Ayahs 7:28–30(28 ۔ 30) ۔ مجاہد کا قول ہے کہ مکہ کے مشرک ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور کہتے کہ جس طرح ہم کو ہماری ماں نے جنا ہے اسی طرح ہم طواف کرتے ہیں اور اس کو باپ دادا کی رسم اور خدا کا حکم بتاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں کو نازل کر کے فرمایا کہ پیشتر تم ابھی جان چکے ہو کہ آدم (علیہ السلام) نے جو سب کے باپ ہیں شیطان کا دھوکا کھایا تو پھر اسکی بےحیائی کے کام پر باپ دادا کا حوالہ دینا اور خدا کا حکم سمجھنا بڑی نادانی ہے باپ دادا کا کسی برے کام کو کرنا اس کام کے جائز ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی دنیا کے کاموں میں تو اس طرح تم باپ دادا کی پیروی نہیں کرتے یہ کبھی نہ سنا کہ کسی نے باپ دادا کی پیروی سے اپنے آپ کو دریا میں یا کنویں میں میں ڈبو دیا یا آگ میں جلا دیا۔ یا سب مال برباد کردیا ہو اسی طرح جو کام دین میں خلاف حکم خدا اور رسول کے ہیں ان میں بھی باپ دادا کی پیروی نہ کرنی چاہئے رہی یہ بات کہ اس برے کام کو اللہ کا حکم مانتا کہ خدائے پاک نے ایسے ناپاک اور بےحیائی کے فعل کا حکم دیا ہے یہ کیونکہ ہوسکتا ہے بغیر جانے بوجھے کیوں خدا پر جھوٹ باندہتے ہو بلکہ خدا نے تو عدل اور انصاف اور مسجد میں خالص اسی کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے مجاہد اور قتاوہ نے کمابداکم تعودون کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جس طرح تم کو پہلے پیدا کیا اسی طرح دوسری بار پھر پیدا کرے گا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد زندہ کرے گا ابن زید نے کہا کہ جس طرح اول ابتدا کی ہے ایسا ہی آخر میں پھر دوبارہ پیدا کرے گا ابن جریر نے اسی کو اختیار کر کے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس حدیث سے جو صحیح بخاری ومسلم میں ہے اس قول کو تا ئید دی ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس حدیث میں فرماتے ہیں کہ حضرت ﷺ نے ایک روز کھڑے ہو کر خطبہ کے طور پر فرمایا کہ اے لوگوں تم پھر دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے برہنہ ننگے بدن بغیر ختنہ کے کَمَابَدَ أْنَااَقَلّ خَلُقٍ نُّعْیُدہٗ وَعُدًہ اَعَلَیّنَاِ اِنَّا کُنَّافَا عِلِیْنَ 2 ؎ (20: 104) اور حضرت ابن عباس ؓ نے فریقاھدی وفریقا حق علیھم الضلالۃ کے متعلق فرمایا کہ خدا نے پیدائش انسانی کے اس طرح شروع کی ہے کہ کوئی مومن ہے اور کوئی کافر پھر قیامت کے روز اسی طرح پر ان کو دوبارہ پیدا کریگا جیسا شروع میں مومن کافر پیدا کیا تھا حاصل مطلب یہ ہے کہ پیدا کئے جانے اور اختیار روئے جانے کے بعد جس طرح جو کوئی دنیا میں زندگی بسر کرنے والا تھا اس کو ویسا ہی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور اسی طرح اس کا حشر ہوگا سہل بن سعد ؓ کی حدیث ہے کہ بندہ وہ عمل کرتا ہے جو لوگوں کے دیکھنے میں جنت والوں کا سا ہے اور حقیقت میں وہ شخص دوزخ والوں میں سے ہے اور ایک شخص وہ عمل کرتا ہے جو دیکھنے میں دوزخیوں کا سا اور وہ بہشتیوں میں سے ہے
اس لئے اصل عمل وہ ہے جس پر انسان کا خاتمہ ہو یہ حدیث صحیح بخاری ومسلم کی حدیث کا ٹکڑا ہے اسی طرح حدیث ابن مسعود ؓ جو صحیح بخاری ومسلم میں ہے اس کی تائید کرتی ہے صحیح ومسلم اور ابن ماجہ میں جابر ؓ کی روایت ہے کہ ہر نفس اس حال پر اٹھایا جاوے گا کہ جس پر وہ تھا صحیحین میں حضرت علی ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص علم ازلی میں نیک بخت ٹھہرا ہے ہے اس پر نیک نجتوں کا کام آسان کردیا جاتا ہے اور جو بدبخت ہے اس پر بدبختوں کا کام سہل کردیا جاتا ہے اس واسطے اللہ نے فرما فریقاھدی وفریقاحق علیہم الضلالۃ غرض کہ ہدایت وضلالت اللہ تعالیٰ کے طرف سے اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق ہے ترمذی ‘ مسند امام احمد ‘ اور مستدرک حاک میں ابن عمر ؓ سے آیا ہے کہ اللہ نے خلقت کو اندہیرے میں پیدا کر کے ایک نور ان پر ڈالا جس کو وہ نور پہنچا اس نے ہدایت پائی جس کو نہ پہنچاوہ گمراہ ہوا۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور مسند امام احمد کی سند بھی اچھی ہے۔ نور سے مراد ہدایت ہے اور اندہیرے سے مراد خواہش نفسانی۔ حاصل یہ ہے کہ علم الی کے موافق جو لوگ دنیا میں آن کر راہ راست پر آنے والے تھے ان کو وہاں اس نور ہدایت میں سے حصہ ملا اور جو لوگ دنیا میں آن کر عقبے سے غافل اور خواہش نفسانی کے پابند رہنے والے تھے وہ اس نور ہدایت کے حصہ سے محروم رہے اور دنیا میں آنے کہ بعد انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا دوست بنایا اور اپنے گمان میں آپ کو ہدایت پر سمجھانے کی مذمت خدا تعالیٰ نے اس آیت میں فرمائی کیونکہ دین حق کی پہچان فقط گمان سے نہیں ہوتی اللہ اور رسول کا کلام اس کے واسطے ضرور ہے جس نے اللہ اور رسول کی تابعداری کی وہی ایمان والا ہے اور ہدایت کے راستہ پر بھی وہی ہے :
Ayahs 7:31–32(31 ۔ 32) ۔ صحیح مسلم نسائی تفسیر ابن جریر اور تفسیر کلبی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیات کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ ایک دستور تھا کہ سوا قریش کے اور اہل عرب کے عورتیں مرد سب ننگے طواف کیا کرتے اور یہ کہتے تھے کہ جن کپڑوں سے ہم نے گناہ کئے ہیں ان کپڑوں کو پھینک کر طواف نہیں کرنا چاہئے اور بعضے قبیلہ کے لوگ بعضی چیزوں کا کھانا بھی حج کے موسم میں اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے اس رسم کے مٹانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ حرام وہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اپنے رسول کی معرفت حرام فرمائی ہے جن لوگوں نے طواف کے وقت کپڑوں کا پہننا موسم حج میں چکنائی یا گوشت کا کھانا چھوڑ رکھا ہے یہ ان لوگوں کو ایک رسم ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنے ستر کو ڈھانکیں اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرا دی ہیں ان کا کھانا موسم حج میں یا اور کسی وقت میں اپنی طرف سے حرام نہ ٹھہراویں مستدرک حاکم اور مسند بزار کے حوالہ سے ابودردا ؓ کی صحیح حدیث گذر چکی ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا حلال حرام وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال یا حرام فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اپنی طرف سے کسی بندہ کو کسی چیز کے حلال یا حرام ٹھہرانے کا حق نہیں ہے اس واسطے طواف کے وقت کپڑوں کو پہننے کو یا موسم حج میں بعضی چیزوں کے کھانے کو جو عرب کے لوگوں نے حرام ٹھہرا رکھا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے ناپسند فرمایا اور حرام حلال میں حد سے بڑھ جانے سے منع فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ حلال کو حلال کی جگہ اور حرام کو حرام کی جگہ سمجھنا چاہئے اپنی طرف سے اس میں کچھ دخل دے کر حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہ ٹھہرانا چاہئے کہ اسی کا نام اسراف اور حد سے بڑھ جانا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ اللہ کے دیے ہوئے مال کو بےجاطور پر اڑانا اور صرف کرنا بھی حد شرعی سے بڑھ جانا سے اس لئے و وہ بھی آیت کے حکم میں داخل ہے چناچہ صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص میں اترانے اور بیجا خرچ کرنے کی خصلتیں نہیں ہیں وہ جو جی چاہے کھائے اور پہنے پھر فرمایا جب ہر ایک چیز کے حرام حلال ٹھہرنے کا حق اللہ کو ہے اور ان لوگوں نے جن چیززوں کو حرام ٹھہرا رکھا ہے ان کے حرام ہونے کے ثبوت میں یہ لوگ اللہ کا کوئی حکم ملت ابراہیمی سے نکال کر نہیں پیش کرسکتے تو اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے پوچھو کہ یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں آخر کس نے تم پر حرام کی ہیں اور اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دو کہ دنیا کی ضرورت کی چیزیں اصل میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے واسطے پیدا کی ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو برت کر اس کے شکریہ میں خالص دل سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں رہے وہ ناشکرے مشرک جو اللہ کی ان نعمتوں کو کام میں لاکر سوا اللہ کے اوروں کو اپنا معبود قرار دیتے ہیں اگرچہ ان کی سزا تو یہی ہے کہ دنیا میں بھی ان کو ان نعمتوں سے بالکل محروم کردیا جاتا لیکن دنیا کی چند روزہ نعمتوں کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کچھ قدر منزلت نہیں ہے اس لئے دنیا کی نعمتوں میں تو اللہ نے شکر گذار ایمان داروں کو اور ناشکرے مشرکوں سب کو شریک حال رکھا ہے مگر عقبے میں اللہ کی ہمیشہ کی نعمتوں سے یہ ناشکرے مشرک لوگ بالکل محروم کردیے جادیں گے۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں سہل بن سعد ؓ کی روایت ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کی قدر منزلت اگر ایک مچھر کے پر کی برابر بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوتی
تو دنیا میں ایک پانی کا گھونٹ بھی کسی ناشکرے مشرک کو نہ ملتا۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے یہ حدیث آخری آیت کی گویا تفسیر ہے آخر کو فرمایا کہ جن کو کچھ سمجھ بوجھ ہے ان کو قرآن شریف کی آیتوں میں اس طرح ہر آیت کی تفصیل سمجھائی جاتی ہے اس پر بھی جو کوئی قرآن کی نصیحت کو زمانے گا وہ ایسے وقت پر پچھتاوے گا جس وقت کا پچھتانا اس کے کچھ کام نہ آوے گا :۔
1 ؎ جامع ترمذی ج 2 ص 56 باب ماجاء فی ہو ان الدنیا علی العد
Ayah 7:33مسند امام احمد صحیح بخاری اور مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت دار نہیں ہے اس واسطے خدا تعالیٰ نے اس آیت شریف میں چھپی کھلی بےحیائی اور گناہ ناحق کی زیادتی اور شرک اور خدا پر جھوٹ بولنے کو حرام فرمایا ہے ظاہر و باطن بےحیائی اور گناہ حق کی زیادتی اور شرک اور خدا پر جھوٹ بولنے کو حرام فرمایا ہے ظاہر و باطن بےحیائی کے متعلق سورة انعام میں بیان ہوچکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگ چھپے ہوئے زنا کو عیب نہیں سمجھتے تھے مجاہد نے کہا کہ لفظ اثم سے تمام گناہ چھوٹے بڑے مراد ہیں اور باغی کو بغاوت کا وبال اسی کی جان پر ہے سدی کا قول ہے کہ ہر معصیت اثم ہے اور بغی کے معنے لوگوں پر ناحق زیادتی کا کرنا ہے غرض ذاتی گناہ اور لوگوں پر زیادتی کا کرنا دونوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا اسی طرح شرک باللہ کو جو ایک بےسند بات ہے حرام کیا کہ اس وحدہ لاشریک کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ایسا ہی یہ بھی حرام کیا کہ بغیر علم کے جہالت سے خدا پر جھوٹ نہ باندھو کہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے اور فرشتے بیٹیاں یا خدا کا یہ حکم ہے کہ یہ کام کرو اور وہ کام نہ کرو یہ چیز کھاؤ یہ نہ کھاؤ غرضیکہ اپنی طرف سے کوئی بات خدا پر نہ لگاؤ کہ ایسا کرنا حرام ہے کیونکہ حرام و حلال کے واسطے خدا رسول کا حکم ضرور ہے مستدرک حاکم اور مسند بزار کے حوالہ سے ابودر ؓ داء کی صحیح حدیث گذر چکی ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا حرام حلال وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام یا حلال کیا ہے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا بعضے لوگ قیامت کے دن ایسے ہوں گے کہ انہوں نے لوگوں پر ظلم اور زیادتی کی ہوگی جس کے معاوضہ میں ان ظالموں کی سب نیکیاں مظلوموں کو مل جاویں گی اور یہ ظالم لوگ خالی ہاتھ دوزخ میں چلے جاویں گے آیت میں لوگوں پر زیادتی کرنے کی جو ممانعت ہے اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں پر ظلم و زیادتی کا کرنا ایسا گناہ ہے جس کے لئے فقط توبہ کافی نہیں ہے بلکہ اس گناہ کی سزا میں ظالموں کی نیکیاں مظلوموں کو مل جاویں گی :۔
Ayahs 7:34–36(34 ۔ 36) ۔ اہل مکہ عذاب کی جو جلدی کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا ہر کام کا وقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرر ہے وقت مقررہ پر اگر اللہ کو منظور ہوگا تو عذاب آوے گا غرض عذاب کے وقت ایسا ہی مقرر ہے جس طرح سب کی آنکھوں کے سامنے ہر ایک شخص کے لئے ہر زمانہ میں موت کا ایک وقت مقرر ہے اس سے ایک ساعت کوئی آگے پیچھے نہیں ہوتا وعدہ کم نہ زیادہ جمہور کا یہی مذہب ہے کہ انسان کی عمر گھٹتی بڑھتی نہیں خواہ قتل کر ڈالنے سے مرا ہو یا ڈوبنے جلنے وغیرہ سے ہر ایک اپنی موت سے مرتا ہے عمر کی کمی بیشی کے باب میں سلف کے مابین ایک بڑی بحث ہے۔ حاصل یہ ہے کہ صحیح حبان اور مستدرک حاکم میں ثوبان ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا کہ نیکی کرنے سے آدمی کی عمر بڑھ جاتی ہے اس سے اور اس قسم کی اور حدیثوں سے ان صحابہ کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے جو دنیا عالم اسباب میں بعضے سببوں کو عمر کے گھٹنے بڑھنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی سورة (رعد میں آوے گی حاکم نے ثوبان ؓ کی اس حدیث کو صحیح کہا ہے موت کے ذکر کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارے رسول تم میں سے تمہارے پاس ہماری آیتیں لاکر بیان کریں گے سو جو کوئی پرہیز گاری اختیار کرے گا اور رسولوں کی فرمانبرداری کر کے اپنے حال کو سنواریگا اور مناہی کی چیزوں سے بچا رہیگا اس کی قیامت کے روز کچھ خوف وغم نہ ہوگا اور جو ہماری آیتوں اور رسولوں کو جھٹلاویگا اور تکبر سے ان پر عمل نہ کرے گا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا میں لوگوں کو کو لیاں بھر بھر کے ان کو آگ میں گرنے سے بچانا چاہتا ہوں لیکن لوگ آگ میں گرنے کی ایسی جرأت کرتے ہیں جس طرح کیڑے پتنگے روشنی پر گرنے کی جرأت کرتے ہیں یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے قرآن کی نصیحت کو مان کر کچھ عقبے کا سامان کرلیا وہ رسول اللہ کی کوشش سے قیامت کے دن آگ میں گرنے سے بچیں گے اور جو لوگ قرآن کی نصیحت سے غافل ہیں وہ قیامت کے دن دوزخ کی آگ میں اس طرح جاپڑیں گے جس طرح روشنی پر کیڑے پتنگے گرتے ہیں :۔
Ayah 7:37حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ ایسے لوگوں کو ان کے نصیب کا لکھایوں ملے گا کہ نیکی کرنیوالے کو اس کی نیکی اور اور بد ی کرنے والے کو اس کی بدی کا بدلا ملے گا حاصل مطلب یہ ہے کہ علم ازلی کے موافق لوح محفوظ اور نامہ ( علیہ السلام) اعمال میں جو نیکی بدی لکھی گئی ہے اس کے موافق جزا سزا کا فیصلہ ہوگا یہاں اس تفسیر کے موافق رسولوں سے مقصود وہ فرشتے ٹھہریں گے جو روحوں کو دوزخ میں ڈالنے پر تعینات ہیں یا رسولوں سے مقصود ملک الموت اور ان کے مددگار ہیں کیونکہ مرنے کے وقت فرشتے مشرکوں کو عذاب سے ڈراتے ہیں جس سے مرتے وقت ان مشرکوں کو بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے فرشتے جھڑک کر ان سے دریافت کرتے ہیں کہ جن کو تم خدا کے سوا دنیا میں پکارتے اور پوجتتے تھے وہ اب کہاں ہیں ان کو بلاؤ کہ تم کو اس عذاب سے بچادیں وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہم کو معلوم نہیں کہ وہ کدھر گم ہوگئے وقت پر ہمارے کچھ کام نہ آئے ہم کو ان سے کچھ توقع وامید نہیں ہے یہ ان کا موت کے وقت اپنی جانوں پر کفر کا اقرار ہوگا نافرمان لوگوں کو موت کے وقت جو فرشتے عذاب سے ڈراتے ہیں ان کا ذکر لباء بن عازب ؓ کی صحیح حدیث کے حوالہ سے ایک جگہ گذر چکا ہے دوزخ پر جو فرشتے تعینات ہیں ان کا حال بھی حضرت عمر ؓ کی حدیث کے حوالہ سے گذر چکا ہے اس لئے رسولوں کی تفسیر دونوں طرح کے فرشتوں سے ہوسکتی ہے دوزخ پر جو فرشتے تعینات ہیں ان کا ذکر سورة تحریم ہیں تفصیل سے آویگا۔
Ayahs 7:38–39(38 ۔ 39) ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مالک دوزخ کا داروغہ کہے گا کہ داخل ہو آگ میں ہمراہ اور امتوں کے جو تم سے پہلے جن اور آدمیوں میں سے گذر چکی ہیں پھر دوزخ میں داخل ہوتے ہی ایک امت دوسری امت کو لعنت کرنے لگے گی مشرک مشرکوں یہود یہود کو لعنت کرنے لگیں گے پچھلی امت کے لوگ پہلی امت کے لوگوں کے حق میں خدا تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے پروردگار انہوں نے ہم کو تیرے راستہ سے بہکا دیا تھا ان کو دوچند عذاب کر جواب ملیگا کہ تم سب کے واسطے دو چند عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے کیونکہ ہم نے ہر ایک کو اس کے عمل کے موافق سزادی ہے اور پہلی امت کے لوگ پچھلی امت کے لوگوں سے کہیں گے کہ تم کو ہم پر کچھ فوقیت نہیں ہے جس طرح ہم گمراہ ہوئے اسی طرح تم بھی گمراہ ہوئے اب اپنے کئے کی سزا چکھو مجاہد کا قول ہے کہ فضل کے لفظ سے مراد اس جگہ عذاب کی تخفیف ہے ایک طرح پہلی امت کے لوگوں کی بڑی خطا ہے کہ پچھلوں کے واسطے برے راہ ڈال گئے اور ایک طرح پچھلوں کا بڑا قصور ہے کہ پہلوں کی حالت دیکھ کر اور سن کر بھی متنبہ نہ ہوئے نہ کوئی عبرت حاصل کی بہکنے والے اور بہکانے والوں کی جو آپس میں قیامت کے دن حجت ہوگی اس کا ذکر سورة احزاب اور سورة سبا میں تفصیل سے آویگا۔ حاصل یہ ہے کہ بہکانے والوں کی جو آپس میں قیامت کے دن حجت ہوگی اس کا ذکر سورة احزاب اور سورة سبا میں تفصیل سے آویگا۔ حاصل یہ ہے کہ بہکانے والوں کو دوگنا عذاب یوں ہوگا کہ ایک اپنے عملوں کا اور دوسرا لوگوں کو بہکانے کا اور بہکنے والوں کو ایک بہکاوے میں آجانے اللہ رسول کی نصیحت نہ سننے کا اور دوسرا بدعملوں کا مسند امام احمد صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا اب جو شخص کسی شخص کو قتل کرتا ہے اس میں ایک قتل ناحق کا گناہ قابیل بن آدم کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جاتا ہے کیونکہ قتل ناحق کا طریقہ دنیا میں پہلے پہل اس نے نکالا ہے صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص دنیا میں کوئی برا طریقہ نکالے گا تو وہ سوائے اپنے ذاتی گناہوں کی سزا کے ان لوگوں کی سزا میں بھی پکڑا جاویگا جو لوگ اس برے طریقہ پر چلے ان آیتوں میں دوگنے عذاب کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ بہکانے والوں کو اپنے بدعملوں کا جدا عذاب ہوگا اور دوسروں کو برے طریقہ پر لگانے کا جدا اسی طرح بہکنے والوں کو باوجود شرعی نصیحت کے بہکاوے میں آجانے کا عذاب جدا ہوگا اور دوسرے بدعملوں کا جدا :۔
Ayahs 7:40–41(40 ۔ 41) ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ مسلمان کے دروازے نہ کھولے جانے سے مراد یہ ہے کہ کوئی عمل نیک اور دعا ان کی آسمان پر نہیں جاتی اور قبول نہیں ہوتی یا جبکہ وہ مرتے ہیں تو ان کی ارواح کے واسطے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے امام احمد ابوداؤد ابن ماجہ اور نسائی میں براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت نے فرمایا فرشتے جب نافرمان شخص کی روح کو آسمان پر لے جاتے ہیں تو کسی جماعت فرشتوں پر گذر نہیں ہوتا مگر وہ ملائکہ کہتے ہیں کہ کیا روح خبیث ہے روح لے جانے والے کہتے ہیں کہ فلاں شخص ہے پھر وہ روح کے لے جانے والے فرشتے آسمان کا دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں تو کھولا نہیں جاتا پھر حضرت ﷺ نے اس آیت شریف کو پڑھا لاتفتح لھم ابواب السماء یہ ایک بڑی حدیث کا ٹکڑا ہے اور اس کی سند معتبر ہے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور تکبر سے ان کو نہیں مانتے یہ جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکہ میں نہ گھسے یہی قول حضرت ابن عباس ؓ کا ہے اونٹ عرب کے نزدیک سب حیوانوں میں بڑا ہے اور سوئی کا ناکہ میں نہیں گھس سکتا تو اب اس مثال کا یہ مطلب ٹھہرا کہ کافر مشرک بہشت میں داخل ہونے سے قطعی محروم ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے لفظ جمل کو جس کے معنے اونٹ کے ہیں جمل جیم کے پیش اور میم کے تشدید سے بھی پڑھا ہے جس کے معنی موٹا رسہ جیسے ناؤ کا یا لاؤ کا رسا موٹا ہوتا ہے سوئی کے ناکہ میں اس کا گھسنا بھی محال ہے اس مثال کا بھی وہی مطلب ہے جو پہلی مثال کا ہے۔ پھر فرمایا مجرموں کی یہی سزا ہے کہ آگ ہی ان کا لحاف ہوگا ظاملوں کو یہی بدلہ ملے گا کیونکہ شرک بڑا ظلم ہے جس اللہ نے انسان کو انسان کی آسائش کے ہر طرح کے سامان کو پیدا کیا اس کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرنا اس سے بڑھ کر کوئی شے بےانصافی کی دنیا میں نہیں ہوسکتی ہے آسمان کے دروازے نہ کھلنے کے باب میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے دو قول ہیں ایک یہ کہ نافرمان لوگوں کے نیک عملوں کے آسمان پر جانے کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے دوسرا یہ کہ ایسے لوگوں کے مرنے کے بعد ان کی روح کو آسمان پر لے جانے کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے لیکن ان دونوں قولوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ سورة الفرقان میں آوے گا کہ ایسے لوگوں کے نیک عمل نافرمانی کے سبب سے اکارت ہوجاتے ہیں جزا کے قابل نہیں قرار پاتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے لوگوں کے عمل نہ آسمان پر جانے کے قابل ہیں نہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھولے جانے کی ضرورت ہے اس لئے کہ یہ سورة ویل للمطففین میں آویگا کہ جو نیک عمل جزا کے قابل ہوتے ہیں ان کا نا مہ اعمال ساتویں آسمان پر علیین مقام میں رکھا جاتا ہے اور جو بدعمل سزا کے قابل ہیں ان کا نامہ اعمال ساتویں زمین کے سجین مقام میں رکھا جاتا ہے اس صورت میں نافرمان لوگوں کے نیک عمل جب اکارت ہوگئے اور بدعملوں کا نامہ اعمال ساتویں زمین میں رہتا ہے
تو حاصل معنی آیت کے یہی میں کہ جن لوگوں کا آیت میں ذکر ہے جیتے جی ان کے عملوں کے لئے اور مرنے کے بعد ان کی روحوں کے لئے آسمان کے دزوازے نہیں کھولے جاتے۔ ان ہی معنے کو حافظ ابوجعفر ابن جریر 1 ؎ نے ترجیح دی ہے براء بن عازب ؓ کی صحیح حدیث جو اوپر گذری 2 ؎ اس سے بھی ان معنے کی تائید ہوتی ہے کیونکہ اس حدیث میں بھی نیک وبد روحوں کا آسمان کے دروازوں کے کھولے جانے اور نہ کھولے جانے کا اور نیک عملوں کے نامہ اعمال کا علیین میں اور بدعمل کے نامہ اعمال کا سجین میں رکھے جانے کا ذکر ساتھ کے ساتھ ہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کے دروازوں کا کھلنا نہ کھلنا روحوں اور بدعملوں سب کے لئے عام ہے :۔
1 ؎ تفسیر ابن جریر ج 8 ص 176 طبع جدید و تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 213
2 ؎ یعنی صفحہ 253 پر
Ayahs 7:42–43(42 ۔ 43) ۔ اوپر قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے والوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں قرآن پر ایمان لانے والوں نیک عمل کرنے والوں کا ذکر فرمایا اور یہ بھی جتلایا کہ ایمان لانا اور نیک عمل کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے باہر تکلیف نہیں دیتا پھر فرمایا جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی جنت میں ہمیشہ رہیں گے ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش ہوگی وہ جنت میں جانے سے پہلے نکال دی جاوے گی صاف دل ہو کر جنت میں جاویں گے قتادہ (رح) کا قول ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ مجھ کو امید ہے کہ ان لوگوں میں میں اور عثمان ؓ اور طلحہ ؓ اور زبیر ؓ ہوں گے حضرت علی ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی لڑائی جس کو جنگ جمل کہتے ہیں اس لڑائی میں طلحہ ؓ اور زبیر ؓ حضرت علی ؓ کے مخالف تھے اور حضرت عثمان ؓ کے قصاص کی بابت لڑائی تھی حضرت علی ؓ یہ فرماتے ہیں عقبیٰ میں یہ کدورت ہم لوگوں میں باقی نہ رہے گی بخاری میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جب ایمان والے دوزخ سے نجات پاویں گے تو بہشت اور دوزخ کے درمیان میں ایک پل پر ٹھہرائے جاویں گے اور ان ظلموں کا بدلہ جو دنیا میں ان کے ذمہ تھے ہوگا اس بدلے کے بعد جب ان کے دل بغض سے پاک صاف ہوجاویں گے تو پھر ان کو بہشت میں جانے کا حکم ہوگا کیونکہ رنج وبغض سے عیش بےمزہ ہوجاتا ہے معتبر سند سے نسائی اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ تمام بہشتی لوگ اپنی جگہ پر دوزخ میں دیکھ کر بطور شکریہ کے کہیں گے کہ اگر خدا تعالیٰ ہم کو ہدایت نہ کرتا تو ہم یہاں نہ ہوتے معتبر سند سے ابن ماجہ میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر شخص کے لئے ایک ٹھکانا جنت میں اور ایک دوزخ میں بنایا گیا ہے اب جو نافرمان لوگ اپنی بدنصیبی سے ہمیشہ کے لئے دوزخ میں جاویں گے اور ان کے جنت میں کے ٹھکانے لاوارث رہ جاویں گے ان لاوارث ٹھکانوں کا وارث اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کر دیگا اسی حدیث کی وراثت کا ذکر ان آیتوں میں ہے صحیح مسلم میں ابوسعید ؓ وابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے کہ جب بہشتی لوگ جنت میں داخل ہو چکیں گے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا کہ اے جنتیوں تمہارے واسطے یہ حکم ہے کہ تم جیتے رہو اور کبھی نہ مرو اور تندرست رہو کبھی بیمار نہ ہو جوان بنے رہو بوڑھے نہ ہو چین کرو کبھی رنجیدہ نہ ہو آواز سب جنتیوں کے کان میں پہنچے گی :۔
Ayahs 7:44–45(44 ۔ 45) ۔ جس وقت بہشتی بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو چکیں گے اور اپنی اپنی جگہ ٹھہر جاویں گے تو جنتی لوگ دوزخیوں کو حسرت دلانے کی غرض سے پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کا وعدہ سچا پایا جو اس نے ہم سے اپنے رب کا وعدہ سچاپایا جو اس نے ہم سے اپنے رسولوں کی معرفت کیا تھا تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچاپایا کہ تم اپنے اعمال کی سزا کو پہنچے یا نہیں اس وقت دوزخی سخت نادم وقائل ہو کر کہیں گے کہ ہاں ہم نے بھی اللہ کا وعدہ سچاپایا غرض کہ اس گفتگو کے بعد ایک پکارنے والا پکارے گا کہ لعنت خدا کی ان ظالموں پر جو خدا راہ سے لوگوں کو روکتے اور سیدھے راستے پر لوگوں کو چلنے نہیں دیتے اور اس میں کجی چاہتے تھے اور آخرت کا انکار کرتے حساب و کتاب کا کچھ خوف نہیں کرتے تھے اسی واسطے گناہ کرنے پر دلیر تھے جس کو آخرت کا یقین ہوتا ہے وہی گناہ کرنے سے ڈرتا ہے جانتا ہے کہ ذرہ ذرہ کا حساب ہوگا جس طرح جنت والے دوزخیوں سے دریافت کریں گے اسی طرح پیغمبر ﷺ نے بدر کے دن ان کافروں سے دریافت فرمایا جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے تھے چناچہ بخاری۔ ابن ابی شیبہ اور ابن مردو یہ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ قصہ روایت کیا ہے کہ بدر کے روز بدر کے کنویں پر جس میں کافروں کی نعشیں پڑی ہوئی تھیں پیغمبر ﷺ نے کھڑے ہو کر اس آیت شریف کو پڑھا ھل وجدتم ماوعدربکم حقا جس کا مطلب یہ ہے کہ پایا تم نے وعدہ پروردگار اپنے کا سچا “ اس وقت حضرت عمر ؓ نے تعجب سے عرض کیا کہ آپ ایسے لوگوں سے جو کہ مرگئے ہیں کلام کرتے ہیں آپ نے جواب دیا کہ یہ تم سے بھی زیادہ سنتے ہیں مگر جواب نہیں دے سکتے یہ روایت صحیح بخاری ومسلم میں انس ؓ بن مالک سے بھی آئی ہے اس سے مردوں کا سننا ثابت ہوتا ہے مگر نہ ہمیشہ بلکہ جب خدا چاہے ان کو سنوا دے اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ مردوں سے مرادیں مانگی جادیں
مرادوں کا دینا خاص اللہ تعالیٰ کا کام ہے اکثر اسی دھو کے میں آکر باوجود مسلمان ہونے کے قبر پرست بن گئے ہیں خدا تعالیٰ ایسے اعتقاد سے اپنی پناہ میں رکھے کیونکہ اگرچہ جس طرح اس حدیث میں مردوں کے سننے کا ذکر ہے اسی طرح براء بن عازب ؓ کی صحیح حدیث جو گذر چکی ہے اس میں بھی یہ ذکر ہے کہ ابھی مردہ ان لوگوں کی جوتیوں کی کھس کھس کی آواز سنتا ہی ہوتا ہے جو لوگ اس مردہ کو دفن کر کے اپنے گھروں کو الٹے پھرتے ہیں کہ منکرنکیر سوال و جواب کے لئے مردے کے پاس آجاتے ہیں لیکن اس خاص موقعہ پر مردوں کے سننے سے یہ بات کسی طرح ثابت نہیں ہوتی کہ یہ قبر پرست لوگ اللہ تعالیٰ اپنی مرادوں کا مانگنا چھوڑ کر بعضے مردوں سے جو اپنی مرادی مانگتے ہیں تو ان مردوں کو یہ قدرت بھی حاصل ہوگئی ہے کہ ان مراد مندوں کی مراد کو سن کر ان کی اس مراد کو پورا بھی کرسکتے ہیں بدر کے دن جن مقتولوں کا ذکر اوپر گذرا اسی ذکر کی مسندامام احمد اور صحیح مسلم میں انس بن مالک ؓ کی جو روایت ہے اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ سننتے تو ہیں مگر ان کو جواب دینے کی قدرت نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ قبر پرست لوگ مردوں میں جواب باصواب دینے کی قدرت کا اعتقاد دل میں رکھ کر جو ان مردوں سے اپنی مرادیں مانگتے ہیں یہ اس صحیح حدیث کے بالکل خلاف ہے علاوہ اس کے یہ بھی ہے کہ جب بہت سی آیتوں اور حدیثوں سے یہ بات باثت ہوچکی ہے کہ ہر طرح کی مراد کا پورا کرنا خاص اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور کسی کا اس میں کچھ دخل اور اختیار نہیں ہے تو پھر کسی زندہ یا مردہ میں اس طرح کے اختیار کا اعتقاد رکھنا مشرکوں کا شیوہ ہے مسلمانوں کا یہ شیوہ ہرگز نہیں ہے :۔
Ayahs 7:46–47(46 ۔ 47) ۔ مجاہد کا قول ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان میں اعراف ایک دیوار ہے جس میں دروازہ ہے حضرت ابن عباس ﷺ کا قول ہے کہ اعراف اونچی چیز کو کہتے ہیں دوزخ و جنت کے بیچ میں ایک دیوار ہے اس جگہ گنہگار لوگ روکے جاوینگے ضحاک کا بھی یہی قول ہے اور اکثر مفسرین اسی طرف گئے ہیں یہ تو گذر چکا کہ جنت اور دوزخ کے بیچ میں ایک بلند دیوار پہاڑ کی طرح کی ہے اس کا نام اعراف ہے جن لوگوں کی بدیاں اور نیکیاں برابر ہوں گی ان کا فیصلہ سب سے پیچھے قیامت کے دن ہوگا کیونکہ ان کی نیکیوں کا پلہ ایسا بھاری ہوگا کہ فورا ان کو جنت کا حکم ہوجاوے نہ بدیاں ایسی ہوں گی کہ دوزخی ٹھہر جاویں اس لئے زیادہ نیکیوں والے جنت میں اور زیادہ بدیوں والے دوزخ میں جب تک حساب کتاب کے بعد جاویں گے اس وقت تک ان لوگوں کو اعراف دیوار پر کھڑا کردیا جاویگا یہ وہاں سے جنتی اور دوزخی دونوں گروہ کے لوگوں کی جنت اور دوزخ میں جاتے ہوئے دیکھیں گے اور وہ باتیں کریں گے جن کا ذکر آیت میں ہے مفسرین نے اہل اعراف کی تفسیر میں کئی قول لکھے ہیں مگر صحیح قول یہی ہے جو بیان کیا گیا ہے کیونکہ امام المفسرین عبداللہ بن عباس ؓ عبداللہ بن مسعود ؓ ۔ حذیفہ بن الیمان ؓ ان تین جلیل القدر صحابیوں نے بالا تفاق آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ یعر فون کلابسیماھم۔ سیما کے معنے علامت کے ہیں۔ اہل جنت کے چہروں پر رونق اور اہل دوزخ کے چہروں پر آزردگی اور سیاہی جو ہوگی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اسی کو علامت فرمایا ہے۔ معتبر سند سے ترمذی اور صحیح ابن حبان میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا جن کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دئے جاویں گے ان کے چہروں پر ایک طرح کی رونق آجاوے گی اور جن کے نامئہ اعمال بائیں ہاتھ میں دئے جاویں گے ان کے چہروں پر ایک طرح کی سیاہی چھاجاویگی اس حدیث سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کہ وہ علامت چہروں کی رونق اور سیاہی ہوگی جس سے اہل اعراف جنتیوں اور دوزخیوں کی پہچان کرلیں گے کیونکہ دائیں ہاتھ کے نامہ اعمال والے جنتی ہوں گے اور بائیں ہاتھ کے نامہ اعمال والے دوزخی چناچہ اس کا ذکر تفصیل سے آوے گا :۔ اعراف والے جنت والوں کو پہچان کر سلام علیکم پکار کر کہیں گے اور ان کو جنت میں جانے کی خوش خبری دیں گے مگر ابھی خود جنت میں داخل نہ ہوں گے ہاں جنت میں داخل ہونے کے امیدوار ہوں گے اور جب اعراف والوں کی نگاہ دوزخیوں کی طرف پھرے گی تو ان کو پہچان کر یہ دعا مانگیں گے کہ اے پروردگار ہم کو اس قوم ظالم کے ساتھ نہ کیجیو اوپر گذر چکا ہے کہ اعراف والے بہشتیوں کو ان کہ چہروں کی سفیدی سے اور درزخیوں کو ان کے چہرہ کی سیاہی سے پہچان لیں گے ضحاک نے بھی یہ ہی کہا ہے۔ غرض اہل اعراف دوزخیوں کو چہرہ کی سیاہی سے پہچان کر پروردگار سے پناہ مانگیں گے کہ ہم کو ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا اوپر گذر چکا ہے کہ اعراف والے بہشتیوں کو ان کے چہروں کی سفیدی سے اور دوزخیوں کو ان کے چہرہ کی سیاہی سے پہچان لیں گے ضحاک نے بھی یہ ہی کہا ہے۔ غرض اہل اعراف دوزخیوں کو چہرہ کی سیاہی سے پہچان کر پروردگار سے پناہ مانگیں گے کہ ہم کو ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا اور جنت والوں کو سلام کریں گے مجاہد وضحاک وسدی وحسن وابن زید یہ بھی کہتے ہیں کہ آخر کو اہل اعراف بھی جنت میں جاویں گے
Ayahs 7:48–49(48 ۔ 49) ۔ اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اعراف والے بڑے بڑے مشرک اور کافروں سے کہ جن کو پہچانتے ہونگے جھڑکی کے طور پر کہیں گے کہ تمہارا وہ مال جو تم نے دنیا میں جمع کیا تھا یا تمہاری کثرت اور جمعیت اور تکبر آج تمہارے کچھ کام نہ آیا آخر عذاب میں گرفتار ہوئے پھر ان کو حسرت دلانے کی غرض سے غریب مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے حق میں تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان پر خدا کی رحمت نہ ہوگی اور نہ یہ جنت میں جاویں گے لو اب یہی لوگ تمہارے سامنے جنت میں جاتے ہیں پھر اہل اعراف سے کہا جاویگا کہ تم بھی جنت میں داخل ہو تم کو کچھ خوف و غم نہیں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کافروں سے فرماویگا کہ تم جن غریبوں کو دنیا میں جنت سے محروم بتاتے تھے لو اب یہی لوگ بہشت میں گئے ان کو نہ کچھ خوف ہے نہ غم سورة الانعام میں مالدار مشرکین مکہ کا قول اھؤلاء من اللہ علیھم من بیننا (6: 53) گذر چکا ہے اور سورة احقاف میں آویگا وقال الذین کفر واللذین امنوا لوکان خیراما سبقونا الیہ (46: 11) غرض ان مالدار مشرکوں کے سب قولوں کا حاصل یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مالدار اور مسلمانوں کو تنگ دست دیکھ کر یہ کہتے تھے کہ دنیا میں جس طرح ہم لوگ ان غریب مسلمانوں کی بہ نسبت اچھی حالت میں ہیں اسی طرح اگر اسلام کوئی ایسی چیز ہوتی کہ جس میں عقبے کی کچھ بہتری رکھی جاتی تو ان غریبوں سے پہلے ہم اسلام میں داخل ہوتے کیونکہ عزت کی چیز عزت داروں کو شایان ہے ان مالدرا مشرکوں کی اسی طرح کی باتوں کے جواب میں ان سے قیامت کے دن کہا جاویگا کہ جن غریب مسلمانوں کو تم لوگ کم عزت اور جنت کی شایان نہیں سمجھتے تھے آج وہی جنت کے قابل ٹھہرے ہیں صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے بڑے بڑے نافرمان مالدار لوگ قیامت کے دن جب دوزخ میں ڈالے جاویں گے تو دوزخ کے پہلے جھونکے کے ساتھ فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کے جس مالداری نے تم کو عقبے سے غافل رکھا دوزخ کے عذاب کے آگے تم کو دنیا کی وہ مالداری کچھ یاد ہے تو وہ لوگ قسم کھا کر کہیں گے کہ اس عذاب کے آگے ہم کو دنیا کی وہ مالداری ذرا بھی یاد نہیں اسی طرح اہل جنت کو جنت کی نعمتوں کی آگے دنیا کی تنگ دستی کچھ یاد نہ آویگی یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے
Ayahs 7:50–51(50 ۔ 51) ۔ دوزخ والے جنت والے سے بھیک کی طرح جنت کی نعمتیں مانگے گیں تو جنتی صاف جواب دیں گے کہ جنت کے یہ دونوں چیزیں خدا تعالیٰ نے تمہارے اوپر حرام کردی ہیں اس لئے تم کو کوئی چیز نہیں مل سکتی تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے کسی نے دریافت کیا کہ بہتر صدقہ کونسا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے جواب دیا پیغمبر ﷺ نے فرمایا ہے کہ بہتر صدقہ پانی ہے کہا پھر تجھ کو معلوم نہیں کہ دوزخی لوگ بہشتیوں سے فریاد کر کے کہیں گے کہ تھوڑا پانی اور تم کو جو اللہ نے رزق دیا ہے اس میں سے کچھ ہم کو بھی دے دو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس آیت میں طعام و شراب سے جنت کا کھانا پینا مقصود ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ مانگنے والے پانی اور کھانے کے وہ لوگ ہوں گے جن کو دنیا میں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا تو وہ ہنستے اور ٹھٹھا کرتے تھے یا جن کو شیطان نے ان کے برے عمل ان کو اچھے دکھلائے تھے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس سائل کے جواب میں مبہم طور پر ایک حدیث کا حوالہ جو دیا ہے یہ حدیث سعد بن عبادہ ؓ کے قصے کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ کی ماں کا انتقال ہوگیا تھا انہوں نے اپنی ماں کے نام پر کچھ خیرات کے دینے کا مسئلہ حضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت ﷺ نے عام طور پر مردوں کے نام پر خیرات دینے کا حکم دیا سعد بن عبادہ ؓ نے پھر پوچھا کہ حضرت افضل خیرات کیا ہے آپ نے فرمایا لوگوں کے پانی پینے کا کوئی ذریعہ قائم کردیا جائے سعد بن عبادہ ؓ نے اس کے بعد ایک کنواں کھودوا دیا یہ حدیث خود سعید بن عبادہ ؓ کی روایت سے ابوداؤدو نسائی ابن ماجہ ‘ صحیح ابن خزیمہ صحیح ابن حبان اور مستدرج حاکم میں ہے اگرچہ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے لیکن اس کی سند میں اعتراض ہے کہ اس کو سعید بن مسیب اور حسن بصر نے سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا ہے اگر سعید بن مسیب اور حسن بصری دونوں کو سعد بن عبادہ ؓ سے ملاقات اور روایت کا موقعہ نہیں ملاہاں اوسط طبرانی میں یہ حدیث انس بن مالک ؓ کی روایت سے بھی ہے جس کی سند اچھی ہے اس لئے ایک سند کو دوسری سند سے تقویت ہوجاتی ہے۔ معتبر سند سے صحیح ابن حبان میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی روایت ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن پانسو برس کے فاصلہ تک جنت کے میووں کی خوشبو آوے گی مگر جن لوگوں کو جنت میں داخل کرنا اللہ تعالیٰ کو منطور نہیں ہے ان کی ناک میں خوشبو نہیں آوے گی۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا جنت میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے ان کو جنت کے کھانے پانی کا میسر آنا تو درکنار بلکہ ایسے لوگوں کی ناک میں بھی جنت کے میووں کی خوشبو نہیں آسکتی صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان منکر قیامت لوگوں کو دنیا کی اپنی طرح طرح کی نعمتیں یاد دلاوے گا اور جب یہ لوگ ان نعمتوں کا اقرار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرماویگا کہ ان نعمتوں کی شکر گذراری میں تم لوگوں نے آج کے دن کی سرخرئی کے لئے کچھ میری یاد بھی کی تھی وہ لوگ کہویں گے کہ نہیں ہیں پر اللہ تعالیٰ فرماویگا جس طرح دنیا میں تم لوگوں نے مجھ کو بھلا دیا اسی طرح آج میں بھی بھولے بسروں کی طرح تم لوگوں کو اپنی نظر رحمت سے دور ڈال دیتا ہوں قرآن اور عقبے کے جن منکر لوگوں کا آخرت میں ذکر ہے قیامت کے دن ان لوگوں کا جو کچھ انجام ہوگا اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے :۔
Ayahs 7:52–53(52 ۔ 53) ۔ اوپر منکر قرآن لوگوں کا ذکر فرما کر اس آیت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مفصل اور مشرح کتاب ان کے پاس بھیج دی تاکہ ان مشرک اور کافروں کو کوئی عذر کر نیکا موقعہ نہ رہے اور ایمان والوں کے لئے یہ کتاب سراسر ہدایت اور رحمت ہوجاوے ہیں کتاب میں جو وعدہ عذاب کا ہے کیا منکر اس کے آنے کی راہ دیکھ رہے ہیں یہ قول مجاہد وغیرہ کا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ یوم تاویل سے قیامت کا دن مراد ہے اس روز کافر چاہیں گے کہ کوئی ہماری سفارش کرے یا دنیا میں پھرجانا ہم کو نصیب ہو تو اچھے کام کریں غرض کہ اس دن اپنا نقصان ان کو معلوم ہوگا اور سب جھوٹ ان کا جو دنیا میں بناتے تھے بیکار ہوجاویگا فصلناہ کی جگہ بعضے سلف نے فقلنا پڑھا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ سب آسمانی کتابوں پر اس کتاب کو بزرگی ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور ان کے شاگرد مجاہد کے قول میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ دنیا میں جن قوموں پر عذاب آیا ان کے حق میں وہ عذاب کا دن اور باقی کے حق میں قیامت کا دن دونوں عذاب کے ظہور کے وقت ہیں صحیح بخاری کے حوالہ سے مغیرہ ؓ بن شعیبہ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا صاحب عذر شخص کا عذر سننا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اس واسطے اس نے آسمانی کتابیں نازل فرمائیں رسول بھیجے تاکہ کسی کو انجانی کا عذر باقی نہ رہے صحیح بخاری مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث بھی گذر چکی جس میں حضرت ﷺ نے قرآن شریف کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے اسی طرح ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے ابوبکرہ ؓ کی صحیح حدیث گذر چکی ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا نیک شخص وہ ہے جس نے بڑی عمر پائی اور نیک کاموں میں لگا رہا اور بد وہ شخص ہے جس نے بڑی عمر پائی اور برے کاموں میں لگارہا ان حدیثوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اچھے لوگوں کو قرآن کی نصیحتوں سے ایسا ہی فائدہ ہے جیسا اچھی زمین کو مینہ کے پانی سے فائدہ پہنچاتا ہے اور برے لوگ قرآن شریف کی نصیحت سے ایسے ہی بےبہرہ ہیں جس طرح بری زمین مینہ کے پانی سے بےبہرہ رہتی ہے لیکن قرآن شریف میں ہر طرح کی نصیحت ایسی کردی گئی ہے کہ اس قدر نصیحت اور اسی نصیحت کے موافق عمل کرنے کی عمر پانے کے بعد کسی کو انجانی کے عذر کا موقعہ نہیں مل سکتا اس لئے دنیایا عقبے کے عذاب کے وقت یہ نافرمان لوگ اپنی نافرمانی پر بہت پچھتاویں گے اور عذاب الہی سے بچانے والا کوئی سفارشی ڈھونڈیں گے مگر سزا کے وقت کا مجرم کا پچھتانا نہ کچھ سود مند ہوسکتا ہے نہ بغاوت کے جرم کا کوئی سفارشی پیدا ہوسکتا ہے جس کے سبب سے نتجیہ یہی ہوگا کہ دنیایا عقبے کے عذاب کے وقت یہ لوگ اپنی مکڑائی کی باتیں تو سب بھول جاویں گے اور ان باتوں کے سبب سے بہت بڑا وبال ان کی جانوں پر پڑجاوے گا :۔
Ayah 7:54صحیح مسلم مسند امام احمد بن حنبل اور نسائی اس آیت کے مخالف جو ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت نے ابوہریرہ ؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ زمین اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے روز پیدا کی اور اتوار کے روز پہاڑ پیدا کئے اور منگل کے روز جو چیزیں دنیا میں ناگوار معلوم ہوتی ہیں مثلا موذی جانور اور زہریہ چیزیں پیدا کیں اور نور بدھ کے دن پیدا کیا اور چوپائے جمعرات کے دن اور جمعہ کے روز حضرت آدم ( علیہ السلام) پیدا کئے گئے ہیں حدیث میں امام بخاری اور ائمہ حدیث نے یہ کلام کیا ہے کہ آیت کے مخالف سات روز جملہ چیزوں کی پیدائش کی اس حدیث کے موافق ٹھہرتے ہیں حالانکہ آیت کے موافق چھ روز میں سب کچھ پیدا ہوا ہے اور بحث کے بعد یہ بات قرار پائی ہے کہ یہ حدیث مرفوع نہیں ہے کعب بن احبار کا موقوف قول ہے بیہقی تفسیرابن منذر ابن جیریر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت بن مسعود ؓ اور صحابہ سے پیدائش عالم کی روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ سب سے پہلے پانی پیدا ہو کر عرش الٰہی پانی پر تھا جب اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان اور مخلوقات کا پیدا کرنا منظور ہوا تو چھ روز میں اتوار سے لے کر جمعہ تک سب کچھ پیدا کیا زیادہ تفصیل اس کی سورة حم سجدہ میں آوے گی بعضے مفسروں نے یہ جو اعتراض کیا ہے کہ آیت ثُمَّ اسْتَوٰی الِیَ السَّمَآئِ وَھِیَ دُخَانٌ (41: 11) سے زمین کے پہلے اور آسمان کا پیچھے پیدا ہونا معلوم ہوتا ہے اور آیت وَاْلَارْضَ بَعْدَ ذَلِکَ دَحَاھَا (80: 30) سے آسمان کا پیدا ہونا پہلے اور زمین کا بعد معلوم ہوتا ہے اس کا جواب وہی ہے جو کتاب التفسیر بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول سے کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پہلے تو پیدا کیا ہے لیکن آسمان کے بعد اس کو بچھایا ہے پہلے پانی کو جماکر ایک ٹیلہ پیدا کیا تھا اس لئے جن آیتوں میں آسمان سے پہلے زمین کا ذکر ہے وہ زمین کے ٹیلہ کی پیدائش ہے اور جن آیتوں میں آسمان کے بعد زمین کا ذکر ہے وہاں اس ٹیلہ کا پھیلاؤ مقصود ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اس جواب پر تفسیر جامع البارن وغیرہ میں یہ اعتراض جو کیا ہے کہ اکثر مفسرین کی قرارد اد حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے اس قول کے مخالف ہے کیونکہ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ امر صحیح قرار پایا ہے کر پھر دو روز میں آسمان پیدا ہوا ہے اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ مفسرین کی اس قرار داد کی بنا بھی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے دوسرے قول پر ہے جس کو عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں عکرمہ سے روایت کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ زمین اتوار اور پیر کے روز پیدا کی گئی اور منگل اور بدھ کے روز اس کا پھیلاؤ اور پہاڑ اور دریا اور اس میں پیداوار کی قوت یہ سب کچھ ہوا اور جمعرات اور جمعہ کو آسمان پیدا ہوا لیکن اس روایت میں ایک شخص ابی سعید بقال ضعیف ہے اس لئے یہ ضعیف روایت بخاری کی روایت کے مقابلہ میں مقبول نہیں ہوسکتی اور سورة حدید میں آسمان کی پیدائش کے ذکر کے بعد وَھُوَ الَّذِیْ ھَدَّالْاَرْضَ (13: 3) جو فرمایا ہے اس سے بھی اس بخاری کی روایت کی بڑی تائید ہوتی ہے کیونکہ اس آیت میں صاف ارشاد ہے کہ زمین کا پھیلاؤ آسمان کی پیدائش کے بعد ہے غرض متقدمین اور متاخرین مفسروں میں ایک بڑا اختلاف ایک عرصہ دراز سے جو اس باب میں تھا وہ اس تفسیر کے بعد کچھ باقی نہیں رہتا۔ دن سورج کے نکلنے سے غروب ہونے تک کو کہتے ہیں اب یہ تو ظاہر ہے کہ آسمان کے پیدا ہونے سے پہلے نہ سورج تھا نہ اس کی گردش تھی۔ اہل ہئیت اگرچہ اب بھی سورج کی ذاتی گردش کے قائل نہیں ہیں بلکہ وہ سورج کی گردش کو آسمان کی گردش کے تابع کہتے ہیں لیکن سورة یسین میں آویگا کہ ہر ایک ستارہ کو گردش ہے حاصل کلام یہ ہے کہ آسمان کو پیدا ہونے سے پہلے نہ سورج تھا نہ اس کی گردش اس لئے حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان سورج اور سورج کی گردش کے پیدا ہوجانے کے بعد چھ دن کی مقدار جس قدر ہوتی ہے اس قدر مدت میں اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ایسی بڑی ہے کہ ایک دم میں وہ جو چاہے سو کردے لیکن سہولت سے چھ دن میں دنیا کو پیدا کر کے بندوں کو یہ سکھلایا گیا ہے کہ وہ کسی کام میں جلدی نہ کریں بلکہ ہر کام سہولت سے غور کر کے کیا کریں صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو ہر کام میں سہولت بہت پسند ہے۔ اسی طرح معتبر سند سے مسند ابویعلی میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا سہولت سے ہر کام کرنا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور ہر کام میں جلدی کرنا شیطان کے بہکانے سے ہے سہولت سے چھ دن میں دنیا کی پیدا ہونے کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں۔ اگرچہ مجاہد کے قول کے موافق یہ چھ دن ایسے ہیں کہ جن میں ہر ایک دن ہزار برس کا ہے لیکن جن مفسروں کا قول دنیا کے معمولی چھ دن کا ہے وہ مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ آیت میں خطاب اہل دنیا سے ہے سورة آل عمران میں گذر چکا ہے کہ صفات الٰہی کی آیتیں متشابہ آیتوں میں ہیں اور صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں حضرت ﷺ نے متشابہ آیتوں کی تاویل سے منع فرمایا ہے اس واسطے استوی علی العرش کے معنے یہی ہیں کہ جس طرح سے عرش پر ہونا اللہ تعالیٰ کی شان کے مناسب ہے اسی طرح بلا مشابہت دنیا کے بادشاہوں کے اللہ تعالیٰ جل شانہ عرش پر ہے جس کی تفصیلی کیفیت اللہ کو ہی معلوم ہے :۔
بعد ذکر پیدائش آسمان و زمین کے اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رات دن کو اور دن رات کو چھپا لیتا ہے ہر ایک دوسرے کی طلب میں سرگرم اور تیز رو ہے جہاں ایک دن یا رات گئی دوسرا اسی وقت بہت جلدی سے موجود ہوگیا سورج اور چاند اور تارے سب اللہ کے حکم کے تابع ہیں اس واسطے فرمایا کہ اسی کا پیدا کیا ہوا سب ملک اور اسی کا حکم اور تصرف سب جگہ ہے سوائے اس کے نہ کوئی مالک ہے نہ اختیار والا وہ بڑی برکت والا ہے اس آیت میں ان لوگوں کے قول کو ضعیف ٹھہرایا گیا ہے جو چاند سورج اور تاروں کی گردش میں مستقل تاثیرات کے قائل ہیں کیونکہ سوائے خدا کے اس جہان کا نہ کوئی پیدا کرنے والا ہے نہ تدبیر کرنے والا اس کے سوا کسی کا حکم نہیں ہے وہ جو چاہے کرے اور حکم دے کسی کی مجال نہیں کہ کچھ دم مار سکے غرض ہر چیز میں اسی کے نام کی برکت ہے جب اس کا نام نامی ایسی برکت والا ہے تو آگے کی آیت میں فرمایا کہ اس کی درگاہ میں ہر طرح کی التجا پیش کرنی چاہئے صحیح بخاری میں خالد جہنی ؓ اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ مینہ برسنے کے بعد جن لوگوں کا یہ اعتقاد ہے کہ ستاروں کی مستقل تاثیر سے مینہ برسا ہے وہ اللہ کی قدرت کے منکر اور اللہ رحمت کے ناشکر گذرا ہیں یہ حدیثیں آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہیں اور حدیثوں کو ملا کر مطلب یہ ہوا جو لوگ زحل۔ مشتری۔ مریخ۔ آفتاب۔ زہرہ۔ عطارد۔ چاند ان سات ستاروں کا دخل دنیا کے انتظام میں مانتے ہیں وہ مشرک ہیں اور جو لوگ اللہ کی قدرت کا دل میں تو اعتقاد رکھتے ہیں مگر اپنے تجربہ کے پابند ہو کر زبانی ستاروں کو بھی مینہ برسنے کا سبب قرار دیتے ہیں وہ اللہ کی خالص رحمت کے ناشکر گذار ہیں رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اللہ کی ایک یہ قدرت بھی نظر آتی ہے کہ کبھی رات بڑی ہوجاتی ہے اور کبھی دن بڑا ہوجاتا ہے کبھی رات دن برابر ہوجاتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سورج کا طلوع غروب سورج کے اختیار میں نہیں ہے ورنہ وہ ایک وتیرہ پر رہتا پھر ایسے متغیر اور بےاختیار چیز کو دنیا کے انتظام میں کیا دخل ہوسکتا ہے۔ یہی حال باقی کے چھ ستاروں کا ہے کہ ان کا طلوع و غروب تجربہ کی رو سے کچھ چاہتا ہے اور اللہ کی قدرت سے دنیا کا انتظام کچھ اور ہی نظر آتا ہے مثلا لوگوں کے تجربہ کے موافق مینہ برسنے کے ستارے اپنی جلاہ پر موجود ہوتے ہیں اور دنیا میں قحط پڑھ جاتا ہے نجومی جھوٹے پڑجاتے ہیں۔ خلق کے معنے یہاں مخلوقات کے ہیں اور امر کے معنے ان انتظامی احکام کے ہیں جو دنیا کی مخلوقات کے حق میں رات دن بارگاہ الٰہی سے صادر ہوتے رہتے ہیں یہ وہی احکام ہیں جو دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے علم الٰہی کے موافق لوح محفوظ میں لکھے گئے ہیں چناچہ اس باب میں صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ کی حدیث گذر چکی ہے 1 ؎ ان احکام میں سے ہر شب قدر کو سال بھر کے احکام فرشتوں کو تعمیل کرنے کے لئے دئے جاتے ہیں جس کا ذکر تفصیل سے سورة دخان میں آویگا :۔
1 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 335 باب حجاج آدم وموسیٰ