Ayah 6:11۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ سورة مکی ہے 2 ؎۔ مستدرک حاکم میں جابر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہ سورة اتری تو آنحضرت ﷺ نے سبحان اللہ کہا اور یہ فرمایا کہ آسمان سے زمین تک ستر ہزار فرشتے اس سورة کے نازل ہونے کے وقت اس کے ساتھ تھے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 3 ؎۔ اس سورة میں توحید نبوت اور حشر کے ضروری احکام کی عظمت اور شیطان کی مداخلت ان احکام میں نہ ہونے کے لئے یہ ستر ہزار فرشتوں کی جماعت اس سورة کے ساتھ آئی۔ جو سورتیں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کے لفظوں سے شروع کی ہیں جیسے یہ سورة جیسے { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ } ان سے یہ مطلب ہے کہ لوگ ان لفظوں سے اللہ کی تعریف کیا کریں۔ اگرچہ اللہ کی مخلوقات بےگنتی ہے لیکن اس سورة میں انسان کی ہدایت کے بہت سے احکام ہیں اور آسمان و زمین کے عجائبات پر غور کرنے سے انسان کے دل میں اللہ کی قدرت کی بڑی عظمت پیدا ہوسکتی ہے جس کے سبب سے پھر اللہ کے احکام کے موافق ہدایت پانے کا موقع بھی اس کو مل سکتا ہے اس واسطے یہاں اور مخلوقات میں سے فقط آسمان و زمین کا ذکر فرمایا سورة بنی اسرائیل میں معراج کی حدیثیں آویں گی جن میں ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کی راہ کے فاصلہ کا اور اسی قدر ہر ایک آسمان کی موٹائی کا ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ آسمانوں کی طرح زمین بھی سات ہیں اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانسو برس کی راہ کا فاصلہ ہے۔ خیر یہ باتیں تو علم دین کے جاننے پر منحصر ہیں لیکن آسمان و زمین کی اتنی حالت تو سب کے آنکھوں کے سامنے ہے کہ وقت مقررہ پر ایک سال بھی آسمان سے مینہ نہ برسے یا مینہ تو برسے مگر اللہ کے حکم سے زمین کی پیدوار پر کچھ آفت آجاوے تو انسان کی ساری آسائش خاک میں مل جاوے۔ یہ بھی آسمان کی حالت کا ایک نتیجہ ہے کہ آسمان کی گردش سے رات کا اندھیرا دن کا اجالا پیدا ہوتا ہے جس سے انسان کی راحت صحت طرح طرح کے کاروبار سب کچھ قائم ہے اہل مکہ نے سو رات کے اندہیرے کے کفر و شرک و جہالت کا اندہیرا بھی پھیلا رکھا تھا اس واسطے اندھیرے کے لفظ کو جمع کر کے فرمایا مطلب یہ ہے کہ رات کے اندہیرے کے ساتھ جس طرح اللہ تعالیٰ نے دن کا اجالا پیدا کیا ہے اسی طرح کفر و شرک کے مٹانے کے لئے نور ایمانی پیدا کیا ہے جس کی قسمت میں ہے وہ اس کفر و شرک کے اندہیرے سے نکل کر ایمان کی روشنی پاسکتا ہے آخر کو فرمایا کہ جب یہ سارا کارخانہ اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو پھر یہ منکر شریعت لوگ دوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہرا کر اللہ کی تعظیم و عبادت میں جو ان دوسروں کو شریک کرتے ہیں یہ ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے۔ صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ لوگ اپنی نادانی سے اللہ کی تعظیم اور عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے ان لوگوں کی زیست اور صحت کے کارخانے حسب دستور قائم رکھے ہیں 1 ؎ ان لوگوں کی نادانی کی سزا کے طور پر ان کارخانوں میں کچھ ردوبدل نہیں فرمایا یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب ہوا کہ انسان کو اور اس کی راحت کے ہر طرح کے سامان کو تو بغیر کسی کی شراکت کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا لیکن بعض نادان لوگ بلا استحقاق دوسروں کو اس کی تعظیم اور عبادت میں شریک کرتے ہیں اور اس پر بھی وہ اپنی بردباری سے ان لوگوں کے راحت کے سامان میں کچھ خلل نہیں ڈالتا۔
Ayahs 6:2–3(2 ۔ 3) ۔ ابو داؤد اور ترمذی میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو ایک مٹھی خاک سے جو تمام زمین سے لی گئی ہے بنایا ہے اس واسطے ان کی نسل میں طرح طرح کے لوگ ہیں ہر جگہ کی مٹی کے اثر سے کوئی گورا ہے تو کوئی بالکل کالا ہے کوئی سانولا کوئی بد مزاج، سخت خو، کوئی نیک مزاج 1 ؎، نرم خو ابن حابن نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2 ؎۔ کافر اور دھریہ مزاج کے لوگ مرنے کے بعد پھر پیدا ہونے کے خبر قرآن مجید میں سن کر بڑے تعجب سے کہتے تھے کہ { مَنْ یُحْیِ الْعِظاَمَ وَ ھِیَ رَمِیْمٌ } (36۔ 78) جس کا مطلب یہ ہے کہ ہڈیوں کی مٹی ہوجانے کے بعد پھر دوبارہ پیدائش کیونکر ہوگی ان کے قائل کرنے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کو جتلایا کہ آخر وہ ہڈیاں گل سڑ کر ایسی مٹی تو ہوں گی جس طرح کہ مٹی کے آگے تھی جس مٹی سے ایک پتلا ایسا بنایا گیا جس میں کروڑ ہا پتلوں کے بن جانے کی صلاحیت رکھ دی گئی جس صلاحیت کے اثر سے آج تک اس پتلے کی نسل چلی آتی ہے جس میں یہ منکر حشر بھی داخل ہیں پھر جس قادر نے کروڑہا پتلے کا ایک پتلا ایک جائز طور پر ایک مٹھی خاک سے بنا دیا اور اس پتلے سے کروڑ ہا روحوں کا علق رو کا پیدا کردیوے بلکہ پتلے میں پتلا جو بن چکا ہے اور ایک جسم میں کروڑہا جسم اور ایک روح کے تعلق میں کروڑہا روحوں کا تعلق ہے جس کے سبب سے دادا سے لے کر پوتا پڑپوتا سب پیدا ہوجاتے ہیں اور پھر پر یوتے کو دیکھوتو دادا بن جاتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ ہوچکا ہے اور سب کی آنکھوں کے سامنے ہے وہ ایسا مشکل تھا جہاں عقل کے پر جلتے ہیں اور باوجود اس بلند پروازی کے وہاں پر قینچ جانور کی طرح اڑنے سے عقل بےبس ہے اس کے بعد دوبارہ جو کچھ ہونا ہے وہ تو نہایت سہل ہے جو صانع ایک مشکل صنعت کو کرچکی اس کو آسان صنعت کیا مشکل ہے مثلاً ایک گھڑی سازایسی گھڑی بنا چکا ہے جس گھڑی میں تاریخ کی سوئی دن کی سوئی وقت کی سوئی گھنٹہ کی آواز بیداری سب کچھ ہے پھر یہ کون عقل کا پورا انکار کرسکتا ہے کہ اس گھڑ ساز کو الگ الگ پرزے بنانے مشکل ہیں اسی حکمت سے اللہ تعالیٰ نے پہلی پیدائش کو مشکل اور دوسری پیدائش کو آسان رکھا ہے کہ مشکل کام کے طے ہوجانے کے بعد آسان کام کے ہونے کی طرف لوگوں کا قیاس دوڑ سکے اور قیاس دوڑانے کی ہدایت اپنے کلام پاک میں لوگوں کو یوں فرمائی ہے { وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْئَاۃَ الْاُوْلٰی فَلَوْلاَ تَذَکَّرُوْنَ } (الواقعہ) یعنی پہلی پیدائش کو تم جان چکے ہوں پھر کیوں نہیں پہلی پیدائش کے قیام پر تم دوسری پیدائش کو دھیان کرتے۔ ایک عالمؔ پابند شریعت اور ایک دہریہ منکر حشر کا ایک دفعہ مناظرہ ہوا دہریہ نے بڑی بحث کے بعد دوبارہ پتلے کا بن جانا تو مان لیا مگر دوبارہ روح اور جسم کے تعلق میں تردد رہا۔ عالم پابند شریعت نے اس تردد کا جواب دیا کہ روح کی مثال پر دار جانور کی ہے اور جسم کی مثال پنجرہ کی ہے کیونکہ جس طرح جانور کے اڑ جانے کے بعد پنجرہ خالی رہ جاتا ہے اسی طرح روح کے نکل جانے کے بعد بدن خالی رہ جاتا ہے اور پہلے تعلق میں طائر روح اس جسم کے پنجرہ سے اجنبی مثل طائر و حشی کو عمر طبعی کی مدت تک بدن کے پنجرے میں بند کردیا جس کے سبب سے عمر طبعی تک بدن کے پنجرہ میں رہ کر وہ جانور جو ایک پلے ہوئے طوطے یا کبوتر وغیرہ کے موافق ہوگیا تو یہ تو رات دن آنکھوں دیکھنے کی بات ہے کہ پلے ہوئے جانور کبھی پنجرہ سے نکل جاتے ہیں تو اپنے پنجرہ میں خود چلے جایا کرتے ہیں اس میں تردد کیا کہے اس جواب سے وہ دہریر شخص بہت قائل ہوا اس آیت میں اجل کا ذکر اللہ تعالیٰ نے دو دفعہ جو فرمایا ہے اس کے دو معنی ہیں جو شاہ عبد القادر صاحب نے اپنے فائدے میں ذکر کئے ہیں کہ ایک اجل ہر ایک شخص کے پیدا ہونے کی تاریخ تک کی ہے اور دوسری اجل تمام دنیا کی ہے جو دنیا کی پیدائش سے پہلے صور تک ہے دوسری اجل کے ساتھ عندہ جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ختم ہونے کو قیامت کے آنے کا وقت سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں ہاں ہر ایک شخص کی اجل کا وقت ملک الموت کو جتلا دیا جاتا ہے یہ معنی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور ان کے ش اگر مجاہد اور سعید بن جبیر نے سلف میں سے اختیار کئے ہیں دوسری معنی ترجمان قرآن حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے اپنے دوسرے قول میں جو اختیار کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ ہر ایک انسان کے لئے دو مدتیں اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں جن کا نام اجل ہے وہ دونوں اجلیں لوح محفوظ میں لکھی ہیں ایک مدت تو روز پیدائش سے موت کے وقت تک کا زمانہ ہے دوسری مدت وقت موت سے پھر جینے اور حساب و کتاب کے لئے اللہ کے روبرو کھڑے ہونے کا زمانہ ہے 1 ؎ ابن ماجہ میں ثوبان ؓ سے جو روایت ہے کہ نیکی سے آدمی کی عمر بڑھ جاتی ہے 2 ؎ اس کے معنی یہی ہیں کہ نیکی کرنے کے سبب سے کچھ مدت پچھلے زمانہ سے اگلے زمانہ میں اللہ تعالیٰ بڑھا دیتا ہے اور جو آدمی نیکی نہیں کرتا اس کی عمر کے گھٹنے کا یہی مطل ہے کہ اس کی اصلی عمر پوری ہوتے ہی وہ مرجانا ہے عالم بزرخ کے زمانہ میں کچھ دن اس کی عمر میں نہیں بڑھتے اور لوح محفوظ میں یہ تفصیل بھی لکھی ہوئی ہے کہ زید کی اصلی عمر اتنی ہے لیکن فلاں نیکی کی جزا میں اس قدر مدت عالم برزخ کے زمانہ میں سے اس کی اصلی عمر میں بڑھا دینے سے وہ اس مدت تک زندہ رہ کر مرے گا۔ اور خالد نے نیکی نہیں کی اس لئے اس کی عمر میں عالم برزخ کے زمانہ میں سے کچھ مدت نہیں بڑھی حاصل کلام یہ ہے کہ جس طرح پہلی اجل کا حال سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ جب اس کا وقت آجاتا ہے تو پھر ٹل نہیں سکتا اسی طرح جب دوسرے وعدہ کے ظہور کا وقت آجاوے گا تو آج اس میں شک و شبہ کر کے اس سے غافل رہنے والے اس وقت اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیویں گے اور پھر سب شک و شبہ ان کا جاتا رہے گا اس واسطے ہر عقل مند کو یہ سچ لینا چاہیے کہ دنیا کا بڑا انتظام بغیر کسی نتیجہ کے کھیل تماشے کے طور پر نہیں ہے بلکہ اس کا نتیجہ وہی ہے جو ان لوگوں کو گھڑی گھڑی سمجھایا جاتا ہے کہ اس جہان کے بعد دوسرا سزا و جزا کا جہان ضرور قائم ہونے والا ہے اور وہ اللہ جس کی بادشاہت و حکومت آسمان و زمین پر ہے اپنی آسمانی بادشاہت میں سزا و جزا کا فیصلہ ضرور کرنے والا ہے جس کے فیصلہ کے وقت کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی کیونکہ اس کو انسان کے دل کی نیت کا حال اور انسان کے ہاتھ پیروں کے کاموں کا حال ذرہ ذرہ سب معلوم ہے دنیا میں جب تک انسان جیتا ہے اس کو اختیار ہے کہ اس فیصلہ کے لئے اچھی بڑی جیسی روداد چاہے جمع کرلے دورروز نامچہ نویس ہر وقت اس کے ساتھ ہیں جو تاریخ پیشی کے لئے ہر طرح کی روداد لکھتے رہتے ہیں پیشی بھی وہ پیشی ہے جس میں انسان کے ہاتھ پاؤں بھی گواہی دینے کو تیار ہوجاویں گے چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث 1 ؎ اس گواہی کے باب میں ایک جگہ گذر چکی ہے اس لئے ہر صاحب عقل کا کام ہے کہ جہاں تک ہو سکے اس تاریخ پیشی کے لئے اچھی روداد جمع کرے ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس ؓ کی حدیث گذرچ کی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقل مند وہ شخص ہے جو اپنے نفس پر قادر ہو کر موت کے آنے سے پہلے موت کے بعد کے لئے کچھ نیک عمل کر لیوے اور نادان وہ ہے جو عمر بھر نیک کاموں سے غافل اور برے کاموں میں مصروف رہے اور پھر عقبیٰ میں راحت کی توقع رکھے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 2 ؎ قیامت کے دن نیک و بد کی جزا و سزا کا جو فیصلہ آخر ہوگا اس کے لئے رواد جمع کرنے کی گویا یہ حدیث تفسیر ہے۔
Ayahs 6:4–6(4 ۔ْ 6) ۔ اوپر ذکر تھا کہ عقل مند وہی شخص ہے جو قیامت کے دن کے فیصلہ اخیر کے لئے کچھ اچھی روداد جمع کر لیوے اب ان آیتوں میں اہل مکہ کی نادانی اور کم عقلی کا ذکر ہے جس پر وہ لوگ اڑے ہوئے تھے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قیامت کے دن کے فیصلہ اخیر کے لئے اچھی روداد کا جمع کرنا تو درکنار اپنی ازلی کم بختی کے سبب سے یہ لوگ تو اسے پر اڑے ہوئے ہیں کہ اس فیصلہ اخیر کی یادہانی کے باب میں جو آیات قرانی نازل ہوتی ہیں ان ہی کو یہ لوگ جھٹلا کر ہنسی ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں لیکن اس میں کسی کا کچھ نہیں بگڑتا وقت مقررہ پر یہ لوگ اپنے کئے کا برا نتیجہ دیکھ لیویں گے کہ شام اور یمن کے سفر میں جس طرح پچھلی قوموں کی اجڑی ہوئی بستیاں ان کو نظر آتی ہیں وہ حال ان کا ہوگا کہ یا تو دنیا میں کوئی عذاب ان پر آجائے گا اور اگر مصلحت الٰہی کے موافق دنیوی عذاب سے یہ لوگ بچ بھی گئے تو عقبیٰ کی خرابی سے نہیں بچ سکتے یہ ان کو معلوم ہے کہ پچھلی قومیں طاقت، ثروت، درازی عمر سب باتوں میں ان سے بڑھ کر تھیں۔ پھر ان باتوں میں سے ان کی کوئی بات جب عذاب الٰہی سے ان کو نہ بچا سکی تو ان کے پاس عذاب الٰہی سے بچنے کا ایسا کون سا سامان ہے جس کے بھروسہ پر یہ لوگ آیات قرآنی کے جھٹلانے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ قریش میں جو لوگ آیات قرآنی کے زیادہ منکر تھے بدر کی لڑائی میں ان پر دنیاوی آفات بھی آئی اور دنیا سے اٹھے ہی عذاب آخرت میں جا پھنسے۔ صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے شروع ہونے سے ایک رات پہلے آنحضرت ﷺ نے قریش میں کے ان سب سرکش لوگوں کے نام بتلادئیے تھے جو بدر کی لڑائی میں قتل ہونے والے تھے اور قتل ہونے کے بعد جہاں ان لوگوں کی لاشیں پڑی تھیں وہ مقامات بھی آپ نے پہلے سے صحابہ کو دکھلاوے تھے 1 ؎ صحیح بخاری و مسلم میں انس ؓ ابو طلحہ ؓ وغیرہ کی روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے قریش کے اس سرکش لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اے لوگو تم نے اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا پایا 2 ؎ یہ حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں جن سے آیات قرآنی کے جھٹلانے والے قریش کی دین و دنیا کی بد انجامی کا نتیجہ معلوم ہے۔
Ayahs 6:7–11(7 ۔ 11) ۔ مقاتل بن سلیمان اور کلبی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ نضر بن حارث اور عبد اللہ بن امیہ مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لکھا ہوا ایک کاغذ اس مضمون کا ہمارے پاس آوے کہ بلا شک آپ رسول برحق ہیں اور چار فرشتے اس کاغذ کے ساتھ آن کر اس کاغذ کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف کا نوشتہ ہے اور اس کا مضمون برحق ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جسم نوری ہونے کے سب سے اصل فرشتوں کو تو کوئی انسان دیکھ نہیں سکتا حضرت داؤد ( علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس جو فرشتے آئے آخر وہ انسان کی صورت میں آئے اس لئے اگر ان کے کہنے کے موافق ان کی آنکھوں کے سامنے کوئی فرشتہ بھیجا جاوے تو وہ ضرور بصورت بشر ہوگا پھر جس طرح اب نبی برحق کی نبوت پر انسان ہونے کے سبب سے یہ لوگ طرح طرح کے اعتراض اور مسخرا پن کی باتیں کر رہے ہیں وہی حال باقی رہے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ ہلاک ہوجاویں گے کیونکہ یہ عادت الٰہی ہے کہ کس امت کی فرمائش کے موافق نبی کو معجزہ دیا جاوے اور وہ معجزہ دیکھ کر بھی اوہ امت نبی کو نہ مانے تو پھر وہ امت ہلاک ہوجاتی ہے جس طرح ثمود کی اونٹنی کا حال یہ لوگ سن چکے ہیں اب آخر آیت میں حضرت کی تسکین فرمائی کہ اگر یہ لوگ ایمان نہ لاویں گے اور اسی طرح مسخرا پن کی باتیں کرتے رہیں گے تو انبیاء سے ٹھٹھا کرنے والوں کا حال جو آگے ہوا ہے وہی ان کا ہوگا اور قریش کو ہدایت فرمائی کہ ملک شام اور ملک یمن کے سفر میں پچھلی قوموں کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر ذرا عبرت پکڑیں روایت حدیث میں اگرچہ مقاتل بن سلیمان اور کلبی دونوں کو ضعیف ٹھہرایا گیا ہے مگر تفسیر میں ان دونوں کو مسلم اور معتبر قرار دیا ہے چناچہ ابن عدی نے کلبی کی نسبت کہا ہے کہ سفیان بن عینیہ اور شعبہ اور بہت سے لوگوں نے کلبی سے تفسیر کے باب میں روایت کی ہے اور اس روایت کو معتبر قرار دیا ہے 1 ؎ اور مقاتل بن سلیمانی کی نسبت امام شافعی (رح) نے فرمایا ہے کہ فن تفسیر میں مفسر لوگ مقاتل کے بچوں کے برابر ہیں 2 ؎ بدر کی لڑائی کی حدیثیں جو اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں گزریں وہی حدیثیں ان آیتوں کی بھی تفسیر ہیں۔
Ayahs 6:12–18(12 ۔ 18) ۔ اوپر ذکر تھا کہ آسمان زمین انسان اور اس کی ضرورت کی چیزیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں لیکن یہ مشرک لوگ زبر دستی سوا اللہ تعالیٰ کے بلا استحقاق اوروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہرا کر اس کی تعظیم اور عبادت میں ان کو شریک کرتے ہیں۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے دریافت تو کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ انہوں نے اپنے بتوں سے رات دن مینہ برسنے کی التجا کی اور ایک بوند نہ پڑی آخر اے رسول اللہ کے جب تمہارے دعا سے اللہ نے اپنا رحم کیا تو مینہ برسا اس واسطے یہ تو ان کا منہ نہیں کہ یہ لگ سوا اللہ تعالیٰ کے آسمان اور زمین میں کسی اور کی بادشاہت بتلاویں اس لئے اے رسول اللہ کے ان لوگوں کے قائل کرنے کے طور پر تم ہی ان سے کہہ دو کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ کی ہے جس میں تم لوگوں کے بتوں کی کچھ شراکت نہیں اس واسطے وہ بت ضرورت کے وقت تمہارے کام نہیں آتے۔ رہی یہ بات کہ جب آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ کی ہے تو پھر اس بادشاہت میں اوروں کو شریک ٹھہرانے کے سبب سے ان لوگوں پر کوئی ناگہانی آفت جلدی سے کیوں نہیں آتی اس کا سبب یہ یہ ہے کہ اللہ کی رحمت اس کے غصہ پر غالب بھی ہے جس کے سبب سے اس نے یہ انتظام فرما دیا ہے کہ قیامت تک سب جاندار بےجان ہو کر زمین کے اوپر سے زمین کے اندر جمع ہوجاویں گے اور پھر وقت مقررہ پر ان کو دوبارہ زندہ کیا جاوے گا اور نیک و بد کی جزا و سزا ہوگی۔ اگرچہ یہ انتظام شک و شبہ سے اس قدر دور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاکس کی قسم کھا کر یہ انتظام ان لوگوں کو جتلایا ہے لیکن علم ازلی الٰہی کے موافق جو لوگ عقبیٰ میں نقصان اٹھانے والے ہیں وہ اس انتظام کو نہیں مانتے اور اس انتظام کی خبر کو جھٹلاتے ہیں مگر ان لوگوں کے جھٹلانے سے انتظام الٰہی کچھ پلٹنے والا نہیں دنیا میں سب رات دن کے رہنے سہنے والے اس کے انتظام کے تابع ہیں اور وہ سب کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو اور سب کے ہاتھ پیروں کے کام کو سنتا جانتا ہے ہر ایک کے قول و فعل کے موافق ایک دن جزا و سزا کا موقع پیش آنے والا ہے۔ مشرکین مکہ جس طرح خود اپنے بڑوں کے راستہ پر چل کر بت پرستی میں پھنسے ہوئے تھے اسی راستہ پر چلنے کی فرمائش اللہ کے رسول سے بھی وہ لوگ کبھی کبھی کیا کرتے تھے ان کی اس فرمائش کا جواب اپنے رسول کی زبانی اللہ تعالیٰ نے جو ان آگے کی آیتوں میں دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین سب کچھ پیدا کیا۔ سب اس کے رزق کے محتاج ہیں اور وہ کسی بات میں کسی کا محتاج نہیں اس نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ امت کے سب لوگوں کے پہلے وہ احکام الٰہی کا پابند ہو کر امت کے لوگوں کو بھی اس کے موافق ہر وقت نصیحت کریں۔ شرک کی باتوں سے خود بھی بچیں اور امت کے لوگوں کو بھی بچاویں۔ اس نے اپنے رسول کے دل میں یہ خوف پیدا کردیا کہ اللہ تعالیٰ کے نافرمان لوگوں کو بڑا عذاب بھگتنا پڑے گا۔ اس لئے اللہ کی فرمانبرداری کے سبب سے جو اس عذاب سے بچ گیا اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ اگر کسی شخص کو بیماری تنگ دستی وغیرہ کی تکلیف میں کبھی پھنسادیوے تو اس سوا اس کے اور کوئی اس تکلیف کو رفع نہیں کرسکتا اور اگر وہ کسی کو کچھ راحت پہنچاوے تو اس کی راحت کو کوئی تکلیف سے بدل نہیں سکتا کیونکہ ہر چیز اس کی قدرت اور اس کے اختیار میں ہے کسی دوسرے کا اس میں دخل نہیں ہے ساری مخلوق اس کے بس میں ہے اپنی حکمت اور اپنی خبرداری کے موافق جس طرح وہ چاہتا ہے اپنی مخلوق پر حکومت کرتا ہے بھلا تم ہی لوگ سوچو کہ باوجود ان سب باتوں کے کوئی شخص سوا اللہ کے کسی دوسرے کو اپنا حامی و مددگار ٹھہرا کر کیا پھل پاسکتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس وقت اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو ارحم الرحمین نے یہ بات پہلے ہی لکھ لی ہے کہ مخلوقات کی سزا کے باب میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غصہ پر غالب رہے گی 1 ؎۔ صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مخلوقات کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق مخلوقات کی سب حالت لکھ لی ہے 2 ؎۔ صحیح بخاری میں عمران بن حصین ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق جو شخص جنت میں جانے کے قابل پید ہوا ہے وہ دنیا میں نیک کام کرتا ہے اور جو شخص دوزخ میں جانے کے قابل ہوا ہے وہ ویسا ہی عمل کرتا ہے 1 ؎۔ یہ حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں جن سے معلوم ہے ہوتا ہے کہ مشرک لوگوں پر کوئی فورت آفت اس لئے نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے یہ بات لکھ لی ہے کہ مخلوقات کے پیدا ہونے کے بعد ان کے معاملات میں اللہ کی رحمت اللہ کے غصہ پر غالب رہے گی۔ یہ نافرمان لوگ باوجود فہمائش کے اپنی نافرمانی سے اس لئے باز نہیں آتے کہ علم الٰہی میں جو لوگ دوزخ کے قابل قرار پا چکے ہیں وہ اپنی نافرمانی سے ہرگز کبھی باز نہ آویں گے کیونکہ وہ نافرمانی بھی ان کو عین فرمانبرداری نظر آتی ہے اسی واسطے ان کی جرأت یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول سے بھی اسی ڈھنگ پر آجانے کی فرمائش کی جس کا جواب دے کر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو قائل کیا۔
Ayahs 6:19–21(19 ۔ 21) ۔ معتبر سند سے ابن جریر اسن اسحاق اور کلبی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ چند مشرکین جمع ہو کر آنحضرت کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ کون سی گواہی پر ہم آپ کو اللہ کا رسول جانیں ہم نے یہود و نصاریٰ سے پوچھا تو وہ کہتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں بھی آپ کی نبوت کی کوئی تصدیق نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ ان منکرین نبوت سے پوچھا جاوے کہ کونسی گواہی تم کو تصدیق نبوت کی درکار ہے اگر وہ کچھ جواب دیویں تو خیر ورنہ اللہ سے بڑھ کر کوئی گواہی نہیں ہے اللہ اپنے نبی کی نبوت کا گواہ ہے اور اللہ کی گواہ کی نشانی یہ ہے کہ اس نے اپنے نبی پر اپنا کلام اتارا ہے اور اس بات کا ثبوت کہ یہ کلام اللہ کا ہے یہ ہے کہ باوجود دعویٰ فصاحت اور بلاغت کے تم لوگوں سے ایسا کلام نہیں بن سکتا اور یہ کلام اللہ نے اس واسطے اپنے نبی پر اتارا ہے کہ اس زمانہ کے حاضرین اور قیامت تک جو لوگ پیدا ہوں گے یہ کلام ان کو پہنچ جاوے اور وہ اس سے نصیحت پکڑیں تفسیر ابن ابی حاتم میں محمد بن کعب سے روایت ہے کہ قیامت تک جس کسی کو قرآن شریف کا کوئی حکم پہنچا وہ ایسا ہے کہ اس شخص نے گویا آنحضرت سے بالمشافہ وہ حکم حاصل کیا 1 ؎ اور تفسیر عبد الرزاق میں قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ قرآن شریف کا جو حکم جس کو پہنچا وہ گویا اللہ تعالیٰ سے اس کو پہنچا 2 ؎۔ اس واسطے آپ نے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی بخاری کی راویت میں تاکید فرمائی ہے کہ اگر قرآن کی ایک آیت بھی کسی کو پہنچی تو وہ دوسروں کو پہنچا دیوے 3 ؎ اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے پوچھو کہ تم لوگ اللہ کے رسول کی نبوت پر تو گواہ چاہتے ہو لیکن تم نے جو بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے تمہارے پاس اس کی کیا گواہی ہے وہ پیش کرو اس پر یہ لوگ گواہی کے پیش کرنے سے عاجز ہوجاویں گے تو تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں تمہارے ان شرک کی باتوں کی غلط ہونے کی گواہی دیتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ ملت ابراہیمی کے موافق اللہ وحدہ لا شریک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور تم لوگ ملت ابراہیمی کے برخلاف ان شرک کی باتوں پر اڑے ہوئے ہو تو میں تمہاری ان شرک کی باتوں سے بیزار ہوں۔ آدمی کی گواہی میں بھول چوک جھوٹ ممکن ہے اللہ تعالیٰ کی گواہ میں ان باتوں میں سے کسی بات کا شبہ نہیں ہوسکتا اس لئے اللہ کی گواہی بڑی گواہی ہے۔ پھر فرمایا اہل کتاب کی کتابوں میں تو نبی آخر الزمان کی ایسی نشانیاں ہیں جن کے سبب سے وہ لوگ نبی آخر الزمان کو ایسا پہچانتے ہیں جس طرح ہر ایک شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے لیکن علم الٰہی کے موافق ان لوگوں کی قسمت میں عقبیٰ کا ٹوٹا لکھا ہوا ہے اس واسطے ان لوگوں نے اپنی کتابوں کو بدل ڈالا اور خود بھی نبی آخر الزمان کی نبوت کا کہیں پتہ نہیں ہے آخر کو فرمایا مشرکوں کا یہ شرک اور اہل کتاب کا یہ نبی آخر الزمان کی نبوت کا انکار اللہ پر ایک جھوٹ باندھنا ہے جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں وہ اپنی جان پر ایسا ظلم کر رہے جس کے سبب سے وہ دین و دنیا میں کبھی فلاح کو نہ پہنچیں گے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے عمران بن حصین ؓ کی حدیث 4 ؎ اوپر گذرچ کی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ علم ازلی کے موافق جو شخص دوزخ میں جانے کے قابل پیدا ہوا ہے باوجود ہر طرح کی فہمائش کے وہ اپنی نافرمانی سے کبھی باز نہ آئے گا یہ حدیث گویا ان آیتوں کی تفسیر ہے جس سے ان لوگوں کے راہ راست پر نہ آنے کا سبب معلوم ہوتا ہے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی واسطے فرمایا کہ ایسے لوگ کبھی فلاح کو نہیں پہنچ سکتے۔
Ayahs 6:22–24(22 ۔ 24) ۔ اوپر جن لوگوں کے حق میں یہ فرمایا کہ لوگ کبھی فلاح کو نہ پہنچیں گے ان لوگوں کی تنبیہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ دنیا میں ان لوگوں نے بتوں کو خدا کا شریک جو ٹھہرا رکھا ہے اس آیت کا مضمون سمجھ کر اس سے یہ لوگ باز آویں حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ سب خلائق کو اپنے سامنے سوال جواب اور حساب کتاب کے لئے کھڑا کرے گا تو مشرکوں سے پوچھے گا کہ وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تم نے اپنے گمان میں اللہ کا شریک اور اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان کو بلاؤ تاکہ جس طرح موحدوں کی توحید اور نماز، روزہ نے انکا چھٹکارہ کرایا ہے وہ تمہارے معبود بھی تمہارے چھٹکارے کی کوئی صورت نکالیں، اس سوال کے وقت جب مشرکین دیکھیں گے کہ اہل توحید کا چھٹکارہ معمولی حساب و کتاب کے بعد جھٹ پٹ ہوتا چلا جاتا ہے تو یہ جھوٹا بہانہ قسمیں کھا کر کریں گے کہ ہمارے گمان میں نہ اللہ کا کوئی شریک تھا نہ ہم مشرک تھے بلکہ ہم بھی دنیا میں اہل توحید میں سے تھے جن کا چھٹکارہ ہو رہا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دیوے گا اور ان کے ہاتھ پیروں کو بولنے کا حکم دیوے گا ان کے ہاتھ پیر سارا اصلی حال ظاہر کردیں گے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذرچ کی ہے جس میں ہاتھ پیروں کی گواہی کا ذکر ہے 1 ؎ یہ آیت بھی ان آیتوں میں کی ایک آیت ہے جن آیتوں کا مطلب دوسری اور آیتوں کے مخالف لوگوں نے احسن المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس سے سوالات کئے ہیں اور آپ نے جوابات دیے ہیں جو سوال جواب اتقاق 2 ؎ اور اور تفسیروں میں بالتفصیل مذکور ہیں۔ چناچہ اس آیت کا مضمون آیت { وَلَا یَکْتُمُوْنَ اللّٰہَ حَدِیْثًا } کے مخالف ٹھہرا کر ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے یہ سوال کیا کہ ایک آیت سے توبہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین اپنے شرک کو اللہ تعالیٰ سے چھپا کر اپنے آپ کو اہل توحید بتلاویں گے اور دوسری آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپاویں گے اس آیت کا اختلاف کا رفع کیونکر ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جواب دیا ہے کہ ایک حالت مشرکوں کے منہ پر مہر لگنے سے پہلے کی ہے اس وقت ان کو جھوٹے بہانہ کا موقع حاصل رہے گا اور دوسری حالت منہ پر مہر لگ جانے اور ہاتھ پیروں کے بولنے کی ہے اس وقت وہ کوئی بات نہ چھپا سکیں گے 3 ؎ فتنہ کے معنی جانچ اور آزمائش کے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ جب ان مشرک لوگوں کی جانچ اس سوال سے ہوگی جس کا ذکر آیت میں ہے تو وہ لوگ سو اس کے اور کچھ جواب نہ دیویں گے کہ وہ لوگ دنیا میں مشرک نہیں تھے جب یہ لوگ قسمیں کھا کر اللہ تعالیٰ کے روبرو شرک کا انکار کریں گے اس وقت کا ان لوگوں کا حال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یوں جتلایا ہے کہ اے رسول اللہ کے ذرا ان لوگوں کا حال تو دیکھو کہ اب یہ لوگ شرک کی باتوں پر کیسے اڑے ہوئے ہیں اور قیامت کے دن سب شرک کی باتیں بھول کر شرک سے کس طرح صاف انکار کریں گے اور اس جھوٹے انکار پر کیسی جھوٹی قسمیں کھاویں گے یہ تو ان لوگوں کے عقبیٰ میں فلاح کو نہ پہنچنے کا حال ہوا دنیا کا یہی حال مکہ کے قحط کے وقت کا اوپر گذرچکا ہے کہ رفع قحط اور مینہ کے برسنے کی التجا رات دن ان لوگوں نے بتوں سے کی اور کچھ نہ ہوا آخر اللہ کے رسول سے دعا کی خواہش کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا پر جب رحم فرمایا تو مینہ برسا صحیح بخاری کے حوالہ سے عمران بن حصین ؓ کی حدیث جو اوپر ابھی گذری 1 ؎ وہی حدیث ان آیتوں کی بھی گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود دنیا کے تجربہ اور عقبیٰ کے حال کی تنبیہ کے جو یہ لوگ اپنی شرک کی باتوں پر اڑے ہوئے ہیں اس کا سبب وہ ان کی ازلی کم بختی ہے۔
Ayah 6:25کلبی نے اور ابن جریر نے مجاہد کے قول کے موافق اپنی تفسیر میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو سفیان ابو جہل ولید بن مغیرہ نضر بن حارث عتبہ بن شیبہ ایک دن ان سب نے اکٹھے ہو کر چند آیتیں قرآن مجید کی سنیں ان میں نضر بن حارث پچھلے زمانہ کے قصے بہت جانتا تھا اس لئے ان سب نے نضر بن حارث سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم نے سنا محمد ﷺ نے کیا پڑھا نضر بن حارث نے کہا جس طرح میں تم کو پچھلی کہانیاں سناتا رہتا ہوں اسی طرح یہ بھی ایک کہانی ہے ابو سفیان نے کہا باتیں تو اس کلام کی حق معلوم ہوتی ہیں ابو جہل نے کہا ایسی باتوں کے ماننے سے ہم کو موت بہتر ہے اس سب قصہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اپنے علم ازلی کے موافق اللہ تعالیٰ کو جس کی ہدایت منظور ہوتی ہے اس کے دل پر حق بات کی طرف سے پردہ پڑجاتا ہے چناچہ ان لوگوں میں سے ابو جہل کے دل پر پردہ پڑجانے کے سب جو بات اس نے اپنے منہ سے نکالی تھی کہ ایسی حق باتوں سے موت بہتر ہے شقاوت ازلی نے اس کے حق میں وہی کیا کہ حالت کفر میں بدر کی لڑائی کے دن مارا گیا اور ابوسفیان نے سعادت ازلی کے سبب سے جو بات نکلی تھی آخر کو انہیں اسلام نصیب ہوا حاصل کلام یہ ہے کہ ابو جہل اور نضر بن غارث جیسے لوگوں کی شان میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ہزارہا معجزے دکھلائے جائیں گے سارے قرآن کی آیتیں ان کو سنائی جاویں گی جب بھی یہ سخت دل اور بہرے بنے رہیں گے نہ کسی معجزہ کی دیکھنے سے ان کے دل پر غفلت کا پردہ اٹھے گا نہ کسی آیت قرآنی کو کان کھول کر سنیں گے بلکہ بجائے راہ راست پر آنے کے ایسے لوگ جب بات کریں گے تو ایسی جاہلوں کی سی جس طرح نضر بن حارث نے ایک بےٹھکانے بات کہہ دی کہ اس قرآن میں اگلے لوگوں کی نقلیں اور کہانیاں ہیں اور ابوجہل نے یہ بات کہہ دی کہ ایسی باتوں کے مان لینے سے ہم کو موت بہتر ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے عمران بن حصین ؓ کی حدیث جو اوپر گذری 1 ؎ وہی حدیث اس آیت کی بھی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اسی ایک کم بختی کے سبب سے ایسی باتیں کرتے تھے۔
Ayah 6:26طبرانی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابو طالب یوں تو ہر وقت حضرت کی حمایت کرتے رہتے تھے کہ قریش میں سے کوئی شخص آنحضرت کو ایذا نہ دیوے مگر آنحضرت جب ابو طالب کو کوئی بات ہدایت کی کہتے تو اس سے ابو طالب دور بھاگتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎ طبرانی کی سند میں اگرچہ ایک راوی قیس بن ربیع کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن شعبہ نے اس کو ثقہ کہا ہے 3 ؎ اس لئے یہ شان نزول کی روایت معتبر ہے بخاری میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت کے روبرو ابو طالب کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا شاید ابو طالب کو میری شفاعت کچھ نفع تخفیف عذاب پہنچادے 4 ؎۔ اسی طرح بخاری میں عروہ ؓ سے مرسل طور پر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عباس ؓ نے ابو لہب کو خواب میں دیکھا کہ بری حالت میں ہے جب حضرت عباس ؓ نے ابو لہب سے پوچھا تو ابو لہب نے کہا جب سے میں مرا ہوں ہمیشہ بری حالت میں رہتا ہوں لیکن پیر کے دن محمد ﷺ کی پیدائش کی خبر سن کر جو میں نے اسی خوشی میں اپنی لونڈی ثوبیہ کو آزاد کردیا تھا اس لئے اس روز مجھ کو ذرا سی تکلیف سے کچھ راحت ہوجاتی ہے 5 ؎۔ علمائے اسلام کو اس شفاعت کی نسبت جس کا ذکر آپ نے ابو طالب کے حق میں فرمایا ہے اور تخفیف عذاب ابو لہب کی نسبت بڑی بحث ہے حاصل اس بحث کا یہ ہے کہ آیت قرانی { فَمَا تَنْفَہُھُمْ شَفَاعَۃُ الشَّافِعِیْنَ } (48/75) اور { لَا یَخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ } (162/2) سے کافروں کے حق میں نہ شفاعت ہوسکتی ہے نہ ان کا عذاب کچھ کم ہوسکتا ہے پھر یہ شفاعت اور تخفیف عذاب کسی معنی کی ہے حاصل جواب یہ ہے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ مشرک کی بخشش نہیں ہے اس کے سب عمل بیکار ہیں اس لئے نہ یہ شفاعت و خول جنت کی ہے نہ یہ تخفیف عذاب کسی عمل کی وجہ سے ہے بلکہ اپنی نبی کی عزت بڑھانے کی غرض سے یہ تخفیف عذاب کی شفاعت ابو طالب کے حق میں اور ایک روز کی تخفیف عذاب ابو لہب کے لئے خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے محض اللہ کے فضل سے ہے اور یہ اللہ کا فضل کسی آیت قرآن کے مخالف نہیں ہے اور یہ خاص فضل اللہ کا ایسا ہی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ بغیر کسی عمل کے بہت سی مخلوق کو محض اپنے فضل سے جنت میں داخل کردے گا چناچہ اس کی تصریح ابو سعید خدری ؓ کی متفق علیہ روایت میں ہے 1 ؎ آخر کو فرمایا کہ ایسی باتوں سے کسی کا کچھ نہیں بگڑتا بلکہ ایسی باتوں کا خمیازہ خود ان ہی لوگوں کو قیامت کے دن بھگتنا پڑے گا۔ لیکن یہ ان کی نادانی ہے کہ یہ لوگ عقبیٰ کے اپنے بھلے برے کو نہیں سمجھتے اور اتنا نہیں جانتے کہ دنیا میں یہ لوگ جو کام کرتے ہیں اس کا کچھ نہ کچھ نتیجہ اپنے دل میں سوچ لیتے ہیں اسی سے ان لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے میں اتنا بڑا کام بغیر نتیجہ کے نہیں کیا ہے بلکہ اس کا نتیجہ وہی ہے جو گھڑی گھڑی ان لوگوں کو سمجھایا جاتا ہے کہ اس جہان کے بعد دوسرا جہان اور قائم ہوگا جس میں دنیا کی نیکی بدی کی جزا سزا کا فیصلہ ہوگا پھر باوجود گھڑی گھڑی سمجھانے کے ایسے ظاہری نتیجہ کو جھٹلانا اور اس سے غافل رہنا بڑی نادانی ہے۔ معتبر سند کی شداد بن اوس ؓ کی حدیث ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے گذرچ کی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقل مند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے عقبیٰ کا کچھ سامان کرلیوے اور نادان وہ ہے جو عمر بھر عقبیٰ سے غافل رہے اور پھر عقبیٰ میں راحت کی توقع رکھے 2 ؎۔ قریش کی نادانی کا ذکر جو آیت میں ہے اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
Ayahs 6:27–30(27 ۔ 30) ۔ اوپر سے جن منکر حشر مشرک لوگوں کا ذکر چلا آتا ہے ان آیتوں میں بھی انہیں لوگوں کا قیامت کے دن کا ایک حال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جتلایا ہے کہ اے رسول اللہ کے اب تو دنیا میں یہ لوگ سرکشی سے جنت دوزخ اور عقبیٰ کی باتوں کو جھٹلا رہے ہیں لیکن جب دوزخ میں ڈالنے کے لئے اللہ کے فرشتے ان کو گھیر کر دوزخ کے کنارہ پر لے جاویں گے اور دوزخ کی آگ ان کو نظر آوے گی اس وقت ان کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ اپنے کئے پر کس قدر پچھتاویں گے اور پھر دوبارہ دنیا میں آنے اور ایماندار بن کر دنیا سے اٹھنے کی کیسے آرزو کریں گے۔ پھر فرمایا کہ یہ آرزو ان کی کچھ دل سے نہ ہوگی بلکہ دوزخ کی آگ سے بدحواس ہو کر ایسی باتیں اسی طرح ان کے منہ سے نکلیں گی جس طرح دریا کے سفر میں ڈوبنے کے خوف سے یہ لوگ دنیا میں ایماندار بن جاتے تھے اور خشکی میں اتر کر پھر وہی مشرک کے مشرک ہوجاتے تھے۔ یہ ذکر سورة عنکبوت میں تفصیل سے آوے گا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے جھوٹ کی عادت خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ اپنی عادت کے موافق دنیا میں دوبارہ جانے اور ایماندار بننے کی جھوٹی آرزو کر رہے ہیں اگر دنیا میں ان کو دوبارہ بھیجا جاوے تو ان کا یہ جھوٹ کھل جاوے گا جس طرح یہاں ایک یہ جھوٹ کھل گیا کہ دوزخ کے کنارہ پر آنے سے پہلے تو یہ لوگ قسمیں کھا کر اپنے شرک کا انکار کر رہے تھے جب دوزخ کی آگ ان کو نظر آئی اور اس میں جھونکے جانے کا ان کو یقین ہوگیا تو اپنی سب وہ جھوٹی قسمیں بھول کر بد حواسی میں یہ اقرار کرنے لگے کہ پہلی دفعہ تو دنیا میں ہم نے سب کچھ کیا لیکن دوبارہ دنیا میں اگر ہم کو بھیجا جاوے گا تو ہم ایسا نہ کریں گے بلکہ پورے ایمان دار بن کر دنیا سے اٹھیں گے آخر یہی لوگ تھے جو دنیا میں کھلے خزانہ میں کھلے خزانہ یہ کہا کرتے تھے کہ حشر قیامت سب پر جھوٹ ہے انسان کی فقط یہی دنیا کی زندگی ہے جب وہ مر کر خاک ہوگیا تو پھر دوبارہ کیا جیتا ہے۔ اب آگے ان لوگوں کی ایک اور حالت کا ذکر فرمایا کہ جب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر کئے جاویں گے تو اللہ تعالیٰ ان پوچھے گا کہ عیلیین کی جن باتوں کو دنیا میں تم جھٹلاتے تھے آج وہ سب باتیں تمہاری آنکھوں کے سامنے آگئیں اس کے جواب میں قسمیں کھا کر یہ لوگ کہویں گے کہ ہاں اے ہمارے رب وہ سب باتیں حق ہیں اور ہم نے ان سب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا لیکن بےوقت ان کا یہ اقرار کچھ کام نہ آوے گا اور حکم ہوگا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھٹلاتے تھے اس جھٹلانے کی اب یہی سزا ہے جاؤ اسی عذاب کا مزہ چکھو۔ اسی سورة کے آخر میں اور سورة مومن کے آخر میں جو آیتیں آویں گی ان سے شرع کا یہ قاعدہ قرار پایا ہے کہ انسان کا ایمان اور اس کی توبہ اسی وقت کا سب کچھ مقبول ہے جب تک موت یا عذاب الٰہی کی کچھ نشانیاں انسان کی آنکھوں کے سامنے نہ آجاویں کیونکہ خالص فرمانبرداری اسی وقت تک ہے جب تک کوئی بےبسی انسان کو نہیں ہے جب موت یا عذاب الٰہی کی نشانیاں آنکھوں کے سامنے آگئیں تو پھر ایک حالت بےبسی کی ہوگئی جس میں نہ خالص فرمانبرداری کا موقع باقی رہتا ہے نہ اس بےموقع وقت کی کوئی بات مقبول ہونے کے قابل رہتی ہے جس طرح مثلاً سورة یونس میں آوے گا کہ ڈوبتے وقت فرعون ایمان لایا اور وہ مقبول نہ ہوا اس قاعدہ شرعی کے موافق منکر حشر مشرک لوگوں کی وہ بےوقت کی مذامت کام نہ آئی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص نے پہلے سے ایمان اسلام کی باتوں کی پرواہ نہ کی سورج کے مغرب سے نکلنے کے بعد ایسے شخص کا ایمان و اسلام مقبول نہ ہوگا 1 ؎۔ ترمذی وابن ماجہ میں عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ موت کے قریب جب آدمی کا سانس اکھڑ کر خراٹا لگ جاتا ہے تو اس وقت اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 2 ؎ یہ حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خالص فرمانبرداری کا وقت ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پھر عقبیٰ کی بہبودی کا کوئی کام آدمی سے بن نہیں آتا۔
Ayahs 6:31–32(31 ۔ 32) ۔ جن منکر لوگوں کا ذکر اوپر سے چلا آتا ہے یہ آیتیں بھی ان ہی کی شان میں ہیں حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جن لوگوں نے جزا سزا کے لئے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کو جھٹلایا جس کے سبب سے عقبیٰ کو یہودی کے کچھ کام ان سے نہ ہو سکے ایسے لوگ بڑے ٹوٹے میں ہیں ابھی تو اس ٹوٹے کا حال ان لوگوں کو نہیں معلوم ہوتا لیکن جب ناگہانی طور پر قیامت کی گھڑ ان لوگوں کے سر پر آن کھڑ ی ہوگی اور عقبیٰ کے احوال ان کی آنکھوں کے سامنے آجاویں گے کہ عقبیٰ کی بہبودی کے کام کرنے والے لوگ طرح طرح کے عیش و آرام میں ہوں گے اور یہ لوگ طرح طرح کے عذاب میں پھنس جاویں گے تو اس وقت یہ لوگ اپنے قصور پر نادم ہو کر بہت حسرت اور افسوس کریں گے لیکن بےوقت کی ندامت ان کے کچھ کام نہ آوے گی قتادہ کے قول کے موافق ایسے لوگوں کی پیٹھ پر بوجھ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جب ایسے بد لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو ان کے بد عمل ایک بد صورت آدمی کی شکل بن جاویں گے اور وہ بد شکل آدمی ان بد لوگوں کی چڈھی پڑ چڑھ کر ان کو میدان محشر تک گھیر کرلے جاویں گے 1 ؎۔ معتبر سند سے مسند امام احمد اور ابو داؤد میں براء بن عازب ؓ کی بڑی حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ بد لوگوں کا عمل ایک بد شکل آدمی کی صورت بن کر وہ بد شکل آدمی ایسے لوگوں کی قبر میں آتا ہے اور صاحب قبر کو لعنت ملامت کرتا ہے 2 ؎۔ اس حدیث سے قتادہ کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ یہ لوگ { اِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا } جو کہا کرتے تھے اس کا جواب فرمایا کہ جس طرح بچے ایک کھلونے سے گھڑ ی دو گھڑی کھیلتے ہیں اور پھر اسے توڑ کر پھینک دیتے ہیں دنیا کی زندگی کا حال تو بالکل ویسا ہی ہے کہ صبح کچھ ہے تو شام کچھ اور اللہ سے ڈر کر عقبیٰ کی بہبودی کے کام کرنے والوں کی ہمیشہ کی عیش و عشرت کی جو زندگی عقبیٰ میں ہوگی اس کے آگے عقل مند کے نزدیک دنیا کے ناپائیدار عیش اور دنیا کی چند روزہ زندگی کی کیا حقیقت ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گذرچ کی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جتنی جگہ میں گھوڑے کا سوار اپنا کوڑا رکھ دیتا ہے جنت کی اتنی جگہ تمام دنیا سے بہتر ہے 3 ؎۔ ان آیتوں میں دنیا کی زندگی اور دنیا کے عیش کو عقبیٰ کی زندگی اور عیش کے آگے بےحقیقت جو فرمایا ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔
Ayahs 6:33–34(33 ۔ 34) ۔ ترمذی اور حاکم نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے اور ترمذی نے اس روایت کو صحیح بتلایا ہے اور حاکم نے اس کو شرط شیخین پر صحیح کہا ہے کہ ابوجہل نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ معاملات دنیا میں ہم تم کو سچا اور امانت دار جانتے ہیں لکن جس کلام کو تم اپنے اوپر خدا کی طرف سے اترنا بتلاتے ہو اس کی تصدیق ہم نہیں کرسکتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ اور آنحضرت جو مشرکین کے جھٹلانے پر رنجیدہ ہوتے تھے اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یوں تسکین دی کہ تمہاری ذات خاص سے ان مشرکین کو کچھ بحث نہیں ہے بلکہ وہ ذات سے تم کو اچھا گنتے ہیں وہ تو اس سبب سے تم کو جھٹلاتے ہیں کہ تم ان کو خد کے احکام سنا کر انکا قدیم کا رواج بت پرستی چھڑانا چاہتے ہو سو اس طرح کا جھٹلانا کچھ رنج کرنے کے اور غم کھانے کے لائق نہیں ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی یہ تسلی فرمائی کہ اے رسول اللہ کے قرآن میں تم کو پچھلے انبیاء اور ان کی امتوں کے حالات جو سنائے گئے ان سے تم کو یہ معلوم ہوگیا ہوگا کہ ان لوگوں کا تمہیں جھٹلانا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ پچھلی امتیں بھی اسی طرح رسولوں کو جھٹلاتی اور طرح طرح کی ایذا دیتی رہی ہیں جس پر انہوں نے صبر کیا اور اس صبر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اپنے رسولوں کی مدد کی جس سے وہ سرکش قومیں غارت ہوگئیں اور آخری غلبہ اللہ کے رسولوں کو ہی ہوا تم بھی ذرا صبر کرو یہی انجام تمہارا ہونے والا ہے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے ہجرت کے بعد رفتہ رفتہ اس وعدہ کا کچھ ظہور ہوا اس کے ثبوت کے لئے فقط ایک مکہ کی نظیر کافی ہے کہ ان آیتوں کے نازل ہونے کے وقت مکہ کا کیا حال تھا اور اب کیا ہے۔ صحیح بخاری میں خباب بن الارت ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے ایک دن صحابہ نے مشرکین مکہ کے ظلم و زیادتی کی شکایت آنحضرت ﷺ کے روبرو پیش کی جس پر آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلے ایماندار لوگ اس سے زیادہ ظلم و زیادتی اٹھا چکے ہیں ان سے بعضوں کو جتنازمین میں گاڑ دیا گیا ہے اور بعضوں کو آرے سے چیرا گیا ہے اور پھر بھی وہ الگ اپنے دین پر قائم رہے جلدی نہ کرو رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو پورا کرے گا اس ظلم اور زیادتی کا نام باقی نہ رہے گا 2 ؎۔ یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی تسلی کی آیتوں سے آنحضرت ﷺ کی ایسی کامل تسلی ہجرت سے پہلے ہی ہوگئیں تھی کہ جس سے آپ صحابہ کی بھی تسلی فرمایا کرتے تھے۔