Ayahs 5:64–66(64 ۔ 66) ۔ طبرانی اور ابوالشیخ نے جو نزول اس آیت کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے شماس قبیلہ قینقاع یہود کے سرگروہ نے اور ایک یہودی جس کا نام شاس بن قیس ہے ان دونوں نے مل کر یہ کہا کہ یہود کی طرف سے اللہ نے سخاوت اور کشایش رزق کا ہاتھ روک لیا ہے اس لئے نعوذ باللہ من ذلک اللہ بخیل ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ کی کریمی کی صفت ہمیشہ ایک سان ہے لیکن جب کبھی یہود نے سرکشی کی ہے اسی وقت بخت نصر بابلی سے پھر طیطوس رومی سے پھر مجوس سے پھر اب مسلمانوں سے ان کی سرکوبی کرائی گئی ہے جس سرکوبی کے سبب سے ان کی بادشاہت اجڑ کر ذلت اور تنگ دستی ان کے سر پر ان ہی کے ہاتھوں سے سوار ہے۔ اگرچہ قرآن میں جوں جوں ان کے برے کاموں کی مذمت میں روزانہ آیتیں بڑھتی جاتی ہیں اسی قدر ان کی شرارت بڑھتی جاتی ہے اور ان کی یہ شرارتیں کچھ نئی نہیں ہیں عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) اللہ کے رسول کے ساتھ بھی انہوں نے طرح طرح کی شرارتیں کیں جن کے سبب سے ان میں اور نصرانیوں میں ہمشیہ کی دشمنی پڑگئی ان کی شرارتوں کی سزا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے یہ قرار پائی ہے کہ کسی لڑائی کا یہ کچھ سامان کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو بگاڑ دیتا ہے جس سے اللہ کی زمین میں ان کا کوئی فساد چلنے نہیں پاتا یہ اس لئے ہے کہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ یہ سب کچھ تو ہے لیکن اب بھی اگر یہ احکام الٰہی کے تابع ہوجائیں گے تو ان کی کشایش ہوجائے گی۔ اللہ کے دونوں ہاتھوں کا ذکر اس آیت میں آیا ہے اس واسطے یہ آیت منجملہ آیات متشابہات کے ہے 2 ؎ اور آیات متشابہات میں متقدمین اور متاخرین کا مذہب اوپر گزرچکا ہے یہاں اسی قدر ذکر کافی ہے کہ متاخرین نے ہاتھوں کی تاویل قدرت سے کی ہے اور اس تاویل میں متقدمین کی جانب سے بعض مفسرین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے سارے جہان کو پیدا کیا ہے اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش کی کوئی خصوصیت باقی نہیں رہتی اس اعتراض کا کوئی شافی جواب متاخرین کا اب تک نظر سے نہیں گزرا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ جب ایک آیت میں بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کو بغیر کسی تاویل کے مانا گیا ہے تو پھر دوسری آیت میں تاویل کی کیا ضرورت ہے علاوہ اس کے دین ان روایتوں کا نام ہے جو پہلے لوگوں سے پچھلوں کو پہنچی ہیں اس لئے آیات اور احادیث متشابہات میں بھی سلف کی پیروی گویا داخل دین ہے تفسیر ابن جریر میں عکرمہ کے قول کے موافق اس یہودی کا نام فنحاص ہے جس نے للہ تعالیٰ کی شان میں بےادبی کے لفط منہ سے نکالے تھے تفسیر ابو الشیخ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت میں بھی اس یہودی کا نام ہے لیکن طبرانی کی سند زیادہ معتبر ہے غرض یہود میں کے بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں یہ بےادبی کے لفظ منہ سے نکالے اور باقی کے لوگ ان کے شریک حال رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے عام طور پر یہود کو بےادب ٹھیرا کر وہ خفگی کے لفظ فرمائے جو پہلی آیت میں ہیں اور ما بعد کی آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ اہل کتاب پورے ایمان دار بن کر اللہ تعالیٰ کی خفگی کی باتوں سے بچیں گے تو ان کے پچھلے گناہ معاف فرما کر اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ پھر یہ فرمایا کہ پورے ایمان کی نشانی یہ ہے کہ تورات اور انجیل میں نبی آخر الزماں کی نبوت اور قرآن کے کتاب آسمانی ہونے کی صداقت ہے اس کو یہ لوگ دل سے مان لیویں جب یہ لوگ ایسا کریں گے تو آسمان سے مینہ برس کر ان کے باغ ان کی کھیتیاں جو قحط کے سبب سے خراب ہوگئی ہیں وہ سر سبز ہوجاویں گی لا کلوا من فوقہم ومن تحت ارجلہم کا یہی مطلب ہے کہ آسمان سے ایسا مینہ برسے گا کہ باغ اور کھیتی کی سب زمین سر سبز ہوجائے گی پھر فرمایا کچھ لوگ تو ان میں عبد اللہ بن سلام وغیرہ ایسے سیدھے ہیں کہ وہ یہ نصیحتیں سن کر راہ راست پر آگئے ہیں لیکن ان میں اکثر تو ابھی کج روی پر اڑے ہوئے ہیں۔ صحیح مسلم میں ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمام دنیا کے جن و انسان اپنی مرادیں اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور اللہ تعالیٰ ان سب کی مرادیں پوری کرے جب بھی اس کے خزانے ویسے ہی بھر پور ہیں 1 ؎۔ یہود نے بےادبی سے بخیلی کا لفظ جو اللہ تعالیٰ کی شان میں یوں کہا تھا کہ اللہ کا ہاتھ بندھ گیا اس کا جواب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بخیلی تو وہ کرے جس کو اپنے خزانے کے کم ہوجانے کا اندیشہ ہو اللہ تعالیٰ کے خزانے کبھی کم نہیں ہوسکتے یہود کی کج روی کا ذکر سورة بقرہ میں آیت { یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآ ئَ ھُمْ } ( 2: 147) کی تفسیر میں گزرچکا ہے عرب کے محاورے میں ہاتھ کا بندھنا بخل کے معنی میں اور ہاتھ کا کھلنا سخاوت کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ اندہیرے میں لشکر کے لوگ آگ جلایا کرتے تھے تاکہ اندہیرے میں دشمن حملہ نہ کر بیٹھے پھر رفتہ رفتہ لڑائی کے لئے آگ سلگانے کا محاورہ لشکر کے ہر ایک انتظام پر بولا جانے لگا اسی محاورے کے موافق { کُلَّمَا اَوْقَدُوْانَارً لِلْحِرْبِ اَطْفَأَ ھَا اللّٰہُ } فرمایا۔ یہود کا اللہ کے ملک میں فساد یہی تھا کہ انہوں نے اپنی قوم کے انبیاء اور علماء کو شہید کر ڈالا۔ تورات کے احکام بدل ڈالے۔ رشوتیں لے کر غلط فیصلے کئے اور نبی آخر الزمان سے طرح طرح کی مخالفتیں کیں۔
Ayah 5:67ترمذی حاکم مسند امام احمد اور طبرانی وغیرہ میں جو اس آیت کی شان نزول لکھی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے تبلیغ حکم کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے اوپر کا ٹکڑا آیت کا نازل فرمایا آنحضرت کو یہ تامل ہوا کہ لوگ آپ کو جھٹلاویں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے دوسرا ٹکڑا نازل فرمایا۔ جب آپ نے بیدھڑک اللہ کا پیغام پہنچانا شروع کردیا جس پیغام میں اکثر باتیں اہل کتاب و منافقین اور کفارہ کی مرضی کے مخالف بلکہ ان کی مذمت کی ہوتی تھیں تو اس خوف سے کہ موقع پا کر یہ مخالف لوگ آپ پر حملہ نہ کر بیٹھیں کچھ صحابہ کو آپ اپنی حفاظت کے لئے رات کو تعینات فرمایا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ تیسرا ٹکڑا آیت کا نازل فرمایا 1 ؎ جس رات کو یہ تیسرا ٹکڑا آیت کا نازل ہوا اسی وقت سے آپ نے حجرہ کی کھڑکی سے منہ نکال کر حفاظت والے صحابہ سے فرما دیا کہ تم لوگ اپنے اپنے گھر چل جاؤ۔ اب حفاظت کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت خود اپنے ذمے لے لی ہے یا ایھا النبی تو قرآن میں کئی جگہ ہے مگر یا ایھا الرسول اسی سورت میں دو جگہ ہے اور کہیں قرآن شریف بھر میں نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی شان نزول میں یہ جو لکھا ہے کہ ابو طالب کچھ لوگ مقرر کر کے آنحضرت کی حفاظت کردیا کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ صحیح نہیں کیونکہ اس مضمون کی ایک روایت حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی طبرانی میں جو ہے اس کی سند میں ایک راوی نضر بن عبد الرحمن ضعیف ہے علاوہ اس کے یہ آیت مدنی ہے اور ابو طالب کا قصہ مکہ ہے 2 ؎۔ بخاری اور مسلم میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں جو شخص یہ خیال کرے کہ آنحضرت ﷺ نے کبھی کسی مصلحت سے کوئی اللہ کا حکم لوگوں پر ظاہر نہیں کیا اس کے خیال کو اس آیت کے مضمون سے جھٹلانا چاہیے 3 ؎۔ اس حکم الٰہی کی تعمیل میں اللہ کے رسول آخر عمر تک ہمہ تن مصروف رہے چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں ابی بکرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آپ نے آخری عمر میں حجۃ الوداع کے وقت سب لوگوں سے یہ پوچھا ہے کہ میں نے تم کو وقت بوقت اللہ کے احکام پہنچاوے جب ان لوگوں نے اس کا اقرار کیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کو ان کے اس اقرار کا گواہ قرار دیا 1 ؎۔ اس باب میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ آخر کو فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تمہارے احکام قرآن پہنچادینے کے بعد جو لوگ ان احکام کو دل سے نہ سنیں اور راہ ِ راست پر نہ آویں تو اس سے کچھ دل تنگ اور آزردہ خاطر نہ ہونا چاہیے کیونکہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ کے علم میں جو لوگ بد قرار پاچکے ہیں وہ خود تو کسی نصیحت سے بھی راہ راست پر آنے والے نہیں اور مجبور کر کے ان کو راہ ِراست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے کس لئے کہ انتظام الٰہی کے موافق دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے کسی کے مجبور کرنے کے لئے نہیں پیدا کی گئی۔
Ayahs 5:68–69(68 ۔ 69) ۔ معتبر سند سے ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ رافع بن حرملہ اور مالک بن ضعیف اور چند یہود ایک روز آنحضرت کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ کیا اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتلاتے ہیں اور ہماری کتاب کو حق نہیں مانتے آپ نے فرمایا یہ سچ ہے کہ تمہاری کتاب برحق ہے لیکن تم نے بہت سے احکام الٰہی کو بدل ڈالا ہے انہوں نے جواب دیا جس طریقہ پر ہم ہیں وہ حق ہے ہم اس کے سوا ہرگز کوئی طریقہ اور اختیار نہ کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہود اور نصاریٰ اور دھریہ لوگ جب تک مناسب وقت شریعت کو نہ مانیں گے تو بغیر شریعت کے نہ دہریہ نجات پاسکتے ہیں نہ شریعت منسوخہ پر اڑے رہنے سے اہل کتاب کی نجات ہوسکتی ہے اور تورات اور انجیل میں تو نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کی سخت تاکید ہے پھر اس مسئلہ کو بدل کر اور چھپا کر اہل کتاب کا یہ کہنا کہ ہم تورات اور انجیل پر قائم ہیں بالکل غلط ہے جب تک تورات اور انجیل پر یہ لوگ پورا ایمان نہ لاویں گے جس ایمان میں نبی آخر الزمان کے برحق ہونے کا اعتقاد بھی داخل ہے تو ان کا ایمان لا شیء محض ہے اب آگے فرمایا کہ اہل کتاب کا تورات اور انجیل پر قائم ہو کر شریعت وقتیہ کا پابند ہونا تو درکنار شریعت وقتیہ میں جوں جوں ان کی بد اعمالی کی مذمت بڑھتی جاتی ہے اسی قدر ان کی سرکشی بڑھتی جاتی ہے اور یہ اس بات کی نشانی ہے کہ یہ لوگ علم الٰہی میں شریع وقتیہ کے منکر قرار پا چکے ہیں اس لئے اے رسول اللہ ایسے لوگوں کی حالت پر تمہیں کچھ افسوس نہ کرنا چاہیے پھر یہ بھی فرمایا کہ اہل کتاب اپنی کتابوں کے پورے پابند ہو اگر شریعت وقتیہ کو مانیں گے اور شریعت وقتیہ کے موافق نیک کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو عقبیٰ کی سب سختیوں سے بےخوف و خطر کر دے گا۔ اہل کتاب تو اپنے آپ کو ظاہر میں شریعت موسوی اور شریعت عیسوی کا پابند بھی کہتے ہیں لیکن دھریہ فرقہ ہے جو کسی شریعت کا ظاہر میں بھی پابند نہیں ہے۔ اس لئے صائبین نہیں فرمایا بلکہ صائبون فرما کر اس فرقہ کا ذکر سلسلہ ٔ کلام سے الگ یوں فرمایا کہ اگر اس فرقے کے لوگ بھی اپنے دھریہ پنے سے توبہ کر کے شریعت وقتیہ کو مانیں گے اور شریعت وقتیہ کے موافق نیک کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی عقبیٰ کی سب سختیوں سے بےخوب و خطر کر دیوے گا۔
Ayahs 5:70–71(70 ۔ 71) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود اگر پورے طور پر تورات کے پابند نہ ہوں گے تو ان کو راہ راست پر شمار نہ کیا جاوے گا ان آیتوں میں ان کے تورات پر قائم نہ رہنے کی تفصیل ذکر فرمائی ہے جس عہد کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ وہی عہد ہے جس کا ذکر سورة بقرہ کی آیت { وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہُ } ( 2: 83) کی تفسیر میں گذرچکا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بہت نبی اللہ تعالیٰ نے تورات کے اس عہد کے قائم رکھنے کے لئے بھیجے۔ لیکن یہود نے تورات کے اکثر احکام کو چھوڑ کر بجائے ان احکام کے اپنی خواہش کے موافق ایجادی باتیں تراش رکھی تھیں جس نبی نے ان کو ان باتوں سے روکا اس سے انہوں نے مخالفت پیدا کر کے بعض نبیوں کو تو قتل کر ڈالا مثلاً حضرت زکریا ( علیہ السلام) اور یحییٰ ( علیہ السلام) ان نبیوں میں سے ہیں جن کو یہود نے قتل کیا اور بعض نبیوں کو انہوں نے جھٹلایا جیسے مثلاً حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان ﷺ ۔ اپنی ایجادی باتوں کو یہود حکم الٰہی جانتے ہیں اس لئے ان کا یہ خیال ہے کہ ان باتوں کی پاسداری میں موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کسی نبی کو مار ڈالنا یا جھٹلانا کوئی خرابی یا گناہ کی بات نہیں ہے ایک دفعہ دل کے اندھے اور کانوں کے بہرے بن کر شعیب نبی کو قتل کیا پھر کچھ درست ہوگئے پھر اپنے پہلے ڈھنگ پر آکر حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) بن زکریا ( علیہ السلام) کو قتل کیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قتل کی فکر آخر کو فرمایا کہ ان کی یہ سب گناہ باتیں اللہ کی نگاہ میں ہیں وقت مقررہ پر ان کا کیا ان کے آگے آنے والا ہے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ یہود کو دنیوی سزا تو جالوت اور بخت نصر وغیرہ کے ہاتھ سے مل چکی۔ عقبیٰ کی سزا بھی سب کی آنکھوں کے سامنے آنے والی ہے۔ ترمذی نسائی وغیرہ کی ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے کہ کثرت گناہ سے آدمی کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے 1 ؎ جس کے سبب سے نہ وہ کوئی نصیحت کی بات کانوں سے دل لگا کر سنتا ہے نہ کسی نیک بات کا اس کے دل پر کچھ اثر ہوتا ہے دل کے اندھے اور کانوں کے بہرے لوگوں کی حالت کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
Ayahs 5:72–75(72 ۔ 75) ۔ اوپر کی آیتوں میں یہود و نصاریٰ دونوں کو ملا کر یہ نصیحت فرمائی تھی کہ جب تک یہ لوگ تورات و انجیل پر پورے قائم نہ ہوں گے تو گویا یہ کسی دین پر بھی قائم نہیں اس کے بعد یہود نے تورات کی پابندی میں جو خرابیاں ڈال رکھی تھیں ان کا ذکر فرمایا اب ان آیتوں میں انجیل کے احکام کی پابند میں جو خرابیاں تھیں ان کا ذکر ہے۔ لیکن ان آیتوں کی تفسیر ذرا قصہ طلب ہے۔ اسلامی اور عیسائی تاریخ کی کتابوں میں یہ قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب عیسائیوں کی تعداد بڑھنے لگی تو یہود کو اس پر حسد ہوا اور اس حسد کے سبب سے یہود کا ایک بادشاہ جس کا نام بولس تھا اس وقت کے عیسائیوں کے مقابلہ میں کھڑا ہوگیا یہاں تک لڑائی ہوئی کہ عیسائیوں کو ملک شام چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد یہ بولس یہودی فریب سے نصرانی ہوگیا اس وقت کے عیسائی بولس کے فریب میں آگئے اور بولس کو مثل حواریوں کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نائب سمجھنے لگے اس کی عبادت کے لئے ایک عبادت خانہ بنوایا۔ بولس اس عبادت خانہ کا دروازہ بند کر کے اس میں رہتا تھا اور دوسرے تیسرے دن اس عبادت خانہ کا دروازہ کھول کر باہر نکلتا اور تورات اور انحیل کے برخلاف اس طرح کی خوش بیانی سے کچھ باتیں بیان کرتا کہ اس وقت کے عیسائی ان باتوں کو آسمانی الہام خیال کرتے کیونکہ اس نے اپنی خوش بیانی سے اس وقت کے عیسائیوں کے دل میں یہ بات اچھی طرح جما دی تھی کہ وہ تیسرے آسمان تک پہنچتا ہے۔ ایک دن بولس اپنے عبادت خانہ کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور اس وقت کے عیسائیوں سے اس نے کہا کیا تم نے کسی انسان کو دیکھا کہ وہ مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرسکے یا مردے کو زندہ کرسکے انہوں نے جواب دیا کہ نہیں اس پر بولس نے ان سے کہا کہ اسی واسطے میرا آج کا الہام یہ ہے کہ نعوذ باللہ من ذلک عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) خود خدا تھے جو دنیا میں آئے اور ان میں یہ سب قدرتیں تھیں۔ اس وقت کے عیسائیوں میں کا ایک گروہ تو بولس کے اس الہام کا قائل ہوگیا اور انہوں نے حضرت عیسیٰ کو خدا کہنا شروع کیا۔ کچھ لوگوں نے اس الہام کے یہ معنی سمجھے کہ بغیر باپ کے پیدا ہونے سے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا کے بیٹے تھے اور باپ بیٹا اور روح القدس یہ تینوں مل کر خدا ہیں اس فرقہ کے لوگ روح القدس کے معنی حیات ابدی کے کرتے ہیں اور کبھی کچھ معنی کرتے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس الٰہام کا یہ مطلب سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ۔ حضرت مریم ( علیہ السلام) یہ تینوں مل کر خدا ہیں یہ لوگ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ۔ حضرت مریم ( علیہ السلام) کی تصویریں اپنے عبادت خانوں میں رکھتے ہیں اور ان تصویروں کو سجدہ کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے حضرت مریم ( علیہ السلام) کے نام کی ایک نماز بھی ٹھیرا رکھی ہے۔ جس کو یہ لوگ پڑھا کرتے ہیں یہ آخر کے دونوں فرقے تثلیثی فرقے کہلاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ تین خدا کے ماننے والے یہ فرقے ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر ان تینوں کا ذکر فرما کر ان کو کئی طرح قائل کیا ہے۔
(1) جبکہ تورات کے حوالہ سے ان لوگوں کا اعتقاد یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جو توحید تعالیٰ کی ہدایت سے پائی تھی وہی توحید موروثی طور پر عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم تک آئی۔ اس اعتقاد کی بنا پر یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پابند بتلاتے ہیں تو پھر عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم کو اللہ ٹھیرانے کی صورت میں وہ ابراہیمی توحید کیونکر ان لوگوں میں باقی رہ سکتی ہے۔ وما من الا الا الہ واحد سے اسی مطلب کا ادا فرمایا گیا ہے۔
(2) جب اللہ کے رسول عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ بن مریم نے اللہ تعالیٰ کے وحدہٗ لا شریک ہونے اور اپنے رسول کی ان لوگوں کو صاف ہدایت کی تو پھر ان لوگوں نے اپنے رسول کی ہدایت کے برخلاف یہ شریک کی باتیں کہاں سے نکالی ہیں کیا ان کو عیسیٰ بن مریم کی یہ نصیحت یاد نہیں کہ مشرک کا ٹھکانہ دوزخ اور جنت اس پر حرام ہے { وَقَالَ الْمَسِیْحُ یَبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ اعْبُدُوْااللّٰہَ رَبِّی وَ رَبَّکُمْ مِنْ یُشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَا وَاہُ النَّارُط وَ مَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ } سے یہی مطلب ادا فرمایا گیا ہے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے انجیل کے ترجموں میں اگرچہ سینکڑوں تبدل و تغیر ہوگئے۔ لیکن انجیل یوحنا کے سترھویں باب میں اس آیت قرآن کی پوری صداقت اب بھی موجود ہے۔ اسی طرح انجیل متی کا تیسرا اور چوتھا باب بھی دیکھنے کے قابل ہے جس میں مسیح (علیہ السلام) نے شیطان سے فرمایا کہ اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کسی کو سجدہ کرنا یا کسی کی عبادت جائز نہیں ہے۔
(3) عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ بن مریم اور ان کی ماں کھانا کھایا کرتے تھے۔ جس کی زندگی کا مدار کھانا کھانے پر ہو۔ جس کی ذات میں یہ تغیر ہو کر روز کی غذا کے سبب سے اس کا خون گوشت سب کچھ بڑھتا رہے تو یہ سب نشانیاں مخلوقات کی شان کی ہیں وہ پاک ذات ان سب باتوں سے پاک ہے چناچہ سورة انعام میں آوے گا { وَھُوَ یَطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ } (6: 14) جس کا مطلب یہ ہے کہ سب کو کھلاتا ہے اور خود کھانے سے پاک ہے۔ پھر ایسی موٹی باتوں کو بھول کر کس عقل سے یہ لوگ عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ بن مریم اور ان کی ماں کو اللہ کا شریک ٹھیراتے ہیں۔ { کَانَا یَا کُلَانِ الطَّعَامَ اُنْظُرْ کَیْفَ نَبَیِّنُ لھمُ الْاٰیَاتِ ثُمَّ اُنْظَرْ اَنّٰی یَؤْفَکُوْنَ } سے یہی مطلب بیان کیا گیا ہے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جن لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کہا یا ان کو اور ان کی ماں کو اللہ ٹھیرایا وہ لوگ عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم ( علیہ السلام) کے طریقہ کے بالکل مخالف اور منکر ہیں کیونکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ بن مریم ( علیہ السلام) نے ان لوگوں کو توحید سکھائی یہ شرک کی باتیں ہرگز نہیں سکھائیں۔ باوجود اس کے پھر جو کوئی ان شرک کی باتوں میں گرفتار رہے گا اس پر جنت حرام اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے کس لئے کہ اس نے ایسی باتوں میں گرفتار رہ کر اپنے نفس پر یہ ظلم کیا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے پیروؤں کو اللہ کا شریک اور اپنا معبود ٹھیرایا اس لئے ایسے ظالم لوگ اپنے شرک کی باتوں سے جب تک باز آن کر اللہ کی جناب میں توبہ و استغفار نہ کریں گے تو قیامت کے دن وہ سخت عذاب میں پکڑے جاویں گے اور اللہ کے عذاب سے چھڑانے میں ان کا کوئی حامی و مددگار نہ ہو۔ اور ان لوگوں کا یہ خیال کہ عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) مثلاً مردہ کو زندہ کرتے تھے اس واسطے خدا تھے بالکل یہ خیال غلط ہے۔ عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کی مانند اور رسول بھی صاحب معجزہ ہوئے ہیں۔ جن کو یہ لوگ خدا نہیں کہتے۔ مثلاً موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے سے لکڑی کا سانپ بن جاتا مردہ کو زندہ کرنے سے کچھ کم نہیں ہے۔ ان لوگوں کو اتنی بات سمجھ لینی چاہیے کہ جب عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) اور ان کی ماں غذا کے حاجت مند تھے تو ایسا حاجت مند شخص خدا کیونکر ہوسکتا ہے۔
کفروشرک یہ ہے کہ ثَالِثُ ثَلٰثَۃ کو یوں سمجھے کہ اللہ تعالیٰ تین معبودوں میں کا ایک ہے اگر دو بندوں میں اللہ تعالیٰ کو تیسرا حاضر و ناظر سمجھا جاوے تو یہ عین ایمان ہے۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے فرمایا کہ ہم ایسے دو ہیں جن کا تیسرا اللہ ہے 1 ؎۔ پھر اسی کی مدد پر بھروسا کرنا چاہیے یہ اس وقت کی حدیث ہے کہ ہجرت کے ارادہ سے آنحضرت ﷺ اور حضرت ابو بکرصدیق ؓ مکہ سے نکل کر جبل ثور کے غار میں ٹھیرے ہوئے تھے اور مکہ کے مشرک لوگ اس پہاڑ کے اردگرد آپ کی تلاش میں اس طرح پھر رہے تھے کہ اس غار میں مشرکوں کے پاؤں نظر آتے تھے۔ صدیق کے معنی سورة النسا میں گزرچکے ہیں کہ صدیق کے دل میں وحی کے احکام کی صداقت زیادہ ہوتی ہے۔ حضرت مریم ( علیہ السلام) کے دل میں تورات اور انجیل کے احکام کی صداقت بہت تھی اس واسطے آپ کا لقب صدیقہ ہے۔ اس سے علماء نے یہ بات نکالی ہے کہ حضرت مریم ( علیہ السلام) نبی نہیں تھیں کیونکہ صدیق کا مرتبہ نبی کے بعد ہے۔ سورة الانبیاء کی آیت { وَمَا اَرْسَلْنَا قَبْلِکَ اِلَّا رِجْالاً نُوْحِی اِلَیْہِمْ } (21: 7) سے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی سب مرد ہی ہوتے ہیں۔ تثلیث کے مسئلہ کے باب میں ایک یہ بات بھی ذکر کرنے کے قابل ہے کہ اس مسئلہ کے انجیل میں ہونے کے سبب سے نصاری میں کے پروٹسٹنٹ فرقہ کے لوگ اپنی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ فرقہ انجیلی کہلاتا ہے ان لوگوں کا اعتقاد یہ ہے کہ علماء سلف کا جو قول آسمانی کتاب کے مخالف ہو وہ داخل دین نہیں ہے اس لئے ان لوگوں نے اس مسئلہ کو انجیل کے ما بعد کا مسئلہ قرار دے کر اس کا ذکر اپنی کتابوں میں چھوڑ دیا ہے۔ تثلیثی فرقہ کا یہ اعتقاد ہے کہ ہر شخص کی نجات تثلیث کے مسئلہ پر منحصر ہے۔ جب اس فرقہ کے مخالف لوگوں نے اس فرقہ پر یہ اعتراض کیا کہ اگر یہ مسئلہ ایسا ضروری تھا جس پر مسیحی لوگوں کی نجات منحصر تھی اور مسیح (علیہ السلام) لوگوں کو نجات کا طریقہ بتلانے کے لئے دنیا میں آئے تھے تو خود مسیح (علیہ السلام) نے یہ مسئلہ لوگوں کو صاف طور پر کیوں نہیں بتلایا تثلیثی فرقہ کے لوگوں نے اس اعتراض کا جواب دو طرح سے دیا ہے ایک تو یہ کہ تثلیث کا مسئلہ ایسا دقیق تھا کہ مسیح (علیہ السلام) کے آسمان پر چلے جانے سے پہلے صحیح طور پر یہ مسئلہ کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتا تھا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہود کے خوف سے مسیح (علیہ السلام) نے یہ مسئلہ حواریوں کے روبرو بیان نہیں کیا۔ فرقہ تثلثی کے مخالف لوگوں نے پہلے جواب کو تو اس طرح غلط قرار دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے آسمان پر چلے جانے کے بعد کوئی دقیق مسئلہ طے نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خود یوحنا حواری نے جبکہ اپنے رسالہ کے چوتھے باب میں اپنے زمانہ کا حال یہ لکھا ہے کہ اس زمانے میں بہت سے جھوٹے نائب مسیح (علیہ السلام) کے پیدا ہوگئے ہیں اور آدم کلارک نے اپنی شرح میں یوحنا کے اس قول کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کے بعد بہت سے لوگ الہام کا دعویٰ کرنے والے پیدا ہوگئے تھے جن کے الہا ام جھوٹے تھے اور خاص کر ان میں فریبی یہودی اکثر تھے۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ بولس یہودی کا زمانہ بھی وہی ہے اور اس وقت کے تاریخ والوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ شخص عیسائی دین میں رخنہ ڈالنے کی نیت سے بطور فریب کے عیسائی ہوا تھا۔ اور یہ تو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ بولس کا الہام تورات انجیل مسیح (علیہ السلام) کی نصیحت سب کے برخلاف ہے۔ تو پھر ایسے الہام کو آسمانی الہام کیونکر کر کہا جاسکتا ہے اور اس طرح کے مشکوک الہام کی بنا پر تثلیث کے مسئلہ کے باب میں آسمانی کتاب کس طرح بدل سکتی ہے۔ دوسرے جواب کو یوں غلط ٹھیرایا گیا ہے کہ انجیل کی اکثر آیتوں کے موافق مسیح (علیہ السلام) نے چھوٹے چھوٹے مسئلے بنی اسرائیل کو بلا خوف و خطر بڑی سختی سے سمجھائے ہیں اس حالت میں مسیح (علیہ السلام) پر یہ تہمت ہے کہ انہوں نے اتنا بڑا ضروری مسئلہ لوگوں کے خوف سے بغیر بیان کے چھوڑ دیا۔
Ayahs 5:76–77(76 ۔ 77) ۔ اوپر ذکر تھا کہ نصاریٰ میں بعض لوگ مسیح بن مریم کو خدا کہتے تھے اور بعض خدا کا شریک ٹھیراتے تھے ان ہی لوگوں کے سمجھانے کے لئے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو مخاطب ٹھیرا کر فرماتا ہے کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ سوا اللہ تعالیٰ کے جن کو تم اپنا معبود ٹھیراتے ہو نہ ان کو تمہارے برے بھلے کا کچھ اختیار ہے نہ تمہارے حاضر و غائب سب کی التجا سن لینے کی ان میں کچھ قدرت ہے نہ ہر ایک کی دلی التجا کا انہیں کچھ حال معلوم ہوسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی ذات ہے کہ وہ ہر ایک کی التجا سنتا ہے ہر ایک کے دلی مقصد کو خوب جانتا ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ بنی اسرائیل بڑی ذلت و خواری سے فرعون کے بس میں تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بہبودی کا ارادہ کیا تو فرعون نے کے پھندے سے ان کو نکال کر نبوت بادشاہت سب کچھ ان کو دے دیا۔ پھر جب انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اس قادر مطلق نے اسی ذالت و خواری کا دن انہیں پھر دکھا دیا۔ آدمی کے غور کرنے کیلئے ایسی بےگنتی مثالیں اس کی قدرت کی دنیا میں اب بھی موجود ہیں۔ ان لوگوں کا تو یہ حال کہ یہ مسیح بن مریم کو خدا یا خدا کا شریک کہیں اور خود مسیح بن مریم کا یہ حال کہ انہوں نے اسے میرے معبود اے میرے معبود کہہ کہہ کر اپنے آخری وقت پر اپنی طرح طرح کی التجا اللہ تعالیٰ کی جناب میں پیش کی جس کا ذکر انجیل متی کے ستائیسویں باب میں ہے۔ مسیح بن مریم تو اپنے بندے ہونے اور اللہ تعالیٰ کے معبود حقیقی ہونے کی اس آخری اقرار پر دنیا سے اٹھ گئے۔ لیکن اس پر بھی یہود نے ان کے گھٹانے میں یہاں تک مبالغہ کیا کہ ان کو اللہ کا رسول بھی نہیں کہتے۔ نصاری نے ان کے بڑھانے میں یہاں تک مبالغہ کیا کہ ان کو خدایا خدا کا شریک ٹھیرایا۔ یہ سب باتیں ان کے بڑوں کی تراشی ہوئی ہیں جو خود بھی بےراہ ہوئے اور لوگوں کو بھی بےراہ کیا حال کے لوگ بھی اگر ان بےراہ بڑوں کی پیروی میں عمر بھر لگے رہیں گے اور پھر عقبیٰ میں اپنے بہبودی کی توقع اللہ تعالیٰ سے رکھیں گے تو یہ بڑی نادانی کی بات ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالے سے شداد بن اوس ؓ کی معتبر سند کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے 1 ؎۔ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص عمر بھر اپنی خواہش نفسانی کا پیرورہا اور پھر اللہ تعالیٰ کی ذات سے اس نے عقبیٰ کی بہبودی کی توقع رکھی وہ شخص بڑا نادان ہے 2 ؎۔ یہ حدیث گویا ان آیتوں کی تفسیر ہے۔
Ayahs 5:78–81(78 ۔ 81) ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس بات کے جتلانے کو نازل فرمائی ہے کہ بنی اسرائیل خاص کر کچھ اب قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانے میں ایسی نافرمانی نہیں کرتے جس کے سبب سے قرآن شریف میں اکثر آیتیں ان پر لعنت کی اتری ہیں بلکہ ہمیشہ سے ان کا یہی حال ہے کہ سابق کے انبیاء کے زمانہ میں سابق کی آسمانی کتابوں میں بھی ان کی نافرمانی کے سبب سے ان پر لعنت اتر چکی ہے مسند امام احمد ترمذی، ابوداؤد ابن ماجہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل میں جب طرح طرح کے گناہ پھیلے تو ان کے علماء نے پہلے تو کچھ منع کیا پھر عالم لوگ بھی جاہلوں سے مل جل گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی زبور اور انجیل میں ان سب پر لعنت اتاری 1 ؎ تفسیر ابن جریر میں علی بن ابی طلحہ کی سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے بھی اسی طرح روایت ہے 2 ؎۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ یہ سند عبد اللہ بن عباس ؓ کی صحیح ہوا کرتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ کی حذیفہ ؓ کی روایت میں یہ فرمایا ہے کہ اس امت کے عالم لوگ بھی جب اچھی بات کی نصحیت اور بری بات کی ممانعت چھوڑ دیوں گے اور پھر دعا کریں گے تو کسی کی دعا قبول نہ ہوگی۔ ترمذی نے اس حدیث کی سند کو معتبر کہا ہے 3 ؎۔ ابن ماجہ میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت سے کسی نے پوچھا کہ حضرت لوگوں میں وعظ و نصیحت کا رواج کب اٹھ جائے گا آپ نے فرمایا پہلی امتوں کی طرح جب تم میں چھوٹی عمر کے لوگ صاحب حکومت اور بڑی عمر کے لوگ بدکار اور عالم لوگ خدا کے نافرماں بردار ہونگے تو آپس میں وعظ و نصیحت کا رواج اٹھ جائے گا 4 ؎۔ انس بن مالک ؓ کی یہ حدیث اگرچہ فقط ابن ماجہ میں ہے لیکن ابن ماجہ کی سند میں کوئی راوی ضعیف نہیں ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت گزرچکی ہے کہ خلافت شریعت بات کی اصلاح ہاتھ سے زبان سے دل میں اس خلافت شریعت بات کو بڑا جاننے سے جس طرح ممکن ہو کی جاوے۔ غرض اس بات میں بہت سے حدیثیں ہیں جس کے سبب سے ایک کو دوسرے سے تقویت حاصل ہوجاتی ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ یہود حد سے بڑھ کر طرح طرح کے گناہ کرتے تھے اور ان گناہوں پر آپس میں ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے بلکہ سب ایک دل ہوگئے تھے یہ اعمال تو ان کے برے تھے علاوہ اس کے یہ بھی تھا کہ اہل کتاب ہو کر اہل اسلام کی مخالفت میں مکہ کے مشرک لوگوں سے انہوں نے دوستی پیدا کی تھی جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ کے غصہ اور عذاب کے یہ لوگ مستحق ٹھیر گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور اور لائق پھٹکار قرار دیا۔ یہی معنی اللہ کی لعنت کے ہیں۔ پھر یہ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کے دل میں بھی کتاب آسمانی کا ایسا ہی یقین ہوتا جس طرح سے یہ لوگ کتاب آسمانی کی پابندی زبان سے ظاہر کرتے ہیں تو یہ بت پرستوں سے دوستی پیدا کر کے بت پرستی کی تعریف نہ کرتے۔ حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف یہودیوں کے سرداوں کا مکہ جا کر بت پرستوں سے میل جول پیدا کرنا اور ان کے بت پرستی کے طریقہ کو مسلمانوں کے طریقہ سے اچھا بتانا یہ قصہ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ آخر کو فرمایا کہ ان میں کے اکثر لوگ نافرمان ہوگئے ہیں اس لئے ان کو ایسی باتوں کی کچھ پرواہ نہیں رہی۔ ترمذی، نسائی وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہ کرتے کرتے آدمی کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے جس کے سبب سے کوئی نیک بات اس کے دل پر اثر نہیں کرتی 1 ؎۔ قتل انبیاء اور اس کے سوا اور بڑے بڑے گناہ کرتے کرتے یہود کے دلوں کا یہی حال ہوگیا تھا کہ اسی واسطے گناہوں کی جرأت اور نیک کاموں کی طرف سے بےپروائی ان میں بڑھ گئی تھی اس امت میں بھی کسی شخص میں اگر یہ عادت پیدا ہوجاوے تو اس کو چاہیے کہ خالص دل سے توبہ و استغفار کرکے اپنے دل کو اس زنگ سے پاک و صاف کرے۔ مسند امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے معتبر سند کی ابو امامہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کا دل نیک کام کر کے خوش ہوا اور برا کام کر کے غمگین ہوا تو وہ شخص ایسا ہے کہ اس کے دل میں نور ایمانی کی جھلک ہے 2 ؎۔ دل کی حالت آزمانے کے لئے لئے یہ حدیث بڑی کسوٹی ہے۔
Ayah 5:82سورة بقرہ کی آیت { وَلَتَجِدَنَّہُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ } (2: 96) کی تفسیر میں گزرچکا ہے کہ جس طرح مشرک لوگوں کا دارو مدار فقط دنیا کی زندگی پر ہے۔ عقبیٰ کے یہ لوگ بالکل منکر ہیں اسی طرح یہود ہیں کہ انبیاء کے قتل اور علاوہ اس کے اور بڑے بڑے گناہوں کے کرنے سے مشرکوں کی طرح یہ بھی سخت دل ہو کر عقبیٰ کو بالکل بھول گئے ہیں اور فقط دنیا کی زیست پر ہی ان کا بھی دارو مدار ہے۔ اسلام میں اس عادت کے لوگوں کی بڑی مذمت آئی ہے۔ اس لئے ایک دل ہو کر یہ دونوں فریق اسلام کے سخت دشمن ہیں بخلاف نصاریٰ کے ان میں بعض عبادت پسند اور تارک الدنیا ہیں یہود جیسی دنیا پرستی ان کے جی میں نہیں ہے اسلئے اسلام کی دنیا پرستی کی مذمت کو انہوں نے عداوت کا سبب ٹھیرایا ہے۔ اسی واسطے ہرقل اور مقوقش نے آنحضرت ﷺ کے خطوں کی عزت کی۔ اور کسریٰ نے آپ کا خط پھاڑ ڈالا حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہود اور مشرکوں کی عادت ملتی جلتی ہے اس لئے یہود اسلام کی عداوت میں مشرکوں کے قدم بقدم ہیں نصاریٰ ایسے نہیں ہیں چناچہ ان کا ذکر آتا ہے۔ اگرچہ نسائی اور ابن ابی حاتم اور طبرانی نے شان نزول اس آیت کی یہ بیان کی ہے کہ مدینہ منورہ کی ہجرت سے پہلے عورتوں بچوں کے علاوہ اسی آدمی کے قریب حبشہ کو ہجرت کر گئے تھے اور قریش نے نجاشی بادشاہ حبشہ سے ان لوگوں کے مکہ میں واپس کردینے کی خواہش حبشہ جا کر کی تھی اور نجاشی نے ان لوگوں کا اصل حال دریافت کرنے کی غرض سے ان لوگوں کو اپنے روبرو بلایا تھا اور آنحضرت کے ذکر کے ذیل میں نجاشی نے حضرت جعفر ؓ سے کہا تھا کہ تمہارے نبی پر جو کلام اترتا ہے اس میں سے کچھ مجھ کو سناؤ اور حضرت جعفر ؓ نے سورة مریم پڑھی تھی جس کو سن کر نجاشی اور پادری لوگ روئے تھے اس پر یہ آیتیں اور آگے کی آیتیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں 1 ؎ اور شاہ صاحب نے بھی اسی شان نزول کو موضح القرآن میں اختیار کیا ہے لیکن حافظ ابن کثیر (رح) نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ نجاشی کا قصہ اس وقت کا ہے کہ آنحضرت اس وقت مدینہ میں تشریف رکھتے تھے اور وہیں قرآن شریف نازل ہوتا تھا اس صورت میں ان مدنی آیات کا نزول اس وقت کیونکر تسلیم کیا جاسکتا ہے اس لئے شان نزول ان آیات کی وہی ہے جس کو ابن ابی حاتم نے دوسری روایت میں بیان کیا ہے کہ نجاشی نے تیس پادری آنحضرت کے پاس مدینہ میں بھیجے تھے۔ آنحضرت نے ان کو سورة یس پڑھ کر سنائی اور وہ سن کر روئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں 2 ؎ حافظ ابن کثیر کے اس اعتراض کا جواب یوں ہوسکتا ہے کہ اگرچہ نجاشی کے سورة مریم سن کر رونے کا قصہ ہجرت مدینہ سے پہلے کا ہے لیکن ہجرت کے بعد نجاشی کے بھیجے ہوئے وہ پادری جب مدینے میں آئے جو نجاشی کے مصاحب تھے اور سورة مریم کے سن لینے کے وقت وہ نجاشی کے پاس تھے اور نجاشی کے ساتھ وہ بھی روئے تھے اب جو سورة یس سن کر پھر روئے تو اللہ تعالیٰ نے دونوں قصوں کو شان نزول قرار دے کر یہ آیات نازل فرمائی ہیں حاصل یہ ہے کہ اگرچہ یہ آیتیں نصاریٰ کے ایک گروہ کی شان میں نازل ہوئی ہیں لیکن ان آیتوں کے لفظ عام ہیں اس لئے اب بھی نصاریٰ میں جو لوگ اس خاص گروہ کی عادت کے ہیں وہ ان آیتوں کے حکم میں داخل نہیں ہیں۔ سورة بقر کی آیت لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآ ئَ عَلَی الناَّسِ (2: 96) کی تفسیر میں گزرچکا ہے کہ سوائے محمد ﷺ کی امت کے اور نبیوں کی امتیں قیامت کے دن اپنے نبیوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھٹلاویں گے اور یہ کہیں گے کہ یا اللہ ہم کو کسی نبی نے تیرا حکم نہیں پہنچایا اور انبیاء اپنی رسالت کا ادا کردینا ظاہر کریں گے۔ قرآن شریف میں پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا حال ہے اس لئے امت محمدیہ کے لوگ ان انبیاء کی تائید میں کہویں گے کہ یا اللہ قرآن شریف میں پہلے نبیوں کی رسالت کے ادا ہوجانے کا ذکر ہے اس واسطے ہم تیرے کلام کے سچے ہونے کی شہادت ادا کرتے ہیں۔
Ayahs 5:83–86(83 ۔ 86) ۔ یہ آیتیں بھی ولتجدن اقربہم کی شان نزول میں داخل ہیں فاکتبنا مع الشاھدین کا یہی مطلب ہے کہ نصاریٰ کے اس گروہ نے جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی شہات میں شریک ہونے کی دعا اللہ تعالیٰ کی جناب میں کی ہے جس شہادت کا ذکر سورة بقرہ میں ہے حضرت عبد اللہ عباس ؓ کا قول ہے کہ جب یہ پادری لوگ مدینہ سے حبشہ کو واپس گئے تو قوم کے بعض لوگوں نے ان پر یہ اعتراض کیا کہ تم نے اسلام کی صداقت کیوں کی ان پادریوں نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا کہ حق بات کے معلوم ہوجانے کے بعد ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اس کو نہ مانیں اور اس حق بات کے مان لینے سے ہم کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ ہم کو نیک لوگوں میں داخل کرے گا۔ حق بات سے مطلب وہی نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کی پیشین گوئی ہے جس کا ذکر تورات اور انجیل کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ہے ان پادریوں کی تورات اور انجیل اور قرآن کی صداقت سچے دل سے تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا کہ ان لوگوں کی نیکی کا اور ان کی طرح اور جو کوئی نیکی کرے اس سب کا انجام یہ ہے کہ ایسے لوگ دنیا سے اٹھ جانے کے بعد ہمیشہ جنت میں راحت اور آرام سے رہویں گے اور جو لوگ اس صداقت سے بےبہرہ ہیں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے جحیم کے معنی دھکتی آگ کے ہیں بیہقی وغیرہ کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث اوپر گزرچکی ہے جس میں دوزخ کی آگ کے تین ہزرار برس تک دھکائے جانے کا ذکر ہے 1 ؎۔ اس واسطے دوزخ کی آگ کو دہکتی آگ فرمایا۔ صحیح بخاری و مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی گذرچ کی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ دوزخ کی آگ کی تیزی دنیا کی آگ کی تیزی سے اونتہر 69 حصے زیادہ ہے 2 ؎۔ غرض اس بات میں ایک حدیث کو دوسری حدیث سے تقویت حاصل ہو کر یہ سب حدیثیں جحیم کی گویا تفسیر ہیں۔
Ayahs 5:87–88(87 ۔ 88) ۔ ترمذی ابن ابی حاتم جریر ابن عساکر وغیرہ نے اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک صحابی نے آنحضرت سے بیان کیا کہ گوشت کے کھانے سے مجھ کو عورتوں کی صحبت کی خواہش زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس سبب سے میں نے گوشت نہ کھانے کی قسم کھالی ہے۔ بعض صحابہ نے اچھی چیز کا کھانا اچھے کپڑے کا پہننا۔ مباشرت کا کرنا ترک کردیا تھا۔ اور ایک صحابی تھے جن کے گھر میں ایک مہمان آئے ہوئے تھے ان صحابی کو آنحضرت کے پاس سے گھر جانے میں دیر ہوگئے۔ ان کی بی بی نے ان کے انتظار میں مہمان کو کھانا نہیں دیا۔ جب یہ گھر گئے ان کو مہمان کے بھوکا رکھنے سے اپنی بی بی پر غصہ آگیا۔ اس لئے انہوں نے اس روز کھانا کھانے کی قسم کھالی ان کی قسم کے سبب سے بی بی اور مہمان نے بھی قسم کھالی غرض اس طرح کے چند قصوں کے جمع ہوجانے سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ اللہ کی راہ حلال کی ہوئی چیزوں کو غصہ میں آن کر یا غیر کا حق تلف کر کے اپنے اوپر حرام نہیں کرنا چاہیے ہاں کسی چیز کے حلال ہونے کے اعتقاد رکھ کر سہولت عبادت یا کسی اور غرض سے چند روز کسی چیز کو چھوڑ دیا جاوے تو وہ اور بات ہے۔ اسی طرح کے قصے صحابہ کے سن کر آپ نے فرمایا ہے کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتے ہیں۔ میں تو نبی ہو کر روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور مباشرت بھی کرتا ہوں۔ اور جو کوئی میری سنت کے خلاف کرے گا۔ میں اس سے بیزار ہوں۔ یہ حدیث صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے ہے 2 ؎ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرع میں حلال حرام چیزوں کی جو حد ٹھیرادی ہے ہر ایماندار شخص کو اس حد کی پابندی ضروری ہے۔ کیونکہ اس حد سے باہر قدم رکھنے میں احکام الٰہی کی ایک طرح کی نافرمانی اور شیطان کے بہکاوے کی ایک طرح کی پاسداری ہے۔ جس سے ہر ایماندار کو بچنا اور پرہیز کرنا چاہیے۔ صحیح مسلم کی عیاض بن حمار کی حدیث سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جو چیزیں میں نے اپنے بندوں پر حلال کی تھیں شیطان کے بہکانے سے وہ انہوں نے اپنے اوپر حرام کرلی ہیں 3 ؎۔ یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے طور پر شرعی حلال کو حرام یا حرام کو حلال ٹھہرانا شیطانی بہکاوے کے اثر سے ہوتا ہے۔ اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔
Ayah 5:89امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اس آیت کے شان نزول تفسیر ابن جریر اور خازن وغیرہ میں جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ترک دنیا کے طور پر جب بعض صحابہ نے قسم کھا کر بعض چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں اور اوپر کی آیت یا ایھا الذین امنوا لاتحرموا طیبات ما احل اللہ لکم میں اس کی ممانعت نازل فرمائی تو ان صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت ہم لوگوں نے حلال چیزوں سے باز رہنے کی جو قسم کھائی تھی اس قسم کا اب کیا حکم ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ سورة بقرہ میں گذر چکا ہے کہ تکیہ کلام کے طور پر واللہ باللہ یا ایسے اور لفظ آدمی کے منہ سے جو نکل جاتے ہیں ایک بات کو کوئی شخص سچ گمان کر کے اس پر قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ بات اس طرح سے نہ ہو یہ صورتیں قسم میں داخل نہیں ہیں نہ ان کا کچھ کفارہ ہے۔ انہی صورتوں کو یمین لغو کہتے ہیں۔ کفارہ کے قابل وہی قسم ہے جو دلی ارادہ سے ہو۔ اس دلی ارادہ کی قسم پر قائم نہ رہنے کی حالت میں اس کے کفارہ کی یہی چار صورتیں ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے کہ یا دس مسکینوں کو کھانا کھلا دیا جاوے یا کپڑا پہنا دیا جاوے یا ایک بردہ آزاد کردیا جاوے۔ ان تینوں باتوں میں سے کسی بات کا بھی مقدور نہ ہو تو تین روزے رکھے جاویں ان روزوں کے پے درپے ہونے اور یا نہ ہونے میں کھانے کی جگہ کچا اناج دیا جاوے تو اسی مقدار میں کپڑوں کی گنتی میں۔ بردہ کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے میں سلف کا اختلاف ہے جس کی تفصیل بڑی کتابوں میں ہے 2 ؎۔ بیچ کی راس کے کھانے کا مطلب یہ ہے کہ نہ بہت اعلیٰ درجہ کا نہ بالکل ادنیٰ درجہ کا بلکہ متوسط درجہ کا ہو۔ قسموں کے تھامنے کا یہ مطلب ہے کہ بلا ضرورت قسم کے کھانے میں جلدی نہ کی جاوے۔ احکام الٰہی کے احسان ماننے اور شکر گزاری کرنے کا یہ مطلب ہے کہ ان احکام کے موافق عمل کیا جاوے سورة بقرہ میں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو میری ہر ایک قسم ایسی ہوگی کہ قسم کھانے کے بعد کو بات اگر اس سے بہتر میں دیکھ پاؤں گا جس پر میں نے قسم کھائی ہے تو فورا قسم کا کفارہ دے کر میں اس بہتر کام کو کرلوں گا 1 ؎۔ قسم کی حالت پر قائم رہنے یا نہ رہنے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جو اللہ کے رسول نے اپنی امت کو سکھائی ہے۔
Ayahs 5:90–92(90 ۔ 92) ۔ معتبر سند سے طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ شراب کے نشہ میں بعض صحابہ کی آپس میں تکرار ہو کر مار پیٹ کی نوبت آجاتی جس کے سبب سے ان لوگوں کے آپس کے سلوک میں روزبروز خلل پڑتا جاتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 2 ؎۔ شراب کی چار حالتیں جو اسلام میں رہی ہیں ان کا ذکر تو سورة بقرہ کی آیہّ { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخُمْرِ وَالْمَیْسِرِ } (2: 219) کی تفسیر میں گذرچکا ہے 3 ؎ ان چاروں حالتوں میں ایک حالت سورة النساء کی آیت { یَٓاٰ ایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ لاَ تَقْرَبُوْا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی } (4: 43) کے نازل ہونے کے بعد کی تھی جس میں نماز کا وقت ٹال کر لوگ شراب پیا کرتے تھے اس حالت کے زمنہ میں یہ آپس کی تکرار اور مارپیٹ ہوا کرتی تھی اس پر یہ شراب کے ہر وقت کے قطعی حرام ہونے کا حکم نازل ہوا۔ شراب پینے سے آپس کی دشمنی اس سبب سے پیدا ہوجاتی ہے کہ شراب پی کر آدمی کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہتے ہر ایک سے لڑنے جھگڑنے لگتا ہے۔ جو اس سبب سے باعث عداوت ہے کہ جو شخص جوے میں اپنا مال ہار جاتا ہے وہ بھی بد حواس ہو کر ہر ایک سے لڑنے لگتا ہے۔ شراب میں ایک یہ بھی خرابی ہے کہ اس کا نشہ آدمی کو ذکر الٰہی اور نماز سے روک دیتا ہے۔ اس سورة میں یہ اوپر گزرچکا ہے کہ انصاب بتوں کے تھان تھے اور اذلام جوا کھیلنے کے پانسے ان بتوں کے تھانوں پر بتوں کے نام کے جانور ایام جاہلیت میں ذبح کئے جاتے تھے شراب خواری اور قماربازی بھی یہیں ہوتی تھی جوئے کے پانسے بھی یہیں رکھے جاتے رہتے تھے اس لئے ان سب کا ذکر ایک ساتھ ایک جگہ فرمایا۔ ہر طرح کے برے کام کو رجس کہتے ہیں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ شیطان خود تو اپنا تخت سمندر کے پانی پر بچھا کر اس تخت پر بیٹھ جاتا ہے اور شیاطین کو لوگوں کے بہکانے کے لئے ہر روز بھیج دیتا ہے 4 ؎۔ ان آیتوں میں برے کاموں کو آپس میں دشمنی کے ڈالنے کو۔ ذکر الٰہی اور نماز سے روکنے کو شیطان کے ارادے کا اثر جو فرمایا ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ شیاطین شراب کے نشہ اور جوئے کی دھن میں لوگوں کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیتے ہیں کہ لوگوں کو ان برے کاموں کی برائی نہیں سوجھتی اس واسطے ان کاموں سے باز رہنے کی ہدایت فرما کر ہر ایمان دار کی عقبیٰ کی بہبودی کو اس ہدایت کے موافق عمل کرنے پر منحصر رکھا ہے اور اس کو اللہ اور رسول کی فرمانبرداری ٹھیرایا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ کے رسول کا کام یہی ہے کہ وہ تم لوگوں کو اللہ کا حکم پہنچا دیویں اب جو کوئی اس کو نہ مانے گا وہ عقبیٰ میں اس نافرمانی کا خمیازہ بھگتے گا۔ صحیح مسلم میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سوائے نماز کے اوقات کے اور وقتوں میں جب شراب کا پینا جائز رکھا گیا تھا تو شراب کے نشہ میں طرح طرح کے جھگڑے قصے جو ہوا کرتے تھے اس کا حال سن کر آنحضرت ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص کے پاس کچھ شراب ہو اس کو وہ یا تو بیچ ڈالے یا اور کسی کام میں لے آوے ورنہ شراب کے باب میں کوئی قطعی حکم نازل ہونے والا ہے۔ اس کے تھوڑے دنوں کے بعد یہ آیت { اِنَّمَا الْخَمْرُ } نازل ہوئی اس کے نازل ہونے کے بعد آپ نے فرمایا اس حکم سے اللہ تعالیٰ نے شراب حرام فرما دی اب جس مسلمان شخص کے پاس کچھ شراب ہو تو وہ اس کو نہ بیچ سکتا ہے نہ پی سکتا ہے۔ آپ کے اس حکم کے بعد لوگوں نے جو شراب تھی اس کو مدینہ کی گلیوں میں بہا دیا اور اس کے پینے کو سب نے حرام قرار دیا 1 ؎۔ اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں۔ آیت اور ان حدیثوں کو ملانے سے یہ مطلب ٹھیرتا ہے کہ اس آیت میں شراب سے بچنے کا جو ارشاد ہے وہ شراب کے حرام ہونے کا ایک قطعی حکم ہے جس کے بعد اسلام میں شراب پھینک دینے کے قابل ایک چیز قرار پا گئی۔ یہ جو ایک اختلاف مشہور ہے کہ آیت میں خمرہ کا لفظ ہے اور انگور کے سوا کسی دوسری چیز سے جو شراب بنائی جاتی ہے اس کو خمر نہیں کہتے اس صورت میں آیت کا حکم انگور کی شراب پر منحصر ہونا چاہیے یہ اختلاف خمر کے لغوی معنی کی بنا پر ہے ورنہ شرع میں یہ صراحت موجود ہے کہ کھجور، گیہوں جو وغیرہ سے جو شراب بنائی جائے اس کو بھی خمر کہتے ہیں چناچہ مسند امام احمد ترمذی، ابوداؤد وغیرہ میں نعمان بن بشیر ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے لفظ خمر کے یہی معنی فرمائے ہیں 2 ؎ پھر جس طرح الفاظ صوم صلوٰۃ حج زکوٰۃ میں شرعی معنی کا اعتبار ہے اسی طرح لفظ خمر کے بھی شرعی معیر احکام شرع میں معتبر ہوں گے۔ نعمان بن بشیر ؓ کی حدیث کی سند میں ایک راویت ابراہیم بن المہاجر ہے جس کو بعض علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن امام احمد نے ابراہیم بن المہاجر کو ناقابل اعتراض ٹھیرایا ہے 1 ؎۔ اس صورت میں یہ حدیث معتبر اور آیت کے لفظ خمر کی تفسیر قرار پا سکتی ہے۔ صحیح مسلم، ترمذی ابوداؤد وغیرہ میں انس بن مالک کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے شراب سے سرکہ بنانے کو منع فرمایا ہے 2 ؎۔ اکثر علماء امت کا یہ مذہب بھی اس حدیث کے موافق ہے لیکن بعض علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے جس کی تفصیل بڑی کتابوں میں ہے
Ayah 5:93نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں اس آیت کا شان نزول جو بیان کی گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ چند صحابہ احد کی لڑائی کے وقت شراب کے نشہ کی حالت میں شہید ہوچکے تھے اس لئے شراب کے حرام ہوجانے کے وقت صحابہ کو ان شہیدوں کے حال پر بڑا افسوس ہوا کہ بڑی چیز ان کے پیٹ میں تھی جس وقت وہ شہید ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ اس وقت جتنے کاموں کا اللہ کا حکم تھا جب انہوں نے وہ کام کئے تو جس چیز کے حرام ہونے کے وقت وہ موجود ہی نہیں تو اس چیز کے حرام ہونے کے پہلے کے استعمال سے ان پر کچھ گناہ نہیں۔