Ayah 5:11۔ مسند امام احمد اور طبرانی میں اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے سفر میں سورة مائدہ کی یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ اس شان نزول کی روایت کی سند میں اسماء بنت یزید ؓ کا پردردہ شہر بن حوشب ایک راوی ہے جس کو بعض علماء نے ضعیف اور کثیر الارسال لکھا ہے۔ لیکن تقریب میں اس کو صدیق لکھا ہے 2 ؎۔ شہر بن حوشب کی یہ روایت اسماء بنت یزید سے ہے جو شہر بن حوشب کی پرورش کرنے والی ہیں اس لئے اس سند میں ارسال کا وہم بھی باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ تابعی بغیر ذکر صحابی کے آنحضرت ﷺ سے کوئی روایت کرے تو اس کو ارسال اور اس کی حدیث کو مرسل کہتے ہیں اس سند میں وہ بات نہیں ہے۔ عقیدہ عہد کو کہتے ہیں۔ اس میں علماء مفسرین کا اختلاف ہے کہ ان آیتوں میں عقود کے معنی کون سے عہود کے ہیں۔ تفسیر ابن جریر میں علی بن ابی طلحہ ؓ کے واسطے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے اس میں حرام و حلال چیزوں کے جو احکام عہد کے طور پر قرآن شریف میں ہیں انہی احکام کہ عقود کی تفسیر قرار دیا گیا ہے 3 ؎۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی جو روایت علی بن ابی طلحہ کے واسطے سے تفسیر میں ہو وہ نہایت صحیح شمار کی جاتی ہے۔ اس لئے یہی تفسیر رفع اختلاف کے لئے کافی ہے آگے اللہ تعالیٰ نے حرام و حلال کا ذکر جو فرمایا ہے اس سے بھی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔ بھیمۃ الانعام کے معنی چوپائے مویشی کے ہیں۔ ان معنی میں بستی کے اونٹ گائے بکری بھیڑ اور جنگلی شکار کر کے کھانے کے قابل جانور مثلاً نیل گائے۔ ہرن یہ سب داخل ہیں۔ انعام کے لفظ میں چوپائے درندے داخل نہیں ہیں۔ چونکہ عرب کے محاورے میں دونوں کے نام جداجدا ہیں اسی حکم شرعی کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول نے فرمایا کہ سب درندے چوپائے حرام ہیں۔ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت جابر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے درندے جانوروں کے حرام ہونے کا ارشاد فرمایا ہے۔ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ کا مطلب یہ ہے کہ آگے آیت حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ میں جن جانوروں کا ذکر ہے وہ حرام ہیں غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَاَنْتَمْ حَرَمٌ کا مطلب یہ ہے کہ حاجیوں کو احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار حرام ہے ہاں دریائی جانوروں کا شکار حالت احرام میں روا ہے چناچہ اس کا ذکر آگے آتا ہے اب آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور ارادہ ازلی کے موافق جن جانوروں کے حلال یا حرام ہونے کا حکم فرمایا دیا ہے اس کی مصلحت کو وہی خوب جانتا ہے۔ اللہ کی مصلحت کے برخلاف اہل مکہ نے بعض جانوروں کہ بحیرہ ؔ سائبہؔ وغیرہ کے نام سے جو حرام ٹھہرا رکھا ہے یہ ملت ابراہیمی میں نہیں ہے۔ بلکہ یہ زمانہ کفر کی رسم ہے ہر ایماندار شخص کو اس سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ بحیرہؔ سائبہؔ جانوروں کا ذکر اس سورة میں آگے آوے گا۔
Ayah 5:2ابن جریر میں عکرمہ اور سدی سے روایت ہے کہ ایک شخص شریح بن ہند مدینہ میں آن کر مسلمان ہوگیا تھا اور اپنے وطن میں جا کر پھر مرتد ہوگیا اور اس قصہ کے ایک سال کے بعد اس شخص نے حج کا قصہ کیا۔ صحابہ ؓ نے آنحضرت سے سے درخواست کی کہ اگر آپ جازت دیں تو شریح بن ہند کے ساتھ جو نیاز کعبہ کے جانور اور تجارت کا مال ہے اس کو ہم لوٹ لیویں۔ آپ نے فرمایا یہ کیونکرہو سکتا ہے وہ تو نیاز کے جانور لے کر حج کے اردہ سے جا رہا ہے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎۔ حضرت عبد اللہ عباس ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پابند جان کر حالت شرم میں بھی حج کیا کرتے تھے اور سورة براءۃ کے نازل ہونے سے پہلے بموجب حکم اس آیت کے مسلمانوں کو منع تھا کہ مشرکوں کو حج سے روکیں 3 ؎۔ سورة برا ءۃ میں جب یہ حکم اترا کہ مشرک لوگ ناپاک اور نجس ہیں آئندہ سال سے وہ مسجد حرام کے پاس نہ آیا کریں جب سے سورة مائدہ کی اس آیت کا حکم منسوخ ہے۔ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس آیت کی منسوخ ہونے پر اجماع نقل کیا ہے لیکن ایک جماعت مفسرین کی اس آیت کے مسنوخ ہونے کے قائل نہیں ہیں 4 ؎۔ اور شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ نے الفوز الکبیر میں اس آیت کے منسوخ ہونے کو تسلیم نہیں کیا 5 ؎۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة بر اءۃ میں آوے گی حاصل یہ ہے کہ جو علما کی کسی آیت کے منسوخ ہونے کے قائل نہیں ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ سورة براءۃ کے نازل ہونے سے پہلے مشرک مسلمان سب حج کو جاتے تھے اور اس وقت تک یہ عام حکم تھا کہ کسی حج کے جانے والے کو خواہ شرک ہو یا مسلمان حج کے جانے سے روکانہ جاوے سورة براءۃ کے اس حکم سے کہ آئندہ سال سے مشرک لوگ مسجد حرام کے پاس نہ آیا کریں سورة براءۃ کے پہلے کا جو وہ عام حکم تھا اس میں ایک تخصیص ہوگئی اس کو ناسخ و منسوخ نہیں کہا جاسکتا۔ شعائر شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی نشائی کے ہیں۔ احرام باندھنا۔ قربانی کے جانوروں کا ساتھ لینا۔ احرام کے مہینوں میں حج کے ارادہ سے سفر کرنا پہچان کے لئے قربانی کے جانوروں کے گلے میں پٹہ کا ڈال دینا یہ سب باتیں حج کے ارادہ میں اللہ کی تعظیم کی نشانیاں ہیں۔ اس لئے ان کو شعائر اللہ فرمایا۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ احرام کے مہینے شروع شوال سے لے کر ذی الحجۃ کی دسویں تک ہیں اور یہ بھی گزرچکا ہے کہ رجب۔ ذیقعدہ۔ ذی الحجہ۔ محرم۔ ان مہینوں میں رفع شرک کے طور پر لڑنا جائز ہے۔ لڑائی کی ابتدا اپنی طرف سے مسلمانوں کو جائز نہیں ہے۔ ھدی قربانی کے وہ جانور جن کو حاجی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں قلائدہ وہ پٹے جو ان جانوروں کے گلے میں پہچان کے لئے ڈالتے ہیں آمین البیت الحرام کے معنی حاجی لوگ۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ ان تعظیم کے مہینوں میں لوٹ مار کرنا اور اللہ کی تعظیم کی نشانیوں کی توہین کرنا مسلمانوں کو جائز نہیں ہے کیونکہ حاجی لوگ اگرچہ حج کے سفر میں تجارت کا مال بھی ساتھ رکھیں تو رکھیں لیکن اصل قصد ان کا حج سے اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کا ہوتا ہے حالت احرام میں خشکی کے جانوروں کا شکار جو منع فرمایا تھا اب آگے فرمایا کہ احرام کے کھل جانے کے بعد وہ ممانعت باقی نہیں رہی اگر بغیراحرام والا کوئی شخص شکار کے جانور کا گوشت احرام والے شخص کو دیوے تو احرام والے شخص کو اس کا گوشت کھانا جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ شکاراحرام والے شخص کی خاطر سے نہ کیا گیا ہو۔ معتر سند سے مسند امام احمد اور ابن ماجہ میں ابو قتادہ کی جو حدیث ہے اس میں یہ سب ذکر تفصیل سے ہے 2 ؎۔ اگر احرام والا شخص غیراحرام والے شکاری شخص کی کچھ مدد کرے تو اس شکار کے جانور کا گوشت بھی احرام والے شخص پر حرام ہوجاتا ہے چناچہ اس کا ذکر صحیح مسلم 3 ؎ کی ابو قتادہ کی حدیث میں ہے۔ یہ حدیثیں آیت کے آخر ٹکڑے کی گویا تفسیر ہیں۔ یہ اوپر گزرچکا ہے کہ حج کے ذیل میں کچھ تجارت کی جاوے تو اس سے حج میں کچھ فتور نہیں پڑتا۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں زید بن اسلم ؓ سے روایت ہے کہ قصہ حدیبیہ کے بعد کچھ مشرکین مدینہ کی راہ سے عمرہ کی نیت سے مکہ جاتے تھے صحابہ کرام نے آنحضرت سے اجازت چاہی کہ جس طرح مشرکوں نے ہم کو حدیبیہ کے قصہ کے وقت مکہ میں جانے اور عمرہ کرنے سے روکا تھا ہم بھی ان کو روکیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جن لوگوں نے دشمنی کر کے تم کو کعبہ میں جانے سے روکا تھا صلح حدیبیہ کے بعد ان لوگوں سے دشمنی کا بدلہ لینا صلح کی شرط کے خلاف ہے۔ ایسی ناجائز او زیادتی کی باتوں پر مسلمانوں کو ایکا کرنا چاہیے۔ بلکہ مسلمانوں کا ایکا اور آپس کی امداد ہمیشہ نیک باتوں پر ہو وے اور ناجائز امداد سے خدا کا خوف دل میں رہے کیونکہ خدا کا عذاب بڑی سخت چیز ہے۔ صحیح مسلم میں نواس بن سمعان ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے بر کے معنی حسن اخلاق کے فرمائے ہیں اور فرمایا ہے کہ اثم وہ کام ہے جس کے کرنے سے آدمی کو ایک خلجان پیدا ہوا اور وہ اس کام کو لوگوں سے چھپاوے 2 ؎۔ یہ حدیث گویا آیت کی تفسیر ہے
Ayah 5:3یہ اوپر گزر چکا ہے کہ یہ آیت اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ کی تفسیر ہے اس میں سے وہ چوپائے حرام ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے مردہ اور وہ جانور جو بغیر ذبح اور شکار کے اپنی موت سے مرجاوے۔ سورة بقرہ میں مسند امام احمد، ابن ماجہ اور مستدررک حاکم وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث گزرچکی ہے 3 ؎ کہ مردار جانوروں میں سے دو مردار جانور مچھلی اور ٹڈی حلال ہیں۔ اس حدیث کی سند میں عبد اللہ بن زید بن اسلم کو بعض علماء نے اگرچہ ضعیف کہا ہے لیکن امام احمد نے عبد اللہ بن زید کو ثقہ لوگوں میں شمار کیا ہے 4 ؎۔ اس حدیث کی سند کا صحیح ہونا تسلیم کر کے ابو زرعہ وغیرہ نے یہ کہا ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے اس کا جواب اور علماء نے یہ دیا ہے کہ اس حدیث میں اُخِلَّ لَنَاکا لفظ ہے اور اصول حدیث میں یہ طے ہوچکا ہے کہ صحابی کے جس قول میں اس طرح کے لفظ ہوں وہ قول حدیث نبوی کے حکم میں ہوا کرتا ہے 5 ؎ سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے کہ ذبح کے وقت جانور کی رگوں میں سے نکل کر جو خون بہا کرتا ہے وہ خون حرام ہے گوشت میں لگا ہوا خون حرام نہیں ہے۔ عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث جو اوپر گزری اس میں یہ بھی ہے کہ خون میں سے دو خون کلیجی اور تلی حلال ہیں۔ اوپر سے جانوروں کے گوشت کا ذکر تھا اس لئے لحم الخنزیز فرما کر اس کے بعد فانہ رجس بھی فرمایا تاکہ معلوم ہوجاوے کہ گوشت پر منحصر نہیں سور کے سارے اجز ناپاک ہیں۔ بعض مفسروں نے سورة الانعام کی آیت کی تفسیر میں یہ بحث جو کی ہے کہ لحم خنزیر کی ترکیب اضافی ہے اور اس طرح کی ترکیب اضافی کے بعد جو ضمیر آتی ہے وہ مضاف کی طرف پھرا کرتی ہے مضاف الیہ کی طرف سے نہیں پھرا کرتی اس لئے فانہ میں جو ضمیر ہے وہ لحم کی طرف پھرے گی اور معنی یہ ہوں گے کہ سور کا گوشت ناپاک ہے، اس معنی کی بنا پر سور کے سارے اجزاکا ناپاک ہونا آیت سے نکلے گا۔ اس کا جواب اور علماء نے یہ دیا ہے کہ آیت { کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا } (5/62) اور آیت { اَشْکُرُوْ انَعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ } ( 114/16) کی بھی یہی ترکیب ہے اور ان میں یحمل کی ضمیر اور ایاہ کی ضمیر مضاف الیہ کی طرف پھرتی ہے اس لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس طرح کی ترکیب میں ہمیشہ ضمیر کا مضاف کی طرف پھرنا لازمی ہو۔ صحیح مسلم، ابوداؤد، اور ابن ماجہ میں بریدہ اسلمی ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا چوسر کھیلنے والا شخص جب تک چوسر کھیلتا ہے تو اس کے ہاتھ گویا سور کے خون میں ڈوبے رہتے ہیں۔ جن علماء نے سور کے سارے اجزا کو ناپاک ٹھہرایا ہے اس حدیث سے ان کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں اللہ کے رسول نے ناپاکی ٹھہرایا ہے اگرچہ اب عیسائی لوگ سور کو حرام نہیں سمجھتے لیکن تورات کے حصہ استثناء کے باب 14 کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل عیسائی مذہب میں سور قطعی حرام ہے۔ گو دباغت سے امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) کے نزدیک سور کی کھال پاک نہیں ہوتی امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) سے اس باب میں مختلف روایتیں ہیں۔ دباغتؔ اس طریقہ کو کہتے ہیں جس سے کھال کو پاک و صاف کر کے استعمال کے قابل کیا جاتا ہے اور امام ابو یوسف (رح) کو اس باب میں امام ابوحنیفہ (رح) سے اختلاف ہے۔ صحیح مسلم، ترمذی، ابن ماجہ اور مسند امام احمد میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر ایک کھال دباغت سے پاک ہوسکتی ہے 2 ؎۔ اس حدیث سے امام ابو یوسف (رح) کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔ زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی بڑی کتابوں میں ہے 3 ؎۔ جمہور مفسرین نے آیت و ما اھل لغیر اللہ کے یہ معنی کئے ہیں کہ یہ وہ جانور وہ ہے جس کے ذبح کے وقت سو اللہ کے اور کسی کا نام لے کر اس کو ذبح کیا جائے جس طرح مشرکین مکہ جانوروں کے ذبح کرنے سے پہلے اپنے بتوں کے نامزد کرتے تھے اور ذبح کے وقت ان بتوں کا نام لے کر ان جانوروں کو ذبح کرتے تھے۔ جمہور مفسرین کے معنی کے علاوہ تفسیر عزیزی میں آیت کے یہ معنی بیان کئے گئے ہیں کہ سوا اللہ کے کسی اور شخص کی تعظیم کی غرض سے اگر کوئی جانور اس شخص کے نام کا ٹھہرایا جائے اور ذبخ کے وقت عادت کے طور پر بسم اللہ اللہ اکبر زبان سے کہہ کر اس جانور کو ذبخ کیا جاوے تو ایسے جانور کا گوشت بھی حرام ہے۔ اپنے اس قول کے صحیح ہونے کی وجہ شاہ صاحب نے یہ بیان کی ہے کہ مثلاً جو لوگ سید احمد کبیر کی گائے بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کرتے ہیں جب ان سے یہ کہا گیا کہ اس گائے کے معاوضہ کا گوشت بازار سے لے کر ایک دو دفعہ تم اپنا کام چلاؤ تاکہ معلوم ہو کہ ذبح کے وقت تمہارا بسم اللہ اکبر کا زبان سے کہنا دل ارادہ سے ہے تو ان لوگوں نے اس بات کو منظور نہیں کیا جس سے معلوم ہوا کہ ذبح کے وقت ان لوگوں کا بسم اللہ اللہ اکبر کہنا برائے نام ہے اس کی نیت میں اس شخص کی تعظیم ذبح کے وقت بھی بسی ہوئی ہوتی ہے جس کے انہوں کا انہوں وہ جانور ذبح سے پہلے ٹھہریا تھا اس لئے اس ذبح کو ذبح شرعی کہہ سکتے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ حضرت عمر ؓ کی صحیح بخاری و مسلم کی حدیث انما الاعمال بالنیات اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَنْظُرُ اِلٰی اَجْسَامِکُمْ وَلاَ اِلٰی صُوْرِکُمْ وَلٰکِنْ یَنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ 2 ؎ اور اس قسم کی اور حدیثوں کے موافق شریعت کے سارے کاموں کا دارو مدار آدمی کی نیت اور دلی ارادہ پر ہے اس واسطے نیت اور دلی ارادہ کی بنا پر جو فیصلہ شاہ صاحب نے کیا وہ بالکل اصول شرع کے موافق ہے۔ گلہ گھٹ کر جو جانور مرجاوے اس کو منخنقۃ کہتے ہیں۔ لکڑی وغرلہ کے مارنے سے جو جانور مرجاوے وہ موقوذہ ہے۔ اونچی جگہ سے گر کر جو جانور مرجائے وہ متردیہ ہے۔ دوسرے جانور کے سینک مارنے سے جو جانور مرجائے وہ نطیحہ ہے۔ کسی درندہ نے ایک جانور پر حملہ کیا اور کسی شخص نے اس جانور کو زندہ پا کر اسے ذبح کرلیا تو وہ حلال ہے، نہیں تو حرام، یہ تفسیر بعض مفسرین کے قول کی بنا پر ہے لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول یہ ہے کہ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ مَااُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ سے وَمَا اَکَلَ السَّبُعُ تک سب جانوروں سے متعلق ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ ان سب جانروں میں سے جس جانور کو کوئی شخص زندہ پاکر ذبح کر لیوے تو وہ حلال ہے۔ زکوٰۃ کے معنی ذبح کرنے کے ہیں ذبح کرنے کی چیز ایسی ہونی چاہیے جس سے گردن کی رگیں کٹ کر خون بہ جائے دانت اور ناخنوں سے ذبح منع ہے چناچہ صحیح بخاری و مسلم کی رافع بن خدیج ؓ کی حدیث میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے 3 ؎۔ سلف کے نزدیک جو جانور دم ہلائے یا آنکھیں کھول کر دیکھنے لگے یا کھڑا ہوجائے وہ زندہ شمار کیا جائے گا۔ مشرکین مکہ نے تین سو ساٹھ تھان بتوں کے نام کے کعبہ کی اطراف میں بنا رکھے تھے جس میں تیر رکھے تھے ان تھانوں کی پوجا بھی کی جاتی تھی اور ان تھانوں پر بتوں کے نام کے جانور بھی ذبح کئے جاتے تھے ان ہی جانوروں کو مَا ذَبِحَ فرمایا اور ان تھانوں کو نصب فرمایا ہبل بت کے نام کا ایک بڑاتھان تھا وہاں پر تین تیر رکھے ہوئے تھے ایک پر اجازت لکھی ہوتی تھی۔ دوسرے پر مخالفت اور تیسرا خالی تھا۔ مشرکین مکہ کو جب کسی کام کے کرنے نہ کرنے میں پس و پیش ہوتا تو اس تھان کے کاہن کے پاس جاتے تھے وہ کان ان تیروں کو جوئے کے پانسوں کی طرح اس طرح کام میں لاتا کہ ان کو ایک تھیلی میں ڈال کر بغیر دیکھے ایک تیر نکالتا اگر اجازت کا پانسا بالکل نکل آتا تو وہ کام کرلیا جاتا اور ممانعت کے پانسے پر اسی کام کا ارادہ فسخ کردیا جاتا تھا۔ اگر خالی تیر والا پانسہ نکلتا تو پھر گھڑی گھڑی وہ پانسے یہاں تک کام میں لائے جاتے کہ اجازت یا ممانعت کا پانسہ نکل آتا۔ ان تیروں کے پانسوں کا نام لازم ہے۔ اور استقسام کے معنی ان پانسوں کے ذریعے سے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم دریافت کرنے کے ہیں۔ مشرکین مکہ کا یہ غلط اعتقاد تھا کہ ان پانسوں کے ذریعے سے غیب کی خبر کا دریافت کرنا ملت ابراہیمی کا ایک مسئلہ ہے چناچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح کے دن آنحضرت ﷺ نے کعبہ کے اندر ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی تصوریں دیکھیں جن کے ہاتھوں میں یہی پانسے تھے ان کو دیکھ کر آپ نے فرمایا اللہ ان مشرکوں کو ہلاک کرے جنہوں نے یہ تصویریں بنائی ہیں ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) نے تو کبھی پانسے ہاتھ میں نہیں لئے 1 ؎۔ یہ پانسوں کا عمل ہبل بت کے تھان پر کیا جاتا تھا اس لئے تھانوں کے ذکر میں اس کا ذکر بھی فرمایا۔ اس طریقہ سے ایک توغیب کی خبر دریافت کی جاتی تھی جو سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں۔ دوسری غلطی سے اس کو ملت ابراہیمی کا ایک حکم شمار کیا جاتا تھا اس واسطے اس طریقہ کی ممانعت فرمائی۔ قرآن شریف کے نازل ہونے سے پہلے شیاطین آسمان کی بہت سی خبریں سن آتے تھے اور عرب کے کچھ لوگوں سے اس واسطے کہہ دیتے تھے کہ یہ لوگ ان شیاطینوں کی نذر نیاز کرتے رہتے تھے۔ انہی لوگوں کو کاہن کہتے ہیں یہ کاہن لوگ فال کے طور پر ان باتوں کو عام لوگوں کی ضرورت کے وقت بہت سی باتیں اپنی طرف سے ملا کر عام لوگوں سے کہہ دیتے تھے اور عامل لوگوں سے کچھ لے لیا کرتے تھے اسی پر ان کاہنوں کی گزران تھی 2 ؎۔ صحیح بخاری و مسلم اور فقط صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیثیں ہیں ان میں ان شیاطینوں اور کاہنوں کا ذکر تفصیل سے ہے 3 ؎ ذلکم فسق کا یہ مطلب ہے کہ جن باتوں کا اوپر ذکر گزرا کہ وہ باتیں حرام ہیں ان کو حلال جاننا نافرمانی اور گمراہی ہے کیونکہ ملت ابراہیمی میں ان باتوں کے کرنے کا کہیں حکم نہیں ہے۔ فتح مکہ سے پہلے مشرکین کو یہ امید تھی کہ شاید دین اسلام ضعیف ہو کر قریش میں کے جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں وہ پھر بت پرست بن جاویں فتح مکہ کے بعد مشرکوں کی وہ امید منقطع ہوگئی اسی کا ذکر آگے فرما کر فرمایا کہ مشرکوں کا خوف تو اب اٹھ گیا مگر ہر ایمان دار کو اللہ کا خوف دل میں رکھنا چاہیے تاکہ اللہ سے نڈر ہوجانے کے سبب سے حالت اسلام میں کچھ ایسے کام مسلمانوں سے نہ ہوجائیں جس سے اللہ کی مدد کم ہو کر اسلام میں ضعف آجائے۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جزیرہ عرب میں شیطان کے بہکانے سے بت پرستی جو پھیلی ہوتی تھی وہ تو ایسی گئی کہ شیطان اس سے ناامید ہوگیا لیکن آپس کی لڑائیوں کے لئے شیطان کے بہکاوے کا اثر اسلام میں باقی ہے 1 ؎۔ یہ حدیث آیت کے آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے کیونکہ آیت کے آخری ٹکڑے اور حدیث میں ان آپس کی لڑائیوں سے پیشین گوئی کے طور پر ڈرایا گیا ہے جو اللہ سے نڈر ہوجانے اور شیطان کے بہکانے میں پھنس جانے سے باہم مسلمانوں میں لڑائیاں ہوئیں جن سے آخر کو اسلام میں ضعف آگیا۔
بخاری اور کتب حدیث میں روایت ہے کہ بعض یہودی لوگوں نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ قرآن میں ایک ایسی اتری ہے کہ اگر ہم لوگوں پر وہ آیت اترتی تو ہم اس کے اترنے کے دن کو عید ٹھہراتے حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ کہا اور کس دن یہ آیت اتری ہے۔ خدا کا شکر ہے اس دن دو عیدیں جمع تھیں کیونکہ حجۃ الوداع کے عرفہ اور جمعہ کے دن یہ آیت اتری ہے 2 ؎۔ ابن جریر نے سدی سے روایت کی ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد پھر کوئی کم حلال یا حرام کی بابت نہیں نازل ہوا اور اس آیت کے نزول کے دو مہینے اکیس روز کے بعد آنحضرت ﷺ نے وفات پائی 3 ؎۔ ابن جریر میں یہ بھی روایت ہے کہ جس روز یہ آیت اتری ہے خدا کا شکر ہے کہ اس کے اترنے کے دن دو عیدیں جمع تھیں کیونکہ حجۃ الوداع کے عرفہ کے دن یہ آیت اتری ہے 4 ؎۔ ابن جریر میں بھی روایت ہے کہ جس روز یہ ْآیت اتری اس روز حضرت عمر ؓ بہت روئے آنحضرت آنحضرت نے حضرت عمر ؓ سے رونے کا سبب پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ آج تک دن بدن دین کے بڑھنے کی توقع تھی اس آیت سے معلوم ہوا کہ آج دین کا مرتبہ کمال کو پہنچ گیا اور ہر کمال کو زوال کا خوف ہے اس لئے میں روتا ہوں۔ آنحضرت نے فرمایا سچ ہے 5 ؎ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث جس میں آنحضرت ﷺ نے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ علہ السلام تک کی شریعتوں کو ایک خوشنما مکان سے تشبیہ دے کر یہ فرمایا کہ اس مکان میں ایک آخر اینٹ کی کسر تھی وہ آخری اینٹ میں ہوں کہ میری شریعت کے بعد وہ مکان پورا ہوگیا کیونکہ میں خاتم النبیین ہوں 6 ؎۔ یہ حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے کس لئے کہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ پچھلی شریعتوں کی تکمیل شریعتِ محمدی سے ہوئی اور شریعت محمدی کی تکمیل قرآن شریف کے نزول کی تاریخ سے شروع ہو کر سارے قرآن کے نزول کے ختم پر وہ تکمیل پوری ہوگئی۔ ترمذی اور مستدرک حاکم میں حضرت عائشہ ؓ اور عبد اللہ بن عمر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ سورة مائدہ حرام و حلال کے باب میں آخری سورة ہے اس کے بعد حرام و حلال کا کوئی حکم نہیں اترا 1 ؎۔ ان روایتوں کی بنا پر تفسیر سدی 2 ؎ وغیرہ میں ہے کہ اس مطلب کے ادا کرنے کے لئے اس سورة ہیں { اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ } فرمایا۔ لیکن امام المفسرین حضرت عبد اللہ عباس ؓ کی روایت جو صحیح بخاری میں ہے وہ اس کی مخالف ہے کیونکہ وہ فرماتے ہیں سورة بقر کی آیت { یَآاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تَّقُوْ اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا } ( سورة مائدہ کے بعد نازل ہوئی 3 ؎ اس روایت کی بنا پر قتادہ اور سعید بن جبیر کے قول کے موافق حافظ ابن جریر کے نزدیک صحیح مطلب آیت { اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ } کا یہ نہیں ہے کہ حرام و حلال کے احکام پورے ہو کر اس آیت کے نزول کے دن اسلام کامل ہوگیا بلکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اِنَّا فَتَحْنَا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے خواب کو سچا کر کے مسلمانوں سے یہ وعدہ جو فرمایا تھا کہ اسلام کے غالب اور کامل ہونے کا وہ زمانہ آنے والا ہے جس میں مسلمان بےخوف و خطر کعبہ کا حج کریں گے اور حدیبیہ کی مزاحمت کی طرح کوئی مخالف اسلام کچھ مزاحمت نہ کرسکے گا حجۃ الوداع کے وقت اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوگیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اپنے وعدے کے پورے ہوجانے کی نعمت مسلمانوں کو یاد دلائی حضرت عمر ؓ کے رونے اور آنحضرت ﷺ کے اس رونے کی حالت کو تصدیق کرنے کی جو روایت اوپر گزری اس سے سعید بن جبیر اور قتادہ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ کمال وزوال اسلام کی قوت و ضعف کی حالت سے بھی ہے۔ کس لئے کہ اسلام کے بعد کوئی شریعت قیامت تک نہیں ہے جو اسلام کے احکام کو منسوخ کر کے ان پر کچھ زوال کا اثر ڈالے اسلام میں پچھلے اسب انبیاء اور پچھلی سب شریعتوں کے حق ہونے کی صداقت ہے اور قیامت تک یہی دین قائم رہے گا پچھلی شریعتوں میں جس طرح کچھ ردو بد لہوا وہ اس میں کچھ نہ ہوگا کیونکہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور اسلام آخری شریعت ہے اس لئے فرمایا کہ اس آخر زمانہ میں اللہ کو دین اسلام پسند ہے۔ آگے فرمایا کہ اوپر جن چیزوں کے حرام ہونے کا ذکر گزرا وہ چیزیں ایسے شخص کو حلال ہی جو بھوک سے لا چار ہوجاوے اور سوا ان حرام چیزوں کے اور کوئی حلال چیز اس شخص کو کھانے کو نہ ملے زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی سورة بقرہ میں گزر چکی ہے یہ جو مشہور ہے کہ تین دن کے فاقہ کے بعد حرام چیز حلال ہوتی ہے اس کا کچھ پتہ شروع کے احکام سے نہیں لگتا۔ بلکہ شرع میں لا چار اور بےبس آدمی کے لئے یہ حکم ہے۔ اور معتبر سند سے امام احمد میں ابو واقد لیثی سے جو روایت ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے اس شخص کو لاچار اور بےبس ٹھہرا دیا ہے جس کو صبح اور شام کا کھانا میسر نہ آوے 1 ؎ ترمذی میں بریدہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اہل جنت کی ایک سو بیس 120 صفیں ہوں گی جس میں اسی 80 صفیں امت محمدیہ کی ہوں گی 2 ؎۔ اسلام کے اللہ تعالیٰ کے پسند ہونے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے کیونکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بہ نسبت اور شر یعتوں کے دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دو چند پھیلا یا ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ مخمصہ کے معنی بھوک کے ہیں متجانف کے معنی کسی جانب کو مائل ہونے والا شخص۔
Ayah 5:4مستدرک حاکم ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ابو رافع کی شان نزول کی روایت ہے جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آنحضرت کے پاس آن کر دروازہ پر رک گئے گھر کے اندر نہیں آئے آنحضرت نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا جس گھر میں کتاب ہو اس گھر میں فرشتے نہیں آتے پھر تلاش سے معلوم ہوا کہ گھر میں کتہ کا پلا تھا آنحضرت نے اس کو نکلوا دیا اور کتوں کے مارنے کا حکم دیا۔ اسی ذدیل میں بعض صحابیوں نے کتے کے شکار کا حکم آنحضرت سے پوچھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3 ؎۔ کتوں کے مارنے کا حکم سن کر صحابہ نے پحضرت ﷺ سے یہ مسئلہ اس لئے پوچھا کہ اگر شکاری کتے کے پالنے کی بھی ممانعت ہو تو شکاری کتے جو ان کے پاس ہوں ان کو نکال دیں۔ صحیح بخاری مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا شکار کے واسطے یا کھیتی یا مویشی کی حفاظت کے لئے کتے کا پالنا روا ہے نہیں تو نہیں 4 ؎۔ یہ حدیث اس آیت کی گویا تفسیر ہے کیونکہ آیت میں فقط شکار کتے کے پالنے کی اجازت ہے اور حدیث میں یہۃ بھی تفسیر ہے کہ سوا شکار کی ضرورت کے دو ضرورتیں اور بھی ایسی ہیں جن میں کتے کا پالنا روا ہے کتے کے شکار کے حلال ہونے میں یہ شرطیں ہیں۔ شکاری کتا سدھا ہوا ہو اس کا سدھا ہو نایوں معلوم ہوگا کہ کم سے کم دو دفعہ یا تین دفعہ اس کو پزما لیا ئجائے کہ جس وقت اس کو شکار پر چھوڑا جاتا ہے تو وہ جاتا ہے اور جب روکا جاتا ہے تو رک جاتا ہے۔ مالک کی بلا اجازت شکار کا گوشت کھاجانے کی جرأت نہیں کرتا کتے کو شکار پر چھوڑنے وقت بسم اللہ کہہ کر اسے چھوڑنا چاہیے اگر جان بوجھ کر کہنا ترک ہوگیا اور کتے کا پکڑا ہوا شکار جانور ذبح کرنے سے پہلے مرگیا تو ایسے جانور کا گوشت کھانا اکثر علماء کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ کتے کا پکڑا ہوا جانور اگر جیتا ہاتھ آجاوے تو اس کو ذبح کرنا ضرور ہے۔ اگر ذبح کرنے سے پہلے وہ جانور مرگیا اور کتے نے اس میں سے کچھ گوشت کھالیا تو گویا کتا سدھا ہوا نہ رہا اس لئے اس کے شکار کا گوشت ناجائز ہے۔ ہاں اگر کتے نے اس میں سے کچھ نہیں کھایا تو یہ شکار جائز ہے کیونکہ سدھے ہوئے کتے کا جانور کو پکڑنا شرع میں قائم مقام ذبح کے ہے چناچہ صحیح بخاری و مسلم کی عدی بن حاتم ؓ کی حدیث میں اس کا ذکر ہے 1 ؎۔ اگر سدھے ہوئے کتے کے شکار میں دوسرا اجنبی کتاب شرک ہوجائے اور شکار کا جانور ذبح کرنے سے پہلے مرجائے تو یہ گوشت مردار ہے خواہ کتا اس میں سے کچھ کھائے یا نہ کھائے۔ اور درندوں میں سے چیتنے کے شکار کا اور پرندوں میں سے باز وغیرہ شکار جانوروں کے شکار کا بھی یہی حکم ہے جو کتے کے شکار کا ہے عدی بن حاتم ؓ کی جس حدیث کا حوالہ اوپر گزرا اس کی روایت میں انہوں نے کتے کے شکار کا مسئلہ میں تیر کے شکار کا یہ مسئلہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ تیر کے شکار کا جانور کے جسم میں زختم لگا اور خون نلکا تو یہ جانور حلال ہے نہیں تو نہیں۔ اس لئے بعض علماء نے یہ بات نکالی ہے کہ بندوق کے شکار کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ بندوق کا زخم تیر کے زخم سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ تیر کو کمان سے گولی چھرے کو بندوق سے جب چلایا جائے تو بسم اللہ کہہ کر چلا جاوے 2 ؎؎ چناچہ صحیح و مسلم کی ابو ثعلبہ ؓ کی حدیث میں اس کا ذکر ہے 4 ؎ طَیِِّبَاتِ کے معنی ذبخ کئے ہوئے حالا جانور۔ جوارح کے معنی شکاری جانور مکلبین کے معنی سدھے ہوئے جانور مما علمکم اللہ سے وہ عقل مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ نے شکار جانوروں کے سدھانے کے لئے انسان کو دی ہے واذکرواسم اللہ علیہ کے معنی اوپر گزرچکے ہیں کہ شکاری سامنے کھڑے ہونے سے اللہ تعالیٰ نے مسلمان شکاریوں کو ڈرایا تاکہ شکار میں جو شرطیں ٹھہرائی گئی ہیں شکاری لوگ ان شرطوں کی پابند یکریں۔ اور اس پابندی میں بےاحتیاطی کرنے سے اس دن کا حساب یاد رکھ کر ڈریں
Ayah 5:5آج کے دن سے مقصود وہی دن ہے جس روز یہ آیت اتری طیبات کے معنی اوپر گزر چکے ہیں کتاب والوں کے کھانے کا مطلب اکثر سلف کے نزدیک ان کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کا ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ اور ابوہریرہ ؓ کی جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح خیبر کے وقت ایک یہودیہ نے آنحضرت ﷺ کو بکری کے بھنے ہوئے گوشت کی ایک ران بھیجی جس میں زہر ملا ہوا تھا آپ نے بھی اس گوشت میں سے کچھ کھایا اور اور بشر بن برائ ؓ صحابی نے بھی کچھ کھایا جس کے سبب بشر بن براء ؓ پر تو اس زہر کا اس قدر اثر ہوا کہ اسی شکایت میں ان کا انتقال ہوگیا اور آنحضرت ﷺ پر بھی اس زہر کا کسی قدر اثر ہوا 1 ؎۔ یہ حدیث فعلی اور تقریری دونوں طرح پر گویا اس آیت کی تفسیر ہے۔ کیونکہ آپ نے کچھ گوشت اس ران میں سے کھا کر یہ جتلایا کہ اہل کتاب کے ذبح کئے ہونے جانور حلال ہیں۔ اسی کو حدیث فعلی کہتے ہیں اور بشر بن براء ؓ نے آپ کے روبرو وہ گوشت کھایا اور آپ نے ان کو منع نہیں کیا اس کو حدیث تقریری کہتے ہیں عرب کے کچھ لوگ بنی تغلب وغیرہ جب تک عیسائی نہیں ہوئے تھے تو عیسائیوں میں جانور خالص اللہ کے نام پر ذبح ہوا کرتے تھے۔ عرب کے ان قبیلوں کے عیسائی ہوجانے کے بعد عیسائی مذہب میں سے یہ بات جاتی رہی اس واسطے اب اگر معلوم ہوجائے کہ عرب کے رواج کے مطابق اس جانور کی گردن مروڑ کر اسے مارا گیا ہے تو اس طرح کے جانوروں کے حرام ہونے کا حکم آیت { وَمَا اُھِلَّ لِغَیرْ ِاللّٰہِ بِہٖ وَالْمُحْصَنَۃُ } میں اوپر گزرچکا ہے اکثر سلف کے نزدیک محصنت کے معنی یہاں آزاد عورتوں کے ہیں اس لئے ان کے نزدیک اہل کتاب کی لونڈیوں سے نکاح جائز نہیں ہے 2 ؎ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح ہوجانے کے بعد اگر میاں بی بی کا کھانا الگ پکتا تو بڑی وقت کی بات تھی اس لئے اوپر فرمایا دیا کہ اہل اسلام اپنے گھر کا پکا ہوا کھانا اہل کتاب کو کھلا سکتے ہیں اب آگے فرمایا کہ عورتوں سے کھلم کھلا بد کاری کا یا درپردہ آشنائی کا چند روزہ تعلق نہ رکھا جاوے بلکہ نکاح شرعی کے بعد ہمیشہ ان کو اپنے پاس رکھا جاوے۔
آخر آیت میں فرمایا کہ دنیاوی طور پر اہل اسلام اور اہل کتاب میں کھانے پینے اور بیاہ نکاح کا تعلق پیدا ہوگیا تو اس سے کیا ہوتا ہے اصل میں تو اہل کتاب اپنے عقبیٰ کو سنبھالیں کہ ضد کے سبب سے منسوخ شریعتوں پر جو عمل کر رہے ہیں اس کو چھوڑ کر اسلام کے تابع ہوجائیں ورنہ منسوخ شریعتوں کے موافق جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ اللہ کے نزدیک سب اکارت ہے اور اس کا کچھ اجر عقبیٰ میں ان کو ملنے والا نہیں کیونکہ غلام کو اجر اس کام کا ملتا ہے جو کام آقا کی مرضی کے موافق ہو۔ خلاف مرضی کام پر اجر کا ملنا تو درکنار الٹا مؤاخذہ ان کے گلے پڑے گا اس لئے کہ اس آخری زمانہ کا حکم ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ جب انہوں نے سن لیا تو پھر اس کی مخالفت سے ان کو عقبیٰ میں بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث گزرچکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اہل کتاب میں سے میرا حال سن کر میری نبوت کو نہ مانے گا وہ دوزخ کے عذاب سے نجات نہیں پاسکتا 1 ؎ یہ حدیث آیت کے آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔
Ayah 5:6اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کی راحت کی چیزیں اس لئے پیدا کی ہیں کہ انسان ان سختیوں سے راحت اٹھا کر اس راحت کے شکریہ میں اللہ کی کچھ عبادت کرے اسی واسطے اوپر کی آیتوں میں انسان کی راحت کی حلال چیزوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ہر روز کی پانچ وقت کی عبادت نماز کا ذکر فرمایا اور نماز کے لئے طہارت ضروری ہے۔ اس واسطے نماز کے ذکر کے ساتھ وضو غسل اور تیمم کے حکم کی تفصیل فرمائی۔ نماز پڑہنے کے لئے کھڑے ہونے کا ارادہ جب کوئی مسلمان شخص کرے اور وہ بےوضو ہو تو اس پر وضو فرض ہے اور با وضو ہو کر پھر دوسرا وضو کرے تو مستحب ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بےوضو آدمی کی نماز اس وقت تک قبول نہیں ہوتی کہ وہ شخص وضو نہ کر لیوے 2 ؎۔ صحیح مسلم میں حضرت بریدہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل ی ہے کہ فتح مکہ کے دن آنحضرت ﷺ نے ایک وضو سے چند نما زیں پڑھیں اس بات کو دیکھ کر حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ حضرت ایک وضو سے چند نمازوں کا پڑھنا آپ کی عادت کے برخلاف ایک امر ہے آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو جواب دیا کہ میں نے یہ کام جان بوجھ کر کیا ہے آنحضرت ﷺ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ باوضو آدمی کا نماز کے وقت تازہ وضو کرنا ثواب کی بات ہے۔ ورنہ ایک وضو سے چند نمازیں بھی جائز ہیں چناچہ اسی بات کے جتلانے کے لئے میں نے ایک وضو سے چند نمازیں پڑھی ہیں ؔ یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بےوضو آدمی پر ہر نماز کے وقت وضو فرض ہے اور باوضو آدمی مستحب کے طور پر ہر نماز کے وقت تازہ وضو کرسکتا ہے۔ وضو میں غرارہ کرنا اور ناک میں اپنی دینا امام احمد (رح) کے نزدیک فرض ہے لیکن اور علماء اس کو سنت کہتے ہیں 1 ؎۔ اسی طرح ڈاڑھی کے باتوں کی جڑوں تک پانی کا پہچانا بعض علماء کے نزدیک فرض ہے مگر اور اکثر علاء اس کو بھی سنت کہتے ہیں 2 ؎۔ حاصل یہ ہے کہ آیت میں وضو کے جن چار فرضوں کا ذکر ہے ان میں تو اختلاف کرنے کا کسی کو کچھ موقع نہیں رہے۔ باقی کے فرائض وہ احادیث سے ثابت کئے گئے ہیں جن کی وجہ ثبوت اور وجہ اختلاف کی تفصیل بڑی کتابوں میں ہے۔ ہاتھوں کے دھوتے وقت کہنیوں کا بھی دھونا اس پر سو امام زفر (رح) کے اور سب علماء کا اتفاق ہے۔ اس باب میں حضرت جابر ؓ کی حدیث جس کو دارقطنی اور بیہقی نے روایت کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہاتھوں کے دھوتے وقت کہنیوں کو بھی دھویا 3 ؎۔ اس حدیث کو نووی ‘ منذری ‘ ابن صلاح وغیرہ نے ضعیف کہا ہے لیکن صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے مونڈھے تک اپنے ہاتھ دھوے اور پھر یہ کہا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کا اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا 4 ؎۔ اس حدیث سے جمہور علماء کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کہ ہاتھوں کے دھوتیغ وقت کہنیوں کا دھونا بلکہ اجر کے لحاظ سے اس سے بھی کچھ بڑھا ا چاہیے۔ چناچہ ابوہریرہ ؓ کی اسی حدیث میں آنحضرت ﷺ نے مونڈھوں تک ہاتھ دو کر یہ فرمایا کہ قیامت کے دن وضو کے اعضاء میں اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ایک چمک پیدا ہو و جائے گی اس لئے جس سے ہو سکے وہ اپنی اس چمک کو بڑھائے 5 ؎۔ بعض علماء نے ابوہریرہ ؓ کے اس فعل پر یہ اعتراض جو کیا ہے کہ ابوہریرہ ؓ کا یہ فعل عمروبن شعیب کی اس حدیث کے مخالف ہے جو مسند امام احمد نسائی ابو داؤد وغیرہ میں ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص وضو کی حد سے بڑھا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا 6 ؎۔ اس کا جواب اور علماء نے یہ دیا ہے کہ عمروبن شعیب کی اس حدیث میں وضو کے اعضا کو تین دفعہ دھونے کی حد کا ذکر ہے اس لئے اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ جو شخص اس تین دفعہ کی حد سے بڑھا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا کہ وہ اسراف میں پکڑا جائے گا۔ غرض ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اور عمروبن شعیب کی حدیث میں کچھ مخالفت نہیں ہے۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث پر ایک یہ اعتراض بھی ہے کہ ابوہریرہ ؓ اپنے اس فعل میں تن تنہا ہیں کسی اور صحابی سے یہ فعل نہیں پایا جاتا۔ یہ اعتراض بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ کی صحیح روایتوں میں یہ فعل حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا بھی موجود ہے 1 ؎۔ حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ سے تین دفعہ مسح کرنے کی جو روایتیں ہیں وہ تو ضعیف ہیں 2 ؎ ہاں صحیح حدیثوں سے آنحضرت ﷺ کا سارے سر کا اور بعض سر کا ایک دفعہ مسح کرنا ثابت ہے 3 ؎ اس واسطے علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے امام مالک (رح) اور ایک روایت میں امام احمد (رح) کے نزدیک سارے سر کا مسح فرض ہے لیکن صحیح مسلم ابو داؤد اور ترمذی میں مغیرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ کے بعض سر کا مسیح کرنے کا ذکر ہے 4 ؎۔ اللہ کے رسول کی شان سے فرض کا ترک کرنا بہت بعید ہے اس واسطے سارے سر کے مسح کی فرضیت میں علماء کو کلام ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) ربع سر کے اور امام شافعی (رح) بلا قید بعض سر کے مسح کے قائل ہیں۔ دلیلیں ہر ایک مذہب کی بڑی کتابوں میں ہیں 5 ؎۔ علیحدگی گردن کے مسح کے باب میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔ پیروں کے باب میں اللہ کے رسول نے یہ مطلب سمجھایا کہ تمام عمر اپنے پیردھوئے۔ پیروں کا مسح ایک دفعہ بھی اللہ کے رسول سے ثابت نہیں۔ پھر یہی عمل آپ کے صحابہ کا رہا۔ امامیہ مذہب میں پیروں کے مسح کا جو رواج ہے وہ کسی روایت سے ثابت نہیں ہوتا۔ صحیح مسلم وغیرہ میں کئی صحابہ سے روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے کچھ صحابی کی ایڑیاں وضو کے وقت سوکھی دیکھ کر فرمایا کہ ایسی ایڑویوں کو دوزخ کی آگ کی خرابی بھگتنی پڑے گی 6 ؎۔ ان حدیثوں سے معلوم ہوسکتا ہے کہ پورے طور پر پیروں کے دھونے کی کس قدر تاکید ہے کہ تھوڑی سی جگہ کے سوکھے رہ جانے پر بھی دوزخ کی آگ کا سامنا ہے پھر ایسی حالت میں پیروں پر مسح کیونکر جائز ہوسکتا ہے کیونکہ مسح میں تو بہت سی جگہ پیروں میں سوکھی رہ جاتی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن زید ؓ کی اور صحیح مسلم میں حضرت عثمان ؓ کی جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وضو کے اعضاء کو کبھی ایک دفعہ دھویا ہے اور کبھی دو دو دفعہ اور کبھی تین تین دفعہ 1 ؎۔ ہاں تین دفعہ دھونا منع ہے جس کا ذکر عمر و بن شعیب کی حدیث کے حوالہ سے اوپر گزرچکا۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ ایک دفعہ دھونا فرض ہے۔ تین فعہ تک سنت ہے عربی زبان میں غسل کے معنی بدن کے بھیگ جانے اور تر ہوجانے کے ہیں چناچہ عرب لوگ غسلہ المطر جب بولتے ہیں کہ کوئی شخص مینہ کے پانی میں ایسا بھیگ جاوے کہ اس کا سارا بدن تر ہوجائے۔ سورة النساء میں اللہ تعالیٰ نے حتی تغتسلوا اور یہاں فاطھروا فرمایا۔ طہرت کے لفظ سے ستھرائی کی تاکید نکلتی ہے اس سبب سے بعض علماء اس بات کے قائل ہیں کہ ناپاکی کے غسل میں بدن پر پانی ڈالتے وقت بدن کو ہاتھ سے ملنا بھی چاہیے صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت عائشہ ؓ اور میمونہ ؓ کی جو روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کے غسل کی کیفیت کا بیان ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جب ناپاکی کے بعد غسل کا ارادہ فرماتے تھے تو پہلے کبھی دو دفعہ اور کبھی تین دفعہ دونوں ہاتھ دھوتے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر بائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو دھوتے اور پھر مٹی سے مل کر یہ الٹا ہاتھ سے دھوتے اور پھر وضو کرتے اس کے بعد سر کے بال بھگو کر انگلیوں سے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچاتے اور تین دفع سر پر تین لپوں سے پانی ڈال کر باقی کے جسم پر ایک دفعہ پانی ڈالتے اور پھر دونوں پاؤں دھوتے تھے 2 ؎۔ ان حدیثوں میں ہاتھ سے بدن کے ملنے کا ذکر نہیں ہے۔ اسی طرح ان حدیثوں میں غرارہ اور ناک میں پانی دینے کا ذکر بھی نہیں ہے۔ اس واسطے اکثر علماء غسل میں اس کی فرضیت کے بھی قائل نہیں ہے ہاں امام ابوحنیفہ (رح) اور سفیان ثوری غسل میں ان دونوں باتوں کے فرض ہونے کے قائل ہیں۔ دلیلیں ہر ایک مذہب کی بڑی کتابوں میں ہیں 3 ؎۔ جاگتے میں مباشرت کرنے سے سوتے میں صحبت سے عورت کے حیض یا نفاس سے پاک ہوجانے سے جو غسل کا حکم ہے اسی غسل کو ناپاکی کے بعد کا غسل کہتے ہیں اس غسل کے فرض ہونے میں کچھ اختلاف ن ہیں ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ام سلمہ ؓ سے اور معتبر سند سے مسند امام احمد اور نسائی میں خولہ بنت حکیم ؓ سے اور معتبر سند سے مسند امام احمد و ترمذی اور ابو داؤد میں حضرت عائشہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ سوتے میں مباشرت کا خواب دیکھنے کے بعد منی کا کچھ اثر کپڑے پر پایا جاوے تو غسل فرض ہوتا ہے ورنہ فقط خواب و خیال کا کچھ اعتبار نہیں 1 ؎۔ یہ حدیثیں خواب میں مباشرت کے دیکھنے کی گویا تفسیر ہیں۔ اس ناپاکی کے غسل کے علاوہ جمعہ کا۔ عیدین کا۔ جدید اسلام کے پچھنے لگوانے کا بھی غسل ہے ان سب غسلوں کے فرض ہونے نہ ہونے میں علماء کا اختلاف ہے تفصیل اس اختلاف کی بڑی کتابوں میں ہے 2 ؎۔ سورة النساء میں تیمم کے حکم کا ذکر غسل کے ذیل میں اور یہاں وضو کے ذیل میں فرمایا تاکہ معلوم ہوجاوے کہ عذر کی حالت میں تیمم غسل ‘ اور وضو دونوں کا قائم مقام ہوسکتا ہے۔ تیمم کی شان نزول اور تفسیر سورة النساء میں گزرچکی ہے 3 ؎۔ اب آگے فرمایا اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ تم کو پچھلی امتوں کی طرح مشقت میں ڈالے کیونکہ اللہ عتالیٰ کو معلوم ہے کہ تم میں پچھلی امتوں کی برابر مشقت اٹھانے کی طاقت نہیں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری آسانی کے واسطے بائے غسل اور ضو کے تیمم کا حکم نازل فرزمایا تاکہ تم ہر حال میں پاک و صاف رہ کر اللہ تعالیٰ کی اس آسانی کی نعمت کے شکریہ میں اس کی عبادت سے غافل نہ رہو۔ صحیح مسلم میں حذیفہ ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ امت محمدیہ پر تیمم کے حکم کو نازل ہونا اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے کیونکہ پچھلی امتوں میں یہ تیمم کا حکم نہیں تھا 4 ؎۔ آیت میں تیمم کے حکم کو شکر کے قابل ایک نعمت جو فرمایا یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے تورات کے حصہ احبار لاو میں کے باب پندرہ کے موافق اہل کتاب پر ناپاکی کے بعد کا غسل فرض ہے مگر ان لوگوں نے اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ مسند امام احمد وغیرہ میں ابی بن کعب کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابتداء اسلام میں حضرت ﷺ نے یہ حکم دیا تھا کہ عورت سے صحبت کرنے کے بعد اگر منی نہ نکلے تو غسل فرض نہیں ہوتا۔ لیکن ما بعد میں آپ نے یہ حکم دیا کہ منی نکلے یا نہ نکلے فقط صحبت سے ہی غسل فرض ہوجاتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ ابتداء اسلام میں جو حکم تھا وہ ما بعد کی حدیثوں سے منسوخ ہے۔ ابی ابن کعب ؓ کی اس حیدث کو ابن حزیمہ اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے 5 ؎۔
Ayahs 5:7–10) 7 ۔ 10) ۔ اوپر تیمم کے حکم کو قابل شکر ایک نعمت فرما کر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عام نعمتوں اور احسانوں کو یاد دلایا ہے اور ان نعمتوں اور احسانوں کے شکریہ کا طریقہ بھی جتلایا ہے کہ ان نعمتوں اور احسانوں کے یاد کرنے کے وقت اس عہد کو یاد کیا کرو جو اللہ کے رسول کی معرفت تم نے اللہ تعالیٰ سے ٹھیرا کر اس عہد کو پورا کرنے کا پھر اقرار کیا ہے یہ عہد وہی بیعت اسلام کا معاہدہ ہے جو ہر مرد و عورت سے اسلام کے قبول کرنے کے وقت اللہ کے حکم سے آنحضرت ﷺ ٹھیرایا کرتے تھے۔ شریعت میں جن باتوں کا حکم ہے رنج و خوشی ہر حال میں ان کے موافق عمل کرنے کا اور جان باتوں کی مناہی ہے ان سے بچنے کا یہ معاہدہ بیعت اسلام کے وقت ٹھیرایا جاتا تھا۔ صحیح بخاری و مسلم میں عبادہ بن صامت ؓ کی ایک بڑی حدیث ہے 1 ؎ جس میں اس معاہدہ کا تفصیل سے ذکر ہے۔ اگرچہ بعض مفسروں نے اس معاہدہ کی اور تفسیر بھی کی ہے لکنا جو تفسیر اوپر بیان کی گئی ہے وہ امام المفسرین حضرت عبد داللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق ہے 2 ؎۔ اور حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اسی تفسیر کو اور تفسیروں پر ترجیح دی ہے 3 ؎۔ اس معاہدہ کے یاد لانے کے بعد فرمایا کہ اس معاہدہ پر قائم رہنے اور عہد شکنی کی نوبت نہ آنے دینے میں ہر ایمان دار کو چاہیے کہ اللہ سے ڈرتا رہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کے دل تک کے بھید معلوم ہیں اس لئے معاہدہ پر قائم رہنے والوں کا عہد شکنی کی نوبت کو روانہ رکھنے والوں کا کوئی حال اس غیب دان سے چھپ نہیں سکتا۔ اسی معاہدہ کی تاکید میں فرمایا کہ شریعت میں اللہ اور اللہ کی مخلوق کے جو حقوق ٹھیرا چکے ہیں انصاف سے ادا کرنے میں ہر ایماندار کو ثابت قدم اور وقت پر تیار اور کھڑا ہونا چاہیے کہ یہی معاہدہ کے پورا کرنے کی باتیں ہیں۔ یہ بھی فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے اگرچہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ وہ تمام ایمان داروں کے دشمن تھے لیکن فتح مکہ کے بعد جب وہ بھی اسلام میں داخل ہوگئے تو اب اس پہلی دشمنی کا کچھ خیال دل میں نہ کھنا چاہیے بلکہ اب ان سے بھی ان کے موافق یا مخالف گواہی اور ان کے ہر ایک معاملہ میں وہی انصاف کا طریقہ برتنا چاہیے جو ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے برتا کرتا ہے۔ کیونکہ یہی انصاف کا طریقہ متقی بننے کا ایک قریب تر راستہ ہے اس لئے اس طریقہ کے برخلاف کوئی راستہ اختیار کرنے سے خدا کا خوف کرنا چاہیے کہ وہ ہر شخص کے نیک و بد سب کاموں سے واقف ہے۔ صحح مسلم میں حضرت جابر ؓ کی ایک بہت بڑی حدیث ہے 1 ؎۔ جس میں حجۃ الوداع کے وقت مقام عرفات پر آنحضرت ﷺ کے خطبہ کے ذکر میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا اہل مکہ کے اسلام کے بعد اسلام کے پہلے کے سب جھگڑے میں نے اپنے قدموں کے نیچے مل ڈالے جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے بعد اسلام سے پہلے کا کوئی جھگڑا کسی مسلمان کو نہ نکالنا چاہیے بلکہ اسلام کے بعد سب مسلم ان ایک دل ہو کرمیل جول سے رہیں۔ اب آگے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا کا ذکر فرمایا تاکہ اس عہد پر قائم رہنے کی رغبت اور عہد شکنی کا خوف ہر ایمان دار شخص کے دل میں پیدا ہوجائے۔
Ayah 5:11اگرچہ مفسرین نے چند قصہ اس آیت کی شان نزول میں بیان کئے ہیں۔ لیکن غورث بن حارث کا قصہ جس کو عبد الرزاق نے حضرت جابر ؓ کی روایت سے اپنی تفسیر میں اس آیت کا شان نزول قرار دیا ہے اس کی سند معتبر ہے اور بہ نسبت اور قصوں کے اس قصہ کی اصل صحیح روایت سے ثابت ہے 2 ؎۔ حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ بخاری نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ جنگ ذات الرقاع کے جاتے وقت ایک جنگل میں پیڑوں کے سایہ میں ہم سب لوگ ٹھہر گئے۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں میں بھی ذرا سوگیا اور لوگوں کی بھی ذرا آنکھ جھپک گئی۔ تو آنحضرت کی تلوار جو ایک پیڑ میں آپ نے لٹکا دی تھی غورث بن حارث نے چپکے سے آن کر اتنے میں اتار لی اور تلوار کو میان سے کھینچ کر آنحضرت کی طرف اس کو تولا اور وار کرنا چاہا اور آنحضرت سے کہا اب تم کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے آپ نے فرمایا اللہ مجھ کو بچا سکتا ہے 3 ؎ روایت ابن اسحاق میں ہے کہ اتنے میں جبرئیل ( علیہ السلام) نے آن کر غورث بن حارث کے سینہ پر ایک تھپکی ماری جس سے تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا پڑی تو پھر آنحضرت ﷺ نے چھٹ وہ تلوار اٹھالی اور غورث بن حاثر سے پوچھا کہ اب تجھ کو کون بچاسکتا ہے اس نے کہا کوئی نہیں آپ نے فرمایا خیر جا اپنا راستہ پکڑ۔ واقدی نے اس قصہ کے بعد ذکر کیا ہے کہ اس حال کو دیکھ کر غورث بن حارث مسلمان ہوگیا اور اس کے سبب سے بہت سے لوگوں کو ہدایت ہوئی 4 ؎۔ اس قصہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر یہ احسان فرمایا کہ ان کو ایک مخالف شخص کے حملہ سے بچایا۔ پھر اس خاص احسان میں امت کے لوگوں کو شریک کر کے یہ آیت اس تنبیہ کے لئے نازل فرمائی کہ امت کی ہدایت کے لئے رسول کا آنا ایک بڑا احسان ہے اور اس احسان کی حفاظت یہ اللہ کا امت پر گویا دوسرا احسان ہے اس قصہ میں ضرر کے گمان کے وقت اللہ کے رسول نے اللہ پر بھروسہ کیا اور اس کا انجام اچھا ہوا اس لئے آخر آیت میں عام مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ اگر وہ بھی ایسے موقعے پر اللہ پر بھروسہ کریں گے تو ان کے بھروسہ کا بھی انجام اچھا ہوگا۔ اس تفسیر میں ایک جملہ گزرچکا ہے کہ اللہ پر بھروسہ کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا عالم اسباب میں آدمی اسباب کو چھوڑ بیٹھے بلکہ اللہ پر بھروسہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ آدمی اسباب کو کام میں لاوے اور ان اسباب میں تاثیر کے پیدا ہونے کا بھروسہ اللہ پر رکھے۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے اللہ پر بھروسہ رکھنے والے مسلمان کو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں جانے کی خوش خبری دی ہے 1 ؎۔ یہ حدیث اللہ پر بھروسہ رکھنے والے کی فضیلت کی گویا تفسیر ہے۔