Ayah 4:11۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو متعدد روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آگے جو اس سورت کی آیتیں آتی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے احکام کے ذکر فرمائے ہیں مثلاً قرابت دار ولی جن کی پرورش میں یتیم بچے ہوں۔ یتیموں کے مال کی بابت ان کو حکم فرمایا ہے یا کوئی شخص اگر مرجائے تو اس کا مال قرابت دار وارثوں میں کیونکر تقسیم ہونا چاہیے اس کا حکم فرمایا ہے پھر جب تک آدمی قرابت داروں کا پاس اور لحاظ پورا پورا نہ رکھے گا تو ان حکموں کی پابندی پوری پوری آدمی سے نہیں ہوسکتی۔ اس واسطے ان حکموں کے ذکر فرمانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قرابت دار کو اپنے نام پاک کے ساتھ اس آیت میں ذکر فرما کر قرابت داری کی پاس داری کا دھیان لوگوں کو دلادیا ہے اور فرمایا کہ جس طرح لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے اسی طرح قرابت داری کی فروگذاشت سے ڈرنا چاہیے۔ کس لئے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے آدمی دوزخی ہوجاتا ہے۔ صحیحین میں جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص قرابت کے حق کو ادا نہ کرے گا وہ ہرگز جنت میں نہیں جائے گا 1۔ اسی طرح صحیح بخاری 2 اور صحیح مسلم 3 میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ رحم عرش معلّٰی میں لٹکا ہوا ہے۔ اور یہ کہتا ہے کہ یا اللہ جو شخص صلہ رحمی کرے اس پر رحم فرما اور جو قطع رحمی کرے اس کو کاٹ ڈال۔ اس باب میں اور بھی صحیح حدیثیں ہیں غرض آگے جو احکام آئے ہیں ان کی تعمیل کی تاکید میں یہ آیت اللہ تعالیٰ نے بطور پیش بندی کے نازل فرمائی اور فرمایا ہے کہ اصلی پیدائش انسان کی ایک ماں باپ سے ہے اس سے یہ مطلب ہے کہ آپس کے سلوک میں اول تو اصل پیدائش کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے یہ خیال کرنا چاہیے کہ جب اس اصل پیدائش کے ساتھ اور قرابت قریبہ مل جائے۔ تو ْآپس کے سلوک کی تاکید اور بڑھ جاتی ہے۔ رقیب کہتے ہیں اس کو جو ہر طرح کی خبر رکھے۔
Ayah 4:2تفسیر خازن وغیرہ میں جو سعید بن جبیر کی معتبر سند سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ غطفان قبیلہ میں ایک شخص کے پاس اس کا یتیم بھتیجا پرورش پاتا تھا۔ جب وہ لڑکا ہوشیار ہوا تو اس نے اپنے باپ کا مال چچا سے مانگا چچا نے مال دینے سے انکار کردیا۔ یہ جھگڑا آنحضرت کے پاس آیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ تو اس آیت کا حکم سن کر چچا نے اپنے بھتیجے کو مال دے دیا اور اس لڑکے نے وہ سب مال خیرات کردیا آں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ بیٹے کو خیرات کا اجر ملا اور باپ پر مال کے جمع کرنے کا وبال باقی رہا۔ اور اکثر رشتہ دارلوگ یتیموں کا اچھا مال رکھ کر اس کے عوض میں اپنا ناکارہ مال یتیموں کو دے دیتے تھے یا کھا جاتے تھے۔ ان دونوں باتوں سے بھی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں منع فرمایا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یتیم کا مال کھا جانا۔ شرک کرنا جادو کرنا۔ کسی کو ناحق قتل کرنا۔ جہاد سے بھاگنا۔ پارسا عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنا۔ سود کھانا۔ یہ سات بڑے گناہ ہیں۔ جن سے آدمی ہلاک ہوجاتا ہے 2۔ ان سے بچو۔ حوب کے معنی گناہ کے ہیں۔
Ayah 4:3صحیح بخاری 3 میں روایت ہے کہ عروہ بن زبیر ؓ نے عائشہ صدیقہ ؓ سے اس آیت کی شان نزول پوچھی تھی حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اے میرے بھانجے بعض یتیم لڑکیاں لوگوں کی پرورش میں ہوتی ہیں وہ لوگ ان لڑکیوں کو مالدار اور قبول صورت دیکھ کر ان کے مال اور جمال پر گرویدہ ہوجاتے تھے اور پہلے تو ان لڑکیوں سے نکاح کرلیتے تھے پھر ان کو گھر کی لڑکیاں سمجھ کر پرائے گھر کی لڑکیوں جیسے ان کے حق ادا نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس سے منع فرمایا اور فرمایا کہ ایسی صورت میں ایک سے لے کر چار تک تم پرائے گھر کی لڑکیاں کیا کرو تاکہ ان کے حق ادا کرنے پر تم کو پرائے گھر کی شرم و امن گیر ہو۔ چار سے زیادہ عورتوں کے نکاح میں رکھنے کی حرمت پر حدیثیں وارد ہیں اس لئے شیعہ یا جو اور لوگ چار سے زیادہ عورتیں منکوحہ رکھنے کے قائل ہیں ان کا قول ان حدیثوں کے مخالف ہے۔ چناچہ ترمذی میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ؓ ثقفی جب مسلمان ہوئے تو ان کی دس بیبیاں تھیں وہ سب ان کے ساتھ مسلمان ہوگئیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے غیلان سے فرمایا چار عورتوں کو ان میں سے تم رکھ لو۔ باقی کو چھوڑ دو 1 اور ابو داؤد میں حارث بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی آٹھ بیبیاں تھیں۔ ان کو بھی آنحضرت ﷺ نے وہی حکم فرمایا ہے جو حکم غیلان ؓ کو دیا تھا 2 غیلان بن سلمہ ؓ اور حارث بن قیس ؓ کی روایتیں حسن اور قابل حجت ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ جس طرح آپ نے لوگوں کے پاس ایک ساتھ دو بہنوں کو پاکر ایک کو ان میں سے چھوڑوادیا ہے جس کی روایت معتبر سند سے مسند امام احمد اور ترمذی 3 اور ابن ماجہ میں ہے اسی طرح آپ نے چار سے زیادہ عورتوں کو چھوڑوادیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حرمت میں یہ دونوں امر برابر ہیں آخر آیت میں فرمایا ہے کہ زیادہ بیبیاں کرنے میں تم کو یہ ڈر ہو کہ تم نان و نفقہ وغیرہ میں ان کے ساتھ انصاف سے نہ پیش آسکو گے تو نہ چار کرو نہ تین نہ دو ۔ بلکہ ایک ہی بی بی یا لونڈی پر قناعت کرو تاکہ تم پر بار کم ہو اور جس بےانصافی کا خطرہ ہے وہ پیش نہ آئے۔
Ayah 4:4صحیحین وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نکاح کے باب میں اسلام سے پہلے طرح طرح کے رواج تھے یہ آیت نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے اسلام میں جن کو بند فرمادیا ایک رواج تو یہ تھا کہ جب کوئی یتیم لڑکی ایسی مالدار یا خوبصورت نہ ہوتی کہ پرورش کرنے والا قرابت دار خود اس سے نکاح کرنے پر مائل ہو تو ایسی حالت میں وہ ولی پرورش کرنے والا۔ اس لڑکا کا نکاح دوسری جگہ کردیتا تھا۔ مگر یہ نکاح اس طرح بےدلی سے کیا جاتا تھا۔ کہ ماں باپ والی لڑکی کی طرح اس کا مہر نہیں باندھا جاتا تھا جو قدر قلیل مہر ٹھہر جاتا تھا۔ وہی کافی خیال کیا جاتا تھا۔ اور کبھی کبھی اس طرح کی لڑکی کو بلا مہر کے ایک اونٹ پر بٹھا کر خاوند کے گھر بھیج دیا جا تھا۔ کبھی کسی خاندان میں اپنی لڑکی بلا مہر بیاہی جا کر نکاح کے وقت یہ شرط ٹھہر جاتی تھی کہ اس خاندان کی ایک لڑکی ہم بھی بلا مہر لیویں گے۔ اسی کو نکاح شغار کہتے ہیں اور نکاح کے بعد عورت اگر اپنا سارا مہر یا اس کا کوئی حصہ معاف کر دیوے تو اس کو بھی جائز نہیں خیال کیا جاتا تھا۔ اور پرورش کرنے والے مہر لے کر خود رکھ لیتے تھے۔ لڑکی کو اس سے میں سے کچھ نہیں دیتے تھے۔
Ayah 4:5یہاں عبد اللہ بن عباس ؓ و سعید بن جبیر میں اختلاف ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس آیت کی شان نزول یہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کی بی بی بد سلیقہ ہو یا اولاد بد خرچ اور بیوقوف ہو تو ایسی بی بی بچوں کے ہاتھ میں خرچ نہ دینے کے لئے یہ آیت اتری ہے، اور سعید بن جبیر کہتے ہیں نہیں جو یتیم بیوقوف ہوں ان کا مال ان کے ہاتھ میں نہ سونپ دینے کے لئے یہ یہ آیت اتری ہے۔ لیکن اصل میں اس آیت کا حکم عام ہے ہر طرح کے بیوقوف کو شامل ہے اور حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ بد سلیقہ خواہ بی بی بچے ہوں یا یتیم ماں ان کے حوالہ نہ کیا جائے ہاں ان کو اس مال میں سے کھلاناپہنانا چاہیے اور ان سے اس طرح کی فہمائش کی باتیں کہہ دینی چاہئیں جس سے ان کا دل خوش ہو مال کو گذران اس لئے فرمایا کہ اس سے ہر طرح کا کام چلتا ہے۔
Ayah 4:6تفسیر خازن وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص رفاعہ کا آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں انتقال ہوا رفاعہ کے بھائی نے آنحضرت ﷺ سے آن کر مسئلہ پوچھا کہ رفاعہ کا بیٹا ثابت میری پرورش میں ہے اس کا مال جو اس کا باپ چھوڑ مرا ہے کب اس کے حوالہ کیا جائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ یتیم لڑکا لڑکی جب بالغ ہوجائیں اور ان کی عقل بھی ترکہ کا مال سنبھالنے کے قابل نظر آئے اس وقت ان کا مال ان کے حوالہ کردیا جائے اور غنی پرورش کرنے والا قرابت دار یتیم کے مال میں سے کچھ خرچ نہ کرے البتہ محتاج پرورش کرنے والا قرابت دار ضرور اپنا ذاتی خرچ یتیم کے مال میں سے چلا لیا کرے اور یتیم کو جب مال حوالہ کیا جائے تو دو گواہوں کے رو ربرو حوالہ کیا جایا کرے تاکہ آئندہ کو جھگڑا نہ پڑے بعض علماء نے لڑکا لڑکی کی عقل اور ہوشیاری آزمانے کی یہ صورت بیان کی ہے کہ پہلے ان کو تھوڑا سا مال دے کر ان کا کام کاج دیکھا جائے اور اس سے ان کی ہوشیاری کا اندازہ کیا جائے۔ بالغ ہونے کی علامت زیر ناف کے بال اور احتلام ہے۔
Ayah 4:7ابن حبان نے کتاب الفرائض صحیح ابن حبان اور ابو شیخ نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ لڑکوں کے قرابت دار مردے کے مال میں لڑکیوں کو حصہ نہیں دیتے تھے۔ اور لڑکوں کو بھی حد بلوغ تک پہنچے سے پہلے حضہ سے محروم رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ مردے کے مال میں سے حصہ پانے کا وہی حق دار ہے جو لڑائی بھڑائی کے کام کا ہوا اسلام کے بعد ایک شخص اوس بن ثابت ؓ انصاری نے وفات پائی تین لڑکیاں اور ایک بی بی ام کجہ اوس بن ثابت ؓ کے وارث اگرچہ موجود تھے لیکن اوس بن ثابت ؓ کے چچا زاد بھائی سوید اور عرنطہ نے سب مال اوس بن ثابت کا لے لیا اور اوس بن ثابت ؓ کی بی بی اور لڑکیوں کو کچھ نہ دیا۔ اوس بن ثابت ؓ کی بی بی ام کجہ نے آنحضرت ﷺ سے اس ماجرے کا ذکر کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ مگر یہ آیت مجمل تھی اس سے اسی قدر معلوم ہوتا تھا کہ جاہلیت کا دستور اللہ کو ناپسند ہے بی بی اور لڑکیوں کا حصہ خاوند اور باپ کے مال میں ہونا چاہیے لیکن یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ وہ حصہ کس قدر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے بطور تمہید کے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور آگے کی آیت یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ میں ہر ایک کے حصہ کی تفصیل نازل فرمائی۔
Ayah 4:8اس آیت کے منسوخ ہونے اور نہ ہونے میں صحابہ اور تابعین کا بڑا اختلاف ہے یہاں تک کہ امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے بھی اس باب میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت یوصیکم اللہ سے منسوخ ہے اور دوسری روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ منسوخ نہیں ہے۔ اور رفع اس اختلاف کا یہی ہے کہ منسوخ نہ ہونے کی روایت بہ نسبت منسوخ ہونے کی روایت کے زیادہ قوی ہے چناچہ اسی وجہ سے امام بخاری نے صحیح بخاری 2 میں بوجہ ثقاہت راویوں کے منسوخ نہ ہونے کی روایت کو لیا ہے دوسری روایت کو نہیں لیا۔ اور اس صورت میں معنی اس آیت کے آیت یوصیکم اللہ کے ساتھ ملا کر یہ ہوں گے کہ آیت یوصیکم اللہ سے جن قرابت داروں کے حصہ قرار پائے ہیں ان قرابت دروں کے ماسوا اور ایسے قرابت دار ہیں جن کا کچھ حصہ مقرر نہیں ہے ان کا اس آیت میں ذکر ہے کہ تقسیم مال کے وقت ان کو کھانا کھلا یا جائے۔ یا کچھ دے دیا جائے اور زیادہ نہ دینے کا عذر نرم لفظوں میں کردیا جائے اس وجہ سے دونوں آیتوں کا حکم اپنی اپنی جگہ قائم ہے۔ ایک حکم دوسرے حکم سے منسوخ نہیں ہے چناچہ بعض روایتوں میں خود حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے ان معنوں کی صراحت فرمائی ہے 1۔
Ayahs 4:9–10(9 ۔ 10) ۔ علمائے مفسرین نے اس آیت کی شان نزول دو طرح بیان کی ہے بعض کہتے ہیں کہ قریب المرگ بیمار کے پاس اوپر والے لوگ بیمار کو ایسی صلاحیں دیا کرتے تھے کہ حق دار وارثوں کا حق مار کر غیروں کے نام پر تیسرے حصہ سے زیادہ نام نمود کے لئے وصیت کرے ان کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اور اس طرح کے صلاح کاروں کو ڈرایا ہے کہ صلاح نیک دو آج دوسروں کی اولاد کا حق مارا جانے کی صلاح دو گے تو کل تمہاری اولاد کے لئے بھی یہی دن پیش آنے والا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یتیموں کے بڑے بوڑھے یتیموں کو اور یتیموں کے مال کو بےاحتیاطی سے رکھتے تھے ان کے ڈرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ کل کو تمہاری اولاد بھی یتیم ہونے والی ہے دوسروں کی یتیم اولاد کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھو اور اپنی اولاد کو یہ دن یاد کرواؤ رفع اس اختلاف کا یہی ہے کہ آیت عام ہے دونوں حکموں کو شامل ہے چناچہ خود امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے دونوں شان نزول کی روایتیں ہیں۔ صحیح ابن حبان میں ابی برزہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دن فرمایا کہ قیامت کے دن ایک گروہ خلقت کا قبروں سے جب اٹھے گا تو ان کے منہ اور آنکھ ناک کانوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوں گے صحابہ نے پوچھا کہ حضرت وہ کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا یتیموں کا مال کھانے والے 2 اور وصیت میں بےاحتیاطی کرنے کی ممانعت کی یہ حدیث ترمذی 3 اور ابو داؤد کے حوالہ سے اوپر سورة بقر 4 میں گذرچ کی ہے کہ بعض لوگ ساری عمر نیک عمل کرکے آخر وقت وصیت میں بےاحتیاطی کرتے ہیں جس سے ان کے سارے نیک عمل ضائع ہوجاتے ہیں بعض مفسروں نے یہ جو وہم کیا ہے کہ آیت وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانَکُمْ (220/2) سے آیت اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتَامٰی ظُلْمَا۔ منسوخ ہے یہ وہم بالکل غلط ہے یتیم کا مال کھانا کسی طرح جائز نہیں ہے اور نہ آیت وان تخالطو ھم کا مطلب یہ ہے کہ یتیم کا مال کھانا جائز ہے بلکہ اس آیت کا مطلب تو اسی قدر ہے کہ یتیم کے خرچ سے یتیم کے کھانے کے موافق آٹا دال وغیر جنس میں ملا کر پکا کستے ہو غرض یتیم کے مال کی بابت جب اللہ تعالیٰ نے سخت اور تشددی احکام نازل فرمائے تو لوگ بہت ڈر گئے تھے۔ اور جن لوگوں کی پرورش میں یتیم تھے انہوں نے یہاں تک احتیاط کی کہ کھانا بھی الگ پکوانے لگے اس میں ایک طرح کا حرج تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیت وان تخالطوھم سے صرف اس حرج کو رفع فرما دیا ہے کسی حکم کی منسوخی اس آیت سے منسوخ نہیں فرمائی ہے اوپر حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے 1 جس میں آنحضرت ﷺ نے یتیم کے مال کھا جانے کو بڑا گناہ فرمایا ہے۔ اس سے ابن حبان کی روایت کی تائید ہوتی ہے۔
Ayah 4:11صحاح ستہ اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت جابر ؓ سے ان آیات کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ خود حضرت جابر ؓ بیمار تھے آنحضرت ان کی خیر و عافیت کی خبر کو تشریف لائے اور حضرت ابو بکرصدیق ؓ بھی آنحضرت کے ساتھ تھے اتنے میں حضرت جابر ؓ کو غش آگیا۔ آنحضرت نے ان کا یہ حال دیکھ کر پانی منگواکر وضو کیا اور وضو کا بچا ہوا پانی حضرت جابر ؓ پر چھڑکا۔ جس سے حضرت جابر ؓ کو ہوش آیا۔ اور حضرت جابر ؓ نے اپنے مال کی تقسیم کی بابت آنحضرت سے مسئلہ پوچھا 2۔ اسی طرح سعد بن ربیع ؓ کی بی بی نے بھی آنحضرت سے فریاد کی تھی کہ سعد بن ربیع ؓ کے بھائی نے سب مال سعد ؓ کا لے لیا ہے۔ سعدبن ربیع ؓ کی دنوں بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا۔ اور ام کجہ نے فریاد کی تھی جس کا ذکر اوپر گذر چکا 1۔ اس طرح کی تقسیم کے سوالات پیش آنے سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں 2 اور طرح طرح کے حصوں کو اس آیت اور اس کے مابعد کی آیت اور آخر سورت کی آیت میں بیان فرمایا۔ منجملہ اس کے اس آیت میں دو میراثیں بیان فرمائی اولاد کی اور ماں باپ کی۔ اولاد میں اگر لڑکے لڑکیاں دونوں ہوں تو لڑکوں کو دوسرا حصہ ہے اور لڑکیوں کا اکہرا اور اگر میت کا کوئی لڑکا نہ ہو بلکہ فقط ا کی لڑکی اولاد میں ہو تو آدھا مال لیوے اور کئی لڑکیاں ہوں تو دو تہائی مال برابر بانٹ لیں اگر میت کی اولاد ہے یا ایک سے زیادہ بھائی بہن ہیں تو ماں کا چھٹا حصہ اور دونوں نہیں تو تہائی اسی طرح میت کی اگر اولاد ہے تو باپ کا چھٹا حصہ ہے۔ اور اولاد نہیں ہے تو ماں کو تہائی مال دیا جا کر باپ کو باقی سب مال مل جائے گا۔ میت نے کچھ وصیت کی ہو یا اس کے ذمہ کچھ قرض ہوا تو اجرائے وصیت اور ادائے قرضے کے بعد یہ حصے ہوں گے۔ آخر آیت کا یہ مطلب ہے کہ میت کا نفع ماں۔ باپ اور بیٹے دونوں سے متعلق ہے اس لئے وہ طریقہ جس میں مال بغیر وصیت کے فقط بیٹے کو ملتا تھا۔ اور وصیت ماں باپ کے لئے ہوتی تھی۔ آئندہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے موقوف کردیا۔
Ayah 4:12حاصل مطلب یہ ہے کہ بی بی کے مال میں شوہر کا آدھے مال کا حصہ ہے جب کہ بی بی کے اولاد نہ ہو اور اگر اس شوہر یا شوہر کے کوئی اولاد نہ ہو تو اور اگر اولاد ہو تو بی بی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ اب میاں بی بی کے میراث کے بعد آیت میں بھائی بہن کے میراث کا جو ذکر ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ باپ اور بیٹے کے ساتھ بھائی بہن کو کچھ نہیں ملتا جب باپ اور بیٹا نہ ہوں تو میت کے بھائی بہن کی یہ صورت ہے کہ اگر وہ بھائی بہن سگے ہو یا فقظ باپ میں شریک ہوں تو ان کا حصہ مثل میت کے اولاد کو دوہرا اور اکہرا ہے۔ لیکن ان کے حصہ کا ذکر اس آیت میں نہیں ہے بلکہ اس آیت میں فقظ ان بھائی بہن کے حصہ کا ذکر ہے جو ماں میں شریک ہیں کہ ایک کو ان میں سے چھٹا حصہ ہے اور زیادہ کو تہائی اور اکثر علماء کا قول ہے کہ جس میت کا باپ بیٹا دونوں میں سے کوئی نہ ہو اس کو کلالہ کہتے ہیں۔ شروع رکوع سے یہاں تک حصہ داروں کا بیان ہوا۔ آدھا۔ پاؤ۔ آٹھواں۔ تہائی دو تہائی۔ چھٹا یہ حصے جو ان حصہ داروں کو مل سکتے ہیں اگر ان حصوں میں کچھ خلل تقسیمی بڑھ جائے تو تہائی یا چھٹا حصہ مقرر حصہ بڑھا لیتے ہیں جس کو عول کہتے ہیں زیادہ تفصیل اس کی فرائض کی کتابوں میں ہے۔ اب حصہ داروں کے سوا اور قسم کے وارث ہیں جن عصبہ کہتے ہیں ان کا کچھ حصہ نہیں ہے۔ لیکن اگر حصہ دار نہ ہوں تو عصبہ سب مال لے لیتا ہے اور کبھی عصبہ کو حصہ داروں سے بچا ہوا سب مل جاتا ہے جیسے اوپر گذرا کہ میت کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ ہوں تو ماں کو تہائی مال دیا جا کر باقی سب مال باپ کو مل جاتا ہے۔ اگر حصہ دار اور عصبہ دونوں نہ ہوں تو تیسری قسم ذوی الارحام کی ہے وہ ایسے قرابت دار ہیں جن میں عورت کا واسطہ ہے جیسے نانا یا نواسا ان کا حساب بھی عصبہ کا سا ہے زیادہ تفصیل ان سب مسائل کی فرائض اور فقہ کی کتابوں میں ہے۔ وصیت میں نقصان کی دو صورتیں ہیں یا تو یہ کہ تہائی سے زیادہ وارثوں کے سوا کسی اجنبی شخص کے نام وصیت کرائی جائے یا یہ کہ جس وارث کا حصہ معین ہے اس کو اپنی طرف سے رعایت کر کے کچھ زیادہ کی وصیت کر دے، ابو داؤد، ترمذی ‘ ابن ماجہ وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں یہ ہے کہ بعض آدمی عمر بھر اچھے کام کرتے ہیں اور آخر عمر میں خلاف شریعت وصیت کر کے اپنی عقبیٰ بگاڑ لیتے ہیں 1۔ اس حدیث کی سند میں شہرین حوشب ہے جن کا حال اوپر ایک جگہ گذر چکا ہے 2 اور ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔
Ayahs 4:13–14(13 ۔ 14) ۔ لفظ تلک سے ان احکام کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو شروع سورت سے یہاں تک نکاح یتیموں کے مال، میراث، اور وصیت کے باب میں گذرے ہیں اور ان احکام کا نام حدود اس لئے فرمایا ہے کہ ان کی پابندی اور ترک پابندی پر جنت کے وعدے اور دوزخ کے وعید وعید کو منحصر فرمایا ہے لیکن باوجود اس وعدہ اور وعید کے اس آخری زمانہ میں ان حدود اللہ کے اکثر لوگ پابند نہیں ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو اپنے احکام کی پابندی کی توفیق عنایت فرمائے گا۔
Ayahs 4:15–16(15 ۔ 16) معتبر سند سے مسند بزار میں حضرت امام المفسرین عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سورة نور کی آیت الزانیۃ الزانی کے نازل ہونے تک بد کار عورت کو بدکاری سے باز رکھنے کے لئے گھر میں تازیست بند رکھنے کا حکم تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ سورة نور میں کنوارے مرد و عورت کے لئے سو کوڑے مارنے اور سال بھر کی جلا وطنی کا اور بیا ہے ہوئے مرد و عورت کے لئے سنگ سار کرنے کا حکم نازل فرمایا۔ اسی طرح مسند امام احمد (رح) صحیح مسلم اور سنن میں عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سورة نور کی آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایسی عورتوں کے تازیست گھر میں بند رکھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ نے کنوارے مرد و عورت کے لئے سو کوڑے اور برس دن کی جلاوطنی کا اور بیا ہے ہوئے مرد عورت کے لئے سو کوڑے اور سنگ سار کرنے کا حکم نازل فرما دیا اس حکم کو یاد کرلو۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے 1 سنگ ساری کے ساتھ کوڑوں کا حکم اس حدیث میں جو ہے امام احمد (رح) کا عمل بھی اس کے موافق ہے۔ باقی ائمہ کا اس میں اختلاف ہے۔ اسی طرح برس دن کی جلاوطنی کو امام ابو حنفیہ (رح) نے حاکم کی رائے پر منحصر رکھا ہے 2۔ مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ سورة نور کی آیت سے یہ آیت منسوخ ہے یا نہیں ظاہر یہی ہے کہ یہ صورت ناسخ منسوخ کی نہیں۔ کیونکہ یہ آیت سرے سے ہی ایک مدت معینہ کے عمل کے لئے تھی۔ منسوخ تو وہ ہے کہ بال قید مدت کے ایک حکم نازل ہوا اور پھر حکم سے اس پہلے حکم کا عمل موقوف کردیا جائے آیت کے دوسرے ٹکڑے میں یہ فرمایا کہ ” جو دو کرنے والے کریں تم میں وہی کام تو ان کو ستاؤ “
اس کی تفسیر میں مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد بد فعلی ہے جو دو مرد آپس میں کریں۔ حد کے نازل ہونے سے پہلے ان کے سستانے کا حکم تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ان کو توبہ کرنے سے پہلے زبانی جھڑک دیا جائے اور کچھ معمولی مار پیٹ کردی جائے اب حد کے نازل ہوجانے کے بعد بعض سلف تو ان کے حق میں حد زنا کے قائل ہیں۔ ایک قول کے موافق امام شافعی کا مذہب بھی یہی ہے۔ اور بعض حد قتل کے اور بعض آگ میں جلانے یا بلند جگہ پر ہے دھکا دے کر گرا دینے کے قائل ہیں حد قتل کے باب میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ایک مرفوع روایت 1 بھی مسند امام احمد (رح) ترمذی ابو داؤد ابن ماجہ مستدرک حاکم اور بیہقی میں اور ایک روایت ابوہریرہ ؓ سے ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں ہے۔ لیکن علماء نے ان حدیثوں میں طرح طرح کا کلام کیا ہے ہاں اتنی بات ہے کہ اس باب کی سب روایتوں کو ملایا جائے تو اس حکم کو اس طرح کی قوت ہوجاتی ہے اسی واسطے ایک روایت کے موافق امام شافعی کا مذہب یہی قرار پایا ہے 2۔
Ayahs 4:17–18(17 ۔ 18) ۔ اوپر کی آیت میں توبہ کا ذکر تھا۔ اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کے قبول ہونے اور نہ ہونے کا ذکر فرمایا اوپر گذر چکا ہے کہ توبہ کے قبول ہونے کا وقت وہی ہے کہ آدمی گناہ کر کے اضطرار کی حالت سے پہلے تو بہ کرلے ورنہ موت کے آثار پیدا ہوجانے اور اضطرار کی حالت پیش آجانے کے وقت کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اضطرار کی حالت کے پیش آجانے کا یہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح فرعون نے بالکل ڈوبتے وقت توبہ کی اور قبول نہ ہوئی اسی طرح خراٹا لگ جانے اور دم اکھڑے جانے کے وقت کوئی شخص توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ چناچہ اس بات میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے 1 اوپر گذرچ کی ہے 2 حاصل کلام یہ ہے کہ توبہ کے قبول ہونے کے لئے آئندہ گناہ سے باز رہنے اور نیک کام کرنے کا ارادہ ضرور ہے خراٹا لگ جانے کے بعد موت کا بالکل یقین ہوجاتا ہے اور اس ارادہ کا موقع باقی نہیں رہتا اس واسطے اس وقت کی توبہ پوری نہیں جیسے مغرب کی طرف سے آفتاب نکلنے کے وقت سب کو موت کا یقینھ ہوجائے گا۔ اور اس وقت کی توبہ مفید نہ ہونے کے سبب سے توبہ کا دروازہ جو مغرب کی طرف ہے وہ بند ہوجائے گا۔ چناچہ 3 ترمذی وغیرہ میں جو معتبر سند سے روایتیں ہیں ان میں صراحت سے اس کا ذکر ہے۔
Ayahs 4:19–21(19 ۔ 21) ۔ بخاری ابوداؤد اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ مردے کے وارث بیوہ عورت کو غیر جگہ نکاح نہیں کرنے دیتے تھے بلکہ اس عورت کو مجبور کر کے خود ہی اس سے نکاح کرتے تھے اور دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی اجازت دیتے تھے تو مہر کی ساری رقم یا اس میں کا کوئی حصہ اس عورت سے خود لے لیتے تھے۔ غرض بہ نسبت عورت کے رشتہ دار اور وارثوں کے خود ہی عورت کے زیادہ حق دار ٹھہر تھے تھے اس دستور کو اسلام میں بند کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 4۔ اور فرمایا کہ مردے کے وارثوں کو یہ نہ چاہیے کہ بیوہ کو غیر جگہ نکاح کرنے سے روکیں تاکہ بیوہ عاجز ہو کر جو کچھ میت نے اس کو دیا تھا وہ پھر دیوے ہاں بیوہ کوئی بےشرع بات کرے تو اس سے روکنا ان کو پہنچتا ہے پھر فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ گذران حسن سلوک سے کرنی چاہیے کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر ان میں کوئی بات بد خوئی کی ہوتی ہے تو کوئی بات خوبی کی ہوتی ہے اور یہ بھی فرمایا کہ زبر دستی مہر کا پھیرلینا مردے کے واروثوں کو یا خود شوہر زندہ دوسرا نکاح کرنے اور پہلی بی بی کے چھوڑدینے کی صورت میں ہرگز نہیں پہنچتا۔ کیونکہ نکاح کے وقت حسن سلوک کا عہد و پیمان ہوچکا اور ابی ابن حاتم اور ابن سعد نے انصار کا یہ دستور بیان کیا ہے کہ اسلام سے پہلے جب ایسا کوئی شخص مرجاتا تھا۔ جس کی منکوحہ عورت ہو اور اس عورت کا سوتیلا بیٹا بھی ہو توہ سوتیلا بیٹا اس اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیا کرتا تھا۔ چناچہ اسلام کے بعد ایک شخص ابو قیس نے وفات پائی اور اس کے بیٹے قیس نے اپنی ماں سے نکاح کرنا چاہا اس عورت نے انکار کیا اور کہا کہ میں تجھ کو انپا بیٹا شمار کرتی ہوں۔ اور اس عورت نے اس قصہ کو آنحضرت سے آن کر بیان کیا تو آپ نے فرمایا تو اپنے گھر جا کر بیٹھ اس دستور کے بند کرنے میں شاید اللہ تعالیٰ کوئی حکم نازل فرمائے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرمایا کہ اسلام سے پہلے جو کچھ ہوچکا سو ہوچکا۔ مگر اسلام میں یہ کام بےحیائی اور قباحت شرعی اور گمراہی کا ہے اس سے پرہیز کرنا چاہیے جن عورتوں سے نکاح حرام ہے اس کے سلسلہ سے علیحدہ سوتیلی ماں کا ذکر اس لئے فرمایا کہ اس کی تاکید زیادہ مقصود تھی۔ اور اسی حکم سے امہات مومنین امت کے لوگوں پر حرام ہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ امت کے حق میں بمنزلہ باپ کے ہیں۔ مسند امام احمد بن حنبل میں براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ اسلام کے بعد جب اس آیت سے وہ دستور جاہلیت موقوف ہوگیا اس پر ایک شخص نے پہلے دستور کے موافق اپنے باپ کی منکوحہ سے نکاح کرلیا تھا۔ آنحضرت نے اس شخص کے قتل کا حکم دیا 2۔ اور علماء نے یہ بھی فتویٰ دیا ہے کہ باپ کی صحبت کی ہوئی لونڈی بھی اس حکم میں داخل ہے طبرانی کی ایک اسناد میں میں ایک شخص عبد اللہ بن محمد ﷺ بن سعید بن ابی مریم ضعیف ہے۔ لیکن ابن ابی حاتم اور ابن سعد کی روایت سے طبرانی کی روایت کو تقویت حاصل ہوجاتی ہے۔
Ayah 4:22اوپر کی آیت میں سوتیلی ماں سے نکاح کے دستور کو منع فرما کر اسی سلسلہ میں دوسری عورتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے نکاح حرام ہے آدمی کی پیدائش جس خاندان میں ہو اس میں سے سات عورتیں اس شخص پر حرام ہیں وہ عورتیں یہ ہیں۔ ماں 1۔ بہن 2۔ بیٹی 3۔ پھوپھی 4۔ بھتیجی 6۔ بھانجی 7۔ ان کو محرمات نسبی کہتے ہیں دودھ پلانے سے بھی عورتیں اس رشتہ کی ہوں وہ ساتوں حرام ہیں آیت میں فقط دودھ کی ماں اور بہن کا ذکر فرما کر باقی کو نسب کے قیاس پر اس سبب سے چھوڑدیا ہے کہ دودھ کا رشتہ بھی پیدائش کے رشتہ کی ایک شاخ ہے وہاں خون آدمی کے بدن کا جز تو یہاں دودھ بن کرو ہی بات پیدا ہوگئی ہے۔ صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے بصراحت روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دودھ پلانے سے بھی ان دودھ کے رشتہ داروں سے نکاح حرام ہوجاتا ہے جن رشتہ داروں سے پیدائش کے سبب سے نکاح ہے 1۔ زید کے دودھ کی بہن وہ ہے جس کو زید نے زید یا اپنے اگلے پچھلے کسی بچہ کے ساتھ ایک لڑکی کو دودھ پلایا ہے۔ یہ لڑکی زید پر بوجہ دودھ کے بہن ہونے کے اور زید کے باپ پر بوجہ دودھ کی بیٹی ہونے کے حرام ہے اور یہ نسب اور دودھ کے رشتہ کی عورتیں ہمیشہ کے لئے حرام ہیں۔ بیاہ شادی کے سبب سے۔ ساس اور سوتیلی بیٹی کے حرام ہونے کا ذکر اس آیت میں ہے اور سو تیلی ماں کا ذکر اوپر کی آیت میں گذرا۔ سوتیلی بیٹی کے حرام ہونے میں یہ شرط بھی ہے کہ اس کی ماں سے اس سوتیلے باپ نے صحبت بھی کی ہو۔
Ayah 4:23تفسیر ابن جریر میں ابن جریج سے روایت ہے کہ میں نے عطاء ابن رباح سے اس آیت کی شان نزول پوچھی انہوں نے کہا کہ جب آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں اپنے متنبیٰ زید بن حارثہ ؓ کی بی بی زینت سے نکاح کرلیا تو مکہ میں مشرکین نے اس کا چرچہ کیا اس چرچہ کے غلط قرار دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اور آیت وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآ ئَ کُمْ اَبْنَآئَ کُمْ (33۔ 4) اور آیت مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ ( 33۔ 4) نازل فرمائی 2۔ اور بہو کے حرام ہونے میں بیٹے کے صلبی ہونے کی قید اس لئے لگا دی تاکہ معلوم ہوجائے کہ زمانہ جاہلیت میں متبنبیٰ بیٹے کی بی بی کو جو حرام ٹھہرانے کا دستور تھا وہ دستور ابراہیمی ملت کے برخلاف ہے اس لئے اس غلًط دستور کی پابندی کی بنا پر زید بن حارثہ ؓ کی بی بی کے نکاح ثانی کا جو کچھ چرچا ہو رہا ہے وہ غلط ہے مسند امام احمد اور سنن میں ضحاک ابن فیروز ویلمی ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ ضحاک ؓ جب اسلام لائے تو جاہلیت کے دستور کے موافق ان کے جاہلی نکاح میں دو بھنیں تھیں انہوں نے آنحضرت ﷺ سے ان کا ذکر کیا آپ نے فرمایا۔ ان دونوں میں سے اپنی مرضی کے موافق خوا کوئی سی بھی ہو ایک کو رکھ کر دوسری کو طلاق دے دی جائے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 1۔ یہ حدیث آیت کے ٹکڑے جمع بین الاختین کی گویا ایک تفسیر ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی نو مسلم شخص دونوں میں سے جس کو چاہے چھوڑ سکتا ہے۔ آیت میں فقط بی بی اور سالی کے جمع کرنے کی ممانعت ہے مگر بخاری اور مسلم اور سنن میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس طرح دو بہنوں کا ایک ساتھ نکاح میں رکھنا منع ہے اسی طرح ایک عورت اور اس کی پھوپھی یا خالہ دونوں میں سے کوئی بھی اسی عورت کے ساتھ نکاح میں نہیں رکھی جاسکتی 2۔ اس صورت میں یہ حدیث آیت کے ٹکڑے ممانعت جمع بین الاختین کی تفسیر ہے اور اس تفسیر کے موافق تمام علماء اہل سنت کا عمل بھی بغیر کسی اختلاف کے پایا جاتا ہے۔ ہاں فرقہ خارجیہ اور شیعہ کی جماعت اس کے مخالف ہے جن کی مخالفت اہل سنت کے نزدیک کچھ اعتبار کے قابل نہیں۔ دو سو کنوں کی باہمی عداوت ایک لازمی بات ہے اسی خیال سے بعض علماء نے اس ممانعت کا یہی سبب قرار دیا ہے کہ سو کنا پے کے سبب سے ان عورتوں میں عداوت پیدا کر کر قطع رحمی کا خوف تھا اس لئے شارع نے یہ ممانعت کی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے صحیح ابن حبان وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے اس قول کی تائید بھی ہوتی ہے کیونکہ ان میں آنحضرت ﷺ نے بعض عورتوں سے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر یہ ممانعت نہ کی جائے تو تم سے قطع رحمی کا اندیشہ ہے ان روایتوں کی اسناد میں ایک شخص ابو حریز عبد اللہ بن حسین ہے۔ بعض علماء نے اس کے ثقہ ہونے میں کلام کیا ہ۔ لیکنابن معین اور ابو زرعہ نے اس کو ثقہ کہا ہے 3۔ فقط
صحیح مسلم ابو داؤد و ترمذی نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے رو ایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اوطاس کی لڑائی پر صحابہ کرام کا ایک لشکر روانہ کیا۔ وہاں سے کچھ لونڈیاں لوٹ میں ہاتھ لگیں۔ مسلمانوں نے اس خیال سے کہ ان عورتوں کے خاوند ان کے دیس میں ہوں گے ان عورتوں کی صحبت سے پرہیز کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ خاوند والی عورت سے دوسرے کو صحبت حرام ہے مگر عورتیں لوٹ میں ہاتھ آئیں وہ غنیمت کے مال کی طرح حلال ہیں مگر اتنا انتظار صحبت کے کرنے میں ضرور ہے کہ حمل کے ہونے نہ ہونے کا حال معلوم ہوجائے تاکہ آئندہ اولاد میں شبہ نہ پڑے کہ کس کی ہے۔ محصنات کا لفظ پر قرآن شریف میں سوا شوہر والی عورتوں کے اور معنوں میں بھی آیا ہے۔ مگر والمحصنات من النساء میں یہ لفظ بیاہی ہوئی عورتوں کے معنوں میں ہے۔ کتاب اللہ علیکم کا مطلب یہ ہے کہ یہاں تک وہ عورتیں جو بتلائی گئیں جن سے نکاح حرام ہے۔ یہ اللہ کا ایک حکم ہے جو اس نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے جو کوئی اس کے برخلاف عمل کرے گا وہ اللہ کا گنہگار ہوگا۔ یہ جو فرمایا ” اور حلال ہوئیں تم کو جوان کے سوا ہیں “ اس کا طلب یہ ہے کہ جن عورتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہوا یا اللہ کے رسول نے قرآن کی آیتوں کی تفسیر کے طور پر جن عورتوں کا ذکر کیا جو عورتیں ان کے سوا ہیں وہ تم پر حلال ہیں۔ آیتوں کی تفسیر کے طور اللہ کے رسول نے جن عورتوں کے حرام ہونے کا ذکر فرمایا ہے اس کی مثال اوپر گذر چکی ہے کہ مثلاً ان آیتوں میں بی بی اور سالی کے جمع کرنے کی ممانعت ہے مگر ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث کے مواف بی بی کی پھوپھی اور خالہ کا بھی یہی حکم ہے 2۔ سورة نور میں جن عورتوں کا ذکر آئے گا کہ ان کے شوہر بغیر گواہی کے ان پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور قسما قسمی ہو کر مرد اور عورت میں جدائی ہوجائے اس طرح کی عورت بھی اس قسماقسمی کرنے والے مرد پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے۔ چناچہ ابو 3 درداء وغیرہ کی صحیح روایتوں میں اس کا ذکر ہے۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة نور کی تفسیر میں آئے گی۔ محصنین غیر مسافحین کا مطلب یہ ہے کہ جن عورتوں کے حرام ہونے کا ذکر کیا جا کر جو عورتیں ان کے سوا تم پر حلال کی گئیں ہیں وہ اس شرط سے کہ قاعدہ شرعی کے موافق ان کا مہر اور نکاح ہونا چاہیے بدکار لوگوں کی طرح چند روزہ حاجت بشری رفع کرنے کے لئے بغیر نکاح کے ان کو نہ رکھا جائے۔
Ayah 4:24اگرچہ بعض مفسروں نے اس آیت سے چند روزہ نکاح کے جائز ہونے کا مطلب نکالا ہے۔ جس کو متعہ کہتے ہیں لیکن اوائل اسلام میں یہ نکاح چند روزہ جائز تھا۔ اب قطعی حرام ہے۔ چناچہ صحیح مسلم میں فتح مکہ یا حجۃ الوداع کے وقت بطور وعظ کے آپ نے جو لوگوں کو مخاطب ٹھہرا کر حدیث فرمائی ہے۔ اس میں صاف فرما دیا ہے کہ یہ نکاح اب قیامت تک حرام ہے 1 اس واسطے صحیح معنی آیت کے وہی ہیں جو مجاہد نے بیان کئے ہیں کہ جن عورتوں سے نکاح کیا اور ان سے گھرداری کا ان کا مہر ادا کرنا تم پر واجب ہے۔ اب ٹھہرا ہوگا تو وہ دو بہنیں تو رواج سے معافق مہر مثل دو اجز کے معنی مہر کے ہی اور فریضہ کے معنی ٹھہرے ہوئے مہر کے ہیں پھر فرمایا مہر کے ٹھہر جانے کے بعد میاں بی بی کی رضا مندی سے اس میں کچھ کم و بیش ہو تو اس کا مضائقہ نہیں اللہ غیب دان ہے اس کو سب باتیں معلوم ہیں۔ اس لئے اس نے اپنے بندوں کی ضرورتوں کے موافق یہ احکام مقرر فرمائے ہیں۔
Ayah 4:25جن عورتوں سے نکاح حرام ہے اوپر ان کا ذکر فرما کر یہ فرمایا تھا کہ جو عورتیں ان کے سوا ہیں وہ تم پر حلال ہیں۔ اس حکم میں آزاد عورتیں اور لونڈیاں سب داخل تھیں اس لئے لونڈی سے نکاح جائز ہونے کی شرطیں ان آیتوں میں فرمائیں کہ جس شخص کو آزاد عورت کے مہر اور روٹی کپڑے کا مقدور نہ ہو اور بغیر نکاح کے اس کو بدکاری میں گرفتار ہوجانے کا ندیشہ ہو تو لونڈی کے مالک کی مرضی سے ایسا شخص لونڈی سے نکاح کرسکتا ہے مسند امام احمد ابو داَؤد ترمذی صحیح ابن حبان مستدرک حاکم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے گا تو اس کا نکاح نہ ہوگا۔ بلکہ وہ بد کار قرائے پائے گا ترمذی نے اس حدیث کو حسن 2۔ ابن حبان اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے 3۔ یہ حدیث فانکحوا ھن باذن اھلہن کی تفسیر ہے کیونکہ مالک کی ملکیت غلام اور لونڈی پر یکساں ہے غرض آیت کے اس ٹکڑے اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی غلام دونوں کے نکاح کے لئے مالک کی اجازت ضرور ہے اب اس لونڈی کی مالک اگر عورت ہے تو جو مرد اس عورت کے نکاح کا متولی ہے اس کی اجازت اس لونڈی کے نکاح کے لئے ضرور ہوگی۔ کیونکہ ابن ماجہ دار قطنی میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوع اور موقوف جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ کو عورت نہ اپنا نکاح خود کرسکتی ہے نہ کسی دوسری عورت کے نکاح کی متولی قرار پا سکتی ہے 1۔ لونڈی۔ غلام۔ اور سب آزاد مرد اور عورت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ کبھی لونڈی آزاد عورت سے زیادہ دیندار ہوتی ہے۔ اسی واسطے فرمایا اللہ کو تمہاری مسلمانی خوب معلوم ہے۔ اور یوں تو تم سب آپس میں ایک ہو پھر فرمایا کہ جب لونڈی سے نکاح ہوگیا تو اس کا مہر جو کچھ ہو وہ دستور کے موافق پورا دینا چاہیے ایسا نہ ہو کہ لونڈی ہونے کے خیال سے اس کی مہر کی ادائی میں کچھ حیل حجت کی جائے اکثر سلف کا قول ہے کہ یہ مہر مالک کو ملے گا۔ پھر فرمایا کہ جن لونڈیوں سے نکاح کیا جائے تو نکاح سے پہلے اتنی بات کا دیکھ لینا ضرور ہے کہ وہ لونڈیاں نہ تو ظاہر طور پر کھلم کھلا بدکار ہوں نہ خاص طور پر کسی سے ان کی آشنائی ہو کیونکر ان دونوں حالتوں میں طرح طرح کی خرابیاں ہیں پھر فرمایا کہ کوئی لونڈی نکاح کے بعد اگر بد فعلی کر بیٹھے تو اس پر آزاد عورت کی آدھی حد قائم کی جائے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو پچاس کوڑے مارے جائیں۔ بیا ہے جانے سے سنگساری کی سزا اس پر نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کو کنواری لونڈی اگر بد فعلی کر بیٹھے تو اس پر حد نہیں ہے۔ مگر یہ قول ابوہریرہ ؓ کی صحیحین 2 کی روایت کے مخالف ہے جس میں کنواری لونڈی کے کوڑے مارنے کا حکم ہے اس لئے اکثر سلف کا مذہب یہی ہے کہ کنواری بیاہی ہر طرح کی لونڈی کی حدیث پچاس کوڑے ہیں۔ اس مسئلہ کی تفصیل بڑی تفسیروں میں زیادہ ہے 3۔ آخر کو فرمایا کہ یہ لونڈیوں سے نکاح کرنے کی اجازت اس حالت میں ہے کہ بغیر نکاح کے آدمی کو بدکاری میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو اس پر بھی اگر آدمی آزاد عورت سے نکاح کے قابل ہونے تک لونڈی کے نکاح سے اپنے آپ کو روک تھام کر رکھے تو جلدی کر کے لونڈی سے نکاح کرنے اور اولاد کی آزادی کو بٹہ لگانے سے یہ روک تھام بہتر ہے۔ لیکن جن سے صبر نہ ہو سکے گا اللہ اپنی رحمت کے سبب سے ایسے شخص سے اسی طرح در گذر کرنے والا ہے۔ جس طرح اس نے اپنی رحمت سے یہ لونڈیوں کے نکاح کا حکم اپنے بندوں کی آسانی کے لئے نازل فرمایا ہے۔
Ayahs 4:26–28(26 ۔ 27) ۔ اوپر حرام حلال کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اللہ چاہتا ہے کہ تم کو اپنے دین کی جائز ناجائز باتیں اچھی طرح سمجھا دے تاکہ مثلاً ماں، بہن، بیٹی وغیرہ کے حرام جاننے کا تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا طریقہ ایک ہوجائے اور اللہ نے اپنے وسیع علم سے بندوں کی ہر وقت کی مصلحت کو معلوم کر کے اپنی حکمت سے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کا عمل تم میں آسانی سے جاری ہوجائے اور اللہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ان احکام کی تعمیل میں تم سے کوتاہی ہو اور اس کوتاہی پر نادم ہو کر اللہ کی جانب میں تم توبہ کرو۔ تو وہ تمہاری قبول کرے گا۔ لیکن جن لوگوں کی قسمت میں اللہ کے دین کی پابندی نہیں لکھی گئی وہ خود بھی حرام حلال کے پابند نہیں بلکہ اپنی خواہش کے پابند ہیں اور تم کو بھی حق سے بچلانا اور اپنے راستہ پر چلانا چاہتے ہیں اسی طرح مثلاً بدرکار لوگ خود بھی بدکار ہیں اور جو ان کی ذیل کا ہو اس سے خوش ہیں اور جو ان کی ذیل میں نہ ہو اس سے کھٹکتے ہیں اسی طرح مثلاً آتش پرست بہن، بھانجی، بھتیجی کو حلال جانتے ہیں اور اوروں کے لئے بھی اسی طریقہ کو اچھا سمجھتے ہیں پھر فرمایا کہ انسان کی پیدائش ایک ضعیف چیز پانی کے قطرہ سے ہے سخت احکام کا تحمل اس سے نہیں ہوسکتا اس واسطے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتا ہے کہ دین کے احکام انسان کی حالت کے موافق نرم ہوں جس طرح مثلاً بےمقدور آدمی کے لئے۔ اس نے لونڈی سے نکاح کرنا جائز ٹھہراکر بےمقدور شخص کی سختی کو رفع کردیا صحیح بخاری و مسلم میں سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایسے شخص پر بڑا وبال پڑے گا جس کے بلا ضرورت مسئلے پوچھنے سے کسی مباح چیز کے حرام ہوجانے کا حکم اللہ تعالیٰ کی بارہ گاہ الٰہی سے نازل ہوجائے گا 1۔ اس باب میں اور بھی صحیح روایتیں ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ جب انسان کی حالت کے لحاظ سے اللہ اور اللہ کے رسول کی مصلحت اس میں ہے کہ دین میں جہاں تک ہو آسانی ہو تاکہ احکام دین کی پابندی انسان پر شاق نہ ہو تو آدمی کو چاہیے کہ پہلی امتوں کے بعض لوگوں کی طرح کوئی ایسی سخت عبادت اپنے پیچھے نہ لگاوے جس کا نباہنا مشکل ہوجائے۔ چناچہ ابو داؤد میں معترب سند سے انس ؓ کی روایت ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پہلی امتوں کے کچھ عبادت خانے جو ویران پڑے ہیں وہ اس بات کا نمونہ ہیں کہ ان لوگوں نے اپنی طاقت سے باہر کچھ سخت عبادتیں اپنے پیچھے لگادیں اور ان عبادتوں کے ادا کرنے کے لئے جنگلوں میں یہ عبادت خانے بنائے آخر سختی کے سبب سے عبادت اور عبادت خانے سب کچھ چھوڑ بیٹھے۔ پھر فرمایا اے لوگو تم کو ایسا نہیں کرنا چاہیے 1۔ غرض اس ارشاد سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایسا عمل پسند نہیں ہے کہ آج ہو اور کل نہ ہو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کو تو وہ عمل پسند ہے جس کو آدمی نباہ سکے۔ چناچہ صحیحین 2 کی حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں اس کا ذکر ہے اور یہ ایک ظاہر بات ہے کہ آدمی سے نباہ اس علم کا ہوسکتا ہے جو آسمان ہو ورنہ وہی اہل کتاب کی حالت پیش آئے گی جس کا ذکر ابھی اوپر گذرا۔
Ayahs 4:29–31(29 ۔ 31) ۔ جب تک آدمی مجرور رہتا ہے تو اس کو لفظ اپنی ذات کے ہی خرچ اخراجات کی ضرورت پڑتی ہے۔ پھر جب شادی۔ بیاہ ہو کر بی بی کا اور بال بچے ہو کر ان کا خرچ اس کے ذمے پڑجاتا ہے تو کسی نہ کسی حیلہ سے اس کو کمائی کا خیال ہوتا ہے۔ اسی مناسبت کے سبب سے نکاح کے احکام کے بعد ان آیتوں میں انسان کی کمائی کا ذکر فرمایا باطل ناحق کو کہتے ہیں۔ سود۔ چوری۔ خیانت وغیرہ یہ سب مال کے ناحق کے طور پر کمانے کے طریقے ہیں اور ان میں ہر ایک طریقہ کی ممانعت کی جدا جدا بڑی تفصیل سے شریعت میں احکام ہیں۔ ناحق طور پر کمائی کے طریقوں کے ذکر کے بعد جائز اور حق طور پر کمائی کے طریقہ خریدو فر وخت کو مستثنیٰ فرما کر ذکر فرمایا۔ خریدو فروخت کی مختلف بہت سی صورتیں ہیں ہر ایک صورت کا شریعت میں جدا جدا حکم ہے یہ جو فرمایا نہ خون کرو۔ آپس میں “۔ ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ لوگوں کا مال ناحق کھا کر اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ کیونکہ یہ گناہ حق العباد کی قسم میں سے ہے جو صاحب حق کو رضا مند کرنے کے بغیر فقط توبہ سے معاف نہیں ہوسکتا۔ یا یہ مطلب ہے کہ دنیا کے معاملات سے تنگ آکر خود کشی نہ کرو صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جس طرح سے کوئی شخص خود کشی کرے گا۔ آخر میں بھی اسی طرح کے عذاب میں وہ شخص گرفتار ہوگا۔ مثلاً جو شخص زہر کھا کر مرے گا اس کو ہمیشہ زہر کھلایا جائے گا۔ اور جو شخص اونچی جگہ پر سے گر کر مرے گا اس کو ہمیشہ اونچی جگہ پر سے گرایا جائے گا 3۔ اسی طرح اور باتوں کو سمجھ لینا چاہیے ” اللہ کا تم پر رحم ہے “ کا یہ مطلب ہے کہ پچھلی امتوں کی توبہ ان کا قتل کرنا قرار پائی تھی۔ اور تم پر ایسا کوئی سخت حکم نہیں نازل کیا جاتا۔ ” جو کوئی یہ کام کرے تعدی اور ظلم سے تو ہم اس کو ڈالیں گے آگ میں اور یہ اللہ پر آسان ہے “ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی شخص خود کشی کرے گا۔ اس پر جنت حرام ہوجائے گی۔ اور اس کو ہمیشہ دوزخ میں رہنا پڑے گا۔ چناچہ صحیحین میں جو روایتیں ہیں ان میں ایسے شخص پر جنت کے حرام ہوجانے کا ذکر ہے 1۔ ” اللہ تعالیٰ پر یہ سب آسان ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ جنت اللہ کی ہے اس کو کچھ مشکل نہیں کہ جس پر وہ چاہے اپنی جنت کو حرام کر دے۔ اور تعدی اور ظالم کی قید لگا دینے سے بھول چوک کی خود کشی کا حکم الگ ہوگیا ” اگر تم بچتے رہو گے بڑی چیزوں سے جو تم کو منع ہوئی ہیں تو ہم اتاردیں گے تم سے تقصیریں تمہاری اور داخل کریں گے تم کو عزت کے مقام میں “۔ اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جو لوگ کبیرہ گناہوں سے بچتے رہیں گے اگر ان سے کچھ صغیرہ گناہ ہوجائیں گے تو نیک عملوں کے طفیل سے وہ صغیرہ گناہ خود بخود معاف ہوجائیں گے چناچہ فرمایا ان الحسنات یذھبن السیات۔ دنیا میں جس گناہ پر حد شرعی ہے یا لعنت کی گئی ہے یا جس گناہ پر عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ گناہ کبیرہ ہے اور جو گناہ ایسا نہیں ہے وہ صغیرہ ہے۔ معتبر سند سے نسائی، مستدرک حاکم، صحیح ابن حبان میں ابوہریرہ ؓ اور ابو سعید ؓ سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خطبہ میں فرمایا جو شخص نماز روزہ کا اور ادائے زکوٰۃ کا پابند ہوگا اور سات کبیرہ گناہوں سے بچے وہ جنت میں جائے گا 2 اس خطبہ کے وقت تک حج فرض نہیں ہوا تھا۔ اس لے آپ نے اس خطبہ میں حج کا ذکر نہیں فرمایا۔ اب حج بھی دین کا ایک رکن ہے۔ ابوہریرہ ؓ کی دوسری ایک حدیث صحیح بخاری و مسلم میں ہے اس میں سات کبیرہ گناہوں کی تفصیل یوں فرمائی ہے کہ شرک 1۔ قتل ناحق 2۔ جادو کرنا 3۔ سود کھانا 4۔ یتیم کا مال کھانا 5۔ جہاد سے بھاگنا 6۔ پارساز عورتوں پر بد کاری کی تہمت لگانا 3۔ یہ ساتوں کبیرہ گناہ آدمی کو ہلاکت میں ڈالنے والے ہیں۔ ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ شرک تو بغیر خالص توبہ کے ہرگز معاف نہ ہوگا۔ باقی گناہوں کا گنہگار گر بغیر توبہ کے مرجائے گا تو اس کی مغفرت اللہ کی مرضی پر منحصر چاہے بخشے چاہے نہ بخشے۔ ان سات کبیرہ گناہوں کی تفصیل بعض روایتوں میں اور طرح بھی آئی ہے اور بعض روایتوں میں سات کا حصر بھی باقی نہیں رہا۔ اس واسطے سلف سے کبیرہ گناہ کے معنی وہی بتلائے ہیں جو اوپر بیان کئے گئے ” عزت کے مقام “ سے مراد جنت ہے۔