7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 7:134–135

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے موسیٰ ہمارے لیئے اپنے پروردگار سے دعا کرو جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے۔

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم ایک مدت کے لئے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کریتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے۔

(134 ۔ 135) ۔ اس آیت کے متعلق دو قول ہیں بعض مفسروں نے یہ لکھا ہے کہ یہ آیت اوپر کی آیتوں کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے جو فرعون اور اس کی قوم پر اوپر کی آیتوں میں پانچ عذاب طوفان اور ٹڈیاں اور گھن اور مینڈک اور خون بھیج کر برباد کیا اسی کا بیان فرمایا ہے کہ جب ان پر عذاب ایک کے بعد ایک آتا گیا تو ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنے رب سے دعا کرو کہ یہ عذاب ہم پر سے دفع ہوجاوے کیونکہ خدا نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے تم سے ہر ایک دعا کے پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے اگر تمہاری دعا سے یہ بلائیں ٹل جاویں گی تو ہم تم پر ایمان بھی لاویں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ کر دیویں گے پھر اللہ پاک نے یہ بیان کیا کہ ہم نے ان کے وعدے اور اقرار کرنے پر یہ عذاب اس وقت تک روک رکھا جب تک وہ قلزم میں غرق نہ ہوئے تب بھی تو وہ ایمان نہیں لائے منکر کے منکر رہے اور دوسری تفسیر اس آیت کی یہ کی گئی ہے کہ رجز طاعون کو کہتے ہیں جیسا کہ صحیحین کی ایک حدیث میں اسامہ ؓ سے روایت ہے کہ طاعون ایک رجز ہے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا گیا تھا اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ تم جب سنو کہ کسی جگہ طاعوت ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جس زمین میں طاعون ہو وہاں سے نکل کر نہ بھاگو۔ اس تفسیر کی رو سے یہ چھٹا عذاب ان لوگوں پر تھا جو ان پر پانچوں عذابوں کے بعد نازل ہوا فرعون کے یہاں بنی اسرائیل اور ایک دوسری قوم قبطی تھی ہر روز قبط کی قوم سے ستر ہزار آدمی اس طاعون سے ہلاک ہوئے تھے موسیٰ (علیہ السلام) سے ان لوگوں کا یہ وعدہ تھا کہ اس بلا کے دفع ہونے کے بعد ہم بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے جہاں جی چاہے لیجانا اصل میں بنی اسرائیل کو فرعون نے اپنا قیدی بنا رکھا تھا اور ان سے طرح طرح کی ذلت اور خواری کے کام لیتا تھا اور ان کو کہیں جانے آنے نہیں دیتا تھا بہر حال جب بلائیں ٹل گئیں تو فرعون اور اس کی قوم نے اپنا وعدہ وفا نہ کیا اور قول وقرار توڑ ڈالا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے پہلا قول مجاہد کا ہے اور دوسرا قول سعید بن جبیر کا۔ حافظ ابوجعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ اس تفسیر کے مقدمہ میں بھی یہ گذر چکا ہے کہ جہاں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں اختلاف ہو وہاں مجاہد کے قول کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ترمذی ابوداؤد وغیرہ کے حوالہ سے اوپر حضرت عمر ؓ کی حدیث جو گذر چکی ہے اس کو اس آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم نے ہر دفع کے عذاب کے ٹل جانے کے عہد شکنی اس سبب سے کی کہ ان لوگوں کے سر پر ازلی نافرمانی سوار تھی اس لئے پے درپے معجزے دیکھنے کے بعد بھی یہ لوگ راہ راست پر نہ آئے اور اس قوم کے جادوگر لوگ جو علم ازلی میں آخری عمر تک کے نافرمان نہیں قرار پائے تھے وہ فقط ایک ہی معجزہ دیکھ کر راہ راست پر آگئے :۔
Ayahs 7:136–137

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے۔

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا۔

(136 ۔ 137) ۔ جب ان پانچوں چھٹوں عذاب ان پر ایک کے بعد ایک۔ ایک ایک ہفتہ کے فاصلہ سے آتے گئے اور موسیٰ ( علیہ السلام) ان کو پہلے جاکر کہہ آتے تھے کہ فلاں عذاب تم پر آویگا اور وہی عذاب ان پر آتا تھا اور آخر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کرنے سے وہ بلا ٹلتی بھی گئی لیکن یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو ایک روز آدھی رات کو سارے شہر میں وبا پھیل گئی اور ہر شخص کا اکلوتا بیٹا مرنے لگا یہ لوگ مردوں کے غم میں اور اپنی جانوں کی فکر میں تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کو شہر سے نکل گئے جب فرعون کو اس کی خبر ہوئی تو لشکر تیار کر کے ان کے پیچھے بھاگا اور مو سے (علیہ السلام) کو مع بنی اسرائیل کے دریائے قلزم کی طرف جاتے دیکھا یہ بھی مع لشکر کے وہاں پہنچا موسیٰ (علیہ السلام) مع اپنی قوم کے دریا میں گھس گئے دریا نے خدا کے حکم سے بارہ رستے بنائے اور یہ سب کے سب ان رستوں سے دریا کے پار ہوگئے فرعون بھی اپنے لشکر کے دریا میں گھس پڑا جب بیچوں بیچ میں پہنچا تو دریا دونوں طرف سے آکر مل گیا اور یہ لوگ اول سے آخر تک ڈوب کر ہلاک ہوگئے اس کو اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ یہ لوگ ہماری آیتوں اور نشانیوں کو جھٹلایا کرتے اور ایمان لانے سے غفلت کرتے رہے اس لئے ہم نے اس کا بدلہ ان سے لیا سارے کافروں کو دریا میں غرق کردیا پھر فرمایا کہ ان کی جگہ بنی اسرائیل کو دی جن کو فرعون اور اس کی قوم قبط ذلیل و خوار سمجھے ہوئے تھے ان ہی کا مصر اور شام کے چاروں طرف کے ملک پر قبضہ کرا دیا اور اس ملک میں ایسی برکت دی کہ وہاں کے پھل میوے اور کھیتی بڑے زوروں پر ہونے لگی اور بعض مفسروں نے مشارق اور مغارب ارض سے تمام روئے زمین کو مراد لیا ہے کیونکہ داؤد وسلیمان (علیہما السلام) تمام روئے زمین کے مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک مالک ہوگئے تھے اور یہ دونوں نبی قوم بنی اسرائیل میں سے تھے پھر اللہ پاک نے اپنے ایفائے وعدہ کا ذکر کیا کہ ہم نے جو وعدہ کیا تھا کہ دشمنوں کو غارت کردیا جاویگا اور ان کی جگہ ملک پر تم لوگوں کو قبضہ اور دخل دیا جاویگا اللہ تعالیٰ نے وہ بات پوری کردی کہ فرعون اور اس کی قوم کی کچھ پیش نہ چلی سب کے سب ہلاک ہوئے اور ان کے باغ اور مکانات اور سب تیاریاں باغ اور مکانوں کی بالکل نیست ونابود کردیں مکی سورتوں میں اس قصہ کے ذکر فرمانے سے یہ مقصد ہے کہ اس سورة کے نازل ہونے تک اہل مکہ میں سے جو لوگ اللہ کے رسول کی مخالفت کے درپے ہیں انکو معلوم ہوجاوے کہ رسول وقت کی مخالفت کا یہی نتیجہ ہونے والا ہے جو نتیجہ فرعون اور اس کی قوم کا ہوا اسی طرح رسول وقت کے فرمانبردار لوگوں کا وہی نتیجہ ہوگا جو نتیجہ بنی اسرائیل کا ہوا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے بدر کی لڑائی کے وقت اس مقصد کا جو ظہور ہوا اس کا ذکر اس لڑائی کے قصہ میں گذر چکا ہے اس بدر کی لڑائی کے حال میں جو حدیثیں گذر چکیں وہ ان آیتوں کے مقصد کی گویا تفسیر ہیں خصوصا صحیح بخاری ومسلم کی انس بن ؓ مالک کی حدیث کہ اس لڑائی میں مسلمانوں کا غلبہ ہوا اور بڑے بڑے مخالف اسلام نہایت ذلت سے مارے گئے :۔ 1 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 566 باب قتل ابی جہل۔
Ayahs 7:138–139

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار آتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچتے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لئے بیٹھے رہتے تھے (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ہمارے لئے بھی ایک معبود بنادو موسیٰ نے کہا تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں۔

(138 ۔ 139) ۔ جب فرعون دریائے قلزم میں مع اپنے لشکر کے غرق ہو کر ہلاک ہوگیا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لئے ہوئے پار ہوگئے تو ان لوگوں کا گزر شہر رقہ میں ہوا جو اسی دریا کے کنارہ پر واقعہ ہے یہاں قبیلہ کنعانی کے لوگ جن سے موسیٰ (علیہ السلام) کو لڑنے کا حکم ہوا تھا مورتیں پوج رہے تھے گائے کی شکل کے بت بنا رکھے تھے جن کی وہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے انہیں بت پوجتے ہوئے دیکھ کر بنی اسرائیل نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ بھی ہمارے لئے بت بنادیں ہم بھی اسی طرح ان بتوں کی پوجا کریں گے جس طرح یہ لوگ مورتیں پوج رہے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ تم لوگ کیسے حامل ہو خدا کی عظمت اور اس کے جلال کو نہیں پہچانتے ہو بت پرستی کے سبب سے ابھی قوم فرعون پر کیسے کیسے سخت عذاب دیکھ چکے ہو پھر ایسی بات منہ سے نکالتے ہو یہ لوگ جس شغل میں ہیں اور جن بتوں کو پوج رہے ہیں یہ سب نیست ونابود ہونے والے ہیں ان کا عمل سرے سے بےٹھکانے اور ان کا دین محض غلط ہے مطلب یہ ہے کہ بت پرستی کے وبال میں ان لوگوں پر کوئی عذاب الٰہی آوے گا تو اس سے ان کے بت ان کو بچا نہیں سکتے پھر اس طرح کی بےاختیار چیز کی پوجا سے کیا فائدہ ہے ایسی بےفائدہ چیز کی عبادت کی خواہش کا پیش کرنا نادانی اور جہالت کی خواہش ہے صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کے نبی ہونے سے پہلے اس قوم میں کچھ نیک لوگ تھے ان کا انتقال ہوگیا جس سے قوم کے لوگوں کو بڑا رنج ہوا شیطان نے قوم کے لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ اس قوم کے لوگ اگر ان نیک لوگوں کی مورتیں بنا کر اپنی آنکھوں کے روبرو رکھیں تو آنکھوں کے سامنے سے ان نیکوں کے دنیا سے اٹھ جانے کا رنج کچھ کم ہوجاویگا۔ چناچہ قوم کے لوگوں نے اس وسوسہ کے موافق عمل کیا آخر رفتہ رفتہ ان مورتوں کی پوجا ہونے لگی اس شرک کے مٹانے کے لئے حضرت نوح ( علیہ السلام) نبی ہو کر آئے اور ساڑھے نو سو برس تک ان بت پرست لوگوں کو نصیحت کرتے رہے لیکن ان لوگوں پر اس نصیحت کا پورا اثر نہیں ہوا۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ شیطان نے اپنے ایک طرح کے وسوسہ سے جس طرح دنیا میں بت پرستی پھیلائی اسی طرح کا وسوسہ بنی اسرائیل کے دلوں میں ڈال دیا کہ بت پرست لوگوں کو بتوں کی پوجا سے ضرور کچھ نہ کچھو فائدہ پہنچا ہوگا جس کے سبب سے بت پرستی دنیا میں چلی آئی ہے اسی وسوسہ کے اثر سے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی وہ خواہش ظاہر کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نصیحت مناسب سے بنی اسرائیل کے اس وسوسہ کو رفع فرمادیا :۔
Ayah 7:140

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے ؟

پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے نصیحت کے طور پر یہ کہا کہ کیا خدا کے سوا کوئی اور معبود میں تمہارے لئے تلاش کروں بڑے افسوس کی بات ہے کہ جس خدا نے تمہیں ذلت ورسوائی سے رہائی دی فرعون اور قبطی تمہیں خوار و ذلیل سمجھتے تھے قیدیوں کی طرح تمہیں نظر بند کر رکھا تھا اس صاحب قدرت نے ان کے پنجے سے تم کو چھڑایا اور ان دشمنوں کو غارت کر کے تمہارے کلیجے کو ٹھنڈا کیا اور پھر تم پر یہ فضل کیا کہ ان کی سلطنت تمہیں بخشی تمہیں روئے زمین کا خلیفہ بنایا اسے چھوڑ کر اور دین کی عبادت کب زیبا ہے کیا اس کے انعام اور فضل کا یہی شکر اور مقابلہ ہے جس کا وسوسہ تمہارے دل میں گذرا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی یہ بڑی بردباری ہے جو وہ مشرک لوگوں کے رزق کا سامان کرتا ہے ان کو صحت و تندرستی سے رکھتا ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ شرک ایسا بڑا جرم ہے کہ اس کی سزا میں مشرک لوگوں کا رزق اور تندرستی کا انتظام غیب سے نہ ہوتا تو بجا تھا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بردباری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے رزق اور تندرست رہنے کا انتظام فرماتا ہے۔ اس آیت میں بت پرستی کا جو ذکر ہے اس کی مذمت کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے اور اس کی تفسیر ہے کہ باوجود شرک کے مشرک لوگوں پر فورا کوئی آفت کیوں نہیں آتی :۔
Ayah 7:141

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور (ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی۔

یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے نصیحت کے طور پر کہی کہ وہ وقت یاد کرو جب فرعون تم سے بری طرح پیش آتا تھا تمہارے لڑکے قتل کردیا کرتا تھا اور لڑکیاں زندہ چھوڑ دیا کرتا تھا کہ یہ خدا کا احسان تم پر نہیں ہے کہ اس نے تم کو اس بلا سے چھڑایا اور جب اس کا اتنا بڑا احسان تم پر ہے تو عبادت بھی اسی کی واجب ہے غیر کی تعظیم اور عبادت تم کو ہرگز لائق نہیں ہے اس بیہودہ سوال سے باز آؤ اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ میں مفصل گذر چکی ہے صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو پیدا کیا اس کے احسنات کو بھول کر جو لوگ اللہ کی عبادت اور تعظیم میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ایسے لوگوں سے بڑھ کر دنیا میں مجرم اور گنہگار نہیں اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب ہوا کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں جو خواہش پیش کی تھی وہ بڑی مجرمانہ اور ناشکر گذرای کی خواہش تھی اسی واسطے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے احسانات بنی اسرائیل کو یاد دلا کر اس خواہش کے وسوسہ سے بنی اسرائیل کو ڈرایا :۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا اور شریروں کے راستہ نہ چلنا۔

اللہ پاک نے بنی اسرائیل پر اپنا احسان اس بات کا جتلایا کہ ہم نے تمہارے نبی موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کہیں اور ان کو تمہاری ہدایت کے لئے تورات دی یہ بھی فرمایا کہ ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور پھر چالیس راتیں پوری کرنے کو کہا یہاں پر مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ ذیقعدہ کی پہلی تاریخ سے موسیٰ ( علیہ السلام) چلہ میں بیٹھے تھے دن کو روزہ رکھتے تھے جب تیس راتیں پوری ہوگئیں تو انہوں نے روزے کی حالت میں مسواک کی اور منہ کو صاف کیا کیونکہ روزہ داروں کے منہ سے ایک طرح کو بو آنے لگتی ہے جس کو اللہ پاک مشک کی خوشبو سے اچھا سمجھتا ہے چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ ؓ کی ایک حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ پاک کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے غرض کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مسواک کرنے پر اللہ تعالیٰ نے اور دس راتیں چلے میں بڑھا دیں تاکہ روزہ رکھنے سے پھر وہی بو پیدا ہوجائے جب چالیس باتیں پوری ہوگئیں توذی الحج کی دسویں تاریخ کو اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کیں اور جب موسیٰ (علیہ السلام) چلہ پورا کرنے جانے لگے تھے تو انہوں نے اپنے بڑے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو خلیفہ بنا کر یہ کہا تھا کہ بنی اسرائیل کی میرے پیچھے خبر گیری رکھی جاوے کہ کوئی فساد نہ ہونے پاوے اگر کوئی فساد برپاکرے تو اس کی طرف داری تم نہ کرنا ان کی قوم بنی اسرائیل اس عرصہ میں بہک گئے اور تیس راتیں گذرنے کے بعد بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کا انتظار نہ کیا اور بچھڑے کی پوجا شروع کردی جس کا قصہ سورة بقر میں گذر چکا ہے اور اس سورة میں بھی آگے آویگا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے سورة نساء میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ سے بڑھ کر عذر معذرت کا قبول کرنے والا کون ہوسکتا ہے جس نے احکام شرع کی انجانی رفع کرنے کے لئے رسولوں کو بھیجا کتابیں نازل فرمائیں اس حدیث کو آیت کو تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ جب تک بنی اسرائیل کو فرعون کی قید سے نجات نہیں ملی تھی جس کے سبب ان کو شریعت موسوی پر پورا پورا عمل نہ کرنے کے عذر کا موقعہ تھا اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے تورات نازل نہیں فرمائی جب فوعون اور اس کو قوم کی ہلاکت کے سبب سے بنی اسرائیل کے اس عذر موقعہ باقی نہیں رہا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلایا اور ان کو چالیس روز کی عبادت کے بعد ان پر تو رات نازل فرمائی تاکہ بنی اسرائیل کو شریعت موسوی کے احکام معلوم ہوجاویں اور ان احکام کی انجانی کا عذر باقی نہ رہے صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة نساء میں ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث بھی گذر چکی ہے کہ جس شخص کی عمر ساٹھ برس کی ہوگئی اس کو دین کے جان لینے کا پورا موقعہ مل گیا اس لئے ایسے شخص کا انجانی کا عذر قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں قبول نہ ہوگا اس حدیث کو بھی آیت کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ اس سے ہر ایک شریعت کے جان یدنے کی آخری حد معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر (کوہ طور پر) پہنچنے اور ان کے پروردگار نے ان کے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ (پروردگار نے) فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھ کو دیکھ سکو گے۔ جب انکا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انور ربانی نے) اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر پڑے جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور میں توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانیوالے ہیں ان میں سب سے اول ہوں۔

جب موسیٰ (علیہ السلام) چلہ پورا کرچکے تو وقت مقرر پر خدا کے حکم سے کوہ طور پر گئے اللہ پاک اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ علی نبینا (علیہ السلام) سے ملا واسطہ کسی فرشتے کے باتیں کیں موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے رب جب تو نے مجھ سے کلام کیا تو اب آپ مجھے دکھا بھی دے میں تجھے دیکھنا بھی چاہتا ہوں اللہ جل شانہ نے فرمایا اے موسیٰ اس خیال سے باز آ تجھ میں یہ طاقت نہیں ہے کہ تو مجھ دیکھ سکے پہاڑ جو تجھ سے کہیں مضبوط اور سخت ہے تو اسے دیکھتا رہ کہ وہ بھی میرے جلوہ کی مطلق تاب نہیں رکھتا اگر یہ پہاڑ میرے جلوہ کے بعد قائم رہ گیا تو جان لیجیوں کہ تو مجھے دیکھ سکے گا پھر جب خدا کی تجلی ہوئی تو پہاڑ چکنا چور ہوگیا اور موسیٰ ( علیہ السلام) بھی مارے دہشت کے بیہوش ہوگئے معتزلہ اور دوسرے اکثر فرقے اس بات کے قائل ہیں کہ خدا کا دیدار ہرگز نہیں ہوسکتا نہ دنیا میں نہ آخرت میں اور دلیل اسی آیت سے پیش کرتے ہیں کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے لَنْ تَرَانِیْ فرمایا جس کے معنے یہ ہیں کہ تو کبھی نہیں دیکھ سکتا مگر یہ بات محض غلط ہے خود قرآن مجید کی دوسری آیتیں اور حدیثیں اس بات کی شاہد ہیں کہ آخرت میں مومنوں کو خداوند عزوجل کا دیدار نصیب ہوگا البتہ کفار اس نعمت سے محروم رہیں گے ان کے واسطے یہ حکم ہوا ہے کہ یہ لوگ اپنے رب سے اوٹ میں ہوں گے موسیٰ (علیہ السلام) کی بیہوشی کے متعلق دو حدیثیں وارد ہوئی ہیں ایک کے راوی ابوسعید خدری ؓ ہیں اور دوسرے کے ابوہریرہ ؓ ابوسعید خدری ؓ کی حدیث بخاری مسلم اور ابوداؤد نے بیان کی ہے اور ابوہریرہ ؓ کی امام احمد نے نقل کی ہے دونوں کا مطلب قریب قریب ہے ایک صحابہ جو انصار میں سے تھے اور ایک یہودی ان دونوں میں جھگڑا ہوا صحابی نے یہودی کو ایک طمانچہ مارا وہ روتا ہوا حضرت رسول خدا کے پاس آیا اور آپ سے شکایت کی کہ فلاں صحابی نے مجھے طمانچہ مارا ہے فرمایا اس کو بلاؤ جب وہ صحابی آئے تو پوچھا تو نے کیوں مارا ان صحابی نے بیان کیا کہ اس یہودی نے کہا تھا کہ اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سارے بنی آدم سے افضل بنایا ہے میں نے کہا کہ کیا ہمارے رسول پاک محمد ﷺ سے بھی اور اس بات پر غصہ آگیا میں نے ایک طمانچہ اس کے مار آپ نے فرمایا کہ تم لوگ انبیاء کے درمیان میں مجھے خبر نہیں کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آئیں گے یا کوہ طور پر بیہوش ہوجانے کے عوض میں وہاں بیہوش ہی نہیں ہوں گے بہر حال جب موسیٰ (علیہ السلام) کو غشی سے افاقہ ہوا اور ہوش میں آگئے تو اللہ پاک کی پاکی بیان کی کہ اے اللہ تعالیٰ پاک ہے اور میں توبہ کرتا ہوں کہ پھر تجھ سے سوال کروں کہ میں دنیا میں تیرے دیدار کی خواہش رکھتا ہوں اور میں پہلا شخص اس زمانہ میں ہوں جو اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ تیرا دیدار اس دنیا فانی میں کسی کو میسر نہیں ہوسکتا اس آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے بلا واسطہ کلام کیا معتزلہ فرقے کو اس میں یہ شبہہ ہے کہ عادت کے طور پر کلام اور بات چیت کرنے کے لئے منہ ہونٹ اور زبان کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ ان اعضا اور جس سے پاک ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے بلا واسطہ کلام کرنے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز میں گویائی کی قوت پیدا کردیتا ہے جس گویائی سے سننے والا اللہ تعالیٰ کے کلام کے مطلب کو سمجھ جاتا ہے چناچہ کوہ طور کے پاس جو پیڑ تھا اس میں اللہ تعالیٰ نے گویائی کی قوت پیدا کردی تھی اس کو موسیٰ (علیہ السلام) نے سنا اسی کا ذکر اس آیت اور اس قسم کی اَوْر آیتوں میں ہے اہل سنت نے معتزلی فرقے کے اس قول کئی طرح سے غلط ٹھہرایا ہے :۔ (1) سورة یس میں آوے گا کہ بعضے لوگ قیامت کے دن جب اپنے برے کاموں کا انکار کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں ان برے کاموں کی گواہی دیں گے اسی طرح صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث اس مضمون کی ایک جگہ گذر چکی ہے اس صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر کلام کرنے والے کے لئے منہ ہونٹ اور زبان کی ضرورت نہیں ہے۔ (2) کسی چیز میں گویائی کی قوت کے پیدا کردینے کو اللہ تعالیٰ کا کلام کہا جاوے تو ہر انسان میں گویائی کی قوت اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہے جس سے یہ لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ من ذلک ہر انسان کے کلام کو اللہ کا کلام کہا جاوے گا۔ (3) کوہ طور کے پاس کے درخت سے جب اللہ تعالیٰ کا کلام کہا جاوے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ بنی اسرائیل کا مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑھ کر ٹھہرے کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے گویا تورات فقط ایک درخت سے سنی اور بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) سے سنی۔ (5) باستثناء گونگے شخص کے ہر ایک انسان اپنی ذات سے کلام کرنے پر قادر ہے معتزلی فرقہ کے اعتقاد کے موافق اگر اللہ تعالیٰ میں یہ قدرت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ بڑا نقصان لازم آتا ہے۔ اس کے سوا اور وجوہات بھی اہل سنت نے معتزلے فرقے کے اعتقاد کو غلط ٹھہرانے کی بیان کی ہیں جن کی تفصیل بڑی کتابوں میں ہے غرض اہل سنت کا اعتقاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اپنی ذات سے بلا واسطہ کلام کرنے پر قادر ہے جس طرح اس نے وقت پر حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حوا کے گیہوں کھانے پر اپنے بلا واسطہ کلام سے پکار کر ان دونوں کو الزام دیا اسی طرح اس نے وقت پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کیں اور جس طرح اس کی ذات اور اس کی باقی کی صفات کی تفصیلی کیفیت ہمیں… معلوم نہیں اسی طرح اس کی صفت کلام کا تفصیلی حال بھی ہم کو معلوم نہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں عدی بن حاتم ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک شخص سے بلا واسطہ کلام کرے گا۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر اور اہل سنت کے مذہب کی تائید میں بڑا دخل ہے فرقہ معتزلہ فرقہ خارجیہ اور مرجیہ کے بعضے لوگ جو اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار دنیا اور عقبے دونوں جگہ ممکن نہیں ہے ان لوگوں نے سورة انعام کی آیت لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَار (6: 103) سے اپنے قوم کی تائید نکالی ہے اور اہل سنت نے عقلی اور نقلی طور پر اس تائید کو ضعیف ٹھہرایا ہے جس کی پوری تفصیل بڑی کتابوں میں ہے صحیح بخاری و مسلم میں جریر بن عبداللہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس طرح چاند کو سب لوگ دیکھتے ہیں اسی طرح عقبے میں ایمان دار لوگ اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اور اوپر جن منکرین دیدار الہی کا ذکر گذرا ان لوگوں کے قول کا ضعف اس حدیث سے اور اسی مضمون کے قریب انیس حدیثیں اور جو ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ ان لوگوں نے قرآن سے وہ مطلب نکالا ہے جو اللہ کے رسول نے نہیں نکالا اب یہ تو ظاہر بات ہے کہ ان منکرین دیدار الٰہی میں کا ب ڑے سے بڑا کوئی عالم بھی قرآن کا صحیح مطلب اللہ کے رسول ﷺ سے بڑھ کر نہیں سمجھ سکتا۔
Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا موسیٰ ! میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجا لاؤ

پھر اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ فرمایا کہ میں نے موجودہ زمانہ میں سارے لوگوں میں تمہیں منتخب کر کے رسول بنایا اور توریت تمہیں دی اور تم سے میں نے کلام کیا تم اس بات کا شکریہ ادا کرو اور اس بات کا خیال نہ کرو کہ میں نے تمہیں اپنے دیدار سے منع کیا اور اپنے دیکھنے سے تمہیں باز رکھا کیونکہ بجائے دیدار کے میں نے یہ نعمتیں تمہیں دیں تم ان کو لے کر خوش ہوجاؤ گویا اس کلام سے موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی گئی بعض مفسروں نے یہاں یہ بات بیان کی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ پاک کی تجلی کا اتنا اثر ہوا کہ ان کا چہرہ ایسا منور ہوگیا تھا کہ کوئی شخص ان کے چہرہ کی طرف دیکھنے کی تاب نہیں لاتا تھا اسی واسطے اس وقت سے انہوں نے اپنے چہرہ پر نقاب کا ڈالنا اختیار کیا تھا ایک روز ان کی بی بی نے کہا کہ جس روز سے آپ کوہ طور پر گئے اور اللہ سے باتیں کر کے آئے میں نے آپ کا چہرہ نہیں دیکھا آپ نے نقاب کو اٹھایا فورا ایک آفتاب سا چمک گیا اور ان کی بیوی نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیا اور سجدے میں گر پڑیں اور کہنے لگیں کہ آپ خدا سے دعا کیجئے کہ اللہ پاک جنت میں بھی مجھے آپ کی بیوی بنادے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ ایسا ہی ہوگا اگر تو میرے بعد دوسرا نکاح نہ کرے گی کیونکہ عورت قیامت میں دوسرے شوہر کے واسطے ہوگی جن چھ باتوں کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزمان ﷺ کو اور سب نبیوں پر فضیلت دی ہے وہ باتیں صحیح مسلم ابوہریرہ ؓ کی حدیث کے حوالہ سے اوپر گذر چکی ہیں غرض جو مرتبہ آپ کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہے وہ اس حدیث سے اور اسی قسم کی اور حدیثوں سے معلوم ہوسکتا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا امتیاز خاص اسی وقت کے لوگوں پر تھا۔
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لئے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا۔

علمائے مفسرین نے ان تختیوں کی تفسیر میں بڑا اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں یہ تختیاں یاقوت کی تھیں اور بعضے کہتے ہیں زبرجد کی تھیں اور بعضے اور چیزوں کی بتلاتے ہیں پھر یہ بھی اختلاف ہے کہ ان تختیوں پر تورات ہی لکھی ہوئی تھی یا تو ریت کے علاوہ دوسری کچھ نصیحتیں اور احکام تھے اور یہ بھی اختلاف ہے کہ بنی اسرائیل کے بچھڑے کے پوجنے پر حضرت موسیٰ کو جو غصہ آیا اور اس غصہ میں حضرت موسیٰ نے ان تختیوں کو زمین پر پٹخ دیا تو وہ تختیاں ٹوٹ گئیں یا ثابت رہیں رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ یہ سب اختلاف بنی اسرائیل کی مختلف روایتوں کو وجہ س ہے اور بنی اسرائیل کی روایتوں کے باب میں دو دو صحیح حدیثیں آئی ہیں ایک حدیث میں تو آپ نے یہ فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کی روایتوں کی نہ تم تصدیق کرو نہ ان کو جھٹلاؤ دوسری حدیث میں آپ نے یہ فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل سے روایت لینے میں کچھ حرج نہیں ہے اور بنی اسرائیل کی روایتوں کے تین حال ہیں یا ان کی روایت قرآن حدیث کے موافق ہے یا مخالف۔ شرع محمدی اس روایت کے مسئلہ کے بیان سے بالکل ساکت ہے اب اکابر علمائے سلف نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ اوپر کی دونوں حدیثیں تیسری قسم کی روایت کتاب سے متعلق ہیں کیونکہ اول قسم کی تصدیق اور دوسری قسم کی تکذیب ضروریات دین سے اب اوپر کی اس آیت کی تفسیر کہ یہ اختلاف کہ ان تختیوں پر توریت کے علاوہ کچھ احکام لکھے ہوئے تھے قرآن شریف کے مضمون کے خلاف ہے کیونکہ قرآن شریف کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو رسالت کے لئے چھانٹا اور بالتفصیل احکام ان تختیوں پر لکھ کر رسالت کے لئے حضرت موسیٰ کو دیے اور قرآن شریف کی بہت سی آیتوں سے یہ ثابت ہے کہ سوا توریت کے اور کوئی تفصیلی احکام کی کتاب اللہ تعالیٰ نے رسالت کے لئے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر نہیں نازل فرمائی اس لئے یہ اختلاف قسم دوم میں داخل ہو کرنا معتبر ہے رہا یہ اختلاف کر وہ تختیاں کس چیز کی تھیں اور حضرت موسیٰ نے جب غصے سے ان تختیوں کو زمین پر پٹخ دیا تو وہ تختیاں ٹوٹ گئیں یا ثابت رہیں اگرچہ یہ اختلاف قسم سوم میں داخل ہے لیکن آیت کی تفسیر میں خود یہ بات داخل نہیں ہے پھر اس میں اختلاف کرنا تفسیر کے علاوہ اور تاریخی بات ہے شریعت کے بہتر احکام پر عمل کرنے کی ہدایت جو اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ شریعت میں جہاں دو حکم ہوں مثلا ظالم سے بدلہ لینا اور صبر کرنا ان دونوں حکموں میں زیادہ اجر کی بات پر عمل کرو تاکہ زیادہ اجرپاؤ۔” اب میں تم کو دکھاؤں گھر سے حکم لوگوں کا یہ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تنبیہ فرمائی ہے کہ جس طرح اس آیت میں تورات کے موافق عمل کرنے کا حکم ہے اس حکم کی تعمیل اگر یہ لوگ نہ کریں گے تو مصر اور شام کے ملک کو جاتے وقت ان کو قوم عاد او ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں ملیں گی ان بستیوں کو دیکھ کر انہیں بےحکمی کے نتیجہ سے ڈرنا چاہیے اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے بنی اسرائیل نے جب بےحکمی پر کمرباندھی تو ان پر طرح طرح کی آفتیں آن کر ان کی بادشاہت ثروت سب کچھ جاتا رہا صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے ابن عمر ؓ کی حدیث گذر چکی ہے کہ تبوک کے سفر کے وقت جب آنحضرت ﷺ کا گذر ثمود کی بستی پر سے ہوا تو آپ خود بھی خوف زدہ ہوگئے اور صحابہ کو بھی عذاب الٰہی کے خوف سے ڈرایا اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اگرچہ بنی اسرائیل کی شان میں ہے لیکن آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ اب بھی جس بستی میں قحط وبا یا کوئی اور عام مرض ہو تو اور بستیوں کے لوگوں کو اس عذاب الٰہی سے ڈرنا اور گناہوں سے توبہ استغفار مناسب ہے :۔
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ اور اگر راستی کا راستہ دیکھیں تو (اپنا) راستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے راستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے۔

اللہ پاک نے اس آیت میں ذکر کیا کہ جو لوگ ایسی بات پر اڑے ہوئے ہیں جو حق نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنے ناحق دین پر غش میں ہیں ان کے دل کو ہم اپنی نشانیوں کے سمجھنے سے پھیر دیں گے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے یہاں تک کہ اگر ہزارہا نشانیاں اور معجزے بھی وہ دیکھیں گے تو ان کو اختیار نہیں کریں گے اور اگر گمراہی کی راہ دیکھ پاویں گے تو جھٹ اس کو اختیار کرلیں گے پھر فرمایا کہ ان کا گمراہ رہنا اور ہدایت کا نہ اختیار کرنا صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان سے بالکل غافل ہیں مفسروں کے اس آیت کی تفسیر میں کئی قول ہیں بعضوں کا قول یہ ہے کہ آیات سے مراد قرآن پاک ہے گویا اللہ جل شانہ نے یہ فرمایا ہے کہ قرآن کے سمجھنے سے ان کے دلوں کو پھیردیں گے اور بعضے کہتے ہیں کہ زمین و آسمان اور کل مخلوق جو اس کی وحدانیت پر ظاہر ثبوت ہے وہ مراد ہے اور کسی نے یہ کہا ہے کہ ایمان سے پھیر دیوں گے وہ ہرگز ان آیات کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ترمذی وغیرہ کی ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث گذر چکی ہے کہ کثرت گناہوں سے آدمی کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے جس کے سبب سے کسی نصیحت کا اثر اس کے دل پر نہیں ہوتا یہ حدیث نیک کام سے دل کے پھرجانے کی گویا تفسیر ہے اور آیت سے مراد سب نیک باتیں ہیں :۔
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا۔

عملوں کے اکارت ہوجانے پر بعضے مفسریں کو یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ آیت ممن یعمل مثقال ذرۃ میں جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے کہ ذرہ برابر بھی نیکی یا بدی جو کوئی دنیا میں کرے گا قیامت کے دن وہ سب اس کو دکھلائی جاویں گی پھر جبکہ کچھ اچھے عمل ابھی سے ناپیدا ہوگئے یا برے عمل توبہ یا کسی دوسرے اچھے کام کے سبب معاف ہوگئے تو ذرہ ذرہ برابر نیک کام امر بد کام قیامت کے دن دیکھنے کا ہر شخص کو موقعہ کیونکر باقی رہے گا جواب اس شبہہ کا یہ ہے کہ قیامت کے دن کا نام یوم الجزا ہے نیکی بدی کے جزا وسزا کے اس دن دکھلائے جانے کے یہ معنے ہیں کہ نیکی وبدی کی جزا وسزا اس دن ہر آدمی کے سامنے آوے گی اور یہ ظاہر بات ہے کہ ناپیدی اور معافی بھی ایک جزا ہے جس کے عمل ناپیدا یا معاف ہوں گے وہی جزا اس کو دکھلائی جاوے گی۔ معتبر سند سے مسند بزار اور طبرانی میں انس ؓ بن مالک کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سر بمہر اعمال نامے کھولے جاکر اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہونگے اور اسی پیشی کے بعد جن عملوں میں ریا کاری کا کچھ لگاؤ ہوگا وہ عمل پھینک دئے جاویں گے اور خالص نیت کے عمل قبول کر لئے جاویں گے۔ ابوداؤد اور نسائی کے حوالہ سے ابوامامہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بغیر خالص نیت کے عمل کے کوئی عمل بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہوسکتا اس آیت میں عملوں کے ضائع ہوجانیکا جو ذکر ہے یہ گویا اس کی تفسیر ہیں کیونکہ آیت اور ان حدیثوں کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا سے کہ شرک اور ریاکاری یہ دونوں عملوں کے ضائع ہونے کا سبب ہیں اس لئے کہ ریا کاری بھی ایک قسم کا شرک ہے چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمود بن امید ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ریاکاری کو چھوٹا شرک فرمایا ہے معتبر سند سے صحیح ابن خزیمہ میں محمود بن لبید ؓ کی دوسری حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ریاکاری کو چھوٹا شرک فرمایا ہے معتبر سند سے صحیح ابن خزیمہ میں محمود بن لبید ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو نیک کام لوگوں کے دکھاوے کے لئے کیا جاوے وہی ریاکاری اور وہی خفیہ شرک ہے اگرچہ بعضے علماء کو محمود بن لبید کے صحابی ہونے میں کلام ہے لیکن امام بخاری اور ابن عبدالبر نے ان محمود ؓ کو صحابی قرار دیا ہے :۔
Ayahs 7:148–149

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آوازیں نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ انکو راستہ دکھا سکتا ہے ؟ اسکو انہوں نے (معبود) بنا لیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا۔

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔

(148 ۔ 149) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) طور پر ہی تھے جب یہ واقع ہوا جس کو اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ موسیٰ کی قوم بنی اسرائیل نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور وہ اس کو پوج کر گمراہ ہوگئے قوم بنی اسرائیل نے شادی کے بہانہ سے جب یہ لوگ مصر میں ہی تھے تو قوم قبطی سے کچھ زیور عاریۃ کے طور پر لیا تھا جو انہی لوگوں کے پاس رہ گیا کیونکہ فرعون مع اپنی قوم کے غرق ہو کر ہلاک ہوگیا اسی زیور کا سامری نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور جبرائیل (علیہ السلام) کو آتے جاتے دیکھ کر ان کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی مٹی ایک مٹھی اٹھا کر اس گائے کے بچھڑے کے منہ میں ڈال دی وہ بولنے لگا۔ خوار گائے کی آواز کو کہتے ہیں اس گائے کے بچھڑے کے بدن کے متعلق مفسروں کے دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ اسی مٹی کے اثر سے اس کا دھڑ گوشت کا اور جاندار ہوگیا جیسے اصلی گائے ہوتی ہے اس لئے وہ بچھڑا بولنے بھی لگا قتادہ کا بھی یہی قول ہے اور بعضے یہ کہتے ہیں کہ اس کا جسم سونے کا جوں کا توں رہا اور اس میں روح وغیرہ کچھ نہ تھی اس کے منہ کے اندر ہوا کی آمد رفت سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی اور بعضوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس میں حرکت وغیرہ کچھ نہ تھی پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ ان لوگوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ وہ لوگ ایسی شے کو معبود ٹھہراتے ہیں جس میں بات کرنے کی طاقت نہیں ہے اور نہ کوئی نفع ضرور اس سے پہنچ سکتا ہے اور نہ یہ کوئی راستہ نجات کا بتلا سکتی ہے پھر فرمایا کہ وہ لوگ اس کام میں بڑے ظالم اور ناانصاف تھے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے واپس آئے تو یہ لوگ پیشمان ہوئے اور پچھتائے اور سمجھے کہ ہم گمراہ ہوگئے پھر اپنے قصور کا اقرار کرنے لگے اور کہنے لگے کہ اے رب ہمارے اگر تو رحم نہ کریگا اور نہ بخشے گا تو ہم بہت ہی گھاٹے میں رہیں گے صحیح بخاری ومسلم میں انس ؓ بن مالک کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس طرح انسان کے سارے جسم میں خون پھرتا ہے اسی طرح بہکانے کا موقعہ ڈھونڈنے کے لئے انسان کے تمام جسم میں شیطان چکر مارتا رہتا ہے غرض آیت اور حدیث کو ملا کر مطلب یہ ہوا کہ نبی اللہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دور ہوجانے سے شیطان کو بنی اسرائیل پر غلبہ کا موقعہ مل گیا جس سے وہ ان کے تمام جسم میں خون کی طرح سرایت کر گیا اور آخر کو وہ بچھڑے کے پوجنے کے شرک میں پھنس گئے :۔
Ayahs 7:150–151

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) چلد چاہا ؟ (یہ کہا) اور شدت غضب سے (تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان ! لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجئے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملائیے۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرمادے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

(150 ۔ 151) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور پر یہ بات اللہ پاک نے کہہ دی تھی کہ وہاں قوم کو سامری نے بگاڑ ڈالا اور ایک گوسالہ بنا کر آپ بھی پوجنے لگا اور بنی اسرائیل کو بھی اس میں شریک کرلیا۔ اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) غیط وغضب میں بھرے ہوئے آئے کہ قوم اتنی نشانیاں اللہ پاک کی دیکھ چکی ہے اس پر کفرو شرک سے باز نہ آئی جھٹ بت بنالیا اور پوجنے لگے مفسروں نے اس کے معنے یہ بیان کئے ہیں کہ یہ بھی ایک قسم کا غضب ہے جو غضب سے کہیں بڑھا ہوا ہے بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) نے آتے ہی ان لوگوں سے یہ کہا کہ یہ کیا بری حرکت تم نے میرے جانے کے بعد کی کہ گوسالہ بنا کر پوجنے لگے خدا کا وعدہ جو میرے ساتھ ایک چلہ کا تھا اس کو پورا بھی نہ ہونے دیا اور ایسی جلدی کی اور یہ کہتے ہوئے وہ تختیاں جو اللہ پاک نے ان کو مرحمت فرمائی تھیں جس میں دین کے احکام کی تفصیل تھی ان کو ہاتھ سے زمین پر پھنک دیا یہ تختیاں زمرد کی تھیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب لوح مو سے (علیہ السلام) نے زمین پر ڈالی دی تو وہ ٹوٹ کر اس کے چھ ٹکڑے ہوگئے ایک ٹکڑا رہ گیا اور باقی پانچ ٹکڑے اللہ پاک نے اٹھا لئے دوسرا قول ان کا یہ ہے کہ ساتواں حصہ دنیا میں رہ گیا اور باقی چھ حصے اٹھا لئے گئے مجاہد یہ کہتے ہیں کہ اخبار غیب چلے گئے اور دین کے چند اور احکام باقی رہ گئے اور ابن جریج یہ کہتے ہیں کہ لوح نو عدد تھے دو اٹھالی گئیں اور سات دنیا میں رہ گئیں پھر موسیٰ (علیہ السلام) غصہ کی حالت میں اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) نے اپنا عذر ظاہر کیا کہ بھائی میرا کچھ اس میں تصور نہیں ہے لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ یہ مجھے قتل کر ڈالیں آپ میرے ساتھ وہ کام نہ کیجے جس کو دیکھ کر دشمن خوش ہوں اور مجھ پر ہنسیں اور مجھے آپ اس قوم گنہگار میں نہ شمار کریں میں ان سے بالکل الگ ہوں موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بات سن کر اللہ پاک سے اپنے اور اپنے بھائی کے لئے مغفرت چاہی گویا اس فعل پر شرمسار ہوئے بعض مفسروں نے ہارون (علیہ السلام) کے متعلق یہ بیان کیا ہے کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کے بیٹے تھے تین برس موسیٰ ( علیہ السلام) سے بڑے تھے اپنی ماں کے ساتھ آئے تھے اس لئے ہارون (علیہ السلام) نے موسیٰ کو ابن ام ماں کے بیٹے بھائی کہا اور بعض مسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) دونوں سگے بھائی تھے ایک ماں باپ سے۔ ابن ام کہنے کی یہ وجہ تھی کہ اس لفظ سے زیادہ محبت جوش میں آتی ہے اور ماں کے نام سے دل زیادہ نرم ہوجاتا ہے طبرانی ‘ کبیر اوسط اور مسند امام احمد میں ابی امامہ ؓ کی حدیث ہے جس میں ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے ایمان کی نشانی پوچھی آپ نے فرمایا جب آدمی کو اچھے کام سے خوشی اور برے کام سے رنج ہو تو یہ اس کے ایمان کی نشانی ہے اس سے معلوم ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) پر جو دست درازی کی وہ جوش ایمانی میں بےقابو ہو کر کی۔ مسند امام احمد کی سند میں اگرچہ کچھ ضعف ہے لیکن طبرانی کی کبیر اور اوسط میں یہ حدیث اچھی سند سے ہے :۔
Ayahs 7:152–153

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دیگا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے۔

(152 ۔ 153) ۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے ان بنی اسرائیل کا حال بیان فرمایا ہے جنہوں نے بچھڑا بنا کر اس کو پوجا تھا کہ ان پر خدا کا غضب نازل ہوا وہ یہ کہ ان لوگوں نے آپس میں ایک کو ایک نے قتل کیا اور دنیا میں بہت ذلیل ہوئے ملک سے نکالے گئے پھر اللہ پاک نے فرمایا جس طرح ان لوگوں پر غضب نازل ہوا اور ذلت نصیب ہوئی اسی طرح اور جھٹلانے والوں کی بھی یہی حال ہم کرتے ہیں۔ ابن عیینہ نے کہا کہ ہر ایک بدعت نکالنے والے کی یہی سزا قیامت تک ہے الفتراء دروغ بندی کو کہتے ہیں تو جو شخص اللہ پر جھوٹ باندھے گا اس پر اللہ کا غضب نازل ہوگا اس کو ذلت نصیب ہوگی خواہ وہ ویسی نہ ہو جیسا بچھڑا پوجنے والوں کی ہوئی اس کے بعد اللہ پاک نے یہ بھی فرما دیا کہ جن لوگوں نے خواہ کسی قسم کا گناہ کیا ہو چھوٹا بڑا یہاں تک کہ شرک اور کفر بھی اگر ایسے لوگوں نے گناہ کے بعد توبہ کی تو اللہ پاک بڑا مہربان اور بخشنے والا ہے اس کی توبہ قبول کرلے گا یہ آیت بہت بڑی بشارت ہے اس بات کی کہ انسان چاہے جس قسم کا گناہ کر کے تو بہ کرے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے وہ توبہ قبول کرلے گا اور سارے گناہ بخش دیگا مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں شیطان نے لوگوں کے بہکانے اور طرح طرح کے گناہ ان سے کرانے پر اللہ تعالیٰ کے روبرو قسم کھائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر اس ملعون کو یہ جواب دیا ہے کہ گناہ کر کے جو کوئی توبہ استغفار کریگا میں بھی اس کے گناہوں کے معاف کرنے میں کبھی دریغ نہ کروں گا یہ حدیث آیت کی بشارت کی گویا تفسیر ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات کی) تختیاں اٹھا لیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ہدایت اور رحمت تھی۔

جب موسیٰ (علیہ السلام) کا سارا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو الواح توریت جو غصہ کی حالت میں زمین پر پھینک دی تھیں وہ پھر اٹھائیں اکثر مفسرین کے قول کے مطابق جس وقت ہاتھ سے لوحیں ڈال دی تھیں تو ٹوٹ گئی تھیں کچھ حصے اس کے جاتے رہے اور باقی حصہ جو رہ گیا تھا اس میں ہدایت اور رحمت پائی مگر اس بات پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ لوح ٹوٹ گئی تھی اور بعضوں کا یہ گمان ہے کہ اس لوح کے ریزے بنی اسرائیل کے بادشاہوں کے خزانہ میں دولت اسلامی تک موجود رہے اس کا ثبوت بھی کوئی پکا نہیں ملتا خدا جانے یہ بات کہاں تک صحیح ہے بہر حال اللہ نے فرمایا کہ لوح جب انہوں نے اٹھائی تو اس میں ہدایت اور خدا کی رحمتیں پائیں جن سے وہی لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں جو اپنے خدا سے ڈرتے ہیں قتادہ کا قول ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے رب میں اس لوح میں دیکھتا ہوں کہ ایک امت ساری امتوں سے بہتر ہوگی وہ تیرے حکم کو بجالاوے گی اور جن باتوں سے تو نے منع کیا اس سے وہ باز رہے گی اے اللہ وہ امت میری ہی امت بنا فرمایا کہ وہ امت امت محمدیہ ہے پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ بات بھی میں لوح میں پاتا ہوں کہ ایک امت آخر میں سابقین ہوگی کہ دنیا میں سب امتوں کے بعد ہوگی اور جب میں ساری امتوں سے پہلے داخل ہوگی یا اللہ وہ میری ہی امت ہو فرمایا کہ یہ امت احمد ہے پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ بھی لوح میں میں دیکھتا ہوں کہ ایک امت وہ ہے جس کی کتاب اس کے سینے میں ہوگی اور وہ زبانی اس کو پڑھا کرے گی اور پہلی امتیں اپنی کتاب دیکھ کر پڑہتی تھیں یہاں تک کہ جب وہ کتاب اٹھائی گئی تو کچھ انہیں یاد تک نہیں تو اے اللہ وہ امت میری امت ہو فرمایا کہ یہ امت احمد ﷺ ہے پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ یا اللہ میں لوح میں یہ بھی پاتا ہوں کہ ایک وہ امت ہے جو ساری آسمانی کتابوں پر ایمان لائے گی اور گمراہوں سے جنگ کرے گی یہاں تک کہ دجال سے لڑے گی یا اللہ وہ میری ہی امت ہو فرمایا کہ وہ امت احمد ﷺ ہے پھر سے آپ (علیہ السلام) نے یہ بات کہی کہ یا اللہ ایک امت وہ ہے جو اپنا صدقہ آپ ہی کھا کر ثواب حاصل کرے گی پہلی امتوں میں یہ دستور تھا کہ صدقہ جب قبول ہوتا تھا کہ اللہ پاک ایک آگ بھیج دیتا تھا اور وہ اس کو کھا جاتی تھی اور اگر صدقہ نامقبول ہوتا تھا تو جوں کا توں پڑا رہتا تھا درندے اور پرندے اس کو کھا جاتے تھے اس امت میں قاعدہ ہے کہ مالدار کا صدقہ محتاجوں کو دلوایا جاتا ہے گویا اسی کا خلاصہ ان تختیوں میں لکھا ہوا تھا پھر مو سے (علیہ السلام) نے کہا یا اللہ وہ میری امت کر فرمایا کر یہ امت احمد ﷺ ہے اس کے بعد پھر موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا کہ اے رب میں لوح میں ایک اور امت دیکھتا ہوں کہ اگر وہ فقط نیکی کا ارادہ کرے گی تو اس کے واسطے ایک نیکی لکھ دی جاوے گی اور اگر وہ ارادہ کے بعد عمل میں بھی لادیگی تو دس نیکیاں بلکہ سات سونیکیاں تک لکھی جاویں گی یا اللہ وہ میری ہی امت کر فرمایا کہ وہ امت احمد ﷺ ہے پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے رب ایک امت اور اس لوح میں پاتا ہوں کہ آخرت میں ان کو کوئی شفیع بھی ہوگا اور ان کی شفاعت قبول بھی ہوگی یا اللہ وہ میری ہی امت ہو فرمایا کہ وہ بھی محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہے قتادہ جو اس قول کے قائل ہیں کہتے ہیں کہ یہ بات ہم سے ذکر کی گئی کہ آخر موسیٰ (علیہ السلام) یہ بات کہی کہ یا اللہ مجھے بھی احمد ﷺ کی امت بنا دے یہ قتادہ بن وعامہ ثقہ تابعی ہیں صحیح بخاری میں ان سے روایت ہے۔ یہ قتادہ قدیم مفسروں میں مشہور ہیں اور ان کا قول تفسیر کے باب میں یہت معتبر ہے آیت کنتم خیر امۃ سے اور ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں بھربن حکیم کی جو حدیث ہے اس سے قتادہ کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔ بھر بن حکیم کی اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ امت محمدیہ پچھلی ستر امتوں کے پورا کرنے والی امت ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ امت سب پچھلی امتوں سے بہتر ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے بخاری وغیرہ کی روایتوں کے حوالہ سے سورة بقر میں گذر چکا ہے کہ جب پچھلی امت کے لوگ اپنے انبیاء کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلادیں گے اور یہ کہویں گے کہ یا اللہ ہم کو کسی نبی نے تیرا حکم نہیں پہنچایا تو امت محمدیہ کی یہ گواہی اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہوگی کہ یا اللہ تو نے ہمارے نبی آخر الزمان پر جو دنیا میں قرآن اتارا تھا اس میں پہلے انبیاء کا اور پہلی امتوں کا سب ذکر ہے اس واسطے ہم تیرے کلام اور تیرے رسولوں کے سچے ہونے کی گواہی ادا کرتے ہیں۔ ان روایتوں سے بھی قتادہ کے قول کی تائید اور امت محمد یہ کی فضیلت نکلتی ہے :۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی) اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کر کے کوہ طور پر حاضر) کئے جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو (موسی نے) کہا کہ اے پروردگار ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کردیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کر دے گا ؟ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کار ساز ہے۔ تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ ستر آدمی اپنی قوم میں سے چن کر میرے پاس لے آؤ اور گوسالہ پوجنے کی عذر خواہی کردی خطیب کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب لوگوں کو منتخب کیا تھا تو ساٹھ آدمی بوڑھے نکلے حکم ہوا کہ دس آدمی جوان بھی لو دس جو ان جب لے لئے تو وہ بھی صبح کو بوڑھے ہوگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) ان لوگوں کو لے کر وقت مقررہ پر حاضر ہوئے کوہ طور کے نیچے ایک بہت بڑا ابر کا ٹکڑا آیا جس نے سارے پہاڑ کو ڈھانپ لیا موسیٰ (علیہ السلام) اس ابر میں گھس گئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میرے پاس آجاؤ اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کیں جب اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) سے بات کرتا تھا تو ان کی پیشانی پر ایسا نور برسنے لگتا تھا کہ کسی انسان کا مقدور نہ تھا کہ آپ کے چہرہ کی طرف دیکھ سکے بہرحال ان ستر آدمیوں نے اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تو ایمان نہ لاویں گے جب تک اللہ جل شانہ کو صاف صاف نہ دکھیں اتنا کہنا تھا کہ ایک زلزلہ آیا اور بجلی چمکی اور ان لوگوں پر گری یہ ستر ایک دم میں ہلاک ہوگئے ان لوگوں پر بجلی کا گرنا تو سورة بقر میں صاف آچکا ہے لیکن بجلی کے گرنے کے وقت زمین بھی ہلتی ہے اس واسطے بعضے مفسروں نے رجفہ کے معنے بجلی اور زلزلہ دونوں کے لئے ہیں اس واسطے تینوں ترجموں میں زلزلہ کے معنے لئے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس حال کے دیکھنے سے بہت قلق ہوا اس لئے حضرت موسیٰ نے اللہ پاک سے دعا کی کہ یا اللہ اگر تیری ایسی مرضی تھی تو اس سے پہلے ان لوگوں کو اور مجھے بھی ان کے ساتھ ہی ہلاک کر ڈالتا یہ لوگ تو نرے بیوقوف ہیں جو انہوں نے ایسی بات کہی اور اب کیا ان لوگوں کو بھی ہلاک کر دیگا جو میرے پیچھے رہ گئے ہیں پھر کہا کہ یہ تیری آزمائش ہے تو جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے تو ہی ہم لوگوں کا مالک ہے۔ پھر کہا کہ تو رحم کر ہمارے حال پر اور ہمیں بخش دے تو ہی بڑا بخشنے والا ہے مجاہد کا اس مقام پر یہ قول ہے کہ وہ لوگ ستر آدمی جو زلزلہ سے ہلاک ہوگئے اللہ پاک نے پھر ان کو زندہ کردیا ورنہ زلزلہ اس لئے آیا تھا کہ ان لوگوں نے خدا کو کھلم کھلا دیکھنا چاہا تھا اوپر گذر چکا ہے کہ ان ستر آدمیوں کے کوہ طور پر ساتھ لانے سے پہلے جب موسیٰ (علیہ السلام) تنہا کو کہ طور پر آئے تھے اور انہوں نے دنیا کی آنکھوں سے دیدار الٰہی کی خواہش کی تھی تو ان کی وہ خواہش ناممکن ٹھہری تھی اب یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس خوا اہش کو اپنے رسول کے لئے ناممکن ٹھہرایا وہ خواہش امت کے کسی شخص کو زیبا نہیں ہے باوجود اس کے ان ستر آدمیوں نے ان گستاخی کے لفظوں میں یہ ناممکن خواہش پیش کی جس کا ذکر سورة بقرہ میں گذرا تو اس گستاخی کی سزا میں ان پر بجلی گری جس سے وہ ستر آدمی مرگئے اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان لوگوں کی گستاخی کے گناہ کی معافی کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے لوگوں کا وہ گناہ معاف فرما کر پھر ان لوگوں کو زندہ کردیا معتبر سند سے مسند امام احمد مسند بزار مسندابی یعلی اور مستدرک حاکم میں ابوسعید خدری ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ایسی بات کی خواہش اور دعا سے امت محمد یہ کو منع فرمایا ہے جس بات کی شریعت میں ممانعت ہو۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ جس طرح ایک ناممکن خواہش کے پیش کرنے سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی خفگی ہوگئی اسی طرح اب بھی ہر امر ناممکن شرعی کی دعا اور خواہش سے ایمان دار شخص کو پرہیز کرنا لازم ہے کس لئے کہ جو امر شرع الٰہی میں ناجائز ٹھہر چکا کسی کی دعا سے اس کا جائز ٹھہر جانا ناممکن اور ایسی ناممکن چیز کے شرعی طور پر حاصل ہوجانے کی دعا اور خواہش شرع الہٰی کے بدل جانے کی گستاخی کی خواہش ہے اور اسی خواہش سے اللہ تعالیٰ کی خفگی کا خوف ہے جس سے ہر مسلمان کو پرہیز لازم ہے۔