10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 10:1–2

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الرا، یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں۔

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں انکا سچا درجہ ہے (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگر ہے۔

1۔ 2۔ تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو نبی کیا تو اہل عرب پہلے تو یہ تعجب کرتے تھے کہ خدا کی طرف سے انسان نبی کیوں کر ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ نبی ہو کر کیوں نہیں آیا جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اور اسی قسم کی آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ اور ان مشرکوں کی تسکین اہل کتاب کے بیان سے بھی ہوگئی کہ پہلے انبیاء بھی سب انسان ہی تھے تو پھر یہ کہنے لگے کہ { لو لآ انزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم (43، 2)} جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ مکہ میں جیسا ولید بن مغیرہ اور طائف میں مسعود بن عمرو ثقفی ہیں اسی طرح کے کسی مالدار اور شاندار آدمی پر قرآن کیوں نہیں اتارا جس پر اللہ تعالیٰ نے { اھم یقسمون رحمت ربک (43: 33)} نازل فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت ایک رحمت الٰہی ہے۔ اللہ نے اپنی مصلحت میں جس کسی کو اس رحمت کا مستحق جانا اس کو وہ رحمت مل گئی۔ رحمت الٰہی کے حصہ بانٹنے والے یہ لوگ کون ہیں اور ان کو اس حصہ بانٹنے کا حق کس نے دیا ہے۔ حروف مقطعات کی تفسیر تو سورة بقر ہمیں گذر چکی ہے۔ 2 ؎ باقی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قرآن فصاحت و بلاغت اخبار غیب اور ہر طرح کی نصیحت میں ایسا پختہ ہے کہ اس کے ان اوصاف میں کہیں کچھ خامی نہیں ہے اسی واسطے یہ مشرکین مکہ باوجود دعوے فصاحت کے اس کے مانند کچھ کلام بنا کر پیش کرنے سے عاجز ہیں اس پر بھی جو ان لوگوں کو محمد رسول اللہ ﷺ کے رسول ہونے اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر یہاں تک تعجب ہے کہ یہ لوگ قرآن کو جادو اور اللہ کے رسول کو جادوگر بتلاتے ہیں یہ ان لوگوں کی نادانی ہے کیونکہ قرآن کے نازل ہونے سے چالیس برس پہلے یہ اللہ کے رسول ان لوگوں میں رہے کیا ان لوگوں نے کبھی یہ دیکھا ہے کہ اللہ کے رسول نے کسی جادوگر سے جادو سیکھا ہے جس کے سبب سے یہ لوگ اللہ کے کلام کو جادو اور اللہ کے رسول کو جادوگر بتلاتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق (ان لھم قدم صدق عند ربھم) کی تفسیر یہ ہے کہ قرآن شریف کی نصیحت پر عمل کرنے والے ایماندار لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے مرتبے عقبے میں رکھے ہیں جن کا حال قیامت کے دن ان ایماندار لوگوں کو معلوم ہوگا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ایک حدیث قدسی ابوہریرہ ؓ سے اوپر گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایماندار لوگوں کے لئے جنت میں جو سامان تیار کئے گئے ہیں وہ نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھے نہ کانوں سے سنے نہ کسی کے دل پر ان کا خیال گزر سکتا ہے۔ 3 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے حوالہ سے { ان لھم قدم صدق عند ربھم } کی جو تفسیر اوپر بیان کی گئی اس حدیث سے اس کی پوری تائید ہوتی ہے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 6، 4 ج 2 2 ؎ تفسیر احسن التفاسیر جلد اول ص 69۔ 70۔ 3 ؎ صحیح بخاری ص۔ 46 ج 1۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کام کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کئے بغیر (کسی کی) سفارش نہیں کرسکتا۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو تم اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

3۔ اللہ پاک نے چھ دن کی مدت میں زمین و آسمان بنایا اگر وہ چاہتا تو ایک لمحہ میں بنا دیتا لیکن چھ دن کی مدت میں آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں یہ حکمت ہے کہ انسان اس عادت الٰہی کو سیکھ کر ہر کام کو سہولت سے کرے کسی کام میں عادت سے بڑھ کر جلدی نہ کرے کہ اس طرح کی جلدی شیطان کی عادت میں داخل ہے۔ چناچہ مسند ابی یعلی میں انس بن مالک ؓ کی صحیح روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر ایک کام میں سہولت عادت الٰہی ہے اور حد سے زیادہ جلدی عادت شیطانی 1 ؎ ہے۔ کفار بھی اس بات کے تو قائل تھے کہ خدا نے زمین و آسمان کو بنایا ہے مگر بتوں کی تعظیم کرتے اور رسول کو نہیں مانتے تھے اس لئے فرمایا کہ جس کو اتنی بڑی قدرت حاصل ہے جس کے سمجھنے سے انسان کی عقل عاجز ہے اگر اس نے رسول تمہاری طرف تمہیں میں سے بھیجا تو پھر تمہیں کیوں تعجب ہے اور جب انسان اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو پھر بتوں کو قابل تعظیم ٹھہرانے کا کیا حق ہے عرش خدا کی ساری مخلوق سے بڑا ہے بعضوں کا قول ہے کہ عرش یاقوت سرخ کا ہے اللہ پاک وہیں سے کل کاموں کی تدیر کرتا ہے پھر اس آیت میں کفار کی طرف خطاب کر کے فرمایا کہ تم جو بتوں کو پوجتے ہو اور یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ یہی بت تمہاری شفاعت کریں گے تو یہ یاد رکھو کہ تمہارا رب اگر ہے تو وہی خدا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کی عبادت کرنی زیبا ہے ان بتوں کی کیا طاقت ہے جو شفاعت کریں گے۔ اولیائ، غوث۔ قطب 2 ؎ یہاں کہ انبیاء بھی بغیر مرضی اللہ کے کسی کی شفاعت نہیں کرسکیں گے۔ مسند امام احمد اور ترمذی میں ابی رزین عقیلی کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے پانی کو پیدا کیا پھر عرش معلی کو اور پھر سب مخلوقات کو پیدا کیا۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ 3 ؎ مسند امام احمد اور صحیح مسلم میں ابوذر انصاری ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز صبح کی نماز کے بعد سے منبر پر چڑھ کر پیدائش دنیا کا حال ظہر کی نماز تک بیان فرمایا اور ظہر کی نماز سے عصر اور عصر سے شام تک ایک دن میں تمام دنیا کا حال بیان کردینا 4 ؎ یہ اللہ کے رسول کا ایک معجزہ تھا۔ اس لئے خاص کسی صحابی کی روایت میں تو یہ پورا حال سلسلہ وار نہیں ہے لیکن متفرق طور پر اکثر صحابہ کی روایتیں اس باب میں ہیں جن کا ذکر حسب موقع ہر ایک آیت کی تفسیر میں کیا گیا ہے۔ ( استواء علی العرش) اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے جس پر ایمان لانا اور اس کی تفصیلی کیفیت کو علم الٰہی پر منحصر رکھنا سلف کا طریقہ ہے چناچہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ تک اس طرح متشابہ آیتوں کی کیفیت کو علم الٰہی پر منحصر رکھا جاتا تھا اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ صفات الٰہی اور قیامت کے حال کی آیتیں اور حروف مقطعات یہ سب متشابہات ہیں۔ (یدبرالامر) اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب چیزوں کو پیدا کر کے پھر ان کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے مثلاً یوں تو سورج مشرق سے نکلتا ہے لیکن اس کا مغرب سے نکلنا انتظام الٰہی میں دنیا کے ختم ہونے کی ایک نشانی قرار پائی ہے چناچہ صحیح بخاری و مسلم کی ابوذر ؓ کی روایت میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے۔ 1 ؎ جامع ترمذی ص 138 ج 2 تفسیر سورة ہود و تفسیر ابن کثیر ص 437 ج 2۔ ( 2 ؎ صحیح مسلم ص۔ 39 ج 2 کتاب الفتن۔ ) 3 ؎ یعنی آیات صفات الٰہیہ باعتبار کیفیت متشابہات ہیں۔ 4 ؎ صحیح بخاری 454 ج 1 باب صفۃ الشمس الخ و مشکوۃ ص 472 ج 2۔
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیونکہ (خدا سے) انکار کرتے تھے۔

4۔ منکرین حشر کی تنبیہ کے لئے فرمایا کہ یہ بھی یاد رکھو ایک نہ ایک روز سب کے سب خدا الٰہی کی طرف اکھٹے ہو کر آؤ گے پھر جیسے جس کے عمل ہوں گے ویسا اس کو اس کا بدلہ ملے گا ایمان والوں اور نیک عمل والوں کو ان کے عمل جیسا اور کافروں کو ان کے عمل جیسا ایمان والوں کو جنت کی نعمتیں نصیب ہوں گی اور منکر شریعت لوگوں کو کھولتا ہوا پانی پینے کو دیا جائے گا اور طرح طرح کے عذاب ہوں گے بعضے کافر یہ اعتراض کرتے تھے کہ جب سب کے سب مر کر خاک ہوجائیں گے ہڈیاں تک گھل کر خاک ہوجائیں گی تو پھر کیوں کر ویسے کا ویسا کوئی اٹھ کھڑا ہوگا اس کے جواب میں فرمایا (انہ یبدؤا الخلق ثم یعیدہ) جس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے پہلے پیدا کیا ہے وہی پھر دوبارہ بنادے گا جب کسی چیز کی کوئی بنیاد بھی نہ تھی تو اس نے بنا دیا پھر دوبارہ بنا دینا اس کے نزدیک کیا بڑی بات ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں دنیا کی پیدائش کا ذکر فرما کر اس آیت میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ عقلی تجربہ کے موافق ان منکرین حشر کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح سے آجاوے کہ جو کام ایک دفعہ کیا جا چکے تو پھر دوبارہ اس کا کیا جانا کچھ مشکل نہیں رہتا اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے جیسے یہ لوگ نیست و نابود تھے مرنے کے بعد ویسے ہی ہوجاویں گے اور جس نے پہلی دفعہ ان کو نیست سے ہست کیا ہے وہی ان کو نیست سے ہست کر دے گا پھر یہ بھی سمجھایا کہ یہ دوبارہ پیدا کرنا اس انصاف کی بنا پر ہے کہ اس دوسرے جہاں میں نیک و بد کی جزا و سزا ہوجاوے کیوں کہ نیک و بد کو ایک حالت پر رکھنا بڑی ناانصافی ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح میں نے انسان کو پہلی دفعہ پیدا کیا اسی طرح پھر اس کے دوبارہ پیدا کرنے کا ذکر میں نے اپنے کلام پاک میں کیا لیکن انسان نے حشر کا انکار کر کے میرے کلام پاک کو جھٹلایا۔ 1 ؎ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے نعمان بن بشیر ؓ کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس دوزخی پر سب سے کم عذاب ہوگا وہ یہ ہے کہ اس کے پاؤں میں آگ کی جوتیاں پہنا دی جاویں گی جس سے اس کا بھیجا پگل کر نکل پڑے گا۔ 2 ؎ صحیح مسلم میں مغیرہ بن شعبہ ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقبی میں ادنی درجہ کے اول جنت کو اس قدر سازو سامان دیا جاوے گا جو دنیا کی پانچ بادشاہتوں کے برابر ہوگا۔ 3 ؎ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان منکرین حشر کے ذمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے کلام کے جھٹلانے کا الزام ہے اور اس طرح کے ادنی درجہ کے ملزموں کو بھی قیامت کے دن جو عذاب بھگتنا پڑے گا وہ انسان کی برداشت سے باہر ہے پھر اعلیٰ درجہ کے ملزموں کے عذاب کا کیا ٹھکانا ہے اسی طرح جن لوگوں نے قرآن کی نصیحت پر عمل کر کے حشر کا کچھ سامان کرلیا ہے ان میں سے کم درجہ کے جنتیوں کو وہ سازو سامان دیا جاوے گا جو دنیا کی پانچ بادشاہتوں کے برابر ہوگا جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اعلیٰ درجہ کے جنتیوں کا سازو سامان آدمی کی سمجھ سے باہر ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 453 ج 1 کتاب بدء الخلق۔ 2 ؎ صحیح مسلم ص 115 ج 1 باب شفاعتہ النبی ﷺ الخ و مشکوۃ ص 502 باب صفۃ النار و اہلہا 3 ؎ صحیح مسلم ص 6۔ 1 ج 1 باب اثباب الشفاعۃ و اخراج الموحدین من النار۔
Ayahs 10:5–7

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لئے وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

رات اور دن کے (ایک دوسرے کے) پیچھے آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطمئن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں۔

5۔ 6۔ اللہ پاک نے زمین و آسمان اور جو جو چیزیں دنیا میں ہیں ان سب کو اپنے بندے کے فائدے کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے فرمایا کہ آفتاب کو الگ چمک بخشی ہے جس کے سبب سے دن ہے اور چاند کو الگ روشنی دی ہے اور وہ راتوں کو نکلا کرتا ہے چاند کے لئے منزلیں مقرر کیں جس میں وہ برابر آتا جاتا رہتا ہے کبھی گھٹ جاتا ہے کبھی بڑھ جاتا ہے اور پورا ہو کر پھر گھٹنے لگتا ہے یہاں تک کہ بالکل نہیں دکھائی دیتا پھر ایک یا دو روز میں ہلال بن کر نکلتا ہے اسی کے سبب سے لوگ مہینوں اور سال کا حساب کرتے ہیں تو جو لوگ عقل و شعور رکھتے ہیں ان سب باتوں پر غور کر کے خدا پر ایمان لاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ وحدہ لا شریک ہے جس نے ایسی نشانیاں بنائی ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں چاند اور سورج کے منہ آسمان کی طرف ہیں اور پشت زمین کی ہے۔ 1 ؎ شرع میں اسی چاند کے دورہ کے حساب سے مہینہ شروع ہوتا ہے اور ختم ہوتا ہے۔ سورج کے حساب سے نہیں پھر فرمایا کہ دن اور رات کا الٹ پھیر بھی خدا سے ڈرنے والوں کے واسطے ایک نشانی ہے کہ جب دن ہوتا ہے تو رات نہیں ہوتی اور جب رات ہے تو دن نہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ رات سے دن بڑا ہوتا ہے اور کبھی دن سے رات بڑی ہوتی ہے کبھی دونوں برابر ہوجاتے ہیں تو سمجھ دار کے لئے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ بیشک کوئی اس کا بنانے والا ہے۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے 2 ؎ کہ چاند کی اٹھائیس منزلیں اور بارہ برج ہیں ان منزلوں میں سے جب ایک منزل کو چاند طے کرتا ہے تو ایک رات ہوتی ہے اور پوری منزلیں اور برج جب طے ہوجاتے ہیں تو ایک مہینہ ہوتا ہے چاند اور سورج سے آنحضرت ﷺ کے دو بڑے معجزوں کا بھی تعلق ہے۔ چاند کا معجزہ تو شق القمر کا معجزہ ہے جس کا پورا ذکر تو سورة القمر میں آوے گا مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ صحیح بخاری و مسلم میں انس بن مالک ؓ کی روایت ہے جس میں یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے شق القمر کا معجزہ چاہا اور اس معجزہ کا ظہور اس وقت کے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوا جنہوں نے چاند کے دو ٹکڑے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ سورج کے متعلق اللہ کے رسول ﷺ کا وہ معجزہ ہے جس کا ذکر قیامت کی علامات کی صحیح حدیثوں میں ہے۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں ابوذر ؓ کی اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اب تو سورج ہر روز غروب کے وقت عرش معلی کے نیچے جا کر سجدہ کرتا ہے اور اس کو حسب دستور دوسرے روز مشرق سے نکلنے کا حکم ہوجاتا ہے لیکن قیامت کے قریب ایک روز اللہ کے حکم سے وہ مغرب سے نکلے گا۔ اس کے بعد کسی کی توبہ اور کسی کا نیک عمل پھر قبول نہ ہوگا۔ جس طرح چاند کی گردش سے مہینہ اور سال کا حساب معلوم ہوتا ہے اسی طرح سورج کی گردش سے جاڑے کی گرمی اور برسات کا موسم پیدا ہوتا ہے جس کو دنیا کے کاموں میں بڑا دخل ہے غروب کے وقت سورج کے عرش معلے کے نیچے جانے اور سجدہ کرنے کا ذکر جو اوپر کی روایتوں میں ہے اس سے ان اہل ہیئت کا قول ضعیف ٹھہرتا ہے جو سورج کی حرکت کے قائل نہیں چناچہ زیادہ تفصیل اس کی سورة یٰسین میں آوے گی۔ غرض جس اللہ نے سورج چاند کو اس حالت پر پیدا کیا یہ سورج چاند اسی کے تابع ہیں ان میں اصلی کوئی تاثیر نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے جو لوگ سورج چاند میں کسی طرح کی مستقل تاثیر کا اعتقاد رکھ کر سورج چاند کی پوجا کرتے ہیں وہ بڑی غلطی پر ہیں اسی واسطے { حم السجدہ } میں فرمایا { الا تسجد للشمس ولا لقمر واسجدوا للہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون } (31: 37) مطلب اس کا وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اصل تعظیم کے قابل وہی ہے اس کی عبادت میں جو لوگ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ بڑی غلطی پر ہیں کیوں کہ ان کی عبادت کی سب محنت رائیگاں ہے اس لئے فرمایا کہ جو سمجھ دار متقی لوگ ہیں ان کے حق میں تو سورج چاند دن رات اور سب مخلوقات اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں اور جو لوگ ناسمجھی سے شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں وہ اللہ کی قدرت کو بھول کر ان چیزوں سے اس طرح کے کام لیتے ہیں جن کاموں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا نہیں کیا۔ مثلاً نہ سورج چاند پوجا کے لئے پیدا کئے گئے ہیں نہ رات دن ایسے خلاف شریعت کاموں میں صرف کرنے کے لئے۔ 1 ؎ تفسیر فتح البیان ص 331۔ 2 ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص 154۔
Ayahs 10:8–10

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان کا ٹھکانا ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہ رہی ہوں گی۔

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

(جب وہ) ان میں (ان کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان اللہ اور آپس میں انکی دعا سلام علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول (یہ ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے۔

8۔ 10۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ خواہشات دنیا سے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو اور تکلیفات شرعیہ سے جنت کو ڈھانک رکھا ہے۔ 1 ؎ جس کے حاصل معنے یہ ہیں کہ جس طرح پردہ کے اندر کوئی چیز ڈھکی اور چھپی ہوتی ہے اسی طرح جنت تکلیفات شرعیہ کے پردہ کے اندر اور دوزخ خواہشات دنیا کے پردہ کے اندر چھپی ہوئی ہیں اس لئے جس کسی کی تمام ہمت اور کوشش اور عمر خواہشات دنیا کے پورا کرنے اور آخرت سے غافل رہنے میں گزری اس نے گویا دوزخ کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور دوزخ میں جانے کا قصد کیا اور جس کسی کی عمر تابمقدور تکلیفات شرعیہ کی برداشت میں بسر ہوئی اس نے جنت کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور جنت میں جانے کا قصد کیا غرض جو معنے اس حدیث کے ہیں وہی معنی ان آیتوں کے ہیں واسطے اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر کہنا چاہیے اور خواہشات دنیا رحمت الٰہی اور جنت سے روکنے والی چیزیں ہیں اسی واسطے معتبر سند سے طبرانی اور مستدرک حاکم میں ابو سعید خدری ؓ وغیرہ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ اپنے جس بندے کی عقبی کی بھلائی چاہتا ہے اس کو دنیا اور خواہشات دنیا سے ایسا بچاتا ہے جس طرح کوئی آدمی اپنے بیمار کو بد پرہیزی کی چیزوں سے بچاتا ہے۔ 2 ؎ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اپنی محبت اور دین کے کاموں کا شوق اور دنیا کی دلدل میں پھنسنے سے نفرت نصیب کرے۔ جنتی لوگ جنت کی نعمتیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کریں گے اور جب آپس میں ملیں گے تو السلام علیکم کہیں گے اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے جو لوگ رات دن خواہشات دنیا میں گرفتار وہ عقبے سے غافل اور اللہ کو منہ دکھانے کا خیال کبھی ان کے دل میں نہیں گزرتا اور جو لوگ عقبی کی بہبودی چاہتے ہیں وہ اعتقاد اور نیک عملوں کی درستی میں ہر وقت لگے رہتے ہیں۔ انہی دونوں گروہوں کا ذکر ان آیتوں میں فرما کر اول گروہ کا انجام دوزخ اور دوسرے گروہ کا انجام جنت کو فرمایا۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث جو اوپر گزری وہ ان دونوں انجاموں کی پوری تفسیر ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری 960 ج 2 باب حجبت النار بالشہوات۔ 2 ؎ الترغیب والترتیب ص 227 ج 2 باب الترغیب فی الفقر الخ۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی۔ سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کو توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

11۔ نضر بن حارث اور ابو جہل نے جب یہ دعا مانگی کہ اگر یہ قرآن اور آنحضرت ﷺ کا رسول ہونا سچا ہے تو یا اللہ ہم پر آسمان سے پتھر برسا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ تندرستی فارغ البانی اور دنیا کی بھلائیاں جس طرح ہر وقت آدمی کو اللہ دیتا رہتا ہے اسی طرح غصہ کے وقت کی بددعا پر فوراً اللہ آدمی کی پکڑ کرتا رہے تو بہت جلد دنیا اور اہل دنیا کا خاتمہ ہوجاوے۔ صحیح مسلم اور ابو داود میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنے اور اپنے مال و اولاد کے حق میں غصہ کے وقت بددعا نہ کیا کرو ایسا نہ ہو کبھی قبولیت کے وقت وہ بدعا منہ سے نکل جاوے اور قبول ہوجاوے۔ اور اگرچہ اللہ اپنی رحمت سے انسان کو ہر وقت کی برائی پہنچانے سے درگزر فرماتا ہے لیکن یہ رحمت بھی نافرمان لوگوں کے حق میں ایک عذاب اور وبال ہے کس لئے کہ یہ نافرمان لوگ جس قدر دنیا میں صحت اور فارغ البانی سے رہیں گے برے کام زیادہ کریں گے جس کا خمیازہ اسی قدر ان کو آخرت میں بھگتنا پڑے گا۔ ترمذی، مسند امام احمد بن حنبل، دارمی میں ابی بکرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت اچھا آدمی دنیا میں کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا جس کی عمر بڑی ہو اور وہ اپنی عمر میں نیک کام کرے اس شخص نے پوچھا کہ برا آدمی دنیا میں کون ہے آپ نے فرمایا جس کی عمر بڑی ہو اور وہ اپنی عمر میں بدکام کرے۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح 1 ؎ کہا ہے۔ دنیا میں بد لوگوں کا چند روز صحت اور آسائش سے رہنا آخرت کی تکلیف دائمی کے مقابلہ میں اسی طرح نیک لوگوں کی دنیا کی چند روزہ سختی ان کی آخرت کی راحت کے مقابلہ میں کسی گنتی میں نہیں ہے اس لئے بد لوگوں کی آسائش اور نیک لوگوں کو کسی دنیا کی سختی میں دیکھ کر کچھ پچھتاوا نہیں کرنا چاہیے ان پچتاوے کو رفع کرنے کے لئے صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بڑے بڑے راحت سے رہنے والے بد لوگوں سے دوزخ میں جاتے ہی فرشتے پوچھیں گے تم کو دنیا کا آرام و چین کچھ یاد ہے وہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ اس تکلیف کے سامنے ہم کو کوئی راحت دنیا کی یاد نہیں۔ اسی طرح دنیا کے بڑے مصیبت زدہ نیک لوگوں سے جنت میں جاتے ہی فرشتے پوچھیں گے تم کو دنیا کی کوئی مصیبت یاد ہے وہ کہیں گے اس راحت کے آگے ہم کو کوئی مصیبت یاد نہیں۔ 2 ؎ 1 ؎ جامع ترمذی ص 56 ج 2 باب ماجاء فی طول العمر للمومن۔ 2 ؎ مشکوۃ ص 502 ج 2 باب صفۃ النار و اہلہا
Ayahs 10:12–14

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں تو (بےلحاظ ہوجاتا اور) اس طرح گزر جاتا ہے کہ گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔

12۔ 14۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کی یہ عادت بتائی تھی کہ جس قدر ان کو دنیا میں تندرستی اور فارغ بالی دی جاتی ہے اسی قدر ان کی نافرمانی اور سرکشی بڑھتی جاتی ہے اس آیت میں دوسری عادت ان لوگوں کی فرمائی کہ تنگی کے وقت یہ سب لوگ سرکشی بھول کر اٹھتے بیٹھتے اللہ کو پکارنے لگتے ہیں اور جب اللہ ان کی وہ تنگی رفع کردیتا ہے تو پھر بالکل خدا سے بیگانے بن جاتے ہیں۔ صحیح مسلم میں صہیب رومی ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کی علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ تنگی کے وقت وہ صبر کرتے ہیں اور راحت کے وقت اللہ کا شکر بجالاتے ہیں۔ 1 ؎ اور اس سے بڑھ کر ایک مقام ہے جو خاص لوگوں کو میسر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ تنگی کے وقت ظاہر میں صبر کرنا اور باطن میں اس تنگی کو اللہ کا حکم سمجھ کر اس تنگی سے دل پر میل نہ آئے اس کا اجر بھی بہت ہی بڑا ہے۔ اس خاص گروہ کے خاص مقام کا ذکر ابو درداء ؓ کی روایت سے مستدرک حاکم میں ہے اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2 ؎ آخر کو فرمایا پہلے لوگ اس سرکشی اور ناشکری کے وبال میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے اور حال کے لوگ ان پچھلے لوگوں کی قائم مقامی کے طور پر زمین میں آباد ہوئے جن کا ہر ایک کام اللہ کی نظر میں ہے کہ جیسا کوئی کرے گا ویسا ہی بدلہ پاے گا۔ صحیح بخاری و مسلم میں عمرو بن عوف ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو اپنی امت کے فقر و فاقہ کی حالت کا کچھ خوف نہیں ہے بلکہ خوف ہے تو یہ ہے کہ پچھلے لوگوں کی طرح ان میں مال و متاع کی کثرت ہوجاوے گی جس کی شکر گزاری ان سے نہ ہوسکے گی تو اس وقت پچھلے لوگوں کی طرح ان پر بھی آفت آجاوے گی 3 ؎ یہ حدیث آخری آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کے مالدار ہوجانے کے بعد جب تک ان کے کام اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق رہے بادشاہت حکومت سب کچھ ان کے قبضہ میں رہا جب وہ بات جاتی رہی ہر طرح کی ذلت اور خواری ان کے پلے پڑی۔ 1 ؎ مشکوۃ ص 452 باب التوکل والصبر 2 ؎ الترغیب والترہیب ص 264 ج 2 باب الترغیب نے الصبر الخ۔ 3 ؎ صحیح بخاری ص۔ 950 ج 2 باب ما یحذر من زہرۃ الدنیا والتنافس فہای۔
Ayahs 10:15–16

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اسکو بدل دو ۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے۔

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی) ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا بھلا تم سمجھتے نہیں ؟

15۔ 16۔ مفسرین سلف مثل قتادہ اور مقاتل بن حیان نے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن شریف کی وہ آیتیں سناتے جن میں ان کے بتوں اور بت پرستی کی مذمت ہوتی تو ولید بن مغیرہ، ابن امیہ اور سرکش مشرک کہتے تھے کہ اگر تم کو ہمیں اس قرآن کو تسلیم کرانا منظور ہے تو اس میں سے اس طرح کی آیتیں جن میں ہمارے بتوں کی مذمت ہے بدل ڈالو۔ امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ اس مقولہ سے ان مشرکین کی دو غرضیں خیال میں آتی ہیں یا تو مسخرے پن سے وہ ایسی بات کہتے تھے یا ان کا امتحان مقصود تھا کہ اگر خود آنحضرت ﷺ کا بنایا ہوا یہ قرآن ہوگا تو وہ ہماری خاطر سے کچھ حکم اس کے بدل ڈالیں گے اور خدا کی طرف سے یہ قرآن اترتا ہوگا تو آنحضرت ﷺ کوئی حکم اس کا ہماری خاطر سے نہ بدل سکیں گے اللہ تعالیٰ غیب دان نے ان کی دلی مقصود کو جان کر یہ جواب نازل فرمایا کہ ان منکر قرآن لوگوں سے کہہ دو کہ تمہاری عقلوں میں اتنی بات سمجھنے کی کیا قدرت نہیں ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے سے چالیس برس پیشتر میں تمہی لوگوں میں رہتا تھا اور تم لوگ مجھ کو سچا اور امین جانتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں پھر یہ گمان تمہیں کیوں کر ہے کہ یہ قرآن میں نے اپنی طرف سے بنا لیا ہے نہیں ہرگز نہیں یہ گمان تمہارا بالکل غلط ہے صحیح بات یہی ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اور اس میں کسی کی خاطر سے کچھ بدل سدل میرے اختیار میں ہرگز نہیں ہے میں فقط اللہ کے کلام کو اس کے حکم کے موافق تم لوگوں کو سنا دیتا ہوں ورنہ چالیس برس جس طرح چپ چاپ میں نے تم لوگوں میں کاٹ دئیے کبھی تمہارے بتوں کو تمہاری بت پرستی کو برا نہیں کہا اب بھی بلا حکم خدا کہ مجھ کو تم سے اس عداوت کے پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر صحابہ سے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہوں 1 ؎ ترمذی، نسائی ابوداؤد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی آیت یا سورت نازل ہوتی تھی تو آنحضرت ﷺ فوراً کسی کاتب کو بلا کر اس آیت یا سورت کو لکھا لیا کرتے تھے ابن حبان اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ 2 ؎ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں میں کچھ بدل سدل ہوجانے پر ان آیتوں میں عذاب کا خوف دلایا گیا تھا اور آنحضرت ﷺ کے دل میں سب سے زیادہ خوف الٰہی تھا اس لئے جو وحی آتی تھی اس کو آپ فوراً لکھوا لیتے تھے تاکہ لکھوانے میں تاخیر ہو کر کسی آیت یا سورت کے لفظوں میں کچھ رد و بدل نہ ہوجاوے۔ قرآن کی صحت کا یہ انتظام تو اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے تھا خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کی صحت کا یہ انتظام تھا کہ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک جس قدر حصہ قرآن کا نازل ہونا تھا اللہ کے حکم سے ہر رمضان میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اس حصہ کا دور آنحضرت ﷺ سے کیا کرتے تھے جس سے ناسخ منسوخ وغیرہ کی صحت پورے طور پر ہوجاتی تھی۔ چناچہ صحیح 3 ؎ بخاری وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے اگرچہ رمضان کے روزے ہجرت کے بعد فرض ہوئے ہیں لیکن یہ دور کا طریقہ روزوں کے فرض ہونے سے پہلے مکہ میں بھی تھا۔ 1 ؎ مشکوۃٰ ص 27 باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔ 2 ؎ تنقبح الروۃ ص 65 ج 2۔ 3 ؎ مشکوۃ ص 183۔ باب الاعتکاف فصل اول۔
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر چھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بیشک گنہگار فلاح نہیں بائیں گے۔

17۔ اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ کافروں نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ اور قرآن آپ لائیں یا اس کو بدل ڈالیں جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ کہہ دو مجھے زیبا نہیں ہے کہ میں اپنے جی سے اللہ کے کلام کو بدل ڈالوں کیونکہ یہ تو بڑا ظلم ہے اور خدا پر بہتان باندھنا ہے کہ جو بات خدا نے نہ بتلائی ہو میں اس کو اپنے جی سے کہوں آیت کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مشرک اور کافر خدا کو اور اس کی آیتوں کو اور اس کے رسول کو جھٹلاتے ہیں بہت ظلم کرتے ہیں کبھی ان کو فلاحیت نہ ہوگی اور یہ مطلب اس لئے ہے کہ مسیلمہ کذاب ایک شخص حضرت کے زمانہ میں عرب میں تھا اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور جی سے آیتیں گھڑ کر کہتا تھا کہ خدا نے یہ آیتیں مجھ پر اتاری ہیں اس واسطے فرمایا کہ جو شخص خدا پر بہتان باندھے اور یہ کہے کہ خدا نے مجھ پر اپنا کلام بھیجا ہے اس سے بیوقوف سے بیوقوف آدمی اس کو سمجھ لے گا۔ چناچہ جن لوگوں نے حضرت ﷺ اور مسیلمہ کذاب کو دیکھا ہے انہوں نے فوراً پہچان لیا ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے صحیح بخاری وغیرہ میں انس بن مالک ؓ کی روایت میں عبد اللہ بن سلام ؓ کا جو قصہ ہے اس میں عبد اللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ﷺ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائے تو لوگ آپ کے دیکھنے کو ٹوٹ پڑے ان میں میں بھی تھا میں نے صورت دیکھتے ہی پہچان لیا کہ آپ جھوٹوں میں نہیں ہیں۔ 1 ؎ ( 1 ؎ اصابہ فی معرفۃ الصحابہ ص 80۔ 81 ج 4 طبع شرفیہ مصر 1325 ھ/1907 ء و تفسیر الدر المنثور ص 101 ج 4 بروایت جامع ترمذی وغیرہ۔ ) پھر جب بنی سعد بن بکر کی طرف سے ضمام بن ثعلبہ ؓ آپ کے پاس آئے تو باتیں کرتے کرتے یہ بھی پوچھا کہ آسمان کو کس نے بنایا ہے آپ نے فرمایا اللہ نے پھر کہا پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا فرمایا اللہ نے پھر پوچھا زمین کس نے بنائی فرمایا اللہ نے کہنے لگ آسمان اور زمین اور پہاڑ پیدا کرنے والے کی قسم کیا خدا نے تمہیں کل لوگوں کی ہدایت کو بھیجا ہے آپ نے فرمایا ہاں پھر ضمام بن ثعلبہ ؓ نے نماز روزہ حج زکوٰۃ ہر ایک باتوں کو قسمیں دے دے کر دریافت کیا آپ بھی قسمیں کھا کھا کر بیان فرماتے گئے جب ضمام بن ثلعبہ ؓ نے سچی سچی باتیں سنیں تو کہا جس نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں بیشک آپ سچے ہیں اور میں ان باتوں میں جو آپ نے بتلائی ہیں کچھ کمی بڑہتی نہ کروں گا یہ ضمام بن ثعلبہ ؓ کا قصہ صحیح بخاری وغیرہ میں تفصیل 2 ؎ سے ہے ( 2 ؎ صحیح بخاری ص 15 ج 1 باب القراء ۃ والعرض علی المحدث۔ ) اسی طرح جن لوگوں نے مسیلمہ کو دیکھا یا اس کے بنائے ہوئے قرآن کی آیتیں سنیں انہوں نے خود جان لیا کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں ہے محض جھوٹ ہے اسی واسطے خدا تعالیٰ نے فرمایا جھوٹے اور دغا بازوں کو کبھی فلاحیت نہیں ہے آخر جب مسیلمہ مارا گیا تو اس کے ساتھی یا دوست علیحدہ علیحدہ ہوگئے یہاں تک کہ خود اس کے گھر کے لوگوں نے اس پر لعنت بھیجی اور پھر اس کے ان رشتہ داروں نے حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آکر توبہ کی اور اسلام میں داخل ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان لوگوں سے اس کے قرآن کی آیتیں پڑھوا کر سنیں تاکہ جن لوگوں نے اس کا کلام نہیں سنا ہے وہ بھی سن لیں اور جھوٹ اور سچ میں تمیز کرلیں یہ مسیلمہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت میں وحشی بن حرب حضرت امیر حمزہ ؓ کے قاتل کے ہاتھ سے مارا گیا۔ چناچہ ایک جگہ یہ قصہ صحیح بخاری 3 ؎ کے حوالے سے گزر چکا ہے۔ (3 ؎ صحیح بخاری 583 باب قتل حمزۃ۔ ) حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت میں یمامہ کی بڑی لڑائی مشہور ہے جس میں مسیلمہ مارا گیا خا لد بن ولید ؓ اس یمامہ کی لڑائی میں لشکر اسلام کے سردار تھے اس لڑائی میں جب بہت سے حافظ قرآن صحابہ کے شہید ہونے کی خبر آئی تو حضرت عمر ؓ کے مشورہ سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے سارا قرآن ایک جگہ جمع کر کے لکھوایا تاکہ حافظ صحابہ کے شہید ہوجانے سے قرآن کی حفاظت میں کچھ فرق نہ پڑجاوے۔ چناچہ زید بن ثابت ؓ کی روایت سے یہ قصہ صحیح بخاری 4 ؎ میں ہے۔ ( 4 ؎ صحیح بخاری ص 745 ج 2 باب جمع القرآن) صحیح مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا نزول قرآن کے زمانہ میں سوا قرآن کے میری حدیثیں نہ لکھا کر۔ 5 ؎ وہ اسی طرح ( 5 ؎ صحیح مسلم ص 414 ج 2 باب التثبت فی الحدیث و حکم کتابۃ العلم۔ ) حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی صحیح حدیث بھی اوپر گزرچکی ہے۔ 6 ؎ کہ ( 6 ؎ تفسیر جاء ہذا ص 19۔ ) جب کوئی آیت یا سورت نازل ہوتی تھی تو آنحضرت ﷺ فوراً اس کو لکھوا لیا کرتے تھے غرض ان حدیثوں اور اس قسم کی اور حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں سارا قرآن متفرق طور پر لکھا ہوا موجود تھا اسی کو حضرت ابوبکر ؓ نے ایک جگہ جمع کرادیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زمانہ میں جو قرآن جمع ہوا اس میں ساتوں قرأتیں تھیں جس کے سبب سے صحابہ ؓ میں ایک اختلاف رہتا تھا کسی لفظ کو کوئی ایک طرح پڑہتا تھا اور کوئی دوسری طرح اس اختلاف کے رفع کرادینے کی غرض سے پھر حضرت عثمان ؓ نے ایک قرأت کا قرآن لکھوایا۔ چناچہ انس بن مالک ؓ کی روایت سے یہ قصہ صحیح بخاری 7 ؎ میں تفصیل سے ہے۔ ( 7 ؎ صحیح بخاری ص 746 ج 2 باب جمع القرآن۔ ) اور اس تفسیر کے مقدمہ میں بھی اس قصہ کی تفصیل بیان کردی گئی ہے احسن الفوائد کے مقدمہ میں بھی اس قصہ کا ذکر ہے۔
Ayahs 10:18–19

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انکا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کرسکتی ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں ؟ وہ پاک ہے اور (اسکی شان) انکے شرک کرنے سے بہت بلند ہے۔

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور (سب) لوگ پہلے ایک ہی امت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔

18۔ 19۔ مطلب یہ ہے کہ خدائے وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر یہ لوگ بتوں کو پوجتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ بت خدا سے ان کی شفاعت کریں گے یہ ان کی انتہا درجہ کی گمراہی ہے کہ جو دنیا میں ذرہ برابر بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا وہ آخرت میں کیا شفاعت کرے گا پھر حضرت محمد ﷺ کو فرمایا کہ ان سے کہو کہ تم لوگ ایسی بات خدا کو جتلا رہے ہو جس کا سر نہ پاؤں بغیر حکم خدا کے کس کی مجال ہے جو کسی کی کوئی شفاعت کرے پھر خدا نے اپنی پاکی بیان فرمائی کہ وہ شرک سے بالکل پاک صاف ہے اور اگر مشرک شاید یہ کہیں تمہارے دین میں یہ منع ہوگا ہمارے دین میں تو یہ منع نہیں ہے تو فرمایا کہ یہ عقیدہ تم لوگوں نے گھڑ لیا ہے۔ پہلے تو اس کا نام و نشان بھی نہ تھا سب کے سب ایک دین پر تھے جس کا نام اسلام ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت نوح (علیہ السلام) تک دس قرن گزرے ہیں اس وقت تک سارے لوگوں کا مذہب دین اسلام تھا اس کے بعد لوگوں کے عقیدوں میں خلل واقع ہونے لگا اور اختلاف پڑا کوئی بتوں کو پوجنے لگا اور کوئی سورج چاند اور ستاروں کو اور بہتیرے خدا کے سچے دین اسلام پر بھی قائم رہے پھر خدا نے اپنی حجت تمام کرنی چاہی کیوں کہ وہ کسی کو بےحجت نہیں پکڑتا اس لئے رسولوں کو بھیجنا شروع کیا تاکہ وہ مخلوق کی ہدایت کریں حق و ناحق ان پر کھول دیں اگر حجت نہ تمام کرنی ہوتی تو اب تک کب کا فیصلہ کرچکا ہوتا یا قیامت قائم کردیتا یا ان مشرکوں کو اک دم ہلاک کردیتا۔ سورة ابراہیم اور سورة سبا میں آوے گا کہ مشرکین مکہ جن بتوں کی پوجا کرتے اور ان کی شفاعت کی امید رکھتے تھے قیامت کے دن بجائے شفاعت کے ان مشرکوں کے وہ جھوٹے معبود اور سب جھوٹے معبودوں کا سردار شیطان ان مشرکوں سے بڑی بیزاری ظاہر کریں گے جن سے اس غلط شفاعت کی امید پر ان مشرکوں کو بڑا پچتاوا ہوگا لیکن اس دن کا پچتاوا ان کے کچھ کام نہ آوے گا سورة ابراہیم اور سورة سبا کی دو آیتیں اس غلط شفاعت کی بےٹھکانے امید کی گویا تفسیر ہیں صحیح بخاری و مسلم کے حوالے سے مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا لوگوں کی انجانی کے عذر کو رفع کردینا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اسی واسطے آسمانی کتابیں دے کر اس نے رسول بھیجے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کے آخری ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی میں اگر یہ بات نہ ٹھہر چکی ہوتی کہ بغیر انجانی کے عذر کو رفع ہوجانے کے کسی قوم کو ہلاک نہ کیا جاوے گا تو ان مشرکوں نے جس سرکشی پر کمر باندھ رکھی ہے اس کے وبال میں یہ لوگ اب تک ہلاک ہوچکے ہوتے۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا ہی کو ہے۔ سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

20۔ کفار مکہ حضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے ہم کس طرح جانیں کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے رسول ہیں کوئی نشانی دکھلائیے حالانکہ وہ لوگ بڑے بڑے معجزے آپ کے دیکھ چکے تھے شق القمر کا معجزہ ایسا عجیب و غریب تھا جس کا جواب نہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک آدھا پہاڑ کہ اس طرف ہوگیا اور بہت دیر تک اسی حالت پر رہا چناچہ اس باب میں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی روایت اوپر گزر چکی ہے اس کے علاوہ اور بہت سے معجزے آپ سے صادر ہوئے اور یہ قرآن کیا کم معجزہ تھا کہ عرب کے بڑے بڑے عالم اور زبان کے جاننے والے ایک آیت بھی اس کے مثل نہ بناسکے وہ تو یہ کہتے تھے کہ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کردیتے تھے صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کا معجزہ ملا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید بیضا حاصل تھا اسی طرح آپ بھی اس پہاڑ کو جو مکہ میں ہے جس کا نام کوہ صفا ہے سونا بنادیجئے۔ بالکل پہاڑ مکہ کے اپنی جگہ سے اکھڑے کر علیحدہ ہوجائیں اور یہاں ایک خوشنما باغ لگ جائے اس پر فرمایا کہ تم کہہ دو غیب کا علم نہ مجھ کو ہے نہ تم کو بلکہ کسی مخلوق کو نہیں ہے خدا ہی جانتا ہے تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں کیونکہ اللہ پاک تو بڑا علیم اور حکیم ہے۔ اس کی ہمیشہ یہی عادت رہی ہے کہ جب کسی قوم نے اپنے رسول سے کسی بات کو کہا اور رسول نے خدا سے سوال کیا اور خدا نے اس کو پورا کردیا اور اس پر بھی پھر وہ قوم ایمان نہیں لائی تو اللہ پاک نے بہت جلد اس پر عذاب بھیج دیا۔ حضرت سے بھی اللہ پاک کا یہی ارشاد ہوا تھا کہ آپ پہلے سمجھ لیں سوال پورا ہونے پر اگر یہ لوگ ایمان نہ لائے تو فوراً ان پر عذاب نازل ہوگا آپ نے مہلت چاہی تھی اس لئے حکم ہوا کہ غیب کی خبر خدا ہی کو ہے وہی ہر ایک کام کا انجام خوب جانتا ہے آپ تو صرف یہ کہہ دیں کہ بغیر سوال پورا ہوئے اگر تم ایمان نہیں لاتے تو اپنے اور میرے حق میں خدا کے حکم کے منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کی حدیث بدر کی لڑائی کے قصہ میں گزر چکی ہے کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ کے جو بڑے بڑے سردار مارے گئے ان کے نام پہلے سے آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو بتلا دئیے تھے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو طلحہ اور انس بن مالک ؓ کی یہ روایتیں بھی گزر چکی ہیں کہ ان مشرکین کی لاشوں پر کھڑے ہو کر آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا جان لیا ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس عذاب کی راہ دیکھنے کا وعدہ آیت میں تھا اس کے موافق دنیا اور آخرت کا عذاب ان مشرکوں کے سامنے آیا دنیا میں تو ان کے بڑے بڑے سرکش ذلت سے مارے گئے اور دم نکلتے ہی آخرت کے عذاب نے ان کو آن گھیرا۔ اسی واسطے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر انہیں یہ جتلایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا جان لیا۔
Ayahs 10:21–23

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں۔

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے ہو اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں سے) سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کر کے اس سے دعا مانگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں۔

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں لوگو ! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا۔ (تم) دنیا کی زندگی کے فائدے (اُٹھالو) پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

21۔ 23۔ انسان پر جب کوئی سختی ہوتی ہے اور کوئی تدبیریں نہیں آتی تو خدا کو پکارنے لگتا ہے پھر جب اس سے نجات پالیتا ہے تو اسے خیال بھی نہیں رہتا کہ مجھ پر کوئی سختی گزری تھی صحیح بخاری و مسلم میں زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اور روز رات کو مینہ برسا۔ حضرت ﷺ نے اس روز صبح کی نماز کے بعد لوگوں سے کہا کہ تم جانتے ہو آج رات کو خدا نے کیا کہا لوگ کہنے لگے خدا اور خدا کا رسول جانتا ہے ہم لوگوں کو کیا خبر۔ فرمایا یہ کہا کہ صبح کو جب میرے بندے اٹھیں گے تو اکثر مومن ہوں گے اور بہتیرے کافر۔ کیوں کہ رات کو جو بارش ہوئی ہے جو اس کو یوں کہے گا کہ خدا نے اپنے فضل سے مینہ برسایا ہے وہ تو مومن ہوگا اور جو یہ کہے گا کہ ستاروں کی گردش کے اثر سے یہ مینہ برسا ہے وہ کافر ہوگا۔ اس حدیث میں ایمان سے مقصود شکر گزاری اور کفر سے مراد ناشکری ہے پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے حیلے ہیں تم ان سے کہہ دو کہ اللہ کی تدبیر کے سامنے تمہارے مکرو حیلہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے فرشتے ذرہ ذرہ ان کے اعمال لکھ رہے ہیں جب تک ڈھیل ہی ہے جب پکڑے گا تو اک ذرا بھی مہلت نہ دے گا مجرم یہ گمان کر رہے ہیں کہ خدا اب عذاب نہ کرے گا یہ اسی کی شان ہے کہ تم کو خشکی میں اور دریا میں چلاتا پھراتا ہے تمہاری کشتیاں موافق ہوا پا کر منزل کی طرف جلدی جلدی جاتی دکھائی دیتی ہیں اور تم خوش ہونے لگتے ہو پھر یک بیک ایسی تیز ہوا چلتی ہے اور دریا میں جوش آنے لگتا ہے کہ کشتی ڈگ مگانے لگتی ہے پھر تو تمہاری جانوں پر آن بنتی ہے خیال کرتے ہو کہ اب پھنس گئے اس وقت خالص خدا ہی کو یاد کرتے ہو کسی بت سے مدد نہیں چاہتے جب خدا بیڑا پار لگا دیتا ہے اور خشکی پر صحیح و سلامت آجاتے ہو تو پھر وہی شرک جو تمہارے اعمال تمہیں بتلائے جائیں گے اس لئے انسان کو چاہیے کہ جب کوئی بہتری ہو تو خدا کا شکر کرے صحیح مسلم کے حوالہ سے صہیب رومی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ راحت کے وقت شکر اور تکلیف کے وقت صبر کرنا ایمان کی نشانی ہے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ پورے ایماندار نہیں ہیں ان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ سختی کے وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں اور راحت کے وقت بالکل اس کو بھول جاتے ہیں اور جو لوگ پکے ایماندار ہیں وہ راحت میں شکر گزاری سے اور تکلیف کے وقت صبر کے اجر کی امید سے غرض کسی حال میں اللہ کو نہیں بھولتے۔
Ayahs 10:24–25

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کی مثال مینہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی۔ اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔ ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لئے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

24۔ 25۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے سرکش اور نافرمان لوگوں کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں انسان کی زندگی کی مثال اس لئے فرمائی کہ سرکش لوگوں کو عبرت ہو کہ جس زندگی کے بھروسہ پر وہ سرکشی اور نافرمانی کرتے ہیں وہ زندگی ہی خود ایک ناپائیدار چیز ہے جس طرح جنگل کی کھیتی ہے کہ کاشتکاری کی موسم میں کچھ سر سبز نظر آتی ہے پھر خاک اڑتی دکھائی دیتی ہے اسی طرح انسان کی زیست کا ایک موسم شادابی کا جوانی میں آن کر ساتھ ہی اس کے گھٹاؤ کے آثار شروع ہوجاتے ہیں دانت ادھر جواب دیتے ہیں آنکھیں کمزوری جتانے لگتی ہیں ہاتھ پاؤں کو دیکھ تو نہ وہ بل باقی ہے نہ وہ زور ہے تھوڑے دنوں میں گویا درخت تھا کہ سوکھتے سوکھتے جڑ سے اکھڑ گیا کھیتی کی مثال اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیتوں میں دنیا کی زندگی کی بیان فرمائی ہے کس لئے کہ کھیتی اور انسان کی حالت کو خاص طرح کی ایک مشابہت ہے۔ پہلے پہل جس طرح کاشتکار زمین میں بیج ڈال کر بےاختیار ہوجاتا ہے کہ خدا کی قدرت سے وہ بیج پیڑ ہو کر زمین سے نکلے یا اندر ہی اندر جل جاوے اسی طرح رحم میں نطفہ کا حال ہے پھر ہر پیڑ کے لئے پودے اور انسان کے بچہ کے نشوونما اور کمزوری کی ایک سی کیفیت ہے پھر کھیتی کا چند روز لہلہاتا اور انسان کی جوانی دونوں ایک ہیں اسی طرح کھیتی کا پکاؤ انسان کا بڑھاپا پھر پکاؤ کے بعد اس کا کٹنا اس کا مرنا یہ بھی دونوں یکساں ہیں اور اس مثال میں اللہ تعالیٰ نے حشر کا حال بھی جتلایا ہے اور منکرین حشر کو قائل کیا ہے کہ وہ قادر جس کی قدرت سے ہر سال چٹیل میدان کا سر سبز کردینا باہر نہیں ہے وہ اسی طرح دنیا کی ویرانی کے بعد ایک دفعہ پھر دنیا کو پیدا کرنے والا ہے اور پہلی دفعہ کا پیدا ہونا آنکھوں سے دیکھ کر پھر کسی عقل کو اس قدرت کے نہ ماننے کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا مردہ کے جسم میں ایسا ہے جس کو مٹی نہیں کھاوے گی پھر دوسرے صور سے پہلے آسمان سے ایک مینہ برسے گا جس سے اس ریڑھ کی ہڈی کے ٹکڑے سے سب مرے ہوئے لوگوں کے جسم بن کر تیار ہوجاویں گے۔ آیت میں کھیتی کی مثال دے کر اس آگے کی آیت میں حشر کا جو حال جتلایا گیا ہے اس کا مطلب حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ حشر کے دن وہ ریڑھ کی ہڈی کا ٹکڑا بیج کا کام دیوے گا اور اس دن کے مینہ کی تاثیر سے اس ہڈی کے ٹکڑے سے جسم اسی طرح بن جاوے گا جس طرح اب سب کی آنکھوں کے سامنے ہر طرح کے بیج سے درخت بن کر تیار ہوجاتے ہیں اس صحیح حدیث سے ان فلسفیوں کا قول ضعیف قرار پاتا ہے جو جسمانی حشر کے قائل نہیں ہیں۔ صحیح بخاری میں جابر ؓ سے روایت ہے جس میں فرشتوں نے مثال کے طور پر سمجھایا ہے کہ اللہ کا گھر جنت ہے۔ اور لوگوں کو بلا بلا کر اس گھر تک پہنچانے والے اللہ کے رسول ہیں۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا ایک ناپائیدار چیز ہے اس لئے اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنے رسول کی معرفت جنت کی طرف بلاتا ہے کہ وہاں کی ہر طرح کی راحت پائدار ہے۔ دنیا کی راحت کی طرح ناپائدار نہیں ہے لیکن علم الٰہی میں جو لوگ جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہی اللہ کے رسول کی نصیحت کو سن کر راہ راست پر آتے ہیں اور جنت میں داخل ہونے کے کام کرتے ہیں اور اللہ بھی راہ راست پر آنے کی انہیں توفیق دیتا ہے اور جو لوگ علم الٰہی میں جنت کے قابل نہیں ہیں ان کو مجبور کر کے راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے اس واسط اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ سلام اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور دار کے معنے گھر کے ہیں اس لئے دارالسلام سے مطلب جنت ہے۔
Ayahs 10:26–27

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے نیکو کاری کی انکے لئے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور انکے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلّت چھا جائے گی اور کوئی انکو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دئیے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

66۔ 27۔ مطلب یہ ہے کہ نیکی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ سوائے جزائے مقررہ کے اپنی طرف سے اور زیادہ انعام بھی عنایت فرمادے گا اگرچہ بعضے مفسروں نے اس زیادہ انعام کی تفسیر کی ہے کہ نیکی کا بدلہ ایک درجہ تک تو جزا ہے دس درجہ سے سات سو درجہ تک ثواب ملنے کا ذکر جو صحیح بخاری و مسلم کی چند روایتوں میں آیا ہے وہی انعام ہے لیکن صحیح تفسیر اس انعام کی وہی ہے جس کا ذکر خاص طور پر صحیح حدیث میں آچکا ہے۔ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اہل جنت جنت میں داخل ہوجاویں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے ارشاد فرماوے گا کہ کیا تمہارے دل میں کچھ اور زیادہ انعام کی ہوس ہے اہل جنت عرض کریں گے یا اللہ تو نے ہم کو جنت میں داخل کیا ہے یہی ہم کو بڑا انعام ہے اللہ تعالیٰ فرماوے گا ابھی تمہارا انعام باقی ہے یہ فرما کر پھر ان کو اپنے دیدار سے مشرف فرما دے گا۔ جو سب نعمتوں کو بڑھ کر اہل جنت کو ایک نعمت نظر آوے گی۔ صحیح بخاری و مسلم میں جریر بن عبد اللہ ؓ وغیرہ سے روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے دیدار الٰہی کا ذکر تفصیل سے فرمایا ہے۔ دیدار الٰہی کے ممکن نہ ہونے پر فرقہ معتزلہ نے جو عقلی اعتراض کئے ہیں ان کا جواب اہل سنت نے تفصیل سے دیا ہے کہ جس کی صراحت حدیث کی شرح کی کتابوں اور تفسیر میں ہے ان آیتوں میں مسلمانوں کے منہ پر سیاہی نہ چھانے اور نافرماں بردار لوگوں کے چہروں پر سیاہی اور خواری چھا جانے کا جو تذکرہ ہے یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حساب و کتاب ہوگا اور لوگوں کے سیدھے ہاتھ میں اور الٹے ہاتھ میں نامہ اعمال دئیے جاویں گے۔ چناچہ معتبر سند سے ترمذی صحیح ابن حبان اور بیہقی میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حساب کے وقت ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ کے روبرو بلوایا جاوے گا جس کے سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جاوے گا اس کے منہ پر رونق آجاوے گی اور جس کے الٹے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جاوے گا اس کے منہ پر سیاہی اور خواری چھاوے گی اس حدیث سے چہروں پر رونق کے آجانے اور سیاہی کے چھا جانے کا وقت اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔