8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 8:21–23

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے (حکم خدا) سن لیا مگز (حقیقت میں) نہیں سنتے۔

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے۔

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو منہ پھیر کر بھاگ جاتے۔

21۔ 23۔ اللہ پاک نے اس سے پہلے کی آیت میں مومنوں کو خطاب کر کے یہ فرمایا تھا کہ تم ہر ایک امر میں خدا اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو اور ہر باب میں ان کے حکم سے پیٹھ نہ پھیرو کیونکہ تم قرآن کی پند و نصیحت کی باتیں اور سمجھتے ہو اور اس کی تصدیق کرتے ہو اس کے بعد اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ان لوگوں کی خصلت نہ اختیار کرو جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم سنتے میں اور حقیقت یہ ہے کہ سنتے نہیں ہیں کیونکہ سننے کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ اس سے کچھ نفع بھی حاصل ہو یہ منافقین یا مشرکین خدا کا کلام صرف کانوں سے سنتے ہیں مگر اس سے کوئی نفع نہیں اٹھاتے اس لئے ان کا سننا اور نہ سننا دونوں برابر ہیں پھر اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا کہ یہ لوگ چار پایوں سے بھی بدتر بالکل بہرے گونگے ہیں کچھ سمجھ ہی نہیں رکھتے ان سے تو جانور بھی اچھے ہیں کہ وہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرتے ہیں جو جس کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس امر میں وہ خدا کا مطیع ہے انسان ہیں جو اللہ کی عبادت کے لئے بنائے گئے مگر انہوں نے اس سے انکار کیا اس لئے یہ چوپایوں سے بدتر ٹھہرے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ لوگ منجملہ قریش کے عبدالدار بن قصی کے قبیلہ کے چند لوگ تھے جو کہتے تھے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو شریعت لائے ہیں اس سے بہرے گونگے ہیں یہ لوگ سب کے سب سوائے دو شخصوں کے جنگ احد میں مارے گئے ان میں سے دو شخص بچے تھے مصعب بن عمیر اور سوبیط بن حرملہ یہ دونوں مسلمان ہوئے پھر اللہ پاک نے اپنے علم ازلی کے موافق ان کے سننے میں بھلائی اور بہتری دیکھتے تو ان کو اس کے سننے کی توفیق دے دیتے لیکن اللہ کے علم ازلی کے موافق یہ نتیجہ قرار پا چکا ہے کہ اگر بالفرض انہیں سننے اور سمجھنے کی توفیق بھی دے دی جائے تو بھی یہ لوگ نہیں سنیں گے بلکہ نصیحت سے پیٹھ پھیرنے لگیں گے اور اس سننے سے کوئی نفع نہیں اٹھائیں گے اور عناد اور کفر کی وجہ سے نصیحت کے نفع سے پہلو تہی کریں گے بعضے مفسروں نے یہاں یہ بیان کیا ہے کہ قبیلہ عبدالدار کے لوگ جن کا ذکر ابھی ہوچکا کہ وہ حضرت کا کالام سننے کے وقت یہ کہتے تھے ہم بہرے گونگے ہیں یہ لوگ آنحضرت صلعم سے کہا کرتے تھے کہ ہمارے باپ قصی کو آپ زندہ کردیں تاکہ ہم اس سے دریافت کرلیں اگر وہ آپ کی رسالت کے متعلق گواہی دیگا تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اسی کے جواب میں اللہ پاک نے فرمایا کہ اگر ان لوگوں کو اقصی کی باتیں بھی سنادی جاویں تو بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور نصیحت کے سننے سے پیٹھ پھیرلیں گے اور دلی کفر کو وجہ سے ایمان لانے سے انکار ہی کریں گے صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ ؓ بن عمربن الع اس کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے جو دنیا کے پیدا ہونے کے بعد دنیا میں ہونے والا تھا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے بڑے لوگوں کی مثال بری زمین کی اور قرآن شریف کی مثال مینہ کی فرمائی ہے۔ ان حدیثوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں اور حدیثوں کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم آلہی میں جو لوگ برے ٹھہر چکے ہیں ان کے دل میں اسی طرح قرآن کی نصیحت کچھ اثر نہیں کرتی جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی کچھ اثر نہیں کرتا اسی واسطے وہ بہروں کی طرح قرآن کی نصیحت نہیں سنتے اور گونگوں کی طرح حق بات کا اقرار زبان پر نہیں لاسکتے اسی واسطے ایمان داروں کو ایسے لوگوں کی عادتوں سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

مومنو ! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو۔ جبکہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اسکے روبرو جمع کئے جاؤ گے۔

24۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اہل ایمان کو خطاب کر کے فرمایا کہ خدا اور اس کے رسول کی بات مانو جب تمہیں رسول ایسی بات کے واسطے بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے تو تمہیں سننا چاہئے اور ہر حال میں رسول کی اطاعت کرنی چاہئے کیونکہ رسول کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ کی مرضی و نامرضی کی ہر ایک بات تم لوگوں کو انہیں رسول کے ذریعہ سے پہنچتی ہے شروع آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے اپنا اور اپنے رسول دونوں کا نام لے کریوں فرمایا اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور رسول کا “ اور پھر فرمایا جس وقت بلاوے تم کو ایک کام پر رسول یہاں اپنے نام کو اس لئے شریک نہیں فرمایا کہ امت کو اللہ تعالیٰ کا ہر ایک حکم رسول کی معرفت پہنچتا ہے اس واسطے اللہ کے رسول کا کسی دینی کام پر لوگوں کو بلانا وہ عین اللہ کا بلانا ہے صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی ایک بڑی حدی ہے جس میں آنحضرت ﷺ کے سوتے میں اللہ کے فرشتے زمین پر آئے ہیں اور پھر ان فرشتوں نے اللہ کے رسول کی ہدایت کا حال سمجھا کر آخر کو یہ کہنا ہے کہ اللہ کے رسول کی فرمانبرداری عین اللہ تعالیٰ کی فرمابرداری اور ان کی نافرمانی عین اللہ تعالیٰ کی نافرمائی ہے یہ حدیث آیت کو گویا ایسی تفسیر ہے جس کو اللہ کے فرشتوں کو تفسیر کہا جاسکتا ہے صحیح مسلم میں ابوسعید ؓ خدری کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنتی لوگوں سے اللہ کے فرشتے پکار پکار کر کہیں گے کہ اے جنتی لوگو اب تم ہمیشہ ایسے عیش و آرام میں رہو گے کہ دنیا کی طرح یہاں جنت میں تمہیں موت کو تکلیف کبھی پیش نہ آویگی آیت میں اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت کے سننے کو زندگی کا سبب جو فرمایا اس کی تفسیر اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس نصیحت کے سننے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں کو ہیمشہ کی زندگی عقبے میں ملنے والی ہے اس واسطے اس نصیحت کو زندگی کا سبب فرمایا ترمذی میں ابی بن کعب ؓ کی ایک حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک روز مسجد میں آئے ابی بن کعب ؓ نماز پڑھ رہے تھے آپ نے ان کو پکارا انہوں نے جلدی سی نماز پوری کی اور آپ کے پاس آئے آپ نے فرمایا تجھے کس چیز نے روکا تھا کہ تو نے جواب بھی نہیں دیا کہا میں نماز پڑھ رہا تھا آپ نے فرمایا کہ تجھے نہیں معلوم ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو جب وہ بلاوے اور آپ نے یہ آیت پڑھی اسی طرح کی حدیث صحیح بخاری میں ابوسعید بن معلے ؓ سی روایت کی گئی ہے اس حدیث سے اس بات پر دلیل لی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پکارنے کا جواب دینا نماز کے اندر بھی ضرور ہے لیکن یہ بات اللہ کے رسول کے لئے خاص تھی اب کسی کے بلانے پر نماز کی نیت نہیں توڑ سکتے لما یحییکم کی تفسیر میں قتادہ کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے کیونکہ اس میں حیات ابدی اور نعمت ہے اور سدی کہتے ہیں کہ اس سے مراد ایمان ہے کیونکہ اسی ایمان کی وجہ سے مومن کا دل زندہ رہتا ہے اور کافر کا دل اسی ایمان کے نہ ہونے سے مردہ :۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کی تاکید فرمائی اور فرمایا تھا کہ بعضے لوگ ایسے ہیں کہ رسول کی ہدایت ان کے دل پر بالکل اثر نہیں کرتی اور جانوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ جانوروں کو اپنے نیک وبد کی تمیز اور سمجھ ہے ان کو اتنی بھی سمجھ نہیں اب اس آیت میں فرمایا کہ مسلمان کا دل رسول کی نصیحت سے کسی نیک بات کی طرف مائل ہوا اور اسی نصیحت سے کافروں اور منافقوں کے دل کو کچھ اثر نہ ہوا اور وہ جانوروں سے بدتر بنے رہیں تو اس کا کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جان لینا چاہئے کہ جس اللہ نے انسان کو انسان کے دل کو پیدا کیا ہے اور اسی دل کے ارادہ پر انسان کی آنکھ ہاتھ پیر سب چلتے ہیں وہ دل کا ارادہ بھی اللہ کے ہی قبضہ قدرت میں ہے وہ جیسے انسان کی نیت دیکھتا ہے فورا ادھر انسان کے دل کو پھیر دیتا ہے اس لئے نیک کام کی طرف مائل ہونا پھر اس نیک کام پر آخر عمر تک قائم رہنا اسی طرح برے کام کی طرف مائل ہونا پھر آخر عمر تک اس برے کام پر قائم رہنا سب اللہ کے ہاتھ ہے مسلم ترمذی مسند امام احمد بن حنبل میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے دلوں کے پھیرنے و ہے میرے دل کو دین پر قائم رکھ صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت کیا آپ کو دلوں کے پھرجانے کا خوف ہے آپ نے فرمایا کہ ہاں دنیا بھر کے انسانوں کا۔ اس پر کی حدیث گذر چکی ہے کہ حو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اسی طرح مسلم کہ حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث بھی ایک جگہ گذر چکی ہے کہ ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان رہتا ہے فرشتہ اس شخص کو ہمیشہ نیک کام کی رغبت دلاتا رہتا ہے اور شیطان بدکام کی ان حدیثوں کو آیت تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ جو لوگ علم آلہی میں بد ٹھہر چکے ہیں وہ اپنے ساتھ کے شیاطین کا کہا مان کر ہمیشہ برے کاموں کی طرف اپنی دلی ارادہ کو مائل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی کو کسی کام پر مجبور کرنا نہیں چاہتا اس لئے کہ اس طرح کی مجبوری انتظام الٰیآ کے برخلاف ہے اس لئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلی ارادہ کو نہیں روکتا اسی طرح جو لوگ علم آلہی میں نیک ٹھہر چکے ہیں وہ اپنے ساتھ کے فرشتے کا کہنا مان کر ہمیشہ نیک کاموں کی طرف اپنے دلی ارادہ کو مائل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے دل میں نیک کاموں کی توفیق پیدا کردیتا ہے اسی واسطے آخر آیت میں فرمایا کہ قیامت کے دن نیک وبدسب کو اللہ کے روبرو کھڑا ہونا پڑیگاتا کہ شیاطینوں کے کہنا ماننے والوں کو سزادی جاوے :۔
Ayahs 8:25–26

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخانماں نہ کریں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو۔

25۔ 26۔ یہ خاص لوگوں کے بدعمل کرنے کے سبب سے عام لوگوں پر بلا آجانے کا ذکر ہے جس کے خوف سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس آیت میں ڈرایا ہے تفسیر اس آیت کی اس حدیث میں ہے جس کو ابن ماجہ اور امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں چند صحابہ سے روایت کیا ہے حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ جب کچھ لوگ کسی بستی میں بداعمالی کرنے لگیں گے اور اس بستی کے باقی لوگ ان بداعمال لوگوں کو وعظ نصیحت سے اس بداعمالی سے نہ روکیں گے تو اس طرح کی ساری بستی پر بلا آوے گی یہ حدیث سن کر لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت اس بستی میں نیک عمل کرنے والے جو لوگ تھے ان کے نیک عملوں کا کیا نتیجہ ہوا آپ نے فرمایا مرنے کے بعد ان کے عملوں کا بدلا ان کو ملے گا مگر دنیا میں تو تمام بستی پر بلا آجاوے گی اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ جس بستی میں خلاف شریعت کام ہوتے ہوں وہاں جن لوگوں کو وعظ نصیحت کی طاقت ہو وہ ہرگز وعظ نصیحت سے باز نہ رہیں کیونکہ وعظ نصیحت کے چھوڑنے سے تمام بستی پر بلا آجانے کا خوف ہے زینب بنت حجش ؓ کی اسی مضمون کی ایک حدیث مختصر طور پر صحیح بخاری ومسلم میں بھی ہے جس سے باقی روایتوں کو تقویت ہوجاتی ہے آخر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی ہجرت سے پہلے کی کمزوری کی حالت یاد دلا کر ہجرت کے بعد غیبی مدد سے ان کی حالت جو درست ہوگئی ہے اس کی شکر گذاری کا ارشاد فرمایا ہے جس سے مطلب یہ ہے کہ اس شکر گذاری کو اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کی جا کر دین کی باتوں کی ایسی وعظ ونصیحت کے پیرا یہ میں ادا کرنا چاہئے تاکہ اس کی شکر گذاری کے بدلہ میں غیبی مدد روز بروز بڑھے اور اسلام کی ترقی ہو اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ جب تک مسلمان میں اس شکر گذاری کا عمل رہا اسلام کو روزبروز ترقی رہی جب سے یہ عمل اٹھ گیا اسلام کی ترقی بھی اٹھ گئی۔ صحیح بخاری ومسلم میں عمرو بن عوف ؓ انصاری کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو اپنی امت کی تنگ دستی کا کچھ خوف نہیں ہے مجھ کو تو یہ خوف ہے کہ جب ان میں حکومت دولت سب کچھ پچھلی امتوں کی طرح آجاوے اور اس کی شکر گذاری ان سے نہ ہو سکے تو اس ناشکری کے وبال میں کہیں پہلی امتوں کی طرح یہ لوگ بھی نہ پکڑے جاویں آخری آیت کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے اور تاریخ خلفاء کے دیکھنے سے اس ناشکری کا اور ناشکری کے وبال کا پورا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے :۔
Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو۔

27۔ مسند سعید بن منصور تفسیر عبدالرزاق ‘ تفسیر زہری ‘ اور تفسیر کلبی میں عبداللہ بن ابی قتادہ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب آنحضرت نے یہود بنی قریظہ کا اکیس روز تک محاصرہ کیا اور بنی قریظہ نے آنحضرت سے صلح کرنے کی درخواست کی تو آنحضرت نے صلح سے انکار کیا اور یہ فرمایا کہ تم سعد بن معاذ ؓ کو اپنا بیچ قرار دے کر اپنی گڑھی سے نیچے اتر آؤ بعد گڑھی کے نیچے اتر آنے کے سعد بن معاذ ؓ جو مشورہ اور رائے تمہارے باب میں دیویں گے اس کے موافق فیصلہ کیا جاوے گا بنی قریظہ نے کہا پہلے ابو لبابہ ؓ بن عبدالمنذر کو ہمارے پاس مشورہ کے لئے بھیجدیا جاوے آنحضرت ابولبابہ ؓ کو بھیجدیا ابولبابہ نے اپنی گردن پر اپنا ہاتھ پھیرا اشارہ سے بنی قریظہ کو یہ سمجھادیا کہ گڑھی سے اترو گے تو قتل کر دئے جاؤ گے پھر ابولبابہ ؓ کو اسی وقت خیال آیا کہ میں نے رسول ﷺ کو امانت میں خیانت کی کیونکہ لشکر اسلام کی بھید میں نے ان پر اشارہ سے ظاہر فرما دیا اس پر اللہ تعال نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کی توبہ قبول ہوئی سوا اس کے اور شان نزول جو اس آیت کے مفسرین نے بیان کی ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ اس پر بھی آیت کا مطلب صادق آتا ہے کیونکہ ابولبابہ ؓ کے قصہ کی شان نزول جو اوپر بیان کی گئی اس کی روایت تفسیر عبدالرزاق میں ہے یہ عبدالرزاق قدیم مفسروں میں ہیں اور ان کی یہ تفسیر ان کے نابنیا ہونے سے پہلے کی ہے اور ان کے نابینا ہونے کے بعد ان کی روایتیں نہیں اگرچہ آیت کی شان نزول میں ایک خاص حیات کا ذکر ہے لیکن سورة نساء میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت گذر چکی ہے کہ لفظ امانت سے وہ باتیں مقصود ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان پر فرض کی ہیں مثلا نماز روزہ حج زکوۃ ان کو پورے طور پر ادا کرنا پوری امانت کی ادائی ہے ورنہ خیانت ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا امانت میں خیانت کرنا منافق آدمی کی عادتوں میں سے ایک عادت ہے آیت حدیث اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کو ملا کر یہ مطلب قرار پایا کہ عبادت آلہی میں کس طرح کا خلل ڈالنا یا کوئی شخص کوئی چیز امانت رکھوا دے تو اس میں خیانت کا کرنا یہ سب منافق لوگوں کی نشانی ہے :۔
Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے۔ اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں) کا بڑا ثواب ہے۔

28۔ اللہ پاک نے اوپر کی آیت میں یہ فرمایا کہ خدا اور خدا کے رسول کی خیانت نہ کرو جو بھید کی باتیں ظاہر کرنے کے لائق نہیں ہیں ان کو دشمنوں پر ظاہر نہ کرو عبادت میں کسی قسم کا خلل نہ ڈالو اور لوگوں کی امانت میں بھی خیانت نہ کرو کوئی امانت رکھنے کو دے تو اسے ہضم نہ کرلو اس کے بعد یہ بیان فرمایا کہ دنیا کے مال اور اولاد اگرچہ دنیادی زندگی میں تمہارے لئے زینت ہیں مگر ساتھ ہی اس کے اکثر یہی مال واولا دفتنہ میں ڈالنے والے ہیں اگر یہی مال واولاد گناہ کے سبب بن جاتے ہیں اور آخرت کے کاموں سے روک دیتے ہیں اس لئے ان میں مشغول ہو کر خدا کی اطاعت سے باز نہ ہو مال واولاد اس لئے تمہیں دئے گئے ہیں کہ تم انکا شکر بجالاؤ پھر فرمایا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی عبادت اور فرما نبرداری میں مشغول رہنے سے ہمیشہ بہبودی کی صورت نظر آتی ہے کیونکہ اللہ ہی کی ذات وہ ہے جو دنیا و آخرت کا مالک ہے اور اس کے اختیار میں طرح طرح کے اجر عظیم ہیں علاوہ اس کی سعادت اخروی تمام دنیا سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ہمیشہ کے لئے بقا ہے اور دنیا کے پیچھے فنا لگی ہوئی ہے صحیحین میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ یہ تین چیزیں جس ہیں ہونگی اس نے ایمان کی لذت پائی جس کے دل میں خدا اور اس کے رسول کی محبت غیر سے زیادہ ہو جو شخص کسی کو محض خدا کے واسطے دوست رکھتا ہو جو شخص ایمان لاکر پھر کفر کی طرف پھرجانا ایسا سمجھتا ہو جیسے آگ میں ڈالے جانے کو بڑا سمجھتا ہے دوسری حدیث انس ؓ کی صحیحین میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایسا شخص ہرگز مومن نہیں ہے جو مجھ کو اپنے ماں باپ بال بچوں اور کل لوگوں سے زیادہ محبوب نہ رکھے ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب قرار پایا ہے کہ ہر شخص پکے ایماندار کو دین کی باتوں پر ایسا مضبوط رہنا چاہیے کہ مال واولاو دنبوی کے سبب سے اس کی عقبی کی مضبوطی میں کچھ فرق نہ آوے یہی مضبوطی پوری ایماندار اور اللہ و رسول کی محبت کی نشانی ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے مستورد ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقبے کے مقابلہ میں دنیا ایسی ہے جیسے دریا کے مقابلہ میں ایک قطرہ آیت میں آخرت کے ثواب کو بڑا جو فرمایا یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امر فارق پیدا کر دے گا (یعنی تم کو ممتاز کر دے گا) اور تمہارے گناہ مٹا دیگا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑے فضل والا ہے۔

29۔ اس سے پہلے اللہ پاک نے مومنوں کو مال اور اولاد میں مشغول ہو کر فتنہ میں پڑجانے سے منع فرما کر اس آیت میں تقویٰ کا حکم دیا تقوی کے معنے مفسروں نے یہ بیان کئے ہیں کہ جو حکم خدا اور اس کے رسول کا پہنچ گیا ہے اس کو بسرو چشم مان کر اس کے مطابق عمل کرنا اور جن باتوں سے منع گیا گیا ہے ان سے بچنا اس لئے فرمایا کہ اگر تم تقوی اختیار کرو گے تو تمہارے دلوں میں ہدایت ڈال دی جائے گی جس سے تم حق و ناحق میں تمیز کرلو گے اور تمہارے چھوٹے گناہ مٹادئے جائیں گے اور ہر بڑے گناہ تمہارے بخش دئے جائیں گے اور بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے۔ یکفر عکم سیئاتکم سے وہ گناہ مراد ہیں جو کئے جا چکے ہی ان کو مٹا دیں گے اور ویغفرلکم کا یہ مطلب ہے کہ آگے کو جو گناہ تم سے سرزد ہوں گے وہ بخشدئے جاویں گے غرض اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیے ہیں پھر فرمایا کہ گناہوں کے بخشنے کا جو وعدہ تم سے ہوا ہے یہ محض خدا کا فضل ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی ایک بہت بڑی شفاعت کی حدیث کا ذکر ایک جگہ گذر چکا ہے کہ جب قیامت کے دن سب شفاعتیں ختم ہو چکیں گی تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کردے گا جن کے دل میں کسی قدر توحید تو ہوگی لیکن عمر بھر انہوں نے کوئی نیک عمل نہ کیا ہوگا آیت میں اللہ کے فضل کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے :۔
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ! اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کردیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (ادھر) خدا چال چل رہا تھا اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔

30۔ مسند امام احمد بن حنبل تفسیر کلبی ‘ مغازی محمد بن اسحاق اور تفسیر ابن بی حاتم میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کہ مکہ میں دارالندوہ ایک مشورہ کی جگہ قریش نے قرار دے رکھی تھی وہاں ایک جماعت قریش نے ایک بڈھے سے پوچھا تو کون شخص ہے بڈھے نے کہا خدا کی طرف کا رہنے والا میں ایک شخص ہوں میں نے سنا تھا کہ تم لوگ ایک مشورہ کی غرض سے آج جمع ہوئے ہو اس لئے میں نے چاہا کہ میں بھی اس مشورہ میں شریک ہو کر تمہارا مشورہ سنوں اور جو کچھ میری رائے ہو وہ میں بھی تمہارے سامنے ظاہر کروں اس جماعت کے لوگوں نے کہا کہ اچھا کیا مضائقہ ہے آؤ تم بھی مشورہ میں شریک ہوجاؤ حقیقت میں وہ شیطان تھا جو ایک بوڑھے کی صورت میں آیا تھا غرض مشورہ شروع ہوا اور ایک شخص نے کہا اس شخص کو قید میں رکھنا چاہئے بڈھے نے اس رائے کو ناپسند کیا اور کہا ہے اس شخص کے ساتھی قید میں سے ضرور چھوڑا لے جاویں گے ایک شخص نے کہا اپنی بستی سے اس شخص کو نکال دینا چاہئے بڈھے نے اس رائے کو بھی ناپسند کیا اور کہا کہ وہ شخص بڑا فیصح ہے باہر کے لوگوں کو اپنا حامی بنالیویگا اور ” لوگ تمہاری بستی پر چڑھائی کر کے تمہاری بستی کو چھین لیویں گے بڈھے ملعون نے بہر حال اس کو پسند کیا اور مشورہ کی مجلس برخاست ہوئی اتنے میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے تشریف لائے اور جس جگہ ہمیشہ آپ سویا کرتے تھے وہاں کے سونے سے آپ کو منع کیا اور اس سارے مشورہ کی خبردی اور کا حکم دیا اور حضرت علی ؓ آنحضرت کی چادراوڑھ کر آنحضرت کی جگہ سوئے اور آنحضرت ثور پہاڑ کے غار میں چلے گئے اور کفار نے بجائے آنحضرت کے حضرت علی ؓ کو دیکھا تو حضرت علی ؓ سے آنحضرت کو پوچھا حضرت علی ؓ کہا مجھ کو معلوم نہیں کفار آنحضرت کی تلاش میں نکلے اور ثور پہاڑ چڑھے وہاں غار کو دیکھا تو اس پر اللہ کے حکم سے مکڑی نے جالا بن دیا تھا اس واسطے کفارنے سوچا کہ اگر اس غار میں جاتے تو مکڑی کا جالا کیوں کر قائم رہتا غرض کفار ڈھونڈ ڈھانڈ کر خالی واپس آئے اور آپ تین راتیں اسی غار میں رہے اور پھر مدینہ کو تشریف لے گئے غار میں رہنے کا اور مدینہ کے سفر کا ذکر آگے آویگا یہاں اسی قدر ذکر ہے کہ کفار نے مشورہ کر کے آنحضرت کے ساتھ مکرجو کرنا چاہا تھا اس کے تذکرہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اس قصہ میں ابوطالب کا ذکر بعض مفسرین نے جو کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے اس واسطے کہ یہ قصہ ہجرت کی رات کا ہے اور ابوطالب کا انتقال اس سے تین برس پہلے ہوچکا ہے۔ اس شان نزول کی روایت کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمر وجوزی ہے جس کو بعضے علماء نے ضعیف ٹھہرایا ہے لیکن ابن حبان نے اس کو ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔ یہ ابن حبان نسائی کے شاگردوں اور حاکم کے استاد ہیں اور ان کی تصنیفات معتبر ہیں حاکم کہا کرتے تھے کہ یہ ابن حبان علم کا گویا ایک خزانہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اوپر اپنے فضل کا ذکر فرما کر اس میت میں یہ جتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپن فضل سے بدر کی لڑائی میں جو اپنے رسول کی مدد کی ہے وہ مدد کچھ اسی لڑائی آنحضرت نہیں ہے کیونکہ اس لڑائی میں تو کچھ اوپر تین سو آدمی بھی اللہ کے رسول کے ساتھ تھے ہجرت سے پہلے ان مشرکین مکہ نے اللہ کے رسول کو اکیلا سوتا ہوا پا کر اللہ کے رسول پر حملہ کرنا چاہا تھا اللہ تعالیٰ نے جب بھی اپنے رسول کی ایسی ہی مدد کی تھی کہ اللہ کی مدد اور حکمت کے آگے مشرکین مکہ اور سب مشرکوں کے سردار ابلیس علیہ اللعنۃ کا سارا مشورہ بیکار ہوگیا ابو سعید خدری ؓ کی جس شفاعت کی حدیث کا ذکر صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے اوپر گذرا اس آیت کی تفسیر میں اس کو بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کہ ملانے سے اللہ کے فضل کا حال معلوم ہوتا ہے :۔
Ayahs 8:31–32

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں۔ اور یہ ہے ہی کیا ؟ صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جن انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج۔

31۔ 32۔ ایک شخص مشرکین مکہ میں نضر بن حارث تھا اس کو بدر کی لڑائی میں مقداد صحابی نے پکڑا تھا اور باوجود اس کے کہ بدر کے اور قیدی فدیہ لے کر چھوڑ دیے گئے مگر نضر بن حارث کو ایسی وجہ سے آنحضرت نے قتل کیا کہ وہ قرآن شریف کی شان میں ناشائستہ اور سخت الفاظ کہا کرتا تھا مجوس کے ملک کا سفر اس نضربن حارث نے اکثر کیا تھا اور رستم واسفند یار وغیرہ کی داستانیں اس کو خوب یاد تھیں۔ قرآن کے مقابلہ میں مشرکین کو وہ داستانیں سنایا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ کہو میرے قصے اچھے ہیں یا محمد ﷺ کے اور کہتا تھا چاہوں تو میں ایسا قرآن بنا سکتا ہوں اس کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آگے کی آیت میں پتھر برسنے اور عذاب کے آنے کی خواہش کا جو ذکر ہے صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ یہ خواہش ابوجہل نے کی تھی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں سعید بن جبیر کی روایت ہے اس سے معلوم ہوتا کہ یہ خواہش بھی نضر بن حارث ہی نے کی تھی اس تفسیر کے مقدمہ میں یہ گذر چکا ہے کہ ابن ابی حاتم نے صحت روایت کا زیادہ خیال رکھا ہے اس واسطے یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواہش ابوجہل اور نضر بن حارث دونوں شخص نے کی تھی ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کی کم عقلی جتلائی ہے کہ وہ قرآن جس میں ایک آیت بھی بنا کر یہ لوگ نہیں پیش کرسکے پھر باوجود اس کے قرآن کی شان میں ایسی کم عقلی کی باتیں ان میں کے بعضے لوگ منہ سے نکالتے تھے اور قوم کے باقی لوگ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے یہ ان لوگوں کی بڑی بےعقلی ہے۔ صحیح مسلم ابوداؤد وغیرہ میں جابر ؓ بن عبداللہ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ہر شخص کو اس طرح کی بددعا سے منع فرمایا ہے اس حدیث کو آخر آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ جس طرح کی بددعا ابوجہل اور نضر بن حارث نے کی تھی اس طرح کی بددعا مسلمان شخص کو کسی حال میں جائز نہیں ہے :۔
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہ تھا کہ جن تک تم ان میں تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور نہ ایسا تھا کہ وہ بخش مانگیں اور انہیں عذاب دے۔

33۔ ابوجہل اور نضر بن حارث نے جب یہ دعا مانگی کہ یا اللہ یہ دین جس کی طرف محمد ﷺ ہم کو مائل کرنا چاہتے ہیں اگر حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اب تک تو تم لوگوں پر کب کا عذاب نازل ہوچکا ہوتا لیکن دوسبب سے تم پر عذاب نہیں آیا ہجرت سے پہلے تو نبی وقت تم میں تھے اور ان کے سبب سے ایک دو مسلمان ہوتے رہتے تھے نبی کی ہجرت کے بعد ضعیف لوگ جو ہجرت نہیں کرسکے وہ مکہ میں تھے جو ہمیشہ اللہ سے مغفرت کی دعا کرتے رہتے تھے صلح حدیبیہ کے بعدرفتہ رفتہ وہ لوگ بھی مکہ سے نکل آئے اب تم پر عذاب آیا بدر میں ستر بڑے بڑے سردار مارے گئے آخر خود مکہ فتح ہوگیا بعضے مفسروں نے کہا ہے کہ خود مشرکین مکہ معافی کے وقت غفرانک کہہ کر مغفرت چاہا کرتے تھے اور اسی سبب سے ان مفسروں نے تھوڑے دن عذاب کے روکنے کا حکم اس آیت سے ٹھہرا کر پھر آئندہ کی آیت سے اس آیت کو منسوخ کہا ہے لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآن کی تفسیر خود قرآن سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی سورة انافتحنا کی آیت ولولا رجال مومنون اور ونساء مومنات (48: 25) میں صراحت سے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ ہجرت کے بعد عذاب کے روکنے کا سبب ضعیف مسلمان تھے ترمذی میں حضرت ابوموسیٰ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت نے فرمایا ہے کہ نبی کے ہونے تک نبی کا موجود ہونا اور نبی کے بعد لوگوں کا استغفار کرنا عذاب الٰہی سے بچنے کے یہ دو سبب ہیں اس حدیث سے بھی اسی تفسیر کی تائید ہوتی ہے جس کو اوپر قول صحیح قرار دیا ہے ترمذی کی سند میں اگرچہ ایک راوی اسمعیل بن ابراہیم بن مہاجر ضعیف ہے لیکن صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ ؓ بن مسعود کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنے ایمان دار بندہ کی توبہ و استغفار سے بڑی خوشی ہوتی ہے اس صحیح حدیث سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت کو تقویت ہوجاتی ہے اور صحیح تفسیر یہی قرار پاتی ہے کہ آیت میں ضعیف مسلمانوں کی توبہ استغفار سے عذاب الہی ٹل سکتا ہے :۔
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور (اب) انکے لئے کونسی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں ؟ اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

34۔ جب آنحضرت ﷺ مکہ میں تشریف رکھتے تھے تو یہ آیت اتری تھی وما کان اللہ لیعذ بھم وانت فیہم جس میں فرمایا تھا کہ جب تک اللہ کے رسول ان لوگوں میں ہیں اللہ پاک ان پر عذاب نہیں کرے گا پھر جب آپ مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے چلے گئے تو یہ آیت اتری وما کان اللہ لیعذبھم تا وھم یستغفرون جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک ان کفار مکہ پر عذاب نہیں کریگا کیونکہ کچھ لوگ ابھی ایسے باقی ہیں جو استغفار کرتے ہیں یہ بقیہ مسلمان تھے جو مکہ میں رہ گئے تھے پھر یہ لوگ وہاں سے جب نکل گئے تو یہ آیت اتری جس میں فرمایا کہ اب کیا وجہ ہے جو اللہ ان پر عذاب نہ کرے کیونکہ وہ دونوں سبب جن کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں آتا تھا اب باقی نہیں رہے نہ اللہ کے رسول وہاں رہے اور نہ وہ لوگ رہے جو استغفار کیا کرتے تھے مفسروں نے اس عذاب کے متعلق اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں کہ یہ عذاب وہ ہے جو بدر کی لڑائی میں ان مشرکوں کو نصیب ہوا بہت سے ان میں کے قتل ہوئے بہتر گرفتار ہوئے ان کے مال اسباب لوٹے گئے اور بعضوں کا قول ہے کہ عذاب وہ ہے جو فتح مکہ کے روز ان پر ہوا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں مراد اس سے آخرت کا عذاب ہے اور اس سے اوپر کی آیت میں جس عذاب کی بابت روکے جانے کا ذکر ہے وہ عذاب دینا ہے پھر اللہ پاک نے عذاب کرنے کا بیان فرمایا کہ یہ لوگ اپنی گمان میں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ کعبہ کے متولی اور مالک ہیں اور حضرت ﷺ اور مسلمانوں کو اس کے طواف کرنے سے روکتے ہیں اس میں نماز نہیں پڑھنے دیتے ہیں پھر ان کے اس دعوے کو یوں جھوٹا کیا کہ یہ لوگ کیونکر خانہ کعبہ کے متولی ہوسکتے ہیں اس کے متولی تو متقی ہیں جو غیر اللہ کی عبادت نہیں کرتے ہیں معتبر سند سے تفسیر ابن مردویہ میں حضرت انس ؓ کی روایت ہے اس میں انس ؓ بن مالک کہتے ہیں آنحضرت ﷺ پوچھا گیا اولیا آپ کے کون ہیں آپ نے فرمایا ہر متقی اور یہ آیت پڑھی ان اولیائہ الا المتقون ولکن اکثرھم لایعلمون اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو اس لئے کعبہ کا حق دار خیال کرتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں ہیں مگر ان میں کے اکثر لوگوں کو یہ خبر نہیں کہ جس طریقہ پر یہ لوگ ہیں وہ ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ نہیں ہے اس واسطے جو لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد بھی ہیں اور ان کے طریقہ پر بھی ہیں کعبہ کے متولی ہونے کی وہ ہی زیادہ حق دار ہیں مستدرک حاکم اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن عالی خاندانی کچھ کام نہ آوے گی بلکہ اس دن ہر شخص کی پرہیز گاری کام آوے گی حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی دوسری حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے ہر ایک مشرک شخص کو کعبہ کے طواف سے منع فرمایا تھا آیت میں پرہیز گار لوگوں کی فضیلت کا اور مشرکوں کے کعبہ کے متولی ٹھہرنے کے لائق نہ ہونے کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں :۔
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سٹیاں اور تالیاں بجانے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو۔

35۔ تفسیر ابن جریر تفسیر بدی اور تفسیر واحدی میں حضرت ابن عمر ؓ اور عکرمہ وغیرہ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں اور آنحضرت کو نماز پڑھتا ہوا دیکھ کر نماز میں خیال بٹانے کی غرض سے ٹھٹے کے طور پر مشرکین سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ ٹھٹھے کے طور پر نیک کام میں ہرج ڈالنا چھوٹی بات نہیں بڑا سخت گناہ ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ اپنے آپ کو کعبہ کا متولی جو ٹھہراتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ کعبہ نماز اور طواف کے لئے ہے طواف میں تو یہ لوگ اللہ کے نام کے ساتھ بتوں کا نام لیتے ہیں اور خود تو نماز کے قائل نہیں اللہ کے رسول اور ان کے ساتھی اللہ کے گھر میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو ان کا خیال بٹانے کے لئے سیٹیاں اور تالیاں بجاتے ہیں پھر بھلا ایسے لوگ کیونکر کعبہ کے متولی ٹھہر سکتے ہیں غرض مشرکین مکہ کے کفر اور ان کی شرارتوں کے ذکر کے بعد آیت کے آخری ٹکڑے میں ان کی سزا کا ذکر فرمایا کہ ان لوگوں نے اپنے کفر اور اپنی سرکشی کے سبب سے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ اس کفر اور سرکشی کا نتجیہ یہ ہوا کہ اس کی سزا میں انہی لوگوں کو دنیا اور عقبے کا عذاب بھگتنا پڑیگا دنیا کا عذاب تو یہ ہوا کہ بدر کی لڑائی میں یہ شریر لوگ بڑی ذلت سے مارے گئے پھر ان کی لاشیں بےگور و کفن پڑی رہیں عقبے کے عذاب کا یہ حال ہے کہ مرتے ہی عقبیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوگئے اسی واسطے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اپنے کفر اور شرارتوں کی سز آنکھوں سے دیکھ لی اور عذاب آلہی کے وعدہ کو سچاپالیا صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ کی جو روایتیں ہیں ان میں ان لوگوں کی لاشوں کے پڑے رہنے کی اور اللہ کے رسول کے ان لاشوں پر کھڑے ہو کر عذاب الہی یاد دلانے کی پوری تفصیل ہے اور وہی روایتیں آیت کے آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہیں :۔
Ayahs 8:36–37

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اپنا، مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لئے (موجب) افسوس ہوگا۔ اور وہ مغلوب ہوجائیں گے اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔ اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔

36۔ 37 تفسیر سدی اور مغازی محمد بن اسحاق وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین چندہ کر کے اور اپنے طور پر ایسے کاموں میں اپنا روپیہ خرچ کرتے تھے جن کاموں سے انہیں مسلمان کو حرج پہنچانا اور ان کا زور گھٹانا منظور ہوتا تھا مثلا جب بدر کی لڑائی میں ابوجہل مارا گیا تو عکرمہ ابوجہل کے بیٹے نے شام کی تجارت کا اپنے حصہ کا روپیہ ابوسفیان کے حوالہ کیا تھا کہ مسلمانوں سے اس کے باپ کے قتل کا بدلہ لیا جاوے اور ابوسفیان نے اپنا روپیہ خرچ کر کے احد کی لڑائی میں حبشی لوگ مسلمانوں سے لڑنے کے لئے نوکر رکھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ اس روپیہ کے خرچ کرنے کا نتیجہ دین و دنیا میں یہ مذموم ہے کہ باوجود روپے خرچ کرنے کے ان کا مقصد حاصل نہ ہوگا اور مکہ فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضے میں آجاوے گا اور دین میں اس کا یہ لوگ مؤاخذہ بھگتیں گے اس سے معلوم ہوا کہ کسی ایسے کام میں روپیہ خرچ کرنا جس سے لوگ نیک کام سے بازر ہیں بڑے مؤاخذہ کی بات ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی جن رویتوں کا ذکر اوپر گذرا وہی روایتیں اس آیت کی بھی گویا تفسیر ہیں کیونکہ ان رواتیوں سے ان مشرکوں میں کے بڑے بڑے سرکشوں کی دنیا اور عقبے کی حسرت اور ندامت کا حال اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے :۔ مشرکین مکہ نے جنگ بدر وجنگ احد وغیرہ میں جو مال ومتاع خرچ کیا تھا اس سے ان کو فائدہ نہ ہوا اللہ پاک نے مسلمانوں کو غالب رکھا اور کفار کو حسرت پر حسرت ہوئی اور مغلوب ہوتے گئے بعضے قتل ہوئے بعضے قید ہوگئے کچھ بچے کچھ بھاگ نکلے اور بعضے ایمان بھی لائے غرض اللہ پاک نے اس آیت میں انہیں کفار کا حال بیان کیا کہ یہ لوگ باوجود اس کے کہ شکست پر شکست کھاتے گئے پھر بھی اپنے کفر پر جمے رہے دنیا میں جو کچھ ان کے مال کا اور جان کا نقصان ہوا وہ ہوا مگر آخرت میں بھی ان کے واسطے نقصان ہی ہے یہ سب کے سب دوزخ کوہان کے جاویں گے اور ” پاک کا جدا کرنا ناپاک سے یہ ہے کہ فتح مکہ تک ان میں کے جو لوگ شرک کی ناپاکی کو ساتھ لیکر دنیا سے اٹھ گئے وہ دوزخی ہوئے اور جو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے وہ پچھلی سب ناپاکیوں سے پاک ہوگئے سدی کہتے ہیں کہ یہ تمیز آخرت میں ہوگی اس طور پر کہ مومن جنت میں داخل کئے جائیں گے اور کافر و مشرک جہنم میں ہونگے یا اس وقت ہوگی جب اللہ پاک ہر ایک گروہ اور ہر فرقہ اور ہر امت کو علیحدہ علیحدہ کھڑا کر کے ہر ایک کا حساب و کتاب لے گا پھر فرمایا کہ جو مال ان کفارنے اللہ کے رسول کی عداوت میں خرچ کیا ہے اس مال خبیث کو اس پاک مال سے جس کو مومنین نے حضرت ﷺ کی مدد کے لئے صرف کیا ہے جدا کر کے ان کو جہنم میں ڈالا جاویگا پھر فرمایا کہ یہ کفار نہایت ہی خسارہ میں رہے ان کا مال کا بھی نقصان ہوا اور جان کا بھی نقصان ہوا انس ؓ نے مالک کی جن روایتوں کا ذکر اوپر گذرا وہی روایتیں ان مخالف لوگوں کے دنیاو دین کے نقصان کی گویا تفسیر ہیں :۔
Ayahs 8:38–40

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائیگا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا۔

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے۔ اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے۔

38۔ 40۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول مقبول ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ ابو سفیان وغیرہ کفار سے یہ بات کہہ دو اگر تم لوگ کفر سے اور ارادہ قتل مومنین سے باز رہ کر دائرہ اسلام میں آجاؤ گے تو تمہارے جتنے گناہ ہیں وہ سب بخش دئے جائیں گے مسند امام احمد اور مسلم میں عمر وبن عاص ؓ کی ایک حدیث ہے جس میں عمر بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ جب خدا نے میرے دل میں اسلام کا ارادہ ڈالا تو میں حضرت کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے بیعت کرنے کو ہاتھ بڑھایا جب حضرت ﷺ نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا آپ نے فرمایا یہ کیا بات ہے میں نے کہا کہ ایک شرط ہے آپ نے اس شرط کا حال دریافت فرمایا تو میں نے کہا کہ پہلے آپ میرے لئے استغفار کریں آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کیا تو نہیں جانتا ہے کہ اسلام ان گناہوں کو مٹا دیتا ہے جو اسلام سے پہلے ہوچکے ہوں اور ہجرت اور حج کو بھی فرمایا کہ یہ بھی پچھلے گناہوں کو مٹانے والے ہیں غرض کہ آیت اور اس حدیث دونوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام ماقبل کے گناہوں کو بالکل نسیت ونابود کردیتا ہے اس لئے یہ حدیث آیت کے ٹکڑے یغفرلھم ماقد سلف کی گویا تفسیر ہے پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دو کہ اگر تم لوگ اپنے اسی کفر و نفاق پر جمے رہو گے اور اللہ کے رسول کی مخالفت کئے جاؤ گے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے کارخانہ قدرت میں قاعدہ یوں ہی جاری رہا ہے کہ وہ اپنے انبیا اور مومنین کی مدد کرتا ہے اور کفار کو ہلاک کردیتا ہے مطلب یہ ہے کہ اگر یہ بدر کی لڑائی میں کے بچے ہوئے مشرک لوگ اپنے شرک سے باز نہ آئے تو وہی انجام ان کا ہوگا جو ان کے ساتھیوں کا ہوا بدر کی لڑائی کا انجام انس ؓ بن مالک کی صحیح بخاری ومسلم کی روایتوں کے حوالہ سے اور گذر چکا ہے پھر حضرت ﷺ کو فرمایا کہ آپ اور مومنین ان کفار سے جنگ کریں یہاں تک کہ شرک باقی نہ رہے فتنہ کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے شرک کی فرمائی ہے اور بعضے سلف نے یہ کہا ہے کہ فتنہ باقی نہ رہے گا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو کفار فتنہ میں ڈالتے تھے جو مسلمان ہوتا تھا اس سے بڑائی سے پیش آتے اور ابتداء میں طرح طرح کی تکلیف پہنچایا کرتے تھے پھر فرمایا کہ خالص دین خدا کا ہوجائے ویکون الدین کلہ للہ کی یہی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے صحیحین میں ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ سے صحابہ نے پوچھا کوئی شخص اپنی شجاعت ظاہر کرنے کو لڑاتا ہے اور کوئی مال غنیمت کے خیال سے اور کوئی اپنی شہرت حاصل کرنے کی غرض سے لڑاتا ہے تو ان میں کون فی سبیل اللہ مقاتلہ کرتا ہے آپ نے جواب دیا کہ جو شخص محض اس واسطے لڑاتا ہے کہ اللہ کے توحید کا رواج بڑھے اور خدا ہی کا بول بالا ہو وہ فی سبیل اللہ جنگ کرتا ہے یہ حدیث آیت کے ٹکڑے وقاتلوھم کی گویا تفسیر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دین کی لڑائی سوائے دین کی مدد کے اور کسی دنیا کے خیال سے نہ ہونی چاہیے پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ اگر یہ کفار اس لڑائی سے خالف ہوئے اور ایمان لے آئے اور کفر سے باز رہے تو تمہیں تو ان کے دلوں کی خبر نہیں ہے مگر ان سے کہہ دو کہ خدا تمہارے اعمال سے پوری واقفیت رکھتا ہے وہ تمہارے عمل دیکھ رہا ہے تم سے درگذر کرے گا اور اگر پھر یہ لوگ اسی کفر پر جمے رہے اور لڑائی پر مستعد ہوئے تو یہ بات جان لیویں کہ خدا انہیں کبھی فتحیاب نہیں کرے گا وہ تو ہمیشہ تمہارے ہی ساتھ تمہاری مدد کرتا رہے گا اور ہر وقت تمہیں کو غلبہ دیتا رہے گا اس سے بڑھ کر کوئی حمایتی نہیں ہے اور نہ اس سے زیادہ کوئی مددگار ہے ابن جریر نے اپنی تفسیر میں فتنہ کے متعلق وہ ایک روایت نقل کی ہے جس کی سند صحیح ہے جش میں یہ ہے کہ عبدالملک بن مروان نے عروہ کے پاس ایک خط لکھ کر چند باتیں دریافت کی تھیں یہ پوچھا تھا کہ حضرت ﷺ کیونکر مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرکے گئے تھے اس کے جواب میں عروہ نے جو کچھ لکھا ہے اس کو ابن جریر نے مفصل بیان کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے جب حضرت کو رسول بنا کر دنیا میں بھیجا اور آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا تو پہلے یہ لوگ آپ سے اتنا نہیں بھاگتے تھے اور جو کچھ حضرت صلعم فرماتے تھے اس کو سنا کرتے تھے مگر جب ان کے بتوں کا ذکر آیا اور بتوں کی پوجا سے ان کو منع کیا گیا تو یہ لوگ دشمنی کرنے لگے اور جو شخص اسلام میں داخل ہوتا تھا اس پر جبر کرتے اور فتنہ برپا کرتے تھے جب مسلمانوں کو تکلیف ہونے لگی تو آپ نے ان کو ملک حبشہ میں چلے جانے کا حکم دے دیا حبشہ کا بادشاہ نجاشی تھا کسی کے دین کے ساتھ مخالفت نہیں کرتا تھا پھر جب اہل مکہ میں سے کچھ زبردست لوگ بھی ایمان لائے تو یہ کفار کچھ ڈھیلے پڑگئے یہ بات ان مسلمانوں کو جو حبشہ میں چلے گئے تھے معلوم ہوئی تو واپس آگئے غرض کہ یہ پہلا فتنہ تھا پھر جب مدینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوئے اور مدینہ سے مکہ حضرت کے پاس جانے آنے لگے تو قریش کے دل میں پھر جوش پیدا ہوا اور فتنہ پر آمادہ ہوئے پھر حج کا زمانہ آیا تو مدینہ کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے جو مسلمان ہوگئے اور اللہ کے رسول سے ان لوگوں نے یہ عہدو پیمان کیا کہ اگر آپ مدینہ میں چلیں تو جس طرح ہم اپنے بال بچوں اور اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہیں اسی طرح آپ کی حفاظت کریں گے اور ہر طرح سے آپ کو مدد دینے پر آمادہ رہیں گے اس وقت آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دے دیا کہ چلو مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں بودوباش اختیار کریں یہ دوسرا فتنہ تھا جو اہل مکہ نے بر پا کیا تھا اسی فتنہ کے وقت یہ آیت اتری کہ ان لوگوں سے جنگ کرو تاکہ فتنہ باقی نہ رہے یہ عروہ بن زبیر مشہور تابیعوں میں ہیں صحاح کی سب کتابوں میں ان کی روایتیں ہیں عبدالملک بن مروان خلفاء بنی امیہ میں کے ایک خلیفہ ہیں ان کے ہی زمانہ میں عبداللہ بن زبیر ؓ شہید ہوئے اور حجاج نے ان کے ہی زمانہ میں کعبہ کی پہلی عمارت کو توڑ کر یہ جدید عمارت بنائی جو اب تک موجود ہے ریشمی کپڑے کا کعبہ کا غلاف بھی انہیں عبدالملک کے زمانہ سے شروع ہوا 26 ہجری میں ان عبدالملک کی پیدائش ہے اور 73 ہجری سے خلافت اور 86 ہجری میں وفات ہے صحیح مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں بعضے صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ اسلام لانے سے پہلے آدمی جو گناہ کرچکا اب اسلام لانے کے بعد ان گناہوں کا کچھ وبال تو اس آدمی کے ذمہ باقی نہ رہے گا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ جو شخص ظاہر و باطن میں ہر طرح خالص دل سے اسلام لاویگا اس پر تو اسلام سے پہلے کے گناہوں کا کچھ وبال نہ رہے گا کیونکہ اسلام پچھلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ہاں جو شخص فقط ظاہر میں اسلام لے آویگا اور باطن میں منافقوں کی سی دغابازی اس کے دل میں باقی رہے گی تو ایسے جھوٹے اسلام سے اسلام کے پہلے گناہ معاف نہ ہوں گے بلکہ ایسے شخص کو اگلے پچھلے سب گناہوں کا مؤاخذہ بھگتنا پڑیگا۔ اس حدیث کو آیت کے ٹکڑے ان ینتہوا یغفرلھم ماقد سلف کی تفسرا میں بڑا دخل ہے۔ کیونکہ آیت کے ٹکڑے اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ اسلام میں پہلے کے گناہوں کی معافی کے لئے خالص دل کا اسلام ضروری ہے اوپرے دل کا اسلام اس معافی کے لئے کافی نہیں :۔
Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول ﷺ کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مٹھ بھیڑ ہوگئی اپنے بندے (محمد ﷺ پر نازل فرمائی اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

41۔ غنیمت اور فے دوچیزیں جدا جدا ہیں غنیمت وہ ہے جو سوارپیادوں کا لشکر دشمنوں پر حملہ کر کے لڑے بھڑے اس جنگ میں جو کچھ مال ومتاع قلیل یا کثیر ہاتھ آوے وہ سب مال غنیمت ہے اور فے وہ مال ہے جو دشمنوں سے بےلڑے بھڑے حاصل ہو مثلا جو کچھ صلح میں مقرر ہو یا کوئی لاوارث شخص مسلمانوں کے ملک میں ہو اس کے مرنے کے بعد جو کچھ اس کا سامان مسلمانوں کے ہاتھ لگے یا خراج کے طور پر مال ملے یہ سب فے ہے فے کے احکام سورة حشر میں مذکور ہیں یہاں اللہ پاک نے مال غنیمت کے احکام بیان فرمائے یہ غنیمت اور کسی نبی کے وقت میں حلال نہ تھی بلکہ اور انبیاء کے زمانہ میں جب کسی نبی کو مال غنیمت ہاتھ لگتا تھا تو اس کو ایک جگہ میدان میں جمع کردیا کرتے تھے آسمان سے ایک آگ آکر اس کو جلا جاتی تھی۔ اللہ پاک نے محض اپنے کرم سے اس مال غنیمت کو اس امت کے لئے حلال ومباح کیا ہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو مجھے غلبہ ہوتا ہے۔ میرے 3۔ لئے غنیمت حلال کی گئی ہے جو پہلے مجھ سے کسی کے واسطے مباح نہ تھی۔ میرے 4۔ لئے ساری زمین مسجد بنادی گئی جہاں چاہوں نماز پڑھ لوں۔ میرے 5۔ واسطے قیامت کے دن کی شفاعت مقرر ہے میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا اس حدیث کو ابن عباس ؓ کی روایت ہے امام احمد نے سند جید سے روایت کیا ہے اور ایک حدیث اسی مضمون کی ابوہریرہ ؓ کی صحیحین میں ہے مگر اس میں چھٹی چیز کا بھی ذکر ہے کہ مجھ پر نبوت ختم کردی گئی ہے بہر حال اللہ پاک نے غنیمت کا مال یوں تقسیم کرنے کو فرمایا کہ کل مال غنیمت کی چھوٹی بڑی چیز ایک جگہ کر کے اس کے پانچ حصہ کرو چار حصہ تو غازیوں کے ہیں جو لڑائی میں شریک تھے خواہ پیچھے گئے ہوں یا پہلے گئے ہوں بلا نیت کے شریک ہوئے ہوں یا نیت کر کے گئے ہوں سوار کو دو حصہ دئے جائیں اور پیادہ کو ایک حصہ اور وہ ایک حصہ جو رہا اس کے پھر پانچ حصہ کئے جائیں ایک حصہ ان میں سے حضرت ﷺ کا ہے اور دوسرا حصہ آپ کے قرابت مندوں کا تیسرا حصہ یتیموں کا چوتھا حصہ مسکینوں کا پانچواں حصہ محتاج مسافروں کا اور اللہ پاک نے اپنا ذکر اس آیت میں تبرک کے طور پر بیان کیا ہے اپنا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور اکثر مفسروں کا یہی قول ہے کہ یہ جملہ فان للہ خمسہ برکت کے لئے ہے کیونکہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کا ہے غرض اس خمس میں اللہ اور اس کے رسول کا ایک ہی حصہ ہے کوئی علیحدہ علیحدہ نہیں ہے حضرت ﷺ اس حصہ کو جو چاہیں کریں چاہے جس کو دیں آنحضرت ﷺ مال غنیمت میں سے کوئی چیز پسند کرتے تھے تو اس کو بطور نفل کے لے لیتے تھے معتبر سند سے مسند امام احمد اور ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے بدر کی لڑائی میں تلوار ذوالفقار بطور نفل کے لی تھی حصہ سے بڑھ کر جو چیز ہو وہ نفل ہے ابوداؤد میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے کہ صفیہ ؓ بھی اس نفل کے طور پر تھیں کہ جنگ خیبر میں جو غنیمت ہاتھ لگی تھی اس میں سے آپ نے ان کو پہلے اپنے لئے منتخب کرلیا تھا حضرت عائشہ ؓ کی یہ حدیث مسند حاکم میں بھی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے ذوالقربی سے مراد بنی ہاشم اور بنی مطلب ہی بنی نوفل اور بنی عبدالشمس اگرچہ آپ کی چچا کی اولاد میں ہیں مگر یہ لوگ ذوالقر بے میں نہیں ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب ایک ہیں اور دونوں انگلیوں کو ملا کر بتلایا کہ اس طرح پھر ان میں بھی اس کی رعایت کی جاتی تھی کہ مردوں کو پہلے دیتے تھے اور مردوں کے ہوتے ہوئے عورتوں کو جو بنی ہاشم اور بنی مطلب کی اولاد میں تھیں ان کو حصہ نہیں دیا جاتا تھا چناچہ آنحضرت عثمان ؓ اور زبیر ؓ کی والدہ بنی ہاشم میں سے تھیں انہیں کچھ نہیں دیا کرتے تھے یتمیٰ سے مراد مسلمانوں کے یتیم بچے ہیں مسکین وہ ہے جو گذرا وقات کے موافق آمدنی نہ رکھتا ہو ابن السبیل وہ لوگ جو سفر میں ہوں اور محتاج ہوں ان کے پاس اتنا نہ ہو کہ سفر میں خرچ کرسکیں پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ جو حکم مال غنیمت میں ہم نے جاری کیا ہے اور جس طرح اس کے پاس اتنا نہ ہو کہ سفر میں خرچ کرسکیں پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ جو حکم مال غنیمت میں ہم نے جاری کیا ہے اور جس طرح اس کی تقسیم کردی ہے اگر تم لوگ اللہ پر اور قرآن کی آیتوں پر ایمان لائے ہو تو تم اس حکم کو بجالاؤ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یوم الفرقان یوم بدر ہے اس کو یوم الفرقان اس واسطے کہا کہ اس روز حق وناحق میں فرق ہوگیا حق غالب ہوا اور ناحق کا دعویٰ مغلوب ہوا یوم التقی الجمعان بھی وہی بدر کا دن ہے یہ پہلا معرکہ تھا جو حضرت ﷺ اور مسلمانوں کو کفاروں کے ساتھ پیش آیا تھا بدر کی لڑائی میں مشرکوں کا سردار عتبہ بن ربیعہ تھا رمضان کی سترہویں تاریخ روز جمعہ کو یہ معرکہ آرائی ہوئی تھی مسلمان کچھ اوپر تین سو تھے اور کفار ایک ہزار تھے ستر آدمی کفار کے ہلاک ہوئے اور اسی قدر گرفتار ہو کر آئے پھر اللہ پاک نے فرمایا کر یہ خدا ہی میں قدرت ہے جو اتنے قلیل لشکر کو اتنے بڑے گروہ پر اس نے غالب کردیا وہ ہر شے پر قادر ہے اس کے نزدیک کوئی بات مشکل نہیں ہے شروع سورت میں یہ جو فرمایا تھا کہ مال کا حق اللہ اور رسول کو ہے جس طرح اللہ کی مرضی ہوگی اسی طرح وہ اس مال کی تقسیم اپنے رسول کی معرفت کراوے گا اب اس آیت میں اس وعدہ کو پورا فرما دیا غرض وما انزلنا علی عبدنا سے مقصود وہی شروع سورة کا وعدہ ہے جو انفال للہ والرسول فرما کر نازل فرمایا تھا۔ بدر کی لڑائی پہلی لڑائی تھی اور تنگ دستی کے سبب سے لشکر اسلام کو روپیوں کی ضرورت بھی تھی اس لئے بغیر پانچواں حصہ نکالے کے اللہ کے رسول نے اس لڑائی کی غنیمت کا سب مال تو لشکر اسلام کو بانٹ دیا لیکن آئندہ سے غنیمت کے مال کے یہ پانچ حصے اور پانچویں حصے کے پھر پانچ حصے اس طرح قرار پائے جس کا ذکر اس آیت میں ہے اوپر یہ جو گذرا کہ اللہ کے رسول ﷺ اگر غنیمت کے مال میں کوئی چیز پسند کرلیتے تھے تو پانچویں حصہ کے علاوہ بھی آپ کو اس کا لینا جائز تھا مثلا بدر کے مال غنیمت میں سے تلوار ذوالفقار اور خیبر کے مال میں سے صفیہ بنت حیی کو آپ نے پسند کیا تھا یہ قول بعضے سلف کا ہے باقی سلف اس کے قائل نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ آیت کے نازل ہونے کے بعد علاوہ پانچویں حصہ کے اور کوئی زیادہ چیز کبھی اللہ کے رسول نے نہیں لی یہ باقی کے سلف ذوالفقار کا جواب تو یہ دیتے ہیں کہ یہ قصہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے اور صفیہ دحیہ کلبی کے حصہ میں گئی تھیں اور پھر آنحضرت ﷺ نے ان کو دحیہ کلبی سے خرید لیا حاصل یہ ہے کہ یہ مسئلہ اختلافی ہے اسی طرح یہ مسئلہ بھی اختلافی ہے کہ سوار کے تین حصے ہیں زیادہ تفصیل ان اختلافی مسئلوں کی بڑی کتابوں میں ہے :۔