10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 10:59–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمہارے لئے جو رزق نازل فرمایا۔ تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھیرایا اور (بعض کو) حلال ' (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تمہیں اس کام کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افترا کرتے ہو ؟

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا پر افترا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں ؟ بیشک خدا لوگوں پر مہربان ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

59۔ 60۔ اوپر قرآن شریف کی نعمت کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ ان مشرکوں نے فقط اسی نعمت کا انکار نہیں کیا بلکہ یہ لوگ تو اللہ کی اور نعمتوں کے بھی منکر اور ناشکر گزار ہیں کیوں کہ ان لوگوں نے بعض چیزیں اپنے اوپر حرام کرلی ہیں اور بعض حلال تو یہ حلال و حرام کس طرح کا ہے کیا اپنی ہی خواہش اور ہوا و ہوس سے انہوں نے یہ حکم لگایا ہے یا یہ اعتقاد کر کے یہ حکم خدا کا ہے اگر اپنے نفس کی خواہش سے یہ حلال و حرام کرلیا ہے تو یہ کوئی عقلمند نہیں پسند کرنے کا کہ جس چیز کو جی چاہا حلال کرلیا اور جس کو جی چاہا حرام سمجھ لیا اب باقی رہی یہ بات کہ خدا کے حکم سے انہوں نے کسی چیز کو حلال اور کسی چیز کو حرام سمجھا ہے تو بتلاؤ یہ کس ذریعہ سے ان کو معلوم ہوا کس رسول نے انہیں بتلایا کیوں کہ خدا کا پیغام کسی کو معلوم نہیں ہوسکتا ہے مگر رسول کے وسیلہ سے اور اگر رسول نے انہیں نہیں بتلایا ہے تو خدا پر گویا جھوٹا الزام رکھتے ہیں قیامت کے دن اس کے عوض میں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ اس سے انہیں ڈرنا چاہیے۔ مسند امام احمد میں ایک حدیث ہے کہ مالک بن نضلہ ؓ ایک روز حضرت رسول مقبول ﷺ کی خدمت میں بالکل ہی میلے کچیلے حال میں آئے آپ نے فرمایا کہ کیا تیرے پاس کچھ مال نہیں ہے مالک نے کہا ہاں ہے آپ نے فرمایا کیا ہے انہوں نے کہا بہت مال ہے اونٹ ہیں بکریاں ہیں گھو ڑے ہیں غلام ہیں غرض کہ ہر طرح کا سامان ہے آپ نے فرمایا کہ جب اللہ نے ایسا مالا مال تجھے کیا ہے تو اس کا اثر بھی تجھ پر کچھ ہونا چاہیے تھا پھر فرمایا کہ تیرے اونٹ جب بچے دیتے ہیں تو تو ان کے اچھے بھلے کانوں کو استرہ سے کاٹ ڈالتا ہے اور اس کا بحیرہ نام رکھتا ہے۔ (جاہلیت کے زمانہ میں یہ رواج تھا کہ گھر کا جانور جب کوئی بچہ دیتا تھا تو اس کے کان کاٹ ڈالتے تھے یا کھال میں ایک شگاف دیتے تھے جب کان کاٹتے تھے تو اس جانور کو بحیرہ کہتے تھے اور کھال میں جس کے شگاف لگاتے تھے اس کا نام حام رکھا کرتے تھے بہر حال اس بحیرہ اور حام کو رام سمجھتے تھے اس کا ذبح کرنا اور گوشت کھانا بالکل ناجائز خیال کرتے تھے۔ چناچہ ہندومت میں ہندوؤں کے ہاں ایک دستور ہے۔ بیل چھوڑ دیتے ہیں اس کو مارنا بھی گناہ سمجھتے ہیں، غرض پھر آپ نے مالک بن نضلہ ؓ سے فرمایا کہ یاد رکھ خدا کا استرہ تیرے استرے سے کہیں زیادہ تیز ہے اس کے دست قدرت میں تیرے ہاتھوں سے کہیں بڑھ کر قوت ہے۔ 1 ؎ حاصل یہ ہے کہ اللہ نے جتنی نعمتیں اپنے بندوں پر اتاری ہیں سب حلال ہیں اپنے جی اور خواہش سے ان کو حرام کرنا صریحاً جرم ہے اور جو چیزیں اس نے حرام کردی ہیں ان کو حلال سمجھنا بہت ہی بڑا گناہ ہے خدا نے اپنے فضل سے جو چیزیں حلال کی ہیں یہ اس کا بڑا احسان ہے اور اس کے اس احسان کو نہ ماننا بڑی ناشکری ہے۔ مالک بن نضلہ ؓ کی اس حدیث کی سند کو حافظ ابن کثیر ؓ نے معتبر قرار دیا ہے یہ حدیث آیتوں کی گویا تفسیر ہے کیوں کہ اس میں نعمت کی ناشکری اور زبردستی بعض چیزوں کے حرام ٹھہرانے کی مذمت ہے اور یہی مضمون آیتوں کا ہے یہ مالک بن نضلہ ؓ پھر اسلام لائے صحابہ میں ان کا شمار ہے اور حدیث کی صحاح کی کتابوں میں ان سے روایتیں ہیں مشرکین مکہ نے جو چیزیں اپنی طرف سے حرام ٹھہرائی تھیں ان کی تفصیل سوہ مائدہ اور سورة انعام میں گزر چکی ہے اور اس باب میں جو حدیثیں ہیں وہ بھی انہی سورتوں میں ذکر کردی گئی ہیں۔ 1 ؎ سیر ابن کثیر 421 ج 2 ایضاً
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔

61۔ اللہ پاک نے اپنے رسول ﷺ کو اس آیت میں یہ جتلایا ہے کہ آپ یا آپ کی امت کے لوگ جو کام کرتے ہیں خدا اس کو دیکھتا ہے ہر شخص کا چلنا پھرنا برے اچھے عمل قرآن مجید کی تلاوت کا کرنا سب اس پر ظاہر ہے کیوں کہ زمین و آسمان میں جتنی چھوٹی بڑی چیزیں ہیں علم الٰہی کے نتیجہ کے طور پر وہ سب ذرہ ذرہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں۔ اس سے کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی اس لئے جب جبرئیل (علیہ السلام) ایک آدمی کی صورت بن کر آئے اور آپ سے سوال کیا کہ احسان کیا شی ہے آپ نے فرمایا کہ خدا کی عبادت کرنے کی حالت میں یہ سمجھنا کہ ہم خدا کو دیکھ رہے ہیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو یہ خیال کرنا کہ خدا ہم کو دیکھ رہا ہے یہ حدیث (کنا علیکم شھودا) کی گویا تفسیر ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کی یہ حدیث 1 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے اسی طرح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں علم الٰہی کے نتیجہ کے طور پر لوح محفوظ میں سب چیزوں کے لکھے جانے کا ذکر ہے۔ 2 ؎ غرض یہ حدیثیں آیت کی گویا تفسیر ہیں جو فلسفی اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم جزئیات کو شامل نہیں ہے ان کے قول کا ضعف اس آیت سے نکلتا ہے کیوں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان و زمین میں ایک ذرہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے۔ 1 ؎ مشکوۃ ص 11 کتاب الایمان۔ 2 ؎ صحیح مسلم ص 335 ج 2 باب حجاج آدم و موسیٰ ۔
Ayahs 10:62–63

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

(یعنی) وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

62۔ 63۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کا حال بیان فرمایا ہے کہ اور لوگوں کو دنیا کے چھوٹ جانے کا اور دنیا میں بےفائدہ عمر بسر کرنے کا آخرت میں غم اور رنج ہوگا اللہ کے ولی لوگ جو کامل ایمان داری اور تقوی میں اپنی دنیا اس طرح بسر کرتے ہیں کہ ان کا حال دیکھنے سے دیکھنے والوں کو خدا یاد آتا ہے ان کو آخرت میں کچھ غم اور رنج نہیں ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مسند بزار و تفسیر ابن جریر میں ابو مالک اشعری ؓ سے مسند امام احمد بن حنبل میں اور سنن ابوداؤد میں حضرت عمر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اولیاء اللہ وہ لوگ ہیں جن کے دیکھنے سے خدایاد آتا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ہے جس میں اولیاء اللہ کی یہ نشانی ہے کہ علاوہ فرضی عبادت کے وہ لوگ اکثر نفلی عبادت میں اور ان کے کان آنکھیں ہاتھ پیر سب اعضاء مرضی الٰہی کے کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ 2 ؎ اس صحیح روایت سے اوپر کی روایتوں کی پوری تائید ہوتی ہے کیوں کہ جو لوگ ہر وقت عبادت الٰہی میں لگے رہیں گے ان کے دیکھنے سے ضرور خدا یاد آوے گا مستدرک حاکم کی ابن عمر ؓ کی صحیح روایت میں یہ بھی ہے کہ بغیر روپے کے لالچ اور بغیر رشتہ داری کے وہ آپس میں اللہ کے واسطے بڑی گہری محبت رکھتے ہیں قیامت کے دن جب اور لوگوں کو خوف ہوگا تو یہ لوگ بےخوف اور خوش حال ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کی بڑی عزت فرماوے گا۔ ان کو نور کے ممبر بیٹھنے کو ملیں 3 ؎ گے اگرچہ عام لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ جس شخص میں کوئی بات خلاف عادت ہو مثلاً بےموسم کی چیز کا پیدا کردینا یا آئندہ کی کوئی خبر بتلا دینا یا تھوڑی دیر میں دنوں کا راستہ طے کرلینا تو وہ شخص ولی ہے اور وہ خلاف عادت بات کرامت ہے لیکن علماء اہل سنت کا مذہب ایسا نہیں ہے بلکہ ان کا مذہب یہ ہے کہ جس شخص میں خلاف عادت کوئی بات نظر پڑی اگر وہ شخص متقی اور شریعت کا پابند ہے تو وہ خلاف عادت بات کرامت ہے اور وہ شخص ولی ہے ورنہ وہ خلاف عادت بات استدراج ہے اور وہ شخص ولی نہیں ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ولی آیت میں ولی کی نشانی یہ فرمائی ہے۔ { الذین امنوا وکانوا یتقون } پھر غیر پابند شریعت شخص کو پورا ایماندار اور متقی کیوں کر کہہ سکتے ہیں اور بغیر اس ولایت کی نشانی کے جس کو خود خدا نے ولی کی علامت ٹھہرایا ہے کسی کو ولی خلاف مرضی خدا کے زبردستی کیوں کر کہا جاسکتا ہے اسی طرح خدا کے رسول ﷺ نے ولی کی علامت یہ بتلائی ہے کہ ولی کے دیکھنے سے خدا یاد آتا ہے کیوں کہ ولی اکثر یاد الٰہی میں لگا رہتا ہے اور یہ ظاہر بات ہے کہ بےشرع آدمی کے دیکھنے سے اور اس کی صحبت سے جو کچھ نشہ پانی یا اور کوئی خلاف شریعت بات مثلاً راگ رنگ جو کچھ وہ بےشریعت کرتا ہے وہ یاد آتا ہے خدا ایسے آدمی کے دیکھنے سے کب یاد آتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ عام لوگوں کے نزدیک کرامت سے ولی پہچانا جاتا ہے اور علماء اسلام کے نزدیک پیروی شریعت سے ولی پہچانا جاتا ہے اور پھر ولی سے کرامت پہچانی جاتی ہے۔ ابن عساکر میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں اولیاء اللہ کے چند گروہ ہیں تین سو آدمیوں کا ایک گروہ ایسا ہے جن کا ولایت میں وہ مقام ہے جو نبوت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا تھا اور چالیس آدمیوں کا ایک گروہ ایسا ہے جن کا مقام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سا ہے اور سات آدمیوں کا ایک گروہ ایسا ہے جن کا مقام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سا ہے اور سات آدمیوں کا ایک گروہ ایسا ہے جن کا مقام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سا ہے اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ ایسا ہے جن کا مقام ولایت وہ ہے جو ملائکہ میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کا مقام ہے اور تین آدمیوں کا ایک گروہ ایسا ہے جن کا مقام حضرت میکائیل کا ہے اور فقط ایک شخص ایسا ہے جس کا مقام حضرت اسرافیل کا ہے ان اولیاء اللہ کی دعا کی برکت کے سبب سے طرح طرح کی بلائیں دفع ہوتی رہتی ہیں قحط کے وقت ان کی دعا سے مینہ برستا ہے لڑائی کے وقت ان کی دعا سے دشمن پر فتح ہوتی ہے ان لوگوں سے کبھی دنیا خالی نہیں رہتی نیچے کے گروہ والوں کو خدا ترقی دیتا رہتا ہے مثلاً چالیس آدمیوں کے گروہ میں سے کسی شخص کے فوت ہوجانے سے ایک آدمی کی جگہ خالی ہوجاتی ہے تو تین سو آدمیوں کے گروہ میں سے ایک شخص اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے اور عام مسلمانوں میں سے ایک شخص تین سو کے گروہ میں مامور ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ہر گروہ کا حال ہے۔ 4 ؎ اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت علی ؓ وہ ذکر سن کر خاموش ہو رہے اور لوگوں نے حضرت علی ؓ سے کہا آپ اپنے دشمن اور دشمن کے لشکر کا ذکر سن کر خاموش رہ جاتے ہیں کچھ ان کو برا نہیں کہتے آپ نے فرمایا اہل شام کو میں کیوں کر برا کہوں میں نے حضرت سے سنا ہے کہ ملک شام میں چالیس آدمیوں ابدال کا گروہ ایسا ہے کہ جن کے سبب سے اہل شام کی ہر طرح کی بلا دفع ہوتی ہے جن کی دعاء سے قحط کے وقت مینہ برستا ہے لڑائی کے وقت دشمن پر فتح ہوتی ہے۔ 5 ؎ اسی طرح حلیہ ابی نعیم میں روایت ہے کہ اہل صفہ میں مغیرہ بن شعبہ ؓ کا ایک غلام تھا اس کو آحضرت ﷺ نے فرمایا یہ سات میں کا ایک ہے 6 ؎ سوا اس کے جن حدیثوں میں ادا تا واقطاب نقباء نجبا کی گنتی کا ذکر ہے ان حدیثوں کو اہل حدیث نے ضعیف کہا ہے۔ 7 ؎ ہاں خاص نام لے کر ولایت کی شان سے بعض صحابہ اور تابعین کا ذکر صحیح حدیثوں میں آیا ہے۔ چناچہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلی امتوں میں ایسے لوگ تھے جن کو خدا کی طرف سے الہام ہوتا تھا اس امت میں اسی طرح کے لوگ ہیں تو وہ عمر فاروق ہیں 8 ؎ اور صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یمن سے ایک شخص تمہارے پاس آوے گا جس کا نام اویس ہے اس سے دعا کرانا 9 ؎ اور کرامت کے خیال سے صحابہ اور تابعین کے حال پر حدیث کی کتابوں میں نظر ڈالی جاوے تو ہزار کرامتوں سے کم نہیں نکلتی ہیں مثلاً حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے تین مہمانوں کا قصہ صحیحن میں ہے جس میں کھانا بڑھ گیا تھا 10 ؎ اور حضرت عمر ؓ کا مدینہ میں خطبہ کے وقت اپنے لشکر کو پہاڑ پر چڑھ کر لڑنے کی ہدایت کا دینا اور منزلوں کے فاصلہ پر اس کا عمل ہوجانا 11 ؎ اور حسن بصری ؓ کا حجاج کی نگاہ سے غائب ہوجانا اور سعید بن مسیب ؓ کو یزید ؓ کے جھگڑے کے زمانہ میں اذان کی آواز کا مسجد نبوی میں آنا 12 ؎ وغیرہ لیکن شریعت میں کہیں ایسے اولیاء اللہ کا ذکر نہیں ہے جن کو شریعت کا حکم معاف ہو یا ظاہر میں وہ شریعت کے پابند ہوں اور باطنی احکام الہامی میں ان کو شریعت کی پابندی ضرور نہ ہو یا ولایت کو وہ نبوت سے بڑھ کر گنتے ہوں یا کسی کو خاتم الاولیاء کہتے ہوں یا احکام شریعت کے وہ ایسے معنے بتلاتے ہوں جن کی روایت صاحب شریعت سے صحیح مروجہ کتابوں میں کہیں نہیں پائی جاتی اس قسم کی جس قدر باتیں فتوحات و خصوص الحکم وغیرہ میں لکھی ہیں وہ سب شریعت کے مخالف ہیں کیوں کہ یہ تو ظاہر بات ہے کہ وحی شرعی میں جب ان باتوں کا پتہ نہیں ہے تو امت میں سے جس کسی کو یہ باتیں معلوم ہوئی ہوں گی خواہ مخواہ الہام کے ذریعہ سے معلوم ہوئی ہوں گی کس لئے کہ وحی تو خاتم الانبیاء پر ختم ہوچکی اور الہام ایسی ایک چیز ہے کہ بدوں شہادت شریعت کے صرف الہام کے ذریعہ سے کوئی بات ثابت کی جاسکتی ہے نہ خالی الہام حجت ہوسکتا ہے چناچہ مشائخ اسلام مثلاً فضیل بن عیاض ؓ و ابراہیم ادہم و ابو سلیمان و ارانی و معروف کرخی وجنید بغدادی ; وغیرہ نے اس کی صراحت کردی ہے کہ سوائے انبیاء کے اور کسی کا الہام اس وقت تک صحیح نہیں قرار پاسکتا جب تک وہ الہام ظاہر شریعت کے موافق نہ ہو۔ اور یہ ہی مذہب حق ہے ورنہ سلف صالحین کے رحمانی اور القاء شیطانی میں فرق ہے تو اتنا ہی ہے کہ الہام رحمانی کی تائید شریعت سے ہوا کرتی ہے چناچہ چند باتوں میں حضرت عمر ؓ کی خلافت میں اور حارث و مشقی عبد الملک بن مروان کی خلافت میں اسی وجہ سے قتل کئے گئے کہ ان کے القاء شیطانی کی تصدیق شریعت سے نہیں ہوتی تھی۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 422۔ 423 ج 2۔ و تفسیر الدرالمنثور 309۔ 310 ج 3۔ 2 ؎ صحیح بخاری ص 963 ج 2 باب التواضع۔ 3 ؎ تفسیر الدرا لمنثور ص۔ 31 ج 3۔ 4 ؎ حافظ سیوسی ؓ اللالی المصنوعہ (ص 512 طبع لکھنو 1) میں بحوالہ طبرانی یہ روایت لاکر کہتے ہیں کہ اس کی سند میں بہت سے مجہول راوی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ روایت کس یکام نہیں چناچہ حافظ ذہبی نے اس کو موضوع قرار دیا ہے۔ میزان ص 187 ج 2 ع۔ 5 ؎ مشکوۃ باب ذکر الیمن والشام بحوالہ مسند احمد ص 171 ج 2 طبع احمد شاکر ؓ یہ روایت منقطع ہے لہٰذا ضعیف اور ناقبل حجت (ع، ر) 6 ؎ صوفیوں کے ان اصطلاحی القاب کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ابدال کے متعلق جتنی روایات ہیں ان کو اگرچہ حافظ سیوطی نے ٹھیک بنانے کی کوشش کی ہے لیکن حافظ طخاوی ؓ کے نزدیک ہ سب ضعیف ہیں (المقاصد المسز ص 8 طبع جدید، اور یہی رائے حافظ شوکانی ی ہے (الفوائد المجموعہ ص 246۔ 249 طبع مصر۔ ) ۔ ہ، ر۔ 7 ؎ مشکوۃ ص 556 باب مناقب عمر ؓ ۔ 8 ؎ صحیح مسلم ص 311 ج 2 باب من فضائل اویس القرنی ؓ ۔ 9 ؎ مشکوۃ ص 544 باب الکرامات۔ 10 ؎ مشکوۃ ص 546 باب الکرامات۔ 11 ؎ ایضا 545 باب الکرامات۔ 12 ؎ صحیح بخاری ص 1037 ج 2 باب رؤیۃ النساء۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

64۔ مسند امام احمد بن حنبل میں عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ﷺ سے پوچھا کہ اس آیت میں نیک مسلمانوں کو دنیا میں خوشخبری کا جو ذکر ہے اس سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں اور یہ ایک مسئلہ ہے کہ امت میں سے کسی شخص نے تم سے پہلے مجھ سے نہیں پوچھا 1 ؎ اس بات کے قرار دینے میں کہ خواب کیا چیز ہے لوگوں نے بڑا اختلاف ڈال رکھا ہے۔ طبیب لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ جس خلط کا غلبہ آدمی کی طبیعت پر ہونا ہے اسی طرح کی چیزیں اس کو سوتے میں نظر آتی ہیں۔ مثلاً بلغمی مزاج کا آدمی کے ذہن میں نقش پذیر ہوجاتی ہیں لیکن یہ دونوں فرقوں کی باتیں محض خیالی باتیں ہیں کیوں کہ اگر خواب کا وجود ایسا ہی خیالی ہوتا جیسا یہ لوگ کہتے ہیں تو خواب کے موافق دنیا میں تعبیر کیوں پیش آیا کرتی کیا خلط اور ذہن میں یہ بھی قدرت ہے کہ خیالی چیز کو دنیا میں پیدا بھی کر دے خواب کی اصل حقیقت وہی ہے جو وحی کے ذریعہ سے صاحب وحی ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ چناچہ صحیح بخاری ابن ماجہ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خواب کی تین قسمیں ہیں ایک تو وہ ہے کہ آئندہ کوئی بات خواب دیکھنے والے کے حق میں ہونے والی ہیں پھر جس طرح جاگتے ہیں الہام ہوتا ہے اسی طرح سوتے میں اللہ تعالیٰ اس بات کو اس شخص کے دل میں ڈال دیتا ہے اور اسی قسم کو آنحضرت ﷺ نے نبوت کا جز فرمایا ہے دوسری قسم وہ ہے کہ جس کام میں سونے سے پہلے آدمی لگا ہوا تھا وہی خیال کے طور پر سوتے میں آدمی کو نظر آتا ہے تیسری قسم وہ ہے کہ شیطان ڈرانے کے طور پر خوفناک چیزیں یا خوفناک حالت خواب میں دکھاتا ہے 2 ؎ دوسری قسم تو محض خیال ہی خیال ہے اس لئے اس کا کوئی حکم حدیث شریف میں نہیں ہے تیسری قسم کی نسبت آپ نے فرمایا کہ آدمی کو چاہیے کہ ایسے خواب کا کسی سے ذکر نہ کرے بلکہ جس کروٹ کے بل یہ خواب دیکھا ہے اس کروٹ کو بدل کر لا حول پڑھے اور بائیں طرف تھوکے اور سو جاوے پھر کوئی نقصان اس خواب سے نہ ہوگا۔ 3 ؎ پہلی قسم کی نسبت آپ نے فرمایا ہے کہ کسی عالم سے جو اپنا دوست ہو تعبیر پوچھے تاکہ جاہل جہل کے سبب سے اور دشمن حسد اور دشمنی کے سبب سے الٹی تعبیر کہہ کر پریشانی میں نہ ڈالے یہ جو مشہور ہے کہ پہلی تعبیر کوئی کہنے والا کہہ دیتا ہے خواہ وہ اچھی ہو یا بری وہی پیش آتی ہے یہ روایت ترمذی 4 ؎ ابوداؤد ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح 5 ؎ بھی کہا ہے لیکن امام بخاری ؓ نے اس روایت کے یہ معنے کئے ہیں کہ اگر پہلے کی تعبیر دینے والے نے خدا کے ارادہ کے موافق تعبیر دے دی ہے تو پہلی تعبیر پیش آوے گی 6 ؎ کیوں کہ خواب ایک ایسی چیز ہے کہ خدا نے اس کو اپنے بندہ کے دل میں ڈالا ہے اور اسی کے موافق وہ خواب کا معاملہ دنیا میں واقع ہونے والا ہے پھر کسی غلط تعبیر دینے سے وہ معاملہ پلٹ نہیں سکتا طلوع غروب زوال کے وقت یا رات کو یا عورت کے روبرو خواب بیان کرنے کی ممانعت کی حدیثیں تو صحیح نہیں ہیں لیکن مستحب یہ ہے کہ صبح کی نماز کے بعد خواب بیان کرے کس لئے کہ آنحضرت ﷺ صبح کی نماز کے بعد اکثر صحابہ کے خواب سن کر ان کی تعبیرات بیان فرمایا کرتے تھے 7 ؎ اور یہ بھی بیان فرمایا کرتے تھے کہ اب نبوت تو گئی مسلمانوں کے لئے خوشخبری کی چیز بھی ایک دنیا میں رہ گئی ہے 8 ؎ اور خواب کو آپ نے نبوت کا جز جو فرمایا ہے اس کی چند روایتیں ہیں کم سے کم چھبیسویں جز کی روایت ہے اور زیادہ سے زیادہ چھیترویں جز کی روایت ہے چالیسویں جز اور اس سے کم کی روایتیں تو صحیح ہیں چالیسویں جز سے زیادہ کی روایتیں ضعیف ہیں 9 ؎ اور چند روایتوں کا سبب یہ ہے کہ تاریخ نزول وحی سے آپ کی وفات تک 23 برس کا زمانہ ہے اور وحی کے نزول سے پہلے جب آپ تنہا غار حرا میں عبادت کے لئے بیٹھا کرتے تھے اور اس زمانہ میں اکثر آپ کو خواب ہوا کرتے تھے وہ زمانہ چھ مہینے کا ہے اس تیئس برس کے اندر تیرہویں برس جب خواب کا ذکر آیا تو آپ نے خواب کو نبوت کا چھبیسواں جز فرمایا کیوں کہ وہ آپ کا چھ مہینے کا خواب کا زمانہ تیرہ برس کا چھبیسواں جز ہے اسی طرح اور روایتوں کو خیال کرلینا چاہیے سوا اس کے اور باتیں جو علماء نے اس بات میں لکھی ہیں 10 ؎ وہ تکلف سے خالی نہیں ہیں آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب زمانہ قریب ہوگا تو مسلمان آدمی کے خواب اکثر سچے ہوں گے۔ 11 ؎ اس حدیث کے بعضے لوگوں نے یہ معنے بیان کئے ہیں کہ قریب زمانہ سے بہار کا موسم مراد ہے کیوں کہ اس زمانہ میں رات و دن قریب برابر کے ہوتے ہیں اور موسم کے درست ہونے کے سبب سے لوگوں کے مزاج ان دنوں میں اعتدال پر ہوتے ہیں اس لئے اس موسم کا خواب اکثر سچا ہوتا ہے لیکن یہ معنے صحیح نہیں ہیں کیوں کہ موسم مسلمان و فاسق و کافر سب کے لئے درست ہوتا ہے۔ مسلمان کا خواب اس موسم میں سچا ہوگا اس کے پھر کیا معنے ہیں علاوہ اس کے صحیح حدیثوں میں یہ صراحت بھی آچکی ہے کہ جب زمانہ قریب ہوگا اور علم اٹھ جائیگا 12 ؎ اس سے بالیقین معلوم ہوگیا کہ قریب زمانہ سے قرب قیامت کا زمانہ مراد ہے نبوت کا زمانہ دور ہوجانے کے سبب سے لوگوں میں طرح طرح کی باتیں اس زمانہ میں پھیل جاویں گی اور نبوت کے ختم ہوجانے اور وحی کے بند ہوجانے کے سب سے اچھے لوگوں کو بشارت اور بدلوگوں کو تنبیہ کا ذریعہ اور کوئی نہ ہوگا اس لئے خواب کے ذریعہ سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس زمانہ میں بشارت اور تنبیہ فرماوے گا۔ غرض وہ یہی آج کل کا زمانہ ہے جس کی خبر تیرہ سو برس پہلے مخبر صادق نے دی ہے اس لئے آج کل جس مسلمان کو کسی طرح کا بشارت کا خواب ہو تو اس کو خوش ہونا اور اس خواب کو سچا جان کر اس کی تعبیر کا منتظر رہنا چاہیے اور جس کو کسی طرح کی تنبیہ کا خواب ہو تو اس کو اس تنبیہ کی تعبیر دریافت کر کے آئندہ اس تنبیہ طلب کام کو چھوڑ دینا چاہیے حدیث میں اگرچہ نیک مردوں کے خواب کا اکثر ذکر ہے مگر نیک عورتوں کے خواب کا بھی وہی حکم ہے جو مردوں کے خواب کا حکم ہے۔ چناچہ صحیح حدیثوں میں عورتوں کے خو اب کا ذکر بھی آچکا ہے۔ 13 ؎ انبیاء کے خواب سب سچے ہوتے ہیں لیکن بعضے تاویل طلب ہوتے ہیں جیسے آپ نے خواب میں تلوار کے پھل کا ٹوٹ جانا اور گائے کا ذبح ہونا دیکھا اور مراد اس سے ستر آدمیوں مسلمانوں کا جنگ احد میں شہید ہونا تھا نیک مسلمانوں کے خواب سچے ہوتے ہیں لیکن اکثر تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں فاسق مسلمانوں کے خواب سچے اور خیال شیطانی دونوں طرح کے ہوتے ہیں کافروں کا خواب ہزار میں ایک سچا کبھی ہوتا ہے حدیث میں بعضی چیزوں کے خواب میں دیکھنے کی تعبیر کا ذکر آگیا ہے مثلاً دودھ سے مراد علم دین 14 ؎ اور فطرت اسلام سے تعبیر دینے والے کو چاہیے کہ جس قدر چیزوں کا ذکر حدیث میں آچکا ہے ان کو یاد رکھنے کا علم وحی کے مخالف تعبیر نہ دیوے۔ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دن رات کے خواب میں کچھ فرق نہیں ہے 15 ؎ تابعیوں میں سے حسن بصری ؓ کے ہم عصر محمد بن سیرین ؓ کے قول کا تعبیر میں بڑا اعتبار ہے علماء ان کو اس فن میں امام گنتے ہیں اور روایت حدیث میں بھی محمد بن سیرین ثقہ ہیں۔ مسند امام احمد اور ابوداؤد کے حوالہ سے براء بن عازب ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا نیک لوگوں کی قبض روح کے وقت اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور مغفرت کی خوشخبری دیتے ہیں 16 ؎ قتادہ اور بعضے اور سلف نے اس خوشخبری کو دنیا کی خوشخبری قرار دے کر اسی حدیث کو آیت کی تفسیر ٹھہرایا ہے حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسری میں اس اختلاف کا یہ فیصلہ کیا ہے کہ اچھے خواب اور آخری وقت کی خوشخبری دونوں کو آیت کی تفسیر قرار دیا جاوے تو مناسب ہے۔ 17 ؎ { لا تبدیل لکلمات اللّٰہ } کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس خوشخبری کا وعدہ اپنے کلام پاک میں فرمایا ہے وہ وعدہ بدلنے والا نہیں اور یہ وعدہ انسان کے حق میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 444 ج 2۔ 2 ؎ صحیح بخاری ص 39 10 ج 2 باب القید فے المنام و مشکوۃ ص 394 کتاب الرؤ یا۔ 3 ؎ مشکوۃ ایضاً ۔ 4 ؎ مشکوۃ ایضاً بحوالہ ترمذی، ابوداؤد۔ 5 ؎ مستدرک حاکم ص 391 ج 4 ان الروؤ تقع علی ماتعبر۔ 6 ؎ صحیح بخاری شرحچ فتح الباری ص 511 ج 6۔ 7 ؎ تفصیل کیلئے دیکھئے فتح الباری 514 ج 6 باب تعبیر الرؤیا بعد صلوۃ الصبح۔ 8 ؎ صحیح بخاری ص 1035 ج 2 باب مبشرات۔ 9 ؎ دیکھئے فتح الباری ص 476 ج 6 باب رؤیا الصالحین الخ۔ 10 ؎ تفصیل فتح الباری ص 477 ج 6 میں دیکھ لی جائے۔ 11 ؎ صحیح بخاری ص 1035 ج 2 باب القید فی المقام۔ 12 ؎ مشکوۃ کتاب الفتن فصل ادلی بروایت صحیح از ابی ہریرہ ؓ ۔ 13 ؎ صحیح بخاری ص 1041 ج 2 باب اذا رأی بقر تخر۔ 14 ؎ صحیح بخاری ص 1037 ج 2 باب اللبن۔ 15 ؎ صحیح بخاری ص 1036 ج 2 کتاب التعبیر۔ 16 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 444 ج 2۔ 17 ؎ تفسیر ابن جریر ص 138 ج 11۔
Ayahs 10:65–67

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے۔ وہ (سب کچھ) سُنتا (اور) جانتا ہے۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو لوگ زمین میں ہے سب خدا ہی کے (بندے اور اس کے مملوک ہیں) اور یہ جو خدا کے سوا اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کسی اور چیز کے پیچھے نہیں چلتے محض ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔

65۔ 67۔ مشرکین مکہ حضرت رسول مقبول ﷺ کو جھٹلاتے تھے اور طرح طرح سے آپ کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر طعن کرتے تھے اس سے حضرت کو ایک قسم کا ملام ہوا کرتا تھا اس واسطے اللہ پاک نے یہ آیت اتاری اور آپ کو تسکین دی کہ ان مشرکوں کی باتوں کا آپ خیال نہ فرمائیں۔ کیوں کہ ہر طرح کی عزت خدا ہی کو حاصل ہے اور وہ ہر شخص کے قول و فعل کو سنتا اور دیکھتا ہے یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ پھر تسلی کے بعد اس بات کی بشارت دی کہ خدا تمہاری مدد کرے گا کیونکہ زمین و آسمان میں جتنی چیزیں بےجان یا جاندار ہیں ان سب کا مالک اکیلا خدا ہی ہے اس میں کسی کی شراکت ذرہ برابر بھی نہیں ہے یہ مشرکین اپنے جن معبودوں کو پوجتے ہیں ان پر بھی خدا کا پورا پورا قبضہ ہے اور مشرکین محض اپنے وہم کے پیرو ہیں کہاں کی شفاعت اور کیسے جھوٹے معبود اس کے بعد فرمایا کہ خدا نے رات بنائی اور دن پیدا کیا دن کی روشنی میں لوگ اپنی اپنی روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں آدمی اپنی ضروریات دن کے وقت رفع کرتے چلتے پھرتے رہتے ہیں راتوں کے تھکے ماندے آکر آرام کرتے ہیں جو لوگ غور کرنے والے ان کے واسطے یہ بہت بڑی نشانیاں ہیں ایک یہ نشانی ہے کہ جس نے انسان کو اور انسان کی ان سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا تعظیم کے قابل وہی ہے ان بتوں کو اس کی تعظیم میں شریک ٹھہرانے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر بردبار کون ہوسکتا ہے کہ لوگ اس کی تعظیم اور عبادت میں اوروں کو شریک کرتے ہیں اور وہ ان کی راحت ان کے رزق کے انتظام میں کچھ خلل نہیں ڈالتا۔ 1 ؎ یہ حدیث آیتوں کی گویا تفسیر ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی بردباری اس کی قدرت اور مشرکوں کی ناشکری سرکشی اور وہم و خیال کی پیروی کی تفصیل اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 12 کتاب الایمان
Ayahs 10:68–70

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

(بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنالیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے (اے افترا پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں ؟

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ خدا پر جھُوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

(ان کے لئے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو عذاب شدید (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے

68۔ 70۔ ان آیتوں میں ان مشرکوں اور الہ کتاب کے عقیدہ کو اللہ پاک نے غلط ٹھہرایا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا کا بیٹا یا بیٹی ہے جیسے مثلاً مشرکین عرب کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی لڑکیاں ہیں اسی طرح نصاریٰ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں اور یہود بھی حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اسی لئے فرمایا کہ خدا کی ذات باپ یا بیٹے ہونے کی تہمت سے بری ہے وہ بےنیاز اور بےپروا ہے دنیا میں اولاد کی خواہش اس غرض سے ہوتی ہے کہ بیٹا باپ کے بعد اس کی جگہ جانشین ہو اور سلسلہ نسل کا قائم رہے اور اللہ پاک ازل سے ابد تک قائم ہے پھر اس کو اولاد کی کیا پروا ہے دوسری دلیل یہ بیان فرمائی کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب کا وہی مالک ہے کیوں کہ اسی نے سب کچھ پیدا کیا ہے مطلب یہ ہے کہ سارے جہاں کی ساری چیزیں اس کی مخلوق ہیں پھر مخلوق کس طرح اولاد ہوسکتی ہے پھر یہ دلیلیں بیان کر کے فرمایا کہ تم بھی اپنے دعویٰ کی کوئی دلیل پیش کرو کہ تم کس سند سے یہ بات کہتے ہو کہ خدا صاحب اولاد ہے یا اس نے کسی کو بیٹا بنا لیا ہے کیوں کہ دعویٰ بلا دلیل صحیح نہیں ہوتا اور جب کوئی دلیل اور سند مشرکوں نے نہیں پیش کی تو فرمایا کہ کیا تم خدا پر ایسی بات کا بہتان باندھتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں گویا تم جھوٹ بولتے ہو پھر حضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم ان سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کو فلاحیت نہیں ہوگی اور اگر وہ یہ سمجھیں کہ اب دنیا میں آرام سے گزرتی ہے تو یہ دنیا کی زندگی اور مال و متاع بہت ہی حقیر شے ہے جس کی کچھ ہستی نہیں آخر ایک دن ان سب کو اللہ کے پاس آنا ہے اس وقت سخت سے سخت عذاب کا مزہ ان کو چکھنا پڑے گا دنیا میں خدا کی وہی نعمتوں کا شکر یہ نہیں ادا کرتے الٹا بہتان اور الزام لگاتے ہیں سزا کے بعد ان سب باتوں سے یہ لوگ پچھتاویں گے مگر بےوقت کا پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آوے گا۔ شداد بن اوس ؓ کی معتبر سند کی حدیث ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ آدمی ہے جو موت سے پہلے موت کے بعد کا کچھ سامان کرلیوے اور بالکل عقل سے عاجز وہ شخص ہے جو عمر بھر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں لگا رہے اور پھر عقبیٰ میں اللہ تعالیٰ سے نجات کی توقع رکھے 1 ؎ صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گرز چکی ہے کہ دنیا میں بڑی راحت سے گزران کرنے والے نافرمان لوگ دوزخ کے پہلے ہی جھونکے میں دنیا کی تمام راحت کو بالکل بھول جاویں گے۔ 2 ؎ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ نافرمان لوگ دنیا کی جس راحت کی زندگی کے نشہ میں عقبیٰ کو بھولے ہوئے ہیں دوزخ کے پہلے ہی جھونکے میں دنیا کی یہ راحت تو ان کو یاد بھی نہ رہے گی اور اللہ اس کے رسول اور اس کے کلام کی شان میں یہ لوگ بےٹھکانے باتیں جو منہ سے نکالتے تھے اور اپنی نادانی سے یہ نہیں جانتے تھے کہ ایسے لوگ انتظام الٰہی میں فلاح کو نہیں پہنچنے والے اس لئے ان کی بداعمالی کی سزا میں وہ سخت عذاب ان کو بھگتنا پڑے گا جو انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ 1 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 29 ۃ، 123، 278۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صفۃ النار واہلہا۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنا دو ۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم ! اگر تم کو میرا (تم میں) رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں تو خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو ۔

71۔ شروع سورة سے کئی رکوع میں اللہ تعالیٰ نے قریش کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کا ذکر فرما کر یہاں ختم سورت پر پہلے انبیاء اور ان کی امتوں کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ قریش کو اس ذکر سے ایک طرح کی تنیہ ہوجاوے کہ اگر یہ بھی باجود نصیحت اور سمجھانے کے اپنی نافرماین سے باز نہ آویں گے تو زمین پر سب سے پہلے غارت ہونے والی قوم امت نوح اور سب سے آخر غارت ہونے والی فرعون کی قوم کا لانے میں دیر کرتے ہیں تو اس کا کچھ غم و اندیشہ نہ کرنا چاہیے پہلے انبیاء کو بھی بڑی بڑی مدت دراز تک اپنی اپنی امتوں کو سمجھانا پڑا ہے دوسرے تسکین یہ کہ اگر قریش لوگ زیادہ سرکشی کریں گے تو آخر نبی کا پلہ بھاری رہے گا اور سرکش لوگ تباہ اور غارت ہوجائیں گے قرآن شریف میں اکثر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ جگہ جگہ ذکر فرمایا ہے یہ قصہ حقیقت میں ایک عجیب قدرت کا نمونہ ہے اور قضاء قدر کا لکھا پیش آنے کا اس طرح کا ایک معاملہ ہے کہ بڑے بڑے عقلمند دہریوں کی عقل اس کے آگے پیچھے ہے ذرا غور کرنے کی جگہ کہ جس لڑکے کے پیدا ہونے اور پرورش پانے کے خوف سے فرعون نے ہزارہا بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کروا ڈالا تقدیر الٰہی نے وہی لڑکا اس فرعون کے ہاتھوں پلوایا اور اسی لڑکے کے ہاتھوں سے فرعون جیسے جابر بادشاہ کو غارت کرایا باوجود اتنی بڑی باعظمت بادشاہت کے خلاف تقدیر ایک لڑکے کا وہ کچھ نہ کرسکا اور آخر اپنے ہاتھوں خود غارت ہوگیا قرآن شریف میں پہلے ایک ذکر شروع ہو کر پھر اس ذکر کے ضمن میں پہلے انبیاء اور پہلی امتوں کا جو ذکر آتا ہے تو اس میں بہت بڑا ایک تاریخی فائدہ ہوتا ہے جو غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے جس طرح یہاں کا فائدہ بتلایا گیا ہے اسی طرح قرآن شریف کی تلاوت کرنے والے مسلمان اور جگہ کے فائدوں پر غور کریں گے تو ہر جگہ کا فائدہ ان کی سمجھ میں آسکتا ہے تفسیر کلبی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قابیل بن آدم کی اولاد میں سے کئی نیک آدمی مرگئے جن کی وفات کا صدمہ ان کے رشتہ داروں اور متعقدوں کو بہت کچھ ہوا۔ شیطان کے بہکانے سے پہلے پہل تو بنی قابیل کے لوگوں نے ان نیک شخصوں کی پتھر کی مورتیں اس خیال سے بنائیں تھیں کہ ان لوگوں کی صورتوں کے آنکھوں کے سامنے رہنے سے ان کی وفات کا صدمہ کم ہوجاوے پھر رفتہ رفتہ ان صورتوں کی پوجا ہونے لگی اس بت پرستی کو رفع دفع کرنے کے لئے پہلے حضرت ادریس (علیہ السلام) اور ان کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) نبی ہو کر آئے اور مدت تک اس بت پرست قوم کو نصیحت کرتے رہے لیکن اس قوم نے دونوں نبیوں کی نصیحت کو نہ مانا آخر یہ قوم طوفان سے ہلاک ہوگئی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ روایت صحیح بخاری میں بھی مختصر طور پر ہے۔ 1 ؎ جس سے تفسیر کلبی وغیرہ کی روایتوں کو پوری تائید ہوتی ہے۔ سورة الشعراء میں آویگا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) جب قوم کے لوگوں کو بت پرستی کے چھوڑنے کی نصیحت کرتے تھے تو وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو پتھروں سے کچل ڈالنے کی دھمکی دیا کرتے تھے۔ اس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم اور تمہارے بت مل کر کچھ بد سلوکی میرے ساتھ کرسکتے ہو تو اس کے پورا کرنے میں تم لوگ کمی نہ کرو جو کچھ کرنا ہے وہ بلاشک و شبہ کر گزرو مجھے اس کا کچھ خوف نہیں میں تو اللہ تعالیٰ کی مدد کے بھروسہ پر نصیحت کے فرض کو ضرور ادا کروں گا۔ 1 ؎ صحیح بخاری (مع فتح الباری ص 377 ج 4) تفسیر سورة نوح۔
Ayahs 10:72–73

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

اور اگر تم نے منہ پھیرلیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہو۔

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے انکی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچالیا اور انھیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھُٹلایا ان کو غرق کردیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیسا انجام ہوا۔

72۔ 73۔ اس سے اوپر کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ﷺ کو حکم تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ ان کفار عرب کو سنادو کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ میرا یہاں ٹھہرنا اور بت پرستی کی مذمت کا کرنا اگر تمہیں گراں گزرتا ہے تو تم اور تمہارے جھوٹے معبود سب اکٹھے ہو کر جو کچھ میرے ساتھ کرنا چاہو اس کے کر بیٹھنے میں تامل نہ کرو اس آیت میں فرمایا کہ نوح نے اپنی قوم سے یہ بھی کہا کہ تم لوگ اگر کسی خرچ کے بار سے ڈر کر میری نصیحت سے منہ موڑتے ہو تو میں اس کی مزدوری تم سے کچھ نہیں چاہتا اس کا اجر تو خدا ہی دے گا اور مجھ تو یہی حکم ہے کہ میں مسلمان رہوں اور تم کو بھی اسی طرح کی نصیحت کرتا رہوں مگر اس قوم کو ایمان نہ لانا تھا نہ لائی حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلائے گئی پھر تو وہ طوفان آیا کہ پہاڑوں سے بھی کہیں اونچا پانی ہوگیا۔ حضرت نوح معہ اسی آدمی چالیس مرد اور چالیس عورتوں کے کشتی میں بیٹھے رہے ان کو خدا نے پناہ میں رکھا باقی سب ڈوب کر ہلاک ہوگئے خدا نے ان کی جگہ ان چالیس آدمیوں کو بسایا جن کی نسل سے اب تک دنیا آباد ہے تفسیر مقاتل میں ہے کہ کشتی سے اترنے کے بعد ان چالیس مرد اور چالیس عورتوں کا موصل کی سرزمین میں ایک گاؤں ہے جس کا نام ثمانین ہے جس کے معنی اسی آدمیوں کے گاؤں کے ہی اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو خدا نے فرمایا دیکھو کیا نتیجہ ہوا ان کا جن کو خدا کا خوف تھا وہی بچے اور جھٹلانے والے جان سلامت نہ لے جاسکے۔ مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ چالیس برس کی عمر میں نوح (علیہ السلام) کو نبوت ہوئی اور پھر ساڑھے نو سو برس تک قوم کے لوگوں کو وہ وعظ نصیحت کرتے رہے جب قوم کے لوگ راہ راست پر نہ آئے تو طوفان آیا۔ 1 ؎ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے اس صحت کو مان لیا ہے۔ 2 ؎ صحیح بخاری مسلم ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا پہلے اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو راہ راست پر آنے کے لئے مہلت دیتا ہے اور جب وہ لوگ اس مہلت سے راہ راست پر نہیں آتے تو پھر ان لوگوں پر ایسا عذاب نازل فرماتا ہے جس سے وہ کسی طرح نجات نہیں پاسکتے۔ ان حدیثوں اور آیتوں کو ملا کر آیتوں کی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو کافی مہلت دی اور جب وہ لوگ اس مہلت میں راہ راست پر نہ آئے تو ان پر طوفان کا عذاب نازل فرمایا اس طرح اس زمانہ کی عمر کے موافق پہلے مشرکین مکہ کو مہلت دی گئی اور پھر بدر کی لڑائی میں ان کی گرفت فرمائی۔ 1 ؎ دیکھئے تفسیر فتح البیان ص 489 ج 3 و تفسیر ابن کثیر ص 407 ج 3 تفسیر سورة عنکبوت۔ 2 ؎ مستدرک ص 546 ج 2۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

74۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) کے دس قرن کے بعد ہوئے ہیں اس دس قرن تک سب کے سب مسلمان تھے پھر آہستہ آہستہ بت پرستی پھیلنے لگی تو اللہ پاک نے نوح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر لوگوں کی ہدایت کو بھیجا پھر ان کے بعد لگاتار انبیاء اور رسول آتے گئے پھر حضرت رسول مقبول ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی اس لئے اللہ پاک نے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ کو بیان کر کے فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے اور رسولوں کو بھیجا اور وہ طرح طرح کے معجزے خدا کی طرف لے لے کر آتے گئے مگر قوم کے لوگ بدستور اپنے خیال پر جمے رہے اور رسولوں کو جھٹلاتے رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق ان کے دلوں پر مہر لگا دی کہ یہ جانیں اور ان کا کام یہ اپنی زیادتی اور گمراہی سے باز نہیں آنے والے اور آخر علم الٰہی کے موافق طرح طرح کے عذاب سے ہلاک ہوجانا ان کی سزا ہے مسند بزار اور مستدرک حاک میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کوئی قوم عام عذاب سے ہلاک نہیں ہوئی حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 1 ؎ اس آیت میں ان رسولوں کے نام نہیں بتلائے گئے جو حضرت نوح (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے مابین کے انبیاء حضرت ہود و صالح و ابراہیم و شعیب ہیں۔ صحیح ابن حبان میں ابو امامہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) سے نوح (علیہ السلام) تک دس قرن گزرے ہیں ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول دس قرن کا جو اوپر گزرا اس حدیث سے اس کی پوری تائد ہوتی ہے تفسیر ابن جریر میں ان دس قرن کی مدت ایک سو چھبیس برس کی بتلائی گئی ہے قرن کے معنے ایک زمانہ کے جتھے کے ہیں۔ مسند امام احمد کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی معتبر حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار اور ان میں صاحب کتاب رسول تین سو پندرہ ہیں 3 ؎ معتبر سند سے ترمذی میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں کچھ فخر کے طور پر نہیں کہتا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں سب اولاد آدم کا سردار ہوں 4 ؎ اگرچہ اس حدیث سے اور اس قسم کی اور حدیثوں سے سلف کا یہ اعتقاد ہے کہ نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ ﷺ افضل الانبیاء ہیں لیکن صحیح بخاری مسلم وغیرہ کی صحیح روایتوں میں آپ نے امت کو اس بحث سے روکا ہے تاکہ رفتہ رفتہ اور انبیاء کی کسر شان 5 ؎ نہ ہو ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے کہ کثرت گناہوں سے آدمی کے دل پر زنگ چھا جاتا ہے جس کے سبب سے نیک بات اس کے دل پر اثر نہیں کرتی۔ 6 ؎ نافرمان لوگوں کے دل پر مہر لگ جانے کا ذکر جو آیت میں ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ 1 ؎ تفسیر فتح البیان ص 460 ج 3 تفسیر سورو القصص و مجمع الزوائد ص 88 ج 7۔ 2 ؎ فتح الباری ص 223 ج 3 کتاب الانبیائ۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 511 باب بدء الخلق و ذکر الانبیاء۔ 4 ؎ مشکوٰۃ ص 513 باب فضائل سید المرسلین۔ 5 ؎ مشکوۃ ص 507 باب بدء الخلق الخ۔ 6 ؎ جامع ترمذی ص 168۔ 169۔ ج 2 تفسیر سورة ویل للمطففین۔
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے۔

75۔ پھر ان رسولوں کے پیچھے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) تک آئے تھے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنا کر بھیجا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بہت سی جگہ قرآن پاک میں ذکر کیا گیا ہے یہ بڑا عجیب قصہ ہے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی گود میں پرورش کیا اور جب جوان ہوگئے تو ایک فرعونی شخص کا خون ان کے ہاتھ سے ہوجانے سے وہ وہاں سے باہر نکلے پھر خدا نے ان سے باتیں کیں اور رسول بناکر فرعون اور اس کے گروہ کی طرف بھیجا اور اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ سوائے ہارون (علیہ السلام) کے جن کو خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) کا وزیر بنا دیا تھا اور کوئی نہ تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس اگرچہ نو معجزے ایسے تھے جن سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ بغیر مدد خدا کے ایسی نشانی کوئی لا نہیں سکتا مگر فرعون اور اس کے ہمراہیوں نے سرکشی کو نہیں چھوڑا یہ قصہ سورة طہ اور سورة قصص میں تفصیل سے آوے گا۔ صحیح بخاری مسلم وغیرہ میں چند صحابہ سے معراج کی جو روایتیں ہیں ان میں یہ ہے کہ پہلے پہل امت محمدیہ پر پچاس نمازیں فرض ہوئی تھیں پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مشورہ کے موافق آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے ان پچاس نمازوں میں تخفیف ہوجانے کی التجا کی اور آخر کو یہ پانچ نمازیں باقی رہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ ایک بڑا احسان امت محمدیہ پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں ہے جس کا ذکر اس صحیح حدیث میں آیا ہے۔
Ayahs 10:76–82

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادُو ہے۔

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیر دو ۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے ؟ اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو تم کو ڈالنا ہے ڈالو۔

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا جو چیزیں تم (بناکر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو ابھی نیست و نابود کر دے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا۔

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کر دے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں۔

76۔ 82۔ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا فرعون کے زمانہ میں جادو کا بڑا چرچہ اور زور تھا فرعون کی طرف سے بہت سے جادوگر جاگیریں پاتے تھے اور مصر کے اطراف میں اپنی جاگیرات میں رہتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اس لئے یہی جواب دیا کہ تائید آسمانی اور معجزہ نبوی کو اگر تو سمجھتا ہے تو اپنے بڑے بڑے جادوگروں کو بلا کر مجھ سے مقابلہ کرالے اور دیکھ لے کہ تائید آسمانی کے مقابلہ میں جادو کبھی سر سبز نہ ہوگا آخر فرعون نے اپنے جادوگر بلوائے اور فرعون کی سالگرہ کا دن جو بڑے اس کے دربار کا دن تھا مقابلہ کا دن قرار پایا اور جنگل میں ہزارہا آدمی جمع ہوئے اور فرعون کے جادوگر آخر مقابلہ کی تاب نہ لاسکے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لے آئے فرعون کے ایمان لانے کے لئے اگرچہ یہ معجزہ کافی تھا مگر اس کے سر پر ازلی کمبختی سوار تھی آخر ایمان نہ لایا اور پھر بھی معجزہ کو جادو بتلاتا رہا اور خواری اور ذلت سے ہلاک ہوا یہ قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طہ اور سورة شعراء اور سورة قصص میں پھر آوے گا اس قصہ میں بھی آنحضرت کی یہ تسکین اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اگرچہ قریش معجزہ اور قرآن کو جادو اور اے نبی تم کو جادوگر بتلا رہے ہیں لیکن بالآخر فرعون کے جادوگروں کی طرح اکثر ان کے قائل ہو کر اسلام لاویں گے اور فرعون کی طرح جو سرکشی پر اڑے رہیں گے ہلاک کر دئیے جاویں گے اللہ کا وعدہ سچا ہے تیرہ برس کی آنحضرت ﷺ کی کوشش میں جس مکہ میں سو کے اندر مسلمانوں کی تعداد تھی دس برس کے بعد جب اللہ تعالیٰ کا مقررہ وقت آگیا تو سارا مکہ مسلمانوں سے بھر گیا اور آج تک یہ ہدایت کا اثر باقی ہے کہ سوا مسلمان کلمہ گو کے اور کوئی مکہ میں نظر نہیں آتا اور مشرکین مکہ میں سے جو لوگ مرتے دم تک راہ راست پر نہیں آئے ان کا انجام بدر کی لڑائی میں جو ہوا وہ کچھ تو بدر کی لڑائی کے قصہ میں گزر چکا اور کچھ آگے آتا ہے غرض ہر کام کا اللہ کی طرف سے وقت مقرر ہے وقت کا منتظر رہنا چاہیے گھبرانا نہیں چاہیے۔ تفسیر ابو الشیخ اور تفسیر ابن ابی حاتم میں لیث بن ابی سلیم سے روایت ہے کہ آیت { ان اللّٰہ سیبطلہ } اور آیت { فوقع الحق } اور آیت { ولا یفلح الساحر حیث اتی } (20: 69) پانی پر چڑھ کر وہ پانی جادو کے اثر والے شخص کے سر پر ڈالا جاوے تو فوراً فائدہ ہوتا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری میں ابو طلحہ کے واسطے سے اور صحیح مسلم میں بغیر واسطہ کے انس بن مالک ؓ کی روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں جس میں یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ کے بڑے بڑے سردار جو مارے گئے تھے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پالیا۔ 2 ؎ مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف میں جس عذاب آخرت کا وعدہ تھا اور اس کو تم لوگ جادوگروں کی باتوں کی طرح جانتے تھے اب تو تم لوگوں نے اس وعدہ کا ظہور آنکھوں سے دیکھ لیا یا اب بھی تمہاری آنکھوں پر وہی پردہ پڑا ہے جو دنیا میں تھا۔ سورة والطور کی آیت { افسحر ھذا ام انتم لا تبصرون (52: 15)} کا مطلب بھی یہی ہے جو انس بن مالک ؓ کی حدیث کا ہے فرق اتنا ہے کہ حدیث میں قرآن کو جادو کہنے والے مشرکین مکہ کو اللہ کے رسول نے عذاب قبر جتلایا اور قائل کیا ہے سورة والطور کی آیت میں اللہ کے فرشتے آسمانی کتابوں کو جادو بتلانے والے مشرکوں کو دوزخ کا عذاب گھڑی گھڑی جتلادیں گے اور قائل کریں گے حاصل کلام یہ ہے کہ والطور کی آیت اور انس بن مالک ؓ کی حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس سے آسمانی کتابوں معجزوں کو جادو اور اللہ کے رسولوں کو جادوگر کہنے والوں کا انجام اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ سے جو چیز ظہور میں آتی ہے وہ اصلی ہوتی ہے اور جادو سے جو چیز ظہور میں آتی ہے وہ اصلی نہیں ہوتی اسی واسطے جادو کے اثر کے ہزارہا سانپ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک معجزہ کے سانپ کا مقابلہ نہ کرسکے جن لیث بن ابی سلیم تابعی کا ذکر اوپر گزرا یہ ابن جریح کے مرتبہ کے صدوق تابعی ہیں اگرچہ آخر عمر میں ان کا حافظہ بگڑ گیا تھا لیکن ابن معین نے ان کو قابل اعتبار ٹھہرایا ہے۔ 3 ؎ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر 427 ج 2۔ 2 ؎ صحیح بخاری ص 566 ج 2 باب قتل ابی جہل۔ 3 ؎ تہذیب ص 467 ج 8۔
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے اور فرعون ملک میں متکبر اور متغلب اور (کبر و کفر میں) حد سے بڑھا ہوا تھا۔

83۔ آنحضرت ﷺ کو اس بات کا بھی رنج رہتا تھا کہ نبی ہونے کے بعد تیرہ برس آپ مکہ میں رہے اور صرف کچھ کم سو آدمی مسلمان ہوئے آپ چاہتے تھے کہ اسلام جلدی جلدی زور پکڑے اور جھٹ پٹ مسلمانوں کی ایک بڑی سی جماعت قائم ہوجاوے اللہ تعالیٰ نے اس قصہ سے آپ کی تسکین فرمائی کہ یہ کچھ رنج کرنے کی بات نہیں ہے منکروں کے دل بڑی مشکل سے پھرتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ایسا بڑا معجزہ قبطیوں نے دیکھا کہ جادوگر سب ہار گئے مگر قبطیوں میں سے چند ہی آدمی مسلمان ہوئے اگرچہ بعضے مفسروں نے آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ بنی اسرائیل میں سے تھوڑے لوگ مسلمان ہوئے اور حافظ ابو جعفر ابن جریر ؓ نے اپنی تفسیر میں ان ہی معنوں کو ترجیح دی ہے لیکن حافظ ابن کثیر کے نزدیک صحیح معنے یہی ہیں کہ آیت میں اس کی قوم سے فرعون کی قوم قبطی لوگ مراد ہیں۔ 1 ؎ قوم موسیٰ (علیہ السلام) مراد نہیں ہے کیونکہ بنی اسرائیل تو سوا قارون اور چند لڑکوں کے اور سب مسلمان ہوگئے تھے پھر یہ بات کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے چند ہی شخص ایمان لائے جس طرح اس آیت سے آگے کی آیت میں توکل کا ذکر ہے اسی طرح قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عبادت کے ساتھ توکل کا اکثر ذکر فرمایا ہے جیسے { ان کنتم امنتم باللّٰہ فعلیہ توکلوا (10: 84} اور { ھوالرحمن امنا بہ وعلیہ توکلنا (65: 29} اور { ہو توکل علیہ (12: 23} اور { ایاک نعبد وایاک نستعین } ابن ماجہ میں عمرو بن العاص ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ آدمی کے دل میں طرح طرح کے خیال سمائے رہتے ہیں جو اللہ پر توکل کرے وہ سب خیال پر غالب آسکتا ہے اور جو توکل نہ کرے گا معلوم نہیں کون سا خیال اس کو ڈبو دے گا 2 ؎ اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن آیت { ومن یتوکل علی اللّٰہ فھو حسبہ (65: 3)} سے اس حدیث کی پوری تائید ہوتی ہے حاصل معنے حدیث کے یہ ہوئے کہ جب تک میں اللہ پر بھروسہ نہیں دل گویا ڈاواں ڈول ہے اور ڈاواں ڈول حالت کو ایمان اور عبادت کا کیا ٹھکانا ہے کیونکہ ڈاواں ڈول حالت کے ایمان والا شخص اعتقادی منافق ہے ڈاواں ڈول حالت کی عبادت والا شخص عملی منافق ہے۔ اعتقادی منافق وہ ہے جس کا اعتقاد احکام شرع پر پورا نہ ہو اور عملی منافق وہ ہے جس کے عمل احکام شرع کے موافق نہ ہوں غرض اس ڈاواں ڈول حالت کو رفع فرمانے کی غرض سے نصیحت کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عبادت کے ساتھ جگہ جگہ توکل کا ذکر فرمایا ہے کہ ایمان اور عبادت خالص ہو اسی واسطے اہل توکل کا درجہ بھی بڑا ہے چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن صاحب توکل لوگ ستر ہزار میری امت میں سے بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے یہ درجہ جس کو اللہ دیوے اس کو ملتا ہے چناچہ جس روز آپ نے یہ حدیث بلا حساب جنت میں داخل ہونے کی فرمائی اس روز ایک صحابی عکاشہ بن محصن ؓ نے کہا کہ حضرت میرے واسطے دعا کیجئے کہ اللہ مجھ کو ان میں سے کردیوے آپ نے دعا فرمائی پھر ایک صحابی سعد بن عمارہ ؓ نے کہا حضرت میرے لئے بھی دعا کیجئے آپ نے فرمایا اب تو عکاشہ بازی لے جا چکا۔ 3 ؎ توکل کے معنے کسی پر بھروسہ رکھنے کے ہیں عبادت کے وقت اللہ پر بھروسہ رکھنے کا یہ مطلب ہے کہ آدمی عبادت کے وقت اللہ کو حاضر ناظر جان کر اور اس عبادت کے ثواب کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھ کر عبادت کرے۔ عقبیٰ کے ثواب اور دنیا کے دکھاوے دونوں کو دل میں رکھ کر ڈاواں ڈول نہ ہو کہ ایسی عبادت رائیگاں ہے چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزرچکی کہ آدمی عبادت کرتے وقت یہ خیال کرے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اگر یہ مرتبہ میسر نہ آوے تو یہ خیال رفع تکلیف کرے بھی تو رفع تکلیف کا اصل بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھے 3 ؎ جیسا کہ صحیح مسلم میں جابر ؓ کی حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر مرض کی دوا ہے مگر دوا میں شفا کی تاثیر کا دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے لمن المسرفین کے ترجمہ میں شاہ صاحب نے یہ جو لکھا ہے کہ اس نے ہاتھ چھوڑ رکھا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ فرعون لوگوں پر طرح طرح کی دست درازی کرتا تھا چناچہ اس کو جب اپنی بی بی آسیہ کے اسلام کا حال معلوم ہوگیا تو اس نے چار میخیں زمین میں گاڑ کر آسیہ کے ہاتھ پاؤں ان میخوں سے باندھ دئیے اور طرح طرح سے مار پیٹ کی۔ 4 ؎ جس کا ذکر معتبر سند سے بیہقی اور مسند ابو یعلی میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہے۔ 1 ؎ صحیح مسلم ص 117 ج 1 باب الدلیل علے دخول طوائف من المسلمین الجنۃ الخ۔ 2 ؎ صحیح مسلم ص 25 ج 1 کتاب الایمان۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 387 کتاب الطب۔ 4 ؎ تفسیر فتح البیان ص 608 ج 4 تفسیر سورة تحریم۔