8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 8:61–63

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بیشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

61۔ 63۔ اللہ پاک اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ اگر کفار صلح کا پیغام دیں اور لڑائی سے بچیں تو صلح کرلو اسی واسطے حدیبیہ کی صلح کے وقت جب مشرکین مکہ نے صلح چاہی اور دس برس تک جنگ کے موقوفی کی درخواست کی تو اللہ کے رسول نے اس صلح کے پیغام کر مان لیا اور جو جو شرطیں انہوں نے پیش کیں انہیں قبول کرلیا مسند امام احمد میں حضرت علی ابن ابوطالب ؓ کی ایک حدیث ہے کہ جب اختلاف ہوتا دکھلائی دے تو اگر تجھ سے صلح ہو سکے تو کرلے صحیح بخاری و مسلم میں صلح حدیبیہ کی جو روایتیں ہیں ان سے حضرت علی ؓ کی روایت کی پوری تقویت ہوتی ہے کیونکہ یہ صلح آپ کا اختلاف رفع کرنے کے لئے ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت قَاتِلُوا ّالَّذِیْنَ لَاُیؤْمِنُون بِاللّٰہ (9: 29) سے منسوخ ہے اور مجاہد بھی کہتے ہیں کہ یہ آیت فَافْتَلْوا الْمُشرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْ تُمُوْھُمْ (9: 5) سے منسوخ ہے مگر جمہور علما کا قول یہ ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ دونوں آیتیں درگذر اور لڑائی کی آیتوں کی طرح اپنی اپنی جگہ ہیں چناچہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے اصحاب نبی ﷺ نے صلح جائز رکھی ہے اور حضرت ﷺ نے حدیبیہ میں ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ اوپر گذرا پھر اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اس صلح میں خدا ہی پر بھروسہ رکھو اگر اس صلح سے ان کا کوئی اور مطلب ہے تو خدا ان کے قول کو سنتا ہے اور ان کی نیتوں کو جانتا ہے اس لئے اگر ان کا ارادہ اس صلح سے یہ ہے بدر کی لڑائی کے وقت اپنی مدد بھیج کر فتح یاب کیا ہے اور ہمیشہ ہر کام میں مدد کرتا رہا ہے پھر اس کے بعد اللہ جل شانہ نے اپنی اس تائید کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے بندوں کے ذریعہ سے پہنچائی چناچہ فرمایا کہ خود اللہ تعالیٰ جو کچھ مدد پہنچاتا رہتا ہے وہ تو پہنچتی ہی ہے مگر انصار جو ایمان لاکر تمہارے ساتھ ہوگئے ہیں اور ہر گاہ میں تمہارے قوت بازو بن گئے اور تمہاری اطاعت میں ہمیشہ تنہا پشت کی مخالفت کچھ ایسی نہ تھی جو آسمانی سے رفع ہوجاتی اگر دنیا بھر کی دولت ان کی تالیف کے واسطے خرچ کی جاتی اور بڑی سے بڑی قوت صرف کی جاتی تب بھی ان کا قدیمی بغض رفع دفع نہ ہوتا حضرت عبداللہ بن ؓ عباس فرماتے ہیں کہ یہ لوگ انصار اس کے قبیلہ اوس اور قبیلہ خزرج ہیں ان کے آپس کی دشمنی ایام جاہلیت میں اس حدتک پہنچ گئی تھی کہ ایک دوسرے کے خون کا پیاسا تھا اور بڑی بڑی لڑایاں ان دونوں قبیلوں میں ہوچکی تھیں ایک سو بیس برس سے یہ بغض چلا آتا تھا مگر اللہ نے ان کے دلوں کو نور ایمان سے منور فرما کر سارے گروہ کو ایک اسلام کے راستہ پر لگا دیا اور ایک کو دوسرے کی وہ محبت دی کہ بھائی بھائی بن گئے اور سب کے سب آنحضرت ﷺ کے لئے جان اور مال فدا کرنے پر آمادہ ہوگئے یہ قدرت خدا ہی کی تھی اس کا ظہور آنحضرت ﷺ کا ایک معجزہ شمار کیا جاتا ہے اوس اور خزرج کا یہ حال سورة آل عمران میں گذر چکا ہے علاوہ ان دو قبیلوں کے عرب کے اور قبیلوں میں بھی باہم کوئی ہمدردی نہ تھی ایک کا مال دوسرا چھین کر کھا لیتا تھا اور مال مال کا خون کردینا کچھ بڑی بات نہ سمجھتا تھا مگر اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو بھیج کر ان لوگوں کی سخت دلی کو نرم دلی سے بدل ڈالا اور ان میں وہ محبت کا مادہ پیدا کردیا کہ جس کے بیان کرنے کے لئے ایک دفتر درکار ہے اور پھر انہوں نے ایک دل ہو کر جو جو کار نمایاں کی وہ صفحہ ہستی پر یادگار ہیں جو قیامت تک باقی رہیں گے ان کی مثالیں شاید ڈھونڈہنے سے بھی کسی اور قوم میں نہ ملیں گی یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ کہ ہر ایک شخص کے دل پر اللہ کا پورا پورا قبضہ و اختیار ہے ہر ایک کا دل اس کے ہاتھ میں ہے وہ جدھر پھیرنا چاہے گھڑی بھر میں پھیردے معتبر سند سے نسائی میں ابن مسعود ؓ کی ایک حدیث ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کی شان میں اتری ہے جو آپس میں خدا کے واسطے محبت رکھتے ہیں اور کوئی غرض دنیا کی اس محبت سے نہیں رکھتے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے طبرانی میں سلمان ؓ فارسی سے ایک روایت ہے کہ جب ایک مسلمان کسی دوسرے اپنے مسلمان بھائی سے ملتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے تو اس کے گناہ مثل پتوں کے جھڑتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح درخت کے خشک پتے آندھی سے جھڑتے ہیں اسی طرح ان دونوں کے گناہ جن کے دلوں میں محض خدا کے واسطے محبت ہے ایک دوسرے سے ملتا ہے اور ایک کا ایک ہاتھ پکڑتا اور مصافحہ کرتا ہے تو ان کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے درخت سے پتے معتبر سند سے اسی مضمون کی حدیث اوسط طبرانی میں حذیفہ ؓ بن الیمان کی روایت سے بھی ہے جس سے سلمان فارسی ؓ کی روایت کو تقویت ہوجاتی ہے عبادہ بن ابی لبابہ نے کہا کہ پھر تو گناہوں کے معاف ہوجانے کے لئے یہ بہت آسان ہے اس کا مجاہد نے یہ جواب دیا کہ ایسا نہ کہو خدا نے آنحضرت کو فرمایا ہے لوانفقت مافی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبھم عبادہ کہتے ہیں کہ میں نے اسی روز سے جانا کہ مجاہد مجھ سے زیادہ عالم ہیں پھر اللہ پاک نے اپنی صفت بیان کی کہ اللہ سب چیزوں پر غالب ہے جس بات کا ارادہ کرتا ہے اس میں کسی قسم کی دشواری نہیں ہوتی اور حکیم ہے اس کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ہے یہ عبادہ بن ابی لبابہ قتادہ کے ہم رتبہ ثقہ تابعی ہیں صحاح کی کتابوں میں ان سے روایتیں ہیں صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ زیدبن عاصم ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے انصار سے فرمایا کہ قدیمی عداوت کے سبب سے تم لوگوں میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی اللہ کے رسول کے مدینہ میں آنے کی برکت سے وہ تمہاری آپس کی پھوٹ جاتی رہی سورة آل عمران میں جو قبیلہ اوس و خزرج کی پھوٹ کے رفع ہوجانے کو اللہ تعالیٰ نے ایک نعمت کے طور پر ذکر فرمایا ہے اس سے اور اس صحیح حدیث سے حضرت عبداللہ ؓ بن عباس کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کہ ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کے طور پر جس پھوٹ کے رفع ہوجانے اور آپس کی دلی الفت کا تذکرہ فرمایا ہے وہ بھی انصار کے قبیلہ اوس و خزرج ہی کا ذکر ہے اس صورت میں جن مفسروں نے عبداللہ بن مسعود ؓ اور سلمان ؓ فارسی کی حدیثیں ان آیتوں کی تفسیر میں نقل کی ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ اصل میں ان آیتوں کا شان نزول تو وہی ہے جو امام المفسرین حضرت عبداللہ ؓ بن عباس نے بیان کیا ہے لیکن انصار کے قبیلہ اوس و خزرج کے مسلمانوں کی طرح اب بھی جو دو مسلمان آپس میں دینی محبت رکھیں گے آیتوں میں گویا ان سب کا ذکر ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عام قدرت جتلانے کو فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک سوبیس برس کی عداوت کو مٹا کر انصار کے قبیلہ اوس و خزرج میں اپنی قدرت اور حکمت سے ملاپ کرادیا اسی طرح وہ ایسا زبردست صاحب قدرت ہے کہ جس کام کا وہ ارادہ کرتا ہے اس میں کسی طرح دشواری نہیں ہوتی اور صاحب حکمت وہ ایسا ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا جس طرح اردو کا محاورہ ہے کہ دو لشکروں میں صلح ہوگئی اسی طرح عربی میں صلح مؤنث ہے اسی واسطے فَاجْنَحْ لھَا فرمایا فْاَجْنح لَہٗ نہیں فرمایا۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے۔

64۔ طبرانی بزار تفسیر ابن ابی حاتم تفسیر ابوالشیخ میں عکرمہ سعید بن جبیر سعید بن مسیب کے واسطہ سے حضرت عبداللہ ؓ بن عباس کی روایت ہے کہ انتالیس مسلمان پہلے سے تھے جب حضرت عمر ؓ اسلام لائے اور چالیس مسلمان پورے ہوگئے تو حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لیکن حافظ عما دالدین ابن کثیر نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور حضرت عمر ؓ کا اسلام ہجرت سے پہلے ہے پھر یہ آیت حضرت عمر ؓ کے اسلام کے وقت کیونکر نازل ہوسکتی ہے جواب اس اعتراض کا اور مفسیرین نے یہ دیا ہے کہ اس آیت کو مدنی فقط اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ سورة مدنی ہے لیکن جب یہ کہا جائے کہ تمام سورة مدنی ہے اور اس آیت مکی کو آنحضرت ﷺ کے فرمانے کے موافق مدنی سورة میں داخل کیا گیا ہے تو پھر کچھ اعتراض نہیں ہے کیونکہ اکثر سورتوں میں ایسا ہوا ہے کہ ساری سورة مکی ہے اور کچھ آیتیں اس میں مدنی ہیں یا ساری سورت مدنی ہے اور کچھ آیتیں اس میں مکی ہیں بعضے مفسرین نے یہ جواب بھی دیا ہے کہ اس سبب سے اس شان نزول کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اس شان نزول کی بعضی روایتیں مثلا تفسیر ابن ابی حاتم کی روایت نہایت صحیح ہے پھر یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ صحیح روایت کو محض عقلی اعتراض سے نہ تسلیم کیا جائے اور جب روایت کو صحیح مانا جائے گا تو معنے اس روایت کے وہی ہوں گے جو اعتراض کے جواب میں بیان کئے گئے ہیں کہ مدنی سورة میں یہ مکی آیت داخل کی گئی ہے اور اس میں ذرا شک نہیں ہے کہ جواب میں جو حالت قرآن شریف کی آیتوں کی بیان کی گئی وہ ایک موجودہ حالت ہے اس واسطے ابن العربی وغیرہ مفسرین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے کہ سورة انفال میں یہ ایک آیت مکی ہے امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اس شان نزول کے اختلاف کا یوں فیصلہ کیا ہے کہ آیت خواہ مکی ہو یا مدنی لیکن آیت میں مومنین جمع کا صیغہ ہے اس لئے آیت کا مضمون عام ہے اسی واسطے آیت کو بدر کی لڑائی کی آیتوں میں رکھا گیا ہے تاکہ حاصل مطلب آیت کا یہ ٹھہر جاوے کہ اس لڑائی میں جس طرح کچھ اوپر تین سو مسلمانوں کو غیبی مدد سے ہزار دشمنوں پر فتح ہوئی اسی طرح آئندہ بھی مسلمانوں کی جس قدر جماعت لڑائی میں اللہ کے رسول کے ساتھ ہوگی وہ اللہ کی مدد سے دشمنوں پر فتح حاصل کرنے کے لئے اللہ کے رسول کو کافی ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے جابر ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دشمن کی فوج ایک مہینے کے راستہ پر ہو تو اتنے فاصلہ سے بھی میرا رعب دشمن کی فوج کے دلوں پر چھا جاتا ہے اس حدیث سے امام بخاری کے فیصلہ کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ حدیث میں جس رعب کا ذکر ہے وہ عام مسلمانوں کے اس لشکر اسلام کے حق میں ہے جو لشکر کسی لڑائی میں اللہ کے رسول کے ساتھ ہو یہ تو آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا حال ہوا صحیح بخاری میں ابوسعید ؓ خدری کی ایک حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آیندہ ایک زمانہ ایسا آویگا کہ جس لشکر اسلام میں صحابیوں تابعیوں یا تبع تابعیوں میں سے کوئی ہوگا تو اس لشکر اسلام کو بھی اللہ تعالیٰ فتح نصیب کریگا آنحضرت ﷺ کے دیکھنے والوں کو صحابی کہتے ہیں اور صحابی کے دیکھنے والے کو تابعی اور تابعی کے دیکھنے والے کو تبع تابعی کہتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس رعب کا ذکر جابر ؓ کی حدیث میں ہے اس کا کچھ اثر تبع تابعیوں کے زمانہ تک باقی رہا اس پر علماء کا اتفاق ہے کہ یہ زمانہ 220؁ ہجری تک تھا اس کے بعد فلسفہ دین کا علم ٹھہر گیا اور طرح طرح کے فساد مسلمانوں میں پھیل گئے صحیح مسلم میں جابر ؓ نے یہ حدیث ابوسعید خدری ؓ کے حوالہ سے دو طرح بیان کی ہے پہلی حدیث تو بخاری کی روایت کے موافق ہے اور دوسری روایت میں چوتھا درجہ تبع تابعین کے دیکھنے والوں کا بھی ٹھہرایا ہے لیکن جبکہ جابر ؓ کی یہ روایت ابوسعید خدری ؓ کے حوالہ سے ہے اور ابوسعید خدری ؓ کی اصل حدیث جو بخاری میں ہے اس میں یہ چوتھا درجہ نہیں ہے اس واسطے علماء نے تین درجوں کی حدیث کو ترجیح دی ہے۔
Ayahs 8:65–66

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے اس لئے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے۔

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کردیا اور معلوم کرلیا کہ (ابھی) تم میں کسی قدر کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے، اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اور خدا ثابت قدم رہنے والوں کا مددگار ہے۔

65۔ 66۔ جمہور مفسرین کے نزدیک پہلا ٹکڑا آیت کا جس میں ایک مسلمان کو دس کافروں سے مقابلہ کرنے کا حکم تھا آیت کے اس ٹکڑے سے منسوخ ہے اور اب یہی حکم ہے کہ ایک مسلمان دو کافروں سے مقابلہ کرے صحیح بخاری اور مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں جہاد سے بھاگنے والے کو کبیرہ گناہ کا گناہ گار جو آنحضرت نے فرمایا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس قدر مقابلہ سے آدمی نہ بھاگے ضرور کبیرہ گناہ کا گنہگار ٹھہریگا اور اس قدر سے زیادہ دشمنوں سے مقابلہ آن پڑے تو لڑنے کی صورت میں اجر ہے بھاگنے کی صورت میں گناہ نہیں صحیح بخاری اور ابواؤد میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایک سے دس کے مقابلہ کا حکم منسوخ فرمایا اس وقت سے مسلمانوں کی ہمت اسی قدر کم ہوگئی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اس قول کی تائید خود آیت کے مضمون سے ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ یہ تخفیف کا حکم تمہارے ضعف ہمت کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے کسی شخص کو کسی کام پر آمادہ کیا جائے تو عربی زبان میں ایسے موقعہ پر تحریض بولتے ہیں اسی واسطے حرض کا مرادی ترجمہ شاہ صاحب نے ” شوق دلانا “ کیا ہے۔ اس تفسیر میں ایک جگہ گذر چکا ہے کہ ایک دفعہ ایک خبر دے کر پھر اس کے برخلاف دوسری خبر دینے سے جھوٹ لازم آتا ہے اس لئے ناسخ منسوخ خبر کی آیتوں میں نہیں ہوتا فقط امرونہی کی آیتوں میں ہوتا ہے اس بنا پر مفسرین نے یہاں صابرون کے معنے فلیصبروا کے کئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے حکم کے منسوخ ہونے سے پہلے ایک مسلمان کو دس مخالفوں کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا چاہئے تھا اور اب پہلے حکم کے منسوخ ہوجانے کے بعد ایک مسلمان کو دو مخالفوں کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا چاہئے امر کی جگہ خبر کو جو رکھا گیا ہے اس سے تاکید نکلتی ہے گویا یوں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کی خبر دیتا ہے کہ جس کام کا تمہیں حکم دیا گیا ہے وہ ضرور تم کرو گے مشرک لوگ عقبے کے عذاب وثواب کی خبر نہیں رکھتے اس لئے ان کو ناسمجھ فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ عقبے کے ثواب کے قائل لوگ دین کی لڑائی میں عقبے کے اجر کے لالچ سے ثابت قدم رہ سکتے ہیں مشرکوں میں یہ بات نہیں ہے واللہ مع الصابرین کا یہ مطلب ہے ‘ کہ دین اللہ کا ہے اس لئے اللہ کا دین پھیلانے کی نیت ہے جو شخص دین کی لڑائی میں ثابت قدم رہے گا ہر دم ایسے شخص کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ موجود ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ضعف اسلام کے سبب سے جب مسلمانوں میں یہ طاقت نہ رہے کہ وہ ہاتھ پاؤں سے لڑ کر شریعت کی باتوں کو قائم کرسکیں تو ایسے وقت میں زبانی نصیحت کافی ہے سفیان ثوری اور بعضے علماء سلف نے ضعف اسلام کے وقت کے وعظ نصیحت کو جہاد کا قائم مقام ٹھہرا کر یہ شرط اس میں بھی معتبر ٹھہرائی کہ دو مخالف لوگوں کے مقابلہ میں ایک واعظ وعظ و نصیحت چھوڑدیگا تو گنہگار ہوگا اس سے زیادہ کے مقابلہ میں نہیں۔
Ayahs 8:67–69

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

تو جو مال غنیمت تم کو ملا ہے سے کھاؤ (کہ وہ تمہارے لئے) حلال (طیب) ہے اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

67۔ 69۔ جب بدر کی لڑائی میں کفار قریش میں سے ستر کافر گرفتار ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے ان کو فدیہ لے کر بعض اصحاب کے مشورہ کے موافق چھوڑ دیا تو یہ آیت اتری اللہ پاک نے فرمایا کہ نبی کو یہ بات لائق نہیں ہے کہ جب قیدی اس کے یہاں گرفتار ہو کر آئیں تو بغیر قتل کئے ہوئے انہیں چھوڑ دیا جائے پھر اور مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم دنیا کی دولت کو پسند کرتے ہو اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ آخرت درست ہو خدا کا بول بالا تمام روئے زمین میں ہو کر اس کا خالص دین ہو معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی وغیرہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ اور انس بن مالک ؓ سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں صحابہ سے مشورہ لیا اور کہا کہ اللہ نے تم لوگوں کو ان پر قدرت دی ہے حضرت عمر ؓ نے کھڑے ہو کر کہا کہ انہیں قتل کر ڈالیے آپ نے کچھ خیال نہ کیا پھر دوبارہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو تمہیں ان پر آج قابو ہے کل یہ تمہارے بھائی تھے آج قیدی ہیں پھر حضرت عمر ؓ نے کہا کہ ان کی گردنیں ماریے حضرت ﷺ نے پھر وہی سوال کیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کھڑے ہو کر کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ ان کو معاف کیجئے اور فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے اس بات پر حضرت ﷺ کے چہرہ مبارک سے غم کے آثار دور ہوئے اور آپ نے فدیہ لے کر ان قیدیوں کو چھوڑ دیا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر اللہ ایک بات پہلے نہ لکھ چکا ہوتا تو تم پر بہت بڑا عذاب آجاتا مفسروں نے اس کی تفسیر میں اختلاف کیا ہے لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق آیت کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوح محفوظ میں پہلے سے یہ لکھ چکا تھا کہ اس امت کے ہاتھ بہت سامال لگے گا اور یہ ان کے واسطے حلال ہوگا بخلاف اگلی امتوں کے کہ مال غنیمت ان پر حرام تھا اگر علم الٰہی کے موافق لوح محفوظ میں یہ بات لکھی ہوئی نہ ہوئی تو فدیہ کا مشورہ دینے والوں پر عذاب نازل ہوجاتا اس عتاب کو سن کر مسلمانوں نے فدیہ لینے سے ہاتھ روک لیا اور جی میں ڈرے تو اللہ پاک نے لوح محفوظ کے لکھے کے موافق پھر یہ فرمایا کو جو مال تمہیں غنیمت کے مال کا حلال ہونا سمجھا گیا ہے اس آیت کی تفسیر آنحضرت ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ پانچ چیزیں مجھ کو عطا ہوئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں عطا ہوئیں ان پانچ میں ایک غنیمت ہے جو میرے لئے حلال کی گئی اور کسی امت کے لئے پہلے مجھ سے حلال نہ تھی یہ حدیث صحیحین میں جابر ؓ کی روایت سے ہے اور کئی جگہ اس سے پہلے گذر چکی ہے پھر اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ آئندہ خدا سے ڈرتے رہو پھر کوئی ایسی بات نہ ہونے پائے کہ حکم الٰہی کے نازل ہونے سے پہلے کوئی کام کر بیٹھوں اور جو باتیں گذر چکی (رح) اللہ غفور رحیم ہے اس سے مغفرت کی امید رکھو ترمذی نسائی وغیرہ کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی ایک حدیث اوپر گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب صحابہ کا ارادہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کا مضبوط ہوگیا تو حضرت جبرئیل آئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام سنایا کہ اگر ان ستر قیدیوں سے فدیہ لیا جائے گا تو اسلام کی پہلی لڑائی میں یہ فدیہ اللہ کی مرضی کے موافق نہیں ہے اس لئے اس فدیہ کا معاوضہ یہ ہوگا کہ آئندہ کی لڑائی میں لشکر اسلام کے ستر آدمی شہید ہوں گے۔ تنگ دستی کے سبب سے صحابہ کا ارادہ فدیہ کے لینے پر جم گیا تھا اس واسطے انہوں نے اس شرط کو منظور کیا ان آیتوں میں خفگی کی تفسیر اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے حضرت علی ؓ کی اس حدیث کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے حضرت علی ؓ کی حدیث میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے جس پیغام الٰہی کا ذکر ہے تیرہ مہینے کے بعد احد کی لڑائی میں اس کا ظہور ہوا کہ اس لڑائی میں ستر آدمی لشکر اسلام کے شہید ہوئے چنانچ اس کی تفصیل سورة آل عمران میں گذر چکی ہے۔
Ayahs 8:70–71

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان کے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دیگا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضہ میں کردیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے۔

70۔ 71۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں یہ فرماتے ہیں کہ جب عباس بن عبدالمطلب اور حضرت عباس ؓ کے دونوں بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن الحارث بدر کی لڑائی میں قید ہو کر آئے تو حضرت عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں تو مسلمان تھا زبردستی لوگ مجھ لے آئے تھے آپ نے فرمایا کہ اگر یہ بات سچ ہے تو اللہ آپ کو بدلہ دے گا آپ اپنا اور اپنے ساتھیوں کا فدیہ دیں تو چھوڑ دئے جائیں انہوں نے کہا اے رسول ﷺ میرے پاس اتنا کہاں ہے آپ نے فرمایا کہ وہ مال کہاں گیا جو آپ مکہ سے چلتے وقت ام الفضل کو دفن کرنے کو دے آئے تھے اور یہ کہا تھا کہ خدانخواستہ اگر کوئی حادثہ مجھ پر گذرے تو یہ مال تمہارا اور بچوں کا ہے حضرت عباس ؓ نے کہا کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ سچے اللہ کے رسول ہیں اور کلمہ پڑھا اور کہا کہ یہ بات وہ ہے جس کو سوائے میرے اور ام الفضل کے تیسرا کوئی نہیں جانتا میں نے اندھیری رات میں وہ مال اس کو سپرد کیا تھا ام الفضل حضرت عباس ؓ کی بی بی کی کنیت ہے اس کے بعد حضرت عباس ؓ نے یہ بھی کہا کہ مجھے اب تک تو آپ کی نبوت میں شک تھا مگر اس وقت کی باتوں سے سارا شک جاتا رہا پھر حضرت عباس ؓ نے یہ کہا کہ جو مال میرا لوٹا گیا ہے وہ اس فدیہ میں سے آپ سمجھ جاویں آپ نے فرمایا یہ نہیں ہوسکتا وہ مال تو اللہ پاک نے ہمیں غنیمت میں دیا ہے غرض کہ حضرت عباس ؓ نے فدیہ اپنا اور اپنے ہمراہیوں کا دیا اس وقت اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ خدا تمہارے دلوں کی باتوں کو اچھی طرح جانتا ہے اللہ پاک اس سے بھی زیادہ دے گا جتنے مال کا نقصان ہوا ہے اور آخرت میں بخشش بھی کرے گا حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ پاک نے اسلام لانے کے بعد اپنا وعدہ مجھ سے پورا کیا اس وقت میرے پاس بیس غلام ہیں جن کے ہاتھ میں میرا سارا کاروبار ہے اور آخرت میں امید رکھتا ہوں کہ خدا مجھے بخشے گا مستدرک حاکم میں حضرت عائشہ ؓ کی ایک صحیح حدیث اسی مضمون کی ہے اس سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے معتبر سند سے مستدرک حاکم میں ابوموسیٰ ؓ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ﷺ کے پاس بحرین کا مال آیا جو اسی ہزار کا تھا آپ نے فرمایا کہ مسجد میں اس کو پھیلا دیا جاوے پھر آپ نماز کی طرف متوجہ گئے بعد فراغت نماز کے ہر شخص کو اس میں سے دیا جس کو دیکھا اس کو دیا کسی کو چھوڑا نہیں اتنے میں حضرت عباس ؓ آئے اور کہا مجھے بھی اس میں سے کچھ دو میں نے ایک وقت اپنا اور اپنے بھتیجوں کا فدیہ دیا تھا آپ نے فرمایا لے لو انہوں نے بغلیں بھر بھر کر وہ مال لینا شروع کیا اور اپنی چادر میں اس کو باندھ کر اٹھانے لگے تو نہیں اٹھا سکے اس پر کہنے لگے حضرت کسی کو حکم دو کہ وہ لے چلے آپ نے کہا کہ نہیں پھر انہوں نے کہا کہ تو آپ ہی اٹھا دو آپ نے فرمایا نہیں آخر انہوں نے کچھ اس میں سے گرا کر اور باقی کاندھے پر رکھ کر چلے گئے۔ حضرت ان کی طرف دیکھ کر تعجب کر رہے تھے جب وہ نظروں سے پوشیدہ ہوگئے تو حضرت بھی وہاں سے اٹھے اس وقت ایک درہم بھی باقی نہیں رہا تھا سب مال ختم ہوچکا تھا پھر اللہ جل شانہ نے یہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ خیانت کرنے گئے تو پہلے بھی خیانت کرچکے ہیں مگر اس کا نتیجہ بھی دیکھ لیا کہ خدا نے کس طرح ان کو مسلمانوں کے قبضہ میں کردیا گرفتار ہو کر آئے مطلب یہ ہے کہ ابوطالب کی زندگی میں بنی ہاشم پہلے اس بات کا ارادہ کرچکے تھے کہ محمد ﷺ کو قرابت کے لحاظ سے ہیمشہ مدد دیں گے مگر اپنے قول پر قائم نہیں رہے عہد شکنی کی اور کافروں سے جاملے اور ان کے ساتھ لڑائی کو آئے اسی کو فرمایا کہ وعدہ توڑ ڈالا تو کیا ہوا آخر گرفتار ہوئے ایسا ہی اگر پھر عہد شکنی کریں گے تو خدا ان پر قادر ہے تو اس سے بچ کر کہاں جاؤ گے قتادہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح جب مرتد ہو کر مشرکوں سے مل گیا تو یہ آیت اتری یہ عبداللہ بن سعد وہی ہے جو مسلمان ہو کر کچھ دنوں کاتب وحی رہا اور بعد اس کے اسلام سے پھر گیا اور مدینہ سے مکہ میں جاکر مشرکین مکہ سے مل گیا فتح مکہ کے وقت آٹھ مرد اور چھ عورتوں کے مار ڈالنے کا حکم جو آنحضرت ﷺ نے دیا تھا ان میں عبداللہ بن سعد کا نام بھی تھا لیکن یہ عبداللہ حضرت عثمان ؓ کا دودھ کا بھائی تھا اس لئے حضرت عثمان ؓ نے اس کی سفارش کی اور آنحضرت ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کی سفارش منظو فرما کر عبداللہ کا اسلام قبول فرمالیا آیت کے لفظ عام ہیں اس واسطے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ عبداللہ بن سعد کی طرح جو کوئی اللہ اور اللہ کے رسول سے بدعہدی کریگا وہ بدعہدی کے جرم میں پکڑا جائے گا جس طرح ان بدر کے قیدیوں نے ابوطالب کے زمانہ کے عہد کو توڑا اور اس کی سزا میں پکڑے گئے ان آٹھ مرد اور چھ عورتوں کے قصہ کی جو حدیثیں نسائی ابوداؤد وغیرہ میں ہیں یہ حدیثیں اور اہل مکہ نے صلح حدیبیہ کے برخلاف جو بدعہدی کی جس کی سزا میں مکہ پر چڑھائی ہوئی یہ سب حدیثیں بدعہدی کی پکڑ اور سزا کی ہیں تفسیر میں حضرت ؓ علی۔ عباس ؓ ۔ عقیل ؓ ۔ جعفر ؓ ۔ اور حارث ؓ ۔ کی اولاد کو بنی ہاشم کہتے ہیں۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہے۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہئے) اور خدا تمہارے (سب) کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

72۔ مدینہ میں حضرت ﷺ کے ساتھ جتنے مسلمان تھے وہ دوفرقے تھے ایک وہ لوگ تھے جو مکہ کے باشندہ تھے مگر کفار کی تکلیف اور ایذار سانی سے اپنا وطن چھوڑ کر محض خدا کے واسطے آنحضرت ﷺ کے ساتھ مدینہ کے رہنے والے تھے آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے تھے اور آپ سے ہجرت سے پہلے انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر آپ مدینہ میں آن کرو ہاں رہنا اختیار کریں گے تو ہر طرح سے آپ کی خبر گیری ہم کریں گے جان سے مال سے دریغ نہ کریں گے اگر کفار آپ پر حملہ کریں گے اور لڑائی پر آمادہ ہو گے تو ہم لوگ سینہ سپر کرنے کو تیار ہیں یہ لوگ انصار کہلاتے ہیں ہجرت کے بعد انہوں نے اپنے وعدہ کے موافق اپنے بھائی مہاجرین کو اپنے گھروں میں رکھا جن کی بیویاں نہ تھیں انکا نکاح کردیا انہیں دونوں گروہ مہاجرین وانصار کی شان میں یہ آیت اتری اور فرمایا کہ جو لوگ اپنا گھر چھوڑ چھوڑ کر آئے اور اپنی جان ومال سے خدا کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے ان مہاجرین کی ہر طرح سے مدد کی اور رہنے کو جگہ دی لڑائی میں ان کے ساتھ شریک ہو کر لڑے یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں ایک پر ایک کا حق ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے بھی مہاجرین اور انصار کے درمیان میں بھائی بندی کر ادی تھی ایک دوسرے کا وارث بن گیا تھا اور کنبے رشتہ سے بھی بڑھ کر ان کے تعلق بڑھ گئے تھے ایک دوسرے کا ترکہ پاتا تھا پھر جب ی آگے کی آیت اتری وَاُدلُوالْاَ رْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلیْ بِْبَعْضٍ تو یہ حکم بدل گیا یہ روایت صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے 1 ؎ ہے ھپر اللہ پاک نے تیسری قسم کے لوگوں کا حال بیان فرمایا جو مسلمان ہوگئے تھے مگر آنحضرت ﷺ کے ساتھ مدینہ نہ آئے مکہ میں ہی رہنا پسند کیا ان کے حق میں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لاچکے ہیں اور تمہارے ساتھ ہجرت کر کے نہیں آئے وہ لوگ ان مہاجرین اور انصار کے وارث نہیں ہوسکتے ہیں اور نہ ان کو مال غنیمت میں سے کچھ حصہ مل سکتا ہے ہاں اگر یہ لوگ کسی لڑائی میں تمہارے ساتھ شریک ہوں تو بیشک انکا بھی حق غنمت میں ہوسکتا ہے صحیح بمسلم مں ا یزیدبن خصیب ؓ اسلمی کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے ان کے گھروں سے مدینہ کے گھروں کی طرف بلاؤ اور جتلاؤ کہ اگر وہ مدینہ آجائیں گے تو غنیمت کے مال میں جس طرح مہاجرین کا حصہ ہے ان کا بھی ہوگا اور اگر نہ آئیں اور اپنے گھروں میں رہنا پسند کریں تو یہ خوب جان لیویں کہ اس وقت تک غنیمت اور فے میں ان کا کوئی یحصہ نہ ہوگا جب تک یہ مدینہ کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد نہ کریں 2 ؎ پھر اللہ جل شانہ نے انہیں مسلمانوں کے متعلق فرمایا کہ جو ہجرت کر کے نہیں آئے ار یہ لوگ کفار سے دین کے واسطے لڑیں اور تم سے مدد چاہیں تو تم پر واجب ہے کہ ان کی مدد کرو کیونکہ آخر یہ لوگ بھی تمہارے بھائی ہیں اور اگر یہ لوگ ایسی کسی قوم سے جہاد کریں جس طے اور تم سے عہد و پیمان ہوگیا ہے تو ان کی مدد کی خاطر سے اپنے قول وقرار کو نہ توڑو اللہ تمہارے سارے عمل دیکھتا ہے کہ کون حد شرع پر قائم رہتا ہے اور کون نہیں رہتا مہاجرین جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو رشتہ کنبے کے لوگوں کے مکہ میں رہ جانے کے سبب سے پریشان رہتے تھے ان لوگوں کی اس پریشانی کے رفع ہوجانے کی غرض سے آنحضرت ﷺ نے ان میں اور انصار میں بھائی بندی کرادی تھی اس بھائی بندی کا ذکر صحیح بخاری وغیرہ کے متفرق روایتوں میں 3 ؎ ہے صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے بعد مہاجرین کے رشتے کنبے کے لوگ جب مدینہ میں آگئے 1 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 659 کتاب التفسیر و ج 2 ص 999 باب ذوی الارحام 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 329 3 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 533 باب خاء النبی ﷺ مین المہاجرین والا نصار۔ تو پھر اس بھائی بندی گی ضرورت باقی نہ رہی مہاجرین میں کچھ اوپر اسی صحابہ ایسے تھے جنہوں نے دو دفعہ ہجرت کی ایک دفعہ مکہ سے حبشہ کو گئے اور ھپر جب آنحضرت ﷺ اور باقی صحابہ کا مدینہ کو ہجرت کر کے جانا سنا تو حبشہ سے مدینہ آئے حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے ان حبشہ کے جانے والے صحابہ کو بہت آرام سے رکھا تھا یہی بات مشرکین مکہ کو شاق گذری تھی جس پر انہوں نے آنحضرت ﷺ کو زیادہ ایذا پہنچانے کا ارادہ کیا ابوطالب کو مشرکین مکہ کے اس ارادہ کی جب خبر پہنچی تو ابو طالت نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو جمع کر کے ان سے آنحضرت ﷺ کی حمایت کا عہد لیا اوپر اسی عہد کا یہ ذکر تھا کہ ابوطالب کی زندگی میں بنی ہاشم نے قراءت کے لحاظ سے ہمیشہ آنحضرت ﷺ کو مدد دینے کا عہد کیا تھا اور پھر یہ لوگ اس عہد پر قائم نہیں رہے مشرکین مکہ کے ساتھ بدر کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ سے لڑنے کو آئے۔ انصار کے معنے مددگاروں کے ہیں اہل مدینہ کا نام انصار جو قرار پایا اس کا تفصیلی قصہ تو سورة حشر میں آویگا مگر حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے مدینہ کے کچھ لوگ موسم حج میں مکہ کو آئے اور قرآن شریف کی آیتیں سن کر ان کے دل نرم ہوئے جس سے انہوں نے منیٰ کی گھاٹیوں میں آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر اسلام کی بعیت کی اور اس بیعت کے وقت انہوں نے جب یہ سنا کر مشرکین مکہ آپ کو طرح طرح کی تکلیف دیتے ہیں اور کلام الٰہی لوگوں کو نہیں سنانے دیتے تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے یہ وعدہ کیا کہ اگر آپ مدینہ میں چل کے رہیں تو یہ لوگ آپ کی ہر طرح سے مدد کریں گے اسی دن سے ان لوگوں کا لقب انصار قرار پایا چناچہ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت علی ؓ کی ایک حدیث ہے جس میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے یہ اوپر گذر چکا ہے کہ بدر کی لڑئای اسلام کی پہلی لڑائی ہے اس لئے اس لڑائی کہ زمانہ تک جو مہاجرین اور انصار تھے ان کو مہاجرین اور انصار اولین کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مہاجرین ہجرت میں انصار دین مکی مدد میں اور لوگوں سے مقدم ہیں مہاجرین اور انصار کی تعریف میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں 1 ؎۔ 1 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 515 ببا منافقب المہاجرین و ج 1 ص 533 باب مناقب الانصار
Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔

73۔ اللہ پاک مسلمانوں کے درمیان میں باہیمی میل جول کرنے کا ذکر فرما کر کفار کے ساتھ قطع تعلق کرنے کا حکم فرماتا ہے اس لئے یہ ارشاد کیا کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اور سب کے سب ایک ہیں اگر تم بھی آپس میں اتفاق نہ پیدا کرو گے اور ایک نہ بن جاؤ گے اور کفار سے تعلق نہ قطع کرو گے تو بڑا فتنہ فساد دنیا میں پھیل جاویگا تم میں کمزوری آجاوے گی ایک سے ایک جدا ہوجاؤ گے اور کفار کا زور بڑھ جاوے گا حاکم نے اسامہ بن زید ؓ سے ایک حدیث روایت کی ہے کہ دو ملت کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے نہ مسلمان کافر نہ کافر مسلمان کا اسی مضمون کی حدیث اسامہ بن زید ؓ سے صحیح بخاری ومسلم میں بھی ہے یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہے اور نہ کافر مسلمان کا اسامہ بن زید ؓ کی جس حدیث کا ذکر اوپر گذر یہ حدیث سوا صحیح بخاری ومسلم کے صحاح کی باقی کتابوں میں بھی ہے اگرچہ صاحب منتقی نے یہ لکھا ہے کہ اسامہ بن زید ؓ کی حدیث صحیح مسلم اور نسائی میں نہیں ہے اور صاحب جامع الاصوح نے لکھا ہے کہ یہ حدیث نسائی میں نہیں ہے لیکن یہ سہو نظر ہے اسامہ بن زید ؓ کی یہ حدیث ان دونوں کتابوں میں موجود ہے۔
Ayahs 8:74–75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے۔ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لئے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے۔ وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کے رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

74۔ 75۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین اور انصار اور ہجرت نہ کرنے والے مسلمان ان سب کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ ہجرت کر کے اور اپنا اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ میں چل آئے اور جو لوگ ان مہاجرین کے ہر طرح مددگار بنے بیشک وشبہ وہ کامل مومن ہیں ان کا عقبے کا انجام بیان کیا کہ ان کے واسطے آخرت میں بخشش ہے کیونکہ ان لوگوں نے اپنی جان اور مال سے کسی طرح دریغ نہ کیا ہر غنیمت ان کے واسطے حلال ہے اور آخرت میں جو نعمتیں ان کو ملیں گی وہ بےمشقت ہوں گی پھر اللہ پاک نے ان لوگوں کو بھی جو بعد میں ہجرت کر کے آئے انہیں مہاجرین اور انصار کے حکم میں داخل کیا کہ یہ لوگ پہلے اگرچہ مہاجرین کے ساتھ نہیں آئے مگر بعد میں تو اپنے گھر بار چھوڑ دئے مال چھوڑا کنبہ رشتہ چھوڑا محض خدا کے واسطے آئے ہیں اسلئے ان کے واسطے بھی مغفرت ہے جس طرح غنیمت میں الگ لوگوں کا حصہ ہے اسی طرح ان پچھلے مہاجرین کا بھی حصہ ہے پھر اللہ پاک نے قرابت کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں کے درمیان میں ناتہ رشتہ نہیں ہے ہجرت کی وجہ سے جو بھائی بندی ہوئی ہے اس سے اولے قرابت کا رشتہ ہے کیونکہ یہی باتیں لوح محفوظ کے موافق قرآن مجید میں ہیں پھر فرمایا کہ اللہ پاک ہر شے کا جاننے والا ہے اس لئے جتنے احکام اس نے لوح محفوظ کے موافق قرآن مجید میں نازل فرمائے ہیں ان میں سے کوئی بےفائدہ نہیں ہے ایک آیت میں کسی خاص سبب سے کوئی حکم ہوا اور پھر اس اسلام میں جب تک مسلمانوں کے پاس لڑائی کا سامان نہیں تھا تو مخالف لوگوں کے ایذا دینے کی حالت پر مسلمانوں کو درگذر کا حکم تھا پھر جب مسلمانوں کے پاس لڑائی کا سامان ہوگیا تو لڑائی کا حکم نازل ہوا جس کا مطلب یہ ہے کہ پھر جب مسلمان ابتدائے اسلام کی حالت میں ہوں تو وہی درگذر کا پہلا حکم قائم ہوجاویگا اسی طرح جب تک مہاجرین کے رشتہ دار مکہ سے مدینہ میں نہیں آئے تھے تو مہاجرین کے دینی بھائی انصار مہاجرین کے وارث قرار دئے گئے تھے پھر جب مہاجرین کے رشتہ دار مدینہ میں آگئے تو آیت اولو الا رحام نازل ہو کر اس کے موافق رشتہ داروں کی وراثت قائم ہوگئی لیکن اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی پہلی حالت کے موافق جب دیکھ کوئی مسلمان لاوارث فوت ہوا تو اس کے مسلمان بھائی اس کے مال کے حقدار قرار دئے گئے اور بیت المال میں وہ مال داخل ہو کر اس کے دینی بھائیوں کی ضرورتوں میں صرف ہوا چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد ابوداؤد وغیرہ میں مقدام بن بعدی کرب ؓ کی جو روایت ہے اس میں اس کا ذکر ہے ان ہی وجو ہات سے علامہ جلال الدین سیوطی (رح) نے اتقان میں اور شاہ ولی اللہ (رح) نے الفوز الکبیر میں آیت اولوالارحام سے کسی پہلے حکم کو منسوخ نہیں ٹھہرایا سورة نساء کی آیت ولکل جعلنا موالی (4: 33) کی تفسیر میں بھی یہ ناسخ منسوخ کا تذکرہ گذر چکا ہے۔