5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 5:42–44

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

(یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے لئے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانیوالے ہیں۔ اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کردینا یا اعراض کرنا اگر تم ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرائیں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھرجاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے ' یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی۔ کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں

(42 ۔ 44) ۔ اس آیت کے منسوخ ہونے اور نہ ہونے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کے حکم کے موافق پہلے اہل کتاب جب آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی جھگڑا فیصلہ کرنے کو لاتے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تھا کہ خواہ آپ فیصلہ کریں یا پہلو تہی کر جاویں لنک جس وقت آگے کی آیت { وَاِنْ اَحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ } (49) نازل ہوئی تو وہ پہلو تہی کی صورت منسوخ ہوگئی۔ اور بعضوں نے کہا کہ ناسخ اور منسوخ میں ایک حکم کا دوسرے حکم کے مخالف ہونا ایک ضروری شرط ہے ان دونوں میں یہ شرط موجود ہے۔ کس لئے کہ پہلی آیت میں فیصلہ کرنے اور پہلو تہی کرنے کی دونوں صورتیں بیان فرما کر دوسری آیت میں فیصلہ کرنے کی صورت کی صراحت فرمائی ہے کہ جب فیصلہ کرنے کا موقع ہو تو ان کی خواہشوں کا کچھ خیال نہ کیا جائے بلکہ جس طرح قرآن شریف میں حکم اتارا ہے بید ھڑک اس کے موافق فیصلہ کیا جائے۔ اس صورت میں پچھلی آیت اگلی آیت کی تفسیر ہے ناسخ نہیں ہے۔ امام احمد (رح) نے اس پچھلی تقریر کی بہت تائید کی ہے 1 ؎۔ اور امام شافعی (رح) بھی اس آیت کے منسوخ ہونے کو تسلیم نہیں کرتے 2 ؎۔ شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ نے بھی الفوز الکبیر میں امام احمد (رح) کی تائید کو اختیار کیا ہے اور اس آیت کو مسنوخ نہیں تسلیم کیا 3 ؎۔ حاصل یہ ہے کہ یہود جو مقدمات آنحضرت کے پاس فیصلہ کو بھیجتے تھے اس سے یہود کی یہ غرض نہیں تھی کہ شرع محمدی حق ہے بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ تورات کے مسائل کی ناواقفی کے سبب سے اگر آپ ہمارے دستور کو سن کر اس کے موافق کوئی فیصلہ کر دیویں گے تو ہمارے ایجادی مسئلوں کا زیادہ رواج ہوجاوے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس شرارت کے روکنے کے لئے یہ بات تمہاری مرضی پر منحصر رکھی ہے کو خواہ ان کے مقدمات کا فیصلہ قرآن کے موافق کیا کرو یا خواہ نہ کیا کرو۔ اور تم ان کے مقدمات کا فیصلہ نہ کرو گے تو وہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اللہ تعالیٰ ہر طرح ان کی مخالفت سے بچانے والا ہے۔ ابن جریر ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن قیس سے یہ قصہ ان آیتوں کی شان نزول کے طور پر روایت کیا ہے کہ عبد اللہ بن صوریا اور شاس بن قیس اور چند یہود کے علماء نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے یہ فریب کیا کہ ظاہر میں آپ سے آن کر کہا کہ ہم سے اور ہماری قوم کے لوگوں سے مخالفت ہوگئی ہے ہم چند مقدمہ آپ کے پاس لائے ہیں ان مقدموں کو اگر ہماری خواہش کے موافق فیصل کر دیوں گے تو ہم اسلام لے آویں گے اور ہم لوگ عالم کہلاتے ہیں اس لئے ہمارا اسلام دیکھ کر عام لوگوں بھی مسلمان ہوجاویں گے اور باطن میں ان کے جی میں یہ فریب تھا کہ اگر آپ دھوکا کھا کر خلاف حکم الٰہی فیصلہ کردیں تو آپ کی نبوت میں طرح طرح شبہ ڈالیں مگر آپ نے اس طرح کے فیصلہ سے انکار کیا اتنے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے اور زیادہ ہوشیار کرنے کو یہ آیات نازل فرمائی 1 ؎۔ اور فرمایا کہ اے رسول اللہ تم اگر ان کے مقدمات کا انصاف سے فیصلہ کرو تو اللہ تعالیٰ اھل انصاف کو پسند کرتا ہے لیکن اگر ان لوگوں کو انصاف منظور ہوتا تو یہ لوگ تورات کے ان اصلی احکام سے نہ پھرتے جن پر تمام انبیاء بنی اسرائیل کا عمل تھا اور وہ ہمیشہ احکام تورات کے حکم برداری میں خود بھی لگے رہتے تھے اور اپنی قوم کے عابدوں اور عاملوں کو بھی اسی طرح اس کی تاکید شدید رکھتے تھے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو احکام تورات کی نگہبانی اور خبر گیری کی تاکید فرمائی تھی۔ اب حال کے یہود کو ان کے بڑوں کا حال یاد دلا کر فرمایا کہ تم لوگوں کو اپنے زور دار لوگوں کے ڈر سے یا مال دار لوگوں سے رشوت لینے کے لالچ سے احکام تورات بدلنے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے ورنہ تمہار شمار احکام الٰہی کے منکر لوگوں میں قرار پاوے گا۔ صحیح مسلم کی براء بن عازب ؓ کی جس حدیث 2 ؎ کا حوالہ اوپر کی آیتوں کی شان نزول میں گزرا اس میں یہود نے جان بوجھ کر سنگساری کے حکم کا تورات میں ہونے سے انکار کیا تھا۔ اور جان بوجھ کر حکم الٰہی کا جو شخص انکار کرے وہ کافر ہے اس لئے یہود کو ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کافر فرمایا اور آگے کی آیتوں میں حسب موقع فاسق اور ظالم فرمایا جن موقعوں کی تفسیر ہر ایک آیت کے متعلق آگے آتی ہے۔ اگرچہ یہ آیتیں خاص یہود کی شان میں نازل ہوئی ہیں لیکن اس امت میں سے بھی اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کسی آیت قرآنی کا منکر ہوگا تو وہ اس حکم میں داخل ہے اور جو شخص قرآن کی آیت کے حق ہونے کا اقرار کرے کے اس کے موافق عمل نہ کرے گا تو گنہگار ہوگا۔ یہی تفسیر ان آیتوں کی امام المفسرین حضرت ابی طلحہ کی روایت سے ہے 1 ؎۔ جو تفسیر کے باب میں نہایت صحیح ہے۔ کفر کے معنی گناہ کے ایسے موقع پر آتے ہیں جس طرح آنحضرت ﷺ نے صحیح بخاری کی ابوسعید خدری ؓ کی حدیث میں شوہروں کی ناشکر گزار عورتوں کو کافر فرمایا ہے 2 ؎۔ تورات میں نور کے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح روشنی سے آدمی کو راستہ نظر آجاتا ہے اسی طرح دین کے راستہ کی تورات گویا ایک مشعل ہے۔
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلا ہے لیکن جو شخص بدلا معاف کردے وہ اس کیلئے کفّارہ ہوگا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں۔

اوپر یہود کی اس کارستانی کا بیان تھا کہ انہوں نے تورات میں سنگساری کی آیت کا انکار کیا ان آیتوں میں ان کی دوسری کارستانی کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات کے موافق ان پر قصاص فرض ہے لیکن ان کے بعض قبیلوں نے اس پر عمل چھوڑ دیا تھا اور اپنی طرف سے حکم الٰہی کے مخالف ایک دستور قرار دے رکھا ہے۔ سورة بقرہ میں اس دستور کا ذکر گزر چکا ہے کہ مدینہ منورہ کے گرونواح میں یہود کے دو قبیلے تھے بنی قریظہ اور بنی نضیر ان میں سے بنی نضیر کا کوئی شخص بنی قریظہ میں کے کسی آدمی کے ہاتھ سے مارا جاوے تو اس کا قصاص لیا جاتا تھا اور اگر بنی قریظہ میں کا کوئی آدمی بنی نضیر کے کسی آدمی کے ہاتھ سے مارا جاوے تو قصاص نہیں لیا جاتا تھا 3 ؎۔ اوپر حکم الٰہی کا انکار تھا اس لئے وہاں کافرون فرمایا تھا یہاں مظلوم کے انصاف میں خلل تھا اس واسطے ظالمون فرمایا جس کے معنی منصف شخص کے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ جتلا دیا ہے کہ اے رسول اللہ کے یہ یہود لوگ تمہارے پاس کچھ مقدمات قوم کے لوگوں کے فیصلہ کرنے کو جو بھیجتے ہیں وہ کچھ نیک نیتی اور انصاف پسندی سے نہیں بھیجتے کیونکہ انصاف پسندی اگر ان کو منظور ہوتی تو پھر یہ لوگ تورات کے احکام کو چھوڑ کر ایجادی باتیں کیوں نکالتے بلکہ یہ لوگ تو اس غرض سے وہ مقدمات تمہارے پاس بھیجتے ہیں کہ تورات کے احکام کی ناواقفی کے سبب سے تم کوئی فیصلہ ان کی ایجادی باتوں کے موافق کر دو تو ان کی وہ ایجادی باتیں زیادہ رواج پکڑ جائیں۔ اکثر علماء اصول وفقہ کا یہ مذہب ہے کہ جس طرح یہ قصاص کا مسئلہ تورات کے حوالے سے قرآن میں آیا اسی طرح پہلے کسی شریعت کا جو مسئلہ قرآن میں آوے اور اس کی منسوخی کا ذکر شرع محمدی میں نہ ہو تو پہلی شریعت کا ایسا مسئلہ شرع محمدی کا مسئلہ ٹھہرے گا 1 ؎۔ سورة الانعام کی آیت { اُولِٰٓئکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ فَبِھُداہُمُ اقْتَدِہُ } (6: 90) سے اس مذہب کی پوری تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے سورة الانعام کی اس آیت کی تفسیر بھی وہی قرار دی ہے جو ان علماء اصول اور فقہ کا مذہب ہے چناچہ زیادہ تفصیل اس کی سورة الانعام میں آتی ہے { فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَہٗ } کی تفسیر میں سلف کے دو قول ہیں ایک تو یہ کہ مقتول شحخص کے وارث قصاص معاف کر دیویں گے تو اس کے اجر میں مقتول کے گناہ معاف ہوجاویں گے دوسرا قول یہ ہے کہ قصاص کی معافی قاتل کی دنیوی سزا کا کفارہ ہے اور عقبیٰ کا مؤاخذہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے چاہے وہ معاف فرما دے چاہے مؤاخذہ کرے لیکن مسند امام احمد (رح) ، صحیح مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ کی حدییث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ظلم و زیادتی کی معافی پر اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے شخص کو بڑا درجہ دیوے گا 2 ؎۔ اس حدیث سے پہلے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ جس کا درجہ بڑھے گا اس کے گناہ ضرور معاف ہوجاویں گے۔ شریعت موسوی میں قتل عمد کی صورت میں خون بہا نہیں ہے فقط قصاص ہے اس لئے ان آیتوں میں خون بہا کا ذکر نہیں فرمایا۔
Ayahs 5:46–47

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ان پیغمبروں کے بعد انہیں کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور اہل انجیل کو چاہئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اسکے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نزل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرمان ہیں۔

(46 ۔ 47) ۔ اوپر ذکر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں بہت سے انبیاء ایسے بھیجے جو ہمیشہ احکام تورات کی حکم برداری میں خود بھی گلے رہتے تھے اور بنی اسرائیل کے عابدوں اور عالموں کو بھی اسی طرح احکام تورات کی پابندی اور پابندی کی نگہبانی رکھنے کی تاکید کیا کرتے تھے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کو تورات کے احکام کی نگہبانی کا حکم دیا تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ ان انبیاء بنی اسرائیل کے قدم بقدم سب انبیاء بنی اسرائیل تھے اور آخر پر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو تورات کے احکام کی تصدیق و نگہبانی کے لئے بھیجا اور علاوہ تورات کے ان پر انجیل بھی نازل فرمائی جس میں ہر طرح کی ہدایت تھی اور گناہوں کی کثرت سے بنی اسرائیل کے دل میں ایک طرح کی سیاہی جو آگئی تھی اس سیاہی کے اندھیرے کو دور کرنے کے لئے انجیل گویا ایک روشن مشعل تھی اور تورات کے سچے احکام کی تصدیق اور طرح طرح کی نصیحت بھی اس میں موجود تھی لیکن اس نصیحت کا اثر ان ہی کے دل پر ہوگا جن کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کا کھٹکا لگا ہوا ہے جو لوگ اس سے بےبہرہ ہیں ان کے دل پر اس نصیحت انجیل کا کچھ اثر ہونے والا نہیں۔ آخر میں فرمایا نصاریٰ کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انجیل میں جو باتیں اتاری ہیں وہ اس کے پابند ہوں ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کے نافرماں بردار کہلاویں گے۔ اصل انجیل پر عمل چھوٹ جانے کا سبب جو اس وقت کی تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ 4 ء ھجری میں ایک شخص بولس نام کا یہودی فریب کے طور پر نصرانی ہو گھیا جس نے اصل انجیل کے بہت سے احکاموں کو بدل کر اس اصلی انجیلی احکام کی جگہ اپنی ایجادی ابتوں کا رواج نصرانیوں میں پھیلا دیا جس سے اکثر نصرانی بولس کے ساتھ ہوگئے۔ چناچہ اس وقت کے سچے نصرانی اور بولس کی سخت خونریز لڑائی بھی ہوئی۔ بولس کے ساتھ زیادہ تھے اس لئے بولس غالب رہا اور بولس کی ایجادی باتوں کا رواج قائم رہا جس کے سبب سے سچے دین میں طرح طرح کے اختلافات پڑگئے۔ 80 ئ؁ کے قریب تک یہی اختلافی حالت مسیحی دین کی رہی اس کے بعد قسطنطنیہ قیصر روم نے اس اختلاف کے رفع کرنے کی غرض سے انجلت کے اصل احکام میں بہت بڑا ردو بدل کیا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ نصاریٰ کو اصل انجیل پر عمل کرنا چاہیے ورنہ لوگوں کی ایجادی باتوں پر عمل کریں گے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نافرماں بردار کہلاویں گے۔ انجیل میں تورات کے احکام کی تصدیق کے موجود ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جس قدر تورات کے احکام سے منسوخ نہیں ہوئے وہ واجب العمل ہیں۔ اگرچہ یہود ونصاریٰ کلام الٰہی میں ناسخ و منسوخ کے قائل نہیں ہیں اس وجہ سے قرآن شریف پر ان کا یہ اعتراض ہے کہ قرآن شریف کی بعض آیتیں دوسری بعض آیتوں سے منسوخ ہوئی ہیں اس لئے قرآن کو کلام الٰہی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ کلام الٰہی میں ناسخ و مسنوخ نہیں ہے۔ علماء اسلام نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ ناسخ و منسوخ کو قرآن کے ساتھ خصوصیت نہیں ہے بلکہ تورات و انجیل میں بھی ناسخ ومنسوخ چناچہ تورت کے حصہ استثناء کے چوبیسویں باب میں بغیر کسی قید کے عورت کو طلاق دینا جائز ہے اور انجیل متی کے 19 باب میں یہ حکم ہے کہ سوائے عورت کی بدکاری کے قصور کے اور کسی قصور پر عورت کو طلاق نہیں دی جاسکتی۔ اب اگر اس مثال کو یاد دلا کر یہ کہا جائے کہ منسوخ ہوجانے کے سبب سے تورات اور ناسخ قرار پانے کے سبب سے انجیل دونوں اللہ کا کلام نہیں ہیں تو اس کو کوئی اہل کتاب تسلیم نہیں کرے گا پھر ناسخ و منسوخ کے سبب سے قرآن شریف کے اللہ کا کلام ہونے میں کیونکر شبہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک شریعت سے دوسری شریعت کے منسوخ ہونے کا اقرار کرنے سے یہود کو شریعت عیسوی اور شریعت محمدی کا اور نصاریٰ کو فقط شریعت محمدی کا تسلیم کرنا لازم ہوجاتا تھا اس لئے ان لوگوں نے ناسخ و منسوخ کا انکار کیا۔ لیکن شریعت کا تسلیم کرنا فقط ناسخ و مسنوخ کی بحث پر منحصر نہیں ہے۔ کیونکہ تورات کے حصہ استثناء کے 33 باب میں تین نبیوں کا ذکر یوں آیا ہے کہ پہلے نبی کا ظہور کوہ طور سے ہوگا اور دوسرے کا شام کے پہاڑ ساعیر سے اور تیسرے کا مکہ کے پہاڑوں سے پہلے نبی اور دوسری نبی کے باب میں تو اہل کتاب اور اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ تیسرے نبی کے باب میں اگرچہ اہل کتاب نے طرح طرح کے اختلاف کئے ہیں لکن اہل کتاب اور اہل اسلام سے جو اکثر مباحثات ہوئے ہیں ان میں اہل اسلام نے ان سب اختلافات کو رفع کردیا ہے غرض آج تک کسی اہل کتاب نے تورات انجیل یا تاریخ کی معتبر کتابوں میں سے اس بات کو ثابت نہیں کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سوائے نبی آخر الزمان کے مکہ کے پہاڑوں میں سے کسی اور ایسے دوسرے نبی کا ظہور ہوا ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح اس نبی پر کتاب آسمانی نازل ہوئی یا اس کی امت کی وہ کثرت ہوئی ہو جس کی خوش خبری اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے حضرت ہاجرہ ؓ حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی ماں کو دی تھی۔ اس خوشخبری کا ذکر تورات کے حصہ تکوین کے باب 16۔ اور 17 میں تفصیل سے ہے۔ انجیل یوحنا کے چودہویں باب میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بعد جن نبی کے آنے کی خوشخبری دی ہے اس کی تفسیر بھی سوائے نبی آخر الزمان محمد ﷺ کے دوسرے نبی سے نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ اس کی تفسیر کسی دوسرے سے کی جاوے گی تو تورات کے حصہ استثناء کے باب 33 کی جو آیت گزری اس میں اور انجیل یوحنا کی اس آیت میں مخالفت پیدا ہوجاوے گی جو علماء نصاریٰ کے اعتقاد کے بالکل مخالف ہے کس لئے کہ ناسخ منسوخ سے بچنے کے لئے ان کا اعتقاد تو یہ ہے کہ انجیل کی کوئی آیت توریت کی کسی آیت کے مخالف نہیں ہے۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ایک گویا اس تفسیر میں گزرچکی ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے مابین کوئی نبی نہیں ہے 1 ؎۔ یہ حدیث تورات کے حصہ استثناء کے باب 33 اور یوحنا کی انجیل کے باب 14 کی آیتوں کے ہم مضمون اور ان سے پوری مطابقت رکھتی ہے۔
Ayahs 5:48–49

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ! ) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کردیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کردیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو۔ تم سب کو خدا کیطرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتادے گا۔

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق تم فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں۔ اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں۔

(48 ۔ 49) ۔ اوپر تورات کے حوالے سے جس سلسلہ سے تین نبیوں کا ذکر گزرا اسی ترتیب سے قرآن شریف میں ان تینوں نبیوں کی کتابوں کا یہ ذکر ہے چناچہ انا انزلنا التوراۃ سے تورات کا اور اتیناہ الانجیل سے انجیل کا ذکر تو اوپر گزرچکا اب ان آیتوں میں قرآن شریف کا ذکر ہے بالحق کا مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی شک و شبہ کے یہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ مشرکین مکہ اور اہل کتاب کسی کو اس کے اللہ کا کلام ہونے میں شک کرنے کا موقع نہیں ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کی تورات اور انجیل سب پچھلی کتابوں کی صداقت اس قرآن میں موجود ہے۔ جس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح پچھلے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے وہ کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح اب یہ قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ بھی ان لوگوں میں کا ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کو جھٹلانا عین ان کتابوں کو جھٹلانا ہے جن کتابوں کو یہ لوگ اللہ کا کلام اور آسمانی کتابیں جانتے ہیں۔ کس لئے کہ قرآن کی آیتیں سن کر یہ با ان کو اچھی طرح معلوم ہوچکی ہے کہ قرآن میں پچھلے سب انبیاء اور ان کی کتابوں کی صداقت موجود ہے اس واسطے جس نے قرآن کو جھٹلایا اس نے اس صداقت کو بٹہ لگایا۔ اسی طرح ان کی کتابوں میں قرآن کا ذکر موجود ہے جس کے سبب سے ان کا قرآن کور جھٹلانا اپنی کتابوں کا جھٹلانا ٹھہرے گا۔ قرآن شریف سب آسمانی کتابوں کے بعد نازل ہوا ہے اس لئے اس کو مھیمنا علیہ فرمایا ہے جس کا مطلب امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ ہے کہ قرآن میں پچھلی کتابوں کے جو مضمون ہیں ان مضمونوں کو قرآن نہایت امانت داری سے ادا کرتا ہے 1 ؎۔ جس سے اس خیانت کا پتہ لگ جاتا ہے جو پچھلی کتابوں میں کی گئی ہے مثلاً یہود نے بیا ہے ہوئے مرد اور عورت کی سزا میں جو خیانت کی تھی وہ آخر کو کھل گئی جس کا قصہ اوپر گزر چکا ہے قرآن کو کتاب آسمانی ثابت کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ مدینہ کے گردونوح کے یہود کوئی مقدمہ فیصلہ کے لئے لاویں تو اے رسول اللہ کے اس مقدمہ کا فیصلہ قرآن کے موافق کرنا چاہے اور اس کے مخالف یہ لوگ تورات کے کسی حکم کا حوالہ دیویں تو اس کا کچھ اعتبار نہ کرنا چاہیے کیونکہ ان لوگوں نے بہت سی باتیں اپنی طرف سے گھڑی ہیں جن کو وہ دھوکے سے تورات کا حکم بتاتے ہیں۔ چناچہ سنگساری کی جگہ کالا منہ کر کے بستی میں پھرانے کی ان کی گھڑت تمہیں معلوم ہوچکی ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو مختلف شریعتوں کی جگہ ایک ہی شریعت قرار دے دیتا کہ پھر آپس میں کوئی اختلاف باقی نہ رہتا لیکن ہر زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے مختلف شریعتیں ٹھیرائی ہیں مثلاً آدم (علیہ السلام) کے زمانے میں نسل انسان کی کم تھی اس لئے بھائی بھین کا نکاح اس وقت کی شریعت میں جائز تھا پھر نسل انسان کے بڑھ جانے سے اس شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہی اس واسطے یہ شریعت منسوخ ہوگئی۔ ما بعد کی شریعت سے ما قبل کی شریعت کے منسوخ ٹھیرنے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ اس میں فرماں بردار اور نافرماں بردارو لوگوں کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کیونکہ جو لوگ حکم الٰہی کے پورے پابند ہیں وہ شریعت وقتیہ کے تابع ہوجاتے ہیں کچھ حیل و حجت نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دو شریعتوں کی پابندی کی وجہ سے ایسے لوگ دہرے اجر کے مستحق ٹھیرتے ہیں چناچہ ایک جگہ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث 1 ؎ اس بات میں گزرچکی ہے فاستبقوا الخیرات سے عام مسلمانوں کو عام طور پر نیک کاموں کی اور اہل کتاب کو خاص طور پر اس دوہرے اجر کی ترغیب دلائی گئی ہے خیرات کے معنی یہاں شریعت وقتیہ کے ہیں جو لوگ اس کے برخلاف ہیں اور شریعت وقتیہ میں طرح طرح کے اختلافات نکال کر منسوخ شرعیت پر اڑے ہوئے ہیں ان کے وہ نیک عمل تو بیکار ہیں جو انہوں نے منسوخ شریعت کے موافق کئے ہیں کیونکہ منسوخ شریعت کے عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہیں اور شریعت وقتیہ سے ان لوگوں نے مخالفت جو ضد کے طور پر کی تھی اس کی سزا ان کو قیامت کے دن بھگتنی پڑے گی۔ شریعت وقتیہ پر عمل کرنے کی ترغیب کے بعد فرمایا اے رسول اللہ کے اب آئندہ یہ لوگ جو مقدمہ تمہارے پاس فیصلہ کو لاویں تو اس کا فیصلہ قرآن کے موافق کردینا چاہیے۔ یہود کی خواہشوں سے بچنے کی تاکید دو دفعہ اس لئے فرمائی کہ یہود لوگ دو مقدموں میں آنحضرت ﷺ سے ایجادی باتوں پر عمل کرانے کی خواش کر رہے تھے ایک مقدمہ تو سنگساری کا تھا جس کا ذکر اوپر گزرا۔ اور دوسرا مقدمہ بنی نضیر اور بنی قریظہ کے خون بہا کا تھا جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ آگے فرمایا ان لوگوں کے دل میں نافرمانی بسی ہوئی ہے اس نافرمانی کے سبب سے مدینہ کے گردونواح میں ان پر کوئی آفت آجاوے گی۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ مدینہ کے گردونواح میں بنی قینقاع۔ بنی نضیر۔ بنی قریظہ یہ تین قبیلے رہتے تھے ان میں س بنی قینقاع بنی نضیر پر تو جلا وطنی کی آفت اور بنی قریظہ پر قتل کی۔
Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

کیا یہ زمانہ جاہلیت کے حکم کے خواہشمند ہیں ؟ اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے خدا سے اچھا حکم کس کا ہے ؟

ابو داؤد اور نسائی اور ابن حبان اور حاکم نے عبید بن موسیٰ سے اور ابن جریر نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اس حکم جاہلیت کے چاہنے کا قصہ اور ان آیات کی شان نزول جو بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ کے گردونواح میں یہود کے دو قبیلے رہتے تھے ایک کا نام بنی نضیر تھا اور دوسرے کا نام بنی قریظہ بنی نضیر بہ نسبت بنی قریظہ کے زیادہ عزت دار اور شریف کہلاتے تھے اور ان دونوں قبیلوں نے آپس میں یہ قرارداد ٹھیرا رکھی تھی کہ بنی قریظہ میں کسی شخص کے ہاتھ سے کوئی آدمی بنی نضیر کا مارا جاوے تو بوجہ اپنی خاندانی شرافت کے دو گناہ خون بہا لیتے تھے اور اگر ان میں سے کسی شخص کے ہاتھ سے بنی قریظہ کا کوئی آدمی مارا جاتا تو اکہرا خون بہا دیتے۔ جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو دونوں قبیلے کے لوگ ایک مقتول کا قصہ آنحضرت کے پاس لائے اس پر اللہ تعالیٰ نے { وَاِنْ حَکَمْتَ فَا حْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ } سے یہاں تک کی آیات نازل فرمائیں 1 ؎ اور آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں قبیلے کے انسان قصاص اور خون بہا میں برابر ہیں۔ اور بنی نضیر کے لوگوں سے کہا کہ تمہارے دوگنے خون بہا کی قرار داد تورات کے مخالف ایک زمانہ جاہلیت کی قرار داد ہے یہ سن کر بنی نضیر قبیلہ کے لوگ بہت خفاء ہوئے اور کہنے لگے آپ ہمارے دشمن ہیں اور ہمارے خاندان کو بنی قریظہ کے خاندان کے برابر کر کے ہمارے خاندان کی ہتک چاہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ ٹکڑا آیت کا نازل فرما کر بنی نضیر کو دھمکایا کہ خود تو انہوں نے تورات کے احکام کو بدل ڈالا ہے۔ اب کیا ہمارے رسول سے بھی جاہلیت کے زمانے کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ جاہلیت کے زمانے کے فیصلوں کی بنا کسی شرع کے حکم پر نہیں ہوا کرتی تھی اس لئے فرمایا کہ یہ جاہلیت کے زمانے کے فیصلے شرع الٰہی کے فیصلوں سے کسی ایمان دار شخص کے حق میں کسی طرح بہتر نہیں ہوسکتے۔ جاہلیت کا زمانہ اس زمانہ کو کہتے ہیں جس زمانہ میں کوئی نبی روئے زمین پر نہ ہو۔ سیاست ملکی کے لئے چنگیز خاں نے احکام شرعی اور عقلی کو ملا کر ایک قانون کی کتاب جو بنائی تھی اس کو علماء مفسرین نے احکام زمانہ جاہلیت کے مثل لکھا ہے اور خلاف شرع قانون کی کتابوں کو اسی حکم میں داخل کیا ہے اور احکام شریعت کو چھوڑ کر اس طرح کے احکام قانونی پر فیصلے کرنے سے بڑی سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔
Ayahs 5:51–53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو شخص تم میں سے انکو دوست بنائیگا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم انکو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے۔ سو قریب ہے کہ خدا فرح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور (اس وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کے عمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑگئے۔

(51 ۔ 53) ۔ مفسرین مقتدمین اور مقتدمین کی بنا پر مفسرین متاخرین نے اس آیت کے شان نزول میں بڑا اختلاف کیا ہے 1 ؎۔ بعض کہتے ہیں کہ جنگ احد میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے دوست چند یہودیوں کا اور بعض نے اپنے چند دوست نصرانیوں کا ذکر کیا اور عین میدان جنگ میں یہ کہا کہ اس لڑائی کے ڈھنگ سے مسلمانوں کی حالت تو اب اچھی نظر نہیں آتی ہم لوگ اپنے دوست یہودونصاریٰ سے مدینہ واپس جا کر پناہ چاہیں گے تاکہ ہم پر ابوسفیان اور مشرکین مکہ دست درازی نہ کرسکیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اس قسم کے مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اس طرح کی بےدلی نہ کرو۔ قریب میں اللہ تعالیٰ فتح دیوے گا چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا کہ یہود کے قبضہ میں جتنی بستیاں مدینہ کے گردونواح میں تھیں وہ اور شام کے ملک میں نصاریٰ کی بستیاں اور قریش کے قبضہ میں سے مکہ یہ سب کچھ فتح ہوگیا۔ اور بعض عبد اللہ بن ابی کے قصہ کو آیت کے شان نزول کا ایک قصہ قرار دیتے ہیں۔ جس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ عبادہ بن صامت ؓ اور عبد اللہ بن ابی دونوں کی یہود کے ایک قبیلہ بن قینقاع سے دوستی تھی عبادہ بن صامت ؓ نے تو آئندہ اس دوستی سے اپنی بیزاری ظاہر کی اور عبد اللہ بن ابی نے عبادہ بن صامت ؓ سے جھگڑا کیا اور آئندہ یہود سے دوستی قائم رکھنے کی باتیں کیں اور بعض ابی لبابہ کے قصہ کو شان نزول قرار دیتے ہیں۔ اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابی لبانہ کو بنی قریظہ کی فہمایش کو بھیجا تو بنی قریظہ نے اب لبابہ سے پوچھا کہ لڑائی موقوف کر کے ہم مسلمانوں کی امان میں اپنی گڈھی چھوڑ کر اتر آویں گے تو آخر ہمارا انجام کیا ہوگا ابو لبابہ نے تلوار کی دھار کی طرح اپنے ہاتھ کو اپنے گلے پر پھیر کر دوستانہ بنی قریظہ کو اشارہ سے گویا یہ بتلایا تھا کہ آخر کو تم سب قتل کردیئے جاؤ گے۔ رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ آیت میں یہود و نصاریٰ منافقین اہل اسلام چاروں فرقوں کا ذکر ہے اس واسطے سیاق آیت کے موافق ان سب قصوں کو ملا کر ایک ہیئت مجموعی کو شان نزول قرار دیا جاوے تاکہ ایک فرقہ کے قصہ کو شان نزول قرار دینے سے دوسرے فرقہ کا ذکر آیت میں رائیگاں نہ جاوے اور قرآن شریف میں اس طرح کی بہت آیتیں ہیں جن کی شان نزول چند قصوں کی بنا پر ہے۔ غرض اس صورت میں پھر کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا۔ سورة حشر میں آوے گا کہ مدینہ کے گردونواح کے یہود سے مدینہ کے منافقوں نے یہ کہلا بھیجا تھا کہ اگر مسلمان تم سے لڑیں گے تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور اگر تم جلاوطن ہوئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ جلا وطن ہوجائیں گے۔ اب یہ تو منافقوں کی جبلی عادت ہے کہ ان کی ہر بات فقط زبانی ہوتی ہے ان کے دل میں اس بات کا خیال تک بھی نہیں ہوتا اس لئے وقت پڑے پر یہ لوگ صاف الگ ہوگئے۔ نہ انہوں نے کچھ مدد کر کے بنی قریظہ کو قتل سے بچایا نہ بنی قینقاع اور بنی نضیر کے ساتھ یہ جلاوطن ہوئے۔ غرض اس قسم کے قصوں کے سبب سے ان آیتوں کے شروع میں تو اللہ تعالیٰ نے عام مسلمانوں کو اس سے منع فرمایا ہے کہ وہ اہل کتاب سے منافقوں کی دوستی پیدا کریں اور اسلام کے بد خواہ بنیں اور یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں نے اپنی جانوں پر یہ ظلم کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف مرضی کاموں پر کمر باندھ لی ہے ایسے لوگوں سے دوستی پیدا کر کے جو کوئی اپنے دوستوں کی عادتیں سیکھے گا وہ بھی ان کی دوستی میں ڈوب کر انہیں جیسا بد انجام ہوجائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے ظالم بد انجام لوگوں کو مجبور کر کے راہ راست پر لانا اس لئے نہیں جاہتا کہ یہ انتظام الٰہی کے بالکل بر خلاف ہے۔ وہ انتظام یہی ہے کہ دنیا نیک و بد کے امتحان اور جانچ کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ مجبوری کے بعد یہ امتحان کی صورت باقی نہیں رہ سکتی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو منافقوں کی خام خیالی جتلائی کہ یہ ان کا خیال خام تھا جو یہ مسلمانوں پر گردش کے آنے اور اس گردش کے وقت اپنے لئے یہود کی پناہ میں ْآجانے کے منصوبے باندھا کرتے تھے۔ چناچہ یہود کے قتل جلاوطنی اور مسلمانوں کا غلبہ دیکھ کر یہ لوگ اپنی خام خیالی پر اپنے دل میں خود بھی پچھتائے اور مسلمانوں کو ان کے حال پر بڑا تعجب ہوا کہ ظاہر میں تو یہ لوگ قسمیں کھا کر اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے اور باطن میں مخالف اسلام لوگوں سے ان کو یہاں تک ربطہ تھا کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کو اور ان کی جلاوطنی کے وقت اپنی جلا وطنی کو یہ لوگ تیار تھے جس کا نتیجہ ان کے حق میں یہ سراپا نقصان کا ہوا کہ دنیا میں اپنے کئے پر ان کو بڑا پچھتاوا ہوا اور عقبیٰ میں ان کی دو ولی کے سبب سے ان کے سب نیک عمل رائگاں ہوگئے۔ صحیح مسلم کے حوالے سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ انسان کی ظاہری حالت کو نہیں دیکھتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی نظر تو ہمیشہ انسان کے دل کی طرف لگی رہتی ہے 1 ؎۔ مطلب یہ ہے کہ منافقوں کے نیک عمل دل کے ارادہ سے نہیں ہوتے اس لئے ایسے اوپری دل کے عمل اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں مقبول نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کے دل کی حالت پر ہمیشہ لگی رہتی ہے۔
Ayah 5:54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کردے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈریں۔ یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے۔

حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں لوگوں کے مرتد ہوجانے سے پہلے یہ بات تھی کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اور خلفاء کے زمانہ میں کچھ لوگ اسلام لانے کے بعد اسلام سے پھر جاویں گے اس لئے اللہ تعالیٰ نے علم غیب کے طور پر اس آیت میں ان لوگوں کی خبر پہلے سے دی ہے۔ چناچہ ما بعد میں اس علم غیب کا ظہور ہوا کہ گیارہ فرقے عرب کے مرتد ہوئے تین فرقے خود آنحضرت کے اخیر زمانہ میں اس طرح مرتد ہوئے کہ اسود عنسی کے ساتھ بنی مدلج فرقہ مرتد ہوا اور یمن کے تمام شہروں پر اس اسودعنسی کا تسلط ہوگیا اور آنحضرت ﷺ کے عاملوں کو اس نے یمن کے شہروں سے اٹھا دیا۔ آخر آنحضرت ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کو اس کی سرکوبی کے لئے مقرر کیا اور یمن کے مسلمانوں نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کی مدد کی آخر کار فیروز ویلمی ؓ کے ہاتھ سے اسود عنسی مارا گیا۔ اور آنحضرت ﷺ کی وفات سے ایک روز پہلے اسود کے مارے جانے کی خبر مدینہ میں آئی۔ یہ اسود ایک کاہن تھا دوسرا فرقہ بنی حنیفہ مسیلمہ کذاب کے ساتھ مرتد ہوا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد تک مسیلمہ کا زور رہا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خالد بن ولید ؓ کو مسیلمہ کی سرکوبی کے لئے مقرر کیا اور وحشی قاتل حضرت امیر حمزہ ؓ کے ہاتھ سے مسیلمہ مارا گیا۔ چناچہ وحشی کا یہ مقولہ مشہور ہے کہ قَتَلْتُ خَیْرَ النَّاسِ وَ شَرَ النَّاسِ جس کا مطلب یہ ہے کہ حالت کفر میں جس طرح امیر حمزہ ؓ جیسے اچھے آدمی جنگ احد میں میرے ہاتھ سے شہید ہوئے اسی طرح حالت اسلام میں بد ترین خلائق مسیلمہ کو میں نے قتل کیا۔ تیسرا فرقہ بن اسد مرتد ہوا اور خالد بن ولید کے ہاتھ سے شکست پاکر پھر اسلام لایا اس فرقہ کا سر غنہ ایک شخص طلیحہ بن خویلد تھا یہ طلیحہ آخر کو پھر مسلمان ہو کر آخر تک مسلمان رہے 2 ؎۔ ان فرقوں کے علاوہ اور سات فرقے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد میں زکوٰۃ کے منکر اور مرتد ہوئے اور فرقہ غسان حضرت عمر ؓ کے عہد میں مرتد ہوا جن کی لڑائی کی کیفیت سیر اور تاریخ کی کتابوں میں ہے حضرت ابوبکر ؓ کے زمانہ میں زیادہ لوگ مرتد ہوئے اس لئے حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ میرے باپ کی خلافت میں مصیبتیں پیش آئیں کہ پہاڑ بھی ان مصیبتوں کو نہیں جھیل سکتا۔ حق تو یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقہ ؓ نے ان سات فرقوں سے لڑنے میں بڑی جواں مردی کی۔ جب صحابہ عمومًا اور حضرت عمر ؓ خصوصاً ان لوگوں سے لڑنے میں حضرت ابو بکرصدیق ؓ کے مخالف ہوئے تو آپ اکیلے تن تنہا ہتھیار لگا کر میدان جنگ کو روانہ ہوئے آخر آپ کو اکیلا جتے ہوئے دیکھ کر سب لوگ ساتھ ہوئے۔ اس پر آشوب زمانہ میں اہل یمن اور جن لوگوں نے دین کی حمایت کی ہے انہیں لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنا پیارہ فرمایا ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ان پیاروں کے سردار حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں اور اب بھی کسی فتنہ و فاسد کے وقت اسی طرح جو شخص دین کی حمایت کرے گا وہ بھی اللہ کا پیارا ضرور ہے۔ مرتد اس شخص کو کہتے ہں۔ جو اپنے دین سے پھر جاوے اس زمانہ کے لوگ جو دین سے پھرگئے تھے ان میں بعض تو پھر بت پرست بن گئے تھے جیسے بنی اسد طلحہ بن خویلد کے ساتھ اور بعض نبی آخر الزمان ﷺ کی نبوت کے منکر ہو کر اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب کو نبی جاننے لگے تھے۔ بعض آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد زکوٰۃ کو امام کے پاس بھیجنے کے قائل نہیں تھے اور یہ کہتے تھے کہ آیت { خُدْمِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تَطَھِّرْھُمْ وَ تُزَّکِیْہِمْ بِھَا وَصَلِّ عَلَیْہِمْ اِنَّ صْلٰوتَکَ سَکَنٌ لَہُمْ } ( 9: 103) کے موافق زکوٰۃ کا حکم آنحضرت ﷺ کے زمانے تک تھا 1 ؎۔ کیونکہ زکوٰۃ لینے کے بعد زکوٰۃ دینے والے کے لئے دعا کرنا اور اس دعا کا مفید ہونا یہ آنحضرت ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص تھا۔ یہ آیت سورة توبہ کی ہے۔ سورة توبہ کی تفسیر میں آوے گا کو جو لوگ تبوک کی لڑائی میں نہیں گئے تھے ان پر اللہ تعالیٰ کی خفگی ہوئی اور خفگی کے بعد جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ جس مال کی الفت اور حفاظت نے ہم کو تبوک کے سفر سے روکا اس مال کو ہم اللہ کی راہ میں خیرات کرنا چاہیے ہیں اس پر یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎۔ اور آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کو سب مال کے تیسرے حصہ کی خیرات کا حکم دیا اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت فرضی زکوٰۃ کے باب میں نہیں ہے کیونکہ زکوٰۃ میں ثلث مال نہیں لیا جاسکتا اور جب یہ آیت فرضی زکوٰۃ کے باب میں نہیں تو ما نعین زکوٰۃ نے اس آیت سے مطلب جو نکالا تھا کو زکوٰۃ کا دینا آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک تھا وہ مطلب بھی صحیح نہ رہا غرض اس قسم کے وجوہات سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ کے فیما بین ان ما نعین زکوٰۃ سے لڑنے اور نہ لڑنے میں بڑی بحث رہی جس کی تفصیل سوا ابن ماجہ کے صحاح کی سب کتابوں میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہے 1 ؎۔ آخر ابوبکر صدیق ؓ کی رائے پر سب صحابہ کا اتفاق ہوا۔ اور ان لوگوں سے لڑائی ہوئی اور لڑائی کے بعد یہ لوگ زکوٰۃ کے قائل ہوئے اگرچہ اسودعنسی کے قتل کی خبر آنحضرت ﷺ کی وفات سے ایک دن پہلے وحی کے ذریعے معلوم ہوگئی تھی۔ لیکن اس کے ساتھیوں کی پوری سرکوبی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زمانہ میں ہوئی اور اس کے بعد سوائے فرقہ غسان کے واقعہ کے اور سب لڑائیاں بھی ان ہی کی خلافت میں ہوئی اس لئے یہ سب لڑائیاں ان کی خلافت کی کہلاتی ہیں۔ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے یہ خواب دیکھا کہ کسی نے سونے کے دو کڑے آپ کے ہاتھوں میں پہنا دئیے ہیں۔ ان کڑوں کڑوں کو ہاتھوں میں دیکھ کر آپ کا دل بہت گھبرایا اس لئے کسی نے آپ سے خواب میں یہ بھی کہا کہ ان کڑوں کو پھونک مار کر اڑا دو آپ نے یہی کیا۔ اس خواب کی تعبری آپ نے یہ قرار دی کہ اسودعنسی اور مسیلمہ کذاب یہ دونوں آخر کو مارے جاویں گے۔ یہ حدیث صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہے ابوہریرہ ؓ کے واسطے سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے بھی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے حدیث ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اس خواب کے بعد اپنی قوم کے اییووں کے ساتھ مسیلمہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھی آیا اور آپ سے کہنے لگا کہ مجھ کو نبوت میں بھی شریک کرلیا جائے۔ اتفاق سے اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک کھجور کی شاخ تھی اس واسطے آپ نے فرمایا کہ تو یہ کھجور کی شاخ بھی مانگے گا تو میں تجھ کو نہ دوں گا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ تو اپنی حد سے قدم باہر نہ رکھ ورنہ ہلاک ہوجائے گا 2 ؎۔ اسود اور مسیلمہ مرتد ہونے کی حالت میں قتل ہونے والے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کا حال اپنے رسول کو خواب میں دکھادیا تاکہ معلوم ہوجاوے کہ طلیحہ بن خویلد کا حال ان دونوں کی طرح نہیں ہے طلیحہ بن خویلد بن نوفل نے بھی آنحضرت ﷺ کی حیات کے زمانے میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور آنحضرت ﷺ نے ضرار بن ؓ الازدراسدی کو طلیحہ اور ان کے ساتھیوں کی سرکوبی کے لئے بھیجا تھا لیکن اس سر کو بی کے خاتمہ سے پہلے آنحضرت ﷺ نے وفات پائی اس لئے یہ سر کو بی ادہوری رہ گئی آخر پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خالد بن ولید ؓ کے ہاتھ پر یہ سرکوبی پوری ہوئی شکست کے بعد طلیحہ بن خویلد نے پھر اسلام قبول کیا اور 15 ھ؁ میں قادسیہ کے وقت اہل اسلام کو بڑی مدددی۔ یہ قادسیہ کی لڑائی حضرت عمر ؓ کی خلافت کے زمانہ میں ہوئی ہے۔ صحح بخاری و مسلم کی سہل بن سعد ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی جان پہچان کے بعض شخصوں کو حوض کوثر پر سے نکال دیا جاوے گا 1 ؎ اسلام سے پھرجانے کے ہنگامے جو اوپر گزرے یہ لوگ ان ہی ہنگاموں کے جیسے ہوں گے جو اسلام سے پھر کر اسی حالت میں مرگئے منافقوں کا حل اوپر گزرا کہ ظاہر میں اسلام کا ساتھ دیتے تھے اور باطن میں مخالف اسلام لوگوں کے اولاہنے اور الزام سے ڈر کر ادھر بھی ملے رہتے تھے خالص ایمان داروں کا یہ ذکر فرمایا کہ یہ لوگ راہ خدا میں جس کام کی کوشش کرتے ہیں وہ سچے دل سے کرتے ہیں کسی کے اولاہنے سے ڈر کر اوپرے دل سے نہیں کرتے۔ پھر فرمایا کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ کا فضل اگرچہ بہت بڑا ہے لیکن اس کو ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے دل کے نیک ارادہ کی حالت جانچ کر جس پر وہ چاہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے۔
Ayahs 5:55–56

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانیوالی ہے۔

(55 ۔ 56) ۔ اگرچہ طبرانی عبد الرزاق ابن جریر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے اس آیت کا شان نزول اس قصہ کو قرار دیا ہے جس میں حضرت علی ؓ کا رکوع کی حالت میں ایک فقیر کو انگوٹھی خیرات کرنے کا ذکر ہے مگر یہ قصہ ذرا تردد طلب ہے اس لئے اولیٰ یہ ہے کہ اوپر کی حدیث کے موافق آیت کے اس ٹکڑے کی شان نزول بھی حضرت عبادہ بن صامت ؓ کا قصہ قرار دیا جاوے اور حضرت علی ؓ کو بھی آیت کا مصداق ٹھیرایا جاوے 2 ؎۔ عبادہ بن صامت ؓ کا یہ وہی قصہ ہے جس کو حافظ ابو جعفر ابن جریر 3 ؎ نے اپنی تفسیر میں اور محمد بن اسحاق نے اپنی مغازی میں معتبر سند سے خود عبادہ بن صامت ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے حاصل اس قصہ کا اوپر بیان ہوچکا ہے کہ عبادہ بن صامت ؓ نے تو آئندہ اسی دوستی سے اپنی بیزاری ظاہر کی اور عبد اللہ بن ابی نے آئندہ یہود سے دوستی قائم رکھنے کی ترغیب کی باتیں کی۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ عبادہ بن صامت ؓ کی طرح جو شخص مخالف اسلام لوگوں کی دوستی سے بیزار ہے اللہ اور اللہ کے رسول نماز اور زکوٰۃ پر قائم رہنے والے پکے مسلمان سب ایسے شخص کے دوست اور رفیق ہیں اور ایسے لوگ اللہ کا گروہ کہلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے گروہ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ یہ گروہ مخالفوں پر غالب رہے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ بھی سچا ہے مدینہ کے گردونواح میں جو یہود رہتے تھے ان پر اور جو لوگ اسلام سے پھرگئے تھے ان پر اللہ تعالیٰ کے گروہ کا جو غلب ہوا اس کا حال اوپر گزرچکا ہے۔ تاریخ کی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک مسلمانوں میں اس قدر اسلام کی پابندی باقی رہی جس سے ان میں اللہ کا گروہ بننے کی صلاحیت رہی اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے غلبہ کا جو وعدہ کیا تھا اس کا ظہور ہوتا رہا۔ جب اس طرح کے لوگ بھی دنیا سے اٹھتے گئے تو اس وعدہ کا ظہور بھی دنیا سے اٹھتا گیا مثلاً عمر ؓ کی خلافت میں جو حال لوگوں کا تھا وہ حال عثمان ؓ کی خلافت میں نہ رہا اسی طرح مثلاً ہشام بن عبد الملک کی سلطنت کا جو حال تھا وہ ولید بن یزید بن عبد الملک کی سلطنت کا نہ رہا اور پھر اس کے بعد اور ابتری پیدا ہوگئی۔ رکوع کے معنی یہاں خدا کا خوف دل میں رکھ کر نیک کام کرنے کے ہیں کیونکہ رکوع کے معنی اگر یہاں نماز میں کے رکوع ہوتے تو زکوٰ ۃ کا رکوع کی حالت میں ادا کرنا فضل ہوتا حالانکہ اس کا ثبوت شریعت میں کہیں پایا نہیں جاتا ترجمہ میں وھم راکعون کا ترجمہ ” اور وہ نوے ہوئے ہیں “ جو کیا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ باوجود نیک کام کرنے کے وہ لوگ جھکے رہتے ہیں اپنی عبادت کی کچھ فوقیت ان کے دل میں نہیں خدا کا خوف دل میں رکھ کر جو کام کیا جاوے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت پسند ہے چناچہ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث پہلے گزرچکی ہے کہ ایک شخص نے اللہ تعالیٰ کے سامنے جانے کے خوف سے اپنی لاش کے جلادینے اور اس خاک کو ہوا میں اڑا دینے کی وصیت کی تھی لیکن یہ وصیت اس کی محض خدا کے خوف کے سبب سے تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مغفرت فرما دی 1 ؎۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کا آیت میں ذکر ہے وہ ہر ایک کام اللہ کو حاضر ناظر جان کر کرتے ہیں اس واسطے ان کی یہ عادت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اچھی اور قابل تعریف ہے اور اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
Ayah 5:57

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھی ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو۔

تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابو الشیخ ابن حبان میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بعض یہودی ظاہر میں تو مسلمان ہوگئے تھے مگر باطن میں اسلام کو اچھا نہیں جانتے تھے اور بعض مسلمان ان یہودیوں کو سچا مسلمان سمجھتے تھے ان سے کمال دوستی رکھتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎ اور جتلادیا کہ یہ لوگ دین اسلام کو ٹھٹھا ٹھیرانے والے لوگ ہیں ان سے دوستی اچھی نہیں ہے صحیح مسلم کے حوالے سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایمان دار آدمی کے ایمان کی نشانی یہ ہے کہ وہ جہاں کہیں کوئی خلافت شریعت بات دیکھے تو ہاتھ سے زبان سے اس کی اصلاح کی کوشش کرے اگر یہ نہ ہو سکے تو ضعیف درجہ ایمان کا یہ ہے کہ ایسی خلاف شرع مجلس کو دل سے برا جان کر خود اس میں نہ بیٹھے۔ یہ حدیث آیت کی تفسیر ہے کیونکہ آیت و حدیث کو ملاکریہ مطلب ہوا ہے کہ جو شخص خلاف شرع لوگوں سے دوستی کرے رکھے گا تو اسی دوستی کی رعایت سے تو ان کے دل میں رفتہ رفتہ وہ ضعیف درجہ ایمان کا بھی آخر کو باقی نہ رہے گا 1 ؎ جس کا ذکر حدیث میں ہے اور انجام اس کا یہ ہوگا کہ ان خلاف شرع لوگوں کی دوستی کے وبال میں یہ شخص بیک پکڑا جاوے گا۔ چناچہ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص کسی مجلس میں کوئی بات خلاف شریعت دیکھ کر چشم پوشی کرے گا تو خلاف شرع لوگوں کے وبال میں ایسا شخص بھی پکڑا جائے گا۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
Ayah 5:58

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ سمجھ نہیں رکھتے۔

ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کی ہے کہ جب اذان مدینہ میں ہوتی تھی تو ایک نصرانی جو مدینہ میں رہتا تھا اشھد ان محمد رسول اللہ سن کر یہ کہا کرتا تھا خدا اس جھوٹے موذن کو چولھے میں ڈالے ایک دن اس نصرانی کے گھر میں آگ لگی اور وہ اور اس کے بال بچے اور سب گھر اور باہر جل کر راکھ ہوگیا 3 ؎۔ اوپر تورات اور انجیل کی آیتوں کے حوالے سے یہ گزر چکا ہے کہ مکہ کے پہاڑوں میں سے جن نبی کا ظہور ہونے والا تھا وہ یہی نبی آخر الزمان ﷺ ہیں۔ اور یہ بھی گزرچکا ہے کہ تورات اور انجیل کی ان آیتوں کا اور کوئی مطلب سوا اس مطلب کے صحیح نہیں قرار پاسکتا کہ ان آیتوں سے مقصود بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کے نبی آخر الزمان کا پیدا ہونا ہے۔ باوجود اس کے جان بوجھ کر جو اس نصرانی نے اللہ کے رسول کی شان میں بےادبی کے لفظ منہ سے نکالے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی خفگی ہوئی۔ تورات اور انجیل کی اس صداقت کی بنا پر نبی آخر الزمان ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب میں سے جو شخص میرا حال سن کر میری نبوت کو نہ مانے گا اس کی نجات مشکل ہے۔ چناچہ صحیح مسلم 4 ؎ کے حوالے سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث ایک جگہ گزریں یہ حدیث گویا ان کی تفسیر ہے اب اصل اور تفسیر کو ماننا یا نہ ماننا اہل کتاب کا کام ہے اسی واسطے آخر کو فرمایا کہ جو کوئی ایسی ظاہر باتوں کو نہیں مانتا اس کی عقل ٹھیک نہیں ہے۔
Ayah 5:59

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ تم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں۔

معتبر سند سے تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابو الشیخ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز یہود نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ آپ کون کون سے نبی کو برحق جانتے ہو آپ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور سب انبیاء کا نام لیا۔ یہود حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا نام سن کر بہت چڑے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان یہود سے کہہ دو کہ تم میں اکثر لوگ گناہوں کی سرکشی میں حد سے بڑھے ہوئے ہیں جس کے سبب سے تم لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی پوری شہادت تھی جس کو تم نے بدل ڈالا ہے اور ایک سچی بات پر الٹے ہم سے جھگڑتے اور ہمارے دین کو عیب لگاتے ہو تم لوگوں میں ذرا بھی راستی اور انصاف ہو تو تم اقرار کرسکتے ہو کہ تمہارا جھگڑنا تورات کے برخلاف اور ہمارا دین بالکل اصل تورات کے موافق ہے۔ اس وقت تو یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرتے ہیں لیکن سورة النساء میں گزر چکا ہے کہ قیامت کے قریب جب عیسیٰ (علیہ السلام) زمین پر آویں گے تو اس وقت ان کی نبوت کا اقرار کریں گے اسی طرح اب جو کوئی یہودی قریب المرگ ہوتا ہے اور عقبیٰ کی باتیں اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگتی ہیں تو اس کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بیشک اللہ کے رسول تھے مگر اس وقت کا یہ معلوم ہونا کچھ فائدہ مند نہیں کیونکہ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ اس وقت کی توبہ اس وقت کا اسلام غرض اس وقت کی کوئی نیک بات انسان کو کچھ فائدہ نہیں پہنچاتی صحیح بخاری اور مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎ جس میں آنحضرت ﷺ نے سب انبیاء کو علاقی بھائی اور ان کی شریعتوں کو علاقی بھائیوں کی ماں فرمایا ہے 3 ؎۔ علاقی ان بھائیوں کو کہتے ہیں جن کا باپ ایک ہو اور مائیں الگ الگ ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ توحید اور عبادت الٰہی کی نصیحت و تاکید کرنے میں سب انبیاء ایک ہیں ہاں ضرورت کے وقت کے لحاظ سے ہر شریعت میں حلال و حرام کے احکام جدا ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک نبی کی نبوت کے انکار سے تمام انبیاء کی نبوت کا انکار لازم آجاتا ہے کیونکہ اصل دین کی روح سے جب سب انبیاء ایک ہیں تو ان میں سے ایک کو جھٹلانا گویا سب انبیاء کو جھٹلانا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ مثلاً قفط موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے اقرار سے یہود اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے اقرار سے نصرانی جو اپنی نجات کے خیال میں ہیں وہ ان کا خیال بالکل غلط ہے اسی واسطے نبی آخر الزمان ﷺ نے فرمایا کہ جو یہودی یا نصرانی میرا حال سن کر میری نبوت کا اقرار نہ کرے اس کی نجات ممکن نہیں ہے۔ چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت گزر چکی ہے۔
Ayahs 5:60–62

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانیوالے کون ہیں ؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سُؤر بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانا ہے۔ اور وہ سیدھے راستے سے بہت دور ہیں۔

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں۔ اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا انکو خوب جانتا ہے

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں۔ بیشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں۔

(60 ۔ 62) ۔ یہود نے نبی آخر الزمان ﷺ سے یہ جو کہا تھا کہ اگر عیسیٰ بن مریم کو بھی نبی مانتے ہیں تو آپ کے دین سے بڑھ کر اور کوئی برا دین دنیا میں نہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اللہ کے حکم سے میں تم لوگوں کو جتلائے دیتا ہو کہ سزا کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بگڑا ہوا اور برا دین یہ ہے جس کی سزا میں تم لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور تم اس کے غصہ اور خفگی میں ایسے گرفتار ہو کہ کچھ لوگ تم میں کے آدمی سے بندر اور سور ہوگئے اور چھ الہ کتاب ہو کر بت پرست کہلائے۔ باوجود مناہی کے یہود میں کے جن لوگوں نے ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار کھیلا تھا وہ بندر اور سور ہوگئے تھے زیادہ تفصیل اس قصہ کی سورة اعراف میں آوے گی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق ان لوگوں میں کے جوان تو بندر ہوگئے تھے اور بڈھے سور ہوگئے تھے۔ یہود بت پرست ایک تو بچھڑے کے پوجنے سے کہلائے جس کا قصہ سورة اعراف میں آوے اور دوسرے کعب بن اشرف یہودی نے قریش کے بتوں کی جو تعظیم کی تھی جس کا قصہ سورة النساء میں آیت { اَلَمْ اِلٰی الَّذِیْنَ اُوْتُوْ ا نَصِیْبًا مِنَ الْکِتَابِ یُوْمِنُوْنَ بِالْجَبْتِ وَالطاَّغُوْتِ } (4: 51) کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔ اب آگے فرمایا کہ دنیا میں ایسے لوگ راہ راست سے دور پڑے ہوئے ہیں اس لئے عقبیٰ میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ ان میں کے منافقین کا یہ ذکر یوں فرمایا کہ یہ لوگ اپنے دل کی باتوں کو چھپا کر یہ جانتے ہیں کہ ان کے دل کا حال کسی کو معلوم نہیں لیکن اللہ تعالیٰ غیب دان ہے اس کو ان کے دل کا حال خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کی مجلسوں میں دشمن اسلام بن کر گھستے ہیں اسی طرح ان مجلسوں سے نکل جاتے ہیں تو مسلمانوں کو بہکانے کے لئے کچھ زبانی باتیں جو اسلام کی صداقت کے باب میں بناتے ہیں ان اوپر باتوں کا کچھ اعتبار نہیں پھر اپنے رسول کو مخاطب ٹھیرا کر فرمایا کہ ان میں کے اکثر لوگوں کا یہ حال دیکھنے کے قابل ہے کہ گناہوں میں پش قدمی کرنے میں انہیں یہاں تک جرات ہے کہ بےباک ہو کر کتاب آسمانی کے لفظ اور معنی بدلتے ہیں اور سرکشی ان میں اس قدر ہے کہ تورات کے محافظ انبیاء کو شہید کر ڈالا۔ غلط مسئلے بتا کر رشوت کا لینا یہ تو ان کا ہر وقت کا مشغلہ ہے آخر کو فرمایا ان لوگوں کے یہ سب کام ان کے حق میں جس برے ہیں عقبیٰ میں ان کا حال ان کو خود معلوم ہوجائے گا معتبر سند کی شداد بن اوس ؓ کی حدیث ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے اوپر گزرچکی ہے 1 ؎۔ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص عمر بھر دنیا میں برے کام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے عقبیٰ میں راحت کی توقع رکھتا ہے وہ بڑا کم عقل ہے 2 ؎ یہود کا حال بالکل حدیث کے اس ٹکڑے کے موافق ہے کس لئے کہ عمر بھر کے کام تو ان کے وہ ہیں جن کا ذکر اوپر گذرا اور عقبیٰ کی راحت کی توقع ان کو یہاں تک ہے کہ اپنے سوا کسی کو جنت میں جانے کے قابل نہیں کہتے چناچہ سورة بقر میں اس کا ذکر گذر چکا ہے۔
Ayah 5:63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے ؟ بلا شبہ وہ بھی برا کرتے ہیں۔

عالم یہود اور نصاریٰ جب نافرمانی کی باتیں کرتے تو ان کے عالم اور واعظ اور اچھے لوگ ان کی نافرمانیوں کو دیکھ کر دبی زبان سے معمولی طور پر کبھی کچھ نصیحت کردیتے تھے اور کبھی ٹال جاتے تھے ان کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حکم اس آیت کا ہر امت کو شامل ہے اسی واسطے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور سلف فرمایا کرتے تھے کہ قرآن شریف میں اس آیت سے بڑھ کر کوئی آیت خوف ناک عالموں اور صلحاء کے لئے نہیں ہے 3 ؎ کیونکہ سوا ذاتی عمل کے ان سے یہ بھی پرسش ہوگی کہ انہوں نے باوجود قدرت کے برول کو راہ راست پر لانے کی کوشش کیوں نہیں کی ترمذی ‘ ابو داؤد اور ابن ماجہ اور مسند امام احمد میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں اس باب میں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی اچھا آدمی کسی برے آدمی کو برا کام کرتے ہوئے دیکھ کر باوجود قدرت کے منع نہ کرے گا تو اس کو بھی دین یا دنیا میں اس منع نہ کرنے کا وبال ضرور بھگتنا پڑے گا۔