Ayah 7:156یہ دوسری دعا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلی جو دعا کی تھی رفع ضرر کے لئے تھی اور یہ دعا حصول مقصد کے لئے حسنۃ کے معنے اعمال صالح کے ہیں یا مراد حسنۃ سے فضل ہے یعنی دین میں نیک عملوں کی توفیق اور رزق میں وسعت رہے اور آخرت میں بہشت عطا کر۔ ھُدنا کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے توبہ کی اور تیری طرف رجوع ہوتے ہیں مفسروں کا بیان ہے کہ اسی ھدنا کہنے سے یہودی یہود کے نام سے مشہور ہوئے جب تک شریعت موسوی منسوخ نہیں ہوئی تھی یہ نام خوبی کا تھا اور بعد اس شریعت کے منسوخ ہوجانے کے وہ بات باقی نہیں رہی اس لئے کہ منسوخ شریعت کے موافق عمل کرنے سے کچھ اجر نہیں اسی واسطے حضرت ﷺ نے فرمایا کہ آخری وقت میں مو سے (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو سوائے شریعت محمدی کے پیروی کے اور کوئی راستہ نجات کا نہ تھا چناچہ جابر ؓ کی اس مضمون کی حدیث مسند امام احمد وغیرہ کے حالہ سے ایک جگہ گذر چکی ہے حضرت جابر ؓ کی اس حدیث کی سند معتبر ہے صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ کی حدیث ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے اللھم اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنہ وقنا عذاب النار اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی جس دعا کا ذکر ہے اس میں دوزخ کی آگ سے امن میں رہنے کا صاف ذکر نہیں تھا آنحضرت ﷺ نے سورة بقر میں سے قرآن شریف کے لفظ لے کر ایسی دعا اختیار فرمائی جس میں آگ سے امن میں رہنے کا بھی صاف ذکر آگیا ترمذی ‘ نسائی صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں انس بن مالک ؓ کی دوسری حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص تین دفعہ دن رات میں دوزخ کی آگ سے امن میں رہنے کی دعا مانگتا رہے گا تو خود دوزخ بھی اللہ تعالیٰ سے یہ التجا کرتی رہے گی کہ یا اللہ تو اس شخص کو دوزخ کی آگ سے امن میں رکھ۔
انس بن مالک ؓ کی اس حدیث کو حکم نے صحیح کہا ہے۔ اس حدیث سے وہ فائدہ اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس فائدہ کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی دعا میں دوزخ کی آگ سے امن میں رہنے کے لفظ بڑھائے ہیں امت محمد یہ کے ہر شخص کی اللہ کے رسول کی اس شفقت کی قدر کرنی چاہیے او اس دعا کا ہمیشہ درد رکھنا چاہیے۔ اوپر کی آیتوں میں جو یہ ذکر تھا کہ زلزلہ اور بجلی کے گرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہی ہلاک ہوگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں دعا کی اور یہ کہا کہ یہ تیری جانچ اور آزمائش ہے اسی کے جواب میں اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ میں جو چاہتا ہوں وہ کرتا ہوں ہر چیز میں میرا حکم جاری ہے میں جس پر چاہتا ہوں عذاب بھیجتا ہوں اور جس پر چاہتا ہوں رحمت نازل کرتا ہوں میرا عذاب اور میری رحمت کسی خاص فرقہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے رحمت خاص میں کے حصہ میں ہے جو خدا سے ڈرتا ہے عذاب اور میری رحمت کسی خاص فرقہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے رحمت خاص اسی کے حصہ میں ہے جو خدا سے ڈرتا ہے اور اپنے مال میں سے خدا کی راہ پر دیتا ہے اور اپنے نفس کو شرکت اور کفر سے بچاتا ہے اور میری آیتوں میں ساری کتابوں پر ایمان لاتا ہے۔ مسند امام احمد اور ابوداؤد میں جندب ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی اپنی اونٹنی کو بٹھا کر اور اس کے پاؤں باندھ کر آیا اور حضرت صلعم کے پیچھے نماز پڑھی نماز کے بعد وہ اعرابی اونٹنی کے پاؤں کھول کر سوار ہوا اور کہنے لگا کہ یا اللہ مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحمت بھیج اور ہماری رحمت میں کسی کو شریک نہ کر حضرت نے صحابہ سے کہا کہ تم کیا کہتے ہو کہ یہ اعرابی زیادہ بیوقوف ہے یا اس کا اونٹ تم نے سنا نہیں یہ کیا کہتا تھا لوگوں نے کہا کہ ہاں سنا آپ نے اعرابی سے فرمایا کہ تو نے خدا کی ایک وسیع رحمت کو تنگ کردیا اللہ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں جن میں سے ایک رحمت دنیا میں اتاری جس کی وجہ سے سارے جن و انسان اور جانور آپس میں ایک دوسرے پر رحم کھاتے ہیں اور ننانوے حصے اس رحمت کے اپنے پاس روک رکھے ہیں اب تم بتلاؤ کہ یہ گنوار زیادہ بیوقوف ہے یا اونٹ۔ اس بات کے متعلق کہ ننانوے حصے رحمت کے اللہ پاک نے اپنے پاس رکھے ہیں اور ایک رحمت دنیا میں بھیج دی ہے اور حدیثیں بھی ہیں مثلا صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ اور فقط مسلم میں سلمان ؓ فارسی سی روایتیں ہیں ان روایتوں سے جندب ؓ کی روایت کو بڑی تقویت ہوجاتی ہے۔ صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی شفاعت کی حدیث کا ذکر ایک جگہ گذر چکا ہے کہ سب شفاعتوں کے بعد خود اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اسے لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں ڈال دیویگا کو جو مشرک تو نہ تھے مگر دنیا میں انہوں نے عمر بھر کوئی نیک کام نہیں کیا تھا صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث بھی ایک جگہ گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غصے اور عذاب کا پورا حال لوگوں کو اگر معلوم ہوجاوے تو نیک لوگوں کے دل میں بھی جنت کے ملنے کی آرزو بہت کم ہوجاوے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پورا حال لوگوں کو اگر معلوم ہوجاوے تو نافرمان لوگوں کے دل میں بھی جنت کے ملنے کی آرزو پیدا ہوجاوے یہ حدیتیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے غصہ کی گویا تفسیر ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غصہ پر غالب ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی اور صفات کی بابت اہل سنت کا جو یہ اعتقاد ہے کہ اس پاک ذات کی جو صفات قرآن یا صحیح حدیثوں میں آئے ہیں بغیر کسی عقلی معنے کے بیان کرنے کے ان پر ہم ایمان لاتے ہیں اور ان کی تفصیلی کیفیت اللہ کے علم پر سونپتے ہیں اللہ تعالیٰ کے یہ غصہ کی صفت بھی اہل سنت کے نزدیک ان ہی صفات میں داخل ہے :۔
Ayah 7:157اوپر کی آیت میں جو اللہ پاک نے یہ فرمایا تھا کہ میری رحمت انہی لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں اور میری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں انہی کا یہ ذکر اس آیت میں فرمایا کہ وہ لوگ وہ ہیں جو رسول امی کی پیروی کرتے ہیں امام رازی نے کہا ہے الذین یتبعون سے مراد بنی اسرائیل ہیں مگر جمہور مفسرین کا قول یہ ہے کہ اس آیت میں ساری امت آنحضرت کی مراد ہے خواہ بنی اسرائیل میں سے ہوں خواہ کسی اور فرقے کے ہوں جو حضرت پر ایمان لایا ہے آیت اسی کی شان میں ہے پھر فرمایا کہ اگلی امتیں ان رسول کو اپنی کتاب توریت انجیل میں نبی امی لکھا ہوا پاتے ہیں اس لئے کہ آپ جس طرح ماں کے شکم سے پیدا ہوئے اسی طرح تاحین حیات رہے نہ کسی سے لکھنا سیکھا نہ پڑھنا اس واسطے آپ کا لقب امی ہے کہ آپ ام القریٰ مکہ میں پیدا ہوئے یہی دو معنے امی کی مفسروں نے بیان کئے ہیں پہلے رسولوں نے آپ کی صفت اپنی کتابوں میں دیکھ کر اپنی امت کو اس کی بشارت دے دی تھی کہ یہ وصف امی کا حضرت خاتم الانبیاء اور سید المرسلین کا لقب ہے حضرت انس ؓ کی ایک حدیث صحیح بخاری میں ہے میں ابوصخر عقیلی کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک گھوار نے ذکر کیا کہ وہ مدینہ میں ایک روز حلو ابیچنے کو گیا حضرت ﷺ کے دیکھنے کا دل میں خیال ہوا کہ چلو ان کو بھی دیکھوں اور ان کی باتیں سنو راستے میں آپ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے ساتھ جا رہے تھے وہ گنوار بھی ان کے پیچھے ہو لیا ایک یہودی کا جوان اور خوبصورت لڑکا قریب المرگ تھا وہ یہودی توریت کھولے ہوئے پڑھ رہا تھا حضرت ﷺ نے اس سے کہا کہ تجھ کو توریت نازل کرنے والے کی قسم سچ بتلا اس میں میری صفت اور میرے رسول بنائے جانے کا ذکر ہے اس نے سر ہلا کر کہا کہ نہیں اس کے بیٹے نے جو جان کنی کی حالت میں تھا کہ کہ مجھ کو اسی ذات کی قسم ہے جس نے توریت نازل کی ہے میں آپ کی صفت اور آپکا دنیا میں آنا توریت میں لکھا ہوا پاتا ہوں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سوا اللہ کے کوئی معبود نہیں اور آپ اس کے رسول ہیں حضرت نے فرمایا کہ اس یہودی کو اس کے بیٹے کے پاس سے اٹھا دو اور آپ خود اس مرنے والے کے متولی ہوئے اور کفن و نماز اسکی آپ نے ادا کی حاکم کی مستدرک میں ابوامامہ باملی ؓ کی روایت ہے جس میں ہشام بن خاص اموی کہتے ہیں کہ میں اور ایک شخص ہرقل بادشاہ روم کی طرف بھیجے گئے تاکہ اس کو دین اسلام کا پیغام پہنچائیں جب دمشق میں پہنچے جبلہ بن ابہم غسالی جو وہاں کا حاکم تھا اس کے یہاں گئے وہ تخت پر بیٹھا تھا اس نے قاصد کو بھیجا کہ ان سے جا کر بات کرو ہم نے کہا کہ ہم قاصد سے بات نہیں کریں گے ہم تو بادشاہ کے پاس بھیجے گئے ہیں اگر وہ ہم کو اپنے پاس بلائے گا تو اس سے بات کریں گے قاصد نے یہی جاکر کہہ دیا اس نے ہم کو بلا کر کہا کہو کیا کہتے ہو ہشام بن عاص ؓ نے گفتگو کی اور دعوت اسلام پہنچائی وہ سر سے پاؤں تک کالے کپڑے پہنے ہوئے تھا ہشام نے کہا کہ تمہارے یہ کپڑے کیسے ہیں اس نے کہا میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک تم کو ملک شام سے نہ نکال دوں گا یہ کپڑے نہ اتاروں گا ہشام نے کہا واللہ ہم تجھ سے تیری اس محفل کو چھین لیں گے بلکہ تیرے بادشاہ کا ملک بھی لے لیویں گے ہم کو یہ خبر ہمارے رسول ﷺ نے دی ہے اس نے جواب دیا کہ وہ لوگ اور ہیں تم نہیں ہو وہ لوگ دن کو روزے رکھتے ہیں اور راتوں کو نماز پڑھتے ہیں تم کہو تمہارا روزہ کیسا ہے میں نے بتلا دیا اس کا منہ سیاہ ہوگیا اور میرے ساتھ ایک قاصد کر کے کہا کہ جاؤ ہم لوگ بادشاہ کی طرف چلے جب شہر کے قریب پہنچے تو قاصد نے کہا کہ یہ تمہارے اونٹ شہر میں نہ جانے پاویں گے اگر کہو تو عربی خچردل پر سوار کر کے تمہیں لے چلیں ہشام نے کہا کہ اللہ کی قسم اگر ہم چاہیں گے تو ان ہی اپنی سواریوں پر جائیں گے قاصد نے بادشاہ کے پاس آدمی بھیج کر دریافت کیا کہ یہ لوگ عربی خچروں پر سوار ہو کر آنے سے انکار کرتے ہیں بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں کی سواریوں پر ان کو آنے دو ہشام کہتے ہیں کہ ہم تلواریں لگائے ہوئے تھے جب اندر داخل ہونے کے قریب پہنچے تو اس کے جہروں کے نیچے اپنے اونٹوں کو بٹھادیا اور لا الہ الا اللہ واللہ اکبر کہا اللہ جانتا ہے کہ وہ برآمدہ گر پڑا بادشاہ نے میرے پاس آدمی بھیجا کہ تمہیں زور سے چلا کر اپنے دین کی بات کا کہنا زیبا نہیں ہے پھر ہمیں اپنے پاس بلایا فرش پر بیٹھا ہوا تھا اور ارد گرد علماء روم بیٹھے تھے اس کی مجلس میں ہر شے لال رنگ کی تھی کپڑے بھی لال رنگ کے پہنے ہوئے تھا ہمیں دیکھ کر ہنسا اور کہا کہ اگر تم ہم کو سلام کرتے تو کیا نقصان تھا اس کے پاس ایک عربی مترجم بھی تھا جو بڑا زبان آور تھا وہی ترجمہ کر کے عربی سے رومی زبان میں اس کو سمجھاتا تھا میں نے کہا کہ ہمار آپس کا سلام تہمارے لئے درست نہیں ہے اور جو تمہار سلام ہے وہ ہم کہہ نہیں سکتے اس نے پوچھا تم آپس میں کس طرح سلام کیا کرتے ہو میں نے کہا السلام پھر اس نے کہا کہ سب سے بڑا کلام تمہارا کیا ہے میں نے کہا لا الہ الا اللہ واللہ اکبر جب ہم نے یہ کلمہ کہا تھا تو یہ بر آمدہ گر پڑا اس نے سر اٹھا کر دیکھا اور کہا کہ اس کلمہ سے بر آمدہ گر پڑا تو جب اپنے گھروں میں بھی یہ کلمہ کہتے ہوگے تو کوئی مکان گرپڑتا ہوگا میں نے کہا کہ نہیں سوائے آج کے اور کبھی یہ بات نہیں دیکھی پھر ہم سے پوچھا کہ کس ارادہ سے تمہارا آنا ہوا میں نے دعوت اسلام پہنچائی اس نے ہماری نمازوں اور روزوں کا حال پوچھا میں نے سب بتلادیا پھر اس نے ہم کو ایک عمدہ مکان میں اتارا اور تین روز مہمان رکھا پھر رات کے وقت آدمی بھیج کر بلایا اور ہم سے وہی پہلے کے سوال کئے میں نے وہی جواب دیئے پھر ہم کو ایک سنہری حویلی میں لے گیا جس میں چھوٹے چھوٹے دروازے تھے ایک دروازہ کا قفل کھول کر ایک سیاہ حریر کا کپڑا نکال کر پھیلایا اس میں ایک تصویر لال رنگ کی تھی جس کی بڑی بڑی آنکھیں تھیں گردن ایسی لانبی تھی کہ ہم نے کبھی ایسی نہیں دیکھی وہ شخص احسن خلق اللہ معلوم ہوتا تھا بادشاہ نے پوچھا تم انہیں پہچانتے ہو ہم نے کہا نہیں کہا کہ یہ آدم (علیہ السلام) ہیں ہم نے دیکھا تو ان کے سر میں بال لوگوں سے زیادہ تھے پھر دوسرا دروازہ کھول کر ایک کالا حریر نکالا جس میں ایک سفید تصویر تھی بال گھونگریالے تھے لال لال آنکھیں بڑا سر ڈاڑھی گھنی پوچھا کہ ان کو جانتے ہو ہم نے کہا کہ نہیں اس نے بتلایا یہ نوح (علیہ السلام) ہیں پھر ایک اور دروازہ کھول کر سیاہ حریر نکالا جس میں ایک صورت بہت ہی سفید اور نہایت خوبصورت آنکھیں کھلی پیشانی لانبا چہرہ سفید ڈاڑھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مسکرار ہے ہیں ہم سے پوچھا کہ پہچانتے ہو یہ کون ہیں ہم نے کہا کہ نہیں کہا کہ یہ ابراہیم (علیہ السلام) ہیں پھر ایک دروازہ کھول کر تصویر نکالی جو بالکل سفید تھی واللہ وہ رسول خدا ﷺ تھے ہم نے دیکھتے ہی پہچان لیا اس نے پوچھا انہیں جانتے ہو یہ کون ہیں ہم نے رو کر کہا کہ ہاں یہ محمد ﷺ ہیں وہ کھڑا ہوگیا اور کہا اللہ کی قسم یہ وہی ہیں ہم نے کہا ہاں گویا تم اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہے ہو تھوڑی دیر خاموش رہ کر اس تصویر کو دیکھتا رہا پھر کہنے لگا کہ یہ آخری خانہ تھا میں نے جلدی کی کہ تم اس تصویر کو دیکھ کر کیا کہتے ہو پھر دوسرا دروازہ کھول کر سیاہ حریر نکالا جس میں سانولے رنگ کی تصوریر تھی کسی قدر رنگ زرد تھا گھونگر والے بال تھے آنکھیں گہری تیز نظر دانت برابر برار ہونٹ موٹے موٹے چہرہ سے غصہ ٹپک رہا تھا مجھ سے پوچھا کہ پہچانتے ہو میں نے کہا نہیں بتلایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں ان کی بغل میں ایک اور تصویر انہیں کی شکل سے ملتی جلتی تھی مگر بال چکنے چکے پیشانی چوڑی آنکھیں ابھری ہوئی پوچھا کہ پہچانتے ہو میں نے کہا نہیں کہا یہ ہارون بن عمران (علیہ السلام) ہیں پھر ایک اور دروازہ کھولا اور ایک سفید حریر نکال کر دکھلایا جس میں ایک شبیہ تھی جس کا رنگ گندمی تھا بال سیدھے سیدھے قد میانہ تھا چہرہ سے غصہ ظاہر تھا اس نے پوچھا ان کو پہچانتے ہو ہم نے کہا کہ نہیں کہا کہ یہ لوط (علیہ السلام) ہیں پھر ایک دوسرا دروازہ کھولا اور سفید حریر نکالا جس میں سفید وسرخ تصویر تھی ناک اونچی چہرہ خوبصورت پوچھا کہ ان کو پہچانتے ہو ہم نے کہا نہیں کہا یہ اسحاق (علیہ السلام) ہیں پھر ایک دروازہ کھول کر سفید حریر نکالا اس میں اسحاق (علیہ السلام) کے مشابہ تصویر تھی جس کے ہونٹ پر تل تھا کہا اس کو جانتے ہو میں نے کہا نہیں کہا یہ یعقوب (علیہ السلام) ہیں پھر ایک دروازہ کھول کر ایک ریشمی کالا کپڑا نکالا جس میں ایک تصویر سفید رنگ حسین ناک لانبی موزون قد رنگ سرخی مائل تھا چہرے پر نور برس رہا تھا پوچھا ان کو پہچانتے ہو میں نے کہا کہ نہیں کہا یہ اسماعیل (علیہ السلام) ہیں تمہارے نبی ﷺ کے دادا پھر ایک دروازہ کھولا اور سفید حریر نکالا جس میں ایک تصویر مشابہ آدم (علیہ السلام) کے تھی اور سورج کی طرح چہرہ چمک رہا تھا پوچھا کہ پہچانتے ہو ہم نے کہا کہ نہیں کہا کر یہ یوسف (علیہ السلام) ہیں پھر ایک دروازہ کھولا اور سفید حریر نکالا جس میں سرخ رنگ کی تصویر تھی پنڈلیاں پتلی پتلی آنکھیں چھوٹی چھوٹی پیٹ بڑا قد درمیانہ تلوار لٹکائے ہوئے پوچھا ان کو جانتے ہو ہم نے کہا نہیں کہا یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) ہیں پھر ایک اور دروازہ کھولا اور سفید حریر نکالا جس میں ایک گھوڑے سوار کی تصویر تھی پیر لانبے لانبے کہا ان کو پہچانتے ہو ہم نے کہا کہ نہیں بولا کہ یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہیں پھر ایک دروازہ کھول کر سیاہ حریر نکالا جس میں سفید تصویر تھی ایک جوان شخص جس کی آنکھیں نہایت حسین کالی ڈاڑھی خوبصورت پوچھا ان کو پہچانتے ہو ہم نے کہا نہیں کہا کہ یہ عیسیٰ السلام ہیں ہم نے یہ صورتیں دیکھ کر کہا کہ تم نے یہ کہاں سے حاصل کیں مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انبیا (علیہم السلام) کی شبیہ ہیں کیونکہ ہم نے اپنے رسول اللہ ﷺ کی بعینہ شبیہ دیکھی ہے جواب دیا کہ آدم (علیہ السلام) نے اللہ پاک سے سوال کیا تھا کہ میری اولاد میں جتنے انبیاء ہوں گے انکی صورتیں مجھے دکھلا دی جاویں اس پر یہ تصویریں اتری تھیں اور خزانہ آدم (علیہ السلام) میں تھیں ذوالقرنین نے وہاں سے نکال کر ان کو دانیال (علیہ السلام) کے سپرد کیا تھا پھر کہنے لگا کہ اللہ کی قسم میرا جی اس بات کو بہت خوشی سے چاہتا ہے کہ میں اپنا ملک چھوڑ کر مرتے دم تک کسی کا غلام بن کر زندگی بسر کروں خواہ وہ شخص کج خلق شریر النفس ہی کیوں نہ ہو۔ پھر ہم کو انعام دے کر رخصت کیا ہم نے واپس آ کر ابوبکر صدیق ؓ سے یہ قصہ تمام و کمال بیان کیا ابوبکر صدیق ؓ روئے اور کہا کہ وہ مسکین ہے اگر خدا اس کے ساتھ بہتری کا ارادہ کریگا اس کو ایمان نصیب ہوگا پھر فرمایا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ نصاریٰ یہود اپنی کتابوں میں محمد ﷺ کی صفت پاتے ہیں اس حدیث کو بیہقی نے بھی دلائل النبوۃ میں مع اسناد کے بیان کیا ہے اور اس کی سند کو جید بتلایا ہے جس سے حاکم کی روایت کو تقویۃ حاصل ہوجاتی ہے اس کے سوا اور بہت سی حدیثیں ہیں جن کے یہ ذکر ہے کہ اہل کتاب حضرت صلعم کی صفات اپنی کتابوں میں پاتے ہیں اور اس کا اقرار کرتے ہیں پھر اللہ پاک نے نبی کی تعریف بیان کی کہ وہ لوگوں کو امر بالمعروف کا حکم دیگا اور نہی عن المنکر کو جاری رکھے گا اور اگلی کتابوں میں بھی اسی طرح حضرت (علیہ السلام) کی صفت مذکور ہے کہ آپ خیر کا حکم فرمائیں گے اور شر سے منع کریں گے چناچہ یہ صفت آپ میں کامل طور سے پائی جاتی تھی امام احمد اپنی مسند میں ابوحمید اور ابواسید سے جید سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے جب کوئی میری حدیث سنو جس کو تمہارے دل قبول کریں اور رونگٹے کھڑے ہوجاویں تو وہ میری حدیث ہے اور اگر ایسی حدیث میری طرف سے تم سنو جس کو تمہارے دل قبول نہ کریں اور رقت نہ طاری ہو تو سمجھ لو کہ میں اس سے بہت دور ہوں پھر ایک اللہ پاک نے دوسری صفت آپ کی بیان فرمائی کہ وہ نبی امی تم لوگوں کے لئے بڑی چیز دل کو حرام کردے گا اور پاک چیزوں کو حلال مقرر کریگا لوگوں نے جن چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرالیا تھا جیسے مثلا بحیرہ وغیرہ جن کا ذکر سورة مائدہ میں گذرا ان کو اللہ پاک کے حکم سے آنحضرت نے حلال کردیا اور جن چیزوں کو لوگوں نے اپنے اوپر حلال کرلیا تھا جیسے مثلا سود رشوت خون وغیرہ اس کو حرام کیا حضرت عبداللہ عباس ؓ کا قول ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں سے جو چیزیں اللہ پاک نے حلال کردی ہیں اس سے بدن اور دین کو نفع پہنچتا ہے اور وہ چیزیں حرام کردی ہیں جو بدن اور دین کو نقصان دیتی ہیں پھر اللہ پاک نے ایک اور صفت رسول امی کی بیان فرمائی کہ جو دفتیں اور مشکتیں پہلی امتوں پر دین کے کاموں میں تھیں ان کو اپنی امت پر بالکل آسان کردیں گے جیسے اگلی امتوں میں توبہ کے معاملہ پر قتل نفس تھا جس عضو سے گناہ صادر ہوتا تھا اس کا کاٹنا اور جس عضو میں یا کپڑے میں نجاست لگ جاتی ہے اس کو قنیچی سے کتر ڈالنے کا حکم تھا نماز سوائے عبادت خانہ کے اور کہیں جائز نہیں تھی اس کے علاوہ اور بہت سے احکام تھے جو سخت تھے اللہ پاک نے ‘ سب سختیاں آنحضرت ﷺ کی امت پر ان کے طفیل میں آسان کردیں پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ جن لوگوں نے آپ کی تعظیم اور تو قیر کی اور آپ پر جو کتاب یا وحی نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کی وہی لوگ دنیا اور آخرت میں فلاح اور اجر پاویں گے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے تمام انبیاء کی نبوت کو ایک عالیشان محل سے تشبیہ دے کر اپنے آپ کو اسی محل کی آخری اینٹ فرمایا ہے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی صحیح بخاری ومسلم کی یہ حدیث بھی گذر چکی ہے کہ اہل کتاب میں سے جو شخص نبی آخر الزمان کو اللہ کا رسول جان کر شریعت محمدی کی پیروی کریگا اس کو دوہرا اجر ملے گا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عمر بن عاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اسی طرح مسند امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے جابر ؓ کی صحیح حدیث بھی گذرچ کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہود سے تورات کی بعض باتیں سن کر حضرت عمر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس بات کی اجازت چاہی تھی کہ تو رات کی ان باتوں کو لکھ لیا جاوے اس پر آنحضرت ﷺ خفا ہوئے اور فرمایا کہ اس آخری وقت میں موسیٰ (علیہ السلام) بھی اگر زندہ ہوتے تو ان پر بھی شرع محمدی کی پیروی لازم ہوتی ہے ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) سے لیکر خاتم الانبیاء محمد ﷺ تک شریعت الٰہی کا عالیشان محل بالکل پورا ہوگیا ہے جس کے مقابلہ میں سب پچھلی شریعتیں اب اس آخری عہد نبوت میں ادھوری دیواروں کی طرح ہیں۔ تو رات انجیل میں نبی آخر الزمان کے اوصاف اس لئے بیان کئے گئے ہیں کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ ان نبی آخر الزمان کا عہد پاویں وہ ان اوصاف سے ان کو پہچان لیں اور ان کی کامل شریعت پر عمل کر کے عقبے میں دوہرا اجر پاویں تاکہ پچھلی منسوخ شریعتوں پر عمل کر کے اپنے عملوں کو رائیگاں نہ کریں کیونکہ تقدیر الٰہی میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ اس آخری عہد نبوت میں عقبے کی کامیابی اور وہاں مراد کو پہنچنا اس کامل شریعت کی پابندی پر منحصر ہے یہاں تک کہ پچھلی امتیں تو درکنار اس آخری عہد نبوت میں پچھلے انبیاء بھی اگر زندہ ہوتے تو ان پر بھی اسی کامل شریعت کی پیروی لازم ہوتی اس لئے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے ہزا رہا برس پہلے جبکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ہر ایک عہد اور زمانہ کی مصلحت کے موافق ایک شریعت ٹھہرادی ہے تو اب شریعت وقتیہ کو چھوڑ کر غیر وقتیہ شریعت پر عمل کرنا علاوہ انتظام الٰہی میں خلل ڈالنے کے درپے ہونے کے غیروقتیہ شریعت کے موافق جو عمل ہوں گے وہ سب اکارت ہوجاویں گے کیونکہ کار آمد عمل تو وہی ہوسکتا ہے جو حکم الٰہی کے موافق رائج الوقت شریعت کے مطابق ہوا اس واسطے غیر رائج الوقت شریعت پر عمل کر کے ان عملوں کو عقبیٰ میں کار آمد اور قابل اجرگمان کرنا ایسا ہی ایک گمان ہے جیسے دنیا میں کوئی وکیل منسوخ قانون کے کسی دفعہ کے موافق کسی مقدمہ کی پیروی کرے اور بھر اس مقدمہ میں کا میابی کی توقع رکھے :۔
Ayah 7:158اللہ پاک نے حضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں سے صاف صاف کہہ دو کہ میں تم سب لوگوں کی طرف کیا عجم اور کیا عرب مغرب سے مشق تک جنوب سے شمال تک سارے جہان کے واسطے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ پاک نے پانچ چیزیں مجھ کو دیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں اور یہ بات میں کچھ فخر کی راہ سے نہیں کہتا ہوں میں سارے لوگوں کی طرف کیا لال کیا کالے سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اور میں رعب کے ساتھ ایک مہینہ کی راہ کے فاصلہ سے مدد تک گیا ہوں مطلب یہ ہے کہ جہاد میں فقط میرے رعب سے ملک یوں فتح ہوجاتے ہیں کہ میں ایک مہینہ کی راہ پر ہوتا ہوں اور میرے رعب سے لوگ ڈر جاتے ہیں مال غنیمت میرے لئے اللہ نے حلال کردیا مجھ سے پہلے کبھی غنیمت حلال نہیں تھی لوگ جلا دیا کرتے تھے میرے لئے تمام روئے زمین مسجد کا حکم رکھتی ہے جہاں نماز کا وقت آجاتا ہے اگر پانی نہیں میسر ہوا تیمم کر کے نماز ادا کرلی اور مجھے شفاعت دی گئی ہے جو میں نے اپنی امت کے واسطے رکھ جوڑی ہے میری امت میں سے جو شرک نہ کرے گا اس کی میں قیامت کے دن شفاعت کروں گا۔ اسی مضمون کی حدیث امام احمد کی مسند میں بھی ہے جس کی سند اچھی ہے اور صحیح بخاری ومسلم میں بھی جابر ؓ بن عبداللہ سے ایسی ہی ایک حدیث ہے اس کے بعد اللہ پاک نے زمین و آسمان کا اپنا خالق ہونا بیان فرمایا اور فرمایا کہ میں جس کو چاہتا ہوں تو زندہ کرتا ہوں اور جس کو چاہتا ہوں مارتا ہوں اس میں اپنی وحدانیت ثابت کی ہے پھر لوگوں کو حکم دیا کہ ان نبی امی پر ایمان لاکر ان کی بتلائی ہوئی راہ پر چلو نبی امی آپ کو اس لئے فرمایا کہ اگلی کتابوں میں آپ کا ذکر اسی نام سے تھا اسی واسطے فرمایا کہ وہی نبی امی ہیں جن کی بشارت تم کو اگلی کتابوں میں دی گئی تھی اگر ان کی راہ پر چلو گے تو ہدایت پاؤ گے آیت کی تفسیر وہی حدیں قرار پاسکتی ہیں جن کا ذکر اوپر گذرا کیونکہ آیت اور حدیثوں کے ملانے سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت عام خلق اللہ کے حق میں ہے اور اس آخری زمانہ میں ہدایت اسی آخری شریعت میں آنحضرت ہے اسی واسطے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث جو ایک جاہ گذر چکی ہے اس میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب میں سے جو شخص میرا حال سن کر پھر میری نبوت تسلیم نہ کرے گا اس کی نجات مشکل ہے۔
Ayah 7:159تفسیر وغیرہ میں اس آیت کی شان نزول جو لکھی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کی شان میں اتری ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں سے تھے اور حضرت پر ایمان لائے جیسے عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ ان ہی کو فرمایا کہ موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ہے جو حق بات کا پری دار صاحب انصاف ہے اور بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جو موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان ہو اس کے متعلق اللہ پاک نے یہاں تک یہ بیان فرمایا تھا کہ سامری نے گوسالہ بنالیا اور بنی اسرائیل کو شریک کر کے اس کو پوجنے لگا اور ستر آدمی موسیٰ (علیہ السلام) چن کر اپنے ساتھ کوہ طور پر لائے جو زلزلہ سے ہلاک ہوگئے اب اس آیت میں یہ فرمایا سب کی سب موسیٰ کی قوم ایسی نہیں تھی جو گمراہ ہوگئے تھے ایک فرقہ وہ بھی تھا جو حق پر تھا ابن جربج نے اپنی تفسیر کے اس موقعہ پر یہ ذکر کیا ہے کہ بنی اسرائیل نے جب انبیاء کو قتل کیا تو بارہ فرقے ہوگئے ایک فرقہ ان میں سے اس بات پر بالکل ناخوش ہوا اور اپنا عذر اللہ پاک سے ظاہر کیا اللہ پاک نے ایک نقب زمین میں پیدا کردی وہ لوگ اس نقب کی راہ سے چین کے قریب نکلے اور وہاں اپنے دین پر قائم ہیں 3 ؎ مگر قاضی شوکانی نے اپنی تفسیر میں اس قصہ کو صحت سے دور تر بتلایا ہے 4 ؎ حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کی یہت سی آیتوں سے یہ بات نکلتی ہے کہ ہاں یہود کی مذمت کا ذکر آتا ہے اس مذمت میں سے اللہ تعالیٰ مسلمان اہل کتاب کا دل بڑھانے کے لئے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں کو نکال لیتا ہے چناچہ امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے حوالہ سے سورة آل عمران کی آیت لیسوسواء (3: 113) کی شان نزول میں اس کا تذکرہ گزر چکا ہے اس سبب سے پہلی شان نزول صحیح معلوم ہوتی ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوصخر عقیلی کی حدیث جو گزر چکی ہے 5 ؎ اس حدیث کو یہود کی مذمت کی اوپر کی آیتوں کی اور اس آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں میں یہود کے جن دوگرو ہوں کا ذکر ہے حدیث میں ان دونوں گروہوں میں سے ایک شخص کا ذکر ہے جس میں ایک باپ تھا اور ایک بیٹا وبہ یعدلون اس کا مطلب یہ ہے کہ عبداللہ بن سلام کے گروہ کے لوگ قابل مذمت یہود کے گروہ کی طرح نبی آخرالزمان کے اوصاف اور تورات کے مسائل کے ظاہر کرنے میں ناحق پسندی اور ناانصافی نہیں کرتے :۔
2 ؎ تفسیر جامع البیان مع حاشیہ اس آیت کے تحت
3 ؎ تفسیر ابن جریر ج 9 ص 87۔ 88 طبع جدید
4 ؎ تفسیر فتح البیان ج 2 ص 100
5 ؎ یعنی ص 306 پر بحوالہ تفسیرابن کثیر ج 2 ص 251۔
Ayahs 7:160–162(160 ۔ 162) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بارہ گروہ میں تھی ایک ہی اولاد تھی۔ اصل میں یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا انہیں کی اولاد میں یہ لوگ تھے اس لئے ان کو بنی اسرائیل کہتے ہیں اور یہ لوگ علیحدہ علیحدہ گروہ ہیں کثیر التعداد آدمی ہوگئے تھے اس لئے ان کو اللہ پاک نے فرمایا کہ بارہ فرقے الگ الگ کردئے گئے اور ہر ایک کا سردار اور امام جدا جدا تھا سورة بقرہ میں گذر چکا ہے کہ کنعانی قوم کے ساتھ لڑنے سے جب بنی اسرائیل نے انکار کیا تو اس شرارت کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے چالیس برس تک بنی اسرائیل کو ایک جنگل میں قید کیا اور وہاں جب دھوپ کی شدت ہوئی پانی کو ترس گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی آئی کہ اپنا عصا پتھر پر مارو غرض کہ پتھر پر عصا مارنے سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور بنی اسرائیل کے ہر ایک گروہ نے اپنا اپنا الگ گھاٹ بنالیا اور پانی پینے لگے پھر اللہ پاک نے بادل کو حکم دیا کہ ان کے سروں پر سایہ کرے تاکہ جلتی دھوپ سے چین میں رہیں پھر خدا نے من وسلویٰ بھیج کر کھانے کا حکم کیا تھا انہوں نے اس پر صبر نہیں کیا اور چیزوں کی ہوس دل میں کرنے لگے پھر فرمایا کہ میں نے ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ اس شہر بیت المقدس میں داخل ہوجاؤ اور جہاں چاہو وہاں کھاؤ پیو مگر یہ بھی کہہ دیا تھا کہ جب دروازہ شہر میں داخل ہونے لگو تو شکریہ کے سجدہ کے طور پر جھک کر سر کے بل اور حطۃ کہتے ہوئے داخل ہونا مگر ان لوگوں نے میرا کہنا نہ کیا جب شہر میں داخل ہوئے تو حطتہ کی جگہ حنطۃ فی شعرۃ کہا اور سجدہ کے عوض ایڑیاں رگڑتے ہوئے چوتڑوں کے بل داخل ہوئے۔ میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر میرے حکم کے بموجب شہر میں داخل ہو گے تو تمہاری خطائیں بخش دی جائیں گی اور نیکیاں بڑھا دی جائے گی مگر جب انہوں نے حکم کے خلاف کیا جس طرح کہا تھا اسی طرح نہیں داخل ہوئے تو میں نے آسمان سے وبا ان پر بھیج دی جس سے دوپہر کے عرصہ میں ستر ہزار کے قریب آدمی ہلاک ہوگئے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے جابر ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی کہ جس میں آنحضرت ﷺ کی انگلیوں سے معجزے کے طور پر پندرہ سو آدمیوں اور ان کے جانوروں کے لئے پانی کے نکلنے کا ذکر ہے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ آیتوں میں جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے پتھر پر عصامارنے سے خلاف عادت ضرورت کے موافق پانی نکلا اسی طرح آنحضرت ﷺ کی انگلیوں سے ضرورت کے موافق پانی نکلا۔
Ayah 7:163یہ قصہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے وقت کا ہے حضرت صلعم کو اللہ پاک نے حکم دیا کہ یہود سے آپ ہفتہ کے دن شکار کھیلنے والوں کا حال دریافت کریں اور ان کو یہ قصہ سنا کر ڈرائیں کہ کس طرح ان لوگوں پر بہ سبب مخالفت حکم الٰہی کے عذاب نازل ہوا کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اسی طرح عذاب آوے تم میری صفت کو جو تمہاری کتابوں میں لکھی ہوئی ہے چھپائے ہو۔ وہ لوگ بحر قلزم کے کنارے رہتے تھے ابن عباس ؓ وغیرہ کا قول ہے کہ مدین اور طور کے درمیان میں ایک قریہ ایلہ تھا وہاں یہ لوگ رہتے تھے ان کو ہفتہ کے دن شکار کرنے کو منع کیا گیا تھا لیکن یہ لوگ بےک ہے خدا کے حکم کے خلاف جرأت کے بیٹھے تھے اس لئے ان کی آزمائش کی گئی ہفتہ کے دن جس روز شکار منع تھا کثرت ہے مچھلیاں پانی پر آجایا کرنی تھیں اور روز کہیں پتہ بھی نہیں ملتا تھا یہ لوگ امتحان میں پورے نہیں اترنے لگے حیلہ کرنے دریا کے کنارے کنارے پانی کاٹ لائے اور ایک گڑھے میں جمع کیا کہ ہفتہ کے دن جب مچھلیاں آویں تو اس جگہ آکر جمع ہوجاویں یہاں سے نکل نہ سکیں پھر ان کو دوسرے روز پکڑلیں گے مگر پھر بھی مچھلیاں ہاتھ نہ آئیں ہفتہ کی شام کو نکل جاتیں آخر یہ کہ ان لوگوں نے ہفتہ کے دن مچھلیوں کی راہ بند کی اتورا کے دن ان کو پکڑلیا۔ اللہ نے اس عدول حکمی کا یہ مزہ چکھایا کہ ان کو بندر بنادیا صحیح بخاری وسلم وغیرہ میں جابر ؓ کی حدیث ہے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ یہود کو غارت کرے کہ ان پر جب مردہ جانوروں کی چربی کا استعمال اور اس کی خریدو فروخت منع ہوئی تو انہوں نے یہ حیلہ نکالا کہ چربی پگھلا کر تیل کی طرح اس کی خریدو فروخت جاری کردی اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے
کہ یہود نے جس طرح ہفتہ کے دن مچھلیوں کے پکڑنے کا حیلہ نکالا تھا اسی طرح مردہ جانوروں کی چربی کی خرید فروخت کا حیلہ نکال کر اس حیلہ کو حرام چیز کے حلال ٹھہرانے کا ذریعہ اور وسیلہ قرار دیا تھا اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس حیلہ کو حرام چیز کے حلال ٹھہرانے کا وسیلہ قراردیا جاوے وہ حیلہ جائز نہیں ہے :۔
Ayahs 7:164–166(164 ۔ 166) ۔ اللہ پاک نے ان اصحاب سبت کا حال بیان فرمایا کہ اس قریہ میں تین فرقے ہوگئے ایک تو ہفتہ کے روز شکار کھیلتا تھا دوسرا فرقہ ان کو منع کرتا تھا تیسرا فرقہ وہ تھا کہ نہ شکار کرتا تھا اور نہ منع کرتا تھا ہاں منع کرنے والوں کو صرف یہ کہا کرتا تھا کہ بھائی تم کیوں ان لوگوں کو منع کرتے ہو ان کو اپنے حال میں رہنے دو غنقریب عذاب ان پر اللہ تعالیٰ بھیجنے والا ہے ہلاک ہونے سے کبھی یہ بچ نہیں سکتے ہیں اللہ پاک نے ان کا حال بیان فرمایا کہ جو فرقہ منع کرتا تھا اس کو اللہ نے بچالیا اور جو لوگ ہفتہ کے دن شکار کرنے سے باز نہیں آتے تھے ان پر سخت عذاب نازل کیا ایک روز رات کو اپنے اپنے گھروں میں سوتے تھے کر یکایک سب کے سب بندر ہوگئے صبح کو جب لوگ سوتے سے اٹھے آدمیوں کی آواز نہیں پائی دیواروں پر چڑھ چڑھ کر دیکھا تو آدمی کا کہیں نام ونشان بھی نہیں بندر اچکتے پھرتے ہیں جب بندروں نے آدمیوں کو دیکھا تو اپنے اپنے کنبہ رشتے کے لوگوں کو پہچان پہچان کر ان کے پیروں پر سر رکھنے لگے اور دم ہلانے لگے آنکھوں سے آنسوجاری تھے ان لوگوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی منع کرتے تھے کہ خدا کے حکم کے خلاف نہ کرو تم باز نہیں آئے اب دیکھا اس کا انجام کیا ہوا بندروں نے سر ہلا کر کہا ہاں غرض کہ تین روز تک وہ اس حال میں رہے آخر سرپٹک پٹک کر مرگئے۔ یہ تو دو فرقوں کا حال ذکر کیا گیا کہ ایک ہلاک ہوا دوسرا بچالیا گیا باقی رہا تیسیرا فرقہ جو نہ شکار کرتا تھا اور نہ ان لوگوں کو شکار سے منع کرتا تھا اس کی نسبت مفسروں کا اختلاف ہے کہ وہ بھی ہلاک ہوئے یا بچے۔ بعض کا قول یہ ہے کہ صرف نصیحت کرنے والا گروہ بچ گیا باقی سب ہلاک ہوئے اور بعض کا قول یہ ہے کہ ہلاک صرف وہی فرقہ ہوا جو خطا کار تھا باقی سبھوں نے نجات پائی۔ چناچہ ابن عباس ؓ بھی اسی طرف گئے ہیں کہتے ہیں کہ اس تیسرے فرقے نے نہایت غضب ناک ہو کر یہ بات کہی تھی کہ تم لوگ ان کو کیوں نصیحت کرتے ہو اب یہ خود برباد و تباہ ہوا چاہتے ہیں عکرمہ فرماتے ہیں کہ میں ایک روز حضرت ابن عباس ؓ کے پاس گیا تو وہ قرآن مجید بغل میں دبائے ہوئے تھے اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے پہلے تو مجھے ان کے پاس جانے سے کچھ پس وپیش ہوا پھر پاس جاکر بیٹھ گیا اور رونے کا سبب پوچھا کہنے لگا کہ مجھے ان ورقوں نے رولایا ہے یہ کہہ کر سورة اعراف کے اوراق دکھلائے اور کہا کہ تم ایلہ والوں کو جانتے ہو میں نے کہا ہاں جانتا ہوں فرمایا کہ وہاں یہود کا ایک قبیلہ رہتا تھا اور ہفتہ کے دن شکار کرنے کا واقعہ بیا ان کر کے کہا کہ جس رات کو عذاب آیا تو جو لوگ بچ گئے تھے ان میں سے لوگوں نے فصیل شہر پر سیڑھیاں لگا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سب بندر بنا دئے گئے ہم دروازہ کھول کر اندر گئے تو بندر اپنے خویش دار اقربا کو پہچان کر پاس آئے اور ان کے کپڑے سونگھنے لگے مگر یہ لوگ نہیں پہچانتے تھے کہ کون اپنا ہے کون غیر ہے کیونکہ سب کے سب وہ بندر کی صورت میں تھے۔ پھر آیت پڑھ کر فرمانے لگے کہ میں دیکھتا ہوں کہ جو لوگ منع کرتے تھے وہ تو بچ گئے اور جو مر تکب تھے وہ ہلاک ہوئے مگر تیسرے فریق کا حال نہیں معلوم ہلاک ہوئے یا بچے عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہم آپ پر فدا ہوجاویں کیا آپ یہ نہیں دیکھتے کہ اس فرقے نے ان لوگوں کو برا جانا اور اس لئے کہا تھا کہ ان کو نصیحت نہ کرو خدا ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اس بات پر ابن عباس ؓ نے خوش ہو کر مجھے انعام کے طور پر دو موٹے کپڑے پہنائے مجاہد نے اسی طرح ابن عباس ؓ سے یہ قصہ روایت کیا صحیح مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے کہ خلاف شروع بات کو دل سے برا جاننا یہ بھی ایک ضعیف درجہ ایمان کا ہے اس حدیث سے عکرمہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس تیسرے فرقہ کو اللہ تعالیٰ نے ضعیف الایمان ایماندار ٹھہرا کر عذاب سے اگر بچالیا ہو تو اس کی رحمت سے کچھ دور نہیں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے اسامہ بن زید ؓ کی حدیث سورة بقر میں گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے لوگوں کو دوزخ کے طرح طرح کے عذاب میں گرفتار دیکھ کہ ان کے دنیا کی ساتھی ان سے پوچھیں گے کہ تم تو ہم کو نیک کا کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے پھر خود تم نے ایسے کیا برے عمل کئے جن کے سبب سے تم اس عذاب میں گرفتار ہوئے یہ لوگ جواب دیں گے کہ ہم دوسروں کو جو نصیحت کیا کرتے تھے خود اس کے موافق دنیا میں ہمارا عمل نہیں تھا معتبر سند کی مستدرک حاکم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ سچی توبہ کے لئے پچھلے گناہوں پر نادم ہونا یہی اصل توبہ ہے یہ حدیثیں آیتوں کے اس ذکر کی گویا تفسیر ہیں کیونکہ آیتوں میں اگرچہ یہود کا ذکر ہے لیکن حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ میں سے جو دوسروں کو نصیحت کریگا اور اس کے موافق عمل نہ کریگا یا اوپری دل سے توبہ کریگا اس کا بھی یہی حال ہوگا کہ عقبے میں اس کی نصیحت الٹا اس کو رسوا کرے گی اور دنیا میں اس کو یتوبہ قبول نہ ہوگی۔
Ayah 7:167یہ آیت یہود کی شان میں اتری ہے اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ سے بیان فرمایا کہ ہم نے یہود سے یہ بات پکی کرلی تھی کہ اگر تو رات کے احکام کو چھوڑ دو گے تو یاد رکھو قیامت تک پھر تمہیں عزت نصیب نہیں ہونے کی ہمیشہ دوسروں کے ہاتھ میں ذلیل و خوار رہو گے ایسی قوم کو تم پر مسلط کردیں گے جو طرح طرح کے برے عذاب تم پر کیا کرے گی یہ بات خدا کی پوری ہو کر رہی ان لوگوں نے خدا کے حکم کے خلاف کیا اور طرح طرح کے حیلے بھانہ نکال نکال کر مجرم ہوتے رہے کہا جاتا ہے کہ پہلے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) نے خود ان پر خراج لگایا سات برس یاتیرہ برس کا ایک دم خراج لگا دیا تھا پھر سلطنت یونان کے بادشاہوں کے زیر حکومت رہے پھر نصاری کے ہاتھ میں مقہور رہے انہوں نے خوب ان کی گت بنائی خوب ہی خوار و ذلیل کیا جزیہ الگ لیا خراج جدا لگایا پھر جب اسلام کا دور دورہ ہوا تو مسلمان کے زیر حکومت رہ کر برابر خراج و جزیہ دیتے رہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ پاک نے جو آیت میں یہ فرمایا کہ برا عذاب کرنے والا ان پر مقرر کر دونگا وہ حضرت ﷺ اور ان کی امت ہیں آپ کی امت قیامت تک انہیں مقہور رکھے گی اکثر مفسرین کا یہی قول ہے آخر کار یہ ہوگا کہ یہود دجال کے ساتھ اس کے مددگار بن کر نکلیں گے اور مسلمان مع عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان کو دجال سمیت قتل کریں گے پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ خدا بہت جلد عذاب کرنے والا ہے اور بہت بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس کے حکم کے خلاف کرتے ہیں اور اس کی شرع سے منہ موڑتے ہیں ان کو بہت جلد پکڑلیتا ہے اور جو شخص اس کی معافی کا طالب ہوتا ہے اور توبہ کرتا ہے اس پر مہربان ہوجاتا ہے اور گناہ اس کے بخش دیتا ہے اللہ پاک نے یہاں اپنی عقوبت کے ساتھ رحمت کا بھی ذکر کردیا ہے تاکہ خطا کاروں کو بالکل نا امیدی نہ ہوجائے اور انسان امید وبیم کی حالت میں رہے اس کے قہر سے ڈرتا بھی رہے اور اس کی رحمت کا خیال کر کے بہتری کی امید بھی رکھے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایتیں جو اوپر گذر چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا پورا حال لوگوں کو معلوم ہوجاوے تو نافرمان لوگوں کے دل میں بھی جنت کے ملنے کی آرزو پیدا ہوجاوے اور اللہ کی رحمت اللہ کے غصہ پر غالب ہے ان حدیثوں کو اس آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے :۔
Ayahs 7:168–170(168 ۔ 170) ۔ یہود کی سلطنت جب تباہ ہوئی تو آپس میں ایسی پھوٹ پڑگئی جس سے یہ مختلف شہروں میں کچھ ادھر کچھ ادھر ہوگئے۔ اور مختلف مذہب پیدا ہوگئے اسی بات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ ہم نے یہود کو متفرق گروہ بنا دیا اور دنیا کے اطراف میں ایک کو دوسرے سے جدا کردیا سلطنت کی باگ ان کے ہاتھ سے نکال دی یہ لوگ ہر سرزمین میں پریشان ہوگئے کوئی شاخ ان کی باقی نہ رکھی جہاں بستیاں ہیں وہاں دوسرے کے زیرحکومت میں پھر فرمایا کہ بعض ان میں صالح اور نیک بخت ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے پہلے اپنے دین پر قائم رہے کوئی تبدیل اور تحریف کتاب آسمانی میں انہوں نے نہیں کی اور مرتے دم تک خدا کے احکام پر عمل کرتے رہے اور جو آنحضرت ﷺ کی رسالت تک باقی رہے وہ آپ پر ایمان لائے اور بعضے یہود ایسے بدکردار ہیں جنہوں احکام الٰہی کو بدل ڈالا اور اپنے دین سے پھرگئے اس میں طرح طرح کی تراش وخراش کی۔ اللہ نے ان کو ہر طرح سے جانچا کبھی تندرستی اور کبھی تکلیف و رنج ان پر نازل کیا کبھی عذاب بھیج کر آزمایا کہ شاید اپنے فعل پر نادم ہو کر حق کی طرف رجوع کریں لیکن کچھ نہ ہوا جو اولاد بھی ان کی پیدا ہوئی وہ بھی ایسی ناخلف ہوئی کہ توریت کے وارث بن کر دنیا کی طمع کرنے لگی ان کے نزدیک رشوت کا لینا ایک ادنی بات تھی۔ سدی کا قول ہے کہ بنی اسرائیل میں جب کوئی قاضی بنتا تھا رشوت لے کر فیصلہ کردیا کرتا تھا قوم کے نیک بخت لوگ جمع ہو کر قاضی بننے والے شخص سے یہ قول وقرار لیتے تھے کہ تم ایسا کام ہرگز نہ کرنا مگر جب کوئی قاضی ہوا اور لگا رشوت لینے جب اس سے یہ بات کہی جاتی تھی کہ تم عہد کرچکے تھے کہ رشوت نہ لو گے اب یہ کیا بات ہے اس عہد کو بھول گئے تو جواب دیتا تھا کہ خدا بخش دے گا بنی اسرائیل کی قوم مل کر اس پر طعن وتشنیع کرتے تھے پھر اس قاضی کے مرنے کے بعد ان لوگوں میں سے کوئی قاضی ہوتا تو وہ بھی وہی حرکت کرنے لگتا تھا سدی کے اس قول کے موافق آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب طعن تشنیع کرنے والوں میں کچھ لوگ قاضی ہوئے اور ان کے سامنے دنیا کی دولت آئی تو منہ میں پانی بھر آیا حلال حرام کچھ نہ سمجھا اور جس طرح بن پڑا اس کے لینے میں دربغ نہ کیا اور پھر یہ امید رکھی کہ خدا معاف کریگا۔ اسی کو اللہ پاک نے فرمایا کہ کیا اس سے تورات میں یہ عہد نہیں لے لیا گیا تھا کہ حق کے سوا اور کچھ نہ کہنا حق کو کبھی نہ چھپانا پھر اس کے بعد اللہ جل شانہ نے یہ فرمایا کہ آخرت تو اسی کے حصہ میں ہے جو خدا سے ڈرتا ہوا اور وہاں جو کچھ بہتری ہونے والی ہے انہی متقیوں کو ہوگی یہ لوگ تو سمجھے کے اندھے کچھ بھی عقل سے کام نہیں لیتے ہیں نور دنیا کی طلب میں مدہوش ہو رہے ہیں نہ حلال سمجھتے ہیں نہ حرام جو کچھ سامنے آجاتا ہے کئے چلے جاتے ہیں پھر اللہ پاک نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جو کتاب کو اس طرح مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں کہ اس ہر ایک امر ونہی کو بجالاتے ہیں نماز بھی پڑھتے ہیں ایسے لوگوں کے حق میں فرمایا کہ ہم صلاحیت اور نیکی پر قائم رہنے والوں کا بدلہ اور اجر ضائع نہیں کرتے ہیں آخرت میں اس کا اجرا نہیں دیں گے :۔
Ayah 7:171171۔ جب فرعون کو اللہ تعالیٰ نے غرق کر کے ہلاک کردیا تو بنی اسرائیل کو بڑی خوشی اور آزادی حاصل ہوئی ایک مدت دراز سے بنی اسرائیل فرعون کی قید اور طرح طرح کی سختیوں میں مبتلا تھے ان سختیوں سے چھوٹ جانے اور اس طرح کے دشمن قوی اور زبردست کے ایک دم میں ہلاک ہوجانے سے بنی اسرائیل کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی معرفت بڑھی اور اس کی قدرت کا یقین زیادہ پیدا ہوا ایسی حالت میں پہلے تو انہوں نے حضرت موسیٰ سے پورا عہد کیا کہ جس اللہ نے ہم پر یہ احسان کیا ہے اس کی طرف سے کچھ احکام آجاویں گے تو ہم اس کی مرضی نامرضی پہچان کر اس کے موافق پورا عمل کریں گے جب تورات نازل ہوئی تو بنی اسرائیل نے اس کے احکام کو سخت خیال کر کے ان احکام کے قبول کرنے سے انکار کیا اس وقت حضرت جبرئیل نے اللہ کے حکم سے ان کے سر پر پہاڑ اٹھایا اور زبردستی ان سے توریت کی تعمیل کرائی بعضے مفسروں نے اس آیت کی تفسیر میں یہ اعتراض جو کیا ہے کہ بموجب آیت لا اکراہ فی الدین (ہ : 256) کے اس طرح کی زبردستی تم دین کے لئے تردد طلب ہے اوپر کے بیان سے اب وہ اعتراض باقی نہیں رہا کس لئے کہ بنی اسرائیل پر وہ پہاڑ بدعہدی کی سزا میں اٹھایا گیا ہے معتبر سند سے ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے ابوہریرہ کی حدیث سورة بقرہ میں گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہدایت کے بعد وہی قوم گمراہ ہوتی ہے جو دین کی باتوں کو زبردستی کے جھگڑوں میں ڈال دیوے 1 ؎۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے یہود آنحضرت ﷺ کی نبوت کے تسلیم کرنے میں زبردستی کے جھگڑے جو نکالتے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ بات یاد دلائی ہے کہ جس تورات پر عمل کرنے کا عہد تمہارے بڑوں سے لیا جا چکا ہے اسی تورات میں نبی آخر الزمان کے اوصاف اور ان پر ایمان لانے کا عہد موجود ہے پھر اس قدر سخت ہدایت کے بعد کتاب آسمانی کے برخلاف طرح طرح کی زبردستی کے جھگڑوں کا نکالنا بڑی گمراہی کی بات ہے اس لئے تو رات پر عمل کرنے کا عہد تمہارے بڑوں سے لیا جاچکا ہے اسی تو رات میں نبی آخرالزمان کے اوصاف اور ان پر ایمان لانے کا عہد موجود ہے پھر اس قدر سخت ہدایت کے بعد کتاب آسمانی کے برخلاف طرح طرح کی زبردستی کے جھگڑوں کا نکالنا بڑی گمراہی کی بات ہے اس لئے تو رات کا عہد یاد کرکے اس کے موافق تم لوگوں کو عمل کرنا اور بدعہدی کے وبال سے ڈرنا چاہئے :۔
1 ؎ الترغیب و الترہیب ج 1 ص 40 الترہیب من المراء دالجدل۔