9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 9:1–2

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری ہے)

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس (رح) کے قول کے موافق یہ سورت مدنی ہے براء بن عازب ؓ کی روایت سے بخاری کہتے ہیں یہ سب سے پھلی سورت ہے جو پوری اتری ہے سورة برات کے نام کے علاوہ اس کو سورة توبہ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں مومنوں کی توبہ کا ذکر ہے اس سورت کے اور بھی نام ہیں جو بڑی تفسیر میں ہیں اس سورت کی ابتدا میں جو بسم اللہ نہیں ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے مالک بن انس ؓ کہتے ہیں (رح) کہ یہ سورة توبہ سورة بقر کے برابر تھی جب اول سورت ساقط ہوگئی تو اس کے ساتھ بسم اللہ بھی ساقط ہوگئی اور بعضے یہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ غنی کی خلافت کے وقت میں جب قرآن شریف لکھے گئے تو صحابہ میں اختلاف ہوا بعضے سورة انفال اور سورة توبہ کو ایک سورت شمار کرنے لگے اور کوئی کہتا تھا کہ دو سورتیں علیحدہ علیحدہ ہیں اس لئے دونوں فریق کی رضامندی کے لئے سورة توبہ کی ابتدا میں بسم اللہ کی جگہ چھوڑ دی گئی اور جو لوگ ان دونوں سورتوں کو ایک سورت شمار کرتے ہیں ان کا بیان یہ ہے کہ سورة انفال اور سورة توبہ دونوں میں جہاد کا ذکر ہے اور دونوں مشرکین کی لڑائی کے باب میں نازل ہوئی ہیں اس واسطے گویا یہ ایک ہیں۔ کل آیتیں دونوں سورتوں کی ملاکر دو سو پانچ ہیں اور یہ دونوں سورتیں قرآن مجید کی لمبی سورتوں میں ساتویں سورت ہے مستدرک حاکم میں حضرت عثمان ؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ دونوں ایک سورت ہیں یا دو اور آپ کی وفات ہوگئی اس لئے میں نے ان دونوں کے درمیان میں بسم اللہ نہیں لکھی ترمذی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اس کو حسن کہا ہے بخاری میں براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے اس سورة میں بسم اللہ نہیں لکھی اور آنحضرت نے بھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ سورة علیحدہ ہے یا انفال کا ٹکڑا ہے اس سورة کی ابتدا جب ہوئی جب غزوہ تبوک سے واپس آئے اور حج کا زمانہ تھا جب آنحضرت ﷺ کو یہ خبر ملی کہ مشرکین اپنی عادت کے موافق ننگے بدن ہو کر طواف کریں گے تو آنحضرت ﷺ کو یہ بات پسند نہ آئی اور آپ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیر حج مقرر کر کے روانہ فرمایا کہ مشرکوں کو جاکر روکیں اور حج کے مناسک شرعی پر انہیں قائم کریں اور مشرکوں کو یہ بات بھی جتلادیں کہ آئندہ پھر وہ لوگ حج کرنے نہ پائیں گے اور لوگوں میں اس طرح سے پکار دیں براءۃ من اللہ ورسولہ الخ حضرت ابوبکر ؓ کے چلے جانے کے بعد آپ نے حضرت علی ؓ کو بھیجا کہ یہ حکم جاکر ان لوگوں کو پہنچا دو اور اسی بنا پر بعضے سلف کا قول ہے کہ جب عرب اور دوسرے کسی قوم کے درمیان میں عہد و پیمان ہوتا تھا اور پھر وہ اسے توڑنے کے لئے خط لکھتے تھے تو بسم اللہ نہیں لکھتے تھے یہ ان کی عادت تھی اس وسطے جب یہ سورت ان کے درمیان کے مقررہ عہد کے توڑنے کے لئے اتری اور حضرت نے علی ؓ کو مشرکین کے پاس اس سورت کو پڑھ کر سنانے کو کہا تو موافق اس عادت کے بسم اللہ نہیں لکھی کیونکہ بسم اللہ امان ہے اور سورت برات میں حکم قتال کا ہے :۔ 1۔ 2۔ تفسیر ابن حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق تفسیر آیت کی یہ ہے کہ اللہ پاک نے ان لوگوں کے ساتھ چار مہینے کی مدت مقرر کردی تھی جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عہد کیا تھا مثلا جیسے قبیلہ خزاعہ ومدلج اور جن لوگوں سے کچھ عہد نہیں تھا ان کے واسطے پچاس رات کی حد بندی اور اللہ کے رسول کو یہ حکم دیا کہ جن کفار سے تمہارا قول وقرار نہیں ہے ان سے دسویں ذی الحجہ سے لے کر آخر محرم تک نہ لڑو جب محرم کا مہینہ ختم ہوجاوے تو ان سے لڑو پھر اگر وہ مسلمان ہوجاویں تو بہتر ہے ورنہ ان کو قتل کرو اور جن کفار سے عہد و پیمان ہوچکا تھا ان کے واسطے یہ حکم دیا کہ چار مہینے دسویں ذی الحجہ سے ربیع الآخر کی دسویں تاریخ تک نہ لڑو اور جب یہ مدت ختم ہوجاوے تو پھر ان سے جہاد کرو یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجائیں سورة بقر میں گذر چکا ہے کہ جمہور کے قول کے موافق حج 6؁ ہجری میں فرض ہوا ہے لیکن فتح مکہ سے پہلے تو آنحضرت ﷺ نے اس سبب سے حج نہیں کیا کہ کعبہ اور صفامروہ میں بت رکھے ہوئے تھے 8 ھ؁ میں مکہ کی فتح ہوئی اور حضرت ﷺ نے 9؁ ہجری میں حضرت ابوبکر ؓ کو بھیجا اور ان کے پیچھے حضرت علی ؓ کو دس آیتیں سورة براءت کی دے کر روانہ فرمایا کہ مشرکوں کو جاکر یہ آیتیں سنادو اور یہ بھی جتا دو کہ 10؁ ہجری سے کوئی مشرک یا ننگا شخص طواف نہ کرنے پاویگا پھر اس سال آپ نے حج کیا جس کو حجتہ الوداع کہتے ہیں اسی حکم میں یہ بھی تھا کہ دسویں ذی الحجہ سے دسویں ربیع الآخر تک تمہیں مہلت دی گئی ہے پھر کوئی عذر تمہارا نہیں سنا جایگا اگر ایمان لائے تو خیر ورنہ آمادہ جنگ ہوجاؤ یہ حکم حضرت علی ؓ نے سب کو سنا دیا اور اعلان جنگ دے دیا یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور اس تقرر مدت سے غرض ہی تھی کہ یہ لوگ خوب اچھی طرح سے جان لیں کہ اس مدت کے بعد یا لڑنا ہے یا مسلمان ہونا ہے پھر اس بات کو سوچ سمجھ کر شاید وہ مسلمان ہوجائیں معتبر سند سے صحیح ابن حبان میں ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ جب حضرت ابوبکرصدیق ؓ سفر حج سے مدینہ کو واپس آئے تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ کیا حضرت مجھ سے اس کام میں کچھ کوتاہی ہونے کا اندیشہ تھا جو اپنے اس کام کے لئے حضرت ؓ علی کو میرے پیچھے روانہ فرمایا۔ اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہارے روانہ کرنے کے بعد جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پہنچایا کہ اس صلح کے عہد کو توڑنے کے پیغام کو یا تو میں خود مکہ جاکر مشرکین کو پہنچادوں اور اگر میں خود نہ جاؤں تو کوئی میرا خاص رشتہ دار اس کام کر کرے اس لئے میں نے تمہارے پیچھے حضرت ؓ علی کو روانہ کیا اس میں اور کوئی بات اندیشہ کی نہیں ہے اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اور پھر ان کے پیچھے حضرت ؓ علی کو اس سفر میں کیوں اور کس واسطے بھیجا۔ صلح حدیبیہ کے وقت مشرکین مکہ سے جس طرح صلح ہوئی تھی اس طرح اطراف مکہ میں جو قبیلے رہتے تھے ان سے بھی صلح ہوئی تھی اب فتح کے سبب سے مشرکین مکہ کی صلح حدیبیہ تو خود ٹوٹ گئی اور باقی قبیلوں کی صلح سورت برائۃ کی دس آیتیں سنا کر توڑ دی گئی دس آیتوں کی قید مسند امام احمد کی حضرت علی ؓ کی روایت میں ہے اس حدیث کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سیحمی کو اگرچہ بعضے علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن باقی علماء نے محمد بن جابر کو ثقہ قرار دیا ہے۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول ﷺ بھی (ان سے دستبردار ہے) پس اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر ﷺ ! ) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو ۔

3۔ اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ چار مہینے تک کی مدت دے کر کفار سے یہ کہہ دو کہ ایسے دن یہ حکم دیا جارہا ہے کہ حج اکبر کا دن ہے یہ بھی فرمایا کہ چار مہینے کے بعد خدا اور اس کا رسول صلح سے بری ہے تم اپنا سورچ سمجھ لو اگر تم کفر سے تائب ہوگئے تو تمہارے واسطے بہتر ہے اور اگر نہیں تو یاد رکھو تم خدا کو نہیں تھکا سکتے ہو جہاں جاوگے پکڑے جاؤ گے کہیں بھاگ نہیں سکتے دنیا میں قتل و غارت کے سوا آخرت میں بھی تم پر درد ناک عذاب ہوگا حضرت ﷺ سے اور کفار مکہ اور چند فرقہ کے لوگوں سے 6؁ ہجری میں صلح ہوئی تھی جو حدیبیہ کی صلح مشہور ہے اس کا ذکرانا فتحنا میں ہے پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو یہ حکم ہوا کہ کسی مشرک اور کافر سے صلح نہ رکھو اور نہ عہدو پیمان کرو اور عرفات سے پھر کر قربانی کے مفام میں جب یہ سب جمع ہوں تو یہ حکم قربانی والے دن پکار دو اور صلح کے جواب میں چار مہینے کی مہلت اس لئے دے دو کہ اس عرصہ میں وہ لوگ ایمان قبول کریں تو بہتر ہے اور نہیں تو اپنا اپنا گھر چھوڑ کر چلے جائیں اور اگر یہ بھی نہ کریں تو لڑائی کا انتظام کریں اور جنگ کے واسطے آمادہ ہوجائیں پھر گھڑی بھر کی فرصت نہ دو بعض مفسروں نے بیوم الحج الاکبر کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ حج اکبر کے دن سے مراد عرفہ کا دن ہے مگر اکثر مفسرین کا یہ قول ہے کہ اس سے دسویں ذی الحجہ مقصود ہے جس رواز منی میں آن کر سب لوگ قربانی کرتے ہیں بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث ہے کہ اس حج میں جس میں یہ حکم سنایا گیا مجھے بھی ابوبکر صدیق ؓ نے بھیجا تھا وہ قربانی کا دن تھا ہم لوگ منی میں یوں پکارتے پھرتے تھے کہ اس سال کے بعد پھر کوئی مشرک حج کرنے نہ پائے گا اور نہ ننگے بدن کسی مشرک کو طواف کرنا ملے گا اس حدیث سے پچھلے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔ مجاہد کا قول یہ ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ صدیق اور حضرت علی ؓ کے سبب سے اس حج میں یہ ایک بڑی بات ہوئی کہ عرفات سے منیٰ میں واپس آنے کے بعد دسویں ذی الحجہ سے آئندہ کے لئے مشرکوں کا طواف بند اور حرم مشرکوں کی ناپاکی سے پاک صاف ہوگیا اسی واسطے اس حج کو بڑا حج فرمایا طبرانی میں معتبر سند سے سمرۃ بن جندب ؓ کی اس مضمون کی ایک حدیث ہے جس سے مجاہد کے قول کی تائید ہوتی ہے اس حج میں دوسری یہ بات بھی ہوئی جس کا ذکر اوسط طبرانی میں عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ کی صحیح روایت سے ہے کہ مشرکین مکہ اپنی ضرورتوں سے سال کے مہینوں میں کچھ ردو بدل جو کرلیا کرتے تھے وہ ردو بدل اس سال میں نہیں ہوا بلکہ سال کا حج عین وقت پر ادا کیا گیا سال کے مہینوں کی ردوبدل کی تفصیل اس سورة میں آگے آوے گی۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور نہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

4۔ اوپر کی آیتوں میں صلح کا عہد توڑنے کا حکم دے کر اور چار مہینے کی مہلت کا ارشاد فرما کر اس آیت میں استثناء کے طور پر یہ فرمایا کہ جنہوں نے تم سے صلح کا عہد کیا اور صلح کے عہد کی کسی شرط کو نہیں توڑا ان کے عہد کو پورا کرو اگرچہ وہ چار مہینے سے زیادہ تک کا عہد ہو کیونکہ اللہ پاک کو احتیاط بہت پسند ہے یہ لوگ اپنی زبان کا پاس رکھتے ہیں اور بےموقعہ عہد و پیمان نہیں توڑتے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ بعضے قبیلے مثلا خزاعہ وغیرہ ایسے بھی تھے جو حدیبیہ کو صلح کے عہد پر قائم رہے ان کو مسثنیٰ فرما کر یہ فرمایا کہ اوپر کا حکم فقط ان لوگوں کے حق میں ہے جن سے یا تو کچھ عہد نہیں ہے یا عہد تو ہے لیکن وہ عہد کے پابند نہیں رہے جیسے مثلا بنی بکر کہ انہوں نے عہد توڑا یا جیسے مشرکین مکہ کہ انہوں نے عہد کے برخلاف بنی بکر کو مدد دی غرض جو لوگ عہد کے پابند ہیں ان کی صلح کے لئے چار مہینے کی مدت نہیں ہے بلکہ ان کے عہد کی پوری مدت ختم کی جاوے حدیبیہ کی صلح دس برس تک کی تھی اس صلح میں قبیلہ خزاعہ مسلمانوں کی امان میں تھا اور قبیلہ بنی بکر مشرکین مکہ کی امان میں اس صلح کے دو برس کے بعد قبیلہ بنی بکر نے یہ بدعہدی کی کہ قبیلہ خزاعہ سے لڑائی شروع کردی اور مشرکین مکہ نے یہ بدعہدی کی کہ قبیلہ بنی بکر کو اندرونی مدد دی انہی بدعہدیوں کی بنا پر آنحضرت ﷺ نے مکہ کی چڑھائی کا قصد کیا اور مکہ فتح ہوگیا اب بدعہدی کی سزا میں اوپر کی آیتوں کے موافق بنی بکر کو فقط چار مہینے کی مدت ملے گی اور قبیلہ خزاعہ کو اس استثناء کے حکم سے صلح حدیبیہ کی باقی کی مدت مل سکتی ہے ابن ابی حاتم نے اپنی تفسر میں مجاہد کے قول کے موافق آیت کی بھی یہی تفسیر لکھی ہے جو بیان کی گئی۔ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ سے اور صحیح مسلم میں ابوسعید خدری ؓ سے جو روایتیں ہیں اس میں بدعہدی کی بڑی مذمت ہے۔ اس حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ شریعت الٰہی میں بدعہدی بڑی مذمت کے لائق ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیت میں عہد پر قائم رہنے والے مشرکوں کے ساتھ بھی عہد بنانے کا حکم مسلمانوں کو فرمایا ہے۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو اور پکڑ لو اور گھیر لو اور ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

5۔ اس آیت میں اللہ پاک نے حکم دیا کہ جب دسویں ذی الحجہ سے دسویں ربیع الآخر تک چار مہینے گذر جاویں تو خوب دل کھول کر مشرکوں سے لڑو اور جہاں کہیں پاؤ ان کو قتل کرو ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانون کو اللہ پاک نے ہر جگہ قتل کا حکم اس آیت میں دیا ہے مگر بعض جگہ ان کو قتل کرنا منع ہے جیسا کہ اللہ پاک سورة بقر میں فرماتا ہے ولا تقاتلوھم عند المسجد الحرام (2۔ 191) اس آیت کے موافق بیت الحرام میں خونیریزی منع ہے اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت اللہ بن عباس ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا حرم کی حد کے اندر قیامت تک لڑائی حرام ہے فتح مکہ کے دن فقط تھوڑی دیر کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حرم کے اندر لڑائی کی اجازت دی تھی پھر فرمایا کہ ہر جگہ ان کی تاک میں رہو اور ان کو گرفتار کرو اور ان کا محاصرہ کر لو کہ نکلنے نہ پائیں پھر گرفتار کرنے پر خواہ ان کو مار دو یا قید رکھو تمہیں اختیار ہے اور اگر یہ مسلمان ہوجائیں اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ دیں تو ان کو چھوڑ دو کیونکہ حکم شرع ظاہر پر ہے دل کی بات خدا جانتا ہے اسی آیت سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہ بات نکالی ہے کہ جو شخص زکوٰۃ نہ دے اس سے جنگ کرنا چاہئے ابن عمر ؓ سے صحیح بخاری و صحیح مسلم میں روایت ہے کہ ہمیں حکم ہوا ہے کہ ہم لوگوں سے اس وقت تک لڑیں جب تک یہ لوگ کلمہ طیبہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اِللّٰہ زبان سے نہ کہیں اور نماز نہ پڑھیں اور زکوۃ نہ دیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جس سے یہ آیت اتری کسی مشرک اور کافر کے لئے کوئی عہد و پیمان نہ رہا جو کچھ قول وقرار پہلے ان سے ہوا تھا وہ سب ٹوٹ گیا اور پہلی کل شرطیں جاتی رہیں اور اللہ نے حضرت ﷺ کو حکم دیا کہ جن لوگوں سے پہلے قول وقرار ہوچکا ہے اگر وہ لوگ ایمان نہ لاویں تو ان پر تلواریں نکالو اگر اسلام قبول کریں تو بہتر ورنہ ان کو قتل کرو صحیح بخاری وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان میں ہے کہ مکہ کے گردہ نواح میں جو مشرک قبیلے رہتے تھے انہوں نے یہ بات ٹھہرار کھی تھی کہ اگر آنحضرت ﷺ اپنی قوم قریش پر غالب آجاویں اور مکہ فتح ہوجاوے تو پھر دائرہ اسلام میں داخل ہوجانا چاہئے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اسلام کی ترغیب دلائی تاکہ انہیں یاد آجاوے کہہ جو بات انہوں نے ٹھہرا رکھی تھی وہ پوری ہوگئی مکہ فتح ہوگیا مکہ کے سب بت ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوگئے اب دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بغیر کوئی صورت بہبودی کی نہیں ہے۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچا دو ۔ اس لئے کہ یہ بیخبر لوگ ہیں۔

6۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ ارشاد فرمایا کہ جن مشرکوں سے تمہیں لڑنیکا حکم دیا ہے اگر ان میں کا کوئی شخص امان چاہے تو اس کو امان دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لیوے اور دین کی حجت اس پر تمام ہوجائے پھر اس کو اس کے گھر تک امن امان سے پہنچا دو جب وہ امن کی جگہ پہنچ جائے تو تمہیں اختیار ہے اس سے لڑائی لڑو کیونکہ اپنے گھر پہنچ جانے کے بعد وہ تمہاری امان سے نکل گیا اور وہ اپنی پچھلی حالت پر آگیا اب اس سے لڑنا تمہارے واسطے مباح ہے یہ امان اس لئے مشروع ہے کہ یہ لوگ خدا کے دین کو پہچان لیں اور اسلام کا چرچہ تمام لوگوں میں پھیل جائے مجاہد اس آیت کی تفسر میں یہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص تمہارے پاس اس غرض سے آیا ہے کہ تمہاری بات سنے اور جو کلام تم پر خدا نے اتارا ہے اس کو معلوم کرے تو وہ امان میں ہے اور جب تک امان میں ہے کہ وہ اپنے گھر صحیح و سلامت پہنچ جائے اسی واسطے حضرت ﷺ اس شخص کو امان دیتے تھے جو ہدایت کے لئے ّآتا تھا یا کسی کا کوئی پیغام لاتا تھا چناچہ جنگ حدیبیہ کے دن ایک جماعت قاصدوں کی قریش کی طرف سے حضرت ﷺ کے پاس آئی تھی اس میں عروہ بن مسعود اور سہیل بن عمرو وغیرہ تھے یہ لوگ صلح کے اس معاملہ کے واسطے جو ان کے اور رسول خدا کے درمیان میں تھا امن سے اس کے بات چپت کے لئے آتے جاتے تھے صحیح بخاری وغیرہ میں صلح حدیبیہ کی جو روایتیں ہیں ان میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ابوداؤد و نسائی اور مستدرک حاکم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مسیلمہ کذاب نے دو شخصوں کو قاصد بنا کر آنحضرت ﷺ کے پاس بھیجا تھا جب ان دونوں شخصوں نے مسیلمہ کذاب کو اللہ کا رسول کہا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر قاصدوں کا مار ڈالنا شریعت الٰہی میں جائز ہوتا تو میں تم دونوں کے مار ڈالنے کا حکم دیتا اس سے معلوم ہوا کہ قاصد کے منہ سے اگر کوئی کفر کا کلمہ بھی نکل جائے تو بھی اس کے امن وامان میں خلل نہیں پڑتا ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیثوں کو ہلا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ شریعت میں جس طرح کلام الٰہی سننے کو آنے والے شخص کے لئے امن وامان کا حکم ہے اسی طرح قاصد کے لئے بھی امن وامان کا حکم ہے۔
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

بھلا مشرکوں کے لئے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ؟ ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بیشک خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

7۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ کیونکر ان مشرکوں کا عہد قائم رہ سکتا ہے ان کی حالت تو یہ ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے یہ لوگ منکر ہیں پھر فرمایا کہ جو لوگ اپنے عہد پر قائم رہیں ان کے ساتھ تم بھی ویسا ہی کرو کہ اپنے عہد پر قائم رہو کیونکہ خدا کو احتیاط کرنے والے لوگ بہت پسند ہیں خدا ان کو دوست رکھتا ہے جو اپنے قول پر قائم رہیں اس واسطے کہ یہ صفت متقی لوگوں کی ہے وہ لوگ جنہوں نے عہد کو نباہا بنی خزاعہ ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن سے حدیبیہ کے دن حرم پاک کے نزدیک عہد ہوا تھا اور یہ عہد دس برس کا تھا انہیں کے متعلق یہ حکم ہوا کہ ان سے عہد پورا کرو جب تک یہ لوگ اپنے قول وقرار پر قائم ہیں یہ صلح 6؁ ہجری میں ہوئی اس صلح کے دو برس کے بعد جب بنوبکر نے خزاعہ پر چڑھائی کی اور قریش نے ان کا ساتھ دیکر ان لوگوں کو حرم میں قتل کیا تو ناچار 8؁ ہجری میں حضرت ﷺ کو ان لوگوں سے لڑنا پڑا کہ ان لوگوں نے اپنا عہد توڑ ڈالا تھا اس وقت میں حرم کے اندر لڑائی جائز ہوگئی تھی آخر مکہ فتح ہوگیا قریب دوہزار کے آدمی ایمان لائے اور باقی لوگ بھاگ گئے ان کے باب میں یہ حکم ہوا کہ چارمہینہ تک ان کو امان دو پھر اس میعاد کے ختم ہونے پر ان سے جنگ کرو باقی لوگوں میں صفوان بن امیہ اور عکرمہ بن ابوجہل وغیرہ تھے خدا نے ان کے دلوں میں بیر اسلام کی ہدایت ڈالی اور یہ لوگ مسلمان ہوگئے اب صلح حدیبیہ کی ابتدایوں ہوئی کہ 6؁ ہجری میں آنحضرت ﷺ نے چودہ سو کے قریب صحابہ کی جماعت کے ساتھ ذی قعدہ کے مہینے میں عمرہ کے قصد سے مکہ کا ارادہ کیا اور مشرکین مکہ نے راستہ میں ایک مقام پر جس کا نام حدیبیہ ہے آپ کو روکا اور آخر صلح ہوئی جس کا تفصیلی قصہ سورة اِنَّافَتَحْنَا میں آویگا اس صلح میں تحریری صلح نامہ جو لکھا گیا تھا اس کے موافق قبیلہ خزاعہ مسلمانوں کی حمایت اور امان میں رہا اور قبیلہ بنی بکر مشرکین مکہ کی حمایت اور امان میں۔ ان دونوں قبیلوں میں قدیمی عداوت چلی آتی تھی اس لئے صلح کے دو برس کے بعد بنی بکر نے خزاعہ پر یہاں تک زیادتی کی کہ حرم کی حدود کے اندر بھی بنی خزاعہ کے کچھ آدمیوں کو قتل کیا یہ بدعہدی تو قبیلہ بنی بکر کی ہوئی مشرکین مکہ نے یہ بدعہدی کی کہ بنی بکر کو ہتھیاروں کی بھی مددی اور حفیہ طور پر لڑائی میں بھی انکا ساتھ دیا اس بدعہدی کی خبر سن کر آنحضرت ﷺ نے دس ہزار صحابہ کی جماعت کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کی اور مکہ فتح ہوگیا۔ سورة انافتحنا میں اس صلح حدیبیہ کو اللہ تعالیٰ نے فتح جو فرمایا اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی اور اس صلح کے سبب سے لشکر اسلام میں یہ ترقی ہوئی کہ دو برس میں لشکر اسلام کی تعداد چودہ سو سے دس ہزار تک پہنچ گئی حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت میں مشرکین مکہ اور قبیلہ بنی بکر کو عہد توڑ فرمایا اور قبیلہ خزاعہ کو عہد پر قائم رہنے ولے لوگوں میں شمار فرمایا اور حدیبیہ کے صلح نامہ کو عہد فرمایا۔ حدیبیہ کی صلح کو صاف طور پر حرم کی حد کے اندر کا عہد جو نہیں فرمایا اس سے یہ معلوم ہوا کہ حدیبیہ حد حرم کے باہر ہے۔ حدیث کی کتابوں میں صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کی بابت میں جو بہت سی صحیح روایتیں ہیں وہ گویا آیت کی تفسیر ہیں۔
Ayah 9:8

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب انکا حال یہ ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا ؟ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کردیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو قبول نہیں کرتے) اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

8۔ اوپر مشرکوں کی ظاہری بدعہدی کا ذکر فرما کر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے دل کی باتوں سے آنحضرت ﷺ کو یہ خبردار کیا کہ کیوں کر ان لوگوں سے صلح قائم رکھ سکو گے ان کی حالت تو یہ ہے کہ فقط منہ سے قول وقرار کرتے ہیں اور ان کے دل میں تو یہ ہے کہ اگر مسلمانوں پر ان کا قابو پڑجاوے تو ایک کوئی بھی زندہ نہ رکھیں نہ قرابت کا لحاظ کریں ورنہ اپنے عہد کا یہ لوگ بڑے ہی بےحکم ہیں ان کے دل کب مانتے ہیں جو یہ اپنے قول پر قائم رہیں گے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اِلاَّ وَّلا َذِمَّۃً کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ اس سے مراد قرابت اور عہد ہے اوپر گذر چکا ہے کہ صلح حدیبیہ کے عہد پر بعضے مشرک قبیلے قائم تھے اس لئے سب صلح والوں کو بےحکم نہیں فرمایا۔ صحیح بخاری اور مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایسے شخص سے زیادہ برا کوئی آدمی نہیں جس کو اپنی زبان کا پاس نہ ہو ایک ہی بات کو کسی سے ایک طرح پر کہہ دیوے اور کسی سے دوسری طرح پر معتبر سند سے مسند امام احمد ابوداؤد نسائی اور صحیح ابن حبان میں آنحضرت ﷺ کے پروردہ ابورافع ؓ سے روایت ہے جس میں ابورافع ؓ کہتے کہ اسلام لانے سے پہلے مجھ کو اہل مکہ نے قاصد بنا کر آنحضرت ﷺ کے پاس بھیجا تھا مدینہ میں آن کر میرا دل اسلام کی طرف اور مدینہ میں رہ جانے کی طرف مائل ہوگیا لیکن صلح حدیبیہ میں یہ شرط ہوئی تھی کہ صلح کے زمانہ تک جو کوئی مکہ سے مدینہ کو آوے گا اس کو واپس کردیا جاویگا اس شرط کے موافق آنحضرت ﷺ ومسلم نے میرا مدینہ میں رہ جانا پسند نہیں کیا اور فرمایا کہ اللہ کے رسول سے بدعہدی نہیں ہوسکتی آیت میں زبان کا پاس نہ رکھنے اور بدعہدی کی جو مذمت ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں۔
Ayahs 9:9–11

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور سمجھنے والے لوگوں کے لئے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔

9۔ 11۔ ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں نے عہد کے پورا کرنے کے احکام الٰہی کو بہت ہی تھوڑی قیمت پر فروخت کر ڈالا یہ اس واسطے فرمایا کہ جن لوگوں نے حضرت ﷺ سے عہد و پیمان کیا تھا کہ کچھ مدت تک آپ لڑائی موقوف کریں اور ہم کو مہلت دیں ان لوگوں کو ابوسفیان نے کچھ لالچ دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ عہد توڑ ڈالا اسی طرح طائف کے باشندوں نے بھی مال سے ان بدعہدوں کی مدد کی تھی۔ اس لئے فرمایا یہ لوگ آپ تو عہد توڑتے ہی ہیں مگر دوسرویں کو بھی راہ حق سے روکتے ہیں کہ دین اسلام قبول نہ کرو پھر فرمایا کہ یہ کام انکا بہت ہی برا ہے اپنے قرابت کے لوگوں کا بھی خیال نہیں کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں ان کے کنبے کے آدمی بھی ہیں آخر کچھ تو قرابت کا پاس انہیں کرنا چاہئے تھا پھر فرمایا کہ یہ لوگ اپنے قول پر کیونکر قائم رہتے یہ لوگ تو حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہیں نہ ان کی زبان کا ٹھیک ہے نہ ان کے فعل کا ٹھیک ہے پھر فرمایا کہ اگر یہ لوگ شرک وکفر سے باز آکر اسلام میں داخل ہوجائیں تو پھر یہ لوگ تمہارے دینی بھائی ہوجائیں گے اور ہر قسم کے نفع ونقصان میں تمہارا ان کا ساتھ ہوجاویگا اور یہ باتیں جو تفصیل کر کے اللہ نے بتلائی ہیں یہ علم والوں کے لئے ہیں کیونکہ جو جاہل مطلق ہیں انہیں سمجھ ہی کیا ہے کہ کسی بات کو سمجھیں بوجھیں قرابت کا پاس نہ رکھنے والوں کی مذمت میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں وہ حدیثیں اور بدعہدی کی مذمت کی صحیح حدیثیں یہ سب حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں۔
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو (ان) کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں۔

12۔ اس آیت میں اللہ جل شانہ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ یہ مشرک لوگ اگر اپنا عہد توڑ دیں اور تمہارے سچے دین میں نقص نکالیں اور عیب لگائیں تو ان کے سرداروں کو چن چن کر مارو اور قتل کرو کہ یہ سب فساد ان ہی کی وجہ سے ہے کیونکہ بچارے غریب لوگ کیا سر اٹھا دیں گے جب تک انہیں بڑے بڑے لوگ کچھ مدد نہ دیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابوسفیان وغیرہ قریش کے ریئسوں کے باب میں اتری ہے کیونکہ یہ لوگ اپنی قوم میں منتخب لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے اور اپنے اپنے قبیلہ کے سردار مانے جاتے تھے اور انہیں لوگوں نے صلح کر کے پھر اپنے عہد کو توڑا اور آنحضرت ﷺ کو مکہ سے نکا لا پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا قول وقرار قسما قسمی کچھ معتبر نہیں ہے ورنہ یہ لوگ اس طرح کی بدعہدی کبھی نہ کرتے آخر کو یہ فرمایا کہ ان مشرکوں میں سے جو لوگ اپنا عہد توڑ دیں اور دین میں عیب نکالیں ان سے لڑنے کو اس واسطے حکم دیا گیا ہے کہ شاید اس جنگ کی وجہ سے یہ لوگ اپنی حرکت سے باز آئیں اور پھر کبھی نہ عہد توڑیں اور نہ دین میں عیب نکالیں اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے مکہ کی چڑھائی سے پہلے مثلا خالد بن ولید کی مخالفت اس کا قصہ سورت نساء میں گذر چکا ہے اب صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے مابین کی مدت میں خالد بن ولید دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اور لشکر اسلام میں اللہ کے رسول نے اللہ کی تلوار انکا لقب قرار دیا چناچہ صحیح بخاری کی انس بن مالک ؓ کی روایت میں جو قصہ تفصیل سے ہے یا مثلا مکہ کی چڑھائی سے پہلے ابوسفیان کی مخالفت کا یہ حال تھا کہ انہوں نے مشرکین مکہ کو طرح طرح کا لالچ دیکر صلح حدیبیہ میں خلل ڈالا اور مکہ کی چڑھائی کے وقت اسلام قبول کیا اور حنین کی لڑائی کے وقت اللہ کے حدیثوں میں اس طرح کے بہت سے قصے ہیں جو آیت کے ٹکڑے لعلھم ینتھون کی پشین گوئی کی گویا تفسیر ہیں۔
Ayah 9:13

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو (جنہوں نے اپنی) قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (خدا) ﷺ کے جلا وطن کرنے کا عزم مصمم کرلیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتداء کی ؟ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو ؟ حالانکہ ڈرنے کے لائق خدا ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو۔

13۔ 6 ھ؁ میں جو صلح حدیبیہ ہوئی اسی صلح میں آنحضرت سے اور قریش سے یہ معاہدہ تھا کہ دس برس تک لڑائی موقوف رکھنی چاہئے اور اس دس برس کے امن میں خزاعہ قبیلہ حضرت کی امان میں تھا اور بنوبکر قبیلہ قریش کے امن میں تھا بنوبکر قبیلہ نے خزاعہ پر چڑھائی کی اور قریش نے خلاف معاہدہ بنوبکر کو مدد دی اس بدعہدی کہ ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو ترغب دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قریش کی دوسری شرارت مشرکین مکہ نے اپنے دل میں یہ بات ٹھان لی تھی کہ اگر آنحضرت ﷺ اور صحابہ عمرہ کی نیت سے مکہ میں داخل ہو تو ان کو زبردستی مکہ سے نکال دیویں قبیلہ خزاعہ کے لوگ اس مشورہ میں شریک نہیں ہوئے اور صلح کے زمانہ مشرکین مکہ نے قبیلہ بنی بکر کو خزاعہ سے لڑنے پر آمادہ کیا اور خود قبیلہ بنی بکر کی مدد کی اسی کو مشرکین مکہ کی پہلی چھیڑ فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ ایسے بدعہد لوگوں سے لڑنے میں کسی ایمان دار شخص کو کچھ تامل اور ڈرنا نہ چاہئے کیونکہ ایماندار لوگوں کے دل میں سوا اللہ کے ڈر کے اور کوئی ڈرنہ ہونا چاہئے اس لئے کہ جس شخص کے دل میں اللہ کا ڈر ہوتا ہے اس کو عقبے کے سب مشکل کام آسان ہوجاتے ہیں۔ معتبر سند سے ترمذی میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا اس کو عقبے کی بہبودی کا راستہ آسان ہوجاویگا آیت میں ایمان دار لوگوں کو اللہ سے ڈرنے کا جو ارشاد ہے اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
Ayahs 9:14–15

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے خوب لڑو۔ خدا انکو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا۔

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور انکے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کریگا اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔

14۔ 15۔ اوپر ذکر تھا کہ ان مشرکوں نے اپنا عہد توڑا اور یہ بھی ارادہ کیا کہ رسول خدا کو مکہ سے نکال دینا چاہئے اور پھر باوجود ان باتوں کے چھیڑ انہیں کی طرف سے شروع ہوئی کہ بنوبکر سے اور بنوخزاعہ سے جب لڑائی ہوئی تو بنی بکر کی مدد کو یہ لوگ آمادہ ہوگئے اور خود بھی بنی خزاعہ کو قتل کرنے لگے تو اب ان سے لڑنا بلاشک ضروری ہے اور اگرچہ اللہ ان کے نیست ونا بود کرنے کو کافی ہے لیکن علم الٰہی میں یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ تم ان سے لڑو اور اللہ اپنی مدد سے تمہیں ان پر غالب کرے جس سے مسلمانوں کے خیر خواہ بنی خزاعہ کا بدلہ لینے سے مسلمانوں کے دل کی بھڑاس نکلے اور ان کے دل ذرا ٹھنڈے ہوں پھر اللہ پاک نے پیشین گوئی کے طور پر فرمایا کہ ان کفار میں سے بعضے بعضے اپنے کفر سے توبہ بھی کریں گے وہ لوگ خدا کے علم میں ہیں وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت کا راستہ دکھلاتا ہے اور جس کی چاہتا ہے توبہ قبول کرتا ہے وہ بڑا جاننے والا ہے اگلی پچھلی سب باتوں کی خبر ہے اور بڑا ہی حکمت والا ہے جتنی باتیں اس کی ہوتی ہیں کوئی حکمت سے خالی نہیں ہوتی چناچہ یہ سب باتیں پوری ہوئی ہیں بنی خزاعہ کا پورا بدلہ مشرکین سے لیا گیا مشرکین مکہ کو بےانتہا ذلت ہوئی مکہ فتح ہوا اور مشرکین کے سرداروں میں سے بڑے بڑے لوگ ایمان بھی لائے ابوسفیان بن حرب اور عکرمہ بن ابوجہل وسیلہ بن عمرو جو چیدہ سردار اپنے اپنے قبیلے کے تھے آخر کو مسلمان ہوگئے وللہ الحمد معتبر سند سے مسند امام احمد میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مظلوم شخص اگرچہ کافر بھی ہو تو اس کی بددعا کا اثر ظالم کو نظر آجاتا ہے۔ یہ حدیث قبیلہ بنی خزاعہ کی حالت کی گویا تفسیر ہے کیونکہ اہل مکہ بنی خزاعہ کے ساتھ ظلم و زیادتی سے پیش آئے اللہ تعالیٰ نے بنی خزاعہ کی بددعا کے اثر سے تمام ملک الٹ پلٹ کردیا۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیے جاؤ گے ؟ اور ابھی تو خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے (سب) کاموں سے واقف ہے۔

16۔ اوپر کی آیتوں میں بدعہد لوگوں سے لڑنے کی ترغیب دے کر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانون کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ دین کی لڑائی سے تمہاری آزمائش نہ ہوگی یوں ہی چھوڑ دئے جاؤ گے مطلب یہ ہے کہ جہاد اسی واسطے فرض کیا گیا ہے کہ خدا مسلمانوں کا امتحان لے اور جانچ لے کہ کون اس کے حکم کا مطیع ہے اور کون اس کی نافرمانی کرتا ہے حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو نیک وبد سب کا حال معلوم ہے لیکن اس دنیا عالم اسباب میں ابھی تک ہر ایک مسلمان کے ظاہر و باطن کا پورا پورا حال نہیں کھلا ہے اس جہاد کی غرض یہی ہے کہ اصل حال معلوم ہوجائے کہ کون مشرکوں کی طرف داری کرتا ہے اور کون ان کا پاس نہیں کرتا اس حاصل طلب کو آیت کے آخر میں یوں فرمایا کہ اللہ کو تمہارے کل عملوں کی خبر ہے وہ منافق اور مومن کو خوب جانتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے سزا وجزا کا دارو مدار اپنے علم ازلی پر نہیں رکھا ہے اس لئے اس نے اس جہاد کا حکم دیا ہے تاکہ ہر ایک شخص کے اصلی حال سے لوگوں کو واقفیت ہوجاوے صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ کی حدیث گذر چکی ہے کہ دنیا میں جو کچھ نیک وبد ہو رہا ہے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ اور ترمذی وغیرہ میں انس بن مالک ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو نیک کاموں کی آڑ سے اور دوزخ کو برے کاموں کی آڑ سے گھیر رکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا نے عالم اسباب میں اللہ تعالیٰ کے نیک کاموں کو جنت میں جانے کا اور برے کاموں کو دوزخ میں جانے کا سبب ٹھہرایا ہے صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ممتحنہ میں حضرت علی ؓ کی حدیث آئے گی کہ مکہ کی چڑھائی کے ارادہ کو آنحضرت ﷺ نے راز کے طور پر مشرکین مکہ سے پوشیدہ رکھا تھا لیکن ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے مشرکین مکہ سے دوستی قائم رکھنے کے لئے ایک خط مشرکین مکہ کے نام لکھا جو راستہ میں پکڑا گیا ان حدیثوں کو میت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے مگر اس نے اپنے علم کے موافق اس دنیا عالم اسباب کے اندر جنت اور دوزخ میں جانے کے جو سبب ٹھہرائے ہیں جب تک ان سببوں کے ظہور کی پوری پوری جانچ نہ ہوجائے تو نیک و بد کا امتحان نہیں ہوسکتا مثلا بدر کی لڑائی نہ ہوتی تو بدری صحابہ نے جو کوشش اس لڑائی میں کی اس کا امتحان نہ ہوسکتا تھا اور نہ وہ کوشش لوگوں کے نزدیک ان کے قطعی جنتی ہونے کا سبب قرار پاسکتی تھی اسی طرح مکہ چڑھائی نہ ہوتی تو حاطب بن ابی بلتعہ نے جو مشرکوں کو طرفداری کی اس کا امتحان کس طرح ہوتا اور ایسے موقعوں پر قرآن شریف کی آیتوں کا نازل کیا جانا جو علم الٰہی میں قرار پا چکا تھا اس کا موقعہ کیونکر پیش آتا۔
Ayahs 9:17–22

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کو زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں (جبکہ) وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہوں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں گے۔

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے ؟ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے نعمت ہائے جاودانی ہے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

(اور وہ) ان میں ابدا لآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے۔

17۔ 22۔ صحیح مسلم ابوداؤد صحیح ابن حبان تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے جن میں حضرت عباس ؓ بھی تھے تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا کہ ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ بغیر خالص السلام کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں اس سے معلوم ہوا بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں اس سے معلوم ہوا بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ مسند امام احمد صحیح مسلم اور ابن ماجہ میں ابوہریرہ ؓ اور بریدہ ؓ کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ ایک صحابی کا اونٹ جاتا رہا تھا اور وہ صحابی اپنے اونٹ کو ڈھونڈ نے کے طور پر اپنے اونٹ کو آواز دے رہے تھے اللہ کے رسول نے ان کو منع کیا اور فرمایا کہ مسجدیں ایسے کاموں کے لئے نہیں بنی ہیں بلکہ مسجدیں تو خالص اللہ کی عبادت کے لئے بنی ہیں اور صحابہ کو مخاطب کر کے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ آئندہ جو شخص اس طرح مسجد میں اونٹ کو آواز دیتا ہوا اور بلاتا ہوا نظر آوے تو اس کے حق میں یہ بددعا کرنی چاہئے کہ اس کا کھویا ہوا اونٹ کبھی نہ ملے۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شریعت الٰہی کے موافق تو مسجد میں کھوئے ہوئے اونٹ کا بھی پکارنا منع ہے یہ بت پرست لوگ مسجد حرام میں طواف کے وقت اللہ کے نام کے ساتھ بتوں کو پکارتے ایسے لوگوں سے اللہ کی مسجدیں کب آباد ہوسکتی ہیں اللہ کی مسجدیں تو ایسے لوگوں سے آباد ہوسکتی ہیں جو خالص دل سے اللہ کی ہر طرح کی عبادت کرتے ہیں اور یہ بت پرست لوگ حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد حرام میں آنے جانے کہ اللہ کی وحدانیت اور حشر پر ایمان لانے کے اور دین کی لڑائی کے برابر جو سمجھتے ہیں یہ ان کی بےانصافی ہے کیونکہ ہر عبادت کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے صحیح طور پر اپنے معبود کو پہچان لیوے بت پرستی کے سبب سے ان لوگوں میں جب یہ بات نہیں ہے تو اللہ کے نزدیک نہ یہ لوگ اللہ کے پہچاننے والوں کے برابر ہوسکتے ہیں نہ ان کی کوئی عبادت خدا شناس لوگوں کی عبادت کے برابر ہوسکتی ہے اس لئے اللہ کی بارگاہ میں تو انہی لوگوں کے نیک کاموں کے بڑے بڑے اجر ہیں جو اللہ کو معبود حقیقی جانتے ہیں اور خالص دل سے اسی کی ہر طرح کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت میں شرک یا دنیا کے دکھاوے کا کچھ لگاؤ ہے ان کی عبادت رائگاں ہے مسند امام احمد اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس شخص نے کسی نیک عمل میں سوا اللہ کے کسی دوسرے کو شریک کیا اللہ کی بارگاہ میں ایسے عمل کا ہرگز کچھ اجر نہیں ہے کیونکہ شرک اللہ تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے ان آیتوں میں شرک کے سبب سے نیک عملوں کے رائگاں اور خراب ہوجانے کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن ' بھائی) ایمان کے مقابلے کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں۔

23۔ اس آیت کی نشان نزول میں مفسروں نے اختلاف کیا ہے مجاہد کہتے ہیں کہ اس آیت کو اوپر کی آیتوں سے لگاؤ ہے عباس ؓ اور طلحہ ؓ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ جب یہ دونوں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے رک گئے تو یہ فرمایا کہ تم لوگ جب ایمان لا چکے تھے تو تم کو اپنے باپ بھائی کے سبب سے ہجرت کو نہ چھوڑنا چاہئے تھا کیونکہ وہ رشتہ دار تو ایسے ہیں جو کفر پر جمے ہوئے ہیں اور ایمان کے مقابلہ میں کفر کو اچھا جانتے ہیں اس لئے جو کوئی ان کی رفاقت کریگا تو وہ ظالم ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول یہ ہے کہ اس میت کی شان نزول یوں ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنیکا حکم دیا تو ان کے بال بچوں نے قسمیں دلائیں اور کہنے لگے کہ کیا ہم کو اکیلا چھوڑے جاتے ہو اس لئے ان کے دل میں بھی الفت پیدا ہوگئی اور وہ لوگ مکہ میں رہ گئے اس پر یہ آیت اتری تفسیر مقاتل میں یہ ہے کہ وہ نو شخص جو مرتد ہو کر مدینہ سے مکہ چلے گئے تھے ان کے حق میں یہ آیت اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو منع کیا کہ ان سے تعلق نہ رکھو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے حوالہ سے جو شان نزول اوپر بیان کی گئی یہ قول حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا تفسیر خازن وغیرہ میں ہے اور اسی شان نزول کی ایک روایت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی معتبر سند سے ترمذی میں بھی ہے مگر اس روایت میں اس آیت کے نزول کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس میں سورة تغابن کی آیت یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَا دِکُمْ عد وَّلکُمْ فَاحُذَ روھُمْ کا ذکر ہے۔ رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ جن علماء نے ہجرت سے رک جانے والے لوگوں کی شان میں آیت کا نازل ہونا بیان کیا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی شان میں بھی میت کا مضمون صادق آسکتا ہے ورنہ یہ تو اوپر گذر چکا ہے کہ مکہ 8 ھ؁ میں فتح ہوا اور فتح مکہ کے سال بھر کے بعد 9 ھ؁ میں یہ ساری سورت نازل ہوئی اور اس سال آنحضرت ﷺ نے ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت علی ؓ کو مکہ بھیجا کہ وہ اس سورت کی دس آیتیں مشرکین مکہ کو سنادیویں پھر فتح مکہ کے بعد ہجرت کی تاکید میں کوئی آیت کیونکر نازل ہوسکتی ہے کیونکہ صحیح بخاری وغیرہ کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں یہ صاف آچکا ہے کہ فتح مکہ کے بعد مکہ سے ہجرت کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت کی شان نزول عام ہے اور اس میں سب ایمانداروں کو حکم ہے کہ وہ اپنے مخالف شریعت رشتہ داروں سے ایسی رفاقت نہ رکھیں جس سے ان ایمانداروں کے دین میں فتور پڑے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ ؓ اشعری کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے برے رفیق کی مثال کھال دھونکنے والے شخص کی فرمائی ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی حدیث بھی ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مخالف شریعت بات سے ولی نفرت کا رکھا یہ آدمی کے ضعیف ایمان کا ایک درجہ ہے ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ضعیف الایمان شخص کو بھی مخالف شریعت رشتہ داروں سے دلی نفرت کا رکھنا اور ان کی رفاقت سے بچنا ضروری ہے ورنہ کھال دھونکنے والے شخص کے رفیق پر ایک نہ ایک دن جس طرح آگ کی چنگاری اڑ کر آن پڑنے کا خوف ہے اسی طرح مخالف رشتہ داروں کی رفاقت سے ہر ایماندار آدمی کے دین کو ایک نہ ایک دن کچھ نہ کچھ ضرر پہنچنے کا خوف ہے ایسی رفاقت کے نباہنے والوں کو ظالم اس لئے فرمایا کہ انہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا جو مخالف شریعت رشتہ داروں کی رفاقت سے اپنے آپ کو گنہگار بنایا۔
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول ﷺ سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

24۔ اللہ پاک نے اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا کہ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم ایمان لانے کے بعد قرابت داروں ترقی مال وتجارت اور اچھے اچھے مکانوں کے آباد رکھنے کی الفت میں ایسے گرفتار رہو گے کہ ان چیزوں سے زیادہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے کو عزیز نہ جانو گے تو ایسی حالت میں تمہارا ایمان پورا انہیں ہوسکتا اور اگر انہی چیزوں کی محبت میں پڑے رہو گے تو پھر خدا کے عذاب کے منتظر رہو مسند امام احمد اور بخاری میں عبداللہ بن ہشام ؓ کی ایک روایت ہے کہ ایک روز ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے اور آپ حضرت عمر ؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے حضرت عمر ؓ نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ آپ دنیا میں ہر شے سے مجھے زیادہ عزیز ہیں مگر جان سے زیادہ عزیز نہیں ہیں آپ نے فرمایا کوئی کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ مجبوب نہ سمجھے یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے کہا کہ اب آپ جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں اکثر حدیثیں اس مضمون کی ہیں کہ جب تک حضرت رسول مقبول ﷺ کو کوئی اپنے باپ بھائی بال بچے مال و دولت اور اپنی جان سے زیادہ عزیز نہ رکھے گا تو وہ ایمان میں کامل نہیں ہوسکتا پھر اللہ پاک نے آیت کو اس پر ختم کیا کہ جو لوگ خدا کے حکم کی تعمیل اور اس کے امر و نہی کی بجا آوری سے باہر ہیں ان کو اللہ پاک ہدایت کا راستہ نہیں دیکھاتا سورة آل عمران میں گذر چکا ہے کہ اللہ کی محبت اس کے احکام کے ماننے سے ظاہر ہوتی ہے اور وہ احکام بغیر وسیلہ رسول کے معلوم نہیں ہوسکتے ہیں لئے اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کو دنیا کی سب چیزوں سے زیادہ عزیز جاننا یہی اللہ کے حکم پر ایمان لانا ہے اور اسی کو محبت الٰہی کہتے ہیں عبداللہ بن ہشام ؓ کی حدیث جو اوپر گذری اس کا مطلب یہی ہے جو بیان کیا گیا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث سورة آل عمران میں گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری اطاعت میں اطاعت الٰہی ہے اور میری نافرمانی عین اللہ کی نافرمانی اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ احکام الٰہی اللہ کے رسول کے ذریعہ سے معلوم ہوتے ہیں اس واسطے اللہ کے رسول کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے آخر آیت میں فرمایا جن لوگوں میں یہ اطاعات کا مادہ نہیں ہے وہ نافرمان لوگ ہیں اور ایسے نافرمان لوگون کو زبردستی راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے اس لئے ایسے لوگوں کو نافرمانی کی سزا کا منتظر رہنا چاہئے۔ صحیح بخاری ومسلم میں زینب بنت حجش ﷺ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس بستی میں عام طور پر گنہگاری پھیل جاوے گی تو ایسی بستی پر عذاب الٰہی نازل ہوگا ترمذی اور ابوداؤد کے حوالہ سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جسمیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب کسی بستی کے بڑے لوگوں میں نافرمانی اور گنہگاری زیادہ پھیل جاوے گی اور اس بستی کے اچھے لوگ ان نافرمان لوگوں کو نصیحت کا کرنا بھی چھوڑ دیں گے تو ایسی بستی پر کچھ نہ کچھ عذاب الٰہی ضرور نازل ہوگا یہ حدیثیں آیت کے ٹکڑے فَتَرَ بَّصُوْا حَتّیٰ یَاتِی اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ کی گویا تفسیر ہے۔
Ayah 9:25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے۔ اور (جنگ) حنین کے دن جبکہ تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرہّ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی۔ پھر تم پیٹھ پھیر کر پھرگئے۔

25۔ فتح مکہ کے بعد قریب دو ہفتہ کے آنحضرت ﷺ نے مکہ میں مقام کیا اسی اثنا میں آپ کو خبر پہنچی کہ حنین کے میدان میں ہوازن اور ثقیف قبیلہ کے چار ہزار آدمی اپنے اونٹ اور بکریاں لے کر مسلمانوں کا مال غنیمت ہوجاویگا مدینہ سے جب فتح مکہ کے وقت دوہزار کے قریب جو لوگ مسلمان ہوئے تھے وہ بھی ساتھ ہوگئے اسی واسطے مفسرین میں اختلاف ہے بعضے حنین کے وقت دس ہزار کا لشکر بتلاتے ہیں اور بعضے زیادہ لیکن اصل میں کچھ اختلاف نہیں ہے مدینہ کا آیا ہوا لشکر جنہوں نے معتبر رکھا انہوں نے دس ہزار کی تعداد قائم رکھی اور جنہوں نے مکہ کے لوگوں کو بھی گنتی میں لے لیا انہوں نے تعداد بڑھادی بعضے صحابہ کی زبان سے یہ کلمہ بھی نکل گیا تھا کہ آج ہمارا لشکر بہت ہے اس لئے ہم کسی سے اب مغلوب نہ ہوں گے اس لئے اول میں مسلمانوں کی فتح ہو کر جب مسلمان لوٹ کی طرف متوجہ ہوئے تو دشمنوں نے موقعہ پاکر ایسے تیر برسائے کہ مسلمانون کے پیر اکھڑ گئے اتنے میں آنحضرت نے حضرت عباس ؓ سے جو بہت بلند آواز تھے لوگوں کو آواز دی اور پھر صف بندی کر کے مقابلہ کیا اور بدر کی طرح خاک کی ایک مٹھی دشمنوں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ سے فتح کی دعا کی آسمان سے کچھ فرشتے بھی تسکین کے لئے آئے اور اللہ نے فتح دی۔ دشمنوں کے تیر برسانے اور مسلمانوں کے پیر اکھڑ جانے کا ذکر تو صحیح بخاری ومسلم میں براء میں العازب ؓ کی روایت سے ہے اور خاک کی مٹھی کے دشمنوں پر پھینکنے کا ذکر مسند امام احمد اور صحیح مسلم میں سلمۃ بن الاکوع ؓ کی روایت سے ہے۔ اس لڑائی میں چھ ہزار لونڈی غلام چو بیس 24 ہزار اونٹ اور چالیس ہزار بکریاں یہ لوٹ مسلمانوں کے ہاتھ لگی تھوڑے روز کے بعد ہوازن قبیلہ کے لوگ اسلام لائے اور اپنا مال انہوں نے آنحضرت سے واپس مانگا آپ نے ان کے اہل و عیال کی واپسی کا حکم تو دیا مگر مال مسلمانوں ہی کے پاس رہا اگرچہ بعضے مفسروں نے کہا ہے کہ حنین کی لڑائی میں بھی فرشتے لڑتے ہیں لیکن صحیح قول یہی ہے کہ سوا بدر کی لڑائی کے اور کسی لڑائی میں فرشتے نہیں لڑے اسی حنین کی لڑائی کے ذیل میں پھر اوطاس اور طائف کی لڑائی بھی ہوئی ہے لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فقط حنین کی لڑائی کا ہی ذکر فرمایا ہے۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ مثلا بدر کی لڑائی بنی قریظہ کی لڑائی مکہ کی چڑھائی ایسی لڑائی کے بہت سے میدانوں میں اللہ تعالیٰ نے لشکر اسلام کی طرح طرح سے مدد کی ہے اس حنین کی لڑائی میں اگرچہ سب شکست کے آثار مسلمانوں کے لشکر میں پھیل چکے تھے بارہ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا اور پھر بھی اس طرح ان کے پیرا کھڑ گئے تھے کہ دشمنوں کے تیروں کی بھر مار سے بچنے کے لئے اتنا بڑا میدان جنگ ان کو تنگ نظر آتا تھا ایسی صورت میں یہ اللہ ہی کی مدد تھی جو بگڑی ہوئی لڑائی ایک دم میں پھر بن گئی اور جھٹ پٹ فتح کے آثار نمودار ہوگئے اس میں مسلمانوں کو یہ ہدایت ہے کہ اس عالم اسباب میں اسباب سے کام تو لینا چاہئے مگر اصل بھروسہ اللہ پر رکھنا چاہئے کہ وہی اسباب میں تاثیر کا پیدا کرنے والا ہے اسباب ظاہری میں اگر کچھ ذاتی تاثیر ہوتی تو بدر کی کچھ اوپر تین سو آدمیوں کی فتح اور اس لڑائی میں بارہ ہزار آدمیوں کے لشکر کی شکست کا کوئی موقع نہ تھا معتبر روایتوں میں آنحضرت ﷺ نے اپنے رزق کا سبب اپنے برچھے کو ٹھہرایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہتھیاروں کے سبب سے فتح ہو کر غنیمت کا مال ہاتھ آتا ہے جس سے رزق ملتا ہے اسی طرح معتبر روایتوں میں یہ بھی ہے کہ دشمن کے مقابلہ سے پہلے آپ اللہ تعالیٰ سے فتح کر دعا مانگا کرتے تھے ان سب روایتوں کو ملانے سے ظاہری اسباب کو کام میں لانے کا اور اصل بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھنے کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
Ayahs 9:26–27

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے پیغمبر ﷺ پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور (تمہاری مدد کو فرشتوں کے) لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے (آسمان سے) اتارے اور کافروں کو عذاب دیا۔ اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر خدا اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

26۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے جنگ حنین کا یہ قصہ بیان فرمایا تھا کہ مسلمانوں کو اس روز اپنی فوج کی زیادتی پر یہ خیال ہوا تھا کہ اب ہم کسی سے مغلوب نہ ہوں گے کیونکہ اس وقت کل مسلمان قریب بارہ ہزار کے تھے فتح مکہ کے بعد کل لوگ مکہ اور مدینہ کے مسلمان جب جمع ہوئے تو سب نے مل کر یہ سوچا کہ اب ہم خوب لڑیں گے اب ہم پر کوئی غالب نہیں ہوسکتا حضرت کو ان کا یہ کہنا برا معلوم ہوا تھا۔ غرض حنین کی لڑائی میں جب ہو ازن اور ثقیف کے لشکر سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوا تو کچھ ایسا خوف دشمنوں کا ان کے دل میں سمایا کہ پیچھے ہٹ گئے مفسروں کا بیان ہے کہ ایک سو تینتیس مہاجر اور ستتر انصار کے سوا اس میدان میں کوئی بھی ثابت قدم نہ رہا صرف آنحضرت ﷺ اکیلے رہ گئے آپ کے قدم آگے ہم کو بڑہتے چلے گئے اور مسلمانوں کو پکارا کہ اے خدا و رسول کے انصار میری طرف آؤ میں خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور حضرت عباس ؓ کو جو آپ کی داہنی طرف رکاب تھامے ہوئے تھے فرمایا کہ لوگوں کو پکارو حضرت عباس ؓ کو یہ کام اس لئے سونپا گیا کہ حضرت عباس ؓ بلند آواز والے تھے ان کی آواز آٹھ آٹھ میل تک جاتی تھی بہر حال لوگ رفتہ رفتہ جمع ہوتے گئے اور اللہ پاک نے ان کے دل میں اطمینان پیدا کردیا پھر تو یہ لوگ جم کر لڑے اور خدا نے آسمان سے فرشتے بھی بھیجے جن کے سبب سے کفار کے دل میں رعب پیدا ہوا اور کچھ کافر قتل ہوئے اور کچھ بھاگ گئے فرشتوں کی تعداد میں مفسروں کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں پانچ ہزار تھے اور بعضون کا قول ہے کہ آٹھ ہزار تھے مگر آیت یا اسکی صحیح حدیث سے یہ بات نہیں معلوم ہوئی کہ وہ کتنے تھے ہاں صحیح طور پر اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ فرشتوں نے اس لڑائی میں سوائے جنگ بدر کی لڑائی کا کام نہیں دیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی واسطے بھیجا تھا کہ مسلمانوں کے دل قوی ہوجائیں اور کفار کے دل میں رعب پیدا ہو پھر اللہ پاک نے آیت میں یہ فرمایا کہ مسلمانوں کو تسکین عطا کر کے اور فرشتوں کی کمک بھیج کر کفار پر یہ عذاب نازل کیا کہ خوب اچھی طرح قتل ہوئے بہت سامال ان کا مسلمانوں کے قبضے میں آیا اتنی غنیمت ہاتھ لگی کہ مسلمان مال دار ہوگئے کیونکہ اس قافلہ میں بارہ ہزار صرف اونٹ تھے اور بکریوں کو تو کچھ گنتی ہی نہیں ان کے علاوہ اور بہت سامال تھا لوگ گرفتار بھی بہت ہوئے عورت اور بچے ملا کر چھ ہزار آدمی قید ہوئے پھر باقی لوگ ہوازن کے مسلمان ہو کر مکہ کے قریب جعرانہ مقام میں حضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے انہیں اختیار دیا کہ خواہ اپنے قیدیوں کو لے جاؤ خواہ مال لے لو ان لوگوں نے اپنے قیدیوں کو لینا پسند کیا آپ نے ان کے قیدیوں کو انہیں دے دیا اور مال غنیمت غازیوں کو تقسیم کردیا اور مکہ کے نو مسلم لوگوں کو تالیف قلوب کے لئے اس میں سے زیادہ مال دیا اس غنیمت میں سے ایک ایک شخص کو سو سو اونٹ ملے تھے سورة بقر میں گذر چکا ہے کہ تابوت سکینہ کے ساتھ جو فرشتے رہتے تھے ان کی برکت سے بنی اسرائیل کے دلوں میں ایک تسکین پیدا ہوجاتی تھی یہاں مسلمانوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے جدا تسکین پیدا کردی اور علاوہ اس تسکین کے دوہری تسکین کے لئے آسمان سی فرشتے بھی بھیج دئے مسلمانوں کے لشکر میں اس تسکین سے پہلے ایک صورت شکست کی پیدا ہوگئی تھی اس لئے اس دوہری تسکین کا یہ انتظام فرمایا گیا جس سے مسلمانوں کے دل خوب مضبوط ہوگئے اور وہ دوبارہ خوب جم کر لڑے اس دوبارہ کی لڑائی میں مخالفوں کے بہت سے آدمی مارے گئے ان کے بال بچے قید ہوگئے اور ان کا مال لوٹ لیا گیا جس کا ذکر اوپر گذرا غرض اس سب کو مخالفوں کے کفر کی سزا فرمایا یہ پوری سزا تو انہیں کے حق میں ہوئی جن کا حالت کفر پر قتل ہونا علم الٰہی میں قرار پاچکا تھا اور جن کے نصیب میں کفرو شرک سے توبہ کا کرنا لکھا تھا ان کی جانیں بھی بچ گئیں اور انہوں نے توبہ بھی کی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے ان کی توبہ قبول بھی کی اور ان کے بال بچے بھی انکو واپس مل گئے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی توبہ کے قبول کرنے میں گنہگاروں کے حال پر اس قدر مہربان ہے کہ اگر دنیا کی یہ مخلوق گناہ نہ کرتی تو اللہ تعالیٰ گناہ کرنے والی اور مخلوق پیدا کرتا اور پھر گناہوں کے بعد ان کو توبہ کی توفیق دیکر ان کی توبہ قبول کرتا آیت کے آخر ٹکڑے میں گنہگاروں کی توبہ قبول ہونے کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔