8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا اور اگر تم (جنگ کے لئے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم و تاخیر ہوجاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے ہی کر ڈالے۔ تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے۔

42۔ اللہ پاک نے اس آیت میں مسلمانوں پر اپنا یہ احسان جتلایا ہے کہ ہم نے کس طرح تم کو کفار کے مقابل کردیا اور کس خوبی سے جنگ کا سامان مہیا کردیا اگر تم لوگ ارادہ کر کے بھی آتے اور لڑائی کے لئے میعاد بھی مقرر کرلیتے تو یہ بات نصیب نہ ہوتی تم چلے تھے اور خیال سے اور اللہ پاک کا اور ارادہ تھا اس نے اپنا ارادہ پورا کردیا کیونکہ تمہاری حالت یہ تھی کہ ابوسفیان کا قافلہ لوٹنے کو چلے تھے اور مدینہ کے قریب جنگل اور ٹیلوں کے پاس تھے اور تمہارے مخالف قریش مدینہ سے بہت دور پر مکہ کے قریب تھے اور ابوسفیان کا قافلہ مدینہ سے تین میل پر دریا کے پاس اترا ہوا تھا کسی کو کسی کی خبر نہ تھی تمہارے پاؤں ریت کی زمین میں جمتے مشکل تھے اور تمہارے دونوں مخالف ایک سامنے ابوسفیان اچھی زمین پر اترا ہوا تھا دوسرے قریش تمہارے پیشت پر تھے تمہارے تعداد بہت ہی کم تھی دشمنوں کا لشکر شمار میں تم سے کہیں زیادہ تھا ایسی حالت میں ہم نے تمہیں ان لوگوں پر فتحیاب کیا محمد بن اسحاق اپنی سیرت میں یہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ﷺ مدینہ سے نکل کر صفرا مقام کے قریب پہنچے تو دو شخصوں کو بسیس بن عمر اور عدی بن ابی الرعباء کو ابوسفیان کی خبر کو بھیجا یہ دونوں جب بدر میں پہنچے تو ایک ٹیلہ پر اوٹنوں کو بٹھا کر پانی کی فکر میں گئے دریا کے کنارہ پر دو لڑکیاں جھگڑ رہی تھیں ایک نے کہا کہ میرا حق دے دے دوسری نے کہا کل لشکر آئے گا تو دے دوں گی اتنے میں مجدی بن عمر وابوسفیان کی طرف کا آدمی آیا اور اس نے ان دونوں لڑکیوں کے پاس آکر کہا کہ تم سچ کہتی ہو بسیس وعدی یہ سن کر مشکوں میں پانی بھر کر چلے گئے اور حضرت کو آکر خبر دی کہ ابوسفیان آگیا ہے ابوسفیان جب مجدی سے ملا تو پوچھا کہ یہاں تو نے کسی غیر کی تو آہٹ نہیں پائی اس نے کہا کہ نہیں مگر دو سوار آئے تھے اور مشکوں میں پانی بھر کر چلے گئے ابوسفیان اس ٹیلہ کے پاس آیا جہاں اونٹ بیٹھے تھے وہاں اس نے اونٹوں کی مینگنیاں دیکھیں اور ان کو توڑا تو ان میں کھجور کی گٹھلیاں پائیں اور کہنے لگا کہ یہ چارہ یثرب کا ہے اور جلدی سے اپنے قافلہ میں واپس آیا اور دریا کے کنارہ پر قافلہ اتار کر اچھی طرح سے اس کی مضبوطی و نگہبانی کرلی اور پھر قریش کو کہلا بھیجا کہ اب تمہارے آنے کی ضرورت نہیں ہے میں نے حفاظت کرلی ہے تم واپس چلے جاؤ ابوجہل نے یہ خبر سن کر کہا ہم تو واپس نہیں جائیں گے بدر میں تین روز قیام کریں گے یہاں ٹھہر کر اونٹ ذبح کر کے کھائیں گے شراب پئیں گے گانے سنیں گے عرب ہماری آمد کی خبر سن کر ہیمشہ ہم سے ڈرا کریں گے غرض کہ یہ تو اس رنگ میں تھے اور حضرت ﷺ نے قریب بدرپہنچ کر حضرت علی ؓ ابن ابی طالب اور سعدبن ابی وقاص ؓ اور زبیر بن عوام ؓ کو چند اشخاص دیگر تجسس کے لئے روانہ کیا یہ لوگ بنی سعد بن عاص اور بنی حجاج کے غلام کو پکڑ کر حضرت ﷺ کے پاس لے آئے آپ نماز پڑھ رہے تھے اس لئے آپ کے صحابہ نے ان دونوں سے پوچھا تم کسی کے غلام ہو ان دونوں نے کہا ہم قریش میں پانی بھرنے کو آئے تھے مگر انہوں نے ان دونوں کو جھوٹا سمجھا اور سمجھے کہ یہ ابوسفیان کے غلام ہیں اور ان کو مارنے لگے جب وہ دونوں غلام عاجز ہوئے تو ناچار انہوں نے کہہ دیا کہ ہاں ہم ابوسفیان کے قافلہ کے لوگ ہیں اس کے بعد صحابہ نے انہیں چھوڑ دیا اتنے میں حضرت نماز سے فارغ ہوگئے اور فرمایا کہ جب وہ غلام سچ بولے تو تم نے انہیں مارا اور جب جھوٹ بولے تو چھوڑ دیا واللہ یہ قریش کے آدمی تھے پھر اور لوگوں سے پوچھا کہ قریش کی خبر بتلاؤ لوگوں نے کہا وہ دور کی گھاٹی میں ہیں آپ نے فرمایا کتنے لوگ ہیں انہوں نے کہا یہ نہیں معلوم مگر بہت ہیں پھر آپ نے فرمایا اچھا کتنے اونٹ روز ذبح کئے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ نو دس اونٹ روز ذبح کئے جاتے ہیں آپ نے فرمایا نو سو سے ایک ہزار تک کی ان کی تعداد ہے پھر پوچھا کہ قریش کے اشراف لوگوں میں کون کون آیا ہے انہوں نے بتلایا عتبہ بن ربیعہ شیبہ بن ربیعہ۔ ابوالنجتری بن ہشام حکیم بن حزام۔ نوفل بن خویلد حارث بن عامر بن نوفل۔ طعمہ بن عدی نضر بن حارث۔ زمعہ بن اسود۔ ابوجہل۔ امیہ بن خلف اور بنیہ و منبہ حجام کے بیٹے۔ سیلن بن عمرو۔ عمرو بن عبدو۔ ان لوگوں کے نام سن کر فرمایا مکہ نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو پھینک دیا ہے یہ لوگ چیدہ چیدہ شخص ہیں جو آج پھنسے ہیں پھر سعد بن معاذ ؓ نے جو انصاری میں تھے کہ کہ حضرت ہم آپ کے واسطے چھپر تیار کردیں اس میں آپ جا بیٹھیں اور ہم دشمنوں سے مقابلہ کریں اللہ نے فتح دی تو یہی ہمارا مقصود ہے اگر خدانخواستہ کوئی معاملہ نوع گر ہوا تو آپ اپنے باقی لوگوں میں جاملیں پھر انہوں نے اور انصار کے متعلق یہ بات کہی کہ آپ سے وہ لوگ پیچھے رہ گئے جو ہم سے زیادہ آپ کو چاہتے ہیں اگر وہ یہ جانتے کہ مقابلہ پیش آئے گا تو پیچھے نہ رہتے بلکہ یہاں آن کر آپ کی مدد کرتے آنحضرت ﷺ نے سعد ؓ کی تعریف کی اور دعا دی انہوں نے چھپر ڈال دیا جس میں آنحضرت اور ابوبکر بیٹھ گئے اور ان کے ہمراہ اور کوئی نہ تھا صبح کو قریش کوچ کر کے سامنے آئے اور مقابلہ ہوگیا اس کو اللہ پاک نے فرمایا کہ ہم نے بغیر میعاد کے دونوں لشکروں کو جمع کردیا تھا کہ حق وناحق ظاہر ہوجاوے تمہیں فتح نصیب ہو اور دشمنوں کو شکست ہو اور ایمان اور کفر علیحدہ علیحدہ ہو کر پھر کسی کو کچھ شک وشبہ باقی نہ رہے پھر فرمایا جس کو زندہ رکھنا تھا اسے زندہ رکھا اور جسے ذائقہ موت چکھانا تھا اسے نیست ونابود کیا پھر آیت کو ان لفظوں پر ختم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سمیع علیم ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے تمہارے دعائیں سن لیں اور تمہاری حاجتیں پوری کردیں وہ تمہاری کمزوری جانتا تھا تم اپنے دشمنوں سے بہت کم تھے مگر اس نے پوری پوری مدد پہنچائی صحیح بخاری میں کعب بن مالک ؓ کی حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بدر کے سفر کے وقت فقط ابوسفیان کے قافلہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کر کے مدینہ سے نکلے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے ارادہ کے موافق مسلمانوں اور قریش کی فوج کا مقابلہ کرادیا صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے ایک دن آنحضرت ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل اور اس کے چند ساتھیوں نے مشورہ کر کے آنحضرت ﷺ کی پیٹھ پر نجاست کی بھری ہوئی اوجھڑی ڈال دی اور آپ نے نماز سے فارغ ہونے کہ بعد ان لوگوں کے نام لے لے کر ان پر بددعا کی عبداللہ ؓ بن مسعود اس قدر قصہ کی روایت کے بعد قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جن لوگوں پر بدعا کی تھی وہ سب مارے گئے امیہ بدر کی لڑائی میں بچ گیا لیکن پھر دیوانہ ہو کر بڑی خرابی سے مرا ان حدیثوں کو آیت کے ٹکڑے لیقضی اللہ امرا کان مفعولا کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت کے اس ٹکڑے اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب ہوا کہ بدر کے سفر کے وقت اگرچہ مسلمانوں کا ارادہ مشرکوں کی فوج سے لڑنے کا نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے ارادہ ازلی میں یہ تھا کہ وہ اپنے رسول کی کئی برس پہلے کی بددعا کا اثر لوگوں کو دکھلاوے اس لئے اس نے مسلمانوں کے ارادہ کے بغیر اس لڑائی کا موقعہ پیش کرا دیا اور جن صحابہ نے اللہ کے رسول کی بدعا کا موقعہ دیکھا تھا کئی برس کے بعد ان کو اس بدعا کے اثر کا موقعہ بھی دکھا دیا سمیع علیم مطلب ہے کہ کئی برس پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی بددعا سن لی تھی اور وہ بددعا قبول بھی ہوگئی تھی لیکن علم آلہی میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس لئے اپنے وقت پر اس بدعا کے اثر کا ظہور ہوا :۔
Ayahs 8:43–44

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے۔ لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچالیا۔ بیشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام کرنا منظور تھا اسے کر ڈالے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے۔

43۔ 44۔ مجاہد کہتے ہیں کہ لڑائی کے شروع ہونے سے پہلے اللہ پاک نے دشمنوں کے متعلق حضرت ﷺ کو ایک خواب دکھایا کہ وہ لوگ بہت ہی تھوڑے آدمی ہیں آپ نے اس خواب کو اپنے اصحاب سے بیان کیا وہ لوگ حضرت کے خواب کو سچا سمجھا کرتے تھے اس لئے یہ خواب سن کر ان کے دل مضبوط ہوگئے اور جرأت ان کی بڑھ گئی اور اگر خواب میں ان کی پوری تعداد دکھلا دی جاتی اور وہی خواب اللہ کے رسول لوگوں کے روبرو بیان کرتے تو ان کے جی پہلے ہی چھوٹ جاتے معرکہ جنگ میں شریک نہ ہوتے آپس میں جھگڑا ہونے لگتا بعضے لڑائی میں شرکت چاہتے اور بعضے لڑائی کے ٹال دینے کو ترجیح دیتے اسی کو اللہ پاک نے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے اللہ نے خواب میں کفار کی تھوڑی تعداد تمہیں دکھلائی تاکہ سب مسلمان لڑائی کے ارادہ سے مستعد رہیں اور آپس میں تنازع نہ ہونے پائے کیونکہ اللہ پاک دلوں کی حالت کا علم رکھتا ہے ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کفار میری آنکھوں میں جتنے معلوم ہوئے اس کا اندازہ میں کرتا تھا کہ ستر آدمی ہونگے ایک شخص میرے پاس کھڑا تھا میں نے اس سے اپنا اندازہ بیان کیا وہ بھی کہنے لگا کہ ہاں سو کے قریب ہوں گے پھر جب ہم نے کفار کے ایک آدمی کو گرفتار کیا اور اس سے پوچھا کہ سب کتنے آدمی تھے تو اس نے کہا کہ ہم ہزار آدمی تھے اللہ پاک نے مسلمانوں کی نظروں میں بھی عین معرکہ جنگ میں کفار کی تعداد کم دکھلا دی اور آپکا خواب سچا کردیا اور کفار کی آنکھوں میں بھی مسلمان تھوڑے معلوم ہوئے کیونکہ اگر ان کو یہ معلوم ہوجاتا کہ یہ لوگ بہت ہیں تو میدان جنگ میں نہیں ٹھہرتے بھاگ جاتے اور خدا کو اپنی بات پوری کرنی تھی وہ وعدہ کرچکا تھا کہ ایک قافلہ ان دونوں میں سے تمہارا ہے اور مسلمانوں کو عزت دینی تھی سرخرو کرنا تھا اپنا بول بالا رکھنا مقصود تھا خالص اپنا دین قائم کرنا تھا۔ پھر جب معرکہ کا بازار گرم ہوگیا تو اللہ پاک نے مسلمانوں کی مدد کو فرشتے بھیج دئے جس کا ذکر پہلے اس سورة اور سورة آل عمران میں مفصل گذر چکا ہے پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ کل امور خدا ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں کچھ وہ حکم دیتا ہے وہی ہو کے رہتا ہے بندے ہزار چاہیں کچھ ہی کیا کریں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس میں اس بات کی تنبیہ کی گئی ہے کہ دنیوی امور مقصود نہیں ہیں خدا کے نزدیک وہی بات پسند ہے جس سے آخرت درست ہو صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بھی العاص ؓ کی یہ حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے صحیح بخاری کے حوالہ سے کعب بن مالک ؓ کی یہ حدیث بھی گذر چکی ہے کہ مسلمان مدینہ سے جب نکلے تو ان کا ارادہ فقط ابوسفیان کے تیس آدمیوں کے قافلہ پر حملہ کرنے کا تھا مکہ سے ہزار آدمیوں کی مشرکوں کو فوج کے آجانے کی مسلمانوں کو خبر نہیں تھی صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ کی ایک بڑی حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر ایک خواب کا ظہور اس طرح یقینی طور پر ہوا کرتا تھا جس طرح ہر ایک رات کے بعد صبح کا ہونا یقینی ہے ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ بدر کے مقام پر مسلمانوں اور مشرکوں کی لڑائی کا ہونا لوح محفوظ میں لکھا جاچکا ہے اور یہ لکھا جا چکا تھا کہ بغیر پہلے سے تیاری کرنے کے تین گنی فوج سے جب مقابلہ ہوگا تو مسلمانوں کے دل پر ہراسگی چھا جاوے گی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے خواب میں دشمنوں کی تعداد گھٹادی تاکہ مسلمان لوگ اس خواب کو سن کر مستعدی سے دشمنوں کا مقابلہ کریں کیونکہ اس بات کو مسلمان لوگ با رہا آزما چکے تھے کہ اللہ کے رسول کا ہر ایک خواب ہمیشہ یقینی ہوتا ہے علاوہ اس کے اس خواب کے سچے ہونے کا یقین یوں ہی اللہ تعالیٰ نے بڑھا دیا کہ مسلمانوں کی نظروں میں بیک دشمنوں کی تعداد گھٹادی یہاں یہ خواب حقیقت میں یوں سچا تھا کہ ان مکہ کے مشرکوں میں سے فتح مکہ تک بہت سے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے تھے اس واسطے خالص دشمنوں کی تعداد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کو دکھلایا جو حالت شرک پر مارے گئے جس طرح رسولوں کی وحی میں شیطان کا دخل نہیں ہونے پاتا یہی حال رسولوں کے خواب کا ہے اس واسطے رسولوں کے خواب سب سچے ہوتے ہیں عام مسلمانوں کے خواب میں یہ بات نہ تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کی حکمت اس بات کی مقتضی ہوئی کہ اس نے عام مسلمانوں کی نظروں میں ایک خاص تاثیر پیدا کردی جس سے بہت سے دشمن انہیں تھوڑے نظر آئے :۔
Ayahs 8:45–46

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

مومنو ! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور خدا اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلو (اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کی مددگار ہے۔

45۔ 46۔ اوپر کی آیتوں میں اس مدد کا ذکر تھا جو اس لڑائی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچی اب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو میدان جنگ کے آداب سمجھائے ہیں عبداللہ ؓ بن اوفی کی ایک حدیث صحیحین میں ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو تم دشمنوں سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو خدا سے عافیت چاہتے رہو اور جب دشمن سے مقابلہ ہوجاوے تو صبر اختیار کرو اور جان لو کہ جنت تلوار کے سایہ میں ہے آیتوں اور حدیث کو ملا کر مطلب یہ ہو کہ اے مسلمانوں جب کسی جماعت دشمن سے مقابلہ کرو تو صبر و سکون کو کام میں لاکر اپنے قدم اس معرکہ میں ثابت رکھو اور خدا کو یاد کرتے رہو اور بہت یاد کرو جس سے تمہیں فلاحیت ہوگی لڑائی کے وقت ذکر کا حکم اس لئے فرمایا کہ گھبراہٹ کے وقت خدا کا ذکر مددگار بنے اور بعضے مفسریہ کہتے ہیں کہ ذکر سے مراد دعا کا کرنا ہے جس طرح اصحاب طالوت نے یہ دعا کی رَبَّنَا اَفْرِغُ عَلَیُنَا صَبْرً اوَّثَبِّتْ اَقُدَ اَمَنا وَانُصُرُنَا عَلَی الْقَومِ اُلکَافِرِیْنَ 2/360 معتبر سند سے ابوداؤد مستدرک حاکم میں سہل ؓ بن سعد کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دین کی لڑائی کے وقت آدمی جو دعا کرے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ اس حدیث سے آخری قول تائید ہوتی ہے پھر یہ فرمایا کہ ہر حال میں خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو ورنہ تمہاری رائے مختلف ہوجائیں گی اور تم میں نامردی آجائے گی اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی اور فتح یابی رائگاں ہوجائیگی قتادہ کہتے ہیں تذھب ریحکم کے معنے مدد غیبی کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تفرقہ کے پیدا ہوجانے سے پھر تمہیں غیب سے مدد نہ ملے گی پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ لڑائی میں صبر کرو کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جب خدا ساتھ ہوگیا تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا ہے سورة آل عمران میں گذر چکا ہے کہ احد کی لڑائی کے وقت مدینہ کے اندر سے لڑنے اور مدینہ کے باہر جاکر لڑنے میں صحابہ مختلف ہوئے پھر تیرا نداز لوگوں نے آنحضرت ﷺ کا بتلایا ہوا پہاڑ کا ناکہ چھوڑ دیا غرض احد کی لڑائی سے تیرہ مہینے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں مسلمانوں کو لڑائی کے وقت ایسی باتوں سے روکا تھا لیکن تقدیر الہی کے موافق احد کی لڑائی کے وقت اس ممانعت کا خیال مسلمانوں کو نہ رہا اس واسطے اس لڑائی کا انجام اچھا نہیں ہوا سختی کے وقت صبر کرنے کا یہ مطلب ہے کہ گویا آدمی اس سختی کی کشایش کو اللہ تعالیٰ کی مرضی پر چھوڑتا ہے اسی واسطے فرمایا کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جس کا یہ مطلب ہوا کہ جو شخص اپنی سختی کی کشایش کو اللہ کی مرضی پر منحصر رکھے گا اللہ اس کی سختی کی کشایش میں اس کے ساتھ اور اس کی مدد کو موجود ہے اس لئے صحیح بخاری اور مسلم میں ابوسعید خدری ؓ کی جو ایک حدیث ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ صبر سے بڑھ کر کوئی اچھی چیز آدمی کو نہیں دی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صبر کا دنیا میں تو یہ مرتبہ ہے کہ صبر کرنے والے شخص کے ساتھ اللہ ہے اور عقبیٰ میں صبر کا وہ اجر ہے کہ جس کا حساب اور اندازہ سوا اللہ کے کسی کو معلوم نہیں چناچہ طبرانی کبیر میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اور عملوں کا اجر تو حساب سے ملے گا لیکن صبر ایسی چیز ہے جس کا اجر صبر کرنے والوں کو اس دن بےحساب ملے گا یہ حدیث آیت اِنَّما یُوَفّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ (39: 10) کی گویا تفسیر ہے۔
Ayah 8:47

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لئے) اور لوگوں کو دکھانے کے لئے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

47۔ تفسیر ابن جریر تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے دن شام کی طرف سے قافلہ جو مشرکین مکہ کی تجارت کا مال لارہا تھا جب وہ قافلہ مسلمانوں کے ہاتھ سے بچ گیا تو ابوسفیان نے ابوجہل سے کہا تھا کہ تم لوگ مکہ سے اپنے قافلہ کی مدد کو آئے تھے اب قافلہ تو بچ گیا چلو مکہ کو واپس چلنا چاہئے ابوجہل نے کہا نہیں تین روز بدر میں ٹھہریں گے اور شراب پیویں گے اور کئی کئی اونٹ روز ذبح کریں گے اور گانے والی چھوکریاں جو ہمارے ساتھ ہیں ان کا گانا سنیں گے جس سے لوگوں پر ذرا ہمارا رعب پڑیگا چناچہ اس کے موافق بدر پر مقام ہوا اور نتیجہ اس شیخی مارنے اور اترانے کا یہ ہوا کہ بجائے شراب کے جام کے جام مرگ ستر آدمیوں کے ساتھ ابوجہل کو پینا پڑا اور بجائے گانے کے ہر طرف نوحہ کی آواز بلند ہوئی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو اس طرح کے اترانے سے منع فرمایا صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں عبداللہ بن عمر ؓ ابوہریرہ ؓ کی روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا انسان کا اترانا اللہ تعالیٰ کو اس قدر ناپسند ہے کہ پچھلی امتوں میں کے بعضے اترانے والے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں دھنسا دیا آیت میں اترانے کی جو ممانعت ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گذر چکی ہے کہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے آنحضرت ﷺ کو مکہ میں نماز پڑھتا ہوا دیکھ کر آپ کی پیٹھ پر اوجھڑی ڈال دی تھی یہ حدیث اور اس قسم کی بہت سی حدیثیں ویصدون عن سبیل اللہ کی تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ طرح طرح سے اللہ کے رسول اور مسلمانوں کو اللہ کے راستہ سے روکتے تھے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبد اللہ ؓ بن عمرو بن العاص کی حدیث گذر چکی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اس حدیث سے واللہ بمایعلون محیط کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے :۔
Ayah 8:48

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کو دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل (صف آرا) ہوگئیں تو پسپا ہو کر چل دیا۔ اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے اور خدا سخت عذاب کرنیوالا ہے۔

48۔ طبرانی ‘ مغازی محمد بن اسحاق اور تفسیر ابن ابی حاتم میں شان نزول اس آیت کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو کچھ بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب مشرکین مکہ نے اپنے تجارتی قافلہ کی مدد کی غرض سے مکہ سے نکلنے کا ارادہ کیا تو بہ سبب اس کے کہ مشرکین مکہ سے اور قبیلہ بنی بکر سے مدت سے عداوت تھی اس لئے مشرکین مکہ کے جی میں یہ خیال گذرا کہ ایسا نہ ہو آج پچھلی عداوت کے سبب سے قبیلہ بنی بکر بھی ہماری مخالفت پر کھڑا ہوجاوے اس صورت میں لشکر اسلام اور قبیلہ بنی بکر دو لشکروں سے ہم کو مقابلہ کرنا پڑے اس خیال سے مشرکین مکہ سے نکلنے میں ذرا پس وپشل کر رہے تھے شیطان نے اتنے میں کیا دھوکا دیا کہ بنی کنانہ قبیلے کے سردار سراقہ ابن مالک کی صورت میں مشرکین کے پاس آیا اور کہا کہ میں تمہارا حامی اور مددگار ہوں کوئی قبیلہ بنی بکر وغیرہ تم پر چڑھ کر نہ آسکے گا اور آج تمہارا وہ جماؤ اور زور ہے کہ تم پر دنا میں کوئی آج کے روز غالب نہیں آسکتا یہ کہہ کر اپنے ان ساتھیوں کو لے کر جو ظاہر میں بنی کنانہ کے قبیلہ کے لوگ دکھلائی دیتے تھے اور حقیقت میں وہ شیاطین تھے شیطان بدر کے مقام تک مشرکوں کے لشکر کے ساتھ رہا جب لڑائی کے وقت ملائکہ اس کو مسلمانوں کے لشکر کی طرف نظر آئے اس وقت بےتحاشہ یہ کہتا ہوا بھاگا کہ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم کو نظر نہیں آتا بدر کی لڑائی کے بعد جب سراقہ بن مالک سے لوگوں نے اس کے بھاگنے کا قصہ بیان کیا اس نے قسمیں کھائیں کہ میں ہرگز بدر نہیں گیا نہ مجھ کو اس لڑائی کی خبر ہے پھر پھیچے ان لوگوں کو اسلام لانے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ شیطان تھا اس قصے کے بیان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر طرح سے بہکانے کے غرض سے شیطان آدمی کے تمام جسم میں اس طرح دوڑتا پھرتا ہے جس طرح ہر شخص کے جسم میں خون دوڑتا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص نماز کے لئے اٹھنے کا قصد کرتا ہے تو شیطان اس شخص کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ ابھی بہت رات ہے نماز کا وقت دور ہے اس لئے ابھی سوجانا چاہئے معتبر سند سے ترمذی مستدرک حاکم وغیرہ میں حارث اشعری ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا شیطان کے بہکاوے سے بچنے کے لئے یاد الٰہی ایسی چیز ہے جیسے کسی زبردست دشمن کے حملے سے بچنے کے لئے کوئی قلعہ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیثوں کو ملانے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ آزمائش کے طور پر اللہ تعالیٰ نے شیطان کو بہت بڑا قابو انسان کے پہکانے کا دیا ہے جس قابو کے سبب سے وہ طرح طرح کے دھوکے انسان کو دیتا ہے مثلا اس نے سراقہ بن مالک کا بھیس بدل کر اہل مکہ کو دھوکہ دے دیا اور نماز کے لئے اٹھنے والے شخص کو یوں بہکا دیا کہ ابھی بہت رات ہے ٹھہر کر اٹھنا چاہئے اسی طرح اس کے بہکانے کی ہزاروں صورتیں ہیں چناچہ حافظ عبدالرحمن ابن جرزی (رح) نے اس باب میں تلبیس ابلیس ایک بہت بڑی کتاب تصنیف کی ہے غرض دھوکے کی صورتوں کو اصلی صورتوں کے ڈھنگ پر لا کر جو انسان کو شیطان بہکاتا ہے اسی کو واذزین لہم الشیطان اعمالھم فرمایا ہے اس موذی کے پھندے سے بچنے کا وہی علاج ہے جس کا ذکر حارث اشعری (رح) کی صحیح حدیث میں ہے کہ یاد الٰہی سے بڑھ کر کوئی علاج اس پھندے سے بچنے کا اسی طرح دنیا میں نہیں ہے جس طرح دشمن کے حملے سے بچنے کے لئے کسی مقبوط قلعہ کی پناہ کے سوا اور کوئی علاج نہیں اب یاد الٰہی کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ ہے کہ جب یہ موزی بہکانے کا قصد کرے اسی وقت ایماندار شخص کو چاہیے کہ اس موزی کو اپنا قدیمی دشمن سمجھ کر کسی طرح کی یاد الٰہی میں مشغول ہوجاوے جس سے یہ موذی بھاگ جاوے گا اور اس کو بہکانے کا موقع نہ ملے گا دوسری صورت یہ ہے کہ اگر اتفاق سے کوئی شخص اس موذی کے پھندے میں پھنس کر کوئی گناہ کر بیٹھے تو ایسے شخص کو فورا ابو سعید ؓ خدری کی اس صحیح حدیث کے موافق عمل کرنا چاہئے جو مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ایک جگہ گذر چکی ہے حاصل مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ جب شیطان ملعون ٹھہرایا تو اس نے اللہ تعالیٰ کے جاہ و جلال کی قسم کھاکر یہ کہا کہ جہاں تک اس سے ہو سکے گا یہ بنی آدم کے بہکانے میں کوتاہی نہ کرے گا اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر یہ فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو گناہ گار شخص کسی طرح کے گناہ کے بعد خالص دل سے توبہ و استغفار کریگا تو میں بھی اس کے ہر طرح کے گناہوں کے معاف کردینے میں کبھی دریغ نہ کروں گا آیت کے ٹکڑے انی اخاف اللہ واللہ شدید العقاب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سخت ہونا معلوم ہے اور اس ملعون کو اس عذاب کا خوف بھی ہے لیکن اس سبب سے کہ وہ ملعون علم الٰہی میں گمراہ ٹھہر چکا ہے اس کے اس خوف نے اسے اس ازلی گمراہی سے نہیں بچایا بنی آدم میں سے جو لوگ ازلی گمراہ ٹھہر چکے ہیں ان کا بھی یہی حال ہے کہ عقبے کے خوف کی کوئی نصیحت ان کے دل پر کچھ اثر نہیں کرتی :۔
Ayah 8:49

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے۔

49۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب مسلمانوں کی فوج کفار کی فوج سے قریب ہوئی اور اللہ پاک نے مسلمان کو کفار کی نظر میں اور کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا دکھلا دیا تو مشرک کہنے لگے کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہو کر باوجود اس تھوڑی سی تعداد کے لڑنے آئے ہیں اس پر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس کمی اور بیشی پر نہ جاؤ خدا پر جو بھروسہ کرتا ہے اسے سرخروئی ہوتی ہے خدا بڑا زبردست اور حکمت والا ہے ابوجہل نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب کو تھوڑا دیکھ کر سرکشی کی راہ سے بات بھی کہی تھی کہ آج تک تو خیر مگر آج کے بعد پھر کبھی اللہ کی عبادت خالص نہ کی جائے گی کیونکہ وہ مشرک یہ سمجھے ہوئے تھے کہ ہم غالب ہوں گے اور مسلمان پسپا ہوں گے پھر کوئی نہ خالص آپ پر ایمان لاویگا نہ خالص عبادت ہوگی زمین پر۔ تفسیر کلبی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں یہ بھی ہے کہ مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ظاہر میں اسلام لائے تھے مگر ان کا اسلام پکا نہ تھا یہ لوگ بھی ابوجہل کے ساتھ لڑائی کو آئے تھے اور مسلمانوں کی قلت دیکھ کر کہنے لگے یہ لوگ اپنے دین پر مغرور ہو کر باوجود اس قلت کے لڑائی میں پیش قدمی کر کے آئے ہیں ان باتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ یہ ایمان دار لوگ مغرور نہیں ہیں بلکہ اللہ کی ذات پر بھروسہ کر کے یہ لوگ لڑائی میں اس طرح کی پیش قدمی کر رہے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ لڑائی کے شروع ہونے سے پہلے ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے بہت سی باتیں مغرور اپنے اور اترانے کی منہ سے نکالیں صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر ؓ اور ابوہریرہ ؓ کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں کہ انسان کا اترانا اللہ کو بہت پسند ہے اور آیت ان اللہ مع الصبرین کی تفسیر میں صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے سعید خدری ؓ کی حدیث کا یہ مطلب بھی گذر چکا ہے کہ صبر و تحمل کو کام میں لاکر جو شخص اپنی کسی سختی کی کشایش کا بھروسہ اللہ پر کریگا اور اپنی اس کشایش کو اللہ کی مرضی پر منحصر رکھے گا تو اس سے بڑھ کر کوئی اچھی چیز دنیا میں آدمی کے لئے نہیں ہے ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب ہوا کہ مشرکین مکہ نے لڑائی کے شروع ہونے سے پہلے غرو پنے اور اترانے کی باتیں جو منہ سے نکالی تھیں ان کی وہ باتیں اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوئیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے غرور کو یوں ڈھایا کہ اس لڑائی میں ان کو بڑی بھاری شکست ہوئی اور مسلمانوں نے اپنی لڑائی کا انجام اللہ کو سونپا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے طرح طرح سے ان کی مدد فرمائی جس کے سبب سے ان کو بہت بڑی فتح نصیب ہوئی اور دین اور دنیا میں ان کی عزت اور آبرو بڑھی مسند امام احمد میں جابر ؓ گی صحیح حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بدر کی لڑائی میں جتنے صحابہ ؓ موجود تھے قیامت کے دن ان میں سے کوئی شخص دوزخ میں نہ جاویگا صحیح بخاری میں رفاعہ بن را ؓ فع کی حدیث ہے جس میں جبرائیل (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ جس طرح بدری صحابہ کو زمین پر عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے آسمان پر اسی طرح ان فرشتوں کا حال ہے جو بدر کی لڑائی میں لشکر اسلام کی مدد کو آئے تھے یہ حدیثیں اور اسی قسم کی اور حدیثیں میں جن سے بدری صحابہ کی دین و دنیا کی عزت اور آبرو کا حال معلوم ہوتا ہے۔
Ayahs 8:50–51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں۔ ان کے من ہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (اب) عذاب آتش (کامزہ) چکھو۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ ان (اعمال) کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یہ (جان رکھو) کہ خدا (بندوں پر) ظلم نہیں کرتا

50۔ 51۔ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب مشرکین مسلمانوں کی طرف منہ کرتے تھے تو سامنے سے مسلمانوں کی تلوار پڑتی تھی اور جب پیٹھ پھیرتے تھے فرشتے پیچھے سے مارتے تھے بدر کی لڑائی میں جو مشرک مارے گئے یہ تو ان پر فرشتوں کی مار کے پڑنے کا حال ہے عام مشرکوں کا بھی یہی حال ہے کہ اللہ کے فرشتے جب ان کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو ان کو مارتے پیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب عذاب الٰہی کا مزہ چکھو چناچہ ایک جگہ ابوداؤد اور مسند امام احمد کے حوالہ سے برائ بن عازب ؓ کی ایک صحیح حدیث اس باب میں گذر چکی ہے بھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ یہ لوگ کرتے تھے یہ اسی کا عوض اور خمیازہ ہے اللہ نے کوئی ظلم ان پر نہیں کیا کیونکہ ان کی عادت ظلم کی نہیں ہے وہ ظلم سے بالکل پاک ہے صحیح مسلم میں ابوذر ؓ کی ایک حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ پاک نے ظلم کی اپنی ذات پر حرام کرلیا ہے اور تمہارے واسطے بھی اس کو حرام کردیا ہے اور لئے تم آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ عبداللہ بن عمر ؓ اور ابوہریرہ ؓ کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو انسان کا اترانا بہت ناپسند ہے اور اوپر کی آیتوں میں مشرکین مکہ کے اترانے کا حال بھی گذر چکا ہے ان آیتوں ‘ حدیثوں اور ابوذر ؓ کی اوپر کی حدیث کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے آیت کی تفسیر کا یہ حاصل مطلب ہے کہ مشرکین مکہ نے لڑائی کے شروع ہونے سے پہلے اترانے کی باتیں کی تھیں اور انسان کا اترانا اللہ تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان اترانے والوں کو یہ سزادی کی اس لڑائی میں آدمی اور فرشتے دونوں ہتھیاروں کا انہیں نشانہ بنایا اس واسطے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ ان لوگوں نے جیسا کیا اس کا بدلہ پایا :۔
Ayah 8:52

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی انکا ہوا کہ) انہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا تو خدا نے ان کے گناہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لیا۔ بیشک خدا زبردست (اور) سخت عذاب دینے والا ہے۔

52۔ اللہ پاک نے کفار بدر کے عذاب کے ذکر فرمانے کے بعد مشرکوں کو پہلی امتوں کا عذاب یاد دلا کر فرمایا کہ ان مشرکین مکہ کو جو ہم نے ان کی گمراہی اللہ کے آیتوں اور اس کے رسول کے جھٹلانے کے سب سے بدر کی لڑائی میں ہلاک کردیا یہ کوئی نئی بات نہ تھی بلکہ ہمیشہ سے یہی عادت الٰہی ہے کہ جو قومیں ان سے پہلے گذریں جو کفر کرتی گئیں اور انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا پھر فورا اس خطا پر اللہ نے انہیں پکڑلیا اللہ پاک بہت یہی قوی ہے اس کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا ہے اور اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے اس سے کوئی بھاگ بھی نہیں سکتا ہے معتبر سند سے مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مشرکین مکہ کے بڑوں میں ایک شخص عمر وبن لحی تھا پہلے پہل اس نے ملت ابراہیمی کو بدل کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی اور جب سے پشت درپشت مکہ میں بت پرستی چلی آتی ہے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب ہوا کہ مشرکین مکہ کی کئی پشت سے مکہ میں بت پرستی چلی آتی تھی اس لئے وہ لوگ اس کو ایک قدیمی بات سمجھتے تھے اور اس کی حمایت میں قرآن اور اللہ کے رسول کو جھٹلانا ایک معمولی بات جانتے تھے حاصل یہ ہے کہ جس طرح ایک تاریخی ثبوت کے طور پر یہ لوگ عمر وبن لحی کے زمانے سے بت پرستی کی قدامت نکالتے تھے اور اس کے مقابلہ میں شریعت الٰہی کو ایک جدید چیز جان کر اسے جھٹلاتے تھے اسی طرح تاریخی ثبوت سے اللہ تعالیٰ نے بدر کی لڑائی سے بچے ہوئے مشرکوں کو اس آیت میں قائل کیا اور فرمایا کہ عمر وبن لحی کا زمانہ توکل کی بات ہے پہلے صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے اگرچہ یہ بت پرستی کی بلا چلی آتی ہے لیکن کسی زمانہ میں اس کی قدامت کو اللہ تعالیٰ نے قائم نہیں رکھا بلکہ نوح (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر فرعون کے زمانہ تک جس جس قوم میں یہ شرک کا جرم پھیلا اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی سزا میں ان سب قوموں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اس بدر کی لڑائی میں بھی ان مشرکین مکہ کے بڑے بڑے سرکشوں نے قتل اور قید کی ذلت جو اٹھائی وہ بھی پہلے کے موافق اسی جرم کی سزا تھی۔ اس لڑائی میں اس جرم کے جو مجرم ذلت سے بچ گئے ہیں ان میں سے جو لوگ اس جرم سے آئندہ باز آئے وہ تو ذلت سے بچ جاویں گے اور جو اس جرم میں گرفتار رہے ان کے نصیب میں آخر کو یہی ذلت لکھی ہے اللہ سچا ہے اور اس کا کلام سچا ہے فتح مکہ تک مشرکین مکہ میں سے جو لوگ شرک چھوڑ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے وہ ذلت سے بچ گئے اور جو اپنی قدیمی حالت پر رہے انہوں نے نہات ذلت سے آخر کو اپنی بستی اہل اسلام کے قبضہ میں دے دی اور سوا شرک کے چھوڑنے اور اسلام قبول کرنے کے ان کو اور کچھ بن نہ آیا اس سے بڑھ کر مشرکین مکہ کی اور کیا ذلت ہوسکتی ہے کہ مکہ اور اطراف مکہ میں ان کے تین 360 سو ساٹھ بت جو رکھے تھے جن کو یہ مشرک لوگ اپنا معبود جانتے تھے فتح مکہ کے دن آنحضرت ﷺ نے ہاتھ میں لکڑی مار مار کر ان بتوں کو گرا دیا اور کوئی مشرک اپنے ان معبودوں کی کچھ حمایت نہ کرسکا صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود ؓ اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں ان بتوں کے گرانے کا پورا قصہ ہے :۔
Ayahs 8:53–54

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا۔ اور اس لئے کہ خدا سنتا جانتا ہے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا) انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کی جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ اور وہ سب ظالم تھے۔

53۔ 54۔ اللہ پاک نے اس آیت میں یہ فرمایا کہ ان کفار پر جو عذاب آیا جنگ بدر میں قتل و غارت ہوئے مسلمانوں کی قید میں آئے ان کے مال لوٹ لئے گئے اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی حالت خود بدل دی عمر وبن لحی نے ملت ابراہیمی کو بدل کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی جس میں ان کے بڑے مبتلا ہوئے حال کے لوگ اپنے بڑوں کے قدم بقدم چلے اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے فورا ان کو ہلاک نہیں کیا بلکہ ان کی حالت کو درست کرنے کے لئے نبی آخر الزمان کو بھیجا قرآن نازل فرمایا تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں جو روایتیں ہیں ان میں ہے کہ یہاں نعمت سے مطلب حضرت رسول مقبول ﷺ ہیں کیونکہ اللہ پاک نے یہ نعمت اہل مکہ کو دی تھی آپ کو رسول بنا کر ان لوگوں میں بھیجا تھا ان لوگوں نے آپ کی کچھ قدرنہ کی آپ کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آئے اس لئے اللہ پاک نے اپنے رسول کو مکہ سے مدینہ انصار کے پاس بھیج دیا اس کے بعد پھر اہل مکہ پر بدر کی آفت آئی اس لئے کہ اللہ پاک ہر ایک قوم کی باتوں کو سنتا ہے اور ہر شخص کے عمل کو جانتا ہے پھر بطور تاکید کے قوم فرعون اور پہلی امتوں کا حاصل بیان فرمایا انہیں کفار کی طرح فرعون اور دوسری امتوں کے پاس بھی اللہ تعالیّٰ نے رسول بھیجے اور کتابیں اتریں خیر و برکت کا دروازہ ان پر کھول دیا طرح طرح کی نعمت ان کو عطا کی مگر ان لوگوں نے اس کا شکر نہ ادا کیا بلکہ اللہ کے رسولوں اور اللہ کے کلام کو جھٹلایا اس لئے اللہ نے انہیں ہلاک کردیا کسی کو آدمی سے بندر بنا دیا کسی پر پتھر برسائے اور سب سے آخر پر فرعون کو دریا میں غرق کرکے ہلاک کیا اسی طرح ان کفار مکہ کو تلوار سے قتل کرا دیا یہ کل قومیں جو اپنے ہی کردار بد کی وجہ سے ہلاک ہوئی یہ سب کے سب ظالم تھیں اپنی جانوں پر خود انہوں نے ظلم کیا اور دوسروں پر بھی یہ ظلم کیا کہ انہیں گمراہ کردیا جس طرح عمر وبن لحی نے مکہ میں بت پرستی نکالی جس سے خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ کسی قوم کو جو نعمت عطا کرچکا بغیر کسی ناشکری کے اس قوم سے وہ نعمت چھین لیوے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ ؓ اشعری کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی بردبار نہیں ہے لوگ اس کی عبادت میں اوروں کو شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کو صاحب اولاد کہتے ہیں اور وہ اپنی بردباری سے ان کی صحت عافیت اور رزق کے انتظام میں کچھ خلل نہیں ڈالتا اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب ہوا کہ اگرچہ عمرو بن لحی کے زمانہ سے مشرکین مکہ نے اللہ کے گھر میں شرک پھیلا رکھا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے بدر کی لڑائی تک ان پر کوئی آفت نازل نہیں فرمائی ہاں جب دن بدن ان کی سرکشی بڑھتی گئی تو بدر کی لڑائی میں اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی کو ڈھایا پچھلی قوموں کی ہلاکت میں فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت سب سے آخر ہے جس کے سبب سے عرب کے کان اس قصہ سے زیادہ آشنا تھے اس لئے پہلی آیت اور اس آیت میں اس قصہ کا ذکر تنبیہ کے طور پر دو دفعہ فرمایا۔ 1 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 576 باب قتل کعب بن الاشرف
Ayahs 8:55–58

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

جانداروں میں سب سے بدتر خدا کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں سو وہ ایمان نہیں لاتے۔

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

جن لوگوں سے تم نے (صلح کا) عہد کیا ہے پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں اور (خدا سے) نہیں ڈرتے۔

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

اگر تم انکو لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہوں وہ انکو دیکھ کر بھاگ جائیں۔ عجب نہیں کہ انکو (اس سے) عبرت ہو۔

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر تم کو کسی قوم سے دغا بازی کا خوف ہو تو (ان کا عہد) انہیں کی طرف پھینک دو (اور) برابر (کا جواب دو ) کچھ شک نہیں کہ خدا دغابازوں کو دوست نہیں رکھتا۔

55۔ 58۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں مجاہد سے اور تفسیر ابوالشیخ میں سعید بن جبیر سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت اور یہود بنی قریظہ کا یہ معاہدہ تھا کہ نہ وہ لوگ آنحضرت سے لڑیں گے نہ مسلمانوں کے دشمن کو مدد دینگے پہلے انہوں نے خلاف معاہدہ کر کے مشرکین مکہ کو ہتھیاروں کی مدد دی اور جب ان سے پوچھا گیا تو معاہدہ کے یاد نہ رہنے کا عذر کیا پھر دوبارہ معاہدہ کیا اور پھر معاہدہ کے برخلاف تمام قبائل عرب کو بہکا کر خندق کی لڑائی میں چڑھا لائے ان میں ایک شخص کعب بن اشرف شاعر بڑا شریر تھا مسلمانوں کی ہمیشہ ہجو کیا کرتا تھا یہ وہی کعب بن اشرف ہے جس نے مشرکین مکہ سے یہ کہا تھا کہ تمہارا دین مسلمانوں کے دین سے اچھا ہے محمد بن مسلمہ ؓ صحابی نے اس کو خاص طور پر اس کے گھر جاکر قتل کیا اور نو سو کے قریب بنی قریظہ کے لوگ جو تھے خندق کی لڑائی کے متصل ایک بڑے محاصرہ کے بعد سب کے سب کو ان کو گڑھے سے اتار کر ایک دم مسلمانوں نے قتل کر ڈالا اور کعب بن اشرف اور بنی قریظہ کے قتل کا قصہ تفصیل سے بخاری میں مذکور ہے اسے بنی قریظہ کی بدعہدی کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یہ کعب بن اشرف کے قتل کا قصہ تو صحیح بخاری میں جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت سے ہے یہ قتل 3 ہجری میں ہوا ہے بنی قریظہ کے قتل کا حکم سعد بن معاذ ؓ کے فیصلہ کے موافق جو آنحضرت ﷺ نے دیا ہے اس کا ذکر صحیح بختری میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے ہے اکثر سلف کا یہ قول ہے کہ بنی قریظہ کی تعداد نوسو کے قریب تھی۔ معتبر سند سے ترمذی نسائی اور صحیح بن حبان میں جابر ؓ کی روایت سے بنی قریظہ کی تعداد چار سو کی جو آئی ہے اس کے معنے علماء نے یہ بیان کئے ہیں کہ یہ تعداد ان میں کے جو ان آدمیوں کی ہے یہ بنی قریظہ کا قتل 4؁ ہجری میں ہوا ہے کیونکہ خندق کی لڑائی اسی 4؁ھ میں ہے اور اسی لڑائی سے واپس ہونے کے بعد بنی قریظہ پر چڑھائی ہوئی چناچہ حضرت عائشہ ؓ کی صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ خندق کی لڑائی سے واپس ہو کر ابھی آنحضرت ﷺ نے ہتھیار کھول کر فقط غسل کیا تھا کہ اتنے میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور بنی قریظہ پر چڑھائی کرنے کا حکم انہوں نے سنایا بنی قریظہ کی چڑھائی کے وقت کی عبداللہ ؓ بن عمر کی وہ حدیث ہے جدس میں بنی قریظہ کے مقام پر جلدی پہنچ جانے کی غرض سے آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے یہ فرمایا ہے کہ عصر کی نماز بنی قریظہ کے مقام سے دور نہ پڑھی جائے بخاری میں اس نماز کے ساتھ عصر کا لفظ ہے اور مسلم میں ظہر کا ان دونوں روایتوں کی مطابقت علماء نے یوں بیان کی ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے بنی قریظہ کی چڑھائی کا حال سن کر بنی قریظہ کے مقام پر روانہ کرنے کو جب آنحضرت ﷺ نے صحابہ کی طلبی کا حکم دیا تو بعضے صحابہ ظہر سے پہلے حاضر ہوگئے اور بعضے ظہر کے بعد آئے جو صحابہ ظہر سے پہلے آئے تھے ان کو آپ نے بنی قریظہ کے مقام پر ظہر کی نماز پڑھنے کا حکم دیا اور جو صحابہ ظہر کی نماز کے بعد آئے تھے ان کو عصر کی نماز کا۔ اس حکم کی تعمیل میں صحابہ کا اختلاف بھی ظہور آیا بعضوں نے وقت پر نماز راستہ میں پڑھ لی اور حکم کا مطلب یہ سمجھا کہ اس سے بنی قریظہ کے مقام پر جلدی پہنچ جانا مقصود ہے اور بعضوں نے بنی قریظہ کے مقام پر پہنچ کر بےوقت نماز پڑھی مگر آنحضرت ﷺ نے ان دونوں گروہ میں سے کسی کو کچھ اولاہنا نہیں دیا کیونکہ ان دونوں گروہ کی نیت بخیر اور دونوں کو اطاعت حکم رسول کا خیال تھا بعضے علماء نے لکھا ہے کہ ان دونوں گروہ میں سے فضیلت ان صحابہ کو ہے جنہو وں نے نماز کے وقت پر پڑھنے کے حکم اور بنی قریظہ کے مقام پر جلد پہنچ جانے کے حکم ان دونوں حکموں کو مدنظر رکھا شان نزول کے روایت میں تفسیر ابو الشیخ کا حوالہ جو اوپر گذرا یہ ابوالشیخ ابن حبان قدیم مفسروں میں ابن مردویہ اور حاکم کے رتبہ کے مفسر ہیں اور ان کی تفسیر کا شمار روایتی تفسیروں میں ہے روایتی تفسیریں وہ ہیں جن کا مدار صحابہ تابعین اور تبع تابعین کے اقوال پر ہے ان تفسیروں میں سے تفسیر ابن جریر میں یہ ایک بات زیادہ ہے کہ چند قولوں میں سے ایک قول کو ترجیح دی حافظ ابوجعفر ابن جریر نے اپنی اس تفسیر میں بیان کردی ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ہر انسان کو اپنے عہد کا پورا کرنا اور اس کو نباہنا لازم ہے کعب بن اشرف کے گروہ بنی قریظہ نے جو بدعہدی کی اور ان کے سردار کعب بن اشرف نے عہد کے برخلاف مشرکین مکہ کو مسلمانوں پر چڑھائی کے لئے آمادہ کیا تو یہ لوگ شان انسانیت سے خارج اور اللہ کے نزدیک سب جانداروں سے بدتر ہیں اس لئے لڑائی میں ایسے لوگوں پر جب قابو پالیا جائے تو ان کو ایسی سخت سزا دی جائے کہ اہل مکہ جو مخالفت اسلام میں ان بنی قریظہ کے پیروکار اور قدم بقدم ہیں وہ بھی عبرت پکڑیں اور بدعہدی سے دور بھاگیں اور علاوہ اس قوم کے جس قوم سے بدعہدی کا اندیشہ ہو تو اے رسول اللہ کے ایسی دغاباز قوم سے عہد کا قائم رکھا جانا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے اس لئے ایسی قوم کو عہد کے قائم نہ رہنے کی اطلاع دے دی جاوے تاکہ بدعہدی کا دھوکا باقی نہ رہے حاصل کلام یہ ہے کہ اگر کسی قوم سے بدعہدی کا اندیشہ ہو تو اے رسول اللہ کے ایسی دغاباز قوم سے عہد کا قائم رکھنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے اس لئے ایسی قوم کو عہد کے قائم نہ رہنے کی اطلاع دے دی جاوے تاکہ بدعہدی کا دھوکا باقی نہ رہے حاصل کلام یہ ہے کہ اگر کسی قوم سے بدعہدی کا فقط اندیشہ ہو تو آئندہ ایسی قوم سے عہد قائم نہ کیا جائے اور اگر کوئی قوم عہد کے بعد کھلم کھلا بدعہدی کر بیٹھے جس طرح مثلا بنی قریظہ کی بدعہدی کا ذکر اوپر گذرا یا مثلا مشرکین مکہ نے صلح حدیبیہ کی شرط کے برخلاف بدعہدی کی جس کا مفصل ذکر صلح حدیبیہ میں سورة انافتحنا کی تفسیر میں آوے گا اور کچھ ذکر اس کا سورة توبہ کی تفسیر میں بھی ہے تو ایسی صورت میں عہد کے ٹوٹ جانے کی اطلاع ضروری نہیں بلکہ ایسی صورت میں بدعہد قوم پر چڑھائی کا حکم ہے اس لئے بنی قریظہ پر اور فتح مکہ کے وقت مشرکین مکہ پر بغیر کسی اطلاع کے شروع سے لشکر اسلام کی چڑھائی عمل میں آئی سورة النساء میں گذر چکا ہے کہ بنی قریظہ کے سردار کعب بن اشرف نے مکہ جاکر مشرکین مکہ کو مسلمانوں پر چڑھائی کرنے کی ترغیب دلائی تھی اور اسی ترغیب کی بنا پر مشرکین کہ خندق کی لڑائی کے وقت چڑھائی کر کے آئے تھے اسی واسطے ان آیتوں میں مشرکین مکہ کو بنی قریظہ کے پیچھے فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ خندق کی لڑائی کے وقت بنی قریظہ کا سردار کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی گویا اس لڑائی کے بانی تھے اور مشرکین مکہ ان کے پیرو اور پچھلے تھے۔
Ayahs 8:59–60

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر یہ نہ خیال کریں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں۔ وہ (اپنی چالوں سے ہم کو) ہرگز عاجز نہیں کرسکتے۔

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور جہاں تک ہو سکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لئے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائیگا۔ اور تمہارا ذرا نقصان نہ کیا جائیگا۔

59۔ 60۔ اللہ پاک نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو یہ تسلی فرمائی کہ جنگ بدر سے جو کفار بچ کر بھاگ نکلے ہیں یہ خیال نہ کیا جاوے کہ ان پر پھر کوئی موقعہ ہاتھ نہ آویگا کیونکہ یہ لوگ اگرچہ اب بچ گئے ہیں مگر اللہ کو وہ عاجز نہیں کرسکتے وہ ہر وقت اللہ کے قبضہ میں ہیں تم ان کے واسطے سامان جنگ تیار رکھو اور جہاں تک ممکن ہو تیر اندازی کے ہنر کی مشقیں کرو آیت میں جو سن قوۃ کا لفظ ہے اس کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ قوۃ سے مطلب تیراندازی ہے عقبہ ؓ بن عامر کی حدیث جو مسلم وابن ماجہ و ابوداؤد میں ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس میں عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قوۃ تیرا ندازی کا نام ہے اور دو بار اسی طرح آپ نے فرمایا حضرت عبداللہ ؓ بن عباس کا بھی یہی قول ہے کہ قوت تیر اندازی اور لڑائی کے ہتھیاروں کے فراہم کرنے کو کہتے ہیں پھر اللہ جل شانہ نے تیراندازی اور باقی سامان جنگ کی تیاری کے بعد گھوڑوں کا ذکر فرمایا کہ لڑائی کے واسطے گھوڑے بھی پالو بخاری اور مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بعض شخصوں کے لئے گھوڑا اجر ہے اور بعضوں کے واسطے پردہ اور بعضوں کے لئے گناہ ہے جس شخص کے واسطے گھوڑا اجر ہے وہ شخص وہ ہے جس نے محض خدا کے واسطے کسی چرا گاہ یا باغ میں گھوڑا باندھ رکھا ہے وہ جو کچھ وہاں سے کھاتا پیتا ہے وہ سب اس شخص کی نیکیوں میں شمار ہوتا ہے اور لید اور پیشاب تک اس کی حق میں حسنات ہوں گے اگر وہ گھوڑا کسی نہر میں سے پانی پی لے گا تو وہ بھی اس کی نیکی میں لکھا جاویگا اور جس شخص نے گھوڑا اس لئے باندھ رکھا ہے کہ خدا نے اس کو دولت دی ہے اس کے واسطے یہ گھوڑا پردہ ہے اور جس نے محض دنیا کے دکھاوے کو گھوڑا رکھا ہے اس کے لئے وہ گھوڑا گناہ ہے خدا کی راہ میں گھوڑے پالنے کے اجر کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سامان جنگ اور گھوڑے باندہنے کا اس لئے حکم دیا کہ تمہارے دشمنوں کے دلوں میں رعب پیدا ہو دشمنوں کی تفسیر میں مفسرین کا یہی قول ہے کہ مشرک اور کافر وغیرہ سب عرب کے کفار مراد ہیں پھر یہ فرمایا کہ ان کفار کے سوا اور بھی لوگ ہیں جن کو تم نہیں جانتے ہو اللہ کو ان کا علم ہے بعضے سلف نے کہا ہے کہ یہ لوگ یہود اور فارس وروم کے لوگ ہیں اور بعضوں نے کہا ہے کہ یہ منافق ہیں جن کے باب میں اللہ نے یہ فرمایا کہ میں انہیں جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور بعضے مفسریہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ خاص بنی قریظہ ہیں مگر اس کو خدا ہی کے علم پر موقوف رکھنا بہتر ہے کیونکہ اللہ پاک نے خود حضرت کو فرمایا کہ تم ان کو نہیں جانتے پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ یہ خدا کی راہ میں تمہارا خرچ کرنا برباد نہیں جائے گا اس کا پورا پورا بدلہ آخرت میں تمہیں ملے گا ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا بلکہ سات سو تک اجر زیادہ ملے گا چناچہ اس کا ذکر سورة بقر کی تفسیر میں گذر چکا ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی جو فرمائی اس کا ظہور بھی وقت مقررہ پر یوں ہوتا رہا کہ جو مشرکین مکہ بدر کی لڑائی میں بچ گئے تھے ان میں کے کچھ تو فتح مکہ سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے گئے جنانچہ احد کی لڑائی میں جب تک اللہ کے رسول کا بتلایا ہوا پہاڑ کا ناکہ مسلمان تیراندازوں نے نہیں چھوڑا تھا اس وقت تک اس لڑائی میں مسلمانوں کا ایسا غلبہ تھا کہ اور دشمنوں کے علادہ دشمنوں کے نو نشانے بردار طلحہ بن عثمان وغیرہ مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے گے آخر یہ سب بدر کی لڑائی میں کے بچے ہوئے لوگ تھے بدر کی لڑائی میں کے بچے ہوئے مشرکوں میں سے جو لوگ فتح مکہ تک مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے نہیں گئے فتح مکہ پر آخر وہ عاجز ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے چناچہ وہ ابوسفیان جس کے قافلہ کے سبب سے بدر کی لڑائی ظہور میں آئی فتح مکہ پر مسلمان ہو کر صحیح بخاری کی برائ ؓ بن العازب کی روایت کے موافق حنین کی لڑائی میں خدا مت گاروں کی طرح آنحضرت ﷺ کی سواری کے خچر کی باگ پکڑ کر ان ابوسفیان ؓ نے اللہ کے رسول کا ساتھ دیا سورة بقر کی جس آیت کا حوالہ اوپر گذرا ہے جس میں ایک نیکی کا اجر سات سو نیکیوں تک کا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اجر کے ملنے کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کی تفصیل سورة بقر کی آیت من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا (2: 245) کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔