9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 9:64

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر ﷺ پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کردے۔ کہہ دو کہ ہنسی کیے جاؤ جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گا۔

64۔ اس آیت کے دو معنے مفسروں نے بیان کئے ہیں ایک تو یہ کہ منافق سورت نازل ہونے سے ڈرتے ہیں اور آپس میں کہتے پھرتے ہیں کہ کہیں اللہ پاک ہمارا راز فاش نہ کردے کوئی سورت ہماری فضیحت میں اتارے اور پھر باوجود اس ڈر کے اپنی مسخرا پن کی باتوں سے باز نہیں آتے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ منافقوں کو اس آیت میں اللہ پاک نے خطاب کر کے بیان فرمایا خدا سے ڈرو وہ کوئی سورت اتار کر تمہارا بھید نہ کھول دے تمہارے دلوں میں جو بات ہے اس کی اطلاع مومنوں کو کردے پھر فرمایا اللہ بغیر اطلاع دیئے نہ رہے گا وہ ضرور تمہارے راز مسلمانوں پر کھول دیگا تم سے جہاں تک ممکن ہو دین کی باتوں میں مسخراپن کئے جاؤ خدا تمہاری ان باتوں کو ضرور ظاہر کر کے رہے گا جس کا تمہیں ڈر لگا ہوا ہے خواہ خدا کوئی سورت نازل کر کے بتاویگا یا بذریعہ جبرئیل کے اپنے رسول کو خبر کر دیگا آیت کے دو معنی جو اوپر بیان کئے گئے ان میں پہلے معنے مجاہد کے قول کے موافق ہیں اور حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں انہی معنوں کو قوی ٹھہرایا ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے جابر ؓ بن عبداللہ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں عبداللہ ابی منافقوں کے سردار کا یہ قصہ ہے کہ اس نے بنی مصطلق کی لڑائی کے وقت اپنے ساتھیوں سے یہ کہ اتھا کہ اس لڑائی سے واپسی کے بعد مہاجرین کو مدینہ سے نکال دیا جاوے گا۔ اور پھر جب آنحضرت ﷺ نے عبداللہ بن ابی کو بلا کر اس قصہ کی صداقت چاہی تو اس نے قسمیں کھا کر اس بات کے کہنے سے انکار کیا آخر اللہ تعالیٰ نے سورة منافقون کی آیتیں نازل فرما کر عبداللہ بن ابی کو جھوٹا ٹھہرایا جس سے وہ بہت رسوا ہوا اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ ان منافقوں سے جہاں تک ہو سکے یہ دین کی باتوں میں مسخراپن کئے جاویں اور اس مسخراپن کو چھپادیں یہ یاد رکھیں کہ ان کا وہ مسخراپن چھپنے والا نہیں اللہ ان کے اس آپس کی بھید کو کھول کر ان کو اس طرح رسوا کریگا جس طرح بنی مصطلق کی لڑائی کے وقت اس نے ان کے سردار عبداللہ بن ابی کو رسوا کیا۔
Ayahs 9:65–66

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اسکی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ سے ہنسی کرتے تھے ؟

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دینگے۔ کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔

65۔ 66۔ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ سے جو شان نزول ان آیات کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت کے زمانہ میں ایک جماعت منافقین کی تھی کبھی تو وہ آنحضرت کی شان میں خفیہ طور پر بدگوئی کرتے رہے اور کبھی قرآن شریف کی شان میں کچھ کچھ کہتے تھے اور جب ان سے دریافت کیا جاتا تو صاف مکر جاتے اور کہتے تھے کہ ہم تو اور آپس کی باتیں کر رہے تھے ان کا حال ظاہر ہوجانے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں تفسیر ابن مردو یہ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ کی جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافق لوگ تبوک کے سفر میں لشکر السلام کے ساتھ تھے اور انہوں نے اپنی عادت کے موافق لشکر اسلام میں کمزوری پھیلانے اور دین اسلام میں رخنہ ڈالنے کی بہت سی باتیں خفیہ طور پر آپس میں کیں کوئی کہتا تھا جن لوگوں سے ہم لڑنے کو جا رہے ہیں اندازے سے تو یہ معلوم ہوتا کہ وہ لوگ ہم کو قید کر کے اور ہاتھ پیر رسیوں سے باندھ کر ڈال دیویں گے کوئی کہتا تھا کہ اگرچہ محمد ﷺ کا قول ہے کہ کبھی نہ کبھی روم کے ملک پر اہل اسلام کا قبضہ ہوجاویگا مگر ہم کو تو اس کا یقین نہیں آتا کوئی کہتا تھا کہ محمد ﷺ اپنے بعد قرآن کو لوگوں کی ہدایت کے لئے کافی بتلاتے ہیں لیکن ہم کو تو قرآن اللہ کا کلام نہیں معلوم ہوتا ان لوگوں کی ان باتوں پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ اے رسول اللہ کے اگر تم ان باتوں کا حال منافقوں سے دریافت کر دو گے تو یہ لوگ صاف کہہ دیں گے کہ مسافر لوگ رستہ کٹ جانے کی غرض سے جس طرح راستہ میں دل لگی کی باتیں کرتے ہیں ہم تو اس طرح آپس میں دل لگی کی باتیں کر رہے تھے لیکن ان لوگوں کا یہ عذر بالکل غلط ہے دل لگی کے لئے دنیا کی اور ہزاروں باتیں تھیں کیا یہی لشکر اسلام میں کمزوری پھیلانے اور دین اسلام میں رخنہ ڈالنے کی باتیں ان کے دل لگی کے لئے دنیا میں تھیں یہ لوگ ظاہری اسلام جو جتلاتے تھے ان باتوں کے منہ سے نکالنے کے سبب سے اب وہ بات بھی جاتی رہی کیونکہ ان باتوں کے منہ سے نکالنے سے یہ لوگ ظاہر و باطن سب طرح کافر ہوگئے۔ اب آخر کو فرمایا کہ علم آلہی کے موافق جو لوگ ان میں کے خالص دل سے توبہ کرلیں گے تو ان کے پچھلے گناہ اللہ تعالیٰ معاف کر دیگا اور جو لوگ اس منافقانہ حالت پر مرجاویں گے وہ اپنے ظاہری اسلام سے پہلے اور ظاہری اسلام سے پچھلے سب اعمالوں کی سزا بھگتیں گے صحیح مسلم میں عمرو بن العاص ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسلام لانے سے ہر شخص کے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص خالص دل سے اسلام میں داخل ہو کر ظاہر و باطن سب طرح سے اسلامی احکام کا پابند ہوگا اسلام نہ لانے کے سبب سے ایسے شخص کے پچھلے سب گناہوں کا وبال عقبیٰ میں بھگتنا پڑے گا صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کی ظاہری حالت پر نہیں ہے بلک اللہ تعالیٰ کی نظر تو ہمیشہ انسان کے دل پر لگی رہتی ہے کہ نیک کام کرتے وقت انسان کے دل میں کسی طرح کی کھوٹ تو نہیں ہے تو نہیں ہے ان حدیثوں کو ان دونوں آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں اور حدیثوں کے ملانے سے یہ مطلب ٹھہرتا ہے کہ آیتوں میں جن منافقوں کا ذکر ہے ان میں سے جتنے شخصوں نے منافق پن کو چھوڑ کر خالص دل سے ظاہر و باطن ہر طرح اسلام کی پابندی اختیار کی ان کو توبہ اور آئندہ کے خالص اسلام نے فائدہ پہنچایا اور ان میں کے جو لوگ دل میں کھوٹ رکھتے ہیں اور ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان جتلاتے تھے اللہ تعالیٰ کی نظر ان کے دل پر ہی پڑی اس لئے جہاد میں ان کا لشکر اسلام کے ساتھ رہتا اور اوپرے دل سے ارکان اسلام کا بجالانا ان لوگوں کے کچھ کام نہ آیا عمر وبن العاص ؓ کی روایت کو عبداللہ ؓ بن مسعود کی روایت سے ملایا جاوے تو یہ مطلب بھی اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ بغیر خالص دل کے اسلام لانے کے پچھلے گناہ معاف نہیں ہوتے۔
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک ہی طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے بھی ان کو بھلا دیا۔ بیشک منافق نافرمان ہیں۔

67۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں تین سو منافق تھے اور ایک سو ستر منافق عورتیں تھیں اللہ پاک نے ان کا حال بیان فرمایا کہ ان کے عمل ایک کے ایک سے مشابہ ہیں کہ یہ لوگ منکر کا حکم کرتے ہیں اور اس کو بجالاتے ہیں منکر اس کام کو کہتے ہیں۔ جو شرعا ناجائز ہوا امر معروف سے باز رہتے ہیں معروف اس کام کو کہتے ہیں جو شرعا پسندیدہ مطلب یہ ہے کہ ان کے کام مومنوں کے برخلاف ہیں مومن بری باتوں سے بچتے ہی اور اچھے کام کرتے ہیں اور یہ لوگ برے کام کرتے ہیں اور اچھے کاموں سے باز رہتے ہیں پھر فرمایا کہ اپنے ہاتھوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے انہوں نے روک رکھا ہے نہ صدقہ دیتے ہیں نہ جہاد میں خرچ کرتے ہیں اور نہ دوسرے نیک کاموں میں اپنا مال اٹھانا گوارا کرتے ہیں ان لوگوں نے خدا کو اپنے دل سے فراموش کردیا ہے خدا بھی انہیں بھول جائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی نظر رحمت سے دور رہیں گے یہ لوگ فاسق ہیں راہ حق کو چھوڑ کر گمراہی کے راستہ میں پڑے ہوئے ہیں ان کا فسق وفجور کامل ہے جو اپنے حال پر جمے ہوئے ہیں۔ معتبر سند سے ابوامامہ ؓ کی روایت مسند امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے ایک شخص نے ایماندار آدمی کی نشانی پوچھی تھی جس کے جواب میں آپ نے فرمایا نیک کام کر کے جس آدمی کا دل خوش ہو اور برا کام کر کے وہ پچھتاوے ایسا آدمی ایماندار ہے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب ٹھہرتا ہے کہ ایماندار شخص کے دل میں عقبیٰ کے ثواب اور عذاب کا پورا یقین ہوتا ہے اس لئے نیک کام کر کے اس کے ثواب کی امید سے اس کا دل خوش ہوتا ہے اور برا کام کر کے عذاب کا خوف اس کے دل میں پیدا ہوجاتا ہے اس لئے برا کام کرنے کا اسے پچھتاوا ہوتا ہے۔ منافق شخص کے دل میں عقبیٰ کے ثواب اور عذاب کا پورا یقین نہیں ہوتا اس لئے اچھا کام کرنے اور برے کام سے بچنے کی اسے بھی توفیق نہیں ہوتی اور دوسروں کر بھی وہ اپنے رنگ میں ملانا چاہتا ہے غلبہ اسلام کے زمانہ میں منافق وہ لوگ کہلاتے تھے جو مسلمانوں کے ہاتھ سے اپنی جان اور اپنا مال بچانے کی غرض سے ظاہر میں تو اسلام قبول کرلیتے تھے مگر ان کے دل میں کفر کا اعتقاد جما رہتا تھا اگرچہ دل کا حال سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو معلوم نہیں لیکن آنحضرت ﷺ کہ زمانہ تک یہ بات تھی کہ اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی کے اپنے رسول کو ایسے لوگوں کے دل کا حال بتلا دیا کرتا تھا اب وحی کا زمانہ باقی نہ رہنے کے سبب سے کسی کے دل کا حال تو معلوم نہیں ہوسکتا ہاں ظاہری عملوں میں جو شخص مثلا نماز میں سستی کریگا یا جھوٹ بولے گیا لڑائی جھگڑے کے وقت گالی منہ سے نکالے گایا امانت میں خیانت اس سے ظہور میں آویگی تو ایسے شخص کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ شخص عملی منافق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے ظاہری عمل تو منافقوں سے ہیں لیکن اس کے دلی اعتقاد کا حال اللہ کو معلوم ہے صحیح بخاری میں حذیفہ ؓ بن الیمان کی جو یہ روایت ہے کہ منافق پنا آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک تھا اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک اعتقادی منافقوں کا حال بذریعہ وحی کے معلوم ہوجاتا تھا وحی کے زمانہ کے بعد یہ دلی حال کسی کو معلوم نہیں ان حذیفہ ؓ کو منافقوں کا حال خوب تفصیل سے معلوم تھا یہاں تک کہ یہ اس بات میں آنحضرت ﷺ کی بھید کی حدیثوں کا خزانہ مشہور تھے اعتقادی منافق اور عملی منافق میں یہ فرق ہے کہ اعتقادی منافق کافر ہے اور عملی منافق کبیرہ گناہ کا گناہگار ہے۔
Ayah 9:68

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی انکے لائق ہے اور خدا نے ان پر لعنت کردی ہے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے۔

68۔ اللہ پاک نے منافق مرد اور عورتوں کا حال بیان فرما کر اب یہ فرمایا کہ یہ وعدہ اللہ نے کرلیا ہے کہ منافق مرد اور عورتوں اور کفار کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں ڈالے گا اور فرمایا کہ بس ان کے ان افعال کی عوض میں یہی آگ کافی ہوگی اور پھر فرمایا کہ خدا نے ان پر لعنت بھی بھیجی ان پر کبھی کسی قسم کی اس کی رحمت نہ ہوگی اور اسی لئے پھر یہ فرمایا کہ ان پر ایسا عذاب نہیں کہا جائے گا جو کبھی منقطع ہوگا بلکہ وہ عذاب ان پر ہوگا جو ہمیشہ کے لئے قائم رہیگا سورة نساء میں گزر چکا 1 ؎ ہے کہ دوزخ کی آگ سے جب دوزخیوں کی ایک کھال جل جاویگی تو فورا اس کی جگہ نئی کھال پیدا ہوجاوے گی سورة الحج میں آوے گا کہ جب دوزخی لوگ عذاب سے گھبرا کر دوزخ سے نکلنا چاہیں گے تو فرشتے انہیں ڈھکیل کر پھر دوزخ کے اندر ڈال دیں گے یہ آیتیں عذاب مقیم کی گویا تفسیر ہیں۔ 1 ؎ تفسیر ہذاص 332 جلد اول :۔
Ayahs 9:69–70

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت طاقتور اور مال و اولاد کہیں زیادہ تھے۔ تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضا ئع ہوگئے اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے ؟ (یعنی) نوح (علیہ السلام) اور عاد اور ثمود کی قوم اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

69۔ 70۔ اوپر کی آیتوں میں بہت دور سے آنحضرت کے وقت کے جن منافقوں کا ذکر آرہا ہے اب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے پہلے لوگوں کا حال ان منافقوں کو یاد دلایا اول تو مبہم طور پر یہ فرمایا کہ ان منافقوں کا حال رسول اور کلام الہی سے ٹھٹھا کرنے اور نافرمانی میں پہلے لوگوں کا سا ہے اور باوجود اس کے کہ پہلے لوگ جسمانی قول اور درازی عمر اور کثرت مال واولاد میں ان سے بڑھ کر تھے لیکن سوا چند روزہ شرارت کرلینے کے نہ دنیا میں ان کو کچھ ثمرہ ملا کس واسطے کہ اللہ کے رسول آخر کو غالب رہے اور رسولوں کے مخالف لوگ عذاب الہی میں گرفتار ہو کر پامال اور ہلاکت ہوگئے اور عقبیٰ میں جو کچھ ایسے لوگوں کا انجام ہوگا وہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجاویگا علاوہ اس کے عقبیٰ کے انجام کا نمونہ دنیا میں بھی بعضے موقعوں پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو دکھا دیا مثلا ایسے لوگوں کے جنازہ کی نماز سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو منع فرما دیا جس کا ذکر آگے آتا ہے یا مثلا بعضے منافقوں کی موت کے وقت سخت آندھی چلی جس کا ذکر صحیح مسلم میں جابر ؓ بن عبداللہ کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس مہبم خوف کے بعد قوم نوح ( علیہ السلام) قوم ہود ( علیہ السلام) قوم صالح ( علیہ السلام) قوم ابراہیم ( علیہ السلام) قوم لوط ( علیہ السلام) قوم شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر صراحت سے اس لئے فرمایا کہ ملک شام عراق یمن ایسی ہی بستیوں میں یہ آفت زدہ قومیں رہتی تھیں جہاں آنحضرت کے زمانہ کے منافقوں کا گزر تجارت کی غرض سے اکثر ہوتا رہتا تھا چناچہ تبوک کی لڑائی کے جاتے وقت راستہ میں منافقوں نے چند شرارتیں آنحضرت اور قرآن شریف کی بدگوئی کی جو کی تھیں اس وقت ان لوگوں کا گزر قوم صالح ( علیہ السلام) کے وطن میں تھا غرض اس روز مرہ گزر کے سبب سے یہ منافق رات دن سنتے رہتے تھے کہ خدا اور رسول کے محالف لوگوں کا انجام یہ ہے کہ کسی کو طوفان نے آن گھیرا اور کسی کو آندھی نے کسی پر پتھر برسے اور کوئی باوجود بادشاہی قوت رکھنے کے مچھر کا کھاجا بن گیا یہ جو کچھ رات دن سنتے رہتے تھے وہی پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو سنا کر اچھی طرح ان کے کان کھول دئے کہ اگر یہ اپنی شرات اور نافرمانی سے باز نہ آویں گے تو ان پر بھی کوئی بلا اللہ کی طرف سے آنے والی ہے پھر مسلمانوں کا ذکر آئندہ کی آیت میں اس صراحت سے فرمایا کہ منافقوں کی بڑی عادت کے مقابلہ میں مسلمانوں کی ایک اچھی عادت ذکر فرمائی مثلا منافقوں کی عادت ذکر فرمائی کہ شریعت میں جو باتیں ناردا ہیں ان کو پھیلاتے ہیں اور آپس میں اسی کے چرچے رکھتے ہیں اور جن باتوں کا شریعت میں حکم ہے ان کو خود بھی نہیں کرتے اور اور لوگوں کو بھی ان باتوں سے روکتے ہیں اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی یہ عادت ذکر فرمائی کہ جن باتوں کا شریعت میں حکم ہے ان کو دہ خود بھی کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی ان کے کرنے کی حرص اور رغبت دلاتے ہیں اور شریعت کی ناراوہ باتوں سے خود بھی بچتے ہیں اور اور لوگوں کے بھی بچانے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح منافقوں کی یہ بری عادت ذکر فرمائی کہ وہ صدقہ خیرات سے اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی عادت ذکر فرمائی کہہ وہ زکوۃ اور صدقہ خیرات میں فراخ دست ہیں پھر اسی طرح دونوں فرقوں کا آخرت کا مقابلہ جتلانے کو فرمایا کہ منافقوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جہنم کا ٹھکانا ٹھہرار رکھا ہے اور مسلمانوں کے لئے جنت کا ٹھکانا ٹھہرار کھا ہے یہ مقابلہ کے طور پر دونوں فرقوں کی عادتیں اللہ تعالیٰ نے اس لئے ذکر فرمائیں کہ دونوں فرقوں کو ہدایت ہو منافق اپنے ناشائستہ عادتوں سے شرما کر ان عادتوں کو آئندہ ترک کریں اور مسلمانوں کہ عادتوں کو سیکھیں اور اختیار کریں اور مسلمان اپنی جگہ ہوشیار اور خبردار ہوجائیں اور ان میں کوئی چھوٹی بڑی منافقوں کی عادت ہو تو اس کو فورا چھوڑ کر سیدھے اور پکے مسلمان بن جائیں کیونکہ صحیح حدیثوں میں جہاں منافقوں کی عادت کا ذکر ہے وہاں اس کی بھی صراحت ہے کہ جس شخص میں یہ سب عادتیں ہیں وہ پورا منافق ہے اور جس میں ایک دو عادتیں ہیں وہ پورا مسلمان نہیں ادھورا منافق ہے چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ کی روایت میں اس کا ذکر صراحت سے ہے اور بعض حدیثوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانہ میں لوگوں کا حال بہت بدل جاوے گا اور منافقوں کی عادتیں لوگوں میں بہت پھیل جاویں گی یہاں تک کہ دنیا میں ایسی بےدینی اور خرابی پھیل جاوے گی کہ ہزار میں ایک دیندار گھر ہوگا تو اس کو اپنا دین سنبھالنا ایسا مشکل ہوگا جس طرح مٹھی میں آگ کا انگارہ پکڑنا مشکل ہے۔ یہ حدیث انس ؓ بن مالک کی روایت سے ترمذی میں ہے اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے لیکن ناقابل اعتراض سند سے اس مضمون کی دوسری حدیث ابوثعلبہ ؓ خشنی کی روایت سے ابوداؤد و ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے جس سے اس انس بن مالک ؓ کی روایت کو تقوبت ہوجاتی ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ ؓ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے اچھے رفیق کی مثال مشک کی اور برے رفیق کی مثال لوہار کے کھال دھونکنے والے شخص کی فرمائی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مشک کے پاس بیٹھنے والے شخص کو خوشبو کا فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح اچھے رفیق کی رفاقت سے ہر شخص کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچنے کی امید ہے اور جس طرح کھال دھونکنے والے شخص کے پاس بیٹھنے سے چنگاری اڑ کر پڑجانے اور کپڑوں کے جل جانے کا اندیشہ ہے اسی طرح برے رفیق کی رفاقت سے دین کی خرابی کا اندیشہ ہے ان سب حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیت میں منافقوں کی جن عادتوں کا ذکر ہے اللہ کے رسول ﷺ کی پیشین گوئی کے موافق اس آخری زمانہ میں جب وہ عادتیں کثرت سے لوگوں میں پھیل گئی ہیں تو گویا کھال دھونکنے والے شخص جیسے رفیق کثرت سے پیدا ہوگئے ہیں جن کی رفاقت سے ہر دیندار شخص کو پرہیز لازم ہے کیونکہ ایسے لوگوں کی رفاقت سے جس دیندار شخص میں منافقوں کی سی کوئی عادت پیدا ہوگئی تو صحیح حدیث کے موافق وہ ادھورا منافق ہے اور جس دیندار شخص میں یہ سب عادتیں پیدا ہوگئ وہ پورا منافق ہے جھوٹ بولنا وعدہ خلافی کا کرنا امانت میں خیانت کا کرنا لڑائی جھگڑے کے وقت گالی کا منہ سے نکالنا یہی علامتیں اور عادتیں منافق لوگوں کی ہیں اور اللہ کے رسول ﷺ کے فرمانے کے موافق اس آخری زمانے میں یہ عادتیں ایسی عام ہیں کہ دیندار شخص کو ان عادتوں سے بچنا ایسا ہی مشکل ہے جس طرح آگ کے انگارہ کو مٹھی میں لینا مشکل ہے جن لوگوں میں تھوڑی یا بہت یہ عادتیں ہیں ان کو ان کے چھوڑ دینے کی اور جو اللہ کے بندے اب تک ان عادتوں سے بچے ہوئے ہیں ان کو ہمیشہ ان سے بچنے کی اللہ تعالیٰ تو فیق دیوے آمین یارب العالمین آخر کہ ہر ایک طرح کے گنہگار کو جتلا دینے کے لئے یہ فرمایا اللہ تعالیٰ کی عادت ظلم و زیادتی کی نہیں ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت کی حدیث قدسی ایک جگہ گزرچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم کو اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا یہ حدیث آیت کے آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور خدا اور اس کے پیغمبر ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے۔

71۔ اللہ پاک نے منافقوں کے برے اوصاف بیان کر کے ان کے مقابلہ میں یہ ایماندار لوگوں کے اوصاف بیان فرمائے مختصر طور پر اس مقابلہ کا فائدہ اوپر کی آیت کی تفسیر میں بیان کردیا گیا ہے ایمانداروں کے اوصاف میں سے پہلا وصف یہ بیان کیا کہ مومن آپس میں ایک دوسرے کے مددگار غمخوار رنج وغم میں ساتھ دینے والے ہیں جب ایک مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو دوسرا بےچین ہوجاتا ہے جس طرح دیوار کی حالت ہوتی ہے کہ ایک اینٹ کو دوسری اینٹ سے مضبوطی اور قیام ہوتا ہے اسب طرح سب مومن باہم ملے جلے ہیں ایک کو ایک سے تقویت ہے صحیح بخاری ومسلم میں نعمان بن ؓ بشیر سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مومنوں کی آپس کی غمخواری اور مدد گاری کی مثال ایسی ہے جیسے اعضاء آدمی کے آپس میں ایک دوسرے کے غمخوا اور اور مددگار ہیں کہ جب ایک عضو کو کوئی تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے عضو کو بھی اس کا اثر پہنچتا ہے مثلا ایک انگلی دکھے تو سر سے پیڑ تک بخار کی حرارت ہوجاتی ہے دوسری تعریف مومنوں کی یہ بیان فرمائی کہ جس طرح منافق بری باتوں کو اختیار کرتے ہیں اور اچھے کاموں سے باز رہتے ہیں اس کے برخلاف جو یہ نیک خصلت ہے کہ اچھی باتوں کو اختیار کیا جائے اور بری باتوں سے پرہیز کیا جائے وہ وصف مومنوں کے اندر پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ناجائز باتوں سے بچتے ہیں اور حکم شرع کے موافق جو کرنے کی باتیں ہیں ان کو چٹکی سے بجالاتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی نصیحت کرتے رہتے ہیں پھر یہ تعریف بیان کی کہ نماز وزکوۃ کے پابند ہیں نماز بھی پڑہتے ہیں اور زکوۃ بھی دیتے ہیں بدنی اور مالی ہر طرح کی عبادت کیا کرتے ہیں پھر فرمایا کر یہ اوصاف ان لوگوں میں اس لئے ہیں کہ یہ لوگ ہر ایک امر میں خدا اور رسول کے محکوم بندے ہیں ہر وقت اس کے فرمانبروار خدا اور رسول کا جو کچھ انہیں حکم ہوگا اس کی بجا آوری میں کسی قسم کی کوتاہی ان سے نہ ہوگی پھر فرمایا کہ یہ لوگ جن میں یہ صفتیں پائی جاتی ہیں اللہ ان پر اپنی خاص رحمت نازل کریگا وہ بڑا ہی حکمت والا ہے اس کا کوئی کام انصاف اور حکمت سے خالی نہیں زبردست وہ ایسا ہے کہ جو کچھ وہ کرنا چاہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ وو آدمیوں میں ایک سی عادت کا ہونا اور بات ہے اور دو آدمیوں کا ایک سی عادت پر ہو کر آپس میں غمخواری کا برتاؤ رکھنا اور بات ہے اور پھر دو آدمی جس دین پر ہوں اس دین کے موافق باتوں میں دو آدمیوں کا ایک سی عادت پر ہونا اور بات ہے ‘ اور اس دین کی مخالف باتوں میں ایک سی عادت پر ہونا اور بات ہے اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی شان میں بعضہم من بعض جو فرمایا اس کا مطلب یہی ہے کہ اپنی جان اپنا مال بچانے کے لئے اگرچہ یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن اسلام کی مخالفت میں یہ سب کمربستہ اور ایک سی عادت کے ہیں اور مخالف اسلام لوگوں کا جتھا قائم رکھنا اللہ کو منظور نہیں ہے اس لئے ان میں آپ کی غمخواری نہیں ہے پھر ایماندار لوگوں کا حال فرمایا کہ اللہ اور رسول کے حکم پر چلتے ہی یہ سب ایک سی عادت کے ہیں اور ایسے لوگوں کے جتھے کو قائم رکھنا اللہ کو منظور ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان میں آپس کو غمخواری پیدا کردی ہے اس کی ان حکمتوں کو وہی خوب جانتا ہے صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے زینب ؓ بنت حجش ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ عالم لوگوں کے وعظ نصیحت کو چھوڑ دینے سے جس بستی کے عام لوگوں میں گناہوں کی کثرث ہوجاویگی تو ایسی بستی کے تمام لوگوں پر کوئی عذاب آجاویگا صحیح بخاری اور مسلم میں اسامہ بن زید ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بعضے عالم لوگوں کو طرح طرح کہ عذاب میں گرفتار دیکھ کر عام دوزخی لوگ ان عالموں سے پوچھیں گے کہ تم تو ہمیں گناہوں سے بچنے کی نصیحت کیا کرتے تھے پھر تم کیونکر اس عذاب میں گرفتار ہوگئے وہ عالم لوگ جواب دیویں گے کہ ہم خود اس نصیحت کے موافق عمل نہیں کرتے تھے اس واسطے ہم پر یہ بلا آگئی آیت میں ایماندار لوگوں کی آپس کی نصیحت کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ ایماندار عالموں کی نشانی یہ ہے کہ وہ عام لوگوں کو شریعت کی پابندی کی نصیحت کرتے رہیں اور خود بھی اس کے موافق عمل کریں عام لوگوں کی ایمانداری کی نشانی یہ ہے کہ وہ عالموں کی نصیحت کے پابند ہوں جس بستی کے عالموں اور عام لوگوں میں سے یہ باتیں اٹھ جاویں گی تو ان سب پر کوئی عذاب الہٓی دنیا میں بھی نازل ہوجاویگا اور عقبیٰ میں بھی کا ٹھکانا دوزخ ٹھہریگا۔ اہل سنت کے اعتقاد کے موافق اگرچہ کبیرہ گناہوں کے وہ گنہگار آخر کو دوزخ سے نکل کر جنت میں جاویں گے جن کے اعتقاد میں شرک نہ ہوگا لیکن آگ میں جلنے کا عذاب تو وہ بلا ہے جس کی گھڑی دو گھڑی کی برداشت بھی انسان سے نہیں ہوسکتی پھر آگ بھی وہ آگ جو دنیا کی آگ سے انہتر درجہ زیادہ تیز ہے اور عذاب بھی عذاب جو برسوں رہنے والا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک مسلمان کو اس بلا سے بچاوے بعضے آریہ لوگوں نے اسلام کے طریقہ نماز پر طرح طرح سے اعتراض کئے ہیں اہل اسلام نے اس کے جواب میں اہل اسلام کی نماز اور آریہ فرقہ کی سندھیا کا مقابلہ کر کے ان باتوں کو تفصیل سے لکھا ہے کہ اسلام کی نماز میں اللہ کے وحدانیت اور اسی کی خالص بندگی ہے اور سندھیا میں اندر وشنود وغیرہ دیوتاؤں کی پوجا ہے نہ اس میں اللہ کی وحدانیت ہے نہ اس کی خالص بندگی ہے سندھیا کے سوا کوئی طریق نماز کا فرقہ آریہ کے مذہب میں نہیں ہے اور اس سندھیا کا وہ حال ہے جو اوپر بیان کیا گیا پھر معلوم نہیں ایسے فرقہ کے لوگوں کو خالص وحدانیت الہٓی کے طریقہ عبادت پر اعتراض کرنے کا حق کونسی وید نے دیا ہے اگر سندھیا کی حقانیت کے خیال سے یہ اعتراض کیا گیا ہے تو سندھیا کی حقانیت تو خود وید سے ہی نہیں نکلتی کیونکہ سندھیا کا پتہ ونشان کہیں کسی وید میں نہیں ہے چاروں وید اس کے ذکر سے خالی ہیں پھر ایسے بےپتہ طریقہ کی حقانیت کا خیال ہی کیا ضرور ہے۔
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے۔ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضامندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

72۔ اللہ پاک نے مومنوں کے اوصاف بیان کر کے عقبیٰ میں ان کے واسطے جو جزائے خیر مقرر کی ہے اس کا ذکر فرمایا کہ ہم نے مومنوں سے اس بات کا وعدہ کرلیا ہے کہ انہیں آخرت میں جنت کے اندر داخل کریں گے وہ مومن خواہ مرد ہوں خواہ عورت ہوں اور جنت بھی ایسی ہوگی جس میں نہریں جاری ہیں اور بہت اچھے اچھے مکان اس میں بنے ہوئے ہیں اگرچہ دوزخ کے عذاب اور جنت کی نعمتوں کی تفصیل میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں لیکن صحیح بخاری ومسلم میں انس ؓ بن مالک کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ کے عذاب کی جو تفصیل مجھ کو معلوم ہے اگر وہ تفصیل لوگو کو معلوم ہوجاوے تو وہ روتے روتے تھک جاویں اور ان کا ہنسی کی بات پر ہنسنا بالکل کم ہوجاوے اسی طرح صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث قدسی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے جنت میں وہ وہ نعمتیں پیدا کی ہیں کہ جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ ان کا خیال کسی کے دل میں آسکتا ہے۔ ان صحیح حدیثوں کے موافق یہ کہا جاسکتا ہے کہ دوزخ کے عذاب اور جنت کی نعمتوں کی پوری تفصیل انسان کی طاقت سے باہر ہے جنت میں ایک بہت بلند مقام ہے اور عرش سے بہت نزدیک اس کا نام وسیلہ ہے یہ آنحضرت ﷺ کا مسکن ہے امام احمد ابوہریرہ ؓ سے ایک حدیث بیان فرماتے ہیں کہ حضرت نے یوں فرمایا ہے کہ جب تم مجھ پر درود بھیجو تو میرے واسطے خدا سے وسیلہ مانگو پوچھا کہ یارسول خدا ﷺ کیا چیز ہے آپ نے فرمایا وسیلہ جنت میں ایک اعلی درجہ ہے جس کو سوائے ایک شخص کے اور کوئی نہیں پائے۔ گا مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں مسلم نے بھی اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی روایت سے یوں بیان کیا ہے کہ جب مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو جس طرح وہ کہتا ہے تم بھی کہو پھر مجھ پر دردد بھیجو کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ پاک اس پر دس بار درود بھیجتا ہے پھر میرے واسطے وسیلے کی دعا مانگو اور وسیلہ جنت میں ایک مقام ہے وہ کسی بندے کے لائق نہیں ہے سوائے ایک شخص کے میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہوں پھر فرمایا کہ جو شخص میرے واسطے اللہ سے وسیلہ کا سوال کرتا ہے۔ اس کو قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہوگی عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ کی یہ روایت ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے پھر اللہ پاک نے جنت کا حال بیان کر کے یہ فرمایا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میں مومنوں سے راضی ہوں گا صحیح بخاری مسلم اور مؤطا میں ابوسعید خدری ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ جل شانہ جنت والوں سے کہے گا کہ کیا تم راضی اور خوش ہوئے وہ کہیں گے اے رب ہمارے ہم کو کیا ہوا ہے کہ ہم راضی نہ ہوں ہمیں تو وہ چیزیں تو نے دی ہیں جو کسی مخلوق کو نہیں دیں اللہ پاک فرمائے گا کہ کیا اس سے بھی بہتر تمہیں دوں کہیں گے اے رب وہ کیا چیز ہے جو اس سے بھی بہتر ہے اللہ پاک فرمائے گا کہ میں تم پر اپنی خوشنودی نازل کر دوں گا اور پھر میں تم پر کبھی خفا نہ ہوں گا۔ یہ حدیث ورضوان من اللہ اکبر کی گویا تفسیر ہے کیونکہ آقا کی رضا مندی غلام کے حق میں بڑی چیز ہے۔
Ayahs 9:73–74

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پا سکے اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کونسا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر ﷺ نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولتمند کردیا ہے ؟ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا اور اگر منہ پھیر لیں تو خدا ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دیگا۔ اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا۔

73۔ 74۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا حال اور ان کا عقبیٰ کا انجام پھر مومنوں کے اوصاف اور آخرت میں ان کے واسطے درجات عالیہ جو ہونگے ان کا بیان فرما کر آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ کفار اور منافقوں سے جہاد کرو اور یہ حکم دیا کہ اپنی عادت کے خلاف ان سے سختی سے برتاؤ کرو آپ کا شیوہ اور آپ کی پیدائش اگرچہ نرمی پر ہوئی اور آپ میں بردباری کی خصلت کامل طور پر تھی لیکن آیت میں گویا حکم ہے کہ اس عادت کو صرف مومنوں ہی کے ساتھ برتنا چاہئے کفار اور منافقوں کے ساتھ تو سختی ہی کرنی زیبا ہے پھر فرمایا کہ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے علمائے سلف وخلف کے منافقوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کرنے میں مختلف قول ہیں لیکن علی بن ابی طلحہ کی روایت سے امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح قول ہے کہ اس آیت میں اللہ پاک نے کافروں سے تلوار کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا ہے اور منافقوں سے زبان کے ساتھ کہ ان سے نرمی کا برتاؤ چھوڑ دیا جائے صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ ؓ بن عمر سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ فرمایا جس شخص نے ظاہر میں اسلام قبول کرلیا اس کی جان اور اس کے مال کی حفاظت شریعت میں ضروری ہے اور اس کے دل کے حال کا مجاسبہ اللہ تعالیٰ کے حوالہ ہے اس حدیث سے حضرت عبداللہ اللہ بن عباس ؓ کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کہ شریعت میں منافق لوگوں کے ساتھ تلوار کی لڑائی کا حکم نہیں ہے فقط زبانی وعظ نصیحت کا حکم ہے پھر اللہ پاک نے منافقوں کے اطوار بیان کئے کہ اسی بات کو یہ زبان سے کہتے ہیں اور پھر انکار کر جاتے ہیں اور جھوٹی قسمیں کھانے لگتے ہیں چناچہ کفر کے کلمے زبان سے نکالے اور جب اللہ کے رسول کو اس بات کی خبر پہنچی تو بالکل انکار کردیا اس آیت کی شان نزول کے مفسروں نے کئی سبب ذکر کئے ہیں ایک تو یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے غزوہ تبوک میں دو مہینہ تک قیام کیا اور مدینہ میں بیٹھ رہنے والوں کو برا سمجھتے رہے تو اس وقت جلاس بن سوید نے کہا کہ آنحضرت جو کچھ ہمارے ان بھائیوں کے حق میں کہتے ہیں جو مدینہ میں رہ گئے اگر سچ کہتے ہیں تو ہم لوگ گدھوں سے بھی برے ہیں یہ سن کر قیس بن عامر نے جو انصاری تھے جواب دیا کہ خدا کی قسم محمد ﷺ سچ کہتے ہیں اور تم گدھے سے بھی بدتر ہو یہ بات حضرت کو معلوم ہوئی وہاں یہ دونوں حاضر ہوئے جلاس نے انکار کیا اور قسم کھائی کہ میں نے یہ بات نہیں کہی ہے قیس نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ اے اللہ سچے کی سچائی اور جھوٹے کے جھوٹ کو ظاہر کردے اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی جلاس نے اپنے جی میں خیال کیا کہ میں نے بات بیشک کہی اور اللہ پاک نے اس آیت میں توبہ کرنے کو بھی فرمایا ہے اس لئے مناسب ہے کہ میں توبہ کرلوں چناچہ سچے دل سے اور بہت ہی اچھی توبہ کرلی دوسری شان نزول اس کی یوں بیان کی گئی ہے کہ عبداللہ بن ابی نے جب کہا تھا کہ مدینہ چل کر مہاجرین کو مدینہ سے نکال دیا جاوے گا جس کا ذکر سورة منافقین میں آویگا تو زیدبن ارقم ؓ نے یہ بات سن کر آنحضرت کو خبر کردی اور حضرت عمر ؓ عبداللہ بن ابی کے قتل کرنے پر آمادہ ہوئے اور عبداللہ اللہ بن ابی نے قسم کھائی اور کہا کہ میں نے یہ بات نہیں کہی تیسری شان نزول قتادہ نے اس کی یوں بیان کی ہے کہ دو شخص قبیلہ جہینہ اور غفار کے آپس میں لڑے جہینی غفاری پر غالب ہوا تو عبداللہ بن ابی نے قبیلہ اوس سے کہا کہ تم اپنے بھائی کی مدد نہیں کرتے اور قسم کھا کر کہا کہ ہماری اور محمد ﷺ کی وہی مثل ہے جس طرح کسی نے کہا ہے سمن کلبک یا کک جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنے کتے کو اس لئے کھلایا پلایا کہ آخر اس کے کتے نے اسی کو کاٹ کھایا ایک شخص نے دوڑ کر یہ بات آنحضرت ﷺ سے کہی آپ نے عبداللہ بن ابی سے پوچھا اس نے قسم کھائی کہ میں نے یہ نہیں کہا اس پر یہ آیت اتری لیکن اصل بات یہ ہے کہ منافتوں کی بہت سی اس طرح کی باتیں جمع ہوئیں اس مجموعہ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اوپر گزر چکا ہے کہ اس تبوک کے سفر میں ان منافقوں نے ایسی باتیں منہ سے نکالی تھیں جن سے نبوت اور قرآن کا انکار نکلتا تھا اس لئے ان باتوں کو کلمہ کفر فرمایا کر یہ فرمایا کہ ایسے لفظوں کے منہ سے نکالنے کے سبب سے ان لوگوں کا وہ ظاہری اسلام بھی باقی نہیں رہا۔ وھموا بمالم ینالوا کا یہ مطلب ہے کہ ان باتوں سے ان منافقوں نے جو ارادے اپنے دل میں کئے تھے ان میں سے ان کا کوئی ارادہ بھی پورا نہیں ہوا نہ مہاجرین کو یہ لوگ مدینہ سے نکال سکے نہ لشکر اسلام میں کمزوری پھیلا سکے اب آگے فرمایا کہ آزمائش کے طور پر اللہ تعالیٰ نے کچھ خوش حالی تو پہلے سے دے رکھی ہے اور اللہ کے رسول کے مدینہ میں آجانے کے سبب سے بعضے خون بہا کے معاملوں میں کچھ روپیہ پہلے کے خوشحالی کے علاوہ ان کو مل گیا ہے اس واسطے اپنی مالداری کے نشہ میں یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اگر آئندہ انہوں نے ان باتوں سے توبہ کرلی تو ان کے حق میں بہتر ہے ورنہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کا عذاب ان کو بھگتنا پڑیگا۔ دنیا کا عذاب تو مثلا اب ان کے حق میں موجود ہے کہ ان کی فضیحتی کی ہمیشہ آیتیں نازل ہوتی رہتی ہی جس سے ان کی ہر وقت کی ذلت ہے اور عذاب آخرت کا یہ حال ہے کہ جس تھوڑے سے مال کے نشہ میں انہوں نے وہ آخرت کا عذاب مول لیا ہے اس مال کی تو کچھ حقیقت نہیں قیامت کے دن تمام دنیا کا مال بھی معاوضہ میں دے کر اگر یہ لوگ نجات چاہیں گے تو اس عذاب سے ان کی نجات ممکن نہ ہوگی اور سختی اس عذاب کی اس قدر ہوگی کہ دوزخ کے پہلے ہی جھونکے میں دنیا کے مال ومتاع کا نشہ ان کو یاد تک نہ رہے گا صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن کم سے کم عذاب والا دوزخی آرزو کریگا کہ اگر اس کے پاس تمام دنیا کی دولت ہوتی اور وہ معاوضہ میں دے کر اس عذاب سے نجات پاسکتا تو وہ اس دولت کو بےدھڑک دیدیتا لیکن اس دن اس کی یہ آرزو کچھ کام نہ آویگی دوسری روایت انس ؓ بن مالک کی صحیح مسلم میں ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بڑے بڑے مالدار درزخیوں نے دنیا میں جو راحتیں اٹھائیں دوزخ کے پہلے ہی جھونکے میں ان راحتوں کو یہ لوگ بھول جاویں گے ان آیتوں میں آخرت کے عذاب کی سختی کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں آخر کو فرمایا دنیا کی آفتوں کے وقت ان کے رشتہ دار دوست آشنا مدد کرسکتے ہیں آخرت میں ایسے لوگوں کی کوئی مدد نہیں کرسکتا ہے :۔
Ayahs 9:75–78

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیکو کاروں میں ہوجائیں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے۔ اور (اپنے عہد سے) روگردانی کر کے پھر بیٹھے

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لئے جس میں وہ خدا کے رو برو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لئے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ان کے بھیدوں اور مشوروں تک سے واقف ہے اور یہ کہ وہ غیب کی باتیں جاننے والا ہے ؟

75۔ 78۔ اللہ پاک نے ان آیتوں میں فرمایا کہ بعضے منافق ایسے بھی ہیں جو قول وقرار کر کے پھرجاتے ہیں اپنا عہد و پیمان پورا نہیں کرتے ہیں ان کے دلوں میں مرتے دم تک منافق اپنے کا اثر رہے گا مطلب یہ ہے کہ مرتے دم تک ایسے لوگوں کو توبہ کی توفیق نہ ہوگی طبرانی ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ابوامامہ ؓ اور عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ثعلبہ بن حاطب انصاری تھا اس نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپ میرے واسطے دعا کریں کہ میں مالدار ہوجاؤں آپ نے فرمایا کہ تھوڑا مال جس کا شکر بندے سے ادا ہو سکے وہی بہتر ہے اور اگر خدا نے زیادہ دولت دی انسان غفلت میں پڑھ گیا تو وہ کسی طرح بھی اچھی دولت نہیں ہے مگر ثعلبہ نے دوبارہ آنحضرت سے کہا کہ اگر مجھے مال مل جائے گا تو میں بہت خیرات کروں گا اور غفلت میں نہ پڑوں گا آپ نے اس کے لئے دعا فرمائی اس کی بکریوں میں یہاں تک برکت ہوئی کہ مدینہ کے جنگل کی زمین ان بکریوں کے چرنے کو کافی نہیں ہوتی تھی آخر وہ مدینہ سے نکل کر کسی گاؤں میں چلا گیا اور وہیں رہنے لگا اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے محروم ہوگیا بلکہ جمعہ میں بھی حاضر ہونے سے عاجز ہوگا حضرت نے لوگوں سے پوچھا کہ ثعلبہ کا کیا حال ہے لوگوں نے بیان کیا کہ وہ خراب ہوگیا مال و دولت کی محبت میں پڑگیا بہرحال جب زکوۃ دینے کا وقت آیا تو اس نے نہیں دی اور کہنے لگا کہ یہ مال دینا تو گویا چٹی کا دینا ہے غرض کہ ایسی ویسی باتیں کر کے ٹال دیا تھوڑے دنوں بعد حضرت کے پاس زکوٰۃ لے کر آیا آپ نے قبول نہ کی اور آنحضرت کے بعد حضرت ابوبکر ؓ و حضرت عمر ؓ کی خلافت میں بھی اس کا مال زکوۃ میں نہ لیا گیا یہاں تک کہ حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں اس کا انتقال ہوگیا ابوامامہ ؓ سے جو شان نزول کی روایت ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الیمانی ضعیف ہے لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کی سند میں یہ راوی نہیں ہے اس واسطے یہ شان نزول صحیح ہے پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ نفاق جو ان کے دلوں میں جگہ پکڑ گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وعدہ کر کے قائم نہ رہے وعدہ کے خلاف کیا حضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب باتیں کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے اس حدیث کو ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے پھر اللہ پاک نے فرمایا یہ منافق اپنے دلوں میں یہ سجھے ہونگے کہ اللہ ان کے دلوں کی دغا بازی کو نہیں جانتا وہ تو ظاہر اور چھپی باتوں کو یکساں جانتا ہے وہ بڑا ہی غیب دان ہے اس کے نزدیک کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور جب سب باتوں کو کھلم کھلاوہ جانتا ہے تو وہ ہر ایک عمل مخفی پر بندوں کو جز اسزا بھی دیگا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کی ظاہری حالت پر نہیں ہے بلکہ اللہ کی نظر تو ہمیشہ انسان کے دل پر ہے کہ اس کا دلی اعتقاد کیا ہے۔ معتبر سند سے طبرانی اور مسند بزار میں انس ؓ بن مالک کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن جب لوگوں کے اعمال نامے اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہوں گے تو بعضے نیک عمل اگرچہ فرشتوں کو پورے اور لائق ثواب نظر آویں گے لیکن اللہ تعالیٰ فرمادے گا کہ یہ عمل خالص نیت سے نہیں کئے گئے اس واسطے ان کو اعمال ناموں میں سے نکال ڈالا جاوے۔ آیت میں منافقوں کے خفیہ مشوروں اور دل کے بھیدوں کا یہ جو ذکر ہے کہ وہ سب اللہ کو معلوم ہیں یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو انسان کے دل تک کا حال معلوم ہے اور اسی دل کے ارادہ اور نیت پر اس نے جزا اور سزا کا مدار رکھا ہے۔
Ayah 9:79

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور (بیچارے غریب) صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے ہیں (اور اس تھوڑی سی کمائی میں سے بھی خرچ کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے اور ہنستے ہیں خدا ان پر ہنستا ہے۔ اور ان کے لئے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے۔

79۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب صدقہ کا حکم آیا تو اپنے اپنے مقدور کے موافق مسلمان لوگوں آنحضرت کے پاس صدقہ تقسیم کرنے کی غرض سے لاتے تھے منافق لوگ اس صدقہ کا ٹھٹھا اڑاتے تھے جو مسلمان زیادہ صدقہ لانا اس کو کہتے یہ دکھاوے کے لئے لایا ہے اور جو کم مقدار مسلمان لاتا تو اس کو کہتے کہ اللہ کو ایسے صدقہ اور خیرات کی پروا نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی معتبر سند سے بزار میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیت میں جس دن کی خیرات کا ذکر ہے اس دن عبدالرحمن بن عوف ؓ نے دو ہزار روپیہ خیرات کئے اور دوسرے کسی صحابی نے آدھ سیر کے قریب کھجوریں خیرات کیں اس پر منافقوں نے آپس میں ٹھٹھے کے طور پر یہ چرچا کیا جس کا ذکر اوپر گزرا عبداللہ ؓ بن مسعود کی حدیث کے ساتھ ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کو ملایا جاوے تو اس خیرات کے قصہ کی پوری تفسیر ہوجاتی ہے آخر آیت میں دوزخ کے دکھ کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر انس ؓ بن مالک کی وہ دونوں روایتیں ہیں کو عذابا الیاما فی الدنیا والاخرۃ کی تفسیر کے طور پر قریب میں گزریں۔
Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

تم ان کے لئے بخشش مانگو یا نہ مانگو (بات ایک ہی ہے) اگر (ان کے لئے) ستر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے خدا اور اسکے رسول ﷺ سے کفر کیا اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

80۔ اس آیت میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ ان منافق لوگوں کا خاتمہ کفر پر ہوا ہے اور ایسے لوگوں کی مغفرت نہ ہونے کا اللہ کا وعدہ ہے اس لئے یہ لوگ ہرگز اس لائق نہیں ہیں کہ ان کے واسطے استغفار کی دعا کی جاوے کیونکہ اگر ستر بار بھی ان کے واسطے آپ استغفار کریں گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا کس واسطے کہ استغفار تو گنہگار اور خطا وار کے حق میں فائدہ مند ہے نہ جو سرے سے خدا و رسول کے ساتھ کفر کر کے بغیر توبہ کے مرگئے اس لئے ان میں کے جو لوگ اس حال میں مرگئے نہ تو ان کی مغفرت ہوسکتی ہے اور نہ ان میں کے زندہ لوگوں کو توبہ پر مجبور کیا جاویگا اس لئے اللہ تعالیٰ کے علم کے موافق جیتے جی یہ لوگ اپنی اسی گمراہی میں پڑے رہیں گے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس آیت کے متعلق یہ فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ کہ یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے حق میں استغفار کرنے کا اور نہ کرنے کا اختیار دیا ہے تو آپ نے فرمایا میں ستر بار سے زیادہ ان کے واسطے استغفار کروں گا شاید خدا انہیں بخش دے اس پر اللہ پاک نے غصہ ہو کر فرمایا کہ تمہارا استغفار کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے خاتمہ کا حال معلوم ہے اس لئے ان کی مغفرت نہ ہوگی یہ غصہ کی آیت سورة منافقون میں آویگی ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ شعبی سے یوں روایت کی ہے کہ جب عبداللہ بن ابی مرنے کے قریب ہوا تو اس کا بیٹا آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ یارسول اللہ میرا باپ قریب المرگ ہے آپ چل کر اس کے واسطے استغفار کریں اور نماز پڑھیں آپ نے اس سے پوچھا کہ تیرا کیا نام ہے اس نے کہا کہ حباب بن عبدللہ آپ نے فرمایا کہ حباب نام شیطان کا ہے تیرا نام عبداللہ بن عبداللہ ہے اور پھر آپ اس کے ہمراہ ہوئے اور اپنا کرتہ اسے پہنا دیا اور آپ نے اس کے واسطے مغفرت کی دعا کی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی آپ نے سمجھا کہ ستر بار سے زیادہ دفعہ مغفرت کی دعا کی جاویگی تو شاید اللہ تعالیٰ استغفار قبول کر لیگا اس پر یہ حکم ہوا کہ چاہے جتنی بار استغفار کرو اللہ ایسے لوگوں کو ہرگز نہیں بخشے گا یہ عامر بن شراحیل شعبی کوفہ کے قاضی اور امام ابوحنیفہ (رح) کے استادوں میں ہیں۔ یہ بڑے ثقہ اور جلیل القدر تابعی ہیں حدیث کی سب کتابوں میں ان سے روایتیں ہیں اکثر روایتیں ان کی حضرت علی ؓ حضرت عبداللہ ؓ بن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے ہوا کرتی ہیں ان کی حضرت علی ؓ سے جو روایت ہوا کرتی ہے اس کو بعضے علماء مرسل کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی اس کے علماء نے یہ بھی فیصلہ کردیا ہے کہ شعبی کی مرسل روایتیں صحیح ہوتی ہیں بغیر ذکر صحابی کے کوئی تابعی آنحضرت ﷺ سے رعایت کرے تو اس کو مرسل کہتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ حافظ ابوجعفر ابن جریر کی یہ مرسل روایت علماء کے فیصلہ کے موافق صحیح اور حدیث نبوی ہے مجاہد نے بھی یوں ہی مرسل طور پر اس روایت کو بیان کیا ہے۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ اور سھل بن سعد ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عمر بھر آدمی خواہ کیسے ہی عمل کرے لیکن جس حالت پر آدمی کا خاتمہ ہوتا ہے شریعت میں وہی حالت معتبر ہے خاتمہ کا حال سوا اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو معلوم نہیں تھا اس لئے صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ خاتمہ بخیر ہونے کا آخر سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو معلوم نہیں تھا اس لئے صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ خاتمہ بخیر ہونے کے آخر نشانی کیا ہے آپ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے علم ازلی کے موافق جس شخص کا خاتمہ بخیر کرنا ہوتا ہے تو وہ ایسے شخص کو آخر عمر میں نیک کاموں کا شوق عطا فرما دیتا ہے اور اسی حالت پر وہ شخص دنیا سے اٹھ جاتا ہے جس سے اس کا خاتمہ بخیر ہوجاتا ہے خاتمہ بخیر ہونے کی نشانی کی یہ حدیث انس ؓ بن مالک کی روایت سے ترمذی میں ہے اور ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شریعت میں خاتمہ کی حالت معتبر ہے اور جن منافق لوگوں کا حال آیت میں ہے علم الہی کے موافق آخر عمر میں وہ اپنے عقیدوں سے باز آنے والے اور خالص نیت کے نیک عملوں میں لگنے والے نہیں تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے وہ شوق بھی ان کے دل میں نہیں پیدا کیا اور عمر بھر جس حالت پر یہ لوگ تھے آخر اسی حالت پر دنیا سے اٹھ گئے اب اللہ تعالیٰ کا یہ تو وعدہ ہے کہ جس طرح سوئی کے ناکے میں ہو کر اونٹ نہیں نکل سکتا اسی طرح ایسے لوگ جنت میں نہیں جاسکتے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان لوگوں کے خاتمہ کا حال بتلا کر ایسے لوگوں کے حق میں مغفرت کی دعا کرنے منع فرمایا یہ سوئی کے ناکے اور اونٹ کی مثال سورة اعراف میں گزر چکی ہے دعا مغفرت کے ساتھ اس آیت میں ستر دفعہ کی قید ہے اور سورة منافقون میں دعائے مغفرت کے کرنے اور نہ کرنے کو یکساں فرمایا ہے جس سے مطلب یہ ہے کہ ستر دفعہ کی قید گنتی کی حد کے لئے نہیں ہے بلکہ فقط کثرت کے جتلاتے کے لئے ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ بےگنتی دعائے مغفرت بھی ایسے لوگوں کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
Ayahs 9:81–82

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جو لوگ (غزوہ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا ﷺ (کی مرضی) کے خلاف بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ (خدا کی راہ میں) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات کو) سمجھتے۔

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

یہ (دنیا میں) تھوڑا ساہنس لیں اور (آخرت میں) انکو ان اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں بہت سا رونا ہوگا۔

81۔ 82۔ اللہ پاک نے اس آیت میں ان منافقوں کی مذمت بیان کی جو غزوہ تبوک میں آنحضرت ﷺ کے ہمراہ جہاد میں نہیں شریک ہوئے اور حضرت کا ساتھ نہیں دیا اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور آنحضرت ﷺ کے جانے پر خوشی ظاہر کی اور لڑنے سے جی چرایا اور اپنے مال و دولت کی خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کیا اور خدا کی راہ میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھنا۔ برا سمجھا حالانکہ خدا کے نزدیک بڑے بڑے مرتبے اس شخص کے ہیں جو جان ومال سے جہاد میں شریک ہو ان منافقوں نے خود تو جی چرایا تو چرایا مگر اوروں کو بھی منع کرتے تھے کہ ایسی گرمی میں کہا جہاد میں لڑنے کو جاؤ گے جیسا کہ خود اللہ پاک نے آگے بیان فرمایا۔ صحیح مسلم میں سفیان ؓ بن عبداللہ ثقفی کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے آپ نے فرمایا کہ شرع کے احکام کو دل سے ماننا چاہئے اور پھر ان پر چستی سے قائم رہنا چاہئے 1 ؎ صحیح مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ رہتا ہے جو اس شخص کو نیک کاموں کی رغبت دلاتا رہتا ہے اور ایک شیطان رہتا ہے جو اس شخص کو برے کاموں میں پھنسانے کی کوشش کرتا ہے ان حدیثوں کو آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ منافق لوگ شرع کے احکام کو دل سے نہیں مانتے اس لئے ان احکام کی بابندی ان پر شاق گزرتی ہے اسی واسطے دین کی لڑائی کا کوئی پاس کا سفر ہو اور اس میں کچھ مال ہاتھ آجانے کی امید بھی ہو تو ایسے موقع پر یہ لوگ اوپرے دل سے لشکر اسلام کا ساتھ دیتے ہیں یہ تبوک کا سفر دور کا سفر ایک سخت موسم میں تھا اس لئے جھوٹے عذر کر کے اس سفر سے بچ گئے اور ان کے ساتھ کے شیاطینوں نے ان کو یہ بہکا دیا کہ ایسے سخت موسم میں طرح طرح کے عذر دل سے سفر کو ٹال دیا تو گویا ان لوگوں نے یہ بڑی ہو شیاری کی اس بہکاوے کی ہوشیاری پر فخر کر کے لشکر اسلام کی واپسی تک یہ لوگ خوشیاں مناتے تھے انہی خوشیوں کا ذکر آیت میں ہے۔ فی سبیل اللہ کے معنے فی دین اللہ جس کا مطلب یہ ہے کہ دین الہی کے احکام کی عظمت ان لوگوں کے دل میں نہیں ہے اس لئے ان احکام کی پابندی میں یہ لوگ اپنی جان اور اپنے مال کو خطرہ میں نہیں ڈالنا چاہتے بیہقی اور تفسیر ابن جریر میں کئی طریقہ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے تبوک کی لڑائی کے لئے مدینہ سے سفر کرنے کا حکم دیا تو وہ موسم میں سفر مناسب نہیں ہے اور خود بھی مصنوعی عذر کر کے مدینہ میں رہ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جھوٹے عذر کر کے یہ لوگ دنیا کی تھوڑی سی گرمی سے اگر بچ گئے تو یہ جگہ کچھ خوش ہونے اور ہنسنے کی نہیں ہے بلکہ نہایت رونے کی جگہ ہے کہ اس میں انہوں نے اللہ کے رسول کے حکم کی مخالفت کی جس مخالفت کی سزا میں ان کو دوزخ کی آگ کی گرمی برداشت کرنی اور سہنی پڑے گی۔ جس کے آگے دنیا کی گرمی کی کچھ بھی حقیقت نہیں ہے۔ صحیح بخاری مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ‘ کہ دنیا میں جو آگ لوگوں کے کام آتی ہے یہ نسبت دوزخ کی آگ کے انہتر 29 دریجہ حرارت اس کی گھٹائی گئی ہے مسندامام احمد بن حنبل ابن ماجہ اور بہیقی میں انس ؓ بن مالک سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ تین ہزار برس تک دوزخ کی آگ دھونکائی گئی ہے اس لئے دھونکاتے دھونکاتے اس کا رنگ کالا ہوگیا ہے ستر درجہ حرارت کم کر کے دو دفعہ دریا میں ٹھنڈی کی جا کر وہ آگ دنیا میں اتاری اگر ایسے ہی اتاری جاتی تو دنیا میں نہ وہ آگ ٹھہر سکتی نہ اس سے کوئی فائدہ اٹھا سکتا تھا اس حدیث کی سند کے ایک راوی یزید بن ابان رقاشی کو اگرچہ بعضے علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن ابن معین اور ابن عدی نے اس کو ثقہ کہا ہے اسی واسطے حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں عبداللہ بن قیس ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ کے عذاب کی تکلیف سے دوزخی لوگ یہاں تک روئیں گے کہ ان کے آنسوؤں میں اگر کشتی چلائی جاوے تو چل سکے اور جب ان کے اصل آنسو سوکھ جاویں گے تو یہ لوگ خون کے آنسوؤں سے روئیں گے دنیا کی دھوپ کی ذراسی تیزی اور دنیا کی ناپائدار ہستی ان دونوں کے مقابلہ کے طور پر دوزخ کی آگ کی تیزی اور دوزخ کے مدتوں تک کے رونے سے اللہ تعالیٰ نے جو لوگوں کو ڈرایا ہے یہ حدیثیں سمجھ دار آدمی کے حق میں اس ڈر کی گویا تفسیر ہے۔