Ayah 9:4141۔ اس آیت میں اللہ پاک نے جہاد میں جانے کا حکم فرمایا کہ تم کسی حال میں ہو خواہ تم پر جہاد ہلکا ہو خواہ بھاری ہم تم اپنی جان ومال سے خدا کی راہ میں جہاد کرو مفسروں کے قول خفافاوثقالا کی تفسیر میں بہت مختلف ہیں۔ لیکن صحیح تفسیر وہی ہے جو تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح قول کے حوالہ سے ہے کہ جن لوگوں کو اللہ کے رسول ﷺ لڑائی پر جانے کا حکم دیں ان لوگوں کا دل خواہ چاہے یا نہ چاہے لیکن ان کو اللہ کے رسول کے حکم کی تعمیل کرنی چاہیے اور ہر سمجھ دار کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کے رسول کی فرمانبرداری میں اس کی بہتری ہے کیونکہ اس طرح کے لوگ اگر شہید ہوگئے تو جنت میں جاویں گے اور اگر صحیح و سلامت رہے تو عقبے میں اللہ انہیں اجر دیگا اور دنیا میں مال غنیمت جدا حاصل ہوگا۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم میں ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص محض خدا اور رسول کی فرمانبرداری کے طور پر دین کی لڑائی میں شریک ہوتا ہے اس کا خدا ضامن ہوجاتا ہے اگر وہ واپس آیا تو اجر و غنیمت لے کر پھر آیا شہید ہوا تو جنت میں داخل ہوگا یہ حدیث ذالکم خیر لکم ان کنتم تعلمون کی گویا تفسیر ہے جس سے دین دنیا کی بہتری کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے جو علماء اس بات کے قائل ہیں کہ جہاد تو خود فرض کفایہ ہے لیکن اللہ کے رسول یا اللہ کے رسول کے قائم مقام جن لوگوں کو لڑائی پر جانے کا حکم دیں تو ان لوگوں کے ذمہ لڑائی پر جانا فرض عین ہوجاتا ہے۔ ان آیتوں کی ترتیب سے ان علماء کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ پہلے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر خفگی فرمائی جو حکم کے بعد بھی لڑائی پر نہیں گئے اور پھر اس آیت میں لڑائی پر جانے کی تائید فرمائی اس ترتیب سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں پر اوپر کی آیت میں خفگی فرمائی تھی اس آیت میں یہ تاکید بھی ان ہی لوگوں کو فرمائی ہے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمائی کہ اب ہجرت تو باقی نہیں رہی ہاں خالص نیت سے دین کی لڑائی باقی ہے اس لئے جن لوگون کو دین کی لڑائی کا حکم دیا جاوے انہیں اس حکم کی تعمیل ضرور ہے حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ جس طرح فتح مکہ سے پہلے ہجرت کا سفر فرض تھا اسی طرح فتح مکہ کے بعد دین کی لڑائی کے لئے سفر کرنا ان لوگوں پر فرض ہے جن کو دین کی لڑائی پر جانے حکم دیا جاوے ہجرت سے پہلے سفر ہجرت کے فرض عین ہونے میں سب علماء متفق ہیں اس واسطے اس صحیح حدیث کے موافق یہی مسئلہ صحیح قرار پاتا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ کے رسول دین کی لڑائی پر جانے کا حکم دیتے تھے ان کے حق میں لڑائی پر جانا فرض عین تھا اور باقی لوگوں کے حق میں فرض کفایہ معتبر سند سے ابوداؤد اور صحیح ابن حبان میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کہ یمن سے ایک شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے جہاد میں جانے کی اجازت چاہی آپ نے اس شخص سے پوچھا کہ یمن میں تیرا کوئی رشتہ دار ہے اس شخص نے جواب دیا یمن میں میرے ماں باپ ہیں یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ پہلے اپنے ماں باپ سے جہاد میں جانے کی اجازت حاصل کرلے پھر جہاد میں جانے کا قصد کیجیو اس حدیث سے اکثر علماء نے یہ بات نکالی ہے کہ ماں باپ کی خدمت فرض عین ہے اور جہاد فرض کفایہ ہے اسی واسطے آنحضرت ﷺ نے بغیر اجازت ماں باپ کے جہاد پر جانے کی اجازت اس شخص کو نہیں دی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں کی ترتیب اور صحیح حدیثوں کے موافق انہیں علماء کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے جس اس بات کے قائل ہیں کہ جہاد خود تو فرض کفایہ ہے لیکن شرعی سردار جن لوگوں کو جہاد کا حکم دے ان پر فرض عین ہوجاتا ہے اس صحیح قول کے موافق آیت کی صحیح تفسیر وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی فرض عین وہ ہے جس کا ادا کرنا ہر مسلمان کے ذمہ لازم ہے مثلا جیسے پنجگانہ نماز۔ فرض کفایہ وہ ہے جس کو بعضے مسلمان بھی ادا کر لیویں تو سب مسلمانوں کے ذمہ سے اس کا بوجھ اتر جاوے جیسے مثلا جنازہ کی نماز۔
Ayah 9:4242۔ اوپر ان مسلمانوں کا ذکر تھا جو فقط سستی سے لڑائی میں نہیں گئے اس آیت میں ان منافقوں کا حال ہے جو منافق اپنے نفاق کے سبب سے جھوٹے عذر کر کے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوئے اور گھروں میں بیٹھ رہے ان کے حق میں فرمایا کہ یہ لوگ اس خیال سے رہ گئے کہ دور دراز کا سفر ملک شام کی طرف کرنا پڑے گا اور وہاں غنیمت کا مال خدا جانے ملے یا نہ ملے غرض کہیں نزدیک جانا ہوتا اور غنیمت بھی آسانی سے دستیاب ہوتی تو یہ لوگ تمہارے ساتھ جاتے مگر لانبے سفر کو انہوں نے مشقت خیال کیا پھر یہ فرمایا کہ جب تم مدینہ کو واپس جاؤ گے تو قسمیں کھا کھا کر یہ لوگ عذر بیان کریں گے کہ ہمارے پاس راہ خرچ نہیں تھا اس واسطے ہم جہاد میں نہیں شریک ہوئے پھر فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹ بول بول کر اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا چاہتے ہیں کیونکہ خدا خوب جانتا ہے کہ یہ لوگ اپنے قول میں جھوٹے ہیں انہیں جہاد میں شریک ہونے سے کوئی امر مانع نہ تھا ان کے پاس بہت کچھ تھا مگر جھوٹ بول کر پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔
شقہ وہ سفر ہے جس میں مشقت زیادہ ہو گرمی کے موسم میں یہ دور کا سفر بڑی مشقت کا سفر تھا اس لئے اس کو شقہ فرمایا شاہ صاحب نے شقہ کا ترجمہ طرف کے لفظ سے جو کیا ہے اس سے مقصود سفر کا آخری سرا اور کنارہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس مشقت کے سفر کا آخری کنارہ ان لوگون کو دور معلوم ہوا صحیح بخاری اور مسلم میں عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جھوٹ بولنا منافق کی نشانی ہے انہی عبداللہ ؓ سے صحیح بخاری میں روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے جھوٹی قسم کھانے کو کبیرہ گناہ فرمایا ہے یہ حدیثیں یھلکون انفسہم کی گویا تفسیر ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو ان لوگوں نے اپنے عذروں سے جھوٹ بول کر اپنی منافقانہ عادت ظاہر کی اور پھر جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے آپ کو کبیرہ گناہ میں مبتلا کیا اس طرح سے گناہ پر گناہ کر کے ان لوگوں نے اپنی جان کو عقبے کی ہلاکت میں پھنسایا۔
Ayah 9:4343۔ جس طرح بدر کے قیدیوں سے وحی کے نازل ہونے سے پہلے آنحضرت نے فدیہ لے لیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی خفگی کا حکم آیا اسی طرح تبوک کی لڑائی کے وقت جن منافقوں نے بناوٹ کے عذر آنحضرت کے روبرو پیش کئے اور آپ نے ان لوگون کو مدینہ میں رہ جانے کی روانگی دے دی اس پر خفگی کا حکم نازل ہوا مگر یہ خفگی کا حکم ایسا پیار کا ہے کہ جس میں خفگی سے پہلے معافی کا ذکر ہے خفگی کا حاصل یہ ہے کہ پر وگنگی میں اس قدر جلدی نہ کرنی تھی بلکہ ذرا عذروں کی دریافت کرنی تھی تاکہ ملعوم ہوجاتا کہ کس کس کے عذر سچے ہیں اور کس کس کے بناوٹی بعضے مفسروں نے اس آیت کی سورت نور کی آیت فاذن لمن شئت منھم (25: 62) سے منسوخ کہا ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ دونوں آیتوں میں کوئی آیت منسوخ نہیں ہے کیونکہ دونوں آیتوں میں سچے عذر والوں کو پروانگی دینے کا حکم ہے فرق اسی قدر ہے کہ اس آیت میں مجمل حکم ہے اور سورة نور میں صاف ہے اس صورت میں ایک آیت دوسری آیت کا بیان ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے یہ جو عذر کیا تھا کہ ان کے پاس راہ خرچ نہیں تھا اس عذر کی ذرا بھی دریافت کی جاتی تو ان کے اس عذر کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجاتا کیونکہ ان لو لوگوں کے پاس سواری راہ خرچ سب کچھ تھا فقط منافقانہ عادت کے سبب سے انہوں نے جھوٹے عذر پیش کئے اور اگرچہ ان جھوٹے عذروں کے سبب سے یہ لوگ دنیا میں گرمی کے موسم کے سفر سے بچ گئے لیکن جھوٹ اور جھوٹی قسموں کے سبب سے عقبے میں انہوں نے اس آگ میں اپنا ٹھکانا بنایا جس کے مقابلہ میں دنیا کی گرمی کہ موسم کی گرمی تو درکنار دنیا کی آگ بھی اس آگ کے آگے کوئی چیز نہیں ہے صحیح بخاری ومسلم کہ حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کی آگ سے دوزخ کی آگ میں انتہر 69 درجے حرارت زیادہ ہے یہ حدیث تو دوزخ کی آگ کے حال کی ہے اور ان لوگوں کے اس آگ کے قابل عمل کرنے کا حال آیت کے ٹکڑے یھلکون انفسہم سے اور عبداللہ ؓ بن عمروبن العاص کی اوپر کی روایتوں سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے۔
Ayahs 9:44–4544۔ 45۔ جب منافقوں نے حضرت ﷺ سے جہاد میں نہ شریک ہونے اور گھروں میں بیٹھ رہنے کی اجازت چاہی اور آپ نے نہیں اجازت دی جس کا ذکر اوپر گذرا تو اب اس کے بعد یہ بات بیان فرمائی کہ جو لوگ ایمان دار ہیں خدا پر اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہ کبھی گھر میں بیٹھ رہنے کی اجازت نہیں چاہتے ہیں انہیں تو یہی بات پسند ہے کہ جس طرح ممکن ہو جان سے مال سے جہاد میں شریک ہوں بلکہ اگر انہیں بیٹھ رہنے کا حکم بھی دیا جائے تو ان پر شاق گذرتا ہے چناچہ صحیح بخاری کہ حوالہ سے سعد بن ابی وقاض ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے کہ حضرت علی ؓ کو آنحضرت ﷺ نے اسی لڑائی پر جاتے وقت یہ حکم فرمایا تھا کہ تم مدینہ میں رہو ان پر یہ حکم نہایت گراں گذرا اور راضی نہ ہوتے تھے جب آنحضرت ﷺ نے ان سے یہ بات کہی کہ کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ مجھ سے تمہیں وہ خصوصیت ہو جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھی کہ ہارون ( علیہ السلام) موسیٰ ( علیہ السلام) کے نائب اور قائم مقام تھے غرض کہ یہ بات سن کر حضرت علی ؓ کے مدینہ کے رہ جانے پر رضامند ہوئے پھر اللہ پاک نے مومنوں کا حال بیان فرما کر یہ ذکر کیا کہ خدا سب کو جانتا ہے کون کون ان میں متقی ہیں اور پھر یہ فرمایا کہ جو لوگ خدا پر پورا ایمان نہیں رکھتے اور نہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں یہی لوگ بیٹھ رہنے کو پسند کرتے ہیں اور گھروں میں رہ جانے کی اجازت بھی چاہتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں دین کی طرف سے شک ہے اور یہ لوگ ہمیشہ شک کی حالت میں متردد ہیں معتبر سند سے مسندامام احمد صحیح ابن حبان وغیرہ میں ابومامہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے آدمی کے ایمان دار ہونے کی نشانی پوچھی تھی جس کے جواب میں آپ نے فرمایا جس شخص کا دل نیک کام سے خوش ہو اور برے کام سے غمگین ہو تو ایسا شخص ایماندار ہے۔ حاصل مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ ایماندار لوگوں کے دل میں عقبے کے ثواب اور عذاب کا پورا یقین ہوتا ہے اس لئے نیک کام کا ثواب یاد کر کے ان کا دل خوش ہوتا ہے اور برے کام کا عذاب یاد کر کے ان کے دل میں ایک طرح کا غم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن لوگوں کے دل میں عقبے کے ثواب کا پورا یقین نہیں ہے ان کی حالت اس کے برخلاف ہے یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل میں عقبے کے ثواب کا پورا یقین ہے وہ اپنے دین کی لڑائی چھوڑ کر گھر میں بیٹھ رہنے کی خواہش کبھی نہ کریں گے بلکہ ان کی خواہش اور خوشی تو ہمیشہ ایسے نیک کاموں میں لگے رہنے کی ہوگی ہاں جن لوگوں کے دل میں یہ یقین پورا نہیں ہے وہ محنت مشقت کے نیک کاموں کی جرأت نہیں کرسکتے۔
Ayahs 9:46–4746۔ 47۔ اس آیت میں بھی اللہ پاک نے منافقوں کا حال بیان فرمایا کہ ان لوگوں کا ارادہ پہلے ہی سے اس لڑائی میں شریک ہونے کا بالکل نہ تھا اگر یہ لوگ لڑائی میں شریک ہونا چاہتے تو ضرور سامان جنگ کرتے جس طرح اور لوگوں نے اس کی تیاری کی تھی پھر یہ فرمایا کہ اللہ کو بھی انکا شریک ہونا پسند نہیں تھا اسی واسطے اس نے ان کے دلوں میں نامردی پیدا کردی اور یہ عذر و حیلہ کر کے رہ گئے اور جس طرح عورتیں بچے بیمار اور معذور گھروں میں رہ جاتے ہیں انہیں بھی رہ جانا پڑا یہ خدا کی بہت بڑی مصلحت تھی کیونکہ اگر یہ لوگ بھی لڑائی میں جاتے تو بجائے مدد کے فتنہ و فساد بر پا کرتے مسلمانوں کو خوف دلاتے اور ایسی ایسی باتیں کرتے جس سے مومنوں کے جی چھوٹنے لگتے کیونکہ تم میں وہ لوگ بھی ہیں جو تمہاری باتیں سن سن کر ان منافقوں کو اس کی خبر دیتے رہتے ہیں جاسوسی کرتے ہیں۔ واللہ علیم بالظالمین۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لشکر اسلام میں جو لوگ ان منافقوں کے دوست ہیں جس دوستی کے سبب سے وہ لشکر اسلام کی باتیں جاسوسی کے طور پر ان منافقوں کو پہنچاتے ہیں وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ وہ اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں کہ اس جاسوسی اور منافقوں کی سزا بھگتیں گے کیونکہ اللہ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اس کو ان جاسوسوں کا اور ان کے دوست منافقوں کا سب کا حال خوب معلوم ہے وہ اپنے علم کے موافق وقت مقررہ پر ان کے عملوں کی پرسش کرے گا قتادہ کے قول کے موافق اگرچہ بعضے مفسروں نے وفیکم سمعون لھم کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان منافقوں کی باتیں سنتے اور مانتے ہیں لیکن حافظ ابو جعفر ابن جریرنے اپنی تفسیر میں قتادہ کہ اس قول کی ضعیف ٹھہرایا ہے اس واسطے مجاہد کے صحیح قول کے موافق آیت کی وہی تفسیر صحیح معلوتی ہے جو اوپر بیان کی گئی کیونکہ اس تفسیر کے مقدمہ میں یہ بات بیان کردی گئی ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ ابن عباس کے شاگردوں میں جہاد اختلاف ہو وہاں مجاہد کا قول زیادہ معتبر قرار پاتا ہے کعب ؓ بن مالک بھی ان لوگوں میں ہیں جو تبوک کے سفر میں شریک نہیں ہوئے ان کا قصہ تفصیل سے آگے آوے گا صحیح بخاری میں کعب بن مالک ؓ کے بیٹے عبداللہ بن ابی منافقوں کا سردار احد کی لڑائی کے میدان میں سے لشکر اسلام کے تین سو آدمیوں کو بہکا کر مدینہ کو واپس لے آیا تھا اذا جائک المنافقون میں آویگا کہ اسی عبداللہ بن ابی نے بنی مصطلق کی لڑائی کے وقت اپنے قبیلہ کے انصار کو یہ بہکایا تھا کہ اس لڑائی سے واپس جانے کے بعد مہاجرین کو مدینہ سے نکال دیا جاوے۔ آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ اگر ان منافقوں کے دل میں اس سفر کا ارادہ ہوتا تو یہ لوگ سفر کی تیار کا ارادہ پہلے سے کرتے اس کی تفسیر کعب ؓ بن مالک کے قصہ سے یوں ہوسکتی ہے کہ کعب بن مالک ؓ اگرچہ سستی کر کے اس سفر میں نہیں گئے لیکن ان منافقوں کی طرح اس سفر کے ارادہ سے وہ غافل نہیں تھے یہ منافق لوگ اس ارادے سے بھی غافل تھے جس سے معلوم ہوا کہ ان کا ارادہ پہلے ہی سے اس سفر کا نہیں تھا اسی طرح آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ اگر یہ منافق لوگ اس لڑائی میں جاتے تو طرح طرح کے فساد بر پا کرتے احد اور بنی مصطلق کا قصہ اس فساد کے برپا کرنے کی تفسیر ہے۔
Ayah 9:4848۔ اس آیت میں بھی انہیں منافقوں کا حال بیان فرمایا کہ کچھ اسی لڑائی پر موقوف نہیں ہے یہ لوگ پہلے ہی سے فتنہ و فساد برپا کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ خدا کا دین دب جائے پھر فرمایا کہ ان کی کوئی تدبیر کار آمد نہیں ہوئی آخر اللہ ہی کا بول بالا رہا اور یہ ناخوش ہی ہوتے رہے حاصل مطلب یہ ہے کہ جب حضرت ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تھے تو مدینہ کے یہودو منافق جنگ پر آمادہ ہوئے تھے پھر جب مدد کی لڑائی میں آپ کو بہت بڑی فتح ہوئی تو ابن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ اب کیا کرنا چاہئے ان کا دین سچا معلوم ہوتا ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ظاہر طور پر اسلام میں داخل ہوجاؤ غرض کہ یہ لوگ دل میں کینہ رکھ کر ظاہری مسلمان ہوگئے اور جب مسلمانوں کو لڑائیوں میں فتح ہوتی گئی ان کا غصہ اور نفاق بڑھتا گیا اور دین حق کی ترقی ان کو بری معلوم ہوتی گئی اسی کو اللہ پاک نے فرمایا کہ حتی جاء الحق وظہر امر اللہ وھم کارھون اس آیت میں یہ جو فرمایا کہ یہ منافق لوگ اس تبوک کی لڑائی سے پہلے بھی فتنہ وفساو اور لشکر اسلام کے انتظام میں بگاڑ ڈالنے کی تلاش میں لگے رہے ہیں اس کی تفسیر بنی مصطلق کی لڑائی کے وہی عبداللہ بن ابی منافقوں کے سردار کے قصہ میں ہے جس کا ذکر اوپر گذرا علاوہ ان قصوں کے سورة حشر کی وہ آیتیں بھی اس آیت کی تفسیر میں جن آیتوں میں یہ ذکر آوے گا کہ جب آنحضرت ﷺ نے بنی نضر اور بنی قریظہ پر ہاتھ ڈالنا چاہا تو ان مدینہ کے منافقوں نے ان یہود کے دونوں قبیلوں سے خفیہ طور پر یہ کہلا بھیجا تھا کہ جلا وطنی میں اور مسلمانوں سے تمہاری لڑائی اگر ٹھن گئی تو اس لڑائی میں غرض ہر طرح ہم تمارے ساتھ ہیں لیکن آخر پھر انہوں نے اپنی وہی منافقانہ بدعہدی برتی کہ وقت پر ان دونوں قبیلوں میں سے ایک کا بھی کچھ ساتھ نہ دیا اور ان دونوں قبیلوں پر مسلمانون کا جو غلبہ ہوا اس سے یہ منافق دل میں اگرچہ ناخوش ہوئے لیکن ان کی ناخوشی سے کیا ہوتا ہے اللہ کو جو منظور تھا آخرس کا ظہور ہوا کہ ان دونوں قبیلوں میں سے بنی نضیر کا اخراج ہوا اور بنی قریظہ کا قتل۔
Ayah 9:4949۔ طبرانی ابو نعیم ابن مردویہ مغازی محمد بن اسحاق اور ابن ابی حاتم میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ منافقین مدینہ میں ایک شخص قبیلہ بنی سلمہ کا سردار جد بن قیس تھا جس کی کنیت ابو وہب تھی تبوک کی لڑائی پر جانے اور نصرانیوں سے لڑنے کا جب آنحضرت نے اس سے ذکر کیا تو اس نے کہا کہ سب لوگوں کو معلوم ہے کہ میں عورتوں سے زیادہ رغبت رکھتا ہوں شام کے ملک میں جاکر میں نصرانیوں کی عورتوں کو دیکھوں گا تو خواہ مخواہ فتنہ میں پڑجاؤں گا اس لئے مجھ کو تو مدینہ میں ہی چھوڑ جائیے اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ بڑا فتنہ نفاق کا ہے جس میں یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اس فتنہ کے سبب سے یہ ایسے جھوٹے عذر کرتے ہیں اور دنیا میں تو یہ لوگ اپنی ان دغابازی کی باتوں کو ہوشیاری اور دور اندیشی جان کر عمر بھی اسی حالت کی یہاں تک اچھا جانتے کہ غق بے میں بھی اپنی اس دغازبازی سے کام لینا چاہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کو ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے اس کے سامنے ان کی دغا بازی کچھ نہ چل سکے گی اور آخر ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم کے ساتویں طبقے میں ہوگا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن ؓ عمر کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا منافق شخص کی مثال ایسی ہے جس طرح ریوڑ میں بکری وہ ریوڑ بکریوں کے دیکھ کر کبھی ایک ریوڑ میں جاتی ہے کبھی دوسرے میں مطلب یہ ہے کہ اپنی جان اپنا مال بچانے کی غرض سے منافق لوگ جب مسلمانوں میں آتے ہیں تو ان کی سی کہنے لگتے ہیں اور جب منافقوں میں جاتے ہیں تو ان کی سی کہنے لگتے ہیں غرض دونوں طرف زبانی دغابازی سے کام لیتے ہیں حقیقت میں دل سے یہ لوگ کسی طرح بھی نہیں ہیں بنی نضیر اور بنی قریظہ سے کہہ دیا کہ ہم ہر طرح سے تمہارے ساتھ میں اور وقت پر صاف الگ ہوگئے مسلمانوں کا ساتھ دینے پر ہمیشہ قسمیں کھاتے رہے اور احد کی لڑائی میں عین وقت پر تین سو آدمیوں کا لشکر اسلام سے جدا کردیا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ اور انس بن مالک ؓ کی روایتیں بھی گذر چکی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ منافق لوگ قیامت کے دن اپنے ظاہری سلام کا حال اللہ تعالیٰ کے روبرو ظاہر کر کے اپنی نجات کی توقع رکھیں گے جس سے اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگاویگا اور ان کے اعضاء کو ان کی اصلی حالت کی گواہی کے ادا کرنے کا حکم فرماویگا اور اعضا کی گواہی ان کے بازی کی حالت پر گذر جانے کہ بعد یہ لوگ آخر دوزخی قرار پاویں گے یہ حدیثیں منافقوں کی دنیا اور عقبے کی دغابازی اور اس دغابازی کے نتیجہ کی گویا تفسیر ہیں اسی واسطے فرمایا کہ یہ لوگ عورتوں کے سبب سے گمراہی میں پڑجانے کا کیا جھوٹا عذر کرتے ہیں ان کے پیچھے تو دنیا اور عقبے میں ایسی گمراہی لگی ہوئی ہے کہ جس کے سبب سے ہر وقت دوزخ کو چاروں طرف سے گویا انہوں نے اپنے سر پر کھڑا کر رکھا ہے۔
Ayahs 9:50–5250۔ 52۔ تفسیر ابن بی حاتم میں جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی وغیرہ منافقین لڑائی کے وقت بناوٹی عذر کر کے جس لڑائی میں شریک نہیں ہوتے تھے اور گھروں میں بیٹھ رہتے تھے اگر اس لڑائی میں مسلمانوں کی فتح ہوتی اور مال غنیمت کا ہاتھ آتا تو دو طرح سے ان منافقین پر یہ امر شاق گزرتا تھا ایک تو یہ کہ ان کے دل میں مسلمانوں کی طرف سے عداوت تھی اس واسطے مسلمانوں کی بہبودی ان کے دل کو اچھی نہیں معلوم ہوتی تھی دوسرے ان کو یہ افسوس ہوتا تھا کہ ہم کیوں نہ گئے جو ہمارے ہاتھ بھی مال لگتا اور اگر مسلمانوں کو کسی لڑائی میں کچھ ضرر پہنچتا تو یہ منافقین اپنی دور اندیشی اور عقل مندی پر نازاں ہو کر کہتے کہ ہم تو ضرر سے بچنے کے لئے پہلے سے ہی عذر کر کے نہیں گئے اللہ تعالیٰ نے ان کے دونوں منصوبوں کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور پہلے منصوبہ کا جواب یہ دیا کہ یہ منافق مسلمانوں کی بہبودی پریوں ہی جلتے رہیں گے اور اللہ دن بدن مسلمانوں کو بہبودی دیتا رہے گا اور قریب ہے کہ اللہ کے عذاب آسمانی سے یا مسلمانوں کے ہی تسلط سے یہ منافق نیست ونابود ہوجاویں گے چناچہ ویسا ہی ہوا کہ تھوڑے دنوں میں منافقوں کا نام مدینہ میں باقی نہ رہا دوسرے منصوبہ کا جواب یہ فرمایا کہ مشیت الٰہی میں جس کو جو ضرر پہنچتا ہوتا ہے وہ گھر بیٹھے بھی پہنچتا ہے مشیت الٰہی سے بچنے کا سبب قرار دیتے ہیں اور مسلمانوں کو تسکین فرمائی اور مسلمانوں سے فرمایا کہ تم کو کچھ ضرر نہیں مارے گئے تو شہید ہوئے اور اگر زندہ واپس آئے تو دنیا کا مال غنیمت اور عقبے کا اجر کمایا صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر ؓ اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ اور انس بن مالک ؓ کی حدیثیں جو اوپر کی آیت کی تفسیر ہیں گذر چکی وہی حدیثیں منافقوں کے دنیا اور عقبے کے آنجام کی تفسیر ہیں اور صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث جو اوپر گذر چکی جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کے اعتقاد سے دین کی لڑائی میں شریک ہوتا ہے اس کی دین ودنیا کی بہبودی کا اللہ تعالیٰ ضامن ہوجاتا ہے۔ یہ حدیث مسلمانوں کے دنیا وعقبے کے انجام کی تفسیر ہے اسی واسطے فرمایا کہ ہر ایک گروہ کو اپنے اپنے انجام کا انتظار کرنا چاہئے ھل تربصون بنا کا ترجمہ شاہ صاحب نے تم کیا جیتوں گے ہمارے حق میں جو کیا ہے یہاں جیتنے کا مطلب انتظار کرنے کا ہے۔ ویتولواوھم فرحون اس کا مطلب یہ ہے کہ بازار یا کسی محفل میں یہ لوگ مسلمانوں کی شکست یا کسی اور مصیبت کی خبر سن پاتے ہیں تو اپنے اپنے گھروں کو گویا بڑی خوش وقتی کی خبر سن کر پلٹتے ہیں۔
Ayahs 9:53–5453۔ 54۔ تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ بنی سلمہ کے سردار جدبن قیس منافق نے تبوک کی لڑائی میں جانے سے جب یہ عذر پیش کیا کہ وہاں جاکر میں خوبصورت عورتوں کے فتنہ میں پڑجاؤں گا اس عذر کے ساتھ اس نے دنیا سازی کے طور پر یہ بھی کہا تھا کہ اس لڑائی میں کچھ روپے کی ضرورت ہو تو میں مدد دے سکتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرما دیا کہ جب ان لوگون کا عقیدہ ہی درست نہیں ہے تو ان کی کوئی عبادت مالی یا بدنی مقبول نہیں اس واسطے ان کا مدد خرچ ہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا طبرانی کے حوالہ سے معتبر سند کی انس بن مالک ؓ کی روایت ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سر بمہر اعمال نامے جب اللہ تعالیٰ کے روبرو کھولے جائیں گے تو ان میں سے بعض عمل اللہ تعالیٰ کے حکم سے باطل ٹھہرائے جاویں گے اس پر فرشتے عرض کریں گے یا اللہ ان عملوں میں کیا خرابی ہے اللہ تعالیٰ فرماوے گا یہ عمل خالص دل سے نہیں کئے گئے اس لئے بیکار ہیں منافقوں کے عملوں کے علاوہ اگر آدمی منافق نہ ہو لیکن اس کے نیک عملوں میں ریا کاری کا میل ہو تو تھوڑی ریا کاری سے بھی جو عمل کیا جاوے حدیث میں اس کو شرک فرمایا ہے چناچہ بیہقی اور مستدرک حاکم کی معاذبن جبل ؓ کی روایت میں اس کا ذکر ہے خالص نیت سے تنکا پہاڑ کے بڑا ہے اور بغیر خالص نیت کے پہاڑ تنکے سے بھی کم سے حاصل کلام یہ ہے کہ منا فقوں کے دل میں دین کی باتوں کی طرف سے شک وشبہ رہتا ہے اور ریا کاروں کے دل میں دنیا کے دکھاوے میں تو وہی عمل مقبول ہے جو خوش اعتقادی کے ساتھ خالص نیت سے شریعت کے موافق ہو۔
Ayah 9:5555۔ اوپر ذکر تھا کہ جد بن قیس نے اپنی مالداری کے گھمنڈ پر یہ کہا تھا کہ اگر اس لڑائی میں کچھ خرچ کی ضرورت ہو تو میں دے سکتا ہوں اس لئے اس آیت میں فرمایا کہ یہ لوگ اگر کثرت سے مال اور اولاد رکھتے ہیں تو اے رسول اللہ کے تم اسے دیکھ کر تعجب نہ کرو یہ بھی خدا کی طرف سے ایک ڈھیل ہے کہ اللہ پاک انہیں چیزوں کے ذریعہ سے دنیا ہی میں ان پر عذاب کریگا زکوٰۃ کو یہ لوگ جرمانہ خیال کریں گے ان کو کبھی کچھ مالی نقصان پہنچ گیا تو اس کے سبب سے انہیں نہایت غم اور صدمہ ہوگا کیونکہ یہ مال ان لوگوں نے بہت جانفشانی اور مشقت سے جمع کیا ہے اس لئے جب اس مال میں کچھ نقصان کی صورت انہیں نظر آوے گی تو اس نقصان کی مصیبت پر ان لوگوں سے صبر تحمل اس سبب سے نہ ہو سکے گا ہے عقبے میں صبر پر اجر کے ملنے کا انہیں پورا یقین نہیں ہے اس لئے اس مال کے ضائع ہوجانے سے ان پر ایسا صدمہ ہوگا کہ گویا ان پر عذاب ٹوٹ پڑا یہی حال ان کا جانی نقصان کی صورت میں ہے کیونکہ عقبے کی سزا وجزا پر ان لوگوں کا اعتقاد نہیں اس واسطے ان کے دلوں میں اسلام کی یا اسلام کے احکام کی تو کچھ عظمت نہیں فقط مسلمانوں کے ہاتھ سے جان ومال بچانے کے لئے دغابازی کے طور پر ظاہری اسلام انہوں نے اختیار کیا ہے اور اسی دغابازی کو یہ لوگ اچھا جانتے ہیں اس واسطے مرتے دم تک یہ اسی حالت میں رہیں گے۔ صحیح مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ایمان دار شخص کی مثال کھیتی کے چھوٹے چھوٹے درختوں کو الٹ پلٹ کرتی رہتی ہے اسی طرح ایمان دار شخص پر دنیا میں بارہا طرح طرح کی مصیبتیں آتی رہی ہیں اور جس طرح صنوبر کے درخت کو معمولی ہوا سے کچھ صدمہ نہیں پہنچتا اسی طرح منافق شخص بھی روز مرہ کی آیتوں سے اکثر محفوظ اور اپنی مال و اولاد میں خوش حال رہتا ہے لیکن کھوکلا ہوجانے کے بعد جیسے صنوبرکا درخت ایک دفعہ ہی آندھی میں اکھڑ کر گر پڑتا ہے اسی طرح منافق شخص پر آخر کو کوئی سخت آفت آجاتی ہے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ اس حدیث سے ایمانداروں اور منافقوں کی تفصیلی حالت معلوم ہوجاتی ہے۔ اس مضمون کی ایک حدیث صحیح مسلم میں معب بن مالک ؓ کی روایت سے بھی ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے صہیب ؓ رومی کی ایک حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مصیبت کے وقت صبر کا کرنا پکے ایمان دار آدمی کا کام ہے۔ اس حدیث کو بھی آیت تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جانی یا مالی مصیبت کے وقت منافقوں سے صبر نہیں ہوسکتا بلکہ بےصبری کے سبب سے وہ لوگ مصیبت میں گھبرا جاتے ہیں اور اس مصیبت کو ایک وبال اور عذاب گنتے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان صحیح حدیثوں سے آیت کی تفسیر ہوجانے کے بعد مفسروں کا وہ اختلاف رفع ہوجاتا ہے جو ایک مدت سے اس باب میں چلا آتا تھا کہ منافقوں کے حق میں مال وا ولاد کو دنیاوی عذاب آیت میں کس مطلب سے فرمایا۔
Ayahs 9:56–5756۔ 57۔ اللہ پاک نے یہاں سے منافقوں کی ایک اور دغابازی کی حالت کی تفصیل شروع فرمائی کہ یہ لوگ قسمیں کھاکھا کر کہتے ہیں کہ ہم تم میں سے ہیں تمہارے دین پر ہیں اور خدا و رسول کے ہر طرح سے فرمانبردار ہیں لیکن یہ غلط بات ہے ان کی قسمیں محض جھوٹی ہیں یہ ہرگز تمہارے گروہ میں سے نہیں ہیں انہیں دین اسلام سے کیا واسطہ خدا و رسول کے حکم کی پیروی سے انہیں کیا سروکار یہ تو خوف کے مارے اسلام کا اظہار کرتے ہیں جانتے ہیں کہ جس طرح مشرکوں کو مسلمان قتل و غارت کرتے ہیں ان کی بی بی بچوں کو پکڑ لیتے ہیں ان کے مال غنیمت میں لوٹ لیتے ہیں اسی طرح کہیں ہم سے بھی نہ پیش آئیں غرض کہ اسی سبب سے یہ لوگ جھوٹے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں حقیقت میں یہ مسلمان نہیں ہیں اگر انہیں کوئی بچاؤ کی صورت نظر آئے مثلا کوئی قلعہ مل جائے جس میں پناہ لیں یا کوئی غار یا گڑھا یا اور کوئی چھپنے کی جگہ مل جائے تو یہ لوگ اسی طرح بھاگیں کہ پھر کبھی کسی مسلمان سے واسطہ نہ رکھیں انہیں اسلام کے ساتھ دلی بغض ہے اسلام کی ترقی سے بجائے خوشی کے ہمیشہ رنج پہنچتا رہتا ہے یہ جو مسلمانوں کے ساتھ ملتے جلتے ہیں نہایت ناخوشی سے ملتے ہیں محبت اور شوق سے نہیں ملتے ہیں اپنی جانوں کے خوف سے ظاہری میل جول رکھتے ہیں ورنہ انہیں کب گوارا ہے کہ یہ اسلام کی ترقی دیکھیں۔ معتبر سند سے ترمذی مستدرک حاکم وغیرہ میں زیدبن ارقم ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی مصطلق کی لڑائی کے وقت جب عبداللہ بن ابی نے یہ بات کہی کہ اس لڑائی کے سفر سے مدینہ کو واپس جانے کے بعد مہاجرین کو مدینہ سے نکال دیا جاویگا۔ تو آنحضرت ﷺ نے عبداللہ بن ابی کو بلا کر اس بات کی صداقت کا حال دریافت کیا عبداللہ بن ابی نے بہت سی قسمیں کھائیں اور اس بات کے کہنے سے صاف انکار کیا اس کی ان قسموں کو جھوٹا ٹھہرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورة منافقون کی آیتیں نازل فرمائیں اس آیت میں منافقوں کی جھوٹی قسموں کا جو ذکر ہے یہ قصہ گویا اسی کی تفسیر ہے سورة حشر میں اللہ تعالیٰ نے ایمان دار انصار کی یہ نشانی بیان فرمائی ہے کہ ان کے دلوں میں مہاجرین کی پوری الفت اور محبت ہے سورة حشر کی ان آیتوں اور بنی مصطلق کی لڑائی کے وقت کے قصہ کو ملانے سے اس آیت کی تفسیر کا یہ حاصل قرار پاتا ہے کہ یہ منافق جھوٹی قسمیں کھا کر زبرستی اپنے آپ کو مسلمانوں کے گروہ میں شریک کرتے ہیں ورنہ حقیقت میں یہ لوگ مہاجر اور انصار مسلمانوں کے دونوں گروہ کے مخالف ہیں مہاجرین سے تو انہیں یہاں تک مخالفت ہے کہ ان کا مدینہ میں رہنا انہیں شاق گزرتا ہے رہے ایماندار انصار ان کی نشانی مہاجرین کے ساتھ محبت کا برتاؤ ہے نہ مخالفت کا اس صورت میں یہ منافق مسلمانوں کی ساری جماعت سے خارج اور الگ ہیں۔
Ayahs 9:58–5958۔ 59۔ اس آیت کی شان نزول وہی قصہ ہے جس کا ذکر صحیحین میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے ایک شخص نے کہا آپ کچھ مال لوگوں کو تقسیم میں ذرا انصاف فرمائیے آپ نے فرمایا میں ہی ناانصافی کر ونگا تو پھر انصاف کون کرے گا حضرت عمر ؓ نے عرض کیا حضرت ارشاد ہو تو ابھی میں اس شخص کی گردن ماردوں آپ نے فرمایا جانے دو اس کی نسل میں سے واجب القتل لوگ پیدا ہوں گے چناچہ پھر ویسا ہی ہوا اسی قبیلہ اور اسی شخص کی نسل میں خارجی لوگ پیدا ہوئے اگرچہ بعضے مفسروں نے اور شان نزول بھی اس آیت کی بیان کی ہے مگر ان کے مطلب یہ ہے کہ دوسرے قصوں پر بھی اس آیت کا مضمون صادق آتا ہے ورنہ صحیح شان نزول کا یہی قصہ ہے جو صحیحین کی روایت میں موجود ہے۔ اگرچہ ان خارجی لوگوں کے حالات میں علماء نے بڑی بڑی کتابیں تالیف کی ہیں لیکن اس طرح کے قصہ کا حاصل اسی قدر ہے کہ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے دوسرے روز جب لوگوں نے حضرت علی ؓ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی تو اس زمانہ میں حضرت عائشہ ؓ حج کے ارادہ سے مکہ کو گئی ہوئی تھیں ان کے مکہ سے واپسی کے وقت راستہ میں کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ حضرت علی ؓ کو حضرت عثمان ؓ کے قاتلوں کا پتہ لگانے پر مجبور کیا جاوے اور حضرت علی ؓ اگر اس سے انکار کریں تو ان سے لڑنا چاہئے حضرت عائشہ ؓ کے یہ بہکانے والے لوگ اپنا ارادہ پورا کرنے کے لئے حضرت عائشہ ؓ کو بصرہ لے گئے اور بصرہ میں حضرت عائشہ ؓ کی ساتھ بہت سے لوگ ہوگئے حضرت علی ؓ نے جب یہ خبر سنی تو وہ بھی بصرہ کے ارادہ سے فوج لے کر روانہ ہوئے اور 36 ہجری میں حضرت علی (رح) اور حضرت عائشہ ؓ کی بڑی لڑائی ہوئی جو جمل کی لڑائی کے نام سے مشہور ہے اگر یہ لڑائی بصرہ کے قریب ہوئی ہے لیکن جمل عربی میں اونٹ کو کہتے ہیں اور اس لڑائی میں حضرت عائشہ ؓ پردہ میں اونٹ پر سوار تھیں اس لئے یہ لڑائی اس نام سے مشہور ہوگی اس لڑائی میں حضرت علی ؓ غالب رہے حضرت علی ؓ کے غلبہ اور حضرت عائشہ ؓ کی شکست کا حال سن کر پھر یہی حضرت عثمان ؓ کے قاتلوں کے پتہ لگانے کا جھگڑا معاویہ ؓ نے حضرت علی ؓ سے شروع کیا اور اس جھگڑے کے سلسلہ میں آخر حضرت علی ؓ اور معاویہ ؓ کی بہت بڑی لڑائی 37 ہجری میں ہوئی جو صفین کی لڑائی کے نام سے مشہور ہے صفین ملک شام اور عراق کے مابین میں ایک جگہ ہے ایک مہینہ کے قریب یہ لڑائی رہی اگرچہ اس لڑائی میں غلبہ حضرت علی ؓ کی جانب تھا لیکن عمرو بن العاص ؓ کی صلاح سے پہنچایت پر صلح قرار پائی حضرت علی ؓ کی طرف ابوموسیٰ اشعری ؓ اور معاویہ ؓ کی طرف سے عمروبن العاص ؓ سرپنچ مقرر ہوئے اس پنچایت کی صلح سے ناراض ہو کر جو آٹھ ہزار آدمیوں کے قریب کا ایک گروہ حضرت علی ؓ سے منحرف اور ان کے لشکر سے جدا ہوگیا اسی فرقہ کو خارجی کہتے ہیں اس فرقہ کا سرغنہ عبداللہ بن انالکو تھا پہلے تو حضرت علی ؓ نے اس فرقہ کی فہمایش کے لئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو حروراء مقام پر بھیجا یہ حروراء وہ جگہ ہے جہاں ان لوگوں نے سکونت اختیار کی تھی اس سبب سے یہ فرقہ حروریہ کہلاتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس کی فہمایش سے یہ لوگ چند روز کے لئے راہ راست پر آگئے اور پھر ان لوگوں نے مسلمانوں کا قتل راہزنی اور طرح طرح کے فساد برپا کئے جن کے سبب سے حضرت علی ؓ نے ان پر چڑھائی کی اور نہروان مقام پر اس فرقہ کی اور حضرت علی ؓ کی لڑائی ہوئی اس لڑائی میں خارجی فرقہ کے لوگ یہاں تک قتل ہوئے کہ صرف دس بارہ آدمی ان میں سے بچ گئے ذوخویصرہ بھی اس لڑائی میں مارا گیا یہ وہی شخص ہے جس نے حنین کے مال کی تقسیم کے وقت آنحضرت ﷺ کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا نہروان کی لڑائی میں سے دس بارہ خارجی جو بچ گئے تھے عبدالرحمن بن ملجم بھی ان میں ہی تھا جس نے موقع پاکر حضرت علی ؓ کو شہید کیا حضرت علی ؓ کی موجوگی تک تو یہ خارجی فرقہ دبا رہا پھر حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد ان لوگوں کا ایک جتھا ہوگیا اور کئی دفعہ ان لوگوں نے سراٹھایا خلفائے بنی امیہ میں سے عبدالملک بن مروان اور خلفائے عباسیہ میں سے محمد بن منصور مہدی کے زمانہ میں ان کی لڑایاں مشہور ہیں حضرت عثمان ؓ کو اور علاوہ حضرت عثمان کے جمل اور صفین کی لڑائی میں جتنے صحابہ شریک تھے ان سب کو یہ خارجی دائرہ اسلام سے خارج گنتے ہیں اور سوا اس کے اور بہت سی باتیں اس فرقہ کی طریقہ اسلام کے برخلاف ہیں اسی واسطے آنحضرت ﷺ نے اس فرقہ کو واجب القتل فرمایا اس سے زیادہ حال ان لوگوں کا بڑی کتابوں میں ہے آخر کو فرمایا کہ جو لوگ تقسیم مال پر اعتراض کرتے ہیں اگر وہ اللہ اور اللہ کے رسول کی تقسیم پر رضامند ہو کر آیندہ کی بہبودی کا بھروسہ اللہ پر کریں تو ان کے حق میں بہتر ہے جس مال کی تقسیم پر اعتراض کئے جانے کا ذکر آیت میں ہے اس مال کو بعضے علماء تو زکوۃ کا مال کہتے ہیں اور بعضے حنین کی لڑائی کا غنیمت کا مال کہتے ہیں سبب اس اختلاف کا یہ ہے کہ صحیح بخاری کی ابوسعید خدری ؓ کی بعض روایتوں میں یہ ہے کہ یمن سے کچھ زکوۃ کا مال آیا تھا اس کی تقسیم پر یہ اعتراض کیا گیا تھا اور صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں یہ ہے کہ حنین کی غنیمت کے مال کی تقسیم کے وقت ایک شخص نے اعتراض کیا تھا لیکن عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں یہ ذکر نہیں ہے کہ وہ شخص وہی ذوالخویصرہ حرقوص تھا جس کی نسل سے خارجیوں کا سلسلہ چلے گا بلکہ بعض روایتوں میں اس حنین کے قصہ والے شخص کا نام معتب بن قشریر بتلایا گیا ہے اس اختلاف کے رفع کرنے کی غرض سے اگر ان دونوں قصوں کے مجموعہ کو آیت کی شان نزول قرار دیا جاوے تو پھر کچھ اختلاف باقی نہیں رہتا۔
Ayah 9:6060۔ زیاد بن حارث حضرت ﷺ کے پاس بیعت کی غرض سے گئے تھے اس وقت ایک شخص نے آکر کہا کہ یارسول اللہ ﷺ صدقے میں سے مجھے بھی کچھ دیجئے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے صدقات میں کسی نبی کا حکم پسند نہیں کیا ہے بلکہ اس نے آپ ہی آٹھ قسم کے مصرف صدقہ کے بتلائے ہیں اگر تم ان آٹھوں میں سے ایک بھی ہو تو صدقہ کے مستحق ہو گے ورنہ نہیں علماء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ جو آٹھ قسم کے آدمی اللہ پاک نے بیان کئے ہیں ان میں ہر ایک کو صدقہ تقسیم کیا جائے یا جو ان میں سے میسر آئے اسے دے دیا جائے زیاد بن حارث ؓ کی اوپر کی حدیث کے موافق امام شافعی (رح) اور ایک جماعت اس کے قائل ہیں کہ ان آٹھوں پر صدقہ تقسیم کرنا چاہئے یہ زیاد بن حارث ؓ کی حدیث ابوداؤد میں ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم افریقی کو اکثر علماء نے ضعیف قرار دیا ہے اسی واسطے امام ابوحنیفہ (رح) امام مالک (رح) اور بعض سلف کا قول ہے کہ ہر ایک کو ان آٹھوں میں سے دینا ضروری نہیں ہے اگر ایک کو بھی دے دیا جائے تو جائز ہے کیونکہ اللہ پاک نے صدقہ کا مصرف بیان کرنے کے مقصد سے یہ آٹھ شخص بیان فرمائے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ خواہ ان سب کو خواہ ان میں کے کسی ایک کو دے دوبہر حال اللہ پاک نے پہلے فقر (کو بیان کیا کہ صدقہ لینے کے زیادہ تر مستحق یہ ہے کیونکہ اوروں کی نسبت یہ زیادہ محتاج ہیں۔ فقیر وہ ہے جو اتنا اپنی کمائی سے نہ حاصل کرسکتا ہو جو اس کے روزانہ اخراجات کو کافی ہو مثلا اس کا خرچ دس روپیہ کا ہو اور وہ دو یا تین روپیہ کماتا ہو اس کے بعد مسکین کا ذکر فرمایا مسکین کے باب میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ مسکین وہ نہیں ہے جو ایک یا دو لقمہ کی خاطر دربدر پھرتا ہو بلکہ مسکین وہ ہے جو اپنی ضرورت کے موافق روزی نہیں حاصل کرسکتا اور کوئی اسے محتاج سمجھ کردیتا بھی نہیں اور نہ وہ خود بھیک مانگتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ فقیر وہ ہے جو محتاج بھی ہو اور ضرورت کے وقت مانگتا بھی ہو چناچہ معتبر سند سے طبرانی کبیرہ میں حبشی بن جنادہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بغیر فقر و فاقہ کے کسی شخص کو مانگنا جائز نہیں اس سے معلوم ہوا کہ فقرو فاقہ کے وقت فقیر مانگتا بھی ہے اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر کیا کہ جو صدقہ اور گہا اوگہا کر لاتے ہوں فرمایا کہ صدقہ میں سے انہیں بھی کچھ دینا چاہئے مگر یہ بات آنحضرت ﷺ کے اقرباء کے لئے جائز نہیں تھی چناچہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ عبدالمطلب بن ربیعہ ؓ اور فضل بن عباس ؓ نے حضرت کے پاس جاکر کہا کہ ہمیں صدقہ اور گہانے پر مقرر کر دیجئے آپ نے فرمایا کہ صدقہ محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ کے لئے حلال نہیں ہے یہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے۔ پھر اللہ پاک نے چوتھا مصرف بیان فرمایا کہ بعض لوگون کا دل پر چانے کے لئے صدقہ میں سے ان کو بھی دیا جائے یہ لوگ تین طرح کے ہیں بعض وہ ہیں جو مسلمان نہیں ہیں انہیں اس خیال سے دیا جاتا ہے کہ اسلام قبول کرلیں جس طرح آنحضرت ﷺ نے صفوان بن امیہ کو جنگ حنین کی غنیمت میں سے کچھ مال دیا تھا یہ اس وقت بحالت شرک اس لڑائی میں شریک تھے مسلم ترمذی وغیرہ نے انہیں صفوان بن امیہ ؓ کی حدیث بیان کی ہے جس میں یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حنین کے دن مجھے اس قدر دیا کہ آپ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن گئے حالانکہ میں آپ کو سب سے برا جانتا تھا اور پھر بعد اس کے ہمیشہ مجھے دیتے رہے اور بعضے تازہ مسلمانوں کو اس لئے دیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام قائم رہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے جنگ حنین میں تازہ مسلمانوں کے ایک گردہ کو سواونٹ دے دئے تھے پھر پانچویں مصرف میں اللہ پاک نے اس غلام کا ذکر کیا جس کے آقا نے اسے یہ بات کہہ دی ہے کہ اگر تو مجھے اتنا روپیہ دیویگا تو تو آزاد ہے اور حضرت عبداللہ ؓ اللہ بن عباس کا قول رقاب کی تفسیر میں یہ ہے کہ خواہ کسی لونڈی غلام کے آزاد کرانے میں کچھ مدد دیوے خواہ اس قیمت سے اور لونڈی غلام لے کر آزادہ کرے کیونکہ لونڈی یا غلام آزاد کرنے کے متعلق بہت سی حدیثیں وارد ہیں اللہ پاک آزاد کرنے والوں کو ہر ہر عضو کو ہر ہر عضو کے بدلے میں دوزخ سے آزاد کرتا ہے امام احمد ابوہریرہ ؓ کی حدیث بیان فرماتے ہیں کہ تین شخصوں کا حق اللہ جل شانہ پر ہے کہ اس کی مدد کرے ایک تو غازی جو خدا کی راہ میں جہاد کو نکلا ہے دوسرا قرض دار جس کا ارادہ قرض اور کرنے کا بھی ہو اور تیسرا وہ غلام جس کے آقا نے کچھ روپے لے کر اسے آزاد کرتا ہے یا وہ شخص جس کا ارادہ پار سائی کے خیال سے نکاح کرنے کا ہوا اس حدیث کو نسائی ابن ماجہ ابن حبان اور حاکم نے بھی روایت کیا ہے جس کے سبب سے بعضے طریق کو بعضوں سے قوت ہوجاتی ہے بیہقی براء بن عازب ؓ کی روایت سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے آنحضرت ﷺ سے آ کر پوچھا کہ مجھے وہ کام بتلائیے جس کے سبب سے جنت میں داخل ہوں آپ نے فرمایا کہ غلام آزاد کر اور گردن چھڑا اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک نہیں ہیں آپ نے فرمایا غلام کا آزاد کرنا یہ ہے کہ تو آپ خرید کر آزاد کرے اور گردن چھڑانا یہ ہے کہ اس کی قیمت میں مدد کر براء بن عازب ؓ کی یہ حدیث مسند امام احمد اور صحیح ابن حبان میں بھی ہے جس سے ایک سند کو دوسری سے تقویت ہوجاتی ہے چھٹا مصرف صدقہ کا یہ ہے کہ ایسے قرضداروں کو دیا جاوے جن کے ذمہ کسی کا دینا ہے اور اس کے مال نے کمی کی ہو اب وہ ادا کرنے سے مجبور ہیں مسلم ‘ قبیصہ بن مخارق ہلالی ؓ سے روایت کرتے ہیں جس میں قبصیہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے کچھ لوگوں کا دنیا تھا میں حضرت کے پاس سوال کی نیت سے آیا آپ نے فرمایا کہ ٹھہر جا صدقہ آئے تو تجھے دوں پھر یہ فرمایا کہ اے قبیصہ ؓ سوال کرنا سوائے کا بوجھ اتر جائے گا تو رک جائے اور دوسرا وہ شخص ہے جس کو کوئی ایسی آفت ‘ پہنچی جس میں اس کا سارا مال برباو ہوگیا اس کو سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ زندگی بسر کرنے کے لائق پائے تیسرا وہ شخص ہے جس پر فاقہ گزرا ہو جب تین عقلمند آدمی اس کے سوال کرنا سخت حرام ہے پھر اللہ پاک نے ساتواں مصرف صدقہ کا بیان فرمایا کہ فی سبیل اللہ خرچ کیا جائے مراد اس سے جہاد ہے اور بعضے علماء کے نزدیک حج بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے پھر اللہ پاک نے آٹھواں مصرف بیان کیا کہ ایسے مسافر کو دیا جائے جو کسی شہر میں گیا ہو اور اس کے پاس اتنا باقی نہ رہا ہو جو سفر میں خرچ کرے یا گھر واپس آئے اس لئے اس کو بقدر کفایت صدقہ میں سے دینا مناسب ہے ‘ تاکہ اس کے زادراہ کو کافی ہو اور گھر واپس آسکے ‘ خواہ اس کے گھر پر کتنا ہی مال ہو مگر سفر میں اس کی موجودہ تنگدستی کا خیال کیا جائے گا۔ اور اسی طرح اس مسافر کو بھی صدقہ اور زکوٰۃ میں سے دینا چاہئے جو سفر کا ارادہ رکھتا ہو مگر مفلسی کے سبب سے مجبور ہو ابواداؤد اور ابن ماجہ میں ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ غنی آدمی کو صدقہ لینا حلال نہیں ہے مگر پانچ شخصوں کو ایک وہ شخص جو صدقہ وصول کرنے پر مقرر ہو دوسرا وہ شخص جس نے اپنے مال سے کسی دوسرے شخص کے صدقہ کی چیز کو خریدا ہو اور تیسرا قرض دار چوتھا خدا کی راہ میں جہاد کرنے والا وہ مسکین جس کو صدقہ میں سے کچھ ملا ہوا کر کسی مالدار کو تحفہ کے طور پر کچھ دے تو وہ غنی شخص کے لئے جائز ہے ابو سعید ؓ خدری کی یہ روایت مسند امام احمد مؤطا اور مسند رک حاکم میں بھی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے بہر حال یہ احکام صدقہ کے اللہ پاک نے فرض کئے ہیں اور اللہ کا علم اور اس کی حکمت بہت وسیع ہے وہ اپنے بندوں کی مصلحت کو اچھی طرح جانتا ہے اسلامی حکومت کے باقی نہ رہنے سے زکوٰۃ کے اوگھانے والوں کا خرچ غلام لونڈی کے آزاد کرنے کا خرچ دین کی لڑائی کا خرچ ان اخراجات میں اس قول کو مذہب حنفی کی ظاہرا روایت کا قول ٹھہرا کر صدقہ کے معنے زکوٰۃ کے لئے ہیں اور نفلی صدقہ کو آل محمد ﷺ کے حق میں جائز قرار دیا ہے لیکن صاحب فتح القدیر نے صاحب ہدایہ کے اس قول سے اختلاف کیا ہے اور فرضی نفلی سب طرح کے صدقہ کو آل محمد ﷺ کے حق میں ناجائز ٹھہرایا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک فقط ہاشم بن عبدمناف کی اولاد آل محمد ﷺ ہے اور امام شافعی (رح) اور ایک روایت میں امام احمد (رح) کے نزدیک بنی مطلب بھی آل محمد ﷺ میں شامل ہیں دلیلیں ہر ایک مذہب کی لڑائی کتابوں میں ہیں بعضے آریہ لوگوں نے لکھا ہے کہ اہل اسلام کے طریقہ خیرات سے آریہ مذہب کا طریقہ خیرات بہتر ہے علمائے اسلام نے اس کا جو جواب دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کہ آریہ مذہب کے طریقہ خیرات میں خیرات کا بڑا حصہ آگ میں جلا دیا جاتا ہے جو کسی جاندار کے کام نہیں آتا پھر ایسے بدتر اور بیکار طریقہ خیرات کو بہتر جاننا کسی عقلمند کا کام نہیں ہے :۔
Ayah 9:6161۔ اس آیت میں بھی منافقون کی یہ فضیحت بیان کی گئی ہے کہ بعضے منافق ایسے جو اللہ کے رسول کو ایذا پہنچانے میں اور طرح طرح کی طعن تشنیع کی باتیں کرتے ہیں دلی نفاقق کی راہ سے آپ کا نام کان رکھ چھوڑا ہے جس سے ان منافقوں کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان شخص ان منافقوں کی کچھ باتیں آ کر حضرت سے بیان کردیتا ہے وہ اسے سچ جان لیتے ہیں اور جب یہ لوگ آپ کے سامنے حاضر ہو کر قسمیں کھا کر اس کے خلاف بیان کرتے ہیں تو انہیں سچا جانتے ہیں اللہ پاک نے اس کا یہ جواب دیا کہ انہیں تم کان کہتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ انہیں سچ اور جھوٹ کی تمیز نہیں ہے یہ تو جھوٹے اور سچے کو خوب پہچانتے ہیں مگر تمہاری طرف سے جو تغافل کرتے ہیں یہ محض تمہاری پردہ پوشی کے خیال سے کرتے ہیں یہ بات نہیں ہے کہ سچ اور جھوٹ میں فرق نہیں کرتے ہیں جو لوگ ایماندار ہیں اور ایمان رکھ کر بات کہتے ہیں ان کی باتوں کو قبول کرتے ہیں اور جو منافق ہیں ان کی باتوں کو اگرچہ دل سے نہیں مانتے لیکن یہ اللہ کے رسول اہل نفاق کے حق میں رحمت ہیں کہ زبان سے کچھ کہہ کر منافقوں کا پردہ فاش نہیں ہونے دیتے پھر فرمایا کہ منافق جو ایسی ایسی باتیں کر کے اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاتے رہتے ہیں انہیں سخت دردناک عذاب پہنچے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس آیت کی شان نزول میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ بن حارث حضرت ﷺ کے پاس آکر بیٹھتا تھا اور آپ کی باتیں سن کر منافقوں سے جا کر بیان کردیا کرتا تھا اور اسی نے یہ بات کہی تھی کہ محمد ﷺ تو نرے کان ہی کان ہیں اس کہنے سے ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ محمد ﷺ کانوں کے ایسے کچے ہیں کہ جو کوئی ان سے کچھ کہہ دیتا ہے وہ مان لیتے ہیں اور تصدیق کرلیتے ہیں صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حنین کے غنیمت کے مال کی تقسیم کے وقت جب منافقوں میں ایک شخص معتب بن قشر نے آنحضرت ﷺ کی تقسیم پر اعتراض کیا تو آپ نے یہی فرمایا اللہ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحمت کرے کہ انہوں نے امت کے لوگوں کے ہاتھ سے اس سے زیادہ ایذا اٹھائی ہے شروع آیت میں یہ جو ذکر تھا کہ آنحضرت ﷺ منافقوں کی طعن تشنیع کی باتیں سن کر یہاں تک درگزر فرماتے تھے کہ منافقوں نے آپ کا نام کان رکھ دیا تھا یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول اپنی ایذا کے موقع پر پچھلے انبیاء کی ایذا کا حال یاد کیا کرتے تھے جس سے اپنی ایذا پر درگزر کا کرنا آپ کو ایک معمولی بات معلوم ہوتی تھی صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے نعمان ؓ بن بشیر کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جس دوزخی شخص پر ہلکا عذاب ہوگا وہ یہ ہے کہ اس شخص کے پیروں میں آگ کی جوتیاں پہنادی جاویں گی جس سے اس کا دماغ کھول جاوے گا آخر آیت میں منافقوں کے عذاب کو دردناک جو فرمایا اس حدیث کو اس کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جب اس دن ہلکے عذاب والوں پر یہ آفت گزرے گی جس کا ذکر حدیث میں ہے تو دردناک عذاب والوں کی آفت کا پھر کیا ٹھکانا ہے۔
Ayahs 9:62–6362۔ 63۔ اس آیت میں اللہ پاک نے منافقوں کے پوشیدہ راز کو کھول دیا کہ یہ لوگ خلوتوں میں آنحضرت ﷺ اور مومنوں پر طعن کی باتیں کرتے ہیں اور جب وہ خبر حضرت کو پہنچ جاتی ہے تو حاضر ہو کر خدا کی قسمیں کھا کر کہنے لگتے ہیں کہ یہ بات ہم نے نہیں کہی ہے اور اس جھوٹی قسم سے ان کا منشا یہ ہوتا ہے کہ حضرت اور مومنین ان سے راضی رہیں اس لئے فرمایا کہ اگر یہ لوگ خدا سے ڈر کر اور ایمان لاکر باتیں کرتے اور نفاق چھوڑ دیتے تو بیشک خدا اور اس کا رسول ان سے راضی ہوتا کیا انہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ جو خدا اور رسول کی مخالفت کرتا ہے اس کا ٹھکانا ہمیشہ ہمیشہ کو دوزخ میں ہے جو رسوائی کی بات ہے تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں جو قتادہ کا قول ہے اس میں قتادہ اس آیت کی شان نزول میں یہ کہتے ہیں کہ ایک منافق نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ محمد ﷺ کے ساتھ لوگ یوں تو صاحب عقل اور بہت شریف ہیں لیکن محمد ﷺ جو کہتے ہیں اگر یہ اس کو سچ جانتے ہیں تو یہ لوگ گدھے سے بھی بدتر ہیں بعض روایتوں میں یوں ہے کہ اس منافق جلاس بن سویدنے یہ کہا تھا کہ محمد ﷺ جو کہتے ہیں اگر وہ سچ ہے تو ہم لوگ کیا گدھے ہیں جو ہماری سمجھ میں وہ حق بات نہیں آتی عامر بن قیس نے یہ بات سنی اور کہا کہ واللہ محمد ﷺ جو کچھ کہتے ہیں حق کہتے ہیں اور تو گذھے سے بھی بدتر ہے یہ خبر حضرت ﷺ کو پہنچ گئی آپ نے اس منافق کو بلا کر پوچھا تو نے یہ بات کس لئے کہی تھی وہ قسمیں کھانے لگا کہ میں نے ہر گزیہ بات نہیں کہی ہے مسلمان نے کہا یا اللہ تو سچے کو سچا اور جھوٹے کو جھوٹا کر دے اس پر یہ آیت اتری عربی زبان کا یہ محاورہ ہے کہ ایک بات کو سن کر کوئی شخص بھول جاوے تو ایسے موقع پر الم یعلم کہہ کر اس کو وہ بات یاد دلائی جاتی ہے اس آیت سے پہلے بہت سی آیتیں منافقوں کے عذاب عقبیٰ کے باب میں نازل ہوچکی تھیں اس لئے الم یعلموا فرما کر نہیں وہ عذاب کی آیتیں یاد دلائیں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اپنی دغا بازی کی عادت کے موافق قیامت کے دن جب منافق لوگ اپنے عملوں سے انکار کریں گے تو ان کے ہاتھ پیر ان کے عملوں کی گواہی دے کر انہیں رسوا کریں گے آیت میں منافقوں کی رسوائی کا جو ذکر ہے اس حدیث کو اس کی تفسیر میں بڑا دخل ہے