھی بہتری عورتیں ہیں۔ تم ان سے نکاح کرلو یہ تمہارے واسطے حلال اور پاک ہیں اور خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے خیال سے درگزر اور مجھے رسوا نہ کرو کیا تم میں ایک شخص بھی نیک اور خدا سے ڈرنے والا نہیں ہے۔ ان کی قوم نے جواب دیا۔ اے لوط تمہیں پہلے سے معلوم ہے کہ ہم کو تمہاری لڑکیوں سے کوئی سروکار نہیں ہم لوگ جس بات کے خواہاں ہیں تم خوب جانتے ہو۔ یہ لوگ خوبصورت لڑکوں سے جو بد فعلی کیا کرتے تھے ان لفظوں میں وہی خواہش انہوں نے ظاہر کی۔ مسند عبد الرزاق اور تفسیر ابن جریر میں قتادہ کا قول ہے کہ لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کے آنے کی خبر سن کر اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا تھا جب قوم کے لوگوں نے دروازہ توڑ کر لوط (علیہ السلام) کے گھر کے اندر گھسنے کا ارادہ کیا تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنی اصلی صورت میں آن کر ایک پر مارا جس سے یہ سب قوم کے لوگ اندھے ہوگئے اور لوط (علیہ السلام) کے گھر کا دروازہ ان کو نظر نہ آیا۔ آخر عمر میں ان عبد الرزاق کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ نابینا ہوجانے کے بعد کی ان کی زبانی روایتوں کے صحیح ہونے میں بعضے علماء کو کلام ہے لیکن ان کی کتابوں کو امام بخاری نے صحیح قرار دیا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا علم الٰہی میں جو شخص دوزخی ٹھہر چکا ہے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ویسے ہی کام بھی وہ کرتا ہے۔ 2 ؎ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ جب تک آنکھوں کے جاتے رہنے سے اپاہج نہ ہوگئے اس وقت تک اپنے بدارادہ پر جمے رہے۔ مسند امام احمد ترمذی اور ابن ماجہ میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے خوف ہے کہ میری امت میں بھی قوم لوط کا فعل بد پھیلے گا 3 ؎۔ اس حدیث سے آنحضرت ﷺ کا بڑا معجزہ نکلتا ہے کیوں کہ جو پیشن گوئی آپ نے فرمائی تھی اس کا ظہور کہیں کہیں اس امت میں موجود ہے۔ حاکم نے جابر بن عبد اللہ ؓ کی اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ 4 ؎ 1 ؎ دیکھو مقدمہ فتح الباری ص 143 ج 2 طبع مصر۔ 2 ؎ صحیح بخاری ص 738 ج 2 تفسیر سورت واللیل اذا یغشی۔ 3 ؎ جامع ترمذی ص 176 ج 1 باب ماجاء فی احد اللوطی والترغیب والترھیب ص 115 ج 2۔ 4 ؎ الترغیب ص 115 ج 2 الترھیب من الواط الخ۔
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط نے کہا کہ اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط قلعہ میں پناہ پکڑ سکتا۔

80۔ جب لوط کی قوم نہیں مانی اور مہمانوں کے لینے میں ضد کی تو لوط (علیہ السلام) نے کہا کاش مجھ میں ذاتی قوت ہوتی یا یہاں میرا کنبہ ہوتا یا اور کوئی دوست احباب حامی مددگار وقت پر ساتھ دینے والے ہوتے تو میں ان سے کہہ کر تمہیں یہاں سے دھکے دلواتا۔ اصل میں اس قوم میں لوط (علیہ السلام) کے کنبہ رشتہ کا کوئی نہ تھا۔ پہلے یہ عراق میں رہتے تھے جب ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کر کے شام کی طرف آئے تو انہیں یہ حکم ہوا کہ تم سدوم گاؤں میں لوگوں کی ہدایت کو جاؤ۔ معتبر سند سے مسند امام احمد میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت لوط کے بعد پھر جو نبی ہوا وہ اہل ثروت ہوا۔ مختصر طور پر یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے۔ { رکن شدید } کے معنے بعضے سلف نے یہی بیان کئے ہیں جو بیان کئے گئے اور بعضے سلف نے { رکن شدید } کے معنے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی طرف لوط (علیہ السلام) نے جب رجوع کیا تو فرشتوں نے یہ کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اس قوم پر عذاب لے کر آئے ہیں یہ لوگ ہمارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تم خاطر جمع رکھو۔ ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث جو اوپر گزری حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد جو نبی ہوا وہ کنبے قبیلہ والا ہوا اس حدیث سے رکن شدیدا کے کنبے قبیلہ کے معنی کی بڑی تائید ہوتی ہے۔
Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا لوط ! ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سہے اپنے گھر والوں کو لیکر چل دو ۔ اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کرنا دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کی جو آفت تم پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان سے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے ؟

81۔ اس سورت میں اور سورت شعراء میں سورت نمل اور سورة والصافات چند سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ ذکر فرمایا ہے حاصل اس قصہ کا یہی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عراق سے ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت فرمائی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں۔ ہجرت کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو فلسطین کے نواح میں رہتے تھے اور حضرت لوط (علیہ السلام) سدوم بستی کے لوگوں کی ہدایت کے لئے نبی ہوئے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے مدت تک ان لوگوں کو ہدایت کی مگر وہ راہ راست پر نہ آئے جب اس قوم کی ہلاکت کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرئیل اور میکائیل اور اسرافیل زمین پر آئے اور پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی خوشخبری سنائی اور پھر حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت کی بستی میں خوبصورت لڑکوں کی صورت میں آئے اور مہمان بن کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں اترے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بی بی نے قوم کے لوگوں کو ان مہمانوں کی خبر کردی قوم کے لوگ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر حملہ کر کے چڑھ آئے حضرت لوط (علیہ السلام) قوم کے لوگوں کے حملہ سے بہت پریشان ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کی پریشانی دور ہونے کی غرض سے ان فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو جتلایا کہ ہم اللہ کے فرشتے ہیں اور پتھروں کا مینہ برسا کر اور بستی الٹ کر اس قوم کو ہلاک اور بستی کو نیست و نابود کردیا اب اس بستی کی جگہ بودار پانی کا ایک چشمہ ہے جو پانی کسی کام میں نہیں آسکتا۔ صحیح بخاری نسائی وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب قوم کے لوگوں کے ہاتھ سے اللہ کے رسول بہت پریشان ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ غیب سے اپنے رسولوں کی مدد فرماتا 1 ؎ ہے۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ لوط (علیہ السلام) جب قوم کے لوگوں کے ہاتھ سے بہت پریشان ہوئے تو ایک مدد تو غیب سے یہ ہوئی کہ وہ لوگ اندھے ہوگئے دوسری مدد یہ ہوئی کہ اللہ کے حکم سے فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کی دلجمعی کردی کہ صبح کو اس قوم پر عذاب آئے گا۔ بعضے سلف کا قول ہے کہ لوط (علیہ السلام) اپنی قوم کی سرکشی سے یہاں تک تنگ آگئے تھے کہ انہوں نے رات کو ہی عذاب کے آجانے کی تمنا ظاہر کی اس کا جواب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے یہ دیا کہ عذاب کے آنے کا مقررہ وقت صبح ہے اور صبح بھی نزدیک ہے کچھ دور نہیں ہے۔
Ayahs 11:82–83

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر پتھر کی تہ بہ تہ (یعنی پے در پے) کنکر یاں برسائیں۔

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں۔

82۔ 83۔ جب لوط (علیہ السلام) کو حکم ہوگیا کہ آپ معہ اہل و عیال کے فقط اپنی بیوی کو چھوڑ کر اس گاؤں سے چلے جائیں اب ان پر عذاب آوے گا اور کوئی تم میں سے پیچھے مڑ کر نہ دیکھے غرض کہ حضرت لوط (علیہ السلام) خدا کے حکم سے باہر چلے گئے اور خدا کا عذاب آیا جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنا پر زمین کے اندر ڈال کر اس زمین کا طبقہ اٹھا لیا اور آسمان کی طرف لے گئے۔ مفسروں نے بیان کیا ہے کہ آسمان والوں نے اس وقت مرغوں کے بولنے اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنیں پھر جبرئیل (علیہ السلام) نے اس طبقہ کو اٹھا کر زمین کی طرف پھینک دیا یہ لوگ اوندھے آکر زمین پر پڑے یہی معنی ہیں جعلنا عالیھا سلفھا کے مطلب یہ ہے کہ خدا نے اس گاؤں کی زمین ہی کو الٹ دیا پھر پتھر کی کنکریوں کی بھرمار اوپر سے ہوئی۔ سنگ فارسی میں پتھر کو کہتے ہیں اور گل مٹی کو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ ان دونوں لفظوں کو ملا کر سجیک بنا ہے مطلب یہ ہے کہ وہ پتھر مٹی کے ملے ہوئے کھنگر تھے۔ منضود کا مطلب یہ ہے کہ کنکریاں اس طرح پھینکی گئیں کہ ایک ذرا بھی مہلت نہ دی گئی پے در پے آتی تھیں مسرمۃ کے یہ معنے بیان کئے گئے ہیں کہ ان کنکریوں پر لوگوں کے نام کی مہریں لگی ہوئی تھیں جس کے نام کی کنکری ہوتی اسی پر پڑتی تھی۔ مجاہد ؓ کا قول ہے کہ یہ عذاب ان لوگوں پر صبح کے وقت نازل ہوا تھا۔ پھر خدا نے فرمایا کہ یہ بات ظالموں سے کچھ بعید نہیں ہے وہ لوگ اپنے ظلم کے سبب سے اسی لائق تھے کہ وہاں کی زمین بھی تلے اوپر کردی جائے بعضوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ کفار مکہ کی طرف خطاب ہے کہ یہ لوگ بھی ظلم پر کمر باندھے ہوئے ہیں ان سے اور اس گاؤں سے کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ہے ملک شام مکہ سے قریب ہی ہے ان کے ظلم کا بھی یہی نتیجہ ہوگا کہ ان کی طرح ان پر بھی کوئی عذاب نازل ہو بعض مفسروں کا یہ بھی بیان ہے کہ چار گاؤں تھے ان میں سدوم زیادہ بڑا تھا ایک لاکھ کی بستی تھی تین لاکھ باقی کی بستیوں میں تھے سب کے سب ہلاک ہوئے ایک بھی نہیں بچا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ ایسے سرکش لوگوں کو اللہ تعالیٰ جب پکڑتا ہے۔ تو بالکل ہلاک کردیتا ہے۔ 1 ؎ یہ حدیث اس ہلاک کی گویا تفسیر ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 678 ج 2 باب قولہ وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری۔
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ اور تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا۔

84۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک بیوی اور تھیں جن کا نام قنطورا تھا یہ یقظان کنعانیہ کی بیٹی تھیں ان سے آٹھ بچے پیدا ہوئے تھے جن میں سے ایک کا نام مدین تھا اس مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) نے ملک حجاز اور ملک شام کے درمیان میں ایک گاؤں بسایا جس کا نام مدین مشہور ہوگیا۔ یہ گاؤں مدین بحر قلزم کے کنارے تبوک کے سامنے چھ منزل پر واقع ہے مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی یہیں بودو باش رہی ان کی نسل سے جو پیدا ہوتے گئے یہیں بستے گئے۔ رفتہ رفتہ ایک بہت بڑا قبیلہ ہوگیا تبوک سے اس کی آبادی زیادہ ہوگئی مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کی اولاد میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے باپ پیدا ہوئے اس لئے اللہ پاک نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو قبیلہ مدین کا بھائی فرمایا مدین والے بہت خوش حال تھے ان میں ایک عادت علاوہ بت پرستی کے اور بھی تھی کہ جب کوئی سودا خریدتے تھے تو بڑوہتی لیتے تھے اور جب بیچتے تھے تو کم دیتے تھے۔ دو قسم کے پیمانے اور بٹے بنا رکھے تھے بیچنے کا اور خریدنے کا اور اللہ جل شانہ نے انہیں لوگوں میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور نبی بنا کر حکم دیا کہ ان کو خدا کی طرف بلاؤ شعیب (علیہ السلام) نے ان کو ہدایت کی کہ تم خدائے وحدہ لا شریک کی عبادت کرو اور ناپ تول میں کمی بیشی نہ کیا کرو پورا پورا تول کرلو اور پورا پورا تول کر دو اللہ پاک نے تمہیں آسودہ حال بنایا ہے اگر ایسا نہ کرو گے تو خوف ہے کہ یہ نعمت تم سے چھن جائے اور سختی و تنگی کا سامنا ہو اور تم پر ایسا عذاب آئے کہ تم اس سے بچ نہ سکو۔ معتبر سند سے نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ میں جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگوں کی عادت آپ نے کم تولنے اور کم ناپنے کی پائی لیکن پھر آپ کی نصیحت سے اکثر لوگوں نے وہ عادت چھوڑ دی 1 ؎۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم شعیب (علیہ السلام) کی طرح عرب میں بھی کم تولنے اور کم ناپنے کی عادت تھی لیکن آنحضرت ﷺ کے سبب سے لوگوں کی وہ عادت باقی نہیں رہی۔ 1 ؎ الترغیب ص 13 ج 2 الترھیب من تجس الکیل والوزن۔
Ayah 11:85

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے قوم ! ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو۔

85۔ جمہور مفسرین کا قول ہے کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ ایک ہی امت کا نام ہے اور اسی ایک امت کے حضرت شعیب (علیہ السلام) نبی تھے لیکن فقط قتادہ اور عکرمہ کا یہ قول ہے کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ جدا جدا دو امتیں ہیں اور حضرت شعیب (علیہ السلام) دو امتوں کے نبی ہوئے ہیں جمہور مفسرین نے اس قول پر طرح طرح سے اعتراض کیا ہے۔ اس سورت اور سورت شعراء کے قصہ کو ملا کر دیکھا جاتا ہے تو کم تولنے اور قراقی کی اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ کی ایک ہی سی بد عادتیں اللہ تعالیٰ نے دونوں سورتوں میں ذکر فرمائی ہیں جس سے اسی قول کی تائید ہوتی ہے کہ دونوں سورتوں میں ایک ہی امت کا ذکر ہے یہ قصہ سورت قصص میں آوے گا کہ فرعون اور فرعون کی قوم کے خوف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے بدین کو چلے گئے اور مدین میں ایک بزرگ کی لڑکی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوا اس قصہ میں مشہور قول تو یہی ہے کہ وہ بزرگ یہی حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے لیکن اس مشہور قول پر حافظ ابن کثیر اور مفسرین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی امت کو یہ نصیحت کی ہے کہ تم لوگوں کے زمانہ سے تھو ڑے ہی زمانہ آگے قوم لوط کے لوگ عذاب الٰہی میں گرفتار ہوچکے ہیں سرکشی کرو گے تو تم لوگ بھی عذاب الٰہی میں گرفتار ہوجاؤ گے اور یہ تو صحیح تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوچکا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں چار سو برس سے زیادہ کا فاصلہ ہے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک حضرت شعیب کیوں کر زندہ رہ سکتے ہیں اس کا جواب بعضے مفسروں نے یہ دیا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی عمر بڑی ہوئی ہے لیکن یہ جواب کسی سند کا محتاج ہے اس واسطے حافظ ابن کثیر نے یہی بات صحیح قرار دی ہے کہ وہ بزرگ حضرت شعیب (علیہ السلام) نہیں تھے بلکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جن کا نام شہرون 1 ؎ تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی بعض حدیثوں میں جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا نام اور ذکر آیا ہے ان حدیثوں کی سند صحیح نہیں 2 ؎ ہے۔ تفسیر ابن ابی حاتم تفسیر ابن جریر اور ابن عساکر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ قوم شعیب کے لوگ مدین کے راستہ پر بیٹھ جاتے تھے اور مدین کے آنے والے مسافروں کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی باتیں نہ سننے کی طرح طرح سے پٹی پڑھاتے تھے اور مسافروں کا مال بھی اکثر لوٹ لیتے تھے اسی کو ولا تعثوا فی الارض مفسدین فرمایا۔ غرض درختوں کے پوجنے کے سوا راستہ پر بیٹھ کر مسافروں کے بہکانے اور لوٹنے کی کم تولنے اور ناپنے کی بری عادتیں ان لوگوں میں تھیں۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو لوگ علم الٰہی میں دوزخ کے قابل قرار پا چکے ان کو ویسے ہی کام دنیا میں اچھے معلوم ہوتے ہیں یہ حدیث 3 ؎ ان لوگوں کی حالت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شعیب (علیہ السلام) نے اگرچہ ان لوگوں کو راہ راست پر لانے کی بہت کوشش کی مگر یہ لوگ علم الٰہی میں دوزخ کے قابل قرار پاچکے تھے اس لئے شعیب (علیہ السلام) کی وہ سب کوشش رائیگاں گئی اور یہ لوگ مرتے دم تک راہ راست پر نہ آئے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثر ص 384 ج 3۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 384 ج 3۔ 3 ؎ صحیح بخاری ص 738 ج 2 تفسیر سورة واللیل اذا یغشی۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اگر تم کو (میرے کہنے کا) یقین ہو تو خدا کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لئے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

86۔ جب شعیب (علیہ السلام) قوم مدین کو خالص خدا ہی کی عبادت کرنے اور ناپ تول میں پورا پورا لینے دینے کو کہہ چکے تو پھر فرمایا کہ پورا پورا ناپنے اور تولنے کے بعد خدا کا دیا ہوا تم کو بچ رہے وہ تمہارے لئے بالکل پاک اور حلال ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں کہ تمہیں گناہ میں نہ پڑنے دوں یا میرے ہاتھ میں تمہارا حساب کتاب نہیں ہے جس کا بدلہ تمہیں میں دوں میں تو خدا کی طرف سے صرف تمہاری جس نصیحت کو بھیجا گیا ہوں اس نصیحت کا مطلب میں نے تمہیں سمجھا دیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے بقیت اللہ کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ خدا کا رزق تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایماندار ہو اور مجاہد نے کہا ہے کہ اگر تم لوگ ایمان والے ہو تو خدا کی عبادت تمہارے لئے کافی ہے 1 ؎۔ معتبر سند سے ابن ماجہ صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی کا رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے اس لئے رزق کی تنگی سے آدمی کو گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ حلال کمائی کی جستجو اور حرام کمائی سے بچنے کی کوشش میں ہمیشہ لگے رہنا چاہیے 2 ؎ ان آیتوں میں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو حلال کمائی کی جو نصیحت کی ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 456 ج 2۔ 2 ؎ الترغیب ص 5 ج 2 و مستدرک حاکم ص 4 ج 3۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم انکو ترک کردیں۔ یا اپنے مال میں جو تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو۔

87۔ خازن میں عبد اللہ بن عباس ؓ کا اور ابن عساکر میں اخنف میں قیس کا قول ہے کہ شعیب (علیہ السلام) پہلے رسولوں میں سے زیادہ نماز پڑہا کرتے 1 ؎ تھے۔ اسی واسطے ان کی قوم نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری نماز نے یہ باتیں سکھلائی ہیں جو تم ہم کو بتوں کی عبادت اور پورا ناپنے تولنے کی تاکید کرتے ہو۔ یہ اخنف بن قیس ثقہ تابعی ہیں اور سب حدیث کی کتابوں میں ان کی روایتیں ہیں بعضے سلف نے لکھا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے نماز کا طعنہ اس لئے دیا کہ نماز دین کے کل رکنوں سے زیادہ مرتبہ رکھتی ہے اس لئے نماز سے مقصود گویا دین ہے بہر حال شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے ان کو یہ جواب دیا کہ یہ سب تمہاری نماز کا اثر ہے جو تم ہم لوگوں کو ہر بات سے منع کرتے ہو ایسا کب ممکن ہے کہ ہم ان بتوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے اور اپنے مال کے بھی ہم مختار ہیں جس طرح چاہیں گے الٹ پھیر کریں گے تم کون منع کرنے والے پھر بطور طعن کے یہ بات کہی کہ تم بڑے بردبار اور نیک بخت ہو کہ ہماری عادتوں کو برا جانتے ہو۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے اگرچہ شعیب (علیہ السلام) کو حلیم و رشید کہا مگر اس سے مراد ان کی یہ تھی کہ تم بڑے بیوقوف ہو کیوں کہ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ کسی کو کہا جائے آپ بڑے عقل مند ہیں مگر اس سے یہ مراد لی جائے کہ آپ نرے بیوقوف ہیں بعض مفسروں نے یہ بھی کہا ہے کہ فی الحقیقت شعیب (علیہ السلام) ان لوگوں کے نزدیک بردبار اور نیک بخت تھے جب ہی ان لوگوں نے کہا مگر مطلب ان لوگوں کا یہ تھا کہ تم اس صفت کے آدمی ہو کر باپ دادا کے قدیم دین و آئین سے ہم کو پھیرتے ہو۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی یہ حدیث جو اوپر گزری کہ جو لوگ علم الٰہی میں دوزخ کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ویسے ہی کام کرتے ہیں 2 ؎ اس حدیث سے ان لوگوں کے اس سرکشی کے جواب کا سب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ 1 ؎ تفسیر خازن ص 363 ج 2 و تفسیر الدر المنثور ص 346 ج 3۔ 2 ؎ صحیح بخاری ص 738 ج 2 تفسیر سورة واللیل اذا یغنشی
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے ہاں سے مجھے نیک روزی دی ہو۔ (تو میں انکے خلاف کرونگا ؟ ) اور میں نہیں چاہتا کہ جس امر سے میں تمہیں منع کروں خود اس کو کرنے لگوں۔ میں تو جہاں تک مجھ سے ہو سکے (تمہارے معاملات کی) اصلاح چاہتا ہوں اور (اس بارے میں) مجھے تو فیق کا ملنا خدا ہی (کے فضل) سے ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

88۔ یہ جواب ہے شعیب (علیہ السلام) کا جو انہوں نے اپنی قوم کو دیا تھا کہ اے قوم خدا نے مجھے یہ ظاہر ظاہر معجزے دئیے اور نبوت دی اور مجھے دنیا میں پاک اور حلال روزی دے رکھی ہے میں جن باتوں سے تمہیں روکتا ہوں چھپ چھپا کر میں بھی ان کو نہیں کروں گا یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ تمہیں تو کسی کام سے میں منع کروں اور میں آپ اس کام کو کروں میرا ارادہ تو اصلاح کا ہے میں تو یہ چاہتا ہوں کہ جہاں تک ہو تمہاری آخرت اور دنیا دونوں درست ہوجاویں اور میں تابمقدور تمہارے معاملات درست کرنا چاہتا ہوں اور میرا ہدایت کرنا اور راہ حق بتانا خدا کی مدد سے ہے اور اسی پر میرا بھروسہ بھی ہے اور میں اسی کی طرف پھر کر جانے والا بھی ہوں۔ صحیح بخاری و مسلم میں اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ میں بعضے دوزخ میں بعضے لوگوں پر سخت عذاب دیکھ کر اور دوزخی ان سے پوچھیں گے کہ تم تو ہم کو ناجائز باتوں سے روکا کرتے تھے پھر تم اس طرح کے سخت عذاب میں کیوں کر گرفتار ہوگئے وہ لوگ جواب دیویں گے کہ جن باتوں سے ہم اوروں کو روکا کرتے تھے ہم خود ان باتوں میں در پردہ گرفتار تھے۔ اس لئے یہ عذاب آج ہم کو بھگتنا پڑا 1 ؎ یہ حدیث ومآ ارید ان اخالفکم الی مآ انھا کم عنہ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی دوسرے کو بری بات سے روکنا اور خود اس میں گرفتار رہنا بڑے وبال کی بات تھی۔ اس لئے شعیب (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں قوم کے لوگوں کو یہ بھی جتلادیا کہ جن باتوں سے میں تمہیں روکتا ہوں میں بھی ان باتوں کو کبھی ہرگز نہیں کرنے کا۔ 1 ؎ الترغیب ص 101 ج 2 الترھیب من ان بأمر بمعروف الخ۔