Ayah 9:2828۔ اللہ پاک نے مشرکوں کے حق میں یہ حکم فرمایا کہ یہ لوگ ناپاک ہیں اس لئے 9 ہجری کے بعد پھر یہ لوگ حرم شریف میں داخل نہ ہونے پائیں کیونکہ کفرو شرک جو ان کے دلوں میں ہے وہ نجاست سے بھی بڑھ کر ہے اس لئے یہ لوگ پلید ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ مشرکوں کا بدن ناپاک ہے لیکن اس قول کی سند ضعیف ہے اس لئے قتادہ یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ اپنی پاکی اور صفائی کی احتیاط نہیں کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں سے بچتے ہیں اس لئے وہ لوگ نجاست کے ساتھ موصوف ہیں خود انکا جسم ناپاک نہیں ہے جمہور مفسرین کا قول قتادہ کے قول موافق ہے معتبر سند سے مسند امام احمد اور ابوداؤد میں جابر ؓ بن عبداللہ سے روایت ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ کی لڑائیوں میں مشرک لوگوں کے برتن جو کبھی مل جاتے تھے تو ان برتنوں میں کھانے پینے کو آنحضرت ﷺ منع نہیں کرتے تھے اس روایت سے جمہور کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کہ آیت میں مشرکوں کی نجاست سے مطلب اعتقادی نجاست ہے ظاہری نجاست نہیں ہے کیونکہ ظاہری نجاست اگر آیت مقصود ہوتی تو ان برتنوں میں مشرکوں کے ہاتھوں کی رطوبت کے جذب ہوجانے کے بعد پھر وہ برتن مسلمانوں کے برتنے کے قابل کیونکر رہ سکتے تھے۔ سوائے مسجد حرام کے اور مسجدوں میں مشرکوں کو آنے دینا منع ہے یا نہیں ہے اسی واسطے اس میں علما کا اختلاف ہے جس کی تفصیل بڑی کتابوں میں ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جس میں یہ ہے کہ اسلام لانے سے پہلے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھا گیا اس روایت سے ان علماء کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے جن کے نزدیک سوائے مسجد حرام کے اور مسجدوں میں مشرکوں کا آنا منع نہیں ہے۔
تفسیر ابو الشیخ ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور سعید بن جبیر وغیرہ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب 9 ھ میں آنحضرت نے موسم حج کے وقت حضرت علی ؓ کو مکہ بھیج کر عام حکم سورة برات کا سنوادیا کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حج کو نہ آسکے اور مکہ میں انہی لوگوں کے سبب سے تجارت ہو کر اور کھانے پینے کا سامان آن کر اہل مکہ کی گزر چلتی تھی اب جب ان کا حرم کا آنا بند ہوگیا تو ان کا مکہ کا سفر بھی باقی نہ رہا کیونکہ رسم جاہلیت کے موافق حج کے ارادہ سے یہ لوگ موسم حج پر مکہ کو آیا کرتے تھے اس لئے ان لوگوں کے مکہ میں نہ آنے سے مکہ کے لوگوں کو بڑا تردد ہوا کہ اب کھانے پینے کی گزر کیونکر چلے گی 8 ھ میں فتح مکہ ہو کر اکثر اہل مکہ مسلمان ہوچکے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین اور ان کا تردد رفع کرنے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی اور پھر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا بہت جلد اس کا سبب بھی یہ پیدا کردیا کہ اہل یمن جو مسلمان ہوگئے تھے وہ ہر طرح کا تجارت کا سامان مکہ میں لانے لگے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو آنحضرت نے یہ حکم سنانے کی غرض سے بھیجا کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا پھر حضرت ابوبکر صدیق کو تو لوگوں کو مسائل حج سکھانے کا کام سپرد رکھا اور مشرکوں کی ممانعت حج کا حکم اور عہد کا ذکر جو اس سورة میں ہے یہ حکم سنانے کی غرض سے خاص طور پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پیچھے حضرت علی ؓ کو بھیجا اس سے بعضے لوگوں نے حضرت علی ؓ کی فضیلت جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر نکالی ہے وہ غلط ہے کیونکہ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خود اس بات کی صراحت فرما دی تھی کہ حضرت علی ؓ کو آپ نے صرف اس غرض سے بھیجا تھا کہ عرب کے دستور کے موافق آپ کے ایک رشتہ دار کے ذریعہ سے عہد کا حکم مشرکوں کو پہنچ جاوے اس لئے کہ عرب کے لوگ عہد کے پیغام میں رشتہ دار کا ذریعہ ہونا ضروری خیال کرتے ہیں۔ صحیح ابن حبان اور ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں جابر بن عبداللہ ؓ کی روایتیں ہیں جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کسی شخص کی گزران کے ایک سہارے کچھ فتور پڑجاوے تو اس شخص کو اس سے گھبرانا نہیں چاہیے اللہ تعالیٰ گزران کا کوئی دوسرا سہارا ضرور پیدا کر دے گا کیونکہ ہر شخص کا رزق اللہ کے ذمہ ہے اس لئے ہر شخص کا عمر بھر کا مقررہ رزق کا ایک ایک دانہ جب تک پورا نہیں ہوجاتا تو اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے اور یہ بھی ہر شخص کی سمجھ میں آسکتا ہے کہ گزران کے ایک سہارے پر آدمی کا رزق منحصر نہیں ہے ایک سہارا اگر بند ہوجاوے گا تو اللہ کی قدرت سے ضرور کوئی دوسرا سہارا پیدا ہوجاوے گا جابر بن عبداللہ ؓ کی اس حدیث کو حاکم نے صحیح کہا ہے اور ابن حبان کی سند بھی معتبر ہے۔
Ayah 9:2929۔ اوپر کی آیت میں مشرکوں کو حرم میں آنے سے منع فرما کر مسلمانوں کو اس بات کی تسلی دی تھی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آسودہ حال کر دے گا مشرکوں کے مکہ میں نہ آنے کا کوئی غم نہ کیا جاوے اس کے بعد اب یہ فرمایا کہ مشرکوں سے اس واسطے لڑو کہ یہ لوگ بت پرست اور قیامت کے منکر ہیں اور اہل کتاب کے حق میں یہ فرمایا کہ یہ لوگ مومن نہیں ہیں کیونکہ یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ٹھہرایا اور نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں خدا کا بیٹا ہونے کا گمان کیا مجاہد اس آیت کی شان نزول یہ بتاتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت اتری ہے جب آنحضرت ﷺ کو جنگ روم کا حکم ہوا تھا اور اسی بنا پر آپ نے غزوہ تبوک کا قصد کیا تھا اور کلبی یہ بیان کرتے ہیں یہ آیت بنی قریظہ اور بنی نضیر کے حق میں اتری ہے اور آپ نے ان سے صلح کی تھی اور جزیہ مقرر کیا تھا سب سے پہلے یہی جزیہ مسلمانوں کے ہاتھ لگا تھا پھر فرمایا اگرچہ یہ لوگ اس بات کے بظاہر قائل ہیں کہ دوزخ جنت ہے مگر حقیقت میں ان کا ایمان اس پر نہیں ہے کہتے ہیں کہ جنت میں کھانا پینا کچھ نہ ہوگا تو پھر اس اعتقاد کا آدمی کیونکر مومن ہوسکتا ہے علاوہ اس کے خدا کے ایمان اس پر نہیں ہے کہتے ہیں کہ جنت میں کھانا پینا کچھ نہ ہوگا تو پھر اس اعتقاد کا آدمی کیونکر مومن ہوسکتا ہے علاوہ اس کے خدا نے جن چیزوں کو حرام بتایا ہے یہ لوگ اس کو حرام نہیں سمجھتے سور کا گوشت شراب اور توریت و انجیل کا تحریف کرنا ان کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے پھر فرمایا کہ یہ اہل کتاب دین اسلام کو اختیار نہیں کرتے ہیں حالانکہ یہ دین سارے پچھلے دینوں کا ناسخ ہے اور حضرت ﷺ کے بعد کل پہلے کے دین منسوخ ہوگئے اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں یہی قول جمہور مفسرین کا ہے باقی رہے پارسی لوگ وہ بھی اہل کتاب کے حکم میں شامل ہیں عبدالرحمن بن عوف ؓ کی حدیث مسند امام احمد صحیح بخاری ابوداؤد ترمذی اور مسند شافعی میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ وہی طریقہ برتو جو طریقہ اہل کتاب کے ساتھ برتنا چاہیے پھر اللہ پاک نے ان لوگوں سے دین کی لڑائی کی حد جزیہ کو ٹھہرایا اور فرمایا کہ جب تک یہ لوگ جزیہ نہ دیں ان سے لڑے جاؤ جزیہ اس مال کا نام ہے جو ہر سال مشرک لوگوں سے صلح کی شرط کے طور پر واجب الادا ٹھہر جاتا ہے جزیہ کے ہاتھ سے دینے کے معنے یہ ہیں کہ بزور ان سے وصول کیا جائے یا وہ خود ہاتھوں پر رکھ کر پیش کریں مطلب یہ ہے کہ یہاں تک لڑو کہ یہ لوگ جزیہ دینے پر بخوشی رضا مند ہوجائیں اور ہمیشہ بلا جبر ادا کریں عبدالرحمن بن عوف ؓ کی جس حدیث کا ذکر اوپر گزرا اسکی بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ پارسی لوگوں کی بستیاں فتح ہوجانے کے بعد حضرت عمر ؓ یہ کہا کرتے تھے کہ ان لوگوں سے کس شرط پر صلح قائم رکھی جاوے مجھ کو کوئی حکم اس باب میں معلوم نہیں ہوتا حضرت عمر ؓ کا یہ مقولہ سن کر عبدالرحمن بن عوف ؓ نے یہ شہادت ادا کی کہ آنحضرت ﷺ نے ہجر بستی کے پارسیوں سے جزیہ لیا ہے عبدالرحمن بن عوف کی اس شہادت پر پارسیوں سے جزیہ لینے کا فیصلہ تو ہوگیا مگر یہ خدشہ حضرت عمر ؓ کو اس کے بعد بھی باقی رہا کہ آنحضرت ﷺ نے ہجر بستی کے پارسیوں سے جزیہ لیا اور امت کے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ پارسیوں کے ساتھ آئندہ اہل کتاب کا سا برتاؤ رکھا جاوے لیکن اس سے صاف طور پر یہ بات نہیں کھلی کہ پارسی لوگ اہل کتاب ہیں یا نہیں معتبر سند سے تفسیر عبد بن حمید میں عبدالرحمن بن ابزی ؓ صحابی کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پارسیوں کے اہل کتاب ہونے یا نہ ہونے کے خدشہ کو رفع کرنے کے لئے حضرت عمر ؓ نے ایک دن صحابہ کو جمع کیا اور اس مسئلہ میں گفتگو شروع ہونے کے بعد حضرت علی ؓ نے فرمایا پارسی لوگ اہل کتاب تھے لیکن ان کے ایک بادشاہ نے اپنی بیٹی سے بدفعلی کی اس کے وبال میں ان کی آسمانی کتاب اٹھ گئی 1 ؎ معتبر سند سے حضرت علی ؓ کی یہ روایت تفسیر عبدالرزاق اور مسند امام شافعی (رح) میں بھی یہ ہے لیکن اس میں بجائے بیٹی کے بہن سے بدفعلی کے کرنے کا ذکر ہے حضرت علی ؓ کی روایت کی یہ شان نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ سے انہوں نے یہ مسئلہ نہ سنا ہو اور خود بخود اپنی رائے سے صحابہ کے مجمع میں یہ اپنا قول پیش کردیا ہو اس لئے حضرت علی ؓ کی اس روایت کو حدیث نبوی جان کر اس مجمع میں کے کسی صحابی نے پھر پارسیوں کی اہل کتاب ہونے پر کچھ اعتراض نہیں کیا ہجر یمن کی بستیوں میں ایک بستی بحرین کے قریب ہے صحیح بخاری و مسلم میں عمرو بن عوف ؓ کی روایت ہے جس میں یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابوعبیدہ بن الجراح کو جزیہ کی رقم لانے کے لئے بحرین بھیجا تھا اس سے بھی پارسیوں سے جزیہ کا لینا ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس وقت بحرین کے باشندے بھی اکثر پارسی لوگ تھے جمہور کے نزدیک کم سے کم مقدار جزیہ کی ہر بالغ مرد سے فی سال ایک اشرفی ہے یہ اشرفی اس وقت دس درہم کی تھی اس سے زیادہ تفصیل جزیہ کی مقدار کی بڑی کتابوں میں ہے تورات کی نبوت اشعیا کے باب میں اور دوسرے باب سفر اول میں اسی طرح انجیل لوقا کے سولویں باب میں جنت کے کھانے پینے کا اور دوزخ کے عذاب جسمانی کا ایسا ہی ذکر ہے جس طرح قرآن شریف میں ان باتوں کا ذکر آیا ہے اہل کتاب عقلی جماعتوں سے آسمانی کتابوں کی ان باتوں کو نہیں مانتے اسی واسطے فرمایا کہ اس طرح کی عقلی باتوں کے پابند شخص کو آسمانی کتابوں کا پابند نہیں قرار دیا جاسکتا اس تفسیر میں یہ بات کئی جگہ بیان کردی گئی ہے کہ لڑائی کا حکم اسی وقت مسلمانوں کے حق میں واجب العمل ہے کہ جب مسلمانوں کے پاس لڑائی کا پورا پورا سامان پایا جاوے ورنہ ضعف اسلام اور بےسروسامانی کی حالت میں درگزر کی ان آیتوں میں عمل کرنا جو لڑائی کے حکم سے پہلے مسلمانوں کی بےسروسامانی کے وقت نازل ہوئی ہیں۔
Ayah 9:3030۔ تفسیر سدی اور تفسیر کلبی میں ہے کہ جب بنی اسرائیل پر بخت نصر بابلی کا غلبہ ہوا اور اس لڑائی میں علماء بنی اسرائیل کچھ قتل ہوئے اور کچھ قید کر لئے گئے صرف حضرت عزیز ؓ باقی رہ گئے ان کی عمر کچھ زیادہ نہ تھی اس لئے ان کو کسی نے نہ مارا نہ قید کیا علماء بنی اسرائیل کا یہ حال دیکھ کر عزیر (علیہ السلام) رونے اور یہ کہنے لگے کہ افسوس بنی اسرائیل میں کوئی عالم باقی نہ رہا اب علم جاتا رہے گا اور اس قدر روئے کہ ان کی پلکیں گر گئیں ایک روز ان کا گزر عیدگاہ پر ہوا وہاں ایک عورت قبر پر ایک قبر کے پاس رو رو کر یہ کہہ رہی تھی کہ اے میرے کھانا کھلانے والے اے میرے کمائی کرنے والے حضرت عزیر ( علیہ السلام) نے اس عورت سے کہا کہ اے عورت تو یہ بتلا اس مرنے والے سے پہلے تجھے کون روٹی کپڑا دیتا تھا اس نے کہا اللہ یہ سن کر حضرت عزیر ( علیہ السلام) نے کہا کہ پھر تجھ کو افسوس کس بات کا ہے خدا تو ہمیشہ ہی زندہ رہے گا وہ کبھی مرنے والا نہیں ہے تو کیوں روتی ہے اس عورت نے کہا کہ اے عزیر بنی اسرائیل کے علماء سے پہلے لوگوں کو کون علم سکھلاتا تھا حضرت عزیر نے کہا کہ اللہ پھر اس عورت نے کہا کہ تم کس لئے ان کے مرنے سے روتے ہو اور غم کھاتے ہو اللہ اپنی مخلوق کو کسی نہ کسی طرح پھر علم سکھاوے اس سے عزیر (علیہ السلام) نے جان لیا کہ یہ مجھے نصیحت کی گئی ہے پھر انہیں حکم ہوا تم نہر پر جاؤ وہاں غسل کر کے دو رکعت نماز پڑھو پھر ایک بوڑھے آدمی سے تمہاری ملاقات ہوگی وہ جو کچھ تم کو کھلاوے تم کھا لینا یہ بموجب حکم کے وہاں گئے اور نہاد ہو کر دو رکعت نماز سے جب فارغ ہوئے اور بوڑھے آدمی سے ملے اس نے کہا کہ اپنا منہ کھولو انہوں نے جب منہ کھولا تو اس بڈھے نے ایک چیز مثل انگارے کے دھکتی ہوئی ان کے منہ میں ڈال دی اور تین مرتبہ ایسا ہی کیا عزیر (علیہ السلام) جب وہاں سے واپس ہوئے تو تورات ان کو یاد ہوگئی انہوں نے بنی اسرائیل سے آ کر کہا کہ میں تمہارے پاس تورات لایا ہوں وہ کہنے لگے کہ عزیز ( علیہ السلام) تم جھوٹے آدمی نہ تھے یہ کب سے جھوٹ بولنا اختیار کرلیا عزیر (علیہ السلام) نے یہ بات سن کر ساری تورات لکھ دی اس لئے کہا کہ یہ خدا کے بیٹے ہیں ورنہ اور کسی میں یہ طاقت کب تھی غرضیکہ یہ بات بہت مشہور ہوگئی اور اکثر یہود ان کو خدا کا بیٹا کہنے لگے اسی طرح نصاریٰ نے جب دیکھا کہ مسیح مردوں کو جلاتے ہیں اور کوئی باپ ان کا نہیں ہے تو بعضے ان کو خدا کا بیٹا کہنے لگے اور بعضے اللہ مسیح اور مریم ان تینوں کو ملا کر خدا کہنے لگے اس لئے فرمایا کہ ان کی یہ باتیں صرف زبانی ہیں کوئی دلیل ان کے قول کی آسمانی کتابوں میں نہیں ہے جو کچھ ان کی زبان پر آیا وہ کہہ دیا جس طرح اگلے لوگوں نے کفر کیا تھا اسی طرح یہ یہود و نصاریٰ بھی کفر کرنے لگے اور بعض مفسروں نے یضاھون قول الذین کفروا من قبل کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ نصاریٰ اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہنے لگے جس طرح ان سے پہلے یہودی نے عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہا تھا بہرحال خدا نے خفگی سے یہ فرمایا کہ خدا انہیں غارت کرے یہ کیونکر ایسی باتیں کہتے ہیں اور کس طرح راہ حق سے بھٹکتے پھرتے ہیں آسمانی کتابوں میں بہت سی دلیلیں اللہ کی وحدانیت کی ان کے پیش نظر ہیں اور بہت سی حجت اس بات پر قائم ہوچکی کہ خدا اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس کی بی بی ہے نہ اس کا بیٹا یہ باتیں تو مخلوق کے ساتھ مخصوص ہیں خالق جل شانہ ان باتوں سے بالکل پاک ہے ذالک قولھم بافواھھم اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ یہودی عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاری عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا جو کہتے ہیں یہ ان کی ایک ایسی ایجادی بات ہے جس کو اپنی کتابوں سے یہ لوگ ہرگز ثابت نہیں کرسکتے اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے کیونکہ اصلی تورات اور انجیل میں اگرچہ اہل کتاب نے کچھ ردو بدل کردیا ہے لیکن اس ردو بدل کے بعد بھی قرآن شریف کی پوری صداقت موجودہ تورات اور انجیل سے نکل سکتی ہے تورات سے تو یہ صداقت یوں نکل سکتی ہے کہ مثلا سفر اول کے ساتویں باب اور آٹھویں باب میں جب اختلاف پایا گیا تو علماء یہودی نے اپنی کتابوں میں اس بات کا صاف اقرار کرلیا کہ ان دونوں بابوں میں سے ایک باب میں عزیر (علیہ السلام) سے ضرور غلطی ہوئی ہے اب اس اقرار کے ساتھ انہیں یہ اقرار بھی لازم ہے کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے نہ تھے کیونکہ ایسی غلطی اللہ کے بیٹے کی شان سے بہت بعید ہے انجیل سے یہ صداقت یوں نکل سکتی ہے کہ انجیل یوحنا کے 17 باب میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ یا اللہ تو میرا معبود ہے اور میں تیرا رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول کے بعد جو عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتا ہے گویا وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے جھٹلانے کے درپے ہے اور ایسے عیسائی کے جھٹلانے کے لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول کافی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ شریعت موسوی اور شریعت عیسوی کی اسی طرح کی غلطیوں کو قرآن شریف میں جگہ جگہ جتلایا گیا ہے اس پر بھی اہل کتاب میں سے جو لوگ اپنی پچھلی غلطیوں پر اڑے رہیں گے عقبیٰ میں ان کی نجات مشکل ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اہل کتاب میں سے جو شخص شریعت محمدی کی پیروی نہ کرے گا اس کی نجات ممکن نہیں ہے آیت میں اہل کتاب کی جو حالت بیان کی گئی ہے اس کے انجام کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب میں شرک کا مرض جو پھیل گیا ہے سوائے شریعت محمدی کی پیروی کے اور کوئی علاج اس مرض کا دنیا میں نہیں ہے اور جب تک دنیا میں یہ علاج نہ ہو تو عقبیٰ کی بہبودی مشکل ہے۔
Ayah 9:3131۔ اس آیت کی تفسیر عدی بن حاتم طائی ؓ کی حدیث سے اچھی طرح ظاہر ہوتی ہے اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی وغیرہ نے چند طریقوں سے روایت کیا اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے لیکن اس حدیث کی کئی سندیں ہیں جس کے سبب سے ایک سند کو دوسری سند سے قوت ہوجاتی ہے ترمذی کی سند میں حسین بن یزیدی کوفی اور عفیف بن اعین ان دو راویوں میں اگرچہ بعضے علماء کو کلام ہے لیکن ابن حبان نے ان دونوں کو ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے اس صورت میں یہ حدیث معتبر ہے۔ عدی بن حاتم ؓ اپنی قوم کے سردار تھے جب یہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے حضرت ﷺ کو دیکھا کہ یہی آیت پڑھ رہے ہیں عدی ؓ نے کہا کہ نصرانی احبارو رہبان کو تو نہیں پوجتے ہیں آپ نے فرمایا کیا احبارو رہبان نے اپنی عقل سے خدا کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام نہیں کیا اور حرام چیزوں کو حلال نہیں کیا اور نصاریٰ نے اس کو قبول نہیں کیا اور ان کی پیروی نہیں کی یہی عالم اور درویشوں کی عبادت ہوئی غرض آنحضرت نے عدی ؓ کو اسلام کی رغبت دلائی اور عدی ؓ نے اسلام قبول کیا اور کلمہ حق کی شہادت دی جس سے آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی روایت ہے کہ اہل کتاب نے حلال و حرام میں عالم اور درویشوں اور عالموں کا ذکر کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا کہ ان کو بھی لوگوں نے اپنا رب ٹھہرایا لیا کہ ان کو بھی اللہ کہنے لگے حالانکہ یہ مریم (علیہا السلام) کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے اور جس طرح اور آدمی کھاتے پیتے چلتے پھرتے ہیں وہی حال ان کا ہے جس سے یہ صاف طور پر انسان معلوم ہوتے ہیں مگر پھر بھی یہ لوگ مسیح ابن مریم کو خدا ماننے لگے پھر فرمایا کہ ان کو اور کسی بات کا حکم ہی نہیں دیا گیا تھا بلکہ آسمانی کتابوں میں ان کو یہی بتلایا گیا تھا کہ نرے اللہ ہی کی عبادت کرو اور اللہ کی ذات کا کوئی شریک نہیں ہے وہ تو اکیلا ہے اور شرک سے بالکل بری ہے۔ احبار یہود کے علماء کو کہتے ہیں اور رھبان نصاریٰ کے پادریوں کو اسلامی اور عیسائی قدیمی تاریخوں میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب بولس یہودی اور عیسائیوں کی لڑائی ہوئی اور اس لڑائی میں یہودیوں کا غلبہ ہوا تو نصاریٰ کے پادریوں نے اس وقت ترک دنیا کر کے جنگلوں کا رہنا اختیار کرلیا تھا اس واسطے ان کا لقب درویش مشہور ہوگیا یہودی اور نصاریٰ کے علماء نے بعضے حکم تورات اور انجیل کے برخلاف دے رکھے تھے جن حکموں کے سبب سے تورات اور انجیل پر عمل کرنا بند ہوگیا تھا۔ اسی واسطے فرمایا کہ جب ان لوگوں نے اللہ کے حکموں کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور پادریوں کے حکموں کو مانا تھا وہی عالم اور پادری گویا ان کے خدا ہیں۔ تورات میں بدکار مرد اور عورت کے سنگسار کرنے کا حکم ہے لیکن یہودی کے علماء نے تورات کے برخلاف ایسے مرد اور عورت کا منہ کالا کرنے اور کچھ کوڑے مار دینے کا فتویٰ دے رکھا تھا جس پر یہودی لوگ عمل کرتے تھے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبداللہ ؓ بن عمر اور ابوہریرہ ؓ کی روایتوں میں جس طرح فتنہ کرنے کا حکم ہے اسی طرح تورات کے سفر احبار کے اٹھارویں باب میں بھی ختنہ کرنے کا حکم ہے اس حکم کی تعمیل میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا فتنہ جو کرایا اس کا عیسائیوں کو اقرار ہے مگر حضرت عیسیٰ اور حواریوں کے زمانہ کے بعد بعضے عیسائی علماء کی عقلی وجوہات کی بنا پر اس حکم کی تعمیل عیسائیوں میں باقی نہیں رہی۔ ان بعضے عیسائی علماء سے مقصود وہی بولس یہودی اور اس کے ساتھی ہیں یہ قصہ ایک جگہ اس تفسیر میں بیان کردیا گیا ہے کہ بولس پہلے یہودی تھا اور پھر فریب سے عیسائی ہوا اور شریعت عیسوی کے بہت سے احکام میں اس بولس کے سبب سے خراب پڑگئی۔ اس آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ بعضے عیسائی لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کہتے ہیں بولس کے وقت کی بعض تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں میں یہ مسئلہ بھی اسی بولس نے پھیلایا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ یہودی نصارا کے علماء نے اکثر ایسے فتوے دئیے جس سے تورات اور انجیل کے احکام متروک العمل ہوگئے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ایک حدیث سورة النساء میں گزر چکی ہے جس میں عبداللہ بن حذافہ ؓ کا قصہ ہے وہ حدیث اس آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حاکموں اور علماء کی اطاعت شریعت کی حد تک جائز ہے شریعت کی حد کے باہر نہیں انجیل یوحنا کی سترہویں باب کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول گزر چکا ہے جس میں انہوں نے اللہ کو اپنا معبود اور اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہا ہے جو عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا خدا کا بیٹا کہتے ہیں ان کے قائل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہی قول کافی ہے۔
Ayahs 9:32–3332۔ 33۔ اللہ پاک نے اس آیت میں یہودی و نصارا اور مشرکین مکہ کی ایک اور حالت بیان فرمائی کہ یہ سب مل کر خدا کا دین جو نہایت سچا ہے اور اس کی روشنی آفتاب سے بھی کہیں زیادہ ہے اس کو اپنی ان ایجادی باتوں سے اس طرح بجھانا چاہتے ہیں جس طرح کوئی پھونک سے چراغ کو بجھانا چاہے پھر فرمایا کہ ان کی ان باتوں سے کیا ہوتا ہے اللہ تو اپنے دین کو پھیلا کر رہے گا یہ لوگ اگر برا مانیں تو برا مانا کریں پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسول برحق خاتم النبیین ﷺ کو دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام روئے زمین کے دینوں پر غالب کر کے ظاہر کر دے اس پر یہ مشرک برا مانیں تو مانا کریں۔ اللہ سچا ہے اور اس کا وعدہ سچا ہے اہل اسلام اور ان کے سردار جب تک شریعت الٰہی کے پابند رہے ان کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ نے ان دن بدن اسلام کی روشنی کو بڑھایا مثلا خلفائے عباسیہ میں سے ہارون رشید کے زمانہ تک اتنی شریعت کی پابندی باقی تھی کہ ہارون رشید نے جب بشر مریسی کا یہ حال سنا کہ یہ شخص قرآن شریعت کے کلام ازلی ہونے کا قائل نہیں ہے تو فورا برسردربار ہارون رشید نے بشر کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا اس پابندی شریعت کی برکت بھی یہ تھی کہ جب یقفور بادشاہ روم نے صلح کے توڑنے کا خط ہارون رشید کے نام لکھا تو ہارون رشید نے فورا یقفور پر چڑھائی کی جس میں ہارون رشید کو بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی اب تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ہارون رشید کی اولاد میں پابندی شریعت کا یہ حال ہے کہ مامون رشید اس بشر مریسی کا معتقد ہوگیا اور اس وقت کے مشہور علماء کو اپنا ہم عقیدہ کرنا چاہا اور اس باب میں علماء کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں امام احمد جیسا امام الوقت کو اسی جھگڑے میں قید کردیا اس مامون رشید کے زمانہ میں یونانی فلسفہ کا علم اہل اسلام میں آیا اور اس فلسفہ کے سبب سے قرآن شریف کے کلام ازلی نہ ہونے کا مسئلہ اہل قبلہ میں پھیلا غرض پہلا ضعف تو لشکر بغداد میں مامون اور اس کے بھائی کی خونخوار لڑائی سے پیدا ہوا اس کے بعد علویوں کی کثرت سے بغداد پر حملے رہے اس کے بعد ابوشجاع دیلمی کے خاندان کا غلبہ بغداد اور نواح بغداد پر 334 ھ میں ایسا ہوا کہ یہ دیلمی لوگ عماد الدولہ وغیرہ بادشاہ بن گئے اور بغداد کی خلافت برائے نام رہ گئی لیکن خلفاء عباسیہ کے شرعی مسائل میں دخل دینے کا فقط اسی قدر نتیجہ نہیں ہوا جو بیان کیا گیا بلکہ دیلمی بادشاہت کے بعد بغداد سلجوتی خوارزمی وغیرہ بادشاہتوں کا زیردست اور برائے نام خلافت کا مستقر رہا اور سب سے آخری نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بغداد جہاں سے خلفا عباسیہ کے بڑے بڑے لشکر دور دور چڑھائیاں کر کے جاتے تھے خلیفہ معتصم باللہ عباسی کے زمانہ میں موید الدین علقمی شیعہ وزیر کی سازش سے 665 ھ میں ہلاکو خان تاتاری نے اسی بغداد پر چڑھائی کی جس چڑھائی سے بغداد کی خلافت کا ایسا خاتمہ ہوگیا کہ چالیس دن کے قریب تک تاتاریوں نے بغداد میں قتل عام جاری رکھا جس میں خلیفہ ان کے رشتہ دار غرض سب ملا کر لاکھ بغدادیوں سے زیادہ قتل ہوئے اور کسی بغدادی میں تاتاریوں کے ہاتھ پکڑنے تک کا حوصلہ باقی نہ رہا یہ ہلاکو خاں تو لے خاں کا بیٹا اور چنگیز خاں کا پوتا ہے۔ چنگیز خاں امیر تیمور کا رشتہ میں نانا ہوتا ہے یہ شیعہ وزیر عباسیوں کی خلافت کو مٹا کر علویوں میں خلافت کا قائم ہوجانا چاہتا تھا اور اسی ارادہ کے پورا کرنے کی غرض سے اس نے تاتاریوں سے سازش کی تھی لیکن اس کا یہ ارادہ پورا نہیں ہوا کیونکہ ہلا کو خان نے اس کو پسند نہیں کیا سازش کے سبب سے اگرچہ یہ شیعہ وزیر بغداد کے حادثہ میں بچ گیا لیکن اس حادثہ کے بعد ہلاکو خاں نے اس کو بڑی بےعزتی سے رکھا بغداد کی خلافت مٹ جانے کے بعد پھر عباسیوں کی خلافت کچھ دنوں مصر میں قائم ہوئی لیکن نہایت کمزور۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کے تن بدن اور صورت شکل پر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نظر تو ہمیشہ انسان کے دل پر لگی رہتی ہے کہ انسان نے جو کام کیا وہ دل کے کس ارادہ اور نیت سے کیا اس حدیث کو آیت کے پہل ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت کے پہلے ٹکڑے اور حدیث کو ملانے یہ مطلب ہوا کہ اہل اسلام اور ان کے سرداروں نے جب تک خالص دل اور نیک نیتی سے اسلام کی روشنی کے بڑھانے کا دل میں ارادہ رکھا اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق ان ارادوں میں انہیں کامیاب کیا اور پھر جب انکے دلی اعتقاد اور نیک نیتی میں فرق آگیا تو وہ کامیابی باقی نہیں رہی اور آخر کو ان کی سلطنت میں زوال آگیا آیت کے ٹکڑے اور حدیث کے مطلب کے ساتھ خلفائے عباسیہ کی حالت کو بھی مثال کے طور پر ملا لیا جاوے تو آیت کے ٹکڑے کا یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اسلام کے آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے وعدہ کا ظہور کم کیوں ہوگیا۔ صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے پچھلی شریعتوں کو مثال بیان کر کے پھر فرمایا ہے کہ ان شریعتوں میں جب شریعت محمدی مل گئی تو وہ مکان پورا ہوگیا مطلب یہ ہے کہ کہ پچھلی شریعتوں کے غیر منسوخ احکام اور شریعت محمدی کے احکام مل جانے سے ایک پوری عمارت کی طرح یہ آخری شریعت ایسی پوری ہوگئی جس میں اب قیامت تک کسی تکمیل کی ضرورت نہیں آیت کے آخر ٹکڑے میں اور شریعتوں پر اسلام کے غالب رہنے کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہی اسی مطلب کو پورا کرنے کے لئے مسند امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے جابر ؓ کی صحیح حدیث جو ایک جگہ گذر چکی ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس آخری زمانہ میں موسیٰ (علیہ السلام) اگر زندہ ہوتے تو ان پر بھی اس شریعت کی پیروی لازم ہوتی۔
Ayahs 9:34–3534۔ 35۔ یہ اور ایک مذمت اہل کتاب کے عالموں کی بیان کی گئی ہے کہ اکثر علمائے یہود اور علمائے نصاریٰ سچ میں جھوٹ ملا کر لوگوں کے مال کھالیتے ہیں اور لوگوں کو راہ حق سے روکتے ہیں ناحق سے مقصد ان کی وہ کتابیں ہیں جو انہوں نے لکھ رکھی ہیں خدا نے نہیں اتاریں انہی کتابوں کے حوالہ سے لوگوں کی مرضی کے موافق فتوے دیتے تھے اور ان فتو وں کے بدلہ میں لوگوں سے مال لے کر کھاتے تھے اور ان ایجادی فتو وں کے سبب سے عام لوگوں کو تو رات اور انجیل کے حکم سے روکتے تھے مثال یہود کے علماء نے جس طرح سنگ ساری کے حکم اور علمائے نصاریٰ نے ختنہ کے حکم سے عام لوگوں کو رد کیا جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے اب آگے یہ جو فرمایا کہ جو لوگ ” سونے چاندی کو گاڑتے ہیں “ اس کی تفسیر میں صحابہ کا اختلاف ہے لیکن اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی جاوے آیت میں اسی مال کا ذکر ہے۔ مسند امام احمد اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی اس مضمون کی ایک حدیث ہے جس سے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ ان سارے لوگوں کو آخرت کے دن کے دروناک غذاب کی یہ خبر سنادو کہ اس مال کو دوزخ کے آگ میں تپایا جاویگا اور اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹ داغے جائیں گے اور کہا جائیگا لو اب مال جمع کر نیکا مزہ چھکو مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا جسم آگے پیچھے دونوں کروٹیں گویا چاروں طرف سے داغا جاویگا۔ ابوہریرہ ﷺ کی جس حدیث کا ذکر اوپر گزرا اس میں یہ بھی ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار برس کا ہے اس تمام دن میں جنتیوں کے جنت اور دوزخیوں کے دوزخ میں جانے کا فیصلہ ہونے تک زکوٰۃ کے ادا نہ کرنے والے لوگ اس جسم کے داغے جانے کی سزا میں گرفتار ہوں گے جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں جاچکیں گے تو پھر ان زکوٰۃ کے نہ دینے والے لوگوں کا فیصلہ ان کے باقی کے عملوں کے موافق جدا ہوگا یہ حدیث آیت کے آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے کیونکہ آیت کے ٹکڑے میں جس عذاب کا ذکر ہے حدیث سے اس عذاب کی مدت معلوم ہوجاتی ہے آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ علمائے اہل کتاب اپنے مال کی زکوٰۃ بھی نہیں دیتے تھے اسی واسطے ان کے ذکر میں یہ زکوٰۃ کے نہ دینے کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے۔
Ayah 9:3636۔ اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ مشرکین مکہ ایام جاہلیت میں ادب کے مہینوں کی کچھ خصوصیت باقی نہیں رکھتے تھے بلکہ لڑائی کے زمانہ میں اگر محرم کا مہینہ آتا تھا تو جنگ کرتے تھے اور اس کے عوض میں مثلا صفر کے مہینہ کو محرم قرار دے لیتے تھے اسی کو نسی بھی کہتے ہیں جس کا ذکر آگے آویگا غرض کہ اسی امر کا اللہ پاک نے ذکر فرمایا کہ خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں بارہ ہیں محرم۔ صفر ربیع الادل ربیع الثانی جمادی الاول جمادی الثانی رجب شعبان رمضان شوال ذی قعدہ ذی الحجہ ان مہینوں کو قمری مہینہ کہتے ہیں کیونکہ ان کا حساب چاند کی گردش سے واقع ہوتا ہے ان بارہ مہینوں کے دن سال میں تین سو بچپن 355 ہوتے ہیں اور یہی معنی اہل عرب کے یہاں مروج چلے آتے ہیں اور مسلمانوں کے نماز روزہ حج وغیرہ کے معاملات انہیں کے حساب سے ہوتے ہیں اور شمسی سال جس کا شمار آفتاب کی گردش سے ہے تین سو پنیسٹھ دن کا ہوتا ہے اس واسطے قمری سال شمسی سال سے ہر برس دس روز کم میں تمام ہوجاتا ہے اور ہر سال میں اسی دس روز کی کمی سے قمری مہینے مختلف موسموں میں واقع ہوا کرتے ہیں اور رمضان اور بقرہ عید بلکہ کل مہینے کسی سال جاڑے میں اور کبھی گرمی میں اور کبھی برسات میں ہوتے ہیں اور اسی وقت سے یوں ہی حساب چلا آتا ہے پھر یہ حکم فرمایا کہ ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے ادب کے ہیں ذیقعدہ ذی الحجہ محرم لگاتاڑ اور ایک میہنہ سال کے درمیان میں رجب کا ملت ابراہیمی کے موافق ان چار مہینے کی اہل عرب نہایت ہی حرمت و عظمت کیا کرتے تھے اللہ پاک نے اس حرمت کو برقرار رکھا بلکہ اور بھی تاکید کردی کہ ان مہینوں میں گناہ کا بدلہ بھی زیادہ ہے جس طرح نیکی کا ثواب بھی ان مہینوں میں زیادہ کردیا جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہی دین ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) واسمعیل ( علیہ السلام) کا دین ہے جس کو بطور وراثت کے اہل عرب نے پایا ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابی بکرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا کہ خبر دار ہوجاؤ زمانہ پھر اپنی اس اصلی شکل پر آگیا ہے ہر ایک سال بارہ مہینہ کا ہوتا ہے ان میں چار مہینے ادب کے ہیں تین تو لگاتار ہیں ذیقعدہ ذی الحجہ محرم اور ایک رجب حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ یہ بارہ مہینے اپنی اصلی حالت پر آگئے اور حج اسی ذی الحجہ میں ہوا کریگا اور جاہلیت کے زمانہ میں جو کفار نے نسیٔ کو جائز کر رکھا تھا وہ سب حساب جاتا رہا چناچہ آپ کا یہ حجتہ الوداع بھی ذی الحجہ میں واقع ہوا تھا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ ان ادب کے میہنوں میں لڑائی کی ابتدا کر کے اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو کیونکہ ان مہینوں میں معصیت کے کرنے پر سخت عقاب ہوگا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فلا تظلمو فہین انفسکم کی تفسیر میں یہ فرماتے ہیں کہ ان بارہ مہینوں میں سے کسی مہینہ میں اپنے نفس پر ظلم نہ کرو اس سے مقصود یہ ہے کہ انسان کبھی بھی اپنی مدت العمر میں فساد پر پیش قدمی نہ کرے مگر جمہور علماء نے اول معنے کو اختیار کیا ہے مطلب یہ ہے کہ یوں تو ہمیشہ اللہ پاک نے معصیت سے منع فرمایا ہے مگر ان چارمہینوں میں تاکید کے ساتھ منع فرمایا کہ کسی طرح کا ظلم نہ کرو۔ پھر یہ حکم فرمایا کہ جس طرح کفار تم سے قتال کرتے ہیں تم بھی ان سے قتال کرو اور یہ جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے انہیں کی مددو نصرت کرتا ہے سورة بقر میں گذر چکا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موافق ہجرت کے ساتویں سال ذیقعدہ میں جب آنحضرت ﷺ نے عمرہ کے قصد سے مکہ کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام کے دل میں یہ خدشہ پیدا ہوا تھا کہ سال حدیبیہ کی طرح اس سال بھی اگر مشرکین مکہ نے عمرہ میں مزاحمت کی توذی قعدہ ادب کے مہینے میں لڑنا پڑیگا لیکن اللہ تعالیٰ نے آیت الشہر الحرام بالشہر الحرام (2: 194) نازل فرما کر یہ خدشہ یوں رفع فرما دیا کہ حدیبیہ کے سال جب مشرکین مکہ نے ذیقعدہ کے ادب کا کچھ پاس نہیں کیا تو بدلہ کے طور پر تم کو بھی ذیقعدہ میں لڑائی کی اجازت ہے سورة بقر کی آیت گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان چار مہینے میں لڑائی کی ابتدا سے تو ہر ایماندار کو پرہیز لازم ہے ہاں مخالف لوگ اگر وہ لڑائی چھیڑ بیٹھیں تو بدلہ کے طور پر لڑنے کا مضائقہ نہیں مسند امام احمد ترمذی ابوداود اور نسائی میں عمر وبن عبسہ ؓ کی صحیح حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ صلح کی مدت کے اندر لڑائی جائز نہیں ہے فتح مکہ کے ذکر میں یہ اوپر گذر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نے جب صلح حدیبیہ کی شرط کا پاس نہیں رکھا تو آپ نے مدت صلح کے اندر مکہ پر چڑھائی کی ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح صلح کا پاس لحاظ نہ رکھنے سے صلح کی مدت کے اندر لڑائی جائز ہے اسی طرح جب مخالف لوگ ان چار مہینے کی عزت و حرمت کا لحاظ نہ رکھیں تو ایسے مخالف لوگوں سے بھی ان چار مہینے کے اندر لڑائی جائز ہے۔
Ayah 9:3737۔ اس آیت میں اللہ پاک نے مشرکین عرب کی یہ ایک اور گمراہی بیان فرمائی کہ اگرچہ ان لوگوں نے ان چار مہینوں کی توقیر ملت ابراہیم سے بطور وراثت کے پائی تھی مگر اکثر عرب کے معاش اور زندگی کا دار و مدار لوٹ مار پر تھا اور غارت گری سے جو کچھ حاصل ہوتا تھا اس پر گذر اوقات کیا کرتے تھے اس لئے متصل تین مہینے تک ان لوگوں کو لوٹ مار سے باز رہنا شاق گذرا اس واسطے ان مہینوں میں بھی یہ لوگ ان باتوں سے باز نہ آتے تھے اور ان مہینوں میں لوٹ مار کو انہوں نے اپنے اوپر حلال کرلیا تھا اور انکے عوض دوسرے مہینوں کو ان مہینوں کا قائم مقام کر کے چار مہینے کی گنتی پوری کردیا کرتے تھے نسیٔ کے معنے تاخیر کے ہیں یہاں مطلب یہ ہے کہ مثلا محرم کی گنتی میں تاخیر کر کے صفر کو محرم قرار دے دیا کرتے تھے یہ نسیٔ قبیلہ بنی کنانہ کے لوگوں نے نکالی تھی ان میں کا ایک شخص اس باب میں بہت مشہور تھا جس کا نام قلمس حذیفہ بن عبد فقیم بن عدی بن عامر تھا اہل عرب جب حج سے فارغ ہو کر اس کے پاس جمع ہوتے تھے تو یہ خطبہ پڑھتا تھا رجب اور ذی قعدہ اور ذی الحجہ کو حرام کردیتا تھا اور ایک سال محرم کو حلال کرتا اور اس کے عوض صفر کو حرام مقرر کردیتا تھا دوسرے سال محرم کو حرام اور صفر کو حلال کرتا تھا تاکہ چار مہینے کی گنتی پوری ہوجائے اسی کو اللہ پاک نے فرمایا کہ یہ نسیٔ گناہ پر گناہ ہے اور کفر میں ایک بڑی زیادتی ہے جس کے سبب سے کفار گمراہ ہو رہے ہیں اپنی خوشی سے کسی سال ایک مہینہ کو حرام کرلیتے ہیں اصل میں شیطان نے ان کی نظروں میں اس کام کو اچھا کر کے دکھایا ہے مگر خداوند جل شانہ ایسے کفار کو کبھی ہدایت پر نہیں لاتا معتبر سند سے مسند بزار اور مستدرک حاکم میں ابودرداء سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا حلال وہ چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا اسی طرح حرام وہ چیز ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا مطلب یہ ہے کہ شریعت الٰہی میں سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی دوسرے کو کسی چیز کے حرام یا حلال ٹھہرانے کا حق نہیں ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابی بکرہ ؓ کی حدیث اوپر کی آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا زمانہ اپنی اسی اصلی شکل پر آگیا کہ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے جس بارہ مہینے میں خاص چار مہینے ادب کے ہیں کہ ان میں لڑائی منع ہے یہ حدیثیں آیت کی گویا تفسیر ہیں جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ جب شریعت الٰہی میں سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی دوسرے کو حرام حلال ٹھہرنے کا حق نہیں ہے تو عرب کے مشرکوں نے مہینے کے ہٹا دینے کی جو رسم ٹھہرا رکھی تھی جس سے خلاف مرضی لڑائی کی ممانعت کے مہینوں میں یہ لوگ لڑائی ٹھان لیتے تھے اور سوائے ذی الحجہ کے اور مہینوں میں حج کو ڈال کر لوگوں کے حج کو بےموسمی کردیتے تھے مکہ میں اسلام پھیل جانے کے بعد اب وہ جاہلیت کی رسم قائم نہیں رہ سکتی بلکہ اسلام کے بعد تو مہینوں کی وہی گنتی قائم رہے گی جو زمین و آسمان کے پیدا کرنے کے وقت اللہ تعالیٰ نے قرار دی ہے کیونکہ لڑائی کی ممانعت کے اس طرح کے چار مہینے شریعت الٰہی میں نہیں ہیں کہ بارہ مہینے میں جونسے چار مہینے یہ لوگ چاہیں مقرر کرلیں بلکہ وہ خاص چار مہینے ہیں جن کو زمین و آسمان کے پیدا کرنے کے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص حکمت سے انہیں بزرگ ٹھہرایا ہے ان لوگوں کو اللہ کی حکمت کا حال تو معلوم نہیں پھر ان لوگوں نے شیطان کے بہکانے سے یہ حیلہ جو نکال رکھا ہے کہ جس سال چاہتے ہیں صفر کو محرم کی جگہ گن لیتے ہیں اور محرم کو صفر کی جگہ یہ حیلہ ان لوگون کا اس سبب سے ہے کہ یہ لوگ احکام الٰہی کے منکر ہیں اور ایسے منکر لوگوں کو زبردستی راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے۔
Ayahs 9:38–3938۔ 39۔ آنحضرت ﷺ نے ماہ رجب 9 ہجری میں غزوہ تبوک کا ارادہ کیا تبوک شام کی طرف ایک جگہ ہے جو دمشق کے راستہ پر مدینہ سے چودہ منزل پر واقع ہے اس وقت گرمی بڑی سخت پر رہی تھی اور موسم بھی ایسا تھا کہ درخت پھلوں سے لدے پڑے تھے آپ نے بڑے سفر کا یہ ارادہ کیا تھا اس لئے پہلے سے لوگوں کو تیار ہونے کو کہا اکثر لوگ آپ کے ساتھ ہوگئے تھوڑے سے اپنے گھروں میں رہ گئے آپ کے ساتھ نہیں گئے انہیں لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے ایماندار لوگو تم اللہ اور رسول پر ایمان لاکر پھر اللہ کے رسول کے حکم سے سرتابی اور دین کی لڑائی میں شریک ہونے سے سہو کرتے ہو اور حیلے بہانے کر کے فقط ان خیالات سے گھروں میں بیٹھ رہے ہو کہ گرمی سخت ہے اور دور دراز کا سفر ہے اور مدینہ میں درخت بار دار ہو رہے ہیں جن کی خبر گیری ضروری ہے پھر فرمایا کہ کیا تم لوگ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو بہتر جانتے ہو کیا تم نہیں جانتے کہ دنیا فانی ہے اس کی نعمتیں ہمیشہ باقی نہیں رہیں گی تو پھر یہ دنیا کیونکر آخرت کے مقابل ہوسکتی ہے آخرت کی نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی ہیں اس واسطے دنیا کا مال ومتاع عقبے کی نعمتوں کے آگے محض حقیر اور بےحقیقت ہے اس آیت میں اللہ پاک نے صاف طور پر دین کی لڑائی کو ان لوگوں کے حق میں ہر وقت میں واجب ٹھہرایا جن کو اللہ کے رسول نے لڑائی پر چلنے کا حکم دیا تھا اسی واسطے اس کے بعد یہی فرمایا کہ اگر تم کسی دین کی لڑائی میں پیچھے رہ جاؤ گے اور شریک نہ ہوگے۔ تو تم پر سخت سخت عذاب آنے لگیں گے آخری میں بھی عذاب کئے جاؤ گے اور دنیا میں بھی طرح طرح کی مصیبتیں اٹھاؤگے قحط پڑنے لگے گا بارش نہیں ہوگی بھوک وپیاس کے مارے تمہاری جانیں تلف ہونے لگیں گی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس غزوہ میں عرب کے تھوڑے سے آدمی حضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اللہ پاک نے ان سے پانی کو روک لیا کال کا سامنا ہوگیا یہی عذاب تھا جس کا ذکر اس آیت میں فرمایا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ روایت ابوداؤد میں ہے اگرچہ ابوداؤد اور منذری نے اس حدیث کی سند پر سکوت اختیار کیا ہے لیکن اس حدیت کی سند میں ایک راوی نجدہ بن نفیع ہے جس کو بعضے علما نے نامعلوم الحال لکھا ہے اس واسطے آیت میں جس عذاب کا ذکر ہے اس کا خصوصیت کسی خاص عذاب کے ساتھ نہیں کی جاسکتی۔ پھر عذاب کے بعد دوسری بات بیان فرمایا کہ اللہ تم لوگوں کا محتاج نہیں ہے اسے تو بہت بڑی قدرت حاصل ہے اگر تم اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دوگے تو تمہاری جگہ وہ دوسری قوموں سے کام لے گا اور وہ لوگ اللہ کے رسول کا ساتھ دیں گے خدا و رسول کو تم کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے ہو کیونکہ اللہ کو ہر طرح کی قدرت حاصل ہے تم نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی غرض کہ وہ اپنے رسول سے مدد کا وعدہ کرچکا ہے اس کو ضرور پورا کر کے رہے گا۔ اگرچہ صحیح بخاری میں اس تبوک کی لڑائی کا باب حجۃ الوداع کے بعد ہے لیکن حافظ ابن حجر (رح) نے اس کو کاتب کا سہو ٹھہرا کر یہ کہا ہے کہ سب کے نزدیک تبوک کی لڑائی حجۃ الوداع کے پہلے 9 ھ کے ماہ رجب میں ہیں اس لڑائی میں آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو اپنا جانشین مقرر کر کے مدینہ میں چھوڑا تھا جس کا ذکر آگے آتا ہے یہ حضرت علی ؓ کا قصہ صحیح بخاری میں سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت سے ہے اس لڑائی میں دو سو اونٹوں کی اور بعضی روایتوں میں تیں سواونٹوں اور ہزار اشرفی نقد کی مدد حضرت عثمان ؓ نے لشکر اسلام کو دی ہے جس کی معتبر روایتیں مسند امام احمد ترمذی اور مستدرک حاکم میں ہیں جس سبب سے یہ لڑائی پیش آئی اس کی تفصیل طبرانی کی عمران بن حصین ؓ کی روایت سے آگے آتی ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے مستور دبن شدار ؓ حجازی کوفی کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے عقبے کی نعمتوں کی مثال ایک دریا کی اور دنیا کی نعمتوں کی مثال ایک قطرہ کی فرمائی ہے آیت میں عقبے کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی نعمتوں کو تھوڑا جو فرمایا ہے اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ابوداؤد میں جو روایت ہے کہ آیت الاتنفروایعذبکم عذابا الیما اس سورت کی آیندہ کی آیت وما کان المومنون لینفروا کافۃ سے منسوخ ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن الحسین بن واقد کے ثقہ ہونے میں بعضے علماء کو کلام ہے اس واسطے حافظ ابوجعفرابن جریر نے اپنی تفسیر میں اور حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں ہی فصلہ کیا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ یہ آیت خاص ان لوگوں کے حق میں ہے جن کو اللہ کے رسول ﷺ نے تبوک کی لڑائی پر چلنے کا حکم دیا تھا اور پھر بھی وہ لوگ سستی کر کے نہیں گئے اور آیندہ کی آیت عام صحابہ کے حق میں ہے آیت کے ٹکڑے یایھا الذین امنوا اذاقیل لکم انفر وافی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض سے حافظ ابوجعفر ابن جریر (رح) اور حافظ ابن حجر (رح) کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ آیت کے اس ٹکڑے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ خفگی انہیں لوگوں پر ہے جن کو اللہ کے رسول ﷺ نے اس لڑائی میں چلنے کا حکم دیا تھا اور پھر بھی وہ لوگ سستی کر کے اس لڑائی میں نہیں گئے ویستبدل قوما غیرکم کی تفسیر بعضے سلف نے اہل فارس کو ٹھہرایا ہے اور بعضوں نے اہل یمن کو لیکن آگے کی آیت میں فرشتوں کی مدد کا ذکر ہے اس لئے سلف میں سے جو مفسرین آیت کی تفسیر کسی خاص قوم کو نہیں ٹھہراتے ان کا قول قوی معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 9:4040۔ جب تبوک کی لڑائی کے وقت موسم گرمی کی سختی اور سفر کی درازی کہ سبب سے بعضے اہل مدینہ نے آنحضرت کے ساتھ سفر کو ٹال دیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس آیت میں ہجرت کے وقت کا ذکر فرما کر لوگوں کو یہ تنبیہ کردی کہ اگر تم لوگ نبی وقت کی مدد میں کوتاہی کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کا محتاج نہیں جس طرح اس نے اپنے نبی کی مدد ہجرت کے وقت کی ہے اب بھی وہ مدد کریگا ہجت کا قصہ ابوموسیٰ اشعری ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی روایتوں سے صحیح بخاری میں بصراحت مذکور ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ نے یہ خواب دیکھا تھا کہ دو پہاڑوں کے بیچ میں کنکریلی زمین ہے اور اس سرزمین پر کھجوریں بہت ہیں وہاں ہجرت کا حکم ہوا ہے آنحضرت ﷺ کا یہ خواب سن کر کچھ لوگ مدینہ کو اور کچھ حبشہ کو چلے گئے جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کفارنے بہت تنگ کیا اور انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک چبوترہ مسجد کی طرح جو بنالیا تھا اس پر نماز پڑھنے اور تلاوت قرآن سے ان کو منع کیا تو انہوں نے بھی مدینہ کا قصد کیا لیکن آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا تھوڑے دنوں تامل کرو شاید مجھ کو بھی ہجرت کا حکم ہوجاوے ایک روز خلاف عادت ٹھیک دوپہر کو آنحضرت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھ کو مدینہ کی ہجرت کا حکم ہوگیا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا مجھ کو بھی ساتھ لے چلئے آپ نے فرمایا اچھا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا میرے پاس دو اونٹیاں ہیں ایک آپ رکھئے آپ نے فرمایا ہاں وہ اونٹنی قیمت سے میں لے لونگا پھر حضرت ابوبکر ؓ اور آنحضرت جبل ثور کے غار میں تین راتیں رہے حضرت ابوبکر ؓ کا ایک غلام عامر بن فہیرہ ؓ اسی جنگل میں بکریاں چراتا تھا اور اندہیرے کہ وقت کچھ بکریوں کا دودھ لاکر آنحضرت ﷺ اور ابوبکر ؓ صدیق کو پلا جاتا تھا پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مدینہ تک ایک شخص کو راہ مقرر کیا وہ دونوں اونٹنیاں لے کر چوتھے روز غار پر آیا آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اونٹنیوں پر سوار ہوئے اور عامر بن فہیرہ ؓ اور وہ راہ براہ پیدل ساتھ ہوئے اور مدینہ کو دریا کے کنارہ کے راستہ سے روانہ ہوئے جس رات کو آنحضرت ﷺ پہلے پہل مکہ سے نکل کر غار میں رہے اس صبح کو کفار مکہ نے آپ کی تلاش میں آپکا پیچھا بھی کیا یہاں تک کہ جب غار کے قریب یہ لوگ آئے اور حضرت ابوبکر ؓ صدیق کو ان کفار کے قدم غار میں سے نظر آئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو بڑا اندیشہ ہوا لیکن آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ صدیق کی تسکین کی اور فرمایا کہ اندیشہ کی کوئی بات نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت میں فرمایا ہے اسی واسطے علماء نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صحابیت کا منکر قرآن کا منکر اور کافر ہے اور صحابہ کے صحابی ہونے کا منکر بدعتی ہے حضرت عمر ؓ کی روبرو جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ذکر آیا کرتا تو حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ان کی ایک غار کی رات پر اور زکوٰۃ کے منکرین سے جو انہوں نے جہاد کیا ہے اس دن پر غرض ان دونوں میں سے ایک پر عمر ؓ کی ساری عمر کی عبادت تصدق ہے غار سے روانہ ہونے کے بعد کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ یا حضرت ابوبکر ؓ صدیق کے مارنے یا پکڑ کے لانے والے کا انعام سو سواونٹ قرار دئے تھے اس لالچ سے ایک شخص سراقہ بن جعشم نے گھوڑے پر چڑھ کر آپ کا پیچھا کیا اور جب آپ کے قریب پہنچا تو اس کا آدھا گھوڑا زمین میں دھنس گیا جب اس نے پکار کر آنحضرت سے امان مانگی تو اس کا گھوڑا انکلا وہ خالی شرمندہ ہو کر واپس آیا مدینہ پہنچ کر پہلے آپ بنی عمر بن عوف میں دس روز کے قریب رہے اور مسجد قبابنائی اور پھر مدینہ کے اندر اونٹنی پر تشریف لے گئے مسجد نبوی جہاں ہے یہاں آن کر وہ اونٹنی بیٹھ گئی آپ نے فرمایا انشاء اللہ تعالیٰ یہی مقام کی جگہ ہے پھر وہ جگہ خرید کہ وہاں مسجد نبوی بنائی اس قصہ میں بجائے غار ثور کے غار حرا کا نام جو بعضی روایتوں میں آیا ہے وہ کسی راوی کی غلطی سے ہے کیونکہ صحیح بخاری کی حضرت عائشہ کی روایت میں صاف غار ثور کا نام موجود ہے تفسیر ابن مردو یہ وغیرہ میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ جس کسی کو اس قصہ میں غار حرا کا نام لیتے ہوئے سنا کرتی تھیں تو اس کو جھٹلایا کرتی تھیں کہ اس قصہ میں غار ثور کا نام صحیح ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ غلطی تابعیوں کے زمانہ سے شروع ہوئی ہے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی روایت ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ جب مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی تلاش میں ثور پہاڑ پر چڑھے اور میں نے مشرکوں کے قدم غار میں سے دیکھ لئے تو مجھ کو بڑا اندیشہ ہوا جب میں نے اپنا یہ اندیشہ آنحضرت ﷺ سے بیان کیا تو آپ نے میری تسکین کی اور فرمایا کچھ اندیشہ کی بات نہیں اللہ ہماری مدد کو مرجود ہے یہ حدیث اذ یقول لصاحبہ لاتحزن ان اللہ معنا کی گویا تفسیر ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ادھر تو اللہ کے رسول نے ابوبکر صدیق ؓ کی تسکین کی اور ادھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر صدیق ؓ کے دل میں ایک طرح کی تسکین پیدا کردی جس سے ان کی پریشانی جاتی رہی محمد بن شہاب زہری (رح) سب علماء کے نزدیک ایک حبیل القدر ثقہ تابعی ہیں صحاح کی سب کتابوں میں ان کی روایتیں ہیں انہی زہری (رح) کا قول ہے کہ غار ثور کے منہ پر کبوتروں نے انڈے دے دئے تھے اور مکڑی نے جالا پور دیا تھا جس سے مشرکین مکہ کے دل میں یہ خیال بالکل باقی نہیں رہا تھا کہ آنحضرت ﷺ اس غار کے اندر ہیں ابن شہاب زہری (رح) کے اس قول کے تائید انس بن مالک ؓ اور زید بن ارقم صحابیوں کہ قول سے بھی ہوتی ہے کیونکہ مختصر طور پر ان صحابیوں کے قول بھی ابن شہاب کے موافق ہیں وایدہ بجنودلم تروھا کی تفسیر میں اکثر سلف نے لکھا ہے کہ جب تک آنحضرت ﷺ اس غار میں تھے اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے اس غار کے گرداگرد فرشتے تعینات کر دئے تھے ان فرشتوں کی تعینائی کے سبب سے ایک تو مشرکوں کے دلوں پر ایسا رعب چھا گیا تھا کہ اس غار کے اندر جھانک کر کسی نے نہیں دیکھا دوسرے اگر کوئی مشرک دور سے بھی غار کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فرشتے اس مشرک کی آنکھوں کے سامنے اپنے پروں کی آڑ کردیتے تھے جس سے غار کے اندر تک کسی مشرک کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی تھی سلف کے اس قول میں غار میں رعب کے پیدا ہوجانے کا جو ذکر ہے اس کی تائید تو اصحاب کہف کے قصہ سے ہوتی ہے کہ اس غار میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا رعب پیدا کردیا ہے کہ اس غار کو جھانک کر کوئی شخص نہیں دیکھ سکتا چناچہ یہ اصحاب کہف کا قصہ سورة کہف میں تفصیل سے آویگا فرشتوں کے پر دں کے آڑ کردینے کی تائید اسمائ ؓ بنت ابی بکر صدیق ؓ کی اس روایت سے ہوتی ہے جو معتبر سند سے حلیہ ابونیعم میں ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تلاش میں ثور پہاڑ پر جو مشرک چڑھے تھے ان میں کا ایک شخص غار کے منہ کے سامنے پیشاب کو بیٹھ گیا تھا اس کی یہ حالت دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے فرمایا اس مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے فرشتوں نے اپنے پروں کی آڑ کردی ہے جس سے ان لوگوں کی نگاہ غار کے اندر تک نہیں پہنچتی ورنہ اس طرح بےپردہ یہ شخص ہمارے روبرو پیشاب کو نہ بیٹھ جاتا وجعل کلمۃ الذین کفروا السفلے وکلمۃ اللہھی العلیا کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق یہ ہے کہ اپنی زبردست حکمت سے اللہ تعالیٰ نے دن بدن شرک کو گھٹایا اور توحید کو بڑھایا۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے دن آنحضرت ﷺ مشرکین مکہ کے بتوں کو لکڑیاں مار مار کر گراتے جاتے تھے اور جاء الحق وزھق الباطل فرماتے جاتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب مکہ میں توحید پھیلی اور شرک یہاں سے گیا آیت میں شرک کے گھٹنے اور توحید کے بڑھنے کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ توحید کے غلبہ نے مشرکوں کو یہاں تک بےبس کردیا کہ انہوں نے اپنے جھوٹے معبودوں کی ذلت اپنی آنکھوں سے دیکھی اور ان کی کچھ حمایت نہ کرسکے۔