9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 9:107–110

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور (ان میں ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں۔ اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لئے گھات کی جگہ بنائیں اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھُوٹے ہیں۔

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

تم اس (مسجد) میں کبھی (جا کر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری ؟ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ انکے دل پاش پاش ہوجائیں اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

107۔ 110۔ معتبر سند سے تفسیر ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردو یہ میں امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ خزرج میں ایک شخص ابو عامر تھا جو زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگیا تھا اور تورات اور انجیل اس نے خوب پڑھی تھی اور قبیلہ کے لوگ اس کی عزت کرتے تھے جب آنحضرت مدینہ میں تشریف لائے اور قبیلہ خزرج کے لوگ بہت مسلمان ہوئے تو یہ ابو عامر اسلام نہ لایا اور آنحضرت سے ایک طرح کی عداوت رکھنے لگا اور مکہ کو چلا گیا احد کی لڑائی کے زمانہ میں اہل مکہ کو بہکا کر مسلمانوں پر چڑھا کر لایا اور چند گڑھے اس نے لڑائی کی صفوں کے بیچ میں کھود دئے تھے جن میں سے ایک گڑھے میں گر کر آنحضرت کے چوٹ لگ گئی تھی ہرقل بادشاہ روم کے پاس اس ابوعامر نے جاکر مدد کی خواہش کی اور اس بادشاہ نے مدد کا وعدہ بھی کیا تھا اسی وعدہ کے بھروسہ پر اس نے اپنے قبیلہ کے چند منافقوں کو خط لکھا تھا تم اپنی جگہ ہتھیار اور سامان سے تیار رہو میں چند روز میں روم سے فوج لے کر آتا ہوں اور میرے لئے کوئی ٹھکانا ایسا بنا رکھو جہاں میں آن کر اتر سکوں اسی ارادہ سے چند منافقوں نے مسجد نبوت اور مسجد قبا کے توڑ پر یہ مسجد بنائی اور جب آنحضرت ﷺ تبوک کی لڑائی کو تشریف لے جارہے تھے اس وقت ان مناقوں نے آنحضرت سے ایک دفعہ اس نئی مسجد میں چلنے اور نماز پڑھنے کی خواہش کی آپ نے فرمایا اب تو سفر درپیش ہے انشاء اللہ سفر سے واپس آنے کے بعد میں اس مسجد میں آؤں گا واپسی کے وقت راستہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ اور اس مسجد کا فریب ظاہر فرما دیا اس پر آپ نے وہ مسجد ڈھوائی اب وہاں کوڑا پڑتا ہے اکثر سلف نے لکھا ہے کہ اس مسجد کی ڈھانے کے بعد اس کے بنیاد کے گڑہوں میں پہلے دھواں نکلتا تھا اس مسجد کی مذمت کے ساتھ جس مسجد کی اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی ہے وہ مسجد قبا ہے اور مسجد نبوی بدرجہ اولی اس تعریف میں شامل ہے کیونکہ یہ دونوں مسجدیں آنحضرت نے بنوائیں ہیں اور نیک نیتی سے بنائی گئی ہیں اور قیامت اور کسی فساد کی نیت سے جو مسجدیں بنائی جاویں وہ اس تعریف کے حکم میں داخل ہیں اس طرح جماعت میں پھوٹ ڈالنے خرابی تو یہ تھی کہ دین الّٰہی کے دشمن ابو عامر کا ٹھکانا جمانے کے لئے منافقوں نے یہ مسجد بنائی تھی جس کے تیار ہوجانے کے بعد ان منافقوں کو ابو عامر من قبل اسی سبب سے اس مسجد کا نام مسجد ضرار فرمایا جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ان منافقوں نے ابوعامر کو بلا کر اس مسجد میں جمانے اور مسلمانوں مسجد قبا میں نماز پڑہتے تھے اس مسجد ضرار کے بنانے سے منافقوں کا یہ مقصد بھی ضد کے طور پر تھا کہ مسجد قبا کی جماعت میں پھوٹ پڑجاوے، قسمیں کھا کر اللہ کے رسول کو یہ دہوکا دیا تھا کہ مینہ بوندی اور اندہیری رات میں نماز پڑھ لینے کی آسائش کے لئے یہ مسجد بنائی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے منافقوں کو جھٹلایا اور ان کی نیت میں جتنی خرابیاں تھیں وہ سب ان آیتوں میں اپنے رسول کو جتلا کر اس مسجد میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور مسجد قبا میں نماز پڑھنے کی رغبت دلائی۔ حاصل یہ ہے کہ اس مسجد میں بہت سی خرابیاں تھیں اس لئے یہ مسجد جلا کر ڈھا دی گئی اب بھی اگر کوئی نئی مسجد نام نمود کے لئے ایسی بنائی جاوے جس سے پہلے کی مسجد کی جماعت میں کمی اور پھوٹ پڑجاوے تو چناچہ مسند امام احمد ابوداؤد نسائی صحیح ابن خزیمہ وغیرہ میں انس بن مالک ؓ کی روایت 2 ؎ ہے اس میں اس کا ذکر صراحت سے ہے۔ ۔ مسند امام احمد ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جتنی دور کی مسافت طے کر کے دور کی مسجد میں نمازی شخص نماز پڑہیگا اسی قدر اس کو ثواب زیادہ ہوگا 3 ؎ اس حدیث کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مہران کو اگرچہ بعضے علماء نے نامعلوم الحال بتلایا ہے لیکن ابن حبان نے اس عبدالرحمن کو ثقہ لوگوں میں شمار کی 4 ؎ ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس آخری زمانہ میں پاس پاس مسجدیں جو بن گئی ہیں ان کے بنانے میں نام نمود کا خیال نہ بھی ہو تو ان مسجدوں میں اتنی خرابی ضرور ہے کہ لوگ دور کی مسجد میں نماز کو نہیں جاتے اور اس حدیث میں جس ثواب کا ذکر ہے ان پاس کی مسجدوں کی بدولت اس ثواب سے محروم رہتے ہیں مسجد قبا کے ذکر میں اہل قبا کی ستھرائی کی تعریف جو ان آیتوں میں ہے۔ امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی مسند بزاز کی روایت 5 ؎ کے موافق اس کی تفسیر یہ ہے کہ یہ لوگ جب جائے ضرورت کو جاتے تھے تو ڈھیلوں سے استنجا کرنے کے بعد پانی سے بھی استنجا کرتے تھے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اس حدیث کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالعزیز کو بعضے علماء نے ضعیف کہا ہے اس لئے اکثر علمائے سلف کا اس پر تو اتفاق ہے کہ ڈھیلوں سے استنجا کرنے کے بعد پانی سے استنجا کرنا افضل اور اولی ہے ہاں اس کے ضروری ہونے میں سلف کا اختلاف ہے جس کی تفصیل بڑی کتابوں میں 6 ؎ ہے شفا کے معنے کنارہ کے ہیں جرن وہ جگہ ہے جس کی جڑ پانی سے کٹ کر کمزور ہوجاتی ہے ھار وہ عمارت جو گرنے کے قریب ہو حاصل یہ ہے کہ مسجد ضرار آباد رہنے والی نہیں ایک دن گرے گی اور اپنی بدنیت بنانے والوں کو جہنم میں گرادے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے ظالم منافقوں کو مجبور کر کے راہ است پر لانا نہیں چاہتا اس لئے جیتے جی یہ لوگ شک ونفاق کی حالت میں رہیں گے مگر مرنے کے بعد ان پر وہ آفت آنے والی ہے جس سے ان کے دل پھٹ کر ٹکڑے اڑ جاویں گے آخر کو فرمایا اللہ کو ان کے سب کام معلوم ہیں اور اس نے بڑی حکمت اور انصاف سے قیامت کے دن ہر ایک کام کی سزا جزا ٹھہرائی ہے۔ 1 ؎ تنقیح الرداۃ ج 1 ص 128۔ 2 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 64 باب بنیان المسجد الخ 3 ؎ ابوداؤد ج 1 ص 82 باب ماجاء فی فضل المشی الخ وابن ماجہ ص 57 باب الابعد فالا بعد من المسجد اعظم اجرا لیکن یہ روایتیں ابوہریرہ ؓ سے ہیں۔ ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت صحیح بخاری ج 1 ص 90 باب فضل صلوۃ الفجرفی جماعۃ میں ہے (ع۔ ر) 4 ؎ تہذیب التہذیب ج 7 ص 282 5 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 390 ونیل الاد طار ج 1 ص 123 باب الا ستنجا بالماء 6 ؎ نیل الاوطاء ج 1 ص 122 باب الاستنجا با لماء وفتح البائی ج 1 ص 126 باب الاستنجابالماء
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں (اور اس کے) عوض میں ان کے لئے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے جاتے بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

111۔ منیٰ کی گھائی کی بیت کے وقت جب حضور ﷺ سے لوگ بیعت کر رہے تھے تو عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا کہ آپ اپنے اور خدا کی طرف سے کچھ شرط مقرر کرلیں آپ نے فرمایا خدا کی طرف سے شرط یہ ہے کہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میرے لئے یہ شرط ہے کہ جن چیزوں سے تم اپنی جان اور مال کو بچاتے ہو اس سے مجھے بھی بچاؤ۔ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا پھر کیا ملے گا آپ نے فرمایا کہ جنت۔ اسی وقت یہ آیت اتری 1 ؎ اور یہ ارشاد ہوا کہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے خواہ قتل ہوجائیں یا کافروں کو قتل کریں ہر حالت میں ان کے لئے جنت ہے۔ بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص فقط جہاد کی خاطر اپنے گھر سے نکلا تو خدا اس کا کفیل ہوگیا اگر اس نے وفات پائی تو جنت میں داخل ہوگا اگر صحیح سلامت رہا تو مال غنیمت لے کر گھر آوے 2 ؎ گا تورات ‘ انجیل ‘ قرآن مجید ان سب کتابوں میں یہی حکم ہے۔ جابر بن عبداللہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور مسجد میں تھے جب یہ آیت اتری ہے لوگ اکثر کہنے لگے اس شخص انصار میں سے چادر اوڑھے ہوئے تھا کہنے لگا یا حضرت کیا یہ آیت نازل ہوئی ہے آپ نے فرمایا ہاں اس مرد نے کہا یہ سودا تو نفع کا ہے اس سے معلوم 3 ؎ ہوتا ہے کہ عبداللہ ؓ بن رواحہ نے جو آنحضرت ﷺ سے بات چیت کی وہ بیعت عقبہ کے وقت تھی اور آپ ہجرت کے بعد مدینہ میں نازل ہوئی یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ بیعت عقبہ کی صحیح روایتوں میں آیت کے نازل ہونے کا ذکر نہیں ہے یہ بیعت عقبہ ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ نے منی کی گھاٹی میں موسم حج کے وقت انصار سے کی تھی عقبہ گھاٹی کو کہتے ہیں منی کے پہاڑ کی گھائی میں جو یہ بیعت ہوئی تھی اس لئے اس بیعت کا نام بیعت عقبہ مشہور ہوگیا۔ سورت حشر میں اس بیعت کا قصہ تفصیل سے آویگا۔ تبوک کی لڑائی میں جو لوگ سستی سے پیچھے رہ گئے تھے ان کو اولا ہٹا دینے کے لئے اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو دین کی لڑائی میں چست اور جان ومال سے حاضر تھے تو رات میں جو جہاد کا جو حکم ہے وہی شریعت عیسوی میں قائم ہے اس لئے جہاد کے مسئلہ میں تو رات ‘ انجیل ‘ قرآن تینوں کا نام فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدا کی راہ میں دشمنوں کو یہ قتل کرتے ہیں آپ بھی قتل ہوتے ہیں اس لئے یہ جنت کے حق دار ہوگئے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 391 2 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 391 باب افصل الناس مومن مجاہد الخ و تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 391۔ 3 ؎ تفسیر الدر المنثور ج 3 ص 280 و تفسیر فت البیان ج 2 ص 308۔
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے نیک کاموں کا امر کرنے والے اور بری باتوں سے منع کرنے والے خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے (یہی مومن لوگ ہیں) اور (اے پیغمبر ﷺ مومنوں کو (بہشت کی) خوشخبری سنا دو ۔

112۔ یہ نو صفتیں بیان کی گئی ہیں جس میں یہ صفتیں ہوں گی اس کے واسطے خدا جنت مقرر کرچکا اور فرمایا کہ مومنو کو اس کی خوشی سنا دو کیونکہ مومن وہی ہے جس میں یہ سب خوبیاں ہوں سائحون اصل میں تو اس شخص کو کہتے ہیں جو دنیا سے بےتعلق ہو کر پہاڑوں اور جنگلوں میں خدا کی عبادت کرتا ہو مگر یہاں روزے دار مراد ہیں کیونکہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں جہاد کہیں سیاحت کا لفظ آیا ہے اس سے روزہ رکھنا مراد ہے۔ حضرت عائشہ ؓ وحضرت ابوہریرہ ؓ اور اکثر صحابہ بھی یہی بیان کرتے ہیں 1 ؎ مگر بعضوں نے جہاد کے معنے بھی بیان کئے ہیں چناچہ ابوداؤد میں ابوامامہ ؓ سے روایت ہی کہ ایک شخص نے حضرت رسول خدا ﷺ سے سیاحت کی اجازت چاہی آپ نے فرمایا کہ میری امت کی سیاحت خدا کی راہ میں جہاد کرنا 2 ؎ ہے اور بعضے سائحون ان کو بھی کہتے ہیں جو علم دین سیکھنے کو گھر سے نکلے ہوں اور ابن زید نے ہجرت کرنے والوں کو بھی کہا 3 ؎ ہے لیکن طبرانی میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں سائحون کے معنے روزہ داروں کے ہیں وہ روایت صحیح 4 ؎ ہے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 392 2 ؎ ابوداؤد ج 1 ص 336 باب النہی عن السیاعۃ و تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 392 3 ؎ تفسی ابن کثیر ج 2 ص 392 و تفسیر الد المنثورج 3 ص 282 4 ؎ مجمع الزوائد ج 8 ص 34 تفسیر سورة برماۃ و تفسیر الدر المنثور ج 3 ص 281
Ayahs 9:113–114

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لئے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں۔

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کے سبب تھا جو وہ اس سے کرچکے تھے۔ لیکن جب انکو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے۔

113۔ 114۔ حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں یہ فیصلہ سورة قصص کی تفسیر میں کردیا ہے کہ چند سببوں کا مجموعہ مرکب مل کر اس آیت کی شان نزول صحیح 1 ؎ ہے۔ اول سبب ابوطالب کی وفات ہے جو روایت صحیحین میں ہے کہ ابو طالب کی وفات کے وقت آنحضرت ﷺ ابو طالب کے پاس گئے اور ابو طالب سے کہا کہ اے چچا اس وقت بھی تم کلمہ منہ سے کہہ لوگے تو مجھ کو اللہ کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کا موقع ملے گا لیکن اس وقت ابوجہل ابن امیہ بھی وہاں موجود تھے انہوں نے ابوطالت کو بہکایا اور کہا گیا آخری وقت اے ابوطالب تم عبدالمطلب کے طریقہ سے پھرتے ہو اس لئے آخر وقت پر ابوطالت نے یہی کہا کہ میں عبدالمطلب کے طریقہ پر دنیا کو چھوڑتا ہوں اس پر نحضرت نے فرمایا خیر جب تک اللہ تعالیٰ مجھ کو منع نہ فرمائے گا میں اپنے چچا ابو طالب کے لئے مغفرت کی دعا کرتا رہوں 2 ؎ گا دوسرا سبب وہ ہے جس کی روایت معتبر سند سے مستدرک حاکم دلائل النبوۃ بیہقی مسند امام احمد بن جنبل تفسیر ابن ابی حاتم ابن مردو یہ اور طبرانی میں چند صحابہ سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جنگ تبوک کے بعد قبرستان مکہ میں عمرہ کے وقت آنحضرت ایک قبر پر بہت دیر تک دعا کرتے رہے آپ کو روتا ہوا دیکھ کر آپ کے ساتھ جو اس وقت قریب ہزار صحابہ کے تھے وہ بھی سب روئے پھر آپ نے فرمایا یہ قبر آمنہ میری ماں کی ہے میں نے اللہ سے اپنی مان کی مغفرت کی دعا کا اذن چاہا تھا مگر اس آیت سے اس کی ممانعت ہوئی 3 ؎۔ تیسرا سبب وہ ہے جس کی روایت معتبر سند سے نسائی مستدرک حاکم ترمذی اور مسندامام احمد بن حنبل میں حضرت علی ؓ سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص صحابی اپنی مشرک ماں باپ کے لئے مغفرت کی دعا کیا کرتا تھا 1 ؎ فتح الاری ج 4 ص 292 2 ؎ صحیح بخایر ج 2 ص 75 6 باب قولہ اکان للنبی الخروج 2 ص 703 باب قولہ انک لاتہدی الخ 3 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 392 8 ؎ جامع ترمذی ج 2 ص 136 کتاب التفسیر و تفسیر ابن کثیرج 2 ص 393 و تفسیر الدر المنثور ج 3 ص 282۔ حضرت علی ؓ نے اس کا ذکر آنحضرت سے کیا اس پر یہ ممانعت کا حکم اترا۔ غرض حافظ ابن حجر (رح) کے فیصلہ سے اب ان میں سے کوئی اعتراض باقی نہیں رہا جو بعضے مفسروں نے ایک سبب کو شان نزول ٹھہرا کر طرح طرح کے اعتراض کئے ہیں بعضے مفسروں نے حضرت کے والدین اور ابوطالب کے اسلام کی روایتیں ضعیف ہیں کوئی روایت ان میں بھروسہ کے قابل نہیں ہے۔ حضرت علی ؓ کی روایت جو اوپر گذری اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت علی ؓ نے اس شخص کو منع کیا جو اپنے مشرک میں مغفرت کی دعا کیا کرتے تھے اس لئے میں بھی اپنے مشرک ماں باپ کے حق میں مغفرت کی دعا کیا کرتا ہوں اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ دیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے مغفرت کی دعا کرنے اور وعدہ کو آزر کا حالت شرک پر مرجانا معلوم ہوگیا تو انہوں نے وہ دعا چھوڑ دی۔ سورة مریم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس وعدہ کا ذکر تفصیل سے آویگا کہ آزر نے تو ابراہیم (علیہ السلام) کو پتھروں سے کچل کرمار ڈالنے کی دہمکی دی اور ابراہیم (علیہ السلام) نے سختی کے برتاؤ پر بھی اپنے باپ آزر کو نرمی کا جواب دیا اسی واسطے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نرم دل اور تحمل والا فرمایا۔
Ayahs 9:115–116

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک ان کو وہ چیز نہ بتادے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

خدا ہی ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگنی بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔

115۔ 116۔ جب اس سے پہلے کی آیت اتری اور لوگوں کو منع کیا گیا کہ مشرکوں کے لئے مغفرت نہ چاہو خواہ وہ تمہارا رشتہ کنبہ والے ہی کیوں نے ہوں تو جو لوگ مغفرت چاہتے تھے ان کے دل میں خوف ہوا کہ کبھی ہم پر عذاب نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور فرمایا کہ اللہ بےانصاف نہیں ہے جب کسی قوم کو ہدایت کرچکا تو اب گمراہ نہیں کریگا جب تک انہیں یہ نہ بتلاوے کہ کن کن باتوں سے بچنا چاہئے مجاہد کے قول کے موافق آیتوں کی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ جن لوگوں نے ممانعت کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے اپنے مشرک ماں باپ یا اور مشرک رشتہ داروں کے حق میں مغفرت کی دعا کی تھی ان کے انجان ہونے کے عذر کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قبول 1 ؎ فرمایا۔ اور یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جب ایک امر کی ممانعت شرعی تم کو معلوم نہیں تھی اور اسی لاعلمی کی حالت میں تم اس کو کر بیٹھے اور اب تمہارے دل میں اس کا پچھتاوا ہے کہ ایسا کام ہم نے کیوں کیا تو اس تمہارے دلی پچھتاوے کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے کیونکہ کوئی ظاہری باطنی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اس لئے تم کو تسلی دی جاتی ہے 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 395 و تفسیر الدر المنشور ج 3 ص 286۔ کہ انجان آدمی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بےراہ نہیں قرار پاتا بلکہ بےراہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے کہ مناہی کے بعد اس کام کو کرے جس سے اس کو منع کیا گیا ہے جو لوگ اپنے مشرک ماں باپ یا مشرک رشتہ داروں کے حق میں مغفرت کی دعا کرتے تھے اگرچہ بعضے سلف کے قول کے موافق آیت کے باقی ٹکڑے کی تفسیر یہ ہے کہ اس ممانعت کے حکم سے پہلے ان میں سے بعضے لوگ جو فوت ہوگئے تھے اور ان کے زندہ رشتہ داروں کو اپنے ان مرے ہوئے رشتہ داروں کے عذاب میں گرفتار ہوجانے کا اندیشہ تھا ان کے حق میں یہ فرمایا ہے کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اور ہر ایک کی زیست کے زمانہ کا اور مرنے کے بعد کا سب انتظام اور اللہ کے ہاتھ ہے انجانی سے جو کوئی کچھ کرے اس کا اور شرع الٰہی کی مناہی کو ٹال کر جو کوئی کچھ کرلے اس کا ان سب کا اللہ تعالیٰ خود انصاف سے فیصلہ کریگا اس میں اندیشہ کا کسی کو کچھ موقع نہیں لیکن قرآن شریف کے اوپر کے مضمون سے لگتی ہوئی تفسیر آیت کے اس ٹکڑے کی یہ ہے کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ کی ہے جس کی بادشاہت میں ہر ایک کا مارنا اور جلانا بھی داخل ہے اب اس نے اپنے علم ازلی کے موافق جن لوگوں کو شرک کی حالت میں دنیا سے اٹھایا ہے ان کے حق میں کسی کی دعا مغفرت کچھ کار گر نہیں ہوسکتی کیونکہ اس نے اپنی بادشاہت میں یہ حکم دے رکھا ہے کہ کسی طرح مشرک کی مغفرت نہیں ہے آخر کو فرمایا کہ شرع الٰہی کے احکام کی پابندی ہر شخص کو ضرور ہے کیونکہ ان احکام کی نافرمانی کے وبال میں اگر اللہ تعالیٰ نے پکڑلیا تو سوا اللہ کے ذات کے ایسا کوئی حامی مددگار نہیں ہے کہ بغیر مرضی الٰہی کے اس گرنت سے کسی کو چھوڑا سکے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کی عمر ساٹھ برس کو پہنچ جاوے وہ اللہ تعالیٰ نے روبرذ شرع کی باتوں کی انجانی کا عذر نہیں پیش کرسکتا 1 ؎ اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں طرح طرح کے جدید احکام نازل ہوتے رہتے تھے اس لئے اس وقت انجانی کی صورت وہ تھی جو اس آیت میں ہے اب شریعت کے کامل ہوجانے کے بعد چھوٹی عمر میں کوئی شخص مرجاوے تو اس کو احکام شرع کی انجانی کے عذر کا موقع ملے تو ملے جس شخص احکام شرع سے انجان رہا تو یہ انجانی اس کی غفلت سے ہے اس کا انجانی کا عذر مقبول نہ ہوگا۔ 1 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 950 باب من بلغ سیتن سنتہ الخ
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھرجانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بیشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے۔

117۔ یہ آیت تبوک کی لڑائی میں اتری ہے قتادہ کا قول ہے کہ تبوک کی لڑائی میں جب ملک شام کی طرف لوگ چلے تو سخت گرمی پڑ رہی تھی لو کی وہ لپٹ آتی تھی کہ الامان۔ رسد کی کمی تھی پانی نہ ملتا تھا لوگوں کے حال تباہ ہو رہے تھے ایک کھجور دو آدمی کھا کر گزارا کرتے تھے لشکر والا باری سے ایک کھجور کو چوستے اور دو دو گھونٹ پانی پیتے اور پھر چوستے اور پھر پانی 1 ؎ پیتے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے غزوہ تبوک کی سختی کا حال دریافت کیا وہ کہنے لگے ہم رسول ﷺ کے ساتھ تبوک کی لڑائی کو چلے گرمی کا زمانہ تھا راستے میں پیاس لگی پانی کا کہیں کوسوں نشان نہ تھا لوگ اونٹوں کی مینگنیاں نچوڑ نچوڑ کر پانی نکالتے اور پیتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضور سے کہا کہ آپ خدا سے دعا فرمائیں آپ کی دعا مقبول ہے آپ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا ہاتھ کا اٹھانا تھا کہ مینہ برسا اور خوب ہی برسا لوگوں نے اپنے برتن پانی سے بھر لئے بعد ایک لمحہ کے لئے مینہ تھم گیا 2 ؎۔ اس لڑائی میں آپ کے ساتھ مہاجرین اور انصار سب ملا کر ستر ہزار آدمی تھے قریب تھا کہ اس سختی اور مشقت اور بھوک فرمائی تاکہ ان کے جی خوش ہوجائیں۔ مدینہ منورہ اور دمشق کے مابین مدینہ سے چودہ منزل تبوک ایک جگہ ہے ناقابل اعتراض سند سے ہرقل قیصر روم کو ایک خط اس مضمون کا لکھا کہ مدینہ میں جو شخص نبی آخرالزمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے قحط کے سبب سے آجکل ان کی اور ان کے ساتھیوں کی حالت بہت ابتر ہے اس لئے ایسے وقت میں ان لوگوں پر فوج کشی کا اچھا موقعہ ہے اس خط کو پڑھ کر ہرقل نے چالیس ہزار فوج ساتھ کر کے اپنے ایک امیر قباد کو ملک شام کی طرف روانہ کیا 3 ؎ آنحضرت ﷺ نے جب یہ خبر سنی تو ملک نصارا کے ایلچی آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور اسی مقام تبوک پر صلح ہوگئی اسی واسطے آنحضرت ﷺ نے تبوک سے نام ایک خط بھی لکھا صحیح بخاری وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تبوک کے سفر کے وقت آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو یہ جواب دیا کہ علی ؓ کیا تم کو یہ بات پسند نہیں کہ تم ہر حال میں میرے ایسے مددگار رہو جیسے ہارون (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کے ہر حال میں مددگار تھے مگر اتنی بات ضرور ہے کہ ہارون (علیہ السلام) نبی تھے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں 4 ؎ ہے یہ اوپر گزر چکا ہے کہ اس سفر کی سختی کے سبب سے لوگ تنگ آگئے تھے اس سختی کے وقت بعضے صحابہ کے دل میں یہ خیالات بھی گزرتے تھے کہ جس طرح کچھ اور لوگ اس سفر میں شریک نہیں ہوئے مدینہ میں رہ گئے اسی طرح ہم بھی مدینہ میں رہ جاتے تو اچھا تھا چناچہ اس مطلب کو کاد یزیغ قلوب فریق منھم کے الفاظ سے اللہ تعالیٰ نے ادا فرمایا ہے مگر پھر ان صحابہ نے اس سختی پر صبر کیا اور ان خیالات کو اپنے دل میں زیادہ جمنے نہیں دیا اور سفر میں آنحضرت ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑ اس واسطے تاکید کے طور پر دو دفعہ ان خیالات سے درگزر فرمانے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا اور اس درگزر میں اپنے رسول کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تاکہ ان صحابہ کو یہ معلوم ہوجائے کہ رسول کا ساتھ دینے کے سبب سے اس درگزر میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر ایسا ہی مہربان ہے جو مہربانی اس کو اپنے رسول کیساتھ ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ توبہ کے معنے شرع میں یہ ہیں کہ گناہوں کو شرعی ممانعت کے سبب سے برا جان کر آیندہ کے لئے ان سے باز رہنا اور پچھلے گناہوں پر نادم ہونا اور توبہ کے قبول ہونے کے یہ معنے ہیں اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے والے شخص کو ان گناہوں کے عذاب سے بچا دیا اب اللہ کے رسول تو گناہوں سے معصوم ہیں لیکن باوجود اس کے عقبے میں درجہ بڑھنے کے لئے ہر روز آپ ستر دفعہ سے زیادہ توبہ استغفار کیا کرتے تھے چناچہ صحیح بخاری وغیرہ کی صحیح حدیثوں 5 ؎ میں اس کا ذکر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے توبہ کے قبول کرنے کے ذکر میں اپنے رسول کو اس بات کے سمجھانے کے لئے شریک کیا کہ جن صحابہ کی توبہ قبول ہونے کا یہ ذکر ہے اس توبہ کے قبول ہونے میں فقط اتنی بات نہیں ہے کہ ان کے دلی خیالات کے مؤاخذہ سے درگزر کی گئی بلکہ ایسے سختی کے وقت میں اللہ کے رسول کا ساتھ دینے کے سبب سے دلی خیالات کے ترک مؤاخذ کے علاوہ ان لوگوں کا عقبیٰ کا اجر بھی بڑھایا گیا ہے تاکہ جو لوگ اللہ کے رسول کا ساتھ چھوڑ کر مدینہ میں رہ گئے تھے اور آخر کو ان کو توبہ بھی قبول ہوئی اس توبہ کی قبولیت اور اللہ کے رسول کا ساتھ دینے والوں کا توبہ کی قبولیت میں یہ فرق پیدا ہوجائے کہ وہ قبولیت فقط درگزر کی ہے اور یہ قبولیت درگزر کے علاوہ عقبے کا درجہ بڑھانے کی بھی ہے اس توبہ کے ساتھ رؤف رحیم اور اس توبہ کی ساتھ التواب الرحیم کے الفاظ اس مطلب کے ادا کرنے کے لئے فرمائے ہیں۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 396 و تفسیر الدر المنثور ج 3 ص 286۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 396 3 ؎ فتح الباری ج 4 جز 18 ص 88۔ 99 ومجمع الزوائد ج 7 ص 191 باب غزوہ تبوک وقال وفیہ العباس بن الفضل وہو ضیف 4 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 633 باب غزوہ تبوک۔ 5 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 933 باب استغفار النبی ﷺ فی الیوم وا المیلۃ۔
Ayahs 9:118–119

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین باجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! خدا سے ڈرتے رہو اور راستبازوں کے ساتھ رہو۔

118۔ 119۔ یہ وہی تین شخص ہیں مرارہ بن ربیع کعب بن مالک ہلال بن امیہ جن کو توبہ قبول کرنے میں پچاس روز کی مہلت دی گئی تھی جن کا بیان اوپر گذر چکا 1 ؎ ہے جب وہ مدت پوری ہوگئی اور اب کے دل بہت ہی پریشان ہوئے زندگی سے تنگ آگئے دنیا ان کی آنکھوں میں اندھیری ہوگئی اور یہ بھی سمجھ لیا کہ پناہ بھی خدا ہی دے گا تو ان کے سچ بولنے پر خدا نے یہ آیت اتاری اور معاف فرمایا اس کا تفصیلی ذکر صحیح بخاری ومسلم میں خود کعب بن مالک ؓ کی روایت سے ہے وہ کہتے ہیں کہ میں سوائے تبوک اور بدری لڑائی کے ہر ایک لڑائی میں شریک ہوا ہوں اور غزوہ تبوک میں میں نہیں شامل ہوا حالانکہ اس وقت میں بہت آسودہ حال تھا حضرت ﷺ کا قاعدہ تھا کہ جب کسی جنگ کا ارادہ کرتے تھے تو یک بیک نہیں کہہ دیتے تھے آپ نے ایک یہ بڑا سفر جنگلوں کے راستے سے اختیار کیا تھا اس لئے مسلمانوں کو آگاہ کردیا کہ میرا ارادہ تبوک کا ہے تم دشمنوں کے مقابلہ کو تیار ہوجاؤ سارا لشکر تیار ہوگیا میں بھی سامان کرنے ہی کو تھا کہ آنحضرت ﷺ لشکر سمیت کوچ کر گئے میں نے سوچا کہ ان کو آگے چلنے دوں ایک دو روز میں میں بھی جاملوں گا غرضیکہ میں تو آج کل کرتا رہا اور وہاں سارا لشکر منزل مقصود کو پہنچ گیا پھر بھی میرا ارادہ بار بار یہی ہوتا تھا کہ میں بھی چلا جاؤں مگر مقدر میں نہ تھا میں نہیں گیا۔ مجھے بڑا رنج ہوتا تھا جب میں مدینہ میں باہر نکلا کرتا تھا کیونکہ اس وقت سوائے ان شخصوں کے جو جہاد میں شریک ہونے سے عذر رکھتے تھے یا جو لوگ منافق تھے اور کسی کو مدینہ میں نہیں پاتا تھا۔ 1 ؎ یعنی زیر آیت نمبر 106۔ حضرت ﷺ نے تبوک پہنچ کر لوگوں سے پوچھا کہ کعب ؓ کیوں نہیں آیا بنی سلمہ میں ایک شخص تھے انہوں نے کہا کہ وہ آجکل آجکل کا ارادہ کرتے کرتے رہ گئے جب آنحضرت ﷺ لڑائی سے فارغ ہو کر واپس آئے تو میں اپنے جی میں پیش بندی کے طور پر عذر و حیلے سوچنے لگا کہ کیا بہانہ کروں جس سے حضرت کی خفگی مجھ پر نہ ہو بلکہ اس معاملہ میں اپنے گھر کے اور لوگوں سے بھی مشورہ لیا مگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئی آخر یہی منصوبہ دل میں ٹھان لیا کہ چاہے کچھ بھی ہو سچ سچ کہہ دوں اگر نجات ہوگی تو اسی سے ہوگی۔ حضرت ﷺ جب سفر سے واپس آتے تھے تو پہلے مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھ کر تھوڑی دیر وہاں بیٹھتے تھے اس مرتبہ بھی جب آپ مدینہ واپس آئے تو دستور کے موافق مسجد میں بیٹھے جو لوگ اس لڑائی میں نہیں شریک ہوئے تھے وہ قریب قریب اسی آدمی تھے وہ لوگ آن کر عذر کرنے لگے حضرت ﷺ نے قبول فرمایا اور ان کے واسطے مغفرت کی دعا کی جب میری باری آئی تو میں نے سلام کیا آپ مسکرائے اور غصہ میں فرمایا آجا میں سامنے بیٹھ گیا فرمانے لگے تو کیوں رہ گیا تھا کیا تو نے سواری نہیں خریدی تھی میں نے کہا اے رسول خدا ﷺ اگر میں اور کسی کے سامنے اس وقت ہوتا تو جھوٹ بول کر عذر وحیلہ کرلیتا مگر آپ کے سامنے جھوٹ بھی بولوں گا تو کچھ پیش نہ چلے گی کیونکہ اصل حال اللہ پاک آپ پر ظاہر کردے گا اور اس وقت بہت خوش حالت تھا آپ نے فرمایا تو نے سچ کہا اچھا جا خدا تیرے بارے میں کوئی حکم دیگا۔ میں چلا آیا لوگ مجھ سے کہنے لگے یہ تو نے کیا کیا ویسا ہی عذر تو بھی کرلیتا جیسا اوروں نے کیا تھا حضرت کی مغفرت کی دعا تیرے حق میں کافی ہوتی میں نے ان لوگوں سے پوچھا میرے بعد اور کون کون آیا تھا کہا کہ وہی دو شخص مروہ بن ربیع ؓ اور ہلال بن امیہ ؓ آئے تھے انہوں نے بھی تمہاری طرح کہا حضرت نے ان سے بھی وہی کہا جو تم سے کہا تھا۔ پھر حضرت ﷺ نے لوگوں کو منع کردیا کہ کوئی آدمی ہم تینوں آدمیوں سے بات نہ کرے غرضیکہ ہم سے سارے لوگ پھرگئے زمین بھی بدل گئی تھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ زمین ہی نہیں ہے پچاس روز اسی حال میں گذرے اور بیچارے وہ دونوں بھی اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے رویا کرتے میں نماز کے لئے مسجد میں جایا کرتا تھا تو حضرت ﷺ میری طرف سے منہ پھیرلیا کرتے تھے ابوقتادہ ؓ جو میرے چچا کے بیٹے بھائی تھے میں ان کو بھی سلام کرتا اس کو میکے چلے جانے کو کہہ دیا ہلال بن امیہ ؓ ایک ضعیف آدمی تھے ان کی بیوی کو الگ کردے میں نے نہانا ہے انہیں بہت تکلیف ہوگی آپ نے ان کی بی بی کو میاں کی خدمت کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ اس کے پاس نہ جایا کرنا جب پچاس راتیں پوری ہو چکیں تو میں صبح کی نماز اپنی چھت کے اوپر پڑھ رہا تھا یہ آواز میرے کانوں میں آئی ” خوش ہوجا اے کعب بن مالک ؓ “ پھر تو میں سجدہ میں گر پڑا اور سمجھا کہ میری توبہ قبول ہوگئی صبح کو لوگ میرے پاس اور ان دونوں کے پاس بھی خوشی سنانے کو آنے لگے میں حضرت کے پاس چلا تو راستہ میں جو ملتا تھا مبارک باد دیتا تھا جب میں مسجد میں آیا تو طلحہ بن عبداللہ ؓ نے مجھ سے مصافحہ کر کے مبارک باد دی پھر میں نے حضرت ﷺ کو سلام کیا آپ نے خدا کی طرف سے یہ خوشی سنائی کہ اس نے تمہاری توبہ قبول کرلی میں نے عرض کیا کہ میں اسی خوشی میں اپنا سارا مال خدا کی راہ میں دے دیتا ہوں آپ نے فرمایا نہیں کچھ اپنے پاس بھی رہنے دے میں نے اس وقت سے یہ جی میں ٹھان لیا کہ اب ہمیشہ سچ بولا کروں گا 2 ؎ یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے عکرمہ کے قول کے موافق وعلی الثلاثۃ الذین خلفوا کی تفسیر یہ ہے کہ یہ تین شخص وہی ہیں جو اپنی توبہ کے قبول ہونے میں سب سے پیچھے رہ گئے 3 ؎ یہ عکرمہ امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پروردہ ہیں اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بڑی محنت سے ان کو قرآن کی تفسیر سکھائی ہے اس واسطے تفسیر کے باب میں ان کے قول کا بڑا اعتبار ہے عکرمہ کی یہ تفسیر ان تینوں شخصوں کے حال کے مناسب بھی ہے کیونکہ اس سفر میں تو اسی آدمی کے قریب پیچھے رہ کر اپنے گھروں میں بیٹھ رہے تھے ان تینوں شخصوں کے ساتھ اس کی کچھ خصوصیت نہیں بلکہ ان شخصوں کے ساتھ خصوصیت ہے تو اس بات کی ہے کہ یہ تینوں شخص توبہ کے قبول ہونے میں سب سے پیچھے ہیں شریعت میں جن باتوں کے بجا لانے کا حکم ہے یا جن باتوں کی مناہی ہے منافق لوگوں میں ان دونوں باتوں کی پابندی پوری نہیں تھی اس لئے ایمان دار لوگوں کو فرمایا کہ تم متقی بن جاؤ اور منافقوں کی عادت اختیار کرنے سے اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارا حشر سچے ایمان داروں کے ساتھ ہو۔ سورة النسا کی آیت ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبین والصدیقین والشہداء والصالحین (4: 69) اس آیت کی پوری تفسیر ہے صحاح میں صحابہ کی ایک جماعت کی حدیث المرع من احب مشہور ہے یہ حدیث بھی اس آیت کی گویا تفسیر ہے مطلب اس حدیث کا وہی ہے جو سورة النساء کی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 634۔ 636 باب حدیث کعب بن مالک و صحیح مسلم ج 2 ص 360۔ 363 باب حدیث توبہ کعب بن مالک وصاحبیہ۔ 2 ؎ تفسیر ابن جریر ج 11 ص 56 3 ؎ مشکوۃ ص 426 باب الحسب فی اللہ ومن اللہ۔
Ayah 9:120

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں انکو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لئے کہ انہیں خدا کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لئے عمل صالح لکھا جاتا ہے کچھ شک نہیں کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

120۔ اس آیت کو بھی اگلی آیتوں سے تعلق ہے بعض لوگ جو خاص مدینہ میں رہتے تھے یا مدینہ کے باہر گاؤں میں بستے تھے ان میں سے جو لوگ تبوک کی لڑائی میں نہیں شریک ہوئے تھے ان کے حق میں خفگی کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان کو یہ بات لائق نہیں تھی کہ اپنی جان کو رسول کی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ان کی تو بھوک پیاس ساری مشقتیں خدا کی راہ میں ایک ایک قدم اٹھانا دشمنون کو ڈرانا دھمکانا ان پر فتح پانی یہ سب نیکی میں شمار کئے جاتے گھر میں بیٹھ کر انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔ حاصل یہ ہے کہ اس آیت میں یہ بات تاکید کے ساتھ جتلائی گئی ہے کہ حضرت ﷺ جب لڑائی کو نکلیں تو تم لوگ بھی ان کا ساتھ دو اور گھروں میں بیٹھ رہنا حرام کردیا گیا ہے۔ ایک جگہ اس تفسیر میں گذر چکا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی جماعت میں سے کچھ لوگ بھی اس فرض کو ادا کر لیویں تو باقی کے لوگوں کے ذمہ سے یہ فرض ساقط ہوجاتا ہے لیکن تبوک کے سفر کے وقت بہت بڑے مقابلہ کا ارادہ تھا اور جن لوگوں کو کچھ عذر نہ تھا ان سب کو اللہ کے رسول نے خاص طور پر اس سفر میں چلنے کا حکم دیا تھا اس لئے جو لوگ بلا عذر اس سفر میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے اور انہوں نے تاکہ آیندہ وہ اس طرح کی پہلو تہی نہ کریں اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت آگے کی آیت سے منسوخ نہیں ہے بلکہ خاص انس بن مالک ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا شرک کے رفع کرنے کے لئے ہر ایماندار شخص کو مال سی ہاتھ لڑنے کا طاقت ضعیف اسلام کے سبب سے نہ ہو تو زبان سے وعظ نصیحت کرکے شرک کو رفع کیا جاوے۔ انس بن مالک ؓ کی اس حدیث کو نسائی نے صحیح کہا 1 ؎ ہے۔ 1 ؎ تفسیر بن کثیر ج 2 ص 400 وجامع ترمذی ج 2 ص 211 باب مناقب عثمان ومستدرک حاکم ج 3 ص 102 تجہیر عثمان جیش العسرۃ عن عبدالرحمن بن سمرہ
Ayah 9:121

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور (اسی طرح) وہ جو خرچ کرتے ہیں تھوڑا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ انکے لئے (اعمال صالحہ میں) لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے۔

121۔ اوپر کی آیت کی تاکید میں یہ پھر فرمایا کہ غازیوں کے ہر ایک چھوٹے بڑے خرچ جو صرف اللہ ہی کے واسطے کئے جائیں اعمال میں لکھے جاتے ہیں اور اچھے سے اچھا اس کا بدلہ ان کو دیا جائیگا۔ مسند امام احمد میں عبداللہ بن امام احمد اس آیت کے متعلق عبدالرحمن بن خباب ؓ سلمی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ﷺ نے لشکر تبوک کے لئے خطبہ پڑھ کر لوگوں سے لشکر کی تنگ حال اشخاص کی مدد کرنے کو جب فرمایا تو حضرت امیر المومنین عثمان بن عفان ؓ نے کہا میں نے سو اونٹ مع ساز و سامان کے دئے پھر آپ نے ترغیب دلائی پھر حضرت عثمان ؓ نے سو اونٹ دینے کو فرمایا پھر آپ نے کہا پھر سو اونٹ حضرت عثمان غنی ؓ نے دئے اور ایک ہزار اشرفیاں حضرت کی گود میں لاکر ڈال دیں کہ اس سے اس لشکر کا سامان درست کردیا جائے عبدالرحمن بن خباب کی یہ حدیث ترمذی اور مستدرک حاکم میں بھی 1 ؎ ہے اور عمران بن حصین ؓ کی ایک حدیث طبرانی کے حوالہ سے اوپر گذر چکی ہے اس میں بھی یہ مضمون ہے غرض اس حدیث کی روایت کے چند طریق ہیں جس کے سبب سے ایک سند کو دوسری سند سے تقویت حاصل ہوجاتی ہے یہ عبدالرحمن بن خباب ؓ صحابی ہیں انہوں نے آخر کو بصرہ میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ 1 ؎ یعنی زیر آیت نمبر 117
Ayah 9:122

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین (کا علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے۔

122۔ یہاں مفسروں کا اختلاف ہے اکثر یہ کہتے ہیں کہ جب جہاد کے لئے خدا نے تاکید فرمائی اور گھروں میں بیٹھ رہنا منع فرمایا تو کل مسلمانوں نے یہ صلاح کرلی کہ اب جب کبھی کوئی لڑائی ہوگی تو سب کے سب شریک ہوا کریں گے چناچہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس آئے اور ایک لڑائی پر لشکر بھیجنا چاہا تو سارے مسلمان جانے پر تیار ہوگئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور فرمایا کہ سب نہ جاؤ کچھ لوگ دین کی باتیں سیکھنے کو رہ جاؤ اور جو نیا حکم قرآن کا اتارا جائے یا شریعت میں کوئی نئی بات بتلائی جائے اس کو سمجھو اور جب تمہارے دوسرے بھائی جہاد سے واپس آویں تو انہیں بتلاؤ بعضے کہتے ہیں کہ یہ آیت ہی الگ ہے جہاد کی آیتوں سے اس کو لگاؤ نہیں ہے جس طرح جہاد میں گھر سے نکلنے کی تاکید ہے اسی طرح علم دین سیکھنے کی تاکید کی گئی ہے اور فرمایا ہے کہ دین کی باتیں سیکھ کر آؤ اور اپنی قوم کو ہدایت کرو اور ڈراؤ تاکہ وہ برائیوں سے بچیں۔ پہلی تفسیر امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول 1 ؎ کے موافق ہے اس لئے اسی کو ترجیح ہے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 400۔ 401:۔
Ayah 9:123

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

123۔ اس آیت میں خدا کا یہ حکم ہوا ہے کہ پہلے ان کافروں سے جہاد شروع کرو جو تمہارے آس پاس کے رہنے والے ہیں پھر ان سے لڑو جو ان سے قریب ہوں اسی لئے حضرت پہلے اپنے ہی قبیلہ کے مشرک اور کافروں سے لڑے پھر عرب کے اور کافر اور مشرکوں سے پھر اس کے بعد اور ملکوں میں جاکر جہاد کیا اور یہ بھی فرمایا کہ جوانمردی کے ساتھ لڑو۔ اوپر گزر چکا ہے کہ اب ضعف اسلام کے زمانہ میں جہاد کی ایک قسم زبانی وعظ و نصیحت کی باقی رہ گئی ہے اس لئے علمائے اسلام کو چاہئے کہ پہلے اپنی سکونت کی بستی میں وعظ نصیحت کر کے لوگوں کو راستہ پر لاویں پھر باہر کا قصد کریں تاکہ اس آیت کی ہدایت کا عمل ہاتھ سے نہ جاوے آخر آیت میں فرمایا کہ شریعت کے امرونہی کو مان کر دین الٰہی کی ترقی کی نیت سے جو لڑائی لڑی جاوے گی تو اللہ ایسے متقی لڑنے والوں کے ساتھ اور ان کا مددگار ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی اور غرض سے لڑائی لڑی جاوے گی تو نہ اس کو دین کی لڑائی قرار دیا جاویگا نہ اس میں اللہ کی مدد کی امید ہوسکتی ہے۔ صحاح کی چھیوں کتابوں میں ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقبے کے اجر کی وہی لڑائی ہے جس میں دین الٰہی کی ترقی کی نیت ہو اس کے سوا کسی اور لڑائی میں عقبے کے اجر کی امید نہیں کی جاسکتی 1 ؎ یہ حدیث آیت کے آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کمزوری کے حال میں مسلمانوں کو اپنی بہادری دکھانے کے لئے کسی ایسے قوی مخالف سے لڑنا جس سے بجائے دین کی ترقی کے الٰہی دین کی اور توہین ہو ایسی لڑائی کو بھی دین کی لڑائی نہیں کہا جاسکتا۔ 1 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 394 باب من قائل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیاو صحیح مسلم ج 2 ص 139 کتاب الجہادو جامع ترمذی ج 1 ص 198 باب ماجاء من یقاتل ریاء وللدنیا وترغیب ترہیب ج 1 ص 243
Ayahs 9:124–125

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (استہزا کرتے اور) پوچھتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے ؟ سو جو ایمان والے ہیں ان کا تو ایمان زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا اور وہ مرے بھی تو کافر کے کافر۔

124۔ 125۔ ان آیتوں میں بھی منافقوں کی فضیحت بیان کی گئی ہے کہ جب کوئی سورت اترتی تھی تو مومنوں سے دل لگی کرتے تھے کہ کہو سورت اترنے سے کس کس کا ایمان بڑھا۔ اصل میں وہ چاہتے تھے کہ یہ لوگ بھی ہماری طرح دین اسلام سے پھرجائیں مگر جو لوگ سچے مومن تھے وہ اپنے وہ عیب سن کر جو اس سورة میں بیان کئے جاتے تھے ان کے چھپانے کی کوشش کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مومن تو نہال نہال ہوجاتے ہیں اور انکا ایمان بھی پکا ہوجاتا ہے ہاں جن کے دلوں میں شرک اور نفاق کی بیماری ہے ان کی خباثت اور بڑہتی جاتی ہے اسی واسطے آدمی کو چاہیے جب کوئی اس کا عیب ظاہر کرے تو برا نہ مانے بلکہ اس کو چھوڑنے کی کوشش کرے کیونکہ نیک بخت وہی ہے جو عیب کی باتوں کو چھوڑ دے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق قرآن شریف کی نئی سورت یا نئی آیت سے ایمان کے بڑہنے 1 ؎ کا یہ مطلب ہے کہ مثلا جب ہجرت سے پہلے فقط نماز ہی فرض تھی تو ہر ایمان دار کے دل میں نماز کے رکن اسلام ہونے کا یقین تھا اور زبان سے بھی ہر ایماندار شخص کو نماز کے رکن اسلام ہونے کا اقرار تھا پھر ہجرت کے بعد جب مثلا رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو اس کو بھی رکن اسلام جاننے اور اقرار کرنے میں ان کی پہلے کی حالت میں گویا ایک ترقی ہوگئی بلکہ پہلے مثلا ایک چیز کا یقین اور اقرار تھا تو اب دو چیزوں کا ہوگیا۔ جو علماء ایمان کے گھٹنے بڑہنے کے قائل نہیں ہیں ان کا اعتراض اس موقعہ پر یہ ہے کہ دلی یقین میں تسلیم کی جاوے گی تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ دلی یقین پورا نہیں ہے بلکہ اس میں ایک شک کی حالت ہے پھر اس طرح کے شک کی حالت والے شخص کو ایماندار کیونکر کہا جاسکتا ہے جو علماء ایمان کے گھٹنے بڑہنے کے قائل ہیں وہ اعتراض کا یہ جواب دیتے ہیں کہ بغیر تفصیل کے مجمل طور پر اس بات کا یقین جس شخص کے دل میں ہے کہ اللہ کے رسول پر جو احکام نازل ہوئے وہ بلاشک وشبہ احکام الٰہی ہیں اس قدر اجمالی یقین اس شخص کے ایمان دار ہونے کے لئے کافی ہے کیونکہ اس کے اس مجمل طور کے یقین میں کوئی شک وشبہ شریک نہیں ہے اس لئے اس مجمل طور کے یقین کو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ دل یقین پورا نہیں ہے ہاں مثلا جب ہجرت سے پہلے رمضان کے روزے فرض نہیں ہوئے تھے۔ تو اس مجمل طور کے یقین میں روزوں کے اسلام ہونے کا یقین تفیلیو طور پر نہیں تھا جب ہجرت کے بعد رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو اس اعمالی یقین میں ایک تفصیلی حالت بڑھ گئی تفصیلی معلومات کے بڑھ جانے سے علم میں ترقی کا ہوجانا ایک ایسا ظاہری مسئلہ ہے کہ جس میں زیادہ بحث کی گنجائش نہیں ہے کس لئے کہ مثلا طب کے علم کا ایک ناتجربہ کار طالب علم اجمالی طور پر یہ تو طالب علمی کے زمانہ سے جانتا ہے کہ گرم مرض کا علاج ٹھنڈی دواؤں سے ہوتا ہے لیکن تفصیلی طور پر ابھی اس کو یہ معلوم نہیں کہ کونسی ٹھنڈی دوا مرض کے کس موقع پر کس مقدار میں برتی جاتی ہے مدت کے تجربہ کے بعد جب اس طالب علم کو یہ سب باتیں تفصیل سے معلوم ہوگئیں تو اس کا کون انکار کرسکتا ہے کہ بہ نسبت پہلے کے اب اس کے علم طب میں ترقی ہوگئی۔ ایمان کے گھٹنے بڑھنے کی ایک صورت تو یہ تھی جس کا ذکر اوپر گزرا دوسری صورت یہ ہے کہ دلی یقین کا حال تو سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں اس واسطے اکثر علماء نیک عملوں کو دلی یقین کے پورا اور ادھورے ہونے کی نشانی ٹھہراتے ہیں اور نیک عملوں میں زیادہ مصروف رہنے والے شخص کو کامل الایمان اور کم مصروف رہنے والے کو ناقص الایمان کہتے ہیں غرض یہ ایمان کے گھٹنے بڑھنے کا مسئلہ بڑا طول طویل ایک مسئلہ ہے جس کی تفصیلی بحث بڑی کتابوں میں 2 ؎ ہے۔ ہر نیک کام کا اجر دس سے لے کر سات سو تک ہے اس لئے جو نئی سورت یا آیت نازل ہوتی تھی صحابہ اس پر عمل کرنے کو زیادتی اجر کا ذریعہ سمجھ کر جدید احکام کے نزول پر خوش وقتی ظاہر کیا کرتے تھے۔ منافقوں کا حال اس کے برعکس تھا ایک آیت پر اکہرا شک تو تھا اور دوسری نئی آیت پر وہ دوہرا ہوگیا اس لئے فرمایا کہ مرتے دم تک ان کی روز بروز کی گندگی بڑہتی جاویگی صحیح بخاری ومسلم کی ابوسعید خدری ؓ کی حدیث اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے احکام کی مثال مینہ اور امت کے اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی 3 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح اچھی بری زمین میں مینہ تو ایک سا برستا ہے لیکن اچھی زمین میں اس کا نتیجہ اور اثر مفید ہوتا ہے۔ اور بری زمین میں نامفید اسی طرح اللہ کے رسول کی معرفت آسمانی کے نصیحتی احکام تو اچھے برے سب لوگوں کو اس وقت ایک ساتھ پہنچے اور سلسلہ بہ سلسلہ قیامت تک پہنچیں گے مگر اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جو لوگ نیک قرار پاچکے تھے ان پر ان احکام کا اثر مرتے دم تک نیک ہوا اور جو بدقرار پاچکے تھے ان پر ان احکام کا اثر بہ عکس۔ یہ حدیث اس آیت کی گویا تفسیر ہے بخار کھانسی وغیرہ جس طرح جسمانی مرض کہلاتے ہیں۔ نفاق ریا کاری اسی طرح دلی امراض میں اسی واسطے نفاق کو دل کا مرض فرمایا صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ لوگوں کے جسموں اور صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کے دلوں کو دیکھتا ہے 4 ؎ کہ قلبی امراض سے ان کے دل کہاں تک پاک صاف ہیں صحیح بخاری ومسلم میں نعمان بن ؓ بشیر کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی کے جسم میں دل ایک ایسی چیز ہے کہ اگر وہ اچھی حالت میں ہے تو آدمی کا سارا جسم اچھی حالت میں 5 ؎ ہے نعمان بن بشیر ؓ کی یہ حدیث ابوہریرہ ؓ کی حدیث کی گویا تفسیر ہے دونوں حدیثوں کو ملانے سے حاصل مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر خاص آدمی کے دل کی حالت پر ہے اگر امراض قلبی سے اس کا دل پاک ہے تو ہاتھ پاؤں زبان سب اعضا کی عبادت اس کی مقبول ہے نہیں تو نہیں یہ حدیثیں بھی گویا آیت کی تفسیر ہیں۔ 1 ؎ تفسیر ابن جریر ج 11 ص 73۔ 2 ؎ مثلا صحیح بخاری میں ایمان کی زیادتی کمی کا باب مع شرح فتح الباری 3 ؎ صحیح بخاری ص 18 باب فضل من علم و علم 4 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 317 باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ الخ 5 ؎ مشکوۃ ص 241 باب الکسب وطلب الحلال۔
Ayahs 9:126–127

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا یہ دیکھتے نہیں کہ یہ ہر سال ایک یا دو بار بلا میں پھنسا دیئے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں ؟

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے ؟ پھر پھرجاتے ہیں۔ خدا نے انکے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔

126۔ 127۔ اللہ پاک تعجب کے ساتھ منافقوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ہر سال ایک دو دفعہ ان کی آزمائش ہوتی ہے قحط بھی پڑتا ہے بیماریوں کی مصیبت جھیلتے ہیں مگر یہ اپنے نفاق میں ایسے ڈھیٹھ ہیں کہ نہ توبہ کرتے ہیں نہ آیندہ خوف کرتے ہیں اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو اس میں اپنے عیب کو سن کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگتا ہے کہ کسی نے ہماری طرف دیکھا نہیں اور وہاں سے دب کر سرک جاتے ہیں اور مذمت کی آیت یا سورت کو پورے طور پر نہیں سنتے۔ ابن ماجہ میں ابن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کم تولنے کے وبال سے اکثر قحط پڑا کرتا ہے 1 ؎ اس حدیث کی سند میں اگرچہ ایک راوی خالد بن یزید بن عبدالرحمن ضعیف ہے لیکن مستدرک حاکم اور بیہقی میں بعض حدیثیں 2 ؎ اس مضمون کی ہیں جن سے اس حدیث کی سند کو تقویت حاصل ہوجاتی ہے اس حدیث سے آیت کو یہ تفسیر ہوسکتی ہے کہ جس طرح منافقوں کے نفاق کے سبب سے قحط اور بلا آتی ہے اسی طرح کم تولنے سے خاص مسلمانوں پر بھی یہ بلا آتی ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے منافقوں کا حال اس بکری کے مانند فرمایا 3 ؎ ہے جو اپنے ریوڑ کو بھول کر ادھر ادھر بھٹکتی پھرتی ہے یہ حدیث منافقوں کے ناسمجھ ہونے کی گویا تفسیر ہے کہ یہ لوگ اپنی نافہمی کے سبب سے نہ مسلمانوں کے گروہ میں ہیں نہ منکرین اسلام لوگوں کے گردہ میں۔ مجاہد کے قول کے موافق فتنہ کے معنے یہاں قحط بیماری اور اسی طرح کی آیتوں کے ہیں 4 ؎۔ 1 و 2 ؎ الترغیب والترہیب ج 2 ص 13 الترہیب من بخس الکیل والوزن 3 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 370 کتاب صفات المنافقین۔ 4 ؎ تفسیر ابن جریر ج 11 ص 73۔ 74۔
Ayah 9:128

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

(لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف انکو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہشمند ہیں۔ (اور) مومنوں پر نہایت شفقت کرنیوالے (اور) مہربان ہیں۔

128۔ یہ اللہ پاک اپنے بندوں پر اپنا احسان جتلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر ایسا رسول بھیجا جو تمہاری طرح وہ بھی آدمی ہے تمہاری زبان بولتا ہے سمجھتا ہے تمہاری تکلیف اور محنت گوارا نہیں کرتا وہ دل سے چاہتا ہے کہ تم سب کے سب سچے دل سے مسلمان ہوجاؤ۔ اس آیت کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے کل قبیلوں سے حضرت کا رشتہ ملتا ہے اسی لئے اللہ جل شانہ نے فرمایا ایسا رسول آیا جو تم میں سے ہے بلکہ عرب کے سارے قبیلوں سے آپ حسب نسب میں اچھے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت اسمعیل (علیہ السلام) زیادہ عزت والے تھے ان کی اولاد میں بنی کنانہ کو مرتبہ حاصل ہوا بنی کنانہ میں قریش زیادہ عزت والے تھے اور قریش میں بنی ہاشم نے زیادہ مرتبہ پایا بنی ہاشم میں حضرت عبدالمطلب آنحضرت ﷺ کے دادا کو زیادہ عزت حاصل ہوئی اور حضرت عبدالمطلب کے خاندان میں حضرت رسول خدا ﷺ پیدا ہوئے ناقابل اعتراض سند سے امام احمد حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے یوں روایت کرتے ہیں کہ حضرت ﷺ نے فرمایا ایک روز میں سویا تھا دو فرشتے میرے پاس آئے ایک سرہانے اور ایک پائنتی بیٹھ گیا پائنتی کے فرشتے نے سرہانے کے فرشتے سے یوں کہا کہ ان کی اور ان کی امت کی کہاوت ایسی ہے جیسے چند مسافر مفلس ہو کر کسی جگہ بیٹھ گئے ہوں ان کے پاس اتنا خرچ نہ ہو کہ وہ اپنے گھر کو پلٹ آویں یا آگے کو رخ کریں اتنے میں ایک بزرگ آدمی آکر ان سے کہے کہ میں تمہیں اچھے اچھے باغ اور عمدہ عمدہ مکان میں لے چلوں گا اگر تم چلنے پر راضی ہو تو میری تابعداری اختیار کرو وہ لوگ تابعداری کا اقرار کرلیں اور وہ بزرگ مرد ان کو لے کر وہیں پہنچے جہاں کا وعدہ کیا تھا وہ لوگ تھوڑے دنوں میں عیش میں رہ کر اور کھا پی کر خوب موٹے تازے ہوجائیں پھر وہ بزرگ ان سے کہے کہ دیکھو میں نے تم سے جس جگہ کا وعدہ کیا تھا وہاں پہنچا دیا اب اس سے آگے اور بھی اچھے اچھے باغ اور مکان ہیں تابعداری کی شرط کرو تو میرے ساتھ چلے چلو بعضے تو ان میں سے اس شرط پر راضی ہوجائیں اور بعضے کہیں کہ ہم کو تو یہی جگہ پسند ہے اب یہاں سے کہاں 1 ؎ جائیں۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول کے طفیل سے مسلمانوں میں ایک مدت تک دنیا کی بڑی خوشحالی رہی اب اس خوشخالی میں بعضے اللہ کے بندوں نے تو دنیا کی خوشحالی کہ علاوہ عقبیٰ کی دائمی خوش حالی میں فتور ڈال دیا۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 404۔
Ayah 9:129

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ پھرجائیں اور (نہ) مانیں تو کہہ دو کہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

129۔ اس آیت اور اس کے اوپر کی آیت کے متعلق ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن میں سب آیتوں سے پیچھے یہ دونوں آیتیں اتری میں 1 ؎ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت کے زمانہ میں جس وقت قرآن مجید اکٹھا کیا جا رہا تھا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اگر اس کے ساتھ اور ایک آیت بھی ہوتی یعنے تین آیتیں ہوتیں تو میں ان کو علیحدہ ایک سورت کردیتا بہرحال یہ سورة توبہ بڑی مبارک سورة ہے 2 ؎ معتبر سند سے ابوداؤد میں حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص ہر روز صبح وشام حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم سات مرتبہ پڑھ لیا کرے تو خدا اس کی ساری مشکلیں آسان کریگا 3 ؎ اگرچہ ابوداؤد ؓ کی یہ روایت موقوف ہے لیکن اس طرح کی موقوف روایتیں حدیث نبوی کے حکم میں ہوا کرتی ہیں کیونکہ صحابہ اپنی طرف سے ایسا مضمون بیان نہیں کرسکتے۔ صحابہ جن روایتوں کو آنحضرت ﷺ تک نہیں پہنچاتے ایسی روایتوں کا سلسلہ صحابہ تک موقوف رہ جاتا ہے اس لئے ایسی روایتوں کو موقوف کہتے ہیں :۔ 1 ؎ تفسیر ابن جریر ج 11 ص 78 2 و 3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 405 ج 2۔