7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 7:1
یہ حروف مقطعات ہیں ان کے معنے سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں چناچہ اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ہے :۔
Ayahs 7:2–3

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

(اے محمد یہ) کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے اس سے تم کو تنگدل نہیں ہونا چاہئے (یہ نازل) اس لئے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کیلئے نصیحت ہے۔

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

(لوگو ! ) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی کی پیروی نہ کرو۔ (اور) تم (کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔

(2 ۔ 3) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ‘ مجاہد (رح) اور قتادہ (رح) کے قول کے موافق اس آیت میں حرج کے معنے شک کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس کتاب کے اللہ کا کلام ہونے میں کچھ شک نہیں ہے تو مشرکین مکہ میں سے اکثر لوگوں کے اس قرآن کو سن کر راہ راست پر آنے میں بھی کچھ شک نہیں کرنا چاہئے اس لئے تم اس کتاب کے موافق لوگوں کو ڈراتے رہو اور آخر کو اس ڈرانے کا نتیجہ نیک حسب دل خواہ نکلنے میں کچھ شک وشبہ نہ کرو کیونکہ جو ایمان والے ہیں ان کے لئے تو اس قرآن میں بڑی نصیحت ہے اور جو منکر لوگ اس کی نصیحت نہ مانیں تو اے رسول اللہ کے تمہارا کام فقط اللہ کا کلام ان کو پہنچا دینا ہے جب اہل مکہ باوجود اپنی فصاحت کے دعوے کے قرآن کی مانند ایک چھوٹی سی سورت بھی بنا کر پیش نہ کرسکے اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگیا کہ قرآن طاقت بشری سے باہر ایک کلام ہے تو ان کے قائل کرنے کو فرمایا کہ اب ہٹ دھرمی نہ کرو قرآن کو کلام الٰہی جانو اور اس کی پیروی کرو شیطان کے بہکانے سے بت پرستی جو کر رہے ہو اس کو اور سب طرح کا کفرو شرک کو چھوڑ سوائے خدا کے کسی کو پانا کام بنانے والا نہ ٹھہراؤ تم لوگ نصیحت کی باتوں کا بہت کم دھیان کرتے ہو ورنہ قرآن کی نصیحت تمہارے دل پر خوب اثر کرسکتی ہے صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور معجزوں کے علاوہ مجھ کو قرآن شریف ہی کا ایک ایسا معجزہ دیا گیا جس کے سبب سے قیامت کے دن میری امت کے لوگوں کی تعداد بہ نسبت اور امتوں کے زیادہ ہوگی یہ حدیث قرآن کے صاحب اثر ہونے کی گویا تفسیر ہے :۔
Ayahs 7:4–7

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جبکہ وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے۔

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے۔

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کرینگے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے۔

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے !

(4 ۔ 7) ۔ اوپر کی فہمائش کے بعد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو یوں ڈرایا ہے کہ جب تم سے پچھلے لوگوں نے کفر وشرک نہ چھوڑا اور خدا تعالیٰ کے حکموں اور رسولوں کی فرمانبرداری نہ کی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسولوں کی مخالفت کے سبب سے ان نافرمانوں کی بہت سی بستیاں تباہ کردی گئیں دونوں جہان کی ذلت ان کو حاصل ہوئی تم لوگ بھی الگ اللہ کے رسول کی نافرمانی سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی یہی انجام ہونے والا ہے قوم لوط (علیہ السلام) پر رات کے وقت اور قوم شعیب (علیہ السلام) پر دوپہر کے وقت عذاب الٰہی نازل ہوا تھا یہ دونوں وقت نہایت آرام و غفلت کے ہوتے ہیں ایسے ہی وقت میں خدا کا عذاب یکایک اترا اور اس واسطے ان دونوں وقتوں کا نام اس آیت میں لیا گیا کہ آرام کے وقت مصیبت کا آجانا انسان کو بہت شاق گذرتا ہے اہل مکہ اپنے عیش و آرام میں ڈوبے ہوئے تھے اس لئے ان کو جتلایا کہ ان سے پہلے لوگ بھی عیش کے بندے تھے لیکن راحت کے وقتوں میں جب ان پر عذاب آگیا تو سب راحت خاک میں مل گئی پھر فرمایا جن وقتوں میں عذاب آیا تھا وہ اس وقت سوائے اپنے گناہوں کے اقرار کے اور کچھ نہ کہہ سکے یہی کہتے کہ بیشک ہم اسی لائق ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ قیامت کے روز پروردگار پچھلی سب امتوں سے جھڑکی اور ان کو قائل کرنے کے طور پر یہ پوچھے گا کہ تم نے ہمارے رسولوں سے یہ دریافت فرماوے گا کہ تم نے ہمارے پیغام ان کو پہنچاوئے یا نہیں سورة قصص میں آویگا۔ وَمَا کَانَ رْبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبُعَثَ فِیْ امہَا رَسُوْلًا یَّتْلُوا عَلَیْہِمْ ایٰاتِنَا وَمَاکُنَّا مُہْلِکیَ الُقُرٰی اِلَّاوَاَھْلُہَا ظَالِمُوْنَ (28: 59) اور سورة مومن میں آوے گا فَلَماَ رَاوَبْاَ ْسَنَآ قَالُوْا اٰمَنَّا بِاْللّٰہِ وَحْدَہٗ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّابِہٖ مُشْر کِیْنَ فَلَمْ یکُ یَنْفَعُہُمْ اِیْمَا نُہئمْ لَمَّارَاُوُبَاْ سَنَآ سَنَۃَ اللّٰہِ الَّتیِ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖ (40: 84۔ 85) مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ جتنی بڑی چھوٹی بستیاں پچھلے زمانہ میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے ہیں ان کی ہلاکت سے پہلے جب تک اللہ تعالیٰ نے ان میں کی بڑی بڑی بستیوں میں آسمانی کتابیں دے کر رسول نہیں بھیج لئے اور رسولوں کے بھیجنے کے بعد پھر جب تک ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر کے اللہ کے رسولوں سے پوری مخالفت نہیں کی اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے بےوقت ناانصافی سے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا پھر جبکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو نیک وبد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے اور مجبوری کے بعد یہ امتحان کا موقع باقی نہیں رہتا اس لئے اللہ کے عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ان لوگوں نے جو اللہ کی فرمانبرداری اور شرک سے بیزاری کا اقرار کیا ان کے اس بےوقت کے اقرار پر لحاظ کرنا انتظام دنیا کے برخلاف تھا اس واسطے ان کا وہ اقرار ناقابل توجہ قرار پایا۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا صاحب عذر کے عذر کو رفع کردینا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اسی واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے تاکہ کسی شخص کو احکام الٰہی کی انجانی کا عذر باقی نہ رہے صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن العاص ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے دنیا کے پیدا ہونے کے بعد جو کچھ دنیا میں ہونے والا تھا اپنے علم ازلی کے موافق وہ سب اللہ تعالیٰ ان متوں کے رسولوں سے پوچھے گا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے احکام اپنی امتوں کو اچھی طرح سے پہنچادئے تھے اللہ کے رسول جواب دیں گے کہ یا اللہ ہم نے ان لوگوں کو تیرے سب سزا وجزا کے احکام پہنچادیے لیکن ان لوگوں نے ان احکام کو نہیں مانا یہ پچھلی امتوں کے لوگ اللہ کے رسولوں کو جھٹلادیں گیں اور کہیں گے یا اللہ ہم کو کسی نے تیرے احکام نہیں پہنچائے اس پر اللہ تعالیٰ ان رسولوں سے فرمادے گا کہ تم اپنے بیان کی تائید میں کوئی شہادت پیش کرسکتے ہو وہ رسول امت محمد یہ کو اپنا گواہ قرار دیں گے یہ سن کر پہلی امتیں کہیں گی کہ یا اللہ یہ لوگ تو ہم سے پیچھے دنیا میں پیدا ہوئے تھے ان کو ہمارے حال کی کیا خبر ہے۔ امت محمدیہ کے لوگ کہیں گے کہ یا اللہ تو نے ہمارے نبی آخر الزمان پر جو قرآن اتارا ہے اس میں پہلے نبیوں کا اور پہلی امتوں کا سب کا ذکر ہے اس واسطے ہم تیرے کلام کے موافق تیرے رسولوں کے سچے ہونے کی گواہی دیتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیتیں اور حدیثیں گویا اس آیت کی تفسیر ہیں جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو ہر ایک فرمانبردار اور نافرمان کا حاصل دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے معلوم تھا لیکن اس نے سزا وجزا کا مدار اپنے انصاف سے اس اپنے ازلی علم پر نہیں رکھا بلکہ دنیا اور عقبے میں نافرمان لوگوں کی سزا کا مدار ظہور جرم پر ثبوت جرم کے بعد رکھا ہے۔ فلنقصن کا مطلب حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ ہر شخص کا نامہ اعمال اس کے روبر رکھا جاوے گا جو سب عملوں کا احوال ظاہر کریگا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب چھوٹے بڑے عملوں کی خبر اپنے بندوں کو دے گا کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے سب کچھ اس کے علم میں ہے مگر نامہ اعمال سے ان لوگوں کو قائل کیا جاویگا۔
Ayahs 7:8–9

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہونگے وہ تو نجات پانے والے ہیں۔

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لئے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے۔

(8 ۔ 9) ۔ اللہ کے حکم سے قیامت کے دن عملوں کو ایک طرح کا جسم دیا جاوے گا جسم میں نیکی کے سب سے ایک بھاری پن اور بدی کے سبب سے ایک ہلکا پن ہوگا غیر جسمی چیزوں کے لئے ایک طرح کا جسم پیدا ہوجانا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ بلا اور دعا آپس میں لڑتے ہیں یا قبر میں نیک عمل نیک صورت بن کر اور بدعمل بری صورت بن کر مردہ کے پاس آتے ہیں یہ قدرت الٰہی سے کچھ بعید نہیں ہے اس واسطے یہ تاویل کرنا کہ صاحب عمل لوگوں کا جسم تولا جاویگا ایک بعید تاویل ہے اور بعضے مفسروں نے صحیحین کی اس حدیث سے کہ قیامت کے دن بڑے بڑے موٹے اور جسیم آدمی ہوں گے جو اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کی برابر نہ جچیں گے صاحب عمل کے تولنے کی تائید جو نکالی ہے وہ تائید بھی تکلیف سے خالی نہیں کیونکہ اس حدیث میں ان لوگوں کی قدر منزلت اللہ کے نزدیک ملکی ہونے کا ذکر ہے جسموں کے تولنے سے اس حدیث کو کچھ تعلق نہیں نہیں اور بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ عمل نہیں تولے جاویں گے بلکہ نامہ اعمال کے کا عذر تولے جاویں گے اور اپنے اس قول کی تائید میں ترمذی اور مسند امام احمد ابن حنبل کی وہ حدیث پیش کی ہے کہ کلمہ توحید کے ثواب کا کاغذ کا ٹکڑا بہت سے بدیوں کے دفتروں سے بھاری رہے گا اس میں بھی عمل کے ثواب کا وزن ہے ورنہ کاغذ کا خالی ٹکڑا کیا بھاری ہوسکتا 6 ؎ ہے ترمذی ‘ ابوداؤد وغیرہ میں ابودرداء کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میزان میں خوش اخلاقی بڑی بھاری چیز ٹھہرے گی اس حدیث کو ابن حبان نے صحیح کہا ہے اس صحیح حدیث سے عملوں کے تولے جانے کی پوری تائید ہوتی ہے اب عملوں کے تولے جانے کے بعد جن کے نیک عملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جنتی قرار پاویں گے اور جن کا بدعملوں کا پلڑا بہاری ہوگا وہ دوزخ میں جاویں گے۔ دوزخ میں جانے کے بعد جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا آخر کو وہ دوزخ سے نکل کر جنت میں جاویگا چناچہ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوسعید ؓ حدری کی حدیث اس باب میں گذر چکی ہے میزان میں جن لوگوں کے نیک عمل اور بدعمل برابر ہوں گے وہ لوگ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کے قول کے موافق اعراف پر جنتیوں اور دوزخیوں کے فیصلہ اخیر تک ٹھہرائے جاکر پھر جنت میں جاویں گے اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان میں ایک دیوار ہے جس کا ذکر آگے آتا ہے قیامت کے تین مقام جو بڑے خوف اور بڑی پریشانی کے ہیں ان میں ایک مقام تو یہی اعمال کے تولے جانے کا ہے دوسرا مقام نامہ اعمال کہ دائیں یا بائیں ہاتھ میں آنے کا ہے تیسرا مقام پل صراط پر گذرنے کا ہے ابوداؤد میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے جس میں ان تینوں مشکل کا ذکر ہے اگرچہ ابوداؤد اور حافظ عبدالعظیم منذری دونوں نے اس حدیث کی سند کا کچھ حال بیان نہیں کیا لیکن اس حدیث کی سند معتبر ہے کیونکہ یہ حدیث حسن بصری (رح) کی روایت سے ہے جس کو انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے ملاقات ہوئی ہے اس صورت میں یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اس لئے کہ جن دو شخصوں کا زمانہ ایک ہو ان کی باہمی روایت امام مسلم کے نزدیک صحیح ہے یہاں تو حسن بصری (رح) اور حضرت عائشہ ؓ کی ملاقات بھی ثابت ہوئی اس حدیث کی سند معتبر معلوم ہوتی ہے :۔
Ayahs 7:10–11

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور ہمیں نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے سامان معیشت پیدا کئے (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور ہمیں نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت و شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو۔ تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس۔ کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا۔

(10 ۔ 12) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کو جتایا ہے جو اس نے اپنے بندوں پر کئے ہیں تاکہ بندے ان احسانوں کے شکر گذرا ہوجاویں اور سوا اللہ کے اوروں کی پرستش چھوڑ دیویں اس لئے فرماتا ہے کہ ہم نے تم کو زمین میں رہنے اور گھر بنانے کی جگہ دی مکان بنانے کے باغ لگانے کی کھیتی کرنے کی تم کو عقل دی زمین کی مضبوطی کے لئے پہاڑ پیدا کئے زمین کی سر سبزی کے لئے نہریں بہادیں کھیتی سودا گری کے ہزارہا سامان معاش کے تمہارے لئے زمین میں پیدا کردئے باوجود اس کے تمہاری یہ ناشکری ہے کہ ایسے بڑے مالک کو چھوڑ کر اوروں کو پوجا کرتے ہو علاوہ اس کے تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو یہ بزرگی عطا فرمائی کہ تمام فرشتوں کو حکم سجدہ کرنے کا دیا سب فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا اور حکم پروردگار کا مانا مگر ابلیس نے کہ وہ تمہارے باپ سے عدادت رکھتا تھا بسبب حسد کے آدم کو سجدہ نہ کیا اور عدول حکمی کی ابلیس تمہارا موروثی دشمن ہے تم اس سے بچتے رہو اور اس کا کہنا ہرگز نہ مانو سورة زخرف میں آویگا کہ دنیوی معاش میں اللہ تعالیٰ نے بعضے لوگوں کو خوشحال اور بعضوں کو تنگ حال جو رکھا ہے اس سے دنیا کا یہ انتظام مدنظر ہے کہ تنگ حال لوگوں کو خوش حال لوگوں کے روپے پیسے کی ضورت رہے خوش حال لوگوں کو تنگ حال لوگوں کے کام کاج کی ضرورت رہے غرض دنیا میں سب لوگ یکساں ہوتے تو دنیا کا انتظام نہ چل سکتا اس انتظام کے موافق جس کی جیسی معاش ہو اس کے موافق ہر شخص کو اس کا شکر ادا کرنا چاہئے معتبر سند سے مسند امام احمد میں نعمان بن بشیر ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے تھوڑی معاش کو اللہ کے نعمت جان کر اس کا شکرادا نہیں کیا وہ زیادہ معاش کا بھی شکر ادا نہ کرسکے گا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمود بن لبید ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا لوگ معاش کی کمی سے گھبراتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ جس کی معاش دنیا میں کم ہوگی اس پر قیامت کے حساب کی بار بھی کم ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کی معاش زیادہ ہے اس پر دنیا میں شکر گذراری کا اور عقبے میں حساب کا بار بھی زیادہ ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں ابودرواء کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ معاش کی خوش حالی جس سے آدمی دین سے غافل ہوجاوے ایسی معاش کی خوش حالی سے معاش کی تنگ حالی بہتر ہے ان حدیثوں کو پہلی آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ معتبر سند سے ترمذی مسند امام احمد مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عمر ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی پشت سے تمام بنی آدم کی جنتی اور دوزخی روحوں کو الگ نکالا اور فرمایا کہ یہ روحیں جنتی لوگوں کی ہیں اور یہ دوزخی لوگوں کی معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی اور ابوداؤد میں ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا حضرت آدم ( علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے اسی واسطے ان کی اولاد میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی نرم مزاج ہے کوئی سخت مزاج حاصل کلام یہ ہے کہ ان حدیثوں کے موافق حضرت آدم کی پشت میں تمام بنی آدم کی روحیں پیدا کی گئی تھیں اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کے جسم میں تمام بنی آدم کے جسموں کا مادہ رکھا گیا تھا اسی واسطے ایک حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش کو خلقناکم ثم صورناکم فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ابو بشر حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش گویا تمام بنی آدم کی پیدائش کی بنیاد ہے سورة بقر میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث صحیح مسلم کے حوالہ سے گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں اور ابلیس آگ کے شعلہ سے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس ملائکہ میں سے نہیں ہے۔ اس کی زیادہ تفصیل اور فرشتوں نے جو حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کیا ہے اس کی تفصیل سورة بقر میں گذر چکی ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے لیکن خود ابلیس ملعون کی زبان سے تکبر کا اقرار کرانے کے لیے اس ملعون سے اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ جب تجھ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا تو پھر تجھ کو کس چیز نے روکا کہ تو نے اللہ کے حکم کے موافق سجدہ نہیں کیا اس پر اس ملعون نے وہ تکبر کا جواب دیا جو آگے کی آیت میں ہے :۔
Ayah 7:12

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا ؟ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔

حسن بصری اور ابن سیرین اور اکثر بزرگان دین نے کہا ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر خدا تعالیٰ کا سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں کے لئے اور ابلیس کے لئے ایک قطعی حکم تھا اور یہ ایسا حکم تھا کہ جس طرح کعبہ کو قبلہ ٹھہرا کر سجدہ کرنے نماز میں حکم ہے شیطان نے اس قطعی حکم کے مقابلہ میں جو قیاس کیا یہ پہلا قیاس ہے جو نص کے مقابلہ میں کیا گیا ہے اب بھی نص کے مقابلہ میں جو شخص اس طرح کی عقلی قیاس کرلے اس میں خصلت شیطانی کا اثر ہے اور ایسے شخص کا وہ انجام ہوگا جو شیطان کا انجام ہے ابن سیرین کہا کرتے تھے بتوں کی آگ کی سورج چاند کی غرض سوا اللہ تعالیٰ کے جس چیز کی پوجا زمین پر پھیلی ہے وہ سب قیاس عقلی سے پھیلی ہے۔ یہ محمد بن سرین حسن بصر کے طبقہ کے تابعی ثقہ ہیں حدیث کی صحیح کتابوں میں ان سے روایتیں ہیں قیاس عقلی سے مقصود وہ قیاس ہے جس کی بنا کسی شرعی حکم پر نہ ہو جس قیاس کی بنیاد کسی شرعی حکم پر ہو وہ قیاس فقہی کہلاتا ہے جب کسی مسئلہ کا صاف حکم قرآن اور حدیث میں نہ پایا جاوے تو قرآن اور حدیث میں موجود احکام کو نظر ٹھہرا کر یہ قیاس فقہی جائز ہے سلف میں اس کا وجود پایا جاتا ہے تفصیلی ذکر اس قیاس کا اصول فقہ کی کتابوں میں ہے۔ محمد بن سیرین نے یہ بات نہایت سچی کہی کہ سوائے اللہ کے جو چیزیں زمین پر پوجی جاتی ہیں وہ قیاس عقلی کے سبب سے پوجی جاتی ہیں۔ کیونکہ مثلا بت پر ستی کی بنیاد اس عقلی قیاس پر ہے کہ یہ مورتیں اچھے لوگوں کی ہیں ان مورتوں کی تعظیم اور پوجا کی جاوے گی تو وہ اچھے لوگ اپنے مورتوں کے پوجنے والوں کے برے وقت پر کام آویں گے اسی طرح اور چیزوں کا حال ہے ستارہ پرست کہتے ہیں کہ جس طرح انسان کی روح ہے اسی طرح ستاروں کی بھی اروحیں ہیں جن کو دنیا کے انتظام میں بڑا محل ہے ان کی پوجا سے انسان کا بھلا ہوسکتا ہے۔ آتش پرست سورج کو دنیا کا بادشاہ کہتے ہیں اور سورج کی مناسبت کے سبب سے آگ کی پوجا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آگ ایسی چیز ہے جس سے دنیا کی ضرورتیں متعلق ہیں صحیح بخاری ومسلم میں حضرت علی ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو مخلوق اللہ کے علم ازلی میں نیک قرار پاچکی ہے اس کے دنیا میں نیک کام آسمان ہوجاتے ہیں اور جو مخلوق علم الٰہی میں بدقرار پاچکی ہے وہ نیک کاموں سے دور اور برے کاموں میں ہیمشہ گرفتار رہتی ہے یہ حدیث حضرت آدم اور شیطان کے قصے کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) علم الٰہی میں نیک قرار پائے تھے اس لئے گیہوں کھانے کے قصور کے بعد ان کو توبہ آسان ہوگئی اور شیطان علم الٰہی میں بدقرار پاچکا تھا اس لئے سجدہ نہ کرنے کے قصور سے اس کو توبہ مسمان نہیں ہوئی بلکہ اس نے اپنے قیاس عقلی سے اس قصور کو قصور نہیں جانا :۔
Ayahs 7:13–16

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایان نہیں کہ یہاں غرور کرے۔ پس نکل جا ' تو ذلیل ہے۔

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے۔

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

(پھر) شیطان نے کہا کہ مجھے تو تو نے ملعون کیا ہی ہے۔ میں بھی تیرے سیدھے راستے پر ان کو (گمراہ کرنے) کیلئے بیٹھوں گا۔

(13 ۔ 16) ۔ جب شیطان نے بموجب حکم خدا کے حضرت آدم کو سجدہ نہ کیا اور اپنے آپ کو بہتر اور بڑا جانا تو خدا تعالیٰ نے اس کو ذلیل و خوار کر کے جنت سے نکال دیا اور فرمایا کہ جنت میں رہ کر تجھ کو تکبر کرنا نہیں پہنچتا کیونکہ جنت فرمانبرداروں کی جگہ ہے نافرمانوں کی جگہ نہیں ہے اس لئے تو اس سے نکل اور زمین پر اتر جا کہ تیرے تکبر کی یہی سزا ہے اس وقت شیطان نے سوچ کر اپنے لئے قیامت تک جیتے رہنے کی مہلت مانگی خدا تعالیٰ نے اس کو پہلے صورت کی مہلت دی تاکہ شیطان کے بہکانے کے بعد فرمانبردار اور نافرمان بندے پہچانے جاویں مہلت مل جانے کے بعد شیطان نے سرکشی سے کہا کہ جس طرح میں گمراہ ہوا اسی طرح میں تیرے بندوں کو جو آدم (علیہ السلام) کی نسل سے ہوں گے گمراہ کروں گا اور ہر طرف سے سامنے اور پیچھے اور دائیں اور بائیں سے ان کے پاس آکر ان کو بہکاؤں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ سامنے سے مراد دینا ہے اور پیچھے سے آخرت یا دائیں سے نیکیاں بائیں سے بدیاں مطلب یہ کہ دنیا کی رغبت اور آخرت سے عفلت نیکیوں سے نفرت بدیوں کی زینت دکھا کر ان کو تیرے سیدھے راستہ پر چلنے سے روکوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول میں یہ بھی ہے کہ من فوقہم اس واسطے نہیں فرمایا کہ رحمت اوپر سے اترتی ہے خدا کی رحمت اور بندے کے درمیان میں شیطان حائل نہیں ہوسکتا اس لئے اوپر کی جانب سے شیطان نہیں آتا اور نیچے کی رحمت اور بندے کے درمیان میں شیطان حائل نہیں ہوسکتا اس لئے اوپر کی جانب سے شیطان نہیں آتا اور نیچے کی طرف سے بھی تکبر کے سبب سے آنا کوئی پسند نہیں کرتا علاوہ اس کے جس کے پاس نیچے کی طرف سے جاؤ اس کو گھبراہٹ اور نفرت ہوتی ہے اور وہ شیطان کی غرض کے بالکل خلاف ہے اس لئے اوپر اور نیچے کی طرف سے شیطان بندے کے پاس نہیں آتا انہیں چار طرف سے کہ جن کا ذکر آیت شریف میں ہے شیطان بندے کے پاس آکر بندے کو بہکاتا ہے ان آیتوں میں تو اکیلے شیطان کی فَاھْبِطْ مِنْہَا فرمایا اور آگے کی آیتوں میں جمع کے لفظوں سے اِھْبِطُوَا فرمایا یہ سورة بقرہ میں گذر چکا ہے کہ جو علماء اس قصہ میں سانپ کی شراکت کو صحیح کہتے ہیں ان کا یہ قول ہے کہ سجدہ نہ کرنے کے گناہ پر جب شیطان جنت سے نکالا گیا تو وہ کسی طرح سے آدم (علیہ السلام) کو بہکانے کے لئے جنت میں جانا چاہتا تھا لیکن جو فرشتے جنت کے دروازوں پر تعینات ہیں وہ شیطان کو جنت میں نہیں جانے دیتے تھے اس لئے شیطان سانپ کے منہ میں بیٹھ کر جنت میں گیا اور آدم (علیہ السلام) کو بہکانا جب تک سانپ جنت کے جانوروں میں سے تھا ان علماء کے قول کے موافق آدم (علیہ السلام) حوا۔ ابلیس اور سانپ ان چاروں کو جمع کے لفظوں سے اھبطوا فرمایا ہے حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں سانپ کی شراکت کے قصہ کو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کے معتبر قول سے نقل کیا ہے اس واسطے یہی تفسیر صحیح معلوم ہوتی ہے کہ جمع کے لفظوں میں اھبطوا جہاں فرمایا ہے اس میں آدم ( علیہ السلام) حوا ‘ ابلیس اور سانپ یہ چاروں شریک ہیں کیونکہ جب اسباب میں دو معتبر صحابیوں کا قول موجود ہے اور اس تفسیر کے مقدمہ میں یہ گذر چکا ہے کہ تفسیر کے باب میں صحابی کا صحیح قول حدیث نبوی کا حکم رکھتا ہے تو اس قصے میں سانپ کی شراکت کو نامعتبر نہیں قرار دیا جاسکتا ہے حاصل کلام ہے کہ ابلیس ملعون جنت سے دو دفعہ نکالا گیا ہے ان آیتوں کے موافق ایک دفعہ کیلا نکالا گیا اور فریب سے پھر جنت میں پہنچا اور آگے کی آیتوں کے موافق دوسری دفعہ آدم ‘ حوا ‘ اور سانپ کے ساتھ نکالا گیا۔ دوسرے صور کے بعد جب سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے شیطان نے اس وقت تک کے جینے کی مہلت اللہ تعالیٰ سے مانگی تھی جس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ملعون موت کی تکلیف سے بچ جاوے کیونکہ دوسرے صور کے بعد پھر موت نہیں ہے اگرچہ ان آیتوں میں شیطان کی مہلت کی منصوری کا ذکر مختصر طور پر ہے لیکن سورة حجر اور سورة میں آویگا کہ شیطان کے جینے کی مہلت اللہ تعالیٰ نے وقت معلوم تک منظور فرمائی ہے وقت معلوم کی تفسیر امام المفسریں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے پہلے صور کی فرمائی ہے اس لئے ان آیتوں کی صحیح تفسیر یہی ہے جو اوپر بیان کی گئی کہ شیطان کے جینے کی مدت پہلے صور کی فرمائی ہے اس لئے ان آیتوں کی صحیح تفسیر یہی ہے جو اوپر بیان کی گئی کہ شیطان کے جینے کی مدت پہلے صور تک ہے مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی صحیح حدیث گذر چکی ہے اور آگے بھی آتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب شیطان نے اللہ تعالیٰ کے روبرو بنی آدم کے بہکانے کی قسم کھائی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر توبہ اور استغفار کرنے والے گناہ گاروں کے گناہ معاف فرما دینے کا وعدہ فرمایا اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے :۔
Ayah 7:17

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آؤں گا۔ (اور ان کی راہ ماروں گا) تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہیں پائیگا۔

مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے زمانہ میں شیطان نے اللہ تعالیٰ سے یہ ایک ظنی بات کہی تھی کہ ہر طرح سے میں بنی آدم کو بہکاؤں گا جب اس نے اپنا گمان سچا کر دکھایا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت کے زمانہ میں اس کے ظن کی تصدیق آیت (لقد صدق علیہم ابلیس ظنہ (34: 2) سے فرمائی علی بن ابی طلحہ کی صحیح روایت میں امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے شاکرین کی تفسیر موحدین فرمائی ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اگرچہ انسان کو انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور پیدا کرنے کے بعد انسان کو نجات عقبے کے راستہ پر لانے کے لئے آسمانی کتابیں نازل فرمائی ‘ رسول بھیجے مگر شیطان کے بہکاوے میں آن کر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو بھول گئے کوئی بتوں کو اللہ کی عبادت میں شریک کرتا ہے کوئی ستاروں کو غرض صحیح طریق سے اللہ کی عبادت کرنے والے بہت کم لوگ سر زمین پر نظر آتے ہیں مسند امام احمد اور نسائی وغیرہ کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی صحیح حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ایک خط کھینچ کر اس کو نجات کا راستہ فرمایا ہے اور اس خطبہ کے دائیں بائیں بہت خط کھینچ کر یہ فرمایا ہے کہ ان سب راستوں میں طرح طرح کے شیطانی بہکاوے ہیں یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ نجات کا راستہ ایک ہے اور اس پر چلنے والا بھی ایک ہی گروہ ہے شیطانی راستے بھی بہت سے ہیں اور ان پر چلنے والے بھی بہت سے گروہ ہیں یہی مطلب ولا تجد اکثر ھم شاکرین کا ہے :
Ayah 7:18

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا نکل جا یہاں سے پاجی مردود۔ جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں (ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر) تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔

اس آیت میں پھر اللہ پاک نے شیطان سے تاکید کر کے فرمایا کہ نکل بہشت سے مردود قسم ہے مجھ کو بھی کہ جو کوئی تیری تابعداری کریگا میں جہنم کو سب سے بھر دونگا اس جواب خداوندی میں جس قدر خوف ہے ‘ اس کا اندازہ کچھ نہیں ہوسکتا کیوں کہ ابلیس کے ساتھ اس کے تابعداروں کو بھی جو کہ اس وقت حاضر نہ تھے دوزخ کے اندر ڈالنے کے حکم میں شامل کرلیا خدا اس سے اپنی پناہ میں رکھے مسند امام احمد اور مسندرک حاکم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی صحیح حدیث اوپر گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب جنت سے نکالے جانے کے وقت شیطان کے ساتھ جہنم میں وہی گنہگار جاویں گے جو ہمیشہ گناہ کرتے ہیں اور خالص دل سے توبہ نہیں کرتے :۔
Ayahs 7:19–21

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور (ہم نے) آدم (سے کہا کہ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) نوش جان کرو مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ گنہگار ہوجاؤ گے۔

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ انکے ستر کی چیزیں جو ان کے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور ان سے قسم کھا کر کہا کہ میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔

(19 ۔ 21) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا پر سوائے ایک درخت کے کل میوے اور پھل جنت کے مباح کردیے تھے کہ جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ اس کا حسد شیطان کو ہوا چاہا کہ کسی طرح یہ نعمتیں ان سے چھینی جاویں اس لئے قریب کی راہ سے کہا کہ اس درخت کے پھل سے جو تم کو منع کیا گیا ہے اس میں یہ بھی ‘ ہے کہ کہیں تم فرشتے یا ہمیشہ کے لئے جنت میں رہنے والے نہ ہوجاؤ اور قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اس موقعہ پر حافظ ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے کہ مومن خدا کا نام سن کر دشمن کے دھو کے میں آجاتا ہے سورة بقرہ میں عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کا یہ قول گذر جنت میں رہتے تھے مگر تنہائی کے سبب سے اکثر گھبرایا کرتے تھے ایک دن حضرت آدم ( علیہ السلام) جب سو رہے تھے تو ان کی نیند کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت حوا کو حضرت آدم ( علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا کردیا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ رہنے کا یہ دوبارہ حکم حضرت حوالہ کے پیدا ہوجانے کے بعد کا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے اس لئے پسلی کی ہڈی کی طرح ہر عورت کے مزاج میں ایک طرح کی کجی ہے۔ مغازی ابن اسحاق وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایتیں ہیں جس میں انہوں نے فرمایا عورت کی پسلی سے پیدا ہونے کا یہ مطلب ہے کہ حضرت حوا حضرت آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے اس وقت پیدا ہوئیں جب حضرت آدم سو رہے تھے یہ پیدا ہونا اس طرح کا ہے جس طرح اناج کے بیج یا میوے کی گٹھلی میں سے پیڑ پھوٹ آتا ہے سورة بقر میں یہ بھی گذر چکا ہے کہ جس پیڑ کا پھل کھانے سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی منع کیا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق وہ گیہوں کا پیڑ ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کے سبب سے شیطان جنت سے نکالا گیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا دونوں مل کر اللہ کے حکم کے موافق جنت میں راحت سے رہنے لگے تو شیطان کو اس کا بڑا قلق ہوا اور اس قلق میں اس نے جنت تک پہنچنے اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کے بہکانے کی کوشش کی آخر جنت میں پہنچا اور پہلے حضرت حوا کو بہکا کر گیہوں کے دانے کھلائے اور پھر حوا کی رغبت ڈالنے سے آخر حضرت آدم (علیہ السلام) نے بھی گیہوں کے دانے کھائے جس کے نتیجہ کا ذکر آگے کی آیت میں آتا ہے صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر حوا نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر کے برخلاف شیطان کے کہنے میں نہ آتی اس حدیث سے ان مفسروں کے قول کی پوری تائد ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ شیطان کے بہکانے سے بغیر اجازت حضرت آدم ( علیہ السلام) کے پہلے حوا نے گیہوں کے دانے کھائے اور پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کو بھی ان دانوں کے کھانے کی رغبت دلائی صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا شیطان آدمی کے تمام جسم میں اس طرح سرایت کرجاتا ہے جس طرح خون آدمی کے تمام جسم میں پھرتا ہے مطلب یہ ہے کہ اگرچہ شیطان آدمی کو ظاہر میں نظر نہیں آتا لیکن وہ آدمی کے تمام جسم میں سرایت کر کے آدمی کے دل میں اس طرح کا وسوسہ ڈالتا ہے کہ اپنے اس وسوسہ کا اثر آدمی کے تمام جسم میں پھیلا سکتا ہے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حوا کے بہکانے کے خلاف عادت ان کو شیطان نظر بھی آیا اور جھوٹی قسم کھا کر اپنی خیر خواہی انہیں جتلائی جس سے اپنے وسوسہ کے اثر کو اور پکا کردیا برا کام کرنے کے لئے شیطان آدمی کے دل میں جو خیال ڈالتا ہے اس کو وسوسہ کہتے ہیں
Ayahs 7:22–23

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

غرض (مردُود نے) دھوکا دیکر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا۔ ) (جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھالیا تو ان کے ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتّیتوڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے تب انکے پروردگار نے انکو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا ؟ اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے ؟

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

دونوں عرض کرنے گے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔

(22 ۔ 23) ۔ شیطان نے آدم و حوا (علیہما السلام) کے سامنے قسم کھائی اور قسم کا دھوکا دے کر اس درخت کا پھل کھانے پر کہ جس سے ان کو منع کیا گیا تھا ان کو آمادہ کردیا اور جنت سے ان کو نکلوا دیا گیہوں کے کھاتے ہی ان کے ستر کھل گئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان کے بدن پر سے کپڑے جنت کے اتر پڑے جو بدن چھپا ہوا تھا وہ ظاہر ہوگیا ورنہ پہلے دونوں کو اپنا ستر نظر نہ آتا تھا انجیر کے پتے لے کر ستر چھپانے لگے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) جب جنت میں آباد ہوئے تو ان کو ایک کپڑا پہنایا گیا تھا وہ کپڑا چھین لیا گیا کچھ کچھ انگلیوں پر اس کا نشان باقی رہ گیا ہے جس نشان کو ناخن کہتے ہیں قتادہ ؓ کا قول بھی یہی ہے چناچہ آگے آتا ہے صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) کا قد ساٹھ گزکا تھا معتبر سند سے تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن حاتم میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب گیہوں کے کھانے سے حضرت آدم ( علیہ السلام) کا جنتی لباس اتر گیا وہ شرما کر بھاگے مگر قد کے لمبے اور سر پر بال ہونے کے سبب سے ان کے بال جنت کے پیڑوں میں الجھ کر رہ گئے اس وقت آواز دے کر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) سے یہ فرمایا کہ آدم ( علیہ السلام) کیا تو مجھ سے بھاگتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ جس کا ذکر آگے کی آیت میں ہے۔ ان روایتوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ فد لہما بغرور (اس کا مطلب عربی زبان کے محاورہ کہ موافق یہ ہے کہ شیطان نے اپنے مکر و فریب سے آدم ( علیہ السلام) اور حوا کو بہکا دیا۔ ذاتا الشجرۃ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدم ( علیہ السلام) اور حوا نے چکھنے کے طور پر تھوڑے سے دانے گیہوں کے کھائے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پکار کر یہ ارشاد فرمایا کیا مجھ سے بھاگتا ہے عرض کیا نہیں مگر مجھ کو تجھ سے شرم آتی ہے فرمایا میں نے جو کچھ تجھ کو جنت کی نعمتیں دیں گیا وہ تجھے کافی نہ تھیں تو مناہی کی چیز کی طرف مائل ہوا عرض کیا کہ اے پروردگار قسم ہے تیرے عزت کی میں نے یہ نہ جانا تھا کہ کوئی تیری جھوٹی قسم بھی کھاتا ہے فرمایا قسم ہے مجھ کو اپنی عزت کی کہ میں تجھ کو زمین میں اتاروں گا پھر محنت مشقت سے تو زندگی بسر کرے گا۔ اہل سنت کا یہ اعتقاد ہے کہ جس طرح بلاشبہ اور بغیر تفصیلی کیفیت کے معلوم کرنے کے اللہ تعالیٰ کی اور صفتیں ہیں اسی طرح کی اس کی صفت کلام الٰہی بھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ارادے کے موافق جس وقت جو چاہتا ہے وہ وقت کے مناسب پر ارشاد فرماتا ہے۔ مثلا جب آدم ( علیہ السلام) اور حوا نے شیطان کے بہکانے سے گیہوں کے دانے کھائے تو اللہ تعالیٰ نے پکار کر یہ دونوں سے ارشاد فرمایا کہ کیوں میں نے اس پیڑ کا پھل کھانے سے تم کو منع نہیں کیا تھا۔ فرقہ جہمیہ کے لوگ اس اعتقاد میں اہل سنت کے مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوا یا کسی پیڑ میں ایک آواز پیدا کردیتا ہے اور جس کو وہ آواز سنانی منظور ہوئی اسے وہ آواز سنا دیتا ہے سب آسمانی کتابیں ان لوگوں کے اعتقاد میں اسی طرح کی ہیں۔ سوائے کلام الٰہی کے اللہ تعالیٰ کی اور صفات میں بھی اس فرقے کے لوگوں نے طرح طرح کی باتیں نکالی ہیں۔ خلفاء بنی امیہ میں سے ہشام بن عبد الملک کی خلافت میں ایک شخص جعدبن جرہم نے پہلے پہل یہ باتیں نکالی تھیں۔ ہشام نے جب اس شخص کا حال سنا تو اس کو پکڑ کر ملک عراق کے اپنے ایک سرور خالد بن قسری کے پاس بھیج دیا۔ اگرچہ خالد نے بعد کو چند روز قید رکھ کر ان باتوں سے توبہ کرنے کی مہلت دی لیکن خود جب اپنی باتوں سے باز نہ آیا اور جعد کے قتل کے باب میں خلیفہ ہشام کا تاکیدی حکم آیا تو خالد نے عیدالاضحیٰ کے خطبہ میں عراق کے لوگوں کو یہ سنا دیا کہ لوگ اپنی اپنی قرمانی کریں اور میں جعد کی قربانی کرتا ہوں۔ اس بات کے سنا دینے کے بعد خالد نے جعد کو قتل کر ڈالا۔ جعد کے قتل کے زمانہ تک جو تابعی لوگ موجود تھے ان کو اس کے قتل ہوجانے سے بڑی خوشی ہوئی قتل کے بعد جعد کی باتوں کو ایک شخص جہم بن صفوان نے لوگوں میں پھیلایا فرقہ جہمیہ اس شخص کے نام سے مشہور ہے پھر فرقہ معتزلہ امامہا اور خارجیہ میں بھی رفتہ رفتہ یہ بات پھیل گئی یہ لوگ صفات الٰہی کی آیتوں اور حدیثوں میں اس طرح کی باتیں نکالتے ہیں جو صفات الٰہی کے انکار کے برابر اور سلف کے اعتقاد کے بالکل مخالف ہیں اہل سنت اور ان فرقوں کا مباحث شروع سنہ تیسویں ہجری سے چلا آتا ہے صدہا کتابیں اس مباحثہ میں تصنیف ہوچکی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جن مفسروں نے اپنی تفسیروں کا مدار اہل سنت کے اعتقاد پر رکھا ہے وہ اس آیت کی تفسیر میں یہی لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اور اس قسم کی اور آیتوں میں پکار کر ارشاد فرمانے کی صفت کو جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں اپنی ذات کے لئے تو اب فرمایا ہے تو بغیر مشابہت صفات مخلوقات کے ہم اس کا اقرار کرتے ہیں اور تفصیل کیفیت اللہ کو سونپتے ہیں اس تفسیر کے مقدمہ میں یہ بیان کردیا گیا ہے کہ یہ تفسیر صحابہ اور تابعین کے قول کے موافق ہوگی اس واسطے جس شخص کے قتل سے تابعی لوگوں کو خوشی ہوئی ایسے شخص کا یا اس کی پیروی کرنے والوں کا کوئی قول اس تفسیر میں نہیں لیا جاسکتا اللہ تعالیٰ نے جب آدم ( علیہ السلام) اور حوا کو جنت میں رہنے کا حکم دیا تو گیہوں کے پیڑ کا پھل کھانے سے منع فرمایا تھا اور یہ بھی جتلادیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے یہ تم کو جنت سے نکلوا دینے کی کوشش کرے گا تم اس سے ہوشیار رہنا اس واسطے ان آیتوں میں تنبیہ کے طور پر فرمایا کہ باوجود جتلانے کے تم نے ایسا کام کیوں کیا مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ توبہ کرنے سے پہلے حضرت آدم ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کے طور پر عرض کیا کہ یا اللہ اگر میں اپنے گناہ پر یشمان ہو کر توبہ کروں تو مجھ کو پھر جنت مل جاوے گی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں مل جاوے گی حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے اس کے بعد حضرت آدم ( علیہ السلام) کی توبہ قبول ہوئی آیت کے آخری ٹکڑے کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے توبہ کے قبول ہونے کی یہ نشانی ہے کہ جس گناہ سے آدمی نے توبہ کی ہے اس گناہ سے پھر آدمی کا دل بیزار ہوجاوے کیونکہ مستدرک حاکم کے حوالہ سے عبداللہ بن مغفل ؓ کی روایت گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا گناہ کر کے آدمی کا نادم اور پشیمان ہونا بھی توبہ ہے۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اب ظاہر بات ہے کہ آیندہ کے لئے جب تک آدمی کا دل گناہ سے بیزار نہ ہوگا تو سچی ندامت اور پشیمانی میں کے دل میں پیدا نہیں ہوسکتی اس واسطے بیہقی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص گناہ سے بیزار ہو کر توبہ نہ کرے تو ایسی توبہ ایک مسخراپن ہے :۔
Ayahs 7:24–25

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے ایک وقت خاص تک زمین پر ٹھکانا اور زندگی کا سامان کردیا گیا ہے،

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

یعنی فرمایا اس میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں تمہارا مرنا اور اسی میں قیامت کے دن زندہ نکالے جاؤ گے۔

(24 ۔ 25) ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آدم ( علیہ السلام) وحوا (علیہ السلام) ابلیس اور سانپ سب کو فرمایا کہ آسمان سے زمین پر اترو اور وہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے مطلب یہ ہے کہ شیطان آدمی کے بہکانے کی دشمنی سے اور سانپ آدمی کے کاٹنے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آویں گے آدمی کو چاہئے کہ ان سے بچتا رہے جو لوگ شیطان کو دشمن نہ سمجھیں گے اور اس کے بہکاوے میں آجاویں گے وہ ایسا ہی نقصان اٹھائیں گے جس طرح کا نقصان آدم ( علیہ السلام) اور حوا نے اٹھایا پھر فرمایا ایک مدت تک زمین تمہارے رہنے اور ٹھہرنے کا مقام ہے اسی میں تمہارا جینا اور مرنا ہے اور اسی سے تم نکالے جاؤگے مطلب یہ ہے کہ چند روز زندگی کے بعد مرنا اور پھر دوبارہ جینا ہے اور دوبارہ جینے کے بعد اگلے پچھلے سب لوگوں کو اکٹھا کر کے خدا تعالیٰ ہر ایک کو اس کے عملوں کی جزا دیوے گا۔ یہ چند روز کی زندگی صرف آخرت کے سفر کے سامان کے واسطے ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ‘ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ زمین کی پشت زندوں کا ٹھکانا ہے اور زمین کا پیٹ مردوں کا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جن کی تاثیر سے سب مردوں کے جسم تیار ہوجاویں گے پھر ان میں روحیں پھونک دی جاویں جس سے سب مردے جی اٹھیں گے حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے ٹکڑے وھنھا تخرجون کی گویا تفسیر ہے متاع الی حین۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے صور تک زمین اور زمین کی آبادی قائم رہے گی پھر سب کچھ اجڑ جائیگا مسند امام احمد صحیح ابن حبان طبرانی میں ابوہریرہ ؓ اور عقبہ بن عامر ؓ کی معتبر روایتیں ہیں جن میں حضرت ﷺ نے فرمایا بازار میں کپڑا بک رہا ہوگا پانی کے حوضوں کی مرمت ہو رہی ہوگی جانوروں کا دودھ دوہا جا رہا ہوگا آخر یہ سب کچھ پڑا رہ جاویگا ایک پہلا صور پھونکا جائے گا کہ دنیا اجڑ جاوے گی ان حدیثوں کو متاع الی حین کی تفسیر میں بڑا دخل ہے :
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے بنی آدم ہم نے تم پوشاک اتاری کی تمہاری ستر ڈھانکے اور تمہارے بدن کو زینت دے اور جو پرہیزگاری کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جب شیطان تمہارے دشمن نے تم سے لباس بہشتی چھنوادیا تو پھر ہم نے تمہارے لئے دنیا میں لباس اتارا کہ مینہ کے ذریعہ سے زمین میں روئی پیدا کی جس سے طرح طرح کے کپڑے بنانے کی تدبیر تم کو سکھلا دی سو تم اب پرہیزگاری کا لباس پہنو مرد ریشمی اور ٹخنوں سے نیچا کپڑا اور عورت بہت باریک کپڑا کہ جس میں بدن دکھائی دے نہ پہنے یہ تمہارے حق میں بہتر ہے خدا کی اس نعمت کا شکر کرو معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی و ابن ماجہ میں حضرت عمر ؓ سے آیا ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے نئے کپڑے پہن کہ اللہ کا شکر کیا اور پر نے کپڑے صدقہ دے دے تو وہ شخص زندہ مردہ اللہ کی ہمسائیگی اور حمایت میں رہے گا بعضے مفسروں کے نزدیک تقوٰے کے لباس سے وہ لباس مراد ہے جو قیامت کے دن پرہیز گار لوگ پہنیں گے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تقوے کے لباس کا مطلب نیک عمل ہیں مسند امام احمد اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا جو عورت ایسا کپڑا پہنے گی جس سے اس کا بدن اچھی طرح نہیں ڈھکے گا تو وہ عورت دوزخی ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی دوسری حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو لوگ اترانے کے طور پر ٹخنوں سے نیچے پاؤنچے پہنتے ہیں وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت سے دور رہیں گے معتبر سند سے ابوداؤد و نسائی اور ابن ماجہ میں بعداللہ بن عمر ؓ کی روایت ہے جس میں حضرت ﷺ نے پاجامہ کے علاوہ اور کپڑوں کو بھی عادت سے زیادہ نیچا رکھنے کو منع فرمایا ہے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عمر ؓ اور انس ؓ بن مالک کی روایتیں ہیں جن میں حضرت ﷺ نے مردوں کو ریشمی کپڑا پہننے کی ممانعت فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ ریشمی کپڑے کی چار انگل گوٹ وغیرہ مردوں کو جائز ہے اس سے زیادہ جائز نہیں ہے جن مفسروں نے لباس التقوٰے کی تفسیر جائز لباس کو قرار دیا ہے ان کے قول کے موافق یہ حدیثیں لباس التقویٰ کی گویا تفسیر ہیں ریش کے معنے زیب وزنیت کے ہیں مطلب یہ ہے کہ لباس سے آدمی کا بدن بھی ڈھکنا ہے اور بدن کی زیب وزینت بھی ہوجاتی ہے یہ ان مشرکوں کو تنبیہ ہے جو ننگے ہو کر طواف کرتے تھے آخر کو فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے یہ انسان کی ضرورت کی چیزیں اس لئے پیدا کی ہیں کہ یہ مشرک لوگ ان چیزوں پر دھیان کر کے اللہ کو پہچانیں اور شرک سے باز آویں :۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حوا کا لباس ایسا تھا جس طرح اب ہاتھ پیروں کے انگلیوں کے ناخق ہیں گیہوں کھانے سے تمام بدن کا لباس اتر کر فقط انگلیوں پر اس لباس کی نشانی باقی رہ گئی جس کو ناخن کہتے ہیں مسند امام احمد ابو واود ‘ ابن ماجہ ‘ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص جنگل میں پاخانہ کو بیٹھے تو اس کو چاہئے کہ کچھ آڑ کر لیوے پھر فرمایا یہ آڑ اس واسطے ہے کہ شیطان جب انسان کو ننگا دیکھتا ہے تو انسان کی شرمگاہ کو ایک کھیل ٹھہرا لیتا ہے مطلب یہ ہے کہ ننگے آدمی کو شیطان زیادہ بہکاتا ہے کیونکہ شیطان ذکر الٰہی سے بھاگتا ہے اور پاخانہ کے وقت ننگا آدمی ذکر الٰہی نہیں کرسکتا اس آڑ سے شیطان کا وہ غلبہ اللہ کے حکم سے جاتا رہتا ہے یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے کیونکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے آدم ( علیہ السلام) وحوا کو گیہوں کھلا کر کیوں ننگا کردیا اور بنی آدم جب ننگے ہوں تو ان کے پاس کیوں آتا ہے اس حدیث کی سند میں ایک راوی حصین حرانی کو اگرچہ بعضے علماء نے نامعلوم الحال کہا ہے لیکن ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے علاوہ اس کے ایک راوی ابو سعید حرانی ہیں جو علماء کا اختلاف ہے اس اختلاف سے حدیث میں کچھ ضعف نہیں آتا کیونکہ اس حدیث کو حضرت عائشہ ؓ کی اس صحیح روایت سے تقویت ہوجاتی ہے جس کو ابوداود وغیرہ نے پاخانہ کے وقت آڑ کرنے کے باب میں روایت کیا ہے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث میں اور حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں فرق فقط اتنا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں پاخانہ کے وقت فقط آڑ کرنے کا حکم ہے اور ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں آڑ کا حکم اور اس کا فائدہ دونوں باتیں ہیں اس صورت میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث حضرت عائشہ ؓ کی حدیث گویا تفسیر ہے علاوہ اس کے جب ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کو ابن حبان نے اپنی کتاب صحیح ابن حبان میں روایت کیا ہے تو ابن حبان کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے :۔
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے۔ جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکا کر جنت سے نکلوادیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروادیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول دکھائے وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔ )

صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ سے اور مستدرک حاکم تفسیر ابن جوزی اور واحدی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت نے فرمایا کہ شیطان آدمی کے جسم میں خون کی طرح پھرتا ہے اور خاص آدمی کا دل اس کے ٹھکانے کی جگہ ہے جس کو خدا بچاوے اسی کا دل شیطان کے غلبہ سے محفوظ رہتا ہے مسند سعید بن منصور میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ نے ایک روز اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھ کو شیطان کا ٹھکانا انسان کے بہکانے کے وقت کا دکھلا دے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کا دل حضرت عیسیٰ کو دکھلایا کہ سانپ کے پھن کی صورت میں شیطان اس کے دل پر چھایا ہوا تھا لیکن جب وہ شخص کچھ اللہ کا ذکر کرتا تھا تو وہ سانپ کا پھن اس کے دل پر سے ہٹ جاتا تھا اس مضمون کی روایتیں چند طریق سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے آئی ہیں جس کے سبب سے بعض روایتوں کو بعض سے تقویت ہو کر یہ روایت معتبر ہوجاتی ہے جس طرح فرشتوں کو اور خود اپنے جسم کی روح کو بنی آدم نہیں دیکھ سکتے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عام بنی آدم کی نگاہ میں ایسی وقت نہیں پیدا کی ہے کہ وہ شیطان یا اس کے شیاطین کی اصلی صورت میں دیکھ سکیں اس لئے فرمایا کہ شیطان اور اس کے شیاطن بنی آدم کو ہر حال میں دیکھ لیتے ہیں اور بنی آدم شیطانی یا اس کے شیاطین کو اس کے اصلی صورت میں نہیں دیکھ سکتے شیطان اور شیاطین کو اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت بھی دی ہے کہ وہ اپنی اصلی صورت بدل کر کسی دوسری صورت میں آسکتے ہیں چناچہ سورة انفال میں صحیح روایت سے آوے گا کہ بدر کی لڑائی کے وقت خود شیطان بنی کناز کے سردار سراقہ بن مالک کنانی کی صورت میں اور اس کے شیاطین کنانیوں کی شکلوں میں مشرکین مکہ کے لشکر میں مشرکوں کے مددگار بن کر آئے اور لوگوں نے ان کو دیکھا ان سے بات چیت کی لیکن جب شیطان نے لشکر اسلام میں فرشتوں کو دیکھا تو اپنے شیاطین کو لے کر بھاگ گیا ہاں جس صورت میں آنے کی شیطان کو ممانعت ہے اس صورت میں آجانے کی اس کو طاقت نہیں ہے مثلا حضرت ﷺ کی شباہت میں یہ ملعون نہیں آسکتا چناچہ صحیح بخاری ترمذی ‘ ابن ماجہ وغیرہ میں چند صحابہ سے اس بات میں صیح روایتیں ہیں یہ عام بنی آدم کا ذکر گذرا خاص بندے اللہ کے ایسے بھی ہیں جو شیطان اور شیاطین کو اصلی صورت میں دیکھ سکتے ہیں مثلا سورة الانبیاء میں آوے گا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) شیاطین سے ہر طرح کا کام لیا کرتے تھے یا مثلا صحیح بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شیطان نے حضرت ﷺ کی نماز میں کچھ خلل ڈالنا چاہا تو آپ نے اس کو پکڑ کر مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دینے کا ارادہ کیا لیکن پھر اس خیال سے اس کو چھوڑ دیا کہ شیاطین پر اس طرح کی حکومت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ خصوصیت رکھتی تھی مطلب آیت کا وہی ہے جو مالک بن دینار نے بیان کیا ہے کہ جو دشمن نظر نہ آوے اور اپنی دشمنی پورے طور پر کام میں لاسکے وہ دشمن بڑا قوی دشمن ہے اس کی دشمنی کے عملوں سے بچنے کی کوشش ہر مسلمان پر لازم ہے۔ یہ مالک بن دینار اعمش وغیرہ کے طبقہ کے صدوق تابع ہیں۔ صحابہ کی کتابوں میں ان سے روایتیں ہیں صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اذان تکبیر کی آواز سے شیطان دور بھاگ جاتا ہے اسی طرح معتبر سند سے ترمذی ‘ نسائی ‘ صحیح ابن حبان ‘ صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں حارث اشعری ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سوائے ذکر الٰہی کے شیطان کی دشمنی سے اور کوئی چیز انسان کو نہیں بچاسکتی۔ اس لئے ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ شیطان آدمی کا بڑا قوی دشمن ہے کہ خود تو نظر نہیں آتا لیکن اس کے دشمنی کا اثر آدمی کو ہر وقت نظر آتا رہتا ہے اس ہر وقت کی دشمنی کے اثر سے بچانے والی چیز سوا ذکر الٰہی کے اور کچھ نہیں ہے مشرک لوگ خالص دل کے ذکر الٰہی سے بےبہرہ ہیں اس لئے اس دشمن کی دشمنی کے اثر سے ان کا بچنا تو درکنار بلکہ یہ دشمن رفیقوں کی طرح ان کے ساتھ لگا رہتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حوا کے ساتھ جو دشمنی شیطان نے کی تھی اس کا قصہ یاد دلا کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ جتلایا ہے کہ جب تک یہ لوگ شرک سے بازنہ آویں گے اس قدیمی دشمن کی دشمنی کے اثر سے یہ لوگ بچ نہیں سکتے ‘۔