Ayah 9:8383۔ آنحضرت ﷺ جب سفر ہی میں تھے تو اللہ پاک نے یہ حکم دیا کہ جب آپ مدینہ میں واپس ہو کر پہنچیں اور پھر کبھی دوبارہ کسی جہاد میں جانے کا اتفاق ہوا اور وہ بارہ منافق جو مدینہ میں ہیں وہ اور اس تبوک کے سفر میں شریک نہ ہوئے گھروں میں بیٹھ رہے اگر یہ لوگ آئندہ کہنے لگیں کہ اس مرتبہ ہم چلیں گے تو ان سے کہہ دو کہ تم نے تو پہلی مرتبہ گھروں میں بیٹھ رہنا پسند کیا اب تم کبھی ہمارے ساتھ جہاد میں نہیں جاسکتے ہو اور نہ کسی دشمن سے لڑائی کرسکتے ہو تم تو بس انہیں معذور لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو جو جہاد میں شریک ہونے سے مجبور ہیں بیمار ہیں یا کوئی اور عذر رکھتے ہیں مفسروں نے الیٰ طائفۃ کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ اللہ پاک نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ جب آپ ان میں سے جو مدینہ میں رہ گئے ہیں ایک گروہ سے ملو اور پھر وہ لوگ جہاد میں جانے کی راضی ہوں تو ان سے کہو کہ تمہارا چلنا اب ضروری نہیں ہے یہ اس لئے فرمایا کہ جو غزوہ تبوک میں نہیں گئے تھے وہ سب کے سب منافق نہیں تھے بلکہ ان لوگوں میں سے بعضے مومن بھی تھے اور آنحضرت ﷺ نے جہاد سے واپس آ کر بعضوں کے عذر کو قبول بھی کیا اور بعضوں کو کچھ دنوں کی مہلت ملی اور پھر خدا نے ان کی توبہ قبول کی جس کا ذکر آگے آوے گا اس لئے فرمایا کہ وہ منافق تھوڑے سے لوگ ہیں اور ایک چھوٹا ساگروہ ہے انہیں سے بات کہو کر تم اب جہاد میں نہیں شریک ہوسکتے تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ کا قول ہے کہ یہ منافق صرف بارہ شخص تھے جن کے حق میں آیت نازل ہوئی ہے صحیح بخاری میں انس ؓ بن مالک اور صحیح مسلم میں جابر بن ؓ عبداللہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ تبوک کے سفر سے واپسی کے وقت آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ بعضے لوگوں نے گھر بیٹھے وہی ثواب پایا جو اور لوگوں نے سفر کر کے پایا صحابہ نے پوچھا کہ حضرت یہ کیونکر آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ مجبوری کے سبب سے مدینہ میں رہ گئے ورنہ وہ ضرور اس سفر میں شریک ہوتے ان حدیثوں سے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کہ جو لوگ تبوک کے سفر میں شریک نہیں ہوئے وہ سب منافق نہیں تھے اور یہی حدیثیں الیٰ طائفۃ کا لفظ فرمانے کی گویا تفسیر ہیں۔
Ayah 9:8484۔ صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں حضرت عمر ؓ اور عبداللہ بن عمر ؓ کی روایتوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ خزرج کا سردار منافقوں کا سرگروہ عبداللہ بن ابی کے بیٹے نے آنحضرت سے درخواست کی کہ آپ عبداللہ بن ابی کے جنازہ کی نماز بھی پڑھائیں اور اپنے جسم مبارک کا ایک کرتہ بھی دیویں جس میں عبداللہ بن ابی کو لپیٹ کر دفن کیا جاوے عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ کی دلی خواہش آنحضرت کو زیادہ منظور تھی کیونکہ یہ بدری صحابی اور آنحضرت کے بڑے فرمانبردار اور پکے مسلمان تھے اور بدر کے قیدیوں میں حضرت عباس ؓ آئے تھے تو ان کے پاس کپڑا نہ تھا اس وقت عبداللہ بن ابی نے اپنا کرتا حضرت عباس ؓ کو دیا تھا ان وجوہات سے آنحضرت نے اپنا کرتہ بھی عبداللہ بن ابی کے کفنانے کو دیا اور جنازہ کی بھی نماز پڑھی پھر نماز پڑھنے کے تھوڑی دیر کے بعد حضرت جبرئیل آئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جب آنحضرت نے عبداللہ بن ابی کے جنازہ پر نماز پڑھنے کا قصد کیا تھا تو حضر عمر ؓ نے آنحضرت کی چادر کا پلو پکڑ کر یہ کہا تھا کہ حضرت اس منافق کے جنازہ پر آپ کیوں نماز پڑھتے ہیں لیکن اس وقت تک کوئی صریح ممانعت اس طرح کے منافق لوگوں کے جنازہ پر نماز پڑھنے کی کسی آیت میں نہیں آئی تھی اور آیت استغفرلھم اولا تستغفرلھم میں ایک اختیار کی صورت پائی جاتی تھی کہ کسی منافق کے جنازہ پر چاہیں تو آنحضرت استغفار کر بھی سکتے ہیں اور ابوطالب کی وفات کے وقت آیت ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفر واللمشرکین (9: 13) جو نازل ہوئی تھی اس میں خاص مشرکوں کا حکم تھا منافقوں کا کوئی حکم نہ تھا اس سبب سے آنحضرت ﷺ نے حضرت ﷺ عمر ؓ کا کہنا نہ مانا اور عبداللہ بن ابی کے جنازہ کی نماز پڑھی اس آیت کے نازل ہونے کے بعد جب صریح مما نعت آگئی تو پھر آپ نے کسی منافق کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی چناچہ ترمذی میں عبداللہ بن عمر ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ کی روایتوں میں اس کی تصریح ہے اور ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ غرض اس قصہ کے متعلق جو مطلب بیان کیا گیا ہے وہ صحیح روایتوں کا مضمون ہے اس کے سوا بعضے علماء نے صحیحین کا روایت کو جو ضعیف کہہ دیا ہے یا بعضوں نے عبداللہ بن ابی کے کامل ایمان کو تسلیم کرلیا ہے یہ کچھ قابل اعتبار باتیں نہیں ہیں۔ کیونکہ صحیحین کی روایت کو ضعیف ٹھہرانا جس طرح ایک بےٹھکانے کی بات ہے اسی طرح طبقات صحابہ میں جب عبداللہ بن ابی کا نام صحابہ کے ذیل میں جمہور علماء سلف نے نہیں لکھا تو ایک دو متاخر عالموں کے کہنے سے عبداللہ بن ابی کامل الایمان صحابی کیونکہ قرار پاسکتا ہے صحیح بخاری ومسلم کی جابر بن عبداللہ ؓ کی روایت میں یہ جو ذکر ہے کہ عبداللہ بن ابی کے دفن کے بعد آنحضرت ﷺ اس کی قبر پر آئے اور اس کو قبر میں سے نکلوا کر اس کے جسم پر جگہ جگہ اپنے منہ کا لعاب لگایا اور پھر اپنا کرتہ اس کی لاش کو پہنایا۔ اس روایت میں اور اوپر کی روایتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ اصل قصہ یوں ہے کہ پہلے عبداللہ بن کے بیٹے کی خاطر سے آنحضرت ﷺ نے اپنا کرتہ بھی عبداللہ بن ابی کے کفنانے کے لئے دے دیا تھا اور اس کے جنازہ کی نماز بھی پڑھ لی تھی اس کے بعد عبداللہ بن ابی کے بیٹے کی زیادہ خاطر داری کے خیال سے آنحضرت ﷺ نے اپنے منہ کا لعاب بھی عبداللہ بن ابی کی لاش کو لگانا چاہا اور اسی ارادہ سے اس کی قبر پر جاکر اس کی لاش کو قبر سے نکلوایا اور آپ کا کرتہ جو لاش کو پہنادیا گیا تھا اسے اتروا کر اپنا لعاب مبارک جگہ جگہ لاش پر ملا اور پھر وہی کرتہ لاش کو اپنے ہاتھ سے پہنا کردفن کرا دیا فاسق کے معنے بےحکم کے ہیں اور کافر کے معنے دین کے منکر کے منافقوں میں یہ دونوں باتیں ہوتی ہیں کیونکہ ان کے دل میں دین کا انکار ہوتا ہے اور ظاہر میں مثلا جھوٹ بولنے امانت میں خیانت کرنے سے یہ لوگ بےحکم بھی ہوتے ہیں اس لئے آیت میں دونوں لفظ فرمائے۔
Ayah 9:8585۔ اس آیت کی تفسیر بعینہ اس سے پہلے گزر چکی ہے یہ دوبارہ تاکید کے ساتھ اللہ پاک نے حکم دیا کہ کفار کے مال واولاد کو دیکھ کر تعجب نہ کرو خدا ان لوگوں کو انہیں چیزوں کے ساتھ عذاب کرے گا ان کے مال انہیں کے واسطے وبال جان ہوجائیں گے ان کی اولاد انہیں کے لئے موجب ہلاکت ہوگی اور یہ لوگ مرتے دم تک کافر کے کافر ہی رہیں گے کبھی ایمان نہیں لائیں گے بعضے مفسروں نے اس آیت اور اس سے پہلے کی آیت میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ دونوں آیتیں دو قوم کے حق میں نازل ہوئیں بال کی زیادتی نے ثعلبہ بن حاطب کی دینداری میں جو کچھ فتور ڈالا اس کا ذکر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت سے اوپر گزر چکا ہے۔ اسی طرح ترمذی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت کے وقت کچھ صحابہ اپنے بی بی بچوں کے رونے پیٹنے کے سبب سے بہت روز تک ہجرت نہ کرسکے اور بہت سے دینی باتوں سے محردم رہے ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مال و اولاد جب پکے مسلمانوں کے دین میں فتور ڈالنے والی چیزیں ہیں تو کچے مسلمان منافقوں کے حق میں مال واولاد بلاشک ایک عذاب ہے اولاد کا مرجانا مال میں کسی طرح کا نقصان اٹھانا مال کی حفاظت اولاد کی پرورش بےدینی کے سبب سے یہ سب باتیں ان کے لئے ایسی عذاب ہیں جن سے مرتے دم تک ان کو فرصت نہیں آخر اسی حالت میں یہ لوگ ایک دن مرجاتے ہیں اور مال اور اولاد کے چھوڑ جانے کا غم اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اسی واسطے فرمایا ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مال واولاد کی زیادتی کیا دی ہے کہ گویا ان کو ایک عذاب میں پھنسا دیا ہے۔
Ayahs 9:86–8786۔ 87۔ اللہ پاک نے ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان فرمائی جنہیں جہاد میں شریک ہونے کی ہر طرح کی قدرت حاصل ہے قرآن کی اکثر سورتوں میں یہ حکم نازل فرمایا ہے کہ خالص دل سے احکام الٰہی پر ایمان لاؤ اور جہاد میں شریک ہو کر لڑو مگر وہ اس بات کو بہت پسند کرتے ہیں کہ عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ رہیں انہیں اس بات کی مطلق پر وا نہیں کہ گھروں میں بیٹھنا عورتوں کا کام ہے اور مردوں کا شیوہ دشمن کے مقابلہ میں جوانمردی کے ہنر کے دکھلانے کا ہے سورة احزاب میں انہیں لوگوں کے حق میں یوں فرمایا ہے کہ جب لڑائی کا موقع آتا ہے تو سب سے پہلے یہ لوگ نامرد بن جاتے ہیں اور جب لڑائی کا خوف جاتا رہتا ہے تو ان کی زبان خوب چلنے لگتی ہے اور سب سے زیادہ باتیں بنانے لگتے ہیں پھر فرمایا کہ ایسی ہی باتوں سے ان کے دلوں پر زنگ کی مہر لگادی گئی ہے اس لئے یہ دین کے کاموں سے جی چراتے ہیں ان کو اپنے نفع و نقصان کا کچھ خیال نہیں ہے بالکل ناسمجھ ہیں گویا عقل ہی نہیں رکھتے ہیں صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عمر ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے روایتیں ہیں جن میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ سے چند باتوں کے سوال کئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان باتوں کے جواب دئے ہیں ان روایتوں کے موافق قیامت کے دن کی جزا وسزا پر خالص دل سے ایمان لانا ایمان داری کی نشانی ہے مسند امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے ابوامامہ ؓ کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت نے ایماندار شخص کی یہ نشانی بتلائی ہے کہ نیک کام سے اس کا دل خوش ہوتا ہے اور برے کام سے اس کو ایک طرح کا رنج ہوتا ہے ترمذی نسائی مستدرک حاکم وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بغیر توبہ کے برے کاموں میں لگے رہنے سے آدمی کے دل پر زنگ لگ کر اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے ترمذی اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن نیک عمل کرنے والے تو اس بات پر پچھتاویں گے کہ انہوں نے نیک عمل اور زیادہ کیوں نہیں لئے اور برے عمل کرنے والے اس بات پر پچھتاویں گے کہ وہ برے عملوں سے باز کیوں نہیں آئے اس حدیث کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عبداللہ بن موہب ہے جس کو بعضے علماء نے ضیعف قرار دیا ہے لیکن ابوالحسن یحییٰ بن عبداللہ کو ثقہ کہا ہے یہ یحییٰ بن القطان مصر کے مشہور علماء میں ہیں اور راویوں کے ثقہ و ضعیف قرار دینے میں ان کے قول کا بڑا اعتبار ہے ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں داخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ قرآن کی اکثر آیتوں میں ان لوگوں کو عقبی کی جزا اور سزا پر خالص دل سے ایمان اور یقین لانے کا حکم دیا گیا لیکن یہ اب تک اپنے اس منافق پنے سے باز نہیں آئے کہ دل میں کچھ اور زبان پر کچھ اس لئے بغیر سزا وجزا کے یقین لانے کے نہ ان کے دل میں نیک کام کا شوق ہے نہ برے کام کا خوف اس واسطے بےدھڑک برے کام کرنے سے ان کے دلوں پر زنگ کی مہر لگ گئی ہے جس کے سبب سے قرآن کی نصیحت ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں کرتی اور عقبیٰ کا بھلا برا ان کی سمجھ میں نہیں آتا لیکن اپنی اس حالت پر یہ لوگ ایسے وقت پر پچھتاویں گے جس وقت کا پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آویگا۔
Ayahs 9:88–8988۔ 89۔ اللہ پاک نے منافقوں کی مذمت بیان کر کے یہ بات بیان فرمائی کر یہ لوگ جو جہاد میں نہیں شریک ہوئے ہیں اس سے کوئی ضرر خدا کے دین کو نہیں پہنچتا ہے ان لوگوں سے جو بہتر اور اچھے لوگ ہیں رسول اور مومنین وہ لوگ سچے دل سے اور خالص نیت سے خدا کی راہ میں جان اور مال سے حاضر ہوئے اور آئے دن جہاد کرتے رہتے ہیں اور جیسا کہ حق جہاد کا ہے پورا پورا ادا کرتے ہیں پھر یہ ذکر کیا کہ یہ مومنین جو اس طرح خدا کی راہ میں سرگرمی سے لڑر ہے ہیں تو ان کی محنت رائگاں نہیں جائے گی اس کے عوض میں دنیا اور آخرت دونوں جگہ انہیں بہتری ہوگی اور بڑی فلاحیت اٹھائیں گے کیا یہ کم دنیا میں فلاحیت ہے کہ جہاد میں شریک ہونے پر مال عنیمت کے مستحق ہوتے ہیں اور عقبیٰ میں خدا تعالیٰ نے ان کے لئے جنت بنا رکھی ہے جس میں نہریں جاریں ہیں اور پھر یہ لوگ اس میں جانے کے بعد کبھی نکلیں گے نہیں ہمیشہ ہمیشہ کو وہیں رہیں گے طرح طرح کی نعمتیں ان کے واسطے جنت میں موجود ہیں یہ فوز عظیم نہیں تو کیا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کے طور پر دین کی لڑائی میں شریک ہوتا ہے اس بات پر اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہوجاتا ہے کہ اگر وہ اپنے گھر کو واپس آیا تو اجر اور مال غنیمت لے کر آویگا اور اگر شہید ہوا تو جنت میں داخل ہوگا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کسی جنتی کو اگر ساری دنیا کے مال مل جانے کا لالچ دیا جا کر دنیا میں آنے کو کہا جاوے گا تو جنت کی نعمتوں کو چھوڑ کر کوئی جنتی دنیا میں آنے کو راضی نہ ہوگا مگر شہادت کے اجر میں شہیدوں کو جنت کے عالی مقام جو ملیں گے انہیں دیکھ کر شہید یہ تمنا کریں گے کہ وہ پھر دنیا میں آویں اور دس دفعہ اللہ کی راہ میں پھر شہید ہوں یہ حدیثیں واولئک لھم الخیرات واولئک ھم المفلحون کی گویا تفسیر ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ضامن ہونے کا یہ ظہور ہوا کہ ان لوگوں میں سے جو زندہ رہے انہوں نے اور ان کی اولاد نے بادشاہت پائی اور جو شہید ہوگئے ان کو وہ عالی درجے ملے کہ جن کو دیکھ کر انہیں پھر دنیا میں آنے اور شہید ہونے کی آرزو پیدا ہوئی۔
Ayah 9:9090۔ اللہ پاک نے اس آیت میں ان دو گروہ کا ذکر فرمایا جنہوں نے جھوٹا عذر کر کے جہاد میں شراکت نہیں کی اس بات میں اختلاف ہے کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے عذر کیا تھا بعضوں نے یہ کہا ہے کہ یہ لوگ قبیلہ اسد اور غطفان کے لوگ تھے انہوں نے یہ عذر کیا تھا کہ ہمارے اہل و عیال ہیں جن کے واسطے ہم کو بڑی محنت ومشقت کرنی پڑتی ہے آپ ہمیں گھر میں رہ جانے کا کہیں ہم آپ کے ساتھ اگر چل کر لڑائی میں شریک ہوں تو ہمارے بی بی بچے اور مویشی اکیلے رہ جائیں گے قبیلہ طی کے گنوار آکر ہمارے پیچھے انہیں برباد کردیں گے اور سب مال لوٹ کرلے جائیں گے اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں سے کہہ دیا کہ خیر خدا نے تمہاری ضرورت میرے واسطے نہیں رکھی ہے اور بعضوں نے یہ کہا ہے کہ قبیلہ غفار کے چند آدمیوں نے عذر بیان کیا تھا اللہ پاک نے اس عذر کو قبول نہیں کیا۔ صحیح قول یہی ہے کہ اطراف مدینہ میں جو چند قبیلے رہتے تھے ان انہوں نے لشکر اسلام کا ساتھ چھوڑ دیا مال اور اولاد کے دین میں فتور ڈالنے کی روایتیں جو اوپر گزر 2 ؎ چکی ہیں وہی روایتیں اس آیت کی بھی گویا تفسیر ہیں ان میں سے بعضے لوگوں کو منکر دین اور لائق عذاب اس لئے فرمایا کہ بعض ان میں کے پھر بعد اس کے خالص دل سے پکے مسلمان ہوگئے چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے ان کی تعریف فرمائی ہے۔
2 ؎ یعنی زیر آیت نمبر 85:۔
Ayah 9:9191۔ تفسیر ابن ابی حاتم اور مغازی محمد بن اسحاق میں زید بن ثابت ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کہ قوی تندرست مال دار لوگ جو غزوہ تبوک میں نہیں گئے تھے جب اوپر کی آیتوں میں ایسے لوگوں پر اللہ کی خفگی کی آیتیں نازل ہوئیں تو ناتواں بوڑھے اور بیمار اور ایسے مفلس صحابہ جن کے پاس اتنا خرچ نہیں تھا کہ سوار اور خرچ راہ کا بندوبست کر کے آنحضرت کے ساتھ جاتے وہ بہت ہراساں ہوئے کہ شاید ہم لوگ بھی اسی خفگی میں داخل ہیں ان کی تسکین کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ ایسے صاحب عذر جو لڑائی پر نہیں گئے تو ان پر سرزنش اس سبب سے نہیں ہے کہ عذر نے ایسے لوگوں کو معذور کر رکھا ہے اور اس معذوری کے سبب سے ان پر لڑائی میں جانا فرض نہیں ہے اصل سرزنش تو ان لوگوں پر ہے جنہوں نے بغیر کسی معذوری کے جھوٹے عذروں کے سبب سے بنی وقت کا ساتھ چھوڑ دیا صحیح بخاری کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی اور صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر ؓ بن عبداللہ کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بہت سے ہمارے ساتھی مدینہ میں ایسے ہیں کہ ہر کام میں گویا ہمارے ساتھ ہیں جو رشتہ ہم نے طے کیا وہ گویا انہوں نے بھی طے کیا کیونکہ عذر کے سبب سے ہمارے ساتھ نہیں آسکے ایسے دین کے عام کام میں عذر کے سبب سے جو شخص شریک نہ ہو سکے اس سے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں غیر حاضری کی سرزنش اٹھالی ہے مگر ساتھ ہی اس کے ایک شرط بھی لگادی ہے اس طرح کا معذور آدمی گھر بیٹھے کوئی بات فساد کی ایسی نہ نکالے جس سے معلوم ہوا کہ وہ دین کا خیر خواہ نہیں ہے مثلا جو مسلمان سفر میں گئے ہوئے ہیں ان کے حق میں کوئی بدخبرا ڑا کر ان کے رشتہ داروں کو پریشان کردینا یا مخالفین دین سے کسی سازش کا کرنا۔ محسنین وہ لوگ ہیں جو ہر طرح کی بدنی اور مالی عبادت اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر ادا کرتے ہیں چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کی حدیث جو ایک جگہ گزر چکی ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے احسان کے معنے اسی طرح کی حسن عبادت کے بتلائے ہیں یہ وہی حدیث ہے جس میں جبرئیل (علیہ السلام) نے سائل بن کر چند مسئلے آنحضرت ﷺ سے پوچھے ہیں اور آپ نے ان مسئلوں کے جواب دئے ہیں ان لوگوں کو محسنین جو فرمایا اس لئے معلوم ہوا کہ لشکر اسلام کی غیر حاضری اور سفر تبوک کے زمانہ میں ان لوگوں نے آیت کی شرط کے برخلاف کوئی بات نہیں کی اسی واسطے یہ لوگ گھر بیٹھے اجر کے مستحق ہوئے جس کا ذکر اوپر کی حدیثوں میں گزرا اوپر گزر چکا ہے کہ یوں تو جہاد فرض کفایہ ہے۔ فرض کفایہ اس فرض کو کہتے ہیں کہ قوم کے تھوڑے سے لوگ بھی اس کو ادا کر لیویں تو سب قوم سے اس کا بوجھ ٹل جاتا ہے لیکن ساتھ ہی اس کے یہ بھی گزر چکا کہ جن لوگوں کو آنحضرت ﷺ نے کسی لڑائی پر جانے کا حکم دیا تو نماز روزہ کی طرح ان پر فرض عین تھا کہ وہ لوگ ضرور آپ کے حکم کی تعمیل کریں یہ بات اس سبب سے تھی کہ اس زمانہ کے سب مسلمان بیعت کے ذریعہ سے یہ معاہدہ کرچکے تھے کہ وہ ہر حال میں اسلام کی مدد کریں گے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ اللہ بن عمر ؓ کی یہ حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ عہد شکنی منافق کی نشانی ہے اسی واسطے بلا عذر قوی کے جو لوگ گھر بیٹھ رہے اس سورت کی آیتوں میں ان پر خفگی نازل ہوئی کیونکہ صحیح بخاری میں کعب بن ؓ مالک کے صفہ کی جو حدیث ہے اس میں یہ ذکر صاف ہے کہ سوا سچے صاحب عذر لوگوں کے اور سب مسلمانوں کو اس سفر میں ساتھ چلنے کا حکم اللہ کے رسول ﷺ نے دیا تھا جس سے نماز روزہ کہ طرح ان پر اس لڑائی میں جانا فرض عین تھا حاصل کلام یہ ہے کہ اس مقام پر بعضے مفسروں کو یہ شبہ جو پیدا ہوا ہے کہ جہاد جب فرض کفایہ ہے تو صرف بعضے لوگوں کے تبوک کے سفر میں شریک نہ ہونے سے ان لوگوں پر اس قدر عتاب الہی کیوں ہوا اوپر جو آیت کی تفسیر بیان کی گئی اس کے بعد اب وہ شبہ باقی نہیں دیتا۔
Ayah 9:9292۔ صحیح بخاری میں ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت سے جو اس آیت کی شان نزول اور تفسیر بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ اپنے قبیلہ کے لوگوں کے ساتھ آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ سے لڑائی پر جانے کے لئے سواری عطا فرمانے کی خواہش پیش کی اس وقت آپ کچھ غصہ میں تھے اس غصہ کی حالت میں آپ نے قسم کھائی سواری کے نہ دینے کی پھر کچھ اونٹ مال غنیمت کے کہیں سے آگئے اور آپ نے ان لوگوں کو پھر بلایا اور چھ اونٹ ان کو دئے پہلے یہ لوگ اونٹ لے کر چلے پھر ان کے خیال آیا کہ آنحضرت کو آپ کی قسم یاد دلا دینی چاہئے ایسا نہ ہو کہ آپ نے قسم کی حالت کو بھول کر ہم کو یہ اونٹ دئے ہوں اس خیال سے یہ لوگ راستہ میں سے پلٹے اور آپ کو قسم کی حالت یاد دلائی تو آپ نے فرمایا جاؤ تمہیں اللہ نے سواری دی میں جب قسم کھاتا ہوں اور جس کام پر وہ قسم ہو اس سے بہتر کوئی کام مجھ کو نظر آتا ہے تو قسم کا کفارہ دے کر اس بہتر کام کو میں کرلیتا ہوں اس آیت کی تفسیر اور شان نزول اس حدیث کو اس سبب سے کہا گیا کہ یہ آیت تو بلا اختلاف جنگ تبوک کے واقعہ کے بیان میں ہے اور اس حدیث کو بھی امام بخاری علیہ الرحمتہ نے غزوہ تبوک میں روایت کیا ہے اور اس حدیث میں یہ صراحت بھی ہے کہ ان اشعری لوگوں کا آنحضرت سے سواری مانگنے کو آنا جنگ تبوک کے وقت تھا اس لئے آیت اور حدیث کا قصہ ایک ہی قصہ ہے امام بخاری نے جنگ تبوک میں تو ابوموسیٰ اشعری ؓ کی اس حدیث کو مختصر طور پر روایتوں کے دیکھنے سے آیت کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے اسی واسطے ان سب روایتوں کا حاصل ایک جگہ کیا اور جاکر آیت کی تفسیر میں بیان کردیا گیا ہے۔
Ayahs 9:93–9692۔ 96۔ اوپر کی آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا جو اپاہج بڈھے یا مفلس ہونے کے سبب سے لڑائی پر نہیں گئے اور ان لوگوں کو معذور ٹھہرا کر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ سرزنش کے قابل نہیں ہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ اصلی سرزنش کے قابل وہ لوگ ہیں جو باوجود دولت مند ہونے اور ہٹے کٹے ہونے کے اللہ کے رسول کا ساتھ چھوڑ کر بیٹھ رہے اور آگے کی آیتوں میں دور تک ان لوگوں کا ذکر ہے جس ذکر میں ان لوگوں کی تین قسمیں ہیں ایک توہ جنہوں نے آنحضرت سے جھوٹے عذر کئے ان کی نسبت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں اور اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب رکھا ہے دوسرا وہ گروہ ہے جنہوں نے اپنے قصور پر خود قائل ہو کر اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا تھا جن کی توبہ جلدی قبول ہوگئی تیسرا گروہ ان تین آدمیوں کا ہے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے مدینہ میں واپس آنے کے بعد آنحضرت کے روبرو اپنے قصور کا سچا اقرار کیا اور کوئی جھوٹا عذر نہیں گھڑا ان کی توبہ پونے دو مہینے کے بعد قبول ہوئی۔ ان آیتوں میں پہلی قسم کے لوگوں کا ذکر ہے باقی کے دو قسم کے لوگوں کا ذکر آگے آویگا حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان لوگوں کو عقبی کے عذاب وثواب کا یقین نہیں ہے اس لئے رات دن بیدھڑک یہ لوگ طرح طرح کے گناہوں میں گرفتار رہتے ہیں اور کثرت گناہوں سے ان کے دل پر ایسا زنگ چھا گیا ہے کہ اس زنگ کے سبب سے ان کا دل ناپاک ہوگیا ہے جس سے جہاد کی خوبی کی یا اور کسی نیک بات کے سمجھنے کی صلاحیت ان کے دل میں نہیں رہی ہے پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تم اور تمہارے ساتھ کے مسلمان جب مدینہ میں جاؤ گے تو یہ لوگ طرح طرح کے عذر کریں گے اس پر ان لوگوں کو یہ جواب دے دیا جاوے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل کا حاصل ہم کو بتلا دیا ہے اس لئے اب تو ہم تمہارے عذروں کی صداقت نہیں کرسکتے ہیں تمہاری آئندہ کی حالت پر اللہ اور اس کے رسول کی نظر ہے کہ آئندہ تم اسلام کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھتے ہو اور اسلام کے ساتھ جیسا برتاؤ آئندہ تم لوگ رکھو گے ویسا ہی برتاو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ برتے گا کیونکہ سزا و جزا کے لئے ایک دن سب کو اس غیب دان کے روبرو حاضر ہونا ضروری ہے پھر فرمایا تمہاری واپسی کے وقت قسمیں کھا کھا کر اس لئے یہ لوگ عذر کریں گے کہ تم ان کو کوئی ظاہری سر زنش نہ کرو اب ان لوگوں کے دل جب بد اعتقادی کے سبب سے ایسے ناپاک ہیں کہ کوئی نصیحت ان کو پاک نہیں کرسکتی تو تم بھی ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو کیونکہ علم الٰہی میں جو لوگ دوزخی ٹھہر چکے ہیں ان کے دل پر کسی سرزنش کا کچھ اثر نہیں ہوسکتا پھر فرمایا تم کو ان کو بداعتقادی اور دل کی گندگی کا حال معلوم نہیں اس لئے اگر بالفرض اپنی جھوٹی قسموں پر یہ لوگ تم کو کچھ رضامندی کرلیں تو کرلیں مگر اللہ کو تو ان کے دلوں کا حال ذرا ذرا معلوم ہے اس واسطے جب تک منافق پنے کی گندگی سے یہ لوگ اپنے دلوں کو پاک نہ کریں گے اس وقت تک ایسے بےحکم لوگوں سے نہ اللہ راضی ہوسکتا ہے نہ بارگاہ الہی میں تمہاری رضامندی ان کے کچھ کام آسکتی ہے معتبر سند سے ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ کے حوالہ سے اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بغیر توبہ کے گناہوں کی کثرت سے آدمی کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے جو اس کے تمام دل کو گھیر لیتا ہے اسی طرح صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کی ظاہری حالت پر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نظر تو ہمیشہ انسان کے دل پر لگی رہتی ہے کہ انسان ہر ایک کام دل کے کس ارادہ اور نیت سے کرتا ہے آیتوں اور حدیثوں کے ملانے سے آیتوں کی وہی تفسیر قرار پاتی ہے جو اوپر بیان کی گئی کہ ان لوگوں کے دل میں عقبیٰ کے عذاب کا خوف نہیں ہے اس لئے ہر وقت یہ لوگ نہیں اس واسطے مسلمان لوگ ان منافقوں کے اوپری دل کے عذروں اور ان کی جھوٹی قسموں سے دھوکا کھاسکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی نظر تو ان منافقوں کے دل پر لگی ہوئی ہے اور اس کو ان کے ہر ایک ولی ارادہ کا حال معلوم ہے اس لئے جب تک ان لوگوں کے دل سے یہ منافق پن کی گندگی نہ جاوے گی اور یہ لوگ صاف دل سے پورے مسلمان بن کر اپنے ظاہر و باطن کو یکساں نہ کریں گے اس وقت تک ان کا اوپری دل کا کوئی عذر اور کوئی عمل نہ بارگاہ الہٓی میں مقبول ہوسکتا ہے نہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوسکتی ہے :۔
Ayah 9:9797۔ گنواروں کی طبیعت اور سمجھ جیسی ہوتی ہے وہ تو ظاہر ہی ہے کہ ہٹ دھرمی گویا ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے عقل سے انہیں کوئی سروکار نہیں نہ علم سے کوئی واسطہ دل بھی ان کے ایسے ہی سخت ہوتے ہیں کفر و نفاق بھی ان میں بہ نسبت شہر والوں کے کہیں بڑہا ہوا ہوتا ہے اس لئے وہ ایسی لائق ہیں کہ قرآن اور دین اسلام کے احکام کو نہ جانیں کیونکہ ذاتی سخت مزاجی کے علاوہ ان کو دین و اسلام کی باتیں بھی سکونت کے سبب سے کم معلوم ہوا کرتی ہیں۔ مسند امام احمد ابوداؤد اور ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جنگل کے رہنے والے گنوار جفا کا رہوتے ہیں 1 ؎ اور یہی سبب ہے :
کہ گنواروں میں سے کوئی پیغمبر نہیں ہوا اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اپنا رسول شہروں میں پیدا کیا کیونکہ وہ علیم حکیم ہے وہ جانتا ہے کہ علم اور ایمان کس کو زیبا ہے جہالت اور کفرو نفاق کس کا حصہ ہے عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث کو ترمذی نے حسن غریب کہا ہے 2 ؎ لیکن طبرانی میں عبداللہ ؓ بن مسعود کی اسی مضمون کی حدیث ہے اس کی سند معتبر ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 383 ج 2 و تفسیر الدر المنثور ص 269 ج 3:۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 383 ج 2
Ayah 9:9898۔ اس آیت میں فرمایا دوسری قسم کے گنوار وہ ہیں کہ خدا کی راہ میں خرچ تو کرتے ہیں مگر ناخوشی سے اور ان کو ہر وقت یہ خیال لگا ہوا ہے کہ زمانہ ایک طور پر نہیں رہتا ممکن ہے کہ گردش زمانہ سے مشرکین غالب آجائیں یا کوئی اور حادثہ درپیش ہو اس لئے فرمایا کہ برے وقت اگر آئیں گے تو انہیں پر آئیں گے رسول یا مومنین پر کیوں آنے لگے اصل میں بنو اسد اور غطفان کی طرح اس آیت میں اشارہ ہے کیونکہ یہ لوگ خرچ تو کرتے تھے مگر ان کے دل میں یہی وسوسہ لگا رہتا تھا جس کا ذکر اوپر گزرا۔ صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ ہر نیک عمل کے وقت اللہ تعالیٰ انسان کے دل کو دیکھتا 1 ؎ ہے کہ کس دل سے یہ نیک عمل کیا گیا ہے یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں کے نیک عمل خالص دل سے نہیں تھے اس لئے بارگاہ الٰہٓی میں قبول نہیں ہوئے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 317 ج 2 باب تحریم ظلم المسلم الخ۔
Ayah 9:9999۔ پھر فرمایا کہ تیسری قسم کے وہ گنوار ہیں جو خدا پر اور قیامت کے دن پر سچے دل سے ایمان لاچکے ہیں اور خدا کی راہ میں اس امید پر خرچ کر رہے ہیں کہ خدا سے نزدیکی ہو اور رسول ان کے مغفرت چاہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے اور صدقہ دینے والوں کے لئے دعا فرمایا کرتے تھے۔ عبدالرحمن بن مغفل (رح) کہتے ہیں ہم مقرن کے دس بیٹے تھے یہ آیت ہماری شان میں اتری 1 ؎ ہے مجاہد نے بھی آیت کی یہی شان نزول بیان کی 2 ؎ ہے جو عبدالرحمن بن مغفل (رح) کہتے ہیں ہم مقرن کے دس بیٹے تھے یہ آیت ہماری شان میں اتری 3 ؎ ہے مجاہد نے بھی آیت کی یہی شان نزول بیان کی 4 ؎ ہے جو عبدالرحمن بن مغفل (رح) کہتے ہیں یہ عبدالرحمن بن مغفل (رح) ثقہ تابعی ہیں بعضے علماء نے ان کو صحابہ میں جو شمار کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے کلبی کا قول ہے کہ اسلم وغفارو جہنیہ ومزنیہ یہ لوگ اسی امید میں خرچ کرتے تھے کہ خدا سے نزدیکی ہو اور حضرت ﷺ ان کے واسطے دعا فرمائیں اس واسطے یہ آیت انہیں کی شان میں اتری ہے بنی مقرن قبیلہ مزنیہ سے ہیں اس واسطے مجاہد اور کلبی کے قول میں کچھ اختلاف نہیں ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنی نیک کمائی میں سے جو کوئی شخص ذر اسی چیز بھی صدقہ خیرات میں ویوے تو اللہ تعالیٰ اس چیز کے اجر کو خاص اپنے سیدھے ہاتھ لیتا ہے اور اس ذراسی چیز کے اجر کو ایک پہاڑ کے برابر کردیتا ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ سید ہے میں لیکن نیک کمائی اور نیک نبتی کے صدقہ خیرات کی شان بڑھانے کے لئے سیدھے اتھ کا لفظ حدیث میں فرمایا صدقہ خیرات کے سبب سے قربت الہٰٓی کا ذکر جو آیت میں ہے یہ حدیث گویا اس کو تفسیر ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 6 ج 11
2 ؎ تفسیر ابن جریر ص 5 ج 11 و تفسیر الدر المنثور ص 269 ج 3 و تفسیر فتح البیان ص 95 2 ج 2
3 ؎ تفسیر فتح البیان ص 295 ج 2:۔
5 ؎ صحیح بخاری ص 189 ج 1 باب الصدقہ من کسب طیب الخ
Ayah 9:100100۔ گنواروں کے بعد اللہ جل شانہ شہر والوں کا ذکر فرمایا ہے اس مقام پر مفسرین کا اختلاف ہے کہ سابقین سے کون لوگ مراد ہیں لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں جہاد مجاہد کا قول نہ ہو تو سعید بن المسیب کے قول کے موافق رفع اختلاف کیا جاتا ہے سعید بن مسیب کے قول کے موافق مہاجرین اور انصار میں سابقین وہ صحابہ ہیں جو بیت المقدس اور بیت اللہ دونوں قبلوں کی نمازوں میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک 1 ؎ تھے۔ عطاء بن ابی رباح کا قول ہے کہ جو صحابہ بدر کی لڑائی سے پہلے اسلام لائے اور اس لڑائی میں شریک ہوئے ان ہی کو سابقون فرمایا 2 ؎ ہے۔ یہی قول شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں لیا ہے۔ دو قبلوں کی نماز اور بدر کی لڑائی یہ دونوں باتیں ایک ہی سال 2 ہجری کی ہیں اس واسطے سعید بن المسیب اور عطاء بن ابی رباح کے قول میں کچھ اختلاف نہیں ہے اتبعو ھم باحسان سے باقی کے صحابہ مقصود ہونگے اور حاصل معنے یہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے راضی ہے اور یہ لوگ خدا سے راضی ہیں ان کے لئے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اور خدا کا وعدہ جھوٹا نہیں ہے یہ لوگ قطعی جنتی ہیں جن کے دل میں ان کی طرف سے بعض ہے یا جو ان میں سے اور ان لوگوں کے لئے جنت مقرر کرچکا۔ حاصل یہ ٹھہرا کہ اس آیت میں فقط صحابہ کا ذکر ہے تابعین کا ذکر نہیں صحابہ کے ساتھ تابعین کا ذکر سورة حشر میں آویگا۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید ؓ خدا ری کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کے حق میں کوئی شخص کسی طرح کی کوئی بری بات منہ سے نہ نکالے میرے اصحاب کا بڑا درجہ ہے ان کا تھوڑا نیک عمل اوروں کے تو عملوں سے بہتر ہے یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے جس سے صحابہ کی شان نور ان کی بدگوئی سے زبان کو روکنے کی تاکید معلوم ہوتی ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 7 ج 11 و تفسیر الدر المنثورص 271 ج 3 تفسیر ابن کثیر 34 /283
2 ؎ تفسیر معالم التزیل ص 228 ج 4
Ayah 9:101101۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت رسول خدا ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ پڑھتے پڑھتے چار پانچ آدمیوں کو فرمایا کہ تم منافق ہو نکل جاؤ۔ حضرت عمر ؓ آرہے تھے ان لوگوں کو مسجد سے آتے ہوئے دیکھ کر سمجھے کہ نماز ہوچکی اور چھپ گئے ان لوگوں نے بھی حضرت عمر ؓ کو دیکھ لیا تھا وہ یہ سمجھ کر چھپ گئے کہ ان پر ہمارا حال ظاہر ہوگیا۔ جب حضرت عمر ؓ مسجد میں پہنچے تو دیکھا کہ ابھی جماعت نہیں ہوئی ہے ایک شخص نے بڑھ کر کہا کہ آج تو منافق بہت ذلیل ہوئے خدا نے ان کو مسجد سے نکلوا دیا حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک عذاب تو یہی ہے کہ مسلمانوں کی مسجد سے یہ لوگ نکالے گئے بھری محفل میں رسوائی ہوئی اور دوسرا عذاب قبر کا عذاب ہے پھر آخرت میں عذاب عظیم 1 ؎ ہے۔ مجاہد ؓ نے بیان کیا ہے کہ قحط سے بھوکے رہنا دنیا کا عذاب 2 ؎ ہے۔ بعضے مفسروں نے لکھا ہے کہ مدینہ میں اور مدینہ کے اطراف میں جہینہ مزنیہ اشجع غفار اسلم رہتے تھے انہیں میں سے وہ لوگ ہیں جہینہ مزنیہ وغیرہ کی اگرچہ اوپر تعریف گزر چکی ہے لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ ان قبیلوں میں ہر طرح کے لوگ ہوں اس سبب سے ان دونوں روایتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے بعض مفسروں نے ان لوگوں کے نام بھی ذکر کئے ہیں اور بعضوں نے نام نہیں بیان کئے کیونکہ اللہ پاک نے اپنے رسول کو خود ارشاد فرمایا ہے کہ تم نہیں جانتے ہم ان کو جانتے ہیں پھر اور کوئی ان کے نام کیوں جان سکتا ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ نواح مدینہ میں قبیلہ جہینہ و مزنیہ وغیرہ کے کچھ لوگ اور خاص مدینہ میں عبداللہ بن ابی کی جماعت یہ منافق لوگ ہیں یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کا حال کسی کو معلوم نہیں مگر اللہ کو ان کا حال خوب معلوم ہے اسی واسطے اس نے دنیا میں ان کو رسوا کیا ابھی عذاب عقبیٰ باقی ہے صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس طرح بکریوں کے ریوڑوں میں سے ایک ریوڑ کی بکری ریوڑ سے پیچھے رہ کر اپنے ریوڑ کو ٹٹولتی پھرتی ہے کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے کبھی اس ریوڑ کی یہی حال منافقوں کے اعتقاد کا ہے 3 ؎ کہ ظاہر میں مسلمانوں کے گروہ کے ساتھ معلوم ہوتے ہیں اور حقیقت میں مخالف اسلام جماعت کے حامی ہیں۔ یہ حدیث منافقوں کے اعتقاد کی تفسیر ہے رہے ان کے عمل وہ صحیح حدیثوں کے موافق یہ ہیں کہ اذان سننے کے بعد جماعت کی پروا نہیں کرتے دکھاوے کے لئے نماز پڑھتے ہیں تو وقت کو ٹال کر بےوقت جلدی کے مارے ایسی کہ جس میں نہ پورا رکوع ہے نہ سجدہ اور اسی طرح دین کا جو کام کرتے ہیں اپنے جان و مال کو مسلمانوں کے حملہ سے پچانے کے لئے اوپری دل سے کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور عقبی کے ثواب کی نیت سے کچھ بھی نہیں کرتے کیونکہ عقبیٰ کے ثواب کا پورا یقین ان کے دل میں نہیں ہے۔ سوا ان باتوں کے وعدہ خلافی امانت میں خیانت جھوٹ بولنا لڑائی جھگڑے کے وقت گالیاں بکنا وغیرہ منافقوں کی یہ بھی نشانیاں ہیں جن کا ذکر تفصیل سے اس تفسیر میں کئی جگہ آچکا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ جب تک اسلام کا غلبہ تھا اس وقت تک جان ومال کے خوف سے اس طرح کے اعتقادی نفاق کی لوگوں کو ضرورت تھی کہ ظاہر میں مسلمان بنے رہیں اور باطن میں اسلام کے مخالف اب ضعف اسلام کے سبب سے وہ بات تو باقی نہیں رہی کھلم کھلا جس کا جی چاہے یہودی ہوجاوے جس کا جی چاہے نصرانی آریہ وغیرہ کوئی کسی کا پر سان حال نہیں ہے لیکن ضعف ایمان کے سبب سے عملی نفاق کی باتیں اب بھی باقی ہیں اور جوں جوں نبوت کا زمانہ دور ہوتا جاوے گا دن بدن یہ باتیں بڑھتی جاویں گی۔
اس ضعف اسلام کے زمانہ میں ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنے ایمان کی قوت اور ضعف کا حال جانچنے کے لئے ابی امامہ ؓ کی اس حدیث کے موافق اپنے دل کا حاصل ہمیشہ دریافت کیا کرے جو حدیث اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت ایماندار آدمی کی کیا نشانی ہے آپ نے جواب دیا کہ نیک کام کر کے جب تیراوں اندر سے خوش ہو اور برا کام کرکے تیرے دل میں ایک ندامت پیدا ہو تو جان لیجیو کہ ترکے دل میں نور ایمانی کی جھلک 1 ؎ ہے۔ اب مثلا ایک شخص کی نماز کو اتفاق سے ایک دن دیر ہوگئی اور اس پر اس کو ایک طرح کی ندامت ہوئی تو ایسے شخص کو جان لینا چاہئے کہ اس کے دل میں نور ایمان کی کچھ جھلک ہے اور جس شخص کا حال اس کے برخلاف ہے اس کا نور ایمان بلاشک ودھند لا اور اس کے دل پر نفاق عملی کا اندھیر اچھا یا ہوا ہے جب تک چند روزہ زندگانی ہے ایسے شخص کو اپنی اس نادم ہونے کا اور آئندہ اس کو چھوڑ دینے کا اچھا موقع حاصل ہے ورنہ پھر آنکھ ﷺ نے فرمایا جو لوگ دنیا میں تمام عمر چستی سے نیک کاموں میں لگے رہیں گے قیامت کے دن ان کو یہ پچھتاوا ہوگا کہ انہوں نے نیک عمل اور زیادہ کیوں نہیں کئے جو اجر میں اور زیادتی 4 ؎ ہوتی نیک عملوں میں سستی کرنے والے ابی امامہ ؓ کی اس حدیث کی سند پر اگرچہ بعضے علماء نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس حدیث کی سند میں مطلب بن عبداللہ نہیں ہے اس لئے ایک سند کو دوسری سند سے تقویت حاصل ہو کر یہ حدیث معتبر سند کی حدیثوں میں داخل ہوسکتی ہے 5 ؎
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 384 ج 2
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 385 ج 2
3 ؎ صحیح مسلم ص 370 ج 3 کتاب صفات المنافقین الخ :۔
4 ؎ مشکوۃ ص 16 کتاب الایمان
5 ؎ الترغیب والترھیب ص 297 ج 2 فصل فی ذکر الحاب وغیرہ
Ayahs 9:102–104102۔ 104۔ تفسیر ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور ابو الشیخ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس گروہ صحابہ نے اپنے قصور کا اقرار کر کے آنحضرت ﷺ کے تبوک کے سفر سے مدینہ واپس آنے سے پہلے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا پہلا ٹکڑا آیت کا اس شان میں ہے اور پھر جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی اور انہوں نے آنحضرت کی خدمت میں اپنا مال لاکر عرض کیا کہ حضرت جس مال کے لینے سے انکار کیا تھا دوسرا ٹکڑا آیت کا اس مال کے حکم میں ہے اور جن لوگوں کی توبہ پونے دو مہینے کے بعد قبول ہوئی تیسرا آیت کا ٹکڑا ان کی شان میں نازل ہوا 1 ؎ ہے علماء سلف نے اس آیت کے حکم سے یہ بات بھی نکالی ہے کہ کوئی گنہگار شخص جب اپنے گناہوں سے توبہ کرے تو اس کو کچھ صدقہ دینا بھی مستحب ہے اگرچہ بعضے مفسروں نے اس صدقہ سے مراد زکوٰۃ لی ہے لیکن اکثر مفسرین کا قول یہ ہی ہے کہ اس آیت میں صدقہ سے مراد کفارہ کے طور پر نفلی صدقہ ہے اور خاص اس قصہ میں صحیحین کی کعب بن مالک ؓ کی جو حدیث 2 ؎ ہے اس سے اس آخری قل کی بڑی تائید ہوتی ہے کیونکہ اس روایت میں کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب میری توبہ قبول ہوئی تو میں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ میری توبہ کا جزیہ بھی یہی ہے کہ میں اپنا مال صدقہ میں دوں آپ نے فرمایا کسی قدر اپنا مال رہنے دو کہ تمہارے کام آویگا اس پر انہوں نے عرض کیا کہ خیبر کی لڑائی میں جو مجھ کو حصہ ملا ہے وہ میں رہنے دیتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ کعب بن مالک ؓ نے اپنا سارا مال نفلی صدقہ کے طور پر دینے کا ذکر کیا اور اس پر آنحضرت نے ان کو کسی قدر مال رہنے دینے کی نصیحت کی، زکوۃ کا ذکر ہوتا تو زکوٰۃ کی مقدار جس قدر مقرر ہے اسی قدر مقرر ہے اسی قدر مال کے دینے کا ذکر آتا سارے مال کے ذکر کی اور آنحضرت کی نصیحت پر صرف خیبر کے حصہ کے رہنے دینے کی کیا ضرورت تھی۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کوئی شخص گناہ کر کے فورا توبہ استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جبکہ میرے بندے کے دل میں اس قدر یقین ہے کہ گناہوں پر گرفت کرنے والا اور گناہوں کو معاف کرنے والا سوا اللہ کے اور کوئی نہیں ہے تو میں نے بھی اپنے بندے کی توبہ قبول کی اور اس کے گناہوں کو معاف کردیا 3 ؎۔ آیت کے ٹکڑے الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے آیت ومن الاعراب من یومن باللہ کی تفسیر میں صدقہ خیرات کے سبب سے قربت الٰہی حاصل ہونیکی۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے اوپر گذر چکی ہے وہ حدیث خذ الصدقات کی گویا تفسیر ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ایک اور حدیث ابوہریرہ ؓ کی اس تفسیر میں ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو گناہوں کے معاف کرنے کی صفت اس قدر پیاری ہے کہ دنیا کے موجود لوگ اگر گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ اور گنہگار مخلوقات کو زمین پر پیدا کرتا اور توبہ و استغفار کرنے سے ان کے گناہ معاف کردیتا 4 ؎ یہ حدیث وان اللہ ھوا لتواب الرحیم کی گویا تفسیر ہے۔
1 ؎ تنقیح الرواۃ ص 17 ج 1 کتاب الایمان
2 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 634 باب حدیث کعب بن مالک ؓ
3 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 1117 باب قول اللہ یریددن ان یبدلوا کلام اللہ الخ والترغیب والترہیب ج 2 ص 220 الترغیب فی التوبۃ البادرۃ الخ
4 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 355 باب سقوط الذنوب بالاستغفار والتوبۃ۔
Ayah 9:105105۔ جہاد میں جن لوگوں سے سستی ہوئی تھی اور وہ اپنے عیش و آرام میں پڑے رہے انہوں نے اپنے قصور کا اقرار کیا تھا ان کی نسبت یہ حکم ہوا کہ اے رسول اللہ تم ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ ابھی تو بہتیرے جہاد ہوں گے اس وقت خدا اور خدا کا رسول اور مومنین سب تمہارے کام اور مستعدی دیکھ لیں گے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس آیت میں برے کاموں سے خوف اور اچھے عمل کا شوق دلایا گیا ہے کیونکہ جس کو یہ معلوم ہوگا کہ میرے عمل اللہ سے پوشیدہ نہیں ہیں تو گناہوں سے بچے گا اور نیکی کی کوشش کرے گا۔ جب حضرت ﷺ موجود تھے تو آنکھوں سے لوگوں کے عمل دیکھتے اور کانوں سے سنتے تھے اب آپ کی امت کے عمل آپ کے اور مومنوں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ چناچہ معتبر سند سے ابن ماجہ میں ابوداود کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو جمعہ کے دن درود زیادہ پڑھا کرو کہ تمہارے درود میرے روبرو پیش ہوتے 1 ؎ ہیں اسی طرح ابوداؤد طیالسی میں جابر ؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ زندوں کے عمل ان کے اور رشتہ دار مردوں کے سامنے پیش ہوتے ہیں اگر اچھے عمل ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں اگر برے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں یا اللہ ان کے دل میں یہ بات ڈال دے کہ یہ تیری اطاعت کو سمجھیں 2 ؎ مسندامام احمد میں اس مضمون کی ایک روایت انس بن مالک ؓ کی بھی 3 ؎ ہے لیکن اس کی سند میں ایک راوی کا نام مبہم طور پر ہے اور ابو طیالسی کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار متروک ہے اس سبب سے یہ روایتیں ضعف سے خالی نہیں ہیں اس لئے رشتہ دار وفات یافتہ کے سامنے زندہ رشتہ داروں کے عملوں کی پیش ہونے کا مسئلہ توجہ طلب ہے لیکن اس بات میں کچھ آثار صحابہ کے ہیں صحیح مسلم کی ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث اس تفسیر میں ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر شخص کے دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں ملائکہ پہنچا دیتے ہیں 4 ؎ یہ حدیث فسیری اللہ عملکم کی گویا تفسیر ہے بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب تم کسی کو اچھے عمل کرتے دیکھو تو کہو اعملوا فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمومنون 5 ؎۔ عالم الغیب والشہادۃ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب دان ہے نہ اس کو یادداشت کے لئے فرشتوں سے لوگوں کے اعمال نامے لکھوانے کی ضرورت ہے نہ صبح شام ان اعمال ناموں کے ملاحظہ فرماتے اور ملاحظہ کے بعد ان کو حفاظت سے سر بمہر رکھوانے کی ضرورت ہے بات فقط اتنی ہی ہے کہ بنظر انصاف اللہ تعالیٰ نے سزا وجزا کا مدار اپنے علم غیب پر نہیں رکھا ہے بلکہ سزا وجزا کا دارو مدار ظاہر حالت پر رکھا ہے اس واسطے یہ سب انتظام ظہور میں آیا ہے فینبئکم بما کنتم تعلمون اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے سزاو جزا کا مدار اپنے علم غیب پر نہیں رکھا تو ظاہر حالت کے موافق قیامت کے دن یہی انتظام ہوگا کہ ہر شخص کا نامہ اعمال اس کو دیا جائے گا عمر بھر جو کچھ دنیا میں اس نے کیا ہے وہ سب اس کو جتا دیا جاویگا اس جتلانے کے وقت بعضے لوگ ایسے ہونگے کہ اعمال نامہ میں اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے سچ بولنے پر ان سے خوش ہو کر ان کے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کی عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث 6 ؎ ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں اس معافی کا ذکر ہے بعضے لوگ ایسے ہوں گے جو اعمال نامہ میں کھلے ہوئے گناہوں کا انکار کریں گے ان کا انجام یہ ہوگا کہ ان کے منہ پر سکوت کی مہر لگائی جاکر ان کے ہاتھ پیروں کو گناہوں کی گواہی دینے کا حکم ہوگا وہ سب گناہوں کی گواہی دیویں گے اور اس گواہی پر ان لوگوں کے مخالف آخری فیصلہ ہوجاویگا۔ سورت یس میں اس کا ذکر تفصیل سے آویگا اور اس بات میں صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث 7 ؎ بھی ایک جگہ گذر چکی ہے۔
1 ؎ ابن ماجہ ص 119 باب ذکر وفاتہ دوفنہ
2 و 3 و 5 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 387
4 ؎ صحیح مسلم ج 1 ص 99 باب معنی قول اللہ عزوجل ولقدراہ نزلۃ اخری الخ
6 ؎ مشکوٰۃ ص 485 باب الحساب الخ فصل اول
7 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 409 کتاب الزہد۔
Ayah 9:106106۔ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ منافق اپنے نفاق پر اڑے رہے جہاد میں نہیں شامل ہوئے ان پر دنیا میں بھی عذاب نازل ہوا اور آخرت میں بھی ہوگا ایک وہ لوگ بھی تھے جو آرام کے واسطے لڑائی سے پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے اپنے قصور کا اقرار کیا اور حضرت سے عذر چاھا آپ نے قبول فرمایا اللہ نے معاف کردیا اس آیت میں جس کا ذکر ہے یہ وہ لوگ ہیں جو جہاد میں نہیں شامل ہوئے تھے ان کو کوئی عذر نہ سوجھا جو حیلہ کرتے اس لئے حضرت ﷺ ان کے بارے میں چپ ہو رہے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ ان کا کام ڈھیل میں ہے پچاس روز کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم اور حکمت کے موافق جو کچھ ٹھہرا ہے وہ ظہور میں آجاویگا اس عرصہ میں حضرت ﷺ اور سارے مسلمانوں نے ان سے بولنا چھوڑ دیا ان کی عورتیں بھی ان سے علیحدہ ہوگئیں بہت ہی پریشان اور حیران ہوئے پھر معافی کی آیت اتری لقد تاب اللہ علی النبی جو آگے آئے گی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ تین شخص ہیں جنہوں نے معافی چاہنے اور توبہ کرنے میں دیر لگائی تھی۔ مرارہ بن ربیع کعب بن مالک ہلال بن امیہ تبوک کی لڑائی میں جو لوگ نہیں گئے تھے وہ سب منافق نہیں تھے بلکہ بعضوں کی سستی تھی یا آرام کا خیال تھا جو رہ گئے تھے ان میں سے بعضوں نے جلدی توبہ کی اور اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھا اس لئے ان کو توبہ جلدی قبول ہوئی اور ان تین شخصوں نے توبہ کرنے میں دیر لگائی اور اپنے کو ستون سے نہیں باندھا اس لئے ان کی توبہ قبول ہونے میں دیر ہوئی۔ صحیح بخاری ومسلم میں کعب بن مالک ؓ کی حدیث 1 ؎ ہے اس میں یہ قصہ تفصیل سے ہے اس حدیث میں ان تینوں شخصوں کا نام بھی ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن جریر ج 11 ص 24 و تفسیر الدر المنثور ج 3 ص 276