8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو۔ اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو۔

1۔ ترمذی ابوداؤد ‘ نسائی مسند امام احمد بن حنبل حاکم اور صحیح ابن حبان میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول ان آیات کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کے لشکر کے تین گروہ تھے ایک گروہ جھنڈے کے پاس آنحضرت سے لڑنے والے گروہ میں سے کچھ لوگ دشمنوں کا وہ مال جو دشمنوں کے بھاگنے میں رہتا جاتا تھا وہ مال کو جمع کرتے جاتے تھے لڑائی ختم ہونے کے بعد ہر ایک گروہ نے اپنے آپ کو لوٹ کے مال کا زیادہ مستحق قرار دیا اور اس میں جھگڑا کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں معتبر سند سے ترمذی میں یہ شان نزول کی روایت عبادہ بن الصامت ؓ سے ہے جس سے اور روایتوں کو تقویت ہوجاتی ہے بعضے مفسروں نے کہا ہے کہ واعلموا انما غنتم من شئی فان اللہ خمسہ سے آیت یسئلونک عن الانفال منسوخ ہے کیونکہ آیت یسئلونک عن الا نفال میں پورے مال غنیمت کو اللہ تعالیٰ نے اپنا اور رسول کا حق فرمایا ہے اور آیت واعلموا میں اس مال کے پانچ حصے فرمائے ہیں لیکن حقیقت میں کوئی آیت منسوخ نہیں ہے ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ غنیمت کے مال کے حق خدا و رسول کو ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح خدا رسول کی مرضی ہوگی اس طرح اس کی تقسم ہوجاویگی دوسری آیت میں اس تقسیم کے حصے فرمائے ہیں صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی بڑی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا لوٹ کا مال پہلے انبیا کی شریعتوں میں حلال نہیں تھا اسی شریعت میں یہ مال حلال ہوا ہے آیت کے اس ٹکڑے میں لوٹ کے مال کا جو ذکر ہے حدیث کا یہ ٹکڑا گویا اس کی تفسیر ہے کیونکہ آیت کے ٹکڑے اور حدیث کے ٹکڑے کو ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ لوٹ کے مال کے حلال ہونے کا حکم جو آیت میں ہے ایسا ایک خاص حکم ہے جو سوائے شریعت محمدی کے کسی پہلی شریعت میں نہیں تھا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد میں عبادہ بن الصامت ؓ کی حدیث ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس مال کی تقسیم کو اپنے رسول کی مرضی پر منحصر رکھا تو اللہ کے رسول نے وہ مال سب اہل بدر کو بانٹ دیا زیادہ چیز کو نفل کہتے ہیں انفال اس کی جمع ہے غنیمت کے مال کا حلال ہونا ایک زیادہ امر ہے جو اور امتوں میں نہیں تھا اس لئے غنیمت کے مال کو نفل کہتے ہیں لوٹ کا مال غنیمت کا مال ہے :۔ اللہ پاک نے اوپر شروع سورة میں غنیمت کے مال کا ذکر بیان فرما کر آیت کے اس ٹکڑے میں فرمایا کہ آپس کی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف کو چھوڑ وہ خدا سے ڈرو اور آپس میں میل جول رکھو کیونکہ اسلام کی نعمت جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فصل سے تمہیں دے رکھی ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جس کے سبب سے تم باہم جھگڑتے ہو مال کی یہ تقسیم جو تمہارے درمیان میں ہوگئی ہے یہ خدا اور اس کے رسول کی مرضی کے موافق ہے جو نہایت ہی عدل و انصاف سے ہے تم اہل ایمان ہو تو خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اس کی تقسیم پر راضی ہوجاؤ باہم کوئی جھگڑا نہ کرو آپس میں صلح سے پیش آؤ سدی نے واصلحوا کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ آپس میں جھگڑا نہ کرو حافظ یعنے احمد بن علی موصلی نے اپنی مسند میں ایک حدیث انس ؓ سے بیان کی ہے جس کی مسند کو حافظ ابن کثیر نے ناقابل اعتراض ٹھہرایا ہے اور اس حدیث کو حاکم نے بھی مستدرک میں روایت کر کے صحیح بتلایا ہے اس حدیث میں انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے یکایک آپ ہی آپ مسکرانے لگے حضرت عمر ؓ نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یارسول اللہ ﷺ آپ کس بات پر ہنسے فرمایا کہ میری امت میں کے دو آدمی خدائے رب العزت کے سامنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہوں گے اور ایک نے ان میں سے یہ کہا کہ اے خدا میرے اس بھائی سے اس ظلم کا بدلہ دلوا جو ظلم مجھ پر ہوا ہے اللہ پاک نے ظالم سے فرمایا کہ اپنے بھائی کے ظلم کا بدلہ دے اس شخص نے کہا اے رب میری نیکیوں میں سے تو کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے کیونکر بدلہ دوں مظلوم نے کہا کہ اے رب یہ شخص میرے گناہ اپنے اوپر لاوے یہاں تک بیان کر کے آنحضرت ﷺ کے آنسو نکل پڑے پھر فرمایا وہ دن بڑا ہی سخت ہوگا لوگ اس بات کے محتاج ہوں گے کہ کوئی ان کے گناہ ان کی پیٹھ پر سے لے کر اپنی پشت پر لاد کر کے چلے پھر آپ فرمانے لگے کہ اللہ پاک بدلہ مانگنے والے شخص سے فرماوے گا کہ تو اپنی نگاہ اٹھا اور جنت کی طرف دیکھ وہ نگاہ اٹھا کر دیکھ کر کہے گا کہ اے رب العزت میں چاندی کا شہر دیکھتا ہوں اس میں سونے کے مکان بنے ہوئے ہیں اور موتیوں سے لد رہے ہیں یہ مکان کس نبی کے واسطے بنائے گئے ہیں صدیق کو ملیں گے کون شہید اس کا مستحق ہے اللہ پاک فرمائے گا کہ یہ اس شخص کو ملے گا جو اس کی قیمت دے وہ کہے گا اے رب العزت بھلا اس کی قیمت کیا ہے اور کس کا مقتدر ہے جو اس کی قیمت دے سکے اللہ پاک فرمائے گا تجھ میں مقتدر ہے تو دے سکتا ہے وہ شخص کہے گا یہ کیا بات ہے اے رب العزت اللہ پاک کہے گا تو اپنے بھائی کے ظلم کو معاف کر دے وہ شخص کہے گا اے رب میں نے معاف کردیا اللہ پاک فرمائے گا تو اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ اور دونوں قیامت کے دن مومنوں کے درمیان میں اس طرح صلح کرادے گا۔ معتبر سند سے مسندامام احمد میں جابر ؓ بن سمرہ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بد زبانی اور لڑائی جھگڑا اسلام میں نہیں ہے اس واسطے پورا ایمان دار (رح) وہی شخص ہے جس کی عادت نیک برتاؤ کی ہو ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب ہوا کہ آیت میں لڑائی جھگڑے سے بچنے اور آپس میں میل جول سے رہنے کا جو ہر مسلمان کو حکم ہے اس حکم کے موافق عمل کرنا اور ظلم زیادتی کے بدلہ کو معاف کردینا دنیا میں یہ باتیں اسلام کی نشانی اور عقبے میں ان کا بڑا اجر ہے :۔
Ayahs 8:2–4

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

مومن تو وہ ہے مہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی سچے مومن ہیں۔ اور ان کے لئے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے) درجے اور بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

2۔ 4۔ اللہ پاک نے تخصیص کے ساتھ پانچ صفتیں اس آیت میں بیان فرمائیں کہ کامل مومن وہی ہے جس میں یہ صفتیں پائی جاویں۔ پہلی صفت یہ بیان کی کہ جب اس کے سامنے خدا کا ذکر آوے تو دل میں اس کے ڈر پیدا ہو کیونکہ کامل مومن وہی ہے جو خدا سے ڈرتا ہو دوسری جگہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ مومنوں کے دل خدا کے ذکر سے اطیمنان پاتے ہیں اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ مومن کے دل میں خدا کے ذکر سے خوف پیدا ہوتا ہے ان دونوں آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ خوف خدا کا عذاب سن کر اور اس کا جلال وہیبت یاد کر کے ہونے لگتا ہے اور اطیمنان اس کی رحمتیں اور اوصاف سن کر ہوتا ہے علماء سلف نے لکھا ہے کو خوف کی دو قسمیں ہیں ایک وہ خوف ہے جو عقبے کے عذاب کے خیال سے پیدا ہوتا ہے اور دوسرا وہ خوف ہے جو محض دبدبہ و شوکت سے ہوتا ہے جس کو رعب و دہشت کہتے ہیں بادشاہوں کے دربار میں ایسا ہوا کرتا ہے کہ جو گناہ گار ہیں وہ یوں ڈرتے ہیں کہ ہم پر عذاب ہوگا اور جو مقرب وخاص لوگ ہیں وہ دبدبہ و جلال میں آکر رعب کھاتے ہیں تو اللہ پاک کی بھی یہی حالت ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کون بادشاہ ہوسکتا ہے سارے لوگ اسی کی محتاج ہیں دوسری صفت یہ بیان کی کہ جب خدا کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان اور زیادہ ہوجاتا ہے آیتوں کے سننے سے جس قدر ان کی صدافت زیادہ ہوتی جاتی ہے اسی قدر ان کا ایمان بڑھتا جاتا ہے بخاری (رح) امام شافعی (رح) واحمد (رح) اور اکثر علماء اس کے قائل میں کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے کیونکہ جس کے پاس خدا کی وحدانیت کی دلیلیں اور نیک خصلتیں زیادہ ہوں گی اسی قدر اس کا یقین زیادہ ہوگا اور شک رفع ہوگا۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایمان کی کچھ اوپر ستر شاخیں ہیں افضل شاخ کلمہ طیبہ یعنی لا الہ الا اللہ ہے اور ادنے رستہ سے تکلیف کی چیزوں کا ہٹا دینا جیسے کانٹے پتھر جو رشتہ میں آمد ورفت کی جگہ ہوں پھر فرمایا ایک شاخ ایمان کی حیا بھی 2 ؎ ہے تیسری صفت اللہ پاک نے مومنوں کی یہ بیان کی کہ وہ ہر کام میں خدا ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اس کے سوا کسی سے کسی بات کی امید نہیں رکھتے اسی کی پناہ پکڑتے ہیں دوسروں سے کوئی غرض اور واسطہ نہیں رکھتے یہ تینوں اوصاف مومنوں کے نہایت ہی خوبی کے ساتھ اللہ پاک نے بالتر تیب بیان فرمائے پہلے تو یہ بیان کیا کہ جب خدا کا ذکر ہوتا ہے تو وہ ڈرتے ہیں ذکر کے بعد فرمانبرداری کی بیان کیا کہ جب خدا کی آیتیں سنتے ہیں ان کے ایمان زیادہ ہوتے جاتے ہیں جیسے جیسے ان پر احکام اترتے جاتے ہیں وہ اس کو مانتے چلے جاتے ہیں پھر یہ بیان کیا اس کے سوا اور کسی سے غرض نہیں رکھتے ہیں کسی کو اپنی حاجتوں میں اس کا شریک نہیں ٹھہراتے ہیں۔ یہ تینوں صفتیں باطن کے لحاظ سے بیان کی گئی تھیں اس کے بعد چوتھی اور پانچویں صفت جو ظاہر کی تھی اس کو بیان فرمایا کہ جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں کل شرائط اور امور نماز کے مثل وضو وغیرہ غرض جتنے حدود و ارکان نماز میں ہیں سب کو ادا کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے ان کو دیا ہے اس میں سے موقعہ اور محل پر خدا کی اطاعت میں خرچ کرتے نماز اور صدقہ ایسی اطاعات ہیں اس لئے اللہ پاک نے انہی دونوں کو خاص کر بیان فرمایا نماز میں فرض اور نفلی نماز سب داخل ہے اسی طرح صدقہ میں زکوٰۃ اور نفلی صدقہ سب داخل ہے پھر اللہ پاک نے ان لوگوں کی تعریف بیان کی جن میں یہ پانچوں صفتیں پائی جاتی ہیں اس لئے فرمایا کہ یہی لوگ ایمان دار ہیں اور بچے مومن ہیں حق سے مراد یہ ہے کہ ان کے ایمان میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کفر سے وہ لوگ بری ہیں ایمان داری میں خالص اور صاد ہیں ان کے لئے جنت میں درجے ہیں ضحاک کا قول یہ ہے کہ مراد درجات سے یہ ہے کہ جنت والے بعضے بعضوں سے اوپر درجوں میں ہوں گے جو اوپر کے درجوں میں ہوں گے انہیں معلوم ہوگا کہ ان کا درجہ بلند ہے اور جو نیچے کے درجہ میں ہوں گے انہیں نہیں معلوم ہوگا کہ ان سے بھی کوئی بلند درجہ میں ہے معتبر سند سے ترمذی میں عبادہ بن الصامت ؓ اور معاذبن جبل ؓ سے روایات ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں سود اور کجے ہیں ہر درجہ کے درمیان میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان میں ہے فردوس سب درجوں میں بڑا درجہ ہے یہیں سے جنت کے پانی کے دودھ کی اور شراب کی اور شہد کی چاروں نہریں نکلی ہیں اور اسی کے اوپر عرش ہے جب تم لوگ جنت کا سوال کرو تو خدا سے فردوس کا سوال کرو۔
Ayah 8:5

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اس طرح نکلنا چاہئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں کی ایک جماعت ناخوش تھی۔

5۔ معتبر سند سے تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اور تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابوسفیان کی شام سے مال لے کر راستہ میں ہونے کی خبر سن کر جب مدینہ سے حضرت ﷺ نکلے اور ہزار آدمیوں کی جمعیت سے قریش ابوسفیان کی مدد کو آگئے تو اکثر مسلمانوں نے آنحضرت سے یہ عرض کیا کہ ہم تو فقط ابوسفیان کا قافلہ لوٹنے کی نیت سے مدینہ سے نکلے تھے لڑائی کے لئے حسب دل خواہ اس وقت ہم میں طاقت نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ جس طرح لڑائی کے ختم ہونے کے بعد تم نے غنیمت کے مال میں جھگڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے حق حق اس کا فیصلہ کردیا اسی طرح لڑائی سے پہلے بھی تم نے لڑائی کے چھیڑنے اور نہ چھیڑنے میں جھگڑا کیا تھا اور فقط شام کے ملک سے ابوسفیان کے ساتھ جو قافلہ آرہا تھا اسی کا لوٹ لینا تمہارا مقصود تھا مگر اللہ تعالیٰ نے تدبیر سے تم کو لوٹ کا مال بھی دلوا دیا اور جس ارادہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مدینہ سے اس کی طرف نکالا تھا وہ ارادہ بھی پورا کردیا کہ کافروں کا زیر اور تم کو فتح مند کردیا اس تقریر سے معلوم ہوگیا کہ آیت میں گھر سے نکالنے کا مقصد مدینہ سے بدر کی طرف کا سفر ہے ہجرت کے معنے جو بعضے مفسروں نے کئے ہیں وہ معنے مضمون آیت سے بعید ہیں اسی واسطے اکثر مفسروں نے آیت کی یہی تفسیر بیان کی ہے کہ گھر سے مطلب یہاں مدینہ کا گھر ہے مکہ کا نہیں ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث اوپر گذرچ کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بدر کی لڑائی سے ایک رات پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو یہ جتلا دیا تھا کہ اس لڑائی میں مشرکین مکہ میں سے بڑے بڑے سرکش لوگ مارے جاویں گے بلکہ ان لوگوں کی لاشوں کے پڑے رہنے کے مقامات بھی اللہ کے رسول ﷺ کو بتلائے تھے۔ آیت ٹکڑے اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ وہ درست کام یہ تھا کہ اس لڑائی میں آخر کو اسلام کا غلبہ ہوگا اور مخالفوں کے بڑے بڑے سرکش لوگ اس لڑائی میں مارے جاویں گے اس لئے مسلمانوں کی ایک جماعت کا اس لڑائی پر رضا مند نہ ہونا مرضی الہی کی برخلاف ہے۔ یہ جماعت انصار میں کے کچھ لوگوں کی تھی ان لوگوں کو لڑائی کے شروع ہوجانے میں جو تامل تھا اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ ابوسفیان نے بہت سا مال تجارت کا شام کے ملک سے خریدا تھا اور پھر تیس آدمیوں کا قافلہ وہ مال لے کر مکہ کو جارہا تھا آنحضرت ﷺ نے جب یہ خبر سنی تو آپ نے مسلمانوں کو اس قافلے کے لوٹنے پر آمادہ کیا اور اسی رادہ سے کچھ اوپر تین سوآدمیوں کو ساتھ لے کر مدینہ سے آپ باہر نکلے۔ ابوسفیان نے جب یہ خبر سنی تو مکہ کو جلدی سے ایک قاصد روانہ کیا اور قریش کو اس حال کی اطلاع دے کر اپنے قافلہ کی مدد چاہی۔ مکہ سے قریش میں کے ہزار آدمی مقام بدر تک ابوسفیان کی مدد کو آگئے اب ابوسفیان کا قافلہ تو سمندر کے کنارہ کے راستہ سے مکہ کو چلا گیا اور مسلمانوں کا تھوڑی سی فوج کو ہزار آدمیوں کی فوج سے لڑائی شروع کرنے کی نوبت آئی اسی لڑائی کے شروع کرنے میں انصار کے بعضے لوگوں نے وہ عذر کیا جس کا ذکر آیت کے آگے کے ٹکڑے کی تفسیر میں آتا ہے :۔
Ayah 8:6

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے۔ گویا موت کی طرف ڈھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں۔

6۔ آیت کے اوپر کے ٹکڑے میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ بغیر حکم خدا کے کوئی کام نہیں کرتے ہیں حضرت ﷺ ابوسفیان کے قافلہ کے پیچھے نکالے تھے اور مومنین بھی آپ کے ساتھ تھے سامان جنگ کسی کے پاس مہیا نہ تھا کیونکہ یہ لوگ تیس آدمیوں کے قافلہ کو لوٹنے کے ارادہ سے آئے تھے لیکن جب یہ قافلہ ہاتھ سے نکل گیا اور مشرکین مکہ کی ہزارہا آدمیوں کی فوج مقام بدر پر پہنچ گئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اب ان سے لڑائی چاہئے اس بات کو لوگوں نے سخت سمجھا اور کہنے لگے کہ اگر پہلے سے ہم کو لڑائی کا ارادہ معلوم ہوتا تو ہم سامان جنگ سے درست ہو کر آتے مگر بعد میں ان کو معلوم ہوگیا کہ حضرت کا حکم ٹھیک تھا آپ جو کام کرتے ہیں خدا کے حکم سے کرتے ہیں اسی کو اللہ پاک نے آیت کے اس ٹکڑے میں بیان فرمایا کہ یہ لوگ تم سے حق بات میں جھگڑتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دیدہ دانستہ موت کے منہ میں جھونکے جاتے ہیں حالانکہ ان پر حق بات ظاہر ہوگئی ہے کہ رسول کا حکم بغیر حکم خدا کے نہیں ہوتا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث جو اوپر گذری ہے حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی بھی گویا تفسیر ہے کیونکہ جس حدیث کے موافق اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس لڑائی کا انجام جتلایا تھا اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس انجام کا ذکر صحابہ سے بھی کردیا تھا اسی واسطے فرمایا یجا دلونک فی الحق بعد ما تبین جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جتلانے سے جس لڑائی کا سچا انجام اللہ کے رسول نے ان لوگوں کو جتلا دیا تھا تو پھر لڑائی کے شروع کرنے میں ان لوگوں نے اللہ کے رسول سے ناحق کا جھگڑا کیا :۔
Ayahs 8:7–8

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابو سفیان اور ابو جہل کے) دو گرہوں میں ایک گردہ تمہارا مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بےہتھیار) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور جو کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے۔

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں۔

7۔ 8۔ اس آیت کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول سے بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے محمد بن اسحاق حضرت عبداللہ ؓ بن عباس سے اس قصہ بدر کو یوں بیان کرتے ہیں کہ ابوسفیان قریش کا بہت سا مال لیکر ملک شام سے چلا یہ خبر حضرت کو ملی آپ نے صحابہ سے کہا تم مدینہ سے باہر نکلو اگر خدا نے چاھا تو تمہیں یہ سب مال مل جائیگا اکثر لوگ آپ کے ساتھ ہوگئے اور بعضے رہ گئے کیونکہ لڑائی کا ارادہ تو تھا ہی نہیں جو سب کے سب نکلتے ابوسفیان نے مدینہ کے قریب پہنچ کر جاسوس بھیجے جاسوس سے جو شخص ملتا تھا اس سے حال پوچھتے چلے جاتے تھے ایک قافلہ سے معلوم ہوا کہ حضرت مع صحابہ کے تمہارے قافلہ پر آیا چاہتے ہیں یہ خبر جاسوس نے ابوسفیان سے جاکر کہی اس نے ایک شخص ضمضم بن عمر و غفاری کو اجرت دے کر قریش کی طرف بھیجا اور کہا کہ قریش کو جمع کر کے لے آؤ اور اپنا مال بچاؤ حضرت مع اپنے اصحاب کے ہر اہ روانہ ہوئے ضمضم تو ادھر روانہ ہوا اور آنحضرت صلعم جب تک وادی ذفران تک پہنچے ادھر سے قریش کی ہزار آدمیوں کی فوج آگئی آپ کو یہ خبر معلوم ہوئی آپ نے لوگوں سے مشورہ لیا حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر ؓ نے نیک مشورہ دیا اور بعض لوگوں نے یہ کہا کہ ہم تو قریش سے لڑنے کے لیے نہیں نکلے تھے آپ نے کہا کہ تم ایک ایک علیحدہ بتلاتے جاؤ قریش سے جنگ کرنے میں تمہاری کیا رائے ہے مقاد بن عمرو ؓ نے کہا کہ یارسول اللہ صلعم آپ کو جو حکم خدا نے دیا ہے وہ کیجیے ہم آپ کے ساتھ ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے جو بات کہی تھی کہ وہ اور ان کا خدا جاکر لڑیں ہم تو قوم عمالقہ سے لڑنے کو نہیں جائیں گے ان کہنے والوں میں ہم نہیں ہیں ہم کو اسی ذات کی قسم ہے جس نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے اگر آپ ملک حبشہ تک جا کر مقاتلہ کرنا چاہیں تو ہم بھی وہاں تک چل کر لڑیں گے آپ نے مقداد ؓ کو دعا دی پھر آپ نے انصاری کی طرف خطاب کر کے فرمایا تمہاری کیا رائے ہے سعد بن معاذ ؓ نے کہا کہ یا حضرت ﷺ ہم آپ پر ایمان لاچکے ہیں آپ کے رسول ہونے کی تصدیق کرچکے ہیں جو کچھ آپ خدا کی طرف سے لائے ہیں اس کی گواہی دے چکے ہیں آپ سے قول وقرار مضبوطی کے ساتھ کرچکے ہیں جو کچھ آپ کو خدا کا فرمان ہے اس کے بموجب حکم دیئے اگر دریا میں گھسیں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ گھس پڑیں گے ہم میں سے ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا ہم اس بات سے ناخوش نہیں ہیں کہ ہم کو دشمن سے لڑنا پڑے گا ہم جنگ کے وقت صبر کرنے والوں میں ہیں اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اللہ پاک آپ کو ایسی بات دکھلاوے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں آپ بسم اللہ کر کے چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ چلو غرض کہ اللہ پاک نے ابوسفیان کے قافلے اور مشرکین مکہ کی فوج انہیں دونوں گروہ کا ذکر اس آیت میں فرمایا کہ ان دو گروہ میں سے ایک کا وعدہ میں کرچکا ہوں کہ ایک تمہارا ہے تم ان میں سے ایک پر غالب ہوجاؤ گے انہیں قتل کرو اور مال غنیمت لو وہ تمہیں دفع نہیں کرسکے گا اور جو یہ چاہتے ہو کہ نرم لقمہ تمہارے ہاتھ لگے تو ابوسفیان کا قافلہ بےلڑے بھڑے لوٹ لو یہ قافلہ بےہتھیارے ہے تو یہ بات اللہ کو پسند نہیں ہے خدا کا ارادہ تو یہ ہے کہ مشرکین کی جو فرج سامان جنگ سے درست ہے ہتھیار لگئے ہوئے ہے اس پر تمہیں فتح مند کرے اور اپنی حق بات پوری کرے اور کفار کو نسیت ونا بود کرے بہت سے لوگ قید ہوں اور بہت سامان تمہارے ہاتھ لگے حق کو غلبہ ہو جھوٹ مغلوب ہو یہ بات اچھی ہے یا وہ بات اچھی ہے جس کو تم اچھا جانتے ہو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ قول مختصر طور پر طبرانی میں بھی ہے جس کی روایت علی بن ابی طلحہ کے ذریعہ سے ہے اس تفسیر کے مقدمہ میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ جو قول عبداللہ بن عباس ؓ کا علی بن ابی طلحہ کے ذریعہ سے روایت کیا جاتا ہے وہ نہایت صحیح ہوتا ہے اس لئے آیت کو جو تفسیر عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اوپر بیان کی گئی ہے وہ صحیح ہے علاوہ اس کے مختصر طور پر یہ قصہ صحیح بخاری ونسائی میں بھی عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے آیا ہے جس سے محمد بن اسحاق کی روایت 2: کو پوری تقویت ہوجاتی ہے بعضے مفسروں کو یہ شبہ جو پیدا ہوا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ تو بدر کی لڑائی کے وقت موجود نہیں تھے پھر ان کی روایت اس بات میں آنحضرت ﷺ تک مسلسل کیونکر شمار کی جاسکتی ہے اس شبہ کو حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں یوں رفع کردیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بدر کی لڑائی کے قصوں کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ یا حضرت عمر ؓ سے سن کر روایت کرتے ہیں چناچہ صحیح مسلم کی بعضی روایتوں میں خود حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کی وضاحت کردی ہے کہ اصل میں یہ قصہ میں نے حضرت عمر ؓ سے سنا ہے اس طرح ایک صحابی دوسرے صحابی سے سن کر کوئی روایت کرے تو اس کو صحابی کی مرسل روایت کہتے ایسی روایت کے مقبول ہونے پر سب محدثین اور مفسرین کا اتفاق ہے ابن ماجہ کے حوالہ سے زیدبن ثابت ؓ کی معتبر روایت ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جن لوگوں کو زندگی کا دار و مدار فقط دنیا کی دولت کمانے پر ہے ان کو دنیا کا مالک ومتاع تو اسی قدر ملے گا جو ان کے تقدیر میں ہے لیکن ان کو زندگی دنیا کی سرگردانی میں بسر ہوگی اور جن لوگوں کو قصد عقبے کی بہبودی کا ہوگا وہ دین دنیا دونوں پاویں گے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ جن لوگوں کا آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ انہوں نے ابوسفیان کے قافلہ کے لوٹنے کا لالچ چھوڑ کر عقبے کی بہبودی کے قصد سے دین کی لڑائی میں جو اللہ کے رسول کا ساتھ دیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا اور عقبے میں دونوں جہان میں وہ لوگ اچھے ہے دنیا میں ہر ایک کے حصہ میں پانچ ہزار کا مال آیا اور عقبے میں دین کی لڑائی کا اجر پاویں گے اسی طرح ابھی عقبے کی بہبودی کا قصد جو لوگ رکھیں گے وہ دین و دنیا دونوں پاویں گے۔ ولو کرہ المجرمون کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو اگرچہ اسلام کی ترقی شاق ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ارادہ میں جو اسلام کی ترقی ٹھہر چکی ہے وہ ہو کر رہے گی اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے بدر کی لڑائی کے زمانہ سے اسلام کی جو ترقی شروع ہوئی وہ ظاہر ہے :۔
Ayah 8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا کہ) (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے۔

9۔ صحیح مسلم ترمذی ‘ نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا اصل یہ ہے کہ جب آنحضرت نے مشرکین کی فوج کی ہزار آدمی اور اپنی طرف کے صرف کچھ اگلے تین سو آدمی دیکھے تو آپ کو بڑا اندیشہ ہوا اس لئے جس صبح کو مقابلہ ہونے والا تھا اس رات آپ نے تمام رات اللہ سے مدد اور فتح کی دعا بڑی عاجزی سے دعا مانگی اتنے میں ذرا آپ کو اونگھ آگئی اور پھر آپ مسکراتے ہوئے اٹھے حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا تم کو میں حوشخبری سناتا ہوں کہ اللہ کی مدد آن پہنچی دیکھو ایک طرف جبرئیل پانسو فرشتوں کی فوج سے اور دوسری طرف میکائیل پانسو فرشتوں کو فوج سے لشکر اسلام کے دائیں بائیں موجود ہیں فرشتے اگرچہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی اس لئے اس لڑائی میں فرشتے لڑے بھی ہیں باقی قصہ بدر کا سورة آل عمران میں گذر چکا ہے آنحضرت ﷺ کی دعا کا یہ قصہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ہے۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس بات کی صراحت کردی ہے کہ انہوں نے یہ قصہ حضرت عمر ؓ سے سنا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر یہ جو بیان ہوا تھا کہ بدر کی لڑائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ خود تو موجود تو موجود نہیں تھے لیکن بدر کی لڑائی کے قصوں کی ان کی روایتیں اسرائیل صحابہ کے طور پر ہوا کرتی ہے اب مسلم کی سند میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ صراحت کہ انہوں نے یہ قصہ حضرت عمر ؓ سے سنا ہے اس اوپر کے بیان کی ایک مثال ہے اور اس دعا کے بعد فرشتوں کی مدد آنے کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت جو صحیح بخاری میں ہے حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں اس کا یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ روایت انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو دی تھی جس کا ذکر آیت کی شان نزول کی روایتوں میں گذر چکا ہے۔ صحیح بخاری میں انس بن مالک ؓ سے اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے اور معتبر سند سے مسند امام احمد میں عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دعا کرنے والے ہر شخص کو چاہئے کہ دل لگا کر نہایت اصرار اور عاجزی سے دعا مانگے کیوں کہ اوپر دل سے جو دعا مانگی جاتی ہے وہ بارگاہ آلہی میں قبول نہیں ہوتی آیت کی شان نزول میں جو روایتیں گذریں ان کو اور ان روایتوں کو ملانے سے یہ مطلب سمجھ میں آجاتا ہے کہ بدر کی لڑائی سے پہلے آپ نے لشکر اسلام کی فتح کی دعا بڑی عاجزی اور اصرار سے اس لئے مانگی کہ آپ کی دعا رائیگاں نہ جاوے حاصل کلام یہ ہے کہ شان الہی کی پہچان میں نبی اور صدیق کے مرتبہ کا فرق اسی حالت سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اللہ کے رسول دعا کے وقت اپنی عاجزی اور اپنے اصرار سے نہیں گھبرائے بلکہ الہام آلہی کے موافق عاجزی اور اصرار کو دعا کے قبول ہونے کا سبب سمجھا ہاں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا مرتبہ نبوت سے کم تھا اس لئے وہ حضرت کی عاجزی اور آپ کے اصرار سے گھبرا گئے اس کے سوا یہاں بعضے صوفیہ نے کچھ اور باتیں جو لکھی ہیں ان کی تائید کسی صحیح حدیث سے نہیں ہوتی بدر کی لڑائی میں پہلے ہزار فرشتے آئے اور پھر دو دفعہ میں چار ہزار اور آئے غرض سب پانچ ہزار فرشتے آئے اسی واسطے اس آیت میں پہلی دفعہ کے ہزار فرشتوں کا ذکر ہے اور سورة آل عمران میں بیچ کے دفعہ کے تین ہزار اور آخری دفعہ کے پانچ ہزار کا ذکر ہے دونوں آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔ یہ دونوں آیتوں کی مطابقت ربیع بن انس کے قول کے موافق بیان کی گئی ہے۔ یہ ربیع بن انس حسن بصری اور قتادہ کی طرح تابعیوں میں کے قدیم مفسر ہیں صحاح ستہ میں ان کی روایتیں ہیں آیت مردفین ہزار فرشتوں کے ذکر کے بعد جو فرمایا اس ربیع بن انس کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ مردفین کا بھی وہی مطلب ہے کہ ہزار فرشتوں کے بعد اور فرشتے آئے :۔ 1 ؎ الترغیب والترہیب ج 1 ص 301۔ الترہیب عن رفع المصلی راسہ الی اسلماء الخ
Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل اس سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے بیشک خدا غالب حکمت والا ہے۔

10۔ بدر کی لڑائی میں مسلمان بہت تھوڑے تھے اور کافر بہت تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اس طرح کی مدد کی اور کئی طرح کے اسباب دل جمعی کے ان کے لئے مہیا کئے آسمان سے اول ایک ہزار پھر تین ہزار پھر پانچ ہزار تک فرشتے ان کی مدد کو بھیجے کافروں نے پہلے سے بدر پر پہنچ کر وہاں کے پانی پر قبضہ کرلیا تھا اور شیطان نے مسلمانوں کی پیاس اور نہانے اور وضو سے تنگ پا کر ان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا تھا کہ اگر یہ دین حق ہوتا اور تم سچے ہوتے تو کیا تم کو ایسی مصیبت میں ڈالتا کہ پانی تک کو ترس رہے ہو شیطان کا یہ وسوسہ دفع کرنے کے لئے فورا اللہ تعالیٰ نے مینہ برسایا اور جگہ جگہ گڑھوں میں مسلمانوں کی ضرورت کے موافق پانی جمع ہوگیا ایک طرح کی تھکان رات بھر کے جاگنے سے جو مسلمانوں پر چھا گئی تھی دشمن کے مقابلہ سے پہلے ان کو ایک طرح کی اونگھ میں کر کے اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ تھکان رفع کردی ان کے دشمنوں کے دل میں رعب اور ان کے دل میں دلیری پیدا کردی مقابلہ کے وقت ان کی نظروں میں دشمنوں کی تعداد کم کردی ان سب اسباب کے بعد اس آیت میں فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارا دل خوش کرنے اور تمہاری راحت کے لئے کردیا ہے ان اسباب پر فتح منحصر نہیں فتح اللہ تعالیٰ کی مرضی پر ہے جب وہ چاہتا ہے فتح جب ہی ہوتی ہے حاصل یہ ہے کہ اس عالم اسباب میں سبب تو ہر ایک چیز کا اللہ نے لگایا ہے مگر اسی سبب میں وہ تاثیر پیدا نہ کرے تو کچھ نہیں ہوتا یہی روزمرہ کی تاثیر کی دوائیں جب آدمی کا آخری وقت آجاتا ہے اور اللہ کی مرضی ان دواؤں کی اثر کی نہیں ہوتی تو ساری دوائیں بالکل بےاثر ہوجاتی ہیں غرض آدمی کو چاہئے کہ اسباب ظاہری پر تکیہ کر کے اللہ کا بھروس ہو کتاب کے جنت میں جانے کا ذکر ہے اور یہ بھی ہے کہ جن کا یہ ذکر ہے وہ ہر باب میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والے ہونگے۔ آیت میں اللہ پر بھروسہ کرنے کا جو ذکر ہے اس بھروسہ کے اجر کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ بعضے صوفیہ نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ظاہری اسباب کو بالکل چھوڑ دیا جاوے جیسے مثلا شیر سامنے آجاوے تو اللہ پر بھروسہ کر کے اپنی طرف سے اس شیر سے بچنے کی کچھ کوشش نہ کی جاوے لیکن جمہور علماء نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ آدمی دل سے ہر باب میں اللہ پر بھروسہ کرے اور ہاتھ پاؤں سے ظاہری اسباب کو کام میں لاوے جس کا مطلب یہ ہے کہ ظاہر اسباب کو کام میں لاکر آدمی دل میں یہ اعتقاد رکھے کہ ان ظاہری اسباب میں اللہ تعالیٰ کچھ تاثیر پیدا کرے گا تو ہوگی ورنہ مستقل طور پر ان ظاہری اسباب کو نہ تقدیر الہی میں کچھ دخل ہے نہ اصلی طور پر ان پر بھروسہ کرنے کے حکم سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنیکا وہی مطلب صحیح قرار پاتا ہے جو جمہور علماء نے بیان کیا ہے۔ اس سورة کی آیتوں کے سوا اور بھی بہت سی آیتیں اور صحیح حدیثیں ایسی ہیں جن سے جمہور علماء کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔ ان اللہ عزیز حکیم کا یہ مطلب ہے کہ ظاہری اسباب میں تاثیر کا پیدا کرنا اور نہ کرنا یہ سب اس کی قدرت اور حکمت کے کار خانے ہیں بدر کی لڑائی میں قدرت اور حکمت کے ایک کار خانہ کا ظہور تھا اور احد کی لڑائی میں باوجود زیادہ ہونے اسباب ظاہری کے قدرت اور حکمت کے دوسرے کار خانہ کا ظہور ہوا :۔
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لئے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کر دے۔ اور اس لئے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے۔

11۔ اوپر کی آیت میں یہ بات گذر چکی ہے کہ بدر کی لڑائی میں مسلمان بہت ہی کم کچھ اوپر تین سو تھے اور دشمن ایک ہزار کے قریب تھے یہ کثرت دشمنوں کی دیکھ کر مسلمانوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ دیکھئے کیوں کر ان پر فتح نصیب ہوتی ہے اس پر یہ ہوا کہ رات کو مسلمانوں کو نہانے کی حاجت ہوگئی اور پانی پر کفار کا قبضہ ہوگیا تھا ریت کی زمین تھی خشکی کے سبب سے نہ انسان کے پاؤں جمتے تھے نہ جانور چل سکتے تھے صبح نماز وغیرہ فرائض ضروری ادا کرنے سے مجبور ہوئے جس کا ان کے دل پر بہت بڑا اثر ہوا اور سمجھے کہ یہ شکست کے آثار ہیں اللہ پاک نے حضرت ﷺ کی دعا سے ایک ہزار فرشتے ان کی مدد کو بھیج دئے جیسا کہ اوپر کی آیت میں گذر چکا اس آیت میں یہ بیان ہے کہ اللہ پاک نے مسلمانوں پر اونگھ کا غلبہ کردیا جس اونگھ سے یہ لوگ بہت جلد چونک پڑے اور دل میں جو کچھ خوف تھا وہ سب جاتا رہا تھکان بھی سب رفع ہوگئی اور ایک اطمینان حاصل ہوگیا حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جنگ میں اونگھنا خداوند جل شانہ کی طرف سے امن ہے اور نماز میں اونگھنا شیطان کا وسوسہ ہے پھر اللہ پاک نے مینہ برسایا زمین سخت ہوگئی گردو غبار بیٹھ گیا لوگوں کی پیاس کبھی اپنے اپنے برتن پانی سے بھر لئے حوائج ضروری سے فارغ ہوئے وضو کیا غسل کیا پاک و طاہر ہوگئے اسی کو فرمایا کہ تمہارے رب نے تم سے شیطانی وسوسہ دور کردیا کیونکہ حاجت غسل کو بھی علماء شیطانی وسوسہ خیال کرتے ہیں بہر حال اللہ پاک نے جس طرح اونگھ بھیج کر ان کے دلوں کو وسوسوں سے پاک وصاف کیا اسی طرح مینہ برساکر ان کے جسموں کو بھی پاک کردیا پھر روحانی اور جسمانی شجاعت کی طرف ان کا خیال پھیرا کہ تم دل میں یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ کل امور شکست کے آثار ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ نے دفع کردیا اب تمہارے دل مطمئن ہوئے اور خاطر جمع ہوئی اور اب تمہارے قدم ریت کی زمین پر جمیں گے اور تمہارے جانور آسانی سے چلیں پھریں گے سورة آل عمران میں گذر چکا ہے کہ لشکر اسلام کو اونگھ احد کی لڑائی میں بھی عین لڑائی کے وقت آئی تھی لیکن وہ اونگھ لڑائی کے بگڑ جانے کا رنج وغم رفع کرنے کے لئے تھی اور بدر کی لڑائی میں لڑائی سے پہلے کی اونگھ میں اللہ تعالیٰ نے یہ اثر پیدا کردیا تھا کہ دشمنوں کی تعداد کے زیادہ ہونے سے مسلمانوں کے دل میں شکست کھانے کا جو اندیشہ تھا وہ اس اونگھ کے بعد جاتا رہا۔ صحیح بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ خیبر کی لڑائی میں مسلمانوں میں کے لشکر کا ایک شخص بڑی کوشش اور تندہی سے دشمنوں پر حملہ کر رہا تھا اس شخص کی یہ حالت دیکھ کر حضرت ﷺ نے الہام الہی کے موافق یہ فرمایا کہ اس شخص کا انجام دوزخ ہے۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ظاہری اسباب سے اس شخص کا دوزخی ہونا بعضے صحابہ کی سمجھ میں نہیں آتا تھا لیکن آخر کو وہ شخص ایسا زخمی ہوا کہ زخموں کی تکلیف برداشت نہ کرسکا اور خود کشی کر کے مرگیا اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ انسان کی سمجھ کے موافق بعضے کاموں کے ظاہری اسباب کچھ اور طرح کے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو اپنے علم غیب کے موافق جس طرح ان کاموں کا کرنا منظور ہوتا ہے وہ غیب سے کوئی سبب ایسا پیدا کردیتا ہے کہ ظاہری اسباب کے برخلاف وہ کام انجام کو پہنچ جاتے ہیں مثلا جس طرح اس نے بدر کی لڑائی میں اونگھ اور مینہ کو مسلمانوں کو فتح کا اور خیبر کی لڑائی میں خود کشی کو اس شخص کے دوزخی ہونے کا غیبی سبب ٹھہرایا :۔
Ayahs 8:12–14

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور اس کا پور پور مار (کر توڑ) دو ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ (سزا) اس لئے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی مخالفت کرتا ہے۔ تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے۔

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لئے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار ہے)

12۔ 14۔ اللہ پاک نے فرشتے جو لشکر اسلام کی مدد کو بدر کی لڑائی میں بھیجے تھے ان کا حال یہ بیان فرمایا کہ مسلمان اس کا شکریہ ادا کریں اور یہ بھی فرمایا فرشتوں کو یہ حکم تھا کہ اے فرشتوں تم مومنوں کے دل کو جاکر مضبوط اور قوی کرو ہم کفار کے دلوں میں خوف ورعب ڈال دیں گے فرشتے آئے تو انہوں نے مسلمانوں کے دل کو مضبوط کیا اور لڑائی میں مسلمانوں کا ہاتھ بھی بٹایا فرشتے انسان کی صورت میں ایک ایک صحابی کے پاس آکر کہتے تھے کہ ہم نے مشرکوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مسلمان ہم پر حملہ کریں گے تو ہم بھاگ جائیں گے پھر اس بات کا چرچا مسلمانوں میں ہونے لگتا تھا اور ان کے دلوں کو قوت اور طاقت ہوتی تھی اور بعض مفسروں نے فثبتوا کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ جس طرح شیطان کو انسان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنے کی قدرت ہے اسی طرح فرشتوں کو بنی آدم کے دل میں نیک بات کے ڈالنے کی طاقت ہے اس کو تثبیت کہتے ہیں پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ کافروں کے سر پر مارو اور ہاتھ پر مونڈھے وغیرہ ہر ایک جوڑ پر ضرب لگاؤ یہ اس لئے فرمایا کہ سر پر چوٹ آنے سے جس طرح انسان بےقابو ہوجاتا ہے اسی طرح جوڑوں پر ضرب پہچنے سے بےبس ہوجاتا ہے پھر اس میں اٹھنے بیٹھنے کی بھی طاقت نہیں رہتی ربیع بن انس ؓ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی میں مسلمان لوگ فرشتوں کے پڑجاتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ابوجہل نے بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کو کمزور دیکھ کر کہا کہ ان لوگوں کو قتل نہ کرو زندہ گرفتار کر لوتا کہ ان کو معلوم ہوجاوے کہ ان لوگوں نے ہمارے دین پر طعن کی تھی اور لات اور عزے سے منحرف ہوئے تھے اس پر یہ آیت اتری اور چند مشرکوں کے قتل کے بعد ابوجہل قتل ہوا غرض بدر کی لڑائی میں کل ستر آدمی مارے گئے اور ستر آدمی قید ہوئے یہ بھی فرمایا کہ یہ خدا اور رسول کی مخالفت کی سزا ہے ان مشرکوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی تھی یہ نہیں جانتے تھے کہ خدا بڑا سخت عذاب کرنے والا ہے پھر کافروں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ اب تو دنیا میں یہ عذاب چکھ لو قتل و گرفتار ہو اور آخرت میں کفار کے واسطے الگ جہنم میں عذاب ہوگا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے جابر ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا لشکر اسلام ایک میل کے راستہ پر بھی ہو تو دشمنوں کے دل پر لشکر اسلام کار عب چھا جاتا ہے صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک مسلمان شخص بدر کی لڑائی میں ایک مشرک پر اسلام کے دل میں رعب پیدا ہوجانے کا اور لشکر اسلام کی مدد کے طور پر فرشتوں کا منکرین اسلام سے لڑنے کا ذکر جو ان آیتوں میں ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں :۔
Ayahs 8:15–16

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا۔

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لئے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اسکا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔

15۔ 16۔ اس آیت میں اللہ پاک لڑائی سے بھاگنے والوں کو فرماتا ہے کہ دشمنوں سے بھاگو نہیں اور جو بھاگے گا وہ خدا کا غضب لے کر گھر کی طرف پھریگا اور اس کا ٹھکانا جہنم میں بہت ہی بری جگہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ دین کی لڑائی سے بھاگنا گناہ کبیرہ ہے مگر اس صورت میں کہ اگر کوئی اس لئے لڑائی سے پیٹھ پھیرے کہ دشمن کو دھوکہ دے کر ایک طرف سے بھاگ کر اور پھر دوسری طرف سے دشمن کو قتل کریگا یا اپنے سردار کے پاس لوگ بھاگ کر جائیں تو ان دو صورتوں میں اللہ پاک نے بھاگنے کی اجازت دی ہے اسی کو فرمایا الامتحرفا لقتال اومتحیزا الی فئۃ کہ اس ارادہ سے کوئی لڑائی سے بھاگ نکلا کہ پھر آئے گا یا اپنی دوسری فوج میں شامل ہو کر دشمن کو دھوکا دینا لڑائی میں یہ بھی ایک ہنر جنگ کے فنون میں سے ہے چناچہ صحیح بخاری مسلم اور ابوداؤد کی عبد بن مالک ؓ کی روایت میں اس کا ذکر ہے مسند امام احمد ‘ ترمذی وابن ماجہ میں ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے ان کو ایک لشکر کے ہمراہ کسی جنگ میں بھیجا لڑائی میں سے لوگ بھاگ نکلے یہ بھی ان کے ساتھ ہٹ آئے ابن عمر ﷺ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ہم لڑائی سے پھر آئے اور خدا کا غضب لے کر گھر کو پھرے گھر جانے سے پہلے حضرت کے پاس چلنا چاہئے اگر توبہ قبول ہوئی تو بہتر ہے ورنہ پھر چل دیں غرض کہ نماز صبح سے پہلے حضرت ﷺ کے پاس پہنچے حضرت ﷺ نے اپنے حجرہ سے نکل کر فرمایا تم کون لوگ ہو ابن عمر ؓ کہتے ہیں ہم نے کہا کہ ہم لوگ لڑائی سے بھاگ کر آئے ہیں بھگوڑے ہیں آپ نے فرمایا کہ نہیں میں تمہارا اور سارے مسلمانوں کا گروہ ہوں تم لوگ میرے ساتھ دوبارہ حملہ کرنے والوں میں ہو ابن عمر ؓ نے حضرت ﷺ کا ہاتھ چوم لیا ابن ابی حاتم نے اس روایت کو بیان کر کے یہ کہا کہ پھر حضرت ﷺ نے یہ آیت پڑھی اومتحیز الی فئۃ بہرحال ان دونوں صورتوں کے علاوہ لڑائی سے بھاگنا مطلق حرام ہے صحیح بخاری ومسلم ابوداؤد ونسائی میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سات چیزیں مسلمان شخص کو ہلاک کرنے والی ہیں ان سے بچو لوگوں نے پوچھا یا حضرت وہ کیا ہیں آپ نے فرمایا خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانا۔ جادو کرنا۔ ایسے شخص کو قتل کرنا جس کے قتل کو اللہ پاک نے حرام کیا ہے۔ سود کھانا۔ یتیم کا مال کھانا اور لڑائی کے دن بھاگنا اور مومنہ پاک دامن عورت پر بکاری کی تہمت کا لگانا۔ بعضے مفسرین کا مذہب یہ ہے کہ لڑائی سے بھاگنا صحابہ پر حرام تھا کیونکہ جہاد ان پر فرض تھا یا خالص انصار پر حرام تھا کیونکہ ان لوگوں نے اللہ کے رسول کے ہاتھ پر بیعت کی تھی کہ ہر حال میں آپکا ساتھ دیں گے اور بعضے کہتے ہیں کہ آیت خالص اہل بدر کے واسطے اتری ہے۔ اس آیت سے مراد وہی لوگ ہیں جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے کیونکہ اب ان کا کوئی ایسا گروہ شوکت دار نہ تھا جس کے پاس یہ لوگ بھاگ کر جاتے اسی لئے آنحضرت ﷺ نے جب خدا سے کمک کے لئے دعا کی تھی تو یہ کہا تھا کہ اے اللہ اگر یہ لوگ ہلاک ہوجاویں گے تو کوئی تیری عبادت کا کرنے والا دنیا میں نہیں رہے گا مگر جمہور مفسرین کا یہ قول ہے کہ آیت عام ہے اس کا حکم بھی عام ہے صحابہ یا انصار یا اہل بدر کے واسطے یہ حکم مخصوص نہیں ہے اگرچہ یہ آیت بدر کے موقعہ پر اتری ہے مگر اقامت تک جتنے جہاد ہوں گے سب کے واسطے یہ حکم باقی ہے اور ہر جنگ کرنے والے مسلمان پر دین کی لڑائی سے بھاگنا حرام ہے ابوہریرہ ؓ کی حدیث جو اوپر گذری اس سے آخری قول کی تائید ہوتی ہے ابن ؓ عمر کی روایت جو اوپر گذری اس کی سند میں ایک راوی یزیدبن ابی زیادہ ہے جس کو اکثر علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ترمذی نے اس کی روایت کو معتبر قرار دیا ہے اور صحیح مسلم میں ایسے موقعہ پر اس کی روایت لی گئی ہے جہاں اور روایتوں سے اس کی روایت کو تقویت پہنچ سکتی ہے امام بخاری نے بھی باب مفرد میں اس حدیث کو روایت کیا ہے ان سب باتوں کے سبب سے اس حدیث کو معتبر کہا جاسکتا ہے۔ ابن عمر ؓ کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ وہ اپنے سردار حضرت کے پاس مدینہ میں لڑائی کے موقعہ کو چھوڑ کر آگئے تھے اس لئے حضرت ﷺ نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ان لوگو میں شمار کیا جن کا لڑائی سے بھاگنا مستثنیٰ کے طور پر آیت میں جائز رکھا گیا ہے غرض یہ قصہ آیت کے استثناء کی ایک صورت کی تفسیر ہے جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ سردار اگرچہ لڑائی کے میں آگے آویگا کہ ابتدائے اسلام میں ایک مسلمان کو دس مخالف اسلام شخصوں سے لڑنے کا حکم تھا پھر ایک کو دوسرے لڑانے کا حکم آگیا اس حکم کے موافق ایک مسلمان مثلا تین مخالفوں کے مقابلہ سے پہلو تہی کرے تو وہ بھی گناہ میں داخل نہیں ہے اس تفسیر میں ایک جگہ گذر چکا ہے کہ جہاد کے حکم سے درگذر کی مکی آیتیں منسوخ نہیں ہیں اس لئے ضعف اسلام کے زمانے میں بےسرو سامانی کے سبب سے بہ سبب بےسرو سامانی کے دین کی لڑائی سے درگذر بھی گناہ میں داخل نہیں ہے زحف کے معنے لشکر کے ہیں :۔
Ayah 8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمد ﷺ جس وقت تم نے (کنکریاں) پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزما لے۔ بیشک خدا سنتا جانتا ہے۔

17۔ جنگ بدر اور جنگ حنین میں آنحضرت نے ایک مٹھی خاک کی لے کر دشمنوں کے لشکر کی طرف پھینک دی اور فرمایا کہ شاھت وجوہ جس کا مطلب یہ ہے کہ دشمنوں کے منہ پھرگئے اور چہرے بگڑ گئے اللہ کے حکم سے کوئی کافروں کے لشکر بھر میں ایسا باقی نہ رہا جس کے منہ اور آنکھوں میں خاک نہ بھر گئی ہو بدر کی لڑائی کے وقت یہ خاک کی مٹھی پھینکنے کا قصہ طبرانی تفسیر ابن جریر تفسیر ابوالشیخ ابن حبان او تفسیر ابن ابی حاتم میں حکیم بن حزام ؓ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور جابر ؓ کی روایتوں سے آیات اور حنین کی لڑائی کے وقت کا یہ قصہ صحیح مسلم میں سلمۃ بن الاکوع ؓ اور مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایتوں سے آیا ہے بدر کے وقت کا قصہ تین صحابیوں کے حوالہ سے چند طریق سے آیا ہے اس لئے یہ قصہ بھی صحیح ہے خصوصا ابن ابی حاتم کی روایت سے اور روایتوں کو زیادہ تقویت ہوجاتی ہے کیونکہ اس تفسیر کے مقدمہ میں یہ بیان کردیا گیا ہے کہ ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں روایتوں کی صحت کا زیادہ خیال رکھا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے مجاہد کے قول کے موافق آیت کی شان نزول اور آیت کے مطلب کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی فتح کے بعد کچھ مسلمان آپس میں فخر کی باتیں کیا کرتے تھے ایک اپنی بہادری کو فتح کا سبب قرار دیتا تھا اور دوسرا اپنی کو تو اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا مسلمانوں کا دشمنوں پر غالب ہونا اللہ کے رسول کی ایک مٹھی خاک سے اور دشمنوں کا پست ہمت ہوجانا یہ سب کچھ اللہ کی مدد سے ہوا اس لئے بجائے ان فخر کی باتوں کے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کی مدد اور اس کے احسان کی شکر گذازی کا تذکرہ آپس میں کیا کریں کہ اس شکر گذاری کے بدلے میں اس کے احسانات کی اور زیادتی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی شکر گذاری کی بات کو خوب سنتا اور شکر گزاری کی نیت کو خوب جانتا ہے معتبر سند سے مسند امام احمد میں نعمان ؓ بن بشیر کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے احسانات کا جتلانا شکر گذار اور اس کے احسانات کو بھول جانا بڑی ناشکری ہے مستدرک حاکم میں عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایسے شخص پر قیامت کے دن اللہ کا غصہ ہوگا جو اپنے فخر اور اپنی بڑائی کا دل میں خیال رکھے گا عبداللہ ؓ بن عمر کی حدیث کو حاکم نے صحیح کہا ہے آیت میں آپس کی فخر کی باتوں کی ممانعت اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کے شکر گذاری کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں۔
Ayah 8:18

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

بات یہ (ہے) کہ کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔

18۔ اس سے اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا کہ مشرکین جو لڑائی میں قتل و غارت ہوئے اور جو خاک کی مٹھی پھینکی گئی جو کفار کی آنکھ ناک منہ میں جا کر پڑی اور وہ بھاگ نکلے جنگ کے میدان سے ان کے پاؤں اکھڑ گئے اس کو مومن یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے ان کو قتل کیا اور ہم نے مٹھی کنکریوں کی پھینکی تھی جو کار آمد ہوئی بلکہ یہ سب اللہ کی قدرت تھی اللہ کا حکم تھا ورنہ کیا مجال تھی کہ کوئی کسی کو قتل کرسکتا یا بھگا دیتا یہ سب نعمتیں اللہ کی تھیں جو ایمان والوں پر کی گئیں اس کے بعد اس آیت میں یہ بشارت دی کہ یہ سب تدبیر میں جو تمہارے مفید مطلب اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوئیں وہ اس واسطے ہوئیں کہ اللہ پاک کفار کے مکر و حیلہ کو سست کردیتا ہے اور ان کی کوئی تدبیر پیش نہیں چلنے دیتا مثلا ان مشرکوں نے اسی لڑائی میں پانی پر قبضہ کر کے لشکر اسلام کے پیا سے رہنے کی تدبیر کی اللہ تعالیٰ نے مینہ برسا کر ان کی وہ تدبیر بگاڑ دی یا مثلا جیسے آگے آوے گا کہ ان مشرکوں نے ہجرت سے پہلے مکہ میں اللہ کے رسول پر سوتے میں تلواروں سے حملہ کرنے کی تدبیر کی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے اس فریب کا حال اپنے رسول کو جتلا دیا جس سے ان مشرکوں کی تدبیر اللہ تعالیٰ نے بگاڑ دی یہ تو ایسے لوگوں کی دنیوی بدنصیبی کا حال ہوا عقبے میں بھی ایسے لوگ دوزخ کے عذاب سے بچنے کی یہ تدبیر نکالیں گے کہ دنیا کی اپنی بد اعمالی کا انکار کر کے اپنے آپ کو فریبی ایمان دار بنانا چاہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ہاتھ پیروں سے اصلی حال کی گواہی دلوا کر وہاں بھی ان کی وہ تدبیر چلنے نہ دیگا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں اس ہاتھ پیروں کو گواہی کا ذکر ہے اس آیت کو ابوہریرہ ؓ کی حدیث کے ساتھ ملانے سے آیت کی یہ تفسیر قرار پاتی ہے کہ ایسے لوگوں کی تدبیریں فقط دنیا میں ہی رائگاں نہیں ہیں بلکہ شرک کے وبال سے یہی بدنصیبی عقبے میں بھی ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے :۔
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(کافرو) اگر تم (محمد ﷺ پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر (تمہیں عذاب) کریں گے۔ اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے۔

19۔ اللہ تعالیٰ کفار کی طرف خطاب کر کے فرماتا ہے کہ تم جو ہر وقت اللہ سے مدد چاہتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم لوگ اپنے مخالف مومنین پر کب فتح یاب ہونگے تو دیکھ لو تمہارا سوال پورا ہوگیا فتح بھی ہوگئی اور تمہارے مومنوں کے درمیان فیصلہ بھی ہوگیا امام احمدو نسائی نے عبداللہ بن ثعلبہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ابوجہل نے بدر کے دن یہ کہا تھا کہ یا اللہ ہم کو وہ باتیں دکھا جو ہماری سمجھ سے باہر ہوں یہ اس نے بطور طلب مدد کے کہا تھا اسی روز صبح کو وہ ذلیل ہوا اور یہ آیت اتری اسی کے موافق ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حاکم نے عبداللہ بن ثعلبہ ؓ کی اس حدیث کو صحیح کہا ہے سدی کا قول یہ ہے کہ مشرکین مکہ سے بدر کی طرف جب چلے تھے تو کعبہ کا پردہ پکڑ کر اللہ سے یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ لشکر اور بزرگ گروہ اور اچھے قبیلہ کو فتح نصیب کو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تم فتح چاہتے ہو جو تم کہتے ہو ویسا ہی ہوگا کہ اللہ کہے رسول فتح یاب ہوں گے اور تمہیں شکست ہوگی اب آگے اللہ پاک نے مشرکوں سے فرمایا کہ اگر اب بھی تم اپنے کفر اور گمراہی سے باز رہو گے تو تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور اگر تم پھر اسی کفر کی حالت پر رہے تو ہم بھی پھر ایسا ہی تمہیں ذلیل و خوار کریں گے سدی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اگر پھر تم فتح چاہو گے تو ہم آنحضرت ﷺ کو فتح یاب کریں گے پھر فرمایا کہ اگر بڑے سے بڑا لشکر بھی لے کر آئے گے تو بھی کچھ مفید نہ ہوگا اور کچھ کام نہ چلے گا کیونکہ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے ہمیشہ انہیں کو فتح دے گا اور اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک ٹھہرانے والے ہمیشہ ذلیل رہیں گے :۔
Ayah 8:20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے رو گردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو۔

20۔ اوپر یہ فرما کر کہ اللہ ایمانداروں کے ساتھ ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی فرمابرداری اور اطاعت کا حکم ایمانداروں کو فرمایا ہے اور اس میں کوتاہی کرنی اور پھرجانے سے منع فرمایا ہے ہم کو اللہ کا کلام بلاواسطہ رسول کے نہیں آتا اس واسطے رسول کی فرمانبرداری کا خاص طور پر آیت میں ذکر کیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ رسول کی فرمابرداری میں کسی طرح کی کوتاہی عین اللہ کی فرما نبرداری کی کوتاہی ہے اب اللہ کے حکم کی فرمابراری کا نہ کرنا ایک تو اس شیوہ پر ہے جو کافروں کا شیوہ تھا کہ ظاہر باطن میں کسی طرح وہ اللہ کے احکام کو نہیں مانتے تھے اور ایک شیوہ منافقوں کا تھا کہ ظاہر میں تو اپنی جان اپنا مال پچانے کے لئے وہ اپنے آپ کو نبی وقت کے روبرو اور مسلمانوں کے روبرو مسلمان کہتے تھے مگر باطن میں مسلمان نہ تھے ان دونوں فرقوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت میں فرما کر مسلمانوں کو منع کیا ہے کہ تم ویسے نہ ہو کافروں اور منافقوں کی سی نافرمانی تو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی برکت اور کوشش نے اس امت میں سے اکثر اٹھادی ہے مگر اور طرح کے بہکاوے کے جال شیطان نے پھیلا کر نافرمانی کے پھندے میں لوگوں کو پھنسا رکھا ہے کہ وہ اس بہکاوے کو چھوڑ کر اللہ اور رسول کے احکام کی فرمانبرداری پوری نہیں کرسکتے مثلا بعضے لوگ طرح طرح کی بدعتوں میں گرفتار ہیں اور شریعت میں بدعت کی جو مذمت آئی ہے اس کو کان لگا کر نہیں سنتے ایسے ہی بعضے لوگ ریاکاری میں مبتلا ہو کر اپنے سب نیک عملوں کو برباد کر رہے ہیں معتبر سند سے مسند امام احمد ابوداؤد ‘ ترمذی ‘ اور ابن ماجہ میں عرباض بن ساریہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے بعد کے لوگ بہت سی اختلاف کی باتیں پاویں گے ایسے وقت میں ہر ایمان دار شخص کو چاہئے کہ میرے اور صحابہ کے طریقہ کو دریافت کر کے اس کے موافق عمل کرلے اور شریعت میں کسی جدید بات کے نکالنے سے پرہیز کرے کیونکہ شریعت میں جو جدید بات نکالی جاوے اس کو بدعت کہتے ہیں اور شریعت میں کسی جدید بات کے نکالنے سے پرہیز کرے کیونکہ شریعت میں جو جدید بات نکالی جاوے اس کو بدعت کہتے ہیں اور بدعت پر چلنا گمراہی کا سبب ہے ابوداؤد اور نسائی کے حوالہ سے ابوامامہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بغیر خالص نیت ثواب عقبے کے دنیا کے دکھاوے کا کوئی عمل بارگاہ الہی میں مقبوں نہیں ہوتا ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت میں اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم ہے اور حدیثوں سے یہ تفصیل معلوم ہوتی ہے کہ اختلاف کے وقت یا بدعت وریا کاری میں پھنسنے کے وقت ایمان دار شخص اس اطاعت کو کیونکر پورا کرسکتا ہے :۔