Ayahs 7:189–190189۔ 190۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے کفار مکہ کو خطاب کر کہ فرمایا کہ اللہ نے تم لوگوں کو ایک جان آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اس ذکر سے اصل میں اللہ پاک اپنی نعمتوں اور احسانوں کو جتلاتا ہے جو اس نے اپنے بندروں پر کئے اور بندے اس کی شکر گذاری عاجز ہیں فرمایا کہ آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کر کے پھر ان کی پسلی سے ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا تاکہ آدم (علیہ السلام) اور حوا دونوں میں انسیت ہو کیونکہ آدمی کا آدمی کے ساتھ جی لگتا ہے پھر اس میں بھی یہ بہت بڑی حکمت تھی کہ مرد کے واسطے عورت کو پیدا کیا اس کی نسل کا قائم رکھنا منظور تھا اور جو انسیت مرد کو عورت کے ساتھ ہوتی ہے وہ ایک مرد کو ایک مرد کے ساتھ ہرگز نہیں ہوسکتی یہاں تک تو جنت کا حال تھا پھر جب جنت سے آدم ( علیہ السلام) اور حوا روئے زمین پر اتارئے گئے تو فرمایا کہ جب آدم (علیہ السلام) حوا کے ساتھ ہم بستر ہوئے تو حوا کو حمل رہ گیا اور جب تک حمل کا ابتدائی زمانہ رہا کوئی تکلیف حوا کو نہیں ہوئی نہ چلنے پھرنے میں نہ کھانے پینے میں نہ کام کاج میں ہر ایک کا حسب ضرورت آسمانی سے کرلیا کرتی تھیں مگر جوں جوں حمل کا زمانہ زیادہ ہوتا گیا اور حوا کو بوجھ معلوم ہوتا گیا تو ان دونوں نے یہ بات سمجھ لی کہ پیٹ میں نطفہ قائم ہوگیا ہے اور ایک روز ہماری جنس سے بچہ پیدا ہونے والا ہے اسی واسطے دعائیں کرنے لگے کہ یا اللہ اگر تو صالح لڑکا ہمیں دے گا تو ہم بہت شکر گذار ہوں گے صالح کے معنے میں بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ بیٹا مردا ہے خدا سے انہوں نے دعا کی تھی کہ بیٹا دینا بیٹی نہیں اور اکثر مفسروں نے معنے لئے ہیں کہ ہماری ہی جنس سے آدمی پیدا کرنا کوئی جانور یا اور کوئی شے نہ ہو اور جو بچہ ہو وہ صحیح وسالم آنکھ ناک ہاتھ پیر کان سب اعضا اس کے درست ہوں لنگڑا ‘ ٹنڈا ‘ بہرا ‘ کانا نہ ہو غرضیکہ جب اللہ پاک نے ان کی مرضی کے موافق صالح اولاد عنایت کی تو انہوں نے اس بچہ کے نام کے رکھنے میں شرک کی باتیں کیں کہ جب بچہ پیدا نہیں ہوا تھا تو ابلیس نے حوا کے پاس آکر کہا تھا کہ اگر بچہ پیدا ہو تو اس کا نام میرے نام پر رکھنا حوا نے پوچھا تمہارا کیا نام ہے ابلیس نے اپنا اصلی اور مشہور نام نہ بتلایا کہ پہچان جائیں گی اور اپنا دوسرا نام حارث بتلایا اور کہا کہ اس بچہ کا نام عبدالحارث رکھنا انہوں نے بچہ پیدا ہونے پر یہی نام رکھا اکثر مفسروں نے جعلا لہ شرکاء فیما اتاھما کی تفسیر یہی کی ہے جو اوپر بیان کی گئی ترمذی امام احمد ابن ابی حاتم طبرانی وغیرہ محدثین نے اس موقعہ پر سمرہ ؓ کی حدیث بیان فرمائی ہے کہ آنحضرت صلعم نے فرمایا حوا (علیہا السلام) کا کوئی بچہ زندہ نہ رہتا تھا اس مرتبہ جو حمل رہا تو ابلیس نے آکر کہا کر اگر اس بچہ کا نام عبدالحارث رکھو گی تو زندہ رہے گا غرضیکہ یہ کام ابلیس کے بہکانے سے حوا نے کیا 1 ؎۔ اس میں آدم (علیہ السلام) کا کوئی قصور نہ تھا اور بعضے مفسروں نے آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر یوں بیان کی ہے کہ یہ کفار مکہ کی شان میں نازل ہوا ہے کیونکہ و لوگ اپنے بچوں کا نام خدا کے نام کے سوا اوروں کے نام پر رکھا کرتے تھے جیسے عبدالشمس اور عبدالعزی وغیرہ تو یہ نام رکھنا بھی شرک میں داخل ہے شرک کچھ عبادت ہی میں منحصر نہیں ہے پھر اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اللہ پاک ان چیزوں سے بالکل علیحدہ ہے جن کو تم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو ہمرہ بن جندب ؓ کی حدیث جو اوپر گذری اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم بصری ہے جس کو بعضے علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابن معین نے اس کو ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے 2 ؎ اسی واسطے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 3 ؎ ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنی عمر میں سے چالیس برس حضرت ہود (علیہ السلام) کو دے کر پھر اس اپنے اقرار پر جو قائم 4 ؎ نہ رہے اس کا ذکر آنحضرت ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا اور پھر یہ بھی فرمایا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کا اقرار پر قائم نہ رہنا اسی بات کا ایک نمونہ تھا کہ ان کی اولاد میں بھی یہ بات پائی جاوے گی اس حدیث سے ان مفسروں کے قول کی تائید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ عبادت میں تو نہیں مگر نام کے رکھنے میں یہ نام کے رکھنے کا شریک شیطان کے بہکانے سے حوا (علیہ السلام) سے ظہور میں آیا تاکہ بنی آدم میں جو شرک پھیلنے والا تھا اللہ کا نمونہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو معلوم ہوجاوے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے سعید بن جبیر اور عکرمہ کے قول کا حاصل یہ ہے کہ شیطان نے حوا علیہا السلا کو یہ نام خواب میں سکھایا تھا اور جب حوا (علیہا السلام) نے اپنا یہ خواب حضرت آدم (علیہ السلام) سے بیان کیا تو حضرت آدم (علیہ السلام) سے بیان کیا تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے حوا (علیہا السلام) کو یہ پٹی پڑھائی اب کی دفعہ جو لڑکا پیدا ہو اس کا نام اگر عبدالحارث رکھا جاوے گا تو وہ لڑکا صاحب عمر ہوگا اسی واسطے اب کی دفعہ اولاد کی محبت کے جوش میں اس لڑکے کا نام حوا (علیہا السلام) نے عبدالحارث رکھا حضرت آدم ( علیہ السلام) پہلے اس نام کی ممانعت کرچکے تھے اس لئے بچہ کے پیدا ہونے اور اس نام کے رکھے جانے کے بعد اس نام کی کچھ کرید حضرت آدم (علیہ السلام) نے نہیں کی یہ بات اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوئی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور حوا علہیما السلام دونوں کے نام کا اس قصہ میں ذکر فرمایا اس آیت کی تفسیر کو علمائے مفسرین نے بہت مشکل قرار دیا ہے لیکن سلف میں سے قتادہ اور سفیان ثوری کا یہ قول جب مد نظر رکھا جاوے کہ تفسیر کے باب میں سعید بن جبیر اور عکرمہ کے قول کا بڑا اعتبار ہے اور عکرمہ کے قول کے موافق آیت کی تفسیر کی جاوے تو آیت تفسیر میں کچھ رسوائی باقی نہیں 5 ؎ رہتی سورة الشورے کی آیت شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحا کی تفسیر میں آوے گا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لیکر حضرت نوح ( علیہ السلام) تک شریعت کے احکام زیادہ تفصیل سے نازل نہیں ہوئے تھے اس سے یہ بات نکلی کہ حوا (علیہما السلام) کو عبدالحارث نام رکھنے کی خرابی تفصیل سے معلوم نہ تھی صحیح مسلم ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ابن عمر ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ اور عبدالرحمن یہ نام اللہ کو بہت پسند ہیں 6 ؎ صحیح مسلم اور ترمذی میں ابن ؓ عمر کی دوسری حدیث ہے جس میں ہے یہ کہ حضرت عمر ؓ کی ایک لڑکی کا نام عاصیہ تھا آنحضرت ﷺ نے اس نام کو بدل کر اس لڑکی کا نام جمیلہ رکھا 7 ؎ ان حدیثوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ جن ناموں میں اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا اقرار نکلے وہ نام اللہ کو بہت پسند ہیں اور جس طرح عبدالحارث جیسے ناموں سے پرہیز کرنا لازم ہے اسی طرح عاصیہ جیسے ناموں کا حال ہے کیونکہ عاصیہ کے معنے گنہگار کے ہیں اور گنہگار کا لفظ شریعت میں ایک مذمت کا لفظ ہے جن ناموں میں دین کی بڑائی اور فوقیت پائی جاوے مثلا جیسے کسی لڑکی کا نام نیکی رکھنا یا جن ناموں میں دنیا کی بڑی فوقیت پائی جاوے جیسے مثلا کسی کا لقب شہنشاہ ٹھہرانا اس طرح کے ناموں کی بھی ممانعت ہے چناچہ بخاری ومسلم اور ابن ماجہ میں ابوہریرہ ؓ کی جو روایتیں 8 ؎ ہیں ان میں اس طرح کے ناموں کی ممانعت کا ذکر ہے :۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 274 و جامع ترمذی ج 2 ص 133 تفسیر سورة الاعراف لیکن حافظ ابن کثیر نے شدومد سے اس مرفوع روایت کو ضعیف قرار دیا اور تفسیر کو اسرائیات کتاب التاریخ سے ماخوذ بنا کر اگلی تفسیر کو ترجیح دی ہے ج 2 ص 274۔ 276۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 274 و۔
3 ؎ مستدرک حاکم ج 2 ص 545۔
4 ؎ جامع ترمذی ج 2 ص 133 تفسیر سورة الاعراف۔
5 ؎ نیز دیکھئے فتح البیان ج 2 ص 128۔ 128۔
6 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 206 باب النہی عن التکنی بابی القاسم دبیان مایستحب من الاسماء وجامع ترمذی ج 2 ص 106 باب جاء مامستحب من الاسماء۔
7 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 208 باب استحباب تغییر الاسم الخ وجامع ترمذی ج 2 ص 107 باب ماجاء فی تغییر الاسمائل۔
8 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 916 باب الغض الاسماء الی اللہ تبارک وتعالیٰ ۔
Ayahs 7:191–198191۔ 198۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ کیا تم ایسی چیزوں کو معبود ٹھہراتے ہو جن میں کسی شے کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور عبادت تو خالق کارساز کو زیبا ہے مخلوق کسی طرح عبادت کی مستحق نہیں ہے ان بتوں سے تو ہزار درجہ تم بہتر ہو کر تم میں چلنے پھرنے کی طاقت ہے کھاتے پیتے ہو بتوں میں کیا قدرت ہے اگر کوئی آکر ان کے ٹکڑے کر ڈالے تو یہ کیا بچاؤ اپنا کرسکتے ہیں پھر جب اپنا اختیار انہیں نہیں ہے اور اپنے نفع نقصان سے بالکل یہ بیخبر ہیں تو تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں ایک مکھی جس میں کچھ بھی سکت نہیں ہے اگر ان کے پاس سے کوئی کھانے کی چیز لے بھاگے تو ان کا اتنا بس نہیں چل سکتا کہ اس مکھی سے چھوڑا لیویں تو پھر یہ دوسروں کو کیا مدد دے سکتے ہیں اگر تم ان کو کسی مطلب کے لئے بلاؤ تو ہرگز نہیں آئیں گے کیونکہ ان میں بصارت نہیں سننے کی قوت نہیں ان کو تمہارا پکارنا اور نہ پکارنا برابر ہے وہ تو خدا کی مخلوق میں تم سے بدتر ہیں تم انسان اشرف المخلوقات ہو اور یہ بت پتھر کی مورتیں ہیں اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ان کو پکار کر دیکھو نہ ان کے پیر ہیں جو وہ جل سکیں نہ ان کے ہاتھ ہیں جو وہ کوئی چیز پکڑ سکیں نہ آنکھیں ہیں جو کسی شی کو دیکھیں نہ کان رکھتے ہیں جو کسی کی آواز سنیں پھر حضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ان مشرکوں سے کہو کہ تم اپنے معبودوں کی دہمکیاں دے کر کیا ڈراتے ہو جہاں تک ہو سکے کمی نہ کرو اپنے سارے معبودوں کو پکار کر اور جو کچھ جی میں آئے کر گزرو مجھے اس سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا کیونکہ میرا ولی اور حمایتی خدا وحدہ لاشریک ہے جس نے اپنے رسولوں پر کتابیں اتاریں ہیں وہ میری حمایت کریگا اور نیک لوگوں کی بھی وہی حمایت کرتا ہے اور جو معبود تمہارے ہیں ان میں خاک کسی قسم کی قدرت نہیں ہے نہ اپنی ذات کی بھلائی کی قدرت انہیں حاصل ہے نہ تمہیں کچھ ان سے مدد مل سکتی ہے اگر تم انہیں پکارو بھی تو وہ نہیں سن سکتے ہیں ظاہر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں بلکہ جو شخص ان تصویروں کی طرف نظر کرتا ہے اسے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ بت ادھر ہی نظر کئے ہوئے ہیں مگر درحقیقت آنکھ تو ہے نہیں جو دیکھ سکیں اہل معازی نے یہاں ایک قصہ بیان کیا ہے کہ جب حضرت ﷺ مدینہ منورہ میں ہجرت کر کے آئے تو دو جوان معاذ بن عمر دالجموع ؓ اور معاذ بن جبل ؓ آپ کے پاس آکر مسلمان ہوگئے یہ دونوں راتوں کو توڑتے تھے تاکہ ان کی قوم کو عبرت ہو ایک اور شخص عمر بن الجموح اپنی قوم میں سردار شمار کیا جاتا تھا اس کے یہاں ایک بت تھا جس کو وہ روز خوشبو مل کر عبادت کرتا تھا یہ دونوں رات کو جاکر اس بت کو اوندھا کردیتے تھے اور نجاست اس کے بدن میں مل دیتے تھے عمر وبن الجموح صبح آکر دیکھتا تھا اور پھر وہ خوشبو لا کر اس کو ملتا تھا، ایک روز اس نے اس بت کے پاس تلوار رکھ دی تاکہ جو شخص اس بت کو تکلیف دینے آتا ہے اس سے بدلا لیوے مگر اس پتھر کے بت سے کیا ہوسکتا تھا جو ان دونوں سے کچھ بھی بدلا لیتا ایک روز ان دونوں نے اس بت کو کھینچ کر ایک مردار کتے کے پاس ڈال دیا پھر ایک روز اس بت کے پیر میں رسی باندھ کر اس کو کنویں میں لٹکا دیا آخر عمر وبن الجموح کی دل میں خیال گذرا کہ یہ دین محض ڈھکوسلا ہے یہ بت کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور توبہ کر کے مسلمان ہوگیا اور ایسا پکا مسلمان ہوا کہ شہادت کا درجہ پایا جنگ احد میں شہید ہوگیا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرک لوگ تمام دنیا کو جرمانہ کے طور پر معاوضہ دے کر دوزخ کے عذاب سے قیامت کے دن نجات چاہیں گے تو ان کی نجات ممکن نہیں 1 ؎ اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرا برابر بھی توحید ہوگی وہ دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کیا جاویگا 2 ؎ ان حدیثوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں اور حدیثوں کو بلا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ مشرک کو تمام دنیا کا مال ومتاع عذاب سے بچنے کے لئے کافی نہیں اور صاحب توحید کو ذرہ برابر توحید بھی کافی ہوجاوے گی حاصل کلام یہ ہے کہ جو شخص ایسی حالت میں مریگا کہ سوا شرک کے اور طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا ہوگا تو یہ بات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ چاہے اللہ تعالیٰ بغیر کسی عذاب کے اس کو جنت میں داخل کرلے چاہے کسی قدر عذاب کے بعد مگر مشرک سے حق تعالیٰ کا وعدہ یہ ہے کہ اس کا نجات کسی طرح ممکن نہیں ہے۔
1 ؎ یعنی 321 پر بحوالہ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 261
2 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 1107 باب قول اللہ وجوہ یومئذ ناضرۃ ابی ربھا ناظرۃ۔
Ayahs 7:199–200199۔ 200۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آنحضرت نے جبرئیل سے پوچھا کہ خذ العفو کا کیا مطلب ہے جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا میں بغیر اللہ تعالیٰ سے پوچھے اس کا مطلب نہیں بتلا سکتا اور پلٹ کر گئے اور آکر یہ کہا کہ آپ صلہ رحمی کریں ان لوگوں کے ساتھ جو آپ سے محبت کو قطع کرنا چاہیں اور جو آپ کی عزت حرمت کرے اس پر بخشش کریں اور جو شخص آپ سے سختی برتے اس کو معاف کیجئے پھر اللہ پاک نے یہ خطاب کیا کہ آپ لوگوں کو معروف باتوں کا حکم دیں معروف کے معنی وہ نیک خصلت ہے جس کو عقلمند آدمی پسند کرے اور جس سے دل کو اطمینان حاصل ہو مراد اس سے احکام شرع کو نرمی سے پہنچانا ہے۔
پھر فرمایا کیا گروہ لوگ آپ کی باتوں کو نہ مانیں تو ان سے چشم پوشی کیجئے وہ جاہل ہیں جاہلوں کی بات کا جواب چشم پوشی اور خاموشی ہے۔ قیس بن سعد کہتے ہیں کہ جب حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ؓ شہید ہوئے اور آپ کے سامنے لائے گئے تو آپ نے فرمایا کہ میں اپنے چچا حمزہ ؓ کے عوض ان میں سے ستر آدمیوں کو ماروں گا اور ان کے ناک کان کاٹوں گا اسی کو عرب میں مثلہ کہتے ہیں اسی وقت جبرئیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر آئے اس حدیث کو ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں معتبر سند سے نقل کیا 1 ؎ ہے پھر آپ کو یہ حکم ہوا کہ اگر شیطان آپ کے دل میں کچھ وسوسہ پیدا کرے تو آپ کو اللہ پاک سے پناہ مانگنی چاہیے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ عبدالرحمن بن زید ؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت واعرض عن الجاھلین اتری کہ اگر کوئی ایسا وسوسہ شیطان دل میں ڈالے جس کو حافظ ابوجعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں خذ العفو کے اسی معنے کو قوی قرار دیا 2 ؎ ہے کہ اس سے مطلب احکام شرع کا نرمی ہے، بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اپنی عمر اور رزق میں فراخی منظور ہو وہ صلہ رحمی کرے 3 ؎ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نے کو صلہ رحمی کہتے ہیں معتبر سند سے پیش آنے کی خصلت قیامت کے دن میزان میں بڑا بھاری نیک عمل ہے 4 ؎۔ ان آیتوں میں صلہ رحمی اور لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آنے اور غصہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا جو ذکر ہے ان حدیثوں کو اس کی تفسیر میں بڑا دخل ہے :۔
1 ؎ تفسیر فتح البیان ج 2 ص 134۔
2 ؎ تفسیر ابن جریر ج 9 ص 156 طبع جدید
3 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 277 باب من احب البسط فی التررق
4 ؎ الترغیب ج 2 ص 148۔ الترغیب فی الخلق الحسن وفضلہ
Ayahs 7:201–202201۔ 202۔ اللہ پاک نے جب آنحضرت ﷺ کو یہ بتلا دیا کہ اگر تمہارے دل میں شیطان کوئی وسوسہ ڈالے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنی چاہیے اس کے بعد اب عام لوگوں کے واسطے یہ بیان فرمایا کہ آدمی دو ہی قسم کے ہیں بعضے تو وہ ہیں جن کے دل میں خدا کا خوف ہے اور متقی ہیں گناہوں سے بچتے رہتے ہیں اور بعضے وہ جو کافر فاجر ہیں نہ ان کے دل میں خدا کا خوف ہے نہ وہ گناہوں سے بچتے ہیں تو اللہ پاک نے ان دونوں طرح کے آدمیوں کے حال کو یوں بیان فرمایا کہ جو لوگ متقی ہیں جب وہ شیطان کے وسوسہ میں پڑجاتے ہیں اور اس کے ورغلانے سے کوئی لغزش ان سے ہوجاتی ہے تو فورا وہ خدا کے عذاب کو یاد کر کے توبہ و استغفار کرلیتے ہیں ان کی شان میں یہ فرمایا کہ یہ لوگ صاحب بصیرت ہیں ان کے دلوں کے اندر آنکھیں ہیں جن سے یہ خدا کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے ہیں۔ حافظ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ایک بزرگ کے حال میں لکھا ہے کہ ایک جوان مسجد میں جاکر عبادت کیا کرتا گھر میں جاتے دفعہ اس کو یہ آیت یاد آگئی اور بےہوش ہو کر گر پڑا جب ہوش میں آیا تو پھر اس آیت کو یاد کیا اور مرگیا اور رات کو یہ دفن کیا گیا لوگوں نے قبر پر آکر نماز پڑہی پھر ان بزرگ نے پکار کر کہا کہ اے جوان ولمن خاف مقام ر بہ جنتان (55: 46) جس کا مطلب یہ ہے کہ جو خدا کا خوف کرتا ہے اسے دو جنتیں ملتی ہیں قبر کے اندر سے آواز آئی اللہ پاک نے اپنے وعدہ کے موافق دو حنتیں مجھے دی ہیں۔ پھر اللہ پاک نے اس دوسری قسم کے آدمیوں کا حال بیان فرمایا کہ جو لوگ کافر فاجر ہیں وہ اخوان الشیطین ہیں شیطان ان کو ہمیشہ گمراہی کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اور یہ بھی اس کے ساتھ کھینچتے جاتے ہیں نہ شیطان ان کے بہکانے میں کمی کرتا ہے نہ یہ لوگ اس کی پیروی میں کمی کرتے ہیں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے نتیجے کے طور پر وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے 1 ؎ اور اسی طرح صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا شیطان خود تو اپنا تخت سمندر میں بچھا کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے شیاطین کو لوگوں کے بہکانے کے لئے بھیجا کرتا ہے 2 ؎ اس طرح صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ رہتا ہے جو اس کو نیک کام کی صلاح دیتا رہتا ہے اور ایک شیطان رہتا ہے جو اس کو برے کاموں کی رغبت دلاتا رہتا ہے 3 ؎ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ اگرچہ شیطان سب لوگوں کے بہکانے کے لئے اپنے شیاطینوں کو بھیجتا رہتا ہے لیکن جو لوگ علم الٰہی میں ٹھہر چکے ہیں وہ اللہ کے فرشتہ کی صلاح کے ہمیشہ پابند رہتے ہیں اور جو لوگ علم الٰہی میں بدقرار پاچکے ہیں وہ ہمیشہ شیاطین کی رغبت کے پابند رہتے ہیں :۔
1 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 235 باب حجاج آدم و موسیٰ (علیہما السلام) الخ
2 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 376 باب تحریش الشیطان الخ
3 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 376 باب تحریش الشیطان الخ
Ayah 7:203203۔ کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ہماری فرمائش کے مطابق معجزہ دکھلائیے اور جب ان کی خواہش کے موافق کوئی معجزہ نہیں دکھلایا جاتا تھا تو کہنے لگتے تھے کہ آپ تو خدا کے رسول ہیں خدا سے التجا کیجئے وہ معجزہ آپ کو عطا کرے گا اور نہیں تو آپ خود اپنے جی سے کوئی بات بنا لیجئے اسی کو اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ اے رسول اللہ کے جب تم ان کو ایسی نشانی دکھلاتے ہو جو ان کی مرضی کے موافق ہو تو کہتے ہیں کہ تم نے اپنے جی سے یہ معجزہ گھڑ لیا ہے مثلا شق القمر جیسے بڑے معجزہ کو ان لوگوں نے جادو کا اثر بتلایا اس لئے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں اپنے جی سے کوئی کام نہیں کرسکتا میں تو خدا کا فرماں بردار ہوں جو وحی کے ذریعہ سے مجھ کو بتایا جاتا ہے وہ میں کر دکھاتا ہوں اور اس قرآن سے بڑھ کر کیا معجزہ ہوسکتا ہے اگر تم ایمان لانا چاہو تو یہی کافی ہے دوسرے معجزہ کے اس کے ہوتے کچھ ضرورت نہیں ہے فرمایا کہ یہ قرآن پاک یہ بیان کیا ہے کہ اہل ایمان کے تین درجے ہیں کوئی تو علم توحید میں اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ قرآن کی توحید اور خوبیوں بعضے ایسی ہیں جو قرآن کے مطلب کو اچھی طرح سمجھنے کے درجہ تک پہنچ گئے ہیں ان کے واسطے قرآن کریم ہدایت ہے یہ لوگ حق الیقین کے مرتبہ میں ہیں ان کے لئے قرآن پاک رحمت ہے بصائر بصیرت کی جمع ہے دل میں سوچ کر کسی بات کا نتیجہ نکالنا اس کو بصیرت کہتے ہیں اور آنکھوں سے دیکھنے کو بصارت کہتے ہیں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور معجزات کے علاوہ قرآن ہی ایک ایسا معجزہ مجھ کو دیا گیا ہے جس کے سبب سے اس قدر لوگ ہدایت پاویں گے کہ قیامت کے دن میری امت کے نیک لوگوں کی تعداد اور امتوں کے نیک لوگوں سے زیادہ 1 ؎ ہوگی۔ اس آیت میں قرآن کو بصیرت ہدایت اور رحمت جو قرمایا ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی ہدایت کی بارش کے پانی سے تشبیہ دی ہے اور اچھے برے لوگوں کی تشبیہ اچھی بری زمین کی فرمائی ہے 2 ؎ اس حدیث کو بھی آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ بارش کے پانی کے عام اثر کی طرح قرآن کی نصیحت سب کے حق میں عام ہے لیکن بری زمین کے اثر کے سبب سے جس طرح اس میں بارش کا پانی رائگاں جاتا ہے اسی طرح علم الٰہی میں جو لوگ گمراہ قرار پاچکے ہیں قرآن کی نصیحت معجزات کا اثر سب کچھ ان کے حق میں رائگاں ہے :۔
1 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 744 باب کیف نزل الوحی و صحیح مسلم ج 1 ص 87 باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا ﷺ ۔
2 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 18 باب فضل من علم وعلم و صحیح مسلم ج 2 ص 247 باب بیان مثل بابعث النبی ﷺ الخ۔
Ayah 7:204204۔ اس آیت کی شان نزول میں مفسروں کا بہت بڑا اختلاف ہے ایک گروہ کا یہ قول ہے کہ نماز میں باتیں کرنے کے متعلق یہ حکم ہوا ہے کیونکہ پہلے لوگ نماز میں باتیں کیا کرتے تھے تو حکم آیا کہ امام کی قرأت کو سنو اور چپکے رہو دوسرے گروہ کا یہ قول ہے کہ امام کے پیچھے زور سے پڑھنے کو منع کیا گیا ہے چناچہ تفسیر کلبی میں ہے کہ جب دوزخ اور جنت کا حال کسی آیت میں آجاتا تھا تو نماز میں ہی کچھ لوگ چیخنے لگتے تھے عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی ایک روایت ہے کہ امام کے پبچھے لوگ زور زور سے پڑھا کرتے تھے جب وہ نماز پڑھ چکے تو حضرت نے فرمایا کہ تمہیں سمجھ نہیں ہے جب قرآن پڑھا جاوے تو چپکے ہو کر سنو 1 ؎ اور ایک گروہ کا یہ قول ہے کہ یہ آیت خطبہ جمعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے لوگ خطبہ کے وقت کلام کیا کرتے تھے تو حکم ہوا کہ چپکے رہو عمر بن عبد العزیز کا قول ہے کہ خاموشی کچھ خطبہ کے لئے خاص نہیں ہے بلکہ ہر وعظ میں چپکے رہنا چاہئے مجاہد وغیرہ اسی قول کے قائل ہیں مگر اس میں کسی قدر کلام ہے کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جمعہ مدینہ میں فرض ہوا ہے اس لئے جمہور مفسرین اس آیت کی شان نزول یہی بتلاتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے حضرت جابر ؓ کی حدیث امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب امام ہو اس کو قرأت نہیں چاہئے امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے 2 ؎ اب اس بات میں فقہا کا اختلاف ہے کہ نماز میں امام کے پیچھے سورة فاتحہ میں پڑھی جائے یا نہیں اس کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے کہ جن نمازوں میں امام زور سے قرأت نہیں پڑھتا ہے جیسے ظہر و عصر تو اس میں امام کے پیچھے سورة فاتحہ کے پڑھنے کی بعضے سلف کے نزدیک اجازت ہے اور جس میں قرات زور سے پڑھی جاوے جیسے مغرب عشا فجر اس میں فاتحہ کا پڑھنا بھی جائز نہیں کیونکہ جابر ؓ کی حدیث جو اوپر گذری اس سے معلوم ہوگیا کہ امام کی قرأت کافی ہے کچھ مقتدی پر قرأت ضروری نہیں ہے اور اس حدیث میں سورة فاتحہ یا اور کسی سورت کی تخصیص نہیں ہے مگر محدثین اور امام شافعی (رح) اور اکثر مفسرین اس بات کے قائل ہیں کہ اس آیت کے حکم میں سورة فاتحہ داخل نہیں اس لئے سورة فاتحہ کا پڑھنا ہر نماز میں خواہ امام قرأت بالجہر کرے یا نہ کرے ضروری اور واجب ہے بغیر اس کے نماز صحیح نہیں ہوتی ان کے نزدیک اس واسطے امام الحمد کی آیتوں میں جو پڑھتا ہے مقتدی جہری نماز میں ان سکتوں کے وقت اپنی الحمد پوری کر لیوے ابوداؤد ترمذی ونسائی میں عبادہ بن الصامت ؓ کی ایک حدیث ہے کہ ایک روز صبح کی نماز میں ہم لوگ حضرت کے پیچھے قرآن پڑھ رہے تھے آپ کو قرأت میں کسی قدر دشواری ہوئی جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت ﷺ نے فرمایا شاید تم لوگ امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو ہم لوگوں نے کہا کہ ہاں فرمایا کہ سوائے سورة فاتحہ کے اور کچھ نہ پڑھا کرو اس لئے کہ کوئی نماز بغیر سورة فاتحہ کے نہیں ہوتی حضرت جابر ؓ کی حدیث کی روایت کے سب طریقے دار قطنی نے جمع کئے ہیں اور آخر اس حدیث کو مرسل طور پر صحیح قرار دیا 3 ؎ ہے جس طرح عبداللہ بن شداد تابعی نے اس حدیث جابر ؓ کہ آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے اسی طرح کوئی تابعی کسی حدیث کو آنحضرت ﷺ سے روایت کرے تو اس کو مرسل کہتے ہیں امام ابوحنیفہ (رح) نے بھی ایک روایت میں اس حدیث کو مرسل طور پر روایت کیا ہے آنحضرت ﷺ تک جس حدیث کی سند کا سلسلہ برابر ہو اس کو مرفوع کہتے ہیں۔ اس حدیث کے سب مرفوع طریقوں پر حافظ ابن حجر (رح) نے اعتراض کیا 4 ؎ ہے۔ عبادہ بن صامت ؓ کی حدیث مرفوع ہے اور امام بخاری (رح) نے جزء القرائۃ میں اس کو صحیح قرار دیا ہے 5 ؎ اور دار قطنی نے بھی اس کے راویوں کو معتبر ٹھہرایا 6 ؎ ہے لیکن امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) کے فیما بین یہ ایک اصول کے مسائل کا اختلاف ہے کہ ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مرسل حدیث معتبر ہے اور امام شافعی (رح) کے نزدیک معتبر نہیں ہے اس لئے امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب اس مسئلہ میں مرسل حدیث کہ موافق ہے اور امام شافعی (رح) کا مذہب مرفوع حدیث کے موافق ہے۔ اکابر حنفیہ میں سے ہدایہ میں امام محمد (رح) صاحب کا یہ قول ہے کہ احتیاط کے طور پر مقتدی کو بھی الحمد پڑھ لینی چاہئے آثار امام احمد میں امام ابوحنیفہ (رح) سے بھی ظہر اور عصر میں امام کے پیچھے الحمد کے پڑھنے کی ایک روایت 7 ؎ ہے زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی فقہ کی کتابوں میں ہے :۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر میں بحوالہ تفسیر ابن جریر یہ موقوف ہے مرفوع نہیں (ع۔ ر)
2 ؎ یہ تفسیر ابن کثیر سے منقول ہے جس میں اس کے بعد لکھا ہے کہ یہ روایت موطا میں موقوف ہے وہذا 2 صح (ج 2 ص 280) لیکن یہ حدیث مند امام احمد میں موجود نہیں۔ اور موطا میں جابر ؓ کا جو قول ہے اس کے الفاظ بالکل دوسرے ہیں ملاحظہ ہو (موطا ص 28 طبع مجتبائی باب ماجاء فی ام القرآن) (ع۔ ر)
3 ؎ سنن دار قطنی ص 122۔ 123
4 ؎ فتح الباری ج 1 ص 415 وتلخیص ص 87
5 ؎ حافظ ابن کثیر لکھنے ہیں وقدرا فرد لہا الامام ابوعبداللہ البخاری مصنفا علی حدۃ واختار وجوب القرأۃ خلف الامام فی السریۃ والجہیہ یعنی ” امام بخاری (رح) نے اس مثلہ میں مستقل تالیف فرمائی اور ہر نماز میں سری ہو یا جہری سورة فاتحہ خلف الامام کے فرض ہونے کا مسلک اختیار کیا ہے (ع۔ ں
6 ؎ سنن دارقطنی ص 120۔ 122
7 ؎ کتاب الاثار میں تو پید دایت نہیں ملی (ص 21۔ 22 طبع لاہور) تاہم یہ روایت ہے ضرور جیسا کہ مولانا محمد عبدالحی حقی لکھنوی مرحوم نے عنہ الرحایۃ حاثیہ شرع دوایہ (ج 1 ص 173) اور غیث النعمام وایثہ امام الکلام (ص 156) وغیرہ میں اسی کو حنفی مذہب کا تحفق قول قرار دیا ہے (ع۔ ر)
Ayah 7:205205۔ اللہ پاک نے قرآن مجید پڑھنے کے وقت خاموش رہنے کا حکم دے کر اپنے رسول صلعم کو خطاب فرمایا کہ صبح وشام اپنے رب کو جی میں یاد کرو اور نہایت ہی خلوص کے ساتھ گڑگڑا کر ہو اور یہ یاد الٰہی بہت چلا کر نہ ہو کیونکہ مشرکین قرآن کو سن کر خدا اور اس کے رسول کو برا کہتے ہیں نہ اتنا چیخ کر پڑھو کہ وہ لوگ سن کر برا کہیں اور نہ اتنا آہستہ پڑھو کہ تمہارے ساتھ کے لوگ بھی نہ سن سکیں اللہ پاک نے قرآن میں اکثر جگہ بیان فرمایا ہے کہ میں تو پکارنے والے کے رگ گردن سے بھی نزدیک ہوں صحیحین میں ابوموسیٰ اشعری کی حدیث ہے کہ لوگوں نے بعض مرتبہ سفر میں بلند آواز سے دعائیں مانگنی شروع کیں تو آپ نے فرمایا کہ اے لوگو اپنے جی کو روکو تم ایسے کو نہیں پکار رہے ہو جو بہرہ ہے یا غائب کہیں دور ہے بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تو بہت جلد سن لیتا ہے اور نہایت ہی قریب ہے تمہاری سواریوں کی گردنوں سے بھی زیادہ نزدیک تر ہے 1 ؎۔ صبح وشام کا حکم اس واسطے دیا گیا ہے کہ جب انسان سو کر اٹھے تو پہلا شغل اس کا ذکر اللہ رہے کیونکہ موت میں نیند میں تھوڑا ہی فرق ہے سونے والا اور مردہ برابر ہوتا ہے اہل علم نیند کو اخ الموت کہتے ہیں بہر حال شام کو بھی جب سونے لگے تو خدا کی یاد کے بعد سوئے ممکن ہے کہ سونے کے بعد پھر اٹھنا نصیب نہ ہو ہمیشہ کے لئے خواب عدم ہی میں رہے بعضے علماء نے صبح وشام کے فوائد میں یہ بیان کیا ہے کہ صبح کی نماز کے بعد اور عصر کے بعد اور نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اس لئے خدا کا حکم ہوا کہ اس وقت خدا کی یاد کیا کرو تاکہ کوئی وقت خدا کے ذکر سے خالی نہ جائے اور بعضوں نے یہ بیان کیا ہے کہ بندوں کے عمل صبح وشام اٹھائے جاتے ہیں رات کے عمل صبح کے وقت اور دن کے عمل شام کے وقت اس لئے مستحب ہے کہ صبح وشام خدا کا ذکر کیا جاوے تاکہ عمل کی ابتدا اور اس کا اختتام خدا کے ذکر ہی پر ہو صحیح بخاری ومسلم میں ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو لوگ یاد الٰہی سے غافل ہیں ان کی مثال مردہ لوگوں کی سی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد آدمی کا نیک عمل بند ہوجاتا ہے اس لئے جیتے جی جن لوگوں نے یاد الہی جیسے نیک عمل کو چھوڑ رکھا ہے ان کا نیک عمل مردوں کی طرح بند ہے۔ ذکر الہی کی فضیلت اور تاکید میں اور ذکر الٰہی سے غفلت کی مذمت میں اور بھی صحیح حدیثیں ہیں یہ حدیثیں آیت کی گویا تفسیر ہیں کیونکہ آیت میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ذکر الہی کا حکم فرما کر اس سے غفلت کرنے کو منع فرمایا ہے امت کے حق میں وہی بات ان حدیثوں میں اللہ کے رسول نے فرمایا ہے :۔
1 ؎ مشکوٰۃ جل 196 باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ۔
Ayah 7:206206۔ اللہ پاک نے اپنے بندوں کو کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دے کر اس آیت میں اپنے فرشتوں کا حال بیان فرمایا اور انسان کو اس بات کی ترغیب دلائی ہے کہ دیکھو خدا کے پاس جتنے فرشتے ہیں وہ تکبر نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت چاہئے اس لئے وہ ہر وقت خدا کی عبادت میں لگے رہتے ہیں اور ہر گھڑی اس کی پاکی بیان کرتے ہیں سُبَحان اللہ ربنا سبحانَ اللّٰہ ربنا کہتے رہتے ہیں اور اسی کو سجدہ بھی کیا کرتے ہیں اب تمہیں بھی مناسب ہے کہ ان باتوں کو اختیار کرو اور ہر وقت خدا کا ذکر کر کے فرشتہ خصلت اور ان کے ہم رتبہ ہوجاؤ، اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عمل دو طرح کے ہیں ایک تو وہ ہے جو فقط قلب سے تعلق رکھتا ہے ایک وہ ہے جس کو اعضا کے ظاہری سے تعلق ہے جس عمل کا تعلق قلب کے ساتھ ہے وہ یہ ہے کہ خدا کو ہر ایک بری صفتوں سے پاک اور بےعیب جان کر اس کو اوصاف حمیدہ کا متصف جانیں یہی مطلب ویسبحون کا ہے اور جو اعضائے ظاہری سے تعلق رکھتے ہیں وہ یہ ہیں کہ خدا کو ان اوصاف کے ساتھ متصف جان کرا دوں میں اس کا پکا اعتقاد رکھ کر ہاتھ پیر سے بھی اسی اعتقاد کے موافق عمل کرے اسی کو ولہ یسجدون فرمایا ہے تاکہ عبادت کے اندر انسان فرشتوں کے مقابل وموافق ہوجاوے تسبیح اور سجود کے متعلق اکثر حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔ مسلم کی ایک حدیث معدان بن طلحہ ؓ سے ہے کہ معدان بن طلحہ ؓ نے ایک روز ثوبان ؓ سے مل کر پوچھا مجھے کوئی ایسا عمل بتلاؤ جس سے اللہ پاک مجھے جنت میں داخل کرے دو تین مرتبہ پوچھا ثوبان ؓ چپ رہے تیسری مرتبہ جواب دیا کہ میں نے بھی اس کو رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا، آپ نے فرمایا کہ کثرت سے سجدہ کیا کرو اللہ پاک ہر سجدہ میں ایک درجہ بڑھاتا ہے اور گناہ بخشتا ہے معدان ؓ کا بیان ہے کہ میں ابو درداء ؓ سے ملا تھا ان سے بھی اس بات کو دریافت کیا انہوں نے بھی یہی بتلایا 1 ؎۔ بہرحال اس آیت پر سامع وقاری دونوں کو سجدہ کرنا چاہئے پورے قرآن میں جو چودہ یا پندرہ سجدے ہیں ان میں سے یہ سورة اعراف میں پہلا سجدہ کرتا ہے تو شیطان رونے لگتا ہے کہ افسوس بنی آدم کو سجدہ کا حکم ہوا اس نے سجدہ کیا جس کے بدلہ میں اس کو جنت عطا ہوئی اور مجھے سجدہ کا حکم ہوا تو میں نے انکار کیا اس لئے میرے لئے دوزخ مقرر ہے 2 ؎ معتبر سند سے ترمذی اور ابن ماجہ میں ابوذر ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمام آسمان اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے فرشتوں سے بھرے ہوئے ہیں کہیں چار انگل کی جگہ بھی ایسی خالی نہیں ہے کہ ایک فرشتہ سجدہ میں 3 ؎ نہ ہو۔ ابوداؤد اور ابن ماجہ میں عمر وبن العاص ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں پندرہ آیتیں سجدہ کی ہیں 4 ؎۔ اگرچہ بعضے علماء نے اس حدیث کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن منذری نے اس کو سند کو معتبر بتلایا ہے 5 ؎ یہ پندرہ آیتیں سجدہ کی اس حالت میں ہیں کہ سورة حج میں دو سجدے شمار کئے جاویں اور سورة ص کا سجدہ حساب میں لیا جاوے لیکن اس باب میں امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ اور امام شافعی علیہ الرحمۃ کا اختلاف ہے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے 6 ؎ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت میں فرشتوں کی عبادت کا اور سجدہ کی آیت کا جو ذکر ہے اس کی تفصیل حدیثوں سے اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے :۔
1 ؎ صحیح مسلم ج 1 ص 193 فضل السجودو المحث علیہ
2 ؎ صحیح مسلم ج 1 ص 61 باب بیان طلاق اسم الکفر علی من ترجک الصلوٰۃ ومشکوٰۃ ص 84 باب السجودو فطلہ
3 ؎ جامع ترمذی ج 2 ص 55 باب ماجاء فی قول النبی ﷺ تعلمون اعلم الضکتم قلیلا دابن ماجہ ص 319 باب الحزن واسبکاء
4 ؎ ابوداؤرج 1 ص 199 باب تفریع ابواب السجود و کم سجدۃ فی القرآن وابن ماجہ ص 75 عدر سجود القرآن
5 ؎ تتیقح الرواۃ ج 1 ص 188
6 ؎ ملاحظہ فرمائیے نیل الاوطارج و 3 ص 117