Ayah 10:2828۔ پہلے صور کے ساتھ سب دنیا فنا ہو کر دوسرے صور کے ساتھ سب قبروں سے ننگے پنڈے ننگے پاؤں جو اٹھیں گے اور شام کے ملک کے ایک صاف میدان میں حساب کے لئے جمع ہوں گے یہ اس وقت کا حال ہے اسی وقت آفتاب نیچا ہوگا اور شدت کی گرمی ہو کر لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کے موافق پسینا آوے گا کسی کو ٹخنوں تک اور کسی کو گھٹنوں تک اور کوئی اپنے پسینے میں غوطے کھاوے گا اور چالیس برس تک لوگ اسی حال میں حساب کے منتظر کھڑے رہیں گے اس حال سے لوگ یہاں تک اکتاویں گے کہ کہیں گے خیر ہمارا حساب ہو کہ ہم دوزخ میں ہی بھیج دئیے جاویں۔ آفتاب جو نیچا ہوگا اس کی مقدار کی بابت مقداد ؓ کی روایت سے مسلم کی حدیث میں یہ ہے کہ لوگوں کے سروں سے صرف ایک میل اونچا رہ جاوے گا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس روز سے آدمی پیدا ہوتا ہے موت کا دن اس پر بڑا سخت ہے۔ مگر موت کے بعد کی گھاٹیاں موت سے بھی زیادہ سخت ہیں اور اس حشر کے دن کو بھی آپ نے ان سخت گھاٹیوں میں سے گنا ہے۔ یہ روایت انس بن مالک ؓ سے مسند امام احمد میں ہے اور اس کی سند معتبر ہے اسی دن کی سختی سے لوگ گھبرا کر سب انبیاء کے پاس اس سفارش کے لئے جاویں گے کہ ان کا حساب و کتاب جلدی شروع ہو آخر آنحضرت ﷺ کی شفاعت سے حساب شروع ہوگا۔ جس نے کسی پر کچھ ظلم زیادتی کی ہے اس کا بدلہ اسی میدان میں ہوگا معتبر سند سے مسند امام احمد میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے اس کا ذکر ہے اسی انصاف کے وقت اللہ تعالیٰ بتوں کو مجرموں کی طرح کھڑے رہنے کا حکم دیوے گا اور وہ اپنی پرستش کئے جانے کا انکار کریں گے جس کا ذکر اس آیت میں ہے حساب و کتاب شروع ہوتے ہی پہلے فقیر اور مسکین دیندار کو آواز دی جاوے گی اور مال دار لوگوں سے پانسو برس پہلے ان کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوجاوے گا مالدار لوگ اپنے مال کے حساب میں لگے رہیں گے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میدان حشر میں لوگوں کا پسینا اس قدر جمع ہوگا کہ اس میں کشتیاں چلاؤ تو چل سکیں گے معتبر سند سے مسند امام احمد میں انس بن مالک ؓ کی روایت سے اس کا ذکر ہے حضرت عائشہ ؓ اور ام سلمہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حشر کے دن مرد و عورت سب اٹھیں گے تو ایک دوسرے کو ننگا دیکھیں گے آپ نے فرمایا اس دن کی سختی سے ایسی بد حواسی ہوگی کہ کوئی کسی کی طرف نہ دیکھے گا۔ حضرت عائشہ ؓ کی یہ حدیث صحیح بخاری معتبر سند سے اوسط طبرانی میں ہے نمرود نے آگ میں ڈالتے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا تھا اس لئے سب سے پہلے ان کو اس دن کپڑے پہنائے جاویں گے۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت میں اس کا ذکر ہے۔ دیندار مسلمانوں کو یہ دن ایسا معلوم ہوگا جیسا ایک فرض نماز کے ادا کرنے میں وقت لگتا ہے یا قریب غروب آفتاب اور مغرب کے وقت شروع ہونے میں جتنی دیر لگتی ہے صحیح ابن حبان مسند ابی یعلی اور مسند امام احمد میں معتبر سند ہے ابوہریرہ ؓ اور ابو سعید خدری ؓ کی روایتیں ہیں ان میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے اگرچہ بعض روایتوں میں یہ ہے کہ تنگدست دیندار مال داروں سے چالیس برس پہلے جنت میں جاویں گے لیکن پانسو برس کی ابوہریرہ ؓ کی روایت ترمذی میں ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ مشرکوں اور ان کے جھوٹے معبودوں سے جب یہ سوال و جواب ہوں گے اور یہ جھوٹے معبود اپنی پرستش کرنے والوں سے بیزاری ظاہر کریں گے تو ان مشرکوں کا دل یہاں تک جلے گا کہ یہ لوگ دوبارہ دنیا میں آنے اور اپنے جھوٹے معبودوں سے بیزاری کا برتاؤ کرنے کی تمنا ظاہر کریں گے لیکن یہ بےوقت کی تمنا ان کی کچھ مفید نہ ہوگی حاصل یہ ہے کہ سورة بقر کی آیت { اذ تبر الذین اتبعوا من الذین اتبعوا۔ (2: 166)} گویا اس آیت کی تفسیر ہے حاصل اس تفسیر کا یہ ہے کہ اب دنیا میں یہ مشرک لوگ جن جھوٹے معبودوں کی بڑی رغبت سے پوجا کرتے ہیں حشر کے دن یہ ایک دوسرے کے دشمن ہوجاویں گے اور اس دن تمام خلق اللہ کے روبرو انہیں اس غلط پوجا سے پچھتانا پڑے گا لیکن وہ بےوقت کا پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آوے گا { فزیلنا بینھم } کی تفسیر سلف نے نفرقنا بینھم کی ہے جس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ ان مشرکوں اور ان کے جھوٹ معبودوں میں ایسی پھوٹ پڑجاوے گی کہ یہ آیس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوجاویں گے۔
Ayahs 10:29–3029۔ 30۔ اس سے پہلے کی آیت میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ حشر کے میدان میں مشرک اور ان کے معبود ایک جگہ کھڑے کئے جائیں گے اور اللہ پاک یہ ارشاد فرمائے گا کہ تم یہیں کھڑے رہو تم سے سوال کیا جائے گا اور مشرک دنیا میں جن جن کی عبادت کرتے تھے وہ معبود ان سے بیزار ہو کر کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے اپنی خواہش کو پوجتے تھے اور انکار کریں گے کہ ہم نے کبھی تمہیں اپنی مورتوں کی پوجا کرنے کو نہیں کہا تھا اور ہمیں اس کی خبر بھی نہیں کہ تم ہم کو پوجتے تھے اگر ہم تمہاری عبادت سے رضا مند تھے یا ذرا بھی ہمیں اس کی خبر تھی تو خدا بھی جانتا ہوگا تفسیر ابن مردویہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جتنے معبود ہیں ان سب کی ایک ایک شبیہ بن کر مشرکوں کے سامنے آئے گی اور یہ اس شبیہ کے پیچھے ہوں گے یہاں تک کہ وہ انہیں دوزخ تک پہنچا دے گی پھر یہ آیت پڑہی 1 ؎ { ھنالک تبلوا } معتبر سند سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی یہ روایت طبرانی اور مستدرک حاکم میں بھی ہے۔ 2 ؎ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ جن بتوں کی پوجا کرتے تھے قوم نوح میں یہ نیک لوگ تھے ان نیک لوگوں کے مرجانے کے بعد قوم نوح میں جو لوگ ان نیکوں کے معتقد تھے شیطان کے بہکانے سے انہوں نے ان نیک لوگوں کی مورتیں بنالیں اور رفتہ رفتہ ان مورتوں کی پوجا ہونے لگی 3 ؎ اور آخر کو عمر و بن لحی ان ہی مورتوں کو جدہ سے مکہ میں لے آیا اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ نیک ان مشرکوں کی پوجا سے بالکل بیخبر ہیں اسی لئے حشر کے دن وہ اپنی بیخبر ی پر اللہ کو گواہ قرار دیویں گے اسی واسطے آخر کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد اس دن ان مشرکوں کو سب حال کھل جاوے گا کہ ان کی پوجا اور جھوٹے معبودوں سے شفاعت کی توقع یہ سب باتیں غلط تھیں۔
1 ؎ تفسیر فتح البیان ص 351 ج 2۔
2 ؎ الترغیب والترغیب ص 296 فصل فی الحشر و مجمع الزوائد ص 340 ج 10 باب جامع فی البعث۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 732 ج 2 تفسیر سورة نوح۔
Ayah 10:3131۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ عرب و عجم سب کی عام ہدایت کے لئے اللہ کی طرف سے نبی ہو کر آئے تھے لیکن اس عام ہدایت میں اہل عرب کی خاص ہدایت اللہ تعالیٰ کو مقصود تھی تاکہ ملت ابراہیمی میں عمرو بن لحی کے زمانہ سے بت پرستی جانوروں اور کھیتی اور باغات کی پیداوار میں سے بتوں کا حصہ ٹھہرانا اور طرح طرح کی خرابیاں جو رواج پکڑ گئی تھیں ان کی پوری اصلاح ہوجاوے اس لئے اہل عرب میں جو خرابیاں تھیں ان کا رد قرآن شریف میں بہت جگہ ہے چناچہ ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے حکیمانہ طریقہ سے توحید رسالت رد شرک کی بحث کی ہے حاصل اس بحث کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ارشاد ہوا ہے کہ عالم کے چند کارخانے مثلاً دنیا کا پیدا کرنا خلق کو رزق کا پہنچانا آدمی میں آنکھ کان کا پیدا کرنا، آدمی سے نطفہ اور اس نطفہ سے پھر آدمی کا پیدا کرنا ان بت پرستوں سے پوچھا جاوے کہ آخر یہ کارخانے کس کے قبضہ وقدرت میں ہیں ان بتوں نے کبھی کچھ کیا ہوگا تو یہ بت پرست اس کی سند نہ لاسکیں گے ورنہ مجبوری سے یہی جواب ان کو بن پڑے گا کہ ان سب کارخانوں کا مالک اللہ ہے۔ اس جواب کے بعد ان بت پرستوں کو دھمکایا جاوے کہ پھر بلا کسی طرح کے استحقاق کے اس صاحب قدرت کی عبادت میں ان بتوں کو تم کیوں شریک کرتے ہو اس اللہ سے نہیں ڈرتے جس کے ہاتھ میں تمہارا ہر طرح کا بھلا برا ہے یہ تقریر تو توحید اور رد شرک کی ہوئی ثبوت رسالت کی تقریر یہ ہے کہ یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ قرآن کلام الٰہی نہیں ہے بلکہ محمد ﷺ نے اپنی طرف سے بنا لیا ہے تو ان سے کہا جاوے کہ تم بھی تو بڑا فصیح وبلیغ عربی کا اپنے آپ کو گنتے ہو کچھ تھوڑا سا تم بھی اس طرح کا کلام جس میں پہلی آسمانی کتابوں میں جو تحریف ہوگئی اس کی اصلاح ہو آیندہ کی غیب کی باتیں ہوں اور غیب کی باتیں بھی تمہارے نجومیوں کی سی نہیں کہ ہزار میں کبھی ایک سچی ہو تو ہو بلکہ جو کہا سو ہوا فصاحت بلاغت اسی درجہ کی ہو جس طرح اس کلام میں ہے جس کے سننے سے تمہارے ہوش جاتے ہیں اگر تم سب مل کر تھوڑا سا ان اوصاف کا کلام بنا سکتے ہو یا تمہاری عقل اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ کوئی ان پڑھ آدمی اس طرح کے اوصاف کا کلام بنا سکتا ہے تو اس کو سچا کر کے دکھاؤ ورنہ قائل ہوجاؤ کہ یہ کلام الٰہی ہے اور جس پر کلام الٰہی بطور پیغام کے اترے اس کے پیغمبر ﷺ ہونے میں پھر شک کرنا کس عقل سے ممکن ہے۔ غرض جو بات کرو کسی سند اور دلیل سے کرو بلا سند اپنی وہمی اور ظنی باتوں کے بندے جو تم بن رہے ہو یہ طریقہ سچ ہے یا جو یقینی طریقہ تم کو بتلایا جاتا ہے وہ سچ ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے۔ 1 ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ قرآن کی نصیحت سب کے کانوں میں یکساں پہنچتی ہے لیکن علم الٰہی جو لوگ نیک قرار پاچکے ہیں ان کے دل پر اس نصیحت کا اسی طرح اثر ہوتا ہے جس طرح اچھی زمین میں مینہ کے پانی کا اثر ہوتا ہے اور جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت کا اثر ایسا ہی رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کے پانی کا اثر رائیگاں جاتا ہے۔
1 ؎ صحیح بخ اری ص 18 ج 1 باب فضل بن علم و علم۔
Ayahs 10:32–3332۔ 33۔ جب حضرت ﷺ کو خدا کا یہ حکم ہوا کہ ان مشرکوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ کارخانہ دنیا کا کس نے بنایا کان آنکھ نطفہ اور نطفہ سے آدمی کس نے پیدا کیا جس کے جواب میں مشرکین یہی کہیں گے اللہ نے تو فرمایا اب ان کے جواب کے جواب میں یہ کہنا چاہئے کہ جب تم یہ بات مان چکے کہ سوائے خدا کے اور کسی میں بھی کسی بات کی قدرت نہیں تو پھر کیوں نہیں خدا سے ڈرتے ہو اور خالص اسی کی بندگی کرتے۔ بتوں سے کیوں غرض رکھتے ہو یہ حق کے بعد کیسی گمراہی ہے اپنی زبان سے آپ اقرار کرتے ہو کہ خدا کی ذات ایک ہے اسی میں ہر ایک بات کی قدرت ہے پھر بھی خدا کی طرف رجوع نہیں ہوتے بتوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو پھر فرمایا کہ خدا کی بات ان فاسقوں پر پوری اتری یہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے ان کے دلوں میں تو گمراہی بھری ہوئی ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے 1 ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اپنے علم کے موافق بےحکم لکھا تھا دنیا میں پیدا ہونے کے بعد جب وہ لوگ بےحکم رہے تو اس پر فرمایا کہ ان بےحکم لوگوں کے حق میں اللہ کی لکھی ہوئی بات ٹھیک آئی۔
1 ؎ صححح مسلم ص 335 ج 2 باب حجاج آدم و موسیٰ ۔
Ayahs 10:34–3634۔ 36۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے مشرکوں کے جھوٹے دعوے کو یوں بےبنیاد ٹھہرا کر مشرکوں کو خطاب کیا اور فرمایا کہ تم جنہیں معبود سمجھ کر ان کی عبادت کرتے ہو کیا ان میں یہ قدرت ہے کہ طرح طرح کی مخلوق پیدا کریں جن چیزوں کا وجود نہیں نہ کانوں نے سنا نہ آنکھوں نے دیکھا کیا یہ چیزیں وہ بنا سکتے ہیں ان میں کسی شے کی ایجاد کی طاقت ہے اور پھر مخلوق کے فنا ہونے کے بعد دوبارہ ویسے کا ویسا بنا سکتے ہیں پھر فرمایا کہ یہ کام اللہ ہی کا ہے تم نے جن کو اپنے گمان میں معبود سمجھ رکھا ہے وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ جس نے پہلے سب کچھ پیدا کیا وہ دوبارہ بھی سب کچھ کرسکتا ہے۔ اس کا انکار کسی عقلمند کا کام نہیں ہے پھر فرمایا کیا تمہارے ان معبودوں میں یہ درست ہے کہ وہ راہ حق کی ہدایت کرسکیں گے نہیں ہرگز نہیں یہ بھی خدا ہی کا کام ہے کہ سب کی آنکھوں کے سامنے اس نے انسان کو پیدا کیا ان مشرکوں کے جھوٹے معبودوں میں سے کوئی اس کام میں اس کا شریک نہیں تو جو طریقہ انسان کی بھلائی کا ہے اس کو بھی وہی خوب جانتا ہے یہ پتھر کی مورتیں جو بغیر دوسرے کی مدد کے جگہ سے نہیں ہل سکتیں۔ کسی کے بھلائی کے طریقہ کو یہ کیا جان سکتے ہیں یہ فقط شیطان کا بہکاوا ہے جو یہ مشرک لوگ اپنے بنانے والے کو چھوڑ کر ان کے روبرو آوے گا۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے اپنے کلام پاک میں انسان کے دوبارہ پیدا کرنے کی خبر دی اور انسان نے اس کو جھٹلایا 1 ؎ حالانکہ جو کام ایک دفعہ کیا جا چکے انسان کے عقلی تجربہ کے موافق بھی پھر دوبارہ اس کا کیا جانا آسان ہوجاتا ہے اسی طرح صحیح بخاری کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا لوگوں کا انجانی کا عذر رفع ہوجانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں دے کر رسولوں کو بھیجا تاکہ لوگوں کو عقبی کی سزا و جزا کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاوے۔ 2 ؎ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اپنی اور اپنی اولاد اور عزیزوں قریبوں کی پیدائش آنکھوں کے سامنے دیکھ کر جو لوگ حشر کے دن کی دوبارہ پیدائش کے بےسند منکر ہیں یہ ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے جس نادانی کے سبب سے یہ لوگ اس تیاری اور آمادگی سے بالکل غافل ہیں جو عقبیٰ کی سزا و جزا کی بابت آسمانی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ سے ان کو سمجھائی جاتی ہے۔ لیکن ان کے حشر کے انکار سے اللہ تعالیٰ کا حشر کا وعدہ نہیں ٹل سکتا اس لئے ناگہانی طور پر ایک دن اس وعدہ کا ظہور ضرور ہوگا اور اس وقت یہ لوگ اپنے کئے کی ایسی سزا پاویں گے جو انسان کی برداشت سے باہر ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 453 ج 1 کتاب بدء الخلق۔
2 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 231 وجلد ہذا ص 12۔
Ayahs 10:37–3937۔ 39۔ اوپر کی آیتوں میں ثبوت توحید کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ثبوت رسالت کے لئے قرآن مجید کے معجزہ ہونے کی دلیلیں بیان کی گئی ہیں اور فرمایا کہ یہ قرآن بشر کا بنایا ہوا نہیں ہے تم سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ نے اپنے جی سے بنایا ہوگا لیکن تم یہ نہیں دیکھتے کہ پہلے انبیا اور رسولوں کے قصے اور وہی باتیں جو پہلی قوموں کو بتلائی گئیں تھیں اس میں بھی ہیں حضرت ﷺ نہ کسی عالم کی صحبت میں بیٹھے اور نہ کسی سے لکھنا پڑھنا سیکھا نہ کسی نے ان کو پہلی امتوں کے قصے بتائے پھر کیوں کر وہ گزری ہوئی باتیں اور ایسی صاف ستھری زبان میں بیان کرتے یہ قرآن تو توریت و انجیل کل آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور جو جو باتیں ان میں ردو بدل کردی گئی ہیں ان کو بیان کرتا ہے کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ یہ قرآن خدا کا کلام ہے خدا نے اپنے رسول پر اس کو اتارا ہے اور اگر تم اس کو کسی اور کا بنایا ہوا سمجھتے ہو اور خیال کرتے ہو کہ محمد ﷺ نے اس کو بنایا ہے تو وہ بھی بشر ہیں تم بھی بشر ہو چلو تم بھی ایسا کلام کہہ کر لاؤ اگر سارا نہیں تو دس سورتیں ہی سہی۔ جانے دو دس بھی نہیں ایک ہی سورت ایسی کہہ ڈالو اگر ایک بھی ممکن نہ ہو تو ایک پورا جملہ ہی اس کے مانند بنا لاؤ آخر تم بھی تو عربی دان ہو فصاحت و بلاغت کا تمہیں بھی تو دعویٰ ہے اگر اکیلے نہ ہوسکے تو لو عام اجازت ہے کہ اس کام میں چاہے جس سے مدد لو سارے جہاں کی مخلوق اکٹھی ہوجاؤ اپنے معبودوں کو بھی شریک کرلو جن پر تم کو بہت بھروسہ ہے۔ مگر مشرک اس کو بھی سن کر دم بخود ہوگئے اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا بےٹھکانے انکار ہی کرتے رہے پھر فرمایا کہ قرآن میں جس عذاب کا وعدہ ایسے لوگوں کے حق میں ہے اس عذاب کا حال ان کی سمجھ سے باہر ہے کیوں کہ ابھی وہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں آیا عذاب سے پہلے اسی طرح پہلی امتوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تھا اور آخر اپنی سزا کو پہنچے پھر فرمایا ان میں بعضے ایسے بھی ہیں کہ ایمان لائے ہیں قرآن کو مانتے ہیں رسولوں کی پیروی کرتے ہیں اور بعضے ایمان نہیں لاتے کفر کی حالت میں ہی مرجاتے ہیں خدا ان مفسدوں کے حال سے خوب واقف ہے۔ وقت مقررہ پر ایسے لوگ اپنی شرارتوں کی پوری سزا پاویں گے۔ صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور معجزوں کے علاوہ مجھ کو قرآن ہی ایک ایسا معجزہ دیا گیا ہے جس کے اثر سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری امت کے اہل ایمان لوگوں کی تعداد اور امتوں سے بڑھ کر ہوگی۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دین کی لڑائی کا حکم ہجرت کے بعد نازل ہوا اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے صدہا منکر قرآن اس قرآن کے اثر سے راہ راست پر آگئے اور اس ضعف اسلام کے زمانہ میں قرآن کا اثر اب بھی وہی باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا اور قیامت کے دن اس حدیث کی پیشین گوئی کا ظہور سب کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گا غرض خاتم الانبیاء کی نبوت کے ثبوت کے لئے یہ قرآن ایسا ہی پورا معجزہ ہے جس کا ذکر آیتوں اور اس حدیث میں ہے۔
Ayah 10:4040۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ثبوت توحید ثبوت رسالت و شرک کی مذمت کی پوری فہمائش مشرک بت پرستوں کو فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ اگر بعد اس فہمائش کے بھی یہ لوگ جھٹلانے سے باز نہ آویں تو ان سے کہہ دیا جاوے کہ جیسا تم کرو گے وہ تمہارے آگے آوے گا بعضے مفسرین نے اس آیت کو جہاد کی آیت سے منسوخ کہا ہے مگر یہ صحیح قول نہیں ہے اس لئے کہ منسوخ وہ حکم ہوتا ہے جو کسی دوسرے حکم کے آنے سے اٹھ جاوے۔ اس آیت کا حکم جہاد سے پہلے بھی تھا اور اب بھی باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا بلکہ خود قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے جاری کرنے کے لئے بنایا ہے کہ جو نیک کام کرے اس کو جزا اور جو بدکام کرے اس کو سزا دی جاوے پھر ایسے دائمی حکم کو منسوخ کیوں کر کہا جاسکتا ہے اور یہ تو اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ جہاد کے حکم سے کوئی درگزر کی آیت منسوخ نہیں ہے اگرچہ ہر ایسی آیت کے نیچے جس کو بعضے مفسروں نے منسوخ کہا ہے اور اکثر مفسرین کے نزدیک وہ آیت منسوخ نہیں ہے اس تفسیر میں ناسخ منسوخ کی بحث کردی جاتی ہے لیکن متفرق بحث لوگوں کو یاد نہ رہے گی اس لئے یاد رہنے کی غرض سے ایک عام بات لکھ دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ صرف پانچ آیتیں جو آگے بیان کردی جاتی ہیں ان کے سوا قرآن شریف میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کو بالاتفاق سب مفسروں نے منسوخ کہا ہو اس لئے ان پانچ آیتوں کو خیال میں رکھ لیا جاوے پھر جس تفسیر میں سوا ان پانچ آیتوں کے کسی اور آیت کے منسوخ ہونے کا ذکر نظر پڑے تو اس کو یوں خیال کرلینا چاہیے کہ باقی کی اور تفسیر میں ضرور یہ بھی لکھا ہوگا کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے وہ پانچ آیتیں یہ ہیں۔ آیت { کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت (12۔ 18) } آیت { یوصیکم اللّٰہ (4: 1)} سے منسوخ ہے { والذین یتوفون منکم (2: 334)} میں برس روز کی عدت کا حکم چار مہینے دس روز کی عدت کے حکم سے منسوخ ہے۔
آیت { ان یکن منکم عشرون (8: 65)} میں ایک مسلمان کا دس مخالفوں سے لڑنے کا حکم ایک مسلمان کو دو مخالفوں سے لڑنے کے حکم سے منسوخ ہے۔ آیت { اذا ناجیتم الرسول (58: 13} کا صدقہ کا حکم اس سورة کی آخری ٹکڑے سے منسوخ ہے۔ عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث صحیح مسلم کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے اپنے علم کے موافق وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ 1 ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ توحید اور رسالت کی پوری فہمائش کے بعد بھی شرک اور رسالت کے جھٹلانے سے باز نہ آویں تو اے رسول اللہ ﷺ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاوے کیوں کہ علم الٰہی میں جو لوگ نافرمان قرار پاچکے ہیں وہ کسی فہمائش سے راہ راست پر نہ آویں گے لیکن ان نافرمان لوگوں سے یہ کہہ دیا جاوے کہ نیک و بد کی جزا و سا کا ظہور وقت مقررہ پر ہونے والا ہے اس وقت یہ لوگ اپنے کئے کی پوری سزا بھگت لیں گے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 744 ج 2 باب کیف نزل الوحی۔
Ayahs 10:41–4442۔ 41۔ ان آیتوں میں مشرکین مکہ کا ایک اور حال بیان فرمایا کہ جب قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو یہ لوگ سنتے ہیں مگر اس سننے سے ان کا یہ مقصود نہیں ہوتا کہ اس پر ایمان بھی لاویں فقط سننا ہی سننا ہے اسی طرح اے رسول اللہ ﷺ کے ان لوگوں میں سے بعضے تمہاری طرف دیکھتے ہیں کہ ظاہر ظاہر معجزے اللہ تعالیٰ نے تم کو دئیے ہیں مگر یہ دیکھنا ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اس دیکھنے سے وہ ایمان لانے کا ارادہ نہیں کرتے ہیں اگر آپ چاہیں کہ یہ سب راہ راست پر آجائیں تو یہ غیر ممکن ہے کیونکہ جس طرح بہروں اور اندھوں کو نہ تم کچھ سنا سکتے نہ دکھا سکتے ہو اسی طرح ان کے دلوں کو قابو کر کے ان کو ہدایت بھی نہیں کرسکتے کیوں کہ ان لوگوں میں ایمان لانے کی اور حق ناحق سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے یہ بعینہ جانور ہیں دیکھتے بھی ہیں سنتے بھی ہیں مگر ان میں سمجھنے کا مادہ نہیں ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اسی طرح ابوذر ؓ سے صحیح مسلم ترمذی اور ابن ماجہ میں ایک روایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک ظلم نہیں پسند کرتا اس نے اپنی ذات پر بھی ظلم کو حرام کیا ہے اور اپنے بندوں پر بھی ظلم کو حرام کردیا ہے کہ آپس میں کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔ 1 ؎ اور اللہ پاک نے ہر شخص کے عمل گن گن کر رکھے ہیں جس کی جزا و سزا قیامت کے دن بھرپور دی جائے گی۔ آیتوں اور حدیثوں کو ملا کر یہ تفسیر قرار پاتی ہے کہ جو لوگ علم الٰہی میں بد ٹھہر چکے ہیں وہ مانند بہروں اور اندھوں کے ہیں۔ قرآن کا سننا یا معجزوں کا دیکھنا ان کو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا لیکن ساتھ اس کے یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ظلم پسند نہیں ہے اس لئے اس نے زبردستی کسی کے ذمہ کوئی برائی نہیں لگائی بلکہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ہر شخص جو کچھ کرنے والا تھا وہ اس کے علم ازلی سے باہر نہیں تھا اس واسطے اس نے وہ سب اپنے علم کے نتیجہ کے طور پر لوح محفوظ میں لکھ لیا اور جزا و سزا کا مدار اس نتیجہ پر نہیں رکھا۔ غرض ہر ایک نیک وبد کے دنیاوی ظہور پر جزا وسزا کا مدار رکھا ہے مگر اللہ کا علم تغیر وتبدل سے پاک ہے اس لئے دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ آخر کو لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق آن ٹھہرتا ہے اس کے برخلاف دنیا میں کوئی کام نہیں ہوسکتا۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 319 ج 2 باب تحریم الظلم۔
Ayah 10:4545۔ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ نافرمان لوگ اب تو دنیا میں اپنا قیام دنیاوی ہمیشہ کا خیال کر کے غفلت میں عمر گزار رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ دنیا کے رہنے میں انہوں نے بہت کچھ پھل پایا لیکن قیامت کے دن یہ لوگ جب اپنی کمائی اور اپنا دنیا کا رہنا آخرت کے نفع سے بالکل خالی پاویں گے اور فرمانبرداروں کو دیکھیں گے کہ ان کے دنیا کے نیک کاموں نے ان کو بہت کچھ نفع دیا اور انہوں نے اپنی نافرمانی کی سزا میں بہت کچھ نقصان اٹھایا تو یہ لوگ اپنے دنیا کے رہنے کو بالکل حقیر اور گھڑی دو گھڑی کا ٹکاؤ خیال کریں گے۔ معتبر سند سے طبرانی کبیر میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا سورج کی گرمی اور پسینے کے سبب سے بڑے بڑے گناہگاروں کو اس قدر تکلیف ہوگی کہ وہ اس تکلیف سے نجات پاکر دوزخ میں جانا پسند کریں گے۔ 1 ؎ اس مضمون کی روایت جابر ؓ سے مستدرک حاکم میں بھی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ 2 ؎ صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جن گنہگاروں نے دنیا میں بڑی راحت سے عمر بسر کی ہے دوزخ میں جاتے ہی ان کو وہ دنیا کی راحت یاد نہ رہے گی۔ 3 ؎ صحیح مسلم کے حوالہ سے مستورد بن شداد ؓ کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے۔ 4 ؎ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقبے کی راحتوں کی مثال ایک دریا کی سی ہے جس کے مقابلہ میں تمام دنیا کی راحتیں ایسی ہیں جیسے پانی کی تھوڑی سی نمی۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے آیت کی یہ تفسیر قرار پاتی ہے کہ میدان حشر کی تکلیفوں کے مقابلہ میں تو یہ لوگ دنیا کی راحت کی زندگی کو گھڑی دو گھڑی کی زندگی خیال کریں گے اور پھر دوزخ میں جاتے ہی دنیا کی راحت کو بالکل بھول جاویں گے اور جس طرح پانی کی تھوڑی سی نمی کے لالچ میں کوئی دریا کو ہاتھ سے کھو بیٹھے ان بےراہ قیامت کے جھٹلانے والوں کا ایسا ہی نقصان اس دن ہوگا کہ دنیا کی چند روزہ راحت کی غفلت کے سبب سے عقبیٰ کی بےحساب ہمیشہ کی راحتوں کو یہ لوگ ہاتھ سے کھو بیٹھیں گے۔ جھوٹے معبودوں اور ان کے پوجنے والوں کی آپس کی بیزاری کا ذکر جو اوپر گزرا اس بیزاری کے جھگڑے تک تو ان میں آپس کی جان پہچان رہے گی اور پھر یہ بات جاتی رہے گی اس تھوڑی سی جان پہچان کا ذکر آیت میں ہے۔
1 ؎ مجمع الزوائد ص 336 ج 10 باب ماجاء فی حصول المطلع و شتہ یوم القیمۃ۔
2 ؎ الترغیب ص 295 ج 2 فصل فی الحشر۔
3 ؎ مشکوۃ ص 503 باب صفۃ النار واہلہا۔
4 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 370، 439۔
Ayahs 10:46–4746۔ 47۔ مشرک لوگ عذاب کا وعدہ سن کر اس وعدہ کے ظہور کی جلدی کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے طور پر فرمایا کہ اے رسول اللہ ہم تمہارے سامنے ان کافروں کو غارت کردیں اور ان کے کردار کی سزا اسی دنیا میں تمہاری حیات ہی میں ان کو دیں یا ان کو اسی حال پر چھوڑ کر تمہیں اپنے پاس بلا لیں بہرحال یہ لوگ ایک دن ہمارے روبرو حاضر ہونے والے اور اپنی بد اعمالی کی سزا بھگتنے والے ہیں کیوں کہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کو معلوم ہے۔ ذرہ ذرہ کا ایک دن مواخذہ ہوگا معتبر سند سے طبرانی میں ابو امامہ ؓ اور حذیفہ ابن اسید ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز حضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج رات کو میری کل امت اول سے آخر تک مجھے دکھلا دی گئی ایک شخص نے کہا کہ جو آپ کی امت میں پیدا ہوچکے ہیں وہ تو خیر اور جو نہیں پیدا ہوئے ہیں انہیں کیسے آپ نے جانا فرمایا کہ جس طرح تم اپنے دوست احباب ہر ایک ملنے جلنے والے کو پہچانتے ہو اسی طرح میں ان کو پہچانتا ہوں 1 ؎ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعضائے وضو کے نور سے امت کو میں نے بن دیکھے لوگوں کی پہچان اللہ کے رسول کو ہوگی۔ 2 ؎ اسی طرح ابو امامہ ؓ کی طبرانی کی حدیث 3 ؎ میں اس کی صراحت ہے۔ مجاہد ؓ کہتے ہیں کہ ہر ایک رسول کی امت کا قیامت کے دن اس کے رسول کے سامنے فیصلہ کیا جاوے گا اور اللہ پاک نہایت ہی عدل اور انصاف کے ساتھ حکم نافذ فرمائے گا نامہ اعمال سامنے رکھا ہوگا وہ بتلا دے گا کہ کس کے اعمال کیسے ہیں اور نامہ اعمال کے لکھنے والے فرشتے بھی گواہی دیں گے ہر ایک امت ایک کے بعد ایک آتی جائے گی اور اس کا حساب و کتاب ہوتا جائے گا۔ حضرت رسول مقبول ﷺ کی امت اگرچہ سب امتوں سے پیچھے پیدا ہوئی ہے مگر اس کا حساب و کتاب سب سے پہلے ہوگا اور اس کے حساب و کتاب میں اتنا عرصہ بھی نہ ہوگا جتنا اوروں کے حساب میں ہوگا۔ صحیح بخاری و مسلم میں جو روایتیں ہیں ان میں یہ ذکر صراحت سے ہے کہ امت محمدیہ کا حساب اور امتوں سے پہلے ہوگا۔ 4 ؎ بلکہ صحیح بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے یہ بھی ہے کہ امت محمدیہ ﷺ کا گزر پل صراط پر بھی اور امتوں سے پہلے ہوگا۔ 5 ؎ معتبر سند سے طبرانی کبیر اور اوسط میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت 6 ؎ ہے جس میں امت محمدیہ کے حساب کے جلدی طے ہوجانے کا ذکر تفصیل سے ہے۔ اوپر یہ جو گزرا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی سب امت کو دیکھا کہ یہ قصہ معراج کی رات کا ہے۔ چناچہ ترمذی اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی جو روایتیں 7 ؎ ہیں ان میں معراج کی رات کا ذکر ہے اگرچہ یہ کل امت کے دیکھنے کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت صحیح بخاری میں بھی ہے۔ لیکن وہ مختصر ہے اس میں معراج کی رات کا ذکر نہیں ہے۔ 8 ؎ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں حضرت حذیفہ ؓ کی روایت ہے لیکن اس میں ایک راوی کذاب ہے۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری سب امت جنت میں جاوے گی مگر جو مجھ کو نہ مانے گا وہ دوزخ میں جاوے گا۔ صحابہ نے عرض کیا حضرت وہ کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا جو میری اطاعت نہیں کرتے۔ 9 ؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اور امتوں سے پہلے حساب کے ہونے اور پل صراط پر سے پہلے گزرنے کی عزت امت محمدیہ کے ان ہی لوگوں کو دی جاوے گی جو اللہ کے رسول کے پورے فرمانبردار اور ہر طرح کی بدعت سے بیزار ہیں۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے روایتیں جو سورة النساء میں گزر چکی ہیں۔ 10 ؎ ان میں یہ ذکر تفصیل سے ہے کہ ہر امت کا فیصلہ ان کے رسول کے سامنے خدا ﷺ اور مقابلہ میں ہوگا اور ان روایتوں سے مجاہد کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔
1 ؎ مجمع الزوائد ص 69 ج 10 باب 1 ما جاء فی فضل الامۃ
2 ؎ صحیح مسلم ص 126 ج 1 باب الستحباب الحالۃ الغرۃ الخ۔
3 ؎ مجمع الزوائد ص 408۔ 409 ج۔ 1 باب فیمن یدخل الجنۃ بغیر حساب۔
4 ؎ تفسیر ابن کبیر ص 419 ج 2۔
5 ؎ مشکوۃ 490 باب الحوض والشفاغۃ۔
6 ؎ مجمع الزوائد ص 69 ج 10 باب ماجاء فی فضل الامۃ۔
7 ؎ فتح الباری ص 181 ج 6 باب یدخل الجنۃ سبعون الغابغیر حساب۔
8 ؎ صحیح بخاری ص 968 ج 2 باب یدخل الجنۃ سبعون الفا بغیر حساب۔
9 ؎ صحیح بخاری ص 1081 ج 2 باب الاقتداء بسنن رسول اللہ ﷺ ۔
10 ؎ تفسیر ہذا 321 ج 1۔
Ayahs 10:48–4948۔ 49۔ مشرک لوگ حضرت رسول خدا ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ جو بار بار قیامت کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس روز تمہیں تمہارے بد اعمالی کی سزا ملے گی یہ عذاب ہوگا وہ عذاب ہوگا تو بتلائے وہ دن کب ہے اور کب ہوگا جلدی سے وہ ایک دن آن کر ہمیں کچھ نقصان کیوں نہیں پہنچ جاتا اس واسطے اللہ نے اس کا جواب اپنے رسول کو بتلایا کہ ان سے کہہ دو کہ میں آپ اپنی جان کا مالک نہیں ہوں نہ کوئی نفع اپنے کو پہنچا سکتا ہوں اور نہ نقصان پھر میں دوسروں کو کیا نفع نقصان پہنچا سکتا ہوں اور اللہ کے علم غیب میں جو میرا نفع یا نقصان ہے جب اس کا حال مجھ کو معلوم نہیں تو قیامت کے آنے کا خاص وقت میں تم لوگوں کو کیوں کر بتلا سکتا ہوں جو ایک خاص غیب کی بات ہے مجھے تو صرف اتنا ہی اختیار ہے کہ جو بات خدا مجھے بتلاتا ہے میں وہ لوگوں کو پہنچا دیتا ہوں جس بات کی وہ مجھے خبر دیتا ہے اس کو بیان کردیتا ہوں ہاں اتنی بات البتہ کہہ سکتا ہوں کہ ایک نہ ایک روز ضرور قیامت ہوگی مگر کب ہوگی اس کا علم مجھے نہیں یہ خدا ہی جانتا ہے اور یہ بھی کہے دیتا ہوں کہ ہر جاندار کے لئے موت ہے اور موت کا ایک دن مقرر ہے جب آجاتی ہے تو گھڑی بھر بھی دیر نہیں لگتی۔ اجل کسی چیز کے وقت مقررہ کو کہتے ہیں صحیح مسلم میں جابر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمام دنیا کے ختم ہونے کا وقت مقررہ تو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے مگر یہ بات قسم کھا کر میں کہتا ہوں کہ موجودہ لوگوں میں سے سو برس کے اندر کوئی شخص زندہ نہ رہے گا۔ 1 ؎ معتبر سند سے ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس امت کے اکثر لوگوں کی عمر ساٹھ سے ستر برس تک کی ہوگی۔ 2 ؎ معتبر سند سے مسند امام احمد میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا منکر نکیر کے سوال جواب کے بعد ہر نیک آدمی کو جنت کا ٹھکانا دکھلا کر اللہ کے فرشتے یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانے میں رہنے بسنے کے لئے قیامت کے دن تم لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جاوے گا۔ 3 ؎ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے آیتوں کی یہ تفسیر قرار پاتی ہے کہ دنیا کے ختم ہونے کا وقت مقررہ تو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے گھڑی گھڑی اس کا حال جو یہ لوگ پوچھتے ہیں اس کی انہیں کچھ ضرورت نہیں ان کو تو اپنی عمر کے وقت مقررہ کا حال پوچھنا چاہیے جو سو برس کے اندر ہے۔ اس کے بعد یہ سب مرجاویں گے اور قیامت کے دن جو انجام ان کا ہونے والا ہے مرنے کے ساتھ ہی وہ ان کو دکھادیا جاوے گا۔
1 ؎ مشکوۃ ص۔ 480 باب قرب الساعۃ و ان من مات فقد قامت قیامنۃ۔
2 ؎ مشکوۃ ص 450 باب الامل والحرص۔
3 ؎ الترغیب والترھیب ص 288 ج 2 ماجاء فی عذاب القبر و نعیمہ وسوال منکر ونکیر [۔
Ayahs 10:50–5250۔ 52۔ جس طرح یہ مشرک قیامت کے دن کے عذاب کی جلدی مسخرا پن کے طور پر کرتے تھے اسی طرح دنیا کے عذاب کی بھی جلدی کرتے تھے اور حضرت رسول خدا ﷺ سے کہتے تھے کہ تم عذاب عذاب کہا کرتے ہو تو لو اپنے خدا سے کہہ کر ہم پر عذاب بھیج دو اس لئے فرمایا اے رسول اللہ ﷺ ان لوگوں سے کہہ دیا جاوے کہ تم اب تو عذاب کی جلدی کر رہے ہو اور جب عذاب راتوں رات جس وقت تم غافل پڑے سوتے ہو یا دن کو جب تم اپنے کام دھندے میں لگے ہو گے اچانک آجاوے گا تو پھر کس بات کی جلدی کرو گے۔ عذاب تو ایک ایسی بری چیز ہے جس کے نام سے لوگ ڈرتے ہیں تو کیا عذاب آجانے سے تم ایمان لاؤ گے تو بتلاؤ ایسے وقت میں کہ تم عذاب میں گرفتار ہو گے اگر ایمان بھی لائے اس ایمان سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔ پھر فرمایا کہ قیامت کے دن جب یہ مجرم دوزخ میں ڈالے جائیں گے اور طرح طرح کے عذاب کو برداشت نہ کرسکیں گے اور فریاد مچانے لگیں گے اس وقت ان سے یہ بات کہی جاوے گی کہ تم دنیا میں عذاب کے آنے کی جلدی کرتے تھے اب کیا ہوا جو منہ مانگی چیز سے پناہ مانگتے ہو جو کچھ تم نے وہاں کیا ہے اس کا مزہ چکھو اور ہمیشہ چکھو۔ سورة النساء میں گزر چکا ہے کہ توبہ کے قبول ہونے کے لئے آئندہ گناہوں سے باز رہنے اور نیک کام کرنے کا ارادہ ضرور ہے عذاب کے سر پر آجانے اور ہلاکت کا یقین ہوجانے کے بعد انسان کی یہ حالت باقی نہیں رہتی بلکہ ایک بےبسی کی حالت ہوجاتی ہے اسی بےبسی کی حالت کا اسلام اور ایسی حالت کی توبہ کچھ مقبول نہیں ہے چناچہ اس باب میں عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث بھی ترمذی کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ اور عبد اللہ بن عمر اور معاذ بن جبل ؓ کی روایتیں بھی بھی سورة النساء میں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ عذاب کی تکلیف ہمیشہ قائم رہنے کے لئے دوزخیوں کی جلی ہوئی کھال گھڑی گھڑی بدلی جاوے گی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سورة النساء میں جو روایتیں گزر چکی ہیں وہی روایتیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں جس سے بےوقت کے اسلام کے مقبول ہونے اور دوزخ کے عذاب کی ہمیشگی کی تفصیل معلوم ہوتی ہے جلی ہوئی
کھال کے بدلے جانے کی معاذ بن جبل ؓ کی روایت طبرانی میں بھی ہے اور اس کی سند معتبر ہے۔ 2 ؎ جس سے حضرت عمر اور عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایتوں کو بھی تقویت ہولی جاتی ہے۔
1 ؎ جامع ترمذی ص 192 ج 2 ابواب الدعوات۔
2 ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص 332۔
Ayah 10:5353۔ مشرک لوگ یہ بھی پوچھتے تھے کہ کیا سچ مچ قیامت ہوگی اور اس کے انکار کرنے والوں کو عذاب ہوگا حالانکہ وہ لوگ یہ سوال پہلے بھی کرچکے تھے اور اس کا جواب بھی ان کو دے دیا گیا تھا پھر بار بار پوچھنا اور بھی نادانی کی نشانی ہے نہ اپنی بات سمجھتے ہیں کہ ہم کہہ کیا رہے ہیں نہ دوسرے کی بات سمجھتے ہیں کہ وہ کیا جواب دے رہا ہے اس لئے فرمایا اے رسول اللہ ﷺ کہ تم ان لوگوں سے کہہ دو قسم خدا کی قیامت ضرور ہونے والی ہے تم یہ نہ خیال کرو کہ ہم مٹی کے ڈھیر ہو کر پھر قبر سے کیوں کر نکل آئیں گے وہ دوبارہ پیدا کرسکتا ہے جس طرح اس نے پہلے پیدا کیا ہے اس کا ایک فقط کن کا حکم کافی ہے پھر اگر تم بھاگنا بھی چاہو گے تو رستہ نہ ملے گا نہ کوئی حیلہ حوالہ پیش ہو سکے گا بلکہ عذاب ہو کر رہے گا۔ ترمذی اور صحیح ابن حبان میں ابو سعید خدری ؓ سے اور مسند امام احمد وغیرہ میں زید بن ارقم ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسرافیل (علیہ السلام) صور منہ میں لے کر پھونکنے کو تیار اور ہر وقت حکم الٰہی کے منتظر ہیں۔ ترمذی نے اس روایت کو معتبر قرار دیا ہے۔ 1 ؎ یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے کیوں کہ آیت اور حدیث کو ملانے سے یہ مطلب ٹھہرتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تاکید کے طور پر اپنے رسول کو قسم کھا کر قیامت کے وعدہ کا ارشاد فرمایا ہے اسی طرح قیامت کے ظہور کا انتظام بھی ایسا تاکیدی ہے کہ اسرافیل (علیہ السلام) صور منہ میں لے کر پھونکنے کو تیار اور ہر وقت حکم الٰہی کے منتظر ہیں۔
1 ؎ جامع ترمذی ص 192 ج 2 ابواب الدعوات۔
Ayah 10:5454۔ صیح بخاری و مسلم میں حضرت انس ؓ کی روایت سے اس آیت کی تفسیر خود آنحضرت ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ قیامت کے دن ہلکے سے ہلکے عذاب والے دوزخی سے اللہ تعالیٰ فرما دے گا کہ اے شخص تیرے پاس دنیا بھر کا مال و متاع اور اولاد ہو تو اپنی نجات کے بدلے میں اس مال اور اولاد کے دینے پر راضی ہے وہ کہے گا کہ ہاں میں راضی ہوں اس پر اللہ تعالیٰ فرما دے گا کہ جب تو دنیا میں پیدا نہیں ہوا تھا اور آدم کی پشت میں تیرا نطفہ تھا اس وقت میں نے تجھ سے ایک چھوٹی سی بات کا یوم المیثاق میں عہد لیا تھا کہ تو دنیا میں جا کر نافرمانی نہ کیجیو مگر تو نے نہ مانا اب بدلہ اور تاوان دینے سے کیا ہوتا ہے۔ 1 ؎ حاصل معنے آیت اور حدیث کے یہ ہے کہ وہ نجات آخرت جو دنیا بھر کے مقابلہ میں گراں ہے تھوڑی سی فرمانبرداری خدا و رسول میں مل سکتی ہے اور جو اس سوداگری سے غافل رہا اس نے بڑا ٹوٹا پایا کیوں کہ اب دنیا میں تو لوگوں کے قبضہ میں عارضی طور پر کچھ مال و متاع اللہ تعالیٰ نے دے رکھا ہے جس کے صدقہ خیرات سے عقبی کی بہبودی چاہنے والے کچھ عقبیٰ کی بہبودی کرسکتے ہیں دنیا کے فنا ہوجانے کا سبب مال و متاع۔
اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں چلا جاوے گا پھر اگر اس دن بدلہ اور تاوان قبول ہوتا بھی تو یہ لوگ مال و متاع کہاں سے لاسکتے تھے۔ چناچہ اس مطلب کو الا ان للّٰہ ما فی السموت والارض سے ادا فرمایا گیا ہے۔ سورة عنکبوت میں آوے گا کہ مشرکین مکہ میں کہ سردار لوگ عام لوگوں کو بہکایا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ اول تو قیامت اور اس دن کی سزا ہم کو یقین نہیں ہے اور اگر یہ سزا ہوئی بھی تو تمہاری سزا ہم اپنے ذمہ لے لیویں گے اس لئے اس سزا کے خوف سے تم اپنا قدیمی دین نہ چھوڑو اسی سورة میں یہ بھی آوے گا کہ ایسے لوگوں کو دوہری سزا دی جاوے گی ایک ان کی ذاتی بد اعمال کی اور دوسری لوگوں کو بہکانے کی قیامت کے دن یہ بہکانے والے لوگ تو یوں پچھتاویں گے کہ انہوں نے لوگوں کو ناحق بہکایا جس کے سبب سے وہ دوہری سزا کے مستحق ٹھہرے اور بہکنے والے یوں پچھتاویں گے کہ ہم ان گمراہ سرداروں کے بہکانے میں کیوں آگئے ان لوگوں کو یہ معلوم ہوجاوے گا کہ اس وقت کے پچھتاوے کو زبان پر لانے سے کچھ فائدہ نہیں اس لئے وہ لوگ اس پچھتاوے کو اپنے اپنے دل ہی میں رکھیں گے حاصل کلام یہ ہے کہ اس چھپے ہوئے پچھتاوے کا ذکر اس آیت میں ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے حدیث قدسی جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر نیکی کی جزا دس سے لے کر سات سو تک اور بعضی نیکیوں کی جزا اس سے بھی زیادہ عطا ہوگی اور بدی کی سزا میں کچھ زیادتی نہ ہوگی بلکہ جرم کے موافق سزا دی جاوے گی اور بعضے جرم بغیر سزا کے معاف بھی ہوجاویں گے۔ 2 ؎ آخر آیت میں اس دن کے جس منصفانہ فیصلہ کا ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔
1 ؎ مشکوں ص 502۔ باب صفۃ النار واہلہاو تفسیر ابن کثیر ص 54 ج 2۔
2 ؎ صحیح بخاری ص۔ 96 ج 2 باب من ہم بحسنۃ او سیلۃ تفسیر ابن کثیر 196 ج 2۔
Ayahs 10:55–5655۔ 56۔ اوپر کی آیت میں تاوان کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا یاد رکھو کہ آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں مغرب سے مشرق تک جنوب سے شمال تک دریا پہاڑ خزانے کان کل چھوٹی بڑی چیزیں ہیں اس دن وہ سب اللہ کے قبضہ میں ہوں گی اس دن تمہارا عارضی قبضہ باقی نہ رہے گا جو تم تاوان دے کر اپنا پیچھا چھڑاؤ گے اور عذاب سے بچو گے خوب یاد رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے ابھی تو تمہاری سمجھ میں نہیں آتا لیکن جب وعدہ کا وقت مقررہ آوے گا تو سمجھ لو گے کیوں کہ خدا کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ تم کو مردے سے زندہ کر دے پیدا بھی وہی کرتا ہے مردہ بھی وہی کرتا ہے مردے سے دوبارہ زندہ وہی کر دے گا۔ صحیح بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوسرے صور سے پہلے اللہ تعالیٰ آسمان و زمین اور سب چیزیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرما دے گا آج عارضی طور پر بادشاہت اور مال و متاع کا دعویٰ کرنے والے کہاں ہیں۔ 1 ؎ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کے اثر سے سب جسم بن کر تیار ہوجاویں گے اور پھر ان جسموں میں روحید پھونک دی جاویں گی۔ 2 ؎ آیت میں قیامت کے دن آسمان و زمین کی سب چیزوں کے اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہونے کا اور حشر کے وعدہ کے ظہور کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں۔
1 ؎ مشکوۃ ص 181 باب النفخ فے الصور۔
2 ؎ مشکوۃ ص 481 باب النفخ فی الصور۔
Ayah 10:5757۔ جس طرح آدمی کے بدن کے لئے بخار کھانسی وغیرہ طرح طرح کے مرض ہیں اسی طرح عقیدہ کے بگڑنے سے آدمی کے دل میں کفر و نفاق حسد ریا کاری یہ طرح طرح کے مرض پیدا ہوجاتے ہیں اور جس طرح طب کی کتابوں میں جسمانی مرض کے ہر طرح کے علاج لکھے ہیں قرآن شریف اور حدیث میں اس طرح ان دلی مرضوں کے ہر طرح کے علاج ہیں اس واسطے قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ کے دنیا میں آنے کو دل کی تندرستی کا سبب فرمایا اور اوپر کی آیت میں فرمایا تھا کہ تمام دنیا کے مال و متاع کے بدلا دینے پر بھی قیامت کے دن نجات میسر نہ آوے گی۔ اس لئے اس آیت میں فرمایا کہ تمام دنیا کی جمع پونجی سے اللہ تعالیٰ کی یہ رسول اور کتاب آسمانی کے بھیجنے کی رحمت بہتر ہے دنیا کا رہنا چند روزہ ہے اور یہ چند روز کی کمائی بھی یہیں رہ جاوے گی رسول اور کتاب آسمانی کی فرمانبرداری اگر تم کرو گے تو یہ کمائی تمہارے ساتھ جاوے گی اور وہ نجات آخرت تم کو نصیب ہوگی جو دنیا بھر کا مال خرچ کرنے سے اس دن نہیں مل سکتی اس لئے اس رحمت الٰہی کی خوشی کرو اور دنیا بھر کے مال و متاع سے اس رحمت الٰہی کو بہتر جانو۔ صحیح بخاری میں نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی کے بدن میں دل ایک ایسا ٹکڑا ہے جس کی درست حالت میں ہوجانے سے آدمی کا تمام جسم درست حالت میں ہوجاتا ہے اور اگر آدمی کا دل درست حالت میں نہ ہو تو آدمی کا ہاتھ پیر کا کوئی کام اعتبار کے قابل نہیں 1 ؎۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ نیت دلی ارادہ کا نام ہے اور ہاتھ پیر کا ہر ایک کام دلی ارادہ کی بنیاد پر ہوتا ہے اس لئے ہاتھ پیر کا جو نیک کام عقبی کے ثواب کی خالص نیت سے نہ کیا جاوے وہ بالکل رائیگاں ہے چناچہ ابو داود اور نسائی کے حوالہ سے ابو امامہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے۔ 2 ؎ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بغیر خالص نیت کے کوئی نیک کام بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہوسکتا یہ تو دل کے ارادہ کا خلل شریعت کی ان باتوں میں ہوا جن میں دلی ارادہ اور ہاتھ پیروں کے عمل دونوں کا دخل ہے جس طرح مثلاً نماز کا رکوع سجدہ تو سب پورا ہو مگر اس میں دلی ارادہ دنیا کے دکھاوے کا ہو تو اس طرح کی نماز نا مقبول ہے۔ شریعت میں بعضی باتیں ایسی بھی ہیں جن میں ہاتھ پیروں کے عمل کا کچھ دخل نہیں ہے بلکہ ان باتوں کا فقط دل میں یقین اور عقیدہ رکھنے کا حکم ہے مثلا ہر ایمان دار شخص کو دل میں یہ یقین اور عقیدہ رکھنا چاہیے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اس کی ذات وصفات میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اس کے سب رسول اور سب آسمانی کتابیں برحق ہیں ان باتوں میں دل کی حالت میں نادرستی یہی ہے کہ یہ دلی یقین یا تو سرے سے ہو ہی نہیں جیسے مشرکوں کے دل کا حال ہے یا یقین ہو تو سہی مگر پورا نہ ہو جیسے کچے مسلمانوں کے دل کا حال ہے غرض اللہ تعالیٰ نے دل کی ہر طرح کی نادرست حالت کو دلی مرض قرار دے کر قرآن شریف کی نصیحت کو اس مرض کی شفاعت کا سبب قرار دیا ہے اس لئے ہر ایمان دار شخص کو چاہیے کہ ہمیشہ اپنے دل کی حالت کو قرآن شریف کی نصیحت کا پابند رکھے اور جس طرح جسمانی مرض کا علاج فوراً کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دلی ہر مرض کا علاج بھی نصیحت الٰہی کے موافق وقت پر کرتا رہے تاکہ کوئی دلی مرض بڑھنے نہ پاوے۔
1 ؎ دیکھئے تفسیر ہذا جلد دوم ص 506۔
2 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم 364۔
Ayah 10:5858۔ اس آیت میں رسالت کا ثبوت دیا گیا ہے جس طرح اس سے پہلے کی آیتوں میں خدا کی توحید کی دلیلیں بیان کی گئی تھیں اس لئے فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور جن پر یہ قرآن نازل ہوا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں اور جو شخص اس اللہ کے کلام کی تلاوت کرتا ہے اور اس کے معنے میں غور کرتا ہے وہ سچے عقیدوں کی جھوٹے عقیدوں سے تمیز کرلیتا ہے اس کے دل میں جو کچھ شک و شبہ کی بیماری ہوتی ہے وہ دفع ہوجاتی ہے۔ معتبر سند سے تفسیر ابن مردویہ میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت ﷺ سے شکایت کی کہ میرے دل میں طرح طرح کے وہم خیال آتے رہتے ہیں آپ نے فرمایا قرآن پڑھا کرو دل کی بیماریوں کے لئے قرآن شفا ہے۔ 1 ؎ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے اس میں بھی آنحضرت ﷺ نے قرآن کو شفا فرمایا ہے۔ 2 ؎ اس سے ابو سعید ؓ کی روایت کی پوری تائید ہوجاتی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے پیرو ہیں ان کے لئے یہ قرآن سراپا ہدایت ہے رحمت ہے پھر اللہ جل شانہ نے اپنے رسول کو مخاطب کر کے فرمایا اے رسول اللہ ﷺ کے ان لوگوں سے کہہ دو کہ فقط خدا کا فضل و رحمت ہی اس قابل ہے جس پر خوشی کی جائے دنیا کے چند روزہ مال و دولت کو جمع کرنے سے کیا نتیجہ ہے خدا کی مہربانیوں کو جمع کرنے کی کوشش کی جاوے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ خدا نے فضل جو اس آیت میں فرمایا اس سے مراد قرآن مجید ہے اور رحمت سے مراد دین اسلام ہے۔ صحیح مسلم میں ابی امامہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن قرآن ان گنہگار لوگوں کی شفاعت کریگا جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ 3 ؎ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی نے اپنے کھانے پینے اور صدقہ خیرات دینے کے بعد جو مال مرتے وقت دنیا میں چھوڑا وہ دوسروں کا ہے مال کے جمع کرنے والے شخص کی ذات کو اس مال سے کچھ فائدہ نہیں۔ 4 ؎ آیت میں قرآن شریف کے نازل ہونے کی نعمت کو مال کے جمع کرنے سے بہتر جو فرمایا یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ مرتے وقت دنیا میں آدمی نے جو مال جمع کر کے چھوڑا وہ جمع کرنے والے شخص کے حق میں بیکار ہے برخلاف قرآن شریف کے نازل ہونے کی نعمت کے کہ وہ قیامت کے دن گنہگار قرآن پڑھنے والوں کے حق میں ایک شفاعت کا آسرا ہے۔
1 ؎ تفسیر فتح البیان ص 371 ج 2۔
2 ؎ الترغیب ص 259 ج 1 کتاب قراء ۃ القرآن۔
3 ؎ صحیح مسلم ص 270 ج 1 باب فضل قراء ۃ القرآن الخ۔
4 ؎ مشکوۃ ص 440 کتاب الرقاق۔