Ayah 4:32ترمذی مستدر حاکم وغیرہ میں مجاہد کی روایت سے اس آیت کی شان نزول جو اوپر بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بعض عورتوں نے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں حسد کے طور پر یہ کہا تھا کہ مرد جہاد میں جاتے ہیں اس لئے ان کو لوٹ کے مال میں سے حصہ ملتا ہے اور جہاد کا ثواب بھی پاتے ہیں اور میراث میں بھی مردوں کا دوہرا حصہ ہے۔ عورتیں بڑے ٹوٹے میں ہیں ان کہ ان باتوں سے محروم ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 اور فرمایا دیا کہ اللہ عالم الغیب ہے اس کو عورت مرد سب کی دین و دنیا کی ہر طرح کی مصلحتیں خوب معلوم ہیں اس نے دنیا کا ایک انتظام ہر ایک کی مصلحت کے موافق کیا ہے جو کسی کے حسد سے پلٹ نہیں سکتا اس لئے بجائے ان حسد کی باتوں کے اللہ کے فضل اور مہربانی کی دعا کرنی چاہیے۔ کیونکہ وہ ایسا مالک ہے کہ دنیا میں گھر بیٹھے جس کو چاہیے مالا مال کردے اور عقبیٰ میں جس کو چاہے تھوڑے سے عمل کا بہت ثواب عطا فرما دے اس کی بارگاہ میں خلوص نیت پر اجر ہے مرد عورت کی اس میں کچھ خصوصیت نہیں پھر حسد کا کیا موقع ہے۔ صحیحین وغیرہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کی جو حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حسد دو شخصوں کی حالت پر جائز ہے ایک وہ جس کو اللہ تعالیٰ مال دے اور وہ شخص اس کو نیک راہ میں بےدریغ خرچ کرے دوسرا وہ شخص جسے اللہ علم عطا فرمائے اور وہ اس علم سے خلق اللہ کو فائدہ پہنچائے 2 اس حدیث اور آیت میں کچھ مخالفت نہیں ہے کیونکہ حسد کا لفظ دو موقع پر بولا جاتا ہے ایک تو دو سے شخص کی برتر حالت پر جلنا اور اپنے سوا دوسرے کو اس حالت پر نہ دیکھ سکنا۔ اس طرح کا حسد حرام ہے اور آیت میں اسی کا ذکر ہے۔ دوسرا موقع حسد کے استعمال کا یہ ہے کہ دوسرے شخص کی حلت اپنے سے بالا تر دیکھ کر کوئی شخص خدا تعالیٰ سے یہ التجا کرے کہ یا اللہ تو مجھ کو بھی اپنے فضل سے اس بالاتر حالت کے زائل ہوجانے کا کچھ خیال نہ ہو اس کو غبطہ کہتے ہیں حدیث میں اسی کا ذکر ہے اور اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ غبطہ جائز ہے اوپر شان نزول کی جو مجاہد کی روایت بیان کی گئی ہے اگرچہ ترمذی نے اس کو مرسل کہا ہے۔ لیکن اس تفسیر کے مقدمہ میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ تفسیر کے باب میں مجاہد کی کل روایتیں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے واسطے سے ہوا کرتی ہیں اور جس مرسل میں واسطہ معلوم ہوجائے تو اس کا حکم مرفوع ہے اسی واسطے امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری کی کتاب التفسیر میں قال مجاہد، قال مجاہد کہہ کر مجاہد کے اس طرح کے بہت سے قول لئے ہیں غرض کہ یہ شان نزول صحیح ہے۔
Ayah 4:33اس آیت کے منسوخ ہونے اور نہ ہونے میں علماء مفسرین کا اختلاف ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کے متعلق دو روایتیں ہیں ایک روایت تو بخاری 1 میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن دو شخصوں میں دینی بھائی چارہ ہو اگر ان میں سے ایک دوسرے کو مرتے وقت کچھ وصیت کرے گا تو وصیت کے موافق عمل ہوگا۔ ورنہ بھائی چارہ کے سبب سے وراثت کا جو طریقہ آنحضرت ﷺ نے مہاجرین اور انصاری میں قرار دیا تھا وہ طریقہ آیت ولکل جعلنا موالی سے موقوف ہے اس صورت میں فاتو ھم نصیبہم سے وصیت کا ادا کرنا مراد ٹھہرے گا۔ دینی بھائی کو وارث ٹھہرا کر وارثت کا حصہ اس کو دینا مراد نہیں اور وصیت کا جو ذکر خود آیت اوالارحام بعضہم (8۔ 75) میں موجود ہے اس لئے آیت واولوالارحام سے اس آیت کی تفسیر ہوسکی ہے۔ تنسیخ نہیں ہوسکتی۔ دوسری روایت وہ ہے جس کو ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اولوالارحام سے منسوخ ہے 2 رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ بخاری کی روایت بہ نسبت ابن جریر کے قابل ترجیح ہے اس واسطے یہی قول صحیح ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔ چناچہ شاہ ولی اللہ نے اس اختلاف کو الفوز الکبیر 3۔ میں اسی طرح رفع کیا ہے۔ اگرچہ ابو داؤد اور تفسیر ابن ابی حاتم میں شان نزول اس آیت کی یہ بیان کی ہے کہ عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ نے جب اسلام لانے سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر ؓ نے ان کو اپنی وراثت سے محروم رکھنے کی قسم کھائی تھی۔ پھر جب عبد الرحمن ؓ اسلام لے آئے تو اللہ نے ان کے وارث ٹھہرانے کے باب میں یہ آیت نازل فرمائی 4 لیکن یہ شان نزول بخاری کے شان نزول کے مخالف ہے اس واسطے مفسرین نے اس کو قوی شان نزول قرار نہیں دیا۔ موالی کے معنی ورثاء کے ہیں اور والوالدان والاقربون اس کا بیان ہے۔
Ayah 4:34ابن ابی حاتم جریر ابن مردویہ نے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ انصار میں سے ایک صحابی نے اپنی بی بی کو ایک طمانچہ مارا اس عورت کا باپ اس عورت کو لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس فریاد کو آیا آپ نے قصاص کا حکم دیا۔ یہ دونوں عوض لینے کی نیت سے آنحضرت ﷺ کے پاس سے گھر کی طرف مڑے ابھی اپنے گھر تک نہیں پہنچے تھے کہ حضرت جبرئیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیتیں لائے آپ نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد قصاص کا حکم موقوف رکھا 1 حاصل یہ ہے کہ عورت پر مرد کا بڑا حق ہے۔ ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر روئے زمین پر کسی آدمی کو آدمی کے سجدہ کرنے کا حکم ہوتا تو میں عورت کو خاوند کے سجدہ کا حکم دیتا ترمذی نے اگرچہ اس حدیث کو غریب کہا ہے لیکن ساتھ ہی اس کے یہ کہا ہے کہ اس باب میں معاذ بن جبل میں عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو عورت نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور بدکاری سے بچے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں جاسکتی ہے 4 ا۔ اس حدیث کی روایت میں امام احمد منفرد ہیں اور اس کی سند میں ایک شخص عبد اللہ بن قارظ ہے جس کے نام میں بعض علماء نے شبہ ڈالا ہے لیکن تقریب میں اس کو صدوق کہا ہے۔ قوامون کے معنی یہ ہیں کہ مرد عورتوں کے حاکم ہیں۔ عورتوں پر ان کی فرمانبرداری لازم ہے فضل اللہ بعضہم علی بعض کا مطلب یہ ہے کہ مردوں کو نبی ہونے اور قاضی ہونے امام ہونے جہاد جمعہ و جماعت میں حاضر ہونے کی طرح طرح کی عورتوں پر فضیلتیں ہیں قانتات وہ عورتیں جو اپنے شوہروں کی فرمانبردار ہوں۔ حافظات اللغیب کے معنی اپنے شوہروں کے پیٹھے پیچھے شوہر کی عزت و حرمت اور اس کے مال کی حفاظت کرنے والیاں۔ بما حفظ اللہ کے یہ معنی کہ اللہ نیک عورتوں کو شوہر کی عزت اور اس کے مال کی حفاظت کی توفیق دیتا ہے۔ ناشیزہ وہ عورت جو اپنے شوہر کی فرمانبردار نہ ہو۔ جو عورتیں ایسی ہوں تو ان کو پہلے تو ہر طرح سمجھایا جائے۔ اور پھر بات چیت کرنی چھوڑ دی جائے۔ اور پھر مجبوری سے آخری درجہ مارنے کی اجازت ہے۔ لیکن وہ مار ایسی ہونی چاہیے جس سے زخم نہ پڑجائے اور منہ پر بھی نہ مارنا چاہیے۔ چناچہ عمرو بن الاحوص ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع کے وقت عورتوں کے باب میں یہ نصیت فرمائی کہ عورتوں کو ایسی مار نہ ماری جائے جس سے ان کے جسم پر زخم پڑجائے۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 5۔ مسند امام احمد نسائی ابو اؤد ابن ماجہ مستدرک حاکم صحیح ابن حبان میں معاویہ بن قشیری ؓ کی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ عورت کے منہ پر نہ مارنا چاہیے 1۔ حاکم اور ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2۔ عمرو بن الاحوص ؓ کی حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب تک عورت کی پاک دامنی میں دھبہ لگنے کی کوئی بات نہ ظاہر ہو اس وقت تک عورت کو مارنا جائز نہیں ہے۔ اس سے عورتوں کے مارنے اور نہ مارنے کی حدیثوں میں مطابقت ہوسکتی ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر نافرمانی کے بعد ظاہر میں عورت فرمابنردار بن جائے تو اس باب میں زیادہ کرید نہ کی جائے۔ کیونکہ زبر دستی کی کرید کرنے میں۔ عورت کے ساتھ گذران مشکل ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ حو ّا (علیہا السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا ہوئی ہیں 3 اس لئے پسلی کی ہڈی کی کجی طرح ہر ایک عورت کی عادت میں ایک کجی ہے جو کوئی اس کجی کی برداشت کرلے گا تو وہ عورت کے ساتھ زندگی بسر کرسکتا ہے۔ ورنہ گذران مشکل ہے۔ مسند امام احمد اور صحیح مسلمد میں ابوہریرہ ؓ کی دوسری حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عورت میں اگر کوئی بات بد خوئی کی ہوگی تو کوئی بات اچھی بھی ضرور ہوگی 4۔ اس واسطے عورت کی ہر طرح کی عادت کو مد نظر رکھ کر آدمی کو عورت کے ساتھ گذران کرنی چاہیے۔ مسند امام احمد اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ کی ایک اور حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی کے پورے ایمان دار ہونے کی یہ نشانی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ نیک خصلت ہو 5۔ عمروبن الاحوص ؓ کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ میاں کا بی بی پر یہ بھی حق ہے کہ بی بی گھر میں ایسے کسی شخص کو نہ آنے دے جس کا آنے کا اس کا میاں روادار نہ ہو اور بی بی کا میاں پر یہ حق ہے کہ میاں اپنے مقدور کے موافق اس کو روٹی کپڑا اچھی طرح سے دے آخر کو یہ فرمایا کہ ” اللہ سب سے بالا اور بڑا ہے “ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر حاکم کیا ہے۔ لیکن اللہ سب کا حاکم اور مالک ہے کوئی مرد بےجازیادتی عورت پر کرے گا تو اس کو قیامت کے دن اس کی جواب دہی اللہ کے روبرو کرنی پڑے گی۔ مسند امام احمد اور ترمذی میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کے روبرو اپنے دو غلاموں کا ذکر کیا کہ وہ دونوں غلام شرارت بہت کرتے ہیں اس لئے میں ان کو برا بھلا اکثر کہتا ہوں اور مارا بھی کرتا ہوں کیا مجھ سے اس کی قیامت کے دن کچھ پرستش ہوگی۔ آپ نے فرمایا تصور سے زیادہ سزا کی ضرور پرستش ہوگی۔ اس سے معلوم ہوگا رعایا۔ لونڈی۔ غلام اہل و عیال غرض جس زبر دست پر کوئی صاحب اقتدار بےجا زیادتی کرے گا۔ قیامت کے دن اس کی سزا ہوگی۔ ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ سوائے عبد الرحمن بن غزوان کے روایت کے کسی دوسرے راوی کی روایت سے یہ حدیث پائی نہیں جاتی 1۔ اس عبد الرحمن بن غزوان کی کنیت ابو نوح ہے اور یہ ثقہ شخص ہے امام بخاری (رح) نے اس سے روایت کی ہے 2۔
Ayah 4:35فقط عورت کی طرف سے جب بگاڑ کی باتیں ہوں تو ان کا ذکر تھا۔ اس آیت میں میاں بی بی دونوں کی طرف سے جب بگاڑ کی باتیں ہوں تو ان کا ذکر ہے کہ عورت مرددونوں کے رشتہ داروں میں سے ایک ایک پنچ ٹھہرا جائے تاکہ وہ اس بگاڑ کا تصفیہ کردیں۔ خواہ یہ تصفیہ آئندہ کے ملاپ کا ہو یا جدائی کا ابو داؤد ابن ماجہ مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو ناپسند چیز ہے وہ عورت کی طلاق ہے 3۔ اور ابو داؤد کی سند میں اگرچہ ایک راوی یحییٰ بن مسلم ہے 4 جس کے حافظہ میں فتور ہے۔ لیکن وہ صدوق ہے۔ اسی واسطے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 5۔ غرض اللہ تعالیٰ کو میاں بی بی کا ملاپ پسند ہے اور طلاق ناپسند ہے اس لئے آیت میں فقط ملاپ کا ذکر فرمایا ناپسند چیز طلاق کا ذکر نہیں فرمایا۔ تاکہ پنچوں کی توجہ ملاپ کی طرف زیادہ مصروف رہے آیت میں فقط ملاپ کا ذکر ہے اس واسطے امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ پنچوں کو میاں بی بی میں تفریق کردینے کا اختیار نہیں ہے اور علماء نے اس کا جواب دیا ہے کہ آیت میں اصلاح کا لفظ ہے جس میں ملاپ تفریق دونوں باتیں آسکتیں ہیں۔ کیونکہ بعض صورتوں میں بغیر تفریق کے اصلاح نہیں ہوسکتی 6۔ رشتہ دار پنچ اس لئے فرمائے کہ وہ میاں بی بی کی حالت کو خوب جانتے ہیں۔ آخر کو فرمایا۔ اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے۔ خبر رکھتا ہے۔ اس میں میاں بی بی پنچ سب کو تنبیہ ہے کہ ان میں سے جو ناحق طریقہ اختیار کرے گا وہ اللہ کے نزدیک مؤاخذہ کے قابل قرار پائے گا۔ اکثر علماء کے نزدیک ان پنچوں کا حکم میاں بی بی کے برخلاف جاری ہوسکتا ہے۔
Ayah 4:36اوپر کی آیتوں اور ان آیتوں میں بندوں کے آپس کے حقوق کا ذکر تھا اور سب سے بڑا حق انسان پر اللہ تعالیٰ کا ہے جس نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا۔ اسی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حق عبادت کو ان آیتوں میں ذکر فرمایا کہ جب انسان کا خالق رازق وہی وحدہ لا شریک ہے تو اس کی عبادت میں کسی مخلوق کو شریک ٹھہرانا بڑی غلطی ہے۔ صحیحین میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو جنت میں داخل کرے گا 1۔ ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے ان کی خدمت کرے اور کوئی بات ان کی شان کے برخلاف نہ کرے۔ قرآن شریف کی اکثر آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ماں باپ کے احسان کا ذکر فرمایا ہے جس سے ہر کوئی ماں باپ کے درجہ کو سمجھ سکتا ہے۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا ان میں سے ایک کو ضعیفی کی حالت میں پایا اور ان کی ہر طرح کی خدمت کر کے اپنے آپ کو جنت کا مستحق نہ ٹھہرایا تو ایسا شخص بڑا بد نصیب ہے 2۔ ذی القربیٰ رشتہ داروں کو کہتے ہیں صحیحین میں انس ؓ روایت ہے جس کا حاصل ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس شخص کو یہ منظور ہو کہ اس کی عمر بڑھے اور اس کے رزق میں کشائش ہو توہ اپنے رشتہ داروں سے سلوک کیا کرے 3۔ بخاری میں سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو ذرا فرق سے کھڑی کر کے فرمایا میں اور یتیم کے ساتھ شفقت سے پیش آنے والا شخص جنت میں ایسے ہوں گے جس طرح یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں 4۔ مسکین کے معنی محتاج۔ صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حاجت مند کی حاجت رفع کرنے والے کو قیامت کے دن مجاہدین کا سا اجر ہے 5۔ صحیحین میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے مجھ کو ہمسایہ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی یہاں تک تاکید کی کہ مجھے گمان گذرا کہ شاید ہمسایوں کی وراثت کا حکم آئے گا 1۔ والصاحب الجنب کے معنی بعض علماء نے گھر کی بی بی کے لئے ہیں۔ اور بعض نے مسافرت کے ساتھی کے گھر کی بی بی کے ساتھ احسان کی حدیثیں اوپر گذر چکی ہیں کہ عورت کی اچھی بری عادتیں سب مدنظر رکھ کر گذران کرنی چاہیے اور اپنے مقدور کے موافق روٹی کپڑا اچھی طرح سے دینا چاہیے۔ سفر اور حضر کے ساتھی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کے باب میں عبد اللہ بن عمر ؓ کی ترمذی کی روایت میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اچھے وہ لوگ ہیں جو اپنے ساتھیوں سے اچھی طرح پیش آتے ہیں 2۔ ابن السبیل کے معنی اکثر سلف نے مہمان کے لئے ہیں۔ صحیحین میں خویلد بن عمر العدوی ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ مسلمان آدمی کو چاہیے وہ اپنے مہمان کی عزت اور خاطر داری کرے 3۔ لونڈی غلام کے باب میں ابوذر ؓ کی صحیحین کی روایت میں آنحضرت نے فرمایا کہ ان کو اچھی طرح سے کھلاؤ پہناؤ۔ اور ان کی طاقت سے بڑھ کر ان سے کام نہ لو۔ اور سخت کام میں تم خود بھی ان کی مدد کرو 4۔ آخر کو فرمایا جو شخص ان احسانات کے بجا لانے میں تکبر اور خود پسندی کرے اللہ اس کو پسند نہیں کرتا۔
Ayahs 4:37–39(37 ۔ 39) ۔ ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے جو شان نزول ان آیت کی بیان کی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے اوصاف کو جن کا ذکر تورات میں چھپاتے تھے یہ تو علم کے چھپانے کا بخل ہو علاوہ اس کے وہ لوگ صدقہ اور خیرات میں خود بھی بخیلی کرتے تھے اور انصار کے جن لوگوں سے ان کی جان پہچان تھی اس کو بھی خیرات سے ہاتھ روکنے کی نصیحت کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 5۔ مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نیک عمل میں دکھاوے کی شرکت ہے وہ عمل ہرگز قبول نہیں ہے 1۔ اور ترمذی میں حضرت ابی سعید ؓ دری سے روایت ہے کہ بخل اور بد مزاجی یہ دو خصلتیں کسی مسلمان میں نہیں ہونی چاہئیں ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے 2۔ لیکن اس حدیث کو امام بخاری نے الادب المفرد 3 میں روایت کیا ہے۔ علاوہ اس کے بخل اور بد خلقی کی مذہب کی صحیح حدیثوں سے اس حدیث کی تائید ہوتی ہے۔ حاصل معنی دونوں آیتوں کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اپنے فضل سے علم کی دولت یا خوش مزاجی اور اور خوش حالی کی نعمت دی ہے۔ اگر وہ اس کے صرف کرنے میں بخل کریں گے یا دکھاوے کے طور پر اس کو صرف کریں گے تو ایسے لوگوں سے قیامت میں سخت مؤاخذہ ہوگا۔ صحیح مسلم ترمذی نسائی وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اول دوزخ کو ریا کار لوگوں سے سلگایا جائے گا 4۔ اگرچہ یہ آیتیں یہود شان میں نازل ہوئی ہیں لیکن سوا یہود کے جس کسی میں یہ خصلتیں پائی جائیں گی وہ بھی ان آیتوں کے حکم میں داخل ہے۔ صحیح مسلم میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جسا حاصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے ساتھ ایک شیطان اور ایک فرشتہ رہتا ہے 5۔ شیطان ہمیشہ برے کاموں کی رغبت دلاتا ہے اور فرشتہ اچھے کاموں کی اسی واسطے فرمایا کہ جس کا ساتھی شیطان ہوا وہی برے کاموں میں لگے گا۔ کیونکہ اس نے برے ساتھی کا کہنا مانا۔ اور اچھے ساتھی کا نہ مانا۔ پھر فرمایا جس ان لوگوں کو جتلایا گیا کہ عاقبت کے منکروں اور کیا کافروں کے لئے اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے تو پھر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ لوگ وہ بری خصلتیں چھوڑ کر راہ راست پر نہیں آتے اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس کو ان کی سب بری خصلتوں کا حال خوب معلوم ہے ایک دن ان کو ان بری خصلتوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ یہاں بخیلوں کا کفر کفر انِ نعمت کے معنوں میں ہے۔ اوپر رشتہ داروں اور مختاجوں کے ساتھ سلوک کرنے کا ذکر تھا۔ اسی مناسبت سے ان آیتوں میں بخیلی کی مذمت فرمائی ہے۔
Ayah 4:40اوپر کی دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بخل اور ریاکاری کی مذمت فرما کر ایمان اور خیرات کی جو ترغیب فرمائی تھی یہ ٹکڑا آیت کا اس ترغیب کی تائید میں ہے۔ حاصل معنی یہ ہیں کہ جب ذرہ ذرہ بھر کا قیامت میں اللہ تعالیٰ ان کو اجر دوگنا چوگنا دینے کا وعدہ فرماتا ہے۔ تو پھر کیوں لوگ نیک کاموں سے رک کر اپنے اتنے بڑے اجر کو ضائع کرتے ہیں اور دکھاوے کے عمل کیوں کرتے ہیں کیا جن لوگوں کے دکھانے کی غرض سے کوئی عمل کیا جاتا ہے وہ لوگ ان کو اللہ کا سا اجر دے سکتے ہیں۔ صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے شفاعت کی جو بڑی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اچھے لوگ اللہ تعالیٰ سے گنہگاروں کی سفارش کریں گے اور ان کی سفارش قبول ہو کر جس کے دل میں ذرا برابر بھی ایمان ہوگا اس کی نجات کا ذکر فرما کر حضرت ابو سعید خدری ؓ اس آیت کو پڑھا کرتے تھے 1۔ جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اس حالت کی تصدیق میں جن کا ذکر حدیث میں ہے یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
Ayahs 4:41–42(41 ۔ 42) ۔ جس طرح اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی ایک حالت کو بیان فرمایا ہے اسی طرح اس آیت میں ایک دوسری حالت قیامت کے دن کی بیان فرمائی ہے۔ تاکہ سمجھانے بجھانے سے ایک ذراہ برابر جن کو ایمان نصیب ہوا ہے جس طرح ان کی نجات کی حالت معلوم ہوئی ہے۔ اسی طرح جو لوگ باوجود سمجھانے کے حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر اب تک صاحب شریعت انبیاء کو جھٹلاتے رہے ہیں ان کی حالت بھی معلوم ہوجائے۔ بخاری، ابن ماجہ، نسائی، مسند امام احمد بن حنبل میں اس حالت کا جو ذکر ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حساب کے وقت حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ تک کے منکر لوگوں سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ باوجود انبیاء کی ہدایتوں کے تم لوگ منکر کیوں رہے یہ لوگ انبیاء کی ہدایت کا انکار کر کے صاف مکر جائیں گے۔ اور کہیں گے یاللہ ہم کو کسی نے ہدایت نہیں کی اس پر سب انبیاء کہیں گے کہ محمد ﷺ آخر الزماں نبی ہیں ان کی شریعت میں ہر زمانہ کے نبی کی ہدایات کرنے کی تصدیق موجود ہے۔ پھر آنحضرت اور آپ کی امت کے لوگ حاضر کئے جائیں گے۔ اور ان انبیاء کے قول کی گواہی ادا کریں گے 2۔ اس پر نادم ہو کر منکر لوگ جانوروں کو خاک ہوتا ہوا دیکھ کر اپنے خاک ہوجانے کی آرزو کریں گے۔ بعض آثار 1 سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سوا اس گواہی کے آنحضرت ﷺ اپنی امت کی نیکیوں کی گواہی قیامت تک کی ادا فرمائیں گے۔ اسی واسطے امت کے اعمال آپ کے روبرو پیش ہوتے رہتے ہیں تاکہ گواہی کے لئے آپ کو امت کے اعمال کی اطلاع رہے چناچہ چند روایتوں میں آیا ہے کہ جمعہ کے دن تم لوگ درود زیادہ پڑھا کرو کہ اس دن تمہارے درود میرے روبرو پیش کئے جاتے ہیں اگرچہ ان رایتوں کی سند میں تردد ہے لیکن بعض روایتوں کو بعض سے ایک طرح کی قوت ہوجاتی ہے 2 خصوصاً مسند امام احمد ابو داؤد اور نسائی وغیرہ 3 کی اوس بن اوس کی حدیث سے جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے 4۔
Ayah 4:43ترمذی ابو داؤد نسائی اور حاکم میں حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن عوف ؓ نے ہم لوگوں کی دعوت کی اس وقت تک شراب حرام نہ تھی۔ اس سبب سے ہم لوگوں نے خوب شراب پی اتنے میں مغرب کی نماز کا وقت آیا۔ سب نے مجھ کو امام بنایا میں نے قل یا یھا الکفرون نحن نعبد ما نعبد ما تعبدون یعنی جس کی بندگی تم کرتے ہو اس کی ہم بھی کرتے ہیں پڑھ دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نماز کے وقت لوگوں نے شراب کا پینا موقوف کردیا تھا۔ ایسے وقت شراب پیتے تھے کہ نماز کے وقت تک نشہ کی حالت باقی نہ ر ہے یہاں تک کہ سورة مائدہ کی آیت یا ایھا الذین امنوا انما الخمر والمسیر نازل ہوئی اور اس سے آنحضرت ﷺ نے شراب کے قطعی حرام ہونے کا مطلب سمجھا اور اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے شراب کے استعمال شراب کی بیع سب کے حرام ہونے کا صریح حکم دے دیا۔ چناچہ مسند امام احمد صحیح مسلم اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سورة مائدہ کے آیت کے نازل ہونے کے بعد ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کے پاس کچھ شراب تحفہ کے طور پر بھیجی آپ نے اس شخص سے فرمایا کہ شراب سورة مائدہ کے بعد حرام ہوگئی۔ اس شخص نے اس شراب کے بیچ ڈالنے کی اجازت اپنے غلام کو آنحضرت ﷺ کے روبرو دی۔ آپ نے اس سے بھی اس شخص کو منع کیا۔ اور فرمایا کہ جس اللہ نے شراب کا پینا حرام کردیا ہے۔ اسی نے شراب کا بیچنا بھی حرام کردیا ہے۔ آخر وہ شراب پھنیکوا دی گئی 1۔ اس سے زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی سورة مائدہ میں آئے گی۔
ابن جریر نے یزید بن ابی حبیب سے روایت کی ہے کہ بعض انصار کے گھروں کے دروازے مسجد نبوی میں اس طرح پر تھے کہ بغیر مسجد کے گذر کے وہ گھر سے نہیں آسکتے تھے اور گھروں میں نہانے کے لائق پانی نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے ناپاکی کی حالت میں ان کو مسجد میں سے گذرنے اور گھروں کے باہر آنے میں بڑا تردد ہوتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرماکرناپاک آدمی کو مسجد سے گذر جانے کی اجازت فرما دی 2۔ ناپاک آدمی کے حکم میں حیض و نفاس والی عورت بھی ہے۔ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ ؓ کی جو حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ مسجد میں سے بوریا اٹھا لاؤ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا کہ میں حیض کی حالت میں ہوں آنحضرت ﷺ نے خفا ہو کر فرمایا کہ حیض کیا تمہارے ہاتھ کو لگا ہوا ہے 3۔۔ اس حدیث سے یہی تفسیر اس آیت کی صیح ہے کہ اس آیت کے حکم میں حیض و نفاس والی عورت داخل ہے 4 اور امام شافع کا مذہب یہ ہے کہ ناپاک آدمی جب تک نہانہ لے اس کو مسجد میں راستہ کے طور پر گذر جانے کے سوا ٹھہرنا جائز نہیں۔ لیکن امام احمد کے نزدیک فقط وضو بھی کافی ہے۔ اور امام احمد (رح) کی دلیل وہ حدیث ہے جو خود ان کی مسند اور سنن سعید بن منصور میں ہے کہ اکثر صحابہ ناپاکی کی حالت میں وضو کر کے مسجد میں بیٹھ جایا کرتے تھے۔ لیکن یہ بعض صحابہ کا عمل ہے۔ صحابہ ؓ کا اس پر اجماع نہیں اس لئے اکثر علماء کا یہی قول ہے کہ ناپاک آدمی کو مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں ہے۔ خواہ مرد ہو یا حیض و نفاس والی عورت ہو۔ بعض علماء نے راہ چلتے مسافر کے جو کئے ہیں وہ صحیح نہیں ہیں۔ کیونکہ مسافر کا الگ ذکر ہے پھر وہ ذکر دو دفعہ کیونکر ہوسکتا ہے۔ اگرچہ مسند امام احمد اور سن سعید بن منصور کی سند میں ہشام بن سعد راوی ہے جس کو ابو حاتم وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔ لیکن یہ روایت ہشام کی زید بن اسلم سے ہے جو مقبول ہے اس لئے اس سند کو بعض علماء نے مسلم کی شرط پر کہا ہے۔ ناپاک حالت میں جس طرح مسجد میں ٹھہرنا منع ہے اسی طرح قرأت قرآن اور طواف بھی منع ہے چناچہ اس کی صراحت صحیح حدیثوں 5 میں آئی ہے۔
اگرچہ تیمم کی شان نزول میں مفسروں نے مختلف روایتیں نقل کی ہیں۔ لیکن صحیح شان نزول وہی ہے جس کو امام بخاری (رح) نے اور امام احمد بن حنبل (رح) نے روایت کیا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک سفر میں حضرت عائشہ ؓ حضور کے ساتھ تھیں حضرت عائشہ ؓ کے گلے کا ہار گر پڑا۔ اس کے ڈھونڈھنے میں صبح تک قافلہ روانہ نہ ہوسکا یہاں تک کہ صبح کی نماز کا وقت آگیا۔ اس جنگل میں سب قافلہ کے وضو کے لئے پانی نہ تھا اس سبب سے لوگ بہت گھبرائے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے حضرت عائشہ ؓ کی شکایت کی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی حضرت عائشہ ؓ پر بہت خفا ہوئے اتنے میں اللہ تعالیٰ نے نے یہ تیمم کا حکم نازل فرمایا۔ اس حکم کی خوشی میں پھر سب نے مل کر حضرت عائشہ ؓ کو بہت دعائیں دیں 1۔ تیمم کی یہ حدیثیں کہ فقط ایک دفعہ دونوں ہاتھ زمین پر مار کر پہونچوں تک دونوں ہاتھوں اور منہ کو مل لے۔ زیادہ صحیح ہیں 2 جس مرض میں پانی کا استعمال مضر ہو اس میں تیمم جائز ہے اسی طرح سفر میں پانی نے ملے تو اس صورت میں بھی تیمم جائز ہے۔ ابو داؤد ‘ ابن ماجہ ‘ دار قطنی میں جابر ؓ سے روایت ہے جسے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ ہم لوگ سفر میں تھے اور ہم میں سے ایک شخص کے سر میں زخم تھا۔ اتفاق سے اس زخمی شخص کو نہانے کی حاجت ہوگئی اور اس نے ہم سب ساتھ والے لوگوں سے تیمم کا مسئلہ پوچھا ہم نے اس کو تیمم کی اجازت دینے میں تامل کیا اس لئے اس شخص نے غسل کیا جس کے صدمہ سے وہ شخص فوت ہوگیا۔ مدینہ میں آنے کے بعد جب یہ ذکر آنحضرت ﷺ کے رو برو آیا تو آپ بہت خفا ہوئے اور فرمایا اس شخص کو تیمم کافی تھا 3۔ ابن سکن نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 4۔
یہ ابن سکن، ابو علی سعید بن عثمان بن سعید السکن (رح) بغدادی علم حدیث میں صاحب تصنیف اور اپنے وقت کے مشہور عالم ہیں۔ صحیح ابن السکن ان کی تصنیفات میں زیادہ شہرت رکھتی ہے 5۔
اسی حدیث میں زخمی شخص کے لئے ایک صورت یہ تھی ہے کہ بدن پر جہاں زخم نہ ہو وہاں پانی بہا لیا جائے اور زخم کی جگہ پر پٹی باندھ کر اس پٹی پر مسح کیا جائے۔ صحیحین میں عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سفر کی حالت آنحضرت ﷺ نے جماعت کی نماز پڑھی۔ ایک شخص اس جماعت میں شریک نہیں ہوا آنحضرت ﷺ نے اس شخص سے جماعت میں شریک نہ ہونے کا سبب پوچھا اس نے کہا مجھ کو نہانے کی حاجت تھی۔ اور نہانے کے قابل پانی نہیں تھا آپ نے فرمایا ایسی حالت میں تیمم کافی تھا 1۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے لا مستم النساء کی تفسیر عورت سے صحبت کرنے کی کی ہے 2۔ اس تفسیر کے مقدمہ میں یہ بات گذرچ کی ہے کہ جہاں تفسیر کے باب میں سلف کا اختلاف ہو وہاں امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس لئے بعض سلف نے یت سے جو مطلب نکالا ہے فقط عورت کو ہاتھ لگانے سے بھی وضو والے کو وضو اور تیمم والے کو تیمم لازم ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کے مخالف وہ مطلب ترجیح دینے کے قابل نہیں ہے۔ صعید کے معنی روئے زمین اور مٹی دونوں کے ہیں۔ اس واسطے اس میں اختلاف ہے کہ تیمم فقط زمین کی مٹی سے ہوسکتا ہے یا روئے زمین پر اور چیزوں مثلاً چونہ وغیرہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک سوائے مٹی کے اور کسی چیز سے تیمم جائز نہیں ہے اور سلف اس کے مخالف ہیں، دلیل ہر ایک مذہب کی فقہ کی کتابوں میں ہے 3۔” اللہ معاف کرنے والا بخشنا “ کا یہ مطلب ہے کہ اس نے اپنی مہربانی اور در گذر کے سبب سے اس طرح نرم اور سہل احکام نازل فرمائے۔
Ayahs 4:44–46(44 ۔ 46) ۔ ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ رفاعہ بن زید اور مالک بن و خشم یہودیوں میں دو بڑے سردار تھے وہ طرح طرح کی شرارتیں آنحضرت ﷺ سے کرتے تھے کبھی آپ سے کوئی مسئلہ پوچھتے اور آپ جو جواب دیتے اس کو بدل کر اور طرح پر لوگوں سے بیان کرتے اور کبھی زبان دبا کر دو معنی کلمات آپ کو کہتے مثلاً راعنا کو ان معنوں میں بدلتے جن کا ذکر سورة بقر میں گذرا اور ظاہر میں سمعنا واطعنا کہہ کر چپکے سے کہتے سنا ہم نے اور نہ مانا۔ اور واسمع غیر مسمع سے یہ مطلب نکالتے۔ آپ بہرے ہوجائیں غرض ان دونوں شخصوں اور اس قسم کے شریر النفس جو یہود تھے ان سب کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰنے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرمایا جس تورات سے ان لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت معلوم ہوئی اس تورات میں نبی آخر الزمان کی نبوت کا بھی ذکر ہے۔ مگر ان لوگوں نے ایسی بری سوداگری کی کہ ہدایت کے معاوضہ میں گمراہی خریدی اور کچھ تو اسی دشمنی کے سبب سے کہ ان کے گھرانے میں یہ آخری نبوت کیوں نہ ہوئی۔ اور کچھ کے تھوڑے سے لالچ کے خیال سے انہوں نے تورات کے لفظوں اور بعض جگہ معنوں کو بدلا اور اس دھوکے سے اے مسلمانوں یہ لوگ تم کو بھی نیک راستہ سے بھلانا چاہتے ہیں لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے دشمن ہیں تم ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرو اس کی مدد تم کو کافی ہے اس کی مدد کے آگے ان کی دشمنی کیا چل سکتی ہے۔ ” اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور مانا اور سن اور ہم پر نظر کر تو بہتر ہوتا ان کے حق میں اور درست لیکن لعنت کی ان کو اللہ نے ان کے کفر سے اس لئے ایمان نہیں لاتے مگر کم “۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ یہود لوگ اگر ان شرارت کے لفظوں کی جگہ یہ سیدھے سیدھے لفظ کہتے تو ان کے لئے دین دنیا میں یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔ دین کی بہتری تو یہ تھی کہ تورات میں نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کا حکم تھا۔ اس کی تعمیل ہو کر ان لوگوں کی عقبیٰ درست ہوجاتی اور دنیا کی بہتری یہ تھی کہ یہ لوگ یہاں کی چٹی سے بچ جاتے اور ان لوگوں کے طرح طرح کے گناہوں کے سبب سے ان پر تنگ دستی جو سورا ہے وہ جاتی رہتی۔ چناچہ سورة مائدہ میں فرمایا { وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْکِتَابَ اٰمَنُوْ وَاتَّقُوْ لَکَفَّرْنَا عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ وَلاَ دَخَلْنَا ھُمْ جَنَّاتِ النَّعِیْم وَلَوْ اَنَّہُمْ قَامُوْا التَّوْرَۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ مِنْ رَّبِھِمْ لاََ کَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ } (15۔ 66/65) حاصل مطلب ان سورة مائدہ کی آیتوں کا وہی ہے جو اوپر بیان ہوا کہ اگر یہ اہل کتاب تورات اور انجیل کے پابند ہو کر نبی آخر الزمان اور قرآن پر ایمان لاتے تو ان کے لئے دین و دنیا میں بہتر تھا۔ پھر فرمایا کہ یہ ہوتا تو کیونکر ہوتا۔ یہ تو ایسوں کی اولاد اور ان ہی اپنے بڑوں کے ڈھنگ پر ہیں جن پر داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں خدا کی لعنت اتر چکی ہے۔ یہ پورا قصہ سورة مائدہ میں آئے گا۔ لیکن مسند امام احمد، ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ میں جو روایتیں بنی اسرائیل پر لعنت اترنے کی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں جب گناہوں کی کثرت ہوگئی اور ان کے علماء جاہل لوگوں کو چھوڑ کر خود بھی ان گنہگاروں کی مجلسوں میں شریک ہونا شروع کردیا۔ تو حضرت داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی ان پر اللہ کی لعنت اتری۔ یہ روایت متصل۔ اور مرسل چند طریقوں سے ہے جس سے ایک روایت کو دوسری سے تقویت حاصل ہوجاتی ہے 1۔ آخر آیت میں فرمایا کہ اس خاندانی پھٹکار کے سبب سے ان میں سے عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ چند لوگ راہ راست پر آئے باقی سب اسی پھٹکار میں گرفتار رہے۔ اللہ کی لعنت اور پھٹکار کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ کی رحمت نہ ہوگی۔ اگرچہ یہ قصہ یہود کا ہے۔ لیکن اس امت میں بھی جب وہ حالت گناہوں کی کثرت اور علماؤں کی چشم پوشی کی پیش آئے گی تو اسی طرح کے کسی عذاب کے آنے کا خوف ہے چناچہ ترمذی میں حذیفہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا اے لوگوں نیک باتوں کی تاکید اور بری باتوں کی ممانعت انجان لوگوں کو کرتے رہو ورنہ جب یہ بات تم میں نہ رہے گی تو کوئی نہ کوئی اللہ کا عذاب آئے گا۔ اور پھر اس عذاب سے بچنے کی دعا کی جائے گی تو کسی کی دعا قبول نہ ہوگی۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 2۔
Ayah 4:47ابن اسحاق وغیرہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے عبد اللہ صوریا اور کعب بن اسید یہود کے علماء سے کہا کہ تورات سے تم کو میری نبوت بخوبی معلوم ہوچکی ہے پھر تم خدا سے کیوں نہیں ڈرتے اور نبی برحق پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کو تورات سے آپ کی نبوت ہرگز معلوم نہیں ہوئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تورات کی ہدایت کے موافق قرآن اور نبی آخر الزمان پر ایمان لانا ہے تو یہ لوگ جلدی کریں ورنہ جس طرح ان لوگوں نے جان بوجھ کر حق باتوں سے منہ پھیرا ہے اسی طرح ہم بھی ان کہ یہ سزاد دیں گے کہ ان کا چہرہ۔ آنکھ۔ ناک سب گدی کی طرف سے پھیر دیں گے اور ان کے بڑوں میں سے جن لوگوں نے شکار کھیلا تھا۔ اس کی طرف ان کو بھی ملعون ٹھہرا کر بندر اور سور کی شکل کردیا جائے گا۔ اس قصہ کا تذکرہ سورة بقرہ میں گذرچکا ہے۔ اور زیدہ تفصیل اس قصہ کی سورة اعراف میں آئے گی۔ عبد اللہ بن سلام ؓ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اور کعب احبار حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں اسی آیت کو سن کر ایمان لائے۔ ” اللہ نے جو حکم کیا سو ہوا “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا زبردست کہنے سے سب کچھ پیدا ہوگیا۔ اس لئے اس کے حکم کے آگے کسی عذاب کا ان لوگوں پر آجانا ادنیٰ سی بات ہے۔
Ayah 4:48طبرانی 1 اور ابن ابی حاتم نے ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میرا ایک بھتیجا ہے وہ رات دن برے کاموں میں مصروف رہتا ہے آپ نے فرمایا اس کا دین کیا ہے اس شخص نے عرض کیا خدا کو ایک جانتا ہے۔ نماز پڑہتا ہے۔ آپ نے فرمایا پہلے اس کو اس کے دین سے مفت پھر کچھ لالچ دے کر ہٹانا چاہیے۔ تاکہ معلوم ہو کہ باوجود برے کام کرنے کے وہ دین پر کہاں تک پکا ہے۔ تھوڑے دنوں کے بعد اس شخص نے پھر آنحضرت ﷺ کے پاس آکر بیان کیا کہ وہ اپنا دین کسی طرح نہیں چھوڑتا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ حاصل معنی آیت کے وہی ہیں جو آنحضرت ﷺ نے خود بیان فرمائے ہیں چناچہ مسند ابو یعلی موصلی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے اس آیت کو پڑھ کر یہ معنی بیان فرمائے کہ جو شخص ایسی حالت میں مرا کہ ایک شرک تو اس میں نہیں ہے۔ لیکن سوا شرک کے اور طرح طرح کے گناہوں میں بلا توبہ کے مبتلا ہے تو ایسے شخص کے لئے مغفرت تو اللہ کی حلال ہوچکی اب یہ بات اللہ کے اختیار میں ہے کہ چاہے بلا کسی مؤاخذہ کے اس کو جنت نصیب کرے چاہے کسی قدر مواخذہ کے بعد اس کو جنت میں داخل کرے۔ یہ جابر ؓ کی روایت صحیح مسلم میں بھی ہے 3۔ مگر مختصر طور پر بغیر ذکر آیت کے طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اللہ کو گناہوں کے بخشنے پر قادر جان کر مرے گا اور اس کے گناہوں میں شرک بلا توبہ نہ ہوگا تو اللہ کو اس کے بخشنے میں کچھ دریغ نہ ہوگا 4۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت اور ان احادیث کے سبب سے جمہور سلف اور عام اہل سنت کا مذہب یہی ہے کہ خواہ قتل نفس کا گنہگار یا اور کسی کبیرہ کا گنہگار اگر وہ بلا توبہ کے مرجائے گا تو اس کی مغفرت اللہ کے اختیار میں ہے اور توبہ شرک اور ہر کبیرہ گاہ کی مقبول ہے۔ لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا خلاف اس بات میں مشہور ہے کہ وہ آیت ومن یقتل مومنا متعمدا سے یہ حجت قائم کرتے ہیں کہ جو شخص مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر ڈالے تو اس کی توبہ قبول نہ ہوسکتی ہے۔ یہ مذہب حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ایسا ہے کہ اس میں سلف کو بھی بڑا تردد رہا ہے۔ چناچہ بخاری 1 وغیرہ کتب حدیث میں روایت ہے کہ سعید بن جبیر نے خاص طور پر جا کر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے آیت ومن یقتل مومنا متعمدا اور آیت والذین لا یدعون مع اللہ الہا اخر ولا یقتلون النفس ( 26۔ 68) ان دونوں کو ملا کر مطلب پوچھا اس سے غرض سعید بن جبیر کی یہ تھی کہ جب آیت والذین لا یدعون میں قاتل کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے تو پھر آپ یہ کیونکر فتویٰ دیتے ہیں کہ مسلمان کے قاتل کی نہ مغفرت ہے نہ اس کی توبہ قبول ہے لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہ جواب دیا کہ آیت والذین لا یدعون خاص اہل شرک کے قاتلین کے چھ مہینے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس لئے سورة نساء کی آیت سے میں یہی کہتا ہوں کہ مسلمانوں کے قاتل مسلمان کی مغفرت ہے نہ توبہ ہے اور علماء نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے جواب الجواب میں اس طرح دیا ہے کہ طبرانی کی روایت میں یہ صراحت آچکی ہے کہ جب آیت والذین لا یدعون نازل ہوئی تو صحابہ حاضرین مجلس نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ یہ آیت اہل شرک کے لئے خاص ہے آپ نے فرمایا نہیں سب مسلمانوں کے لئے عام ہے۔ پھر یہ کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کہ وہ آیت اہل شرک کے لئے خاص ہے ابو سعید خدری ؓ کی متفق علیہ حدیث میں جب یہ آچکا ہے کہ ایک شخص اسرائیل نے ننانوے 99 خون کئے اور بنی اسرائیل کا جو عالم یہ کہتا گیا کہ تیری توبہ قبول نہیں اسی کو اس نے قتل کیا۔ آخر توبہ کی نیت سے جانے جاتے مرگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے زمین کی ماپ کرائی اور جدہروہ شخص توبہ کی نیت سے جاتا تھا ادھر زمین کے ایک بالشت بھر قریب نکلنے سے باوجود ننانوے خون کے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مغفرت فرمائی اور اس کی توبہ قبول کی 2۔ پھر یہ کیونکہ صحیح ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کے قاتل کی توبہ قبول نہیں۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ قتل کا جرم حق العباد میں سے ہے۔ اس لئے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا مقصود یہ ہے کہ قصاص یا معافی جرم سے جب تک صاحب حق کو حق کی کچھ تلافی نہ ہو اس وقت تک حقوق عباد میں فقط توبہ سے آدمی کی سبکدوشی نہیں ہوسکتی اس صورت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور جمہور کے مذہب میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ حقوق عباد میں جمہور کا مذہب یہی ہے جو مطلب حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کا حافظ ابن کثیر (رح) نے بیان کیا ہے 3۔
Ayahs 4:49–50(49 ۔ 50) ۔ ابن ابی حاتم وغیرہ نے اللہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ یہود ایک دفعہ کچھ اپنے چھوٹے بچوں کو آنحضرت ﷺ کے پاس لائے اور پوچھا کیا لڑکے گنہگار ہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں پھر یہود نے کہا ہم بھی ان لڑکوں کی مانند ہیں۔ جو گناہ ہم دن کو کرتے تھے ہیں وہ تورات کو اور جو رات کرتے ہیں وہ دن کو معاف ہوجاتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 اور فرمایا غیب کا علم اللہ کو ہے کہ مرنے کے بعد کس کا کیا انجام ہونے والا ہے۔ یہ لوگ جو زبردستی اپنے آپ کو بےگناہ بچوں کی طرح سے عذاب آخرت سے بری بتاتے ہیں یہ اللہ کی شان میں ان کا ایک صریح جھوٹ ہے عقبٰی میں ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہ ہوگا۔ کہ نیکیوں کی جزا بدوں کو یا بدوں کی سزا نیکوں کو مل جائے۔ بلکہ وہاں تو جیسا کوئی کرے گا ویسا پائے گا اور گناہ تو درکنار ان لوگوں نے اللہ کی شان میں یہ ایک جھوٹ بات کہی ہے کہ باوجود طرح طرح کے گناہوں کے ان سے عقبیٰ میں مواخذہ نہ ہوگا۔ یہی ایک یسا بڑا گناہ ہے کہ وہ ان کی گرفت کے لئے کافی ہے فتیل اس پتلے سے چھلکے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی پر تاگے کی طرح باریک ہوتا ہے تزکیہ کے معنی اپنے نفس کی بڑائی کرنا۔ صحیح حدیثوں میں شیخی کے طور پر اپنے آپ کو جو آدمی اچھا کہنے لگتا ہے اس کی اور خوشامد کے طور پر دوسرے کی جو زبر دستی تعریف کرتا ہے اس کی ممانعت آئی ہے 2۔
Ayahs 4:51–52(51 ۔ 52) ۔ مسند امام احمد تفسیر ابن جریر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ اور قتادہ کی روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب یہود لوگ احزاب کی لڑائی کے لئے قریش کو رغبت دلانے کے لئے مکہ کو گئے اس وقت قریش نے حی بن اخطب اور کعب بن اشرف یہود کے سرداروں سے پوچھا کہ تم اہل کتاب ہو بھلا یہ تو بتاؤ کہ ہم لوگ حق پر ہیں یا محمد اور ان کے ساتھی حق پر ہیں اس وقت یہود کی یہ غرض قریش کے متعلق تھی کہ کسی طرح قریش کو بہکا کر جنگ احزاب پر لایا جائے اس لئے ان یہود کے سرداروں نے کہا کہ تمہارا دین اچھا ہے۔ اور تم حق پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 3 اور فرمایا۔ ان لوگوں کی بےایمان دیکھنے کے قابل ہے کہ دنیا کی ایک غرض کے سبب سے انہوں نے اہل کتاب ہو کر شرک کو توحید سے اور مشرکوں کو موحدوں سے اچھا بتایا۔ ایسے بےایمانوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جس پر اللہ کی پھٹکار ہو اس کو دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے کوئی بچا نہیں سکتا یہ جو فرمایا کہ اہل کتاب ہو کر مانتے ہیں بتوں کو اور شیطان کو “ اس شان نزول کی بعض روایتوں میں اس کا قصہ یوں ہے کہ جب ان یہود کے سرداروں نے قریش کو احزاب کی لڑائی کے لئے ابھارنا چاہا تو قریش نے کہا کہ تم اور محمد اہل کتاب اور دونوں ایک ہو اس لئے ہم کو تمہاری باتوں پر اس وقت تک بھروسہ نہیں ہے جب تک تم ہمارے بتوں کو سجدہ نہ کرو اس پر یہود کے دونوں سرداروں نے شیطان کے بہکانے سے اہل مکہ کے بتوں اپنی غرض کے لئے سجدہ بھی کیا 1 حیت کے معنی بتوں کے ہیں۔ اور طاغوت کے معنی شیطان کے۔
Ayahs 4:53–55(53 ۔ 55) ۔ اوپر ذکر تھا کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ یہود کو یہاں تک دشمنی تھی کہ یہ لوگ قریش کو احزاب کی لڑائی پر آمادہ کرنے کے لئے اطراف مدینہ سے سفر کر کے مکہ گئے ان آیتوں میں فرمایا یہود کیہ یہ دشمنی فقط اس سبب سے ہے کہ نبی آخر الزماں بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے اولاد اسحاق میں سے کیوں نہیں ہوئے حالانکہ بنی اسحاق اور بنی اسماعیل دونوں کا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل کی اولاد میں ایک مدت دراز تک نبوت بادشاہت سب کچھ رہا اب ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل کی اولاد میں ایک نبی آخر الزماں کے پیدا ہونے سے نبی آخر الزماں کے ساتھ ان لوگوں کی اس قدر دشمنی فقط ان لوگوں کی بخیلی کے سبب سے ہے کیونکہ ان کی بخیلی کی عادت یہاں تک بڑھی ہوئی ہے۔ کہ ان کے قبضہ میں ایک سلطنت بھی ہو تو یہ لوگ اس میں سے ایک تل برابر چیز بھی کسی کو نہ دیں۔ کھجور کی گٹھلی پر نقطہ کی برابر ایک نشان جو ہوتا ہے اس کو نقیر کہتے ہیں یحسدون الناس کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ ناس سے آنحضرت ﷺ اور ان کے ساتھ مقصود ہیں 2۔ انہیں آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی تسکین کے لئے یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں کی مخالفت اللہ کے نبی کے سات کچھ نئی نہیں ہے۔ بلکہ نبی آخر الزمان کی بنی اسماعیل میں پیدا ہونے کا حیلہ ہے یہ لوگ تو ایسوں کی اولاد ہیں جنہوں نے خود اپنے گھرانے کے نبیوں کے ساتھ بڑی مخالفتیں کر کے بعض نبیوں کو شہید کر ڈالا۔ آخر کو فرمایا یہ لوگ ہوں یا ان کے بڑے ایسے لوگوں کو جہنم کی دھکتی آگ کی سزا کافی ہے۔
Ayahs 4:56–57(56 ۔ 57) ۔ اوپر ذکر تھا کہ بدلوگوں کے لئے جہنم کی دہکتی آگ کی سزا کافی ہے اس پر یہ خیال گذر سکتا تھا کہ جب ایک دفعہ دہکتی آگ میں دوخیوں کا گوشت پوست جل جائے گا۔ تو پھر اسی جلی ہوئی کھال پر شاید آگ کی تکلیف کچھ کم ہوجائے گی کیونکہ جلی کھائی مردار ہوجاتی ہے اس لئے فرمایا کہ اللہ کی آیتوں کے منکر لوگوں کی کھال جب دوزخ میں جل کر مردار ہوجائے گی تو عذاب کی تکلیف قائم رہنے کے لئے فورًا تازہ کھال بدل جائے گی۔ بیہقی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ تفسیر ابن مردویہ میں حضرت عمر ؓ اور عبد اللہ بن عمر ؓ اور معاذ بن جبل ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ تھوڑی سی دیر میں دوزخیوں کی کھائیں کئی دفعہ بدلی جائیں گی 1۔ یہ ان لوگوں کا حال جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے منکر ہونے کے سبب سے ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں جو لوگ دوزخ سے نکل کر جنت میں داخل ہونے والے ہیں ان کی کھال نہیں بدلی جائے گی بلکہ وہ ایک دفعہ کے جلنے میں مر کر کوئلے ہوجائیں گے پر ان کوئلوں میں نہر حیات میں غوطہ دیا جائے گا۔ جس سے وہ زندہ ہوجائیں گے اور ان کو جنت میں جانے کا حکم ہوگا۔ چناچہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی شفاعت کی ابو سعید خدری ؓ کی حدیث میں اس کا ذکر ہے 2۔ عزیزا حکیما کا یہ مطلب ہے کہ اللہ ایسا زبر دست ہے کہ اس کے عذاب کو کوئی روک نہیں سکتا۔ صاحب حکم توہ ایسا ہے کہ اس نے ہر ایک سزا جرم کے موافق مقرر کی ہے کسی کی کھال عذاب کی تکلیف بڑھانے کے لئے بدلی جائے گی کوئی دوزخ کے پہلے ہی جھونکے میں جل کر کوئلہ ہوجائے گا۔ تاکہ دیر تک جلنے کی تکلیف نہ ہو اہل دوزخ کے مقابلہ میں اب آگے اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ ان کے رہنے کو عالی شان محل عمدہ باغ جن میں نہریں جاری ہیں ان محلوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے جہاں ان کو نہ بیماری کا کھٹکا ہے نہ موت کا ان کی صحبت کے لئے حیض و نفاس اور سب عیبوں سے پاک بیبیاں ہوں گے جنت کے محلوں اور باغوں کے گھنے درختوں کی چھاؤں ہوگی جس میں وہ بیٹھیں گے۔ اگرچہ جنت میں دھوپ نہ ہوگی جس سے بچنے کیلئے سایہ درکار ہو لیکن زیادہ ٹھنڈک کے لئے اس سایہ میں جنتی لوگ بیٹھیں گے۔ عرب کے بےسایہ ملک میں سایہ کی بڑی قدر ہے اس لئے خاص طور پر سایہ کا ذکر فرمایا۔