Ayahs 7:94–95(94 ۔ 95) ۔ اس ذکر سے یہ مطلب یہ ہے مطلب ہے کہ کفار قریش پچھلی امتوں کی بربادی کا حال سن کر حضرت ﷺ کے جھٹلانے سے اور کفر سے باز آویں اور خدا سے ڈریں اس لئے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں اللہ تعالیٰ نے رسول جو بھیجے تو ایسی حالت میں کہ وہ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا تھے اور نہایت ہی افلاس میں تھے پیسہ پیسہ کو محتاج تھے یہ ان کی جانچ تھی کہ دیکھیں وہ اس حالت میں بھی گڑاتے ہیں اور خدا کی طرف رجوع ہوتے ہیں یا نہیں مگر وہ اس حالت میں بھی اپنے اسی کفر اور گمراہی میں پڑے رہے آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو بیماری سے تندرست بنا دیا اور مال واولاد سے مالا مال کردیا کہ شاید اس حال میں وہ اللہ کا شکر بجا لاویں مگر وہ گمراہ ازلی تھے یہ کہنے لگے کہ تکلیف کی گھڑی ہمیشہ نہیں رہتی ہے یہ بھی گردش زمانہ ہے ایک وقت میں رنج دوسرے وقت میں خوشی یہ طریقہ قدیمی سے یوں ہی چلا آرہا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے ہمارے بڑوں پر بھی ایسے ہی واقعے گذر چکے ہیں اور خدا کی آزمائش نہیں مجھے اور اس کے حکم کو نہ مانا رسولوں کو جھٹلاتے رہے بخلاف مومنوں کے کہ وہ مصیبت کے وقت صبر کرتے ہیں اور خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی آزمائش کو سمجھتے ہیں خوشحال کے وقت خدا کا شکرادا کرتے ہیں چناچہ صحیح مسلم میں صہیب ؓ رومی کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مومن کو ہر وقت کیا خوشی اور کیا رنج میں ہمیشہ بہتری ہے کیونکہ جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے اور خوشی ہوتی ہے تو خدا کا شکر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے پھر اللہ پاک نے انہیں کفار کا حال بیان کیا کہ وہ نہ تو تکلیف میں خدا کو یاد کرتے تھے نہ خوشی کی حالت میں اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑ لیا اور اس حال میں پکڑا کہ وہ اپنی حالت سے بالکل غافل تھے مجاہد کے قول کے موافق حتی عفوا کی تفسیر یہ ہے کہ جب جان لوگوں کی تنگ دستی جاکر ان میں مال کی کثرت ہوگئی تو انہوں نے یہ کہا کہ بڑوں سے یہی تنگی فراخی چلی آتی ہے کوئی چیز جب بڑھ جاتی ہے تو عرب میں کہتے ہیں قدعفی ذلک الشیء اس محاورہ کے موافق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگرد مجاہد نے یہ تفسیر میت کی قرار دی ہے ترجمہ میں یہ جو لکھا ہے کہ ” جب تک بڑھ گئے “ اس کا مطلب بھی مجاہد کے قول کے موافق ہے کہ جب ان لوگوں کی تنگدستی جاکر ان میں مال ومتاع کی کثرت ہوگئی تو انہوں نے یہ کہا کہ ہمارے بڑوں سے یہی تنگی فراخی چلی آتی ہے یہ بات کچھ نئی نہیں ہے اور صہیب ؓ رومی کی حدیث جو گذری اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ جو لوگ عقبیٰ کی سزا جزا کے منکر یا عقبیٰ کی سزا جزا سے غافل ہیں وہ تنگی فراخی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو بھولے رہتے ہیں اور جو لوگ ایمان دار ہونے کے سبب سے عقبیٰ کی سزا جزا کے معتقد ہیں وہ تنگی میں صبر کے اور فراخی میں شکر کے احکام الٰہی کو کبھی نہیں بھولتے جس کا اجر بارگاہ الٰہی سے ان کو ضرور ملنے والا ہے :۔
Ayahs 7:96–99(96 ۔ 99) ۔ ان آیتوں میں اللہ پاک ان لوگوں کے حال سے خبر دیتا ہے جن کے پاس اس نے اپنے رسول بھیجے اور انہوں نے رسولوں کو نہ مانا بلکہ ان کو جھٹلایا اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لوگ ایمان لے آتے اور رسولوں کی باتیں مانتے اور ان کی راہ پر چلتے تو ہم آسمان اور زمین تمام جگہ کی برکتیں ان پر بھیج دیتے آسمان سے وہ مینہ برستا کہ زمین بالکل سرسبز و شاداب ہوجاتی اور پیداوار کی وہ کثرت ہوتی کہ کھاتے کھاتے وہ تھک جاتے مگر انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اس واسطے اللہ نے ان کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ان کے کئے کا ایسا بدلہ دیا کہ آخر ہلاک ہی ہوگئے جانبر نہ ہو سکے پھر اللہ پاک نے قریش کو اپنے عذاب سے ڈرایا کہ کیا یہ بستیوں اور گاؤں کے رہنے والے قریش بالکل بےخوف ہیں کہ ان پر عذاب نہ آئے گا یہ کہیں نہیں بچ سکتے ہیں اگر ان پر راتو رات سوتے میں عذاب آجاوے یا دن کے وقت جب یہ لوگ کھیل کود میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہوں تو عذاب ان کو آ کر پکڑے پھر فرمایا کہ خدا کی پکڑ سے وہی لوگ بےخوف رہتے ہیں جن کے دلوں میں خدا کا مطلق خوف نہیں اور اسی وجہ سے ایسے لوگ کم عقلی سے اپنے آپ نقصان اٹھاتے ہیں ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس ؓ کی معتبر سند کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ شخص بڑا کم عقل ہے جو عمر بھر عقبے کی سزا جزا سے غافل رہے اور پھر عقبے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کی توقع رکھے۔ ان آیتوں میں کم عقلی کے سبب سے جن لوگوں کے نقصان اٹھانے اور خراب ہوجانے کا ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے :۔
Ayah 7:100اللہ پاک نے اس میت میں یہ بات بیان کی کہ جو لوگ رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور راہ حق پر نہیں آتے کیسے بےپرواہ میں ان سے پہلے جو لوگ گذرے ہیں جن کے یہ جانشین بن کر بیٹھے ہیں ان کے حال سے ذرا بھی عبرت نہیں حاصل کرتے کہ ان کا کیا حال ہے ذرا بھی عبرت نہیں حاصل کرتے کہ ان کا کیا حال ہوا انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور دین حق سے روگرداں رہے تو کس ذلت کے ساتھ گاؤں کے گاؤں ہلاک ہوئے ہم چاہیں تو انہیں قوموں کی طرح گیا اس کو نہیں پکڑ سکتے ہیں ان پر عذاب نہیں بھیج سکتے ہیں یہ ان کے پکڑے جانے کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر بھی اسی مہر لگادی کہ نصیحت سننے اور سمجھنے سے مجبور ہیں۔ ترمذی ‘ نسائی وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرنے سے آدمی کے دل پر زنگ لگ کر اس کا دل ایسا سخت ہوجاتا ہے کہ کسی نیک بات کے اثر سے اس کا دل نرم نہیں ہوتا اس آیت میں گنہگار نافرمان لوگوں کے دلوں پر مہر لگ جانے کا جو ذکر ہے یہ وہی دل پر زنگ لگ جانے کی مہر ہے جس کا ذکر ابوہریرہ ؓ اس حدیث میں ہے چناچہ اس کی زیادہ تفصیل سورة ویل للمطففین میں آوے گی :۔
Ayahs 7:101–102(101 ۔ 102) ۔ اوپر حضرت نوح ( علیہ السلام) کی امت کا حال تھا کہ انہوں نے نبی وقت کا کہنا نہ مانا آخر طوفان سے ہلاک ہوگئے اسی طرح حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت قوم عاد سخت آندھی سے اور حضرت صا ( علیہ السلام) لح کی امت قوم ثمود کڑک کی سخت آواز اور زلزلہ سے اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کی امت پتھروں کے مینہ سے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی امت زلزلہ اور انگارے برسنے سے جو ہلاک ہوئی ان سب کا حال بیان فرما کر اس آیت میں آنحضرت کی تسکین اور قریش کی تنبیہ خدا تعالیٰ نے جو فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کر قریش بھی نبی وقت کی نصیحت نہ مانیں گے تو جس طرح گذشتہ امتوں کی بستیاں غارت ہوگئی ہیں اسی طرح یہ بھی غارت ہوجاویں گے غرض اوپر کئی رکوع میں جو قصے پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمائے یہ آیت ان سب قصوں کا نتیجہ ہے فما کانوالیومنوا بما کذبوا من قبل اس کا مطلب یہ ہے کہ علم ازلی الہی میں پہلے ہی یہ معلوم ہوچکا تھا کہ یہ لوگ ایمان نہ لاویں گے اس واسطے باوجود انبیاء کی نصیحت کے یہ لوگ ایمان نہ لائے اور یوم الیشاق میں اللہ کی توحید کا اقرار جو انہوں نے کیا تھا اس عہد پر قائم نہ رہے حضرت آدم (علیہ السلام) کی اور اولاد آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے دنیا میں پیدا ہونے والی سب ارواحوں سے اللہ تعالیٰ نے توحید کا عہد لیا تھا جس کا ذکر اس سورة میں آگے آوے گا اسی عہد کے دن کو یوم الیشاق کہتے ہیں اس عہد کے موافق اللہ تعالیٰ ہر ایک روح کو اسلام پر پیدا کرتا ہے پیدا ہونے کے بعد جس نے سچے دل سے وہ عہد کیا تھا وہ علم ازلی الہی میں اس کا اسلام کی حالت میں مرنا معلوم ہوچکا تھا وہ اسلام پر قائم رہتا ہے ورنہ کوئی شیطان کے بہکانے یا کافر ماں باپ کی صحبت سے سرے سے ایمان ہی نہیں لاتا اور کوئی عارضی طور پر ایمان لاکر اخیر کو اسی حالت کفر کے عمل کر کے مرتا ہے جو حالت علم ازلی الٰہی میں پہلے سے معلوم ہوچکی ہے اسی واسطے شریعت میں خاتمہ کا اعتبار ہے بیچ کی عارضی حالت کا اعتبار نہیں ہے اور آخری حالت کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کے دل پر اللہ نے مہر لگادی ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ بہت لوگ ساری عمر رمل جنت کے کام کرتے ہیں یہاں تک کہ جنت میں اور ان میں کچھ فرق رہ جاتا ہے آخر کو وہ لوگ مرتے ہیں اسی طرح بہت لوگ تمام عمر اہل دوزخ کے کام کرکے جنتی ہو کر مرتے ہیں صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہر بچہ کو اللہ تعالیٰ اسلام کی خصلت پر پیدا کرتا ہے پیدا ہونے کے بعد اس بچہ کے ماں باپ اس کو اپنے جیسا یہودی یا نصرانی یا آتش پرست بنالیتے ہیں مسلم میں حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں ہر ایک بچہ کو خصلت اسلام اور توحید پر پیدا کرتا ہوں پھر اس کے بڑے ہونے پر شیطان اس کو کسی اور راستہ سے لگا دیتا ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے یوم الیشاق میں توحید کا عہد لیا ہے اسی طرح تسلیم رسالت ہر نبی وقت کا بھی عہد لیا ہے اور روحوں سے اسی روز فرمایا ہے کہ دیکھوں اس یوم الیشاق کا عہد یاد دلانے کو انبیاء تمہارے پاس آویں گے ان کی اطاعت ضرور کرنا لوگوں نے اس کا اقرار بھی اللہ کے روبرو کرلیا ہے اس لئے جو بچہ چھوٹی عمر میں مرجاتا ہے اور دوسرے عہد کے پانے کی نوبت اس کو نہیں پہنچتی اور تکلیفات شرعیہ اور اطاعت نبی وقت کے حاصل کرنے کا موقعہ اس کو میسر نہیں آتا بلکہ اس موقعہ کے میسر آنے کے پہلے وہ مرجاتا ہے اس کی نجات کے لئے پہلا یوم المیثاق کا عہد کافی ہوجاتا ہے اور جو شخص تمیز کی عمر پانے کے بعد نبی وقت کی اطاعت نہ کرے۔ اس کا پہلے کا عہد بھی جھوٹا اور نام کافی متصور ہو کر اس سے مؤاخذہ کیا جاتا ہے تفسیر ابن جریر میں روایت ہے ضحاک بن مزاحم کا چھ روز کا ایک لڑکا مرگیا اس لڑکے کو قبر میں اتارتے وقت ضحاک نے لوگوں سے کہا اس لڑکے کے کفن کا بندہن کھول دینا تاکہ سوال کے وقت اس کو بیٹھنے میں آسانی ہو لوگوں نے کہا اتنے چھوٹے بچے سے کیا سوال ہوگا ضحاک نے کہا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اتنے چھوٹے بچوں سے میثاق کی توحید کا قبر میں سوال ہوتا ہے اتنے عمر والے بچوں کو جو اطاعت نبی کا موقعہ نہ پاویں جس کو دوسرا میثاق کہتے ہیں یہ پہلا میثاق کافی ہے اور جو میثاق ثانی کا موقعہ پاکر اس کا پابند نہ ہو اس کا میثاق اولیٰ کافی اور جھوٹا ہے اس باب میں ابن جریر نے چند آثار صحابہ نقل کر کے بعض آثار کو بعض سے قوت دی اور صحیح کہا ہے اور یہ ایک مسئلہ ہے کہ ایسے مسائل میں آثار صحابہ کو مرفوع حدیث کا حکم ہے غرض اس عہد کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اکثر لوگوں کو ہم نے بدعہد پایا جس کا مطلب اوپر کی حدیثوں کے موافق یہ ہے کہ بعضے لوگ تو سرے سے باوجود انبیاء کی نصیحت کے ایمان ہی نہیں لائے اور بعضے لوگ آخری عمر میں بدعہد ہو کر مرگئے تفسیر سدی میں ہے کہ جس دن روحوں سے اللہ تعالیٰ نے عہدالیا اس دن ان روحوں نے جو اللہ کے علم میں ایمان دار ٹھہر چکی تھیں تہہ دل سے اللہ کی توحید کا اقرار کیا اور جو روحیں اللہ کے علم میں دنیا میں آنے کے بعد ایمان دار نہیں ٹھہریں تھیں انہوں نے اوپر کے دل سے اور روحوں کے دیکھا دیکھی منافقوں کے ایمان کی طرح توحید کا اقرار کرلیا وہی لوگ دنیا میں آن کر باوجود انبیاء کی نصیحت کے ایمان نہ لائے یا لائے تو منافق رہے معتبر سند سے ترمذی ابوداؤد وغیرہ میں حضرت عمر ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس وقت اللہ تعالیٰ نے یوم المیثاق میں آدم اور اولاد آدم کی پشت سے روحوں کو نکالا اسی وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق جنتی اور دوزخی روحوں کو الگ الگ کر کے یہ فرما دیا تھا کہ ان سب روحوں میں اس قدر روحیں جنتی لوگوں کی ہیں اور اس قدر روحیں دوزخی لوگوں کی اس حدیث سے سدی کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ علم ازلی میں جو لوگ دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے دوزخی ٹھہرے اس حدیث کے موافق ان کا یوم المیثاق کا عہد علم الٰہی میں سچا عہد نہیں تھا یہی مطلب سدی کے قول کا ہے دل پر زنگ کی مہر لگ جانے کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے وہی حدیث ان آیتوں کے مہر کے ذکر کی تفسیر ہے جن ضحاک بن مزاحم کا ذکر اوپر گزرا یہ ضحاک طبقہ اعمش کی تابعیوں میں ہیں تقریب میں ان کو صدوق لکھا ہے اور امام احمد (رح) نے ان ضحاک کو ثقہ کہا ہے تفسیر کے باب میں ان ضحاک کا شمار سعید بن جبیر مجاہد عکرمہ کے طبقہ میں کیا جاتا ہے۔ سفیان ثوری کہا کرتے تھے کہ سعید بن جبیر مجاہد عکرمہ اور ضحاک تفسیر کے ماہر لوگوں میں ہیں ان چاروں سے تفسیر کی روایتیں لینی چاہئیں اگرچہ بعضے سلف کا قول ہے کہ ان ضحاک کو عبداللہ بن عباس ؓ سے ملاقات کا موقعہ نہیں ملا مگر اس بات پر سلف کا اتفاق ہے کہ سعید بن جبیر اور ان ضحاک سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے تفسیر کے باب کی روایتیں سعید بن جبیر سے حاصل کیں اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور ضحاک میں اگر واسطہ ہے تو سعید بن جبیر کا ایک ثقہ واسطہ ہے اسی واسطے سفیان ثوری نے ان ضحاک کو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں کی ذیل میں رکھا ہے :۔
Ayahs 7:103–127(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی لوگوں نے مدت تک اس کا دودھ پیا اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) جو مردہ کو زندہ کرتے تھے وہ درحقیقت وہی مردہ شخص ہوتا تھا اور حضرت کی انگلیوں سے جو پانی کا چشمہ بہا وہ دراصل پانی ہی تھا لوگوں نے پیا اور ان کی پیاس بجھی۔ جادو میں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی غریب جادوگر ٹھیکریوں کے روپے بناوے تو درحقیقت وہ روپے ہوجاویں ایسا ہوتا تو کوئی جادوگر دنیا میں تنگ حال کیوں نظر آتا اور یہ جادوگر محتاجوں کی طرح فرعون سے اپنے جادو کے کام کا مزدوری کیوں مانگتے جادور کی اصل اتنی ہی ہے کہ لوگوں کے دیکھنے میں جادو کے اثر سے ٹھیکریاں روپے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ٹھیکریاں ہی رہتی ہیں۔ جس طرح حضرت نوح ( علیہ السلام) کے معجزے سے چند آدمیوں کے سوا ساری دنیا طوفان سے ہلاک ہوگئی حضرت ہود ( علیہ السلام) کے معجزہ سے آندھی نے اور حضرت صالح ( علیہ السلام) کے معجزہ سے زلزلہ نے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے معجزہ سے سنگ باری نے شہر کے شہر غارت کردئے یہ اثر اور زور جادو میں ہوتا تو بادشاہاں زمانہ کی فوج کو ہلاک کر کے بہت سے جادوگر شہنشاہ بن جاتے غرض کئی سو اونٹوں پر اپنی لکڑیاں اور سامان لاد کر فرعون کے وقت کے جادو گر جو لائے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ کی ایک لکڑی نے ان کا سب جادو درہم برہم کردیا اور یہ بھی انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ کی لکڑی کا اثر جادونما ہوتا تو وہ کئی سو اونٹ کے بوجھ کی اصل لکڑیاں اور رسیاں تو آخر باقی رہ جائیں جب ان سب کو اس لکڑی نے نگل لیا تو یہ جادو کے اثر سے بڑھ کر ایک چیز ہے اس لئے فورا وہ سب جادوگر ایسے پکے مسلمان ہوگئے کہ پھر فرعون کے ڈرانے سے بھی نہ ڈرے یہ بھی ایک حکمت الہی ہے کہ اس وقت کی قوم میں جس چیز کا کمال مشہور تھا نبی وقت کو اسی قسم کا معجزہ دے کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا تاکہ نبی کی نبوت کا لوگوں کو جلدی یقین ہوجائے مثلا فرعون کے زمانہ میں جادو کا بڑا زور تھا جادو سیکھنے کی جاگیریں لوگوں کو فرعون دیتا تھا یہ وہی جاگیردار جادوگر تھے جن کو دیہات سے فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے مقابلہ کے لئے بلوایا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو اسی قسم کا معجزہ دیا حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ میں یونانی طب کا بڑا زور تھا اس لئے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو کوڑھی۔ مادرزا داندھے کے اچھا کرنے مردے کے جلانے کا معجزہ دیا جس سے حکیم عاجز ہوگئے حضرت کے وقت میں فصاحت وبلاغت عرب کا بڑا زور تھا اس لئے قرآن شریف میں وہی معجزہ رکھا گیا پہلے اہل عرب سے کہا گیا کہ دس سورتیں قرآن شریف کی فصاحت اور بلاغت کے موافق بناؤ جب دس سورتوں سے وہ عاجز ہوگئے تو ایک ہی سورة کے بنانے کو کہا گیا تھا آخرعاجز ہوگئے اور کچھ نہ بن سکا حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں کی شروع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہونے کا اور ان کو معجزات کے دئے جانے کا ذکر ہے اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون سے مناظرہ ہو کر اس مناظرہ میں فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معجزہ کا جو طلب گار ہوا ہے اس کا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کے اژدہا بن جانے کا اور یدبیضا کا معجزہ جب فرعون کو دکھایا اور اس نے اس کو جادو بتلایا اس کا پھر جادوگروں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کا اور جادوگروں کا مقابلہ سے عاجز ہو کر شریعت موسوی کے تابع ہوجانے کا یہ سب ذکر ان آیتوں میں مختصر طور پر ہے سورة طہ اور سورة شعراء میں اس قصہ کی تفصیل زیادہ آوے گی۔ سورة بقر میں گذر چکا ہے کہ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اور بنی اسرائیل ان کی اولاد کو کہتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ سے چار سو برس پہلے اولاد یعقوب میں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد بنی اسرائیل مصر میں ذلیل حالت سے رہتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ کا حکم حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو یہ تھا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مصر سے بنی اسرائیل کو نکال کر ان کے قدیمی وطن نیک شام میں انہیں آباد کریں اسی واسطے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جہاں فرعون سے اور باتیں کیں وہاں یہ بھی فرمایا فارسل معی بنی اسرائیل جس کا مطلب اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے حکم کی تعمیل ہے جس کا ذکر اوپر گذرا۔
Ayahs 7:128–129(127 ۔ 129) ۔ فرعون چھ سو برس دنیا میں زندہ رہا اور چار سو برس تک بادشاہی کی اس عرصہ میں کوئی تکلیف اس کو نہیں ہوئی سر میں درد تک نہ ہوا اگر ایک روز بھی بھوکا رہتا یا کوئی تکلیف اٹھاتا تو خدائی کا دعوی بھول جاتا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے یہ حکم دیا رکھا تھا کہ جو بچہ پیدا ہو اگر لڑکا ہو تو مار ڈالا جائے اور لڑکی ہو تو چھوڑ دی جائے۔ سورة قصص میں جو ذکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا آویگا اس کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے اور فرعون ہی کے گھر میں پرورش پاکر سیانے ہوگئے تو اس نے وہ حکم موقوف کردیا اب جو حضرت موسیٰ نے رسالت کا دعوی کیا اور جادو گروں پر غالب ہو کر خدا کا پیغام لوگوں کو پہنچانے لگے تو فرعون کے وزیروں اسیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ موسیٰ ( علیہ السلام) اور اس کے پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہے ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا بہکا کر آپکی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کریں گے اور آپ کو اور آپ کے دین وآئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے تو پھر فرعون نے جل کر وہی اگلا حکم جاری کرنے کو کہا کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے ہمارے سامنے اس لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب سے زبردست ہیں جب بنی اسرائیل کو اس بات کو خبر پہنچی کہ وہ ملعون پھر ایسا ارادہ کرتا ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی شکایت کی آپ نے یہ جواب دیا کہ خدا سے مدد چاہو اور صبر کرو آخر میں خدا سے ڈرنے والوں کو بھلائی اور بہتری ہوگی گویا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرعون پر فتح پانے کا وعدہ کیا تو ان کی قوم نے کہا کہ ہماری تو ہمیشہ یہی حالت رہی کہ جب آپ نہیں تھے جب بھی اس مصیبت میں گرفتار تھے کہ ہمارے لڑکے قتل کئے جاتے تھے اور اب بھی وہی تکلیف ہے یہ کم بخت پھر وہی حکم جاری کر رہا ہے کہ ہمارے لڑکے قتل کئے جاویں اور لڑکیاں چھوڑ دی جاویں حضرت موسیٰ نے فرمایا گھبراؤ نہیں بہت جلد خدا تمہارے دشمنوں کو غارت کرے گا اور یہ کافر مع اپنے ہوا خواہوں کے ہلاک ہوگا اور تم لوگ دنیا میں سلطنت کی باگ ہاتھ میں لوگے پھر اللہ تعالیٰ ہیں آزمائے گا کہ تم کیا عمل کرتے ہو چناچہ یہ بات ظہور میں بھی آئی کہ فرعون مع اپنے لشکر کے دریا میں غرق ہوگیا اور داؤد و سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں سارے ملک مصر پر ہی اسرائیل کا قبضہ ہوگیا اور پھر بنی اسرائیل نے وہ برے عمل کئے جن کا ذکر جگہ جگہ قرآن میں ہے صحیح بخاری ومسلم میں عمرو ؓ بن عوف انصاری کی ایک بڑی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو اپنی امت کی تنگ دستی کی حالت کا کچھ خوف نہیں بلکہ مجھ کو یہ خوف ہے کہ جب ان کو پچھلی امتوں کی طرح فارغ البالی ہوجاویگی تو ان میں طرح طرح کے نسیان پیدا ہوجاویں گے اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ ان آیتوں اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب پیدا ہوا کہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بنی اسرائیل کی فارغ البالی کے زمانہ کے فساد کا خوف تھا وہی خوف حضرت محمد ﷺ کو اپنی امت کی فارغ البالی کے زمانہ کا تھا اور اسی خوف کا ظہور جس طرح بنی اسرائیل میں ہوا اسی طرح امت محمد یہ میں ہوا فرعون نے اپنی صورت کے بت بنا کر لوگوں کو پوجا کے لئے دے رکھے تھے اور اپنے آپ کو بڑا خدا اور ان مورتوں کو چھوٹے خدا کہتا تھا۔
Ayahs 7:130–131(130 ۔ 131) ۔ اللہ پاک نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کا امتحان لیا کہ قحط ڈال دیا درختوں میں پھل لگنے موقوف ہوگئے کھجور کے درختوں میں ایک ایک کھجور لگتی تھی چشمہ نیل بالکل خشک ہوگیا مینہ برسنا بند ہوگیا یہ جانچ تھی کہ شاید مصیبت کے وقت میں ان کے دل نرم ہوجاویں اور خدا سے رجوع ہوں اور رسول کی باتوں کو مانیں مگر کچھکار آمد نہ ہوا اپنے کفر پر جمے رہے پھر اللہ پاک نے فرمایا جب یہ تکلیف دور ہوگئی اور آرام کی گھڑی آگئی تو کہنے لگے ہم اسی کے مستحق تھے اور جب کوئی برائی اور تکلیف پہنچتی تو موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ بات دھرتے اور کہتے کہ ان کے باعث سے یہ سال نحس ہوا اور یہ نہ سمجھتے تھے کہ خوشی کا وقت خدا کے فضل سے نصیب ہوا اور رنج کی گھڑی اس کی آزمائش ہے اس لئے فرمایا کہ خوشی اور تکلیف سب خدا ہی کی طرف سے ہے اس میں کسی کو نحوست کو کچھ دخل نہیں ہے یہ سب خدا کی طرف سے ہے لیکن اکثر لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے بدفالی کی ممانعت فرمائی ہے صحیح سند سے ترمذی ابوداؤد وغیرہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے بدفالی کو شرک فرمایا ہے بدفالی میں تقدیر الٰہی کا ان کا اور بدفالی کی چیزوں میں مستقل طور پر ضرر رسانی کا اعتقاد پایا جاتا ہے اسی کو اللہ کے رسول نے شرک فرمایا ہے کیونکہ سوا اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور کسی چیز میں مستقل طور پر ضرر رسانی کی قدرت نہیں ہے ترمذی اور مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمام مخلوقات کسی شخص کے ضرر پہنچانے کا ارادہ کرے تو بھی بغیر حکم اللہ تعالیٰ کی کوئی اس شخص کو ضرر نہیں پہنچا سکتا 1 ؎
1 ؎ مشکوٰۃ ص 453 باب التوکل والصبر۔
Ayahs 7:132–133(132 ۔ 133) ۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرعون اور اس کی قوم کے کفر اور سرکشی کا حال بیان کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے تھے کہ تم معجزہ کے طور پر جو نشانی لاؤ گے ہم اس کو نہیں مانیں گے یہ جو تم عجائبات دکھلاتے ہو خدا کا دیا ہوا معجزہ نہیں ہے تم ایک جادوگر ہو ہم پر جادو کرتے ہو اور ہماری نظر بندی کردیتے ہو جس سے یہ تماشے دکھلائی دیتے ہیں اللہ پاک نے طوفان بھیج دیا اتنا مینہ آسمان سے برسا کہ راستوں اور گلیوں کا تو کیا ذکر گھروں میں پانی پانی ہوگیا ہر شخص کے گلے تک پانی تھا جو کوئی اس پانی میں کھڑا رہا اس کی جان بچ گئی جو گھر آکر بیٹھ گیا وہ غرق ہوا یہ پانی سات روز برابر برستا رہا لوگ چلنے پھرنے کہیں آنے جانے سے مجبور ہوگئے آخر عاجز آ کر ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنے خدا سے دعا کرو کہ پانی کھل جاوے ہم بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی پانی کھل گیا غلے میوے پھر پیدا ہونے لگے رستے خشک ہوگئے ایک میہنہ تک اسی حال میں رہے پھر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے ہم تم پر ایمان نہیں لاویں گے اور نہ بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیجیں گے اللہ پاک نے ٹڈیوں کو حکم کردیا وہ ان کے شہر میں آکر کھیتیوں کو نقصان پہنچانے لگیں جس درخت پر بیٹھ گئیں اس کو صاف کردیا ان کے مکانوں پر بیٹھ کر چھتوں کی کڑیاں اور چوکھٹوں کو کھانے لگیں مکان گرنے لگے پھر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی کہ آپ اپنے خدا سے دعا کریں کہ یہ بلا ہم سے دور کر دے ہم آپ پر ایمان لاویں گے اور بنی اسرائیل کو چھوڑدیں گے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے دعا کی کہ ٹڈیاں سب دفع ہوگئیں پھر یہ لوگ۔ ایمان لائے اور نہ بنی اسرائیل کو چھوڑا اور غلے گھروں میں جمع کر کے کہنے لگے ہم نے اپنا بندوبست کرلیا ہے اللہ پاک نے گھن کو بھیج دیا اس نے سارے غلہ کو کھو کھلا کردیا اور ہر جگہ گھن کے کیڑے نظر آنے لگے پھر مجبور ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کو کہا آپ نے دعا کی اللہ پاک نے گھن کو رفع دفع کردیا پھر یہ لوگ نہ ایمان لائے اور نہ بنی اسرائیل کو ساتھ کیا اللہ پاک نے مینڈک بھیج دئے پانی میں مینڈک کھانے پینے کی سب چیزوں میں مینڈک برتنوں میں مینڈک آدمیوں کی ٹھوڑیوں تک مینڈک کا انبار ہوگیا لوگوں کو منہ کھولنا مشکل تھا اگر بات کرنی بھی چاہتے تو مینڈک منہ میں چلا جاتا آخر حضرت موسیٰ سے دعا کا کہا ان کی دعا سے مینڈکوں کو بھی اللہ پاک نے دفع کردیا مگر پھر یہ لوگ ایمان نہیں لائے اور نہ بنی اسرائیل کو چھوڑا تو اللہ پاک نے ان کے واسطے دریا نہروں اور کنووں کے پانی کو خون کردیا لوگوں نے فرعون سے شکایت کی ہم کو پانی نہیں ملتا اس نے کہ کہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے ہم پر جادو کردیا ہے کہنے لگے کہ جادو کیسا ہم مٹکوں میں پانی بھر کر رکھتے ہیں اور پھر وہ سارا پانی خون ہوجاتا ہے ناچار پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جا کر دعا کے طلب گار ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی یہ آفت بھی ٹل گئی مگر وہ لوگ ایمان نہ لانا تھا نہ لائے اور نہ بنی اسرائیل کو جانے دیا اپنے کفر اور نخوت میں پڑے رہے اپنے اقرار اور وعدہ توڑ توڑ کر مجرم ہوئے ترمذی ابوداؤد وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عمر ﷺ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے کہ علم ازلی میں جو لوگ دوزخی ٹھہر چکے ہیں ان کو انبیاء کی نصیحت انبیاء کے معجزے کوئی چیز راہ راست پر نہیں لاسکتے یہ حدیث ان آیتوں کو گویا تفسیر ہے کیونکہ آیتوں اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگ ازلی دوزخی تھے اس لئے اگرچہ پے درپے وہ معجزے دیکھے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے لیکن اس پر بھی وہ لوگ راہ راست پر نہ آئے اور آخر غرق ہو کر بڑی خرابی سے مرے اور سیدھے جہنم کو چلے گئے :۔
1 ؎ جلد ہذاص 280