Ayahs 11:89–9089۔ 90۔ پھر حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ میری ضد میں آکر کبھی تم اپنی بات پر نہ اڑے رہنا میرے کہنے پر عمل کرو نہیں تو جس طرح نوح (علیہ السلام) اور ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب آیا اور ہلاک ہوگئے اسی طرح تم پر بھی عذاب آجائے گا اور پھر کچھ نہ بن آئے گا ابھی کچھ زیادہ دن نہیں ہوئے کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم ہلاک ہوچکی ہے کل کی بات ہے وہ سرزمین بھی کچھ زیادہ دور نہیں قریب ہی ہے تم کو واجب ہے توبہ استغفار کرو خدا مہربان ہے اپنے بندوں سے اس کو محبت ہے وہ تمہاری توبہ قبول کرے گا اور گناہ بخش دے گا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا گناہوں کے معاف کرنے کی صفت اللہ تعالیٰ کو ایسی پیاری ہے کہ اگر دنیا میں کے حال کے لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ اور گنہگار مخلوقات پیدا کرتا اور ان کو توبہ کی توفیق دے کر ان کے گناہ معاف کرتا 1 ؎۔ یہ حدیث آخری آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ توبہ کرنے والے شخص کی توبہ قبول کرنے کی صفت اللہ کو پیاری ہے اور توبہ کرنے والوں سے اس کو ایک طرح کی محبت ہے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 203 باب الاستغفار والتوبۃ۔
Ayahs 11:91–9291۔ 92۔ جب شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے ہی گئے تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ شعیب (علیہ السلام) تم جس قدر ہم لوگوں کو سمجھاتے ہو ہماری سمجھ میں ایک نہیں آتا اور تم ہم لوگوں سے بہت کمزور ہو ہمیں تمہارے بھائی بندوں کا خیال ہے نہیں تو مارے پتھروں کے تم کو سنگ سار کردیتے تم ان باتوں سے اب ہم کو اچھے نہیں لگتے بعضے مفسروں نے بیان کیا ہے کہ ضعیف کے معنے یہاں نابینا کے ہیں کیوں کہ شعیب (علیہ السلام) خدا کی محبت میں اتنا روئے تھے کہ ان کی آنکھیں جاتی رہی تھیں پھر شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی بندوں کا خیال ہے وہ کیا خدا سے بھی زیادہ تمہیں عزیز ہیں ان کی عزت کا خیال کر کے مجھے چھوڑتے ہو اور خدا کو تم نے پس پشت ڈال رکھا جس کی عزت کے سامنے کسی کی بھی عزت نہیں خیر جو کچھ تم کرتے ہو اور جتنے عمل تمہارے ہیں سب کو خدا کا علم گھیرے ہوئے ہے وہ ذرہ ذرہ جانتا ہے تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کثرت گناہوں کے سبب سے آدمی کے دل پر ایک زنگ لگ جاتا ہے جس سے نیک بات اس کے دل پر اثر نہیں 1 ؎ کرتی۔ قوم شعیب (علیہ السلام) نے شعیب (علیہ السلام) سے یہ جو کہا کہ تمہاری نصیحت ہماری سمجھ میں نہیں آتی یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شرک اور کثرت گناہوں سے ان لوگوں کے دل پر زنگ چھا گیا تھا جس سے شعیب (علیہ السلام) کی نصیحت کا نہ ان کے دل پر کچھ اثر ہوتا تھا نہ وہ نصیحت ان کی سمجھ میں آتی تھی۔
1 ؎ جامع ترمذی ص 169 ج 2 تفسیر سورة ویل اللمطففین والترغیب ص 296 ج 1۔ باب الاستغفار۔
Ayah 11:9393۔ پہلے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اصحاب مدین کو شرک اور کم تولنے کی عادت سے توبہ استغفار کرنے کی نصیحت کی اور یہ کہا کہ مجھ کو ڈر ہے کہ اگر تم میرا کہنا نہ مانو گے تو قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح اور قوم لوط کی طرح تم ہلاک ہوجاؤ گے جب ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا کہنا نہ مانا تو آخر درجہ انہوں نے یہ فرمایا کہ خیر جو تمہارا جی چاہے وہ کرو اب تم کو معلوم ہوجاوے گا کہ تمہاری کیا رسوائی ہونے والی ہے آخر وہی ہوا کہ تھوڑے دنوں میں عذاب آیا آگ برسی اور سب ہلاک ہوگئے آخری نصیحت حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جو اپنی امت کو کی تھی جب بلوہ کے لوگ حضرت عثمان ؓ کے گھر پر چڑھ آئے اور حضرت عثمان ؓ کے شہید کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت عثمان ؓ نے بھی یہی نصیحت کی تھی کہ دیکھو مجھ کو شہید نہ کرو مجھ کو خوف ہے کہ قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح اور قوم شعیب (علیہ السلام) کا سا وبال تم پر نہ آوے آخر وہی ہوا کہ اس روز سے مسلمان طرح طرح کے وبال میں گرفتار ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے لے کر حضرت عثمان ؓ کے زمانہ تک جو اقبال مندی اور خوشحالی تھی وہ بات باقی نہ رہی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا علم الٰہی میں جو لوگ دوزخ کے قابل ٹھہر چکے ہیں دنیا میں پیدا ہونے کے بعد وہ لوگ کام بھی ویسے ہی کرتے ہیں 1 ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شعیب (علیہ السلام) جب نصیحت کرتے کرتے تھک گئے اور ان کی قوم کے لوگ راہ راست پر نہ آئے تو اللہ کے نبی شعیب (علیہ السلام) نے جان لیا کہ یہ لوگ علم الٰہی میں دوزخ کے قابل ٹھہر چکے ہیں ان کے دل پر نصیحت کا کچھ اثر نہ ہوگا اس لئے اللہ کے نبی نے ان لوگوں سے کہہ دیا کہ اب تم لوگوں کا جو جی چاہے سو کرو یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی طبیب کسی بیمار کی زندگی سے مایوس ہو کر کہہ دیتا ہے کہ جو تیرا جی چاہے وہ کھا پرہیز کی اب ضرورت نہیں ہے۔ اس آیت میں عذاب کے آجانے کی پیشین گوئی جو اللہ کے رسول شعیب (علیہ السلام) نے کی تھی اس کے ظہور کا حال آگے کی آیت میں آتا ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 38 ج 2 تفسیر سورة واللیل اذا یفشی۔
Ayahs 11:94–9594۔ 95۔ جب شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم سے ناامید ہوگئے اور جان لیا کہ اب یہ ایمان نہیں لائیں گے تو فرمایا کہ دیکھو کون عذاب سے رسوا ہو کر ہلاک ہوتا ہے اس وقت خدا کا عذاب آیا اللہ پاک نے اپنے رسول شعیب (علیہ السلام) کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے ان کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور قوم شعیب (علیہ السلام) کو جنہوں نے ظلم کیا تھا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایمان نہیں لائے یہ سب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی ایک سخت چیخ سے اس طرح ہلاک ہوگئے یہ بھی نہیں معلوم ہوا کہ اس گاؤں میں کوئی بستا بھی تھا یا نہیں جس طرح قوم ثمود چنگھاڑ سے ہلاک ہوئی اسی طرح یہ قوم بھی ہلاک ہوئی اس لئے یہاں ثمود کا نام لیا قوم لوط کا نام نہیں لیا۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں محمد بن کعب قرظی اور حسن بصری سے روایتیں ہیں کہ قوم شعیب پر تین طرح کا عذاب ایک ساتھ آیا پہلے بس یا میں ایک طرح کی سخت گرمی پھیل گئی اور اس گرمی کے وقت آسمان پر ایک ابر آیا جس کے نیچے ٹھنڈی ہوا بھی تھی جب یہ سب لوگ گرمی سے بچنے کے لئے اس ابر کے نیچے ٹھنڈی ہوا کے لالچ سے چلے گئے تو آسمان سے ایک سخت آواز آئی جس سے زمین ہل کر زلزلہ پیدا ہوگیا اور اس ابر میں سے آگ کے انگارے برسے۔ 1 ؎ یہ محمد بن کعب حسن بصری کے رتبہ کے ثقہ تابعی ہیں اور حدیث کی سب کتابوں میں ان سے روایتیں ہیں سورة اعراف میں اس قوم کا عذاب زلزلہ کا ہے اور اس سورت میں سخت آواز کا اور سورت شعراء میں سائبان کی طرح کے ابر کا جس سے محمد بن کعب اور حسن بصری کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ ایسے نافرمان لوگوں کو وقت مقررہ تک اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے اور وقت مقررہ کے آجانے پر عذاب آجاتا 2 ؎ ہے۔ یہ حدیث مثل اور قوموں کی حالت کے اس قوم کی حالت کی بھی گویا تفسیر ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 246 ج 3 تفسیر سورة شعرائ۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 678 ج 2 قولہ وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القریٰ ۔
Ayahs 11:96–9996۔ 99۔ اوپر کے قصوں کے بعد ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طرح طرح کے معجزے اور نشانیاں دے کر فرعون بادشاہ مصر اور اس کے وزیروں اور سرداروں کے پاس بھیجا بعضے مفسروں نے آیات سے مراد توریت اور سلطان مبین سے مراد معجزے لئے ہیں مگر یہ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ فرعون کی ہلاکت کے بعد توریت نازل ہوئی ہے اس لئے بعض مفسروں نے دونوں کے معنے معجزے کے جو بیان کئے ہیں وہ قول صحیح ہے بہرحال کوئی بھی ان میں سے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لایا فرعون کے ساتھ فرعون ہی کے دین و آئین پر قائم رہے اللہ پاک نے فرمایا فرعون کا طریقہ کوئی نیک انجام نہ تھا بالکل گمراہی کا طریقہ تھا اس لئے جس طرح وہ لوگ دنیا میں فرعون کے تابعدار رہے اسی طرح قیامت کے دن بھی یہ لوگ فرعون کے پیرو رہیں گے اور فرعون کے پیچھے پیچھے دوزخ میں چلے جائیں گے۔ قتادہ نے الورد المورود کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ یہ لوگ جس گھاٹ پر جائیں گے وہ بہت ہی برا گھاٹ ہوگا کیوں کہ انسان گھاٹ پر اس لئے جاتا ہے کہ پیاس بجھے دوزخ کا گھاٹ ایسا ہوگا کہ وہاں اور بھی تشنگی غالب ہوگی، پھر فرمایا کہ ان پر دنیا میں بہت لعنت ملامت ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ جتنے لوگ ان کے بعد ہوں گے اور ان کا قصہ سنیں گے ان پر لعنت کریں گے۔ اور آخرت میں بھی اہل محشر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ الرفد المرفود کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہ کہا ہے کہ مراد اس سے دنیا اور آخرت کی لعنت ہے۔ صحیح مسلم میں سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن دوزخیوں پر ان کی بد اعمالی کے موافق عذاب ہوگا۔ مثلاً کسی دوزخی کو تو دوزخ کی آگ ٹخنوں تک جلاوے گی اور کسی کو گھٹنوں تک اور کسی کو کمر تک اور کسی کو اس سے 1 ؎ بڑھ کر فرعون اور اس کے ساتھیوں کی بداعمالی اور مشرکوں سے بڑھی ہوئی ہے کیوں کہ اور مشرک خدا کو خدا جان کر اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور فرعون خود اپنے آپ کو خدا کہتا تھا اور اس کے ساتھی اس کا کہنا مانتے تھے اس لئے سورت غافر میں آوے گا کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا عذاب قیامت کے دن بہت سخت ہوگا۔ صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت سے پہلے ہر روز صبح و شام دوزخ کا ٹھکانا قابل دوزخ اور جنت کا ٹھکانا قابل جنت روحوں کو دکھا کر یہ کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن تمہیں اس ٹھکانے میں جانا اور رہنا ہوگا 2 ؎ حاصل کلام یہ ہے کہ قیامت کے دن تو فرعون اور اس کے ساتھیوں پر جو سخت عذاب ہوگا اب قیامت سے پہلے ہر روز صبح شام ان کو وہ عذاب کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے جس سے ہر روز ان کے حق میں گویا دو دفعہ قیامت کا سامنا ہے اسی واسطے فرمایا کہ فرعون کا کہنا ماننے سے ان لوگوں کو جو انعام ملا وہ برا انعام ہے مدد کے طور پر ایک شخص دوسرے شخص کو کوئی چیز دیوے تو اس کو وفد کہتے ہیں اسی واسطے شاہ صاحب نے وفد کا مرادی ترجمہ انعام کیا ہے یقدم قومہ کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح دریا میں ڈوبنے کے وقت فرعون اپنے ساتھیوں کے آگے تھا اور سب لشکر اس کے پیچھے تھا دوزخ میں جاتے وقت بھی ان لوگوں کا یہی حال ہوگا۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صفۃ النارو اھلہا۔
2 ؎ صحیح مسلم ص 385 ج 2 باب عرض مقعد المیت من الجنتہ الخ۔
Ayahs 11:100–101100۔ 101۔ اوپر چند قصے بیان فرما کر اب نتیجہ کے طور پر فرمایا اے رسول اللہ کے یہ پہلی امتوں کی خبریں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ جیسا کیا ویسا پایا یہ گاؤں اور شہر جن پر عذاب آیا گیا بعض تو ایسے ہیں کہ بالکل نیست و نابود نہیں ہوئے ویران کر دئیے گئے اور بعضوں کا طبقہ ہی الٹ دیا گیا پھر فرمایا کہ ان پر اللہ کا ظلم نہیں تھا آپ ان لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور راہ حق پر نہ آئے بتوں کی پرستش کرتے رہے اور جب عذاب آیا تو ان کے وہ جھوٹے معبود کچھ نہ کرسکے اگر کچھ کام بھی آئے تو یہی کہ ان کو ہلاک ہی کر کے چھوڑا صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا 1 ؎ ہے۔ اور اسی کو تقدیر کہتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ اگرچہ ہر ایک نیک وبد کا حال اللہ تعالیٰ کو نیک و بد کے پیدا ہونے سے پہلے معلوم تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ انصاف کیا کہ سزا و جزا کا فیصلہ اپنے علم پر نہیں رکھا بلکہ اس علم کے ظہور پر رکھا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد جیسا کوئی کرے گا مرنے کے بعد ویسا بدلہ پاوے گا اس تفسیر سے وما ظلمنھم ولکن ظلموا انفسھم کا مطلب اچھی طرح سے سمجھ میں آسکتا ہے اور یہ بھی سمجھ میں آسکتا ہے کہ تجربہ سے کسی کام کا نتیجہ پہلے سے جان لینا اور بات ہے اور کسی کام پر کسی کو مجبور کرنا اور بات ہے اس لئے جو لوگ تقدیر کے لکھے پر اپنے آپ کو مجبور قرار دیتے وہ بڑی غلطی پر ہیں اسی طرح جو لوگ یہ شبہ دل میں لاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو نیک کیوں نہیں بنایا وہ بھی غلطی پر ہیں کیونکہ دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے زبردستی سب کو نیک بنانے میں یہ امتحان بھلا کس طرح پورا ہوسکتا تھا۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 335 ج 2 باب حجاج آدم و موسیٰ علیھما السلام۔
Ayah 11:102102۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اپنے رسول برحق ﷺ کو یہ خبر دی کہ تیرے خدا کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب کسی ظالم کو پکڑ لیتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا جیسے یہ گاؤں جن میں ظالم بستے تھے جن کا ذکر ہوچکا ہے کہ آخر برباد ہی کر دئیے گئے اس کی پکڑ بہت درد ناک ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ حکم انہیں گاؤں اور بستیوں کے لئے تھے اوروں کے وا سطے نہیں ہے بلکہ ہر ایک ظالم کا یہی نتیجہ ہوگا ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے گزر چکی ہے کہ اللہ پاک ظالم کو مہلت دیتا ہے اور جب پکڑ لیتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا 1 ؎ یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 678 ج 2 قولہ وکذلک اخذ ربک الخ۔
Ayah 11:103103۔ انبیائے سابق اور ان کی امتوں کے ذکر کے دو فائدہ تو اوپر مذکور ہوچکے یہ تیسرا فائدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے حاصل اس فائدہ کا یہ ہے کہ کافر اور منافق کے دل تو ایسے سخت ہوگئے ہیں کہ ان کے دل پر کسی نصیحت کا اثر نہیں ہے ہاں جو لوگ اللہ اور رسول اور قیامت کے قائم ہونے پر ایمان لا چکے ہیں ان پچھلے قصوں سے ان کو ایک بڑی عبرت ہونی چاہیے کس واسطے کہ پچھلی امتوں کا دنیا کا عذاب سن کر پورا یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے وعدہ کا ظہور جس طرح دنیا میں ہوچکا اسی طرح آخرت کے عذاب کا اس کا وعدہ سچا ہے اور ضرور ایک مقرر دن پر اس کا ظہو ہونے والا ہے اس وعدہ کے دن کے لئے کچھ نیکی کرنی چاہیے تاکہ اس روز چھٹکارہ ہو کیوں کہ جس طرح اس دن کے آنے کا وعدہ حق ہے اسی طرح اس دن کا یہ وعدہ بھی حق ہے کہ جس کا نیکی کا پلہ اس دن بھاری ہوگا اسی کو چھٹکارہ ہوگا پھر اس چھٹکارہ کی صورت بدوں نیکی کے کرنے اور بدی سے بچنے کے کیوں کر ممکن ہے۔ تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب بدی کا بدلہ ایک اور نیکی کا بدلہ دس ہے تو ایسے شخص کے حال پر بڑا افسوس ہے جو دنیا سے ایسی حالت میں جاوے کہ اس کی اکائیاں دہائیوں پر غالب ہوں۔ ترمذی، مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں ابوہریرہ، ابی بکرہ، جابر بن عبد اللہ اور عبد اللہ بن بسر ؓ سے صحیح روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں اچھا آدمی وہی ہے کہ جس کی عمر بڑی ہو اور اس کے عمل نیک ہوں اور برا آدمی وہ ہے کہ جس کی عمر بڑی ہو اور کام برے اور بد 1 ؎ ہوں۔ معتبر سند سے مسند امام احمد میں ابوہریرہ ؓ کی دوسری روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت طلحہ ؓ کے گھر میں تین مہاجر صحابہ رہتے تھے دو ان میں سے شہید ہوگئے اور ایک ان دونوں شہیدوں کے بہت روز کے بعد اپنی موت سے مرے۔ طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ پھر میں نے خواب میں دیکھا کہ یہ تیسرا شخص جو اپنی موت سے مرا تھا جنت میں ان دونوں شہیدوں کے آگے ہے۔ اس خواب سے مجھ کو بڑا تعجب ہوا میں نے اپنا یہ خواب آنحضرت ﷺ سے تعجب کے ساتھ بیان کیا آپ نے فرمایا کچھ تعجب کی بات نہیں ہے نیک عمل ہو کر کوئی شخص بڑی عمر پاوے تو یہ بڑے اجر درجہ کی چیز 2 ؎ ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مسلما نوں کے حق میں یہ ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ مسلمانوں کو نصیحت زیادہ کار گر ہوتی ہے جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں وہ ذرا اپنی حالت پر غور کریں کہ ان کی حالت پر کہاں تک اللہ کی پیشین گوئی صادق آتی ہے اور جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے عمر دی ہے وہ اس کو ایک دولت سمجھ کر اس دولت سے یہ تجارت کریں کہ اس دولت سے نیک عمل کی دولت کمائیں۔ ذلک کا اشارہ قیامت کے دن کی طرف ہے آیت کے اس ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ میدان محشر میں آدم (علیہ السلام) سے قیامت تک جتنے بنی آدم پیدا ہوئے ہیں وہ سب حساب و کتاب کے لے جمع کئے جاویں گے چناچہ صحیح بخاری و مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت 3 ؎ میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے اسی طرح کے انتظام کے لئے وہاں فرشتے بھی حاضر ہوں گے مثلاً ستر ہزار نکیلیں لگا کر ہزارہا فرشتے دوزخ کو میدان محشر میں لاویں گے جس کا ذکر صحیح مسلم اور ترمذی میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت 4 ؎ سے ہے۔ اور اسی طرح کے بہت سے انتظام ہیں جو اس دن فرشتوں کے ذمہ ہوں گے۔ انسان جنات اور فرشتوں کے جمع ہوجانے سے وہ ایک عجب دن ہوگا اس لئے شاہ صاحب نے مرادی ترجمہ وہ ” دن ہے دیکھنے کا “ فرمایا ہے۔
( 1 ؎ جامع ترمذی ص 56 ج 2 باب ماجانء فی طول العمر للمومن و تفسیر ہذا جلد دوم ص 261 )
(2 ؎ مجمع الزوائد ص 204 ج 2 باب فیمن طال عمرہ من المسلمین۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری ص 65۔ 9 ج 2 باب کیف الحشر۔ )
(4 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صفتہ النار واہلہا۔ )
Ayahs 11:104–105104۔ 105۔ اس سے پہلے کی آیت میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ قیامت کے دن اول سے آخر تک سب لوگ جمع ہوں گے اس لئے فرمایا کہ قیامت کے آنے میں دیر اس لئے ہو رہی ہے کہ خدا نے یہ بات اس لئے ٹھہرائی ہے کہ جب تک دنیا کے تمام پیدا ہونے والے لوگ پیدا نہ ہولیں گے۔ اور ان کے پیدا ہونے کے لئے جو مدت مقرر ہے وہ پوری نہ ہوجاوے گی اس وقت تک قیامت نہ آوے گی اور اس مدت کی خبر خدا ہی کو ہے سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا جب یہ مدت دنیا کی ختم ہوجاوے گی تو وہ قیامت کا دن قائم ہوگا اور ہر شخص کو اس کے عمل کے موافق جزا و سزا ملے گی پھر اس کے بعد فرمایا کہ جب وہ دن آئے گا تو کسی کی کیا مجال ہے جو میرا حکم خدا کے ایک بات بھی زبان سے نکال سکے اللہ پاک کا جس کو حکم ہوگا وہ شفاعت کے لئے کھڑا ہوگا پھر فرمایا کہ قیامت کے دن جتنے لوگ ہوں گے ان میں سے بعضے بدبخت ہوں گے جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور بعضے نیک بخت ہوں گے جن کے لئے جنت بنائی گئی ہے حضرت عمر ؓ کہتے ہیں جب یہ آیت اتری فمنہم شقی و سعید تو میں نے حضرت ﷺ سے عرض کیا کہ جب یہ بات مقرر ہوچکی کہ بعض آدمی بد بخت ہیں اور بعض نیک بخت تو پھر عمل کی کیا ضرورت ہے جیسا کچھ تقدیر میں لکھا جا چکا وہ ہو کے رہے گا آپ نے فرمایا جس کے واسطے جس بات کو قلم جاری ہوچکا ہے وہی بات اس پر آسان بھی ہوتی ہے جو شخص جس کام کے لئے پیدا ہوا ہے وہی کام وہ آسانی سے کرتا ہے اس لئے تم کو چاہیے کہ عمل کئے جاؤ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا 1 ؎ ہے۔ منذری نے اس حدیث کی سند پر اگرچہ اعتراض کیا 2 ؎ ہے کہ مسلم بن یسار راوی کو حضرت عمر ؓ سے ملنے کا موقع نہیں ملا اس لئے اس حدیث کی سند پوری نہیں ہے لیکن مسند امام احمد مستدرک حاکم اور امام مالک کی سند میں مسلم بن یسار نہیں ہے اس لئے یہ حدیث معتبر ہے بعضے مفسروں نے یہاں یہ بات بیان کی ہے کہ جتنے لوگ قیامت میں ہوں گے ان کی دو ہی قسمیں اللہ پاک نے بیان فرمائی ہیں نیک بخت اہل جنت کو اور بد بخت اہل دوزخ کو مگر ان دو کے علاوہ ایک قسم اور بھی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے نیک عمل اور برے عمل دونوں برابر ہیں یا وہ لوگ جن کے نہ نیک عمل اور برے عمل دونوں برابر ہیں یا وہ لوگ جن کے نہ نیک عمل ہیں نہ برے عمل ہیں جیسے دیوانے اور بچے تو یہ لوگ خدا کی مشیت میں ہیں ان کے حق میں وہ جو چاہے گا حکم دے گا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے نیک عمل اور بد عمل برابر ہیں وہ لوگ اور دیوانے لوگ اور بچے صحیح حدیثوں کے موافق جنت میں جاویں گے اس لئے پہلی دو قسموں میں یہ لوگ بھی داخل ہیں۔
1 ؎ جامع ترمذی ص 138 ج 2 تفسیر سورة ہود و تفسیر فتح الیان ص 463 ج و تفسیر ابن کثیر 459 ج 2۔
2 ؎ لیکن مؤلف (رح) کی کتاب تیفتح الرداۃ (ص 25 جاول) سے معلوم ہوتا ہے کہ امام منذری (رح) کا اعتراض جس روایت پر ہے وہ آیت کریمہ واذ اخذ ربک الآیۃ کی تفسیر میں ہے۔ زیر تفسیر آیت والی رعایت اس سے الگ ہے واللہ اعلم (ع۔ ر) ۔
Ayahs 11:106–107106۔ 107۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بد بختوں کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں نے دین حق کے قبول کرنے سے انکار کیا اور کجروی سے باز نہیں آئے اور بدبخت کے بدبخت ہی رہے ان کے واسطے دوزخ میں جگہ ہے وہاں یہ لوگ خوب روئیں گے پہنچیں گے چلائیں گے دہاڑیں گے مفسروں نے الا ماشاء ربک کی تفسیر میں دونوں مطلب بیان کئے ہیں ایک یہ کہ آگ میں یہ لوگ اتنے دنوں تک رہیں گے جتنے دنوں دنیا کے آسمان و زمین میں رہ چکے ہیں اور اگر خدا چاہے گا تو زیادہ دنوں تک رکھے گا یہ اس کی مرضی پر موقوف ہے اور دوسرا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ بد بخت ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے مگر خدا جس کو چاہے گا ہمیشہ ہمیشہ نہیں رکھے گا یہ بھی اس کی مرضی پر موقوف ہے کس لئے کہ آسمان و زمین آخرت میں بھی ہوں گے اسی کو فرمایا کہ جب تک آسمان و زمین رہیں گے اس وقت تک یہ لوگ دوزخ میں رہیں گے کیوں کہ اللہ پاک جو ارادہ کرتا ہے وہ کرتا ہے اس کے ارادہ کا کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس کلمہ گو گنہگار کے دل میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان ہے وہ بھی میری شفاعت کے قابل ہوگا اور دوزخ سے نکل کر جنت میں جاوے 1 ؎ گا۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے خالص دل سے ایک دفعہ بھی کلمہ پڑھا وہ بھی قیامت کے دن میری شفاعت کے قابل 2 ؎ ہے۔ اس کے سوا اور بھی صحیح حدیثیں ہیں جن میں کلمہ گو گنہگاروں کا دوزخ سے نکل کر جنت میں جانے کا ذکر ہے ان صحیح حدیثوں کی بنا پر حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں الا ماشاء ربک کی صحیح تفسیر یہی قرار دی 3 ؎ ہے۔ کہ اس آیت اور آگے کی آیت میں الا ماشاء ربک فرما کر اللہ تعالیٰ نے دونوں جگہ کلمہ گو گنہگاروں کو دوزخ اور جنت میں ہمیشہ رہنے کی حالت سے مستثنیٰ فرمایا ہے کیونکہ یہ لوگ دوزخ میں تو ہمیشہ یوں نہ رہے کہ آخر کو دوزخ سے نکل کر جنت میں چلے گئے اور جنت میں ہمیشہ یوں نہ رہے کہ ان لوگوں کو کچھ مدت دوزخ میں گزری اس صحیح تفسیر سے وہ اختلاف اٹھ جاتا ہے جس کا ذکر بعضے مفسروں نے اپنی تفسیروں میں کیا ہے اس صحیح تفسیر سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بعضے سلف سے یہ جو روایتیں ہیں کہ دوزخیوں کے دوزخ میں جانے کے بعد ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ جہنم خالی پڑا رہے گا ان روایتوں کا یہ مطلب ہے کہ دوزخ کا پہلا طبقہ جس کا نام جہنم ہے اس میں کلمہ گو گنہگار ڈالے جاویں گے اور جب شفاعت کے ذریعہ سے یہ لوگ دوزخ کے اس طبقہ میں سے نکل کر جنت میں چلے جاویں گے تو دوزخ کا یہ طبقہ خالی پڑا رہے گا یہ مطلب ان روایتوں کا نہیں ہے کہ کسی زمانہ میں مشرک دوزخ سے نکل جاویں گے اور سارا دوزخ خالی پڑا رہے گا کیونکہ یہ مطلب قرآن و حدیث اور مذہب اہل سنت کے برخلاف معتزلے فرقے کا یہ مذہب ہے کہ جو کلمہ گو گنہگار بغیر توبہ کے مرجاوے گا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اس واسطے اپنے مذہب کی تائید کے خیال سے صاحب کشاف نے ان صحیح حدیثوں کے برخلاف جو کچھ اپنی تفسیر میں لکھا ہے اہل سنت اس کے قائل نہیں ہیں بلکہ اکثر سلف ان ہی صحیح حدیثوں کو دونوں آیتوں کی تفسیر ٹھہراتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں انس بن مالک ؓ کی شفاعت کے ذکر میں ایک بڑی حدیث ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کوئی کلمہ گو گنہگار دوزخ میں باقی نہ 4 ؎ رہے گا اس سے اہل سنت کے مذہب کی پوری تائید ہوتی ہے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 88 ر۔ 489 باب الحوض والشفاعۃ۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 489 باب الحوض والشفاعۃ۔
3 ؎ تفسیر ابن جریر ص 119 ج 12۔
4 ؎ مشکوٰۃ ص 488۔ 489 باب الحوض والشفاعۃ۔
Ayah 11:108108۔ جس طرح وہاں اوپر بدبختوں کا حال بیان کیا یہاں نیک بختوں کا حال بیان فرمایا کہ جو لوگ نیک بخت ہیں رسولوں کی پیروں کی دین حق کو قبول کیا ان کے واسطے جنت ہے جب تک آسمان و زمین وہاں کے رہیں گے یہ لوگ جنت میں رہیں گے بلکہ اس سے بھی زیادہ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ جنت ہی میں رہیں گے پھر وہاں سے نکلنا کیسا بلکہ ان پر ایسی بخشش ہوگی جس کی کوئی انتہا ہی نہیں صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کل مخلوقات کا حساب و کتاب ہوجائے گا اور جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جاویں گے تو موت بلائی جائے گی وہ ایک بھیڑ کی صورت میں آئے گی۔ اس کو ذبح کر کے کہا جائے گا کہ اے جنت والو اب موت نہیں ہے اب تم ہمیشہ جنت میں رہو اور اے دوزخ والو اب موت نہیں ہے تم ہمیشہ دوزخ میں 1 ؎ رہو۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کی حدیثوں کے موافق جب تمام کلمہ گو دوزخ سے نکل کر جنت میں جا چکیں گے اس وقت موت کو ذبح کیا جاوے گا کیوں کہ صحیح بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری ؓ کی شفاعت کے باب میں جو ایک بڑی حدیث ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ سب شفاعتوں کے ختم ہوجانے کے بعد جن دوزخیوں کو اللہ تعالیٰ اپنی لپ بھر کر دوزخ سے نکالے گا وہ مر کر کوئلہ ہوجاویں گے اور نہر حیات میں ڈالنے سے زندہ ہوجاویں گے اور پھر جنت میں داخل 2 ؎ جاویں گے۔ چناچہ صحیح مسلم کی ابو سعید خدری ؓ کی حدیث میں ان لوگوں کے مرجانے کا صاف ذکر آیا 3 ؎ ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی حدیثوں میں اور عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث میں کچھ مخالفت نہیں ہے اوپر کی حدیثیں شفاعت کے وقت کی ہیں اور عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث میں موت کے ذبح کئے جانے اور دوزخیوں کے ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا ذکر ہے وہ سب شفاعتوں کے ختم ہوجانے کے بعد کا ہے۔ غرض عبد اللہ بن عمر ؓ کی اس حدیث سے معتزلی فرقہ کا یہ مطلب کسی طرح ثابت نہیں ہوتا کہ گنہگار کلمہ گو ابھی دوزخ میں ہی ہوں گے اور اس حالت میں موت کو ذبح کیا جا کر دوزخیوں کو ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہنے کا حکم ہوجاوے گا کیوں کہ یہ مطلب انس بن مالک ؓ کی اوپر کی صحیح بخاری و مسلم کی اس حدیث کے بر خلاف ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کوئی گنہگار کلمہ گو ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے 4 ؎ گا۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 969 ج 2 باب صفتۃ الجنتہ والنار۔
2 ؎ صححذ بخاری ص 1107 ج 2 باب وجوہ یوئمنذ فاخرۃ الی ربہا ناظرۃ۔
3 ؎ صحیح مسلم ص 104 ج 1 باب اثبات الشفاعۃ واخراج الموحدین من النار۔
4 ؎ صحیح مسلم ص 110 ج 1 باب اثبات الشفاعۃ الخ۔
Ayahs 11:109–111109۔ 110۔ اللہ پاک نے حضرت رسول خدا ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ یہ کفار مکہ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں اس کے شرک ہونے میں تم کچھ شک نہ کرو مشرکین مکہ بت پرستی کو ملت ابراہیمی بتلاتے تھے جس سے ناواقف مسلمانوں کو دھوکا ہوتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر ان ناواقف مسلمانوں کو جتلا دیا کہ بت پرستی کے شرک نہ ہونے کی ان مشرکوں کے پاس کوئی سند نہیں ہے یہ فقط اپنے باپ دادا کی پیروی کرتے ہیں ہم اس کا بدلہ پورا پورا ان کو دیں گے پھر فرمایا کہ اسی طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب اتاری تھی لوگوں نے اس میں اختلاف کیا بعضے ایمان لائے اور بعض نہیں لائے تم پر بھی جو قرآن اتارا گیا تو بعضے ایمان لے آئے اور بعضے ایمان نہیں لائے ہیں یہ اختلاف پہلے سے ہوتا آرہا ہے اس کا کچھ غم نہیں کرنا چاہیے پھر فرمایا کہ اگر ایک خاص مدت تک دنیا کا قائم رکھنا اللہ کو منظور نہ ہوتا اور اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب نہ ہوتی تو ابھی اس کا فیصلہ ہوجاتا پھر فرمایا جو لوگ خدا کی کتاب کی طرف سے اپنے جی میں شک کرتے ہیں ان کو ان کے اعمال کی جزا سزا اچھی طرح پوری دی جائے گی خدا کو ان کے ہر ایک عمل کی خبر ہے۔ اوپر ایک جگہ یہ گزرچکا ہے کہ عمرو بن لحی کے زمانہ سے مکہ میں بت پرستی پھیلی اس پر مشرکین مکہ اور ان کے بڑے چلے آتے ہیں اور نادانی سے اسی کو ملت ابراہیم جانتے ہیں اگر یہ لوگ اپنی نادانی کو چھوڑ دیں تو ملت ابراہیمی کا زمانہ تو بہت دور ہے عمرو بن لحی کے زمانہ سے پہلے بھی مکہ میں بت پرستی کے جاری ہونے کی کوئی سند ان کے پاس نہیں ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ بغیر کسی سند ان کے پاس نہیں ہے پھر فرمایا کہ جب یہ لوگ بغیر کسی سند کے اپنی نادانی پر اڑے ہوئے ہیں اور باوجود فہمائش کے باز نہیں آتے تو ایک دن اپنے کئے کی پوری سزا بھگتیں گے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق نصیب کے معنے یہاں جزا و سزا کے ہیں 1 ؎ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے جو لوگ راہ راست پر آگئے وہ پوری جزا پاویں گے اور جو اسی شرک کے حال پر رہے وہ پوری سزا پاویں گے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس مکی سورت میں جو پیشین گوئی فرمائی گئی تھی اس کے ظہور کا نمونہ بدر کی لڑائی کے وقت یہ معلوم ہوگیا کہ اس لڑائی کے وقت تک اہل مکہ میں سے جو لوگ راہ راست پر آن کر اس لڑائی میں شریک ہوئے وہ قطعی جنتی ٹھہرے چناچہ مسند امام احمد میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے صحیح روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اہل بدر میں سے کوئی شخص ہرگز دوزخ میں نہ جاوے 2 ؎ گا۔ اور اس لڑائی کے وقت تک ان میں سے جو لوگ مشرک رہے اور اس لڑائی میں مارے گئے ان کا انجام صحیح بخاری و مسلم کی انس بن مالک ؓ کی روایت سے ایک جگہ گزر چکا ہے کہ مرتے ہی وہ لوگ سخت عذاب میں گرفتار ہوگئے اور اللہ کے رسول نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پا لیا صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کی کسی آیت کے مطلب پر دو صحابیوں کا جھگڑا سن کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ تم سے پہلے لوگ کتاب آسمانی کے مطلب میں اختلاف ڈال کر برباد ہوگئے۔ یہود کے اختلاف اور پھوٹ کا جو ان آیتوں میں ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے تورات کے لفظوں اور معنوں میں یہاں تک اختلاف ڈالا کہ اختلاف نے ان کی عقبیٰ کو برباد کردیا یہود کی موجودہ حالت سے اس حدیث کے مضمون کی پوری صداقت ہوتی ہے کہ ان کے اختلاف اور پھوٹ کے سبب سے ایک تورات کے تین نسخے عبرانی یونانی سامری بن گئے ہیں اور ہر ایک فرقہ اپنے نسخہ کو صحیح کہتا ہے اسی واسطے فرمایا کہ ان لوگوں نے کلام الٰہی کو ایسی شک کی حالت میں ڈال رکھا ہے جس کے سبب سے ایک فرقہ دوسرے کو جھٹلاتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ سب فرقوں کے عملوں اور حق و ناحق کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے وقت مقررہ آنے پر ان عملوں کی سزا و جزا کا پورا فیصلہ ہوجاوے گا طبرانی اور مسند بزار کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن سر بمہر لوگوں کے اعمال نامے اللہ تعالیٰ کے روبرو جب پیش ہوں گے تو بہت سے عمل ظاہر حالت سے فرشتوں کو اچھے معلوم ہوں گے مگر اللہ تعالیٰ ان عملوں کو نامقبول ٹھہراوے گا یہ 3 ؎ حدیث انہ بما یعملون خبیر کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن عملوں کا حال اعمال نامہ لکھنے والے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں اس غیب دان کو وہ حال بھی خوب معلوم ہے وان کلا لما لیوفینھم ربک اعمالھم آیت کے اس ٹکڑے کو اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فرمایا ہے جس کی اصلی عبارت یوں ہے وان کلھم لما بعثوالیوفینہم ربک اعمالھم اسی واسطے شاہ صاحب نے کلھم کا ترجمہ ” جتنے لوگ “ اور لما بعثوا کا ترجمہ ” جب وقت آیا “ فرمایا ہے۔
1 ؎ الترغیب ص 31 ج 1 الترھیب من الریأ الخ۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 458 باب الجکاعنہ الخوف و تفسیر ابن کثیر ص 435 ج 2۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 738 ج 2 تفسیر سورة واللیل اذا یغشی و مشکوۃ ص 20 باب الایمان بالقدر۔
Ayahs 11:112–113112۔ 113۔ اگرچہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخاطب ٹھہرایا ہے لیکن اس حکم میں آپ کی کل امت اول سے آخر تک سب شامل ہے حکم یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کا حکم ہوا ہے اس پر قائم رہو یہ آیت جب اتری تو حضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ مستعد ہوجاؤ مستعد ہوجاؤ اور پھر آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا یہی وہ آیت ہے جس سے شرح کے کل احکام نکلتے ہیں کیونکہ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ جس طرح پر حکم ہوا ہے اس پر جمے رہو کسی طرح کی کمی بیشی نہ ہونے پائے اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے ان سے بچتے رہو اور جن کاموں کا حکم کیا گیا ہے ان پر مستعدی سے عمل کرتے رہو ذرا بھی فرق نہ ہونے پائے یہی وہ حکم ہے جس سے کوئی حکم الٰہی سخت نہیں ہے کیوں کہ بالکل حکم کے مطابق کرنا سوائے معصوم دل انبیاء کے دوسرے سے دشوار ہے اسی بنا پر رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سورت ہود نے بوڑھا کردیا۔ اس حکم کے بعد اللہ جل شانہ نے حد سے بڑھنے کو منع فرمایا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جس امر کا حکم ہوا ہے اس کو بڑھا کرنا جیسے روزہ رکھنے کا حکم سارے دن کا ہے اس میں یوں حد سے بڑھا جاوے کہ رات کو بھی روزہ رکھا جائے یا افطار کے وقت سے دیر کر کے روزہ افطار کیا جائے تو یہ طغیان ہوجائے گا پھر طغیان کرنے والوں کے لئے یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ تمہارے عملوں کو دیکھ رہا ہے وہ اس کا ویسا ہی بدلہ دے گا۔ پھر یہ حکم ہوا کہ ظالم اور مشرکوں سے میل جول نہ رکھو اگر ایسا کرو گے تو تمہیں دوزخ کی آگ جلائے گی ظلموا کی تفسیر میں بھی اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں کہ حضرت کے زمانہ کے جو مشرک تھے انہیں کے ساتھ میل جول نہ رکھنے کا حکم ہوا ہے اور بعضے کہتے ہیں کہ ہر ظالم اس میں داخل ہے خواہ مسلمان ہو خواہ کافر و مشرک کسی سے بھی میل نہ کرو اگر تم ظالموں کا ساتھ دو گے تو اللہ کی مدد تم میں سے اٹھ جاوے گی کیوں کہ اللہ ظلم کو دوست نہیں رکھتا اور جب اللہ کی مدد اٹھ گئی تو پھر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر مشرکوں اور یہود کا ذکر فرمایا کہ ان آیتوں میں مسلمانوں کو شریعت الٰہی کے سیدھے راستہ پر قائم اور ثابت قدم رہنے اور مشرکوں اور یہود کی عادتوں سے بچنے کا حکم فرمایا ہے جس سے مقصود یہ ہے کہ ہر مسلمان وحدانیت کا اقرار کر کے پھر اس پر ثابت قدم رہے کوئی بات ظاہری شرک یا ریاکاری کی ایسی نہ کرے جس سے اس اقرار میں فرق آجاوے اور اس اقرار کو سچا کرنے کے لئے نیک عملوں میں حتیٰ المقدور لگا رہے کیوں کہ شریعت میں نیک عمل آدمی کے نیک ہونے کی نشانی قرار دی گئی ہیں چناچہ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ علم الٰہی میں جو شخص نیک ٹھہر چکا ہے وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ویسا ہی کام بھی کرتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری ؓ کی بڑی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جن لوگوں کو خالص دل سے وحدانیت الٰہی کا اقرار ہے اور اس اقرار کو سچا کرنے کے لئے ان لوگوں نے کچھ نیک عمل نہیں کئے تو ایسے لوگ دوزخ سے یوں نکلیں گے کہ سب شفاعتوں کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا 1 ؎۔ ہر ایمان دار شخص کو دوزخ سے بچنے کے لئے نیک عمل میں لگے رہنے کی جس قدر ضرورت ہے وہ اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے صحیح مسلم میں سفیان بن عبد اللہ ثقفی سے روایت ہے جس میں سفیان ؓ کہتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے کہا حضرت مجھ کو دین میں کوئی ایسی بات بتا دیجئے کہ پھر مجھ کو کچھ پوچھنے کی ضرورت باقی نہ رہے آپ نے فرمایا دین میں خالص دل سے جن باتوں کے ماننے کا حکم ہے ان باتوں کو مان کر پھر اس پر قائم اور ثابت قدم رہو 2 ؎ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا قول ہے کہ دین پر ثابت قدم رہنے کا یہ مطلب ہے کہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے وقت آدمی نے جن باتوں کا عہد کیا مرتے دم تک آدمی اس پر قائم 3 ؎ رہے یہ حدیث اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا قول ان دونوں آیتوں کی تفسیر ہے جس سے دینداری کی باتوں پر چلنے اور بےدینی کی باتوں سے بچنے کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے اور یہ بھی سمجھ میں آجاتا ہے کہ دین اور دین پر قائم رہنا کیا ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 1107 ج 2 باب وجوہ یومئذ ناصزۃ الی ربہا ناظرۃ ومشکوٰۃ ص 49 باب الحوض و الشفاعۃ۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 12 کتاب الایمان۔
3 ؎ مستدرک ص 440 ج تفسیر سورة حم السجدہ۔
Ayah 11:114114۔ صحیحین ترمذی مسند امام احمد وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی حضرت عبد اللہ بن مسعود عبد اللہ بن عباس اور ابی الیسر ؓ کی روایت سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابی الیسر کے پاس ایک عورت کھجوریں خریدنے آئی تھی ابو الیسر بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس عورت سے کہا کہ بہ نسبت میری دکان کے میرے گھر میں عمدہ کھجوریں ہیں یہ سن کر جب وہ عورت میرے ساتھ میرے گھر میں آئی تو میں نے اس سے مباشرت تو نہیں کی لیکن سوا مباشرت کے اور سب بےشرمی کی باتیں کی پھر مجھ کو ندامت ہوئی پہلے میں نے حضرت عمر ؓ سے اس کا ذکر کیا حضرت عمر ؓ نے فرمایا تیرا برا ہو شاید وہ عورت کسی غازی کی تھی جو لڑائی پر گیا ہوا ہے میں نے کہا کہ ہاں پھر میں نے ابوبکر صدیق ؓ سے اس کا ذکر کیا اور پھر میں نے خود آنحضرت ﷺ سے اس کا ذکر کیا آنحضرت ﷺ نے تھوڑی دیر یہ قصہ سن کرسکوت کیا اتنے میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) یہ آیت لائے اس کے بعد میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا یہ حکم میرے لئے کیا خاص ہے اس پر حضرت عمر ؓ نے میرے سینہ پر ایک تھپڑ مارا اور کہا کہ نہیں سب مسلمانوں کے لئے یہ حکم عام ہے اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عمر ؓ نے سچ کہا ہے 1 ؎۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک نماز سے دوسری نماز تک کے اور ایک جمعہ اور رمضان سے دوسرے جمعہ اور رمضان تک کے صغیرہ گناہ نماز اور روزہ سے معاف ہوجاتے 2 ؎ ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ شرک اور کبیرہ گناہ تو بدوں توبہ کے معاف نہیں ہوتا صغیرہ گناہ نماز اور روزہ سے معاف ہوجاتا ہے۔ یہ تو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ مشرک بدوں توبہ کے مرجاوے تو اس کی بخشش نہیں ہے اور کبیرہ گناہ والا شخص بدوں توبہ کے مرجاوے تو اس کی بخشش اللہ کی مرضی پر ہے وہ چاہے بلا سزا کے اس کو جنت میں داخل کرے چاہے کچھ سزا دے کر داخل کرے غرض جہاں تک ہو سکے کبیرہ گناہ سے بچنا چاہیے اور شامت نفس سے کبیرہ گناہ ہوجاوے تو فوراً توبہ کرنی چاہیے شرائط توبہ کے اوپر بیان ہوچکے ہیں حاصل ان کا یہی ہے کہ گناہ سے دل میں شرمندہ ہونا چاہیے اور آئندہ کے لئے گناہ سے باز رہنے کا پورا قصد اور ارادہ دل میں توبہ کے وقت رکھنا چاہیے۔ آیت کے ٹکڑے اقم الصلوٰۃ طرفی النھار وزلفا من اللیل سے پانچوں وقت کی نمازیں نکلتی ہیں اور ان نمازوں سے گناہوں کے دور ہوجانے اور جاتے رہنے کا یہ مطلب ہے کہ ایک نماز سے دوسری نماز تک کے صغیرہ گناہ بغیر توبہ کے فقط نماز کی برکت سے معاف ہوجاتے ہیں چناچہ اسی مضمون کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث صحیح مسلم کے حوالہ سے ابھی اوپر گزر چکی ہے وہی حدیث آیت کے ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے ذلک کا اشارہ ان باتوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا مثلاً مشرکین مکہ اور یہود کی بیڈھنگی باتوں سے بیچ کر دین پر پورے طور سے قائم رہنا مطلب یہ ہے کہ وہ باتیں تو سب لوگوں کی عقبیٰ کی بہبودی کی ہیں مگر یہ قرآن کی نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جو عقبیٰ کی جزا وسزا کے قائل ہیں اور حساب و کتاب کے لئے اللہ کے روبرو حاضر ہونا ان کو یاد ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی 3 ؎ ہے۔ اسی طرح قرآن کی نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جو علم الٰہی میں نیک ٹھہر چکے ہیں اور جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے اسی طرح ازلی بد لوگوں کے حق میں قرآن کی نصیحت رائیگاں ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 678 ج 2 باب قولہ واقم الصلوٰۃ طرفی النہار الخ و تفسیر ابن کثیر ص 462۔ 463 ج 2۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 462 ج 2 و مشکوٰۃ ص 57 کتاب الصلوٰۃ۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 18 باب فضل من علم و علم و مشکوٰۃ ص 28 باب الاعتصام بالکتاب والسنہ۔
Ayah 11:115115۔ اس سے پہلے کی آیت میں اللہ پاک کا یہ حکم ہوا تھا کہ دین پر قائم رہو اور دن کے شروع ہوتے اور ختم ہوتے اور کچھ رات گئے نماز پڑھا کرو جس کی تفصیل اچھی طرح سے کی جا چکی ہے اس کے بعد اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اب ان سب باتوں پر صبر کرو خدا نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ہے۔ شریعت میں جن باتوں کی مناہی ہے ان سے بچنے کے لئے جی کو روکنا اور مناہی کی پابندی پر صبر کرنا درکار ہے اسی طرح شریعت میں جن باتوں کے بجا لانے کا حکم ہے اس کی حکم کی تعمیل میں کوئی تکلیف پیش آوے تو اس تکلیف پر صبر ضرور ہے اس مناسبت سے شریعت پر قائم رہنے کے حکم کے بعد صبر کا حکم فرمایا احسان کے معنے حسن نیت سے نیک عمل کرنے ہیں۔ چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کی وہ حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے سائل بن کر دین کی چند باتیں آنحضرت ﷺ سے پوچھی ہیں اور اپنے ان باتوں کے جواب میں احسان کے یہ معنے بتلائے ہیں کہ یا تو آدمی اس نیت سے عبادت کرے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اگر یہ مرتبہ آدمی کو نصیب نہ ہو تو یہ نیت ضرور ہے کہ اللہ اس کو دیکھ رہا 1 ؎ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دین پر قائم رہنے کا اور نمازوں سے گناہوں کے معاف ہونے کا جو اوپر ذکر ہے اس کے لئے احسان کی شرط ضرور ہے کیوں کہ دین کے جس عمل میں یہ شرط نہ پائی جاوے گی وہ عمل ضائع اور رائیگاں جانے کے قابل ہے کس لئے کہ اس بات میں مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ آدمی کے جو عمل خالص نیت سے نہ ہوں گے کہ وہ قیامت کے دن نامہ اعمال سے نکال دئیے جاویں گے اور ان کا کچھ ثواب نہ ملے 2 ؎ گا طبرانی کبیر کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن جب ہر طرح کی تکلیف پر صبر کرتے تو کیا اچھا 3 ؎ ہوتا یہ حدیث ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین کی گویا تفسیر ہے اس حدیث کی سند میں ایک راوی مجاعہ بن الزبیر ہے جس کو بعضے علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن امام احمد نے اس کو معتبر قرار دیا 4 ؎ ہے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 11 کتاب الایمان۔
2 ؎ الترغیب ص 21 الترھیب من الرباء الخ
3 ؎ الترغیب ص 265 ج 2 الترغیب فی الصبر
4 ؎ الترغیب ص 355 ج 2 باب ذکر الرواۃ المختلف فیہم الخ۔
Ayahs 11:116–117116۔ 117۔ مطلب یہ ہے کہ پچھلی قومیں جتنی گزری ہے اور جن کا قصہ تمہیں بتلایا گیا ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو سمجھ دار تھے اور انہوں نے رسول کی پیروی اختیار کی تھی دنیا میں ظلم اور فساد سے الگ الگ رہے تھے اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دے دی مگر یہ لوگ بہت کم تھے مفسروں نے فساد کے معنے شرک کے لکھے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے خالص خدا ہی کی عبادت کی بتوں سے کوئی غرض نہیں رکھی اور جو لوگ دنیا کے مال و دولت پر غرور کر کے شرک سے باز نہیں آئے اور انہوں نے دین حق کی پیروی نہیں کی وہی لوگ ہلاک ہوئے پھر فرمایا کہ خدا ناحق کسی پر ظلم نہیں کرتا اگر یہ لوگ ہر شخص کے حق کا خیال رکھتے اور ظلم پر کمر نہ باندھتے شرک نہ کرتے تو کبھی ہلاک نہ ہوتے یہ خود انہیں کے ظلم کا نتیجہ تھا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اپنی ذات پر ظلم حرام ٹھہرایا 1 ؎ ہے۔
یہ حدیث وما کان ربک لیھلک القری بظلم واھلھا مصلحون کی گویا تفسیر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ پچھلی قومیں اپنے شرک اور طرح طرح کے ظلم کے سبب سے ہلاک ہوئیں بےقصور ظلم کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک نہیں کیا کیوں کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر حرام ٹھہرا لیا ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 139 ج 2 باب تحر یم الظلم۔
Ayah 11:118118۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ میں یہ بھی قدرت ہے کہ سارے جہان کو ایک ہی دین پر رکھتا سب کے سب دیندار رہتے مگر خدا کی مرضی نہ ہوئی کیوں کہ دنیا کو اس نے نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے زبردستی دیندار بنانے کے لئے نہیں پیدا کیا اس لئے لوگ الگ الگ فرقے فرقے ہوگئے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ہمیشہ مختلف رہیں گے کوئی نصاریٰ کوئی یہود کوئی مجوس کوئی مشرک اسی طرح اپنی اپنی عقل کے موافق الگ الگ مذہب قائم کریں گے ترمذی ابوداؤد ابن ماجہ میں ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہود اکہتر فرقے ہوگئے اور نصاریٰ بہتر فرقے ہوئے اور امت محمد یہ تہتر فرقے ہوں گے ان تہتر فرقوں میں سے بہتر فرقے دوزخ میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا حاکم کی معاویہ ؓ کی حدیث میں یہ ایک بات زیادہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا یا حضرت ﷺ وہ کون سا فرقہ ہے جو جنتی ہے فرمایا وہ لوگ جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر چلیں گے۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث کو ترمذی نے صحیح کہا ہے۔ اور حاکم کی روایت بھی معتبر ہے۔ اس امت کے بےراہ فرقے وہی سلف کے برخلاف لوگ ہیں جیسے قدریہ جبریہ معتزلہ وغیرہ وغیرہ کہ یہ سب فرقے اپنے عقیدہ اور عمل میں سلف کے برخلاف ہیں اور آپس میں بھی ان میں اختلاف ہے ایک فرقہ دوسرے کو حق پر نہیں جانتا۔ الا من رحم ربک سے اہل سنت کا فرقہ مقصود ہے جو اپنے عقیدہ اور عمل میں سلف کا پیرو ہے اس فرقہ کو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ یہ میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر چلنے والے لوگ ہیں حدیث کی کتابوں میں اللہ کے رسول اور آپ کے صحابہ کی حالت جو تفصیل سے لکھی ہے اس حالت کو امت کے موجودہ فرقوں کی حالت سے ملایا جاوے تو خود یہ حالت حدیث کی پیشین گوئی کی صداقت اور یہ حدیث آیت کی تفسیر ہوسکتی ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ
مسنگ