7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 7:55–56

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

لوگو ! اپنے رب سے عاجزی اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں بناتا۔

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنے اور خدا سے خوف کھاتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔

(55 ۔ 56) ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دعا مانگنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ گڑ گڑا کر چپکے سے دعا مانگو تاکہ ریا نہ ہو وے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ خفیہ کے معنے پوشیدہ کے ہیں ابن جریر نے تضرع کے معنے گرگڑانے کے بیان کئے ہیں۔ دعا کے اندر چلانے اور چیخنے سے منع کیا گیا ہے صحیح بخاری اور مسلم میں حدیث ہے کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہا جبکہ لوگوں نے دعا میں آوازیں بلند کیں تو پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے ہو جو جتلاتے ہو بلکہ جس کو پکارتے ہو وہ سنتا بھی ہے اور قریب ہے پھر کیوں نہیں چپکے سے دعا مانگتے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ دعا میں حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا دعا میں حد سے بڑھنا یہ کہ پیغمبروں کے درجہ کا سوال نہ کرے اور بڑی بات منہ سے نہ نکالے جہاں تک ہو سکے دعا جامع ومختصر ہو جیسے (ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ (2: 26) قرآن میں ہے معتبر سند سے مسند امام احمد ابن ماجہ وابوداود ‘ میں روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل ؓ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے سنا کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت کے داہنے طرف سعید محل مانگتا ہوں عبداللہ نے یہ دعا سن کر اپنے بیٹے سے کہا کہ اے بیٹے طلب کر خدا سے بہشت اور دوزخ سے پناہ چاہ کیونکہ میں نے پیغمبر سے سنا فرماتے تھے کہ لوگ دعا میں حد سے بڑھ جاوینگے پھر خدا تعالیٰ نے اصلاح کے بعد زمین میں فساد کرنے سے منع فرمایا مطلب یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے کتابوں اور رسولوں کو بھیج کر زمین کو سنوار دیا تو اب اس زمین کا بگاڑنا کفر اور شرک کی رسمیں اس میں پھیلانی اور قتل و زنا وغیرہ کا پھیلانا قطعی حرام ہے زمین کے اصلاح و فساد سے مطلب زمین پر رہنے والوں کی اصلاح و فساد ہے۔ اس آیت میں یہ بھی خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ پکارو اس کو ڈر سے اور لالچ سے دعا کرو مطلب یہ ہے کہ دعا کرنے کے وقت جس دعا کرنے والے میں حالت خوف اور امید کی ہوگی وہ اپنے مطلب میں کامیاب ہوگا عذاب سے ڈر کر اور ثواب کا امیدوار ہو کر دعا مانگنی چاہئے پھر فرمایا جو اس طریقہ اور آداب سے خلوص کے ساتھ خدا سے دعا مانگتے ہیں وہ نیکو کار ہیں اور اللہ کی رحمت ان نیکو کاروں کے قریب ہے اللہ تعالیٰ کو بندہ کی عاجزی بہت پسند اور بندہ کا تکبرنا پسند ہے۔ عبادت اور دعا دونوں میں بندہ کی عاجزی پائی جاتی ہے اسی واسطے شریعت میں عبادت اور دعا دونوں کی تاکید آئی ہے۔ دعا کی قبولیت کی بڑی شرط یہ ہے کہ آدمی کا کھانا کپڑا حلال کمائی کا ہو چناچہ مسندامام احمد صحیح مسلم اور ترمذی کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا بہت سے لوگ گڑ گڑا کر دعا مانگتے ہیں لیکن انکا کھانا کپڑا حلال کی کمائی کا نہیں ہوتا اس لئے ان کی دعا کا قبول ہونا تو درکنار ان کی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی دعا کے قبول ہونے کی باقی تشریح سورة بقر میں گذر چکی ہیں اور معتبر سند سے مسند امام احمد مستدرک حاکم مسند ابویعلی وغیرہ میں جو روایتیں چند صحابہ سے ہیں ان کا حاصل بھی گذر چکی ہیں کہ شرائط کے موافق جو دعا کی جاوے یا تو فورا وہ قبول ہوجاتی ہے اور اگر مصلحت الٰہی میں وہ دعا اس شخص کے حق میں فائدہ مند نہیں تو کوئی برائی اس شخص سے ٹل جاتی ہے اور آخرت میں اس شخص کے لئے ایک اجر اس دعا کا مقرر ہوجاتا ہے۔
Ayahs 7:57–58

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت یعنی مینہ سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھالاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی سی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینہ برساتے ہیں پھر مینہ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زمین سے زندہ کر کے باہر نکالیں گے یہ آیات اس لئے بیان کی جاتی ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

جو زمین پاکیزہ ہے اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے نفیس ہی نکلتا ہے۔ اور جو خراب ہے اس میں سے جو کچھ نکلتا ہے ناقص ہوتا ہے۔ اس طرح ہم آیتوں کو شکر گزاروں کیلئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔

(57 ۔ 58) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریف میں اپنی قدرت کو بیان فرمایا کہ جس طرح ہم دنیا میں تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوائیں چلاتے ہیں اور پھر مینہ برساتے ہیں اور اس سے ہر قسم کا سبزہ نکالتے اسی طرح ہم قیامت کے دن مردوں کو قبروں سے نکالیں گے اس واسطے فرمایا شاید تم سوچو دھیان کرو مینہ کی مثال سے ایک یہ مطلب بھی نکل سکتا ہے کہ جاہل لوگوں میں آسمانی کتاب اور رسولوں کی معرفت علم وہدایت بھیجی جس کے سبب سے اچھے استعداد والے ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچ گئے جسے عمدہ زمین میں اچھی پیدا وار ہوتی ہے اور بری استعداد والے لوگ مثل بری زمین کے ہیں کہ جو کچھ اس میں سے نکلے وہ ناقص ہوتا ہے مجاہد وغیرہ نے کہا کہ بری زمین جیسے کوڑا ڈالنے کی زمین صحیح بخاری اور مسلم ونسائی میں ابوموسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ پیغمبر صلعم نے فرمایا مثال اس علم وہدایت کی جو خدا نے مجھ کو دے کر بھیجا ہے مانند مینہ کے ہے پھر جو زمین اچھی تھی اس نے اس پانی کو لے کر بہت اچھا سبزہ اگایا اور جو زمین نشیب میں تھی اس نے اس پانی کو روک رکھا جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پانی لینے کا فائدہ پہنچایا کہ انہوں نے اس پانی کو خود بھی پیا اور لوگوں کو بھی پلایا اور ایک قطعہ زمین کا چٹیل تھا کہ جس نے نہ پانی کو روکا اور نہ کچھ سبز اگایا سو پہلی مثال اور دوسری مثال اس شخص کی ہے جس نے اس علم و ہدایت سے جو خدا نے مجھے دیکر بھیجا آپ بھی فائدہ اٹھایا اور لوگوں کو بھی نفع پہنچایا اور دوسری مثال اس شخص کی کہ جس نے میری لائی ہوئی ہدایت کو قبول نہ کیا اور نہ اس سے خود فائدہ اٹھایا اور نہ اور کو نفع دیا مانند اس زمین کے ہے کہ جس نے نہ خود پانی لے کر سبزہ اگایا اور نہ اس پانی کو روکا و جمع کیا تاکہ اور لوگ اس کو پیتے پلاتے یہ حدیث مختصر طور پر کئی جگہ گزر چکی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اس حدیث میں تین قسم کی زمین کا ذکر فرمایا اور مینہ کا ایک ہی پانی تینوں قسم کی زمین پر برستا ہے مگر اثر ہر ایک زمین کا الگ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو اس آیت میں مثال شہر پاکیزہ اور ناپاک کی فرمائی ہے یہ واسطے مومن اور کافر کے بیان فرمائی ہے اور ایسا ہی مجاہد کا قول ہے بہر حال اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ آیتیں پھیر پھار کر کے واسطے اس قوم کے جو اس کا شکر کرتے ہیں بیان فرمائیں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا پہلے صور سے جب تمام دنیا اجڑ جاوے گی تو پھر دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسیگا جس سے سب مردوں کے جسم تیار ہوجاویں گے اور پھر ان میں روحیں پھونک دی جاویگی اور حشر قائم ہوجاویگا۔ قرآن شریف میں جگہ جگہ مینہ کے پانی سے زمین کے پیداوار کے ساتھ حشر کا ذکر جو آیا ہے اس کے حاصل یہ ہے کہ گہرے ابر اور تیز ہوا کو دیکھ کر حضرت ﷺ کا چہرہ متغیر ہوجایا کرتا تھا اور آپ نہایت خوف زدہ ہو کر فرمایا کرتے تھے کہ پچھلی قومیں اسی گہرے ابر اور تیز ہوا کے عذاب سے ہلاک ہوگئی ہیں اس واسطے گہرے ابر اور تیز ہوا کو دیکھ کر میرے دل پر ایک طرح کا خوف چھا جاتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اب بھی امت کے لوگوں کو گہرے ابر اور تیز ہوا کیوقت اس حالت کی پابندی مستحب ہے اگرچہ حکما کا قول تو یہ ہے کہ دنیا کے دریاؤں کے بخارات اوپر چڑہتے ہیں اور ہوا کی ٹھنڈک سے جو بخارات زیادہ کثیف ہوجاتے ہیں انکا نام بادل ہے اور جو کم کثیف ہونے کے سبب سے زمین پر آن پڑتے ہیں ان کا نام مینہ ہے لیکن شرع میں جو مینہ کا ذکر آیا ہے اس سے یہ قول ضعیف معلوم ہوتا ہے کیونکہ مثلا حضرت نوح کے طوفان کا قصہ جو سورة القمر میں آویگا اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ففتحنا ابواب السماء بماء منہمہ جس کا مطلب یہ ہے کہ طوفان کے وقت اس کثرت سے اللہ تعالیٰ کو مینہ برسانا منظور تھا کہ زمین پر کثرت سے پانی آنے کے لئے اس وقت آسمان کے دروازے کھول دئے گئے تھے تاکہ آسمان پر کے دریاؤں کا بےانتہا پانی زمین پر آجاوے۔ اب اس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ مینہ کے برسنے میں دنیا کے دریاؤں کے انجرات کا کچھ دخل نہیں ہے بلکہ مینہ کا پانی آسمان سے آتا ہے معمولی مینہ کے وقت معمولی طور پر آسمان کے دریاؤں کا پانی ہوا کہ ذریعہ سے بارشوں میں آتا ہے اور طوفان کے وقت غیر معمولی طور پر زیادہ پانی زمین پر آنے کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئے گئے تھے مسند امام احمد صحیح مسلم ابوداؤد میں انس ؓ بن مالک کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مینہ کا پانی حضرت ﷺ نے اپنے بدن پر برکت کے طور پر ملا اور فرمایا یہ پانی ابھی اللہ تعالیٰ کے پاس سے آیا ہے اس حدیث سے بھی حکما کے قول کا ضغیف ہونا پایا جاتا ہے کیونکہ زمین کے انجرات سے اگر مینہ کا پانی بن جاتا تو اللہ کے رسول اس کو اتنا متبرک کیوں گنتے اور یہ کیوں فرماتے کہ یہ پانی ابھی اللہ تعالیٰ کے پاس سے آیا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ کی معراج کی بڑی حدیث ہی جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا سدرۃ المن تھے کے پاس جو دریا ہے اس میں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں نیل اور فرات بھی اس میں سے نکلے ہیں اس حدیث سے آسمان پر دریا کا ہونا ثابت ہوتا ہے :۔
Ayahs 7:59–64

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ تو انہوں نے اس کو کہا اے میری برادری کے لوگوں خدا کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا بہت ہی ڈر ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے قوم ! مجھ میں کسی قسم کی کوئی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں۔ اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بیخبر ہو۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے۔ اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور ان کیساتھ جو کشتی میں سوار تھے انکو بچالیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کردیا۔ کچھ شک نہیں وہ اندھے لوگ تھے۔

(59 ۔ 64) ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت شعیب ( علیہ السلام) تک چند صاحب شریعت انبیاء کے قصے ان رکوعوں میں آنحضرت کی تسکین اور تشفی کے ارادہ سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں تاکہ آپ کو یہ اطمینان ہوجاوے کہ سرکش قوموں پر انبیاء کے جھٹلانے کا ہمیشہ سے جس طرح وبال پڑا ہے اگر اہل مکہ ایمان نہ لاویں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اہل مکہ میں اکثر سرکش لوگ بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور آپ نے ان کی لاشوں پر ایک ایک کا نام لے کر فرمایا کہ خدا کے وعدے کو تم نے دیکھ لیا اور بقیہ اہل مکہ فتح مکہ پر اسلام لے آئے اگر قضا وقدر میں ان کا ایمان لانا نہ ٹھہرا ہوتا تو پچھلی امتوں کی طرح ضرور سب اہل مکہ ہلاک ہوجاتے سوا اس تشفی کے ان قصوں میں آنحضرت کی نبوت کی بھی دلیل ہے کیونکہ ان پڑھ شخص بغیر تائید غیبی کے اس طرح سینکڑوں برس کا تاریخی حال ممکن نہیں کہ بیان کرچکے پھر تاریخی حال بھی ایسا کہ اس تاریخی حال سے آئندہ کا نتیجہ بھی جو بیان کیا گیا وہی واقعہ ہوا بھلا یہ غیب دانی بغیر تعلیم غیب دان حقیقی کے کس طرح حاصل ہوسکتی ہے حضرت نوح ( علیہ السلام) کے قصہ میں امام بخاری نے وہ شفاعت کی حدیث ذکر کی ہے جس میں لوگوں کا سب انبیاء کے پاس شفاعت کے لئے جانے اور ہر ایک سے شفاعت کی درخواست کا تذکرہ ہے حضرت نوح ( علیہ السلام) کے اوصاف میں یہ تذکرہ جو آیا ہے کہ تم زمین پر پہلے نبی ہو اس پر بعضے علماء نے یہ اعتراض کیا ہے کہ پہلے نبی حضرت آدم ( علیہ السلام) تھے پھر حضرت نوح ( علیہ السلام) کو پہلا نبی اس حدیث میں کس مطلب سے کہا گیا ہے جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ بت پرستی اور شرک پہلے پہل حضرت نوح ( علیہ السلام) کی امت میں پھیلا ہے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کے مابین دس عہد جو گذرے ہیں وہ مسلمان لوگ تھے ان پر جتنے نبی آئے کچھ عبادت کے طریقہ اور نصیحت سکھاتے تھے توحید کی تعلیم اور شرک کا مٹانا حضرت نوح ( علیہ السلام) کی نبوت سے شروع ہوا ہے اس واسطے ان کو پہلا نبی اللہ تعالیٰ نے آیت شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الَدِیَنَ مَاوَصَّی بہٖ نَوْحًا (42: 13) میں آنحضرت ﷺ نے اس حدیث میں قرار دیا ہے حضرت نوح ( علیہ السلام) حضرت ادریس ( علیہ السلام) کے پر پوتے ہیں حضرت نوح ( علیہ السلام) کی پیدائش اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کی وفات میں ایک سوچھبیس 126 برس کا فاصلہ ہے طوفان کے بعد تین سو برس حضرت نوح ( علیہ السلام) زندہ رہے :۔
Ayahs 7:65–72

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور اسی طرح قوم عاد کی طرف انکے بھائی ھود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیوں خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں ؟

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

انہوں نے کیا کہ بھائیوں ! مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانتدار خیر خواہ ہوں۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے ؟ اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد سردار بنایا اور تمہیں پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ نجات حاصل کرو۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں انکو چھوڑ دیں ؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود نے کہا کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا نازل ہونا مقرر ہوچکا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں چھگڑا کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اپنی طرف سے رکھ لئے ہیں جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی ؟ اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے انکو نجات دی اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔ اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں۔

(65 ۔ 72) ۔ حضرت ہود ( علیہ السلام) حضرت نوح ( علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضرموت تک عثمان وغیرہ تھا۔ اور بڑا شاداب ملک تھا قوم عاد کے لوگ بڑے قوی ساٹھ ساٹھ گز کے قدتک کے تھے عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ اور ان کے جانور پٹخنیاں کھا کھا کر گرے اور ہلاک ہوئے پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے قوم عاد نے بہت عمارتیں سنگین بنائیں اور پہاڑوں پر یادگار کے لئے بہت سے مینار بنائے آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کے عذاب پھیلے کئ برس تک سخت قحط رہا چند آدمی ان میں سے مکہ قحط کے رفع کی دعا مانگنے گئے مکہ میں ان دنوں عمالقہ لوگ جو حضرت نوح ( علیہ السلام) کے پوتے عملیق کی اولاد میں ہیں وہ رہتے تھے ابھی یہ دعا مانگنے والے لوگ مکہ ہی میں تھے کہ یہاں آندھی کا عذاب آن کر سب قوم ختم ہوگئی۔ عذاب کے بعد حضرت ہود ( علیہ السلام) یمن کی طرف چلے گئے پھر حضرموت میں آن کر وفات پائی وہیں آپ کا مدفن ہے۔ معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں عبداللہ بن عمر ؓ اور طبرانی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایتیں ہیں کہ اس روز ہوا ایک انگوٹھی کے سوراخ کے برابر عادت سے زیادہ کھولی گئی تھی۔
Ayahs 7:73–79

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو صالح نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے یعنی یہی خدا کی اونٹی تمہارے لئے معجزہ ہے۔ تو اسے آزاد چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ عذاب الیم تم کو پکڑلے گا۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد تو کرو جب اس نے تم قوم عاد کے بعد سردار بنایا۔ اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے مٹی لے کر محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور تھے غریب لوگوں جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یہ یقین کرتے ہو صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھجے گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز وہ دے کر بھجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

تو سرداران مغرور کہنے لگے جس چیز پر ایمان لائے ہو اہم اس کو نہیں مانتے۔

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

آخر انہوں نے اونٹی کی کونچوں کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم کی سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم خدا کے پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ۔

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

تو ان کو بھونجال نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہے

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح ان سے نامید ہو کر پھرے اور کہا اے میری قوم میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچادیا اور تمہاری خیر خواہی کی اور تم ایسے ہو خیرخواہوں کو دوست نہیں رکھتے۔

(73 ۔ 79) ۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) بھی حضرت نوح ( علیہ السلام) خاندان میں سے ہیں قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اسی سر زمین میں قوم صالح ( علیہ السلام) کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے نوعمری سے حضرت صالح ان میں نبی ہوئے نصیحت کرتے کرتے بڈھے ہوگئے مگر ان میں سے چند ہی شخص ایمان لائے سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا اس روز انہوں نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ایک معجزے کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزے کی خواہش کرتے ہیں اگر تمہارے خدا نے ہمارا معجزہ پورا کردیا تو ہم تم کو سچا نبی جان کر تم پر ایمان لے آویں گے حضرت صالح ( علیہ السلام) نے ان سے کہا تم کیا معجزہ چاہتے ہو جندع بن عمرد ایک شخص ثمود میں سردار تھا اس نے پہاڑ میں سے حاملہ اونٹنی کے پیدا ہونے کا معجزہ چاہا حضرت صالح ( علیہ السلام) نے دو رکعت نماز پڑھ کر پھر اللہ تعالیٰ سے اونٹنی کے پیدا ہونے کی دعا مانگی فورا پتھر سے اونٹنی پیدا ہوئی اور پھر اس نے بچہ دیا یہ معجزہ دیکھ کر بندع اور چند شخص ایمان لائے ثمود کے ملک میں پانی کی کمی تھی اس واسطے حضرت صالح ( علیہ السلام) نے یہ بات ٹھہرا دی تھی کہ ایک روز وہ اونٹنی پانی پیا کرے اور ایک روز لوگوں کے جانور پانی پیا کریں یہ معجزہ کی اونٹنی تھی اور اس کے سبب سے آخر ثمود کے سب جانور اور آدمی ہلاک ہونے والے تھے اس واسطے جس طرح انسان اور جنات کے سوا سب جانوروں کو قبر عذاب معلوم ہوجاتا ہے اسی طرح اور جانور اس اونٹنی سے ڈر کر بھاگتے تھے۔ جاڑے میں اگر اونٹنی دھوپ میں جاتی تو سب جانور سایہ میں آن کر سردی کھاتے اور گرمی کے موسم میں اگر یہ اونٹنی چھاؤں میں جاتی تو بستی کے جانور دھوپ میں جلتے جس کنوئیں سے یہ اونٹنی پانی پیتی تھی اس کا نام اونٹنی والا کنواں ثمود نے رکھ دیا تھا یہ اونٹنی ایک دن بیچ پانی پینے جاتی تھی تو سب پانی کنویں کا پی لیتی تھی اس وقت گردن اونچی کرتی تھی اسی طرح پھر دودھ بھی اتنا دیتی تھی کہ ثمود کے تمام گھروں کے برتن بھر جاتے تھے لیکن جانوروں کے بدکنے اور پانی کے زیادہ پینے سے قوم ثمود اس اونٹنی کو بری نظروں سے دیکھنے لگے خصوصا وہ لوگ جن کے پاس جانور زیادہ تھے وہ تو اس اونٹنی کے جان کے دشمن ہوگئے آخر آدمیوں کے ایک گروہ نے ایکا کر کے ایک روز اس اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا قدرا بن سالف ایک شخص ثمود میں بڑا شریر تھا پہلا تیر اس نے اونٹنی کے مارا صحیحین میں عبداللہ بن زمعتہ کی جو حدیث ہے کہ آنحضرت نے ایک روز خطبہ میں اونٹنی کی ہلاکت کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ایک شخص شریر نے اس اونٹنی کو ہلاک کیا وہ یہی شخص قدار بن سالف ہے۔ اس اونٹنی کی ہلاکت کے بعد حضرت صالح ( علیہ السلام) نے ثمود سے فرما دیا کہ اب تین روز میں تم پر عذاب آوے گا شہر کے لوگ عذر کرنے لگے کہ ان نو آدمیوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا ہے ہم بےقصور ہیں آپ نے فرمایا دیکھو اس کے بچے کو ڈھونڈو اگر وہ بچہ تم کو مل جاویگا تو شاید عذاب ٹل جاویگا وہ بچہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گا اور پتھر میں غائب ہوگیا آخر ایک چنگھاڑ کی آواز آسمان سے آئی اور کلیجہ پھٹ کر سب ہلاک ہوگئے ایک شخص ابو رغال حرم میں ہونے کے سبب سے کچھ دنوں بچ گیا جب حرم سے نکلا تو وہ بھی ہلاک ہوگیا جس کی قبر طائف میں ہے اور آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو اس کی قبر بتلائی ہے یہ حجر مقام جہاں ثمود رہتے تھے تبوک کے راستہ میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے صحیحین میں روایت ہے کہ تبوک کی لڑائی کو جاتے وقت جب آنحضرت اور صحابہ کا گذر اس مقام پر ہوا تو آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ ان ظالم لوگوں کے گھر جو کچھ باقی ہیں ان میں تم لوگ ہرگز نہ گھسنا کہیں تم پر اسی طرح عذاب الٰہی نہ آجاوے جس طرح ان پر آگیا اور سوا اس کنویں کے جس میں سے وہ اونٹنی پانی پیتی تھی اور کنویں کے پانی پینے سے بھی آپ نے منع کردیا اور کچھ لوگوں نے اس کنویں کے پانی سے آٹا گوندھ لیا تھا اس آٹے کو آپ نے آدمیوں کے نہیں کھانے دیا اونٹوں کو کھلوا دیا غرض جب تک صحابہ وہاں رہے آپ نے فرمایا ان مقامات کو دیکھ کر خوف کرو اور روتے رہو اور آپ نے خوب منہ ڈھانک کر چادر اوڑھ لی اور تیز قدم اس مقام سے گذر گئے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اب بھی جس بستی میں قحط وبا یا کسی اور عام مرض کا عذاب ہو وہاں ضرورت سے آدمی جاوے تو اللہ سے ڈرتار ہے اور بلا ضرورت وہاں کی کھانے پینے کی چیز ان کا استعمال نہ کرے اور جلدی وہاں سے چلا آوے :۔
Ayahs 7:80–84

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور جب ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا ؟

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

یعنی خوایش نفسانی کو پورا کرنے کیلئے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیت یہ کہ تم حد سے گزرنے والے ہو

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا بولے سو یہ بولے کہ لوط اور ان کے گھر والوں کو گاؤں سے نکال دو کہ یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیا۔ مگر ان کی بیوی نہ بچی کہ وہ پیچھیے رہنے والوں میں سے تھی۔

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا۔ سو دیکھ لو کے گناہ گاروں کا کیسا انجام ہوا۔

(80 ۔ 84) ۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں راہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز بسیتاں تھیں غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے لوگ جو آویں ان کے ساتھ جتنے نو عمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی جاوے تو غیر لوگ تمہاری بستیوں میں ہر گر نہ آویں شیطان کے بہکانے سے اور خوب صورت لڑکا بن کر ان کو ورغلانے سے انہوں نے ویساہی کیا اور پھر ان میں وہ عادت جم گئی حضرت لوط ( علیہ السلام) نے ہرچند سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا آخر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس قدر ٹکڑا زمین کا کھڑا کر اللہ کے حکم سے الٹ دیا اور ان لوگوں پر پتھروں کا مینہ برسا جن پتھروں میں آگ کے شعلے بھی تھے اور سب لوگ ہلاک ہوگئے :
Ayahs 7:85–93

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شیعب کو بھیجا تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نشانی آچکی ہے۔ تو تم ناپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزیں پوری دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ہر راستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے ہو اور اسمیں کجی ڈھونڈتے ہو اس وقت کو یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر بنادیا۔ اور دیکھ کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی تو صبر کئے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے وہ کہنے لگے کہ شعیب ! یا تو تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائیں ہیں ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ انہوں نے کہا خواہ ہم تمہارے دین سے بیزار ہی ہوں !

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو ہم نے بیشک خدا پر جھوٹ کس طرح باندھا اور ہم شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ہم مجبور ہیں ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کے ہوئے ہے ہمارا خدا ہی پر بھروسا ہے اے ہمارے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما دیں اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے بھائیوں اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بیشک تم خسارے میں پڑگئے

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

تو ان کو بھونجال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

یہ لوگ جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے گویا کبھی آباد ہی نہ تھے غرض جنہوں نے شعیب کو چھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے۔

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیوں ! میں نے تم کو پروردگار کے پیغام پہنچا دئے ہیں اور تمہاری خہر خواہی کی تھی تو میں کافروں پر عذاب نازل ہونے سے رنج و غم کیوں کروں ؟

(85 ۔ 93) ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت میں مفسروں کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی روایتوں میں اور سوا حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لئے نہیں بھیجا گیا ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ میں کے ہی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن سورة شعراء میں اصحاب الایکہ فرمایا ہے اور بعضے مفسر کنویں والے لوگوں کو بھی جن کو سورة فرقان اور سورة قاف میں اصحاب الرس فرمایا ہے ان کی ہی امت میں شمار کر کے یوں کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) تین امتوں کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر نے ان سب روایتوں کو ضعیف قرار دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ کنویں والے جن کو اصحاب رس فرمایا ہے تو جدا ایک امت ہے جن کا ذکر سورة فرقان میں آوے گا ہاں اصحاب ہلین اور اصحاب الایکۃ ایک ہی امت کے لوگ میں جن میں کم تولنے اور کم ناپنے کا رواج تھا اور اسی ایک امت کی ہدایت کے لئے حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھیجے گئے ہیں یہ لوگ پیڑوں کی بھی پوجا کیا کرتے تھے اس واسطے ان کو اصحاب الایکہ یعنے پیڑوں والے کہہ کر جو سورة شعراء میں بتا دیا ہے وہاں حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو ان کا بھائی اس لئے نہیں فرمایا کہ کہیں یہ وہم نہ پڑجاوے کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) بھی پیڑوں کی پوجا میں شریک تھے۔ اکثر مفسروں کا قول یہی ہے کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) نے بڑی عمر پائی ہے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے وقت تک زندہ تھے۔ اور ایک شخص قبطی کو مار کر مصر سے مدین کو جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) گئے تو ان کی ملاقات حضرت شعیب ( علیہ السلام) سے ہوئی اور وہ دو بہنیں جن کا قصہ سورة قصص میں آویگا ان ہی حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی بیٹیاں تھیں جن میں سے ایک کا نکاح حضرت موسیٰ سے ہوا حضرت شعیب ( علیہ السلام) نابینا تھے اور بڑے فصیح تھے اس واسطے ان کو خطیب الانبیاء کہتے ہیں قرآن شریف میں حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی امت کے عذاب کا تین جگہ ذکر ہے ایک یہاں سورة اعراف میں زلزلہ کا ذکر ہے ایک سورة ہود میں چنگھاڑ آسمانی کا ذکر ہے اور ایک سورة شعراء میں عذاب کے بادل کا ذکر ہے جس میں سے آگ برسی تھی یہ تینوں عذاب ایک ساتھ اس طرح آئے کہ وہ لوگ اپنے گھروں میں تھے تو زلزلہ آیا جب گھروں سے باہر نکلے تو سخت گرمی معلوم ہوئی اور بادل کی صورت کا ایک ٹکڑا سایہ کا نظر آیا پہلے ایک شخص ان میں سے اس سایہ میں گیا آ کر اس نے سایہ کی ٹھنڈک کی تعریف کی اس کی تعریف سن کر سب لوگ اس چھاؤں میں چلے گئے اتنے میں آسمان سے ایک سخت چیز کی آواز آئی اور پھر اسی بادل سے آگ برسی جس سے سب لوگ ایک دم میں ہلاک ہوگئے یہ تین قسم کا ایک ہی امت کا عذاب ہے ‘ بعضے مفسروں نے ہر ایک قسم کے عذاب کو ایک جدی امت کا عذاب خیال کر کے یہ کہا ہے کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کئی امتوں کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے حقیقت میں یہ ایک ہی امت کا عذاب تین ٹکڑوں کا ہے اور اس امت کے ہر ایک ٹکڑے کے ساتھ عذاب کے ایک ٹکڑے کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے :۔