5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 5:12–14

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور خدا نے نبی اسرائیل سے اقرار لیا۔ اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے۔ پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کردوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کرونگا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔ اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم انکی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو۔ تو ان کی خطائیں معاف کردو اور ( ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کردیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لئے دشمنی اور کینہ ڈال دیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا۔

(12 ۔ 14) ۔ اوپر کی آیتوں میں اہل اسلام کی عہد اور اس عہد پر قائم رہنے کی تاکید کا ذکر تھا ان آیتوں میں اہل کتاب کی عہد شکنی اور اس کے وبال کا ذکر ہے تاکہ مسلمان اس بات سے آگاہ ہوجاویں کہ عہد شکنی بڑے وبال کی بات ہے۔ ان آیتوں میں یہود کی دو بد عہدیوں کا ذکر ہے۔ اول بدعہدی کے قصے کا حاصل یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مصر کے قیام کے زمانے سے بنی اسرائیل نے ملک شام کی سکونت چھوڑ کر مصر کی سکونت اختیار کرلی تھی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کی نبوت کے زمانے میں فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر ملک شام کو جائیں اور قوم عاد کے باقی رہے ہوئے لوگوں کی اولاد میں کے کچھ لوگ موقع پاکر ملک شام کی بستیوں پر جو قابض ہوگئے ان سے لڑکر وہ بستیاں خالی کر اویں اور وہیں سکونت اختیار کریں۔ قوم عاد کے باقی رہے ہوئے لوگوں میں ایک شخص عملیق بن آذر تھا یہ ملک شام کی بستیوں کے قابض لوگ اسی شخص کی اولاد میں تھے۔ اس لئے اس قوم کو عمالقہ کہتے تھے۔ یہ عمالقہ قوم کے لوگ بڑے شہ زور اور قد آور تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب ملک شام کے قریب پہنچے تو انہوں نے بنی اسرائیل کے بارہ اسباط میں سے بارہ شخص قوم کے سرگروہ اور چودھریوں کے طور پر چھانٹے اور ان کو قوم عمالقہ کی حالت دریافت کرنے کو بھیجا اور ان سے یہ عہد ٹھہرایا کہ قوم عمالقہ کی حالت دیکھ کر واپس آنے کے بعد بنی اسرائیل سے قوم عمالقہ کی شہ زوری کی کوئی ایسی بات بیان نہ کریں جس سے بنی اسرائیل ڈر جائیں۔ اب قوم عمالقہ کی حالت دیکھ کر واپس آنے کے بعد ان بارہ شخصوں میں سے دس آدمیوں نے بد عہدی کی اور اپنے رشتہ داروں سے قوم عمالقہ کی شہ زوری کی وہ حالت بیان کی جس کو سن کر بنی اسرائیل نے اس لڑائی میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھ دینے سے انکار کیا جس کا ذکر آگے آتا ہے انہی بارہ چودھریوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ ان کی بد عہدی کے سبب سے بنی اسرائیل نے اپنے نبی موسیٰ (علیہ السلام) سے ہر حال میں ساتھ دینے کا عہد جو ٹھہرا رکھا تھا وہ انہوں نے توڑ ڈالا۔ دوسرا عہد تورات کے احکام کی پابندی کا تھا۔ جس کا ذکر تفصیل سے ان آیتوں میں ہے۔ اس دوسری عہد میں نماز زکوٰۃ اگرچہ ایسی چیزیں ہیں جن پر یہود قائم تھے۔ لیکن ان کو بد عہدی میں اللہ تعالیٰ نے اس لئے شمار کیا کہ یہ نماز زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کے عہد کے موافق نہ تھی۔ یہ وہی عہد ہے جس کا ذکر سورة آل عمران میں تفصیل سے گزرچکا ہے اور ان آیتوں میں مختصر طور پر وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَعَزَّرْتُمُوْھُمْ سے اسی عہد کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔ غرض اس عہد کے موافق یہود عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان کی فرماں برداری اور پیروی کے پابندکئے گئے تھے۔ یہود نے اس پابندی کو چھوڑ دیا جس سے وہ تورات کے بھی پابندی نہیں رہے۔ کیونکہ تورات کی جن آیتوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان ﷺ کے اوصاف تھے ان میں کی کچھ آیتوں کے لفظ تو انہوں نے بدل ڈالے اور کچھ لفظوں کے معنی اپنی طرف سے غلط گھڑ لئے چناچہ اس مطلب کو اللہ تعالیٰ نے ان لفظوں میں ادا فرمایا ہے۔ یحرفون اکلم عن مواضعہ و نسوا حظامما ذکروابہ قرضاحسنا کا مطلب تعلق نفلی صدقہ خیرات سے ہے فبما نقضہم میں ما زائدہ ہے اصل فبنقضہم ہے۔ ہمیشہ یہود کی دغا بازیاں یہ ہیں کہ جیسے اللہ کے رسول پر انہوں نے جادو کرایا۔ آپ کے کھانے میں زہر ملایا۔ مدینہ کے گردونواح میں جو یہود رہتے تھے ان سے صلح کا عہد تھا اس لئے ان کی دغا بازیوں پر در گزر کا حکم فرمایا۔ اللہ کی لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت سے دور ہوجانا ہے جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے دل ایسے بخت ہوگئے کہ کسی نصیحت سے وہ ذرا بھی نرم نہ ہوئے۔ جس کا حاصل مطلب یہ ہوا کہ کسی طرح کی نصیحت کا ان کے دل پر کچھ اثر نہ ہوا بیت المقدس کے قریب ایک گاؤں ہے جس کا نام ناصرہ ہے ابتداء میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ظہور وہیں ہوا۔ اسی مناسبت سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیرو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان عبرانی تھی اس لئے انجیل اسی زبان میں اتری وہ عبرانی زبان کی اصل انجیل تو دنیا سے ناپید ہے۔ ہاں یونانی ؔ۔ سریانیؔ۔ عربیؔ۔ فارسی ؔ۔ ترکی ؔ۔ انگریزی ؔ۔ اردوؔوغیرہ میں اس کے ترجمے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ وہ ترجمے خود اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا ترجمہ ہے جو لوگوں نے اپنی رائے کے موافق کیا ہے۔ اس لئے ان ترجموں میں بڑا اختلاف ہے اور بعض ترجموں میں کلام الٰہی کی تفسیر کے طور پر ایسے لفظ بھی بڑھائے گئے ہیں کہ اصلی انجیل کے م وجود نہ ہونے کے سبب سے ان کا کلام الٰہی یا اس کے ترجمہ سے جدا کرنا مشکل ہے۔ غرض ان ترجموں کے اختلاف کے سبب سے ان ترجموں میں خاص کلام الٰہی کی سی نصیحت کا اثر باقی نہیں اور اس اثر کے اٹھ جانے کے سبب سے اصل انجیل میں نبی آخر الزمان کو اللہ کا رسول جاننے اور ان کی فرمانبرداری کرنے کے الفاظ جو تھے ان کے معنوں میں طرح طرح کی تاویلات پیدا ہوگئیں۔ اصل انجیل کے عمل کے وقت جس طرح یک دلی سے یہ لوگ رہا کرتے تھے وہ بات جاتی رہی اور ایک شریعت عیسوی کے کئی ٹکڑے ہو کر ایک نبی کی امت ایک کتاب کے مانے والوں کے چند فرقے ہوگئے۔ جس میں ایک دوسرے کا بالکل مخالف ہے۔ مثلاً فرقہ پرو تسٹنٹ کے لوگ الپاپارومی کے بنائے ہوئے قواعد کو نہیں مانتے اور رومن کھیتھلک فرقے کے لوگ الپاپارومی کے قواعد کے آگے انجیل کو کچھ نہیں گنتے۔ پر وتسٹنٹ فرقہ اگرچہ انجیلی فرقہ کہلاتا ہے۔ لیکن اس فرقہ میں چند اندرونی گروہ ہیں اور ہر ایک گروہ کی انجیل دوسرے گروہ کی انجیل سے نہیں ملتی اسی مطلب کو ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن یہ سب اپنی کرتوتوں کا خمیازہ بھگت لیویں گے۔
Ayahs 5:15–16

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزّماں) آگئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے۔

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

جس سے خدا اپنی رضا پر جلنے والوں کو نجات کے راستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور ان کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے

(15 ۔ 16) ۔ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں عکرمہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے رجم کی آیت تورات میں ہے جب یہود کو بتلائی جس کو وہ چھپاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ صحیح بخاری و مسلم اور مسند امام احمد میں عبد اللہ بن عمر ؓ وغیرہ سے اس قصہ کے باب میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ یہود بیا ہے ہوئے ایک عورت اور مرد کو آنحضرت ﷺ کے پاس لائے جس مرد و عورت نے بدکاری کی تھی آپ نے ان یہودیوں سے پوچھا کہ تورات میں ایسے مرد و عورت کے لئے کیا حکم ہے ان یہودیوں نے جواب دیا کہ تورات کے حکم کے موافق ہم تو ایسے مردو عورت کا کالامنہ کر کے انہیں بستی میں پھراتے ہیں آپ نے فرمایا یہ سزا تو رات کے حکم کے موافق نہیں ہے تم جھوٹے ہو۔ لاؤ تورات اس میں تو ایسے لوگوں کے سنگ سار کرنے کا حکم ہے۔ آخر تورات لائی گئی اور ایک شخص ابن صوریا تورات پڑھنے کے لئے آیا ابن صوریا نے پہلے تو رجم کی آیت کو اپنے ہاتھ کے نیچے ڈھانک لیا پھر جب اس کا ہاتھ اٹھایا گیا تو وہ رجم کی آیت نکلی اور اس مردو عورت کو کو سنگسار کیا گیا 2 ؎۔ رجم کے معنی سنگ سار کرنے کے ہیں۔ اس قصہ میں آنحضرت ﷺ کا یہ بڑا معجزہ ہے کہ آپ نے تورات کے بغیر پڑھے تورات کا وہ صحیح مسئلہ بتلادیا جس کہ یہود نے بد ل ڈالا تھا ویعفوعن کثیر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ خود بدکار مرد اور عورت کو اللہ کے رسول کے روبرولائے تو اللہ کے رسول نے جو حق بات تھی وہ بتلا دی ورنہ تم رشوت لے کر روز اپنی قوم کے جاہل لوگوں کو غلط مسئلے بتلاتے ہو تو اللہ کے رسول اس کا حال سن کر بلا ضرورت تم سے اس میں کچھ بحث نہیں کرتے اب آگے فرمایا کہ اسلام کی روشنی دے کر اور قرآن کو راہبر ٹھہرا کر نبی آخر الزمان کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے بھیجا کہ ملت ابراہیمی میں مشرکین مکہ نے اور شریعت موسوی اور عیسوی میں اہل کتاب نے ایام جاہلیت کا جو اندھیرا پھیلا رکھا ہے اسلام کی روشنی کی مدد سے لوگ اس اندہیرے سے نکل کر نجات کے کے سیدھے راستہ پر آجائیں کیوں کہ دنیا کے ہر ایک دور کے لئے اللہ تعالیٰ نے نجات کا ایک طریقہ ٹھیرایا ہے اس آخری دور کیلئے سو اس طریقہ کے جو بیان کیا گیا اور کوئی طریقہ دنیا میں نہیں ہے۔ اگرچہ اہل کتاب کی کتابوں میں بھی اس طریقہ کا ذکر ہے لیکن ان لوگوں نے اپنی کتابوں کی اس قسم کی آیتوں کے لفظ اور معنوں کو بدل ڈلا ہے۔ اس واسطے قرآن کے ذریعے سے انہیں ان کے کرتوت جتلائے گئے ہیں۔ اگر یہ لوگ قرآن کی نصیحت مان لیویں گے تو اس میں ان کا ہی بھلا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں لوگوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن لوگ اس میں گرنے کی ایسی کوشش کرتے ہیں جس طرح کیڑے پتنگے روشنی پر گرتے ہیں 1 ؎۔ یہ حدیث آیت کے آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

جو لوگ اس بات کے قائل ہے کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہے تو بیشک کافر ہیں ( ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے ؟ اور آسمان اور اور جو کچھ ان دونوں میں ہیں سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

اوپر گزرچکا ہے کہ نصاریٰ کے چند فرقے ہیں ان میں سے فرقہ یعقوبیہ وغیرہ کا اعتقاد ہے کہ گیہوں کے کھانے سے آدم (علیہ السلام) نے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اس کے اثر سے اولاد آدم ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہنے کی سزا وار ہوگئی اس لئے عیسیٰ (علیہ السلام) کی شباہت میں اللہ تعالیٰ آسمان سے زمین پر آیا اور یہود کے ہاتھوں سے سولی پر چڑھا تاکہ بنی آدم کے گناہوں کا کفارہ اس قتل کی سزا سے ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے اس اعتقاد کو یوں غلط ٹھہرا کہ یہود کی کیا حقیقت ہے جو وہ اللہ کے ساتھ گستاخی کرسکیں وہ تو صاحب قدرت ہے۔ کہ یہود اور تمام دنیا کی مخلوقات کو ایک دم میں چاہے تو ہلاک کر دیوے اور کسی کو اتنی تاب نہ ہو کہ اس کے ارادہ کو روک سکے۔ رہی یہ بات کہ بنی آدم کے گناہ معاف ہوجانے کے ارادہ سے خود اللہ تعالیٰ نے یہ کفارہ کی صورت نکالی۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے آیت میں یہ دیا کہ اللہ کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اس کو اس خلاف عقل کفارہ کی صورت نکالنے کیا ضرورت تھی وہ جس طرح چاہتا اپنے گنہگار بندوں کے گناہ معاف کردیتا اس سے کون پوچھ سکتا تھا کہ بغیر سزا اور بغیر کفارہ کے یہ گناہ کیوں معاف کردیئے گئے کیا یہ گناہ نعوذ باللہ من ذلک کسی دوسرے خدا کے تھے جو ان لوگوں کے اعتقاد کے موافق بغیر کفارہ کے وہ دوسرا خدا ان گناہوں کو معاف نہ کرتا اور اس انجیل کے نازل کرنے والے خدا کو اپنے خون کا کفارہ دے کر اس دوسرے خدا کو راضی اور گناہوں کی معافی پر آمادہ کرنا پڑتا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر باپ کے دنیا میں پیدا ہوجانے سے جو یہ لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں یہ بھی شیطان کا بہکاوا ہے ورنہ جس صاحب قدرت نے آدم ( علیہ السلام) کو بغیر ماں باپ کے اور حوا ( علیہ السلام) کو بغیر ماں کے پیدا کردیا اس کی قدرت سے یہ کیا بعید ہے کہ اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کردیا جس کو اللہ کی اس قدرت کا انکار ہے اللہ قسم کھا کر یہ خبر دیتا ہے کہ ایسا شخص بلا شک کافر ہے۔ فرقہ پر وتسٹنٹ نے اس کفا رہ کے مسئلہ کی زیادہ بحث اپنے ترجموں میں نہیں کی کیونکہ وہ فرقہ انجیل میں ہے اور انجیل میں اس مسئلہ کا صاف طور پر کہیں ذکر نہیں ہے بلکہ متی کی انجیل کے تیسرے اور چوتھے باب میں جو قصہ ہے جس میں شیطان نے عیسیٰ (علیہ السلام) کہ بہکا کر اپنے آپ کو عیسیٰ (علیہ السلام) سے سجدہ کرانا چاہا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس ملعون کو جواب دیا ہے کہ قابل عبادت وہی ایک معبود ہے جس کی سب عبادت کرتے ہیں اس کے سوا نہ کسی کو سجدہ ہے نہ کسی کی عبادت ہے۔ اس قصہ سے اور اس قصہ کے علاوہ انجیل مرقس اور انجیل متی میں اسی قسم کی اور جو عبادتیں ہیں ان سے یہ مسئلہ بالکل غلط قرار پاتا ہے۔
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں۔ کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے ؟ (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو۔ وہ جیسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

ابن جریر ابی حاتم اور ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک روز اہل کتاب کے کچھ علماء آنحضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے ان کو طرح طرح کی نصیحت کی اور عذاب آخرت سے ڈرایا انہوں نے جواب دیا کہ عام لوگوں کی طرح ہم کو عذاب آخرت سے کیا ڈراتے ہو عام لوگوں اور ہم میں بڑا فرق ہے ہم عام مخلوقات کی طرح نہیں ہیں بلکہ خدا کے بیٹے اور پیارے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ اور ان کے جواب کو یوں جھٹلایا کہ دنیا میں تو تم کو عام مخلوقات کی طرح تمہارے گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔ بہت لوگ تم نافرمانی سے سور اور بندر ہوگئے۔ تمام قوم کی بادشاہت نیست و نابود ہوگئی دن بدن ذلت و خواری بڑھتی جاتی ہے پھر تم کو آخرت کا حال کیونکر معلوم ہوگیا کہ تمہیں آخرت میں خلائق کی طرح عذاب نہ ہوگا۔ یہود حضرت عزیز ( علیہ السلام) کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا کا بیٹے کہتے ہیں اور بیٹے کے اولاد دراولاد بیٹے کی برابر ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت عزیر ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی اولاد ہونے کی مناسب سے یہ لوگ اپنے آپ کو خدا کا بیٹا پیارا اور عام مخلوق سے بالا تر گنتے ہیں۔ آگے فرمایا کہ قیامت کے دن کی بخشش اور پرستش اللہ کی مرضی پر منحصر ہے جسے وہ چاہے گا بخشے گا اور جس سے اسے مؤاخذہ منظور ہوگا اس سے مؤاخذہ کرے گا۔ کسی کا بیٹا پوتا ہونا اس دن بغیر مرضی اس مالک الملک کے کچھ کام نہ آوے گا۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے پوتوں کی اس دن بڑی خرابی ہے جو اپنے بڑوں کو خدا کا بیٹا اور شریک ٹھیرا ویں کیونکہ وہ وحدہٗ لاشریک شرک سے بیزار ہے زمین و آسان کی بادشاہت میں نہ اس کا شریک ہے نہ ولی عہد بلکہ ادنیٰ رعایا کی طرح اس دن سب کو اس کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا۔
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب (پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو ایک عرصہ تک منقطع رہاتو) اب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آگئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا۔ سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانیوالے آگئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

ابن جریر اور ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے یہود کو اسلام لانے کی رغبت دلائی اور یہود نے اس سے انکار کیا تو ان کا یہ انکار دیکھ کر معاذ بن جبل ؓ ‘ سعد بن عبادہ ؓ اور عقبہ بن وہب ؓ نے یہود سے کہا کہ خدا سے ڈرو بلا شک تم جانتے ہو کہ یہ نبی برحق ہیں اور ان کے نبی ہونے سے پہلے خود تم لوگ ان کے نبی ہونے کی خبر ہم کو دیا کرتے تھے اور ان کے اوصاف بیان کرتے تھے۔ یہ سن کر رافع بن حرملہ نے کہا کہ ہم نے تم سے کبھی اس طرح کا تذکرہ نہیں کیا۔ بلکہ ہمار اکہنا تو یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی اللہ نے نہیں بھیجا۔ تورات کے بعد کوئی کتاب اللہ نے نہیں اتاری اس پر اللہ تعالیٰ نے رافع وغیرہ کے قول کی تکذیب میں یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ ایک نبی سے دوسرے نبی تک کا جو زمانہ ہوتا ہے اس کو زمانہ فترۃ کہتے ہیں جس کے معنی فتور کے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آنحضرت کے مابین چھ سو برس کا جو زمانہ ہے اس زمانے کا اس آیت میں ذکر ہے، بعض مفسروں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آنحضرت کے بیچ میں خالد بن سنان ایک نبی کا اور بعضوں نے چار نبیوں کا جو ذکر کیا ہے وہ اس روایت کے مخالف ہے جو صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے اور عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم کے مابین کوئی اور نبی نہیں ہے 2 ؎۔ مشرکین مکہ نے ملت ابراہیمی میں اور اہل کتاب نے تورات اور انجیل میں طرح طرح فتور ڈال رکھے تھے۔ نبوت کا زمانہ دور ہوگیا تھا اس لئے بغیر جدید نبی اور جدید شریعت کے ان فتوروں کی اصلاح ممکن نہ تھی۔ اسی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین ﷺ کو بھیجا اور ان پر وقت بوقت کے اصلاحِ حال کی آیات قرآنی نازل فرمائیں تاکہ لوگوں کو اس عذر کا موقع باقی نہ رہے کہ پہلی نبوت کا زمانہ دور ہوگیا تھا دین الٰہی میں طرح طرح کے فتور پڑگئے تھے اس سبب سے ہم لوگ راہ راست کو نہ حاصل کرسکے۔ صحیح بخاری میں عطاء بن یسار کی حدیث ہے جس میں تورات کے اوصاف میں سے آنحضرت ﷺ کی اس صفت کا ذکر ہے کہ آخری زمانہ میں جو کچھ کجی دین الٰہی میں آجائے گی اس کی اصلاح کریں گے 1 ؎۔ یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے۔ بشیر کے معنی فرماں برداروں کو عقبیٰ کی بہتری کی خوش خبری سنانے والا۔ نذیر کے معنی نافرمان لوگوں کو عقبیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا واللہ علی کل شیء قدیر اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کسی نبی کا پیدا کرنا یا تورات کے بعد کسی کتاب کا نازل کرنا اللہ کی قدرت سے کچھ باہر نہیں جو یہ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں بلکہ اصل تورات میں تو عیسیٰ (علیہ السلام) ، محمد رسول اللہ ﷺ انجیل قرآن سب کی پیشین گوئی موجود ہے مگر ان لوگوں نے اپنی غرض ذاتی اور دشمنی سے تورات کی ان آیتوں کو بدل ڈالا ہے۔ جس کا خمیازہ قیامت کے دن ان کو بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 5:20–26

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا۔ اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا۔

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

تو بھائیو ! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) جسے خدا نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑجاؤ گے۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سر زمین سے نکل نہ جائیں تم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہونگے۔

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے راستے سے حملہ کردو۔ جب تم دروازے میں داخل ہوگئے تو فتح تمہاری ہے۔ اور خدا ہی پر بھروسا رکھو بشرطیکہ صاحب ایمان ہو۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

وہ بولے کہ موسیٰ جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جاسکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو اور ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی اور پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کیلئے حرام کردیا گیا ہے (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے ہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حلال پر افسوس نہ کرو۔

(20 ۔ 26) ۔ اوپر گزرچکا ہے کہ مصر سے شام کے ملک کا سفر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیا جاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے یہی ملک انبیاء کے رہنے کی جگہ ہے۔ ان آیتوں میں اسی لڑائی کا ذکر ہے اسی لڑائی کے قصہ کے ذکر میں آنحضرت ﷺ کی گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اے رسول اللہ نافع بن حرملہ وغیرہ نے تمہاری دل شکنی کی باتیں جو کی ہیں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے ان لوگوں کے بڑے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑی بڑی دل شکنی کی باتیں کرچکے ہیں۔ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کی اولاد میں ایک مدت تک نبوت اور بادشاہت رہی ہے۔ لڑائی کی رغبت دلانے کے لئے لڑائی کی خواہش سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ذکر میں بادشاہت کا بھی ذکر کیا تھا کہ بنی اسرائیل سمجھ جائیں کہ یہی لڑائی بنی اسرائیل کی آئندہ کی بادشاہت کی گویا بنیاد ہے۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کے رسول سچے ہیں۔ اس لڑائی کے بعد ملک شام میں بنی اسرائیل کی بادشاہت کی جو بنیاد قائم ہوئی اس کی نظیر کے لئے ایک حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت اور اس بادشاہت کی یادگار کے لئے ایک بیت المقدس کی عمارت کافی ہے۔” دیا تم کو جو نہیں دیا کسی کو جہان میں “ اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً فرعون جیسے دشمن کا ہلاک ہونا اور دریا میں راست کا پیدا ہوجانا غرض اپنے زمانے میں بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی وہ وہ نعمتیں پائیں کہ اس زمانہ کی کسی دوسری قوم کو وہ نعمتیں نصیب نہیں ہوتی۔ جن دو شخصوں کا ذکر اس قصہ میں ہے ایک تو ان میں یوشع بن نون ( علیہ السلام) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بھانجے تھے اور دوسری کا سب بن یوحنا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے داماد تھے۔ بارہ چودھری جو عمالقہ کی حالت دریافت کرنے کو بھیجے گئے تھے ان میں سے یہی دو شخص ایسے تھے جو خدا سے ڈر کر عہد پر قائم رہے عہد پر قائم رہنے کی توفیق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان دونوں شخصوں کو عطاء ہوئی اسی کو اللہ کی نعمت فرمایا ان دونوں شخصوں نے بنی اسرائیل کو یہ مشورہ دیا کہ قوم عمالقہ کی بستی کا دروازہ گھیر لیا جاوے جس سے باہر کی رسد بند ہو کر وہ لوگ ہراساں ہوجاویں گے او پھر اپنے وعدہ کے موافق اللہ تعالیٰ ہم کو فتح دیوے گا۔ لیکن بنی اسرائیل نے ان کا مشورہ نہ مانا اور ان دونوں شخصوں کو پتھروں سے مارنے لگے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی یہ سر کشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ کے آخری حکم کے نازل ہونے کی التجا کی۔ آخری حکم یہ ہوا کہ چالیس برس تک بنی اسرائیل اس شام کے جنگل میں قید رہے نہ پلٹ کر مصر جاسکتے تھے نہ ملک شام کی کسی بستی میں قدم رکھ سکتے تھے جتنے لوگوں نے یہ سر کشی کی باتیں کی تھیں وہ اسی قید میں مرگئے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق حضرت ہارون ( علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی وفات بھی اسی چالیس برس کے اندر ہوگئی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد یوشع ( علیہ السلام) بن نون موجودہ بنی اسرائیل کے نبی ہوئے اور ان ہی کے عہد میں شام کا ملک بنی اسرائیل کے ہاتھ آیا۔ چالیس برس کی قید کا حکم سن کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی حالت پر کچھ افسوس ہوا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ارسول اللہ کے ایسی سر کش قوم کی حالت پر کچھ افسوس نہ کرنا چاہیے ان کی سزا یہی تھی جو انہوں نے بھگتی۔ ملک شام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے انبیاء کے رہنے کی جگہ ہے اور اسی سرزمین میں طور پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا جلوہ ہوا ہے۔ اسی سبب سے اس کو زمین پاک فرمایا۔ یہاں اکثر مفسروں نے عوج بن عنق کا ایک قصہ نقل کیا ہے کہ عمالقہ میں وہ بڑا شہ زور بلند قد تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو قتل کیا۔ لیکن اس قصہ کی روایت اطمینان کے قابل نہیں ہے 1 ؎۔
Ayahs 5:27–31

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے ّ (ہیں) پڑھ کر سن دو کہ جب ان دونوں نے (خدا کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردونگا۔ اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے۔

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کیلئے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کیلئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا۔ مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈرلگتا ہے۔

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرئہ) اہل دوزخ میں ہو۔ اور ظالموں کو یہی سزا ہے۔

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اسے قتل کردیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگیا۔

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

اب خدا نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے۔ کہنے لگا اے مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اس کوّے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پیشمان ہوا۔

(27 ۔ 31) ۔ اوپر ذکر تھا کہ نافع بن حرملہ وغیرہ یہود نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کیا اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے یہ قابیل اور ہابیل کا قصہ فرما کر یہود کی تنبیہ فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات میں آنحضرت ﷺ کے اوصاف جو تھے ان اوصاف سے یہ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کو ایسا پہچانتے تھے جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ لیکن فقط اس حد کے سبب سے یہ لوگ آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے کہ بنی اسماعیل میں یہ نبی کیوں پیدا ہوئے بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سب سے پہلے حسد کرنے والے شخص قابیل کا انجام ان لوگوں کو یاد دلا کر یہ سمجھایا کہ حسد کا آخری انجام برا ہے۔ قابل نے اپنے حقیقی بھائی ہابیل کے حال پر حسد کیا اور پھر آخر کو پچھتایا تم لوگ بھی اللہ کے رسول اپنے چچا زاد بھائی کی حالت پر یونہی حسد کرتے رہو گے تو آخر کو دین و دنیا میں بہت یوں ہی پچھتاؤ گے اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ دنیا کا پچھتاوا تو ہوچکا کہ مدینہ کے گرونواح میں بنی قینقاع۔ بنی نضیر۔ بنی قریظہ یہ تینوں قبیلے یہود کے رہتے تھے۔ جن میں بنی قینقاع۔ بنی نضیر کا اخراج ہو۔ اور بنی قریظہ قتل کئے گئے۔ دیں کا پچھتاوا بھی وقت مقرر پر سب کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گا معتبر سند سے تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کی جو روایتیں ہیں ان کے موافق ہابیل کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے زمانے میں بھائی بہن کا نکاح اس ضرورت سے جائز تھا کہ کہ اس وقت سوائے بہن کے اور کوئی غیر لڑکی دنیا میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ایسے نکاح میں اس قدر احتیاط کرنا ضرور تھا کہ ایک حمل کا بھائی بہن کا نکاح نہیں ہوتا تھا۔ قابیل نے اپنے ساتھ کی پیدا ہوئی بہن سے نکاح کرنا چاہا۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے اس بات سے انکار کیا۔ جب قابیل نے اصرار کیا تو حضرت آدم ( علیہ السلام) نے یہ فیصلہ کیا کہ قابیل اور ہابیل دونوں بھائی مل کر اللہ کی نیاز کریں جس کی نیاز قبول ہوجائے گی اسی کا نکاح اس لڑکی سے کردیا جائے گا پہلے زمانہ میں نیاز قبول ہوجانے کی یہ نشانی تھی کہ آسمان سے ایک آگ آن کر نیاز کی چیز کو جلا دیا کرتی تھی۔ اس نشانی کے موافق ہابیل کی نیاز قبول ہوگئی اور اسی سبب سے قابیل کو اپنے بھائی ہابیل کی حالت پر ایک رشک اور حسد پیدا ہوگیا جس سے اس نے موقعہ پاکر اپنے بھائی کو مار ڈالا۔ یہ پہلا خون تھا جو دنیا میں واقع ہوا۔ صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کہ قابیل نے پہلے پہل خون ناحق کا طریقہ نکالا اس لئے دنیا میں جو خون ناحق اب ہوتا ہے تو ایک خون ناحق کا وبال قابیل کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جاتا ہے 2 ؎۔ اس وقت تک مردے کے دفن کرنے کا طریقہ دنیا میں جاری نہیں تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کی معرفت یہ طریقہ قابیل کو سکھایا تاکہ آئندہ بنی آدم میں یہ طریقہ رواج پکڑے جائے۔ قابل کوے سے یہ طریقہ سیکھ کر اپنی نادانی پر بہت پچھتایا کہ ایک جانور کے برابر بھی مجھ کو عقل نہیں۔ اسی نادانی کے سبب سے میں نے اپنے بھائی کو ناحق ما ڈالا۔ ہابیل اللہ کے نبی کے حکم پر تھا اس لئے اس نے اپنے آپ کو متقیوں میں شمار کیا ” تو حاصل کرے میرا گناہ اور اپنا گناہ “۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے ذاتی گناہوں کے علاوہ میرے خون ناحق کا وبال بھی تیرے ذمہ رہے۔
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اس (قتل) کی وجہ سے تم نے نبی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی پیدا کرنے کی سزا دی جائے اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا۔ اور لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لاچکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان میں بہت سے لوگ ملک میں حّد اعتدال سے نکل جاتے ہیں۔

یہ آیت گویا ہابیل اور قابیل کے قصہ کا نتیجہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب ایک بھائی نے ایک ذرا سے حسد پر اپنے بھائی کو بےدھڑک مارڈالا اور اس کے خون ناحق کا کچھ بھی خیال نہ کیا بلکہ آئندہ خون ناحق کا اوروں کے لئے دنیا میں ایک راستہ ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس گناہ عظیم کے روکنے کا یہ انتظام فرمایا کہ تورات میں بنی اسرائیل کو خون ناحق سے روکنے کے لئے یہ تاکید فرما دی کہ جو شخص ایک خون ناحق کرے گا تو اس کو خون ناحق کا پھیلانے والا شمار کیا جائے گا اور یہ رسم پھیل کر دنیا میں جس قدر خون ناحق ہوں گے ہر ایک خون کے وقت قابیل کی طرح اس رسم کے پھیلانے والے شخص کے نامہ اعمال میں بھی ایک خون کا وبال لکھا جائے گا۔ اور جو شخص مظلوموں کی مدد کرے گا خون ناحق کو روکے گا وہ شخص اس رسم بد کا روکنے والا اور ایک جہان بھر کی زیست اور امن کے اجر کا باعث ٹھہرے گا۔ آگے فرمایا کہ باوجود اس سخت حکم کے بنی اسرائیل کی جرأت قابیل سے بھی بڑھ گئی کہ انہوں نے عام لوگوں کے خون ناحق کے علاوہ انبیاء کے خون ناحق کی جرأت بھی کی جس کا خمیازہ ایک دن وہ بھگتیں گے۔ بنی اسرائیل نے انبیاء اور علماء کو جو شہید کیا اس کا ذکر سورة آل عمران میں گزرچکا ہے۔ صحیح مسلم میں جریر بن عبد اللہ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی نیک کام کا رواج پھیلا دے گا اس کو اس کا بھی اجر ملے گا۔ اور قیامت تک جو شخص اس نیک کام پر عمل کرنے والے شخص کی برابر اس نیک کام کے رواج پھیلانے کا بھی اجر ملے گا 1 ؎۔ پھر فرمایا یہی حال بدکام کے رواج پھیلانے والے کا ہے۔ یہ حدیث اس آیت کی گویا تفسیر ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اگرچہ یہود کی شان میں ہے لیکن اس کے حکم میں امت محمدیہ بھی شریک ہے۔
Ayahs 5:33–34

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کو دوڑتے پھریں انکی یہی سزا ہے کہ قتل کردیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیے جائیں یا ملک سے نکال دیے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا (بھاری) عذاب (تیّار) ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو آجائیں توبہ کرلی تو جان رکھو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(33 ۔ 34) ۔ عبد الرزاق نے حضرت ابوہریرہ ؓ اور ابن جریر نے حضرت انس ؓ کی روایت کے حوالے سے لکھا ہے کہ بحرین کے رہنے والے قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ جو مرتد ہو کر صدقہ کے اونٹ چوری سے ہانک کرلے گئے تھے اور چرواہے کو بھی قتل کر گئے تھے جن کو آنحضرت نے پھر پکڑوایا اور مروا ڈالا ان کی شان میں یہ آیت اتری ہے اور جمہور مفسرین کا قول ہے کہ راہ زنی کرنے والا خواہ مرتد ہو یا مسلمان سب کی سزا کے بیان میں یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور جس طرح عبد الرزاق اور ابن جریر نے اپنی تفسیروں میں قبیلہ عرینہ کے قصے کو اس َآیت کا شان نزول قرار دیا ہے۔ اسی طرح ابو داؤد نے بھی اس قصہ کو شان نزول اس آیت کا قرار دیا ہے 1 ؎۔ اور یہ قصہ بدوں ذکر شان نزول آیت کے صحیحین میں بھی آیا ہے اور حاصل قصہ کا یہ ہے کہ آنحضرت کا ایک غلام تھا اس کا نام یسار ؓ تھا وہ نماز دل لگا کر پڑھا کرتا تھا اس لئے آپ نے اس کو آزاد کردیا تھا اور صدقہ کے نو دس اونٹ دودھ کی اونٹنیاں خود آنحضرت کی مدینہ کے جنگل میں چرا کرتی تھیں ان کو یہ یسار ؓ چرایا کرتا تھا۔ یہ عرینہ قبیلہ کے لوگ کچھ دنوں تو مسلمان ہو کر خاص مدینہ میں رہے پھر ان کے پیٹ بڑھ گئے اور رنگ زرد ہوگئے تو گئے تو انہوں نے مدینہ کی آب و ہوا کی آنحضرت ﷺ سے شکایت کی اس لیے آپ نے ان لوگوں کو یسار ؓ کے ساتھ جنگل جانے کا حکم دیا تھا۔ ایک روز انہوں نے موقع پاکر کانٹے چبھو کر یسار ؓ کی آنکھیں پہلے پھوڑ ڈالیں پھر یسار ؓ کو قتل کر کے وہ اونٹ اور اونٹنیاں لے کر اپنے وطن بحرین کی طرف مرتد ہو کر بھاگے۔ جب مدینہ میں یہ خبر پہنچی تو آنحضرت ﷺ نے جریر بن عبد اللہ ؓ کو سردار قرار دے کر کچھ مسلمانوں کو قبیلہ عرینہ کے لوگوں کی تلاش میں روانہ کیا اور یہ لوگ آخر کو پکڑے آئے اور آپ نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری اور ان کو قتل کر ڈالا 2 ؎۔ اب اس قصہ سے چند فائدہ حاصل ہوئے ایک تو یہ کہ بعض مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس حدیث میں آنکھوں کی سلائی پھیرنے کا جو مذکور ہے وہ اس آیت سے منسوخ ہے وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ مسلم، نسائی اور ترمذی کی حضرت انس ؓ کی حدیث میں جب یہ صراحت آچکی ہے کہ ان لوگوں نے یسار ؓ کی آنکھیں پھوڑ ڈالی تھیں 3 ؎۔ تو اس حدیث میں ان لوگوں کی آنکھوں کا پھوڑنا العین بالعین کے موافق بطور قصاص کے تھا جو منسوخ نہیں ہے اسی طرح بعض مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ یہ آیت آنکھوں کی سلائی پھیرنے پر بطور عتاب کے نازل ہوئی وہ بھی صحیح روایتوں میں ہے۔ کہ جریر بن عبد اللہ ؓ کا اسلام لانا سورة مائدہ کے نزول کے بعد ہے 1 ؎۔ اس وجہ سے بعض مفسروں کا یہ قول بھی صحیح نہیں ہے کہ وہ حدیث کا قصہ آیت کے نزول سے بہت پہلے ہے 2 ؎ یَحَارِبُوْنَ محاربہ سے ہے محاربہ کے معنی مخالفت کے ہیں۔ قتادہ کے قول کے موافق اس آیت میں محاربہ کے معنی راہ زنی کے ہیں یہ قتادہ طبقہ تابعین میں ثقہ اوکر قدیم مفسروں میں ہیں۔ ناقابل اعتراض سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ راہ زن اگر فقط راستہ میں لوٹے تو اس کا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پیر کاٹا جاوے اگر کسی کو قتل کر کے مال لوٹے تو ایسے راہ زن کو پہلے قتل کیا جاوے پھر لوگوں کی عبرت کے اس کو سولی پر چڑھایا جاوے۔ اگر فقط قتل کرے اور مال نہ لوٹے تو اس کی سزا فقط قتل ہے۔ اگر فقط راہ زنی کے ارادہ سے کہیں بیٹھا ہو نہ کسی کا مال ابھی اس نے لیا ہو نہ کسی کو جان سے مارا ہو تو ایسے راہ زن کا اس سر زمین سے اخراج کردینا کافی ہے 3 ؎۔ آگے فرمایا راہ زنوں کی یہ سزا تو دنیوی ہے اگر پکڑے جانے سے پہلے بغیر توبہ کے وہ مرگئے یا پکڑے گئے اور دنیوی سزا کے بعد بھی مرتد رہے تو عقبیٰ میں ان کو سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔ صحیح بخاری اور مسلم میں عبادہ بن صامت ؓ کی حدیث جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمان شخص کے حق میں دنیوی سزا کفارہ ہے 4 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیوی سزا کے بعد آخرت کے عذاب کا جو حکم اس آیت میں ہے وہ مرتد کے لئے ہے اب پکڑے جانے سے پہلے جس راہ زن نے توبہ کرلی اگر ایسا راہ زن مرتد تھا اسلام کے بعد اس کو سزا نہ دی جاوے گی اور اگر ایسا راہ زن مسلمان تھا تو اس کی چوری کی سزا دینے کے اکثر سلف قائل نہیں ہیں آیت میں بھی پکڑے جانے سے پہلے جو توبہ کر لیوے اس کو عام طور پر بیان فرمایا ہے۔ مرتد اور مسلمان دونوں میں کچھ فرق نہیں رکھا 5 ؎۔ توبہ کے بیان میں یہ اوپر گزر چکا ہے کہ حق العباد کے گناہ میں فقط توبہ کافی نہیں ہے بلکہ صاحب حق کی معافی یا تلافی سے توبہ کامل کر لیوے تاکہ قیامت کے دن اسے اس حق کے معاوضہ میں اپنی نیکیاں صاحب حق کو نہ دینی پڑیں۔ صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزرچکی ہے کہ قیامت کے دن بعض لوگوں کے اعمال ناموں میں سب طرح کے نیک عمل ہوں گے۔ لیکن ان کے ذمہ لوگوں کے حقوق ہوں گے جن حقوق کے معاوضہ میں وہ سب نیک عمل صاحب حق لوگوں کو مل جاویں گے اور یہ نیک عمل والے خالی ہاتھ رہ کر جہنم میں چلے جاویں گے 1 ؎۔ یہ حدیث آیت کے آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان راہزن صاحب حق شخص کا کچھ معاوضہ دنیا میں نہ کرے تو قیامت کے دن وہ معاوضہ اس طرح ہوگا جس کا ذکر اس حدیث میں ہے۔
Ayahs 5:35–37

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا سے ڈرتے رہو۔ اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے راستہ میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اگر انکے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال و متاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہوتا کہ قیامت کے روز عذاب سے (رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور انکو درد دینے والا عذاب ہوگا۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

(ہر چند) چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر اس سے نہیں نکل سکیں گے۔ اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔

(35 ۔ 37) ۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو دنیا کے تھوڑے سے مال و متاع کے لالچ میں پھنس کر مرتد ہوگئے تھے اور راہزنی کرنے لگے تھے۔ اسی ذیل میں مسلمانوں کو ان آیتوں میں اس طرح کے خیالات سے روکا اور فرمایا کہ ہر ایمان دار کو اس طرح کی باتوں سے ہمیشہ پرہیز لازم ہے اور یہ بھی لازم ہے کہ ہر ایمان دار شخص ہاتھ سے پیر سے جان سے مال سے زبان سے غرض جس طرح ہو سکے خالص راہ خدا کے نیک کاموں میں لگا رہے تاکہ وہ نیک کام اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حاصل کرنے کا ذریعہ قرار 2 ؎ پا سکیں پھر فرمایا کہ یہ باتیں جو بتائی گئیں ہیں یہی باتیں ایسی ہیں جن سے عقبیٰ میں انسان کی بہتری اور کامیابی کی صورت نکل سکتی ہے فِیْ سَبِیْلِہٖ کا یہ مطلب ہے کہ جو نیک کام خالص راہ خدا کی نیت سے نہ کیا جاوے گا بلکہ اس میں ریا کاری یا دنیا کے کسی اور مقصد کا دخل ہوگا ایسا کام نہ بار گاہ ِ الٰہی میں مقبول ہوسکتا ہے نہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حاصل کرنے کا ذریعہ قرار پاسکتا ہے ابو داؤد اور نسائی میں ابی امامہ کی صحیح حدیث ہے جو اوپر گزرچکی ہے 3 ؎۔ اس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو کام خالص راہ خدا کی نیت سے نہ کیا جاوے گا وہ رائیگاں ہے بارگاہ ِ الٰہی میں اس طرح کا نیک کام ہرگز قبول نہیں ہوسکتا 4 ؎۔ یہ حدیث فِیْ سَبِیْلِہٖ کی گوتفسیر ہے جن لوگوں کا اوپر ذکر تھا آگے اس ذکر کو پورا کیا کہ وہ لوگ بڑے نادان ہیں جو دنیا کے تھوڑے سے مال و متاع کے لئے ایسے کام کرتے ہیں جس سے وہ عقبیٰ کو ہاتھ سے دے کر وہاں کا ہمیشہ کا عذاب اپنے سر پر لیتے ہیں کیونکہ دنیا کے تھوڑے مال و متاع کی تو کیا حقیقت ہے جو وہ عذاب کا معاوضہ قرار پاسکتے وہ عذاب تو ایسا بھاری اور لازمی ہے کہ تمام دنیا کے مال و متاع کو ایک جگہ کیا جا کر اسی قدر مال و متاع اس میں اور ملا یا جاوے تو یہ سب کچھ اس عذاب کا معاوضہ نہ ہو سکے گا قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ میں آوے گا کہ جب اس طرح کے دوزخی لوگ دوزخ سے نکالے جانے کی التجا اللہ تعالیٰ کی جناب میں پیش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اس طرح دھتکار دے گا جس طرح کوئی کتے کو دھتکار دیتا ہے اور سورة زخرف میں آوے گا کہ عذاب کی سختی سے تنگ آن کر جب اس طرح کے دوزخی موت کی التجا اللہ تعالیٰ کی جناب میں پیش کریں تو یہ جواب ملے گا کہ دوزخ میں موت نہیں ہے تم کو ہمیشہ اسی حال میں رہناپڑے گا۔ یہ آیتیں آیت یریدون ان یخرجوا من النار وما ھم بخارجین منہا ولھم عذاب مقیم کی گویا تفسیر ہیں۔
Ayahs 5:38–40

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کے فعلوں کی سزا اور خدا کی طرف سے عبرت ہے۔ اور خدا زبردست اور صاحب حکمت ہے۔

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو خدا اس کو معاف کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے ؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

(38 ۔ 40) ۔ راہ زنوں کے ذکر کے بعد یہ چوروں کا ذکر فرمایا چور کا ہاتھ کاٹنا اور خون بہا کا ادا کرنا شریعت محمدی سے پہلے بھی قریش میں جاری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے شریعت محمدی میں اسی رواج کو قائم فرمادیا ہے۔ جس عورت مخزومیہ کے ہاتھ کاٹنے کے وقت یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اس عورت کا قصہ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں جو کچھ مذکور ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے وقت ایک عورت نے چوری کی تھی قریش کو اس عورت کا ہاتھ کاٹنا شاق تھا اس لئے قریش نے اسامہ بن زید ؓ سے آنحضرت کی خدمت میں سفارش کرائی آپ کو یہ سفارش سن کر بڑا غصہ آیا اور آپ نے فرمایا کیا تعزیرات الٰہی میں بھی بندوں کی سفارش کا کچھ دخل ہوسکتا ہے۔ بالفرض محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ ؓ بھی کچھ چورائے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جاوے گا 1 ؎۔ غرض آپ نے اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اور جب اس عورت کا ہاتھ کٹ چکا تو اس عورت نے حضرت سے پوچھا کہ حضرت میری توبہ بھی قبول ہوگئی آپ نے فرمایا اب تو ایسی ہوگئی جیسے تیری ماں نے تجھ کو جنا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ کس قدر مال کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ سفیان ثوری ؓ اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تین درہم اور امام شافعی (رح) کے نزدیک چہار حصہ دینار کا اور امام احمد (رح) کے نزدیک چہارم حصہ دینار کا یا تین درہم یہ مقدار ہر ایک کے نزدیک مقرر ہے اور دلیل ہر ایک مذہب کی فقہ کی کتابوں میں ہے 1 ؎۔ ایک شخص ابو العلاء شاعر نے بغداد کے فقہا پر ایک اعتراض جو اس چوری کی مقدار کا کیا وہ مشہور ہے وہ اعتراض یہ ہے کہ ایک شخص کسی شخص کا ہاتھ کاٹ ڈالے تو سرع میں اس کا خون بہا پانچ سو دینار ہیں اور ایک شخص کسی شخص کی کچھ چیز چرائے تو تین درہم پر وہی پانچ سواشرفی کی قیمت کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ علماء نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ شریعت کے احکام برے کاموں سے روکنے کے لئے ہیں۔ اس واسطے چور کو یوں روکا گیا ہے کہ تین درہم تک ہاتھ کٹ جانے کا خوف رہے اور خون خرابہ کرنے والوں کو خانہ جنگی سے یوں روکا گیا ہے کہ اگر کسی کا ہاتھ بھی تم کاٹوں گے تو پانچ سو اشرفیاں جرمانہ بھرنا پڑے گھا بعض علماء نے یہ بھی جواب دیا ہے کہ چور کے ہاتھ کی قیمت تین درہم خدا نے رکھی ہے اور سچے ہاتھ کی قیمت پانسو اشرفی 2 ؎۔ اکثر علماء کے نزدیک توبہ کرنے سے ہاتھ کاٹنے کی سزا ساقط نہیں ہوتی ہاتھ کاٹنے تو تاوان کے دلانے میں اختلاف ہے جس کی تفصیل بڑی کتابوں میں ہے 3 ؎۔ آخر کو فرمایا آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے اس کے حکم میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ جس کی توبہ خالص ہو اس کو وہ بخش دے تو اسے اختیار ہے اور جس کی توبہ خالص نہیں اور وہ اسے نہ بخشے تو بھی اسے اختیار ہے۔ غرض کوئی بات اس کی قدرت اور اس کے اختیار سے باہر نہیں اور وہ عالم الغیب ہے توبہ کا خالص ہونا اور نہ ہونا اسی کو خوب معلوم ہے۔
Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں۔ اور (کچھ) ان میں سے یہودی ہیں۔ ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا۔ یہ غلط باتیں بنانے کیلئے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کیلئے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے کے بعد) بدل دیتے ہیں اور (لوگوں سے) کہتے ہیں اگر تمہیں یہ حکم ملے تو اس کو لے لینا اگر نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اگر خدا کسی کو گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لئے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی ذلّت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے

صحیح مسلم کی براء بن عازب ؓ کی روایت کے موافق صحیح شان نزول ان آیتوں کی وہی سنگساری کا قصہ ہے جس کا ذکر عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث کے حوالے سے آتا ہے 4 ؎۔ غرض دنیا کے چوروں کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں جن کے چوروں کا ذکر فرمایا۔ ان چوروں میں ایک گروہ تو منافقوں کا تھا جو ظاہر میں مسلمان تھے۔ اور ان کے دل میں منافق پنے کا چور لگا ہوا تھا۔ دوسرا گروہ وہ یہود کا تھا کہ انہوں نے تورات کے بہت سے احکام اپنی طرف سے بنائے تھے اور اصل احکام کو اس طرح چھپا رکھا تھا جس طرح چور کسی چوری کی چیز کو چھپاتا ہے اپنے بنائے ہوئے احکام کو رواج دینے کے لئے یہود کے علماء یہ بھی شرارت کیا کرتے تھے کہ اپنے جاہل لوگوں کے بعض مقدمات آنحضرت ﷺ کے پاس فیصلہ کو بھیج دیا کرتے تھے اور ان جاہلوں سے یہ بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ یہ شخص جو اپنے آپ کو نبی آخر الزمان کہتے ہیں ان کو تورات کے احکام معلوم نہیں ہیں اس واسطے اس قسم کے مقدمات کا جس طرح سے ہمیشہ ہم لوگ فیصلہ کیا کرتے تھے اسی طرح کا فیصلہ یہ نبی آخر الزمان کو دیویں تو اس فیصلہ کو مان لینا نہیں تو ہرگز نہ ماننا۔ یہود کی اور منافقوں کی دوستی تھی اس لئے منافق لوگ جاسوسی کے طور پر مسلمانوں کی مجلس میں آن کر بیٹھا کرتے تھے اور یہ خبر لیا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے ان مقدمات میں کیا فیصلہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منافق اور یہود دونوں کے فریب سے اپنے رسول کو آگاہ کردیا اور فرمایا کہ منافق لوگ تو یہ فریب کی باتیں اس لئے کرتے ہیں کہ ان کا ایمان فقط زبانی ہے اور ان کے دل میں طرح طرح کے فریب بھرے ہوئے ہیں۔ یہود کے علماء نے رشوت کے لالچ سے غلط مسئلے تراش لئے ہیں۔ اس لئے وہ ان مسئلوں کا رواج قائم رکھنے کو طرح طرح کے قریب کرتے ہیں مثلاً ان لوگوں نے بیا ہے ہوئے مرد و عورت کے سنگسار کرنے کی جگہ کوڑے مار دینے اور کالا منہ کر کے بستی میں پھرا دینے کی سزا تراش رکھی تھی اور اللہ کے رسول ﷺ سے بھی خیبر کے ایک مرد اور عورت کے مقدمہ میں بھی فیصلہ چاہتے تھے اور سنگساری کے حکم کو تورات میں نہیں بتلاتے تھے۔ آخر جب تورات لائی گئی تو وہ حکم نکلا جس کا قصہ صحیح بخاری و مسلم کی عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت میں ہے کیونکہ گناہ کرتے کرتے ان لوگوں کے دل سیاہ زنگ آلودہ ہوگئے ہیں جن میں نصیحت کے اثر کی کچھ گنجایش نہیں رہی اس واسطے زبر دستی ان کے دلوں کی سیاہی کو دھونا اور ان کو راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کے انتظامی ارادے کے بالکل برخلاف ہے کیونکہ دنیا کسی کو مجبور کرنے کے لئے نہیں پیدا کی گئی۔ بلکہ دنیا تو نیک و بد کی آزمایش کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جب گناہ پر گناہ کرنے سے آدمی کے دل پر زنگ لگ کر اس کا دل مرجاتا ہے 1 ؎۔ کسی نیک کام کا ارادہ اس کے دل میں باقی نہیں رہتا۔ تبارک الذی میں آوے گا کہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث اور تبارک الذی کی آیت لیبلوکم ایکم احسن عملا گویا ان آیتوں کی تفسیر ہے۔ آخر کو فرمایا کہ اور یہ لوگ اپنی عادتوں سے باز نہ آئے تو دنیا میں ان کجی طرح طرح کی ذلت ہوگی اور عقبیٰ میں ان کو سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اس تفسیر میں کئی جگہ منافقوں اور یہود کے دنیوی ذلت کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ عقبیٰ کا عذاب بھی وقت مقررہ پر سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے قول کے موافق سحت کے معنی رشوت کے ہیں 2 ؎ سورة نساء میں یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ (4: 46) اور یہاں یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَّوَاضِعِہ فرمایا ان دونوں آیتوں کو ملانے سے مطلب یہ ہوا کہ ان لوگوں نے کہیں تو تورات کے لفظوں کے معنی غلط تراشتے ہیں اور کہیں تورات کے لفظوں کو بدل ڈالا ہے۔ اگرچہ بعض عیسائی علماء نے تورات کے لفظوں کے بدلے جانے کا انکار کیا ہے لیکن عیسائی علماء اور اہل اسلام کے اکثر مباحثوں میں تورات کی عبارتوں کی مثالیں پیش ہو کر یہ بات اچھی طرح ثابت ہوگئی ہے کہ یہود نے تورات میں لفظی اور معنی دونوں طرح کا تبدل و تغیر کیا ہے۔ سورة احزاب کی تفسیر میں آوے گا کہ اس سورت میں سنگسار کرنے کی آیت تھی جس کی تلاوت منسوخ ہوگئی مگر حکم باقی ہے۔ اس حکم کے باقی رہے کی تاکید میں صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کی حضرت عمر ؓ کی وہ حدیث ہے جس میں حضرت عمر ؓ نے فرمایا سنگسار کرنے کی آیت قرآن میں تھی جس کو ہم لوگوں نے پڑھا اور یاد کیا ہے اور اللہ کے رسول ﷺ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بعد ہم لوگوں نے اس آیت کے موافق عمل کیا ہے لیکن اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی ہے اس لئے مجھ کو خوف ہے کہ کچھ زمانے کے بعد لوگ اس حکم الٰہی کا انکار کر کے گمراہ ہوجائیں گے 3 ؎۔ حضرت عمرؓ کا یہ اندیشہ بہت صحیح تھا۔ کیونکہ خارجی لوگ اور فرقہ معتزلہ کے بعض آدمی اس حکم الٰہی کے منکر ہوگئے 4 ؎۔ صحیح ابن حبان میں ابی بن کعب ؓ کی روایت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما سورة احزاب میں تھی۔