Ayahs 10:84–8684۔ 86۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے جو ایمان لا چکے تھے یہ کہا کہ جب تم ایمان لاچکے اور مسلمان ہوگئے تو اب خدا ہی پر بھروسہ کرو اور فرعون اور اس کے گروہ کا کوئی خوف نہ کرو ان لوگوں نے کہا کہ ہاں ہم نے خدا پر بھروسہ کرلیا اور پھر خدا سے دعا کی اے خدا ہم کو اس ظالم قوم کے فتنہ سے بچائیو اور ان کو ہم پر فتحیاب نہ کیجیو نہیں تو فرعون اور اس کی ساری قوم یہی کہیں گے کہ ہم ہی حق پر ہیں اور ایسی باتیں دل میں سوچ کر اور زبان سے کہہ کر یہ لوگ فتنہ میں پڑیں گے۔ مجاہد ؓ کا یہی قول ہے کہ ان لوگوں نے یہی دعا کی تھی کہ یا اللہ تو ان کو ہم پر غلبہ نہ دے اور اپنی رحمت سے اس ظالم قوم کے ظلم سے بچا کیوں کہ ہم تجھ پر ایمان لاچکے ہیں اور تجھی پر بھروسہ کئے ہوئے بیٹھے ہیں۔ جس طرح حکم برداری کے لئے توکل ضرور ہے اسی طرح توکل کے لئے صبر لازم ہے کیونکہ بےصبر آدمی حکم برداری کی تکلیفوں پر قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ان تکلیفوں کے اجر کا پورا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر رکھ سکتا ہے اسی واسطے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایمان واسلام کے ساتھ صبر و توکل دونوں کا ذکر فرمایا اور یہی تربیت قرآن شریف کی ہے چناچہ اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے ایمان اور اسلام کی تفسیر میں صحیح مسلم کی حضرت عمر ؓ کی حدیث مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اس کے فرشتوں رسولوں اور آسمانی کتابوں کے موجود ہونے کا دل میں یقین رکھنا اس کو ایمان کہتے ہیں اس دلی یقین کو ظاہر کرنے کے لئے زبان سے ان باتوں کا اقرار کرنا اور ہاتھ پیروں سے نماز روزہ حج زکوٰۃ ان ارکان اسلام کو بجا لانا اس کو اسلام کہتے ہیں۔ 1 ؎ نماز کے بجا لانے میں مثلاً جاڑے کے موسم کا وضو روزہ میں مثلاً بھوک پیاس یہ تکلیف کی چیزیں ہیں ان تکلیفوں پر صبر کرنا اور اس صبر کے اجر کا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر رکھنا یہی صبر و توکل ہے جس کا ذکر اسلام کے ذکر کے ساتھ آتا ہے اور اسی سبب سے صحیح روایتوں میں اللہ کے رسول ﷺ نے صبر کو نصف ایمان فرمایا ہے۔ 2 ؎ ایمان و اسلام کی آیتوں اور حدیثوں میں قیامت کے یقین کا اس لئے ذکر آتا ہے کہ آدمی کو قیامت کے دن کی سزا و جزا کا جب تک پورا یقین نہ ہو تو وہ عقبیٰ کی جزا کی امید پر کوئی نیک کام کرسکتا ہے نہ اس دن کی سزا کے خوف سے برے کام کو چھوڑ سکتا ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 27 ج 1 کتاب الایمان ومشکوۃ ص 11 کتاب الایمان۔
2 ؎ الترغیب ص 263 ج 2 باب الترغیب نے الصبر الخ۔
Ayah 10:8787۔ جب فرعون اور اس کے ہمراہیوں پر عذاب آنے کا زمانہ قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون کو بذریعہ وحی کے یہ حکم دیا کہ تم اپنی قوم سمیت ان کفار سے علیحدہ ہوجاؤ اور الگ اپنا ایک محلہ بسا لو اور گھروں کا رخ قبلہ کی طرف رکھو اس میں نماز پڑھا کرو تاکہ فرعون کے ظلم سے امن میں رہو نماز کا حکم اس واسطے ہوا تھا کہ کثرت سے نماز پڑھنے سے بلائیں دفع ہوا کرتی ہیں چناچہ مسند امام احمد اور ابوداؤد میں حذیفہ ؓ کی ایک معتبر حدیث ہے کہ جب حضرت ﷺ کو کوئی امر ایسا در پیش ہوتا جس سے آپ غمگین ہوا کرتے تو آپ نماز پڑھنے لگتے تھے 1 ؎ اس آیت کے متعلق اس بات کا مفسرین میں اختلاف ہے کہ خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) کو گھر بنانے کا حکم دیا یا مسجد بنانے کا۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مسجد کو فرمایا ہے اور مجاہد و قتادہ ؓ وغیرہ یہ کہتے ہیں کہ گھر بنانے کا حکم ہوا 2 ؎ کیوں کہ لوگ پہلے عبادت خانہ میں جا کر عبادت کیا کرتے تھے جب ان کو خوف ہوا کہ فرعون کے زمرہ کے آدمی ہمیں ایذا پہنچائیں گے اور قتل کر ڈالیں گے تو خدا کا یہ حکم ہوا کہ اپنا گھر قبلہ رخ بنالو وہیں نماز پڑہا کرو اس معنے کو حافظ ابو جعفر ابن جریر نے ترجیح دی ہے۔ 3 ؎ قبلہ کے تعین میں بھی مفسروں کا اختلاف ہے بعضوں کا قول یہ ہے کہ قبلہ بیت المقدس کو فرمایا جو یہود کا قبلہ ہے اور بعضوں نے کہا ہے کہ کعبہ مراد ہے کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد جتنے لوگ ہوئے سب کا قبلہ یہی کعبہ رہا ہے علاوہ اس کے سورة بقرہ میں گزرچکا ہے کہ یہود کے قبلہ کا تورات میں اور نصاریٰ کے قبلہ کا انجیل میں ذکر نہیں ہے بلکہ دونوں گروہ کا قبلہ ان کے علماء کا ٹھہرایا ہوا ہے اس لئے آسمانی حکم کا قبلہ بیت المقدس کو نہیں کہا جاسکتا پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ مومنوں کو اس کی خوشی سنادو کہ آخرت میں تمہیں اس کا اچھا اجر ملے گا کہ تم نے اللہ کے رسول کی نصیحت کو مان کر ہر طرح کی تکلیف پر صبر و توکل کا اقرار کیا۔
اور ایمان واسلام کے پابند ہوگئے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے معاذ بن جبل ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر شرک سے بچنے کا ہے اور اس حق کے پورا ہوجانے کے بعد اللہ کا وعدہ مغفرت کا ہے۔ 4 ؎ یہ حدیث (و بشر المؤمنین) کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی نصیحت کے موافق بنی اسرائیل نے توحید کا اور شریعت موسوی کے احکام کی تعمیل کا اقرار جب کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق ان کو نجات کی خوشخبری دی تورات کے نازل ہونے سے پہلے متفرق طور پر جو احکام نازل ہوئے تھے یہ ان احکام کا ذکر ہے کیوں کہ تورات فرعون کے غرق ہوجانے کے بعد نازل ہوئی ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 428 ج 2۔
2 ؎ تمام اقوال کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 429 ج 2۔
3 ؎ تفسیر ابن جریر ص 153۔ 155۔ ج 11۔
4 ؎ مشکوۃٰ ۔ ص 13۔ 14 کتاب الایمان۔
Ayah 10:8888۔ فرعون کے ہلاک ہونے سے پہلے اس کی اور اس کے ساتھیوں کی سرکشی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ آیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ ان لوگوں کی سرکشی کا بڑا سبب ان کا مال و متاع ہے کہ مالداری اور عیش و آرام کے غرور میں یہ لوگ خود بھی نصیحت نہیں سنتے اور اوروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس غصہ کے خیال میں دعا مانگی اور حضرت ہارون آمین کہتے گئے دعاء کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ ان لوگوں کو تو نے مال و متاع جو دیا ہے وہ ان سے چھین لے کس لئے کہ ان کا یہ مال ان کے خود گمراہ ہونے اور اوروں کو گمراہ کرنے کا سبب ہے اور اس مال کے چھین لینے کے بعد ان کو ایسا فاقہ مست بنادے کہ بغیر مال کے بھی ان کا وہی غرور اور سرکشی باقی رہے اور اس غرو اور سرکشی کے سبب سے جھٹ پٹ ان پر تیرا عذاب نازل ہو خدا کی پناہ نبی کی بددعا تھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی تمام خزانے اور کھیت پتھر ہوگئے۔ چناچہ عمر بن عبد العزیز نے اس زمانہ کا کچھ روپیہ اور غلہ بہم پہنچایا تھا بالکل پتھر کا تھا اس بددعا کے ایک چلہ کے بعد پھر فرعون ہلاک ہوگیا اس بددعا کے اثر میں اس طرح کی سخت وبا مصر میں پھیلی کہ قبطی بدحواس ہوگئے مصلحت الٰہی سے بنی اسرائیل کا محلہ جو الگ بس گیا تھا اس محلہ کو اللہ تعالیٰ نے اس وبا سے محفوظ رکھا۔ پہلے سے بنی اسرائیل کو تیار رہنے کا حکم تھا اس لئے سفر کا حکم ہوتے ہی رات کو مصر سے نکلے قلزم دریا تک پہنچے تھے کہ فرعون نے کئی لاکھ فوج سے پیچھا کیا۔ آخر بنی اسرائیل کو تو قلزم نے اللہ کے حکم سے راستہ دیا اور فرعون مع اپنی فوج کے غرق ہوگیا زیادہ تفصیل اس قصہ کی سورة شعراء میں آوے گی عین عذاب کے وقت کا ایمان اور ایسے وقت کی توبہ قبول نہیں اس واسطے غوطہ کھانے کے بعد فرعون نے جو ایمان کا اقرار کیا وہ نامقبول ہوا۔ بنی اسرائیل کے جی میں فرعون کے اس طرح کی بےکسی سے مرنے کا یقین بنی اسرائیل کو نہ آتا تھا ان کے یقین دلانے کیلئے اللہ کے حکم سے پانی نے فرعون کی لاش کو ایک کنارہ پر پھینک دیا پھر سب کو فرعون کی لاش دیکھ کر اس کے مرنے کا یقین ہوگیا۔ چناچہ یہ ذکر آگے آتا ہے معتبر سند سے مسند امام احمد اور ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایت ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا کہ غوطے کھاتے کھاتے فرعون نے جو ایمان لانے کا اقرار کیا تو حضرت جبرئیل نے فرعون کے منہ میں قلزم سے مٹی لے کر بھر دی جس سے فرعون فوراً مرگیا۔ 1 ؎ اس حدیث پر امام فخر الدین رازی نے یہ اعتراض کیا ہے کہ نیک کام سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے فرعون کو روکا اس کا سبب کیا ہے مفسرین نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ حکم { فلم یک ینفعھم ایمانھم لما راوا باسنا۔ (4: 54)} سے اس وقت کا ایمان فرعون کا مقبول نہیں تھا اس لئے فرعون کا اس وقت کا ایمان کا اقرار ایک فعل عبث تھا اور فعل عبث سے روکنا ہر حکیم کا کام ہے کوئی اعتراض کا محل نہیں ہے رہی یہ بات کہ شریعت موسوی میں بھی { فلم یک ینفعھم ایمانھم لما راؤ باسنا } کا حکم تھا یا نہیں اس کا جواب یہ ہے کہ خود حضرت موسیٰ کی اس بددعا { فلا یؤمنوا حتی یروا العذاب الالیم } سے ثابت ہے کہ شریعت موسوی میں بھی یہ حکم تھا کیوں کہ شریعت موسوی میں اگر یہ حکم نہ ہوتا تو حضرت موسیٰ یہ بدعا کیوں کرتے کہ فرعون اور اس کے سرکش ساتھیوں کو ایمان نصیب بھی ہو تو عذاب کے آجانے کے وقت ہوتا کہ ان کا ایمان ان کو کچھ فائدہ نہب خشے صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عام لوگوں کو عام عذاب سے پہلے اور خاص خاص ہر ایک شخص کو خاص اپنی موت سے پہلے جو نیک عمل کرنا ہو وہ کر لیوے۔ 2 ؎ صحیح بخاری و مسلم میں عبادہ بن الصامت ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا موت کے وقت اللہ کے فرشتے اچھے لوگوں کو مغفرت کی اور بد لوگوں کو عذاب کی خبر سنا دیتے ہیں۔ 3 ؎ یہ حدیثیں ( فلا یؤمنوا حتی یروا العذاب الالیم) کی گویا تفسیر ہیں جس کا حل یہ ہے کہ نافرمان لوگوں کا ایمان اس وقت تک کا مقبول ہے کہ عام عذاب اور عام موت کے سبب سے عام نافرمانوں کو یا خاص موت کے سبب سے کسی خاص نافرمان شخص کو موت کے فرشتے نظر نہ آنے لگیں کیوں کہ جب فرشتے نظر آنے لگے اور نافرمان لوگوں کو ان فرشتوں نے عذاب آخرت کی خبر سنادی تو اس عذاب سے مجبور ہو کر ایسے تنگ وقت پر کسی نافرمان شخص کا فرمانبرداری کا اقرار داخل فرمانبرداری ہے نہ یہ اقرار ان لوگوں کو کچھ مفید ہوسکتا ہے اسی واسطے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے حق میں یہ بددعا کی کہ مجبوری کے وقت سے پہلے ان لوگوں کو ایمان لانا نصیب نہ ہو۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر 430 ج 2۔
2 ؎ مشکوۃ ص 460 باب الانذار والتحذیر فصل اول۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 963 ج 2 باب من احب لقاء اللہ احب اللہ لقاء ہ۔
Ayah 10:8989۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی کہ اے رب ہمارے تو نے فرعون کو دنیا میں مال و دولت و جاہ و عزت دے رکھی ہے کیا یہ سب کچھ اس واسطے ہے کہ یہ خود بھی گمراہ رہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے تو ان کے مال و دولت کو خاک میں ملا دے اور ان کے دلوں کو اور بھی سخت کر دے تاکہ جب تک یہ عذاب کو آنکھوں سے نہ دیکھ لیویں اس وقت تک ان کے دل نرم نہ ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ تمہارے اور تمہارے بھائی ہارون (علیہ السلام) دونوں کی دعا قبول کی گئی مگر تم جلدی نہ کرو خاطر جمع رکھو اور اپنے کام پر جمے رہو۔ عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تھی اور ہارون (علیہ السلام) نے آمین کہی تھی اس لئے خدا نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کی گئی اس سے معلوم ہوا کہ آمین کہنے والے کو بھی دعا کرنے والا ٹھہرایا جاسکتا ہے بعضے مفسروں کا قول ہے کہ اس دعا کے بعد فرعون چالیس دن تک دنیا میں رہا لیکن ابن جریج کہتے ہیں کہ چالیس برس تک رہا پھر دریائے قلزم میں ڈوب کر معہ اپنے لشکر کے ہلاک ہوا اس کا حال آگے کی آیت میں آتا ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا کا یہ اثر ہوا کہ فرعون کا سارا مال و دولت کھانے کی چیزیں تک پتھر ہوگئیں تھیں چناچہ عمر بن عبد العزیز کے پاس ایک تھیلی فرعون کے وقت کی تھی انہوں نے جب آیت کو سنا تو تھیلی منگا کر دیکھی تو اس میں سے کچھ انڈے اور چنے نکلے توڑ کر دیکھا گیا تو واقعی پتھر ہوگئے تھے صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہونے والا تھا اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے دعا کے اثر میں جلدی کرنے سے منع فرمایا ہے آیت کے ٹکڑے { فاستقیما ولا تتبعآن سبیل الذین لا یعلمون } کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں کیوں کہ آیت اور حدیثوں کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ انتظام الٰہی میں ہر کام کا وقت دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے مقرر ہوچکا ہے اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ وقت مقررہ کے آجانے سے تمہاری دعا قبول تو ہوگی لیکن اس کا ظہور اپنے وقت مقررہ پر ہوگا۔ انجان آدمی کی طرح وقت مقررہ سے پہلے اس ظہور کی جلدی کرو نہ ظہور میں دیر ہونے کے سبب سے نبوت کے فرض منصب و عظ نصیحت میں کچھ خلل جائز رکھو کیوں کہ دعا کے اثر میں جلدی کا کرنا انتظام الٰہی کے برخلاف اور مرضی الٰہی میں ایک طرح کی بیجا مداخلت ہے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے چناچہ وقت مقررہ پر اس وعدہ اور دعا کے اثر کا جو ظہور ہوا اس کا ذکر آگے آتا ہے۔
1 ؎ صحیح مسل ص 335 ج 2 باب حجاج آدم و موسیٰ ۔
Ayahs 10:90–9290۔ 92۔ ان آیتوں میں فرعون اور اس کے رفیقوں کی دریا میں ڈوبنے کی کیفیت بیان کی گئی ہے جب بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مصر سے نکلے جن کی تعداد چھ لاکھ تھی تو فرعون کو یہ خبر معلوم ہوئی اور اس نے شہر میں آدمی بھیج کر اور لشکر اکٹھا کر کے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا بنی اسرائیل بحر قلزم کے کنارے پر پہنچ چکے تھے فرعون کو لشکر سمیت آتے ہوئے دیکھ کر بہت ہی خوف کرنے لگے جب فرعون بالکل قریب آگیا تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ان لوگوں کے ہاتھ سے کیوں کر رہائی ہوگی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے اسی راہ سے جانے کی ہدایت ہوئی ہے خدا خود رستہ بتلا دے گا جب وقت بالکل تنگ ہوگیا اور فرعون اور اس کے لشکر نے آگھیرا تو خدا تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا کہ عصا اٹھا کر دریا پر مارو عصا مارنا تھا کہ بارہ راستے دریا میں نمودار ہوگئے۔ ہوا نے خدا کے حکم سے زمین کو خشک کردیا رستوں کے درمیان میں پانی پہاڑ کی طرح سخت ہوگیا اور بڑے بڑے سوراخ اس میں پڑگئے تاکہ ادھر کے آدمی ادھر کے آدمی کو دیکھ کر اطمینان رکھیں اور یہ گمان نہ کریں کہ کوئی ہلاک ہوا غرض کہ موسیٰ اور ان کے سب ساتھ کا لشکر دریا سے پار ہوگئے فرعون جب دریا کے کنارے آیا تو ہول کھانے لگا فوراً جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم ہوا وہ گھوڑی پر سوار ہو کر فرعون کے سامنے سے نکلے۔ فرعون کا گھوڑا بھی گھوڑی دیکھ کر پیچھے ہولیا اور دونوں دریا میں گھس گئے جب فرعون کا کچھ قابو نہ چلا تو کہنے لگا کہ بنی اسرائیل ہم سے زیادہ دریا پر حق نہیں رکھتے ہیں کیا میں دریا سے پار نہیں ہوسکتا پھر تو سب کے سب اس کے پیچھے دریا میں اتر گئے اس وقت خدا کا حکم ہوا کہ دریا کا پانی جوں کا توں ہوجائے دریا کا پانی برابر ہوگیا اور سب کے سب تہ وبالا ہو کر ہلاک ہوگئے جب فرعون ڈوبنے لگا تو کہا کہ میں بنی اسرائیل کے خدا پر ایمان لایا اور میں بھی مسلمان ہوں خدا نے فرمایا اب ایمان لایا پہلے سے نہیں اب بھلا کیا فائدہ ہوسکتا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب فرعون ڈوب گیا تو بعض لوگوں کو فرعون کی موت میں شک ہوا کہ وہ نہیں ڈوبا بچ گیا اس لئے اللہ پاک نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش دریا کے باہر ٹیلہ پر پھینک دے 1 ؎ جب لوگوں نے اس کی لاش دیکھی تو یقین ہوا جیسا کہ خود اللہ جل شانہ نے فرمایا { الیوم ننجیک ببدنک } کہ آج اگر ہم نجات دیں گے تو بغیر روح کے تیرے بدن کو نجات دیں گے تاکہ جو دیکھے وہ عبرت پکڑے اور غفلت میں نہ پڑا رہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت اور صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبادہ بن الصامت ؓ کی روایت اوپر گزر چکی ہے۔ 2 ؎ کہ جب موت کے فرشتے نظر آنے لگتے ہیں تو ایسے مجبوری کے وقت کی فرمانبرداری داخل فرمانبرداری نہیں ہے یہ حدیثیں (الان وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین) کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ انتظام الٰہی کے موافق دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا ہوئی ہے مجبوری کی حالت میں یہ امتحان کا موقع باقی نہیں رہتا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بےوقت کی فرمانبرداری کا یہ جواب دیا کہ ایسے وقت کی فرمانبرداری نا مقبول ہے اس آخری وقت پر فرعون جیسے عمر بھر کے نافرمان شخص نے جو فرمانبرداری کا اقرار کیا اور حضرت جبرئیل نے اس کے اس اقرار کو بر خلاف انتظام الٰہی سمجھ کر فرعون کے منہ میں قلزم کی کیچڑ ٹھونس دی مسند امام احمد اور ترمذی کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی معتبر روایت اس باب میں اوپر گزر چکی ہے 3 ؎ اور اس روایت پر امام فخر الدین رازی نے جو اعتراض کیا ہے اس کا جواب بھی اوپر گزر چکا ہے اس آیت سے بھی امام فخر الدین رازی کے اعتراض کا یہ جواب نکل سکتا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے جو کچھ کیا وہ حکم الٰہی اور انتظام کے موافق تھا اس لئے اس پر کوئی اعتراض کا محل نہیں ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت پر یہ جو اعتراض ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید کو یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف کہا ہے اس کا جواب بھی علما نے دے دیا ہے کہ ترمذی کی دوسری سند میں علی بن زید نہیں ہے بلکہ شعبہ کی عدی بن ثابت والی سند شرط بخاری کے موافق صحیح ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 421 ج 2۔
2 ؎ یعنی سابقہ صفحہ 61۔
3 ؎ یعنی صفحہ 61 پر
Ayah 10:9393۔ فرعون کے غرق ہونے کے بعد تمام ملک مصر بنی اسرائیل کے قبضہ میں آگیا مگر بنی اسرائیل کو مصر میں رہنے کا اتفاق اس سبب سے کم ہوا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی رہنے کی جگہ ملک شام عمالقہ قوم کے قبضہ میں جو چلا گیا تھا بنی اسرائیل فرعون سے جب نجات مل چکی تو حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر ملک شام فتح کریں لیکن شام کے ملک کے قریب آن کر بنی اسرائیل نے عمالقہ کی قوت جکو سنی تو عمالقہ کی لڑائی سے انکار کیا چالیس برس تک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک جنگل میں اس جرم کی سزا میں قید رکھا جس کا ذکر سورة مائدہ میں آچکا۔ پہلے حضرت ہارون (علیہ السلام) کا پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس جنگل میں انتقال ہوا جتنے بنی اسرائیل نے لڑائی سے انکار کیا تھا جب وہ اسی جنگل میں مر کھپ گئے اور ان کی اولاد لڑنے کے قابل ہوئی اور قید کی میعاد جو اللہ تعالیٰ نے ٹھہرائی تھی وہ گزر چکی تو حضرت یوشع کے ہاتھ پر ملک شام فتح ہوا اور تمام ملک شام بنی اسرائیل کے قبضہ میں مدت تک رہا جب بنی اسرائیل نے طرح طرح کی سرکشی شروع کی تو بخت نصر بابلی نے آن کر ان کو خوب مارا اور ملک شام ان سے چھین لیا اس کے بعد پھر دوبارہ ملک ان کے ہاتھ آگیا پھر بادشاہ ہان یونان نے جو بت پرست تھے ملک شام پر قبضہ کرلیا اسی زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور نبی ہوئے یہود نے شاہان یونان کو حضرت عیسیٰ کی طرف بہکایا کہ یہ شخص شاہی رعیت کا مذہب خراب کرتا ہے اس وقت کے یونان کے بادشاہ نے کچھ فوج حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پکڑنے اور شہید کرنے پر مامور کی اور یہود بھی ان حضرت عیسیٰ کے مخالف لوگوں کی مدد کے لئے ان کے ساتھ ہوئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا اور حواریوں میں سے ایک شخص پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شباہت ڈال دی ان مخالف لوگوں نے اس کو حضرت عیسیٰ تصور کر کے سولی پر چڑھا دیا اس کے بعد سو برس کے قریب تک حضرت عیسیٰ کا دین کسی قدر زمین پر قائم رہا مگر اس زمانہ کا دین اصلی دین عیسوی تھا نہ اس زمانہ کے عیسائی گرجاؤں میں تصویریں بناتے تھے نہ صلیب کی پرستش کرتے تھے نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے نہ تثلیث کے قائل تھے نہ مشرق کی طرف نماز پڑہتے تھے نہ شراب اور سور کو حلال گنتے تھے اب یونان کا ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا جس نے اپنے نام پر شہر قسطنطنیہ بسایا ہے عیسائی ہوا یہ شخص عیسائی ہونے سے پہلے بڑا دہریہ تھا مورخوں نے لکھا ہے کہ یہ شخص حیلہ کے طور پر دین عیسائی بگاڑنے کی نیت سے ظاہر میں عیسائی ہوا تھا غرض اس نے عیسائی ہوتے ہی آسمانی کتابوں کے عمل کا رواج کم کردیا عقلی قانون کی کتابیں بنوا کر ان کو رواج دیا آج کی تاریخ تک جو خرابیاں عیسائی مذہب میں نظر آتی ہیں وہ اسی کی ہیں دنیا میں اس تاریخ سے دین عیسائی کا زور تو ہوا مگر اس غیر اصلی دین کا اصلی دین پر جو چند پادری اس زمانہ میں تھے ان کو بستیاں چھوڑ کر جنگل میں رہنا پڑا۔ ملک شام و روم رفتہ رفتہ سب عیسائیوں کے قبضہ میں ہوگیا۔ چناچہ حضرت عمر ؓ کی خلافت تک بیت المقدس اور تمام ملک شام عیسائیوں کے قبضہ میں تھا۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں لڑائی ہو کر ملک شام مسلمانوں کے قبضہ میں آیا غرض ایک مدت تک ملک شام بنی اسرائیل کے قبضہ میں جو رہا اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ تورات میں نبی آخر الزمان کے اوصاف تفصیل سے موجود تھے۔ اس لئے آپ کے پیدا ہونے اور نبی ہونے سے پہلے یہود آپ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے تھے لیکن جب آنحضرت ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آئے اور یہود نے قرآن کی وہ آیتیں بھی سنیں جن میں تورات کی تصدیق موجود تھی تو یہ لوگ فقط اس دشمنی سے آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے کہ یہ نبی آخر الزمان بنی اسیلت میں کیوں پیدا ہوئے ہماری قوم بنی اسرائیل میں کیوں نہیں پیدا ہوئے اور اسی سبب سے ان میں پھوڑ پڑ کر عبد اللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی تو راہ راست پر آگئے اور باقی کے لوگ اپنے حال پر رہے اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے { فما اختلفوا حتی جآء ھم العلم } سے اس آیت میں فرمایا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بخت نصر اور یونانی بادشاہوں کے زمانہ کی شرارتوں کے علاوہ ان لوگوں نے یہ بھی ایک شرارت کی کہ جان بوجھ کر نبی آخر الزمان کی نبوت میں اختلاف ڈال دیا۔ طبرانی کبیر اور اوسط میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی صحیح حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص علم دین کی کوئی بات لوگوں سے چھپاوے گا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جاوے گی۔ 1 ؎ یہ حدیث آیت کے ٹکڑے { ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون } کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن تورات کے علماء نے جان بوجھ کر نبی آخر الزمان کے اوصاکو چھپایا ہے قیامت کے دن اور عذاب کے علاوہ ان کو یوں بھی رسوا کیا جاویگا کہ ان کے منہ میں آگ کی لگام دی جاوے گی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اہل کتاب میں سے جو شخص شریعت موسوی اور عیسوی کا پورا پیرو رہا اور اب شریعت محمدی کی پیروی بھی اس نے کی اس کو قیامت کے دن دوہرا اجر ملے گا۔ 2 ؎ آیت میں جس پھوٹ اور قیامت کے دن اس پھوٹ کے فیصلہ کا جو ذکر ہے اس حدیث سے اہل کتاب کے اس گروہ کے اس دن کے فیصلہ کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے جنہوں نے پچھلی اور حال دونوں شریعتوں کی پیروی اختیار کی ہے۔ عربی زبان میں کسی چیز کی جب تعریف کرنی منظور ہوتی ہے تو اس چیز کے ساتھ صدق کا لفظ لگا دیتے ہیں جیسے (قدم صدق مبوا صدق) اس سے مطلب یہ ہوتا ہے کہ صدق دل سے یہ چیز اچھی شمار کی جاتی ہے سرزمین ملک شام ایک شاداب جگہ ہے اس لئے اس کو صبوأ صدق اور وہاں کے عمدہ میووں کو ستھری چیز فرمایا۔
1 ؎ اترغیب ص 36 ج الترھیب من کتم العلم۔
2 ؎ صحیح مسلم ص 86 ج 1 باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ الخ۔
Ayahs 10:94–9794۔ 97۔ اوپر یہود کی پھوٹ کا حال تھا کہ اس پھوٹ میں بعضے ان میں سے راہ راست پر آگئے اور جان گئے کہ تورات میں جن نبی آخر الزمان کے اوصاف ہیں بلاشک یہ وہی نبی ہیں اس ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ ﷺ کہ اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو کہ آیا تمہارے اوصاف تفصیل سے تورات میں ہیں یا نہیں تو تم ان لوگوں سے دریافت کرلو جو اگلے رسولوں کی کتابیں دیکھے ہوئے ہیں کیوں کہ جو اہل کتاب تم پر ایمان لا چکے ہیں جیسے عبد اللہ بن سلام وہ اب کوئی بات چھپانے کے نہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے کہا کہ نہ میں شکی کرتا ہوں اور نہ مجھے پوچھنے کی ضرورت ہے 1 ؎ پھر اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے جو لوگ خدا کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں تم ان سے الگ تھلگ رہو یہ لوگ کبھی ایمان نہیں لائیں گے ان پر خدا کی بات پوری اتری جو خدا نے ابلیس سے کہی تھی کہ تجھ سے اور تیرے ساتھیوں سے دوزخ کو بھردوں گا یہ اس وقت زبان سے ایمان کا لفظ نکالیں گے جب عذاب آتے ہوئے دیکھیں گے مگر اس وقت کے ایمان سے ان کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں تین طرح کے لوگ تھے کچھ تو پکے مسلمان تھے اور کچھ پکے منکر اسلام اور کچھ لوگ شک کی حالت میں تھے اور عرب کے بت پرست لوگوں کو علماء یہود کے قول کا بڑا اعتبار تھا اس لئے اہل عرب میں جو بت پرست لوگ اسلام کی جانب سے شک کی حالت میں تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے راہ راست پر لانے کا یہ راستہ نکالا کہ بطور فرض اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر یہ فرمایا اے رسول اللہ ﷺ کہ اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو کہ آیا تمہارے اوصاف تفصیل سے تورات میں ہیں یا نہیں تو تم اہل کتاب میں ان لوگوں سے اس حال کو دریافت کرلو جو راہ راست پر آچکے ہیں مطلب اس فرضی خطاب سے یہی ہے کہ جس صاحب شک گروہ کا ذکر اوپر گزرا اگر وہ چاہیں تو اہل کتاب سے پوچھ کر اپنا شک رفع کرلیں پھر فرمایا کہ علم الٰہی میں جو لوگ گمراہ ٹھہر چکے ہیں وہ اس راستہ سے بھی بےبہرہ رہیں گے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ راستہ امت کے خاص گروہ کے لئے نکالا گیا ہے اور یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو ازلی گمراہ نہیں ہیں ان ہی لوگوں کو یہ راستہ مفید ہوگا الغرض یہ فرضی خطاب ایسا ہی ہے جیسا سورة الزمر میں { لئن اشرکت لیحبطن عملک (39: 65)} میں ہے کہ ظاہر میں خطاب تو نبی کو ہے اور حقیقت میں مشرک لوگوں کو شرک کی یہ مذمت جتلائی گئی ہے کہ اگر کوئی نبی بھی شرک کرے تو اس کے سب عمل اکارت ہوجاویں پھر کسی دوسرے کی کیا اصل ہے صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بعضے لوگوں کے دل میں شیطان یہ شک ڈالتا ہے کہ سب چیزیں تو اللہ نے پیدا کیں پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا۔ ایسے شک کے وقت آدمی کو یہ کہہ دینا چاہیے کہ میں اللہ کے خالق ہونے اور اس کے رسولوں کے سچے ہونے پر ایمان لایا 2 ؎ صحیح مسلم میں عثمان بن ابی العاص ؓ سے روایت ہے جس میں عثمان ؓ کہتے ہیں شیطان اکثر طرح طرح کے شک میری نماز میں ڈال دیا کرتا تھا میں نے اس کی شکایت جب آنحضرت ﷺ سے کی تو آپ نے فرمایا ایسے وقت پر تم اعوذ باللّٰہ پڑھا کرو اور بائیں طرف تین دفعہ تھوک دیا کرو عثمان ؓ کہتے ہیں جب سے میں نے اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت پر عمل کیا اس وقت سے میری وہ شکایت جاتی رہی 3 ؎ صحیح مسلم میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات ہے فرشتہ نیک خیال آدمی کے دل میں ڈالتا رہتا ہے اور شیطان طرح طرح کے شک و شبہ آدمی کے دل میں ڈالتا رہتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ حضرت کیا آپ کے ساتھ بھی شیطان تعینات ہے آپ نے فرمایا کہ ہاں تعینات تو ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی یہ مدد میرے حق میں ہے کہ میں اس کے بد خیال اور شک و شبہ سے محفوظ ہوں۔ 4 ؎ اوپر یہ جو گزرا کہ آیت میں شک کی نسبت آنحضرت ﷺ کی طرف جو کی گئی ہے وہ فرضی طور پر ہے۔ حقیقی طور پر نہیں ہے اس کی تائید ان صحیح حدیثوں سے ہوتی ہے کیوں کہ ان حدیثوں کے موافق ہر طرح کا اعتقادی و عملی شک شیطان آدمی کے دل میں ڈالتا ہے جس سے اللہ کے رسول محفوظ ہیں پھر آپ کے دل میں کسی طرح کے شک کے پیدا ہونے کا کوئی موقع دنیا میں باقی نہیں رہا۔ سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ 5 ؎ کہ جب شیطان ملعون ٹھہرا کر آسمان سے اتارا جانے لگا تو اس نے بنی آدم کے بہکانے کی قسم کھائی اس کے جواب میں فرمایا کہ جو کوئی تیرے بہکاوے میں آوے گا وہ بھی تیرے ساتھ دوزخ میں جاوے گا اسی کو یہاں فرمایا کہ علم الٰہی میں جو لوگ شیطان کے پیرو ٹھہر چکے ہیں وہ کسی نصیحت سے راہ راست پر نہ آویں گے اور آخر کو وعدہ الٰہی کے موافق وہ دوزخ میں شیطان کے ساتھی ٹھہریں گے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 432 ج 2۔
2 ؎ مشکوۃ ص 18 فی الوسوسۃ۔
3 ؎ مشکوۃ ص 19 باب فی الوسوسۃ۔
4 ؎ مشکوۃ ص 18 باب نے الوسوسۃ۔
5 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 236۔ 237۔
Ayah 10:9898۔ اوپر ذکر تھا کہ یہ نافرمان لوگ جب تک آنکھوں سے عذاب کو دیکھ نہ لیویں گے اس وقت تک ایمان نہ لاویں گے اس آیت میں فرمایا کہ عذاب آتے ہوئے دیکھ کر ایمان لانے سے کسی قوم کو کسی بستی میں عذاب سے رہائی نہیں ہوئی مگر یونس (علیہ السلام) کی قوم کو ان کا پورا قصہ سورة صافات میں آئے گا لیکن صحیح طور پر عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے جو قصہ مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایمان لانے کو کہا۔ انہوں نے انکار کیا اس لئے یونس (علیہ السلام) نے ان سے کہا فلاں روز تم پر عذاب آئے گا اور خود وہاں سے نکل کر چلے گئے ان کی قوم بغداد کی سرزمین شہر موصل کی ایک بستی نینوی میں رہتی تھی جب ان لوگوں نے دیکھا کہ کالے کالے ابروئیں کی طرح شہر کے چاروں طرح چلے آرہے ہیں تو یہ قوم تو بےبنی کے ہو ہی چکی تھی یونس (علیہ السلام) چلے ہی گئے تھے یہ سب اکٹھے ہو کر میدان میں جمع ہوگئے بچوں کو عورتوں سے جدا کردیا اور اسی طرح چارپاؤں کے بچوں سے چار پاؤں کو الگ الگ کردیا اور خدا سے عاجزی کرنے لگے اور خوب گڑ گڑائے جس سے اللہ تعالیٰ کو رحم آگیا اور اس نے عذاب کو پھیر دیا۔ 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اس قوم کے اور عذاب کے درمیان میں دو تہائی میل کا فاصلہ باقی رہ گیا تھا 2 ؎ بعضے مفسروں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ عش اورے کے دن جمعہ کے روز یہ عذاب آیا تھا عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ یونس (علیہ السلام) کے زمانے میں جھوٹے شخص کی سزا قتل ٹھہری ہوئی تھی اس لئے جب وقت مقررہ پر عذاب نہ آیا تو یونس (علیہ السلام) نے قتل کے اندیشہ سے بڑا سفر اختیار کیا اور ایک کشتی میں بیٹھے وہ کشتی نہ چلی حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان کشتی والوں سے کہا کہ اس کشتی میں اپنے آقا سے بھاگا ہوا ایک غلام ہے جب تک اس کو تم لوگ دریا میں نہ ڈالو گے اس وقت تک یہ کشتی نہیں چلے گی اس پر ان لوگوں نے قرع ڈالا اور تین دفعہ قرع حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر نکلا آخر یونس (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا اور ان کو ایک مچھلی نگل گئی باقی قصہ کی روایتیں سورة والصافات میں اصل قصہ کی تفسیر میں آویں گی سورة والصافات میں یہ بھی آوے گا کہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد اس قوم کی ہدایت کے لئے حضرت یونس (علیہ السلام) پھر مامور ہوئے سورة انبیاء میں آیا ہے کہ { لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظمین (21: 87} کی برکت سے یونس (علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ سے نجات پائی مسند امام احمد، ترمذی، نسائی، مستدرک حاکم میں سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا یونس (علیہ السلام) کی اس دعا میں اسم اعظم ہے 3 ؎ اس لئے اس کو پڑھ کر جو دعا مانگی جاوے گی وہ قبول ہوگی حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ 4 ؎
1 ؎ نیز دیکھئے تفسیر الدرالمنثور ص 317۔ 317 ج 3۔ و فتح البان ص 397 ج 2۔
2 ؎ تفسیر فتح البیان ص 397 ج 2۔
3 ؎ تفسری ابن کثیر 192۔ 193 ج 3 والترغیب ص 300 ج 1۔
4 ؎ الترغیب ص 300 ج 1 ماجاء فی اسم اللہ الاعظم۔
Ayahs 10:99–10099۔ 100۔ حضرت ﷺ کو اس بات کی حرص تھی کہ سارے لوگ مسلمان ہوجاویں اس پر اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ کیا تم زبردستی لوگوں کو مومن بنانا چاہتے ہو تمہیں یہ نہیں معلوم کہ بغیر حکم خدا کے کوئی ایمان نہیں لاسکتا یہ بات غیر ممکن ہے کہ سب کے سب مومن ہوجائیں یہ خدا کی مشیت کے خلاف ہے اگر خدا چاہتا تو سارے جہاں کو مومن بنا دیتا مگر اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے جن لوگوں میں عقبیٰ کی بہبودی کے سمجھنے کا مادہ نہیں ہے خدا کی دلیلوں میں حجت نکالتے ہیں وہ کیوں کر ایمان لاسکتے ہیں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ نے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ یہ حدیث ان دونوں آیتوں کی گویا تفسیر ہے کیوں کہ آیتوں اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ اللہ اگر چاہتا تو مکہ کے یہ سارے مشرک بت پرست راہ راست پر آجاتے لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ اس لئے منظور نہیں ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم الٰہی کے موافق جہاں اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے وہاں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ان مشرکوں میں سے کچھ لوگ قرآن کی نصیحت پر نہ دھیان کریں گے نہ راہ راست پر آویں گے بلکہ شرک کی حالت میں دنیا سے اٹھ جاویں گے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ٹھہرے گا اس واسطے کسی کو مجبور کر کے راہ راست پر لانے کا اللہ کا حکم نہیں ہے اور بغیر اللہ کے حکم کے نہ کوئی مجبور ہوسکتا ہے نہ راہ راست پر آسکتا ہے جس کے معنے اکثر مفسروں نے عذاب کے لئے ہیں اور بعضوں نے شرک کی گندگی کے ترجمہ میں پچھلا قول لیا گیا ہے۔
Ayahs 10:101–103101۔ 103۔ اوپر منکرین قیامت کی کم عقلی کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان کو عقل سے کام لینے پر آمادہ کیا اور فرمایا کے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ زمین و آسمان میں کیا کچھ نہیں ہے اگر تم لوگ غور اور فکر کرو تو بات بات سے سمجھ لو کہ خدا کی خدائی میں تمہارے بتوں کو کچھ دخل نہیں ہے۔ چاند سورج دن کا ہونا رات کا ہونا اندھیری راتوں میں ستاروں کا نکلنا راتوں کو سفر کرنے والوں کو کیسا مفید ہے کہ وہ ستاروں کو دیکھ کر سمت دریافت کرلیا کرتے ہیں پھر بارش کا ہونا کھیتوں کا سرسبز کرنا کیسا فائدہ مند ہے غرض کہ ہوشیار آدمی درختوں کے پتہ تک سے خدا کی وحدانیت کا پتہ لگا لیتا ہے پھر فرمایا کہ یہ قدرت کی سب نشانیاں اسی کو بکار آمد ہیں جو ایمان بھی لاوے اور جو ایمان لانے والے نہیں ہیں یہ نشانیاں انہیں کیا فائدہ پہنچائیں گی کیوں کہ ان لوگوں کو بھی اسی روز بد کا انتظار ہے جیسے اگلے رسولوں کی قوم کو تھا کہ اپنے رسول کو جھٹلاتے رہے اور آخر ایک روز ان پر عذاب آیا اور وہ اس سے بچ نہ سکے اگر یہ بھی اسی کے منتظر ہیں تو کہہ دو کہ کان اور آنکھیں اسی کی راہ اور آواز پر رکھو ہم بھی تمہارے ساتھ بیٹھے انتظار کر رہے ہیں اور یہ یاد رکھو کہ خدا کا عذاب جب آتا ہے تو وہ اپنے رسول اور مومنوں کو بچا لیتا ہے اور رسول کے جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیتا ہے خدا نے اپنے ذمہ یہ بات ضروری ٹھہرائی ہے کہ وہ مومنوں کو نجات دے گا اور پناہ میں رکھے گا اور نافرمان لوگوں کو ایک دن عذاب میں گرفتار کرے گا۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی یہ روایت سورة انفال میں گزر چکی ہے کہ ابو جہل وغیرہ نے اپنی سرداری کے غرور میں یہ دعا مانگی تھی۔ کہ یا اللہ اگر یہ قرآن اور دین اسلام سچ ہو اور ہم اس کو نہ مانتے ہوں تو ہم پر پتھروں کا مینہ برسے یا اور کوئی عذاب ہم پر آجاوے۔ 1 ؎ اسی طرح صحیح بخاری میں انس بن مالک ؓ کی حدیث ہے کہ بدر کی لڑائی میں جب ابو جہل سخت زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا تھا تو عبد اللہ بن مسعود ؓ نے غصہ سے اس کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ 2 ؎ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ عذاب کے آنے سے پہلے جب مشرکین مکہ کو عذاب سے ڈرایا جاتا تھا تو سرکشی کر کے عذاب کے آنے کی خود دعا مانگتے تھے اور جب ان مکی آیتوں کے وعدہ کے موافق ہجرت کے بعد عذاب آگیا تو ان کے بڑے بڑے سرداروں کی ساری عزت اور سرکشی خاک میں مل گئی ابو جہل جیسے سرکش سردار کی ڈاڑھی پکڑی جاوے اور کوئی حمایت کو نہ کھڑا ہو اس سے زیادہ عزت اور سرکشی اور کیا خاک میں مل سکتی ہے۔ ان حدیثوں سے یہ تفسیر بھی ہوسکتی ہے کہ جس طرح آیتوں میں ذکر تھا آخر وہی ہوا کہ مکہ کے سرکش ازلی گمراہ لوگ اپنی سرکشی کے سبب سے عقل کو کچھ کام میں نہ لاسکے نہ قدرت الٰہی کی کسی نشانی سے کچھ فائدہ اٹھا سکے اور آیتوں کے موافق ان کا جو کچھ انجام ہوا وہ انہوں نے اور سب نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔
1 ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص 372۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 565 ج، باب قتل ابی جہل
Ayahs 10:104–105104۔ 105۔ ان آیتوں میں یہ حکم ہے کہ اے رسول تم اپنے دین اور ان مشرکوں کے دین میں فرق بتلا دو کہ جو دین میں لے کر آیا ہوں اگر تم اس کو صحیح نہیں جانتے اور اس میں شک کرتے ہو تو سن لو کہ تم خدا کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو ہم ان کی ہرگز عبادت نہیں کریں گے ہم تو اس خدا کی عبادت کرتے ہیں جو بالکل اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی کے قبضہ میں تمہاری جان ہے اس نے پیدا کیا ہے اور وہی تمہیں موت کا بھی مزا چکھائے گا اور پھر یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہاری جان پر جس کا پورا پورا اختیار ہے وہ آسانی سے تم پر عذاب کرسکتا ہے اور یہ تمہارے معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو یہ کسی کو کوئی نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے اور مجھے اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں ہمیشہ خالص اللہ کی عبادت کروں اور مشرکوں کے زمرہ سے الگ رہوں صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب مشرکین مکہ نے بہت سرکشی اختیار کی تو آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کے حق میں یہ بددعا کی کہ ان پر ایسا قحط پڑے جیسا قحط یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں پڑا تھا۔ 1 ؎ اللہ کے رسول ﷺ کی بددعا سے مکہ میں اس طرح کا قحط پڑا کہ لوگ ہڈیاں مردار جانوروں کی کھال اور مردار جانور کھا کر زندگی بسر کرتے تھے اس قحط کے زمانہ میں ان مشرکوں نے اپنے بتوں سے مینہ کے برسنے کی بہت کچھ التجا کی مگر کچھ نہ ہوا آخر ابو سفیان نے اللہ کے رسول ﷺ سے التجا کی اور آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے مینہ برسایا اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے بڑے بڑے معجزے دیکھنے کے بعد اسلام کے حق ہونے میں مشرکین مکہ کی ایک شک کی حالت تھی اس پر فرمایا اے رسول اللہ ﷺ کہ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ مثلاً قحط کے وقت کے تجربہ کے بعد تم لوگوں کو بت پرستی کے حق ہونے میں یہ شک کرنا چاہیے کہ بتوں سے جب ایک قحط کی تکلیف بھی رفع نہ ہوسکی تو پھر وہ اور کیا کرسکتے ہیں رہا اسلام اس کا حال تو تم کو معلوم ہوچکا کہ اس قحط کے وقت مذہب اسلام کو رسول نے تمہیں کیا فائدہ پہنچایا اس فہمائش کے بعد یہ یہ لوگ نہ مانیں تو اپنی توحید کا اور شرک سے بیزاری کا حال ان کو بتلا دو تاکہ قحط کے وقت کی مدد کی طرح آئندہ ان کو تم سے پھر کسی مدد کی توقع نہ رہے حنیف کے معنے شرک سے بیزار۔
1 ؎ صحیح بخ اری ص 255 ج 2 باب لیس ملک من الامر شیئا عن ابی ہریرۃ موصولاو ص 946 ج 2 باب الدعاء علے المشرکین ابن مسعود قطیعاً ۔
Ayah 10:106106۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو خطاب کر کے یہ فرمایا ہے کہ جس کے ہاتھ میں کچھ نفع و نقصان نہ ہو اس کو مدد کی غرض سے پکارنا اور اس کی پرستش کرنا بےفائدہ اور بڑے ظلم اور ستم کی بات ہے کیوں کہ جس اللہ نے پیدا کیا اور جس اللہ کی قدرت میں بندہ کا نیک و بد نفع و نقصان سب کچھ ہے اس پروردگار کو چھوڑ کر بےنفع و نقصان کی چیزوں کو اپنا معبود بنانا اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی ظلم اور ستم نہیں ہے۔ اس آیت کے مطلب میں بظاہر یہ خطاب تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے کیا ہے اور دراصل مکہ کے بت پرست لوگوں کو یہ مطلب سمجھایا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے معبود حقیقی کو چھوڑ کر جو لوگ بتوں کی پرستش کرتے ہیں وہ لوگ بڑے ظالم اور ستم گار ہیں آگے کی آیت میں اس مطلب کے ثابت کرنے کی دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف کی غیب کی تکلیف اور راحت کا بدلنا جب کہ دنیا میں ہر ایک کے اختیار سے باہر ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معبود بننے کا حق نہیں ہے اور جو لوگ بغیر کسی حق اور استحقاق کے سوا اللہ تعالیٰ کے اور چیزوں کو معبود قرار دیتے ہیں وہ بڑے ظالم اور ستمگار ہیں مسند امام احمد اور ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث گویا ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عبد اللہ بن عباس ؓ کو نصیحت کرتے وقت یہ فرمایا کہ ہر طرح کی مدد کی خواہش تجھ کو اللہ تعالیٰ سے ہی کرنی چاہیے کیوں کہ تمام دنیا تجھ کو ضرر پہنچانا چاہے یا نفع جب تک اللہ کی مرضی نہ ہو نہ کوئی تجھ کو نفع پہنچا سکتا ہے نہ کچھ ضرر پہونچا سکتا ہے۔ 1 ؎ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
1 ؎ مشکوۃ ص 453 باب التوکل والصبر۔
Ayah 10:107107۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر بت پرستوں کو یہ سمجھایا ہے کہ اگر تم پر کوئی آفت آجاوے تو خدا کے سوا کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا اور اگر خدا تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو کسی کا مقدور نہیں کہ اسے روک سکے خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے فضل کرتا ہے وہ بڑا غفور الرحیم ہے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث جو اوپر گزر چکی ہے 1 ؎ اس کو اس آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے قحط کے وقت جب تک اللہ کی مدد شامل حال نہ ہوئی ان بت پرستوں کے بتوں سے کچھ نہ ہوگا۔
1 ؎ یعنی پچھلے صفحہ 71 پر۔
Ayahs 10:108–109108۔ 109۔ آنحضرت ﷺ کو اس آیت میں حکم ہوا کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ جو دین اور کتاب میں لے کر آیا ہوں وہ بالکل حق ہے اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے جو اس سے ہدایت پائے گا وہ اپنی ہی جان کے لئے پائے گا اور اپنا آپ فائدہ اٹھائے گا۔ دوسروں کا اس میں کچھ حصہ نہیں اور جو اس کو نہ مانے گا اور گمراہ کا گمراہ ہی رہے گا اس کا وبال اسی کی گردن پر ہوگا اوروں کو اس سے کوئی علاقہ نہیں اور میں تم لوگوں کا کوئی وکیل و مختار نہیں ہوں کہ سب ہی کو ایماندار بنادوں مجھے تو خدا نے راستہ بتانے کو بھیجا ہے جو خدا کا پیغام ہے وہ تمہیں پہنچا دیتا ہوں اب آگے تم جانو اور خدا جانے۔ اور پھر خاص حضرت کو خدا نے یہ حکم کیا کہ آپ تو وحی کے تابعدار بنے رہیں اور جب تک خدا ان لوگوں کا کوئی فیصلہ نہ کرے آپ صبر کئے رہیں وہ بڑے انصاف کے ساتھ انصاف کرنے والا حاکم ہے۔ امام سیوطی کا قول ہے کہ حضرت صبر کیے رہے پھر خدا کا حکم ہوا کہ ان مشرکوں سے جنگ کرو اگر ایمان لائیں تو خیر ورنہ قتل کر ڈالو۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ادنیٰ اہل جنت کو اس قدر سامان دیا جاوے گا جو دنیا کی پانچ بادشاہتوں کے برابر ہوگا اور اعلیٰ درجے کے اہل جنت کے سامان کا حال اللہ تعالیٰ کو یہ خوب معلوم ہے نہ کسی نے وہ آنکھوں سے دیکھا نہ کانوں سے سنا نہ اس کا تصور کسی کے دل میں گزر سکتا ہے۔ 1 ؎ یہ حدیث ( فمن اھتدی فانما یھتدی لنفسہ) کی گویا تفسیر ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ابو جہل اور اس کے چند ساتھیوں نے آنحضرت ﷺ کو سجدہ کی حالت میں دیکھ کر آپ کی پیٹھ پر نجاست کی بھری ہوئی اوجھڑی ڈال دی۔ 2 ؎ عبد اللہ بن مسعود ؓ اس روایت میں یہ بھی کہتے ہیں کہ ان اوجھڑی ڈالنے والوں میں سے اکثر لوگ بدر کی لڑائی میں مشرک مارے گئے اور میں نے ان کی لاشوں کو دیکھا یہ حدیث { واصبر حتی یحکم اللّٰہ وھو خیر الحاکمین } کی گویا تفیر ہے۔ معتبر سند سے ترمذی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ حضرت آپ تو جلدی بوڑھے ہوگئے آپ نے فرمایا مجھ کو سورة ہود اور سورة واقعہ اور سورة والمرسلات اور سورة عم یتسألون اور سورة اذا لشمس کورت نے بوڑھا کردیا۔ 3 ؎ حاصل یہ ہے کہ ان سورتوں میں حالات قیامت کا ذکر ہے ان حالات کے سننے سے آپ کے دل پر ایسا اثر خوف کا ہوا جس خوف اور اندیشہ کے اثر نے آپ کو ضعیف کردیا کیوں کہ آدمی ہر وقت کے اندیشہ سے جلدی ضعیف ہوجاتا ہے امت کے ان غافلوں کو اس حدیث کے مضمون پر ذرا غور کرنا چاہیے جو قیامت کے حساب و کتاب سے بالکل غافل ہیں اور سوچنا چاہیے کہ قیامت ایسی ایک اندیشہ کی چیز ہے جس اندیشہ نے باوجود نبی ہونے کے نبی وقت کو بوڑھا کردیا اسی مضمون کی ایک حدیث صحیح سند سے عقبہ بن عامر ؓ کی روایت سے تفسیر ابن مردویہ اور طبرانی میں ہے 4 ؎ یہ سورة مکی ہے اگرچہ بعضے سلف نے اس میں کچھ آیتیں مدنی قرار دی ہیں لیکن اس تفسیر کے مقدمہ میں یہ گزر چکا ہے کہ جس سورت کی شروع کی آیتیں مکی ہوں وہ ساری سورت مکی کہلاتی ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 435 ج 2۔
2 ؎ مجمع الزوائد ص 37 ج 7 تفسیر سورة ھود۔
3 ؎ الترغیب ص 326 ج 2 فصلی فیما لادنی اھل اجنۃ۔
4 ؎ مشکوۃ ص 502 باب صفۃ النار واھلہا۔